25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 25:26

اَلْمُلْكُ یَوْمَئِذِ اِ۟لْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ١ؕ وَ كَانَ یَوْمًا عَلَى الْكٰفِرِیْنَ عَسِیْرًا Open ayah 25:26 in the Quran reader

اس دن سچی بادشاہی خدا ہی کی ہوگی۔ اور وہ دن کافروں پر (سخت) مشکل ہوگا

الملک یومئذ الحق للرحمن اس روز (حقیقی) حکومت رحمن ہی کی ہوگی۔ یعنی اس روز حق اور واقعی لازوال حکومت رحمن کی ہی ہوگی کسی دوسرے کی (ظاہری اور مجازی طور پر بھی) نہیں ہوگی۔ وکان یوما علی الکافرین عسیرا۔ اور وہ دن کافروں کے لئے سخت دشوار دن ہوگا۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے اس دن کے متعلق دریافت کیا گیا جس کی مقدار پچاس ہزار برس کے برابر ہوگی (اور عرض کیا گیا) کیسا لمبا دن ہوگا (اور اتنا لمبا وقت کیسے کٹے گا) حضور ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے مؤمن کے لئے وہ بہت ہلکا ہوگا یہاں تک کہ فرض نماز کے (ایک) وقت سے بھی اس کے لئے زیادہ آسان (اور چھوٹا) ہوگا۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے عقبہ بن ابی معیط کا دستور تھا کہ جب سفر سے واپس آتا تھا کھانا تیار کراتا اور اپنی قوم کے بڑے بڑے لوگوں کی دعوت کرتا تھا۔ یہ شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس زیادہ بیٹھتا تھا ایک روز سفر سے واپس آکر کھانا تیار کرایا اور لوگوں کی دعوت کی رسول اللہ ﷺ کو بھی کھانے کے لئے بلایا ( آپ ﷺ : تشریف لے گئے) جب عقبہ نے کھانا لا کر رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھا تو حضور ﷺ نے فرمایا ‘ میں اس وقت تک تمہارا کھانا نہیں کھاؤں گا جب تک تم لا الٰہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی شہادت نہ دو گے ‘ عقبہ نے کلمۂ شہادت پڑھ لیا اور حضور ﷺ نے اس کا کھانا کھالیا عقبہ اُ بی بن خلف کا دوست تھا (اور ابی سخت کافر تھا) ابی کو عقبہ کے کلمۂ شہادت پڑھنے کی اطلاع ملی تو اس نے عقبہ سے کہا عقبہ تم بےدین ہوگئے عقبہ نے کہا نہیں تو خدا کی قسم میں تو بےدین نہیں ہوا۔ بات صرف یہ تھی کہ میرے گھر ایک آدمی آیا اور بغیر کلمۂ شہادت پڑھوائے میرا کھانا کھانے سے اس نے انکار کردیا میری غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ وہ میرے گھر سے بغیر کھانا کھائے چلا جائے اس لئے میں نے شہادت دے دی اور اس نے کھانا کھالیا ابی نے کہا میں اس وقت تک تم سے راضی نہیں ہوں گا جب تک تم جا کر اس کے منہ پر تھوک نہ دو گے ‘ عقبہ نے جا کر ایسا کردیا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا میں نے بھی اگر مکہ کے باہر تجھے پا لیا تو تیرے سر پر تلوار مار دوں گا (یعنی تجھے قتل کر دوں گا۔ چناچہ عقبہ کو بدر کے دن بندھوا کر قتل کردیا گیا۔ رہا ابی تو اس کو احد کے دن رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ سے قتل کردیا۔ ابن جریر نے یہ روایت مرسل بھی نقل کی ہے اس روایت کے الفاظ اس طرح ہیں۔ ابی نے عقبہ سے کہا میں تم سے اس وقت تک راضی نہ ہوں گا جب تک اس کی گردن کو پاؤں سے روند نہ دو گے ‘ اور اس کے منہ پر تھوک نہ دو گے۔ چناچہ عقبہ نے جب دارالندوہ میں حضور ﷺ کو سجدے کی حالت میں پایا تو وہ ایسا کر گزرا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا جب میں مکہ کے باہر تجھ کو پاؤں گا تو تیرے سر پر تلوار ماروں گا بدر کے دن عقبہ قید کرلیا گیا ‘ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ : کو عقبہ کے قتل کردینے کا حکم دیا اور مقابلہ کے وقت ابی کے بھالا مارا پھر ابی مکہ کو لوٹ گیا اور مرگیا۔ عقبہ اور ابی کے متعلق آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 25:27

وَ یَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰى یَدَیْهِ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلًا Open ayah 25:27 in the Quran reader

اور جس دن (ناعاقبت اندیش) ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کر کھائے گا (اور کہے گا) کہ اے کاش میں نے پیغمبر کے ساتھ رشتہ اختیار کیا ہوتا

ویوم یعض الظالم علی یدیہ یقول یلیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا۔ اور جس روز کہ ظالم (افسوس سے) اپنے دانتوں سے اپنے ہاتھ کاٹے گا (اور) کہے گا ‘ کاش میں رسول کے ساتھ (ان کی) راہ پکڑ لیتا۔ اَلظَّالِمَ سے مراد ہے عقبہ بن ابی معیط۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ ابی بن خلف رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا ‘ عقبہ بن ابی معیط نے اس کو سرزنش کی اس پر یہ آیت خَذُوْلاً تک نازل ہوئی ‘ شعبی اور مقسم سے بھی ایسی ہی روایت آئی ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے ‘ دانتوں سے ہاتھ کاٹنا۔ انگلیوں کے پورے کھانا ‘ دانت پسینا یہ سب کنائی الفاظ ہیں ‘ ان سے مراد ہوتا ہے انتہائی غصہ اور حسرت۔ ضحاک نے کہا ‘ جب عقبہ نے رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک پر تھوک پھینکا تو اس کا تھوک لوٹ کر اسی کے رخساروں پر آپڑا ‘ جس سے دونوں رخسارے جل گئے اور مرتے دم تک جلنے کا نشان نہیں گیا شعبی کا بیان ہے کہ عقبہ بن ابی معیط امیہ بن خلف کا دوست تھا۔ عقبہ مسلمان ہوگیا۔ امیہ نے کہا چونکہ تو نے محمد ﷺ : کی بیعت کرلی ہے اس لئے میرا چہرہ تیرے لئے اور تیرا چہرہ میرے لئے دیکھنا حرام ہے۔ عقبہ نے اسلام کا انکار کردیا اور مرتد ہوگیا اس پر اللہ نے اس کے بارے میں آیت (یَوْمَ یَعُضُّ الظَّالِمُ ) نازل فرمائی الظالم سے مراد ہے عقبہ بن ابی معیط بن امیہ بن عبدالشمس بن عبدمناف۔ ہاتھ کاٹنے سے مراد ہے ندامت و افسوس کہ وہ دوست جس نے اس کو اللہ کے راستہ سے روکا اس نے اس کا کہا مان لیا اور گناہ و کفر کا ارتکاب کر کے اپنے آپ کو خود تباہ کردیا۔ عطاء نے کہا وہ (قیامت کے دن) اپنے دونوں ہاتھ کہنیوں تک کھاجائے گا پھر ہاتھ اگ آئیں گے وہ حسرت و افسوس کرتے ہوئے ان کو پھر کھاجائے گا اور یوں ہی ہاتھ اگتے رہیں گے اور وہ حسرت کے ساتھ کھاتا رہے گا۔ یٰلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلاً یعنی کاش میں محمد ﷺ : کا اتباع کرلیتا اور ان کی معیت میں ہدایت کا راستہ اختیار کرلیتا۔ جو ایک ہی ہے اور مجھے گمراہی کی طرف نہیں لے جاتا۔
Ayah 25:28

یٰوَیْلَتٰى لَیْتَنِیْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِیْلًا Open ayah 25:28 in the Quran reader

ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا

یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا ہائے افسوس کاش میں فلاں (یعنی ابی بن خلف) کو دوست نہ بناتا۔
Ayah 25:29

لَقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ اِذْ جَآءَنِیْ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُوْلًا Open ayah 25:29 in the Quran reader

اس نے مجھ کو (کتاب) نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا۔ اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے

لقد اضلنی عن الذکر بعد اذ جآءنی اس نے قطعاً مجھے ذکر (خداوندی) کی طرف سے گمراہ کردیا بعد اس کے کہ ذکر میرے پاس آچکا تھا۔ ذکر سے مراد ہے اللہ کی یاد یا قرآن مجید یا رسول اللہ ﷺ : کی نصیحت یا کلمہ شہادت۔ وکان الشیطن للانسان خذولا۔ اور شیطان انسان کو بےمدد چھوڑنے والا ہے۔ الشَّیْطٰنُ سے مراد ہے گمراہ کرنے والا دوست۔ ہر سرکش ‘ سرتاب اور ہر راہ خدا سے روکنے والا ‘ انسان ہو یا جن شیطان ہے۔ خذلان کا معنی ہے بےمدد چھوڑ دینا۔ (ضرورت کے وقت) مدد نہ کرنا۔ مطلب یہ ہے کہ شیطان کسی کا دوست نہیں۔ ہلاکت کے غار تک پہنچا کر ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ ان آیات کا مورد اگرچہ خاص ہے لیکن عموم عبارت کے زیر اثر حکم عام ہے جو دو دوست گناہ پر دوستی کو قائم رکھے ہوں ان کو آیت کا حکم شامل ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیک اور بد ہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص کے پاس تو مشک ہے اور دوسرا لوہار کی بھٹی دھونک رہا ہے۔ مشک اپنے پاس رکھنے والا یا تو تم کو (کچھ مشک مفت) دے دے گا یا تم اس سے خرید لوگے یا (کم از کم) عمدہ خوشبو ہی تم کو (اس کی طرف سے) مل جائے گی اور بھٹی دھونکنے والا ‘ یا تمہارے کپڑوں کو جلا دے گا یا (کم از کم) بدبو تم کو اس کی طرف سے پہنچے گی۔ رواہ البخاری۔ حضرت ابو سعید خدری ؓ کا بیان ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ : کو فرماتے سنا ‘ سوائے مؤمن کے کسی کے ساتھ نہ رہو اور سوائے پرہیزگاروں کے تمہارا کھانا اور کوئی نہ کھائے۔ (یعنی صرف نیک لوگوں کی دعوت کرو) ۔ رواہ احمد والترمذی وابن حبان والحاکم۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (عام طور پر) آدمی اپنے دوست کے مسلک پر ہوتا ہے اس لئے اس کو (پہلے سے) دیکھ لینا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے۔ (رواہ البغوی) ۔ امام احمد اور اصحاب سنن نے اور شیخین نے صحیحین میں حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے نیز صحیحین میں حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے بھی آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا آدمی اسی کے ساتھ ہوگا (یا ہوتا ہے) جس سے اس کو محبت ہوگی۔ (یا محبت ہے) ۔
Ayah 25:30

وَ قَالَ الرَّسُوْلُ یٰرَبِّ اِنَّ قَوْمِی اتَّخَذُوْا هٰذَا الْقُرْاٰنَ مَهْجُوْرًا Open ayah 25:30 in the Quran reader

اور پیغمبر کہیں گے کہ اے پروردگار میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا

وقال الرسول یرب ان قومی اتخذوا ہذا القران مہجورا اور (اس روز) رسول اللہ ﷺ (یعنی محمد ﷺ کہیں گے اے میرے رب میری قوم (یعنی قریش) نے اس قرآن کو متروک کر رکھا تھا۔ یعنی قرآن سے روگرداں ہوگئے تھے ‘ اس پر ایمان نہیں لائے تھے اور اس کے احکام پر عمل نہیں کیا تھا 1 ؂۔ بعض نے کہا ‘ مہجور ہجر سے مشتق ہے ہجر کا معنی ہے بےہودہ کلام ‘ بکواس۔ مطلب یہ ہے کہ میری قوم نے اس قرآن کو بیہودہ بکواس قرار دے رکھا تھا ‘ کوئی شاعری کہتا تھا کوئی کہانت ‘ کوئی جادو۔ نخعی اور مجاہد نے یہی تشریح کی ہے۔ بعض لوگوں نے آیت کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ رسول ﷺ نے (دنیا میں) کہا اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو متروک بنا دیا ‘ اس قول کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی قوم کی سرکشی اور بےہودہ کلامی کا اللہ سے شکوہ کیا ‘ اللہ نے اپنے رسول ﷺ : کو تسلی دینے کے لئے فرمایا۔
Ayah 25:31

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ هَادِیًا وَّ نَصِیْرًا Open ayah 25:31 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے گنہگاروں میں سے ہر پیغمبر کا دشمن بنا دیا۔ اور تمہارا پروردگار ہدایت دینے اور مدد کرنے کو کافی ہے

وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا من المجرمین اور اسی طرح ہم نے مشرکوں میں سے ہر پیغمبر کے دشمن بنا دیئے تھے اس لئے آپ بھی ویسے ہی صبر کریں جیسا گزشتہ پیغمبروں نے کیا میں یقیناً آپ کی مدد کرنے والا اور راستہ بتانے والا ہوں۔ وکفی بربک ہادیا ونصیرا۔ اور آپ کا رب آپ کو (دشمنوں پر) راستہ بتانے اور آپ کی مدد کرنے کے لئے کافی ہے۔ ابن ابی حاتم اور حاکم نے اور المختار میں ضیاء نے بیان کیا اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ مشرکوں نے کہا کہ اگر محمد ﷺ اپنے دعوئے نبوت میں سچے ہیں تو پھر ان کا رب اور ان کو دکھ کیوں دیتا ہے (اور کیوں باربار تھوڑی تھوڑی آیات بھیجتا ہے) یکدم پورا قرآن ان پر کیوں نہیں اتار دیتا اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہیں اُتارا گیا۔ اس طرح (آہستہ آہستہ) اس لئے اُتارا گیا کہ اس سے تمہارے دل کو قائم رکھیں۔ اور اسی واسطے ہم اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھتے رہے ہیں

وقال الذین کفروا لو لا نزل علیہ القرآن جملۃ واحدۃ کذلک لنثبت بہ فوادک ورتلنہ ترتیلا۔ اور کافروں نے کہا کہ محمد پر پورا قرآن نازل نہیں کیا گیا (جیسے موسیٰ پر توریت ‘ عیسیٰ پر انجیل اور داؤد پر زبور نازل کی گئی تھی) ہم نے اس کو اسی طرح نازل کیا ہے تاکہ آپ کے دل کو مضبوط رکھیں اور ہم نے اس کو واضح طور پر کھول کر بیان کیا ہے۔ نُزِّلَبمعنی اُنْزِلَہے (یعنی تدریجاً نزول مراد نہیں ہے) کیونکہ آگے جُمْلَۃً وَاحِدَۃً کا لفظ آیا ہے ‘ جس سے مراد ہے یکدم پورا قرآن۔ بیضاوی نے لکھا ہے کافروں کا یہ اعتراض بےکار تھا ‘ کیونکہ قرآن یکدم نازل کیا جاتا ‘ یا تھوڑا تھوڑا ‘ بہرحال اس کے اعجاز میں تو کوئی فرق نہیں آسکتا تھا پھر تدریجی نزول میں بہت سے فوائد بھی تھے۔ جن کی طرف اگلی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ کَذٰلِکَکاف کا تعلق فعل محذوف سے ہے۔ یعنی ہم نے اس کو اس طرح تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا۔ لِنُثَبِّتَ بِہٖ فُؤَادِکَ تاکہ اس سے آپ کے دل کو جماؤ عطا کریں ‘ آپ کو سمجھنے اور یاد رکھنے میں دشواری نہ ہو۔ پھر واقعات اور حالات کے موافق نازل کرنے میں معنوی بصیرت بھی اس سے حاصل ہوتی ہے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ جب تھوڑا تھوڑا نازل کیا گیا اور ہر ٹکڑے کو چیلنج کے طور پر پیش کیا گیا اور کفار ہر ٹکڑے کا مقابلہ کرنے سے عاجز ہوئے تو اس سے اللہ کے رسول ﷺ کے دل کو قوت حاصل ہوئی۔ تدریجی نزول کا ایک فائدہ یہ بھی ہوا کہ ہر مرتبہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے آکر آپ ﷺ کے دل کو قوی کیا۔ تدریجی نزول سے ناسخ و منسوخ کی پہچان بھی ہوگئی۔ دلالت لفظیہ کے ساتھ قرائن حالیہ نے مل کر بلاغت کلام کو مزید اجاگر کیا۔ رَتَلْنٰہُ تَرِتِیْلاً حضرت ابن عباس ؓ نے اس کا ترجمہ کیا ‘ ہم نے قرآن کو واضح طور پر بیان کردیا ترتیل کا معنی ہے ترسل ‘ یعنی ٹھہر ٹھہر کر (الگ الگ صاف صاف) پڑھنا۔ سدی نے ترجمہ کیا ‘ ہم نے اس کو ٹکڑے ٹکڑے الگ الگ کردیا ‘ مجاہد نے کہا ‘ ہم اس کے ایک حصہ کو دوسرے کے بعد لائے ‘ نخعی اور حسن نے کہا ‘ ہم نے اس کو جدا جدا ٹکڑوں میں بانٹ دیا (تمام اقوال کا مطلب تقریباً ایک ہی ہے۔ مترجم) ۔ ترتیل کا اصلی استعمال دانتوں کی جھریاں بنانے کیلئے ہوتا ہے۔ (اگر ہر دانت دوسرے دانت کے ساتھ ہموار ہو اور دونوں کے درمیان جھری نما ایک لکیر ہو تو دانتوں کی اس حالت کو ترتیل انسان کہا جاتا ہے) ۔
Ayah 25:33

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

اور یہ لوگ تمہارے پاس جو (اعتراض کی) بات لاتے ہیں ہم تمہارے پاس اس کا معقول اور خوب مشرح جواب بھیج دیتے ہیں

ولا یاتونک بمثل اور وہ کوئی عجیب سوال آپ ﷺ کے سامنے نہیں لاتے۔ مثل سے مراد ہے عجیب سوال گویا ان کا سوال مثالی ہوتا ہے جس سے وہ آپ کی نبوت کو مجروح کرنا چاہتے ہیں۔ انا جئنک بالحق مگر ہم آپ کو اس کا صحیح جواب عطا کردیتے ہیں۔ جس سے ان کے سوال کی صحیح تردید ہوجاتی ہے۔ واحسن تفسیرا۔ اور بہترین تشریح کے ساتھ۔ (جواب دیتے ہیں جس سے ان کا اعتراض دور ہوجاتا ہے) ۔ یا مثل سے مراد ہے عجیب حالت یعنی وہ جب آپ کی کوئی (گزشتہ) عجیب حالت بیان کرتے ہیں اور کہتے ہیں اس کا یہ حال تھا تو ہم آپ کو اپنی حکمت کے موافق حالت عطا کردیتے ہیں جس سے آپ کی نبوت کی غرض کا انکشاف ہوجاتا ہے۔ فسر کا معنی ہے ظاہر کردینا کسی ڈھانکی ہوئی چیز کا پردہ ہٹا دینا۔ کذا فی القاموس۔
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ اپنے مونہوں کے بل دوزخ کی طرف جمع کئے جائیں گے ان کا ٹھکانا بھی برا ہے اور وہ رستے سے بھی بہکے ہوئے ہیں

الذین یحشرون علی وجوہہم الی جہنم اولئک شر مکانا واضل سبیلا۔ جن لوگوں کو منہ کے بل جہنم کی طرف ہنکا کرلے جایا جائے گا وہ رہنے کے مقام کے لحاظ سے بھی بدتر ہوں گے اور طریقہ میں بھی بہت گمراہ ہوں گے۔ اَضَلُّکا مفضل علیہ محذوف ہے یعنی رسول۔ اس آیت کا اسلوب ویسا ہی ہے جیسے آیت ہَلْ انَبِّءُکُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِکَ مَثُوْبَۃً عِنْدَ اللّٰہِ مَنْ لَعَنَہُ اللّٰہُ وَغَضَبَ عَلَیْہِ ۔ گویا آیت کا مطلب یوں ہوا کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے راستے کو گمراہی کا راستہ جانتے ہیں اور آپ کو حقیر سمجھتے ہیں اور اپنے حال سے واقف نہیں کہ وہ کس قدر برے مقام میں ہیں اور رسول سے (جو بقول ان کے گمراہ ہیں) کتنے زیادہ گمراہ ہیں۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک اس آیت کا اتصال آیت اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ یَوْمَءِذٍ خَیْرٌ مُّسْتَقَرًّا وَّاَحْسَنُ مَقِیْلاً سے ہے۔ اس تفسیر پر مفضل علیہ عام ہوگا ‘ یعنی وہ لوگ سب سے زیادہ برے مقام والے ہوں گے اور ہر گمراہ سے زیادہ گمراہ ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تین طور پر لوگوں کو چلایا جائے گا کچھ سوار ‘ کچھ پیدل ‘ کچھ منہ کے بل چلنے والے ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا منہ کے بل چلیں گے فرمایا جس نے پاؤں سے چلایا وہ منہ کے بل چلانے کی بھی قدرت رکھتا ہے۔ رواہ ابو داؤد والبیہقی۔ حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کیا قیامت کے دن کافر کو منہ کے بل چلایا جائے گا ‘ فرمایا جس نے دنیا میں قدموں سے چلایا ہے کیا وہ قیامت کے دن منہ کے بل چلانے پر قادر نہ ہوگا۔ متفق علیہ۔ حضرت معاویہ ؓ بن حیدہ کی روایت ہے میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے ‘ تمہارا حشر (تین حالات میں) ہوگا ‘ کچھ پیدل ہوں گے ‘ کچھ سوار ‘ کچھ منہ کے بل چلائے جاؤ گے۔ رواہ الترمذی ‘ ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا ہے۔ حضرت ابوذر ؓ : کا بیان ہے مجھ سے سچے (نبی) نے جن کی تصدیق (اللہ کی طرف سے) ہوئی تھی ‘ فرمایا کہ قیامت کے دن لوگ تین جماعتوں کی صورت میں چلائے جائیں گے ایک گروہ سیر شکم ‘ لباس پوش اور سوار ہوگا ‘ ایک گروہ پیدل رواں دواں ہوگا ‘ اور ایک گروہ کو فرشتے منہ کے بل گھسیٹیں گے۔ رواہ النسائی والحاکم والبیہقی۔
Ayah 25:35

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنا کر ان کے ساتھ کیا

ولقد اتیناموسی الکتب وجعلنا معہ اخاہ ہرون وزیرا۔ اور ہم نے موسیٰ : ( علیہ السلام) کو کتاب (توریت) دی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون کو مددگار بنا دیا۔ یعنی دعوت اسلام اور اللہ کا بول بالا کرنے کے لئے ہارون کو موسیٰ کا مددگار بنا دیا۔ وزیر (مددگار) کہنے سے نبوت کی نفی لازم نہیں آتی کیونکہ کسی کام میں اگر دو آدمی شریک ہوں (اور مقصد ایک ہو) تو ہر ایک دوسرے کا مددگار ہوتا ہے۔
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

اور کہا کہ دونوں ان لوگوں کے پاس جاؤ جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی۔ (جب تکذیب پر اڑے رہے) تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا

فقلنا اذہبا الی القوم الذین کذبوا بایتنا اور ہم نے کہہ دیا کہ تم دونوں اس قوم (کی ہدایت کے لئے اس) کے پاس جاؤ جنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا ہے یعنی اللہ کی بنائی ہوئی آیات فطرت جو اللہ کی ذاتی و صفاتی توحید پر دلالت کر رہی ہیں اور بتارہی ہیں کہ اللہ اپنی ذات وصفات میں ایک ہے ان آیات کا وہ لوگ انکار کرتے ہیں جو (دہریہ ہیں) صانع اور خالق کے منکر ہیں یا مشرک ہیں دوسروں کو خدا کا ساجھی قرار دیتے ہیں اور بتوں کو پوجتے ہیں تم دونوں جا کر ان کو اللہ کی ذات وصفات کو ماننے اور اللہ کو ایک سمجھنے کی دعوت دو ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیات سے مراد حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے معجزات ہوں۔ اس مطلب پر اَلَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کا یہ مطلب ہوگا کہ نزول قرآن کے وقت میں جو لوگ موسیٰ ( علیہ السلام) کے معجزات کے منکر تھے ان کی ہدایات کے لئے ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) و ہارون ( علیہ السلام) کو مامور کیا۔ آیات سے توریت کی آیات مراد نہیں ہوسکتیں۔ کیونکہ توریت کا نزول تو فرعون کے ہلاک ہونے کے بعد ہوا تھا (فرعون کے پاس توریت دے کر حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو نہیں بھیجا گیا تھا۔ ) فدمرنہم تد میرا۔ پھر ہم نے اس قوم کو کامل طور پر تباہ کردیا۔ اس عبارت میں کچھ ایجاز اور اختصار ہے مفصل کلام اس طرح تھا ‘ حسب الحکم موسیٰ اور ہارون ( علیہ السلام) اس قوم کے پاس گئے ان کو ایمان کی دعوت دی لیکن انہوں نے دونوں کو جھوٹا قرار دیا ‘ آخر ہم نے ان لوگوں کو تباہ کردیا ‘ کلام میں اختصار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ جو اصل مقصود تھا اس کی صراحت کردی۔ یعنی پیغمبر بھیج کر حجت پوری کردی اور تکذیب کی وجہ سے لوگ تباہ ہونے کے مستحق ہوگئے ‘ بس اس جگہ اتنا ہی بیان کردینا کافی تھا (تا کہ رسول اللہ ﷺ : کی نبوت ثابت ہوجائے اور نبوت کی غرض ظاہر ہوجائے۔ مترجم) ۔
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور نوح کی قوم نے بھی جب پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے انہیں غرق کر ڈالا اور لوگوں کے لئے نشانی بنا دیا۔ اور ظالموں کے لئے ہم نے دکھ دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے

وقوم نوح لما کذبوا الرسل اغرقنہم اور قوم نوح ( علیہ السلام) (کا بھی تذکرہ کرو) جب اس قوم نے پیغمبروں کو جھوٹا قرار دیا تو ہم نے ان کو غرق کردیا۔ تکذیب رسل سے مراد ہے حضرت نوح ( علیہ السلام) کی اور آپ ( علیہ السلام) سے پہلے گزرے ہوئے پیغمبروں کی تکذیب ‘ یا یوں کہا جائے کہ صرف حضرت نوح ( علیہ السلام) کی تکذیب ہی مراد ہے ‘ لیکن ایک پیغمبر کی تکذیب حقیقت میں سب پیغمبروں کی تکذیب ہے (کیونکہ ہر پیغمبر دوسرے تمام پیغمبروں کی تصدیق کرتا ہے اس ایک کو جھوٹا جاننا حقیقت میں تمام پیغمبروں کو دروغ گو قرار دینا ہوتا ہے) ۔ اس لئے تکذیب نوح کو تکذیب رسل قرار دیا یا یہ مطلب ہے کہ پیغمبروں کی بعثت کی (سرے ہی سے) انہوں نے تکذیب کی (یعنی انہوں نے کہا کہ کوئی پیغمبر ہی اللہ کی طرف سے نہیں بھیجا جاتا ‘ کسی پیغمبر کی بعثت کی ضرورت نہیں ‘ ہدایت کے لئے اہل دانش کی عقل کافی ہے۔ مترجم) ۔ وجعلنہم للناس ایۃ اور ان کو (یعنی ان کے غرق کرنے کو یا ان کے قصہ کو) لوگوں کے لئے عبرت بنا دیا۔ واعتدنا للظلمین عذابا الیما۔ اور (جن لوگوں نے کفر و شرک کر کے اپنے اوپر خود ظلم کیا تھا ایسے) ظالموں کے لئے ہم نے دکھ کا عذاب تیار کر رکھا ہے۔
Ayah 25:38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود اور کنوئیں والوں اور ان کے درمیان اور بہت سی جماعتوں کو بھی (ہلاک کر ڈالا)

وعادا وثمودا واصحب الرس اور عاد وثمود اور رس والوں (کا ذکر کرو کہ ان) کو ہم نے ہلاک کیا۔ عاد وثمود کے واقعات کا تذکرہ سورة اعراف وغیرہ میں آچکا ہے۔ اَصْحٰبُ الرَّسِّ قاموس میں ہے رس کسی چیز کی ابتداء۔ وہ کنواں جس کے گرداگرد من بنا دی گئی ہو۔ درست کرنا ‘ بگاڑنا ‘ کھودنا ‘ مردہ کو دفن کرنا۔ آذربائیجان کی ایک وادی کا نام رس الحمی ورسیسی ارلحمی بخار کا آغاز۔ اصحاب الرس جس قوم کو کہا گیا اس کی وجہ تسمیہ یا یہ ہے کہ وہ شرو کفر کی ابتداء کرنے والی تھی یا کنویں والی تھی (کنوئیں کے گرداگرد آباد ہوگئی تھی) یا اس وادی کے رہنے والی تھی جس کا نام رس تھا۔ یا یہ وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے نبی (غالباً حضرت حنظلہ صنعانی۔ مترجم) ۔ کو شہید کر کے دفن کردیا تھا اس جگہ اصحاب الرس سے مراد ہے حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی قوم ‘ جس نے ایک کنویں پر اپنی آبادی کرلی تھی ‘ یہ لوگ جانور پالتے اور بتوں کی پوجا کرتے تھے ایک وقت جب وہ سب کنویں کے گرداگرد اپنے گھروں میں موجود تھے وہاں کی زمین دھنس گئی ‘ وہ کنواں اور آبادی اور ساری زمین اندر گھس گئی اور سب مرگئے ان کے یکدم ہلاک ہوجانے کی اصلی علت یہ تھی کہ اللہ نے ان کی ہدایت کے لئے حضرت شعیب ( علیہ السلام) پیغمبر کو مبعوث فرمایا ‘ حضرت شعیب ( علیہ السلام) نے ان کو اسلام کی دعوت دی لیکن ان کی سرکشی اور بڑھتی گئی اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کو طرح طرح سے ایذا پہنچانے لگے۔ آخر ہلاک کردیئے گئے۔ زمین سب کو کھا گئی۔ کنویں کو بھی ‘ ان کو بھی اور ان کے گھروں کو بھی۔ یہ تفصیل وہب بن منبہ نے بیان کی۔ ابن جریر اور ابن عساکر نے قتادہ کی طرف بھی اس بیان کی نسبت کی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ اور کلبی نے کہا رس علاقۂ یمامہ میں ایک کنواں تھا وہاں کے باشندوں نے اپنے نبی کو شہید کردیا تھا ‘ اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ بعض اہل روایت کا قول ہے کہ ثمود یعنی قوم صالح میں سے جو لوگ (ایمان لے آئے تھے اور) بچ گئے تھے اصحاب الرس وہی لوگ تھے۔ یہ اس کنویں کے پاس رہتے تھے جس کا تذکرہ اللہ نے آیت (وَبِءْرٍ مُعَطَّلَۃٍ وَّقَصْرٍ مَّشِیْدٍ ) میں کیا ہے۔ عبد بن حمید ‘ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے اس بیان کی نسبت قتادہ کی طرف کی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ سعید بن جبیر نے بیان کیا کہ اصحاب الرس کا ایک پیغمبر تھا جس کا نام حنظلہ بن صفوان تھا۔ رس والوں نے اپنے پیغمبر کو شہید کردیا ‘ اللہ نے ان کو ہلاک کردیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ لوگ اللہ کی طرف سے ایک مصیبت میں مبتلا ہوگئے۔ ایک دراز گردن ‘ عظیم الجثہ پرندہ کوہ فتح پر رہتا تھا ‘ پرندہ کو لمبی گردن ہونے کی وجہ سے عنقاء کہا جاتا تھا۔ عنقا اس قوم کے بچوں پر آپڑتا تھا اور اچک کرلے جاتا تھا۔ حنظلہ نے عنقاء کو بددعا دی نتیجہ یہ ہوا کہ ایک بجلی اس پر ٹوٹ پڑی ‘ لیکن کچھ مدت کے بعد قوم والوں نے حنظلہ کو شہید کردیا اور (اس جرم کی سزا میں) ان کو بھی ہلاک کردیا گیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ کعب مقاتل اور سدی کا بیان ہے رس انطاکیہ میں ایک کنواں تھا ‘ لوگوں نے حبیب بن نجار کو قتل کر کے اس کنویں میں ڈال دیا ‘ حبیب بن نجار اور ان کی قوم کا تذکرہ سورة یاسین میں آیا ہے۔ بعض نے کہا اصحاب الرس ہی اصحاب الاخدود تھے۔ انہوں نے (مؤمنوں کو جلانے کے لئے) ایک خندق کھودی تھی (اور اس میں آگ بھر دی تھی) ۔ عکرمہ نے کہا ‘ اصحاب الرس نے اپنے نبی کو کنوئیں میں پاٹ دیا تھا ‘ یعنی دفن کردیا تھا۔ بعض نے کہا رس معدن کو کہتے ہیں (معدن والے) رس کی جمع رس اس آتی ہے۔ وقرونا بین ذلک کثیرا۔ اور اس کے (یعنی عاد ‘ ثمود ‘ اصحاب الرس اور قوم موسیٰ کے) درمیان کے ہم نے بہت قرنوں (قوموں) کو ہلاک کردیا۔ قرون ‘ قرن کی جمع کثرت ہے۔ قرن ہم عصر لوگوں کو کہتے ہیں۔ اگر قرن کی اضافت کسی معین شخص یا معین جماعت کی طرف کی جاتی ہے تو اس سے مراد ہوتے ہیں وہ لوگ جو اس شخص سے یا اس جماعت کے اکثر افراد سے ایک ہی فرد سے ملے ہوں۔ قرونِ ثلٰثہ جن کے قرون خیر ہونے کی شہادت حدیث میں آئی ہے اسی استعمال کے مطابق ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ‘ خیر القرون قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم رسول اللہ ﷺ کے قرن تو صحابہ تھے ‘ جنہوں نے حضور ﷺ : کو دیکھا تھا اور دوسرا قرن وہ لوگ تھے جنہوں نے اکثر صحابہ کو یا کسی ایک صحابی ہی کو دیکھا تھا اور تیسرا قرن وہ لوگ تھے جنہوں نے تابعین ہی میں سے کسی ایک کو دیکھا تھا۔ اگر قرن مضاف نہ ہو تو مراد ہوتے ہیں ہم عصر لوگ اور یہ حقیقت ناقابل شک ہے کہ ہر زمانہ میں بچے بوڑھوں کے ہم عصر ہوتے ہیں ‘ پھر وہ بچے بوڑھے ہوجاتے ہیں تو ان کے ایام پیری کے زمانہ کے بچے ان کے ہم عصر ہوتے ہیں اور سلسلہ یوں ہی چلتا رہتا ہے ‘ اسلئے (بطور مجاز) لفظ قرن کا اطلاق ایک مدت مدینہ پر کیا جانے لگا۔ مدت کی حد بندی میں اختلاف ہے ‘ کسی کے نزدیک چالیس سال کی مدت ایک قرن ہے۔ کسی نے دس سال یا بیس یا تیس یا پچاس یا ساٹھ یا ستّر یا نوّے سال کو ایک قرن قرار دیا۔ کسی نے ایک قرن کی مدت ایک سو بیس سال بتائی ہے۔ سب سے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ قرن ایک صدی کو کہتے ہیں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لڑکے کو دعا دی تھی اور فرمایا تھا ایک قرن جیو۔ چناچہ اس کی عمر سو سال ہوئی۔ جب قرن بمعنی مدت لیا جائے گا تو آیت کا مطلب اس طرح ہوگا ہم نے بہت زمانوں والوں کو جو کافر تھے ہلاک کردیا۔
Ayah 25:39

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

اور سب کے (سمجھانے کے لئے) ہم نے مثالیں بیان کیں اور (نہ ماننے پر) سب کا تہس نہس کردیا

وکلا ضربنا لہ الامثال وکلا تبرنا تتبیرا۔ اور ہم نے اقوام مذکورہ میں سے ہر ایک (کی ہدایت) کے لئے عجیب عجیب مضامین بیان کئے اور ہم نے سب کو برباد کردیا۔ ضَرَبْنَا لَہُ الْاَمْثَالَیعنی گزشتہ اقوام کے عجیب عجیب واقعات کا ہم نے بیان کیا ہے تاکہ لوگ ان سے عبرت حاصل کریں۔ وَکُلاًّ تَبَّرْنَا اور جب انہوں نے عبرت حاصل نہیں کی اور پیغمبروں کو جھٹلایا تو ہم نے ان کو تباہ کردیا۔ اخفش نے تَبَّرْنا کا ترجمہ کیا ہے ہم نے ان کو توڑ دیا ‘ زجاج نے کہا کسی چیز کو توڑنے اور ریزہ ریزہ کرنے کو تتبیر کہتے ہیں۔ سونے اور چاندی کے ٹکڑوں کو اسی لئے تبر کہا جاتا ہے۔
Ayah 25:40

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ کافر اس بستی پر بھی گزر چکے ہیں جس پر بری طرح کا مینہ برسایا گیا تھا۔ کیا وہ اس کو دیکھتے نہ ہوں گے۔ بلکہ ان کو (مرنے کے بعد) جی اُٹھنے کی امید ہی نہیں تھی۔

ولقد اتوا علی القریۃ التی امطرت مطرا السوء اور بلاشبہ وہ (مکہ والے) اس بستی کی طرف سے گزرے ہیں جن پر بری بارش کردی گئی تھی۔ یعنی بہت سے مکہ کے باشندے ملک شام کو جاتے آتے ہیں اس بستی پر سے گزرے ہیں جس پر بری بارش کی گئی تھی۔ الْقَرْیَۃِسے مراد ہے سدوم کا شہر اور اس سے تعلق رکھنے والی دوسری بستیاں جہاں قوم لوط رہتی تھی اور امرد پرستی جیسی خبیث حرکتوں میں مبتلا تھی۔ اللہ نے ان پر پتھروں کی بارش کرکے تاخت و تاراج کردیا۔ سب اہل مکہ تو نہیں گئے تھے لیکن بعض کے فعل کو (جبکہ دوسرے سب لوگ اس فعل پر راضی ہوں) سب کا فعل کہہ دیا جاتا ہے جیسے آیت فَکَذَّبُوْہُ فَفَقَعُرْوہا میں اونٹنی کو قتل کرنے کی نسبت پوری قوم ثمود کی طرف کی گئی ہے۔ بغوی نے لکھا ہے قوم لوط کی بستیاں پانچ ہیں ‘ اللہ نے ان میں سے چار کو تباہ کردیا اور ایک بستی جو چھوٹی سی بچ گئی تھی اس بستی کے رہنے والے خبیث حرکات میں مبتلا نہ تھے۔ ملک شام کو جاتے ہوئے یہ بستیاں سر راہ پڑتی تھیں۔ افلم یکونوا یرونہا کیا یہ اس بستی کو نہیں دیکھا کرتے۔ یہ استفہام انکاری ہے اور نفی کا انکار ‘ اثبات ہوتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اس بستی کو دیکھا کرتے ہیں۔ پھر اس سے عبرت کیوں حاصل نہیں کرتے۔ بل کانوا لا یرجعون نشورا بلکہ ان کو (دوبارہ جی) اٹھنے کی امید ہی نہیں ہے۔ یعنی ان کے نصیحت پذیر اور نصیحت اندوز ہونے کی یہ وجہ نہیں کہ انہوں نے اس تباہ شدہ بستی کو آنکھوں سے نہیں دیکھا ہے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دل نابینا ہیں ‘ دوبارہ جی اٹھنے کی ان کو توقع ہی نہیں ہے ان کو انجام آخرت کی امید ہی نہیں ہے اور مؤمنوں کو ثواب کی امید ہے۔ یا آیت میں رجاء بر لغت تہامہ بمعنئ خوف ہے ‘ یعنی دوبارہ جی اٹھنے کا ان کو کوئی اندیشہ نہیں ہے۔
Ayah 25:41

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب تم کو دیکھتے ہیں تو تمہاری ہنسی اُڑاتے ہیں۔ کہ کیا یہی شخص ہے جس کو خدا نے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے

واذا راوک ان یتخذونک الا ہزوا اور جب (کفار قریش) آپ کو دیکھتے ہیں تو بس آپ کو مذاق بنا لیتے ہیں۔ ہُزُوًامصدر ہے بمعنی اسم مفعول ‘ یعنی آپ کو مسخرہ بنا لیتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے یہ آیت ابو جہل اور اس کے ساتھیوں کی بابت نازل ہوئی۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ : کی طرف سے گزرے اور بطور استہزاء کہنے لگے۔ اہذا الذی بعث اللہ رسولا۔ کیا یہ (محمد ﷺ وہی ہے جس کو اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ استفہام انکاری تعجبی ہے اور ہٰذَاکا لفظ تحقیر کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ (یعنی یہ رسول نہیں ‘ رسول ہونے کے قابل نہیں ‘ ایک حقیر آدمی کو رسول بنا کر بھیجنا بڑی عجیب بات ہے) ۔
Ayah 25:42

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اگر ہم نے اپنے معبودوں کے بارے میں ثابت قدم نہ رہتے تو یہ ضرور ہم کو بہکا دیتا۔ (اور ان سے پھیر دیتا) اور یہ عنقریب معلوم کرلیں گے جب عذاب دیکھیں گے کہ سیدھے رستے سے کون بھٹکا ہوا ہے

ان کاد لیضلنا عن الہتنا قریب تھا کہ یہ ہم کو ہمارے معبودوں کی طرف سے بہکا لیتا ‘ یعنی ہمارے معبودوں کی پرستش سے ہم کو پھیر دیتا۔ مقصد یہ کہ اس طرز سے توحید کی طرف بلاتا اور ایسی دلیلیں پیش کرتا ہے جن کی وجہ سے دماغوں میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ جو کچھ یہ پیش کر رہا ہے وہ اس کے معجزات ہیں۔ اِنْ (اِنَّکا) مخفف ہے۔ آیت میں دلیل ہے اس بات کی کہ رسول اللہ دعوت اسلام میں انتہائی کوشاں تھے اور بکثرت معجزات بھی آپ ﷺ نے پیش کئے تھے ‘ اتنے اور اس ڈھنگ سے کہ قریب تھا کہ وہ ضدی کافر بھی اپنے ٹیڑھے راستے کو چھوڑ کر اسلام کے سیدھے راستے پر آجاتے ‘ لیکن ان کی آڑ اور بت پرستی پر ہٹ نے ان کو اسلام سے محروم رکھا ‘ اور جو شخص اتنے کثیر واضح معجزات دیکھ کر بھی نصیحت پذیر نہ ہو اس سے کیا امید ہوسکتی ہے کہ وہ تباہ شدہ بستیوں کو دیکھ کر عبرت اندوز ہو سکے۔ لو لا ان صبرنا علیہا اگر ہم ان معبودوں (کی پوجا) پر جمے نہ رہتے۔ لولا کی خبر محذوف ہے ‘ اوپر والا جملہ اس کی تعیین پر دلالت کر رہا ہے یعنی اگر ہم اپنے معبودوں کی پرستش میں جمے نہ رہتے تو محمد ﷺ نے بس ہم کو بہکا ہی لیا تھا۔ کافروں کا یہ کلام غمازی کر رہا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ : کو اور آپ کے ساتھیوں کو گمراہ قرار دیتے تھے اسی خیال کی تردید ذیل کی آیت میں اللہ نے فرما دی۔ وسوف یعلمون حین یرون العذاب من اضل سبیلا۔ اور جب آئندہ عذاب (ان کے سامنے آئے گا اور) ان کو دکھائی دے گا ‘ اس وقت ان کو معلوم ہوگا کہ کون (فریق) بڑا گمراہ تھا ‘ کافر یا مؤمن۔ اس فقرے میں عذاب کی دھمکی ہے اور اس بات پر دلالت ہے کہ اللہ ان کو یوں ہی (بغیر عذاب دیئے) نہیں چھوڑے گا۔
Ayah 25:43

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے خواہش نفس کو معبود بنا رکھا ہے تو کیا تم اس پر نگہبان ہوسکتے ہو

ارءیت من اتخذ الہہ ہوہہ اے پیغمبر آپ نے اس شخص کی حالت بھی دیکھی جس نے اپنا خدا اپنی خواہش نفسانی کو بنا رکھا ہے ‘ یعنی اپنی خواہشات کا تابع ہوگیا۔ خواہشات پر ہی اس نے اپنے مذہب کی بنیاد رکھی (خواہشات نفس کا پرستار ہوگیا) نہ کسی دلیل کو سنتا ہے نہ دیکھتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے آیت کا تفسیری مطلب اس طرح بیان کیا ‘ کیا آپ اس شخص کو دیکھ رہے ہیں جس نے اللہ کی عبادت تو ترک کردی ہے جو اس کا خالق ہے اور پتھروں کی طرف جھک گیا ‘ ان کی پوجا کرنے لگا۔ افانت تکون علیہ وکیلا۔ تو کیا آپ اس کے ذمہ دار ہوں گے۔ یعنی کیا آپ اس کے ذمہ دار ہیں کہ پتھروں کی پوجا سے اس کو روک دیں۔ وَکِیْل ذمہ دار ‘ مانع۔ سابق جملہ میں تعجب آگیں استفہام تقریری ہے اور اس جملہ میں استفہام انکاری ہے یعنی آپ اس کے شرک کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ کلبی نے کہا آیت قتال سے یہ آیت منسوخ ہوگئی۔
Ayah 25:44

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

یا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ان میں اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں (نہیں) یہ تو چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں

ام تحسب ان اکثرہم یسمعون او یعقلون کیا آپ یہ خیال کرتے ہیں کہ ان میں سے اکثر لوگ (کلام اللہ کو) سنتے یا (اس کے مطلب اور غرض کو) سمجھتے ہیں۔ استفہام انکاری ہے اور اَمْ بمعنی بَلْ کے ہے ‘ منقطعہ ہے۔ یعنی حقیقت میں یہ لوگ نہ سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں ‘ اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے سننے سے مراد ہے دل کا سننا۔ دل کے کانوں سے سننا ‘ چونکہ دل کے کانوں سے نہیں سنتے اور نہیں سمجھتے اس لئے نہ کسی نصیحت سے ان کو فائدہ پہنچتا ہے نہ دلیل سے۔ آیت بتارہی ہے کہ ہر دلیل صحیح مفید علم ہوتی ہے۔ دلیل سے نتیجہ کا علم ہوجاتا ہے لیکن (خود بالذات دلیل سے نتیجہ دماغ میں نہیں بیٹھتا بلکہ) اللہ کی مشیت سے وابستہ ہے۔ اکثر کا لفظ اس لئے ذکر کیا کہ سب ایسے نہ تھا کچھ لوگ انہی میں سے ایمان بھی لے آئے تھے اور کچھ لوگ ایسے بھی کہ انہوں نے حقانیت و صداقت کو سمجھ لیا لیکن غرور کی وجہ سے یا اپنی سرداری فوت ہونے کے اندیشہ سے گمراہی میں پڑے رہے اور حق کو قبول نہ کرسکے۔ ان ہم الا کالانعام بل ہم اضل سبیلا۔ وہ نہیں ہیں مگر چوپایوں کی طرح (جانوروں کی طرح سنتے ہیں اور سمجھتے نہیں) بلکہ جانوروں سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہیں۔ یعنی کافروں سے چوپایوں کی طرح سنتے ہیں اور سمجھتے نہیں اس لئے نصیحت سے فائدہ اندوز نہیں ہوتے اور دلائل و معجزات کو آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود غور نہیں کرتے اس لئے چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ جانوروں سے زیادہ گمراہ ہیں کیونکہ یہ جانور اگر حق کو حق اور باطل کو باطل نہیں جانتے تو (اس لئے کہ حق و باطل کو سمجھنے والی عقل ان کو نہیں دی گئی اس لئے معذور ہیں) یہ بات بھی نہیں ہے کہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتے ہوں ‘ جانوروں کی نادانی سادہ ہے اور کافر جہل مرکب میں مبتلا ہیں۔ (حق کو حق اور باطل کو باطل نہیں جانتے بلکہ حق کو باطل اور باطل کو حق سمجھتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ہم حق کو حق اور باطل کو باطل جانتے ہیں) اور ظاہر ہے کہ جہل مرکب (ندا ندوبداند کہ بداند) جہل بسیط (نداند وبداند کہ نہ داند) سے زیادہ برا ہے۔ چوپایوں کو تو حق و باطل کی تمیز ہی نہیں اور ان کافروں (کے اندر قوت تمیز و فیصلہ ہے پھر بھی ان) کو تمیز نہیں ‘ شرک کو حق سمجھتے ہیں اور باوجودیکہ پتھروں کی پوجا کا بطلان ظاہر ہے پھر بھی بلا دلیل ان کو پوجتے ہیں اور دلائل و معجزات کی کھلی ہوئی شہادت رسالت کے باوجود پیغمبروں کا انکار کرتے ہیں ‘ بعض علماء نے جانوروں سے زیادہ گمراہ ہونے کی یہ صورت بیان کی کہ چوپائے تو اپنے مالک اور نگران کے حکم کو مانتے ہیں جو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرے اس کو پہچانتے ہیں اپنے (غذائی) فائدے کو طلب کرتے اور ضرر رساں دشمن سے بھاگتے ہیں لیکن کفار اپنے رب کے حکم کو نہیں مانتے اور اس کے احسان کو نہیں پہچانتے۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ جانور اپنے خالق کو جانتے اور اس کے حکم کی اطاعت کرتے اور تسبیح وتحمید میں مشغول رہتے ہیں اور سمجھتے ہیں اگرچہ ان کی قوت فہم کو عام لوگ نہیں سمجھتے۔ شیخین نے صحیحین میں حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک شخص ایک بیل کو ہنکا کرلے جا رہا تھا (چلتے چلتے جب) تھک گیا تو بیل پر سوار ہوگیا۔ بیل نے کہا ہم کو اس کام کے لئے نہیں پیدا کیا گیا ‘ ہم کو کھیت جوتنے کے لئے پیدا کیا گیا ہے ‘ لوگوں نے (حضور ﷺ : کا یہ فرمان سن کر) کہا سبحان اللہ ! بیل بھی (کہیں) بولتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرا تو اس پر ایمان ہے اور ابوبکروعمر کا بھی۔ اس وقت یہ دونوں حضرات وہاں موجود بھی نہیں تھے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ایک شخص اپنی بکریوں کے ساتھ تھا اچانک ایک بھیڑیئے نے ایک بکری پر حملہ کردیا اور پکڑ لیا ‘ بکریوں کا مالک جا پہنچا اور بکری کو چھڑایا۔ بھیڑیئے نے کہا قیامت کے دن اس کی حمایت کون کرے گا جب کہ سوائے میرے اور کوئی اس کی نگرانی کرنے والے نہ ہوگا لوگوں نے کہا سبحان اللہ (کیا) بھیڑیا بھی باتیں کرتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ‘ میں تو اس پر ایمان رکھتا ہوں اور ابوبکر و عمر بھی۔ دونوں حضرات وہاں موجود نہیں تھے۔ فائدہ ملائکہ میں روح اور عقل ہوتی ہے اور چوپایوں میں نفس و خواہشات۔ آدمی سب کا مجموعہ ہے پس اگر آدمی کی نفسانیت اور خواہشات کا روحانیت وعقل پر غلبہ ہوجاتا ہے تو آدمی چوپایوں سے بھی زیادہ گمراہ ہوجاتا ہے اور اگر روحانیت کا نفس و خواہشات پر تسلط ہوجاتا ہے تو آدمی ملائکہ سے افضل ہوجاتا ہے۔
Ayah 25:45

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

بلکہ تم نے اپنے پروردگار (کی قدرت) کو نہیں دیکھا کہ وہ سائے کو کس طرح دراز کر (کے پھیلا) دیتا ہے۔ اور اگر وہ چاہتا تو اس کو (بےحرکت) ٹھیرا رکھتا پھر سورج کو اس کا رہنما بنا دیتا ہے

الم تر الی ربک کیف مد الظل کیا آپ نے (اللہ کی صنعت کی طرف) نہیں دیکھا کہ اس نے سایہ کو کیسے پھیلا یا ہے یا یہ معنی ہے کیا آپ نے سایہ کو نہیں دیکھا آپ کے رب نے اس کو کیسے پھیلایا ہے۔ اوّل ترجمہ عقلی طور پر دلالت کر رہا ہے کہ سایہ کا پیدا ہونا اور مفید ترین اسباب ممکنہ کے ساتھ گھومنا چلنا صانع حکیم کی ہستی کو بتارہا ہے اور چونکہ یہ استدلال بالکل واضح ہے اس لئے اسلوب کلام کو بدل دیا (مخلوق کا خالق پر اور مصنوع کا صانع کے وجود پر دلالت کرنا بالکل واضح ہے اور عقلی تائید اس کو حاصل ہے) اور یوں فرمایا کہ کیا آپ نے اپنے رب کی طرف نہیں دیکھا ‘ یعنی اللہ کا رب ہونا اور سایہ کے پھیلاؤ کا فاعل حقیقی ہونا تو ایک محسوس بات ہے آنکھوں سے دیکھے جانے کے قابل ہے۔ طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک کا وقت ظل کہلاتا ہے ‘ اللہ نے اس کو پھیلایا ہے اس کی تخلیق تعجب آگیں ہے کہ ظل ہے اور اس کے ساتھ آفتاب نہیں ہے (بغیر آفتاب کے سایہ ہے) جیسا کہ جنت والے سایہ کے متعلق وظلم ممدودٍ فرمایا ہے یا ظل سے مراد ہے وہ سایہ جو طلوع آفتاب کے بعد دیواروں اور درختوں وغیرہ کا ہوتا ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا جو سایہ سورج سے زائل ہوجاتا ہے اس کو ظل کہتے ہیں اور جس سایہ سے دھوپ زائل ہوجاتی ہے اس کو فے کہتے ہیں گویا زوال آفتاب سے پہلے ظل ہوتا ہے اور زوال کے بعد فے آتا ہے (فئے لوٹنا) زوال کے بعد سایہ بھی مشرق سے مغرب کی طرف لوٹ آتا ہے۔ یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ظل (آخر) شب کی اس تاریکی کو کہا جاتا ہے جو سورج کے نکلنے سے زائل ہوجاتی ہے۔ ولو شآء لجعلہ ساکنا اور اگر اللہ چاہتا تو سایہ کو ٹھہرا ہوا (یعنی غیر متحرک) بنا دیتا۔ مطلب یہ کہ سورج نکلتا ہی نہیں۔ قیامت تک رات ہی رات رہتی۔ اس مطلب پر ساکن سکن سے مشتق ہوگا سکن کا معنی ہے ٹھہر گیا۔ یا ساکن کا معنی ہے نہ سکڑنے والا اس ترجمہ پر لفظ ساکن سکون سے مشتق ہوگا ‘ یعنی سورج کو ایک ہی وضع پر قائم رکھتا۔ ثم جعلنا الشمس علیہ دلیلا۔ پھر سورج کو ہم نے سایہ کی دلیل (یعنی راہنما) بنا دیا۔ اگر سورج نہ ہوتا تو سایہ کو سایہ کون جانے ‘ روشنی نہ ہو تو تاریکی کی پہچان کیسے ہو ‘ چیزوں کی شناخت ان کی ضدوں کو جاننے سے ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ سایہ کی کمی بیشی بھی سورج کی مرہون منت ہے۔
Ayah 25:46

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر اس کو ہم آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں

ثم قبضنہ الینا قبضا یسیرا۔ پھر ہم نے اس کو آسانی کے ساتھ (یا تھوڑا تھوڑا کر کے تدریجاً ) اپنی طرف سمیٹ لیا ‘ یعنی سورج کے نکلنے اٹھنے اور کرنوں کے پھیلنے سے سایہ جاتا رہتا ہے اور سایہ کی جگہ آفتاب کی شعاعیں لے لیتی ہیں اوّل تاریکی دھیرے دھیرے جاتی رہتی ہے یہاں تک کہ کامل اجالا ہوجاتا ہے پھر سورج نکل آتا ہے اور سورج کی شعاعیں ان مقامات پر پڑتی ہیں جہاں پہلے تاریکی ہوتی ہے۔ میرے نزدیک ان آیات کی تاویل دوسرے رنگ سے بھی کی جاسکتی ہے۔ ظل سے مراد عالم امکان ہے عالم امکان کا وجود ‘ خارجی ظلی ہے امکان مرتبۂ وجوب کا ظل ہے شمس سے مراد ہیں اللہ کی صفات و اسماء کے مراتب اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کس طرح عالم امکان کو ایجاد کیا اور اس کے وجود کو وجود واجب کا ظل ہے کس طرح ماہیات ممکنہ کی مختلف صورتوں پر پھیلا دیا اگر اللہ چاہتا تو سارے عالم امکان کے وجود کو ساکن مستقر اور ایک ہی حالت پر کردیتا مگر اس نے ایسا نہیں چاہا بلکہ اس کو محل حوادث اور تغیرات و فناء کی آماجگاہ بنا دیا تاکہ وہ ذات واجب الوجود حقیقی کا محتاج رہے اور اس کی امکانی احتیاج نمودار ہو پھر ہم نے آفتاب کو اس کے لئے راہنما بنایا ‘ یعنی جب اللہ کی صفات و اسماء کا جلوہ صوفی کے دل پر پڑتا ہے اور قلبی بصیرت کے ذریعہ اس کو وجودِ حق تعالیٰ کا مشاہدہ ہوتا ہے تو اس وقت اس پر یہ حقیقت کھل جاتی ہے کہ تمام عالم امکان وجودِ حق تعالیٰ کا ظل ہے تجلیات و مشاہدات سے پہلے وہ خیال کرتا ہے کہ عالم امکان کا بجائے خود کوئی وجود ہے لیکن صفاتی اور اسمائی نور پاشی کے بعد اس کا یہ خیال دور ہوجاتا ہے۔ پھر ہم اس کو دھیرے دھیرے سمیٹ لیتے ہیں یعنی صوفی کو رفتہ رفتہ اپنا مقرب بنا لیتے ہیں اور ہماری صفات و ذات کی بےکیف قربت اس کو حاصل ہوجاتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کا فرمان نقل کیا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ نوافل کے ذریعہ میرا بندہ میرے قریب ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ میرا محبوب ہوجاتا ہے اور جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو اس کے کان ہوجاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے۔ الحدیث۔ صوفیاء کا قول ہے جس کے دونوں دن برابر (ایک جیسے) ہوں وہ گھاٹے میں رہتا ہے (یعنی جو دوسرے دن پہلے سے زیادہ عروج حاصل نہ کرے وہ خسارے میں ہے) ۔
Ayah 25:47

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جس نے رات کو تمہارے لئے پردہ اور نیند کو آرام بنایا اور دن کو اُٹھ کھڑے ہونے کا وقت ٹھہرایا

وہو الذی جعل لکم الیل لباسا اور وہی رب تو ہے جس نے تمہارے لئے رات کو لباس بنایا۔ تاریکی شب لباس کی طرح پردہ پوش ہے اس لئے رات کو لباس سے تشبیہ دی۔ والنوم سباتا اور نیند کو بدنوں کے لئے راحت بنایا (کہ مشاغل بیداری نیند میں منقطع ہوجاتے ہیں) سبتکا لغوی معنی ہے کاٹنا (نیند مشاغل بیداری کو کاٹ دیتی ہے) یا سباتاً کا ترجمہ ہے موت (اللہ نے دوسری آیت میں (نیند کو وفات سے تعبیر کیا ہے اور) فرمایا ہے وَہُوَ الَّذِیْ یَتَوَفّٰکُمْ باللَّیْلِ اسی معنی کے لحاظ سے مسبوت مردہ کو کہتے ہیں۔ وجعل النہار نشورا اور دن کو اٹھ بیٹھنے کا وقت بنا دیا ‘ دینی اور دنیوی کاموں کے لئے لوگ عام طور پر دن کو اٹھ جاتے اور پھیل جاتے ہیں۔