23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 23:104

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھائے ہوں گے

تللفح وجوہہم النار جھلس دے گی ان کے چہروں کو آگ۔ یعنی ان کے چہروں کو آگ جلا ڈالے گی۔ (کذا فی القاموس) اور مؤمن کے چہرے کو آگ نہیں جلائے گی۔ مسلم نے حضرت جابر کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس امت کے کچھ لوگ دوزخ میں جائیں گے اور آگ ان کو جلائے گی لیکن ان کے چہروں کے گھیرے کو نہیں جلائے گی پھر کچھ مدت کے بعد ان کو دوزخ سے نکال لیا جائے گا۔ ابن مردویہ اور ضیاء نے حضرت ابو درداء کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے آیت تَلْفَحْ وُجُوْہَہُمُ النَّارُ کے متعلق دریافت کیا گیا فرمایا آگ کی ان کو ایک لپٹ لگے گی کہ ان کے گوشت بہہ کر ایڑیوں پر جا پڑیں گے۔ طبرانی نے الاوسط میں اور ابو نعیم نے حضرت ابوہریرہ ؓ : کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جہنم کی طرف جب دوزخیوں کو ہنکا کرلے جایا جائے گا تو آگ کی ایک لپٹ ان کو ایسی لگے گی کہ گوشت کو ہڈی پر لگا نہ چھوڑے گی سارا گوشت ایڑیوں پر (بہا کر) ڈال دے گی۔ وہم فیہا کلحون۔ اور آگ کے اندر ان کی صورتیں بگڑ جائیں گی۔ کلوح کا معنی ہے دونوں ہونٹوں کا دانتوں کے اوپر سے سکڑ جانا (یعنی نیچے کا ہونٹ نیچے کی طرف آجانا اور اوپر کا ہونٹ اوپر کو اٹھ جانا) ترمذی نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے لکھا ہے اور اس کو صحیح کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت وَہُمْ فِیْہَا کٰلِحُوْنَکی تشریح میں فرمایا آگ اس کو بھون ڈالے گی کہ اوپر کا ہونٹ بالائی جانب کو اتنا اٹھ جائے گا کہ سر کے وسط تک پہنچ جائے گا اور نچلا ہونٹ اتنالٹک جائے گا کہ ناف سے جا لگے گا۔ ہناد نے بیان کیا کہ حضرت ابو مسعود ؓ نے آیت وَہُمْ فِیْہَا کٰلِحُوْنَ کے متعلق فرمایا جیسے پکی ہوئی سری جس کے دانت باہر نکل آئے ہوں اور ہونٹ سکڑ گئے ہوں۔
Ayah 23:105

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیا تم کو میری آیتیں پڑھ کر نہیں سنائی جاتیں تھیں (نہیں) تم ان کو سنتے تھے (اور) جھٹلاتے تھے

الم تکن ایتی تتلی علیکم فکنتم بہا تکذبون۔ کیا میری آیات تم کو پڑھ کر نہیں سنائی گئی پھر تم ان کو جھوٹا قرار دیتے ہو۔ یعنی بطور زجر اور استحقاق عذاب کے باعث کو یاد دلانے کے لئے ان سے کہا جائے گا۔
Ayah 23:106

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار! ہم پر ہماری کم بختی غالب ہوگئی اور ہم رستے سے بھٹک گئے

قالوا ربنا غلبت علینا شقوتنا وکنا قوما ضآلین۔ وہ کہیں گے اے ہمارے رب واقعی ہماری بدبختی نے ہم کو گھیر لیا اور بیشک ہم گمراہ لوگ تھے۔ یعنی ہماری بدبختی نے ہم پر قابو پا لیا ‘ یہاں تک کہ ہمارے احوال نے ہم کو اس انجام بد تک پہنچا دیا ‘ ہم حق سے بھٹکے ہوئے تھے۔
Ayah 23:107

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے پروردگار! ہم کو اس میں سے نکال دے، اگر ہم پھر (ایسے کام) کریں تو ظالم ہوں گے

ربنا اخرجنا منہا فان عدنا فانا ظلمون۔ اے ہمارے رب اب ہم کو اس (جہنم) سے نکال لے اگر پھر دوبارہ ہم ایسا کریں تو بیشک قصوروار ہوں گے۔ فَاِنْ عُدْنَا یعنی اگر پھر ہم تکذیب کی طرف لوٹے (ہم نے دوبارہ تکذیب کی) تو بیشک اس وقت ہم اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوں گے اس وقت عذاب سے تو ہم کو رہائی نہ دینا۔
Ayah 23:108

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو

قال اخسؤا فیہا ولا تکلمون۔ اللہ فرمائے گا اسی (جہنم) میں ذلت کے ساتھ راندے ہوئے پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو۔ اِخْسَءُوْاذلت کے ساتھ چپ رہو۔ یہ دعا کا مقام نہیں ہے اور دور رہو ‘ صاحب قاموس نے لکھا ہے۔ خَسَا الکلبَکتے کو دھتکار کر باہر نکال دیا۔ خَسَءَا الکلبُکتا دور ہوگیا۔ جیسے اِنْخَسَءَادور ہوگیا (باب انفال) گویا خسئا لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ خساء اور خسوء مصدر ہے۔ وَلاَ تُکَلِّمُوْنَ اور مجھ سے کوئی بات مت کرو یا عذاب دور کرنے کی بات مت کرو۔ عذاب دور نہیں کیا جائے گا۔ اس کلام کے بعد وہ ہمیشہ کے لئے مایوس ہوجائیں گے ‘ ان کی ہر امید ختم ہوجائے گی۔ حسن نے کہا دوزخیوں سے یہ آخری کلام ہوگا اس کے بعد وہ کلام نہ کرسکیں گے سوائے دم گھٹنے اور آہیں بھرنے کے اور کوئی بات نہ کرسکیں گے۔ کتوں کی طرح بھونکیں گے نہ خود بات سمجھیں گے نہ اپنی بات سمجھا سکیں گے۔ قرطبی نے کہا جب اِخْسَءُوْا فِیْہَا وَلاَ تُکَلِّمُوْنِ ان سے کہہ دیا جائے گا تو ان کی ساری امیدیں کٹ جائیں گی ‘ بالکل نراس ہوجائیں گے اور ایک دوسرے کی طرف رخ کر کے بھونکیں گے اس وقت دوزخ اوپر سے بند کردی جائے گی۔ ہناد ‘ طبرانی ‘ ابن ابی حاتم ‘ حاکم اور بیہقی نے بیان کیا اور عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں اس کو نقل کیا کہ حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ نے فرمایا کہ دوزخی مالک کو پکاریں گے اور کہیں گے مالک (جہنم کا داروغہ دوزخ کے فرشتوں کا آفیسر) اب تو تیرے رب کو چاہئے کہ ہمارا کام تمام کر دے مالک چالیس برس تک ان کو کوئی جواب نہیں دے گا۔ چالیس سال کے بعد جواب دے گا تو کہے گا اِنَّکُمْ مَا کِثُوْنَ تم کو (یہیں ہمیشہ) رہنا ہے۔ یہ جواب ملنے کے بعد وہ اپنے رب کو پکاریں گے اور کہیں گے رَبَّنَا اَخْرِجْنَا مِنْہَا فَاِنْ عِدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَاللہ ان کو دنیا کی مدت سے دوگنی مدت تک کوئی جواب نہیں دے گا یوں ہی پڑا رہنے دے گا اس مدت کے بعد جواب دے گا تو فرمائے گا۔ اِخْسَءُوْا فِیْہَا وَلاَ تُکَلِّمُوْنَاس وقت وہ بالکل مایوس ہوجائیں گے اور کوئی بات نہیں کرسکیں گے اور سوائے دم گھٹنے اور گڑگڑ کرنے کے ایک کلمہ بھی ان کے منہ سے نہیں نکلے گا۔ سعید بن منصور اور بیہقی نے محمد بن کعب کا بیان نقل کیا ہے کہ دوزخی پانچ مرتبہ پکاریں گے چار دعاؤں کے بعد تو اللہ کو جو ابدے گا اور پانچویں کے بعد وہ خود بات نہ کرسکیں گے وہ کہیں گے اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَاَحْیَیْتَنَا اثْنتیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَہَلْ اِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍاے ہمارے رب تو نے دو بار ہم کو مردہ کیا اور دو بار زندگی عطا کی ‘ اب ہم اپنے گناہوں کا اقرار کرتے ہیں کیا اب یہاں سے نکلنے کی کوئی سبیل ہے ‘ اللہ اس کے جواب میں فرمائے گا (ذٰلِکُمْ بِاَنَّہٗ اِذَا دُعِیَ اللّٰہُ وَحَدَہٗ کَفَرْتُمْ وَاِنْ یُّشْرَکْ بِہٖ تُؤْمِنُوْا فَالْحُکْمُ لِلّٰہِ الْعَلِیِّ الْکَبِیْرِ ) تمہاری یہ حالت اس وجہ سے ہے کہ جب ایک خدا کو پکارا جاتا تھا تو تم انکار کرتے تھے اور جب اس کے ساتھ دوسروں کو شریک بنایا جاتا تھا تو تم یقین کرلیتے تھے پس (آج) فیصلہ اسی اللہ کے ہاتھ میں ہے جو سب سے بالا اور بزرگ ہے۔ پھر وہ کہیں گے رَبَّنَا اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَاے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو دنیا کی طرف لوٹا دے تاکہ ہم نیک کام کریں بلاشبہ ہم یقین رکھتے ہیں اللہ جواب میں فرمائے گا (فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا اِنَّا نَسیْنٰکُمْ وَذُوقُوْا عَذَابَ الْخُلْدِ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ) تم اس دن کے پیش آنے کو بھول گئے تھے (یقین نہ رکھتے تھے سو اس کا مزہ چکھو) ۔ ہم نے بھی (تم کو آگ میں ڈال کر) بھولا بسرا کردیا اور اپنے کرتوت کے بدلے دوامی عذاب کا مزہ چکھو۔ وہ کہیں گے رَبَّنَا اَخِّرْنَا اِلٰی اَجَلٍ قَرِیْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَکَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَاے ہمارے رب ! ہم کو تھوڑی مدت کی مہلت دے دے کہ ہم تیری دعوت کو قبول کرلیں اور پیغمبروں کے کہے پر چلیں ‘ اللہ جواب میں فرمائے گا۔ (اَوَلَمْ تَکُوْنُوْا اَقْسَمْتُمْ مِنْ قَبْلُ مَا لَکُمْ مِنْ زَوَالٍ ) کیا تم نے اس (قیامت کے برپا ہونے) سے پہلے (اپنی زندگی میں) قسمیں نہیں کھائی تھیں کہ تم کو زوال نہ ہوگا۔ وہ عرض کریں گے رَبَّنَا اَخْرِجْنَا نَعْمَلُ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلْاے ہمارے رب ہم کو یہاں سے نکال لے تاکہ ہم اپنے گزشتہ اعمال کے خلاف (اب) نیک عمل کریں ‘ اللہ جواب میں فرمائے گا۔ (اَوْلَمْ نُعَمِّرْ کُمْ مَا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَجَآءَ کُمُ النَّذِیْرُ فَذُوْقُوْا فَمَا لظّٰلِمِیْنَ مِنْ نَّصِیْرٍ ) کیا ہم نے تم کو اتنی زندگی نہیں دی کہ جو نصیحت پذیر ہوجاتا اور (کیا) تمہارے پاس ڈرانے والا (نہیں) آیا تھا اب مزہ چکھو (آج) کافروں کا کوئی مددگار نہیں ہے۔ دوزخی کہیں گے۔ رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلْیَنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ رَبَّنَااَخْرِجْنَا مِنْہَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَاللہ جواب میں فرمائے گا اِخْسَءُوْا فِیْہَا وَلاَ تُکَلِّمُوْنِ ۔ اس جواب کے بعد ان کے چہرے پارۂ گوشت (کی طرح) ہوجائیں گے ‘ جس میں نہ منہ ہوں گے نہ ناک کے سوراخ اور سانس اندر ہی اندر گھومے گا ان پر آگ کے سانپ اور بچھو ٹوٹ پڑیں گے۔ اگر ان میں سے ایک سانپ مشرق میں پھونک مار دے تو مغرب والے سوختہ ہوجائیں ‘ اور اگر ایک بچھو دنیا والوں کے ڈنک ماردے تو (اس کے زہر سے) سب جل جائیں یہ سانپ اور بچھو ان پر ٹوٹ پڑیں گے اور ان کے گوشت پوست میں گھس جائیں گے اور ان کو آواز ایسی سنائی دے گی جیسے بیابانوں میں وحشی جانوروں کی آوازیں ہوتی ہیں۔
Ayah 23:109

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو دعا کیا کرتا تھا کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لائے تو تُو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

انہ کان فریق من عبادی یقولون ربنا امنا فاغفرلنا وارحمنا وانت خیر الرحمین۔ بیشک میرے بندوں میں ایک گروہ تھا جو کہا کرتا تھا ‘ اے ہمارے رب ہم ایمان لے آئے سو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
Ayah 23:110

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے

فاتخذ تموہم سخریا سو تم نے ان کو مسخرہ بنایا۔ سِخْرِیًّاکسائی اور فراء نے کہا سخریا بہ کسر سین کسی کا باتوں میں مذاق اڑانا ‘ استہزاء کرنا اور سخریا بضم سین ‘ کسی کو عملاً غلام بنا لینا تحقیر کرنا۔ سورة زخرف میں باتفاق اہل قراءت بضم سین ہے استہزاء قولی کا احتمال ہی وہاں نہیں ہے۔ خلیل نے کہا دونوں لفظ ہم معنی ہیں جیسے بحر ولحی اور بحر رلحی ‘ اور کَوْکَبٌ دُرِّی اور کوکب دِرِی۔ قاموس میں بھی اسی طرح آیا ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے سَخِرُوْا مِنْہُ اور سَخِرُوْا بِہٖاس سے مذاق کیا اور اس کا مذاق اڑایا۔ اسم سخریتہ اور سخری بالضم وبالکسر آتا ہے۔ سَخَرَۃ سِخْرِیًّا وَسُخْرِیًّا اس کو روک دے یا مجبور کیا ایسے کام کا مکلف کیا جو وہ کرنا نہیں چاہتا۔ کذا فی النہایۃ۔ بہرحال سخری مصدر اور مبالغہ کے لئے یاء بڑھا دی گئی ہے اور یہاں استہزاء مراد ہے کیونکہ آگے آتا ہے۔ حتی انسوکم ذکری وکنتم منہم تضحکون۔ یہاں تک (ان سے مذاق کرنے کا مشغلہ کیا) کہ اس مشغلہ نے تم کو میری یاد بھلا دی اور تم ان سے ہنسی کیا کرتے تھے۔ ہنسی استہزاء قولی کے بعد ہی ہوتی ہے۔ یاد خدا کو بھلانے کی نسبت مؤمنوں کی طرف مجازاً کی گئی ہے۔ حقیقت میں اہل ایمان کے ساتھ ہنسی کرنے اور ان کا مذاق بنانے کا مشغلہ موجب نسیان تھا اور اس جگہ یہی مراد ہے۔ مقاتل نے کہا اس آیت کا نزول فقراء صحابہ کے متعلق ہوا جیسے حضرت عمار ‘ حضرت صہیب ‘ حضرت سلمان وغیرہ قریش کے کافر ان سے بہت استہزاء کرتے تھے اور ان کی ہنسی بنایا کرتے تھے۔
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

آج میں نے اُن کو اُن کے صبر کا بدلہ دیا، کہ وہ کامیاب ہوگئے

انی جزیتہم الیوم بما صبروا انہم ہم الفآئزون۔ آج ان کے صبر کا بدلہ میں نے یہ دیا کہ بس وہی کامیاب ہوئے۔
Ayah 23:112

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے؟

قال کم لبثتم فی الارض عدد سنین۔ ارشاد ہوگا (آج یہ بتاؤ کہ) سالوں کی گنتی کے اعتبار سے تم زمین پر کتنی مدت رہے۔ قَالَیعنی قیامت کے دن اللہ کافروں سے فرمائے گا۔ کَمْ لَبِثْتُمْتم زمین میں کتنی مدت رہے یعنی زندگی کی حالت میں اور مرنے کے بعد قبروں میں۔
Ayah 23:113

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے کہ ہم ایک روز یا ایک روز سے بھی کم رہے تھے، شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیئے

قالوا لبثنا یوماً او بعض یومٍ فسئل العآدین۔ وہ کہیں گے ایک دن یا ایک دن سے کم رہے (صحیح یاد نہیں) تو گنتی کرنے والوں سے دریافت کرلے۔ کافروں نے پچھلی مدت کو بہت کم قرار دیا۔ اس کی مختلف وجوہ ہوسکتی ہیں (1) دکھ اور تکلیف کے وقت کو آدمی طویل سمجھتا ہے اور اس سے پہلے گزرے ہوئے زمانے کو چھوٹا جانتا ہے۔ (2) پچھلی مدت تو گزر چکی تھی اور جو مدت گزر چکے وہ حقیر ہی معلوم ہوتی ہے۔ (3) آخرت کی زندگی لامحدود ہے اس کے مقابلے میں یہ دنیوی زندگی اور قبر میں رہنے کی مدت بہت ہی کم ہے۔ (4) پچھلی زندگی خوشی میں گزری اور خوشی کے ایام چھوٹے ہی معلوم ہوتے ہیں۔ یہ آخری توجیہ اس صورت میں صحیح ہوگی جب مدت قیام سے صرف دنیا میں زندگی کی مدت مراد ہو۔ قبر کی مدت مراد نہ ہو کیونکہ نصوص قطعیہ اور اجماع سے ثابت ہے کہ (کافروں کے لئے خصوصیت کے ساتھ) عذاب قبر حق ہے۔ فَسْءَلِ الْعَادِّیْنَگنتی کرنے والوں سے پوچھ لے یعنی ان لوگوں سے دریافت کرلے جو گنتی کرسکتے ہوں۔ ہم تو جس عذاب میں گرفتار ہیں وہ ہم کو گنتی کرنے سے مانع ہے۔ یا الْعَآدِّیْنَسے مراد ہیں اعمالنامے لکھنے والے۔ ملائکہ ‘ اعمال نویس ‘ ملائکہ انسانوں کے اعمال محفوظ رکھتے ہیں تو مدت قیام بدرجۂ اولیٰ ان کے پاس محفوظ ہوگی۔
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

(خدا) فرمائے گا کہ (وہاں) تم (بہت ہی) کم رہے۔ کاش تم جانتے ہوتے

قل ان لبثتم الا قلیلاً لو انکم کنتم تعلمون۔ ارشاد ہوگا تم (دنیا میں) تھوڑے ہی وقت رہے لیکن کیا خوب ہوتا کہ (یہ بات دنیا میں) تم سمجھتے ہوتے۔ قَلِیْلاً یعنی پیش آنے والے عذاب کے مقابلہ میں تم تھوڑے وقت ہی رہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آخرت میں یہ دنیا ایسی ہوگی جیسے کوئی شخص اپنی انگلی (ذرا) سمندر میں ڈال (کر نکال لے) پھر دیکھے کہ انگلی (سمندر کے پانی سے) کیا لے کر لوٹی۔ رواہ احمد و ابن ماجۃ و مسلم عن المستورد۔ لَوْ اَنَّکُمْ لو تمنائی ہے جس کے اندر توبیخ و ملامت بھی ہے۔ یعنی کاش تم دنیا میں جان لیتے کہ وہاں تمہاری مدت قیام تھوڑی ہے پھر اس زندگی کو کھیل کود۔ تکمیل خواہشات اور نفس پرستی میں نہ کھو دیتے اور آج کے دن کی پیشی کو نہ بھولتے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا دنیا میں ایسے رہو جیسے تم مسافر یا راہ گیر ہو۔ رواہ البخاری عن ابن عمر ‘ امام ترمذی اور ابن ماجہ کی روایت میں حدیث مذکورہ کے آخر میں یہ بھی ہے کہ اپنے آپ کو قبروں والوں میں شمار کرو۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

کیا تم یہ خیال کرتے ہو کہ ہم نے تم کو بےفائدہ پیدا کیا ہے اور یہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟

افحسبتم انما خلقنکم عبثا وانکم الینا لا ترجعون۔ سو کیا تم نے یہ خیال کیا تھا کہ ہم نے تم کو محض بیکار پیدا کیا ہے اور (کیا تم گمان کرتے تھے کہ) تم ہمارے پاس لوٹا کر نہیں لائے جاؤ گے۔ اَفَحَسِبْتُمْہمزہ انکاریہ توبیخیہ ہے ‘ عبثا بیکار بغیر کسی حکمت کے یا محض کھیل کے طور پر یا صرف اس لئے کہ تم کھیلو کودو ‘ بیکار زندگی گزارو ایسا نہیں ہے بلکہ تم کو اس لئے پیدا کیا کہ تم اللہ کو پہچانو اس کی عبادت کرو۔ اس کے فرماں بردار بنو۔
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

تو خدا جو سچا بادشاہ ہے (اس کی شان) اس سے اونچی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہی عرش بزرگ کا مالک ہے

فتعلی اللہ الملک الحق لا الہ الا ہو رب العرش الکریم۔ پس بہت ہی عالی شان ہے اللہ جو بادشاہ حقیقی ہے اس کے سوا کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں ‘ وہی بزرگی والے عرش کا مالک ہے۔ اَلْمَلِکُ الْحَقُّ حقیقی بادشاہ جس کو حکومت کا حق ہے (اور جس کی حکومت واقعی ہے) دوسر مخلوق بالذات مالک نہیں مملوک ہے ‘ (حاکم نہیں محکوم ہے) اس کی مالکیت (اور شاہیت) بالعرض ہے یعنی جب اللہ ہی بادشاہ حقیقی ہے تو اس کا فعل عبث نہیں ہوسکتا۔ اَلْعَرْشِ الْکَرِیْمِعرش بزرگ۔ اللہ کی پُر عظمت تجلیات خصوصی طور پر عرش پر پڑتی ہیں اسی لئے اس کی صفت کریم قرار دی۔
Ayah 23:117

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ بھی سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا۔ کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے

ومن یدع مع اللہ الہا اخر لا برہان لہ بہ فانما حسابہ عند ربہ انہ لا یفلح الکفرون۔ اور جو شخص اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کی بھی عبادت کرے کہ جس (کے معبود ہونے) پر اس کے پاس کوئی بھی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رب کے پاس ہی (جا کر) ہوگا (جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ) یقیناً کافروں کو فلاح نہ ہوگی (بلکہ ہمیشہ ہمیشح عذاب میں پڑے رہیں گے) ۔ پکارنے سے مراد ہے عبادت کرنا۔ لاَ بُرْہَانَ لَہٗ بِہٖیہ دوسری صفت ہے اللہ کے سوا دوسرے کی عبادت باطل ہے اور باطل کی کوئی دلیل نہیں یہ دوسری صفت یا تو محض تاکیدی ہے یا اسلئے ذکر کی گئی ہے کہ حکم توحید کی بنا اسی پر ہے۔ اس امر پر تنبیہ بھی ہے کہ کوئی ایسا دین اختیار کرنا جس کی کوئی دلیل نہ ہو ممنوع ہے چہ جائیکہ اس (عقیدۂ و عمل) کے خلاف دلیل موجود ہو۔ فَاِنَّمَا حِسَابُہٗ یعنی اللہ بقدر استحقاق اس کو سزا دے گا۔ سزا یہ کہ کافروں کو کبھی فلاح نصیب نہ ہوگی۔ جنت میں کبھی نہ جائیں گے۔ دوزخ سے کبھی رہائی نہ ملے گی۔ آغاز سورة میں اللہ نے مؤمنوں کے فلاح یاب ہونے کا ذکر کیا تھا اور قَدْ اَفْلَحُ الْمُؤْمِنُوْنَفرمایا تھا اور ختم سورة پر کافروں کے فلاح نہ پانے کی صراحت فرما دی۔ اس سے آگے اپنے رسول ﷺ : کو استدعاء رحمت اور استغفار کا حکم دیا تاکہ آپ کی امت والے آپ کی پیروی کر کے مدارج فلاح پر فائز ہوجائیں۔
Ayah 23:118

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور خدا سے دعا کرو کہ میرے پروردگار مجھے بخش دے اور (مجھ پر) رحم کر اور تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے

وقل رب اغفر وارحم وانت خیر الرحمین۔ اور آپ کہا کریں اے میرے رب (میری خطائیں) معاف کر دے اور (میرے حال پر) رحم فرما تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔ اِغْفِرْاور اِرْحَمْکا مفعول محذوف ہے تاکہ ہر طرح کی مضرتوں کو دفع کرنے اور ہر قسم کی فائدہ مند چیزوں کے حصول میں عموم پیدا ہوجائے یعنی دعا عام ہوجائے۔ یعنی اے اللہ تو میری تمام خطاؤں کو معاف فرما دے (خطاؤں کی معافی کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ہر تکلیف دہ ضرر رساں چیز سے حفاظت ہوجائے گی) اور مجھ پر رحم فرما (ہر طرح کے رحم کرنے کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ ہر فائدہ بخش چیز عنایت فرما دے گا۔ مغفرت کا لازمی نتیجہ دفع مضرت ہے اور رحمت کا لازمی نتیجہ حصول منفعت ) ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حنش نے بیان کیا کہ ایک مجنون کو حضرت ابن مسعود ؓ کے پاس لایا گیا آپ نے اس کے دونوں کانوں میں آیت اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰکُمْ ۔۔ آخر تک پڑھ کر دم کردی اللہ نے اس کو اچھا کردیا۔ رسول اللہ ﷺ نے ابن مسعود ؓ سے فرمایا تم نے اس کے کانوں میں کیا دم کیا۔ حضرت ابن مسعود نے واقعہ عرض کردیا ‘ حضور ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ اگر کوئی شخص اس کو پڑھ کر پہاڑ پر دم کر دے تو پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائے۔ الحمدللہ 15 ماہ صفر 1204 ھ ؁ کو سورة المؤمنون کی تفسیر ختم ہوئی۔ اللہ کا شکر ہے کہ 28 رمضان 1379 ھ ؁ کو صبح کے وقت ترجمہ پورا ہوا۔