28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 28:24

فَسَقٰى لَهُمَا ثُمَّ تَوَلّٰۤى اِلَى الظِّلِّ فَقَالَ رَبِّ اِنِّیْ لِمَاۤ اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ Open ayah 28:24 in the Quran reader

تو موسٰی نے اُن کے لئے (بکریوں کو) پانی پلا دیا پھر سائے کی طرف چلے گئے۔ اور کہنے لگے کہ پروردگار میں اس کا محتاج ہوں کہ تو مجھ پر اپنی نعمت نازل فرمائے

ولما وردمآ مدین . اور جب مدین کے پانی پر اترے۔ یعنی مدین کے کنویں تک پہنچے جس کا پانی کھینچ کر لوگ اپنے جانوروں کو پلاتے تھے۔ وجد علیہ امۃ من الناس یسقون . تو پانی کے (کنارے) لوگوں کا ایک (بڑا) گروہ دیکھا (اپنے مویشیوں کو) پانی پلا رہا تھا۔ ووجد من دونھم امراتین تذدون . اور ان سے درے (یعنی نشیبی مقام میں) دو عورتیں پائیں جو (اپنے جانوروں کو) روکے ہوئے (کھڑی تھیں۔ یعنی اپنی بکریوں کو الگ روکے کھڑی تھیں تاکہ ان کی بکریاں دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر پانی پر نہ چلی جائیں۔ قال ما خطبکما . موسیٰ نے کہا : تمہارا کیا واقعہ ہے ؟ یعنی کیا وجہ ہے کہ تم اپنے مویشیوں کو پانی سے روک رہی ہو ؟ خَطْبٌ کا معنی ہے حال کذا قال فی القاموس بعض نے کہا : خَطْب مصدر ہے بمعنی اسم مفعول یعنی تمہارا کیا مقصد ہے۔ قالتا لا نسقی حتی یصدر الرعآء وابونا شیخ کبیر . دونوں عورتوں نے کہا : ہم (اپنے جانوروں کو) اس وقت تک پانی نہیں پلاتے جب تک چرواہے (اپنے جانوروں کو پانی پلا کر) نکال کرلے (نہ) جائیں اور ہمارے والد بہت بوڑھے ہیں۔ یعنی ضعف پیری کی وجہ سے خود آکر جانوروں کو پانی نہیں پلا سکتے ‘ مجبوراً ہم کو پانی پلانا ہوتا ہے۔ یُصْدِرَ الرِّعَآء یعنی چرواہے اپنے جانوروں کو پانی سے واپس نہ لے جائیں۔ قَالَتَا لاَ نَسْقِیْ الخ سے عورتوں کے جذبۂ عفت کے اظہار اور مردوں کے ساتھ اختلاط سے ان کے اجتناب کو بیان کرنا مقصود ہے۔ وَاَبُوْنَا شَیْخٌ کَبِیْرٌ یہ جواب بظاہر سوال کے مطابق نہیں معلوم ہوتا لیکن حقیقت میں سوال ہی کا جواب ہے کیونکہ حضرت موسیٰ کا مقصد تھا بکریوں کو روکے رکھنے کا سبب دریافت کرنا۔ باوجود یہ کہ پانی موجود تھا اور پلانے کی ضرورت بھی تھی ‘ عورتوں نے سبب بیان کردیا کہ ہم کمزور عورتیں ہیں ‘ مردوں میں قوت کے ساتھ گھس کر آگے بڑھنا ہماری طاقت سے باہر ہے ‘ پھر ہم کو مردوں سے اختلاط کرنے میں شرم بھی آتی ہے۔ باپ بہت زیادہ بوڑھے ہوگئے ہیں ‘ وہ خود یہ کام کر نہیں سکتے۔ شیخ کبیر کا کیا نام تھا ‘ بغوی نے لکھا ہے کہ مجاہد ‘ ضحاک ‘ سدی اور حسن کے نزدیک یہ بزرگ حضرت شعیب پیغمبر تھے۔ وہب اور سعید بن جبیر نے کہا : شیروں کا نام تھا جو حضرت شعیب کے بھائی کا بیٹا تھا۔ حضرت شعیب کی وفات تو اس واقعہ سے پہلے نابینا ہونے کی حالت میں ہوچکی تھی اور آپ کو مقام ابراہیم اور زمزم کے درمیان دفن کردیا گیا تھا۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ ایک اور مرد مؤمن تھا جو حضرت شعیب پر ایمان لے آیا تھا۔ فسقٰی لھما . پھر موسیٰ نے ان دونوں عورتوں (کی بکریوں) کو پانی پلا دیا۔ حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ حضرت موسیٰ لوگوں کو ہٹاتے ہوئے کنویں پر پہنچے اور عورتوں کی بکریوں کو پانی پلا دیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ موسیٰ نے برابر والے کنویں کے منہ پر ڈھانکا ہوا پتھر اکھاڑ کر الگ کردیا۔ یہ کنواں پہلے کنویں کے قریب تھا اور پتھر اتنا بڑا بھاری تھا کہ ایک جماعت ہی اس کو اٹھا سکتی تھی۔ بعض لوگوں نے کہا : دس آدمی اس کو اٹھاتے تھے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے ایک ڈول پانی کھینچا اور برکت کی دعا کی ‘ ایک ہی ڈول سے سب بکریاں سیراب ہوگئیں۔ ثم تولی الی اظل . پھر پشت پھیر کر ایک (درخت کے) سایہ کی طرف چلے گئے۔ یعنی گرمی سخت تھی ‘ شدت گرمی کی وجہ سے ایک درخت کے سایہ میں جا بیٹھے۔ امتحان سخت ہوچکا تھا اس لئے اپنی مولیٰ ہی سے اپنے دکھ کا شکوہ کیا اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے کہ آدمی اپنے رب کی بھیجی ہوئی تکلیف کا شکوہ اپنے رب ہی سے کرے۔ فقال رب انی لما انزلت الی من خیر فقیر . 1 ؂ پھر کہا : اے میرے رب ! اس وقت جو نعمت تو نے مجھے دے میں اس کا سخت حاجت مند ہوں (ترجمہ مولانا تھانوی) ۔ علماء کے نزدیک لِمَا اَنْزَلْتَمیں لام بمعنی الی ہے۔ فَقِیْرٌ لَہٗ اور فَقِیْرٌ اِلَیہ دونوں طرح مستعمل ہے ‘ اِنْزَال (اتارنا سے مراد ہے عطاء کرنا ‘ اَنزَلَ اللہ نِعَمَہ اور نعمَتُہ عَلَی الْخَلِق اللہ نے مخلوق کو اپنی نعمتیں عطاء فرمائیں یا اپنی نعمت عطا کی۔ اللہ کی طرف سے عطاء نعمت کبھی براہ راست اتارنے ہی کے ذریعہ سے ہوتی ہے جیسے قرآن کا اتارنا ‘ بارش کا اوپر سے اتارنا۔ کبھی وہ نعمت براہ راست اوپر سے نہیں اتاری جاتی بلکہ اس کے اسباب اتارے جاتے ہیں اور اس کی طرف رہنمائی اوپر سے ہوتی ہے جیسے اللہ نے فرمایا : وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ اور ہم نے لوہا اتارا ‘ اور اللہ نے تمہارے آٹھ جوڑے چوپایوں کے اترے ‘ اور ہم نے تم پر لباس اتارا (یہ مختلف مقامات کی آیات کا ترجمہ ہے ‘ ان تمام آیات میں مذکورہ اشیاء کے اتارنے سے مراد ہے ان کے اسباب مولودہ کا اتارنا) ۔ اَنْزَلْتَ اگرچہ ماضی کا صیغہ ہے لیکن اس جگہ مستقبل کے معنی میں ہے ‘ یعنی جو کچھ تو مجھے عطا فرمائے میں اس کا محتاج ہوں یا اَنْزَلْتَکا معنی ہے قَدَّرْتَ اِنْزَالَہ (اس وقت صیغہ ماضی ہی کا ترجمہ کیا جائے گا۔ مترجم) یعنی میرے لئے جس چیز کا عطا کرنا تو نے مقدر کردیا ہے میں اس کا محتاج ہوں۔ مَنْ خَیْرٍ یعنی کھانا تھوڑا ہو یا بہت ‘ فقیر یعنی محتاج ہوں ‘ سائل ہوں۔ چونکہ لفظ فقیر اپنے اندر سوال کا معنی رکھتا ہے اس لئے الی کی جگہ لام استعمال کیا گیا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : موسیٰ نے اللہ سے ایک لقمہ طلب کیا جس سے اپنی کمر سیدھی کرسکیں۔ امام باقر علیہ الرحمتہ نے فرمایا : موسیٰ اس وقت چھوارے کے ایک ٹکڑے کے محتاج تھے اس لئے مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ فرمایا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : حضرت موسیٰ نے رَبِّ اِنِّیْ لِمَا اَنْزَلْتَ اِلَیَّ مِنْ خَیْرٍ فَقِیْرٌ کہا حالانکہ آپ اللہ کے نزدیک بڑی عزت والے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت آپ چھوارے کے ایک ٹکڑے کے محتاج تھے۔ مجاہد نے کہا : حضرت موسیٰ نے سوائے خیر کے اور کچھ نہیں مانگا۔ بعض علماء نے کہا : لِمَا میں لام سببیہ ہے یعنی اے میرے رب ! چونکہ تو نے مجھے خیر عطا فرمائی ہے (خیر سے مراد ہے دین اور حکمت) اس لئے میں فقیر ہوں۔ فرعون کی مذہبی مخالفت میں نے کی اس لئے میری یہ حالت ہوگئی۔ جب تک حضرت موسیٰ فرعون کے پاس رہے بڑے عیش سے رہے (پھر مخالفت مذہبی نے اختلاف پیدا کردیا اور آخر یہ نوبت آگئی کہ دانہ دانہ کو محتاج ہوگئے۔ اس کلام سے حضرت موسیٰ کا مقصد تھا اظہار مسرت و اداء شکر۔ میں کہتا ہوں : اس تفسیر پر یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! تو نے مجھے دین اور علم عطا فرمایا ‘ میں محتاج ہوں اور تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ اس سے زیادہ مجھے عطا فرما۔ یہی مضمون رَبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا کا ہے۔ میں کہتا ہوں : اَنْزَلْتَکو نُزْلسے بھی مشتق قرار دیا جاسکتا ہے اور نُزْل کا معنی ہے طعام مہمانی یعنی اے میرے رب ! میرے لئے جو کچھ کھانا تو فراہم کر دے میں اس کا محتاج اور سائل ہوں۔
Ayah 28:25

فَجَآءَتْهُ اِحْدٰىهُمَا تَمْشِیْ عَلَى اسْتِحْیَآءٍ١٘ قَالَتْ اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْكَ لِیَجْزِیَكَ اَجْرَ مَا سَقَیْتَ لَنَا١ؕ فَلَمَّا جَآءَهٗ وَ قَصَّ عَلَیْهِ الْقَصَصَ١ۙ قَالَ لَا تَخَفْ١۫ٙ نَجَوْتَ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:25 in the Quran reader

(تھوڑی دیر کے بعد) ان میں سے ایک عورت جو شرماتی اور لجاتی چلی آتی تھی۔ موسٰی کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ تم کو میرے والد بلاتے ہیں کہ تم نے جو ہمارے لئے پانی پلایا تھا اس کی تم کو اُجرت دیں۔ جب وہ اُن کے پاس آئے اور اُن سے اپنا ماجرا بیان کیا تو اُنہوں نے کہا کہ کچھ خوف نہ کرو۔ تم ظالم لوگوں سے بچ آئے ہو

فجآء تہ احدھما تمشی علی استحیاء قالت ان ابی یدعوک لیجزیک اجرما سقیت لنا سو موسیٰ کے پاس ان دونوں میں سے ایک لڑکی آئی جو شرمائی ہوئی چلتی تھی (اور) کہنے لگی : میرے والد آپ کو بلاتے ہیں تاکہ آپ کو اس کا صلہ دیں جو آپ نے ہماری خاطر (ہمارے جانوروں کو) پانی پلایا تھا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا : وہ عورت بےباک نہ تھی کہ بےجھجک مردوں میں گھستی پھرتی بلکہ موسیٰ کے پاس دبتی ‘ لچتی ‘ کرتے کی آستین منہ میں ڈالے شرماتی آئی۔ ا بن عساکر نیز بغوی نے ابو حزام سلمہ بن دینار کا بیان نقل کیا ہے ‘ سلمہ کا بیان ہے کہ موسیٰ نے جب یہ بات سنی تو جانے کا ارادہ نہیں کیا لیکن بھوکے تھے ‘ مجبوراً جانا پڑا۔ عورت آگے آگے چلی اور موسیٰ اس کے پیچھے پیچھے۔ ہوا کے جھونکے سے عورت کی پنڈلی سے کپڑا ہٹ جاتا تھا اور پنڈلی کھل جاتی تھی۔ موسیٰ کو یہ بات بری محسوس ہوئی ‘ آپ نے عورت سے کہا : تم میرے پیچھے چلو (میں آگے چلوں گا) اگر صحیح راستہ سے ہٹوں تو بتادینا۔ عورت نے ایسا ہی کیا۔ حضرت شعیب کے پاس پہنچے تو اس وقت شام کے کھانے کے لئے تیار بیٹھے تھے۔ حضرت موسیٰ سے کہا : جوان ! بیٹھو اور کھانا کھاؤ۔ موسیٰ نے کہا : میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ شعیب نے کہا : کیوں ‘ کیا بھوک نہیں لگی ہے ؟ موسیٰ نے کہا : کیوں نہیں ‘ مگر مجھے اندیشہ ہے کہ یہ کھانا اس نیکی کی مزدوری ہو جو میں نے عورتوں کے مویشیوں کو پانی پلانے کی شکل میں کی تھی اور میں ایسے خاندان کا فرد ہوں جو کوئی عمل آخرت مزدوری کے لئے نہیں کرتے۔ شعیب نے کہا : نہیں ‘ جوان ! بخدا یہ بات نہیں ہے بلکہ میرا اور میرے باپ دادا کا معمول ہی یہ ہے کہ ہم مہمان کی میزبانی کرتے اور کھانا کھلاتے ہیں۔ موسیٰ بیٹھ کر کھانے لگے۔ میں کہتا ہوں کہ آیت اِنَّ اَبِیْ یَدْعُوْکَ لِیَجْزِیَکَ اَجْرَمَا سَقَیْتَ لَنَا دلالت کر رہی ہے کہ عورت موسیٰ کو پانی پلانے کی اجرت دینے کے لئے بلانے آئی تھی اور اسی غرض سے موسیٰ کو طلب کیا تھا اور موسیٰ اس کے ساتھ گئے تھے ‘ یہ بات نہ تھی کہ موسیٰ کا شروع میں جانے کا ارادہ نہ تھا پھر ایسا ہوگیا اس لئے ابوحازم کا قول غلط ہے۔ ابو حازم کا بیان کیا ہوا قصہ آیت کی صراحت کے خلاف ہے پھر ابوحازم کا یہ بیان آیت لَوْشِءْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْہِ اجرا حضرت موسیٰ نے حضرت خضر سے کہا : اگر آپ چاہتے تو اس کارخیر کی مزدوری لے لیتے۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اللہ نے جس نبی کو مبعوث فرمایا ‘ اس سے بکریاں ضرور چرائیں۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ نے بھی ؟ فرمایا : میں اہل مکہ کی بکریاں چند قیراط (دانگ یا چند جو چاندی) پر چراتا تھا ‘ رواہ البخاری۔ ہم آگے ایک حدیث بھی ذکر کریں گے کہ حضرت موسیٰ نے اپنی شرمگاہ کی عفت اور پری شکم کے لئے آٹھ یا دس سال تک اپنے آپ کو کرایہ پردے دیا تھا۔ صحیح فیصلہ یہ ہے کہ تعلیم قرآن یا امامت یا اذان غرض اس عمل پر جو خود عبادت مقصودہ ہے یا عبادت مقصودہ کی شرط ہے ‘ اجرت لینا اور ٹھہرانا جائز ہیں۔ ہاں جو امر بجائے خود مباح ہے (عبادت اور نیکی نہیں ہے) اور نیت صالحہ کے بعد وہ طاعت بن جاتا ہے ‘ اس کی اجرت لینی اور ٹھہرانی جائز ہے۔ امام شافعی نے تو اذان وغیرہ کی اجرت کو بھی جائز قرار دیا ہے۔ متاخرین حنفیہ نے بھی تعلیم قرآن کی اجرت کو درست مانا ہے۔ وا اللہ اعلم فلماء جاء ہ وقص علیہ القصص قال لا تخف نجوت من القوم الظلمین . جب موسیٰ شعیب کے پاس پہنچ گئے اور اپنی سرگزشت ان سے بیان کی تو انہوں نے کہا : (اب) تم کچھ اندیشہ نہ کرو ‘ ان کافر لوگوں سے تم بچ آئے (یہاں محفوظ ہو) ۔ فَلَمَّا جَآءَ ہٗ اس کا عطف محذوف کلام پر ہے ‘ اصل عبارت اس طرح تھی : جب عورت موسیٰ کے پاس پہنچی اور یا مذکورہ بات کہی تو موسیٰ اس کے ساتھ ہوئے اور شعیب کے پاس پہنچ گئے۔ جب شعیب کے پاس پہنچ گئے تو ان سے اپنا قصہ بیان کیا۔ قَصٌّ اور قَصَصٌ کسی کے پیچھے نشان قدم پر چلنا۔ قَصَّ الخَبر پوری خبر بیان کردی۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ قبطی کے قتل اور فرعون کی طرف سے موسیٰ کو قتل کرنے کے لئے جستجو ‘ سب کچھ موسیٰ نے شعیب سے بیان کردیا۔ اَلظَّالِمِیْنَ سے مراد ہیں فرعون اور اس کی قوم والے۔ حضرت شعیب نے یہ اس لئے کہا کہ مدین پر فرعون کا تسلط نہ تھا۔
Ayah 28:26

قَالَتْ اِحْدٰىهُمَا یٰۤاَبَتِ اسْتَاْجِرْهُ١٘ اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ Open ayah 28:26 in the Quran reader

ایک لڑکی بولی کہ ابّا ان کو نوکر رکھ لیجئے کیونکہ بہتر نوکر جو آپ رکھیں وہ ہے (جو) توانا اور امانت دار (ہو)

قالت احدھما یابت استاجرہ ان خیر من استاجرت القوی الامین . ان دونوں میں سے ایک نے کہا : ابا ! ان کو ملازم رکھ لیجئے کیونکہ آپ کا اچھا ملازم وہی ہوگا جو طاقتور اور امانت دار ہو۔ یعنی جس کو آپ کام پر رکھیں اس کا کام پورا کرنے کی طاقت رکھنا اور امانت دار ہونا ضروری ہے۔ بہترین کارگزار وہی ہے جو طاقتور اور امانت دار ہو (اور ان میں یہ دونوں اوصاف موجود ہیں اس لئے یہ بہتر اجیر ہوں گے) اِسْتَاْجَرْتَ ماضی کا صیغہ بجائے مضارع کے بولنا اس بات پر دلالت کر رہا ہے کہ ان کے ان دونوں اوصاف کا تجربہ کیا جا چکا ہے۔ خطیب نے اپنی تاریخ میں حضرت ابوذر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : اس لڑکی سے اس کے باپ نے پوچھا : تجھے اس کی قوت و امانت کا حال کیسے معلوم ہوا ؟ لڑکی نے کہا : کنویں کے منہ سے اتنا بھاری پتھر اٹھا دیا جس کو دس آدمیوں سے کم (یا چالیس سے کم) نہیں اٹھاتے ‘ یہ تو اس کی طاقت ہے اور امین ہونے کا یہ ثبوت ہے کہ اس نے مجھ سے پیچھے پیچھے رہنے کو کہا تھا تاکہ ہوا کی وجہ سے میری کھلی پنڈلی پر اس کی نظر نہ پڑے۔ حضرت ابن مسعوع نے فرمایا کہ تین آدمی بڑے زیرک اور ہوشیار تھے : شعیب کی لڑکی ‘ یوسف کا ساتھی جس نے کہا تھا عَسٰی اَن یَنْفعَنَا اور ابوبکر جنہوں نے اپنی زندگی میں عمر کو خلیفہ بنا دیا۔
Ayah 28:27

قَالَ اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ اُنْكِحَكَ اِحْدَى ابْنَتَیَّ هٰتَیْنِ عَلٰۤى اَنْ تَاْجُرَنِیْ ثَمٰنِیَ حِجَجٍ١ۚ فَاِنْ اَتْمَمْتَ عَشْرًا فَمِنْ عِنْدِكَ١ۚ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اَشُقَّ عَلَیْكَ١ؕ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 28:27 in the Quran reader

اُنہوں نے (موسٰی سے) کہا کہ میں چاہتا ہوں اپنی دو بیٹیوں میں سے ایک کو تم سے بیاہ دوں اس عہد پر کہ تم آٹھ برس میری خدمت کرو اور اگر دس سال پورے کر دو تو تمہاری طرف سے (احسان) ہے اور میں تم پر تکلیف ڈالنی نہیں چاہتا۔ مجھے انشاء الله نیک لوگوں میں پاؤ گے

قال انی ارید ان انکحک احدی ابنتی ھتین . شعیب نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ اپنی دونوں لڑکیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں۔ شعیب جیائی نے کہا کہ ان لڑکیوں کے نام صفورہ اور لَیّا تھے۔ ابن اسحاق نے صفورہ اور شرقا لکھا ہے۔ بعض نے کہا : بڑی صفراء اور چھوٹی صفیراء تھی۔ وہب بن منبہ نے کہا کہ بڑی لڑکی کا موسیٰ سے نکاح کرایا تھا۔ اکثر اہل علم نے کہا : چھوتی سے نکاح کرلیا تھا جس کا نام صفورہ تھا ‘ یہی لڑکی موسیٰ کو بلانے گئی تھی۔ بزار اور طبرانی نے حضرت انس کی روایت سے بھی یہی نقل کیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابوذر کی مرفوع روایت ہے یعنی رسول اللہ نے فرمایا : اگر تم سے دریافت کیا جائے کہ موسیٰ کا نکاح کس لڑکی سے کرایا تھا تو تم کہہ دینا چھوٹی سے کرایا تھا ‘ وہی موسیٰ کے پاس آئی تھی اور اسی نے کہا تھا یٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْہُ حضرت موسیٰ نے چھوٹی سے ہی نکاح کیا تھا۔ علی ان تاجرنی ثمنی حجج . اس شرط پر کہ آٹھ سال تم میری ملازمت کرو۔ یعنی تم میرے اجیر بن جاؤ۔ فراء نے کہا : نکاح کے عوض تم آٹھ سال میرا کام کرو یعنی اس نکاح کے عوض آٹھ سال تم میری بکریاں چراؤ۔ حضرت شعیب کا یہ کلام ایک طرح کی درخواست نکاح تھی عقد نکاح نہ تھا کیونکہ دونوں لڑکیوں میں سے کسی کی انہوں نے تعین نہیں کی اور عقد نکاح کے لئے تعین زوجہ لازم ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس مشورہ کے بعد حضرت شعیب نے کسی ایک لڑکی کا نکاح حضرت موسیٰ سے کردیا ہوگا لیکن یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ اپنی بکریاں آٹھ سال تک حضرت موسیٰ سے چروانے کا پورا مہر یا جزء مہر قرار دیا تھا جیسا کہ حضرت عتبہ بن منذر کی روایت سے ثابت ہوتا ہے۔ حضرت عتبہ نے فرمایا : ہم رسول اللہ کی خدمت میں حاضر تھے کہ آپ نے سورت طَسٓمٓ پڑھی۔ جب موسیٰ کے قصہ پر پہنچے تو فرمایا : موسیٰ نے شرمگاہ کی عفت اور پری شکم کے لئے اپنے آپ کو آٹھ سال تک ملازمت پردے دیا ‘ رواہ احمد و ابن ماجہ۔ مسئلہ :۔ اس آیت و حدیث سے فقہا نے استدلال کیا ہے کہ کسی عورت سے اس مہر پر نکاح کرنا کہ شوہر اس عورت کی بکریاں چرائے گا صحیح ہے اور ہماری شریعت میں بھی ایسا نکاح جائز ہے کیونکہ رسول اللہ کا قصہ بیان فرمایا اور ہماری شریعت میں ایسا کرنے کی نفی نہیں کی۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ عمل ہماری شریعت میں بھی جائز ہے۔ امام ابوحنیفہ کا قول بروایت ابن سماعہ آیا ہے کہ ایسا نکاح ہماری شریعت میں بھی جائز ہے لیکن اصل اور جامع کی روایت میں ایسے نکاح کے عدم جواز کو امام ابوحنیفہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ مؤخر الذکر قول کی وجہ یہ ہے کہ آیت اور حدیث سے اس مسئلہ کے مثبت رخ پر استدلال ہی درست نہیں ہے۔ یہ استدلال اس وقت صحیح ہوگا کہ وہ بکریاں اس لڑکی کی ملک ہوں (حضرت شعیب کی نہ ہوں) کیونکہ ہماری شریعت میں اس بات پر اجماع ہے کہ مہر عورت کا حق ہے ‘ عورت کے ولی کا حق نہیں ہے اور یہ واقعہ ہے کہ بکریاں حضرت شعیب کی تھیں۔ اس لئے اجماع دلالت کرتا ہے کہ یہ حکم شریعت شعیبی کا تھا ہماری شریعت کا نہیں ہے۔ ہم نے یہ مسئلہ سورة النساء کی آیت وَاُحِلَّ لَکُمْ مَّاوَرَآءَ ذٰلِکُمْ کی تفسیر میں تفصیل سے لکھ دیا ہے۔ وما ارید ان اشق علیک . اور میں تم پر کوئی دشواری ڈالنی نہیں چاہتا (کہ دس سال پورے کرنے پر مجبور کروں یا اوقات کی پابندی یا کام لینے میں کچھ خوردہ گیری ہوں) ۔ مشقت کا مادۂ اشتقاق شق ہے اور شق کا معنی پھاڑ دینا۔ ستجدنی انشاء اللہ من الصلحین . انشاء اللہ تم مجھے صالحین میں سے پاؤ گے۔ عمر نے کہا : یعنی حق صحبت کی نگہداشت اور قول کی وفا میں تم مجھے صالح پاؤ گے۔ یہ مجلہ سابق جملہ کی تاکید ہے۔ صالح ہونے کو اللہ کی مشیت کے ساتھ مشروط کرنے سے مراد ہے اللہ کی توفیق پر بھروسہ اور اس کی مدد پر اعتماد ‘ اپنے وعدہ میں تردد مقصود نہیں ہے (یعنی اِنْ شکیہ نہیں ہے) ۔
Ayah 28:28

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

موسٰی نے کہا کہ مجھ میں اور آپ میں یہ (عہد پختہ ہوا) میں جونسی مدت (چاہوں) پوری کردوں پھر مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو۔ اور ہم جو معاہدہ کرتے ہیں خدا اس کا گواہ ہے

قال ذلک بینی وبینک . موسیٰ نے کہا : یہ بات میرے اور آپ کے درمیان ٹھیک ہے جو حق آپ نے مقرر کیا ہے ‘ وہ میں ادا کروں اور جو میرا حق مقرر کیا ہے ‘ وہ آپ ادا کریں۔ ایما الاجلین قضیت فلا عدوان علی . دونوں مدتوں میں سے جونسی مدت پوری کر دوں اس کے بعد مجھ پر زیادتی نہ ہونی چاہئے۔ یعنی دونوں مدتوں میں سے میں جونسی مدت پوری کر دوں خواہ بڑی مدت یا چھوٹی مدت ‘ پھر آپ اس سے زیادہ مدت کام کرنے پر مجھے مجبور نہ کریں۔ مقصد یہ ہے کہ دس سال گزرنے پر جیسے مجھ سے مزید مطالبہ نہیں کیا جاسکتا ‘ ایسا ہی آٹھ سال گزرنے پر مجھ کو مزید کام پر آپ مجبور نہیں کرسکتے۔ یا یہ مطلب کہ اگر آٹھ سال گزرنے کے بعد میں کام چھوڑ دوں تو معتدی نہ قرار پاؤں ‘ مجھے قصور وار نہ سمجھا جائے۔ وا اللہ علی ما نقول وکیل . اور ہم (باہم) جو کچھ کہہ رہے ہیں اللہ اس کا گواہ ہے۔ وکیل وہ شخص ہوتا ہے جس کے سپرد کوئی معاملہ کردیا جائے۔ اس جگہ وکیل سے مراد ہے گواہ اور نگراں ‘ اسی لئے کا صلہ علی آیا ہے۔ حضرت شداد بن اوس راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : شعیب نبی اتنا روئے کہ بینائی جاتی رہی۔ اللہ نے دوبارہ بینائی عطا فرما دی پھر بھی اتنا روئے کہ آنکھیں جاتی رہیں۔ اللہ نے پھر بینائی عنایت کردی اور فرمایا : اس رونے کی کیا وجہ ہے ‘ کیا جنت کے شوق میں روتے ہو یا دوزخ کے ڈر سے ؟ شعیب نے عرض کیا : نہیں ‘ اے میرے رب ! (نہ جنت کے شوق میں گریہ کرتا ہوں ‘ نہ دوزخ کے خوف سے) بلکہ تیرے دیدار کے شوق میں روتا ہوں۔ اللہ نے وحی بھیجی کہ اگر یہ بات ہے تو میرا دیدار تم کو مبارک ہو (یعنی نابینائی کی حالت میں مبارک ہو ‘ یہی حالت تم کو میرے دیدار تک پہنچا دے گی) اے شعیب ! میں نے تمہارے کام کے لئے موسیٰ کو تمہارا خادم بنا دیا ہے۔ تکمیل معاہدہ کے بعد حضرت شعیب نے اپنی لڑکی کو حکم دیا کہ موسیٰ کو لاٹھی لا دو تاکہ درندوں سے وہ بکریوں کی حفاظت کرسکیں۔ یہ لاٹھی کیسی اور کون سی تھی ‘ اہل روایت کے اس کے متعلق مختلف خیالات ہیں۔ حضرت آدم اس کو جنت سے لائے تھے ‘ وفات آدم کے بعد جبرئیل نے وہ لے لی اور اپنے پاس رکھ لی ‘ یہاں تک کہ ایک رات آکر موسیٰ کو دے دی۔ یہ عکرمہ کا خیال ہے۔ دوسرے لماء نے کہا : وہ لاٹھی جنت کے درخت آس کی تھی۔ حضرت آدم اس کو جنت سے ساتھ لائے تھے پھر سلسلہ وار ہر نبی اس کا وارث ہوتا رہا ‘ نبی کے علاوہ کسی کو نہیں ملی۔ آخر حضرت نوح تک پہنچی ‘ پھر حضرت ابراہیم تک آئی ‘ پھر حضرت شعیب کو ملی ‘ پھر شعیب نے موسیٰ کو دے دی۔ سدی کا بیان ہے کہ ایک فرشتہ نے آدمی کی شکل میں آکر وہ لاٹھی حضرت شعیب کے پاس امانت رکھی تھی۔ جب حضرت شعیب نے اپنی لڑکی کو لاٹھی لانے کا حکم دیا تو لڑکی وہی لاٹھی اٹھا لائی۔ حضرت شعیب نے فرمایا : یہ لاٹھی واپس لے جاؤ ‘ دوسری لا کر دو ۔ لڑکی نے وہ لاٹھی لے جا کر ہاتھ سے ڈال دی اور دوسری اٹھانی چاہی مگر سوائے اس کے اور کوئی لاٹھی ہاتھ میں نہ آئی ‘ آخر اسی کو اٹھا لائی۔ حضرت شعیب نے پھر واپس کردی۔ یہ لوٹا پھیری تین مرتبہ ہوئی۔ بالآخر حضرت شعیب نے حضرت موسیٰ کو وہی لاٹھی دے دی اور آپ اس کو لے کر چلے آئے۔ حضرت شعیب کو اس کے بعد پشیمانی ہوئی اور آپ نے کہا : وہ تو ایک شخص کی امانت تھی ‘ میں نے یہ کیا حرکت کی ؟ یہ خیال آتے ہی حضرت موسیٰ کے پیچھے گئے اور ان سے لاٹھی واپس مانگی۔ حضرت موسیٰ نے دینے سے انکار کردیا کہ یہ لاٹھی تو میری ہوچکی۔ دونوں میں اختلاف ہوا ‘ آخر دونوں اس بات پر راضی ہوگئے کہ جو شخص بھی سامنے سے آئے گا اس کے فیصلہ کی ہم دونوں پابندی کریں گے۔ ایک فرشتہ بصورت انسانی سامنے سے آیا۔ اس شخص نے فیصل کیا کہ اس لاٹھی کو زمین پر پھینک دو ۔ پھر جو اٹھا لے لاٹھی اسی کی ہے۔ موسیٰ نے لاٹھی زمین پر ڈال دی۔ حضرت شعیب نے ہرچند اس کو (اٹھا) لینے کی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوئے اور حضرت موسیٰ نے اس کو اٹھا لیا۔ حضرت شعیب نے وہ لاٹھی حضرت موسیٰ کے پاس چھوڑ دی۔ اس کے بعد جب موسیٰ نے مدت مقررہ پوری کردی اور حضرت شعیب نے اپنی لڑکی ان کو دے دی تو حضرت موسیٰ نے بی بی سے کہا کہ تم اپنے والد سے کہو کہ کچھ بکریاں ہم کو دے دیں۔ بیوی نے جا کر اپنے باپ سے بکریاں طلب کیں۔ حضرت شعیب نے فرمایا : اس سال جو دو رنگا بچہ ہوگا وہ تم دونوں کا ہوگا۔ حضرت شعیب موسیٰ کو حسن خدمات کا بدلہ دینا چاہتے تھے اور اپنی لڑکی پر بتقاضاء خون مرحمت کرنے کے خواہش مند تھے اسی لئے اپنی لڑکی سے فرمایا : اس سال جو نر مادہ چپ کبریٰ (ابلق دو رنگے) بچے پیدا ہوں گے وہ میں نے تم کو دئیے۔ اللہ نے موسیٰ کو خواب میں بتادیا کہ بکریوں کے پیاؤ پر پانی میں لاٹھی ماریں۔ حضرت موسیٰ نے بیدار ہو کر پانی میں لاٹھی ماری پھر بکریوں کو وہی پانی پلایا۔ جس جس بکری نے وہ پانی پیا اس کا بچہ ابلق ہی پیدا ہوا۔ حضرت شعیب سمجھ گئے کہ یہ خداداد نصیب ہے ‘ اللہ نے موسیٰ کے لئے یہ رزق بھیجا ہے۔ چناچہ آپ نے اپنا قول پورا کیا (اور سب ابلق بچے حضرت موسیٰ کو دے دئیے) ۔
Ayah 28:29

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

جب موسٰی نے مدت پوری کردی اور اپنے گھر کے لوگوں کو لے کر چلے تو طور کی طرف سے آگ دکھائی دی تو اپنے گھر والوں سے کہنے لگے کہ تم یہاں ٹھیرو۔ مجھے آگ نظر آئی ہے شاید میں وہاں سے (رستے کا) کچھ پتہ لاؤں یا آگ کا انگارہ لے آؤں تاکہ تم تاپو

فلما قضی موسیٰ الاجل . پھر جب موسیٰ نے مدت مقررہ پوری کردی۔ یعنی مدت ختم کر کے فارغ ہوگئے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ سعید بن جبیر نے کہا : مجھ سے حیرہ کے رہنے والے یہودی نے دریافت کیا کہ موسیٰ نے کون سی مدت پوری کی تھی ؟ میں نے جواب دیا : مجھے معلوم نہیں ‘ حبر العرب (علامۂ عرب یعنی حضرت ابن عباس کے) پاس جا کر پوچھ کر بتاؤں گا۔ چناچہ میں حضرت ابن عباس کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا۔ آپ نے فرمایا : سب سے زیادہ اور خوشگوار ترین (جس سے فریقین کو پورا اطمینان حاصل ہوگیا) مدت پوری کی۔ اللہ کا رسول جب کوئی بات کہہ دیتا ہے تو کرتا بھی ہے۔ بغوی کا بیان ہے کہ حضرت ابوذر نے فرمایا (کہ رسول اللہ نے فرمایا :) جب تم سے پوچھا جائے کہ موسیٰ نے کون سی مدت پوری کی تو کہہ دینا کہ دونوں مدتوں میں سے جو بہتر اور (حسن سلوک میں اعلیٰ تھی یا) زیادہ وفاء عہد والی ‘ رواہ البزار۔ مجاہد نے کہا کہ جب حضرت موسیٰ مدت مقررہ پوری کرچکے تو اس کے بعد بھی اپنے خسر کے پاس دس سال اور قیام پذیر رہے ‘ کل بیس سال رہے اس کے بعد مصر کو واپس جانے کی اجازت طلب کی۔ حضرت شعیب نے اجازت دے دی اور آپ روانہ ہوگئے۔ وسارباھلہ انس منجانب الطور نارا . اور بیوی کو لے کر چل دئیے تو طور کی جانب سے ایک آگ دکھائی دی۔ یعنی جب طور سینا کے قریب صحرا میں پہنچے اور رات تاریک تھی ‘ موسم سرما کی سردی بھی سخت تھی اور راستہ بھٹک گئے تھے تو بیوی سے کہا (اگر یہ روایت صحیح مان لی جائے تو بیوی کے علاوہ کوئی اور ساتھ نہ تھا تو پھر سار بِاَھْلِہٖ نہ فرمایا جاتا) ۔ قال لاھلہ امکثوا انی انست نارا لعلی اتیکم منھا بخبر او جدوۃ من النار لعلکم تصطلون اپنی بیوی سے کہا : تم ٹھہرو ‘ مجھے آگ دکھائی دی ہے (میں وہاں جاتا ہوں) شاید وہاں سے (راستہ کی) کوئی خبر لاؤں یا آگ کی جلتی ہوئی کوئی چھیپٹی (جلتی ہوئی لکڑی) لے آؤں تاکہ تم تاپ لو۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ اور مقاتل نے کہا : جَذْوَۃٍ اس (جلتی ہوئی) لکڑی کو کہتے ہیں جس کا کچھ حصہ جل چکاہو ‘ اس کی جمع جُذٰیآتی ہے۔ قاموس میں ہے جَذْوَۃٍ موٹی لکڑی کو کہتے ہیں خواہ اس کے سرے پر آگ ہو یا نہ ہو ‘ اسی لئے جَذْوَۃٍ کے بعد مِنَ النَّار فرمایا یعنی آگ سے جلتی ہوئی موٹی لکڑی تَصْطَلُوْنَ تاکہ تم گرمی حاصل کرسکو۔
Ayah 28:30

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

جب اس کے پاس پہنچے تو میدان کے دائیں کنارے سے ایک مبارک جگہ میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ موسٰی میں تو خدائے رب العالمین ہوں

فلما اتھا نودی من شاطی الواد الایہ من فی البقعہ المبرکۃ من الشجرۃ ان یموسی انی انا اللّٰہ . جب موسیٰ آگ پر پہنچے تو (پاک یا) برکت والے مقام میں دائیں طرف کی وادی کے کنارے ایک درخت سے آواز دی گئی کہ موسیٰ ! بلاشبہ میں ہی اللہ رب العالمین ہوں۔ اَلْبُقًعَۃِ الْمُبٰرَکَۃِ یعنی موسیٰ کے لئے بڑی برکت والا مقام۔ یہیں اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا اور اسی جگہ پیغمبری سے سرفراز کیا۔ عطا نے کہا : مُبَارَکَۃ سے مراد ہے مقدس (کیونکہ دوسری آیت میں بالوادی المقدس طوی آیا ہے ‘ مترجم) ۔ مِنَ الشَّجَرَۃِ یہ درخت وادی کے کنارے پر تھا۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : یہ ایک سرسبز درخت تھا جو چمک رہا تھا۔ قتادہ ‘ کلبی اور مقاتل نے کہا : وہ عوجہ کا درخت تھا۔ وہت نے کہا : علیق تھا۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : عذب کا درخت تھا۔ اس جگہ اَنَا اللّٰہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ فرمایا۔ سورة طٰہٰ میں اَنَا رَبُّکَ اور سورة النمل میں اَنَا اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ آیا ہے ‘ مقصد سب کا ایک ہے۔ اختلاف الفاظ کی وجہ یا تو یہ ہے کہ یہ روایت بالمعنی ہے یعنی الفاظ مختلف و متعدد ہیں ‘ معنی ایک ہے جو تمام الفاظ سے ادا ہو رہا ہے یا یوں کہا جائے کہ اللہ نے اس موقع پر تو اپنی تمام صفات مذکورہ بیان فرمائی تھیں لیکن قرآن مجید میں جب ان کا ذکر کیا تو تھوڑا تھوڑا کر کے مختلف مقامات پر مختصر طور پر کیا۔ یہ اختصار بعض دوسری عبارتوں میں بھی کیا ہے جن کا تعلق ایک ہی واقعہ سے ہے جیسے سورة طٰہٰ میں فرمایا : فَاخْلَعُ نَعْلَیْکَ اِنَّکَ بالْوَادِی الْمُقَدَّسِ طُویٰ اور سورة النمل میں فرمایا : بُوْرِکَ مَنْ فِی النَّارِ وَمِنْ حَوْلَھَا۔
Ayah 28:31

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور یہ کہ اپنی لاٹھی ڈالدو۔ جب دیکھا کہ وہ حرکت کر رہی ہے گویا سانپ ہے، تو پیٹھ پھیر کر چل دیئے اور پیچھے پھر کر بھی نہ دیکھا۔ (ہم نے کہا کہ) موسٰی آگے آؤ اور ڈرومت تم امن پانے والوں میں ہو

وان الق عصاک . اور اپنی لاٹھی (زمین پر) ڈال دو ۔ اس کے بعد موسیٰ نے لاٹھی زمین پر پھینک دی ‘ لاٹھی فوراً اژدھا بن گئی اور حرکت کرنے لگی۔ فلما راھا تھتز کانھا جان ولی مدبرا ولم یعقب . سو انہوں نے جب اس کو لہراتے ہوئے دیکھا (تیز سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ) گویا وہ سنپولیا تھا تو پشت پھیر کر بھاگے اور پیچھے مڑکر بھی نہ دیکھا۔ یعنی موسیٰ نے لاٹھی ڈال دی ‘ وہ اژدھا بن گئی اور لہرانے لگی۔ جب موسیٰ نے اس کو (تیز دوڑتے اور تڑپتے) دیکھا تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ پتلا چھوٹا سانپ ہے تو بھاگے۔ وَلَمْ یُعْقِّبْ اور پیچھے نہ لوٹے۔ یموسی اقبل ولا تخف انک من الامنین . (حکم ہوا) اے موسیٰ ! تم ادھر آؤ اور کوئی خوف نہ کرو ‘ تم بلاشبہ (ہر طرح) امن میں ہو۔ یعنی میرے پاس آکر پیغمبر کسی چیز سے ڈرتے نہیں ہیں ‘ تم بھی خوف نہ کرو۔
Ayah 28:32

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈالو تو بغیر کسی عیب کے سفید نکل آئے گا اور خوف دور ہونے (کی وجہ) سے اپنے بازو کو اپنی طرف سیکڑلو۔ یہ دو دلیلیں تمہارے پروردگار کی طرف سے ہیں (ان کے ساتھ) فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس جاؤ کہ وہ نافرمان لوگ ہیں

اسلک یدک فی جیبک تخرج بیضا من غیر سوء . تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو ‘ وہ بلا کسی مرض کے نہایت روشن ہو کر نکلے گا۔ واضمم الیک جناحک من الرھب . اور خوف دور کرنے کے لئے پھر اپنا بازو اپنی طرف ملا لینا۔ عطاء نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے موسیٰ کو حکم دیا کہ اپنا ہاتھ اپنے سے ملا لو تاکہ خوف دور ہوجائے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : موسیٰ کے بعد جو خوف زدہ آدمی بھی اپنا ہاتھ اپنے سینہ پر رکھ لیتا ہے اس کا ڈر جاتا رہتا ہے۔ مجاہد نے کہا : جو شخص بھی اپنے دونوں جناح اپنے بدن سے ملا لے گا اس کا خوف دور ہوجائے گا ‘ اور جناح پورا ہاتھ ہے (یعنی صرف باز و ہی کو جناح نہیں کہتے بلکہ پورے ہاتھ کو کہتے ہیں ‘ مترجم) ۔ بعض نے کہا : جناح بمعنی بازو ہے۔ بعض اہل علم نے کہا : ضم جناح (کا حقیقی معنی مراد نہیں ہے بلکہ اس) سے بطور استعارہ مراد ہے سکون ‘ ثبات ‘ استقامت اور جرأت۔ پرندہ خوف کے وقت اپنے دونوں بازو پھیلا دیتا ہے اور امن و اطمینان کے وقت سمیٹے رکھتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : یعنی اپنے خوف کو دور کرو اور اپنے پہلو کو اپنے لئے نرم کرلو۔ خوف زدہ آدمی کا دل دھڑکتا اور بدن لرزتا ہے۔ اسی معنی میں اللہ نے فرمایا ہے : وَاخْفِضْ جَنَاحَکَ لِمَنِ اتَّبَعَکَ ۔ دوسری آیت ہے : وَاخْفِضُ لَھُمَا جَنَاح الذَّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ یعنی ان کے ساتھ نرمی کرو۔ فراء نے کہا : جَنَاح سے مراد عصا ہے یعنی اپنی لاٹھی کو اپنے پاس جمع کرلو (یعنی اٹھا لو) بعض اہل لغت نے کہا : قبائل حمیر کے محاورہ میں رہب کا معنی آستین ہے۔ اصمعی کا بیان ہے : میں نے بعض عربوں سے سنا اعطنی مَا فِی رَھبِکَجو کچھ تمہاری آستین میں ہے ‘ مجھے دے دو ۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ آستین سے ہاتھ نکال کر اپنے بدن سے چمٹا لو۔ بات یہ تھی کہ حضرت موسیٰ اس وقت آستین میں ہاتھ ڈالے اور ہاتھ میں لاٹھی پکڑے ہوئے تھے جب کہ اللہ نے فرمایا تھا : خُذْھَا وَلاَ تَخَفْ ۔ میرے نزدیک ظاہر ہے یہ ہے کہ واضْمُمْ اِلَیْکَ جَنَاحَکَ مِنَ الرَّھْبِ عطف تفسیری ہے یعنی پہلے جملہ کے مفہوم کی تشریح ہے۔ ضم جناح سے مراد بھی گریبان میں ہاتھ ڈالنا ہے۔ ایک ہی مفہوم کو دو عبارتوں میں بیان کرنے اور تکرار مفہوم کرنے سے دو فائدے حاصل ہو رہے ہیں : اول ضبط نفس ‘ دفع خوف ‘ اظہار جرأت و ثبات کی تلقین۔ یہی اس جگہ مراد ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ سانپ کو دفع کرنے کے لئے جو دونوں ہاتھ تم نے پھیلا دئیے ہیں ان کو اپنی طرف کو سمیٹ لو اور گریبان میں داخل کرلو۔ دوئم ایک اور معجزہ کا ظاہر کرنا بھی مقصو تھا۔ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْءٍٓ سے یہ دوسرا معجزہ ہی مراد ہے۔ سورة طٰہٰ میں اس کی صراحت آئی ہے ‘ فرمایا ہے : وَاضْمُمْ یَدَکَ اِلٰی جَنَاحِکَ تَخْرجُ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ اٰیَۃً اُخْرٰی۔ فذنک برھانن من ربک . سو یہ دونوں (عصا اور یدبیضاء) دو سندیں ہیں تمہارے ر کی طرف سے۔ قاموس میں ہے : بُرْھَان بمعنی حجت ‘ بَرھنَ عَلَیہ اس پر دلیل قائم کی۔ اس صورت میں بُرْھَانٌ کا وزن فُعْلاَلٌ ہوگا (اور نون اصلی ہوگا) بعض نے کہا : وزن فَعْلاَنٌ ہے اور بَرْہٌ مادہ ہے ‘ بَرِہَ الرَّجُل وہ آدمی گورا ہوگیا۔ گوری عورت کو بُرْھَاءٌ اور بَرَھْرَھَۃ کہا جاتا ہے۔ قاموس میں ہے : اَبْرَہ دلیل پیش کی یا عجیب عجیب باتیں ظاہر کیں یا لوگوں پر غالب ہوگیا۔ الی فرعون وملاۂ انھم کانوا قوما فسقین . فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف جانے کے واسطے کیونکہ وہ بڑے بدکار لوگ ہیں (تم ان کے پاس ہمارے رسول ہو کر جاؤ) ۔
Ayah 28:33

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

موسٰی نے کہا اے پروردگار اُن میں کا ایک شخص میرے ہاتھ سے قتل ہوچکا ہے سو مجھے خوف ہے کہ وہ (کہیں) مجھ کو مار نہ ڈالیں

قال رب انی قتلت منھم نفسا فاخاف ان یقتلون موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! میں نے ان کا آدمی قتل کردیا ہے اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے قتل کردیں گے
Ayah 28:34

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور ہارون (جو) میرا بھائی (ہے) اس کی زبان مجھ سے زیادہ فصیح ہے تو اس کو میرے ساتھ مددگار بناکر بھیج کہ میری تصدیق کرے مجھے خوف ہے کہ وہ میری لوگ تکذیب کریں گے

واخی ھرون ھوا فصح منی لسانا فارسلہ معنی ردا . اور میرا بھائی ہارون مجھ سے زیادہ تیز زبان ہے اس کو میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج دے۔ حضرت موسیٰ نے اپنے منہ میں انگارا رکھ لیا تھا اس لئے زبان میں گرہ پڑگئی تھی (اور بولنے میں گنگڑانے لگے تھے) ۔ رِدْءٌ مددگار ‘ کہا جاتا ہے اَرْدَاْتُہٗ میں نے اس کی مدد کی۔ رِدْءٌ اصل میں اس چیز کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ سے مدد کی جاتی ہے۔ یصدقنی انی اخاف ان یکذبون . کہ وہ میری (تقریر کی وضاحت کر کے اور شبہات دور کر کے) تصدیق کرے گا کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ وہ مجھے جھوٹا قرار دیں گے۔ بعض علماء نے کہا : تصدیق ہارون سے مراد تصدیق قوم جو ہارون کی تقریر اور توضیح سے حاصل ہوگی۔ مقاتل نے کہا : یُصَدِّقُ کی ضمیر فرعون کی طرف سے راجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر تو میرے ساتھ ہارون کو پیغمبر بنا کر بھیج دے گا تو اس کے حسن تقریر سے فرعون میری تصدیق کرے گا۔ وَاَخَاف یعنی ضرورت کے وقت چونکہ میری زبان کام نہیں دیتی اس لئے مجھے اندیشہ ہے کہ وہ میری تکذیب کریں گے۔
Ayah 28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

(خدا نے) فرمایا ہم تمہارے بھائی سے تمہارے بازو مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو غلبہ دیں گے تو ہماری نشانیوں کے سبب وہ تم تک پہنچ نہ سکیں گے (اور) تم اور جنہوں نے تمہاری پیروی کی غالب رہو گے

قال سنشدعضدک باخیک ونجعل لکما سلطنا فلا یصلون الیکما . اللہ نے فرمایا : ہم تمہارے بھائی کے ذریعہ سے تمہارا بازو قوی کردیں گے اور تم دونوں کو غلبہ عطا کریں گے پھر وہ لوگ تم دونوں تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ بازو کی قوت سے موسیٰ کو قوی بنا دیا۔ آدمی کی قوت ہاتھ کی طاقت سے ہوتی ہے اور ہاتھ کی طاقت بازو کی قوت ہے۔ بِاَخِیْکَ یعنی تمہارے بھائی کو پیغمبر بنا کر تمہارے ساتھ بھیج کر۔ حضرت ہارون اس زمانہ میں مصر میں تھے۔ سلطنا غلبہ یا دلیل۔ فَلاَ یَصِلُوْنَ اِلَیْکُمَا یعنی فرعون اور اس کی قوم والے تم دونوں کو ضرر نہیں پہنچا سکیں گے۔ بایتنا انتما ومن اتبعکما الغلبون . تم دونوں ہمارے معجزات کے ساتھ (جاؤ) تم دونوں اور تم دونوں کے اتباع کرنے والے غالب ہوں گے۔ بِاٰیٰتِنَا کا تعلق نَجْعَلُ سے ہے یعنی اپنی آیات کے ذریعہ سے ہم تم دونوں کو غلبہ عطا کریں گے۔ یا اس کا تعلق فعل محذوف سے ہے یعنی تم دونوں ہماری آیات کے ساتھ جاؤ۔ یا لاَ یَصِلُوْنَ سے تعلق ہے یعنی ہماری آیات کے سبب سے فرعون اور اس کی قوم والے تم تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ یا اَلْغَالِبُوْنَ سے متعلق ہے یعنی تم دونوں اور تمہارے متبعین ہمارے معجزات کی وجہ سے غالب رہیں گے۔
Ayah 28:36

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

اور جب موسٰی اُن کے پاس ہماری کھلی نشانیاں لےکر آئے تو وہ کہنے لگے کہ یہ جادو ہے جو اُس نے بنا کھڑا کیا ہے اور یہ باتیں ہم نے اپنے اگلے باپ دادا میں تو (کبھی) سنی نہیں

فلما جاء ھم موسیٰ بایتنا بتینت قالو ما ھذا الا سحر مفتری وما سمعنا بھذا فی ابآئنا الاولین . پھر جب ان کے پاس موسیٰ کھلی دلیلیں لے کر پہنچے تو انہوں نے (معجزات دیکھ کر) کہا : یہ تو محض جادو ہے جس کی اللہ پر افترابندی کی جا رہی ہے۔ ایسی بات تو ہم نے اگلے باپ دادوں میں بھی (ہوتی) نہیں سنی۔ مَا ھٰذَا یعنی لاٹھی وغیرہ ‘ آیات بینات سے مراد ہے عصا اور یَدِ بَیضَآء ‘ مُفْتَرٰی گھڑا ہوا ‘ تراشیدہ جس کی مثل پہلے کبھی نہیں کیا گیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ یہ صرف جادو ہے جو موسیٰ نے بنا لیا ہے اور غلط طور پر اس کی نسبت اللہ کی طرف کردیتے ہیں۔ یا سِحْرٌ مُّفْتَرٰی سے جھوٹا سحر مراد ہے اور سحر کا یہ واقعی وصف ہے کہ ہر سحر جھوٹا ہی ہوتا ہے (بےحقیقت) ۔ بھذا یعنی جادو یا نبوت کا دعویٰ ۔
Ayah 28:37

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسٰی نے کہا کہ میرا پروردگار اس شخص کو خوب جانتا ہے جو اس کی طرف سے حق لےکر آیا ہے اور جس کے لئے عاقبت کا گھر (یعنی بہشت) ہے۔ بیشک ظالم نجات نہیں پائیں گے

وقال موسیٰ ربی اعلم بمن جآء بالھدی من عندہ . اور موسیٰ نے کہا : میرا رب خوب جانتا ہے اس کو جو اس کے پاس سے ہدایت (دین صحیح) لے کر آیا ہے۔ پس وہی جانتا ہے کہ میں حق پر ہوں اور تم لوگ باطل پرست ہو۔ وضوح آیات کے بعد حق کا انکار کرتے ہو باوجودیکہ تم دلوں سے اس پر یقین رکھتے ہو مگر غلط طور پر زبانوں سے انکار کرتے ہو۔ ومن تکون لہ عاقبۃ الدار انہ لا یفلح الظلمون . اور اس کو جس کا انجام اچھا ہوگا۔ بلاشبہ ظالم کامیاب نہیں ہوں گے۔ عَاقِبَۃُ الدَّار یعنی دار آخرت میں اچھا انجام۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ الدَّار سے دنیا مراد ہے اور اس کا اصلی انجام جنت ہے کیونکہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے اصل مقصد ثواب ہی ہے اور عاقبت میں عذاب ہونا تو بالعرض ہے (اصل مقصد نہیں ہے) ۔ اہل تحقیق کا قول ہے کہ عقبی اور عاقبت کا اطلاق نیکیوں کے انجام یعنی ثواب پر ہوتا ہے اور عقاب ‘ عقوبت اور معاقبت کا اطلاق برائیوں کے انجام بد یعنی عذاب پر ہوتا ہے۔ اللہ نے فرمایا : خَیْرٌ ثَوَابً وَّخَیْرٌ عُقْبٰی۔ لَھُمْ عُقْبَی الدَّار۔ نِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔ وَالْعَقِبَۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ اور عذاب کے لئے فرمایا ہے : فَحَقَّ عِقَاب۔ شَدِیْدُ الْعِقَابِ ۔ وَاِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَا قِبُوْا بِمِثْلَ مَاعُوْقِبْتُمْ بِہٖ ۔ لاَ یُفْلِحُ الظَّلِمُوْنَ یعنی دنیا میں ہدایت یاب اور آخرت میں حسن ثواب پر فائز نہیں ہوتے۔
Ayah 28:38

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے کہا کہ اے اہلِ دربار میں تمہارا اپنے سوا کسی کو خدا نہیں جانتا تو ہامان میرے لئے گارے کو آگ لگوا (کر اینٹیں پکوا) دو پھر ایک (اُونچا) محل بنادو تاکہ میں موسٰی کے خدا کی طرف چڑھ جاؤں اور میں تو اُسے جھوٹا سمجھتا ہوں

وقال فرعون یایھا الملا ما علمت لکم من الہ غیری . اور فرعون نے کہا : اے سردارو ! میں تو اپنے سوا تمہارا کوئی اور خدا نہیں جانتا۔ فرعون نے اپنے سوا کسی دوسرے خدا کو جاننے کی نفی کی ‘ خدا کے وجود کی نفی نہیں کی کیونکہ اس کو اپنے سوا دوسرے خدا کے نہ ہونے کا جزم نہ تھا (یعنی موسیٰ کے کہنے اور دلائل پیش کرنے سے وہ متردد ہوگیا تھا۔ اس کے پاس کوئی قطعی دلیل ایسی نہ تھی کہ وہ دوسرے خدا کے وجود کو محال ثابت کرسکتا ‘ مترجم) اس لئے اس نے کہا۔ فاوقد لی یھامن علی الطین فاجعل لی صرحرا لعلی اطلع الی الہ موسیٰ وانی لاظنہ من الکذبین . تو اے ہامان ! تو میرے لئے مٹی (کی اینٹیں بنوا کر ان) پر آگ دہکا پھر ان (پختہ اینٹوں) سے میرے لئے ایک پختہ اونچی عمارت بنوا تاکہ میں (اس پر چڑھ کر) موسیٰ کے (بتائے ہوئے) خدا کو جھانکوں اور میں تو اس کو یقیناً جھوٹا خیال کرتا ہوں۔ ہامان ‘ فرعون کا وزیر تھا ‘ فرعون نے اس کو پختہ اینٹیں بنوانے کا حکم دیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ فرعون نے ہی سب سے پہلے پختہ اینٹیں بنوا کر عمارت بنوائی۔ صَرْحًا بہت اونچا محل۔ تنوین تعظیم کو ظاہر کر رہی ہے۔ اَطَّلِعُ اِلٰی اِلٰہِ مُوْسٰی فرعون کا خیال تھا کہ اگر موسیٰ کا بیان کردہ خدا ہوگا تو آسمان میں ہوگا۔ لَاَظُنُّہٗ میں موسیٰ کو یقیناً خیال کرتا ہوں جھوٹا۔ یعنی اس دعویٰ میں جھوٹا کہ آسمان و زمین کا ایک خالق ہے۔ فرعون دہری تھا ‘ اس کا عقیدہ نہ تھا کہ تمام ممکنات کا موجد ایک واجب ہے۔ اس کا یہ بھی خیال تھا کہ جو بادشاہ سب پر تسلط رکھتا ہو اور قوت کے ذریعے سے سب پر غالب آجائے وہی رعایا کا خدا اور پرستش کا مستحق ہوتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے : اہل تفسیر کہتے ہیں کہ ہامان نے بکثرت راجوں اور مزدوروں کو جمع کیا یہاں تک کہ مزدوروں کے علاوہ پچاس ہزار معمار اکٹھے ہوگئے۔ اینٹیں پکانے والے ‘ چونہ تیار کرنے والے ‘ لکڑی کا کام کرنے والے ‘ کیلیں بنانے والے اور دوسرے کارگزار ان کے علاوہ تھے۔ چناچہ سب نے مل کر اتنی مضبوط اور اونچی عمارت بنا دی کہ کسی شخص کی عمارت (اس زمانہ تک) اتنی اونچی نہیں بنی تھی۔ اللہ ان لوگوں کی آزمائش کرنا چاہتا تھا۔ عمارت سے فارغ ہو کر فرعون اور اس کے ساتھ اوپر چڑھ گئے۔ فرعون نے اوپر پہنچ کر تیر اندازوں کو حکم دیا کہ اوپر کی طرف تیر چھوڑیں۔ تیراندازوں نے اوپر کو تیر پھینکے تو تیر خون آلود ہو کر واپس لوٹے۔ فرعون بولا : میں نے موسیٰ کے خدا کو قتل کردیا۔ فرعون کو خچر پر سوار کر کے اوپر چڑھایا گیا تھا۔ اللہ نے غروب آفتاب کے وقت جبرئیل کو بھیجا ‘ جبرئیل نے اپنا ایک پر خچر کے مار کر اس کے تین ٹکڑے کر دئیے۔ ایک ٹکڑا فرعون کے لشکر پر گرا جس سے لاکھوں آدمی مارے گئے ‘ ایک ٹکڑا سمندر میں جا گرا اور ایک ٹکڑا مغرب میں۔ جن جن لوگوں نے عمارت بنانے میں کچھ بھی کام کیا تھا ‘ سب ہی ہلاک ہوگئے۔
Ayah 28:39

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور وہ اور اس کے لشکر ملک میں ناحق مغرور ہورہے تھے اور خیال کرتے تھے کہ وہ ہماری طرف لوٹ کر نہیں آئیں گے

واستکبر ھو و جنودہ فی الارض بغیر الحق وظنوا انھم الینا لایرجعون . اور فرعون اور اس کے تابعین سے زمین (یعنی اس دنیا) میں بغیر استحقاق کے بڑے بن بیٹھے تھے (مولانا تھانوی نے لکھا ہے اور فرعون اور اس کے تابعین نے اس دنیا میں سر اٹھا رکھا تھا) اور یوں سمجھ رہے تھے کہ ان کو ہمارے پاس لوٹا کر نہیں لایا جائے گا۔ حق بمعنی استحقاق ‘ برحق۔ بڑا ہونااسی کو زیبا ہوتا ہے جس سے بڑا اور اس کے برابر بلکہ اس کی نسبت سے کچھ کم بھی کوئی دوسرا بڑا نہ ہو اور ایسا صرف خدا تعالیٰ ہے (اس کی بڑائی سے کسی کی بڑائی کی کوئی نسبت ہی نہیں ‘ نہ زیادتی کی ‘ نہ برابری کی ‘ نہ کمی کی۔ درحقیقت وہی بڑا ہے کبریائی کے درجہ پر پہنچا ہوا اسی لئے اللہ نے فرمایا : بڑائی میری چادر ہے اور بزرگی میرا ازار (یعنی عظمت وکبریائی میرا ہی لباس ہے) جو شخص بھی اس لباس کو مجھ سے کھینچے گا (اور اتار کر خود پہننا چاہے گا) میں اس کو دوزخ میں پھینک دوں گا۔ رواہ احمد و ابوداؤد ‘ ابن ماجہ بسند صحیح عن ابی ہریرہ و ابن ماجہ عن ابن عباس ‘ حاکم نے صحیح سند سے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے حدیث مذکورہ ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے : بڑائی میری چادر ہے جو بھی میری چادر کو مجھ سے کھینچے گا میں اس کو توڑ دوں گا (ہلاک کر دوں گا) سمویہ نے حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ کی روایت کے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : جو شخص مجھ سے دونوں میں سے کسی کو بھی کھینچے گا میں اس کو عذاب دوں گا۔
Ayah 28:40

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

تو ہم نے اُن کو اور اُن کے لشکروں کو پکڑلیا اور دریا میں ڈال دیا۔ سو دیکھ لو ظالموں کا کیسا انجام ہوا

فاخذنہ و جنودہ فنبذنھم فی الیم فانظر کیف کان عاقبۃ اظلمین . تو ہم نے اس کو اور اس کے تابعین کو پکڑ کر دریا میں پھینک دیا (اور غرق کردیا) سو دیکھئے ظالموں کا کیسا برا انجام ہوا۔ یعنی اپنی قوم کو اس طرح کے برے انجام سے ڈرائیے۔
Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو پیشوا بنایا تھا وہ (لوگوں) کو دوزخ کی طرف بلاتے تھے اور قیامت کے دن اُن کی مدد نہیں کی جائے گی

وجعلنھم ائمۃ یدعون الی النار ویوم القیمہ لا ینصرون اور ہم نے ان کو (گمراہوں کا) پیشوا بنا دیا جو (لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلا رہے تھے اور قیامت کے دن (اتنے بےبس ہوں گے کہ) ان کی کوئی مدد نہیں کی جائے گی
Ayah 28:42

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور اس دنیا سے ہم نے اُن کے پیچھے لعنت لگادی اور وہ قیامت کے روز بھی بدحالوں میں ہوں گے

واتبعنھم فی ھذہ الدنیا لعنہ ویوم القیمہ ھم من المقبوحین . اور اس دنیا میں (بھی) ہم نے ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے دن (بھی) وہ بدحال لوگوں میں سے ہوں گے۔ اَءِمَّۃً یعنی گمراہوں کے پیشوا جو دوسروں کو گمران کرنے پر آمادہ کرتے تھے یا دنیا میں سردار اور مالدار آبرو والے رئیس۔ اِلَی النَّار دوزخ کی طرف یعنی ان اسباب کی طرف جو دوزخ میں داخلہ کے موجب تھے یعنی کفر و معاصی کی طرف۔ لاَ یُنْصَرُوْنَ یعنی کوئی شخص عذاب الٰہی کے مقابلہ میں ان کی مدد نہیں کرے گا۔ لَعْنَۃً یعنی رحمت سے دور کردیا یا لعنت کرنے والوں کی لعنت ان کے پیچھے لگا دی کہ اللہ اور ملائکہ اور مؤمن بندے ان پر لعنت کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اَلْمَقْبُوْحِیْنَ یعنی رحمت سے دور ملعون لوگوں میں سے۔ ابوعبیدہ نے ترجمہ کیا کہ ہلاک کردہ لوگوں میں سے۔ قَبَّحَہُ اللّٰہُ اللہ نے اس کی صورت بگاڑدی اور ہر بھلائی سے اگر کسی کو دور کردیا ہو تو عرب کہتے ہیں : قَبَّحہٌ قُبحًا وقُبُوحًا۔
Ayah 28:43

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور ہم نے پہلی اُمتوں کے ہلاک کرنے کے بعد موسٰی کو کتاب دی جو لوگوں کے لئے بصیرت اور ہدایت اور رحمت ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

ولقد اتینا موسیٰ الکتب من بعد ما اھلکنا القرون الاولی بصائر للناس وھدی ورحمۃ لعلھم یتذکرون . اور ہم نے موسیٰ کو اگلی امتوں کو ہلاک کئے پیچھے کتاب (توریت) دی تھی جو (اسرائیلی) لوگوں کے لئے دانشمندیوں کا مجموعہ اور ہدایت و رحمت تھی تاکہ وہ اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اَلْقُرُوْنَ الْاُوْلٰی یعنی قوم نوح ‘ قوم ہود ‘ قوم صالح ‘ قوم لوط وغیرہ۔ بَصَاءِرَ بصائر ‘ بصیرت کی جمع ہے۔ بصیرت وہ نور ہے جو دلوں میں ہوتا ہے اور اس کے ذریعہ سے دل اشیاء یعنی واجب اور ممکن کی حقائق کو بقدر طاقت بشری دیکھ لیتے ہیں ‘ حق و باطل کو پرکھ لیتے ہیں اور سیدھی ٹیڑھی راہ میں امتیاز کرلیتے ہیں۔ ھُدًی یعنی ایسی ہدایت جس سے راہ نجات مل جائے اور امور معاش و معاد درست ہوجائیں۔ وَرَحْمَۃً یعنی رحمت خداوندی کے حصول کا ذریعہ۔ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ تاکہ وہ نصیحت پذیر ہوجائیں یا ان کی ایسی حالت ہوجائے کہ نصیحت اندوز ہونے کی ان سے امید کی جاسکے۔ تذکر اور خوف علم کا ثمرہ ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے : اِنَّمَا یَخْشَی اللہ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَآءَ ۔
Ayah 28:44

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور جب ہم نے موسٰی کی طرف حکم بھیجا تو تم (طور کی) غرب کی طرف نہیں تھے اور نہ اس واقعے کے دیکھنے والوں میں تھے

وماکنت بجانب الغربی اذقضینا الی موسیٰ الامر وما کنت من الشھدین . اور آپ (طور کے) مغربی جانب موجود نہ تھے جب کہ ہم نے موسیٰ کو احکام دئیے تھے اور نہ آپ ان لوگوں میں تھے جو (اس زمانہ میں) موجود تھے۔ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ یعنی موسیٰ کی جگہ سے ‘ غربی جانب۔ مطلب یہ ہے کہ طور کے غربی جانب۔ قتادہ اور سدی نے کہا : کوہ غربی کی جانب۔ کلبی نے کہا : وادی غربی کی جانب۔ سب سے مراد یہ ہے کہ جانب مضاف موصوف اور اَلْغَرْبِی مضاف الیہ صفت نہیں ہے بلکہ اَلْغَرْبِی کا موصوف محذوف ہے۔ حضرت ابن عباس نے کہا : اس سے مراد وہ مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ نے اللہ سے کلام کیا تھا۔ اور مَا کُنْتَ سے خطاب رسول اللہ کو ہے یعنی اے محمد ! تم وہاں موجود نہ تھے۔ اِذْ قَضَیْنَآ اِلٰی مُوْسَی الْاَمْرَ یعنی جب ہم نے فرعون اور اس کی قوم کے پاس پیام لے جانے کی موسیٰ کے پاس وحی بھیجی تھی۔ وَمَا کُنْتَ مِنَ الشَّھِدِیْنَ یعنی آپ ان لوگوں میں نہ تھے جو موسیٰ کے پاس وحی آنے کے شاہد تھے یا اس وقت موجود تھے جب موسیٰ پر نزول وحی ہو رہا تھا۔ اَلشَّاھِدِیْنَ سے مراد وہ ستر آدمی ہیں جن کو حضرت موسیٰ اپنے ساتھ طور پر لے گئے تھے۔ مطلب یہ ہے کہ موسیٰ کے واقعات لوگوں کے سامنے بیان کرنا تمہارے لئے بغیر وحی اور اطلاع غیبی کے ممکن نہیں۔ یہ تمہارا ایک (خداداد) معجزہ ہے جو تمہارے دعویٰ نبوت کو ثابت کررہا ہے۔
Ayah 28:45

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن ہم نے (موسٰی کے بعد) کئی اُمتوں کو پیدا کیا پھر ان پر مدت طویل گذر گئی اور نہ تم مدین والوں میں رہنے والے تھے کہ ان کو ہماری آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے تھے۔ ہاں ہم ہی تو پیغمبر بھیجنے والے تھے

ولکنا انشانا قرونا فتطاول علیھم العمر . لیکن (موسیٰ کے بعد) ہم نے بہت سی نسلیں پیدا کیں پھر ان پر زمانہ دراز گزر گیا۔ قُرُوْنًا یعنی ہم عصر لوگ یا مضاف محذوف ہے اور قرن کا معنی ہے زمانہ یعنی مختلف زمانوں والے (اہل قرون) ۔ فَتَطَاوَلَ عَلَیْھِمُ الْعُمُرُ یعنی ہم نے تمہارے پاس وحی بھیجی کیونکہ انقطاع پیغمبری کا زمانہ طویل ہوگیا تھا ‘ علوم مٹ چکے تھے ‘ شریعتیں بگڑ چکی تھیں ‘ خبروں میں اختلاف و تعارض اس وجہ سے ہوگیا تھا کہ ہم نے موسیٰ کے بعد مختلف قرون پیدا کر دئیے۔ مدت طویل ہوگئی اس لئے باہم اختلاف ہوگیا اور ایک دوسرے کو کاذب قرار دینے لگا۔ بغوی نے لکھا ہے : اللہ نے حضرت موسیٰ سے اور ان کی قوم سے محمد ﷺ کی بابت کچھ عہد لئے تھے اور آپ پر ایمان لانے کا وعدہ لیا تھا لیکن جب مدت دراز ہوگئی اور ایک قرن کے بعد دوسری قرن پیہم گزرتی چلی گئی تو لوگ ان عہدوں کو بھول گئے اور وفاء عہد سے غافل ہوگئے۔ اس تفسیر پر آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ جب آپ کی بابت ہم نے موسیٰ سے عہد لیا تھا اس وقت آپ موجود نہیں تھے ‘ نہ آپ کی درخواست پر ایسا کیا گیا تھا بلکہ ہم نے اپنی مہربانی سے خود ہی ایسا کیا تھا تاکہ آئندہ طویل زمانہ گزرنے کے بعد تمہارے مخالفوں کو عذر کا موقع نہ رہے اور جب ہم نے قرن در قرن پیدا کر دئیے تو مدت دراز ہوگئی اور یہ لوگ بھول گئے۔ اسی مفہوم کی ایک اور آیت آئی ہے ‘ فرمایا : وَاِذْا خَذَرَبُّکَ مِنْ بَنِیْ اٰدَمَ مِنْ ظُھُوْرِھِمْ سے اَنْ تَقُوْلُوْا اِنَّا کُنَّا عَنْ ھٰذا غافِلِیْنَ ۔۔ تک۔ وما کنت ثاویا فی اھل مدین تتلوا علیھم ایتنا . اور نہ اہل مدین میں آپ قیام پذیر تھے کہ (وہاں کے حالات دیکھ کر) ہماری آیتیں ان لوگوں کو پڑھ پڑھ کر سنا رہے ہوں۔ تَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِنَا یعنی وعدہ اور وعید سنا کر تم ان کو نصیحت کر رہے ہو۔ مقاتل نے کہا : مطلب یہ ہے کہ تم اہل مدین میں موجود نہ تھے کہ ان کی خبر اہل مکہ کو پڑھ کر سنا رہے ہو۔ ولکنا کنا مرسلین . بلکہ (اہل مکہ اور سب لوگوں کی طرف ہم ہی تم کو معجزات اور غیب کی خبریں دے کر) بھیجنے والے ہیں۔ یعنی اگر یہ بات نہ ہوتی تو تم ان کے واقعات ان لوگوں کو نہ سنا سکتے۔
Ayah 28:46

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور نہ تم اس وقت جب کہ ہم نے (موسٰی کو) آواز دی طور کے کنارے تھے بلکہ (تمہارا بھیجا جانا) تمہارے پروردگار کی رحمت ہے تاکہ تم اُن لوگوں کو جن کے پاس تم سے پہلے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں آیا ہدایت کرو تاکہ وہ نصیحت پکڑیں

وما کنت بجانب الطور اذ نادینا . اور نہ آپ طور کے جانب موجود تھے جس وقت کہ ہم نے (موسیٰ کو) پکارا تھا۔ بِجَانِبِ الطُّوْرِ طور کے کنارے جہاں اللہ نے موسیٰ سے کلام کیا تھا۔ اِذْنَادَیْنَا جب ہم نے (موسیٰ کو) پکارا تھا اور کہا تھا خُذِ الْکِتٰبِ بِقُوَّۃٍ اس جگہ وَمَا کُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِسے مراد ہے توریت عطا کرنے کا وقت اور ماکُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ سے مراد نے نبوت عطا کرنے کا وقت۔ وہب کا بیان ہے کہ موسیٰ نے کہا : اے میرے رب ! مجھے محمد کا دیدار کرا دے۔ اللہ نے فرمایا : تم ہرگز وہاں تک نہیں پہنچ سکتے اور اگر تم چاہو تو میں ان کی امت کو پکاروں اور ان کی آواز تم کو سنوا دوں۔ موسیٰ نے کہا : بہت خوب۔ اللہ نے فرمایا : اے امت محمد ! امت والوں نے اپنے باپوں کی پشت سے لبیک کہا۔ ابو زرعہ بن عمرو بن جریر کا قول ہے کہ اللہ نے ندا دی : اے امت محمد ! قبل اس کے کہ تم مجھ سے دعا کرو میں نے تمہاری دعا قبول کرلی اور مانگنے سے پہلے تم کو دے دیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا کہ اللہ نے فرمایا : اے امت محمد ! لوگوں نے باپوں کی پشتوں اور ماؤں کے رحموں سے جواب دیا : لبیک اللھم لبیک ان الحمد والنعمۃ لک والملک لا شریک لک۔ اللہ نے فرمایا : اے امت محمد ! میری رحمت میرے غضب سے اور میری معافی میرے عذاب سے آگے ہے (یعنی غالب ہے) میں نے مانگنے سے پہیل تم کو دے دیا اور دعا کرنے سے پہلے تمہاری دعا قبول کرلی اور گناہ کرنے سے پہلے تمہاری مغفرت کردی۔ جو شخص قیامت کے دن یہ گواہی لے کر آئے گا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد ﷺ میرے بندے اور رسول ہیں ‘ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا خواہ اس کے گناہ سمندر کے جھاگوں سے بھی زیادہ ہوں۔ ولکن رحمۃ من ربک لتنذر قوما ما اتھم من نذیر من قبلک لعلھم یتذکرون . (لیکن ہم نے آپ کو بھیجا یا ہم نے آپ کو تعلیم دی) آپ کے رب کی حمت کی وجہ سے تاکہ آپ ایسے لوگوں کو ڈرائیں کہ جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی ڈرانے والا (نبی) نہیں آیا تاکہ وہ نصیحت پذیر ہوں۔ قوما سے مراد ہیں اہل مکہ ‘ اہل مکہ کو (بلکہ سارے عرب کو ‘ مترجم) حضرت اسماعیل کے بعد رسول ﷺ سے پہلے کوئی ڈرانے والا یعنی نبی نہیں آیا۔ حضرت موسیٰ اور عیسیٰ کو صرف بنی اسرائیل کے لئے بھیجا گیا تھا۔
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ہم نے تو کو اس لئے بھیجا ہے کہ) ایسا نہ ہو کہ اگر ان (اعمال) کے سبب جو اُن کے ہاتھ آگے بھیج چکے ہیں ان پر کوئی مصیبت واقع ہو تو یہ کہنے لگیں کہ اے پروردگار تو نے ہماری طرف کوئی پیغمبر کیوں نہ بھیجا کہ ہم تیری آیتوں کی پیروی کرنے اور ایمان لانے والوں میں ہوتے

ولولا ان تصیبھم مصیبۃ بما قدمت ایدیھم فیقولوا ربنا لولا ارسلت الینا رسولا فنتبع ایتک ونکون من المؤمنین . اگر یہ بات نہ ہوتی تو ان کی بدکرداری کے سبب جب ان پر کوئی مصیبت آپڑے گی تو وہ کہنے لگیں گے : اے ہمارے رب ! تو نے ہمارے پاس کوئی پیغمبر نہیں بھیجا کہ ہم تیرے احکام پر چلتے اور مؤمنوں میں سے ہوجاتے (تو ہم پیغمبر نہ بھیجتے) ۔ مُصِیْبَۃٌ یعنی عذاب اور سزا وَلَوْلاَ اَنْ تُصِیْبَھُمْ الخ کا جواب محذوف ہے ‘ پورا مطلب اس طرح ہے کہ اگر یہ خیال نہ ہوتا کہ بدکرداری کی وجہ سے نازل ہونے والی مصیبت کے وقت یہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہیں بھیجا گیا کہ ہم ایمان لاتے اور احکام اتباع کرتے تو ہم کوئی پیغمبر نہ بھیجتے اور بغیر تنبیہ و تخویف سابق کے ان کے کفر کی سزا ان کو دے دیتے لیکن ہم نے اتمام حجت اور آئندہ معذرت کا راستہ بند کرنے کے لئے آپ کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔ لِءَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ حُجَّۃٌ مِّنْ بَعْدِ الرُّسُلِ تاکہ پیغمبروں کی بعثت کے بعد لوگوں کو کفر و معصیت کا کوئی عذر پیش کرنے کا موقع باقی نہ رہے۔