27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 27:82

وَ اِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَآبَّةً مِّنَ الْاَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ١ۙ اَنَّ النَّاسَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لَا یُوْقِنُوْنَ۠ Open ayah 27:82 in the Quran reader

اور جب اُن کے بارے میں (عذاب) کا وعدہ پورا ہوگا تو ہم اُن کے لئے زمین میں سے ایک جانور نکالیں گے جو ان سے بیان کر دے گا۔ اس لئے کہ لوگ ہماری آیتوں پر ایمان نہیں لاتے تھے

واذا وقع القول علیھم دابۃ من الارض اخرجنا لھم دابۃ من الارض . تو ہم زمین سے ایک چوپایہ ان کے لئے برآمد کریں گے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی نے فرمایا : وہ دابَّۃ ایسا دابَّۃ نہ ہوگا جس کی دم ہو بلکہ داڑھی والا دابَّۃ ہوگا۔ آپ کا اس کلام سے اس طرف اشارہ ہے کہ وہ آدمی ہوگا (چوپایہ نہ ہوگا) لیکن اکثر اہل تفسیر کا قول ہے کہ وہ چوپایہ ہی ہوگا۔ عبد بن حمید نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ وہ دابہ اون اور رنگا رنگ کے پروں والا ہوگا ‘ اس کی چار ٹانگیں ہوں گی۔ پھر وہ حاجیوں کے پیچھے سے برآمد ہوگا۔ ابن جریح کی روایت ہے کہ ابو الزبیر نے دابَّۃُ الْاَرْض کے حالات اس طرح بیان کئے : اس کا سر بیل کا (جیسا) سر ہوگا ‘ اس کی آنکھیں خنزیر کی آنکھوں (غی طرح) ہوں گی ‘ اس کے کان ہاتھی کے کان (جیسے) ہوں گے ‘ اس کے سینگھ بارہ سینگھے کے سینگھوں (کی مانند) ہوں گے ‘ اس کا سینہ سیر کا سینہ ہوگا ‘ اس کا رنگ چیتے کا رنگ ہوگا ‘ اس کی کوکھیں بلی کی کوکھوں کی طرح ہوں گی ‘ اس کی دم مینڈھے کی دم کی طرح ہوگی ‘ اس کی ٹانگیں اونٹ کی ٹانگوں (کی مثل) ہوں گی۔ ہر دو جوڑوں کے درمیان بارہ ہاتھ کا فاصلہ ہوتا ہے۔ اس کے پاس موسیٰ کی لاٹھی اور سلیمان کی انگشتری ہوگی۔ ہر مؤمن کے سجدہ کے مقام (پیشانی یا ناک) پر لاٹھی کی نوک سے نشان بنا دے گا جس سے اس کا چہرہ جگمگا جائے گا اور سلیمان کی انگوٹھی سے ہر کافر کے چہرہ کو نشاہ زدہ کر دے گا جس سے اس کا چہرہ کالا ہوجائے گا (یہ نشان اتنے نمایاں ہوں گے کہ) بازاروں میں لوگ خریدو فروخت کرتے وقت (کافروں و مؤمن کی شناخت کرلیں گے اور) کہیں گے اے کافر ! یہ چیز کتنے کی ہے ؟ اے مؤمن ! اس کی کیا قیمت ہے ؟ پھر دابہ لوگوں سے کہے گا : اے فلاں ! تو جنتی ہے ‘ اے فلاں ! تو دوزخی ہے۔ یہی معنی ہے آیت وَاِذَ ا وَقَعَ الْقَوُلُ عَلَیْھِمْ اَخُرَجْنَا لَھُمْ دَآبَّۃً مِّنَ الْاَرْضِ کا۔ بغوی نے حضرت ابن عمر کا قول نقل کیا ہے کہ دابۃ الارض کوہ صفا کے ایک شگاف سے برآمد ہوگا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس نے احرام کی حالت میں صفا کو لاٹھی سے ٹھوکا اور فرمایا : دابۃ میری لاٹھی کے ٹھوکے کو سن رہا ہے۔ حضرت ابن عمر نے فرمایا : دابۃ ایک گھاٹی سے برآمد ہوگا۔ اس کا سر بادل کو چھوئے گا اور اس کی ٹانگیں زمین کے اندر ہوں گی ‘ باہر نکلی بھی نہ ہوگی۔ وہ نماز پڑھتے آدمی کی طرف سے گزرے گا اور کہے گا : نماز کی تجھے کیا ضرورت ؟ پھر اس (کے ماتھے یا ناک پر) نشان بنا دے گا۔ بغوی نے حضرت ابو شریحہ انصاری کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : پوری مدت میں تین بار دابہ کا خروج ہوگا۔ ایک بار یمن سے برآمد ہوگا جس کی شہرت بادیہ (صحراء) میں پھیل جائے گی اور قریہ یعنی مکہ میں بھی اس کا تذکرہ پہنچ جائے گا۔ پھر ایک روز سب سے بڑی عزت و عظمت والی مسجد یعنی مسجد حرام میں لوگ جمع ہوں گے کہ دابہ دکھائی دے گا۔ عمرو (راوی) نے کہا : رکن اسود سے باب بنی مخزوم تک درمیان میں دکھائی دے گا اور مسجد کے ہر گوشہ میں موجود لوگوں کو دیکھے گا۔ لوگ اس کو دیکھ کر بکھر جائیں گے لیکن ایک جماعت اس کے سامنے جمی رہے گی۔ وہ سمجھ لیں گے کہ اللہ سے چھوٹ کر وہ کہیں جا نہیں سکتے۔ دابہ اپنے سر سے مٹی جھاڑتا ہوا ان کی طرف گزرے گا اور ان کے چہروں کو (نشان زد کر کے) ایسا روشن کر دے گا جیسے چمکدار ستارے ‘ پھر زمین کو پھاڑتا ہوا چلا جائے گا (اتنی تیزی کے ساتھ) کہ اس کو پکڑنے والا پا نہ سکے گا اور اس سے بھاگنے والا چھوٹ نہ سکے گا۔ پھر کچھ لوگ اٹھ کر نماز پڑھنے لگیں گے تو (تیسری بار) وہ پیچھے سے آپڑے گا اور کہے گا : اے فلاں ! تو اب نماز پڑھ رہا ہے ؟ پھر نماز کے سامنے آکر اس کے چہرہ پر نشان بنا دے گا۔ پھر لوگ وہاں سے ہٹ کر اپنے گھروں کو چلے جائیں گے اور ساتھ ساتھ مل کر سفر کریں گے اور باہم باتوں میں شرکت کریں گے اور کافر کا مؤمن سے امتیاز ہوجائے گا۔ مؤمن کو مؤمن کہہ کر پکارا جائے گا اور کافر کو کافر کہہ کر۔ حضرت حذیفہ بن یمان کا بیان ہے کہ رسول اللہ کے سامنے دابہ کا تذکرہ آیا تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ کہاں سے برآمد ہوگا ؟ فرمایا : سب سے بڑھ کر حتم والی مسجد سے اس وقت عیسیٰ طواف کر رہے ہوں گے۔ مسلمان آپ کے ساتھ ہوں گے کہ قندیل کی حرکت کی طرح ان کے قدموں کے نیچے زمین میں لرزہ پیدا ہوگا اور مشرقی جانب کوہ صفا پھٹ کر اس سے دابہ برآمد ہوجائے گا۔ سب سے پہلے اس کا سر نکلے گا ‘ اس پر اون اور پر ہوں گے۔ کوئی پکڑنے والا اس تک پہنچ نہ سکے گا اور نہ بھاگنے والا اس سے چھوٹ سکے گا۔ وہ لوگوں پر مؤمن و کافر کا نشان بنا دے گا۔ مؤمن کا چہرہ چمکدار ستارہ کی طرح روشن ہوجائے گا۔ اس کی دونوں آنکھوں کے بیچ میں کافر لکھا ہوگا۔ رواہ البغوی کذا اخرج ابن جریر۔ بغوی ن یسہل بن صالح کے والد کی روایت سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے دو یا تین بار فرمایا : حناد کی گھاٹی بری گھاٹی ہے۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ ! ایسا کیوں ہے ؟ فرمایا : اس سے دابہ برآمد ہوگا اور تین چیخیں مارے گا جن کو مشرق و مغرب کے درمیان سب سنیں گے۔ اس کا چہرہ مرد کا چہرہ ہوگا اور (باقی) جسمانی بناوٹ پرندے کی ہوگی اور جو اس کو دیکھے گا اس سے وہ کہے گا کہ اہل مکہ محمد ﷺ اور قرآن پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ تکلمھم . وہ دابہ لوگوں سے کہے گا۔ سدی نے کہا : وہ کہے گا کہ سوائے اسلام کے سب مذاہب باطل ہیں۔ بعض نے کہا : اس کا کلام یہ ہوگا کہ ایک کے متعلق کہے گا : یہ مؤمن ہے اور دوسرے کے متعلق کہے گا : یہ کافر ہے۔ جیسا کہ احادیث میں آیا ہے۔ بعض نے کہا : اس کا کلام وہ ہے جو اگلی آیت میں مذکور ہے۔ ان الناس کانوا بایتنا لا یوقنون . کہ (کافر) لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں لاتے تھے۔ مقاتل نے کہا : وہ عربی میں کلام کرے گا اور اللہ کی طرف سے کہے گا : اَنَّ النَّاسَ کَانُوْا بِاٰیٰتِنَا لاَ یُوْقِنُوْنَ ۔ وہ لوگوں کو خبر دے گا کہ اہل مکہ قرآن اور قیامت پر ایمان نہیں لائے۔ (اَنَّ بفتح ہمزہ کوفی قرأت ہے۔ مقاتل کا قول بھی اسی پر مبنی ہے اور جن لوگوں نے اس کو دابہ کا مقولہ قرار دیا ہے وہ بھی اَنَّ النَّاس پڑھتے ہیں) اور اِنَّ بالکسر جمہور کی قرأت ہے۔ اس قرأت پر یہ کلام استینافیہ ہوگا اور مطلب یہ ہوگا کہ خروج دابہ سے پہلے لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ بعض اہل علم نے کہا کہ آیات سے مراد ہیں خروج دابہ اور دوسری علامات سے قیامت و احوال قیامت۔ یہ سب آیاأ اللہ ہیں۔ حضرت ابنعمر نے فرمایا : یہ خروج دابہ اس وقت ہوگا جب بھلائی کا حکم اور برائی کی ممانعت نہ کی جائے گی۔ شیخ جلال الدین محلی نے لکھا ہے کہ خروج دابہ سے معروف کا حک اور منکر سے بازداشت (کا زمانہ) ختم ہوجائے گا ‘ اس کے بعد کوئی کافر ایمان نہیں لائے گا (ویسی ہی حالت مایوسی ہوجائے گی) جیسی اللہ نے حضرت نوح کے پاس وحی بھیجی تھی کہ جو ایمان لا چکا ‘ لا چلا آئندہ تمہاری قوم میں سے کوئی شخص ایمان نہیں لائے گا۔ میں کہتا ہوں : اس مضمون میں استنباط مختلف احادث و آثار سے ہوتا ہے۔ فصل : حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : چھ چیزوں سے پہلے اعمال کرلو : الدُّخَان والدَّجَّال ودَابۃُ الاَرضِ وطُلوع الشَّمسِ مِن مَّغزِ بِھَاوَا اَمرْالعَامۃِ خویصَۃُ اَحدِکُم۔ رواہ مسلم۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو کا بیان ہے : میں نے رسول اللہ کو فرماتے سنا کہ سب سے پہلے نشان جو نمودار ہوگا وہ مغرب سے طلوع آفتاب اور دن چڑھے لوگوں کے سامنے دابتہ الارض کا خروج ہوگا۔ ان میں سے جو واقعہ بھی پہلے ہوگا دوسرا عنقریب ہی اس کے بعد ہوجائے گا۔ رواہ مسلم۔ حضرت حذیفہ بن اسد غفاری راوی ہیں : ہم باہم کچھ تذکرہ کر رہے تھے کہ اچانک رسول اللہ برآمد ہوئے اور فرمایا : کیا تذکرہ کر رہے ہو ؟ لوگوں نے کہا : قیامت کا ذکر کر رہے ہیں۔ فرمایا : قیامت اس وقت تک بپا نہ ہوگی جب تک اس سے پہلے تم دس نشانیاں نہ دیکھ لو گے۔ پھر آپ نے وہ نشانیاں بتائیں اور فرمایا : دھواں (آسمان پر چھایا ہوا) دجال ‘ دابتہ الارض ‘ مغرب سے آفتاب کا طلوع ‘ عیسیٰ بن مریم کا نزول ‘ یاجوج ‘ تین جگہ زمین کا دھنسایا جانا ‘ ایک مشرق میں ایک مغرب میں ایک جزیرہ العرب میں اور آخر میں ایک آگ یمن سے نکلے گی جو لوگوں کو میدان حشر کی طرف ہنکا کرلے جائے گی۔ دوسری روایت میں آیا ہے کہ ایک آگ قصر عدن سے نکلے گی۔ ایک اور روایت میں دسویں علامت کی جگہ فرمایا ہے : ایک آندھی لوگوں کو سمندر میں پھینک دے گی۔ رواہ مسلم۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : دابہ برآمد ہوگا ‘ اس کے پاس موسیٰ کا عصا اور سلیمان کی انگشتری ہوگی ‘ مؤمن کے چہرہ کو لاٹھی کے نشان سے چمکدار بنا دے گا اور کافر کی ناک پر انگشتری کا نشان بنا دے گا یہاں تک کہ لوگ جمع ہوں گے تو ایکدوسرے کو کہے گا : اے مؤمن اور دوسرے کہے گا : اے کافر۔ رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ والحاکم وصححہٗ ۔ حضرت ابو امامہ راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : دابہ برآمد ہوگا اور لوگوں کی ناکوں پر نشان لگا دے گا۔ اس کے بعد بھی لوگ (مدت تک) زندہ رہیں گے یہاں تک کہ بعض لوگ جانور خرید کر لائیں گے تو ان سے دریافت کیا جائے گا : تم نے یہ جانور کس سے خریدا ؟ وہ جواب دیں گے : مہرزدہ آدمی سے۔ رواہ احمد۔ حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : جمعہ کی رات کو دابہ برآمد ہوگا۔ لوگ منا کی طرف جا رہے ہوں گے۔ ابن ابی شیبہ ‘ عبد بن حمید ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے حسن کا بیان نقل کیا ہے : موسیٰ نے اپنے رب سے خواہش کی کہ مجھے دابتہ الارض دکھا دیا جائے (ا اللہ نے دعا قبول فرمائی اور) چناچہ دابہ تین دن رات (برابر) نکلتا رہا۔ خلا میں جاتا رہا اور اس کا کوئی کنارہ نظر نہ آتا تھا۔ حضرت موسیٰ نے ہیبت ناک منظر دیکھ کر درخواست کی : اے میرے رب ! اس کو لوٹا دے۔ اللہ نے اس کو لوٹا دیا۔ میں کہتا ہوں : احادیث دلالت کر رہی ہیں کہ دابتہ الارض سچے مؤمنوں کو ان منافقوں سے الگ کر دے گا جو زبان سے مؤمن اور دل سے کافر ہوں گے اور کفر سے مراد ہے اس اسلام کی ضد جو (صرف زبانی ہوتا ہے لیکن زبان سے اسلام کا اقرار کرنے والوں کے) دلوں میں نہیں ہوتا بلکہ ایسے لوگوں کے دل اس دین کی تصدیق نہیں کرتے جو رسول اللہ کا لایا ہوا ہے ‘ اس اسلام کو مجازی اسلام کہا جاتا ہے یا کفر سے مراد ہے اس حقیقی اسلام کی ضد جس کے دعویٰ دار دلوں میں بھی ایمان رکھتے اور زبان سے بھی تصدیق کرتے ہیں لیکن اطمینان قلب اور ایمان نفس کے درجہ پر فائز نہیں ہوتے۔ اگر کفر سے موخر الذکر معنی مراد ہو تو دابہ جو بعض لوگوں سے کہے گا : اے فلاں ! تو دوزخیوں میں سے ہے ‘ اس سے مراد یہ ہوگی کہ تو دوزخ میں ضرور جائے گا ‘ یہ مطلب نہ ہوگا کہ تو ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ کفر سے مراد اعلانیہ کفر کا اقرار نہیں ہوسکتا کیونکہ فتح کے بعد مکہ کے اندر علانیہ کفر کا دعویدار کوئی باقی نہیں رہا (نہ آئندہ ہوگا) پھر مؤمنوں سے تمییز کردینے کا کوئی معنی نہیں۔
Ayah 27:83

وَ یَوْمَ نَحْشُرُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ فَوْجًا مِّمَّنْ یُّكَذِّبُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ یُوْزَعُوْنَ Open ayah 27:83 in the Quran reader

اور جس روز ہم ہر اُمت میں سے اس گروہ کو جمع کریں گے جو ہماری آیتوں کی تکذیب کرتے تھے تو اُن کی جماعت بندی کی جائے گی

ویوم نحشر من کل امۃ فوجا ممن یکذب بایتنا فھم یوزعون . اور یاد کرو اس دن کو جب ہم ہر امت میں ان لوگوں کا ایک گرہ جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے جمع کریں گے پھر وہ (سب تکذیب کرنے والے ایک جگہ جمع کر کے) روکے جائیں گے۔ فَوْج جماعت گروہ اُمَّت اس جگہ بمعنی قرن (یعنی ہر پیغمبر کی امت جو اس پیغمبر کے دور نبوت کی ہو) وہ وقت ہوگا جب اللہ حضرت آدم کو حکم دے کہ اپنی نسل میں سے دوزخ کا حصہ بھیجو۔ سورة الحج کے شروع میں یہ حدیث گزر چکی ہے۔ یُوْزَعُوْنَ روکے جائیں گے یعنی اولین و آخرین سب کو ایک جگہ روکا جائے گا تاکہ سب جمع ہوجائیں۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ روکے جانے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی تعداد بہت ہوگی اور ان کے کنارے بہت دور دور ہوں گے۔
Ayah 27:84

حَتّٰۤى اِذَا جَآءُوْ قَالَ اَكَذَّبْتُمْ بِاٰیٰتِیْ وَ لَمْ تُحِیْطُوْا بِهَا عِلْمًا اَمَّا ذَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:84 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب (سب) آجائیں گے تو (خدا) فرمائے گا کہ کیا تم نے میری آیتوں کو جھٹلا دیا تھا اور تم نے (اپنے) علم سے ان پر احاطہ تو کیا ہی نہ تھا۔ بھلا تم کیا کرتے تھے

حتی اذا جاء و . یہاں تک کہ جب وہ (سب محشر کی طرف) آجائیں گے۔ قال اکذبتم بایتی ولم تحیطوا بھا علما اما ذا کنتم تعلمون . اللہ فرمائے گا : کیا تم نے میری آیات کو ایسی حالت میں جھٹلایا تھا کہ ان کا پورا علم بھی تم نے حاصل نہیں کیا تھا یا (اگر نہیں جھٹلایا تھا اور ان کی تصدیق کی تھی تو بتاؤ) عمل کیا کرتے تھے ؟ یعنی کیا تو نے یونہی سطح طور پر رائے قائم کرلی تھی اور آیات کی حقیقت پر غور نہیں کیا تھا کہ تم کو ان کی حقیقت معلوم ہوجاتی اور تم ان کا علمی احاطہ کرلیتے ؟ یا یہ مطلب ہے کہ تم نے میری آیات کی تکذیب کردی اور یہ پورے طور پر نہیں جانا کہ آیات مستحق تصدیق ہیں یا سزاوار تکذیب ؟ استفہام زجری ہے۔ اَمَّا ذَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ یہ بزی زجر و توبیح ہے۔ کچھ کلام اس جگہ محذوف ہے ‘ اصل کلام اس طرح تھا : یا تم نے تکذیب نہیں کی ؟ اگر نہیں کی تو بتاؤ پھر سوائے تکذیب کے اور کیا عمل کرتے تھے اور چونکہ جاہلانہ تکذیب کے علاوہ انہوں نے اور کچھ کیا نہ ہوگا اس لئے کہہ نہ سکو گے کہ ہم نے تکذیب نہیں کی بلکہ یہ کام کیا۔
Ayah 27:85

وَ وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَیْهِمْ بِمَا ظَلَمُوْا فَهُمْ لَا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 27:85 in the Quran reader

اور اُن کے ظلم کے سبب اُن کے حق میں وعدہ (عذاب) پورا ہوکر رہے گا تو وہ بول بھی نہ سکیں گے

ووقع القول علیھم بما ظلموا فھم لا ینطقون . اور قول (یعنی عذاب موعود کا قول) ان پر ان کے ظلم کرنے (یعنی تکذیب آیات کرنے) کی وجہ سے واجب ہوجائے گا اس لئے وہ (کوئی کلمۂ معذرت) نہیں بولیں گے۔ کیونکہ ان کے پاس تکذیب کرنے کا کوئی عذر ہی نہ ہوگا یا اس وجہ سے کہ ان کو بولنے کی اجازت نہیں ملے گی کہ کچھ عذر پیش کرسکیں۔ بعض نے کہا : نہ بولنے کی وجہ یہ ہوگی کہ ان کے مونہوں پر مہریں لگی ہوں گی۔ بعض نے کہا : وہ عذاب میں اسے گرفتار ہوں گے کہ ان کو بولنے کا ہوش ہی نہ ہوگا۔ اول توجیہ زیادہ صحیح ہے۔ اسی پر اگلی آیت دلالت کر رہی ہے۔
Ayah 27:86

اَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا الَّیْلَ لِیَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ النَّهَارَ مُبْصِرًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 27:86 in the Quran reader

کیا اُنہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات کو (اس لئے) بنایا ہے کہ اس میں آرام کریں اور دن کو روشن (بنایا ہے کہ اس میں کام کریں) بےشک اس میں مومن لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں

الم یروا انا جعلنا الیل یلسکنوا فیہ والنھار مبصرا ان فی ذلک لایت لقوم یومنون کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے رات بنائی تاکہ لوگ اس میں آرام کریں اور دن بنایا جس میں دیکھیں ؟ بیشک و شبہ اس میں بڑی دلیلیں ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان رکھتے ہیں۔ یعنی جب وہ دلائل جو موجب ایمان تھیں انہوں نے دیکھ لیں تو پھر معذرت کیا پیش کرسکیں گے۔ اَلَمْ یَرَوْا میں استفہام انکاری اور انکار نفی اثبات میں ہوتا ہے (عدم کا عدم مرادف وجود ہے۔ مترجم) اس لئے اَلَمْ یَرَوْا کا مطلب ہوا کہ انہوں نے دیکھ لیا۔ جَعَلْنَا ہم نے پیدا کیا (اس جگہ جَعَلَ بمعنی خَلَقَ ہے) لِیَسْکُنُوْا فِیْہِ یعنی سوئیں اور حرکت چھوڑ کر قرار پکڑیں۔ مُبْصِرًا دن نہیں دیکھتا۔ آدمی دن میں دیکھتے ہیں ‘ ابصار کی قوت کو ظاہر کرنے کے لئے دن کو ہی مبصر قرار دیا۔ اَلَمْ یَرَوْا میں رؤیت (دیکھنا) بمعنی علم ہے یعنی کیا یہ نہیں جانتے کہ خاص طریقہ سے مفید طور پر معاش و معاد کے مصالح کے مطابق روشنی اور تاریکی کا توارد و تعاقب اللہ نے کردیا ہے ان کا اس طور پر تعاقب دلالت کر رہا ہے کہ ان کا فاعل خالق ‘ ْ حکیم اور قادر قاہر ہے اور ظاہر ہے کہ جو شب و روز کے تعاقب پر قدرت رکھتا ہے وہ پیغمبروں کو اللہ کی عبادت کی دعوت دینے کے لئے بھیج سکتا ہے اور فرمانبرداری و نافرمانی کی جزا سزا دینے کی بھی اس کو قدرت ہے اور موت کے بعد زندگی بھی لاسکتا ہے جیسا کہ وہ نور ‘ ظلمت اور بیداری و خواب کا تبادل کرتا رہتا ہے اور پیغمبروں کے معجزات سے پیغمبروں کی اور ان کی لائی ہوئی تعلیم کی صداقت ثابت ہو رہی ہے۔ ان تمام امور مذکورہ میں اللہ کی توحید اور رسول سے صداق ہونے کی کھلی ہوئی نشانیاں ہیں۔ تکذیب کرنے والے کو ان دلائل کے بعد کون سا عذر ہوسکتا ہے لیکن ان دلائل و آیات کا فائدہ انہی لوگوں کو پہنچتا ہے جو ایمان رکھتے ہیں۔ اَلَمْ یَرَوْا سے آخر تک حشر کی دلیل ہے۔ ظلمت کو نور سے اور خواب کو بیداری سے بدلنا دلالت کر رہا ہے کہ جو قادر یہ تبادلہ کرتا ہے وہ موت کے بعد دوبارہ زندگی بھی لاسکتا ہے
Ayah 27:87

وَ یَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَنْ فِی الْاَرْضِ اِلَّا مَنْ شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ كُلٌّ اَتَوْهُ دٰخِرِیْنَ Open ayah 27:87 in the Quran reader

اور جس روز صور پھونکا جائے گا تو جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں سب گھبرا اُٹھیں گے مگر وہ جسے خدا چاہے اور سب اس کے پاس عاجز ہو کر چلے آئیں گے

ویوم ینفخ فی الصور . اور یاد کرو اس دن کو جب کہ صور کے اندر پھونک ماری جائے گی۔ حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ سے صور کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا : وہ ایک سینگ ہے جس میں پھونکا جائے گا۔ رواہ ابو داؤد والترمذی وحسنہ والنسائی و ابن حبان و الحاکم۔ حضرت ابن مسعود سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ رواہ مسدد بسند صحیح۔ حضرت زید بن ارقم راوی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا : میں کیسے چین پاسکتا ہوں ؟ سینگ (صور) والا تو سینگ منہ میں لئے پیشانی آگے کو جھائے اور کان لگائے ہوئے ہے کہ کہ اس کو (پھونکنے) کا حکم دیا جاتا ہے۔ صحابہ کو یہ فرمان سن کر بڑی دشواری ہوگئی (کہ جب رسول اللہ کا یہ حال ہے کہ دل کو کسی وقت سکون میسر نہیں تو ہمارا کیا ٹھکانہ ہے) فرمایا : کہو حَسْبُنَا اللہ وَنِعْمَ الْوَکِیْلُ اللہ ہمارے لئے کافی ہے اور وہی اچھا ذمہ دار ہے۔ احمد ‘ حاکم ‘ بیہقی اور طبرانی ہے حضرت ابن عباس کی روایت سے یہ حدیث اسی طرح بیان کی ہے اور ترمذی ‘ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابو سعید کی روایت سے بھی یونہی نقل کیا ہے اور ابو نعیم نے حضرت جابر کی روایت سے بھی ایسا ہی بیان کیا ہے۔ سعید بن منصور اور بیہقی نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : جبرئیل اس کے یعنی اسرافیل کے دائیں جانب اور میکائیل بائیں جانب ہیں اور وہی صور والا ہے۔ قرطبی نے لکھا ہے : تمام (پیغمبروں کی) امتوں کے علماء کا اتفاق ہے کہ اسرافیل ہی صور پھونکیں گے۔ ففرع من فی السموت ومن فی الارض الا من شا اللہ . پس گھبرا جائیں گے وہ جو آسمانوں میں ہوں گے یعنی ملائکہ اور ارواح المؤمنین اور جو زمین میں ہیں یعنی انسان سوائے ان کے جن کو خدا نہ چاہے وہ نہیں گھبرائیں گے۔ یہ نفخۂ فزع یا نفخۂۂ صعق (نفخۂ بیہوشی یا نفخۂ موت) ہی ہوگا یا دونوں الگ الگ ہوں گے۔ علماء کے اس میں دو قول ہیں : بعض لوگوں کا خیال ہے کہ صور تین بار پھونکا جائے گا ‘ ایک نفخۂ فزع جس سے ساری مخلوق گھبرا جائے گی اور خوف زدہ ہوجائے گی۔ دوسرا نفخۂ صعق جس کو سن کر لوگ بےہوش جائیں گے یعنی مرجائیں گے۔ تیسرا نفخۂ بعث جس سے لوگ زندہ ہو کر قبروں سے اٹھ کر کھڑے ہوں گے۔ اس آیت میں نفخۂ فزع کی صراحت ہے اور نفخۂ صعق و نفخۂ بعث کا ذکر آیت وَنُفِعَ فِیْ الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِیْ السَّمٰوَاتِ وَمَنْ فِیْ الْاَرْضِ الاَّ مَنْ شَآءَ اللہ ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَاھُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ میں کیا گیا ہے۔ یہ قول ابن عربی کا ہے۔ تینوں نفخات کا ذکر حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ طویل حدیث میں آیا ہے جس کو ہم عنقریب ذکر کریں گے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ صرف دو نفخات ہوں گے ‘ نفخۂ فزع ہی نفخۂ صعق ہوگا۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ نفخہ ایک ہی ہوگا جس میں دونوں حالتیں پیدا ہوجائیں گی اور یہ دونوں باہم لازم ملزوم ہوں گی ‘ صور کی آواز سن کر پہلے گھبراہٹ ‘ پھر بےہوشی اور موت ہوجائے گی۔ قرطبی نے اس قول کو صحیح قرار دیا ہے اور استدلال میں کہا ہے کہ نفخۂ فزع سے اس جگہ مَنْ شَآءَ اللہ کو مستثنیٰ کرلیا گیا ہے جس طرح کہ نفخۂ صعق سے مَن شَآءَ اللہ کو مستثنیٰ کیا گیا ہے ‘ دونوں کے متعلق الاَّ مَنْ شَآءَ اللہ آیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دونوں الگ الگ نفخات نہیں ہوں گے بلکہ ایک ہی نفخہ ہوگا (جس کو نفخۂ فزع بھی کہا گیا ہے اور نفخۂ صعق بھی) ۔ میں کہتا ہوں : یہ دلیل صحیح نہیں ہے ‘ اس سے دونوں نفخوں کا ایک ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ بیشک مستثنیٰ منہ دونوں کلاموں میں ایک ہی ہے لیکن مَنْ شَآءَ اللہ کو دونوں جگہ مستثنیٰ کرلینے کا یہ معنی نہیں کہ دونوں مستثنیٰ ایک ہی ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : مستثنیٰ کون لوگ ہوں گے ‘ اس کی تعیین میں علماء کے اقوال میں اختلاف ہے۔ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ سے آیت الاَّ مَنْ شَآءَ اللہ کی بابت دریافت کیا گیا تو حضور ﷺ نے فرمایا : وہ شہداء ہوں گے کیونکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہموجود ہیں ‘ ان کو فزع لاحق نہ ہوگا۔ بغوری نے اس جگہ کلبی اور مقاتل کا قول نقل کیا ہے جس کا ذکر ہم آگے کریں گے ‘ لیکن بغوی کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ مستثنیٰ دونوں جگہ ایک ہی ہے اور نفخۂ فزع اور نفخۂ صعق بھی الگ الگ نہیں بلکہ ایک ہی ہیں اور ظاہر ہے کہ دونوں نفخے الگ الگ ہوں گے۔ ذیل میں ان احادیث اور آثار کا ذکر کرتے ہیں جو استثناء کے متعلق ہیں۔ ابویعلی ‘ بیہقی اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ذکر کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا : میں نے جبرئیل سے آیت وَنُفِعَ فِیْ الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِیْ السَّمٰوَاتِ وَمَنْ فِیْ الْاَرْضِ الاَّ مَنْ شَآءَ اللہ کے سلسلہ میں دریافت کیا کہ وہ کون ہیں جن کو اللہ بےہوش کرنا (یا صور کی آواز سے مردہ کرنا) نہ چاہے گا ؟ جبرئیل نے جواب دیا : وہ شہداء ہوں گے جو تلواریں لٹکائے عرش کے گرداگرد ہیں۔ علماء نے استثناء شہداء کی بابت ی وجہ بیان کی ہے کہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : بعض آثار میں آیا ہے کہ شہدا اللہ کے استثناء کردہ ہیں یعنی اللہ نے خود نفحۂ صور کے اثر سے ان کو مستثنیٰ کردیا ہے۔ کذا روی ہناد بن السری والبیہقی والخاس فی معانی القرآن عن سعید بن جبیر۔ کلبی اور مقاتل نے کہا ہے : جن کا اللہ نے استثناء کیا ہے وہ جبرئیل اور میکائیل ‘ اسرافیل اور ملک الموت ہیں (انہی کو مستثنیٰ کیا ہے) کیونکہ فریابی نے اپنی تفسیر میں حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ نے آیت وَنُفِعَ فِیْ الصُّوْرِ فَصَعِقَ سے الاَّ مَنْ شَآءَ اللہ تک تلاوت کی تو صحابہ نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! یہ کون لوگ ہیں جن کا اللہ نے استثناء کیا ہے ؟ فرمایا : جبرئیل و میکائل ‘ فرشتۂ موت ‘ اسرافیل اور حاملین عرش۔ جب اللہ مخلوق (یعنی انسانوں) کی روحیں قبض کرلے گا تو ملک الموت سے فرمائے گا : اب کون باقی ہے ؟ ملک الموت جواب دے گا : اے مالک عظمت و عزت ! تو پاک ہے ‘ بڑی خیر والا ہے ‘ بزرگ و برتر ہے ‘ جبرئیل اور میکائیل اور ملک الموت باقی ہیں۔ اللہ فرمائے گا : میکائیل کی جان لے لے۔ ملک الموت میکائیل کی جان لے لے گا اور میکائیل بڑے پہاڑ کی طرح گرجائے گا۔ پھر اللہ فرمائے گا : (اب) کون باقی رہا ؟ ملک الموت عرض کرے گا : جبرئیل اور ملک الموت۔ اللہ فرمائے گا : اے موت کے فرشتے ! تو مرجا۔ موت کا فرشتہ مرجائے گا۔ اللہ فرمائے گا : جبرئیل اب کون باقی رہے گا ؟ جبرئیل جواب دے گا : تیری ذات کریم لافانی اور جبرئیل میت فانی۔ اللہ فرمائے گا : (موت تو تجھے بھی آنی ہے) مرے بغیر چارہ نہیں۔ جبرئیل فوراً سجدہ میں گرجائے گا ‘ اپنے دونوں بازو پھڑپھڑانے لگے گا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جبرئیل کی جسمانی ساخت کی میکائیل کی جسمانیت پر بیشی ایسی ہے جیسے بڑے پہاڑ کی بڑائی چھوٹے ٹیلہ پر۔ بیہقی نے آیت فَنُفِعَ فِیْ الصُّوْرِ کے ذیل میں حضرت انس کی مرفوع روایت نقل کی ہے کہ جن کو اللہ نے مستثنیٰ کیا ہے ان میں سے تین اشخاص ہوں گے : جبرئیل اور میکائیل اور ملک الموت۔ اللہ باوجودیکہ خوب جانتا ہوگا ‘ فرمائے گا : اے ملک الموت کون باقی رہا ؟ ملک الموت عرض کرے گا : تیری لافانی ذات کریم اور تیرہ بندہ جبرئیل اور میکائیل اور ملک الموت۔ اللہ فرمائے گا : میکائیل کی جان لے لے۔ پھر فرمائے گا ‘ باوجودیکہ خوب واقف ہوگا : (اب) کون باقی رہا ؟ ملک الموت عرض کرے گا : تیری ذات کریم لافانی اور تیرا بندہ ملک الموت اور وہ بھی مرنے والا ہے۔ اللہ فرمائے گا : تو بھی مرجا (ملک الموت بھی مرجائے گا) پھر فرمائے گا : میں نے ہی مخلوق کو شروع میں پیدا کیا تھا پھر میں ہی دوبارہ تخلیق کروں گا۔ اب کہاں ہیں مغرور متکبر ؟ کوئی بھی جواب نہیں دے گا۔ پھر اللہ پکار کر فرمائے گا : آ حکومت کس کی ہے ؟ کوئی بھی جواب دینے والا نہ ہوگا۔ اللہ خود ہی فرمائے گا : ایک غالب کل اللہ کی۔ اس کے بعد (ملک الموت کو سب سے پہلے اٹھایا جائے گا اور) دوبارہ صور میں پھونک ماری جائے گی اور یکدم سب کھڑے ہوجائیں گے (اور ایک دوسرے کو دیکھ رہے ہوں گے) ۔ بیہقی نے زید بن اسلم کا قول نقل کیا ہے کہ جن کو اللہ نے مستثنیٰ کیا ہے وہ بارہ ہیں : جبرئیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل ‘ ملک الموت اور آٹھ حاملین عرش۔ بغوی نے لکھا ہے : روایت میں آیا ہے کہ جبرئیل و میکائیل کی روح قبض کی جائے گی ‘ پھر حاملین عرش کی ‘ پھر اسرافیل کی روح ‘ پھر ملک الموت کی روح۔ بیہقی نے مقاتل کا قول نقل کیا ہے (اول) میکائیل کی روح قبض کی جائے گی ‘ پھر جبرئیل کی روح ‘ پھر اسرافیل کی روح ‘ پھر ملک الموت کو بھی (مر جانے کا) حکم ہوگا وہ بھی مرجائے گا۔ ابو الشیخ نے کتاب العظمتہ میں وہت کا قول نقل کیا ہے کہ ان چاروں یعنی جبرئیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل اور ملک الموت کو اللہ نے سب سے پہلے پیدا کیا اور سب کے آخر میں ان کو وفات دے گا اور پھر سب سے پہلے ان کو زندہ کرے گا۔ یہی ہیں اَلْمُدَبِّرَاتِ اَمْرًا (کاموں کا انتظام کرنے والے ملائکہ) اور اَلْمُقَسِّمَاتِ اَمْرًا (کاموں کو تقسیم کرنے والے ملائکہ) یعنی قرآن کی اس آیت میں یہی مراد ہے۔ سیوطی نے لکھا : استثناء کی ان تمام روایات میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ ان تمام روایات کو اس طرح جمع کیا جاسکتا ہے کہ یہ سب مستثنیٰ ہیں (چاروں ملائکہ بھی اور آٹھوں حاملین عرش بھی) ۔ میں کہتا ہوں : جتنی احادیث اور آثار آئی ہیں وہ نفخۂ صعق (نفخۂ موت) سے استثناء کے متعلق ہیں ‘ نفخۂ فزع سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ میرے نزدیک آیت سے جن لوگوں کا استثناء کیا گیا ہے ان سے مراد وہ نیکوکار مؤمن ہیں جن کا ذکر آیت میں مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ قَلَہٗ خَیْرٌ مِّنْھَا وَھُمْ مِنْ فَزَعٍ یَّوْمَءِذٍ اٰمِنُوْنَ اور آیت اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتُ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰی اُولٰٓءِکَ عَنْھَا مُبْعَدُوْنَ لاَ یَسْمَعُوْنَ حَسِیْسَھَا وَھُمْ فِیْمَا اشتَھَتْ اَنْفُسْھُمْ خَالِدُوْنَ لاَ یَحْزُنُھُمْ الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ میں کیا گیا ہے۔ ان آیات میں صراحت ہے کہ جو لوگ دوزخ میں جائے بغیر جنت میں چلے جائیں گے ان پر نفخۂ فزع کے وقت گھبراہٹ طاری نہ ہوگی اور نفخۂ فزع کے وقت سوائے کافروں کے اور کوئی موجود ہی نہ ہوگا۔ رسول اللہ نے فرمایا : قیامت صرف شریروں پر برپا ہوگی۔ رواہ احمد و مسلم عن ابن مسعود۔ یہ بھی رسول اللہ کا ارشاد ہے۔ قیامت اسی وقت قائم ہوگی جب زمین پر اللہ اللہ (کہنے والا ہی نہ ہوگا اور اللہ اللہ) نہیں کہا جائے گا۔ رواہ احمد و مسلم والترمذی عن انس۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بھی فرمایا : قیامت برپا ہوگی یہاں تک کہ کعبہ کا حج نہیں کیا جائے گا (کوئی حج کرنے والا ہی نہ ہوگا اس وقت قیامت آئے گی) رواہ عبدالرزاق فی الجامع۔ یہ بھی حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ قیامت نہیں آئے گی یہاں تک کہ کعبہ اور قرآن اٹھا لیا جائے گا (اس وقت آئے گی) رواہ السنجری عن ابن عمر۔ اس مضمون کی اور احادیث بھی آئی ہیں اسی لئے رسول اللہ نے ارواح شہداء کو مستثنیٰ قرار دیا کیونکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں۔ باقی ملائکہ اور ارواح انبیاء بھی استثناء میں داخل ہیں ‘ وہ بھی بالکل گھبراہٹ سے مستثنیٰ ہوں گی۔ ابن جریر نے تفسیر میں ‘ طبرانی نے المطولات میں ابویعلی نے مسند میں ‘ بیہقی نے البعث میں ابو موسیٰ مدینی نے المطوطات میں ‘ علی بن معبد نے کتاب الطاعتہ و العصیان میں ‘ ابو الشیخ نے ککتاب اعظمتہ میں ‘ نیز عبد بن حمید نے حضرت ابوہریرہ کی روایت کردہ ایک طویل حدیث نقل کی ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ پھر تین بار صور پھونکا جائے گا۔ پہلا نفخہ ‘ نفخۂ فزع ہوگا اور دوسرا نفخۂ صعق اور تیسرا نفخۂ وہ نفخہ جس کے بعد سب رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوجائیں گے۔ اللہ اسرافیل کو پہلی بار صور پھونکنے کا حکم دے گا۔ اسرافیل پھونکے گا جس سے (سارے) اہل سموات وارض گھبرا جائیں گے (سخت خوف زدہ ہوجائیں گے) سوائے ان کے جن کو اللہ (محفوظ رکھنا) چاہے گا (وہ محفوظ رہیں گے) یہاں تک کہ حضور ﷺ نے فرمایا : پھر دودھ پلانے والیاں اپنے شیر خوار بچوں کو بھول جائیں گی ‘ حاملہ عورتوں کے حمل ساقط ہوجائیں گے ‘ بچوں کے بال سفید ہوجائیں گے اور شیطان اڑے اڑے بھاگ کر زمین کے کناروں پر پہنچ جائیں گے۔ ملائکہ آکر ان کے منہ پر مار مار کر واپس لوٹا دیں گے ‘ سامنے سے ملائکہ آکر ا کے منہ پر مار مار کر واپس لوٹا دیں گے۔ لوگ پیٹھ پھیرے بھاگ رہے ہوں گے ‘ ایک دوسرے کو پکارے گا۔ اللہ نے اسی دن کو یَوْمُ التَّنَادِ (پکار کا دن) فرمایا ہے۔ اس حدیث میں رسول اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ (قبروں کے اندر) اس بیرونی کیفیت سے بالکل بیخبر ہوں گے ‘ ان کو کچھ معلوم نہ ہوگا کہ اوپر کیا ہو رہا ہے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ! وہ کون لوگ ہیں جن کو اللہ نے مستثنیٰ کیا ہے اور فرمایا ہے الا من شاء اللہ ؟ فرمایا : وہ شہداء ہوں گے (تمام) زندوں تک وہ خوف پہنچے گا (مگر شہیدوں تک نہیں پہنچے گا) اور وہ اپنے رب کے پاس زندگی کی حالت میں ہوں گے۔ ان کو اللہ کی طرف سے روزی ملتی ہے ‘ اللہ ان کو اس روز کے خوف سے محفوظ رکھے گا اور اس گھبراہٹ سے وہ امن میں رہیں گے۔ یہ عذاب انہی لوگوں پر قائم ہوگا جو اللہ کی مخلوق میں سب سے برے (یعنی کافر) ہوں گے۔ اللہ نے فرمایا ہے : یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ انَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْیءٌ عَظِیْمٌ الخ اللہ جتنی مدت چاہے گا لوگ اسی حالت میں رہیں گے پھر نفخۂ صعق کا حکم دے گا تو سارے آسمان و زمین والے مرجائیں گے سوائے ان کے جن کو اللہ (موت سے محفوظ رکھنا) چاہے۔ ملک الموت عرض کرے گا : آسمان و زمین والے (سارے) مرگئے سوائے ان کے جن کو تو نے محفوظ رکھنا) چاہا۔ اللہ فرمائے گا ‘ حالانکہ وہ خوب جانتا ہوگا : اب کون باقی رہا ؟ پھر (بروایت ابوہریرہ رسول اللہ نے جبرئیل ‘ میکائیل ‘ ملک الموت اور حاملین عرش کے مرنے کا تذکرہ حضرت انس کی روایت کردہ حدیث کے مطابق کیا۔ ایک شبہ آسمانوں میں تو کوئی شیطان نہیں اور یہ گھبراہٹ انہی انس و جن کے شیطانوں پر طاری ہوگی جو اشرار خلق ہیں ‘ پھر فَزِعَ مَنْ فِیْ السَّمٰوَاتِ (آسمانوں والے گھبرا جائیں گے) کا کیا معنی ہے ؟ ایک ازالہ میں کہتا ہوں : شاید مَنْ فِیْ السَّمٰوَاتِ کا ذکر مبنی بر فرض ہے (یعنی بالفرض اگر آسمانوں پر شیاطین ہوں گے تو وہ بھی خوف زدہ ہوجائیں گے) یا یوں کہا جائے کہ چوری چھپے فرشتوں کی کوئی بات سننے کے لئے کبھی شیاطین آسمان تک پہنچ جاتے ہیں ‘ یا آسمانوں سے مراد بادل ہے۔ لفظ سماء کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جو تمہارے اوپر ہو۔ اللہ نے فرمایا : فَلْیَمْدُدْ سَبَبًا اِلَی السَّمَآءِ اس کو چاہئے کہ چھت تک رسی تان لے یا یوں کہا جائے کہ مَنْ فِیْ السَّمٰوَاتِ سے مراد ہیں بعض مؤمنوں کی روحیں اور سَبَقَتُ لَھُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰی سے مراد ہیں انبیاء اور مقربین بارگارہ الٰہی۔ نفخۃ الصعق سے مستثنیٰ کون ہوں گے ‘ اس مبحث میں صحیح قول وہ ہے جو صاحب مفہم نے کہا ہے کہ لفظ صعق سے بطور عموم مجاز ایسا مفہوم مراد ہے جو موت کو بھی شامل ہے اور صرف بےہوشی کو بھی۔ زندوں کے لئے موت اور مردوں کے لئے بےہوشی ہوجائے گی۔ یہ بےہوشی تمام انبیاء کو (جو عالم بزرخ میں موجود ہیں) ہوگی ‘ البتہ حضرت موسیٰ کے لئے بےہوش ہونے میں تردد ہے ‘ کوئی قطعی بات نہیں کہی جاسکتی۔ شیخیننے صحیحین میں اور ترمذی و ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے ذکر کیا ہے کہ ایک یہودی نے مدینہ کے بازار میں کہا : قسم ہے اس کی جس نے موسیٰ کو تمام انسانوں پر فضیلت عطا کی۔ یہ بات سن کر ایک انصار نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور یہودی کے طمانچہ مارا اور کہا : تو ایسی بات کہتا ہے حالانکہ ہم میں رسول اللہ موجود ہیں۔ اس بات کا تذکرہ رسول اللہ کے سامنے کیا گیا تو ارشاد فرمایا کہ اللہ نے فرمایا ہے : وَنُفِعَ فِیْ الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِیْ السَّمٰوَاتِ وَمَنْ فِیْ الْاَرْضِ الاَّ مَنْ شَآءَ اللہ ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَاھُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ پس میں ہی سب سے پہلے اپنا سر اٹھاؤں گا تو اچانک دیکھوں گا کہ موسیٰ عرش کا ایک پایہ پکڑے ہوئے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ مجھ سے پہلے انہوں نے اپنا سر اٹھا لیا (اور اٹھ کھڑے ہوئے) یا ان لوگوں میں سے تھے جن کو اللہ نے مستثنیٰ کردیا ہے۔ جب لفظ صعق موت اور بےہوشی دونوں کو شامل ہے اور انبیاء پر (عالم بزرخ میں) غشی طاری ہوجائے گی تو شہداء کا بےہوش ہونا بدرجۂ اولیٰ ہوگا اور ملائکہ بھی بےہوش ہوں گے البتہ جبرئیل ‘ میکائیل ‘ اسرافیل ‘ ملک الموت اور حاملین عرش کی موت صور پھونکنے کی آواز سے نہیں ہوگی بلکہ یہ ملائکہ بعد کو مریں گے جیسا کہ احادیث میں آچکا ہے۔ وکل اتوہ دخرین . اور سب کے سب اس کے سامنے دبے جھکے رہیں گے۔ یعنی تمام آسمانوں و زمین والے نفخۂ بعث کے بعد مؤقف میں عاجزی کے ساتھ حاضر ہوں گے۔ چونکہ یہ واقعہ آئندہ یقینی ہوگا ‘ اس کی قطعیت ظاہر کرنے کے لیے اتوہ بصیغۂ ماضی فرمایا۔
Ayah 27:88

وَ تَرَى الْجِبَالَ تَحْسَبُهَا جَامِدَةً وَّ هِیَ تَمُرُّ مَرَّ السَّحَابِ١ؕ صُنْعَ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اَتْقَنَ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ اِنَّهٗ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:88 in the Quran reader

اور تم پہاڑوں کو دیکھتے ہو تو خیال کرتے ہو کہ (اپنی جگہ پر) کھڑے ہیں مگر وہ (اس روز) اس طرح اُڑے پھریں گے جیسے بادل۔ (یہ) خدا کی کاریگری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا۔ بےشک وہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے

وتری الجبال تحسبھا جامدۃ وہی تمرمر السحاب . (اے دیکھنے والے ! ) تو پہاڑوں کو دیکھ رہا ہے اور تو ان کو اپنی جگہ جما ہوا خیال کر رہا ہے (اور سمجھتا ہے کہ یہ جنبش نہیں کریں گے) حالانکہ وہ بادلوں کی طرح اڑے پھریں گے۔ (یہ ترجمہ مولانا اشرف علی صاحب کے ترجمہ کے مطابق ہے لیکن حضرت مفسر کی تفسیر کے مطابق جو ترجمہ ہوگا وہ اس طرح ہوگا۔ مترجم) ۔ اے دیکھنے والے ! تو (فزع کے وقت) پہاڑوں کو دیکھے گا تو خیال کرے گا کہ یہ اپنی جگہ کھڑے ہیں (متحرک نہیں ہیں) حالانکہ وہ بادلوں کی طرح (تیزرفتاری کے ساتھ) چلیں گے۔ پھر تیزی کے ساتھ چل کر زمین پر گرپڑیں گے اور زمین کے برابر ہوجائیں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بڑے بڑے جسم بھی اگر تیزی کے ساتھ ایک طرف کو حرکت کر رہے ہوں گے تو ان کی حرکت محسوس نہیں ہوتی۔ صنع اللہ الذی اتقن کل شیء انہ خبیر بما یفعلون . یہ خدا کا کام ہوگا جس نے ہر چیز کو (مناسب انداز پر) مضبوط بنا رکھا ہے۔ یہ یقنی بات ہے کہ اللہ کو تمہارے سب افعال کی پوری خبر ہے۔ یعنی ہر شخص کو نافرمان ہو یا فرمانبردار اس کے عمل کے مطابق بدلہ دے گا۔ اس کی تفصیل آئندہ آیات میں مذکور ہے۔
Ayah 27:89

مَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهٗ خَیْرٌ مِّنْهَا١ۚ وَ هُمْ مِّنْ فَزَعٍ یَّوْمَئِذٍ اٰمِنُوْنَ Open ayah 27:89 in the Quran reader

جو شخص نیکی لےکر آئے گا تو اس کے لئے اس سے بہتر (بدلہ تیار) ہے اور ایسے لوگ (اُس روز) گھبراہٹ سے بےخوف ہوں گے

من جا بالحسنہ فلہ خیرمنھا . جو شخص نیکی لائے گا سو اس کو اس نیکی کے اجر سے بہتر ملے گا۔ ابو معشر نے کہا : ابراہیم بلا استثناء قسم کھا کر کہتے تھے کہ اَلْحَسَنَۃِ (سے مراد) لا الہ الا اللہ ہے۔ قتادہ نے کہا : اخلا (مراد) ہے۔ بعض علماء نے کہا : ہر طاعت مراد ہے۔ خَیْرٌ تفضیل کے لئے نہیں ہے اور مِنْھَا میں مِنْ سببیہ ہے ‘ لا الہ الا اللہ سے بہتر کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی اس لئے تفضیل اضافی مراد نہیں ہے بلکہ واقعی بہتری یعنی ثواب کا حصول اور عذاب سے امن مراد ہے جو حسنہ کے سبب سے حاصل ہوگا۔ محمد بن کعب اور عبدالرحمن بن زید نے کہا : مَنْ تفضیلیہ ہے (سببیہ نہیں ہے) اور اس سے مراد ہے دس گنا سے سات سو گنا تک ثواب اور اس سے آگے جتنا اللہ چاہے۔ اس کی نظیر دوسری آیت ہے ‘ فرمایا ہے : مَنْ جَآء بالْحَسَنَۃِ فَلَہٗ عَشَرْاَمْثَالِھَا۔ وھم من فزع یومئذا امنون . یعنی (صور پھونکے جانے کے) دن کے خوف سے وہ لوگ مامون ہوں گے۔ یعنی کسی طرح کی گھبراہٹ اور کسی قسم کا خوف ان کو نہ ہوگا۔ فزع میں تنوین تنکیر مفید استغراق ہے کیونکہ اٰمِنُوْنَ کا معنی ہے لاَ یَخَافُوْنَ اور مِنْ فَزْعٍ کا تعلق اٰمِنُوْنَ سے ہے اور نکرہ جب احاطہ نفی میں آتا ہے تو مفید استغراق ہوجاتا ہے (یعنی نفی کا عموم ہوجاتا ہے) ۔
Ayah 27:90

وَ مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَكُبَّتْ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ١ؕ هَلْ تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 27:90 in the Quran reader

اور جو برائی لے کر آئے گا تو ایسے لوگ اوندھے منہ دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے۔ تم کو تو اُن ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو

ومن جا باسیئتہ فکبت وجوھھم فی النار ھل تجزون الا ما کنتم تعلمون . اور جو شخص بدی (یعنی شرک) لے کر آئے گا سو ان کو اوندھے منہ آگ میں ڈال دیا جائے گا (اور ان سے کہا جائے گا کہ) تم کو انہی اعمال کی سزا دی جا رہی ہے جو تم کیا کرتے تھے۔ اَلسَّیِّءَۃِ سے مراد ہے شرک۔ فَکُبَّتْ وُجُوْھُھُمْ یعنی ان کو اوندھے منہ آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ وَجُہٌسے مراد پوری شخصیت ہے۔ ھَلْ تُجْزَوْنَ یعنی اعمال کے مطابق سزا دی جائے گی اور شرک سے بڑھ کر کوئی جرم نہیں اور جہنم سب سزاؤں سے بڑھ کر عذاب ہے اس لئے جرم شرک کے مطابق جہنم میں ان کو ڈالا جائے گا۔
Ayah 27:91

اِنَّمَاۤ اُمِرْتُ اَنْ اَعْبُدَ رَبَّ هٰذِهِ الْبَلْدَةِ الَّذِیْ حَرَّمَهَا وَ لَهٗ كُلُّ شَیْءٍ١٘ وَّ اُمِرْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَۙ Open ayah 27:91 in the Quran reader

(کہہ دو) کہ مجھ کو یہی ارشاد ہوا ہے کہ اس شہر (مکہ) کے مالک کی عبادت کروں جس نے اس کو محترم (اور مقام ادب) بنایا ہے اور سب چیز اُسی کی ہے اور یہ بھی حکم ہوا ہے کہ اس کا حکم بردار رہوں

انما امرت ان اعبد رب ھذہ البلد الذی حرمھا ولہ کل شیء وامرت ان اکون من المسلمین . مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ میں اس (ا اللہ) کی عبادت کروں جو (خاص طور پر) اس شہر کا مالک حقیقی ہے جس نے اس کو محترم بنایا ہے (ویسے تو عام طور پر) ہر چیز اسی کی ہے اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ میں (اسی کا) فرمانبردار ہوں۔ ھٰذِہِ الْبَلْدَۃِ یعنی مکہ۔ رب کی ھٰذِہِ الْبَلْدَۃِ کی طرف اضافت شہر کی عزت ظاہر کرنے اور اس بات کی طرف اشارہ کرنے کے لئے ہے کہ اس کے اندر کعبہ ہے جو تجلیات الہیہ کی پر توافگنی کا خصوصی مقام ہے۔ اَلَّذِیْ حَرَّمَھَا یعنی وہ رب ایسا ہے کہ اس نے اس شہر کو حرم بنا دیا ‘ یہاں کسی پر ظلم نہیں کیا جاتا ہے ‘ نہ کسی کا خون بہایا جاتا ہے ‘ نہ کسی کو لوٹایا جاتا ہے ‘ نہ یہاں کے شکار کو بھڑکا کر نکالا جاتا ہے ‘ نہ یہاں کے درخت اور گھاس کاٹنے کی اجازت ہے۔ حقیقت میں اللہ کی اس صفت کا ذکر کر کے قریش کو اللہ کے احسان کی یاد دلائی گئی ہے کہ اس نے ان تمام فتنوں ‘ فسادوں اور بدامنیوں سے تمہارے مسکن کو محفوظ رکھا ہے جو سارے عرب میں پھیلے ہوئے ہیں۔ لَہٗ کُلُّ شَیْءٍ یعنی ہر چیز اس کی مخلوق و مملوک ہے ‘ اس شہر کا بھی مالک حقیقی وہی ہے۔ اَلْمُسْلِمِیْنَ یعنی فرمانبردار ‘ مطیع حکم ہوجاؤ یا ملت اسلام پر قائم رہو (پہلے معنی لغوی ہے ‘ دورا معنی اصطلاحی) ۔
Ayah 27:92

وَ اَنْ اَتْلُوَا الْقُرْاٰنَ١ۚ فَمَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَقُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُنْذِرِیْنَ Open ayah 27:92 in the Quran reader

اور یہ بھی کہ قرآن پڑھا کروں۔ تو جو شخص راہ راست اختیار کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ رہتا ہے تو کہہ دو کہ میں تو صرف نصیحت کرنے والا ہوں

وان اتلوا القرآن . اور (مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ) میں قرآن پڑھ کر سناؤں۔ اَتْلُوْاتلاوت سے ہے یعنی تبلیغ و دعوت کی غرض سے پڑھ کر سناؤ یا تِلْوٌسے مشتق ہے اور تِلْوٌ کا معنی (پیچھے پیچھے چلنا) اتباع کرنا یعنی اس قرآن کی پیروی کروں (اس کے راستہ پر چلوں) بیضاوی نے لکھا ہے کہ اللہ نے اول مبدء و معاد و قیامت کے احوال لوگوں کے لئے بیان فرما دئیے ‘ اس کے بعد اپنے رسول کو حکم دیا کہ آپ ان کو یہی بات سنا دیجئے۔ اب رسول اللہ کے ذمہ تبلیغ و دعوت کا فریضہ تو باقی نہیں صرف یہی کام رہ گیا کہ اپنے رب کی عبادت میں مستغرق ہوجائیں اور ہر وقت اسی کی یاد میں لگے رہیں۔ اِنَّمَا أُمِرْتُ سے پہلے قُلْ محذوف ہے یعنی آپ کہہ دیجئے کہ مجھے عبادت کرنے اور اطاعت پر قائم رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فمن اھتدی فانما یھتدی لنفسہ ومن ضل فقل انما انا من المنذرین . سو جو سیدھے راستہ پر چلے گا اور جو راہ راست سے بھٹکے گا تو آپ کہہ دیجئے (میرا کچھ ضرر نہ ہوگا) میں صرف ڈرانے والا ہوں یعنی کسی کے ہدایت یاب بنانے کا ذمہ دار میں نہیں ‘ کسی کی گمراہی کا وبال مجھ پر نہیں پڑے گا ‘ میرا کام صرف پہنچا دینا ہے۔ کسی کے ہدایت یاب نہ ہونے اور راہ راست پر نہ چلنے کی بازپرس مجھ سے نہیں ہوگی اور آپ یہ بھی کہہ دیجئے کہ سب خوبیاں اللہ ہی کے لئے ہیں ‘ وہ عنقریب تم کو اپنی نشانیاں دکھا دے گا۔ اس وقت تم ان کو پہچان لو گے اور آپ کا رب تمہارے اعمال سے بیخبر نہیں ہے جو تم کر رہے ہو۔ فَمَنِ اَھْتَدٰی یعنی آپ کی دعوت و تبلیغ سے جو شخص راہ یاب ہوجائے گا تو اس کا فائدہ خود اسی کو ہوگا ‘ آپ پر احسان جتلانے کا اس کو حق نہیں اور جو راہ راست سے بھٹکے گا ‘ سیدھا راستہ کھو دے گا اور تبلیغ و دعوت کے بعد بھی راہ حق پر نہ چلے گا اس کا وبال اسی پر پڑے گا۔ آپ کہہ دیجئے : میرا کام صرف ڈرانا ہے۔ تمہارا ذمہ دار نہیں ‘ آپ یہ کہہ دیجئے۔
Ayah 27:93

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ سَیُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ فَتَعْرِفُوْنَهَا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 27:93 in the Quran reader

اور کہو کہ خدا کا شکر ہے۔ وہ تم کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھائے گا تو تم اُن کو پہچان لو گے۔ اور جو کام تم کرتے ہو تمہارا پروردگار اُن سے بےخبر نہیں ہے

وقل الحمد اللہ . اور اللہ نے جو نعمت نبوت سے مجھے سرفراز کیا اور جو تبلیغ و دعوت مجھ پر واجب تھی اس کو پورا کرنے کی مجھے توفیق عنایت کی اس پر اس کا شکر ہے۔ وہ مستحق ستائش و ثنا ہے۔ سیریکم ایتہ . عنقریب تم کو اللہ اپنی نشانیاں دکھا دے گا۔ نشانیوں سے مراد ہیں دنیا میں نمودار ہونے والی آیات قدرت جو رسول اللہ کی نبوت کی آیات صداقت ہیں جیسے بدر کی لڑائی میں کافروں کا مارا جانا ‘ قید ہونا ‘ فرشتوں کا نازل ہو کر مسلمانوں کی مدد کرنا اور کافروں کے چہروں کو زخمی کرنا اور پشت پر ضربیں لگانا ‘ چاند کا پھٹنا ‘ کنکریوں کا تسبیح پڑھنا اور آخر زمانہ میں دابۃ الارض کا برآمد ہونا انہی آیات کی طرف اشارہ ہے۔ ایک اور آیت میں آیا ہے ‘ فرمایا ہے : سَاْرِیْکُمْ اٰیَاتِیْ فَلاَ تَسْتَعْجِلُوْنَ یا آیات سے مراد ہیں آخرت میں نمودار ہونے والی نشانیاں (یعنی واقعات قیامت) دوسری جگہ فرمایا ہے : سَیْرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ فِیْ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ وَفِیْ اَنْفُسِکُمْ ۔ ایک اور جگہ فرمایا ہے : سَاْرِیْھِمْ اٰیَاتِنَا فِیْ الْاٰفَاقِ وَفِیْ اَنْفُسِھِمْ ۔ فتعرفونھا . اس وقت تم ان آیات کو پہچان لو گے لیکن اس وقت پہچاننے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ وما ربک بغافل عما تعلمون . اور (اے محمد ﷺ ! ) آپ کا رب ان کے کسی عمل سے بیخبر نہیں ہے جو یہ کرتے رہتے ہیں یعنی اعمال کے مطابق ہر ایک کو بدلہ دے گا اور وقت مقرر پردے گا۔ سورت النمل کی تفسیر مظہری 22/شعبان 1205 ھ ؁ کو بحمد اللہ ختم ہوئی ‘ اس کے بعد انشاء اللہ سورة القصص کی تفسیر آئے گی۔ الحمد اللہ ! کہ سورة النمل کی تفسیر مظہری کا ترجمہ اللہ کی توفیق سے 26/ رمضان المبارک 1390 ھ ؁ کو صبح پانچ بجے ختم ہوا۔