25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 25:58

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور اس (خدائے) زندہ پر بھروسہ رکھو جو (کبھی) نہیں مرے گا اور اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتے رہو۔ اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے خبر رکھنے کو کافی ہے

و توکل علی الحی الذی لا یموت اور اس ذات پر بھروسہ کیجئے جو زندہ ہے کبھی نہیں مرے گی۔ جو ہستیاں زندہ ہیں لیکن موت کا نشانہ ہیں کبھی ان کو موت ضرور آئے گی ایسی ہستیوں پر بھروسہ ‘ بھروسہ کرنے والوں کو بےمدد چھوڑ دیتا ہے اور وہ تباہ ہوجاتے مگر اللہ (کی حیات پر کبھی موت طاری ہونے کا وہم بھی نہیں ہوسکتا اس لئے وہی) اس بات کا مستحق ہے کہ اس پر مخالفوں کے شر سے محفوظ رہنے اور لوگوں کی طرف سے مالی معاوضہ سے بےنیاز رہنے کے سلسلہ میں بھروسہ کیا جاسکتا ہے پس آپ ﷺ ان لوگوں کے شر اور ان کے مال سے بےنیاز رہنے میں اللہ ہی پر بھروسہ کریں۔ وسبح بحمدہ وکفی بہ بذنوب عبادہ خبیرا۔ اور اس کی تسبیح وتحمید میں لگے رہئے۔ سَبِّحْیعنی تمام صفات نقص (وعیب) سے اس کی پاکی کا اعتراف کرو۔ بِحَمْدِہٖ اس کی صفات کمالیہ کی ثناء اور تعریف کرو اور مزید انعام کے اس سے طالب ہو۔ بعض علماء نے سبح کا ترجمہ کیا ہے صل نماز پڑھو اور بحمدہٖ کا مطلب ہے نعمتوں کا شکر ادا کرنا ‘ یعنی اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرتے ہوئے نماز پڑھو۔ وَکَفٰی بِہٖیعنی اللہ بندوں کے گناہوں سے پورے طور پر باخبر اور با علم ہے وہ گناہوں کی سزا دے گا۔
Ayah 25:59

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

جس نے آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان ہے چھ دن میں پیدا کیا پھر عرش پر جا ٹھہرا وہ (جس کا نام) رحمٰن (یعنی بڑا مہربان ہے) تو اس کا حال کسی باخبر سے دریافت کرلو

الذی خلق السموت والارض وما بینہما فی ستۃ ایام ثم استوی علی العرش وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو اور ان دونوں کی درمیانی کائنات کو (ایک اندازے کے ساتھ) پیدا کیا چھ دن (کی مقدار) میں پھر تخت (الوہیت) پر قائم ہوا۔ یہ آیت سابق آیت کے مضمون کو ثابت کر رہی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب اللہ ہی سب کا خالق اور متصرفِ کل ہے تو اسی پر بھروسہ رکھاجائے۔ آیت میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ آدمی تمام امور میں تدریج اور آہستگی اختیار کرے ‘ کیونکہ وہ اللہ جس کی قدرت محیط کل ہے اور اس کا حکم انتہائی سریع النفوذ ہے اس نے تخلیق کائنات میں تدریج اور آہستگی اختیار فرمائی (اور یکدم سب کو پیدا نہیں کردیا) ۔ الرحمن فسئل بہ خبیرا۔ وہی رحمن ہے سو تم اس کو کسی باخبر (یعنی عالم) سے پوچھ دیکھو (وہ اس کی حقیقت تم کو بتادے گا) ۔ بِہٖ یعنی اس تخلیق کائنات اور استویٰ علی العرش کے متعلق کسی عالم سے پوچھ دیکھو۔ کذا قال الکلبی۔ خَبِیْر سے مراد ہے اللہ ‘ یا جبرئیل ( علیہ السلام) یا وہ علماء جنہوں نے سابق آسمانی کتابوں میں یہ باتیں پڑھی ہیں۔ بعض کے نزدیک بہٖ کی ضمیر الرحمن کی طرف راجع ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر یہ لوگ اللہ پر لفظ رحمن کے اطلاق کا انکار کرتے ہیں تو تم علماء اہل کتاب سے پوچھ دیکھو ‘ وہ تم کو بتادیں گے کہ رحمن کا ہم معنی لفط اللہ کے لئے ان کی کتابوں میں مذکور ہے اگر کسی چیز کے متعلق پوچھنا ہو تو عربی میں سَألَ عَنْہٗبھی آتا ہے اور سأل بہٖ بھی۔ بعض علماء نے کہا (کہ فَسْءَلکا مخاطب عام انسان ہے یعنی) اے انسان تو رحمن کے متعلق باخبر لوگوں سے پوچھ لے وہ تجھے رحمن کے اوصاف بتادیں گے۔
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان (کفار) سے کہا جاتا ہے کہ رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں رحمٰن کیا؟ کیا جس کے لئے تم ہم سے کہتے ہو ہم اس کے آگے سجدہ کریں اور اس سے بدکتے ہیں

واذا قیل لہم اسجدوا للرحمن قالوا وما الرحمن انسجد لما تامرنا اور جب ان سے کہا گیا کہ رحمن کو سجدہ کرو ‘ کہنے لگے رحمن کیا چیز ہے (ہر) اس چیز کو ہم سجدہ کرنے لگیں جن کو سجدہ کرنے کا تم ہم کو حکم دو ۔ مشرکین لفظ رحمن کا اطلاق اللہ پر نہیں کرتے تھے اور کہتے تھے کہ سوائے رحمن یمامہ (یعنی مسیلمہ کذاب متبنی) کے اور کسی رحمن کو ہم نہیں جانتے۔ مشرکین مسیلمہ کو رحمن یمامہ کہتے تھے۔ وزادہم نفورا۔ اور رحمن کو (سجدہ کرنے کے حکم نے) ان کے اندر (ایمان سے) اور نفرت بڑھا دی۔
Ayah 25:61

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

اور (خدا) بڑی برکت والا ہے جس نے آسمانوں میں برج بنائے اور ان میں (آفتاب کا نہایت روشن) چراغ اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا

تبرک الذی جعل فی السمآء بروجا وجعل فیہا سرجا وقمرا منیرا۔ بڑی خیر والا ہے وہ اللہ جس نے آسمان میں برج بنائے اور سورج اور روشنی دینے والا چاند بنایا۔ حسن ‘ قتادہ اور مجاہد نے کہا بروج بڑے بڑے ستارے (برج ظاہر ہونے کو کہتے ہیں) بڑے بڑے ستارے ظہور کی وجہ سے بروج کہلاتے ہیں۔ عطیہ عوفی ‘ بروج سے مراد وہ اونچے محل ہیں جن میں چوکیدار اور محافظ موجود ہیں۔ سرجا (چراغ روشن) یعنی سورج۔ دوسری آیت میں اللہ نے فرمایا ہے (وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرٰجًا) کسائی اور حمزہ کی قراءت میں سُرُجاً بصیغۂ جمع آیا ہے۔ اس وقت سرجٍُ سے مراد ہوں گے سورج اور دوسرے ستارے ‘ چاند مراد نہ ہوگا۔ کیونکہ چاند چراغ نہیں ہے اس کی اپنی کوئی روشنی نہیں ہے۔ اس کو ساری روشنی سورج سے پہنچتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہ پورا پورا سورج کے سامنے ہوجاتا ہے تو پورا روشن ہوجاتا ہے اور سورج سے جتنے حصے کا تقابل نہیں ہوتا ‘ اتنا ہی حصہ تاریک رہتا ہے ‘ پھر قمراً کا سرجاً پر بھی عطف بھی کیا گیا ہے (اور عطف مغایرت کو چاہتا ہے) ۔
Ayah 25:62

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے والا بنایا۔ (یہ باتیں) اس شخص کے لئے جو غور کرنا چاہے یا شکرگزاری کا ارادہ کرے (سوچنے اور سمجھنے کی ہیں)

وہو الذی جعل الیل والنہار خلفۃ لمن اراد ان یذکر او اراد شکورا۔ اور وہ ایسا ہے کہ اس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے پیچھے آنے والا بنایا اور یہ سب کچھ اس شخص کے (سمجھنے کے) لئے ہے جو سمجھنایا شکر کرنا چاہے۔ خِلْفَۃً یعنی رات اور دن میں سے ہر ایک دوسرے کا قائم مقام ہوجاتا ہے ‘ اسی لئے اگر کسی سے دن یا رات کا کوئی عمل فوت ہوگیا ہو تو دن کے عمل کو رات میں اور رات کے عمل کو دن میں ادا کرسکتا ہے۔ 1 ؂ بغوی نے لکھا ہے کہ ایک شخص حضرت عمر ؓ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا آج میری رات کی نماز فوت ہوگئی حضرت عمر ؓ نے فرمایا رات کو جو نماز فوت ہوگئی اس کو دن میں (پورا) کرلو۔ اللہ نے فرمایا ہے (وَہُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّکَّرَ ) مجاہد نے خلفۃ کا ترجمہ کیا ہے مخالف۔ رات اور دن باہم مخالف بنائے گئے ہیں ایک سیاہ ہے ایک سفید۔ اَنْ یَّذَّکَّرَ یعنی اس شخص کے لئے جو اللہ کی نعمتوں پر غور کرے اور اس کی بنائی ہوئی چیزوں کی حکمت کو سمجھے اور پھر جان لے کہ یقیناً اس کو بنانے والا کوئی پُر حکمت خالق ہے جو واجب لذاتہٖ ہے اور بندوں پر مہربان ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو کار خیر اس سے رات میں یا دن میں فوت ہوگیا ہے اس کو یاد کرلے اور دن کا فوت شدہ کام رات کو اور رات کا فوت شدہ کام دن کو پورا کرلے۔ اَوْ اَرَادَ شُکُوْرًایا اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا کرنا چاہے ‘ یعنی رات کی تاریکی ‘ دن کی روشنی اور (ان کا تبادل) جو کچھ ان کے اندر منافع رکھے ہیں سب کی تخلیق اس غرض سے ہے کہ ذکر کرنے اور عبرت حاصل کرنے والے اللہ کا ذکر کریں اور سبق لیں اور شکر کرنے والے ان نعمتوں کا شکر ادا کریں اگر بغیر ذکر و فکر اور شکر کے یونہی کسی کا وقت گزر جائے تو حقیقت میں اس کی زندگی بیکار گئی اور اصلی سرمایۂ زندگی تباہ ہوگیا۔
Ayah 25:63

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور خدا کے بندے تو وہ ہیں جو زمین پر آہستگی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) گفتگو کرتے ہیں تو سلام کہتے ہیں

وعباد الرحمن الذین یمشون علی الارض ہونا اور رحمن کے (خاص) بندے وہ ہیں جو زمین پر تواضع کے ساتھ چلتے ہیں 2 ؂۔ عباد الرحمن میں اضافت سے مقصود ہے عباد کی عزت افزائی اور ان کی فضلیت کا اظہار۔ یا یہ مقصود ہے کہ یہی وہ لوگ ہیں جو رحمن کی عبادت میں ڈوبے ہوئے ہیں (گویا حقیقت میں یہ ہی اللہ کی بندگی کرنے والے ہیں) اس صورت میں عباد عابد کی جمع ہے جیسے تجار تاجر کی جمع ہے۔ اللہ کے دوسرے نام اس جگہ ذکر نہیں کئے صرف الرحمن کا ذکر کیا اس میں اشارہ ہے کہ اللہ نے ان سے اپنی رحمت کاملہ کا وعدہ کرلیا ہے اور یہ بھی مخلوق خدا پر کامل طور پر مہربان ہیں (جب رحمن کے پرستار ہیں تو خود بھی ان کا رحیم ہونا ضروری ہے) ۔ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ہَوْنًا یعنی تواضع اور فروتنی کے ساتھ پُر وقار ‘ پُر سکون چال سے چلتے ہیں ان کی چال میں نہ غرور ہے نہ اترانا۔ لغت میں ہوں کا معنی ہے نرمی ‘ صاحب قاموس نے ہوں کا معنی لکھا ہے وقار (سنجیدگی) یہی معنی مراد ہیں اس قول رسول میں جس میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا ‘ مؤمن نرم رفتار اور پُر وقار ہوتا ہے اتنا کہ انتہائی نرمی کی وجہ سے تم اس کو احمق خیال کرنے لگتے ہو۔ رواہ البیہقی بسند ضعیف عن ابی ہریرہ ؓ ۔ واذا خاطبہم الجہلون قالوا سلما۔ اور جب بیوقوف لوگ (کوئی ناگوار غیر مناسب بات کہہ کر) ان سے خطاب کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں سلام۔ مجاہد اور مقاتل بن حبان نے سلام کا ترجمہ کیا سداد یعنی سیدھی بات جس سے ایذاء سے بھی سلامت رہیں اور گناہ سے بھی۔ حسن نے کہا اگر کوئی جاہل ان سے جہالت کرتا ہے تو وہ برداشت کرلیتے ہیں (جہالت کے جواب میں) جہالت نہیں کرتے ‘ حسن نے سلام کہنے کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ وہ کہتے ہیں تم پر سلام۔ کیونکہ اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا ہے (وَاِذَا سَعِمُوْا اللَّغْوَا اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا لَنَا اَعْمَالْنَا وَلَکُمْ اَعْمَالُکُمْ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ ) ابو العالیہ نے کہا یہ حکم ‘ جہاد سے پہلے تھا جب آیت جہاد آگئی تو یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ حق بات یہ ہے کہ یہ آیت محکم ہے منسوخ نہیں ہے کیونکہ جہاد کا حکم تو محض اللہ کا بول بالا کرنے کے لئے دیا گیا ہے اگر لوگ لا الہ الا اللہ کے قائل ہوجائیں یا جزیہ ادا کرنے لگیں تو قتال اور لڑنے کا حکم ختم ہوجاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے ‘ مجھے اس وقت تک لڑنے کا حکم دیا گیا کہ لوگ لا الٰہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے قائل ہوجائیں۔ متفق علیہ عن ابن عمر۔ اللہ نے فرمایا جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان سے لڑو یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر جزیہ دینے لگیں۔ رہی یہ آیت (تو اس کا موضوع اور مضمون ہی دوسرا ہے) اس میں بیوقوف جاہلوں کے مقابلہ میں مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے اور ان بیوقوفوں کی طرف توجہ نہ کرنے اور اپنی ذات کے لئے انتقام نہ لینے کی تعلیم دی گئی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا ‘ میرے کچھ رشتہ دار ہیں ‘ میں ان سے میل رکھنا چاہتا ہوں مگر وہ مجھ سے قطع تعلق کرتے ہیں ‘ میں ان سے بھلائی کرتا ہوں وہ میرے ساتھ برائی کرتے ہیں ‘ میں ان کی طرف سے زیادتی برداشت کرتا ہوں وہ مجھ سے جہالت (بدکلامی ‘ بدمعاملگی ‘ بدخوئی) کرتے ہیں ‘ حضور ﷺ نے فرمایا اگر تو ایسا ہی ہے جیسا تو نے کہا تو پھر ان کو خاک پھنکواتا ہے اور جب تک تو اس حالت پر قائم رہے گا ‘ اللہ کی طرف سے ایک مددگار تیرے ساتھ برابر رہے گا۔ رواہ مسلم۔ مروی ہے کہ حسن بصری نے یہ آیت پڑھی تو فرمایا یہ تو ان کی دن کی حالت ہوتی ہے اور (رات میں حالت وہ ہوتی ہے جو آئندہ آیت میں بیان کی گئی ہے) ۔
Ayah 25:64

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور جو وہ اپنے پروردگار کے آگے سجدے کرکے اور (عجز وادب سے) کھڑے رہ کر راتیں بسر کرتے ہیں

والذین یبیتون لربہم سجدا وقیاما۔ اور وہ لوگ جو رات کو اپنے رب کے سامنے سجدے کرتے اور کھڑے رہتے ہیں۔ حسن نے فرمایا ‘ یہ حالت ان کی رات کو ہوتی ہے ‘ عبادت کے لئے رات کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے کیا کہ رات کی عبادت زیادہ دشوار ہوتی ہے ‘ ریاکاری کا بھی اس میں شائبہ نہیں ہوتا ‘ خضوع قلب اور زبان سے دل کی موافقت خوب ہوتی ہے اس کے علاوہ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دن دوسری قسم کی عبادتوں کے لئے مخصوص ہے (جو عام طور پر رات کو ادا نہیں کی جا سکتیں) مثلاً اللہ کی راہ میں جہاد اور کسی ملامت گر کی ملامت کا اندیشہ نہ کرنا تعلیم و تعلم اور ہدایت کرنے اور ہدایت پانے کے لئے نیک لوگوں اور بزرگوں کی صحبت وغیرہ) ۔ سُجَّدَاً ساجد کی جمع ہے اور قیام قائم کی یا قیام مصدر بمعنی اسم فاعل ہے ‘ نماز شب (کی فضیلت) کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے سردار حاملین قرآن اور نماز شب ادا کرنے والے ہیں۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے ‘ میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز رات میں پڑھی جانے والی نماز ہے۔ رواہ احمد۔ حضرت ابو امامہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیام شب کا التزام کرو یہ گزشتہ صلحاء کی عادت جاریہ ہے ‘ رب سے قربت حاصل کرنے ‘ گناہوں کو ساقط کرنے اور (آئندہ) گناہ سے روکنے کا ذریعہ ہے۔ رواہ الترمذی۔ حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین چیزیں ہیں جن کی طرف دیکھ کر اللہ ہنستا ہے (یعنی اظہار پسندیدگی فرماتا) ہے۔ (1) اس آدمی کو دیکھ کر جو رات میں اٹھ کر نماز پڑھتا ہے۔ (2) ان لوگوں کو دیکھ کر جو نماز میں صف بند ہوتے ہیں۔ (3) ان لوگوں کو دیکھ کر جو دشمن کے مقابلے میں لڑنے کے لئے صفیں قائم رکھتے ہیں۔ رواہ البغوی فی شرح السنۃ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جس نے عشاء ( کی نماز) کے بعد دو رکعتیں یا اس سے زیادہ پڑھ لیں (تو گویا) اس نے رات بھر اللہ کے سامنے سجدہ اور قیام میں گزاری ‘ حضرت عثمان بن عفان راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ پڑھ لی تو ایسا ہوگیا جیسے اس نے آدھی رات قیام کیا 1 ؂۔ رواہ مسلم و احمد۔
Ayah 25:65

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور جو دعا مانگتے رہتے ہیں کہ اے پروردگار دوزخ کے عذاب کو ہم سے دور رکھیو کہ اس کا عذاب بڑی تکلیف کی چیز ہے

والذین یقولون ربنا اصرف عنا عذاب جہنم ان عذابہا کان غراما۔ اور وہ لوگ جو کہتے ہیں اے ہمارے رب ہماری طرف سے عذاب جہنم (کا رخ) پھیر دے بلاشبہ جہنم کا عذاب بڑا سخت ہے۔ یعنی وہ اللہ کی عبادت میں سرگرم رہتے ہیں ‘ مخلوق سے معاشرتی ‘ سماجی اور اخلاقی تعلقات بھی مبنی بر انصاف رکھتے ہیں اس کے باوجود وہ اللہ کے عذاب سے خوف زدہ رہتے ہیں اللہ کے سامنے زاری کرتے ہیں کہ وہ اپنا عذاب ان کی طرف سے پھیر دے کیونکہ ان کو اپنے اعمال پر بھروسہ نہیں ہوتا نہ وہ اپنی حالت پر اعتماد رکھتے ہیں۔ حضرت علی ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے انبیاء بنی اسرائیل میں سے ایک نبی (یعنی حضرت داؤد ( علیہ السلام) کے پاس وحی بھیجی کہ اپنی امت کے اطاعت گزار بندوں سے کہہ دو کہ وہ اپنے اعمال پر بھروسہ نہ کر بیٹھیں کیونکہ قیامت کے دن حساب فہمی کے وقت میں جس بندے کو کھڑا کروں گا اور اس کو عذاب دینا چاہوں گا تو (بتقاضاء عدل) اس کو عذاب دوں گا اور میرے نافرمان بندوں سے کہہ دو کہ وہ خود اپنے ہاتھوں اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالیں (یعنی مغفرت سے ناامید نہ ہوں) کیونکہ میں بڑے بڑے گناہ (اگر چاہوں گا تو اپنی رحمت) سے بخش دوں گا اور مجھے پروا نہیں (نہ کسی کو عذاب دینے نہ بخش دینے کی) رواہ ابو نعیم۔ غرام کے معنی ہیں لازم (دور نہ ہونے والا) قرضدار کو قرض خواہ چمٹا رہتا ہے اسی لئے قرضدار کو غریم کہتے ہیں بغوی نے لکھا ہے غرام کا معنی ہے بہت سخت چمٹنے والا۔ بعض نے کہا غرام کا معنی ہے ہلاکت یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو سخت شدید مصیبت انسان پر پڑتی ہے اس کو غرام کہتے ہیں۔ محمد بن کعب قرظی نے کہا اللہ نے کافروں کو حکم دیا کہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں لیکن انہوں نے شکر ادا نہیں کیا اس لئے اللہ نے ان پر سخت (لازم ‘ ناقابل زوال) مصیبت ڈال دی اور وہ (ہمیشہ) دوزخ میں رہیں گے۔ حسن نے کہا ہر غریم اپنے غریم سے جدا ہوتا ہے لیکن جہنم جدا نہ ہوگا۔
Ayah 25:66

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

اور دوزخ ٹھیرنے اور رہنے کی بہت بری جگہ ہے

انہا سآءت مستقرا ومقاما۔ بیشک دوزخ بری قرارگاہ اور جائے قیام ہے۔ یعنی دوزخ میں ٹھہرنا اور رہنا برا ہے۔ (مطلب یہ کہ مستقر اور مقام بمعنئ مصدری ہیں) ۔
Ayah 25:67

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ بےجا اُڑاتے ہیں اور نہ تنگی کو کام میں لاتے ہیں بلکہ اعتدال کے ساتھ۔ نہ ضرورت سے زیادہ نہ کم

والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقتروا اور وہ لوگ جو خرچ کرتے وقت نہ اسراف کرتے ہیں نہ کنجوسی۔ اسراف گناہ کے راستہ میں خرچ کرنا خواہ کتنی ہی قلیل مقدار ہو اقتار اللہ کے حق کو روکنا۔ حضرت ابن عباس ‘ مجاہد ‘ قتادہ اور ابن جریج کا یہی قول ہے حسن نے اس کی تائید میں آیت کا معنی اس طرح بیان کیا کہ وہ اللہ کی نافرمانی میں خرچ نہیں کرتے اور نہ اللہ کے قائم کئے ہوئے حقوق کو ادا کرنے میں بخل کرتے ہیں بعض لوگوں نے کہا اسراف کے معنی حد سے بڑھ کر فضول خرچی جو حد تبذیر (مال بکھیرنے) تک پہنچا دے اوراقتار کا معنی ہے انتہائی ضرورت کے موقع پر بھی خرچ نہ کرنا۔ ابراہیم کے اس قول کے بھی یہی معنی ہیں کہ وہ نہ لوگوں کو ننگا بھوکا رکھتے ہیں نہ اتنا خرچ کرتے ہیں کہ لوگ کہنے لگیں کہ انہوں نے یہ خرچ فضول کیا۔ میں کہتا ہوں یہ قول پہلے ہی قول کی طرف راجع ہے بلکہ اس سے زیادہ خاص ہے کیونکہ جائز خرچ میں بھی حد شرعی سے تجاوز کر جانا کہ حد تبذیر تک پہنچ جائے گناہ اور حرام ہے اللہ نے فرمایا ہے۔ (اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُوْا اِخْوَان الشَّیْطٰیِنَ وَکَان الشَّیْطٰنُ لِرَبِّہٖ کُفُوْرًا) اور جن کے لئے خرچ کرنا واجب ہے کہ ان کو ننگار بھوکا نہ رہنے دے اور اللہ کے مقرر کردہ مالی حق کو ادا کرنا اور اس میں کنجوسی نہ کرنا لازم ہے۔ وکان بین ذلک قواما اور ان کا خرچ کرنا (افراط وتفریط کے) درمیان اعتدال پر ہوتا ہے۔ قوام درمیانی۔ دو برائیوں کے درمیان بھلائی 1 ؂۔ وسط کو قوام کہنے کی وجہ یہ ہے کہ وسط کے دونوں طرف متوازن ہوتے ہیں اور چونکہ دونوں جانب مساوی بھی ہوتے ہیں اس لئے وسط کو سواء بھی کہا جاتا ہے۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت ابن مسعود ؓ : کا بیان نقل کیا ہے حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا ‘ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا ‘ سب سے بڑا کون سا گناہ ہے ‘ فرمایا ‘ اللہ کی مثل دوسرے کو قرار دینا حالانکہ اللہ نے ہی تم کو پیدا کیا ہے ‘ میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ‘ فرمایا اس خوف سے اپنی اولاد کو قتل کردینا کہ وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائے گی ‘ میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سا (گناہ سب سے بڑا ہے) فرمایا ‘ اپنے ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرنا ‘ اس کی تصدیق میں اللہ نے آیات ذیل نازل فرمائیں۔
Ayah 25:68

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور وہ جو خدا کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور جن جاندار کو مار ڈالنا خدا نے حرام کیا ہے اس کو قتل نہیں کرتے مگر جائز طریق پر (یعنی شریعت کے مطابق) اور بدکاری نہیں کرتے۔ اور جو یہ کام کرے گا سخت گناہ میں مبتلا ہوگا

والذین لا یدعون مع اللہ الہا اخر ولا یقتلون النفس التی حرم اللہ الا بالحق ولا یزنون اور وہ لوگ جو کسی دوسرے معبود کو اللہ کے ساتھ نہیں پکارتے اور نہ بغیر حق کے کسی ایسے شخص کو قتل کرتے ہیں جس کو قتل کرنے کی اللہ نے ممانعت فرما دی ہے اور نہ زنا کرتے ہیں۔ بِالْحَقِّیعنی حق پر قتل کرتے ہیں مثلاً قصاص میں قتل کرتے ہیں یا (محصن کو) زنا کی سزا میں سنگسار کرتے ہیں وغیرہ ان آیات میں بنیادی گناہوں کی نفی کی گئی ہے اس سے اوپر اصول طاعات کا اثبات کیا گیا تھا اس نفی و اثبات سے مقصود ہے مؤمنوں کے کمال ایمانی کا اظہار اور اس بات پر تنبیہ کہ جس اجر کا وعدہ کیا گیا ہے وہ انہی مسلمانوں سے کیا گیا ہے جو اصول طاعت کے ساتھ متصف اور امہات معاصی سے مجتنب رہنے ہیں۔ درپردہ اس میں کافروں پر تعریض بھی ہے کہ وہ معاصی سے اجتناب نہیں کرتے اور اصول طاعت کو ادا نہیں کرتے ان کے اوصاف مؤمنوں کے اوصاف کے بالکل برعکس ہیں اسی لئے آئندہ آیت میں مرتکب معصیت کے عذاب میں مبتلا ہونے کی وعید بیان فرما دی ‘ اور ارشاد فرمایا۔ ومن یفعل ذلک یلق اثاما اور جو شخص یہ کام کرے گا وہ گناہوں کی سزا پائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا گناہ سے مراد ہے گناہ کی سزا۔ ابو عبیدہ نے کہا اثام کا معنی ہے سزا۔ مجاہد نے کہا اثام جہنم کے اندر ایک وادی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی گئی ہے حدیث میں آیا ہے کہ غی اور اثام (جہنم کے اندر) دو کنویں ہیں جن کے اندر دوزخیوں کا لہو ‘ پیپ بہ کرجاتا ہے۔ میں کہتا ہوں ابن ابی حاتم نے اس آیت کی تشریح میں حضرت ابن عمر ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ اثام جہنم میں ایک وادی ہے ‘ ہناد نے سفیان کا بھی یہی قول بیان کیا ہے۔ ابن جریر ‘ طبرانی اور بیہقی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی پتھر جس کا وزن دس اوقیہ ہو جہنم کے کنارہ سے (اندر کی طرف) پھینکا جائے تو ستّر برس میں غی و اثام تک پہنچے گا۔ راوی کا بیان ہے میں نے عرض کیا غی اور اثام کیا ہیں ‘ فرمایا جہنم کی تلی میں دو نہریں ہیں جن کے اندر دوزخیوں کا کچ ‘ لہو بہ کرجاتا ہے انہی دونوں کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے اور فرمایا ہے۔ فَسَوْفَ یّلْقُوْنَ غَیًّا۔ وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلکَ یَلْقَ اَثَامًا۔
Ayah 25:69

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

قیامت کے دن اس کو دونا عذاب ہوگا اور ذلت وخواری سے ہمیشہ اس میں رہے گا

یضعف لہ العذاب یوم القیمۃ قیامت کے دن اس پر دوہرا عذاب ہوگا۔ کفر کا اور گناہ کا۔ ویخلد فیہ مہانا۔ اور وہ عذاب میں ہمیشہ ذلیل ہو کر رہے گا۔ شیخین نے حضرت ابن عباس ؓ : کی روایت سے بیان کیا ہے کہ مشرکوں میں سے کچھ لوگوں نے بکثرت قتل کئے اور قتل کے ساتھ جرم زنا کے بھی مرتکب ہوئے ‘ پھر رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا آپ جو کچھ فرماتے ہیں اور جس چیز کی آپ دعوت دے رہے ہیں وہ ہے تو اچھی ‘ مگر یہ بتائیے کہ ہمارے گناہ کا اتار کس طرح ہوگا۔ اس پر آیت (وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہسے یَخْلُدْ فِیْہِ مَہَانًا ‘ اِلاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنْ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا) تک نازل ہوئی۔
Ayah 25:70

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یُبَدِّلُ اللّٰهُ سَیِّاٰتِهِمْ حَسَنٰتٍ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:70 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کئے تو ایسے لوگوں کے گناہوں کو خدا نیکیوں سے بدل دے گا۔ اور خدا تو بخشنے والا مہربان ہے

الا من تاب وامن وعمل صالحا یعنی وہ لوگ مستثنیٰ ہیں جنہوں نے (شرک سے) توبہ کرلی اور ایمان لے آئے اور نیک اعمال کئے۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک توبہ کرنے سے مراد ہے گناہ سے توبہ کرنا اور ایمان لانے سے مراد ہے اپنے رب پر ایمان لانا۔ اسی قصے کے متعلق آیت (قُلْ لِّعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ ۔۔ ) بھی نازل ہوئی۔ بخاری وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب (سورت) الفرقان میں اللہ نے آیات (وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہ اِلٰہًا اٰخَرَ وَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ ۔۔ ) نازل فرمائیں تو مکہ کے مشرکوں نے کہا ہم نے تو ناحق قتل بھی کئے ہیں اور اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کی بھی عبادت کی ہے اور بےحیائی کے کاموں (یعنی زنا) کا ارتکاب بھی کیا ہے (ہم اگر مسلمان ہوگئے تو ہمارا کیا ہوگا) اس پر آیت اِلَّا مَنْ تَابَنازل ہوئی۔ بغوی نے لکھا ہے ہم کو حضرت ابن عباس ؓ : کا یہ قول پہنچا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ہم دو سال تک آیت والَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہَ اِلَہًا آخَرَ (مہانا تک) پڑھا کرتے تھے ‘ پھر (دو سال کے بعد) نازل ہوا۔ اِلاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ اس آیت کے نازل ہونے سے اور آیت (اِنَّا فَتْحَنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا لِیَغْفِرَلَکَ اللّٰہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِکَ وَمَا تَاَخَّرَ ) کے نازل ہونے سے جیسا خوش رسول اللہ ﷺ : کو دیکھا ایسا خوش میں نے حضور ﷺ : کو کبھی نہیں دیکھا۔ ایک شبہ مستثنیٰ کو مستثنیٰ منہ کے ساتھ ہی ہونا ضروری ہے ‘ دونوں کے درمیان فصل زمانہ ناجائز ہے پھر یہ کہنا کس طرح درست ہے کہ الاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنَکا نزول والَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہَ اِلَہًا اخَرَا۔۔ کے نزول کے دو سال بعد ہوا۔ ازالہ ہم کہتے ہیں کہ پہلے آیت مذکورہ بغیر استثناء کے (صرف مہاناً تک) نازل ہوئی تھی پھر پوری آیت والَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ سے آخر تک (یعنی غَفُوْرًا رَحِیْمًاتک) نازل ہوئی (گویا مستثنیٰ اور مستثنیٰ منہ دونوں کا نزول ایک ہی وقت میں ہوا) پس یہ آیت پہلی آیت کو مقدار استثناء کے لحاظ سے منسوخ کر رہی ہے۔ مزید شبہ اصول فقہ کا یہ مسئلہ طے شدہ ہے کہ حکم منسوخ ہوتا ہے خبر منسوخ نہیں کی جاسکتی اور یہ آیت جملۂ خبریہ ہے اس کے منسوخ کئے جانے کا کیا معنی۔ ازالہ خبر منسوخ نہیں ہوتی بیشک یہ بات صحیح ہے ورنہ پہلی خبر کا جھوٹ ہونا لازم آئے گا اور خدا کی دی ہوئی خبر کذب کا احتمال بھی نہیں رکھتی ‘ لیکن آیت وعید (خواہ خبری شکل میں ہو) منسوخ ہوسکتی ہے کیونکہ وعید کے خلاف واقع ہونا جائز ہے۔ اہل سنۃ کا یہی مسلک ہے اگرچہ معتزلہ کا قول اس کے خلاف ہے۔ (مترجم) اللہ اپنی رحمت و فضل سے اپنی دی ہوئی وعید کے خلاف کرسکتا ہے حقیقت میں وعید خبر نہیں ہوتی انشاء ہوتی ہے (کیونکہ خبر کے لئے مخبر عنہ کا پہلے ہونا ضروری ہے اور وعید کا ظہور آئندہ ہوگا اس لئے آیت وعید گو بصورت خبر ہوتی ہے مگر حقیقت میں انشاء ہوتی ہے اور انشاء یعنی حکم کو منسوخ کیا جاسکتا ہے۔ مترجم) ۔ یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ اثبات سے استثناء نفی اور نفی سے استثناء اثبات ہوتا ہے (یعنی مستثنیٰ حکم مسکوت عنہ میں نہیں ہوتا جیسا کہ احناف کا خیال ہے۔ مترجم) ۔ آیت میں استثناء کا مفرغ ہونا اسی کو بتارہا ہے ایسا نہیں ہے کہ استثنا کے بعد جو مستثنیٰ منہ باقی رہتا ہے اس کا حکم تو منطوق ہوتا ہے اور مستثنیٰ کی طرف سے سکوت ہوتا ہے یعنی اس کا حکم معلوم نہیں ہوتا۔ ورنہ لازم آئے گا کہ منطوق حکم کو مسکوت عنہ حکم سے منسوخ کردیا گیا اور یہ درست نہیں۔ فاولئک یبدل اللہ سیاتہم حسنت انہی (نیکوکار مؤمنوں) کی برائیوں کو اللہ نیکیوں میں تبدیل کر دے گا۔ ایک جماعت نے اس آیت کا یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ توبہ کے بعد ان کے گزشتہ گناہوں کو مٹا دے گا اور ان کی جگہ آئندہ ہونے والی نیکیوں کو قائم کر دے گا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ گناہوں کے ارتکاب کی جو قوت ان کے نفوس میں تھی دنیا ہی میں ان کی اس قوت معصیت کو قوت طاعت سے تبدیل کر دے گا اور گزشتہ معاصی کے خلاف طاعت کی توفیق عنایت کر دے گا۔ یہی مطلب ہے حضرت ابن عباس ‘ حسن ‘ سعید بن جبیر ‘ مجاہد ‘ ضحاک اور سدی کے اس تشریحی قول کا کہ حالت شرک میں کئے ہوئے برے اعمال کی جگہ حالت اسلام میں کئے ہوئے اچھے اعمال کو اللہ دے دے گا۔ شرک کو توحید سے مؤمنوں کے قتل کو حربی مشرکوں کے قتل سے اور زنا کو عفت و پاکدامنی سے بدل دے گا۔ کچھ علماء نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ اپنی مہربانی سے اسلام میں کئے ہوئے برے اعمال کو قیامت کے دن نیکیوں میں تبدیل کر دے گا یہی قول سعید بن مسیب ‘ مکحول ‘ ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ :‘ حضرت ابوہریرہ ؓ اور حضرت سلمان فارسی ؓ : کا مروی ہے اس کی تائید حضرت ابوذر ؓ کی حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ایک آدمی کو (حساب کے لئے) لایا جائے گا اور حکم ہوگا اس کے چھوٹے گناہ اس کے سامنے لاؤ حسب الحکم چھوٹے گناہ اس کے سامنے لائیں گے اور اس کے بڑے گناہ پوشیدہ رکھے جائیں گے وہ چھوٹے گناہوں کا اقرار کرے گا انکار نہیں کرے گا اور بڑے گناہوں (کی پیشی) کا اندیشہ کرتا رہے گا حکم ہوگا ہر گناہ کی جگہ اس کو ایک نیکی دے دو وہ کہے گا میرے گناہ تو اور بھی ہیں جو مجھے یہاں دکھائی نہیں دیتے۔ راوی کا بیان ہے یہ فرماتے وقت رسول اللہ ﷺ اتنے ہنس پڑے کہ کچلیاں نظر آنے لگیں۔ رواہ مسلم۔ ابن ابی حاتم نے حضرت سلمان ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ایک شخص کو اس کا اعمالنامہ دیا جائے گا جونہی وہ اعمالنامہ کا بالائی حصہ پڑھے گا تو اس کے خیالات برے ہونے لگیں (لیکن) وہ یکدم اعمالنامہ کے نیچے کے اندراجات کو دیکھے گا تو اس میں اس کو اپنی نیکیاں دکھائی دیں گی پھر جو بالائی حصہ کو دیکھے گا تو اس میں مندرجہ برائیاں نیکیوں سے تبدیل ہوچکی ہوں گی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے یہ بھی بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن کچھ ایسے لوگوں کو بھی اللہ (موقف میں) لائے گا جو دل سے خواہشمند ہوں گے کہ انہوں نے (کاش) گناہ بہت کئے ہوتے۔ دریافت کیا گیا یہ کون لوگ ہوں گے فرمایا جن کی برائیاں نیکیوں میں تبدیل کردی گئی ہوں گی۔ ایک شبہ گناہ تو اللہ کو پسند نہیں ‘ ایک ناگوار امر ہے اور نیکی اللہ کو پسند ہے اور اللہ اپنے بندوں سے کفر اور معصیت کو پسند نہیں کرتا پھر بدی نیکی کیسے ہوجائے گی اور کس طرح گناہ قابل ثواب بن جائے گا ناپسندیدہ ‘ پسندیدہ کیسے ہوسکتا ہے۔ ازالہ اس شبہ کو دو طرح سے دور کیا جاسکتا ہے۔ (1) اللہ کے نیک بندوں سے اگر بتقدیر الٰہی کوئی گناہ سرزد ہوجاتا ہے تو ان کو انتہائی پشیمانی ہوتی ہے اتنی کہ خود ان کو اپنی جان ذلیل معلوم ہونے لگتی ہے ‘ فوراً اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں زاری کرتے ہیں اللہ کے عذاب سے ڈرتے ہیں ‘ معافی کے طلبگار ہوتے ہیں آخر رحمت الٰہی کی ان پر اتنی اور ایسی بارش ہونے لگتی ہے کہ اگر وہ گناہ نہ کرتے تو اس رحمت کا نزول ان پر نہ ہوتا اور اس مرتبے پر نہ پہنچتے حاصل یہ کہ گناہ جو موجب عذاب تھا ‘ ندامت و استغفار کے بعد سبب ثواب بن جاتا ہے اسی مفہوم کو ظاہر کرتا ہے رسول اللہ ﷺ : کا یہ ارشاد کہ اگر تم نے گناہ نہ کئے تو اللہ تم کو لے جائے گا اور تمہاری جگہ ایسے لوگوں کو لے آئے گا جو گناہ کریں گے پھر اللہ سے معافی کے طلبگار ہوں گے اور اللہ ان کو معاف کر دے گا۔ رواہ مسلم من حدیث ابی ہریرۃ۔ یہ بھی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ ماعز بن مالک کے لئے دعائے مغفرت کرو۔ اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ایک گروہ کو تقسیم کردی جائے تو سب کو اپنے اندر سما لے (سب کی مغفرت کے لئے کافی ہوجائے۔ حضرت ماعز ایک مخلص صحابی تھے حسب تقدیر ان سے زنا کا صدور ہوگیا اور خود حاضر ہو کر انہوں نے اقرار و اظہار کرنے کے بعد حد زنا جاری کرنے کی درخواست کی ‘ حضور ﷺ نے ہرچند اشارات کئے کہ وہ زنا کے اقرار سے پھرجائیں لیکن انہوں نے اصرار کے ساتھ چار مرتبہ اقرار کیا اور سزا کے امیدوار ہوئے آخر حضور ﷺ نے ان کو سنگسار کرا دیا۔ مترجم) ۔ (ایک عورت قبیلہ غامدیہ میں کی تھی اس سے فعل زنا سرزد ہوگیا اس نے بھی حاضر ہو کر سزائے زنا جاری کرنے کی درخواست کی اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے پاک کر دیجئے اس کو بھی حضور ﷺ نے ہرچند ٹالنا چاہا مگر وہ نہ مانی آخر اس کو بھی حضور ﷺ نے سنگسار کرا دیا) حضرت خالد ؓ بن ولید نے اس غامدیہ عورت کے متعلق کچھ ناشائستہ الفاظ کہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ خالد زبان روک قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ایسی توبہ مکس والا بھی کرلے تو اس کی بھی مغفرت ہوجائے (مکس وہ ٹیکس جو عشر کے بہانہ سے سرکاری آدمی سوداگروں سے وصول کرلیتے تھے یہ ٹیکس بیرونی سوداگروں سے دھوکہ دے کرلیا جاتا تھا۔ مجمع البحار) رواہ مسلم فی قصۃ ماعز والغامدیۃ عن بریدۃ۔ یہی روح ہے اس قول کی جس گناہ کا آغاز غفلت اور انجام ندامت (و توبہ) ہو وہ اس طاعت سے بہتر ہے جس کا آغاز فخر اور انجام ریاکاری ہو۔ (2) بحر محبت میں ڈوبنے والوں سے کبھی کبھی کوئی ایسا عمل یا قول سرزد ہوجاتا ہے جو معیار شریعت سے گرا ہوا ہوتا ہے جیسے رہبانیت (ترک لذائذ ‘ ترک تعلقات ‘ ترک کل) سماع ‘ وجد اور سطحیات (غیر شرعی کلمات) چونکہ ان امور کا صدور خالص محبت و عشق کے زیر اثر ہوتا ہے اس لئے ان کی ان ظاہری لغزشوں کو اللہ نیکیوں سے تبدیل کر دے گا۔ عارف رومی نے فرمایا ہے۔ ہرچہ گیرد علتی علت شود کفر گیرد کا ملے ملت شود کار پاکان را قیاس از خود گیر گرچہ ماند در نوشتن شیر و شیر او بدل گشت و بدل شد کار او لطف گشت و نور شد ہر ناراو شاید حضرت ابوذر کی حدیث میں جو آیا ہے کہ (قیامت کے دن بعض لوگوں کے متعلق حکم ہوگا کہ) اس کے چھوٹے گناہ اس کے سامنے لاؤ حسب الحکم چھوٹے گناہ اس کے سامنے لائے جائیں گے اور پوشیدہ گناہوں کو پوشیدہ رکھا جائے گا۔ اس سے اشارہ ہمارے مذکورۂ بالا قول کی طرف ہے کیونکہ کاملوں سے جو ان امور کا صدور ہوتا ہے وہ غلبۂ محبت کے زیر اثر ہوتا ہے۔ شرعی نقطۂ نظر سے ان کو چھوٹے گناہ کہا جاسکتا ہے کبیرہ گناہ نہیں قرار دیا جاسکتا چونکہ ان صغیرہ گناہوں کا اصل سرچشمہ (ارادۂ معصیت نہیں بلکہ) غلبۂ محبت ہوتا ہے اس لئے اللہ ان کو نیکیاں بنا دے گا رہے کبیرہ گناہ جو بقضاء خداوندی کبھی کبھی ان سے سرزد ہوگئے ہوں گے ان کو پوشیدہ رکھا جائے گا اور معاف کردیا جائے گا ذکر بھی نہیں کیا جائے گا جیسا کہ آئندہ آیت اس کی طرف اشارہ کررہی ہے۔ وکان اللہ غفورا رحیما۔ اور اللہ بہت معاف کرنے والا بڑا مہربان ہے۔ چھوٹے بڑے سب گناہوں کو بخش دے گا توبہ کے بعد بھی اور بغیر توبہ کے بھی۔ میں کہتا ہوں آیت والَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہَ اِلَہًا اٰخَرَا سے شاید فناء قلب کی طرف اشارہ ہے ‘ فناء قلب کے بعد آدمی سوائے خدا کے کسی چیز کا قصد نہیں کرتا ‘ اللہ کے سوا اس کو نہ کسی سے کوئی امید رہتی ہے نہ خوف ‘ اللہ ہی اس کا مقصود ہوجاتا ہے اور جو مقصود ہوتا ہے وہی معبود ہوتا ہے بلکہ اس کو اللہ کے سوا کوئی چیز موجود ہی نہیں دکھائی دیتی کیونکہ حقیقی وجود اللہ کا ہے دوسری چیزوں کا حقیقی وجود نہیں (بلکہ وجود حقیقی کا ایک پر تو اور سایہ ہے) صرف اللہ ہی کا اصل وجود ہے ‘ ذاتِ الٰہی کا تقاضا ہے وجود۔ ایک شبہ کیا عام اہل ایمان کا یہ عقیدہ نہیں ہے کہ اللہ ہی کا وجود حقیقی اور اصلی ہے اور دوسروں کا وجود ایسا نہیں ہے (بلکہ ظلی اور غیر حقیقی ہے) پھر فناء قلب کے درجہ تک پہنچنے والوں کی کیا خصوصیت ہے۔ ازالہ میں کہتا ہوں عقیدہ تو سب مؤمنوں کا یہی ہے لیکن ان کا یہ عقیدہ استدلالی ہے شہودی نہیں ‘ معائنہ پر مبنی نہیں۔ بداہت وجدان اس پر شاہد ہے دیکھو عام مؤمنوں کو (بظاہر) طمع اور خوف اللہ کے سوا دوسروں سے ہوتا ہے اس سے آگے ولا یَقْتُلْوَن النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ الاَّ بالْحَقِّ وَلاَ یَرْثُوْنَ ۔ سے شاید فناء نفس کی طرف اشارہ ہے ‘ نفس امارۂ بالسوء (گناہ کا حکم دینے والا نفس) جب فنا ہوجاتا ہے اور اللہ کی مرضی پر اس کو اطمینان حاصل ہوجاتا ہے تو سارے جذبات معصیت اس سے الگ ہوجاتے ہیں۔ ہماری اس توجیہ کا ثبوت یہ ہے کہ پہلے اللہ نے ان کے صفات کمالیہ کا ذکر کیا اور فرمایا وَعِبَاد الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ ۔۔ اس کے بعد اوصاف مذکورۂ بالا (عدم قتل و عدم زنا وغیرہ) کا ذکر کیا اگر اس سے مجازی (عرفی) توحید اور ظاہری تقویٰ مراد ہوتا تو پھر آیت وَعِبَاد الرَّحْمٰنِسے پہلے اس کا ذکر ہونا چاہئے تھا۔
Ayah 25:71

وَ مَنْ تَابَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّهٗ یَتُوْبُ اِلَى اللّٰهِ مَتَابًا Open ayah 25:71 in the Quran reader

اور جو توبہ کرتا اور عمل نیک کرتا ہے تو بےشک وہ خدا کی طرف رجوع کرتا ہے

ومن تاب اور جس نے توبہ کی۔ یعنی شرک و معاصی سے توبہ کی۔ شرک اور گناہ کو چھوڑ دیا اور ندامت کے ساتھ معافی کا طلبگار ہوا۔ وعمل صالحا اور نیک عمل کئے۔ یعنی گزشتہ عمل بد کی تلافی نیک اعمال سے کی یا یہ مطلب ہے کہ شرک و معصیت کو چھوڑ کر دائرۂ طاعت میں داخل ہوگیا۔ فانہ یتوب الی اللہ متابا۔ تو (وہ بھی عذاب سے بچا رہے گا کیونکہ) حقیقت میں وہ اللہ کی طرف سے خاص طور پر رجوع کر رہا ہے۔ پس اللہ کا (عطا کیا ہوا) حق ہے کہ اللہ اس کو ثواب دے اور اس کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے۔ مَتَابًاکی تنوین بعض اہل تفسیر کے نزدیک تعظیم کے لئے اور توبہ کی ترغیب کے لئے ہے مطلب یہ کہ وہ اللہ کی طرف ایسا عظیم الشان رجوع کرتے ہیں جو اللہ کی نظر میں پسندیدہ ہے اور عذاب کو مٹا دینے والا ہے اور حصول ثواب کا ذریعہ ہے۔ بعض علماء نے کہا اللہ کی طرف لوٹنے سے مراد ہے اللہ کے ثواب کی طرف لوٹنا اور یہ تخصیص کے بعد تعمیم ہے۔ بغوی نے لکھا ہے بعض اہل علم کا قول ہے کہ جن گناہوں سے اجتناب کرنے کی سابق آیت میں صراحت کی گئی ہے اس آیت میں ان گناہوں سے توبہ مقصود نہیں ہے دوسری قسم کی توبہ اور رجوع مقصود ہے۔ یعنی جن لوگوں نے شرک سے توبہ کی اور فرائض کو ادا کیا اور قتل و زنا کا ارتکاب نہیں کیا اس کا رجوع مرنے کے بعد اللہ کی طرف بحسن و خوبی ہوگا۔ قتل و زنا کا ارتکاب کرنے والوں سے قتل و زنا نہ کرنے والوں کا رجوع بہتر حالت میں ہوگا ‘ اس صورت میں پہلی توبہ جس کا ذکر من تاب میں کیا گیا ہے جزا ہوگی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ آیت تمام گناہوں سے توبہ کے متعلق ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص توبہ کرنے کا ارادہ کرے اور عز م کرچکا ہو تو اس کو لوجہ اللہ توبہ کرنا چاہئے فَاِنَّہٗ یَتُوْباگرچہ خبر ہے لیکن بمعنئ امر ہے۔ بعض نے کہا (یتوب میں توبہ بمعنی رجوع ہے) مطلب یہ ہے کہ آخر اللہ کی طرف لوٹنا اور منتقل ہونا ہے۔ میں کہتا ہوں اگر آیت یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیِّاٰتِہِمْ حَسَنٰتٍ میں وہ تائب مراد ہوں جن سے غلبۂ حال اور سکر و محبت کے زیر اثر کچھ ایسی لغزشیں ہوگئی ہوں جو غیر شرعی ہوں معیار شرع پر پوری نہ اترتی ہوں پھر اس محبت کے غلبہ کی وجہ سے اللہ ان کی لغزشوں کو نیکیوں میں تبدیل کر دے تو اس آیت میں وہ نیک بندے مراد ہوسکتے ہیں جن سے کوئی غیر شرعی حرکت سرزد نہیں ہوئی نہ سکر اور غلبۂ حال کی وجہ سے نہ حالت صحو میں بلکہ ان بندوں نے تمام مکروہات و ممنوعات شرعیہ سے رجوع کرلیا اور کبھی کوئی گناہ کا کام نہیں کیا ‘ ان اصحاب صحو کا رجوع اللہ کی طرف اصحاب سکر سے بہتر ہوگا جیسے نقشبندیہ ہیں جو بالکل صحابۂ کرام کا نمونہ ہیں اور صحابہ کی طرح سنت کے پیرو ہیں۔
Ayah 25:72

وَ الَّذِیْنَ لَا یَشْهَدُوْنَ الزُّوْرَ١ۙ وَ اِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِ مَرُّوْا كِرَامًا Open ayah 25:72 in the Quran reader

اور وہ جو جھوٹی گواہی نہیں دیتے اور جب ان کو بیہودہ چیزوں کے پاس سے گزرنے کا اتفاق ہو تو بزرگانہ انداز سے گزرتے ہیں

والذین لا یشہدون الزور اور وہ جو جھوٹی شہادت نہیں دیتے۔ بغوی نے لکھا ہے ضحاک اور اکثر مفسرین کے نزدیک زور سے مراد ہے شرک۔ میں کہتا ہوں اس تفسیر پر نفی شرک کی تکرار ہوجائے گی۔ کیونکہ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہَ اِلَہًا اٰخَرَمیں شرک کی نفی ہے۔ علی بن طلحہ کے نزدیک شہادت زور سے مراد ہے لوگوں کے خلاف جھوٹی شہادت دینی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا جھوٹے گواہ کے چالیس تسمے (کوڑے) مارے جائیں اور منہ کالا کر کے بازار میں گھمایا جائے۔ ابن ابی شیبہ نے بروایت ابو خالد بحوالۂ حجاج بوساطت مکحول ولید کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے اپنے عاملوں کو جو شام میں مامور تھے لکھ بھیجا تھا کہ جھوٹے گواہ کے چالیس کوڑے مارے جائیں اور منہ کالا کیا جائے اور سر منڈوا دیا جائے اور طویل مدت تک قید میں رکھا جائے۔ عبدالرزاق نے مصنف میں مکحول کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے جھوٹے گواہ کے چالیس کوڑے لگوائے تھے۔ یہ بھی عبدالرزاق نے لکھا ہے کہ مجھ سے یحییٰ بن علاء نے اور یحییٰ سے احوص بن حکیم نے بیان کیا اور احوص نے اپنے باپ کی روایت سے نقل کیا کہ حضرت عمر ؓ نے جھوٹے گواہ کے متعلق حکم دیا کہ اس کا منہ کالا کیا جائے اور اس کی پگڑی گردن میں ڈال کر قبائل میں گھمایا جائے۔ حضرت عمر ؓ کے انہی احکام کی روشنی میں امام مالک ‘ (رح) : امام شافعی (رح) :‘ امام ابو یوسف (رح) اور امام محمد (رح) نے فرمایا جھوٹے گواہ کو (کوڑے) مارنے کی تعزیری سزا دی جائے اور اس کی قوم کے سامنے لے جا کر اس کو کھڑا کیا جائے تاکہ وہ بھی پہچان جائیں کہ یہ جھوٹا گواہ ہے۔ امام مالک (رح) نے اتنا زائد فرمایا کہ مسجدوں اور بازاروں میں اس کو حاضر کیا جائے۔ مذکورۂ بالا ائمہ نے فرمایا کہ جھوٹی شہادت گناہ کبیرہ ہے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا فرمان حضرت انس ؓ کی روایت سے شیخین نے صحیحین میں نقل کیا ہے۔ بخاری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تم کو بتاؤں کہ سب سے بڑے کبیرہ گناہ کون سے ہیں صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ضرور فرمائیے ‘ فرمایا اللہ کا ساجھی قرار دینا ‘ ماں باپ سے سرکشی کرنا ‘ حضور ﷺ اس وقت تکیہ لگائے ہوئے تھے فوراً اٹھ بیٹھے اور فرمایا سنو اور جھوٹی بات کہنی ‘ جھوٹی شہادت دینی۔ حضور ﷺ نے اس لفظ کو بار بار اتنی مرتبہ فرمایا کہ ہم نے (اپنے دل میں) کہا اب حضور ﷺ خاموش ہوجاتے تو بہتر تھا۔ اللہ نے شرک اور جھوٹی شہادت سے پرہیز رکھنے کا یکجائی حکم ملا کردیا ہے اور فرمایا ہے فاجْتَنِبَوُا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ جب شہادت زور کبیرہ گناہ قرار پائی اور اس کی کوئی شرعی سزا مقرر نہیں ہے بلکہ اس میں تعزیر ہے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تعزیری سزا کے لئے صرف تشہیر کافی ہے۔ مارنا اور قید کرنا جائز نہیں کیونکہ تعزیر کا مقصد ہے (مجرم کو) بازداشت اور یہ بازداشت تشہیر سے حاصل ہوجاتی ہے۔ مارنے اور قید کرنے میں زجر و بازداشت کی شدت ہے لیکن ایسی سخت سزا کا تصور مجرم کو اپنی شہادت کے جھوٹے ہونے کے اقرار اور شہادت سے لوٹ جانے سے روکتا ہے اور شہادت کا جھوٹ ہونا بغیر اس کے ثابت نہیں ہوتا کہ مجرم خود ہی اپنی شہادت کے کاذب ہونے کا اقرار کرے اور دی ہوئی شہادت سے لوٹ جائے لہٰذا جھوٹی شہادت کی سزا میں تخفیف ہونی چاہئے (تاکہ مجرم اپنی شہادت کے جھوٹے ہونے کا اقرار کی جرأت کرسکے) رہا حضرت عمر ؓ کا اثر تو وہ محض سیاسی تھا۔ (آئینی نہ تھا آرڈیننس تھا جس کا امیروقت کو اختیار ہے) ۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے قول کی طرح قاضی شریح کا قول بھی روایت میں آیا ہے۔ امام محمد نے کتاب الآثار میں بیان کیا ہے کہ شریح جب کسی جھوٹے گواہ کو پکڑ لیتے تھے اور مجرم بازاری شخص ہوتا تو شریح اپنے قاصد کو حکم دیتے کہ جا کر بازار والوں سے کہہ دو کہ شریح تم کو سلام کہتا ہے اور سلام کے بعد اس نے کہا ہے کہ ہم نے اس شخص کو جھوٹا شاہد پایا تم لوگ اس سے پرہیز رکھو اور اگر مجرم (بازاری نہ ہوتا بلکہ) عرب کے قبیلہ میں سے ہوتا تو اس قبیلہ کی مسجد میں قاصد کو بھیج کر مذکورہ بالا پیام کہلا بھیجتے۔ ابن ابی شیبہ نے بھی شریح کا یہی فیصلہ نقل کیا ہے۔ ابن جریج کے نزدیک شہادت زور سے ہر جھوٹ مراد ہے صرف شرک ہی مراد نہیں ہے۔ بعض علماء نے لاَ یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرکا مطلب یہ بیان کیا کہ وہ جھوٹ کی محفلوں میں شرکت نہیں کرتے (یعنی الزور سے پہلے مضاف محذوف ہے) کیونکہ بیہودہ جلسوں میں موجود ہونا بھی شرکت کا حکم رکھتا ہے۔ اس تفسیر پر بیہودہ قصوں یا شاعری کی مجلسوں میں شرکت کرنا ناجائز قرار پائے گا۔ مجاہد کا یہی قول ہے۔ مراد یہ ہے کہ مشرکوں کے تہواروں اور میلوں میں وہ شریک نہیں ہوتے۔ بعض نے الزور سے نوحہ کی مجلس مراد لی ہے۔ قتادہ نے عدم شہادت زور کا یہ مطلب بیان کیا کہ بیہودہ باطل باتوں کی تائید اور اعانت نہیں کرتے۔ محمد بن حنفیہ (رح) نے فرمایا ‘ لغو اور گانے کے موقع پر حاضر نہیں ہوتے۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا گانا دلوں میں نفاق کو اس طرح اگاتا ہے جس طرح پانی کھیتی کو۔ بغوی نے لکھا ہے زور کا اصل معنی ہے کسی چیز کو خوبصورت بنا دینا اور اصل حالت کے خلاف دوسری حالت پر دکھانا ‘ پس (اس جگہ) زور کے معنی ہوئے باطل پر ایسا ملمع کرنا کہ وہ حق معلوم ہونے لگے۔ میں کہتا ہوں لغت میں زور کا معنی ہے موڑ دینا ‘ پھیر دینا اللہ نے فرمایا ہے (تَزَاوَرُ عَنْ کَہْفِہِمْ ) سورج ان کے غار سے مڑ جاتا ہے۔ اس کا استعمال کذب کے لئے بھی ہوتا ہے کیونکہ جھوٹ میں حق سے باطل کی طرف جھکاؤ ہوتا ہے اسی طرح ہر لغو بات پر اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے زور ‘ بالضم جھوٹ اور شرک اور یہود و نصاریٰ کے تہوار (میلے) اور سرور اور گانے کی مجلس اور گانے کے سوا دوسرے (باطل) معبود اور قوت میں کہتا ہوں صاحب قاموس نے جو معانی بیان کئے ہیں ان میں سے رئیس اور قوت کے علاوہ آیت میں ہر معنی مراد ہوسکتے ہیں۔ واذا مروا باللغو مروا کراما۔ اور اگر (اتفاقاً ) بیہودہ مشغلوں کے پاس سے ہو کر گزریں تو سنجیدگی کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ اس کا عطف آیت لاَ یَشْہَدُوْنَ الزُّوْرَپر ہے۔ زور سے مراد بھی معاصی ہیں اور لغو سے مراد بھی معاصی ہیں اور شہود سے مراد ہے حاضر ہونا حسن اور کلبی کا یہی قول ہے مطلب یہ ہے کہ وہ خود اپنے ارادہ سے گناہوں کی مجلسوں میں نہیں جاتے لیکن اتفاقاً اگر کسی گناہ کی محفل کی طرف سے ان کا گزر ہوجاتا ہے تو منہ پھیر کر تیزی کے ساتھ وہاں سے گزر جاتے ہیں۔ عربی محاورہ ہے کَرُمَ فَلاَنٌ عَمَّا یُشُیِّنُہفلاں شخص ایسی باتوں سے پاک ہے جو اس کو عیب دار بناتی ہیں اکرم نفسہ عنہ اس نے اپنے نفس کو عیب دار بنانے والی باتوں سے پاک رکھا۔ مقاتل نے کہا آیت کا معنی یہ ہے کہ جب کافروں سے وہ برا بھلا اور دکھ پہنچانے والی باتیں سنتے ہیں تو درگزر کرتے ہیں اور منہ پھیر لیتے ہیں۔ ابن جریج کی روایت میں مجاہد کا بھی یہی قول آیا ہے۔ یہی مفہوم ہے آیت وَاِذَا سَمِعُوُا اللَّغْوَا اَعْرَضُوْا عَنْہُکا۔ سدی نے کہا آیت مذکورۂ بالا آیت جہاد سے منسوخ ہے۔ میں کہتا ہوں (اس آیت میں اور جہاد کی آیت میں کوئی تعارض نہیں ہے۔ مترجم) حکم جہاد و قتال اداء جزیہ (کی شرط ماننے) پر ختم ہوجاتا ہے برا بھلا کہنے اور دکھ پہنچانے پر تو قتال کا حکم نہیں ہے۔
Ayah 25:73

وَ الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْهَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا Open ayah 25:73 in the Quran reader

اور وہ کہ جب ان کو پروردگار کی باتیں سمجھائی جاتی ہیں تو اُن پر اندھے اور بہرے ہو کر نہیں گرتے (بلکہ غور سے سنتے ہیں)

والذین اذا ذکروا بایت ربہم اور وہ ایسے ہیں کہ جب اللہ کے احکام کے ذریعہ سے ان کو نصیحت کی جاتی ہے۔ یعنی وعظ و نصیحت کی جاتی ہے اور آیات پڑھ کر سنائی جاتی ہیں یا یہ مراد ہے کہ (آیات سے مراد ہیں انفسی اور آفاقی دلائل توحید) جب ان کو دلائل توحید و تنزیہ پیش کر کے نصیحت کی جاتی ہے۔ لم یخروا علیہا صما وعمیانا۔ تو ان احکام پر بہرے اندھے ہو کر نہیں گرتے۔ یعنی بغیر گوش ہوش سے سننے اور بغیر چشم حقیقت بین سے دیکھنے کے اندھوں بہروں کی طرح نہیں اٹھ کھڑے ہوتے بلکہ گوش قبول سے سنتے اور سمجھتے ہیں اور چشم بصیرت سے حق کو دیکھتے اور اس پر چلتے ہیں۔ آیت میں نفی حالت مراد ہے نفی فعل مراد نہیں ہے یعنی ان کی حالت اندھوں بہروں کی طرح نہیں ہوتی جیسے کہا جاتا ہے لاَ یَلْقَانِی زَیْدٌ رَاکِبًا زید سوار ہونے کی حالت میں مجھ سے نہیں ملتا۔
Ayah 25:74

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَ ذُرِّیّٰتِنَا قُرَّةَ اَعْیُنٍ وَّ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا Open ayah 25:74 in the Quran reader

اور وہ جو (خدا سے) دعا مانگتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو ہماری بیویوں کی طرف سے (دل کا چین) اور اولاد کی طرف سے آنکھ کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں پرہیزگاروں کا امام بنا

والذین یقولون ربنا ہب لنا من ازواجنا وذریتنا قرۃ اعین اور وہ جو کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عنایت فرما۔ اَعْیُنٍبصیغۂ جمع قلت ذکر کیا (عیون نہیں فرمایا) کیونکہ آنکھوں سے مراد ہیں متقیوں کی آنکھیں اور دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں ان کی تعداد کم ہی ہے۔ مِنْ اَزْوَاجِنَّا میں مِن ابتدائیہ ہے یعنی ہمارے اہل و عیال کو صالح بنا کہ ان سے ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں۔ قرطبی نے لکھا ہے مؤمن کی آنکھ کے لئے اس سے بڑھ کر کوئی ٹھنڈک نہیں کہ وہ اپنی بیوی اور اولاد کو اللہ کا فرماں بردار دیکھے۔ حسن نے کہا قرۃ مصدر ہے اسی لئے اس کو بصیغۂ مفرد ذکر کیا۔ قرۃ کا اصل معنی ہے ٹھنڈک ‘ خنکی ‘ حرارت کی ضد۔ عرب (گرم ملک کی سکونت کی وجہ سے) گرمی سے تکلیف اور ٹھنڈک سے چین محسوس کرتے ہیں ‘ خوشی کے وقت قرۃ العین (خنکئ چشم) اور غم کے وقت سختہ العین (گرمئ چشم) کہتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خوشی کے آنسو ٹھنڈے اور غم کے آنسو گرم ہوتے ہیں۔ ازہری نے کہا قرۃ العین کا یہ معنی ہے کہ دل کو اپنا پسندیدہ محبوب مل جائے اور آنکھ دوسروں سے ہٹ کر اپنے محبوب ہی کو دیکھے۔ واجعلنا للمتقین اماما۔ اور ہم کو متقیوں کا پیشوا بنا۔ جب اہل و عیال متقی ہوجائیں گے تو لامحالہ وہ مؤمن متقیوں کے امام (پیشوا) قرار پائیں گے۔ لفظ امام مفرد ہے جنس پر دلالت کر رہا ہے (اور اجعلنا میں ضمیر مفعول جمع ہے اور جماعت مؤمنوں کی ہی یہ دعا ہے) لیکن غیر مقصود کا اشتباہ نہیں ہے۔ اسی لئے بصیغۂ مفرد ذکر کیا جیسے دوسری آیت میں عدو اور طفل بصیغۂ مفرد جماعت کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے۔ (ثُمَّ یُخْرِجُکُمْ طِفْلاً فَاِنَّہُمْ عَدُوٌّ لِیْ الاَّرَبَ الْعَالَمِیْنَ ) ۔ بعض علماء نے کہا امام اَمّ کا مصدر ہے جیسے صیام اور قیام۔ یا یوں کہا جائے کہ واجْعَلْنَا یعنی واجْعَلْ کُلَّ وَاحِدٍ مِنَّاہم میں سے ہر ایک کو امام بنا دے جیسا کہ دوسری آیت میں آیا ہے اَنَا رَسُوْلُ رَبِّکَ (بجائے رسل کے رسول کا لفظ ذکر کیا) بعض اہل علم نے کہا امام آم (بر وزن عام خاص) کی جمع ہے جیسے صائم کی جگہ صیام۔ اس وقت مطلب یہ ہوگا کہ ہم کو متقیوں کے راستہ پر چلنے والا اور ان کی پیروی کا قصد کرنے والا بنا دے۔