Ayah 23:27فاوحینا الیہ (پس ہم نے نوح کی دعا قبول کی) پھر ان کے پاس وحی بھیجی۔
ان اصنع الفلک باعیننا ووحینا کہ میری نگرانی میں میری وحی (تعلیم و حکم) کے موافق کشتی بناؤ۔
بِاَعْیُنِنَا یعنی ہماری نگرانی اور حفاظت میں کشتی بناؤ ‘ کوئی تمہارا کام بگاڑ نہ سکے گا۔
فاذا جآء امرنا وفار التنور فاسلک فیہا من کل زوجین اثنین واہلک الا من سبق علیہ القول منہم پھر جب ہمارا حکم (عذاب کا یا سوار ہوجانے کا) آجائے اور روئے زمین سے پانی ابلنے لگے تو ہر ایک قسم کے
جانوروں کا ایک ایک جوڑا (لے کر) کشتی میں داخل کرلینا اور اپنے متعلقین کو بھی (کشتی میں سوار کرلینا) باستثناء ان لوگوں کے ‘ جن کے (ہلاک کرنے کے) متعلق پہلے ہی حکم نافذ ہوچکا ہے۔
فَار التَّنُّوْرُتنور ابل جائے یعنی تنور سے پانی ابلنے لگے۔
حضرت مفسر کے نزدیک تنور سے مراد یہی روٹی پکانے کا تنور ہے۔ حضرت نوح ( علیہ السلام) کو عذاب (طوفان) آنے کی یہ نشانی بتائی گئی تھی چناچہ تنور سے پانی پھوٹ نکلا بیوی نے آکر اطلاع دی آپ فوراً سوار ہوگئے۔ آپ کا مکان کوفہ کی مسجد کے اندر تھا کہ باب کندہ کی کی طرف سے داخل ہونے والے دائیں ہاتھ کو واقع تھا۔ یہ بھی کہا گیا کہ ملک شام کی کسی (ٹیلہ کی) چوٹی پر آپ رہتے تھے۔
فَاسْلُکْ فِیْہَاپس اس میں داخل کرلے سَلَکَفعل لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ سَلَکْتُ فِیْ کَذَا میں ایسے واقعہ میں داخل ہوگیا۔ اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا ہے ماسَلَکَکم فِیْ سَقَرٍتم کو دہکتی آگ میں کس نے داخل کیا۔
مِنْ کُلٍ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِاثنین مفعول ہے۔ یعنی ہر طرح کے جانوروں میں دو دو نر اور مادہ کو داخل کرلو۔
اس قصہ میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہر قسم کے جانوروں کو حضرت نوح ( علیہ السلام) کے پاس جمع کردیا گیا آپ اپنے دونوں ہاتھ الگ الگ ہر قسم کے جانوروں پر مارتے تھے دایاں ہاتھ نر پر اور بایاں ہاتھ مادہ پر پڑتا تھا آپ دونوں کو کشتی میں سوار کرلیتے تھے۔
وَاَہْلَکَیعنی اپنے گھر والوں کو بھی سوار کرلو۔ یا اہل سے مراد ہیں وہ تمام لوگ جو حضرت نوح ( علیہ السلام) پر ایمان لے آئے تھے۔
اِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ یعنی ان گھر والوں کو سوار نہ کرنا جن کا کفر کی وجہ سے ہلاک کیا جانا ازل میں طے ہوچکا ہے۔
مَنْ سَبَقَ سے مراد ہے حضرت نوح کی بیوی اور بیٹا کنعان۔ علیٰ ضرر کے لئے آتا ہے اور لام نفع کیلئے۔ چونکہ ازلی فیصلہ ان لوگوں کے لئے ضرر رساں تھا اس لئے علیہ فرمایا اور آیت اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنٰیمیں ازلی فیصلہ نفع رساں تھا اس لئے لَہُمْفرمایا۔
ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا انہم مغرقون۔ اور ظالموں کے حق میں مجھ سے کلام نہ کرنا (یعنی ان کو بچانے کی مجھ سے دعا نہ کرنا) کیونکہ بلاشبہ وہ غرق کئے جانے والے ہیں۔
Ayah 23:28فاذا استویت انت ومن معک علی الفلک فقل الحمد للہ الذی نجنا من القوم الظلمین۔ پھر جب تم اور تمہارے ساتھی بیٹھ چکیں تو کہنا اللہ کا شکر ہے جس نے ہم کو کافر لوگوں (کے افعال اور ایذاؤں)
سے نجات دی۔
Ayah 23:29وقل رب انزلنی مبارکا وانت خیر المنزلین۔ اور (یہ بھی) کہنا کہ اے میرے رب مجھے (زمین پر)
برکت کے ساتھ اتارنا اور تو سب اتارنے والوں سے اچھا ہے۔
رَبِّ اَنْزِلْنِیْ حضرت مفسر نے فرمایا سوار ہونے کے بعد کشتی میں اور اترنے کے وقت زمین میں۔
مُنْزَلاً مُّبَارَکًابرکت کا اتارنا۔ کشتی میں برکت کا اتارنا یہ کہ اللہ کے دشمنوں کی صحبت سے نجات دی اور اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوجانے کا موقع عنایت فرمایا اور زمین میں اترنے کے بابرکت ہونے کے یہ معنی کہ (اللہ نے ڈوبنے سے محفوظ رکھا۔ مترجم) ۔ اور نسل و رزق میں کثرت عطا فرمائی اور بےغمی کے ساتھ عبادت رب میں مشغول ہوجانے کا موقع عنایت کیا۔
دعا کرنے کا حکم صرف حضرت نوح کو دیا اپنے لئے بھی اور اپنے ساتھیوں کے لئے بھی اس میں حضرت نوح کی بزرگی کا اظہار ہے اور اس امر کی طرف ایماء ہے کہ حضرت نوح کی دعا ساتھ والوں کے لئے بھی کافی ہے ساتھیوں کو اپنے لئے دعا کرنے کی ضرورت نہیں۔
Ayah 23:30ان فی ذلک لایت اس (واقعۂ مذکورہ) میں بہت سی نشانیاں ہیں۔
وان کنا لمبتلین۔ اور (یہ نشانیاں بیان کر کے) ہم (اپنے بندوں کو) بلاشبہ آزمانے والے ہیں۔
فِیْ ذٰلِکَیعنی نوح اور ان کی قوم کے قصہ میں۔
لَاٰیٰتٍبلاشبہ بڑی نشانیاں ہیں جو اللہ کی قدرت کاملہ کو ثابت کرتی ہیں اور ظاہر کرتی ہیں کہ اللہ مؤمنوں پر مہربانی کرتا ہے اور کافروں پر غضب نازل فرماتا ہے۔ اس قصہ کے اندر درس عبرت ہے اہل نظر کے لئے۔
وَاِنْ کُنَّا لَمُبْتَلِیْنَاِنْ مخففہ ہے اصل میں انَّ تھا یعنی ہم یقیناً قوم نوح کو مصائب میں مبتلا کرنے والے تھے یا اپنے بندوں کی آزمائش کرنے والے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک ان نافیہ ہے اور لَمُبْتَلِیْنَمیں لام بمعنی الاَّ ہے یعنی نوح کو پیغمبر بنا کر بھیجنا اور ان کا وعظ و نصیحت کرنا اور کسی غرض سے نہ تھا مگر اس کا سبب صرف یہ تھا کہ ہم کو نوح ( علیہ السلام) کی قوم کی جانچ کرنی تھی ‘ ان کو آزمانا تھا ان کا امتحان لینا تھا کہ نزول عذاب سے پہلے ان کا عمل کیا ہوتا ہے۔
Ayah 23:31ثم انشانا من بعدہم قرنا اخرین۔ (ہم نے ان کو غرق کردیا) ان کے بعد پھر ایک اور قوم کو پیدا کیا
Ayah 23:32فارسلنا فیہم رسولا منہم اور ان کے اندر انہی میں سے ایک شخص کو پیغمبر بنا کر بھیجا۔
قَرْنًا اٰخَرِیْنَ سے مراد ہے قوم عاد یا قوم ثمود۔ بقول بغوی اوّل زیادہ مناسب ہے (کیونکہ قوم نوح کے بعد قوم عاد ہی پیدا ہوئی ‘ جس کی ہدایت کے لئے اللہ نے رسول کو بھیجا تھا) ۔
اگر عاد مراد ہو تو رسول سے حضرت ہود ( علیہ السلام) مراد ہوں گے اور ثمود مراد ہو تو رسول سے مراد حضرت صالح ( علیہ السلام) ہوں گے۔
مِنْہُمْکا یہ مطلب ہے کہ رسول انہی کی قوم سے تھا جس کی سچائی اور خوش رفتاری سے سب لوگ واقف تھے اور سب کو اس کے سچا اور نیک ہونے کا اقرار تھا۔
ان اعبدوا اللہ مالکم من الہ غیرہ افلا تتقون۔ (یہ پیام دے کر بھیجا) کہ اللہ کی عبادت کرو اس کے
سوا کوئی قابل عبادت نہیں سو کیا تم (اس کے عذاب سے) نہیں ڈرتے (کہ دوسروں کی پوجا کرتے ہو) ۔
Ayah 23:33وقال الملا من قومہ الذین کفروا وکذبوا بلقآء الاخرۃ واترفنہم فی الحیوۃ الدنیا ما ہذا الا بشر مثلکم اور (پیغمبر کی یہ بات سن کر) ان کی قوم میں جو سردار تھے جنہوں نے کفر کیا تھا اور قیامت کے آنے کو
جھٹلایا تھا اور دنیوی زندگی میں ہم نے ان کو عیش بھی دیا تھا کہنے لگے کہ یہ تو تمہاری طرح ایک معمولی آدمی ہے۔
بِلِقَآءِ الْاٰخِرَۃِیعنی قیامت اور قیامت کے عذاب وثواب کے منکر تھے۔
اَتْرَفْنٰہُمْہم نے ان کو خوش عیش بنایا تھا ‘ مال و اولاد کی کثرت عطا کی تھی۔
مِّثْلُکُمْتم جیسا ہے یعنی انسانی احوال و اوصاف میں تمہاری طرح ہے۔
یاکل مما تاکلون منہ ویشرب مما تشربون۔ جو تم کھاتے ہو وہی یہ بھی کھاتا ہے اور جو تم پیتے ہو وہی
یہ بھی پیتا ہے (یعنی تمہاری طرح کھانا کھانے اور پانی پینے کا ضرورت مند ہے) ۔
Ayah 23:34ولئن اطعتم بشرا مثلکم انکم اذا لخسرون۔ اور بخدا اگر تم اپنے جیسے آدمی کے (کہے پر چلے اور)
فرماں بردار بن گئے تو یقیناً اس وقت گھاٹے میں رہو گے کہ اپنے جیسے آدمی کے فرماں بردار بنو گے اور خود اپنے کو ذلیل کرو گے۔ وہ لوگ عجیب بیوقوف اور جاہل تھے کہ اپنے جیسے آدمی کی بات ماننے کا تو انکار کرتے تھے اور بےجان پتھروں کی پوجا کر کے اپنے ذلیل ہونے کا مظاہرہ کرتے تھے۔
Ayah 23:35ایعدکم انکم اذا متم وکنتم ترابا وعظاما انکم مخرجون کیا یہ شخص تم سے کہتا ہے کہ
جب تم مرجاؤ گے اور خاک اور (بلا گوشت پوست کی خالی) ہڈیاں ہوجاؤ گے۔ تو (دوبارہ زندہ کر کے زمین سے) نکالے جاؤ گے۔
اَیَعِدُکُمْ میں استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں کہنا چاہئے یا سوال تقریری ہے یعنی یہ ضرور ایسا کہہ رہا ہے۔ نبوت پر جو انہوں نے طنز کیا تھا اس کو پختہ کرنے کے لئے کافروں نے یہ بات کہی (کہ یہ نبی کیسے ہوسکتا ہے یہ دوبارہ زندہ کر کے اٹھائے جانے کا احمقانہ عقیدہ رکھتا ہے) یا مقولۂ سابقہ کی علت ہے پہلے انہوں نے کہا کہ اپنے جیسے آدمی کی اگر اطاعت کرو گے تو گھاٹا پاؤ گے اس کا ثبوت یہ پیش کیا کہ یہ وقوع قیامت کا قائل ہے (دنیا کے سارے عیش میں خلل ڈالنا چاہتا ہے اس کی بات کو ماننے سے اس زندگی میں خسارہ ہی اٹھانا پڑے گا) ۔
Ayah 23:36ہیہات ہیہات لما تو عدون۔ بہت ہی بعید اور بہت ہی بعید (از عقل) ہے جو بات تم سے کہی جا رہی ہے
(اور جس سے تم کو ڈرایا جا رہا ہے)
لِمَا تُوْعَدُوْنَ مبتدا محذوف کی خبر ہے (یعنی سچائی یا عقل سے) یہ دوری اس چیز کی ہے جو تم سے کہی جا رہی ہے۔ یا لام زائد ہے اور مَا تُوْعَدُوْنَ ۔ ہَیْہَاتَکا فاعل ہے (اور ہیہات بمعنی ماضی ہے) بعض کے نزدیک ہیہات مصدر ہے یعنی دوری ہے اس بات کی جو تم سے کہی جا رہی ہے۔
Ayah 23:37ان ہی الا حیاتنا الدنیا یہ زندگی اور کچھ نہیں سوائے اس دنیوی زندگی کے۔ حیات دنیا یعنی وہ زندگی جس میں ہم
ہیں اور اور جو ہمارے قریب ہے (دونوں کا معنی ہے قرب۔ دنیا مؤنث ادنیٰ کا ہے اور ادنیٰ اسم تفضیل ہے ونو مادہ ہے۔ مترجم) ۔
نموت ونحیا وما نحن بمبعوثین۔ ہم مرتے ہیں اور زندہ ہوتے (رہتے) ہیں اور ہم (دوبارہ زندہ
کر کے) اٹھائے نہیں جائیں گے۔ یعنی ہم میں سے کوئی مرتا ہے کوئی پیدا ہوتا ہے ‘ بغوی نے کہا دوبارہ زندگی کے وہ لوگ منکر تھے اس لئے نحیا کا یہ مطلب نہیں کہ ہم سب زندہ ہوں گے بلکہ کلام میں تقدیم تاخیر ہے یعنی ہم تم سب پیدا ہوتے ہیں پھر مرجاتے ہیں۔ یہ مطلب اس وقت ہوگا کہ نموت اور نحیا سے مراد ہوں سب آدمی (لیکن اگر بعض کا مرنا اور بعض کا پیدا ہونا مراد ہو تو اس تاویل کی ضرورت نہ ہوگی۔ مترجم) ۔
میں کہتا ہوں اگر سب ہی لوگ مراد ہوں تب بھی بغوی کی تاویل کی ضرورت نہیں کیونکہ واو فقط عطف اور جمیعت کو ظاہر کرتا ہے (ترتیب پر بقول احناف دلالت نہیں کرتا۔ پس مطلب یہ ہوگا کہ ہم سب مرتے جیتے رہتے ہیں ‘ یہ مطلب نہیں کہ ہم مرجائیں گے پھر دوبارہ زندہ ہوں گے۔
Ayah 23:38ان ہو الا رجل افتری علی اللہ کذبا و ما نحن لہ بمؤمنین۔ یہ شخص (جو اللہ کی طرف سے
رسول ہونے کا دعویٰ کر رہا ہے اور وقوع قیامت کا قائل ہے) جھوٹا ہے اس نے اللہ پر دروغ بندی کی اور ہم تو اس کی بات کا یقین کرنے والے نہیں ہیں۔ یہ جملہ ماہٰذَا الاَّ بَشَرٌ مِّثْلُکُمْکی تاکید ہے۔
Ayah 23:39قال رب انصرنی بما کذبون۔ پیغمبر نے کہا اے میرے رب کافروں نے میری تکذیب کی (اب) تو میری مدد فرما (اور ان پر عذاب نازل کر) یعنی میرا انتقام لے۔
Ayah 23:40قال عما قلیل لیصبحن ندمین۔ اللہ نے فرمایا ‘ کچھ ہی وقت کے بعد یہ لوگ ضرور پشیمان ہوں گے۔
عَمَّا میں مازائد ہے جو مفہوم قلت کی تاکید کر رہا ہے یا نکرہ ہے اور قلیل اس کی صفت ہے یعنی تھوڑے وقت کے بعد مراد یہ ہے کہ جب عذاب کو آنکھوں سے دیکھ لیں گے اور ایسا عنقریب ہوجائے گا تو ضرور پشیمان ہوں گے۔
Ayah 23:41فاخذتہم الصیحۃ بالحق فجلعنہم غثآء چناچہ ان کو ایک سخت چیخ (یعنی عذاب) نے موافق
(وعدۂ ) حق کے آپکڑا اور پھر ہم نے خس و خاشاک ( کی طرح پامال) کردیا۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ صیحۃ سے مراد ہے ہلاکت۔ قاموس میں ہے صیحۃ اور صیاح سخت چیخ۔ صِیْحَ بِہِمْان کو گھبرا دیا گیا۔ صِیْحَ فِیْہِمْوہ ہلاک ہوگئے اور صیحۃ عذاب کو بھی کہتے ہیں۔
اگر قَرْنًا اٰخَرِیْنَسے قوم عاد مراد ہو تو صیحۃ سے مراد ہوگا عذاب اور اگر یہ قصہ ثمود کا ہے تو صیحۃ سے مراد ہوگی چیخ۔ سورة اعراف کی تفسیر میں ہم نے بیان کردیا ہے کہ آسمان سے ایک چیخ سنائی دی اور ہر چیز سے ایک چیخ نکلی اور بادل کا کڑکا بھی ہوا جس سے سب کے دل پھٹ گئے (قوم عاد پر چیخ کا عذاب نہیں آیا تھا بلکہ طوفان ہوائی آیا تھا جس کے جھکڑ سات دن تک مسلسل جاری رہے اور سب ہلاک ہوگئے اس لئے اگر آیت مذکورہ میں عاد کا قصہ بیان کیا گیا ہے تو صیحۃ سے مراد چیخ نہ ہوگی عذاب مراد ہوگا) ۔
” ہم نے ان کو خس و خاشاک بنا دیا۔ “ یعنی ہلاک کردیا جیسے سیلاب کے اوپر کوڑا کرکٹ بہ کر آجاتا ہے۔ ہم نے اس کوڑے کی طرح ان کو کردیا۔ جو شخص ہلاک ہوجائے ‘ عرب اس کے متعلق کہتے ہیں سال بہ الوادی۔ نالہ کا سیلاب اس کو بہا لے گیا۔
فبعدا للقوم الظلمین۔ سو خدا کی مار کافر لوگوں پر۔
بَعُدَوہ ہلاک ہوگیا۔ بُعْدًامصدر ہے۔ جملہ یا خبریہ ہے ‘ ہلاکت ہوگئی ان کافروں کی۔ یا انشائیہ دعائیہ۔ ہلاکت ہو ان کافروں کی۔ لِلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَقائم مقام فاعل کے ہے اور بعدًا مصدر ہے۔ فعل کے قائم مقام اور لام زائد ہے یا مصدری معنی کو قوت پہنچانے کے لئے لایا گیا ہے۔
Ayah 23:42ثم انشانا من بعدہم قرونا اخرین۔ پھر قوم عاد کے بعد ہم نے دوسری قومیں پیدا کیں جیسے قوم ثمود قوم لوط ‘ قوم شعیب وغیرہ۔
Ayah 23:43ما تسبق من امۃ اجلہا وما یستاخرون۔ (ان امتوں میں سے) کوئی امت نہ اپنی (ہلاکت کے) مقررہ
میعاد سے پہلے ہلاک ہوسکتی تھی نہ مقررہ وقت ہلاکت سے پیچھے (باقی) رہ سکتی تھی۔ یعنی ہلاکت کا جو وقت مقرر تھا نہ اس سے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے نہ وقت مقرر کے بعد زندہ رہ سکتی تھی۔
Ayah 23:44ثم ارسلنا رسلنا تترا پھر ہم نے ان کے پاس اپنے پیغمبروں کو (ہدایت کے لئے) پے در پے بھیجا۔
تَتْرَااصل میں وترا تھا وترا وتر سے مشتق ہے۔ وتر (طاق) شفع (جفت) کی ضد کو کہتے ہیں۔ تواتر اور مواترہ چیزوں کا پے در پے یعنی ایک کے بعد دوسرے کا اور دوسرے کے بعد تیسرے کا آنا اور بغیر کسی اجتماعیت کے تسلسل قائم ہونا۔
قاموس میں ہے تواتر پے در پے ہونا۔ (بغیر کسی انقطاع و خلا کے) یا مع انقطاع کے۔ وَاتَرَُ مَواتَرَۃً وَوِتَارًاایک کے پیچھے دوسرا آیا ‘ کیونکہ مواترت بین الاشیاء اسی وقت ہوتی ہے ‘ جب ان چیزوں کے درمیان انقطاع ہو۔
حضرت مفسر نے فرمایا ‘ مراد یہ ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک اشیاء میں تواتر اسی وقت ہوگا جب ان کے درمیان انقطاع ہو (اتصال و التصاق نہ ہو) ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث میں آیا ہے لاَ بَاْسَ بقضاءِ رمَضَان تترارمضان کے جو روزے ناغہ ہوگئے ہوں ان کو متفرق طور پر ادا کرلینے میں کوئی ہرج نہیں۔ کذا فی النہایۃ۔ اصمعی نے کہا واترت الخَبَراس وقت کہا جاتا ہے جب ایک کے پیچھے دوسری خبر دی جائے اور دونوں کے درمیان کچھ وقفہ ہو۔
میں کہتا ہوں اسی وجہ سے خبر متواتر اس خبر کو کہتے ہیں جو الگ الگ اتنی اسناد اور اتنے راویوں سے منقول ہو جن کا جھوٹ پر متفق ہوجانا ناممکن ہو۔
ثُمَّ اَرْسَلْنَاکا عطف ثُمَّ اَنْشَانَا پر ہے اس میں جمع کا جمع سے مقابلہ ضرور ہے مگر اس طور پر کہ ایک جمع کی اکائی کو دوسری جمع کی اکائی کے ساتھ ملا دیا جائے ‘ گویا مطلب اس طرح ہوا۔ پھر ہم نے ایک قوم پیدا کی ‘ پھر اس کی ہدایت کے لئے ایک رسول کو بھیجا ‘ پھر ہم نے دوسری امت پیدا کی اور اس کی ہدایت کے لئے پھر دوسرا نبی بھیجا۔ اسی طرح آئے اس توضیح کے بعد معنی میں کوئی بگاڑ نہیں ہوگا۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ پہلے ہم نے کچھ اقوام کو پیدا کیا پھر ان کے بعد کچھ پیغمبروں کو بھیجا۔
کلما جآء امۃ رسولہا کذبوہ فاتبعنا بعضہم بعضا وجعلنہم احادیث فبعدا لقوم لا یومنون۔ جب کبھی کسی امت کے پاس ان کا رسول (ہدایت کے لئے) آیا تو انہوں نے رسول کو جھٹلایا سو ہم نے بھی
(ہلاک کرنے میں) ایک کے بعد ایک کا نمبر لگا دیا اور ان کو کہانیاں بنا دیا پس خدا کی مار بےایمان لوگوں پر۔
رسول کے ساتھ اگر بھیجنے کا ذکر ہو تو بھیجنے والے کی طرف اس کی نسبت کی جاتی ہے۔ (جیسے ہم نے اپنا رسول بھیجا) اور اگر رسول کے ساتھ پہنچنے اور آنے کا ذکر ہو تو جن کی طرف رسول کو بھیجا جاتا ہے ان لوگوں کی طرف رسول کی نسبت کی جاتی ہے (جیسے اللہ کا رسول اوّل کی مثال میں اور قوم ثمود کا رسول دوسرے کی مثال میں کہا جاسکتا ہے) بھیجنا مبدأ ہے اس لئے مرسل کی طرف نسبت ہونی چاہئے اور پہنچنا منتہا ہے۔ اس لئے مرسل الیہم کی طرف نسبت ہونی چاہئے۔
کَذُّبُوْہُیعنی اکثر لوگوں نے تکذیب کی ‘ اکثر کے لئے حکمِ کل کا ہوتا ہے اس لئے سب کی طرف نسبت تکذیب کردی (باوجودیکہ بعض ایمان لانے والے بھی تھے) ۔
َ فَاْتَعْبَنَا بَعْضَہُمْ بَعْضًا یعنی جس طرح پیغمبروں کو ہم نے یکے بعد دیگرے بھیجا اسی طرح امتوں کو بھی ایک کے بعد ایک کو ہلاک کردیا۔
وَجَعَلْنَہُمْ اَحَادِیْثَاور ہم نے ان کو کہانیاں بنا دیا۔ یعنی ان کی داستانیں اور ہلاکت کے قصے رہ گئے جن کو لوگ بطور داستان بیان کرتے ہیں اور عبرت آموز دماغوں والے ان سے عبرت حاصل کرتے ہیں۔
احادیث احدوثۃ کی جمع ہے ‘ احدوثہ وہ قصہ ہے جس کو لوگ دل بہلانے کے لئے تعجب کے ساتھ پڑھتے اور بیان کرتے ہیں۔ اخفش نے کہا یہ یعنی لفظ احدوثہ اور احادیث کا استعمال شر کے موقع پر ہوتا ہے اور خیر کے موقع پر یہ نہیں کہا جاتا ہے کہ ہم نے ان کو احادیث بنا دیا ‘ بلکہ یوں کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص حدیث (ایک افسانہ یا واقعہ) ہوگیا۔
بعض نے کہا احادیث ‘ حدیث کا اسم جمع ہے۔ احادیث النبی ﷺ ( رسول اللہ ﷺ : کی حدیثیں) کہا جاتا ہے۔
فَبُعْدًا لِّقَوْمِ لاَ یُؤْمِنُوْنَیعنی جو لوگ پیغمبروں پر ایمان نہیں لاتے اور ان کو سچا نہیں جانتے ان پر خدا کی مار۔ وہ تباہ ہوجاتے ہیں۔
Ayah 23:45ثم ارسلنا موسیٰ واخاہ ہرون بایتنا وسلطن مبینا۔ پھر ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو اپنی آیات اور کھلی ہوئی دلیل دے کر
Ayah 23:46الی فرعون و ملاۂ فاستکبروا وکانوا قوما عالین۔ فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا سو انہوں نے (ماننے اور تصدیق کرنے سے) تکبر کیا اور وہ لوگ تھے ہی متکبر۔
سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍکھلی دلیل ‘ جو مقابل حریف کو لا جواب بنا دینے والی ہو۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍسے مراد عصا ہو سب سے پہلا معجزہ یہی تھا ‘ اسی لئے اس کو مستقل طور پر ذکر کیا۔ اسی سے متعدد معجزات صادر ہوئے تھے ‘ مثلاح وہ سانپ بن جاتی تھی۔ جادوگروں نے رسیوں سے جو سانپ بنائے تھے ان کو یہ لاٹھی نگل گئی تھی۔ اسی کی ضرب سے سمندر کا پانی پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا تھا ‘ اس کی ضرب سے پتھر سے چشمے جاری ہوجاتے تھے۔ یہ پڑاؤ کرنے کے وقت چاروں طرف گھوم کر لشکر کی حفاظت کرتی تھی۔ یہی رات میں شمع کا کام دیتی تھی ‘ یہی پھولدار درخت بن گئی تھی یہی چشموں کے اندر سے پانی نکالنے کے لئے رسی ڈول کا کام دیتی تھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیات سے مراد دلائل ہوں اور سلطٰن سے مراد معجزات ہوں ‘ یا دونوں سے مراد معجزات ہوں۔ یہ سب نشان نبوت تھے اور حضرت موسیٰ کے دعوے کی دلیل تھے۔ (عام اہل تفسیر کے نزدیک آیات سے مراد نو معجزات نہیں بلکہ احکام مراد ہیں۔ مترجم) ۔
عَالِیْنَ یعنی وہ لوگ مغرور تھے ‘ لوگوں پر جبر اور ظلم کیا کرتے تھے۔
Ayah 23:47فقالوا انومن لبشرین مثلنا وقومہما لنا عبدون۔ چناچہ (باہم) کہنے لگے کیا ہم اپنے جیسے دو آدمیوں کو پیغمبر مان لیں ‘ حالانکہ ان کی قوم والے لوگ (سب کے سب) ہمارے زیر حکم ہیں ‘
Ayah 23:48فکذبوہما فکانوا من المہلکین۔ اس غرور کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے موسیٰ ( علیہ السلام) و ہارون کو جھوٹا قرار دیا اور ہلاک کردہ (قوموں) میں سے ہو گے۔
اَنُؤْمِنُ میں استفہام انکاری ہے یعنی ان دونوں کی فضیلت اور نبوت کو ہم تسلیم نہیں کریں گے اور انکی تصدیق نہیں کریں گے۔
لَبَشَرَیْنَبشر کا اطلاق ایک پر بھی ہوتا ہے جیسے آیت فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا میں اور جمع پر بھی اطلاق ہوتا ہے جیسے آیت فَاِمَّا تَرَیِنَّ مِنَ الْبَشَرِ اَحَدًا میں ۔
مِثْلِنَالفظ مثل کا اطلاق ایک پر بھی ہوتا ہے اور دو پر بھی اور مذکر پر بھی اور مؤنث پر بھی۔ وَقَوْمُہُمَا قوم سے مراد بنی اسرائیل ہیں۔ لَنَا عٰبِدُوْنَہمارے خدمت گار ہیں ‘ زیر حکم ہیں۔ عرب لوگ ہر اس شخص کو عابد کہہ دیتے ہیں جو کسی کا خدمتی اور حکم بردار ہو۔
مِنَ الْمُہْلَکِیْنَ یعنی غرق کردیئے گئے۔
Ayah 23:49ولقد اتینا موسیٰ الکتب لعلہم یہتدون۔ اور ہم نے موسیٰ کو کتاب (توریت) عطا کی تاکہ وہ
لوگ (یعنی بنی اسرائیل) سیدھا راستہ پالیں (یعنی ان کو اللہ کے احکام معلوم ہوجائیں اور معرفت کا راستہ پالیں) ۔
لَعَلَّہُمْکی ضمیر بنی اسرائیل کی طرف راجع ہے ‘ قوم فرعون کی طرف راجع نہیں ہے کیونکہ قوم فرعون کے ڈوبنے کے بعد توریت کا نزول ہوا تھا۔
Ayah 23:50وجعلنا ابن مریم وامہ ایۃ اور ہم نے مریم کے بیٹے (عیسیٰ ( علیہ السلام) کو اور ان کی ماں (مریم) کو ایک بڑی
نشانی بنایا۔ نشانی بنانے سے مراد ہے بغیر باپ کے پیدا کرنا اور یہ نشانی دونوں کی ایک ہی تھی اس لئے لفظ آیۃ بصیغۂ واحد ذکر کیا۔ یا یوں کہا جائے کہ ابن مریم کے بعد لفظ آیۃ محذوف ہے ‘ یعنی ہم نے ابن مریم کو نشانی بنایا کہ انہوں نے شیر خوار ہونے کی حالت میں جب کہ پالنے میں تھے بات کی اور ماں کی پاک دامنی ظاہر کی اور دوسرے معجزے ان سے ظاہر ہوئے اور ان کی ماں کو بھی نشانی بنایا کہ بغیر مرد کی قربت کے ان کے پیٹ سے بچہ پیدا ہوا۔
واوینہما الی ربوۃ ذات قرار و معین۔ اور ہم نے دونوں کو ایک ایسی بلند زمین پر لے جا کر پناہ دی جو
جو (بوجہ اناج اور میوہ جات کے) ٹھہرنے کے قابل اور شاداب جگہ تھی۔
رَبْوَۃٍزمین میں اونچی جگہ۔ حضرت عبداللہ بن سلام نے فرمایا ‘ یہ دمشق تھا۔ سعید بن مسیب اور مقاتل کا بھی یہی قول ہے۔
ضحاک نے کہا غوطۂ دمشق 1 [ 1 غوطہ : نشیبی زمین ‘ گڑھا۔ غوطہ دمشق کے قریب ایک شہر کا نام ہے (مجمع الجار) یہ بھی مجمع الجار کے مؤلف نے بیان کیا ہے کہ غوطۂ دمشق ان باغوں اور
چشموں کو کہا جاتا ہے جو شہر کے گرداگرد ہیں۔] مراد ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے فرمایا رَبْوَۃٍسے رملہ مراد ہے۔ عطا کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول آیا ہے کہ ربوہ سے مراد بیت المقدس ہے۔ یہی قول قتادہ اور کعب کا ہے۔ کعب نے کہا ربوہ کا حصہ بہ نسبت دوسری زمین کے اٹھارہ میل آسمان کے قریب تھا۔ ابن زید کے نزدیک مصر مراد ہے (یہی قول تاریخی حیثیت سے زیادہ قوی ہے کیونکہ یہودی بادشاہ ہیرودس جب حضرت عیسیٰ کے قتل کے درپے ہوگیا تھا تو حضرت مریم اپنے بچہ کو لے کر مصر چلی گئی تھیں۔ مترجم) ۔ سدی کے نزدیک فلسطین کی سرزمین مراد ہے۔
ذَاتِ قَرَارٍقرار والی۔ ہموار زمین جس پر رہنے والے ٹھہر سکیں۔
بعض نے کہا پھلوں اور اناج والی زمین جس کی وجہ سے لوگ وہاں رہ سکیں۔ معین جاری پانی۔ معن الماء پانی بہنے لگا۔ یا معین ماعون سے بنا ہے اور ماعون کا معنی ہے نفع پانی بھی بڑی کام کی چیز ہے۔ یا معین عان کا اسم مفعول ہے عان کا معنی ہے آنکھ سے دیکھا ربوہ بھی اونچی زمین تھی (دور سے) آنکھوں سے دیکھی جاسکتی تھی۔
Ayah 23:51یایہا الرسل کلوا من الطیبت واعملوا صالحا اے پیغمبر و حلال چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو۔
طَیِّبٰتِ سے مراد ہیں حلال چیزیں اور امر وجوب کے لئے ہے۔ مطلب یہ ہے کہ حرام چیزیں نہ کھاؤ (اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ حلال چیزیں کھاؤ یعنی کل حلال چیزیں کھانے کا حکم وجوبی نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ حرام چیزیں نہ کھاؤ۔ مترجم) یا لذیذ چیزیں مراد ہیں اس وقت امر اباحت اور سہولت پیدا کرنے کے لئے ہوگا اس سے رہبانیت اور ترک لذات کی تردید ہوجائے گی۔
بعض نے کہا اس سے حلال صاف قوام والا مراد ہے حلال تو حرام کی ضد ہوتا ہے اور صاف سے یہ مراد ہے کہ اس کے کھانے سے اللہ کی یاد نہ بھولے اس کا کھانا اللہ کی یاد سے غافل نہ بنا دے اور خواہشات نفسانی میں نہ ڈال دے اور قوام سے یہ مراد ہے کہ نفس کی خواہش کو روک دے عقل کی حفاظت رکھے یعنی سیری کی مقدار سے زائد نہ ہو۔
نیک کام سے مراد ہے اللہ کے حکم کے مطابق عمل کرنا جو محض اللہ کی خوشنودی کے لئے کیا جائے اس میں کسی قسم کے شرک کی آمیزش بھی نہ ہو ‘ فاسد نہ ہو ‘ یعنی ایسا قول و فعل نہ ہو جو اللہ کو پسند نہیں ہے۔ خلاصۂ مطلب یہ ہے کہ ہم نے ہر زمانہ میں اس زمانہ کے پیغمبر کو حکم دے دیا تھا کہ حرام چیز نہ کھانا حلال ‘ کھانا اور نیک کام کرنا۔ یہ کلام حقیقت میں گزشتہ واقعات کا بیان ہے۔
حسن ‘ مجاہد ‘ قتادہ ‘ سدی ‘ کلبی اور مفسرین کی ایک جماعت کا خیال ہے کہ یٰاَیُّہَا الرُّسُلُ سے خطاب صرف رسول اللہ ﷺ کو ہے۔ عرب کا طریقہ ہے کہ ایک کو جمع کے صیغہ سے خطاب کرلیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں ایک کی عظمت کو ظاہر کرنے کے لئے جمع کے صیغہ سے خطاب کیا جاتا ہے اس قسم کے خطاب میں مخاطب کی بزرگی کی طرف اشارہ ہوتا ہے اور یہ بتانا ہوتا ہے کہ یہ ایک جماعت کے قائم مقام ہے پس جمع کا صیغہ بول کر رسول اللہ ﷺ : کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے اور ایماء ہے اس طرف کہ آپ کو سب لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا گیا ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ صیغۂ جمع سے خطاب رسول اللہ ﷺ اور علماء امت کو ہو رسول اللہ اور علمائے امت کے درمیان ایک برزخی درجہ رکھتا ہے اور علماء امت ‘ رسول اور دوسرے لوگوں کے درمیان برزخی درجہ رکھتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے علماء انبیاء کے قائم مقام ہیں۔ یا علوم انبیاء کے وارث ہیں۔
بعض اہل علم نے کہا کہ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ کو خطاب ہے اور یہ خطاب اس وقت کیا گیا تھا جب ربوہ میں وہ پناہ گزیں ہوگئے تھے اس خطاب میں اس حکم کو بیان فرمایا ہے جو انبیائے سابقین کو دیا گیا تھا تاکہ یہ دونوں بزرگ بھی سابق انبیاء کی پیروی کریں۔ بیان قصہ کا تقاضا یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ اور ان کی والدہ کو ہی مخاطب قرار دیا جائے۔
انی بما تعملون علیم۔ جو کچھ تم کرتے ہو میں بلاشبہ اس کو جانتا ہوں (تمہارے اعمال کے مطابق جزا دوں گا)
Ayah 23:52وان ہذہ امتکم امۃ واحدۃ وانا ربکم فاتقون۔ اور یہ تمہارا طریقہ۔ ایک طریقہ اور میں تمہارا رب
ہوں تو مجھ سے ڈرو (میری ذات وصفات میں کسی کو شریک نہ بناؤ اور نہ میری نافرمانی کرو۔ مترجم) ۔
اُمَّتُکُمْیعنی تمہاری ملت اور شریعت جس پر تم سب قائم ہو۔
اُمَّۃً وَّاحِدَۃٌ ایک طریقہ یعنی اسلام ‘ عقائد اور اصول اعمال (اور بنیادی دستور) میں سب کا ایک طریقہ ہے۔ فرعی اعمال میں حسب حکم خداوندی زمانہ کے اختلاف کی وجہ سے اختلاف ہے اور منسوخ کو چھوڑ کر ناسخ پر عمل کرنا ضروری ہے۔
فَاتَّقُوْنَسببیہ ہے۔ یعنی میں چونکہ تمہارا رب ہوں اس لئے مجھ سے ڈرو۔
Ayah 23:53فتقطعوا امر ہم بینہم زبرا کل حزب بما لدیہم فرحون۔ سو لوگوں نے اپنے دین میں (اپنا طریق الگ الگ کر کے) اختلاف پیدا کرلیا۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ دین ہے وہ اسی پر اترائے ہوئے ہیں ‘ یعنی جن لوگوں کے پاس پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے پیغمبروں کے بعد دین میں تفرقہ پیدا کرلیا اور ایک دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے اصولی اختلاف دین بنا لیا اور ایک دین کے چند دین بنا لئے کوئی تو تمام پیغمبروں کی اور ان کے لائے ہوئے احکام کی تصدیق کرتا رہا۔ یہ ہر زمانے میں اہل حق کا گروہ رہا اور کچھ لوگ کسی پیغمبر اور کسی حکم پر ایمان لائے۔ دوسرے انبیاء و احکام کا انکار کردیا ‘ جیسے یہودی اور عیسائی اور صابی۔ بعض نے سب ہی کا انکار کردیا جیسے مجوسی اور بت پرست۔ مذکورہ بالا تفسیری مطلب اس صورت میں ہوگا جب تَقَطَّعُوْا کو قَطَّعُوْا کے معنی میں مانا جائے ( تَفُضُّلبمعنی تفعیل آتا ہے لیکن یہ بھی جائز ہے کہ اَمْرَہُمْسے پہلے حرف جر (فی) محذوف ہو۔ اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ وہ دین کے معاملہ میں پارہ پارہ ہوگئے۔ گروہ گروہ بن گئے اور ایک دین کے انہوں نے بکثرت دین بنا لئے۔
تَقَطَّعُوْا اور اَمْرَہُمْاور بَیْنَہُمْکی ضمیریں ان لوگوں کی طرف راجع ہیں جن کے پاس پیغمبروں کو بھیجا گیا تھا ‘ مثلاً حضرت نوح کی قوم کے متعلق فرمایا تھا۔ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰی قَوْمِہٖ ۔ یا۔ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَاَرْسَلْنَا فِیْہِمْ رُسُلُنَا تَتْرٰی۔
زبُرًاگر وہ گروہ۔ فرقہ فرقہ ‘ ٹکڑے ٹکڑِ ۔ زبر۔ زبور کی جمع ہے۔ زبور کا معنی ہے ٹکڑا ‘ فرقہ۔ زُبُرَ الْحَدِیْدلو ہے کے ٹکڑے۔
بعض علماء نے زبراً کا ترجمہ کیا ہے کتابیں۔ زبرت الکتاب میں نے جلی حروف میں کتاب لکھی ‘ ہر جلی موٹے حروف کی کتاب کو زبور کہا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان کا دین پہلے ایک کتاب کی شکل میں تھا جو اللہ کی طرف سے نازل کی گئی تھی لیکن انہوں نے اس کی متعدد تحریف کردہ کتابیں بنا ڈالیں۔
حسن نے اس طرح مطلب بیان کیا کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے اور بگاڑ دیا۔
بِمَا لَدَیْہِمْجو کچھ ان کے پاس تھا ‘ یعنی جو دین ان کے پاس تھا جو نفسانی خواہش ان کی تھی۔
فَرِحُوْنَاتراتے ہیں ‘ اپنے دین کو حق سمجھتے ہیں ‘ اسی پر مغرور ہیں۔
Ayah 23:54فذرہم فی غمرتہم حتی حین۔ سو آپ ان کو اسی جہالت میں ایک خاص وقت تک رہنے دیجئے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا (یعنی) کفر و گمراہی میں (رہنے دیجئے) بعض نے کہا غمرۃ سے مراد ہے غفلت اور باوجود نہ جاننے کے جاننے کا دعویٰ کرنا۔ غفلت کو اس پانی سے تشبیہ دی۔ جس میں آدمی ڈوب جاتا ہے اس کے قد سے بھی پانی اونچاہو جاتا ہے۔
حَتّٰی حِیْنٍایک خاص وقت تک یعنی وقت موت تک یا اس وقت تک کہ اللہ آپ کو جہاد کا حکم دے دے۔ مقصد یہ ہے کہ آپ ان کے کفر سے رنجیدہ نہ ہوں۔ ہم ان کی گرفت ضرور کریں گے یا اپنی طرف سے براہ راست عذاب بھیج کر یا آپ کے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے۔
Ayah 23:55ایحسبون انما نمدہم بہ من مال وبنین۔ کیا ان لوگوں کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کو جو کچھ مال و اولاد دیتے چلے جاتے ہیں
Ayah 23:56نسارع لہم فی الخیرت بل لا یشعرون۔ تو ہم ان کو جلدی جلدی زیادہ فائدے دے رہے ہیں (ایسا ہرگز نہیں ہے ( بلکہ اس کی وجہ کا) ان کو احساس نہیں ہے۔ یعنی جو لوگ اپنی گمراہی میں خوش ہیں اور پیغمبروں کا فرمان نہیں مانتے ان کو جھوٹا جانتے ہیں اور جو کچھ ہم ان کو مسلسل دیتے چلے جاتے ہیں اور مال و اولاد کی مدد پہنچا رہے ہیں اس سے ان کا خیال ہوتا ہے کہ ہم ان کو جلدی جلدی فائدے پہنچا رہے ہیں اس عطاء میں ان کی بھلائی ہے عزت افزائی ہے اور ان کے اعمال کی جزا ہے اور اللہ ان سے خوش ہے ایسا ہرگز نہیں ہے حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ چوپایوں کی طرح ہیں ان میں نہ دانش ہے نہ شعور۔
حسن بصری نے فرمایا مؤمن نیکی بھی کرتا ہے اور پھر ڈرتا بھی رہتا ہے اور منافق بدی کرتا ہے اور پھر بےفکر بھی رہتا ہے۔
Ayah 23:57ان الذین ہم من خشیۃ ربہم مشفقون۔ جو لوگ اپنے رب کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں
Ayah 23:58والذین ہم بایت ربہم یومنون۔ اور جو لوگ اپنے رب کی آیات پر ایمان رکھتے ہیں آیات سے مراد ہیں قرآنی آیات جو اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یا وہ نشانیاں مراد ہیں جو توحید کو ثابت کر رہی ہیں۔ یُؤْمِنُوْنَ ایمان رکھتے ہیں یعنی نشانیاں اور آیات سے جس چیز کا اظہار ہوتا ہے اس کو مانتے اور اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 23:59والذین ہم بربہم لا یشرکون۔ اور جو لوگ اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں قرار دیتے یعنی
اپنے رب کی عبادت میں کسی طرح کے شرک کی آمیزش نہیں کرتے نہ شرک جلی کرتے ہیں نہ شرک خفی۔ شرک نہ کرنے کا جو مطلب بیان کیا ہے اس سے مضمون کی تکرار کا شبہ جاتا رہا بظاہر اللہ پر ایمان رکھنا اور اس کے ساتھ شریک قرار نہ دینا ایک ہی مفہوم رکھتا ہے لیکن جب شرک سے عبادت میں شرک مراد لیا جائے تو وحدت مضمون باقی نہیں رہتی کیونکہ اللہ کو ماننے کے بعد بھی اس کی عبادت میں دوسروں کو شریک کیا جاسکتا تھا (جیسے عرب کے مشرک بلکہ تمام بت پرست کرتے ہیں کہ اللہ کو بھی مانتے ہیں اور اسی کے ساتھ دوسروں کی بھی پوجا کرتے ہیں) ۔
Ayah 23:60والذین یوتون ما اتوا وقلوبہم وجلۃ انہم الی ربہم رجعون۔
اور جو لوگ (اللہ کی راہ میں) جو کچھ دیتے ہیں ایسی حالت میں دیتے ہیں کہ ان کے دل اس بات سے خوف زدہ ہوتے ہیں کہ وہ اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانے والے ہیں۔
مَااَتَوْا یعنی جو کچھ خیر ‘ خیرات کرتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ یہ آیت یُؤْتُوْنَ مَااَتَوْا پڑھتی تھیں تو فرماتی تھیں جو کچھ نیک کام کرتے ہیں (یعنی حضرت عائشہ ؓ کے نزدیک دینے سے مراد صرف مال دینا نہیں بلکہ ہر کار خیر کرنا مراد ہے) ۔
وَجِلَۃٌڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں ان کی خیر خیرات رد نہ کردی جائے اور قبول نہ کی جائے۔ یا اس طریقے سے نہ ہو پائے جو بارگاہ کبریائی میں پیش ہونے کے مناسب ہے اور اس پر ان کی پکڑ ہوجائے یا ان کو اپنے گناہوں کی کثرت اور اطاعت کی قلت کی وجہ سے یہ اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کہیں یہ خیر خیرات بھی ان کو اللہ کے عذاب سے بچا نہ سکے۔
اَنَّہُمْ اِلٰی رَبِّہِمْ رٰجِعُوْنَ یہ کلام سابق کی علت ہے لام (تعلیلیہ) محذوف ہے یعنی ان کے دل خوف زدہ رہتے ہیں اس وجہ سے کہ ان کی واپسی اللہ کے پاس ہوگی یا مِنْ محذوف ہے یعنی اس بات سے ان کے دل ڈرتے ہیں کہ اللہ کے پاس ان کو لوٹ کر جانا ہے اور وہ ان کے ہر عمل سے واقف ہے۔ حسن بصری (رح) نے فرمایا وہ اللہ کی طاعت کرتے ہیں اور کوشش کے ساتھ کرتے ہیں پھر بھی ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی طاعت نامقبول نہ ہوجائے۔ حضرت عائشہ ؓ : کا بیان ہے ‘ میں نے رسول اللہ ﷺ سے آیت والِّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَا اَتٰوَا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌکے متعلق دریافت کیا اور عرض کیا (کیا) یہ وہ لوگ ہیں جو شراب پیتے اور چوری کرتے ہیں۔ فرمایا ‘ نہیں اے صدیق کی بیٹی ‘ بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو روزے رکھتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور خیرات کرتے ہیں اور پھر بھی ڈرتے رہتے ہیں کہ کہیں انکی یہ طاعت نامقبول نہ ہوجائے یہی وہ لوگ ہیں جو بھلائیوں میں تیزی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ رواہ احمد والترمذی وابن ماجہ۔
بیہقی کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے بیان کیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وَالَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَا اٰتَوْا وَّقُلُوْبُہُمْ وَجِلَۃٌکیا یہ وہ شخص ہے جو زنا کرتا ‘ شراب پیتا اور چوری کرتا ہے فرمایا نہیں اے صدیق کی بیٹی ! یہ وہ شخص نہیں) بلکہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو رات کو (نماز کے لئے) اٹھتا ہے اور خیرات کرتا ہے اور (پھر بھی) ڈرتا ہے کہ کہیں قبول نہ ہو۔
Ayah 23:61اولئک یسارعون فی الخیرت وہم لہا سبقون۔ یہ لوگ (البتہ) اپنے فائدے جلدی
جلدی حاصل کر رہے ہیں اور بھلائیوں کی طرف تیزی سے جا رہے ہیں۔
آیت کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ طاعتوں کی بہت زیادہ رغبت رکھتے ہیں اس لئے جلدی جلدی طاعتیں کرتے ہیں تاکہ کوئی طاعت فوت نہ ہوجائے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ طاعتوں میں پیش قدمی کرنے پر جن اخروی بھلائیوں کا وعدہ کیا گیا ہے اور نیک اعمال میں تیزی کرنے سے جن دنیوی فوائد کو وابستہ کیا گیا ہے سب فائدوں کے حاصل کرنے کے لئے وہ تیزی سے کام لیتے ہیں اور جلدی جلدی حاصل کرتے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا مصیبت کو کوئی چیز رد نہیں کرتی سوائے دعا کے اور عمر میں کوئی چیز زیادتی نہیں کرتی مگر نیکی (یعنی خیر ‘ خیرات ‘ حسن سلوک) اس تفسیر پر اس آیت کا مضمون ویسا ہی ہوگا جیسا آیت فَاٰتاَہُمُ اللّٰہُ ثَوَاب الدُّنْیَا وَحُسَنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَۃِکا ہے گویا ان کو وہ ثواب ملے گا جو ان کے مخالف لوگوں کو نہیں ملے گا۔
میں کہتا ہوں جن بھلائیوں کی طرف دنیا میں مؤمن تیزی سے بڑھتے ہیں ان سے مراد شاید یہ ہو کہ مؤمن کو اللہ کی یاد میں لذت آتی ہے اس کے دل کو چین ملتا ہے ‘ وہ بقدر کفاف رزق پر قناعت کرتا اور سیر ہوجاتا ہے اس کو دنیوی نعمتوں کے زوال کا کوئی خوف نہیں ہوتا وہ سوائے اللہ کے نہ کسی سے امید وابستہ رکھتا ہے نہ ڈرتا ہے اس کو خواب میں یا بطور الہام مبشرات پہنچتی رہتی ہے۔
وَہُمْ لَہَا سَبِقُوْنَ یعنی وہ نیکیوں کی طرف پیش قدمی کی وجہ سے جنت کی طرف سب سے آگے بڑھنے والے ہیں یا سابقون سے (مراد سب سے آگے بڑھنا اور سبقت کر جانا نہیں بلکہ) مراد ہے طاعتوں کی طرف یا ثواب کی طرف یا جنت کی طرف بڑھنا۔ یا یہ مراد ہے کہ آخرت سے پہلے وہ دنیوی فائدوں کی طرف بڑھنے والے ہیں کیونکہ (ثواب آخرت سے پہلے) فوری طور پر ان کے لئے دنیوی فائدے فراہم کردیئے جاتے ہیں۔ بعض علماء کا قول ہے کہ لَہَا سَبِقُوْنَ میں لام بمعنی الیٰ ہے یعنی وہ بھلائیوں کی طرف پیش قدمی کرتے ہیں جیسے آیت لَمَا نہوا عنہ میں لام بمعنی الیٰ ہے اسی وجہ سے کلبی نے آیت مذکورہ کی تفسیر میں کہا ہے کہ وہ تمام اقوام سے بھلائیوں کی طرف سبقت کرنے والے ہیں۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اللہ کی طرف سے ان کے لئے سعادت پہلے ہی سے (مقدر) ہوچکی ہے۔
Ayah 23:62ولا نکلف نفسا الا وسعہا ولدینا کتب ینطق بالحق وہم لا یظلمون۔ اور ہم کسی کو اس کی
وسعت سے زیادہ کام کا حکم نہیں دیتے (پس جتنے احکام شرعی ہیں سب انسان کی وسعت کے اندر ہیں ناقابل برداشت نہیں ہیں) اور ہمارے پاس ایک دفتر (نامۂ اعمال کا) محفوظ ہے جو ٹھیک ٹھیک (سب کا حال) بتادے گا اور کسی پر ذرا ظلم نہ ہوگا۔
یعنی وہ لوگ جو نیکیوں کی طرف دوڑتے ہیں وہ اپنی خوشدلی اور طبیعت کی رغبت کی وجہ سے دوڑتے ہیں اور ہم نے ان کو برداشت سے زیادہ کوئی حکم نہیں دیا ہم کسی کو وسعت سے بڑھ کر کام کرنے کا حکم نہیں دیتے۔ وَلَدَیْنَا کِتٰبٌ اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے کتاب سے مراد یا لوح محفوظ ہے یا اعمالناموں کا رجسٹر یَّنْطِقُ بالْحَقِّجو ٹھیک ٹھیک بولے گی یعنی بتائے گی کہ تمام اعمال اس میں درج ہیں موجود ہیں ہم ان میں سے کسی کو ضائع نہیں کریں گے سب کا ثواب دیں گے۔ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ اور کسی کی حق تلفی نہیں کی جائے گی ‘ نہ نیکیوں میں کمی کی جائے گی ‘ نہ گناہوں میں زیادتی۔
Ayah 23:63بل قلوبہم فی غمرۃ من ہذا بلکہ ان کے دل اس (دین) کی طرف سے جہالت (اور شک) میں پڑے
ہوئے ہیں۔
غَمْرَۃٍ چھا جانے والی غفلت۔
مِنْ ہٰذَا یعنی عدم شعور سے بھی پس وہ دین کا شعور نہیں رکھتے اور یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ شعور نہیں رکھتے (جاہل مرکب ہیں) یا یہ مطلب ہے کہ نفس شعور سے غافل ہیں نہ اب جانتے ہیں نہ آئندہ سمجھیں گے چھا جانے والی غفلت کی وجہ سے ان میں شعور کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔
یا یہ مطلب ہے کہ وہ اس امر سے بالکل غافل ہیں کہ انہوں نے اللہ کے پسندیدہ دین کو چھوڑ دیا ہے اور دین کو بدل کر فرقے فرقے بن گئے ہیں اور اپنی خواہش کے موافق دین اختیار کر رکھا ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ اس قرآن سے غافل ہیں یا اہل ایمان کے محاسن کمالیہ سے غافل ہیں یا اعمالناموں کے رجسٹر سے غافل ہیں۔
ولہم اعمال من دون ذلک ہم لہا عملون۔ اور اس کے علاوہ ان کے اور بھی (برے برے)
اعمال ہیں جن کو وہ کرتے رہتے ہیں۔
مِنْ دُوْنِ ذٰلِکَاس کے دو مطلب ہیں ایک تو یہی جو ترجمہ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ شرک اور کفر کے سوا ان کی بد اعمالیاں اور بھی ہیں۔ دوسرا مطلب یہ کہ مؤمنوں کے جو اوصاف و اعمال ہیں۔ کافروں کے اعمال ان کے علاوہ اور ان سے ہٹ کر ہیں۔
عٰمِلُوْنَکرتے رہتے ہیں ان اعمال کے عادی ہیں۔
Ayah 23:64حتی اذا اخذنا مترفیہم بالعذاب اذا ہم یجرون۔ یہاں تک کہ جب ان کے خوش حال
لوگوں کو (مرنے کے بعد) ہم عذاب میں دھر پکڑیں گے تو فوراً وہ چلا اٹھیں گے۔ مُتْرَفِیِہِمْان میں کے خوش عیش ‘ آرام میں پڑے ہوئے لوگ۔ بِالْعَذَابِابن جریر نے بوساطت ابن جریج حضرت ابن عباس ؓ کا قول بیان کیا ہے کہ العذاب سے مراد ہے بدر کی لڑائی میں قتل ہونا۔ ضحاک نے کہا وہ قحط مراد ہے جو رسول اللہ ﷺ کی بددعا سے ان پر پڑا تھا۔ حضور نے بددعا میں فرمایا تھا اے اللہ اپنی روندھ مضر (قریش کنانہ وغیرہ) پر سخت کر دے اور ان پر یوسف کے زمانہ کے کال کی طرح (سات سال کا) قحط ڈال دے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ قحط کی مصیبت میں مبتلا ہوگئے یہاں تک کہ کتوں کو اور مردار کو اور جلی ہوئی ہڈیوں کو بھی کھا گئے۔ یہ بددعا صحیحین میں حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے آئی ہے۔
جئردہائی دینا چیخ پڑنا۔ حتیٰ کا ماقبل بعد والے کلام کا سب ہوتا ہے یہاں بھی کافروں کی غفلت ان کے ہلاک ہونے اور چیخ پڑنے کی علت ہے۔
Ayah 23:65لا تجروا الیوم انکم منا لا تنصرون۔ اب مت چلاؤ ‘ ہماری طرف سے تمہاری مطلق مدد نہیں ہوگی۔
یعنی ان سے کہا جائے گا کہ اب مت چلاؤ تم کو چلانے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ ہماری طرف سے تمہاری کوئی مدد ہوگی اور ہماری مدد کے بغیر عذاب سے تمہارا چھٹکارا نہ ہوگا۔
Ayah 23:66قد کانت ایتی تتلی علیکم فکنتم علی اعقابکم تنکصون۔ میری آیات تم کو پڑھ پڑھ سنائی جایا کرتی تھیں تو تم الٹے پاؤں بھاگتے تھے