25. Surah Al-Furqaan
الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ مظہری
اُولٰٓئِكَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَةَ بِمَا صَبَرُوْا وَ یُلَقَّوْنَ فِیْهَا تَحِیَّةً وَّ سَلٰمًاۙ Open ayah 25:75 in the Quran reader
ان (صفات کے) لوگوں کو ان کے صبر کے بدلے اونچے اونچے محل دیئے جائیں گے۔ اور وہاں فرشتے ان سے دعا وسلام کے ساتھ ملاقات کریں گے
اولئک یجزون الغرفۃ ان لوگوں کو (جن کے اوصاف اوپر ذکر کردیئے گئے) ثواب میں جنت کے اعلیٰ مقامات
دیئے جائیں گے۔
شیخین نے صحیحین میں اور امام احمد نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کے حوالہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اہل جنت اپنے سے اوپر بالائی منزلوں والوں کو آپس کے تفاوت مراتب کی وجہ سے اس طرح دیکھیں گے جیسے تم لوگ ابر آلود آسمان میں مشرقی یا مغربی افق سے ستارے کو دیکھتے ہو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ تو انبیاء کے مکان ہوں گے دوسرا کوئی وہاں نہیں پہنچے گا۔ فرمایا ‘ کیوں نہیں ‘ قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو لوگ اللہ پر ایمان لائے اور پیغمبروں کو سچا جانا (وہ انسان ان مراتب تک پہنچ سکتے ہیں) حضرت سہل بن سعد کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث آئی ہے۔
احمد ‘ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے اور ترمذی و بیہقی نے حضرت علی ؓ کی روایت سے اور امام احمد نے حضرت ابو مالک اشعری کی روایت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کے اندر کچھ بالا خانے ایسے ہیں جن کے اندر کی حالت باہر سے اور باہر کی حالت اندر سے دکھائی دے گی۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ بالا خانے کن لوگوں کے لئے ہوں گے ‘ فرمایا ان لوگوں کے لئے جو پاکیزہ کلام کرتے ہیں (غریبوں کو) کھانا کھلاتے ہیں اور جب دوسرے لوگ سوئے ہوتے ہیں تو وہ رات کو (نماز میں) کھڑے رہتے ہیں۔
حضرت ابن عمر ؓ کی روایت میں یہ حدیث اسی طرح آئی ہے۔ حضرت علی ؓ کی روایت کے لحاظ سے حدیث مذکور ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔ ان لوگوں کے لئے ہیں جو پاکیزہ کلام کرتے ہیں اسلام پھیلاتے ہیں کھانا کھلاتے ہیں اور رات میں ایسے وقت نماز پڑھتے ہیں کہ (اور) لوگ سوتے ہوتے ہیں۔
حضرت ابو مالک ؓ کی روایت کے یہ الفاظ ہیں ان لوگوں کے لئے ہیں جو کھانا کھلاتے ہیں ‘ نرم کلام کرتے ہیں ‘ متواتر روزے رکھتے ہیں اور رات میں نماز پڑھتے ہیں جبکہ (اور) لوگ سوتے ہوتے ہیں۔
بیہقی اور ابو نعیم نے حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو جنت کے بالا خانوں کے متعلق نہ بتاؤں ‘ صحابہ نے عرض کیا کیوں نہیں ‘ اے اللہ کے رسول ﷺ (فرمائیے) ارشاد فرمایا ‘ جنت کے اندر یقیناً کچھ بالا خانے قسم قسم کے جواہرات کے ایسے (شفاف) ہیں کہ ان کے اندر سے اندر کی نعمتیں لذتیں اور عزت بخشیاں دکھائی دیں گی اور اندر سے باہر کی راحت لذت اور عزت دکھائی دے گی یہ نعمت لذت اور عزت ایسی ہوگی جو نہ کسی آنکھ نہ دیکھی اور نہ کسی کان نے سنی ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ بالا خانے کن لوگوں کے لئے ہوں گے فرمایا ان لوگوں کے لئے جنہوں نے سلام کو پھیلایا ‘ کھانا کھلایا ‘ ہمیشہ روزے رکھے اور رات میں ایسے وقت نماز پڑھی جبکہ (اور) لوگ سوتے ہوں۔ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ایسا کرنے کی کس میں طاقت ہے۔ فرمایا ‘ میری امت اس کی طاقت رکھتی ہے میں اس کی تفصیل تم کو بتاتا ہوں جو اپنے بھائی (مسلمان) سے ملا اور اس کو سلام کیا اور سلام کا جواب دیا۔ اس نے سلام کو پھیلایا اور جس نے اپنے اہل و عیال کو پیٹ بھر کھانا کھلایا تو اس نے (ضروری) کھانا کھلا دیا اور جس نے رمضان کے اور ہر مہینے تین دن کے (یعنی 13‘ 14 اور 15 تاریخوں کے) روزے رکھے اس نے (گویا) ہمیشہ روزے رکھے اور جس نے عشاء اور فجر کی نماز جماعت سے پڑھ لی تو بیشک اس نے رات ایسے وقت نماز پڑھی کہ یہودی عیسائی اور مجوسی اس وقت خواب میں ہوتے ہیں۔ اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے۔
ابن عدی اور بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی شک نہیں کہ جنت کے اندر کچھ بالا خانے ایسے ہیں کہ ان کے اندر رہنے والا اگر ان کے اندر ہوگا تو بالا خانہ سے پیچھے والی چیزیں اس سے پوشیدہ نہ ہوں گی اور اگر بالا خانوں سے پیچھے (باہر) ہوگا تو اندر کی چیزیں اس سے مخفی نہ ہوں گی۔ عرض کیا گیا اے اللہ کے رسول یہ بالا خانے کن کے لئے ہوں گے فرمایا ان کے لئے جنہوں نے پاکیزہ کلام کیا ‘ مسلسل روزے رکھے ‘ سلام کو پھیلایا اور رات میں ایسے وقت نماز پڑھی کہ لوگ سوتے ہوں عرض کیا گیا کلام کی پاکیزگی سے کیا مراد ہے ‘ فرمایا سُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ قیامت کے دن جب ان کا قائل (محشر کے میدان میں) آئے گا تو یہ کلمات آگے پیچھے ہوں گے اور نجات دلانے والے ہوں گے عرض کیا گیا ‘ مسلسل روزے رکھنے کا کیا مطلب ہے فرمایا ‘ جس نے رمضان کے روزے رکھے اس نے بلاشبہ (ہمیشہ کے) مسلسل روزے رکھے عرض کیا گیا کھلانے سے کیا مراد ہے فرمایا جس نے اپنے عیال کو کھانا دیا۔ عرض کیا گیا سلام کو پھیلانے سے کیا مراد ہے ‘ فرمایا اپنے (مسلمان) بھائی کی مصاحبت اور اس کو سلام کرنا عرض کیا گیا لوگوں کے سونے کی حالت میں نماز کا کیا مطلب ‘ فرمایا عشاء کی نماز۔
حکیم ترمذی نے حضرت سہل بن سعد کی مرفوع روایت سے اس آیت کے ذیل میں بیان کیا ہے کہ بالاخانہ سرخ یاقوت ‘ سبز زبرجد اور سفید موتی کا ہوگا جس میں نہ کوئی شگاف ہوگا نہ کوئی عیب۔
بما صبروا ان کے صبر کرنے کی وجہ سے 1 ۔
یعنی انہوں نے چونکہ دنیا میں نفسانی خواہشات کو ترک کیا ‘ مجاہدات کی تکلیفیں اٹھائی تھیں ‘ کافروں کی طرف سے پہنچنے والی اذیتیں برداشت کی تھیں اور طاعت و عبادت کی وجہ سے پہنچنے والے دکھ پر ثابت قدم رہے تھے اس لئے ان کو مذکورہ بالا مراتب ملیں گے۔
ابو نعیم نے ابوجعفر کا قول نقل کیا ہے کہ صبر کرنے سے مراد ہے دنیا میں ناداری پر صبر کرنا۔
ویلقون فیہا تحیۃ وسلم ا اور ان کو اس بہشت میں (فرشتوں کی طرف سے) بقا کی دعا اور سلام ملے گا۔
یعنی بالا خانوں کے اندر فرشتے تحیۃ وسلام کے ساتھ استقبال کریں گے ‘ مراد یہ ہے کہ ان کے لئے اللہ سے سلامتی و عافیت کی دعا کریں گے یا یہ مراد ہے کہ ان کو ہر آفت سے سالم رہنے اور ہمیشہ باقی رہنے کی بشارت دیں گے۔ کلبی نے کہا مراد یہ ہے کہ وہ باہم ایک دوسرے کو سلام کریں گے اور اللہ کی طرف سے ان کو سلام بھیجا جائے گا۔ احمد ‘ بزار اور ابن حبان نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی مخلوق میں سے جنت کے اندر وہ فقراء مہاجرین داخل ہوں گے جن کے ذریعہ سے سرحدوں کی حفاظت کی جاتی ہے اور انہی کی وجہ سے مکروہات سے (مسلمانوں کا) بچاؤ ہوتا ہے (لیکن ان کی خود یہ حالت ہوتی ہے کہ) وہ اپنی ضروریات کو اپنے سینے میں لے کر مرجاتے ہیں اور (زندگی بھر ان کو پورا نہیں کرسکتے۔ اللہ اپنے فرشتوں میں سے جن کو چاہے گا حکم دے گا کہ جاؤ ان کو سلام کرو۔ (ان کا استقبال کرو) ۔ ملائکہ عرض کریں گے ‘ اے ہمارے رب ہم تیرے آسمان کے باشندے ہیں اور تیری مخلوق میں سے تیرے برگزیدہ بنائے ہوئے ہیں۔ پھر تو ہی ہم کو حکم دے رہا ہے کہ ہم ان کے پاس جائیں اور ان کو سلام کریں ‘ اللہ فرمائے گا یہ وہ لوگ ہیں جو میری (ہی) عبادت کرتے تھے میرا ساجھی کسی کو نہیں بناتے تھے انہی کے ذریعہ سے سرحدوں کی حفاظت کی جاتی تھی اور انہی کی وجہ سے مکروہات سے بچاؤ ہوتا تھا لیکن وہ ایسی حالت میں مرجاتے تھے کہ ان کی ضروریات ان کے سینوں کے اندر ہوتی تھیں اور وہ ضروریات کو پورا نہ کرسکے تھے۔ حسب الحکم ملائکہ ان کے پاس جائیں گے اور ہر دروازے سے داخل ہو کر کہیں گے۔ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبٰی الدَّارِ ۔ بعض لوگوں نے کہا آیت کا یہ مطلب ہے کہ ان کو تحیت یعنی بقائے دوامی اور سلام یعنی ہر آفت سے سلامتی کی پیش کش کی جائے گی۔
خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:76 in the Quran reader
اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اور وہ ٹھیرنے اور رہنے کی بہت ہی عمدہ جگہ ہے
خلدین فیہا ان بالا خانوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
حسنت مستقرا ومقاما۔ وہ بالا خانے (ان کے لئے) اچھی قرارگاہ اور قیام کی جگہ ہوں گے۔
مسلم نے حضرت ابو سعید ؓ خدری اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک منادی ندا کرے گا ‘ تمہارے لئے بلاشک دوامی تندرستی ہے کبھی بیمار نہ ہو گے ‘ تمہارے لئے دوامی زندگی ہے کبھی نہیں مرو گے ‘ تمہارے لئے ہمیشہ جوان رہنا ہے کبھی بوڑھے نہ ہوگے ‘ تمہارے لئے ہمیشہ راحت میں رہنا ہے کبھی دکھی نہ ہو گے۔
قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّیْ لَوْ لَا دُعَآؤُكُمْ١ۚ فَقَدْ كَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَكُوْنُ لِزَامًا۠ Open ayah 25:77 in the Quran reader
کہہ دو کہ اگر تم (خدا کو) نہیں پکارتے تو میرا پروردگار بھی تمہاری کچھ پروا نہیں کرتا۔ تم نے تکذیب کی ہے سو اس کی سزا (تمہارے لئے) لازم ہوگی
قل ما یعبوبکم ربی لو لا دعآؤ کم آپ (عام طور پر لوگوں سے) کہہ دیجئے کہ میرا رب تمہاری ذرا
بھی پروا نہیں کرے گا اگر تم عبادت نہ کرو گے۔
یَعْبَؤُماخوذ ہے عَبَأُت الْجیش عَبْوًاسے میں نے فوج کو مرتب کردیا ‘ تیار کردیا ‘ کذا فی النہایہ مطلب یہ ہے کہ اگر تم اللہ سے استغفار نہ کرو تو کون چیز تم کو جنت میں داخل ہونے کے لئے تیار کرسکتی ہے بعض اہل تفسیر نے دعاء کا ترجمہ کیا ہے عبادت یا ایمان۔ بعض علماء نے کہا آیت کا یہ مطلب ہے کہ اگر اللہ تم کو اسلام کی دعوت نہ دیتا تو جنت میں کیسے داخل ہوتے۔ اب چونکہ تم ایمان لے آئے ہو تو اللہ نے تم کو جنت میں داخل ہونے کے لئے تیار کردیا ‘ بعض علماء نے کہا یَعْبَؤْا ‘ عبا سے مشتق ہے اور عبا کا معنی ہے بوجھ ‘ وزن ‘ مطلب یہ ہے کہ اگر تمہاری طرف سے طاعت و عبادت نہ ہو تو اللہ کی نظر میں تمہارا کیا وزن اور کیا قدر ہوگی۔ اللہ کو تمہاری پروا نہ ہوگی۔ کیونکہ انسان کی بزرگی اور برتری صرف معرفت اور طاعت کی وجہ سے ورنہ انسان چوپایوں کی طرح ہے۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ اگر وہ تم کو دعوت اسلام نہ دیتا (اور تم ایمان نہ لاتے تو اللہ کی نظر میں تمہاری قدر نہ ہوتی اب جبکہ اس نے تم کو اسلام کی دعوت دے دی اور) تم ایمان لے آئے تو اللہ کے نزدیک تمہاری قدر نمایاں ہوگئی۔
بعض نے کہا مَا یَعْبَؤُ بِکُمْکا یہ مطلب ہے کہ اللہ کو تم کو پیدا کرنے کی کیا پروا ہوتی اگر تمہاری عبادت اور طاعت (مقصود) نہ ہوتی۔ یعنی اس نے اپنی عبادت کے لئے تم کو پیدا کیا ہے۔ اسی کے متعلق فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ الاَّ لِیَعْبُدُوْنِ بغوی نے لکھا ہے یہی قول حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد کا ہے۔
بعض نے مایَعْبَؤْ بِکُمْکا ترجمہ کیا ہے مَا یُبَالِیْ بِکُمْیعنی اللہ کو تمہاری مغفرت کی کیا پروا ہے اگر تم اس کے ساتھ دوسرے معبودوں کو نہ پکارو اور اگر تم شرک نہ کرو تو وہ تم کو عذاب دے کر کیا کرے گا اسی مفہوم کی تائید ہو رہی ہے آیت مَا یَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْتُمْ وَاٰمَنْتُمْ سے۔ بعض نے کہا آیت کا یہ مطلب ہے کہ اللہ تمہارے عذاب کی کیا پروا کرتا ہے اگر مصائب و شدائد میں تم اس کو نہ پکارو۔ اسی پر دلایت کر رہی ہے آیت فَاِذَا رَکِبُوْا فِی الْفُلْکِ دَعَوُا اللّٰہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَبعض علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ نے اپنی کسی غرض کے لئے تم کو نہیں پیدا کیا اور نہ اللہ کے نزدیک تمہاری کوئی قدر ہے بغیر اس کے کہ تم اس سے سوال کرو اور اس سے مغفرت کے خواستگار ہو اگر تم اس سے سوال کرو گے اور مغفرت کے لئے دعا کرو گے تو وہ تم کو دے گا اور گناہ معاف کر دے گا اس مطلب پر مایَعْبَؤُمیں ما نافیہ ہوگا۔
فقد کذبتم فسوف یکون لزاما۔ سو تم احکام خداوندی کو جھوٹا سمجھتے ہو تو عنقریب یہ (جھوٹا سمجھنا)
تمہارے لئے وبال جان ہوجائے گا۔ یہ کفار مکہ کو خطاب ہے۔
یعنی اللہ نے رسول کے ذریعہ سے تم کو اپنی توحید و عبادت کی دعوت دی ‘ لیکن تم نے رسول ﷺ : کی تکذیب کی اور دعوت کو قبول نہیں کیا تو اب جنت میں داخل کرنے کا سروسامان اللہ تم کو کس طرح دے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس کے نزدیک تمہارا وزن و مرتبہ کیسے ہوگا۔ یا یہ مطلب ہے کہ تم کو عذاب دینے کی اس کو کیا پروا ہوگی۔ نتیجہ یہ تمہاری یہ تکذیب تم سے جد انہ ہوگی تم کو چمٹی رہے گی تم کو توبہ کی توفیق نہیں دی جائے گی اور تمہارے اعمال کی پاداش تم کو ملے گی۔
یا یہ مطلب ہے کہ تمہاری اس تکذیب کی سزا تم کو چمٹی رہے گی تم کو گھیرے رہے گی یا اس تکذیب کا اثر تمہارے ساتھ چسپاں رہے گا یہاں تک کہ یہ تکذیب تم کو اوندھے منہ دوزخ میں گرا دے گی۔
حضرت ابن عباس ؓ نے لزاماً کا ترجمہ کیا ہے موت اور ابوعبیدہ نے ترجمہ کیا ہلاکت ابن زید نے قتال اور ابن جریر نے کہا ہمیشہ رہنے والا کبھی ختم نہ ہونے والا عذاب اور ایسی تباہ کن فنا آگیں ہلاکت جو ایک کو دوسرے کے ہاتھوں پہنچے گی ‘ بغوی نے لکھا ہے لزاماً سے مراد کیا ہے ؟ اس میں علماء کے اقوال مختلف ہیں حضرت ابن مسعود ؓ حضرت ابی بن کعب اور مجاہد نے فرمایا اس سے مراد یوم بدر ہے جس میں ستّر کفار مارے گئے یعنی بدر کی لڑائی میں کافر مارے گئے اور قتل ہوتے ہی عذاب آخرت ان سے چمٹ گیا۔ بخاری نے صحیح میں حضرت ابن مسعود ؓ : کا قول نقل کیا آپ نے فرمایا پانچ چیزیں تو ہو چکیں دخان (جو آسمان پر نظر آچکا) چاند (جو پھٹ چکا) روم (جن کو ایرانیوں پر غلبہ مل گیا) بطشہ (سخت پکڑ) اور لزام (بدر کی لڑائی میں کفار کا قتل) بعض نے کہا لزام سے مراد عذاب آخرت ہے۔ واللہ اعلم۔
الحمد للّٰہ رب العالمین وصلی اللّٰہ تعالیٰ علی خیر خلقہ محمد واٰلہٖ و اصحابہ اجمعین
اللہ کی مدد اور اس کی توفیق سے سورت فرقان کی تفسیر 6 صفر 1205 ھ کو ختم ہوئی۔
تفسیر سورت الفرقان کا ترجمہ 21 شعبان 1390 ھ کو پورا ہوا۔