27. Surah An-Naml

النملThe Ant · 93 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 27:44

قِیْلَ لَهَا ادْخُلِی الصَّرْحَ١ۚ فَلَمَّا رَاَتْهُ حَسِبَتْهُ لُجَّةً وَّ كَشَفَتْ عَنْ سَاقَیْهَا١ؕ قَالَ اِنَّهٗ صَرْحٌ مُّمَرَّدٌ مِّنْ قَوَارِیْرَ١ؕ۬ قَالَتْ رَبِّ اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ وَ اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمٰنَ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 27:44 in the Quran reader

(پھر) اس سے کہا گیا کہ محل میں چلیے، جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا اور (کپڑا اٹھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا یہ ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ بول اٹھی کہ پروردگار میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور (اب) میں سلیمان کے ہاتھ پر خدائے رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں

قیل لھا ادخلی الصرح . اس سے کہا گیا : صحن میں داخل ہوجاؤ۔ فلما راتہ حسبتہ لجۃ . (وہ دروازہ کے اندر آگئی اور آ کر) جب صحن کو دیکھا تو اس کو پانی کا کنڈ (یا تالاب یا حوض) سمجھی۔ وکشفت عن ساتیھا . اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹایا تاکہ میں داخل ہوجاؤں۔ ابن ابی شیبہ ‘ ابن المنذر ‘ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ کے نقل کردہ ایک طویل بیان میں کہا ہے کہ بلقیس کے آنے سے پہلے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے ایک قصر بنوایا جس کا صحن سفید آبگینہ کا رکھا اور اس کے نیچے پانی چھوڑ دیا ‘ پانی کے نیچے آبی جانور بھی چھوڑ دئیے اور اپنے تخت کو اس صحن کے شہ نشین پر بچھوایا اور تخت پر تشریف فرما ہوگئے۔ جب بلقیس آئی اور اس نے صحن کو دیکھا تو رکا ہوا پانی خیال کیا اور پنڈلیوں سے کپڑا اٹھا دیا تاکہ پانی میں گھس کر سلیمان ( علیہ السلام) کے پاس پہنچ جائے۔ سلیمان ( علیہ السلام) نے اس کی طرف دیکھا تو پنڈلیاں اور قدم بہت ہی خوبصورت دکھائی دئیے ‘ البتہ پنڈلیوں پر بال تھے۔ سلیمان ( علیہ السلام) نے دیکھ کر نظر پھیرلی۔ علماء نے اسی جگہ سے یہ مطلب اخذ کیا ہے کہ اگر اجنبی عورت کو نکاح کا پیام دینا ہو تو اس کو دیکھ لینا جائز ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : تم میں سے جب کوئی کسی عورت کو نکاح کا پیام دے اور وہ حصۂ بدن (چہرہ وغیرہ) دیکھنا ممکن ہو جس کو دیکھ کر نکاح کرسکے تو ایسا کرلے۔ رواہ ابو داؤد عن جابر وروی احمد والترمذی والنسائی و ابن ماجہ و الدارمی عن مغیرہ بن شعبتہ ؓ ۔ حضرت مغیرہ ؓ کا بیان ہے : میں نے ایک عورت کو نکاح کا پیام بجھوایا۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم نے اس کو دیکھ لیا ہے ؟ میں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : تو اس کو دیکھ لو۔ تم دونوں کے آپس میں محبت پیدا کرنے کے لئے یہ بات مناسب ہے۔ قال انہ صرح ممردمن قواریر . کہنے والے نے کہا : یہ آبگینہ کا بنا ہوا چکنا صحن ہے (پانی نہیں ہے) ۔ مُمَرَّدٌ چکنا۔ امرد بھی اسی سے بنا ہے (وہ لڑکا جس کی داڑھی ابھی نہ نکلی ہو) ۔ قالت رب انی ظلمت نفسی واسلمت مع سلیمن للّٰہ رب العلمین . کہنے لگی : اے میرے رب ! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا اور (اب میں نے سورج کی پوجا وغیرہ سے توبہ کی اور) سلیمان ( علیہ السلام) کے ساتھ اللہ رب العالمین کی توحید خلوص کے ساتھ ایمان لائی (یا خالص طور پر اللہ رب العالمین کی فرمانبردار ہوگئی) ۔ آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جب بلقیس صحن پر پہنچی اور اس کو کنڈ سمجھی تو خیال کیا کہ سلیمان ( علیہ السلام) مجھے غرق کرنا چاہتے ہیں ‘ اس سے تو قتل ہونا آسان ہے۔ پھر جب حقیقت ظاہر ہوگئی تو کہنے لگی : میں نے سلیمان پر بدگمان کر کے اپنے اوپر ظلم کیا ‘ اب میں نے توبہ کی اور اسلام لے آئی۔ مسلمان ہونے کے بعد بلقیس کے احوال کو عطماء نے مختلف طور پر بیان کیا ہے۔ عون بن عبد اللہ نے بیان کیا : ایک شخص نے عبداللہ بن عیینہ سے دریافت کیا : کیا حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے بلقیس سے نکاح کرلیا تھا ؟ ابن عیینہ نے کہا : بلقیس کا واقعہ تو اَسْلَمْتُ مَعَ سُلَیْمَانَ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ پر ختم ہوگیا۔ یعنی ہم کو اس سے زیادہ علم نہیں۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نکاح کرلیا تھا۔ ابن عساکر نے عکرمہ کا یہی قول نقل کیا ہے۔ عکرمہ کا بیان ہے کہ جب سلیمان نے بلقیس سے نکاح کرنا چاہا تو پنڈلیوں پر بالوں کی کثرت پسند نہ آئی۔ لوگوں سے بال صاف کرنے کی تدبیر دریافت کی تو لوگوں نے اس کی تدبیر استرہ بتائی۔ بلقیس نے کہا : میری جلد کو لوہا کبھی نہیں چھو سکتا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے بھی استرہ کو پسند نہیں کیا اور فرمایا : استرہ تو کاٹ دیتا ہے۔ پھر آپ نے جنات سے دریافت کیا ‘ انہوں نے بھی لاعلمی ظاہر کی۔ پھر آپ نے شیطانوں سے پوچھا تو انہوں نے کہا : ہم آپ کے لئے ایسی تدبیر کریں گے کہ جلد سفید چاندی کی طرح ہوجائے گی۔ چناچہ انہوں نے نورہ اور حمام کی ترکیب بتائی (نورہ بال صفا چونہ) اسی زمانہ میں حماموں کا اور چونہ کا رواج ہوگیا۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کے حکم سے جنات نے یمن میں تین قلعے اتنے اونچے بنائے کہ ایسے اونچے اور خوبصورت قلعے کسی نے نہ دیکھے ہوں گے ان کے نام تھے سلحون ‘ سنون اور عمدان۔ جب حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے بلقیس کو ان کے ملک میں واپس کردیا تو ہر مہینے ملاقات کے لئے ایک بار جایا کرتے تھے اور تین روز وہاں قیام پذیر رہتے تھے۔ صبح کو شام سے یمن کو چل دیتے تھے اور پھر صبح کو ہی یمن سے شام کو روانہ ہوجاتے تھے۔ بلقیس کے بطن سے حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا ایک لڑکا بھی ہوا۔ وہب کا بیان ہے : لوگوں کا خیال ہے کہ بلقیس جب مسلمان ہوگئی تو حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے فرمایا : اپنی قوم میں سے کسی کا انتخاب کرلو ‘ میں تمہارا نکاح اس سے کر دوں گا۔ بلقیس نے کہا : اے اللہ کے نبی ! مجھ جیسی عورت مردوں سے نکاح کرلے (ایسا نہیں ہوسکتا) آپ کو معلوم ہے کہ میری قوم میں بادشاہ بھی ہیں ‘ بڑے بڑے تسلط والے سردار بھی ہیں (لیکن میں نے کسی سے نکاح نہیں کیا) حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے فرمایا : ہاں مجھے معلوم ہے لیکن اسلام میں ایسا کرنا ہی ہوگا۔ یہ بات کسی طرح زیبا نہیں کہ اللہ نے جو چیز تمہارے لئے حلال کی ہے تم اس کو اپنے لئے حرام کرلو۔ بلقیس نے کہا : جب ایسا کرنا ضروری ہی ہے تو میرا نکاح ذی تبع شاہ ہمدان سے کرا دیجئے۔ حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے ذی تبع سے بلقیس کا نکاح کرا دیا ‘ پھر بلقیس کو یمن واپس کردیا اور یمن کا ملک ذی تبع کے تسلط میں دے دیا ‘ پھر یمن کے امیر جنات کو جس کا نام رویعہ تھا بلوا کر ہدایت فرما دی کہ ذی تبع تم سے جو کام لیں وہ کام تم انجام دیا کرو۔ حسب الحکم رویعہ عمل کرتا رہا اور ذی تبع حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی وفات تک یمن کا بادشاہ رہا۔ جب حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی وفات پر ایک سال گزر گیا اور جنات کو حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی وفات کا یقینی پتہ چل گیا تو ایک جن تہامہ میں آیا اور وسط یمن میں پہنچ کر چیخ کر اس نے کہا : اے گروہ جن ! شاہ سلیمان کی وفات ہوگئی ‘ اب تم (اپنی اپنی ڈیوٹیوں سے) ہاتھ اٹھا لو۔ سب دست بردار ہوگئے اور ادھر ادھر چلے گئے اور حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کی حکومت کے ختم ہوتے ہی ذی تبع اور بلقیس کی حکومت کو بھی زوال ہوگیا۔ میں کہتا ہوں : حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا بلقیس کی پنڈلیوں کو دیکھنا اس روایت کی تائید ہے جس میں حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کا بلقیس سے نکاح کرنا مذکور ہے اور ذی تبع سے نکاح کرانے کی روایت اس کے مقابلہ میں کمزور ہوجاتی ہے۔ کہا گیا کہ 13/ سال کی عمر میں حضرت سلیمان ( علیہ السلام) کو حکومت ملی تھی اور 53/سال کی عمر پا کر آپ کی وفات ہوئی۔ سبحان اللّٰہ من لازوال لمل کہ پاک ہے وہ خدا جس کی حکومت کو کبھی زوال نہیں۔ لا ملک سلیمان ولا بلقیس لا اٰدم فی الکون ولا ابلیس والکل فصورۃ وانت المعنی یامن ھو للقلوب مقناطیس نہ سلیمان کی حکومت (کوئی حقیقت رکھتی) ہے نہ بلقیس نہ آدم اس کائنات میں وجود (حقیقی) رکھتے ہیں نہ ابلیس۔ اے وہ ذات جو دلوں کو اپنی طرف کھینچنے والی مقناطیس ہے ! تو ہی حقیقت ہے اور کل جہان صورت۔
Ayah 27:45

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ فَاِذَا هُمْ فَرِیْقٰنِ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 27:45 in the Quran reader

اور ہم نے ثمود کی طرف اس کے بھائی صالح کو بھیجا کہ خدا کی عبادت کرو تو وہ دو فریق ہو کر آپس میں جھگڑنے لگے

ولقد ارسلنا الی ثمود اخاھم صالحا ان اعبدوا اللّٰہ . کوئی شک نہیں کہ ہم نے ثمود کے پاس ان کے بھائی صالح کو (یہ حکم دے کر) بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو۔ یعنی صرف اللہ کی عبادت کرو۔ فاذاھم فریقین یختصمون . سو اچانک ان کے دو فریق ہوگئے جو (دین کے معاملہ میں) باہم جھگڑنے لگے۔ یعنی ایک فریق کافروں کا دوسرا فریق مؤمنوں کا ہوگیا۔ سورة اعراف میں انہی دو فریقوں کے متعلق فرمایا ہے۔ قَالَ الَّذِیْن اسْتَکْبَرُوْا مِنْ قَوْمِہٖ لِلَّذِیْنَ اسْتَضْعِفُوْا سے اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ تک۔
Ayah 27:46

قَالَ یٰقَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ١ۚ لَوْ لَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 27:46 in the Quran reader

صالح نے کہا کہ بھائیو تم بھلائی سے پہلے برائی کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو (اور) خدا سے بخشش کیوں نہیں مانگتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے

قال یقوم لم تستعجلون بالسیءۃ قبل الحسنۃ . صالح نے کہا : اے بھائیو ! تم نیک کام (یعنی توبہ و ایمان) سے پہلے برائی (یعنی عذاب) کو کیوں جلدی مانگتے ہو۔ اَلسَّیِّءَۃِ سے مراد عذاب یعنی جلد عذاب آنے کے طلب گار ہوتے ہو۔ قوم ثمود نے کہا : یَا صَالِحُ اِءُتِنَا بِمَا تَعِدُنَا اِنْ کُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلَِیْنَ اے صالح ! اگر تو پیغمروں میں سے ہے تو وہ عذاب ہم پر لے آ جس کی دھمکیاں تو ہم کو دے رہا ہے۔ اَلْحَسَنَۃِ سے مراد ہے توبہ یعنی نزول عذاب کے وقت پر ٹال رہے ہو۔ استفہام انکاری یا زجری ہے۔ تم کو ایسا نہ کرنا چاہئے۔ تَوْلَا تَسْتَغْفِرُوْنَ اللّٰہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ . نزول عذاب سے پہلے کفر سے توبہ کر کے) اللہ سے معافی کے طلب گار کیوں نہیں ہوتے کہ تم پر رحم کیا جائے (اور تمہاری توبہ کو قبول کرلیا جائے جب عذاب آنکھوں کے سامنے آجائے گا تو پھر توبہ قبول نہ ہوگی) ۔
Ayah 27:47

قَالُوا اطَّیَّرْنَا بِكَ وَ بِمَنْ مَّعَكَ١ؕ قَالَ طٰٓئِرُكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تُفْتَنُوْنَ Open ayah 27:47 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کہ تم اور تمہارے ساتھی ہمارے لئے شگون بد ہے۔ صالح نے کہا کہ تمہاری بدشگونی خدا کی طرف سے ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جن کی آزمائش کی جاتی ہے

قالو اطیرنا بک وبمن معک . کہنے لگے : ہم تو تم کو اور تمہارے ساتھ والوں کو منحوس سمجھتے ہیں۔ یعنی تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو ہم منحوس سمجھتے ہیں۔ تم لوگ منحوس ہو کہ جب سے تم نے یہ نیا مذہب نکالا ہے ہمارے اندر پھوٹ پڑگئی ہے۔ ہم پر پیہم مصائب کا نزول ہونے لگا ‘ ہم بارش سے محروم ہو کر قحط میں مبتلا ہوگئے۔ یہ سارے دکھ اور تکلیفیں تمہارے اور تمہارے ساتھیوں کی نحوست کی وجہ سے ہیں۔ قال طئرکم عند اللّٰہ . صالح نے کہا : تمہاری نحوست کا سبب اللہ کے علم میں ہے۔ طائر نحوست۔ مراد نحوست کا سبب جس کی وجہ سے خرابیاں آئیں۔ بس اللہ کا حکم ہے یا تمہاری بداعمالیاں ہیں جو اللہ کے پاس لکھی ہوئی ہیں۔ قضاء خداوندی سے زیادہ تیزی کے ساتھ پہنچنے والی کوئی چیز نہیں ‘ اسی سرعت نزول کی وجہ سے اس کو طائر قرار دیا۔ لاشئ اسرع من قضاء محتوم قضاء قطعی سے زیادہ تیز کوئی چیز نہیں اور چونکہ انسانی اعمال آسمان کی طرف بہت تیزی کے ساتھ چڑھتے ہیں اس لئے ان کو بھی طائر کہا جاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : طَاءِرُکُمْ عِنْدَاللّٰہِ کا یہ مطلب ہے کہ تم پر یہ نحوست تمہاری کفر کے سبب اللہ کی طرف سے ہے۔ بعض اہل علم نے کہا : نحوست کو طاہر کہنے کی یہ وجہ ہے کہ سفر کے وقت پرندوں کے ایکخاص رفتار سے گزرنے اور آواز نکالنے کو عرب برا شگون سمجھتے تھے اسی عقیدہ کی بنا پر لفظ طائر سے بطور استعارہ نحوست مراد لی جاتی تھی۔ بل انتم قم تفتنون . بلکہ تم وہ لوگ ہو جو (اپنے کفر کی وجہ سے) عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ یہ کلام سابق کے مفہوم سے اعراض ہے یعنی میری اور میرے ساتھیوں کی وجہ سے یہ مصائب تم پر نہیں ہیں بلکہ تمہارے کفر کی وجہ سے تم پر یہ عذاب آ رہا ہے (یا عذاب آئے گا) حضرت ابن عباس ؓ نے (اس جگہ فتنہ کا معنی جانچ اور امتحان کیا ہے اور) فرمایا : بلکہ بھلائی اور برائی (دکھ اور سکھ) دے کر تمہاری آزمائش کی جا رہی ہے۔ اسی مفہوم کو دوسری آیت میں اس طرح ادا کیا ہے : وَنَبْلُوْھُمْ بِّالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتُنَۃً ہم دکھ سکھ دے کر ان کی پختہ آزمائش کرتے ہیں۔
Ayah 27:48

وَ كَانَ فِی الْمَدِیْنَةِ تِسْعَةُ رَهْطٍ یُّفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ وَ لَا یُصْلِحُوْنَ Open ayah 27:48 in the Quran reader

اور شہر میں نو شخص تھے جو ملک میں فساد کیا کرتے تھے اور اصلاح سے کام نہیں لیتے تھے

وکان فی المدینۃ تسعۃ رھط . اور (ثمود کے) شہر (یعنی حجر) میں نو آدمیوں کی ایک ٹولی تھی۔ رہط تین یا سات سے دس تک کی جماعت جیسے نفر تین سے نو تک کی جماعت کو کہتے ہیں۔ یفسدون فی الارض ولا یصلحون . جو اس سرزمین میں فساد برپا کرتے اور اصلاح (حالات ذرا) نہیں کرتے تھے۔ یعنی ان کا کام خالص تباہی مچانا اور تخریب کرنا تھا جس میں اصلاح و درستگی کا شائبہ بھی نہ تھا۔ یہ لوگ قوم صالح ( علیہ السلام) کے سرداروں کے لڑکے تھے ‘ سب نے اونٹنی کا قتل کرنے پر اتفاق رائے کرلیا تھا ‘ یہ سب سے بڑے غنڈے اور سنگدل تھے ‘ ان سب میں قذار بن سالف شقی ترین شخص تھا۔
Ayah 27:49

قَالُوْا تَقَاسَمُوْا بِاللّٰهِ لَنُبَیِّتَنَّهٗ وَ اَهْلَهٗ ثُمَّ لَنَقُوْلَنَّ لِوَلِیِّهٖ مَا شَهِدْنَا مَهْلِكَ اَهْلِهٖ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 27:49 in the Quran reader

کہنے لگے کہ خدا کی قسم کھاؤ کہ ہم رات کو اس پر اور اس کے گھر والوں پر شب خون ماریں گے پھر اس کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم تو صالح کے گھر والوں کے موقع ہلاکت پر گئے ہی نہیں اور ہم سچ کہتے ہیں

قالو تقاسموا باللّٰہ لنبیتنہ واھلہ ثم لنقولن لولیہ ماشھدنا مھلک اھلہ وانا لصدقون انہوں نے کہا : سب مل کر آپس میں قسمیں کھاؤ کہ ہم رات کے وقت حملہ کر کے صالح ( علیہ السلام) اور اس کے متعلقین کو قتل کردیں گے ‘ پھر ان کے وارث سے کہہ دیں گے کہ ہم ان کے متعلقین کے مارے جانے میں (یا مارنے جانے کے مقام پر) موجود بھی نہ تھے اور ہم بالکل سچے ہیں۔ قَالُوْا یعنی ایک نے دوسرے سے کہا تَقَاسَمُوْا (بصیغہ امر) باہم قسمیں کھالو۔ اس وقت یہ لفظ قالُوْا کا مقولہ (یعنی مفعول) ہوگا لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ ماضی کا صیغہ ہوگا۔ اس وقت ترجمہ یوں ہوگا کہ انہوں نے کہا : اللہ کی قسمیں کھا لیں۔ لَنُبَیِّتَنَّہٗ ہم صالح کو رات کے وقت ضرور قتل کردیں گے۔ اَھْلَہٗ اس کے آدمیوں کو یعنی جو لوگ اس پر ایمان لائے ہیں (اور ساتھی ہوئے ہیں) ان کو بھی قتل کردیں گے۔ لِوَلِیِّہٖ یعنی انتقام کا وارث ‘ ولی دم مَھْلِکَ اَہْلِہٖ ‘ مَھْلِکَ ہلاک سے ظرف زماں یا مکان ہے یا مصدر ہے ہلاک ہونے کے وقت یا مرنے کی جگہ یا ہلاک ہونے میں۔ مطلب یہ کہ ہم صرف صالح ( علیہ السلام) کے متعلقین کے ہلاک ہونے کو قت وہاں موجد بھی نہ تھے بلکہ صالح ( علیہ السلام) کے اور اس کے ساتھیوں کے ہلاک ہونے کے مقام و وقت پر بھی موجود نہ تھے۔ عرب کہتے ہیں : مَارَایْتُ ثُمَّ رَجْلا بَلْ رَجُلَیْنِ میں نے وہاں ایک آدمی کو نہیں دیکھا بلکہ دو کو نہیں دیکھا۔
Ayah 27:50

وَ مَكَرُوْا مَكْرًا وَّ مَكَرْنَا مَكْرًا وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 27:50 in the Quran reader

اور وہ ایک چال چلے اور ان کو کچھ خبر نہ ہوئی

ومکروا مکرا ومکرنا وھم لا یشعرون۔ اور (یہ مشورہ کر کے) انہوں نے ایک خفیہ داؤ کیا اور ایک پوشیدہ تدبیر ہم نے کی اور اس تدبیر کی ان کو خبر بھی نہ ہوئی۔
Ayah 27:51

فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ مَكْرِهِمْ١ۙ اَنَّا دَمَّرْنٰهُمْ وَ قَوْمَهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 27:51 in the Quran reader

تو دیکھ لو ان کی چال کا کیسا انجام ہوا۔ ہم نے ان کو اور ان کی قوم سب کو ہلاک کر ڈالا

فانظر کیف کان عاقبۃ مکرھم انا دمرنھم وقومھم اجمعین . سو دیکھ لو ان کے داؤ کا کی انجام ہوا کہ ہم نے ان کو اور ان کی قوم کو سب کو (آسمانی عذاب بھیج کر) تباہ کردیا۔ مَکَرُوْا مَکُرًا یعنی انہوں نے غداری کی کہ شب خون مار کر صالح ( علیہ السلام) کو قتل کر ڈالنے کا باہم مشورہ طے کرلیا۔ وَمَکَرْنَا مَکْرًا یعنی ہم نے بھی ان کو ہلاک کرنے کا سبب اسی بات کو بنا دیا۔ کَیْفَ کَانَمیں استفہام تعجبی ہے۔ تعجب کے ساتھ ان کے انجام پر نظر کرو۔ اَنَّا دَمَّرْنَاھُمْ کہ ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔ ان نو آدمیوں کو ہلاک کس طرح کیا گیا اس کے متعلق روایات میں اختلاف ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : اللہ نے فرشتوں کو صالح ( علیہ السلام) کے مکان کی حفاظت کے لئے بھیج دیا۔ جب ان نو آدمیوں نے تلواریں سونت کر صالح کے گھر پر چڑھائی کی تو فرشتوں نے ان پر پتھر برسائے۔ پتھر تو ان کو دکھتے تھے اور پتھر مارنے والا کوئی نظر نہ آتا تھا آخر سب وہیں ڈھیر ہوگئے۔ مقاتل نے کہا : ایک پہاڑ کے دامن میں اکٹھے ہونے کے لئے بیٹھے تاکہ سب مل کر صالح ( علیہ السلام) کے مکان پر پہنچیں لیکن اللہ نے وہ پہاڑی ان پر گرا دی اور سب مرگئے۔ عبدالرزاق ‘ عبد بن حمید ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے ایک چٹان سے ان کو ہلاک کردیا ‘ ایک چٹان نے ان کو آلیا۔ وَقَوْمَھُمْ اور ان کی قوم والوں کو بھی اللہ نے ہلاک کردیا۔ ایک چیخ غیبی آئی جس سے سب جہاں تہاں تھے وہیں مر کے رہ گئے۔
Ayah 27:52

فَتِلْكَ بُیُوْتُهُمْ خَاوِیَةًۢ بِمَا ظَلَمُوْا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 27:52 in the Quran reader

اب یہ ان کے گھر ان کے ظلم کے سبب خالی پڑے ہیں۔ جو لوگ دانش رکھتے ہیں، ان کے لئے اس میں نشانی ہے

فتلک بیوتھم خاویۃ بما ظلموا . سو ان کے ظلم (یعنی کفر اور برے کرتوت) کی وجہ سے یہ ان کے مکان کھنڈر پڑے ہیں۔ یا خالی ویران پڑے ہیں یا ڈھے پڑے ہیں۔ خَوی البَطْنُ پیٹ خالی ہوگیا۔ خوی النجم ستارہ گرگیا ۔ ان فی ذلک لایہ لقوم یعلمون . بلاشبہ دانشمندوں کے لئے اس (واقعہ) میں (اللہ کی قدرت اور پیغمبروں کی صداقت کی) بڑی نشانی ہے (یعنی جو لوگ علم والے ہوں اور اس سے عبرت حاصل کریں ان کے لئے پیغمبروں کی سچائی کی کھلی ہوئی دلیل ہے) ۔
Ayah 27:53

وَ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ كَانُوْا یَتَّقُوْنَ Open ayah 27:53 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور ڈرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی

وانجینا الذین امنوا وکانو یتقون . اور ہم نے ان لوگوں کو بچا لیا جو ایمان لے آئے تھے اور (نافرمانی سے) بچتے تھے۔ یعنی کفر و معصیت سے پرہیزرکھتے تھے۔ اس سے مراد ہیں حضرت صالح ( علیہ السلام) اور آپ کے چار ہزار مومن ساتھی۔
Ayah 27:54

وَ لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖۤ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ وَ اَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ Open ayah 27:54 in the Quran reader

اور لوط کو (یاد کرو) جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم بےحیائی (کے کام) کیوں کرتے ہو اور تم دیکھتے ہو

وطوطا اذ قال لقومہ اتاتون الفاحشۃ وانتم تبصرون . اور ہم نے لوط کو بھیجا جب کہ انہوں نے اپنی قوم سے کہا : کیا تم بےحیائی کا کام کرتے ہو حالانکہ تم سمجھدار ہو۔ وَلُوْطًا اس کا عطف وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا اِلٰی ثَمُوْدَ پر ہے یعنی ہم نے لوط کو بھیجا یا اذکُرْ محذوف ہے یعنی لوط کا واقعہ یاد کرو۔ اَلْفَاحِشَۃَ انتہائی برا کام ‘ اَتَاْتُوْنَ میں استفہام انکاری اور زجری ہے۔ وَاَنْتُمْ تُبْصِرُوْنَ حالانکہ تم اس کی خرابی کو جانتے ہو۔ جو کسی کام کی برائی سے واقف ہو اور پھر اس کام کو کرے تو اس کا یہ عمل انتہائی قبیح ہوگا۔ (مطلب یہ کہ دیدہ دانستہ تم انتہائی بےحیائی کا کام کرتے ہو) یا یہ مطلب ہے کہ بےحیائی کا کام تم ایک دوسرے کی نظروں کے سامنے (بلاجھجک) کرتے ہو۔ ان لوگوں کا یہ طریقہ تھا کہ لوگوں کی موجودگی میں سب کے سامنے ایسے برے کام کرتے تھے۔ یا یہ مطلب ہے کہ گزشتہ نافرمان قوموں کے نشانات و آثار تباہی تمہاری نظروں کے سامنے ہیں پھر بھی یہ حرکت کرتے ہو۔
Ayah 27:55

اَئِنَّكُمْ لَتَاْتُوْنَ الرِّجَالَ شَهْوَةً مِّنْ دُوْنِ النِّسَآءِ١ؕ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْهَلُوْنَ Open ayah 27:55 in the Quran reader

کیا تم عورتوں کو چھوڑ کر (لذت حاصل کرنے) کے لئے مردوں کی طرف مائل ہوتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ تم احمق لوگ ہو

ائنکم لتاتون الرجان شھوۃ من دون النساء بل انتم قوم تجھلون . کیا تم شہوت کے ساتھ مردوں پر چڑھتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر (اس کی وجہ کوئی نہیں) بلکہ (اس معاملہ میں تم بالکل جاہل لوگ ہو) محض جہالت کرتے ہو۔ یہ قوم لوط کی بدکاری کا بیان ہے کہ شہوت رانی کے لئے مردوں پر آتے ہیں عورتوں کو چھوڑ کر حالانکہ عورتیں اس کام کے لئے پیدا کی گئی ہیں۔ آیت میں اس امر پر تنبیہ بھی ہے کہ جماع کا اصل مقصد ہے طلب نسل ‘ محض تقاضاء شہوت پورا کرنا مقصود نہیں ہے (کہ جہاں چاہا بےمحل اس عمل کرلیا) ۔ بَلْ اَنْتُمْ قَوْمٌ تَجْھَلُوْنَ یعنی یہ حرکت اس شخص کی طرح کرتے ہو جو اس کی برائی سے ناواقف ہو یا سبک سر بیوقوف ہو ‘ جو اچھے برے کا امتیاز نہ رکھتا ہو یا تم اس کے انجام سے ناواقف لوگ ہو۔ یہ آیات دلالت کر رہی ہیں کہ اشیاء کا حسن و قبح (محض شرعی نہیں ہے بلکہ) واقعی اور نفس الامری چیز ہے اگرچہ بعض چیزوں کے اچھے برے ہونے کا علم شریعت پر موقوف ہے۔ 1 ؂
Ayah 27:56

فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْۤا اَخْرِجُوْۤا اٰلَ لُوْطٍ مِّنْ قَرْیَتِكُمْ١ۚ اِنَّهُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَهَّرُوْنَ Open ayah 27:56 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے لوگ (بولے تو) یہ بولے اور اس کے سوا ان کا کچھ جواب نہ تھا کہ لوط کے گھر والوں کو اپنے شہر سے نکال دو۔ یہ لوگ پاک رہنا چاہتے ہیں

فما کان جواب قومہ الا ان قالو اخرجو ال لوط من قریتکم انہم اناس یتطھرون . سو (اس تقریر کا) ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا بجز اسکے کہ انہوں نے (آپس میں) کہا : لوط کا ساتھ دینے والوں کو (بھی) اپنی بستی سے نکال باہر کر دو ‘ یہ لوگ بڑے پاک بنتے ہیں۔ یَتَطَھَّرُوْنَ یعنی ہمارے افعال سے یا گندگیوں سے پاک صاف بنتے ہیں۔
Ayah 27:57

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗۤ اِلَّا امْرَاَتَهٗ١٘ قَدَّرْنٰهَا مِنَ الْغٰبِرِیْنَ Open ayah 27:57 in the Quran reader

تو ہم نے ان کو اور ان کے گھر والوں کو نجات دی۔ مگر ان کی بیوی کہ اس کی نسبت ہم نے مقرر کر رکھا ہے (کہ وہ پیچھے رہنے والوں میں ہوگی)

فانجینہ واھلہ الا امراتہ قدرنھا من الغبرین . سو ہم نے لوط کو اور اس کے لوگوں کو بچا لیا بجز اسکی بیوی کے کہ (اسکے ایمان نہ لانے کی وجہ سے) ہم نے اسکو ان ہی لوگوں میں تجویز کر رکھا تھا جو (عذاب میں) رہ جانے والے تھے۔
Ayah 27:58

وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهِمْ مَّطَرًا١ۚ فَسَآءَ مَطَرُ الْمُنْذَرِیْنَ۠ Open ayah 27:58 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر مینھہ برسایا سو (جو) مینھہ ان لوگوں پر برسا جن کو متنبہ کردیا گیا تھا، برا تھا

وامطرنا علیھم مطرا فساء مطر المنذرین . اور ہم نے ان لوگوں پر ایک نئی قسم کا مینہ برسایا (یعنی کنکروں کی بارش کی) پس ان لوگوں پر جن کو (عذاب سے پہلے ہی) ڈرایا گیا تھا برا مینہ برسا (اس طرح وہ سرزمین بدکار کافروں کی آلائش سے پاک کردی گئی) ۔
Ayah 27:59

قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰى١ؕ آٰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:59 in the Quran reader

کہہ دو کہ سب تعریف خدا ہی کو سزاوار ہے اور اس کے بندوں پر سلام ہے جن کو اس نے منتخب فرمایا۔ بھلا خدا بہتر ہے یا وہ جن کو یہ (اس کا شریک) ٹھہراتے ہیں

قل الحمد للّٰہ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی . (اے محمد ﷺ ! ) آپ (بیان توحید کے لئے بطور غلبہ کے) کہہ دیجئے کہ تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے سزاوار ہیں اور اس کے ان بندوں پر سلامتی ہو جن کو اس نے منتخب فرمایا ہے۔ مذکورہ بالا تمام انبیاء اور ان کی امتوں کے احوال جب اللہ نے بیان کر دئیے جن سے اللہ کی قدرت قاہرہ اور عظمت ظاہرہ ثابت ہو رہی ہے اور انبیاء کو جن معجزات و اعزازات سے نوازا تھا ان کا بھی اظہار ہوگیا تو آخر میں اخص طور پر اپنے رسول کو خطاب کر کے اللہ کی ستائش کرنے کا حکم دیا کہ اس سے سابق امتوں میں سے کافروں کو غارت کردیا اور انبیاء کو نعمتوں سے سرفراز کیا اور رسول اللہ ﷺ کو ان کے احوال پر مطلع فرمایا پھر ان نیک بندوں کے لئے دعاء سلامتی کا بھی حکم دیا جن کو اللہ نے منتخب فرمایا تاکہ رسول اللہ ﷺ کی تعریف سے ان کے فضائل اور دینی سعی و عمل کا اعتراف ہوجائے۔ مقاتل نے کہا : اَلَّذِیْنَ اصْطَفٰی سے مراد انبیا ومرسلین ہیں کیونکہ انہی کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : وَسَلاَمٌ عَلَی الْمُرْسَلِیْنَ ۔ بروایت امام مالک حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ اس سے مراد صحابہ کرام ہیں۔ سفیان ثوری کا بھی یہی قول ہے۔ کلبی نے کہا : ساری امت محمدیہ مراد ہے کیونکہ اللہ نے ساری امت کے لئے فرمایا یہ : ثُمَّ اَوْرَثْنَا الْکِتَابَ الَّذِیْنَ اصْطَفَیْنَا مِنْ عِبَادِنَا فَمِنْھُمْ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ الخ بعض نے کہا : گزشتہ اور آئندہ سب مومن مراد ہیں۔ بعض اہل تفسیر کا خیال ہے کہ یہ حضرت لوط ( علیہ السلام) کے قصہ کا تتمہ ہے اور قُلْ سے خطاب حضرت لوط ( علیہ السلام) ہی کو ہے ‘ اس سے پہلے قُلْنَا محذوف ہے یعنی ہم نے لوط کو حکم دیا کہ تم اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ کہو اور اللہ کا شکر کرو کہ اس نے کافروں کو غارت کردیا اور ان لوگوں کے لئے دعاء سلامتی کرو جن کو فواحش اور ہلاکت سے محفوظ فرما لیا یا یہ مطلب ہے کہ محمد ﷺ اور امت محمد ﷺ کے لئے دعاء سلامتی کرو کیونکہ انبیاء اور ان کی امتوں کو جن آفتوں سے اللہ نے بچایا اور عزت و کرامت عطا فرمائی وہ سب کچھ نور محمدی ﷺ کی برکت سے ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں (آغاز) آفرینش کے لحاظ سے سب سے پہلا ہوں اور بعثت کے اعتبار سے سب کے بعد۔ رواہ سعد عن قتادہ مرسلا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میں (اس وقت) نبی تھا جب کہ آدم ( علیہ السلام) روح و جسم کے درمیان تھے (یعنی حضرت آدم ( علیہ السلام) کے بدن میں روح بھی نہ پڑی تھی) رواہ ابن سعد بسند صحیح عن میسرہ بن سعد ؓ عن ابی لجدعاء رواہ الطبرانی عن ابن عباس ؓ ۔ ء اللّٰہ خیر اما یشرکون . کیا اللہ بہتر ہے یا وہ چیزیں جن کو وہ اللہ کا ساجھی قرار دیتے ہیں۔ اس آیت کا تعلق ابتداء سورت کی آیت اِنَّ الَّذِیْنَ لاَ یُؤمِنُوْنَ بالْاٰخِرَۃِ ۔۔ ھُمْ الْاَخْسَرُوْنَ سے ہے۔ اس آیت میں درحقیقت مشرکوں کی حماقت اور سب سری کا اظہار ہے۔ جب انبیاء اور ان کی امتوں کے قصے بیان کر دئیے جن سے ثابت ہو رہا ہے کہ اللہ کو اپنے نیک بندوں کی عزت افزائی اور دشمنوں کو ذلیل کرنے کی قدرت کاملہ حاصل ہے اور کوئی اس کی قدرت سے سرتابی نہیں کرسکتا تو اب فرمایا کہ ایسا رب قادر عبادت کے قابل اور مرکز خوف و رجا ہونے کا مستحق ہے یا وہ عاجز بےبس بت وغیرہ جو نہ نفع پہنچانے کی قدرت رکھتے ہیں نہ ضرر پہنچانے کی طاقت بلکہ ان کا ضرر نفع سے زیادہ قریب ہے۔
Ayah 27:60

اَمَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ اَنْزَلَ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَنْۢبَتْنَا بِهٖ حَدَآئِقَ ذَاتَ بَهْجَةٍ١ۚ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُنْۢبِتُوْا شَجَرَهَا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ هُمْ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَؕ Open ayah 27:60 in the Quran reader

بھلا کس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور (کس نے) تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا۔ (ہم نے) پھر ہم ہی نے اس سے سرسبز باغ اُگائے۔ تمہارا کام تو نہ تھا کہ تم اُن کے درختوں کو اگاتے۔ تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور بھی معبود ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ یہ لوگ رستے سے الگ ہو رہے ہیں

امن خلق السموت والارض . یا وہ ذات بہتر ہے جس نے آسمانوں کو اور زمین کو بنایا۔ ا م متصلہ ہے اور معطوف علیہ محذوف ہے۔ پورا کلام اس طرح تھا : کیا تمہارے معبود بہتر ہیں جنہوں نے کچھ پیدا نہیں کیا یا وہ اللہ بہتر ہے جس نے آسمان و زمین پیدا کئے۔ بعض مفسرین کے نزدیک ا م منقطہ ہے اور بمعنی بل کے ہے اور ہمزہ سابق استفہام سے اعراض کے لئے ہے کیونکہ یہ بات بالکل کھلی ہوئی ہے کہ اللہ ہی ہر خیر کا مبدہ ہے اور دوسرے معبودوں میں کہیں خیر کا پتہ بھی نہیں ہے۔ پھر استفہام کی صورت میں دونوں میں برابری کرنا اور سوال میں موازنہ کرنا کسی طرح زیبا نہیں اس لئے سابق استفہام سے اعراض کیا ‘ اس صورت میں یہ استفہام تقریری ہوگا یعنی تاکید ہوگی اس بات کی کہ جس نے آسمان و زمین بنائے وہی بہتر ہے۔ وانزل لکم من السمآء مآء فانبتنا بہ حدآئق ذات بھجۃ ما کان لکم ان تنبتوا شجرھا اور اس نے تمہارے فائدہ کے لئے اوپر سے پانی اتارا پھر پانی سے ہم نے پررونق باغات لگائے کہ تم ان کے درخت نہیں لگا سکتے تھے۔ حدائق ‘ حدیقۃ کی جمع ہے۔ باغات فراء نے کہا : حدیقہ اس بات کو کہتے ہیں جس کی بونڈری (احاطہ) بھی ہو ‘ اگر احاطہ نہ ہو تو اس کو حدیقہ نہیں کہا جاتا۔ بیضاوی نے لکھا ہے : حدیقہ کا لفظ احداق سے بنا ہے اور احداق کا معنی ہے احاطہ۔ ذات بھجۃ خوبصورت جس کے دیکھنے سے شگفتگی طبع پیدا ہو۔ فانبتنابہ میں صنعت التفات سے پہلے اپنی ذات کو بصیغۂ غائب ذکر کیا تھا پھر صیغۂ متکلم کی طرف انتقال کیا اور اس لئے کیا کہ سننے والے متنبہ ہوجائیں اور ان کو دماغ کی بیداری کے ساتھ یہ بات معلوم ہوجائے کہ تمام درختوں کا مادہ ایک جیسا ہے پھر ہر درخت کی طبیعت دوسرے کی طبیعت سے جدا اور ایک کی نوع دوسرے کی نوع سے مختلف ‘ پھر ان سب مختلف النواع اور متباعد الطبائع درختوں کو اکھٹا کر کے شاداب ‘ ترو تازہ اور پررونق باغ بنانا ‘ سوائے اللہ کے اور کسی کا کام نہیں ‘ تم ایک درخت بھی نہیں پیدا کرسکتے۔ شَجَرَھَا یعنی کوئی درخت ان کے درختوں میں سے نہیں پیدا کرسکتے۔ ء الہ مع اللہ بل ھم قوم یعدلون . کیا اللہ کی موجودگی میں کوئی دوسرا بھی معبود ہوسکتا ہے بلکہ یہ ایسے لوگ ہیں جو (استحقاق عبادات میں غیر مستحقوں کو اللہ کے) برابر قرار دیتے ہیں۔ اسفہام انکاری ہے یعنی کوئی بھی معبود ایسا نہیں کہ استحقاق عبادت رکھتا ہو سوائے اللہ کے کیونکہ اللہ ہی خالق تنہا ہے۔ قَوْمٌ یَّعْدِلُوْنَ یعنی جو خالق نہیں ان کو کفار مکہ خالق کے برابر قرار دیتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ توحید سے اعراض کرتے ہیں ‘ حق سے پھر رہے ہیں۔
Ayah 27:61

اَمَّنْ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ جَعَلَ خِلٰلَهَاۤ اَنْهٰرًا وَّ جَعَلَ لَهَا رَوَاسِیَ وَ جَعَلَ بَیْنَ الْبَحْرَیْنِ حَاجِزًا١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَؕ Open ayah 27:61 in the Quran reader

بھلا کس نے زمین کو قرار گاہ بنایا اور اس کے بیچ نہریں بنائیں اور اس کے لئے پہاڑ بنائے اور (کس نے) دو دریاؤں کے بیچ اوٹ بنائی (یہ سب کچھ خدا نے بنایا) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) بلکہ ان میں اکثر دانش نہیں رکھتے

امن جعل الارض قرارا وجعل خللھا انھرا وجعل لھا رواسی وجعل بین البحرین حاجزاء الہ مع اللہ بل اکثرھم لا یعلمون . یا وہ ذات جس نے زمین کو مخلوق کی قرار گاہ بنایا اور اس کے درمیان دریائے بنائے اور اس (کو ٹھہرنے) کے لئے پہاڑ بنائے اور دو سمندروں کے درمیان ایک حد فاصل بنا دی۔ کیا اللہ کی موجودگی میں کوئی اور معبود ہے ؟ (مگر مشرکین نہیں مانتے) بلکہ ان میں سے اکثر سمجھتے بھی نہیں۔ جَعَلَ الْاَرْضَ قَرَارًا یعنی زمین کے کچھ حصہ کو پانی سے ابھار کر رہنے اور ٹھہرنے کے قابل بنا دیا۔ وَجَعَلَ خِلٰلَھَآ انھرا یعنی زمین کے درمیان دریا جاری کئے۔ وَجَعَلَ لَھَا رَوَاسِیَ اور زمین کے لئے پہاڑوں کو (میخوں کی طرح) گاڑ دیا کہ زمین میں (اضطرابی) حرکت نہ ہونے دیں اور پہاڑوں سے دریا نکالے۔ اَلْبَحْرَیْنَ دو سمندر شریں اور نمکین۔ حاجزًا آڑ ‘ دونوں کو مخلوط ہونے سے روکنے والی۔ ء الہ مع اللہ استفہام انکاری ہے یعنی نہیں ہے۔ بَلْ اَکْثَرُھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ یعنی ان میں سے اکثر لوگ نہیں جانتے کہ اللہ کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں کیونکہ باوجود قطعی دلائل توحید کے موجود ہونے کے یہ غور ہی نہیں کرتے ‘ اس لئے شرک میں مبتلا ہوتے ہیں اور بعض لوگ جانتے ہیں مگر محض ضد اور ہٹ دھری کی وجہ سے شرک کو نہیں چھوڑتے۔
Ayah 27:62

اَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ اِذَا دَعَاهُ وَ یَكْشِفُ السُّوْٓءَ وَ یَجْعَلُكُمْ خُلَفَآءَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 27:62 in the Quran reader

بھلا کون بیقرار کی التجا قبول کرتا ہے۔ جب وہ اس سے دعا کرتا ہے اور (کون اس کی) تکلیف کو دور کرتا ہے اور (کون) تم کو زمین میں (اگلوں کا) جانشین بناتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں مگر) تم بہت کم غور کرتے ہو

امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوٓ . یا کون ہے ایسا کہ جب کوئی بےقرار اس کو پکارتا ہے تو وہ اس کی دعا قبول کرتا ہے اور مصیبت کو دور کردیتا ہے۔ یعنی اللہ کے سوا کوئی ایسا نہیں۔ اِضْطِرَار (باب افتعال) ضر سے بنا ہے۔ مُضْطَرٌّ یعنی وہ شخص جو ایسے دکھ میں مبتلا ہوگیا ہو جس سے مجبور ہو کر بےقراری کے ساتھ وہ اللہ کی طرف رخ کرتا اور اس سے پناہ کا خواستگار ہوتا ہے۔ اَلْمُضْطَرَّ میں الف لام جنسی ہے ‘ استغراق کے لئے نہیں ہے اس لئے ہر دعا کرنے والے کی ہر دعا قبول کرنا ضروری نہیں۔ ویجعلم خلفاء الارض . اور تم کو زمین کے وارث بناتا ہے۔ یعنی اسلاف کے جانشین اخلاف ہوتے ہیں۔ زمین کے وارث بنانے کا مطلب ہے زمین پر رہنے ‘ زمین میں تصرف کرنے یا زمین پر تسلط جمانے کا اختیار دینا۔ بعض اہل علم نے کہا : انسانوں کو اللہ نے زمین پر جنات کا جانشین کردیا۔ میں کہتا ہوں : یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ نے زمین پر تم میں سے کچھ آدمیوں کو اپنا نائب بنایا۔ یہی مضمون آیت اِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً کا ہے۔ ء الہ مع اللہ قلیلا ما تذکرون . کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ (مگر تم لوگ) بہت ہی کم یاد رکھتے ہو۔ یعنی یہ خصوصی اور عمومی نعمتیں عطا کرنے والا تو اللہ ہی ہے اس لئے اس کے سوا کوئی بھی معبود نہیں۔ قَلِیْلاً مَّا میں مَا زائد ہے اور قلت سے مراد عدم ہے یعنی نہیں رکھتے یا قلت سے مراد (تعداد کی کمی نہیں بلکہ مرتبہ کی کمی مراد) حقارت ہے اور حقارت بھی اتنی زیادہ کہ فائدہ ہی فوت ہوجائے۔ امن یھدیکم فی ظلمت البر والبحر ومن یرسل الریح بشرا بین یدی رحمتہء الہ مع اللہ تعلی اللہ عما یشرکون . (یہ بت بہتر ہیں) یا وہ خدا جو تم کو خشکی یا دریاؤں کی تاریکیوں میں راہ سوجھاتا ہے اور جو ہواؤں کو اپنی رحمت یعنی بارش کو نازل کرنے سے بھیجتا ہے جو (بارش کی امید دلا کر دلوں) کو خوش کردیتی ہے۔ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ اللہ ان کے شرک سے بالا و برتر ہے۔
Ayah 27:63

اَمَّنْ یَّهْدِیْكُمْ فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ مَنْ یُّرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ تَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ Open ayah 27:63 in the Quran reader

بھلا کون تم کو جنگل اور دریا کے اندھیروں میں رستہ بناتا ہے اور (کون) ہواؤں کو اپنی رحمت کے آگے خوشخبری بناکر بھیجتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے؟ (ہرگز نہیں) ۔ یہ لوگ جو شرک کرتے ہیں خدا (کی شان) اس سے بلند ہے

اَمَّنْ یَّھْدِیْکُمْ یعنی جب تم رات کو سفر کرتے ہو تو خشکی اور سمندر میں ہونے والی تاریکیوں میں ستاروں اور زمین کے نشانہائے راہ کے ذریعہ کون تم کو راہ دکھاتا اور سوجھاتا ہے۔ رَحْمَۃ میں رحمت سے مراد بارش ہے۔ تَعَالَی اللہ یعنی وہ اللہ جو قادر و خالق ہے ‘ ان کافروں کے شرک سے پاک و برتر ہے۔ یہ جو عاجز مخلوق کو عبادت میں اس کا شریک قرار دیتے ہیں ‘ اللہ اس سے بالا ہے۔
Ayah 27:64

اَمَّنْ یَّبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُهٗ وَ مَنْ یَّرْزُقُكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ؕ ءَاِلٰهٌ مَّعَ اللّٰهِ١ؕ قُلْ هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:64 in the Quran reader

بھلا کون خلقت کو پہلی بار پیدا کرتا۔ پھر اس کو بار بار پیدا کرتا رہتا ہے اور (کون) تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے (یہ سب کچھ خدا کرتا ہے) تو کیا خدا کے ساتھ کوئی اور معبود بھی ہے (ہرگز نہیں) کہہ دو کہ (مشرکو) اگر تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو

امن یبدوا الخلق ثم یعیدہ . یا وہ بہتر ہے جو مخلوق کو دنیا میں پہلی بار پیدا کرتا ہے پھر وہی (قیامت کے دن) دوبارہ پیدا کرے گا۔ (پہلی تخلیق تو مسلمہ تھی لیکن) قیامت کے دن دوبارہ پیدا ہونے کے کفار منکر تھے ‘ پر عقلاً اعادۂ تخلیق ناممکن نہیں اور نقلی دلائل سے وجوب اعادہ ثابت ہے۔ نقلی دلائل کے واجب الیقین ہونے پر معجزات کی تائید کافی ہے اس لئے دوبارہ تخلیق بھی ناقابل شک ہے اور یہ یقینی ہے کہ اللہ ہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ ومن یرزقکم من السمائی والارضء الہ مع اللہ قل ہاتوا برھانکم ان کنتم صدقین اور کون آسمان و زمین سے تم کو روزی دیتا ہے ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود ہے ؟ آپ کہہ دیجئے : اگر تم سچے ہو تو اپنی دلیل پیش کرو۔ مِنَ السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ یعنی اسباب سماوی (مثلاً چاند ‘ سورج اور ستاروں کا طلوع و غروب اور بارش وغیرہ) اور اسباب ارضی (مثلاً ہوا ‘ مٹی ‘ پانی وغیرہ) سے۔ ہَاتُوْا بُرْھَانَکُمْ یعنی اس بات کی دلیل پیش کرو کہ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا بھی معبود ہے جو مذکورہ چیزوں پر قدرت رکھتا ہے۔ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ یعنی اگر دوسروں کو عبادت میں شریک قرار دینے میں تم سچے ہو تو دلیل پیش کرو کہ اللہ کے علاوہ دوسرے معبود بھی ان کاموں کی قدرت رکھتے ہیں کیونکہ الوہیت کے لئے کمال قدرت لازم ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مشرکوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تھا : قیامت کب ہوگی ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 27:65

قُلْ لَّا یَعْلَمُ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ اَیَّانَ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 27:65 in the Quran reader

کہہ دو کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کے سوا غیب کی باتیں نہیں جانتے۔ اور نہ یہ جانتے ہیں کہ کب (زندہ کرکے) اٹھائے جائیں گے

قل لا یعلم من فی السموت والارض الغیب الا اللہ . آپ کہہ دیجئے : جو بھی اہل علم آسمانوں اور زمین میں ہیں ‘ کوئی بھی بجز اللہ کے غیب کو نہیں جانتا۔ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰات یعنی فرشتے والْاَرْضِ یعنی جن و انس ‘ جن میں تمام انبیاء بھی شامل ہیں۔ اَلْغَیْبَ غیب سے مراد وہ چیز ہے جو حواس (ظاہری و باطنی) کی رسائی سے باہر ہو یعنی حسی نہ ہو اور نہ اس کے ثبوت پر کوئی عقلی دلیل قائم ہو (یعنی نظری ہونا قابل استدلال ‘ غیر مکن الفکر۔ مترجم) اِلاَّ اللہ یعنی صرف اللہ ہی ان تمام باتوں کو جانتا ہے جو ملائکہ اور جن و انس کے لئے ناممکن الحصول ہیں۔ ہاں اگر اللہ چاہے تو بعض غیب کی باتیں اپنے بندوں کو بتادے ‘ اس طرح اللہ کی عطاء و موہیت سے کچھ غیبی باتیں بندوں کو بھی معلوم ہوجائیں۔ اِلاَّ اللہ میں استثناء منقطع ہے کیونکہ مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں اللہ پہلے سے داخل نہ تھا۔ اللہ کے لئے نہ آسمان مکان بن سکتا ہے نہ زمین۔ اللہ ہر استقرار و تمکن سے پاک ہے۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ استثناء متصل ہے (اور استثناء متصل میں مستثنیٰ منہ کے اندر داخل ہونا چونکہ ضروری ہے اور جگہ اللہ کا مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں داخلہ ممکن نہیں۔ ہم کہیں گے کہ اس جگہ مستثنیٰ منہ میں مستثنیٰ کا داخلہ بفرض محال ہے۔ یعنی بفرض محال اگر مَنْ فِیْ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ میں اللہ کو شامل سمجھ لیا جائے تب بھی اللہ کے سوا کوئی دوسرا زمین و آسمان میں غیب سے واقف نہیں۔ حضرت مفسر نے فرمایا : اِلاَّ اللہ کا مطلب الاَّ بِتَعْلِیْمِ اللہ بھی ہوسکتا ہے یعنی کوئی بھی غیب سے واقف نہیں مگر اللہ کے واقف بنانے سے۔ وما یسعرون ایان یبعثون . اور ان کو پتہ بھی نہیں کہ ان کا حشر کب ہوگا کیونکہ وقت حشرحسی نہیں کہ حواس کے ذریعہ سے اس کا وقت معلوم ہو سکے اور نہ اس کے وقت کی تعیین نظری قابل استدلال ہے اس لئے کسی آسمانی ‘ زمینی مخلوق کے لئے قیامت کا تعیینی علم ممکن نہیں۔ ہاں اگر اللہ کسی کو بتادے تو معلوم ہونا ممکن ہے مگر للہ نے کسی کو قیامت کے تعیین کا علم عطا نہیں فرمایا۔ یہ علم اپنی ذات کے لئے مخصوص رکھا ہے۔
Ayah 27:66

بَلِ ادّٰرَكَ عِلْمُهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ١۫ بَلْ هُمْ فِیْ شَكٍّ مِّنْهَا١۫٘ بَلْ هُمْ مِّنْهَا عَمُوْنَ۠ Open ayah 27:66 in the Quran reader

بلکہ آخرت (کے بارے) میں ان کا علم منتہی ہوچکا ہے بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں۔ بلکہ اس سے اندھے ہو رہے ہیں

بل ادرک علمھم فی الاخرۃ . بلکہ آخرت کے بارے میں ان کا علم (بالوقوع) ہی نیست ہوگیا۔ اِدَّارَکَ اصل میں تَدَارَکَ تھا اور تَدَارَکَ کا معنی ہے تکامل یعنی آخرت کے معاملہ میں ان کا علم تعلیم انبیاء (جتنا ہونا تھا) پورا ہوگیا (اس سے زیادہ ممکن نہیں) یا یہ مطلب ہے کہ آخرت میں جب قیامت کے معائنہ کرلیں گے اس وقت ان کا علم مکمل ہوجائے گا (یہاں تو تعیین وقت کا علم ممکن نہیں) ۔ تَدَارَکَ الفَاکِھۃ پھل بالکل پک گیا۔ عرب کا محاورہ ہے یعنی پکنے کی انتہائی مدت کو پہنچ گیا۔ مؤمنوں کا دنیا میں وقوع قیامت کا علم تو حاصل ہو ہی چکا اور کافروں کے لئے بھی بایں معنی حصول علم قیامت ہوگیا کہ وقت قیامت کا قطعی دلائل سے ثبوت ہوگیا۔ بل ھم فی شک منھا . بلکہ یہ لوگ اس سے شک میں ہیں۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کا قیامت کی خبر دینا علم قیامت کے وجود میں شک ہے ‘ یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ ہَلِ ادَّارَکَ بطور استفہام ہے یعنی کیا ان کو علم قیامت کے معاملہ میں مکمل ہوگیا ہے ؟ ان کو پورا پورا علم حال ہوگیا ہے ‘ ایسا نہیں ہوا۔ علم قیامت ان کو حاصل نہیں ‘ ابھی یہ علم قیامت تک نہیں پہنچ سکے۔ قیامت کا وجود ان کی علمی رسائی سے خارج ہے۔ اس مطلب کی تائید حضرت ابن عباس ؓ کی قرأت سے ہوتی ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی قرأت میں بَلٰی اَدَّارَکَ آیا ہے یعنی بَلْ کی جگہ بَلٰی کلمۂ ایجاب اور اَدَّارَکَ بہمزہ استفہام آیا ہے جس کو وصل کے بعد بَلِ اَدَّارَکَ پڑھا گیا ہے۔ اور حضرت ابی کی قرأت میں اَمُ تَدَارَکَ آیا ہے۔ عرب بَلْ کو اَمْ کی جگہ اور اَمْ کو بَلْ کی جگہ استعمال کرلیتے ہیں۔ علی بن عیسیٰ اور اسحاق نے کہا کہ اس جگہ بَلْ بمعنی لَوْ کے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو علم آخرت میں ان کو ہونا ہے اگر وہ دنیا میں ہی ہوجاتا تو وہ شک نہ کرتے۔ اب ان کو یقین نہیں ہے بلکہ وہ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ بل ھم منھا عمون . بلکہ یہ قیامت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے ہیں۔ عَمُوْنَ ‘ عَمْیٌ کی جمع ہے۔ اور نابینائی سے مراد ہے دل کی نابینائی۔ شروع میں اللہ نے علم غیب کی نفی کی پھر اس کی تاکید نفی شعور سے کردی کہ ان کو اپنے مآل کا شعور بھی نہیں ہے ‘ پھر اس سے بھی اعراض کر کے صراحت کی کہ دلائل اور آیات کے ذریعہ سے صرف ان کو اتنا علم ہے کہ قیامت ہوگی اور ضرور ہوگی لیکن کب ہوگی ‘ یہ کسی آیت یا دلیل نے نہیں بتلایا۔ پھر اس سے بھی ترقی کے طور پر فرمایا کہ باوجود یہ کہ ثبوت قیامت کے دلائل موجود ہیں مگر یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں اور ایسے متحیر ہیں جیسے کوئی دلیل نہ پانے والا متحیر ہوتا ہے۔ اب یہ اپنے شک کو دور کر ہی نہیں سکتے۔ پھر اس سے بھی آگے ترقی کے طور پر فرمایا کہ یہ لوگ بالکل اندھے ہیں ‘ تحیر سے بڑھ کر نابینائی کے درجہ میں پہنچ چکے ہیں۔ ان کے دل کور بصیرت ہوچکے ہیں ‘ ان کو ثبوت قیامت کی کوئی دلیل سوجھائی نہیں دیتی۔ یہ حالت صرف مشرکوں کی ہے لیکن جس طرح بعض افراد کے فعل کو پوری جماعت کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے ‘ اسی طرح مشرکوں کے مخصوص حال کو عموماً من فی السمٰوٰت والارض کی طرف منسوب کردیا ہے۔ بعض اہل علم نے کہا کہ پہلے لفظ بَلْ سے شعور وقت قیامت کی نفی سے اعراض ہے اور بطور استہزاد اعراض ہے گویا بطور استہزاد فرمایا کہ آخرت کے معاملہ میں تو ان کا علم بالکل مستحکم اور مکمل ہے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ ادارک کا معنی ہے انتہا کو پہنچ گیا اور انتہا کو پہنچ کر نیست و نابود ہوگیا۔ ہر چیز جب اپنی ترقی کی انتہاء کو پہنچ جاتی ہے تو پھر وجود کی جگہ عدم آجاتا ہے۔ یعنی آخرت کے معاملہ میں ان کا علم ختم وہ گیا ‘ نیست ہوگیا۔
Ayah 27:67

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا تُرٰبًا وَّ اٰبَآؤُنَاۤ اَئِنَّا لَمُخْرَجُوْنَ Open ayah 27:67 in the Quran reader

اور جو لوگ کافر ہیں کہتے ہیں جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہو جائیں گے تو کیا ہم پھر (قبروں سے) نکالے جائیں گے

وقال الذین کفروا اذا کن ترابا واباؤنا ائنا لمخرجون . اور کافروں نے کہا : جب ہم خاک ہو گئے اور ہمارے باپ دادا بھی خاک ہوگئے تو کیا ہم (دوبارہ زندہ کر کے زمین سے) برآمد کئے جائیں گے ؟ پہلے کافروں کا نام صراحت کے ساتھ نہیں آیا تھا اس لئے بجاء یضمیر کے اس جگہ اَلَّذِیْنَ کَفَرُوْا صراحت کے ساتھ فرمایا۔ اَءِنَّا کیا ہم اور ہمارے باپ دادا۔ سب لَمُخْرَجُوْنَ یعنی قبروں سے زندہ کر کے نکالے جائیں گے یا عدم اور موت سے زندگی کی طرف نکال کر لائے جائیں گے۔ یہ کافروں کے کور بصیرت ہونے کا بیان ہے (کہ وہ ایسے نابینا ہیں کہ ایسی بات انکار یہ لہجہ میں کہہ رہے ہیں) استفہام انکاری ہے ‘ اور دوسرا جملہ پہلے جملہ کی تاکید ہے۔
Ayah 27:68

لَقَدْ وُعِدْنَا هٰذَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 27:68 in the Quran reader

یہ وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادا سے پہلے سے ہوتا چلا آیا ہے (کہاں کا اُٹھنا اور کیسی قیامت) یہ تو صرف پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں

لقد وعدنا ھذا نحن واباؤنا من قبل ان ھذا الا اساطیر الاولین . اس (دوبارہ جی اٹھانے) کا وعدہ تو ہم سے (آپ کی زبانی) اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے (ان کے زمانہ کے پیغمبروں کی زبانی) ہوتا رہا ہے ‘ یہ تو گزرے ہوئے لوگوں کی جھوٹی داستانیں ہیں اور غلط سلط باتیں ہیں جو وہ لکھ گئے ہیں۔
Ayah 27:69

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 27:69 in the Quran reader

کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ گنہگاروں کا انجام کیا ہوا ہے

قل سیروا فی الارض فانظروا کیف کان عاقبہ المجرمین . (اے محمد ﷺ ! آپ کہہ دیجئے کہ ملک میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا انجام کیسا (برا) ہوا۔ یہ دھمکی ہے کہ رسول اللہ کے زمانہ کے کافرو کو دیکھو کہ تکذیب انبیاء کا نتیجہ کتنا برا نکلا ‘ اس سے تم کو بھی ڈرنا چاہئے کہ تکذیب کا جو خمیازہ ان کو بھگتنا پڑا تم کو بھی تکذیب رسول کی ویسی ہی سزا ملے گی۔ کافروں کو مجرمین کہنے سے مؤمنوں کے غیر مجرم ہونے کی طرف لطیف ایماء ہے۔
Ayah 27:70

وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُنْ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 27:70 in the Quran reader

اور ان (کے حال) پر غم نہ کرنا اور نہ اُن چالوں سے جو یہ کر رہے ہیں تنگ دل ہونا

ولا تحزن علیھم . اور آپ ان کی طرف سے تکذیب و انکار پر کوئی رنج نہ کریں (غمگین نہ ہوں) ۔ ولا تکن فی ضیق مما یمکرون . اور جو سازشیں یہ کر رہے ہیں ان سے تنگدل نہ ہوں۔ بغوی نے لکھا ہے : مکہ میں جو لوگ رسول اللہ کا مذاق اڑاے تھے ان کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا یعنی آپ کو مکمل کامیابی ہوگی (ان کی خفیہ سازشوں کی آپ فکر نہ کریں) ۔
Ayah 27:71

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 27:71 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟

ویقولون متی ھذا الوعد ان کنتم صدقین . اور کافر کہتے ہیں کہ اگر تم (اس بات میں کہ عذاب آئے گا) سچے ہو تو بتاؤ یہ (عذاب کا) وعدہ کب پورا ہوگا۔
Ayah 27:72

قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ رَدِفَ لَكُمْ بَعْضُ الَّذِیْ تَسْتَعْجِلُوْنَ Open ayah 27:72 in the Quran reader

کہہ دو کہ جس (عذاب) کے لئے تم جلدی کر رہے ہو شاید اس میں سے کچھ تمہارے نزدیک آپہنچا ہو

قل عسی ان یکون ردف لکم بعض الذی تستعجلون . آپ ( اس کے جواب میں) کہہ دیجئے کہ جس عذاب کے جلد پہنچنے کے تم خواستگار ہو رہے ہو تو ہوسکتا ہے کہ اس کا کچھ حصہ تمہارے پیچھے ہی آ لگا ہو۔ یعنی بلامہلت فوراً تم کو پہنچ جائے۔ اس عذاب سے مراد جنگ بدر کا عذاب ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے کہ عَسٰی اور لَعَلَّ اور سَوْفَ بادشاہوں کے وعدہ آگین کلام میں درحقیقت قطعیت اور یقین ہی کا معنی رکھتا ہے۔ اپنے وقار کے اظہار کے لئے وہ شکیہ الفاظ کہتے ہیں ‘ ایسے الفاظ کہنے سے ان کا اشارہ اس طرف ہوتا ہے کہ ہمارا ایماء بھی صراحت کی طرح قطعی واجب العمل ہے۔ اللہ کے کلام میں بھی وعدہ و وعید کے موقع پر ان شکیہ الفاظ کا استعمال قطعیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی مطلب ہے اس شخص کے قول کا کہ اللہ کے کلام میں عَسٰی اور لَعَلَّ کا استعمال وجوب وقوع کے لئے ہوتا ہے یعنی وعدۂ ثواب کے موقع پر شکیہ الفاظ مفید جرم یقین ہوتے ہیں۔ وعید عذاب تو مؤمن کے لئے بدل سکتی ہے اور معانی ہوسکتی ہے ‘ ہاں کافر مستحق عفو نہیں ہے۔ فرعون کے متعلق حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کو حکم دیا گیا تھا : فَقُوْلاَ لَہٗ قَوْلاً لَیِّنَا لَعَلَّہٗ یَتَذَکَّرْ اَوْ یَخْشٰی اس آیت کا تعلق مبحث وعید سے نہیں ہے اس لئے فرعون نہ نصیحت پذیر ہوا نہ اس کو کوئی خوف ہوا۔
Ayah 27:73

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَذُوْ فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 27:73 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار تو لوگوں پر فضل کرنے والا ہے لیکن ان میں سے اکثر شکر نہیں کرتے

وان ربک لذو فضل علی الناس ولکن اکثرھم لا یشکرون . اور بیشک آپ کا رب لوگوں پر بڑا مہربان ہے لیکن اکثر لوگ (اس مہربانیوں کا) شکر ادا نہیں کرتے۔ یعنی وہ ایسا مہربان ہے کہ اگر چاہے تو بخش دے گا اور کافر کو عذاب دینے میں جلدی نہیں کرتا (تاکہ اس کو توبہ کا موقعہ مل جائے۔ مترجم) اسی لئے اس نے مکہ والوں کو عذاب نازل کرنے میں جلدی نہیں کی۔ مقاتل نے آیت کی اسی طرح تفسیر کی۔ اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے یعنی اللہ کی نعمتوں کا حق نہیں پہچانتے ‘ نعمت کی قدردانی نہیں کرتے اسی لئے جلد عذاب آنے کے خواستگار ہوتے ہیں۔
Ayah 27:74

وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 27:74 in the Quran reader

اور جو باتیں ان کے سینوں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اور جو کام وہ ظاہر کرتے ہیں تمہارا پروردگار ان (سب) کو جانتا ہے

وان ربک لیعلم ما تکن صدورھم وما یعلنون . آپ کا رب بلاشک و شبہ ان باتوں کا جانتا ہے جن کو وہ لوگ اپنے سینوں میں چھپائے رکھتے ہیں اور جن باتوں کو وہ ظاہر کرتے ہیں۔ یعنی وہ آپ کی جس عداوت کو دلوں میں چھپائے رکھتے ہیں یا اس کا اظہار کرتے ہیں اللہ اس سے واقف ہے اس کی سزا ضرور دے گا تاخیر عذاب کی وجہ یہ نہیں کہ اللہ سے کوئی حالت چھپی ہوئی ہے۔
Ayah 27:75

وَ مَا مِنْ غَآئِبَةٍ فِی السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 27:75 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین میں کوئی پوشیدہ چیز نہیں ہے مگر (وہ) کتاب روشن میں (لکھی ہوئی) ہے

وما من غائبۃ فی السماء والارض الا فی کتب مبین . اور آسمان و زمین میں کوئی ایسی مخفی چیز نہیں جو لوح محفوظ میں موجود نہ ہو۔ غَاءِبَۃً یعنی وہ چیز جو لوگوں کی نظروں سے پوشیدہ ہو۔ غَاءِبَۃ یا خافِیَۃ کی طرح صفت غالبہ ہے (یعنی صفت کا صیغہ ہے لیکن موصوف کے بغیر اس کا استعمال بکثرت ہوتا ہے) اس وقت میں ت مبالغہ کی ہے جیسے راویَۃ ( اس صورت میں غاءِبَۃً مذکر کا صیغہ ہوگا) یا اسم صفت ہے جیسے غافیۃ اور عاقبت۔ بغوی نے لکھا ہے کہ یہ صفت ہے موصوف محذوف ہے یعنی پوشیدہ راز ‘ چھپی ہوئی بات ‘ مخفی امر۔ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ کھلی ہوئی کتاب یا اپنے اندراجات کو پڑھنے والے پر کھول دینے والی کتاب ‘ اس سے مراد لوح محفوظ ہے۔ اِلاَّ فِیْ کِتَابٍ میں استثناء مفرغ ہے۔
Ayah 27:76

اِنَّ هٰذَا الْقُرْاٰنَ یَقُصُّ عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَكْثَرَ الَّذِیْ هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 27:76 in the Quran reader

بےشک یہ قرآن بنی اسرائیل کے سامنے اکثر باتیں جن میں وہ اختلاف کرتے ہیں، بیان کر دیتا ہے

ان ھذا القران یقص علی بنی اسرائیل اکثر الذی ھم فیہ یختلفون . بیشک یہ قرآن بنی اسرائیل پر اکثر ان باتوں کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔ یَقُصُّ یعنی بیان کردیتا ہے۔ اَلَّذِیْ ھُمْ فِیْہِ بیشتر وہ دینی مسائل جن میں بنی اسرائیل کا باہم اختلاف ہے۔ کلبی کا بیان ہے کہ اہل کتاب کا باہم بعض مذہبی باتوں میں اختلاف تھا اسی لئے فرقے فرقے بن گئے تھے ‘ ہر فرقہ دوسرے پر طعن کرتا تھا۔ قرآن نے آکر ان کے اختلافی مسائل کو بیان کردیا (اور جو بات صحیح تھی وہ ظاہر کردی) ۔
Ayah 27:77

وَ اِنَّهٗ لَهُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 27:77 in the Quran reader

اور بےشک یہ مومنوں کے لئے ہدایات اور رحمت ہے

وانہ لھدی ورحمۃ للمومنین . بلاشک و شبہ قرآن مؤمنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔ کیونکہ قرآن سے فائدہ اٹھانے والے صرف مؤمن ہیں اس لئے قرآن انہی کے لئے ہدایت و رحمت ہے۔ کافروں کے لئے رحمت نہیں ہے خواہ کفار کتابی نہ ہوں۔
Ayah 27:78

اِنَّ رَبَّكَ یَقْضِیْ بَیْنَهُمْ بِحُكْمِهٖ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْعَلِیْمُۙۚ Open ayah 27:78 in the Quran reader

تمہارا پروردگار (قیامت کے روز) اُن میں اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ غالب (اور) علم والا ہے

ان ربک یقضی بینھم بحکمہ وھو العزیز الحکیم . لاریب آپ کا رب بنی اسرائیل کے درمیان اپنے حکم سے (عملی) فیصلہ کر دے گا اور وہی غالب ہے (اس کے فیصلہ کو کوئی رد نہیں کرسکتا) جاننے والا ہے (جس بات کا فیصلہ کرتا ہے اس کی حقیقت و حکمت سے بخوبی واقف ہے) ۔ یقینی قیامت کے دن فیصلہ کر دے گا۔ بَیْنَھُمْ مذہبی امور میں اختلاف کرنے والوں کے درمیان۔ ایک شبہ یَقُضِیْکا معنی ہے یَحْکُمُ قضا اور حکم ایک ہی چیز ہے۔ پھر یَقْضِیْ بِحُکْمِہٖ ایسا ہی ہوگیا جیسے یَحْکُمْ بِحُکْمِہٖکہا جائے اور یہ صحیح نہیں۔ ایک ازالہ حکم سے مراد محکوم یعنی وہ فیصلہ جو قرآن میں بیان کردیا گیا۔ یعنی قیامت کے دن اللہ اس فیصلہ کے مطابق جو قرآن میں کردیا گیا ہے حکم دے دے گا (گویا علمی فیصلہ تو قرآن میں یہیں ہوگیا قیامت کے دن اسی کے مطابق عملی فیصلہ ہوجائے گا۔ مترجم) ۔
Ayah 27:79

فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّكَ عَلَى الْحَقِّ الْمُبِیْنِ Open ayah 27:79 in the Quran reader

تو خدا پر بھروسہ رکھو تم تو حق صریح پر ہو

فتوکل علی اللہ . سو آپ اللہ پر بھروسہ رکھیں یعنی آپ دشمنوں کی کوئی پرواہ نہ کریں اللہ پر بھروسہ رکھیں کیونکہ۔ انک علی الحق المبین . آپ واضح حق پر ہیں یعنی ایسے حق پر جس کی حقیقت کھلی ہوئی ہے۔ اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ جو واقعہ صاحب حق ہو اس کو اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہئے اللہ اس کا مددگار ہے۔
Ayah 27:80

اِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰى وَ لَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 27:80 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تم مردوں کو (بات) نہیں سنا سکتے اور نہ بہروں کو جب کہ وہ پیٹھ پھیر کر پھر جائیں آواز سنا سکتے ہو

انک لا تسمع الموتی . آپ یقیناً مردوں کو (یعنی کافروں کو) نہیں سنا سکتے۔ کافروں کو قرآن سننے سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا اس لئے ان کو مردوں سے تشبیہ دی۔ مردوں کو قرآن سنانے سے کوئی فائدہ نہیں جیسا کہ آیت میں کافروں کو بہرا کہا گیا ہے۔ ولا تسمع الصم الداء اذا ولوا مدبرین . اور نہ آپ بہروں کو سنا سکتے ہیں (خصوصاً ) جب کہ وہ پشت پھر کر چل دیں۔ ایک سوال اِذا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ کہنے کا کیا فائدہ ‘ بہرے تو بہرحال نہیں سنتے خواہ منہ سامنے کئے ہوں یا پیٹھ پھیرے جا رہے ہوں۔ جواب صرف تاکید اور کلام میں زور پیدا کرنے کے لئے ایسا کہا۔ یہ جواب بعض اہل تفسیر نے دیا ہے۔ بعض نے کہا : اگر بہرا سامنے منہ کئے ہو تو کبھی چلا کر بات کرنے کی آواز سن لیتا ہے کبھی ہونٹوں کے اشارہ یا کنایہ سے سمجھ جاتا ہے لیکن پشت پھیرے ہو تو بالکل نہیں سمجھتا۔ آیت کا حاصل مطلب یہ ہے کہ کافر انتہائی طور پر دعوت سے کتراتے اور بےرخی اختیار کئے ہوئے ہیں اسی لئے مردوں کی طرح ہیں جن کو سنانے کا کوئی راستہ نہیں یا پشت پھیرے ہوئے بہروں کی طرح ہیں جن کو سنانا ممکن نہیں۔
Ayah 27:81

وَ مَاۤ اَنْتَ بِهٰدِی الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِهِمْ١ؕ اِنْ تُسْمِعُ اِلَّا مَنْ یُّؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا فَهُمْ مُّسْلِمُوْنَ Open ayah 27:81 in the Quran reader

اور نہ اندھوں کو گمراہی سے (نکال کر) رستہ دیکھا سکتے ہو۔ تم ان ہی کو سنا سکتے ہو جو ہماری آیتوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ فرمانبردار ہو جاتے ہیں

وما انت بھدی العمی عن ضللتھم ان تسمع الا من یومن بایتنا فھم مسلمون . اور نہ آپ اندھوں کو ان کی گمراہی سے (نکال کر) سیدھا راستہ دکھانے ولے ہیں آپ تو صرف انہی لوگوں کو سنا سکتے ہیں جو ہماری آیات کا یقین رکھتے ہیں پھر وہ مانتے (بھی) ہیں۔ یعنی اللہ نے جس کے دل کو اندھا کردیا ہے ایمان کی راہ اس کو سوجھائی نہیں دیتی آپ اس کو ایمان کا راستہ نہیں دکھا سکتے۔ آپ کا قرآن سنانا سوائے ان لوگوں کے کسی کو فائدہ نہیں دے سکتا جو ہماری آیات پر ایمان رکھنے والے ہیں یعنی ایمان لانا ہم نے ان کے لئے مقدر کردیا ہے پس وہ ہی مسلم ہوتے ہیں یعنی اپنا رخ خلوص کے ساتھ اللہ کی طرف کردیتے ہیں۔