27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 27:22

فَمَكَثَ غَیْرَ بَعِیْدٍ فَقَالَ اَحَطْتُّ بِمَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ وَ جِئْتُكَ مِنْ سَبَاٍۭ بِنَبَاٍ یَّقِیْنٍ Open ayah 27:22 in the Quran reader

ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ ہُدہُد آ موجود ہوا اور کہنے لگا کہ مجھے ایک ایسی چیز معلوم ہوئی ہے جس کی آپ کو خبر نہیں اور میں آپ کے پاس (شہر) سبا سے ایک سچی خبر لے کر آیا ہوں

فمکث غیر بعید . اس کے بعد سلیمان ( علیہ السلام) (زیادہ دیر نہیں ٹھہرے یا) تھوڑی دیر ہی ٹھہرے تھے۔ غَیْرَ بَعِیْدٍ یعنی لمبا توقف نہیں کیا تھا یا دراز مدت تک نہیں ٹھہرے تھے۔ مطلب یہ کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے خوف سے ہدہد جلد واپس آگیا۔ ہدہد کی غیرحاضری کا سبب علماء نے یہ بیان کیا ہے کہ حصرت سلیمان ( علیہ السلام) بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہو کر حرم (کعبہ) کو چلے گئے اور اللہ کی مشیت جتنی تھی اس کے مطابق وہاں قیام پذیر رہے۔ جب تک مکہ میں رہے روزانہ پانچ ہزار اونٹنیاں ‘ پانچ ہزار بیل اور بیس ہزار مینڈھے ذبح کرتے رہے۔ آپ نے اپنی قوم کے سرداروں سے فرمایا کہ یہ وہ مقام ہے جہاں سے نبی عربی ﷺ جن کے اوصاف یہ یہ ہوں گے برآمد ہوں گے ‘ ان کو مخالفین پر فتح یاب کیا جائے گا ‘ ان کا رعب ایک ماہ کی مسافت تک پڑے گا ‘ نزدیک اور دوران کے لئے برابر ہوگا ‘ اللہ کے معامہ وہ کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے۔ حاضرین نے پوچھا : اے اللہ کے نبی ! ان کا دین کیا ہوگا ؟ فرمایا : وہ دین توحید (دین حنیف یعنی دین ابراہیمی) پر چلیں گے۔ خوشی ہو اس کے لئے جو ان کو پالے اور ان پر ایمان لائے۔ حاضرین نے دریافت کیا : ان کی بعثت میں کتنی مدت باقی ہے۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے فرمایا : ایک ہزار۔ حاضرین کو چاہئے کہ وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچا دیں جو یہاں حاضر نہیں ہیں۔ بیشک وہ انبیاء کے سردار اور خاتم المرسلین ہوں گے۔ راوی کا بیان ہے : حضرت سلیمان ( علیہ السلام) مکہ میں قیام پذیر رہے۔ جب حج پورا کرلیا تو مکہ سے نکلے اور صبح کو مکہ سے روانہ ہو کر یمن کی طرف چل دئیے۔ صنعاء میں زوال کے وقت پہنچ گئے۔ یہ مسافت ایک ماہ کی راہ تھی ‘ صنعاء کی زمین کو خوبصورت اور سرسبز پایا۔ آپ نے وہاں اترنے کو پسند کیا تاکہ کھانے اور نماز سے فراغت حاصل کرلیں۔ ہدہد نے سوچا کہ سلیمان ( علیہ السلام) تو اترنے میں لگے ہوئے ہیں اتنے میں آسمان کی طرف اڑ کر زمین کی لمبائی چوڑائی دیکھ لوں۔ چناچہ اس نے ایسا ہی کیا اور اوپر جا کر دائیں بائیں نظر دوڑائی تو بلقیس کا ایک باغ نظر آیا۔ ہدہد سبزے کی طرف چل دیا اور باغ میں اتر گیا وہاں ایک اور ہدہد سے ملاقات ہوگئی۔ ہدہد سلیمان ( علیہ السلام) اس کے پاس اتر کر پہنچ گیا۔ ہدہد سلیمان ( علیہ السلام) کا نام یعفور اور ہدہد یمن کا نام عنفیر تھا۔ عنفیر نے یعفور سے پوچھا : کہاں سے آئے ہو اور کہاں کا ارادہ ہے ؟ یعفور نے کہا : میں اپنے مالک سلیمان بن داؤد کے ساتھ شام سے آیا ہوں۔ عنفیر نے پوچھا : سلیمان کون ہے ؟ یعفور نے کہا : وہ جن و انس اور شیطانوں ‘ وحشی جانوروں ‘ پرندوں اور ہواؤں کے بادشاہ ہیں (ان کا حکم سب پر چلتا ہے) تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟ عنفیر نے کہا : اسی ملک کا باشندہ ہوں۔ یعفور نے پوچھا : اس ملک کا بادشاہ کون ہے ؟ عنفیر نے کہا : یہاں کی بادشاہ ایک عورت ہے جس کو بلقیس کہا جاتا ہے۔ بیشک تمہارے آقا کا ملک بڑا ہے لیکن بلقیس کا ملک بھی کم نہیں ہے وہ یمن کی ملکہ ہے ‘ اس کے زیر حکم بارہ ہزار جنرل ہیں اور ہر جنرل کے ماتحت ایک لاکھ جنگی سپاہی ہیں۔ کیا تم میرے ساتھ چل کر اس کی حکومت دیکھنا چاہتے ہو ؟ یعفور نے کہا : مجھے یہ ڈر لگا ہوا ہے کہ نماز کے وقت سلیمان ( علیہ السلام) کو پانی کی ضرورت ہوگی اور مجھے تلاش کریں گے۔ عنفیر نے کہا : تمہارا مالک اس بات سے خوش ہوگا کہ تم اس کو اس ملکہ کی خبر بتاؤ گے۔ عفور نے عنفیر کے ساتھ بلقیس کو اور اس کی حکومت کو دیکھا اور سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس عصر کے وقت سے پہلے نہ پہنچ سکا۔ ادھر جب سلیمان ( علیہ السلام) اتر پڑے تو اس جگہ پانی نہ تھا ‘ نماز کا وقت آگیا اور پانی کی ضرورت ہوئی تو پانی نہیں ملا۔ آپ نے جنات سے آدمیوں سے اور شیاطین سے پانی کے متعلق دریافت کیا لیکن کسی کو معلوم نہ تھا کہ پانی کہاں ہے۔ پرندوں کی تلاش کی تو ہدہد کو غیرحاضر پایا۔ پرندوں کے عریف (مانیٹر ‘ سردار ‘ ناظم) یعنی گدھ کو طلب فرمایا اور ہدہد کے متعلق اس سے پوچھا۔ گدھ نے کہا : مجھے معلوم نہیں وہ کہاں ہے۔ میں نے تو اس کو کہیں بھیجا نہیں ہے۔ اس وقت حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو غصہ آگیا اور فرمایا : لَاُعَذِّبَنَّہٗ عَذَابًا شَدِیْدًا اَوْلَأَذْبَحَنَّہٗ اَوْلَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ پھر پرندوں کے سردار عقاب کو بلوایا اور حکم دیا کہ ابھی ہدہد کو پکڑ لاؤ۔ عقاب فوراً اڑا اور آسمان کے نیچے ہوا کے ساتھ چسپاں ہوگیا۔ وہاں سے اس کو یہ دنیا ایک پیالہ کی طرح نظر آئی پھر ادھر ادھر نظر دوائی تو یمن کی طرف سے ہدہد بھی آتا دکھائی دیا۔ عقاب اس پر ٹوٹ پڑا۔ ہدہد نے عقاب کو پر توڑ کر اپنی طرف آتا دیکھا تو سمجھ گیا کہ عقاب کا ارادہ میرے متعلق برا ہے۔ ہدہد نے اس کو قسم دی اور کہا میں تجھے اس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے تجھے طاقت عطا کی ہے اور مجھ پر قدرت دی ہے۔ تو مجھ پر رحم کر اور کوئی دکھ پہنچانے کے درپے نہ ہو۔ عقاب ہدہد کی طرف سے پلٹ گیا۔ کم بخت تو مرے ‘ اللہ کے پیغمبر نے قسم کھائی ہ یکہ وہ تجھے عذاب دیں گے یا ذبح کر ڈالیں گے۔ اس کے بعد دونوں نے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی طرف رخ کردیا۔ جب لشکر تک پہنچے تو گدھ اور دوسرے پرندوں نے جا لیا اور کہا : ارے ! آج تو دن بھر کہاں غائب رہا۔ اللہ کے پیغمبر نے تیرے متعلق یہ یہ کہا تھا۔ ہدہد نے کہا : کیا انہوں نے (اپنی قسم میں) کوئی شرط بھی لگائی تھی ؟ پرندوں نے کہا : ہا آ یہ بھی فرمایا تھا : اَوْلَیَاْتِیَنِّیْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ ہدہد نے کہا : بس تو میں عذاب سے بچ گیا۔ پھر عقاب اور ہدہد اڑ کر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی خدمت میں پہنچے آپ اس وقت کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے۔ عقاب نے کہا : یا نبی اللہ ! میں اس کو لے آیا۔ ہدہد نے سلیمان ( علیہ السلام) کو دیکھ کر اظہار عاجزی کے طور پر اپنا سر اٹھایا ‘ دم اور دونوں باز نیچے کو لٹکا دئیے اور زمین پر ان کو کھینچنے لگا۔ جب آپ کے قریب پہنچ گیا تو آپ نے اس کا سر پکڑ کر اپنی طرف کھینچا اور فرمایا : تو کہاں تھا ؟ میں تجھے ضرور سخت عذاب دوں گا۔ ہدہد نے کہا : یا نبی اللہ ! اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ یہ بات سن کر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) لرز گئے اور ہدہد کو معاف کردیا۔ پھر غیرحاضری کی وجہ دریافت کی۔ فقال احطت بما لم تحط بہ . (کہ ہدہد آگیا) اور اس نے کہا : میں ایسی بات پوری پوری معلوم کر کے آیا ہوں جو آپ کو معلوم نہیں۔ اِحَاطَتہ کسی چیز کا ہمہ جہتی (پور اپورا) علم۔ اللہ کے سوا دوسروں کے علم کے لئے اس کا استعمال یا بطور مجاز ہوتا یا بطریق مبالغہ۔ مطلب یہ ہے کہ مجھے ایک بات یقینی طور پر معلوم ہوئی جو آپ کے علم میں نہیں ہے۔ ایک ہدہد کا ایک جلیل القدر نبی سے اس طرح خطاب کرنا بتارہا ہے کہ ادنیٰ جانور کو بھی بعض وہ باتیں معلوم تھیں جو سلیمان ( علیہ السلام) کو بھی نہ تھیں۔ اس میں تنبیہہ ہے اس امر پر کہ سلیمان کو اپنے علم پر ناز نہ کرنا چاہئے بلکہ سمجھ لینا چاہئے کہ میرا علم بہت ہی ناقص ہے۔ اس سے شیعہ فرقہ کا اس عقیدہ کا غلط ہونا ثابت ہوتا ہے کہ امام سے کوئی بات چھپی نہیں رہتی اور اس کے زمانہ میں کوئی بھی اس سے زیادہ اور بڑھ کر عالم نہیں ہوتا۔ وجئتک من سبابنبا یقین . اور میں آپ کے پاس سبا کی ایک تحقیقی خبر لایا ہوں۔ سبا یمن کے ایک شہر کا نام ہے جس کا صنعاء سے فاصلہ تین برید ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سبا کے متعلق دریافت کیا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا : سبا ایک آدمی تھا جس کے دس بیٹے تھے جن سے چھ دائیں سمت کو چلے گئے اور چار بائیں رخ کو۔ یعنی چھ نے دائیں طرف جا کر آبادی کرلی ‘ یہ ملک یمن ہوگیا اور چار بائیں جانب جا کر آباد ہوگئے ‘ یہ آبادی شام کے نام سے موسوم ہوئی۔ بِنَبَاٍیَّقِیْنٍ تحقیقی خبر۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے واقعہ دریافت کیا تو ہدہد نے کہا۔
Ayah 27:23

اِنِّیْ وَجَدْتُّ امْرَاَةً تَمْلِكُهُمْ وَ اُوْتِیَتْ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ وَّ لَهَا عَرْشٌ عَظِیْمٌ Open ayah 27:23 in the Quran reader

میں نے ایک عورت دیکھی کہ ان لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے اور ہر چیز اسے میسر ہے اور اس کا ایک بڑا تخت ہے

انی وجدت امراۃ تملکھم . میں نے ایک ایسی عورت پائی جو سبا والوں پر حکمرانی کرتی ہے (یعنی انکی ملکہ ہے) ملکہ سبا کا نام بلقیس بن شراحیل تھا ‘ وہ یعرب بن قحطان کی نسل سے تھی۔ اس کا باپ بہت بڑا بادشاہ تھا جس کے 39 آباؤ اجداد بادشاہ ہو کر گزر تھے ‘ وہ خود چالیسواں تھا۔ ملک یمن پر حکومت کرتا تھا اور سرحدی ہمسرانہ بادشاہوں میں سے کسی کو اپنا ہمسر نہیں جانتا تھا اسی لئے اس نے ہر بادشاہ کی بیٹی سے نکاح کرنے سے انکار کردیا تھا۔ آخر اس کا نکاح (خاندان جنات میں) ایک پری سے ہوگیا جس کا نام ریحا نہ بنت سکن تھا۔ اس پری کے پیٹ سے بلقیس بنت شراحیل پیدا ہوئی۔ سوائے بلقیس کے شراحیل کا کوئی اور بچہ نہیں ہوا۔ حدیث میں آیا ہے کہ بلقیس کے ماں باپ میں سے کوئی ایک جنات میں سے تھا (مترجم کو یہ حدیث کہیں نہیں ملتی۔ یا حدیث سے مراد ہے قصہ یعنی بلقیس کے قصہ میں یہ بات آئی ہے کہ بلقیس کے ماں باپ میں سے کوئی ایک ازقوم جن تھا۔ واللہ اعلم) ۔ باپ کے مرنے کے بعد بلقیس نے ملکہ بننے کی خواہش کی اور اپنی حکومت کا اعلان کردیا۔ قوم میں سے کچھ لوگوں نے مان لیا اور کچھ نے مخالفت کی۔ مخالفین نے ایک اور شخص کو اپنا بادشاہ بنا لیا ‘ قوم دو فرقوں میں بٹ گئی۔ یمن کی مملکت کے بھی دو ٹکڑے ہوگئے۔ جس مرد کو بادشاہ بنایا گیا تھا اس نے لوگوں سے بہت برا سلوک کیا۔ رعیت کی عورتوں پر دست درازی کرنے لگا۔ لوگوں نے اس کو معزول کرنا چاہا لیکن اس کی طاقت زیادہ تھی کچھ بس نہ چلا۔ بلقیس نے جب عورتوں کی یہ بےحرمتی دیکھی تو اس کو غیرت آئی اور اس نے اس ظالم بادشاہ کے پاس ازخود تحریر بھیجی اور خواہش کی کہ تم مجھ سے نکاح کرلو (تاکہ دونوں حکومتیں ایک ہوجائیں اور قومی نفاق مٹ جائے) بادشاہ نے جواب لکھا : مجھے تمہاری طرف سے امید نہ تھی کہ تم میرے پیام نکاح کو قبول کرلو گی اسی لئے میں نے اپنی طرف سے نکاح کی تحریک نہیں کی۔ بلقیس نے کہا : مجھے کوئی عذر نہیں۔ تم میرے کفو اور شریف ہو ‘ اب میری قوم والوں کو جمع کر کے ان کے سامنے مجھ سے نکاح کرنے کی دراخوست رکھو۔ بادشاہ نے سب لوگوں کو جمع کیا اور سب کو نکاح کا پیام دیا۔ لوگوں نے کہا : ہمارے خیال میں تو بلقیس راضی نہیں ہوگی۔ بادشاہ نے کہا : ابتدائی تحریک خود اس کی طرف سے ہوچکی ہے۔ میں آپ لوگوں سے یہ چاہتا ہوں کہ اس کی زبان سے تم خود اس کا اقرار سن لو۔ قوم والوں نے آکر بلقیس سے اس کا ذکر کیا۔ بلقیس نے کہا : ہاں مجھے اولاد کی تمنا ہے۔ غرض لوگوں نے بلقیس کا نکاح بادشاہ سے کردیا۔ بلقیس وداع ہو کرگئی تو اپنی بہت سی فوج کو (جلوس) لیتی گئی اور بادشاہ کے پاس پہنچی تو اس کو اتنی شراب پلائی کہ وہ بےہوش ہوگیا پھر اس کا سر کاٹ کر رات ہی کو اپنے گھر واپس آگئی۔ صبح ہوئی اور لوگوں نے بادشاہ کو مقتول اور سر دروازہ پر لٹکا ہوا پایا تو سمجھ لیا کہ یہ نکاح ایک فریب و مکر تھا۔ اس کے بعد سب لوگوں نے بالاتفاق بلقیس کو ملکہ مان لیا۔ حضرت ابوبکر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو جب اطلاع ملی کہ فارس والوں نے کسریٰ کی بیٹی کو اپنی ملکہ بنا لیا ہے تو فرمایا : وہ قوم ہرگز کامیاب نہیں ہوگی جس نے ایک عورت کو اپنے امر کا والی (یعنی اپنی ملکہ) بنا لیا ہو۔ رواہ البخاری فی الصحیح واحمد والترمذی والنسائی۔ واوتیت من کل شیء . اور اس کو ہر چیز دی گئی ہے۔ یعنی اسلحہ ‘ ساز و سامان وغیرہ جس کی بادشاہوں کو ضرورت ہوتی ہے وہ سب کچھ اس کے پاس ہے۔ یا کُلِّ شَیْئٍ سے مراد محض کثرت ہے (یعنی لشکر کی عددی کثرت ملک کی وسعت ‘ مال کی فراوانی وغیرہ) ۔ ولھا عرش عظیم . اور اس کا تخت عظیم ہے۔ یعنی حجم میں بڑا سونے کا بنا ہوا ‘ یاقوت سرخ ‘ زبرجد سبز اور موتیوں سے مرصع ‘ جس کے پائے یاقوت و زمرد کے تھے۔ اس کے اوپر سات کمرے تھے اور ہر کمرہ کا دروازہ علیحدہ تھا جو بند رہتا تھا۔ ابن ابی حاتم نے زبیر بن محمد کے حوالہ سے بیان کیا کہ وہ تخت سونے کا تھا جس کے دونوں پہلو یاقوت و زبرجد سے مرصع تھے۔ اس کا طول 80 ہاتھ اور عرض 40 ہاتھ تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : بلقیس کا تخت تیس ہاتھ لمبا ‘ تیس ہاتھ چوڑا تھا۔ مقاتل نے کہا : طول اسی ہاتھ تھا اور اونچائی تیس ہاتھ۔
Ayah 27:24

وَجَدْتُّهَا وَ قَوْمَهَا یَسْجُدُوْنَ لِلشَّمْسِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَصَدَّهُمْ عَنِ السَّبِیْلِ فَهُمْ لَا یَهْتَدُوْنَۙ Open ayah 27:24 in the Quran reader

میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم خدا کو چھوڑ کر آفتاب کو سجدہ کرتے ہیں اور شیطان نے ان کے اعمال انہیں آراستہ کر دکھائے ہیں اور ان کو رستے سے روک رکھا ہے پس وہ رستے پر نہیں آئے

وجدتھا وقومھا یسجدون للشمس من دون اللّٰہ . میں نے مکہ اور اس کی قوم کو اللہ کو چھوڑ کر سورج کو سجدہ کرتے پایا۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ کا تعلق یَسْجُدُوْنَ سے ہے۔ وزین لھم الشیطن اعمالھم . اور شیطانوں نے ان کے اعمال ان کی نظروں میں پسندیدہ بنا دئیے ہیں۔ یعنی آفتاب پرستی جیسے برے اعمال کو ان کے لئے مرغوب خاطر بنا دیا ہے۔ فصدھم عن السبیل فھم لا یھتدون . پس شیطان نے ان کو سیدھے راستے سے روک دیا ہے اس لئے وہ سیدھے راستے پر نہیں چلتے۔
Ayah 27:25

اَلَّا یَسْجُدُوْا لِلّٰهِ الَّذِیْ یُخْرِجُ الْخَبْءَ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ یَعْلَمُ مَا تُخْفُوْنَ وَ مَا تُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:25 in the Quran reader

(اور نہیں سمجھتے) کہ خدا کو آسمانوں اور زمین میں چھپی چیزوں کو ظاہر کردیتا اور تمہارے پوشیدہ اور ظاہر اعمال کو جانتا ہے کیوں سجدہ نہ کریں

الا یسجدوا للّٰہ الذی یخرج الخبء فی السموت والارض . کہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے (جو قادر ہے کہ) آسمانوں کی اور زمین کی پوشیدہ چیزوں کو برآمد کرتا ہے۔ اَلاَّ یَسْجُدُوْا۔ اَلاَّ اصل میں اَنْ لا تھا۔ اَنْ مصدر یہ لا نافیہ حرف جر اَنْ سے پہلے محذوف ہے یعنی لِاَنْ لاَ یَسْجُدُوْا۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان نے ان کو راہ حق سے روک دیا ہے کہ وہ اللہ کو سجدہ نہیں کرتے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لا زائد ہو اور اس کا تعلق لاَ یَہْتَدُوْنَ سے ہو یعنی وہ اللہ کو سجدہ کرنے کی راہ نہیں پاتے۔ خبأ بمعنی مخبوء (اسم مفعول) کے معنی میں ہے یعنی پوشیدہ اور اخراج سے مراد ہے اظہار۔ اکثر اہل تفسیر کہتے ہیں کہ خَبْاء السَّمٰوٰتِ بارش اور خَبْاءُ الْاَرْضِ سبزہ ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آسمان و زمین کی چھپی ہوئی چیزوں کا علم مراد ہے۔ لفظ خباء اور اخراج عام ہے۔ ستاروں کا نکالنا ‘ بارش کا برسانا ‘ زمین سے سبزہ اگانا ‘ ہر چیز کا پردہ قوت سے میدان فعلیت میں لانا ‘ ہر ممکن اور معدوم کو وجوب و وجود کا جامہ پہنانا سب اخراج خباء کے ذیل میں آتا ہے اور ظاہر ہے کہ ایسا کرنے والا قادر صرف اللہ ہے جو واجب بالذات ہے لہٰذا صرف وہی سجود کا مستحق ہے۔ ویعلم ما تخفون ما تعلنون . اور وہ جانتا ہے ان باتوں کو جو تم (دلوں میں) چھپاتے ہو اور ان باتوں کو جن کو تم ظاہر کرتے ہو اس لئے ضروری ہے کہ تم ظاہر باطن میں اس کے ساتھ شرک کرنے سے پرہیز رکھو۔
Ayah 27:26

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۩ Open ayah 27:26 in the Quran reader

خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے

اللّٰہ لا الہ الا ھو رب العرش العظیم . وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔
Ayah 27:27

قَالَ سَنَنْظُرُ اَصَدَقْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 27:27 in the Quran reader

سلیمان نے کہا (اچھا) ہم دیکھیں گے، تونے سچ کہا ہے یا تو جھوٹا ہے

قال سننظرا صدقت ام کنت من الکذبین . سلیمان نے کہا : ہم دیکھیں گے (غور کر کے معلوم کریں گے) کہ تو نے سچ کہا یا تو جھوٹوں میں سے ہے ‘ یعنی جھوٹ کہا۔ جب کوئی شخص جھوٹوں میں شامل کردیا جائے اور اس کا شمار جھوٹوں میں ہوجائے تو اس کا جھوٹا ہونا یقینی ہے۔ آیت میں جھوت کہنے کو مبالغہ کے ساتھ بیان کیا گیا ہے یا آیات کے فواصل کا لحاظ کر کے طرز ادا کو بدل دیا۔ اس کے بعد ہدہد نے لوگوں کو پانی کا پتہ بتایا اور لوگوں نے گڑھے کھود کر پانی خود بھی پیا اور جانوروں کو بھی پلایا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے ایک خط اس طرح لکھا : بندہ خدا سلیمان بن داؤد کی طرف سے بلقیس ملکہ سب کے نام ! بسم اللہ الرحمن الرحیم ! سلام ہو اس پر جو ہدایت پر چلے۔ اما بعد ! مجھ پر فخر نہ کرو اور میرے پاس اطاعت گزار ہو کر آجاؤ۔ ابن جریح نے کہا : حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے صرف اتنے ہی الفاظ لکھے جتنے اللہ نے اپنی کتاب میں نقل کئے ہیں۔ قتادہ نے کہا : انبیاء کی تحریریں ایسی ہی مختصر ہوتی ہیں وہ کلام کو طول نہیں دیتے نہ زیادہ بات لکھتے ہیں۔ خط لکھ کر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے اس پر مشک چسپاں کیا اور اس پر اپنی مہر لگا کر ہدہد کے حوالہ کیا اور فرمایا۔
Ayah 27:28

اِذْهَبْ بِّكِتٰبِیْ هٰذَا فَاَلْقِهْ اِلَیْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانْظُرْ مَا ذَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 27:28 in the Quran reader

یہ میرا خط لے جا اور اسے ان کی طرف ڈال دے پھر ان کے پاس سے پھر آ اور دیکھ کہ وہ کیا جواب دیتے ہیں

اذھب بکتنی ھذا فالقہ الیھم ثم تول عنھم فانظر ماذا یرجعون . میرے اس خط کو لے جا کر ان لوگوں کے پاس ڈال کر الگ ہوجانا پھر دیکھتے رہنا وہ لوگ باہم کیا گفتگو کرتے ہیں۔ حسب الحکم ہدہد خط لے کر بلقیس کے پاس پہنچا ‘ بلقیس اس وقت صنعاء سے تین منزل پر مقام مآرب میں تھی۔ ہدہد ملکہ کے قصر میں پہنچا تو دروازے سب مقفل پائے اور کنجیاں ملکہ نے اپنے سرہانے رکھ لی تھیں۔ غرض ہدہد (کسی طرح) بلقیس کے قریب پہنچ گیا۔ بلقیس چت لیٹی سو رہی تھی ‘ ہدہد نے خط اس کے سینہ پر رکھ دیا۔ کذا اخرج عبد بن حمید وابن المنذر و ابن ابی حاتم عن قتادہ۔ مقاتل کا بیان ہے کہ ہدہد اپنی چوند میں خط پکڑ کرلے گیا اور بلقیس کے سرہانے جا کھڑا ہوا۔ باڈی گارڈ ‘ سردار اور سپانی موجود تھے۔ ہدہد نے پر پھڑپھڑائے ‘ لوگ اس کو دیکھتے رہے آخر ملکہ نے خود سر اٹھایا ‘ ہدہد نے فوراً خط ملکہ کی گود میں ڈال دیا۔ وہب بن منبہ اور ابن زید کا بیان ہے کہ سورج کے رخ پر ایک روشن دان تھا اور سورج سامنے سے نکلتا تھا۔ جونہی ملکہ روشندان (یا دریجہ) سے اس کی طرف دیکھتی اور سورج نظر آتا ‘ فوراً اس کو سجدہ کرتی تھی۔ ہدہد اس دریچہ میں گھس گیا اور دونوں بازو پھیلا کر روشندان کو بند کردیا۔ سورج حسب معمول اونچا ہوا لیکن روشندان بند ہونے کی وجہ سے ملکہ کو پتہ نہ چلا۔ جب دیر ہوگئی تو اٹھ کر سورج کو دیکھنے گئی۔ ہدہد نے فوراً خط اس کی طرف پھینک دیا۔ بلقیس پڑھی ہوئی تھی خط لے کر مہر دیکھی مہر دیکھتے ہی لرز گئی کیونکہ سلیمان ( علیہ السلام) کی حکومت (کا نقشہ) مہر میں موجود تھا۔ سمجھ گئی کہ جس نے یہ خط بھیجا ہے وہ مجھ سے بڑا بادشاہ ہے۔ ہدہد خط پھینک کر کچھ پیچھے ہٹ گیا۔ بلقیس نے خط پڑھا پھر جا کر تخت پر بیٹھی اور اپنی قوم کے سرداروں کو جمع کیا۔ یہ سردار بارہ ہزار تھے ‘ ہر سردار کے ماتحت ایک لاکھ سپاہی تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ایک روایت میں آیا ہے کہ بلقیس کے ساتھ ایک لاکھ اقیال تھے اور ہر قیل کے پاس ایک لاکھ فوج تھی۔ قیل بمعنی نواب یا بادشاہ جو شہنشاہ کے ماتحت ہوتا ہے۔ قتادہ اور مقاتل نے کہا : بلقیس کی مشورہ کمیٹی 313 آدمیوں کی تھی ہر ممبر شوریٰ کے تحت دس دس ہزار سپاہی تھے ‘ سب آکر اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے
Ayah 27:29

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اِنِّیْۤ اُلْقِیَ اِلَیَّ كِتٰبٌ كَرِیْمٌ Open ayah 27:29 in the Quran reader

ملکہ نے کہا کہ دربار والو! میری طرف ایک نامہ گرامی ڈالا گیا ہے

توقالت یایھا الملوا . بلقیس نے ان سے کہا : اے سردارو ! انی القی الی کتب کریم . (اے اہل دربار ! ) میرے پاس ایک معزز خط ڈالا گیا ہے۔ عطا اور ضحاک نے اس خط کو کریم (معزز) کہنے کی یہ وجہ بیان کی کہ وہ سربمہر تھا۔ طبرانی نے ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا : خط کا معزز ہونا اس کی مہر کی وجہ سے ہے۔ ابن مردویہ نے اس آیت میں لفظ کریم کی تفسیر میں کہا : مختوم (سربمہر) ابن جریح نے کہا : کریم یعنی عمدہ ‘ اچھا۔ زجاج نے بھی اسی ترجمہ کو پسند کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ایک روایت میں آیا ہے کریم یعنی بزرگ کیونکہ اس کا بھیجنے والا بھی بزرگ تھا۔ بعض نے کریم کہنے کی یہ وجہ بیان کی کہ خط پہنچنے کا واقعہ عجیب تھا۔ بلقیس اپنے کمرہ کے اندر لیٹی ہوئی تھی ‘ دروازے سب مقفل تھے۔ ہدہد روشندان سے آکر بلقیس کے سینہ پر خط ڈال گیا اور بلقیس کو پتہ بھی نہ چلا۔ بعض نے کہا : خط کی بسم اللہ الرحمن الرحیم سے ابتدائی کی گئی تھی اس لئے اس کو کریم کہا۔ اس کے بعد بلقیس نے بتایا کہ یہ خط کہاں سے آیا اور کہا۔
Ayah 27:30

اِنَّهٗ مِنْ سُلَیْمٰنَ وَ اِنَّهٗ بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِۙ Open ayah 27:30 in the Quran reader

وہ سلیمان کی طرف سے ہے اور مضمون یہ ہے کہ شروع خدا کا نام لے کر جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

انہ من سلیمن . بلاشبہ یہ (خط یا عنوان) سلیمان کے پاس سے آیا ہے۔ وانہ بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم . اور وہ (مکتوب یا مضمون یہ ہے) بسم اللہ الرحمن الرحیم۔
Ayah 27:31

اَلَّا تَعْلُوْا عَلَیَّ وَ اْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 27:31 in the Quran reader

(بعد اس کے یہ) کہ مجھے سرکشی نہ کرو اور مطیع ومنقاد ہو کر میرے پاس چلے آؤ

الا تعلوا علی واتونی مسلمین . مجھ پر غرور نہ کرو اور اطاعت گزار ہو کر میرے پاس آؤ۔ مطلب یہ ہے کہ میرے حکم کا انکار نہ کرو ‘ حکم سے انکار تکبر و غرور کی علامت ہے۔ یہ کلام انتہائی مختصر ہونے کے باوجود مقصد پر پوری پوری دلالت کر رہا ہے۔ اول بسم اللہ جو اللہ کی ذات وصفات پر صریحی دلالت کر رہی ہے اور التزاماً بھی ‘ پھر تکبر کی ممانعت ہے تکبر تمام بری خصلتوں کو جنم دینے والا ہے۔ پھر ایمان و اطاعت کا حکم ہے جو تمام فضائل کو جامع ہے۔ اس کلام میں پہلے اپنی رسالت کو ثابت کیا ہے ‘ پھر اطاعت کا حکم دیا ہے۔ دلیل رسالت بیان کئے بغیر اطاعت کا حکم نہیں دیا ورنہ یہ تقلید محض کی استدعا ہوتی ‘ خط کو اس طرح سے پہنچانا خود رسالت کی بڑی دلیل ہے۔
Ayah 27:32

قَالَتْ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَفْتُوْنِیْ فِیْۤ اَمْرِیْ١ۚ مَا كُنْتُ قَاطِعَةً اَمْرًا حَتّٰى تَشْهَدُوْنِ Open ayah 27:32 in the Quran reader

(خط سنا کر) وہ کہنے لگی کہ اے اہل دربار میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، جب تک تم حاضر نہ ہو (اور صلاح نہ دو) میں کسی کام کو فیصل کرنے والی نہیں

قالت یایھا الملؤا افتونی فی امری ما کنت قاطعۃ امرًا حتی تشھدون . (بلقیس نے کہا :) اے سردارو ! مجھے میرے معاملہ میں مشورہ دو ‘ جب تک کہ تم میرے پاس موجود نہ ہو میں کسی بات کا قطعی فیصلہ نہیں کرتی۔ فُتیَا اور فتویٰ کسی مشکل بات کا جواب یعنی جو معاملہ میرے سامنے ہے اس میں مجھے مشورہ دو ۔ حَتیّٰ تَشْھَدُوْنَ یہاں تک کہ تم میرے پاس موجود نہ ہو اور مجھے مشورہ نہ دو یا جب تک اس بات کے درست ہونے کی شہادت نہ دے دو ۔
Ayah 27:33

قَالُوْا نَحْنُ اُولُوْا قُوَّةٍ وَّ اُولُوْا بَاْسٍ شَدِیْدٍ١ۙ۬ وَّ الْاَمْرُ اِلَیْكِ فَانْظُرِیْ مَا ذَا تَاْمُرِیْنَ Open ayah 27:33 in the Quran reader

وہ بولے کہ ہم بڑے زورآور اور سخت جنگجو ہیں اور حکم آپ کے اختیار ہے تو جو حکم دیجیئے گا (اس کے مآل پر) نظر کرلیجیئے گا

قالو نحن اولوا قوۃ واولوا ولوا باس شدید والامر الیک فانظری ماذا تامرین . وہ کہنے لگے : ہم بڑے طاقتور اور بڑے لڑنے والے ہیں (آئندہ) اختیار آپ کے ہاتھ میں ہے آپ خود ہی غور کرلیں (اور) جو حکم آپ دیں (ہم اس کی تعمیل کریں گے) ۔ قُوۃٍ یعنی لڑنے کی قوت ‘ بَأْسٍ شَدِیْدٍ یعنی لڑائی کے وقت سخت طاقتور۔ مقاتل نے کہا : قوت سے مراد ہے تعدادی کثرت اور بأس سے مراد ہے شدید شجاعت۔ بلقیس نے اہل دربار سے صلح یا جنگ دونوں کا مشورہ لیا تھا۔ لڑائی صلح کے مقابلہ میں مشکل اور سخت کام ہے۔ جنگ کی صورت میں اہل دربار نے تعمیل حکم کا اقرار کیا ‘ برخلاف ان یہودیوں کے جنہوں نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا تھا : فَاذْھَبْ اَنْتَ وَرَبُّکَ فَقَاتِلاَ اِنَّا ھٰھُنَا قَعِدُوْنَ تم اور تمہارا خدا اور دونوں جا کر لڑو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں ‘ یعنی ہم تو آگے نہیں جائیں گے۔ جب بلقیس کے حکم پر انہوں نے لڑنے کا اظہار کردیا تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ صلح کا اگر حکم ہوا تو ہم اس کی تعمیل بدرجۂ اولیٰ کریں گے آپ کو دونوں باتوں کا اختیار ہے۔ مَاذَا تَاْمُرِیْنَ میں ما استفہامیہ ہے اور پورا جملہ بتاویل مفرد ہو کر انظری کا مفعول ہے یعنی آپ خود دیکھ لیں اور سوچ لیں کہ دونوں میں کون سی چیز آپ کے لئے مفید ہے جنگ یا صلح ‘ بہرحال ہم آپ کے فیصلہ پر چلنے کے لئے تیار ہیں۔
Ayah 27:34

قَالَتْ اِنَّ الْمُلُوْكَ اِذَا دَخَلُوْا قَرْیَةً اَفْسَدُوْهَا وَ جَعَلُوْۤا اَعِزَّةَ اَهْلِهَاۤ اَذِلَّةً١ۚ وَ كَذٰلِكَ یَفْعَلُوْنَ Open ayah 27:34 in the Quran reader

اس نے کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کر دیتے ہیں اور وہاں کے عزت والوں کو ذلیل کر دیا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ بھی کریں گے

قالت ان الملوک اذا دخوا قریۃ افسدوھا وجعلوا اعزۃ اھلھا اذلۃ وکذلک یعفلون ملکہ نے کہا : بادشاہ جب کسی بستی میں جبراً داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کردیتے ہیں اور وہاں کے معزز باشندوں کو ذلیل کردیتے ہیں (یعنی ان کا مال لوٹتے ہیں ‘ گھروں کو اجاڑتے ہیں تاکہ ان کا رعب اور اقتدار قائم ہوجائے) اور یہ لوگ بھی (اگر غالب آگئے تو) ایسا ہی کریں گے۔ ملکہ نے عام بادشاہوں کا عمومی ضابطہ بیان کر کے اول قوم کو مبہم طور پر جنگ سے ڈرایا پھر آخری فقرہ کہہ کے صراحت کردی کہ ان لوگوں سے بھی مجھے یہی خطرہ ہے۔ کَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ کا ایک ترجمہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ بادشاہ ایسا ہی کرتے رہتے ہیں ‘ ان کا دستور ہی یہی ہے۔ اس ترجمہ پر اس فقرہ کا ارتباط سابق جملہ سے ہوگا اور یَفْعَلُوْنَ کی ضمیر ملوک کی طرف راجع ہوگی ‘ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اور آپ کے لشکر کی طرف راجع نہ ہوگی۔ یا یہ مقولہ اللہ کا ہے۔ اللہ نے بلقیس کے قول کی تصدیق فرما دی کہ ہاں بادشاہوں کا یہی طریقۂ عمل ہے۔ ملکہ کے اس کلام سے معلوم ہو رہا ہے کہ بلقیس صلح کو مناسب خیال کرتی تھی۔
Ayah 27:35

وَ اِنِّیْ مُرْسِلَةٌ اِلَیْهِمْ بِهَدِیَّةٍ فَنٰظِرَةٌۢ بِمَ یَرْجِعُ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 27:35 in the Quran reader

اور میں ان کی طرف کچھ تحفہ بھیجتی ہوں اور دیکھتی ہوں کہ قاصد کیا جواب لاتے ہیں

وانی مرسلۃ الیھم بھدیہ فنظرۃ بم یرجع المرسلون . اور میں ان کو ایک ہدیہ بھیجوں گی پھر دیکھوں گی کہ قاصد کیا جواب لے کر آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ میں اپنے پاس سے کچھ تحفہ دے کر قاصدوں کو روانہ کروں گی۔ ہدیۃ وہ چیز جو ہدیہ میں دی جائے جیسے عطیہ دی ہوئی چیز۔ بغوی نے لکھا ہے : بلقیس ہدیہ بھیج کر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی جانچ کرنی چاہتی تھی کہ بادشاہ ہیں یا نبی۔ اگر بادشاہ ہوں گے تو ہدیہ قبول کرلیں گے اور لشکر کشی نہیں کریں گے اور نبی ہوں گے تو ہدیہ کو رد کردیں گے اور بغیر اتباع ایمان کے راضی نہیں ہوں گے۔ اس کے بعد ہدیہ میں ملکہ نے کچھ غلام اور کچھ باندیاں بھیجیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سب کو ایک ہی طرح کا لباس پہنا دیا تاکہ (لڑکے اور لڑکی کی) شناخت نہ ہو سکے۔ مجاہد نے کہا : دو سو غلام اور دو سو باندیاں بھیجی تھیں۔ مجاہد اور مقاتل کا قول ہے کہ باندیوں کو غلاموں کا لباس اور غلاموں کو باندیوں کا لباس پہنا دیا تھا۔ سعید بن جبیر نے کہا : (سونے کی) اینٹ ‘ ریشم اور دیبا کے ساتھ بھیجی تھی۔ بعض نے کہا : سونے کی چار اینٹیں بھیجی تھیں۔ وہب بن منبہ نے بیان کیا : بلقیس نے پانچ سو لڑکے اور لڑکیاں بھیجیں۔ لڑکیوں کو قبائیں اور کمر کے پٹکے یعنی لڑکوں کا لباس پہنایا اور غلاموں کو باندیوں کے کپڑے پہنائے۔ کلائیوں میں سنہری کنگن ‘ گلے میں سونے کے طوق ‘ کانوں میں بالیاں اور بالے جواہر سے مرصع پہنائے۔ لڑکوں کو پانچ سو گھوڑوں پر اور لڑکیوں کو پانچ سو خچروں پر سوار کرایا ‘ ہر گھوڑے کی لگام سنہری جواہر سے جڑی تھی اور چار جامے رنگا رنگ کے دیبا کے۔ بلقیس نے چاندی کی پانچ سو اینٹیں اور موتی اور یاقوت سے جڑا ہوا تاج بھی بھیجا اور مشک و عنبر و خود بھی ‘ پھر ایک ڈبہ میں بلا سوراخ کیا ہوا ایک قیمتی موتی اور ٹیڑھا کیا ہوا ایک پوتھ رکھ کر بند کردیا اور اپنی قوم کے ایک سردار کو جس کا نام منذر بن عمرو تھا ‘ بلوا کر کچھ دوسرے سمجھدار ہوشیار آدمیوں کو اس کے ساتھ کرکے ایک خط جس میں تحفوں کی فہرست تھی ‘ دے کر ہدایت کی اور سب چیزیں دے کر بھیج دیا اور نمائندہ سے کہہ دیا کہ سلیمان ( علیہ السلام) سے جا کر یہ کہنا کہ اگر آپ نبی ہیں تو باندیوں کو غلاموں سے الگ چھانٹ دیجئے اور بغیر کھولے بتائیے کہ ڈبہ میں کیا ہے (اور جب وہ بتادیں تو کہنا کہ اس موتی میں ٹھیک سوراخ کر دیجئے اور سوراخ دار پوتھ میں دھاگہ ڈال دیجئے لیکن کسی آدمی یا جن سے اس میں مدد نہ لیجئے۔ غلاموں اور باندیوں کو یہ بھی حکم دیا کہ غلام باندیوں کی بولی میں زنانہ لوچدار بات کریں اور باندیاں کرخت لہجے میں مردانہ بات کریں ‘ پھر قاصد سے یہ بھی کہہ دیا کہ تم اس بات کا اندازہ کرنا کہ وہ کس طرح پر پیش آتے ہیں۔ اگر غصہ کی نظر سے تم کو دیکھیں تو سمجھ لینا وہ بادشاہ ہیں ‘ تم ہرگز خوف زدہ نہ ہونا ہم ان سے زیادہ عزت رکھتے ہیں اور اگر کشادہ پیشانی اور مہربانی سے پیش آئیں تو سمجھ لینا وہ نبی مرسل ہیں۔ ان کی بات سمجھنا اور (ادب کے ساتھ) جواب دینا۔ غرض بلقیس کے قاصد سارے تحفے لے کر روانہ ہوگئے۔ ادھر ہدہد نے جلد جا کر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو اس واقعہ کی اطلاع دے دی۔ آپ نے جنات کو حکم دیا کہ سونے چاندی کی اینٹیں تیار کریں۔ حکم کی تعمیل کی گئی۔ پھر آپ نے حکم دیا کہ ان اینٹوں کو اس جگہ سے نو فرسخ تک ایک میدان میں بچھا دیں اور میدان کے گردا گرد سونے چاندی کی اونچی دیوار کھینچ دیں۔ پھر فرمایا : خشکی اور دریا میں کون سا جانور سب سے اچھا ہوتا ہے ؟ حاضرین نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! ہم نے فلاں سمندر میں کچھ جانور دیکھے ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔ ان کے دو بازو ‘ گردن پر کلغیاں اور پیشانیوں پر بال ہوتے ہیں۔ فرمایا : ابھی لے آؤ۔ جنات نے فوراً لا کر حاضر کر دئیے۔ فرمایا : میدان کے دائیں بائیں دونوں طرف سونے چاندی کی اینٹوں کے فرش پر ان کو باندھ دو اور ان کا چارہ ان کے سامنے ڈال دو ۔ جنات کو حکم دیا : اپنی اولاد کو لا کر میدان کے دائیں بائیں کھڑا کر دو ۔ ان احکام کی تعمیل کے بعد حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اپنے تخت پر رونق افروز ہوگئے اور اپنے دائیں بائیں جانب چار چار ہزار کرسیاں بچھوا دیں اور دائیں بائیں فرسخوں تک صف بستہ کھڑے ہونے کا شیطانوں کو حکم دیا۔ جب قاصد قریب پہنچ گئے اور سلیمان ( علیہ السلام) کی حکومت دیکھی اور ایسے چوپائے جو کبھی نہیں دیکھے تھے اور ان کو چاندی سونے کی اینٹوں پر گوبر کرتے پایا تو خود وہ اپنی نظروں میں حقیر ہوگئے اور جو تحفے ساتھ لائے تھے سب پھینک دئیے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے سونے چاندی کی اینٹیں بچانے کا حکم جس وقت دیا تھا اس وقت بلقیس کی بھیجی ہوئی اینٹوں کی گنتی کے مطابق جگہ خالی چھوڑ دی تھی۔ قاصد نے جب کچھ اینٹوں کی جگہ خالی دیکھی اور باقی زمین پر فرش پایا تو اندیشہ ہوا کہ کہیں کوئی ہم پر اینٹیں اٹھا لینے کی تہمت نہ لگائے اس لئے خالی جگہ پر اینٹیں پھینک دیں۔ پھر شیاطین کو دیکھ کر تو خوف زدہ ہوگئے۔ ان سے کہا گیا : آگے بڑھو ‘ ڈر کی کوئی بات نہیں۔ قاصد تمام جن و انس اور پرندوں ‘ درندوں اور چرندوں کی ٹکڑوں سے گزر کر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔ آپ نے ان کی طرف کشادہ روئی کے ساتھ اچھی نظروں سے دیکھا اور فرمایا : کیا بات ہے ؟ امیروفد نے ساتھ لائی ہوئی چیزیں پیش کردیں اور ملکہ کا خط بھی دے دیا۔ آپ نے خط غور سے پڑھا اور فرمایا : ڈبہ کہاں ہے ؟ امیر وفد نے پیش کردیا۔ آپ نے ڈبہ کو ہلایا۔ اتنے میں جبریل ( علیہ السلام) آگئے اور ڈبہ کے اندر جو چیز تھی وہ بتادی۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے فرمایا : اس کے اندر بغیر سوراخ کا ایک قیمتی موتی ہے اور ایک ٹیڑھا سوراخ کیا ہوا پوتھ ہے۔ قاصد نے عرض کیا : آپ نے صحیح فرمایا۔ اب موتی میں سوراخ کر دیجئے اور پوتھ میں دھاگہ پرو دیجئے۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے جنات اور آدمیوں سے دریافت فرمایا : کوئی اس میں سوراخ کرسکتا ہے ؟ کسی کو سوراخ کرنے کی تدبیر معلوم نہ تھی اس لئے خاموش رہے۔ پھر آپ نے شیاطین سے دریافت کیا۔ ایک شیطان نے کہا : لکڑی کے کیڑے کو بلوائیے۔ حسب الحکم لکڑی کا کیڑا آیا اور دھاگہ منہ میں پکڑ کر موتی میں سوراخ کرتا ہوا دوسری جانب نکل آیا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے فرمایا : تو کیا انعام چاہتا ہے ؟ کیڑے نے عرض کیا : میری روزی درخت (لکڑی) میں مقرر کردی جائے۔ حضرت نے فرمایا : تیرے لئے ایسا ہی کردیا گیا۔ پھر آپ نے لڑکوں اور لڑکیوں کو الگ الگ چھانٹ دیا جس کی تدبیر یہ کی کہ سب کو ہاتھ منہ دھونے کا حکم دیا۔ لڑکی برتن میں سے پانی ایک ہاتھ میں لیتی پھر ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں ڈالتی پھر منہ پر مارتی تھی اور لڑکا براہ راست برتن سے پانی لے کر منہ پر ماتا تھا۔ لڑکی ہاتھ کے اندرونی جانب پانی ڈالتی تھی اور لڑکا کلائی کے بیرونی جانب پانی بہاتا تھا ‘ لڑکی یونہی پانی دھارتی تھی اور لڑکا اوپر سے نیچے کو ہاتھ پر پانی گراتا تھا۔ خلاصہ یہ کہ آپ نے سب کو الگ الگ چھانٹ دیا پھر لائے ہوئے ہدیے واپس کر دئیے جیسا کہ ؟ آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ یہ تمام تفصیل بغوی نے بیان کی ہے جو مختلف روایات سے ماخوذ ہے۔ بعض باتیں ابن ابی حاتم نے سدی کی روایت سے اور بعض باتیں ابن ابی حاتم اور ابن المنذر دونوں نے یزید بن رومان کی روایت سے بیان کی ہیں۔
Ayah 27:36

فَلَمَّا جَآءَ سُلَیْمٰنَ قَالَ اَتُمِدُّوْنَنِ بِمَالٍ١٘ فَمَاۤ اٰتٰىنَِۧ اللّٰهُ خَیْرٌ مِّمَّاۤ اٰتٰىكُمْ١ۚ بَلْ اَنْتُمْ بِهَدِیَّتِكُمْ تَفْرَحُوْنَ Open ayah 27:36 in the Quran reader

جب (قاصد) سلیمان کے پاس پہنچا تو سلیمان نے کہا کیا تم مجھے مال سے مدد دینا چاہتے ہو، جو کچھ خدا نے مجھے عطا فرمایا ہے وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں دیا ہے حقیقت یہ ہے کہ تم ہی اپنے تحفے سے خوش ہوتے ہوگے

فلما جآ سلیمن . پھر جب وہ (قاصد یا تحفہ) سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس پہنچ گیا۔ قال اتمدونن بمال . تو انہوں نے کہا : کیا تم لوگ (یعنی تم اور تمہارے ساتھی یا تم اور بلقیس) حقیر (دنیوی) مال سے میری مدد کر رہے ہو۔ استفہام انکاری ہے یعنی مجھے تمہاری طرف سے مالی امداد کی ضرورت نہیں ‘ تمہارا ہدیہ مجھے درکار نہیں ‘ اس کی میرے لئے کوئی وقعت نہیں کیونکہ فما اتن اللّٰہ خیر مما اتکم بل انتم بھدیتکم تفرحون . اللہ نے جو کچھ عطا فرما دیا ہے (یعنی دین ‘ نبوت ‘ حکمت ‘ حکومت) وہ اس سے افضل و بہتر ہے جو تم کو دیا ہے (میں اس ہدیہ کے لین دین سے خوش نہیں ہوتا) بلکہ تم ہی اپنے ہدیہ سے خوش ہوتے ہو۔ کیونکہ تم لوگ صرف ظاہری دنیوی زندگی کو جانتے ہو ‘ یہی تمہاری نظروں کے سامنے ہے اس لئے ہدیے لے کر مال میں اضافہ کرنا چاہتے ہو اور ہدیے دے کر اپنے ہمسروں پر فخر کرنا چاہتے ہو۔ تم میری حالت کو اپنی حالت پر قیاس کرتے ہو حالانکہ یہ بات غلط ہے۔ پھر منذر بن عمرو سردار وفد کی طرف رخ کر کے فرمایا۔
Ayah 27:37

اِرْجِعْ اِلَیْهِمْ فَلَنَاْتِیَنَّهُمْ بِجُنُوْدٍ لَّا قِبَلَ لَهُمْ بِهَا وَ لَنُخْرِجَنَّهُمْ مِّنْهَاۤ اَذِلَّةً وَّ هُمْ صٰغِرُوْنَ Open ayah 27:37 in the Quran reader

ان کے پاس واپس جاؤ ہم ان پر ایسے لشکر سے حملہ کریں گے جس کے مقابلے کی ان میں طاقت نہ ہوگی اور ان کو وہاں سے بےعزت کرکے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے

ارجع الیہم فلناتینھم بجنود لا قبل لھم بھا ولنخرجنھم منھا اذلۃ وھم صغرون تم ان کے (یعنی بلقیس اور قوم کے) پاس لوٹ کر جاؤ ہم ایسے لشکر لے کر ان پر جا پہنچیں گے جن کے مقابلہ کی ان میں طاقت نہیں اور ان کو اس (سرزمین) سے بےعزت کر کے نکال دیں گے اور وہ ذلیل ہوں گے۔ صَاغِرُوْنَ کے لفظ سے اَذِلَّۃً (بےعزت) ہونے کی تاکید ہو رہی ہے۔ بعض علماء نے کہا : ذلت عزت کی ضد ہے۔ آبرو اور حکومت کا زوال ذلت ہے اور صنعار سے مراد ہے قیدی ہوجانا یعنی اگر وہ مسلمان ہو کر نہیں آئیں گے تو ہم ان کو ان کی سرزمین سے نکال دیں گے (اور ان کو قیدی بنا لیا جائے گا) ۔ وہب بن منبہ وغیرہ نے بیان کیا ہے کہ جب وفد یمن حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس سے لوٹ کر بلقیس کے پاس پہنچا (اور واقعہ بیان کیا) تو بلقیس نے کہا : واللہ ! میں تو پہلے ہی پہچان چکی کہ وہ بادشاہ نہیں ہے اور اس کے مقابلہ کی ہم میں سکت نہیں۔ اس کے بعد بلقیس نے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس پیام بھیجا کہ میں خود اپنی قوم کے سرداروں کے ساتھ آپ کے پاس آرہی ہوں اور دیکھوں گی کہ جس دین کی طرف آپ ہم کو بلا رہے ہیں ‘ وہ کیا ہے۔ پھر بلقیس نے حکم دے کر اپنے تخت کو تہ برتہ سات کمروں میں بند کرا کے دروازوں کو مقفل کردیا یا سات محلوں کے اندر اس کو رکھوا دیا اور حفاظت کے لئے کچھ نگران مقرر کر دئیے اور اپنے نائب سے کہا : تم یہاں کے حالات کے نگراں رہنا ‘ میرے تخت تک کوئی پہنچنے نہ پائے اور کوئی اس کو خراب نہ کرسکے۔ پھر اعلانچی کو یہ اعلان کرنے کا حکم دے دیا کہ تمام ممالک محروسہ کے باشندوں کو معلوم ہوجانا چاہئے کہ ہم کوچ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد یمن کے بارہ ہزار نوابوں کو لے کر روانہ ہوگئی ‘ ہر نواب کے ماتحت ہزاروں سپاہی تھے۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) بڑے باوقار اور رعب داب کے آدمی تھے۔ اگر کسی سے کچھ دریافت کرتے تھے تو (اس کی مجال نہ ہوتی کہ کود اپنی طرف سے جواب دے سکے بلکہ) وہ حضرت پر بھی آپ کے سوال کا جواب محول کردیا (اور کہہ دیتا کہ اللہ کے نبی کو ہی اس کا بخوبی علم ہے) ایک روز اپنے تخت حکومت پر باہر نکل کر تشریف فرما تھے کہ ایک غبار قریب ہی اڑتا نظر آیا اور دریافت فرمایا : یہ کیا ہے ؟ حاضرین نے عرض کیا : بلقیس اس جگہ آکر اتری ہے۔ یہ مقام حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی مجلس سے ایک فرسخ کے فاصلہ پر تھا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے یہ بات سن کر اپنے لشکر والوں کی طرف متوجہ ہو کر
Ayah 27:38

قَالَ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَؤُا اَیُّكُمْ یَاْتِیْنِیْ بِعَرْشِهَا قَبْلَ اَنْ یَّاْتُوْنِیْ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:38 in the Quran reader

سلیمان نے کہا کہ اے دربار والو! کوئی تم میں ایسا ہے کہ قبل اس کے کہ وہ لوگ فرمانبردار ہو کر ہمارے پاس آئیں ملکہ کا تخت میرے پاس لے آئے

قال یایھا الملوا ایکم یاتینی بعرشھا قبل ان یاتونی مسلمین . کہا : اے سردارو ! تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لے آئے گا قبل اس کے کہ وہ لوگ مسلمان ہو کر میرے پاس پہنچیں۔ حضرت سلیمان (علیہ السلام) بلقیس کو اللہ کی قدرت اور اس کا عطا کردہ معجزہ دکھانا چاہتے تھے ‘ بلقیس کی عقل کی آزمائش بھی مقصود تھی کہ (مرصع کاری کو) بدلنے کے بعد وہ اپنے تخت کو پہچان سکے گی یا نہیں۔ مسلمان ہو کر آنے سے پہلے کی (حسب صوابدید مفسر (رح) شرط اس لئے لگائی کہ مسلمان ہونے کے بعد تو بلقیس کی رضامندی کے بغیر اس کا تخت لینا حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے لئے حلال نہ تھا (اس فقیر مترجم کی نظر میں یہ توجیہ نامناسب ہے ‘ اس سے معصوم پیغمبر پر الزام عائد ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) بلقیس کے تخت پر ہر حیلے اور بہانہ سے قبضہ کرنا چاہتے تھے حالانکہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو اللہ نے سونے ‘ چاندی اور جواہر کے انبار عطا فرما دئیے تھے آپ کو کسی طرح کسی غیرمسلم کے مال کا لالچ نہیں ہوسکتا۔ واللہ اعلم) ۔ عفریت کا ترجمہ ضحاک نے کیا خبیث۔ فراء نے کہا سخت طاقتور۔ ابن قتیبہ نے کہا وہ جس کی تخلیقی ساخت مضبوط ہو اس کو عفریت کہتے ہیں۔ ال میں یہ لفظ عفر سے بنا ہے اور عفر مٹی کو کہتے ہیں۔ عافرہ اس سے کشی لڑ کر اس کو مٹی پر گرا دیا۔ بہرحال
Ayah 27:39

قَالَ عِفْرِیْتٌ مِّنَ الْجِنِّ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ تَقُوْمَ مِنْ مَّقَامِكَ١ۚ وَ اِنِّیْ عَلَیْهِ لَقَوِیٌّ اَمِیْنٌ Open ayah 27:39 in the Quran reader

جنات میں سے ایک قوی ہیکل جن نے کہا کہ قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں میں اس کو آپ کے پاس لاحاضر کرتا ہوں اور میں اس (کے اٹھانے کی) طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں

قال عفریت من الجن انا اتیک بہ قبل ان تقوم من مقامک . ایک خبیث دیو نے کہا : میں آپ کے اس مقام سے اٹھنے سے پہلے ہی وہ تخت آپ کے پاس لاسکتا ہوں۔ مقام سے مراد ہے اجلاس فیصلہ ‘ مقدمات کی مجلس۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : سلیمان ( علیہ السلام) ہر صبح کو اجلاس کرتے تھے جو دوپہر تک جاری رہتا تھا۔ اس دیو کا نام وہب نے لوذی ‘ بعض لوگوں نے ذکوان اور بعض نے صخر جنی کہا ہے۔ یہ دیو ایک پہاڑی کی طرح تھا بقدر حدنگاہ اس کا ایک قدم پڑتا تھا۔ وانی علیہ لقوی امین . اور یقیناً میں اس کو لانے پر طاقت رکھتا ہوں (اور) امانت دار ہوں۔ یعنی جن جواہر سے وہ مرصع ہے ان میں کمی نہیں کروں گا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے فرمایا : میں اس سے زیادہ جلد منگوانا چاہتا ہوں۔
Ayah 27:40

قَالَ الَّذِیْ عِنْدَهٗ عِلْمٌ مِّنَ الْكِتٰبِ اَنَا اٰتِیْكَ بِهٖ قَبْلَ اَنْ یَّرْتَدَّ اِلَیْكَ طَرْفُكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهُ مُسْتَقِرًّا عِنْدَهٗ قَالَ هٰذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ١ۖ۫ لِیَبْلُوَنِیْۤ ءَاَشْكُرُ اَمْ اَكْفُرُ١ؕ وَ مَنْ شَكَرَ فَاِنَّمَا یَشْكُرُ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ رَبِّیْ غَنِیٌّ كَرِیْمٌ Open ayah 27:40 in the Quran reader

ایک شخص جس کو کتاب الہیٰ کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کئے دیتا ہوں۔ جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے

قال الذی عندہ علم من الکتب . کہا : اس نے جس کے پاس کتاب کا کچھ علم تھا۔ ابن ابی حاتم نے ابن لبیعہ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ خضر تھے۔ بعض نے کہا : جبرئیل ( علیہ السلام) (بصورت انسانی۔ مترجم) تھے۔ کسی نے کہا : کوئی اور فرشتہ تھا۔ اکثر مفسرین نے صراحت کی ہے کہ وہ آصف بن برخیا تھے جو صدیقیت کے مرتبہ پر فائز تھے۔ اللہ کا اسم اعظم ان کو معلوم تھا ‘ جب اسم اعظم لے کر اللہ سے دعا کرتے تھے تو اللہ ان کی دعا قبول فرما لیتا تھا اور ان کا سوال پور اکر دیتا تھا۔ جریر اور مقاتل نے بوساطت ضحاک حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس بیان کی نسبت کی ہے کہ آصف نے نماز کے بعد حضرت سلیمان ( علیہ السلام) سے کہا : جہاں تک آپ کی نظر پہنچے اپنی آنکھیں اٹھا کر دیکھئے۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے نظر اٹھا کر یمن کی طرف دیکھا اور آصف نے دعا کی ‘ فوراً اللہ نے فرشتوں کو بھیج دیا۔ فرشتوں نے تخت اٹھا لیا اور زمین کو اندر ہی اندر چیرتے ہوئے لا کر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے سامنے رکھ دیا۔ کلبی نے کہا : آصف نے سجدہ میں گر کر اللہ کا اسم اعظم پڑھ کر دعا کی ‘ فوراً بلقیس کا تخت زمین کے اندر ہی اندر چل دیا یہاں تک کہ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی کرسی کے پاس برآمد ہوگیا۔ بعض اہل روایت کا کہنا ہے : یہ مسافت دو مہینے کی راہ کے برابر تھی۔ آصف نے کیا دعا مانگی تھی ‘ علماء کا اس کی تعیین میں اختلاف ہے۔ مجاہد نے کہا : یَا ذَا الجَلالِ وَالاِکرَام کہا تھا یعنی یہ اسم اعظم ہے۔ کلبی نے کہا : یَاحَیُّ یَا قَیُّوْمُ (یہی اسم اعظم ہے) حضرت عائشہ ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ زہری کا قول مروی ہے کہ جس کے پاس علم کتاب تھا اس نے اس طرح دعا کی تھی : یَا اِلٰھنا وَاِلٰہ کُلِّ شَیئ اِلٰھًا واحِدًا لا الہ الاَّ اَنتَ اِیْتِنِی بِعَرشِھا اے ہمارے معبود اور ہر چیز کے تنہا معبود ! تیرے سوا کوئی معبود نہیں ‘ میرے پاس اس کا تخت لے آ۔ اللہ کے اسم اعظم کی بحث ہم نے سورة آل عمران کے شروع میں تفصیل کے ساتھ لکھ دی ہے۔ میرے نزدیک زہری کا قول قابل ترجیح ہے۔ محمد بن مکندر نے کہا : اَلَّذِیْ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَابِ سے خود حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی ذات مراد ہے۔ اللہ نے آپ کو علم و فہم عطا فرمایا تھا اس جگہ عِنْدَہٗ عِلْمٌ مِّنَ الْکِتَاب کہنا علم کی عظمت اور اس امر پر دلالت کر رہا ہے کہ سلیمان ( علیہ السلام) کو جو عزت و کرامت حاصل ہوئی تھی وہ علم ہی کے سبب تھی۔ رہا آئندہ آیت میں خطاب انا اتیک بہ قبل ان یرتد الیک طرفک . میں تیرے پلک جھپکنے سے پہلے اسکو تیرے پاس لے آؤنگا تو یہ خطاب عفریت کو ہے اور اظہار معجزہ کی غرض سے ہے۔ عفریت نے تخت لانے کا جو وعدہ کیا تھا حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے اس مدت کو طویل سمجھا اور ایسے معجزہ کا اظہار کرنا چاہا جس سے بڑے بڑے دیو بھی عاجز تھے ‘ دوسروں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ اس صورت میں اَلْکِتَاب میں الف لام جنسی ہوگا اللہ کی بھیجی ہوئی ہر کتاب اس میں داخل ہوگی یا اس سے مراد لوح محفوظ ہوگی (اس وقت الف لام عہدی ہوگا) ۔ طَرْفٌ کا معنی ہے دیکھنے کے لئے پلک بلانا۔ دیکھنے والے کو کہا جاتا ہے کہ اس نے ایک جانب کو اپنی پلکوں کی حرکت متوجہ کردی اس لئے اس کے مقابل رَدُّالْطَّرف آتا ہے یعنی پلکوں کی روانگی کو واپس لے لیا۔ مطلب یہ ہے کہ تم کسی چیز پر آنکھیں کھول کر نظر دوڑاؤ پھر دیکھ کر نظر کو واپس لے آؤ تو نظر کی اس واپسی سے پہلے ہی میں تخت کو لے آؤں گا یعنی انتہائی جلدی۔ فلما راہ مستقرا عندہ قال ھذا من فضل ربی لیبلونیء اشکرام اکفر . اس کے بعد فوراً سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا دیکھا تو کہا : یہ میرے رب کی ادنیٰ عنایت ہے۔ وہ میری جانچ کر رہا ہے کہ میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں یا ناشکری کرتا ہوں۔ اس کلام سے پہلے کچھ عبارت محذوف ہے (جس پر کلام کی رفتار دلالت کر رہی ہے) پوری عبارت اس طرح تھی ” سلیمان ( علیہ السلام) نے اس کو تخت لانے کا حکم دیا ‘ انہوں نے اللہ کا اسم اعظم پڑھ کر دعا کی۔ تخت میں حرکت ہوئی اور زمین کے اندر ہی اندر وہ آکر سلیمان ( علیہ السلام) کے تخت کے پاس برآمد ہوگیا “۔ سلیمان ( علیہ السلام) نے جو اتنی جلدی اس کو اپنے پاس رکھا دیکھا تو کہا۔ قال یعنی شکر نعمت کے طور پر کہا۔ اللہ کے مخلص بندوں کا یہی طریقہ ہوتا ہے۔ ھذا یعنی ساٹھ منزل دور سے پلک جھپکتے ہی تخت منگوا لینے کی قدرت مِنْ فَضْلِ رَبِّیْ یعنی میرے رب کی مہربانیوں کا کچھ حصہ ہے۔ مِنْ تبعیضیہ ہے لِیَبْلُوَنِیْ یعنی اس کا یہ فضل مجھ پر میری جانچ کرنے کے لئے ہے۔ ءَ أَشْکُرُ کہ کیا میں اس کی نعمت کا شکر کرتا ہوں اور محض اس کی مہربانی سمجھتا ہوں ‘ اپنی طاقت اور قوت کا نتیجہ نہیں قرار دیتا اور پھر اس عطیۂ خداوندی کا حق ادا کرتا ہوں۔ اَمْ اَکْفُرُ یا ناشکری کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو اس کا مستحق قرار دیتا ہوں یا اس کا حق ادا کرنے میں قصور کرتا ہوں۔ ومن شکر فانما یشکر لنفسہ ومن کفر فان ربی غنی کریم . اور جو شکر کرے وہ اپنے فائدے کے لئے کرے گا اور جو ناشکری کرے گا تو میرا رب (اس کے شکر سے) بےنیاز ہے اور (بہرحال) کریم ہے۔ یَشْکُرُ لِنَفْسِہٖ شکر سے موجودہ نعمت کا بقاء اور مزید نعمت کا حصول ہوتا ہے۔ اَلشُّکرُ قَیدٌ النعمَۃِ المَوجُودۃِ وَصَید النعَمَۃِ المفقُودَۃِ شکر موجود نعمت کو روک رکھتا ہے اور غیر موجود نعمت کا شکر کرتا ہے (یعنی زیادت نعمت کا ذریعہ ہے) شکر کرنے سے صاحب نعمت کی ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے ‘ وہ حق واجب ادا کردیتا ہے اور اس کا درجہ عنداللہ اونچا ہوجاتا ہے اور آخرت میں ثواب کا استحقاق پیدا ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : کھانے والا شکر ادا کرنے والا (یعنی کھا کر شکر ادا کرنے والا) صابر روزہ دار کی مثل ہے۔ رواہ احمد والترمذی و ابن ماجہ و الحاکم بسند صحیح عند ابی ہریرہ۔ امام احمد اور ابن ماجہ نے صحیح سند کے ساتھ حضرت سنان بن سنہ کی روایت سے یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ نقل کی ہے : کھانے والے (پھر اس کا) شکر کرنے والے کے لئے اتنا ہی اجر ہے جیسے صابر روزہ دار کا۔ عَنِیٌ یعنی اس کے شکر سے بےپرواہ ہے ‘ کریم یعنی شاکر اور کافر سب کو دیتا ہے۔
Ayah 27:41

قَالَ نَكِّرُوْا لَهَا عَرْشَهَا نَنْظُرْ اَتَهْتَدِیْۤ اَمْ تَكُوْنُ مِنَ الَّذِیْنَ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 27:41 in the Quran reader

سلیمان نے کہا کہ ملکہ کے (امتحان عقل کے) لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو۔ دیکھیں کہ وہ سوجھ رکھتی ہے یا ان لوگوں میں ہے جو سوجھ نہیں رکھتے

قال نکروالھا عرشھا ننظر اتھتدی ام تکون من الذین لا تھتدون . سلیمان نے (بلقیس کی سمجھ کو جانچنے کے لئے) حکم دیا : اس کے لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو ۔ ہم دیکھیں گے اس کو صحیح پتہ لگتا ہے یا اس کا شمار انہی لوگوں میں ہے جو (ایسی باتوں کا) پتہ نہیں لگا سکتے۔ نَکِّرُوْا یعنی تخت کو ایسا کر دو کہ وہ پہچان نہ سکے۔ (اس کو اپنا نہیں کوئی غیر تخت محوس ہو۔ مترجم) روایت میں آیا ہے کہ حسب الحکم تخت کے نچلے حصہ کو بالائی اور بالائی حصہ کو نچلا کردیا گیا اور سرخ جواہر کی جگہ سبز جواہر جڑ دئیے گئے اور سبز کی جگہ سرخ۔ اَتَھْتَدِیْ کیا وہ اپنے تخت کو شناخت کرنے کی راہ پالے گی (کسی طریقہ سے شناخت کرسکے گی) سلیمان ( علیہ السلام) نے ایسا کیوں کیا ‘ اس کے متعلق وہب بن منبہ اور کعب وغیرہ کا بیان ہے کہ شیاطین کو یہ اندیشہ تھا کہ سلیمان ( علیہ السلام) بلقیس سے عقد نہ کرلیں۔ اگر ایسا کرلیا تو جنات کے سارے راز وہ سلیمان ( علیہ السلام) سے کہہ دے گی کیونکہ اس کی ماں پری تھی۔ وہ جنات کی خفیہ باتوں سے واقف تھی پھر اگر کوئی اولاد ہوگئی تو سلیمان ( علیہ السلام) کے بعد اس کے زیر حکم رہنا پڑے گا اور یہ نسل سلیمان ( علیہ السلام) کی غلامی کبھی دور نہ ہوگی اس لئے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو نفرت دلانے کے لئے شیاطین نے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) سے بلقیس کی مذمت کی اور کہا : اس کی عقل میں کچھ کمزوری ہے ‘ اس کے دونوں قدم گدھے کے سم کی طرح ہیں ‘ اس کی پنڈلیوں پر بال ہیں۔ اسی اطلاع کی بنیاد پر حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے تخت کی صورت بدل ڈالنے کا حکم دیا تاکہ بلقیس کی عقل کی جانچ ہوجائے اور پنڈلیاں دیکھنے کے لئے ایک شیشہ گھر بنانے کا حکم دیا۔
Ayah 27:42

فَلَمَّا جَآءَتْ قِیْلَ اَهٰكَذَا عَرْشُكِ١ؕ قَالَتْ كَاَنَّهٗ هُوَ١ۚ وَ اُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهَا وَ كُنَّا مُسْلِمِیْنَ Open ayah 27:42 in the Quran reader

جب وہ آ پہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت شان) کا علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں

فلما جآءت قیل اھکذا اعرشک قالب کانہ ہو . پھر جب وہ آگئی تو اس سے کہا گیا : آپ کا تخت بھی ایسا ہی ہے ؟ ملکہ نے کہا : ایسا معلوم ہوتا ہے بعینہ یہ وہی ہے۔ اَھٰکَذَا شک۔ یہ اشتباہی لفظ بلقیس کی عقل کی آزمائش کے لئے کیا گیا۔ مقاتل کا بیان ہے کہ بلقیس نے اپنا تخت پہچان تو لیا تھا لیکن اشتباہی الفاظ میں اس نے جواب اس لئے دیا کہ اس سے مشتبہ الفاظ میں ہی سوال کیا گیا تھا۔ بعض نے کہا : واقعی وہ پوری یقینی شناکت نہیں کر پائی تھی اس لئے نہ کھل کر اقرار کیا نہ انکار۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اس طرز کلام سے اس کی دانشمندی کو پہچان گئے۔ پھر اس سے کہا گیا : واقعی یہ تخت آپ ہی کا ہے لیکن آپ نے دیکھا کہ سات دروازوں میں مقفل ہونے اور چوکیداروں کی حفاظت کرنے سے یہ محفوظ نہ رہ سکا۔ اس پر بلقیس نے جواب دیا۔ واوتینا العلم من قبلھا وکنا مسلمین . اور ہم کو تو اس نشانی سے پہلے ہی (ا اللہ کی قدرت اور سلیمان ( علیہ السلام) کی نبوت کی صداقت کا علم ہوچکا تھا۔ یعنی دوسری نشانیوں سے ہم نے آپ کی نبوت کو جان لیا تھا۔ ہدہد کا خط ڈالنا اور ہمارے تحفوں کو واپس کردینا اور قاصدوں کے ذریعہ پیام بھیجنا۔ بعض علماء نے کہا کہ وَاُوْتِیْنَا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِھَا وَکُنَّا مُسْلِمِیْنَ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کا کلام ہے یعنی ہم تو اللہ کی قدرت اور ہر حکم خدا کی صحت کو اس واقعہ سے پہلے ہی جانتے ہیں اور ہم اس کے بھیجے ہوئے دین پر قائم ہیں اور برابر اس کے اطاعت گزار اور فرمانبردار ہیں۔ اس وقت اس کلام کی غرض ہوگی محض اللہ کی نعمتوں کا ذکر اور ان کے شکر کا اظہار۔ بعض اہل علم نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ ہم کو بلقیس کے ایمان لانے اور آنے سے پہلے اطاعت گزار ہوجانے کا علم ہوچکا تھا اور ہم اللہ کے فرمانبردار ہیں۔
Ayah 27:43

وَ صَدَّهَا مَا كَانَتْ تَّعْبُدُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهَا كَانَتْ مِنْ قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ Open ayah 27:43 in the Quran reader

اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی تھی، سلیمان نے اس کو اس سے منع کیا (اس سے پہلے تو) وہ کافروں میں سے تھی

وصدھا ما کانت تعبدو من دون اللّٰہ انھا کانت من قوم کفرین . اور سلیمان نے اس کو ان معبودوں کی عبادت سے منع کردیا جن کو اللہ کے سوا وہ پوجتی تھی۔ بلاشبہ کافر قوم میں سے تھی۔ یعنی سورج کی پوجا سے سلیمان ( علیہ السلام) نے اس کو منع کردیا۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ صَدَّ کا فاعِل ماَ کَانَتْ تَعْبُدُ ہے یعنی اللہ کے سوا جن معبودوں کو پوجتی تھی ‘ انہوں نے اس کو توحید سے روک دیا تھا ‘ عقل کی کمزوری یا خرابی نے اس کو توحید سے نہیں روکا تھا اس لئے جن کا یہ کہنا غلط تھا کہ اس کی سمجھ میں فتور ہے۔ جملہ اَنَّھَا کَانْتْ مستانفہ ہے یعنی بلقیس ایسی قوم میں سے ہے جو آفتاب کی پجاری تھی۔ اسی آفتاب پرست قوم میں وہ پلی بڑھی تھی اس لئے سورج کی پوجا کے سوا وہ کسی اور کی عبادت سے واقف نہیں تھی۔ اس کے بعد حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے چاہا کہ بلقیس کے قدموں اور پنڈلیوں کی حالت کا انکشاف کسی تدبیر سے خود ہوجائے ‘ انکشاوف کی درخواست نہ کرنی پڑے ‘ اس لئے آپ نے شیطانوں کو حکم دیا کہ ایک شیش محل یا شیشہ گھر تیار کریں جو سفیدی میں پانی معلوم ہو۔ بعض نے کہا : شیشہ کا صحن خانہ تیار کرنے کا حکم دیا جس کے نیچے پانی ہی پانی رکھا اور پانی میں مینڈکیاں اور طرح طرح کی مچھلیاں چھوڑ دیں ‘ پھر اس صحن کے شہ نشین میں اپنا تخت بچھوا دیا اور اس پر رفنق افروز ہوگئے۔ پرندے ‘ جنات اور انسان آپ کے اردگرد جمع ہوگئے۔ بعض کا خیال ہے کہ شیشہ کا ایک صحن تیار کرایا تھا جس کے نیچے مچھلیوں اور مینڈکیوں کی مورتیں رکھی تھیں ‘ دیکھنے والا اس کو پانی ہی سمجھتا تھا۔ غرض اس کے بعد بلقیس کو بلوایا۔