Ayah 23:67مستکبرین بہ سمرا تہجرون۔ تکبر کرتے ہوئے قرآن کا مشغلہ
بناتے ہوئے (اس قرآن کی شان میں) بےہودہ بکتے ہوئے۔ نکوص الٹے پاؤں پلٹنا ‘ یعنی تم پشت پھیر کر منہ موڑ کر چل دیتے تھے۔ عمل تو کیا اس کو مانتے بھی نہ تھے سنتے بھی نہ تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی پیروی کرنے سے اور ان پر ایمان لانے سے تمہارا غرور روکتا تھا تم دوسرے لوگوں کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھتے تھے۔
بِہٖحرم کی وجہ سے بِہٖ کی ضمیر حرم کی طرف راجع ہے اگرچہ حرم کا لفظ مذکور نہیں ہے کیونکہ حرم والے ہونے کی وجہ سے ان کا غرور مشہور تھا۔ اس لئے مرجع کو ذکر کرنے کی ضرورت نہ تھی۔ قریش کہا کرتے تھے ہم اہل حرم ہیں ‘ خانۂ خدا کے پڑوسی ہیں ‘ ہم کسی سے نہیں ڈرتے ہم پر کوئی غالب نہ ہوگا۔ حضرت ابن عباس ؓ مجاہد اور مفسرین کی ایک جماعت نے یہی تفسیر کی ہے۔
بعض علماء قائل ہیں کہ آیات کی طرف ضمیر راجع ہے کیونکہ آیات اگرچہ جمع مؤنث ہے لیکن بمعنی کتاب ہے ‘ اس لئے واحد مذکر کی ضمیر ذکر کردی گئی۔ اس صورت میں ب سببیہ ہوگی کیونکہ ان کے اندر مسلمانوں پر اپنی فوقیت کا غرور قرآن سننے کی وجہ سے ہی ہوا تھا۔
سٰمِرًاسمر کا مطلب ہے رات کو داستان ‘ قصے ‘ کہانیاں ‘ کہنا یعنی رات کو کعبے کے گرداگرد اپنے اپنے جلسوں میں قصے کہانیاں کہتے رہتے ہو (اور قرآن سننے سے تکبر کرتے ہو) سامر اسم جمع ہے جیسے باقر اور حامل (اس جگہ جمع مراد ہے کیونکہ سامراً مستکبرین کے فاعل سے حال ہے اور مستکبرین جمع کا صیغہ ہے) ہم سمار بھی کہا جاتا ہے اور ہم سامر بھی کذا فی النہایۃ۔ حدیث قبلہ میں آیا ہے اذ جاء زوجہا من السامر جب اس کا شوہر ان لوگوں کے پاس سے آیا جو قصے کہانیاں کہنے میں مشغول تھے۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے سمر ‘ سمراً و سمور۔ بیدار رہا۔ ہُمُ السَّمَارَ وَالسَّامِرَۃُاور سامر اسم جمع ہے۔ سمر رات۔ رات کی کہانیاں۔ چاندنی ‘ تاریکی ‘ زمانہ۔ بیضاوی نے لکھا ہے سامر بروزن فاعل اصل میں مصدر ہے ‘ جیسے عافیت ‘ بعض کے نزدیک سامر مفرد ہے لیکن محل جمع میں آسکتا ہے جیسے طفل اطفال کے بجائے مستعمل ہے۔ آیت میں آیا ہے یخرجکم طفلاً یعنی اطفالاً ۔
بعض نے کہا سامر تاریک رات کو کہتے ہیں اور یہاں یہی معنی مراد ہے۔ اس تفسیر پر سامراً ظرف ہوگا یعنی فی السَّامِرِیعنی رات میں تم اپنے قصوں میں مشغول ہوتے ہو اور قرآن سننے سے تکبر کرتے ہو۔
تَہْجُرُوْنَہجر کا معنی ہے فحش بکنا ‘ بری باتیں کہنا یا یہ لفظ ہجر سے مشتق ہے اور ہجر کا معنی ہے کٹ جانا ‘ کترا جانا یا بےہودہ بکواس کرنا۔ یعنی تم قرآن سے کٹ جاتے ہو 1 کتراتے ہو۔ یا رسول اللہ ﷺ : کی شان میں ‘ یا قرآن کی شان میں بےہودہ بکتے ہو۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کا قول نقل کیا ہے کہ قریش کعبے کے گرداگرد رات کو قصے کہانیاں تو کہتے تھے مگر طواف نہیں کرتے تھے اور اس پر فخر کرتے تھے۔ اس پر یہ آیت مُسْتَکْبِرِیْنَ بِہٖ سٰمِرًا تَہْجُرُوْنَنازل ہوئی۔
Ayah 23:68افلم یدبروا القول کیا ان لوگوں نے اس کلام (الٰہی) میں غور نہیں کیا۔ استفہام انکاری ہے اور نفی کا انکار اثبات ہوتا ہے۔ الْقَوْلَسے مراد ہے ‘ قرآن مجید۔ الف لام عہدی ہے ‘ یعنی وہ کلام جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا اور آپ ﷺ نے پیش کیا۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے تو قرآن پر خوب غور کر دیکھا ہے اور اس کے مقابلے کی بھرپور کوشش بھی کرلی ہے اور ایک چھوٹی سورت کی مثل بھی نہیں بنا سکے ہیں جس سے قرآن کا اعجاز ان پر واضح ہوگیا ہے اور یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ یہ انسان کا کلام نہیں ہے۔
ام جآء ہم ما لم یات ابآء ہم الاولین۔
یا ان کے پاس کوئی ایسی چیز آئی ہے جو ان کے بڑوں کے پاس نہیں آئی۔
ام بمعنی بل ہے اور استفہامی ہمزۂ انکاری ہے۔ پورا مطلب اس طرح ہوا ‘ بلکہ ان کے پاس کوئی ایسی چیز نہیں آئی جو ان کے اوّل بزرگوں کے پاس نہ آئی ہو۔ بلکہ وہی چیز آئی ہے جو ان کے پہلے بڑوں (حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) اور ان کے پاس آچکی ہے۔ یعنی نبوت اور کتاب ان کے اعلیٰ مورثوں کے پاس بھی آچکی ہے اور محمد ﷺ کے پاس بھی اللہ نے بھیجی۔
قریش کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل ( علیہ السلام) کی نبوت کا اقرار تھا اور رسول اللہ ﷺ : کی انہیں کی طرح تھے لہٰذا کوئی ناممکن (نئی) بات نہیں ہوئی۔
Ayah 23:69ام لم یعرفوا رسولہم فہم لہ منکرون۔ یا یہ لوگ اپنے رسول ﷺ : کو پہچانتے نہیں۔ پس (کیا وجہ ہے کہ) ان کے منکر ہیں۔ یعنی بچپن سے بڑے ہونے تک ہمیشہ جانتے رہے ان کے نسب کو امانت داری ‘ سچائی ‘ حسن اخلاق ‘ تہذیب ‘ ادب ‘ ایفائے وعدہ ‘ کمال علمی اور کسی انسان سے تعلیم حاصل نہ کرنے سے بھی واقف رہے۔ کذا قال ابن عباس۔
خلاصہ یہ کہ جب وجوہ مذکورہ میں سے انکار کی کوئی ایک وجہ بھی موجود نہیں تو پھر انکار ناجائز ہے۔
Ayah 23:70ام یقولون بہ جنۃ یا یہ لوگ کہتے ہیں کہ رسول کو جنون ہے یہ بھی اَمْ منقطعہ ہے مطلب یہ ہے کہ کیا یہ لوگ
رسول اللہ ﷺ : کو دیوانہ کہتے ہیں حالانکہ ان کو علم ہے کہ اللہ کے رسول کی دانش بڑی وزنی اور نظر و فکر کی گہرائی سب سے زیادہ ہے ایسے شخص کی طرف جنون کی نسبت سوائے دیوانہ یا عنادی دشمن کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تمام مقامات پر ام متصلہ ہو اور جملہ اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوْایہ جملۂ مستانفہ ہے اس صورت میں مطلب اس طرح ہوگا کہ جب آیت قَدْ کَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ ۔۔ سننے والوں نے سنی تو خواہ مخواہ دل میں سوال پیدا ہوا کہ آخر قرآن سے کترانے ‘ الٹے پاؤں لوٹنے ‘ غرور کرنے اور بےہودہ بکواس کی وجہ کیا ہے۔ کیا قرآن پر انہوں نے غور نہیں کیا یا ان کو اس سے پہلے گزشتہ زمانہ میں کسی پیغمبر کے آنے کی اطلاع نہیں ملی یا اس نبی کی امانت داری اور سچائی وغیرہ کو یہ پہچانتے نہیں۔ یا یہ رسول اللہ ﷺ کو دیوانہ خیال کرتے ہیں اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
بل جآء ہم بالحق واکثرہم للحق کرہوں۔ بلکہ (اس عناد اور جھگڑے کا سبب یہ ہے کہ) یہ رسول
ان کے پاس حق بات لے کر آئے ہیں اور ان میں سے اکثر لوگ حق سے نفرت کرنے والے ہیں۔
اَلحَقِّواقعی سچی بات ‘ جس کی سچائی عقلاً نقلاً ظاہر ہو اس کی صحت سورج کی طرح ناقابل انکار ہو۔
اَکْثَرُہُمْ لِلْحَقِّ کٰرِہُوْنَ ۔ ان میں اکثر لوگ محض عناد یا سرداری کی خواہش اور حکومت کی طمع یا خواہشات کے پرستار ہونے یا جاہلوں کی تقلید کرنے یا رسم و رواج کی پابندی کی وجہ سے حق سے نفرت کرتے ہیں۔ تقاضائے دانش و فہم باعث نفرت نہیں۔
اکثر کا لفظ اس لئے ذکر کیا کہ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی قوم کے خوف یا فہم و دانش کی کمی یا غور و فکر نہ کرنے کی وجہ سے ایمان کو ترک کیا تھا ان کے دلوں میں حق سے عناد نہ تھا۔
Ayah 23:71ولو اتبع الحق اہوآء ہم لفسدت السموت والارض ومن فیہن اور (بفرض محال)
اگر (دین) حق ان کے خیالات کے تابع ہوجاتا ہے تو تمام آسمان و زمین اور جو ان میں آباد ہیں سب تباہ ہوجاتے۔
اگر حق ان کے خیالات کے تابع ہوجاتا ‘ یعنی ان کی خواہش کے مطابق چند معبود واقع میں ہوتے تو سارا جہان تباہ ہوجاتا یعنی موجود ہی نہ ہو پاتا عدم سے وجود میں ہی نہ آتا یہی مطلب ہے آیت لَوْ کَانَ فِیْہِمَا اٰلِہَۃٌ الاَّ اللّٰہُ لَفَسَدَتَا (الحج) کا۔
ابن جریج ‘ مقاتل ‘ سدی اور اہل حق کی ایک جماعت کے نزدیک الحق سے مراد اللہ ہے فراء اور زجاج کے نزدیک الحق سے قرآن مراد ہے یعنی اللہ اگر ان کی مراد کی موافقت کرتا اور دوسروں کو اپنا شریک بنا لیتا یا اپنے لئے اولاد اختیار کرلیتا اور قرآن کو ان کی خواہشات کے مطابق نازل فرما دیتا اور قرآن شرک و معاصی کی تعلیم دیتا تو اللہ ‘ اللہ ہی نہ رہتا ‘ الوہیت کے لئے شرکت ناقابل برداشت ہے ‘ اللہ بےہودہ باتوں کا حکم نہیں دیتا۔ بیہودہ فحش باتوں کا حکم ‘ سخت عیب اور برائی ہے اور الوہیت چاہتی ہے کہ اللہ کی ذات ہر عیب اور خرابی سے پاک ہو اور جب اللہ اللہ نہ رہتا تو ممکنات کا وجود کہاں سے آتا۔
بعض اہل علم نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اگر حق ان کی خواہشات کا تابع ہوتا اور باطل ہوجاتا تو پھر وہ چیز (حق و عدل) ہی باقی نہ رہتی جس پر قوام عالم موقوف ہے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جو دین حق رسول اللہ ﷺ لے کر آئے ہیں اگر وہ کافروں کی خواہشات کا تابع ہوجاتا اور توحید کی جگہ شرک لے لیتا تو اللہ ان کافروں پر عذاب نازل کردیتا اور سارا عالم اللہ کی آتش غضب سے جل بھن جاتا۔
بل اتینہم بذکرہم فہم عن ذکر ہم معرضون۔ بلکہ ہم نے ان کے پاس ان کی نصیحت کی
بات کھیجی سو یہ لوگ اپنی نصیحت کی بات سے بھی روگردانی کرتے ہیں۔
ذِکْرِہِمْیعنی ایسی کتاب جو ان کو اللہ کی یاد دلاتی ہے یا نصیحت و یادداشت۔ یا وہ ذکر جس کی انہوں نے اپنے اس قول میں تمنا کی تھی لَوْ اَنَّ عِنْدَنَا ذِکْرًا مِّنَ الْاَوَّلِیْنَ لِکُنَّا عِبَاد اللّٰہِ الْمُخْلَصِیْنَ ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ذِکْرُہُمْسے مراد ہے وہ کتاب جس میں ان کی بزرگی اور شرف کا بیان ہے یعنی قرآن مجید۔ اس مضمون کی دوسری آیت آئی ہے ‘ فرمایا ہے لَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ کِتَابًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْیعنی ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی جس میں تمہارے لئے شرف اور بزرگی ہے۔ ایک اور آیت میں فرمایا اِنَّہٗ لَذِکْرٌ لَکَاور بلاشبہ یہ آپ کے لئے باعث شرف ہے ‘ بات یہ ہے کہ قرآن کی زبان وہ اختیار کی گئی جو قریش کی تھی اور زبان میں لوگوں کو قریش کا تابع بنایا گیا اور خلافت صرف قریش کے لئے مخصوص کردی گئی۔
فَہُمْ عَنْ ذِکْرِہِمْ مُّعْرِضُوْنَپس وہ ایسی کتاب کی طرف بھی التفات نہیں کرتے جو ان کے لئے باعث شرف ہے۔
Ayah 23:72ام تسئلہم خرجا فخرج ربک خیر وہو خیر الرزقین۔ یا آپ ان سے کسی آمدنی کے
خواستگار ہیں سو آمدنی تو آپ کے رب کی (عطاکردہ) سب سے بہتر ہے اور وہی سب سے اعلیٰ دینے والا ہے۔ یہ بھی استفہام انکاری ہے یعنی آپ ان سے کسی معاوضہ کے طلبگار نہیں ہیں کہ تاوان ادا کرنے کے ڈر سے یہ ایمان لانے میں تامل کریں۔ فَخَرَاجُ رَبِّکَ ۔ یعنی وہ معاوضہ اور ثواب جو آخرت میں اللہ آپ کو عطا کرے گا۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے خرج خراج کی طرح ہے بمعنی تاوان ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے خرج (خرچ) دخل (آمدنی) کے مقابل کو کہتے ہیں۔ خرج کا معنی ہے دوسرے کو دینا خراج کا زیادہ استعمال اس ٹیکس کیلئے ہوتا ہے جو حکومت کی طرف سے زمین پر مقرر ہوتا ہے۔ خیر ‘ بہتر ہے کیونکہ سب سے وسیع بھی ہے اور ہمیشہ جاری رہنے والا بھی ہے۔ اس لئے خداداد خرج کی وجہ سے آپ ان سے تاوان وصول کرنے کے حاجت مند نہیں ہیں۔
Ayah 23:73وانک لتدعوہم الی صراط مستقیم۔ اور آپ تو ان کو سیدھے راستے کی طرف بلا رہے ہیں یعنی ایسی
راہ (زندگی) پر چلنے کی دعوت دے رہے ہیں جس میں کوئی کجی نہیں جس کی استقامت کی شاہد تمام سلیم عقلیں ہیں۔
اللہ نے مذکورۂ بالا آیات میں ان تمام اسباب کی نفی کردی جو دعوت رسول سے انکار کرنے کے موجب بن سکتے تھے۔ راستہ میں کجی نہیں ‘ اس راہ کے مستقیم ہونے کی شاہد ہر عقل سلیم ہے۔ دعوت دینے والے کو کوئی لالچ نہیں ‘ وہ کچھ مال مانگتا نہیں۔ اس دعوت نامے میں ان لوگوں کیلئے شرف بھی ہے جن کو دعوت دی جا رہی ہے ‘ اس لئے انکار دعوت کا سبب سوائے حق سے عداوت رکھنے کے یا دانش کے فقدان کے اور کوئی نہیں اور ازل ہی میں یہ بدبختی ان کے لئے لکھ دی گئی تھی یوں تو وہ بڑے عقلمند تھے دنیاوی منافع حاصل کرنے کی بہت سوجھ بوجھ رکھتے تھے۔ اس لئے دوامی منافع کے حصول سے محروم رہنا اور ان کو نہ سمجھنا صرف ازلی شقاوت تھی جو مقدر ہوچکی تھی واللّٰہُ یَہْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے اور راہ مستقیم پر چلنے کی توفیق عنایت فرما دیتا ہے۔
Ayah 23:74وان الذین لا یومنون بالاخرۃ عن الصراط لنکبون۔ اور جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ
بلاشبہ سیدھے راستے سے ہٹتے جا رہے ہیں۔
الصِّرَّاط میں الف لام عہدی ہے یعنی سیدھا راستہ۔ لَنٰکِبُوْنَ مڑ رہے ہیں ‘ ان میں استعداد اور صلاحیت ہی نہیں ہے ان کی تخلیق ہی اللہ کے اسم مضل کے پَر تو سے ہوئی ہے۔ ان کے لئے سیدھے راستے پر چلنا ممکن ہی نہیں ہے۔
Ayah 23:75ولو رحمنہم وکشفنا مابہم من ضر للجوا فی طغیانہم یعمہون۔ اور اگر ہم ان پر
مہربانی کردیتے اور ان کو جو تکلیف ہے اس کو دور کردیتے تب بھی یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھٹکتے سرگرداں پھرتے رہتے۔
ضُرٍّ (دکھ) یعنی وہ عذاب جس میں خوشحال لوگوں کو مبتلا کیا گیا تھا خواہ اس سے مراد جنگ بدر میں مارا جانا ہو۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس کا قول ہے یا قحط مراد ہو ‘ جیسا کہ ضحاک کا قول ہے ‘ یہ دونوں قول اوپر ذکر کردیئے گئے ہیں۔
لَّلَجُّوْاتب بھی یہ اڑے رہیں۔ دشمنی پر جمے رہیں۔
فِیْ طُغْیَانِہِمْ یعنی اپنے غرور اور حد سے بڑھے ہوئے کفر اور رسول اللہ ﷺ : کی دشمنی میں مطلب یہ ہے کہ ہم نے ان پر رحم نہیں کیا اور اگر مہربانی کر کے ان کے دکھ کو دور کردیتے تب بھی یہ کفر پر اڑے رہتے اور اپنی گمراہی میں سرگرداں پھرتے رہتے۔
نسائی اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ابو سفیان نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا ‘ محمد ﷺ میں تم کو اللہ کا اور قرابت داری کا واسطہ دیتا ہوں (کہ اس مصیبت کو دور کرنے کی دعا کر دو ) اب تو ہم اون اور خون بھی کھانے لگے (بھوک سے انتہائی مجبور ہوگئے) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 23:76ولقد اخذنہم بالعذاب فما استکانوا لربہم وما یتضرعون۔ اور ہم نے ان کو گرفتار عذاب
بھی کیا تب بھی انہوں نے اپنے رب کے سامنے نہ عاجزی اختیار کی نہ گڑگڑائے۔ (نہ زاری کی) ۔
الْعَذَاب یعنی بدر کی لڑائی میں مارا جانا یا قحط پڑنا۔
فَمَا سْتَکَانُوْا لِرَبِّہِمْیعنی انہوں نے توبہ نہیں کی۔ اپنے رب کی طرف رجوع نہیں ہوئے بلکہ اپنی سرکشی پر قائم رہے۔ اسْتکانُوْا یا باب استفعال سے ہے اس کا مادہ کون ہے محتاج بھی ایک کون سے دوسرے کون کی طرف اور ایک جگہ سے دوسری جگہ کی طرف منتقل ہوتا رہتا ہے۔ (ہر دم ایک نئے تغیر کا طلبگار ہوتا ہے) یا استکانوا باب افتعال سے ہے اس کا مادہ مسکن ہے کہ کے بعد الف اشباعی ہے۔
وَمَا یَتَضَرَّعُوْنَیعنی وہ زاری کرنے ‘ عاجزی کرنے اور خشوع کرنے سے مانوس ہی نہیں ہیں۔ (خشوع و خضوع کا مادہ ہی ان کے اندر نہیں ہے) ۔
بیہقی نے دلائل میں بیان کیا ہے کہ ابن اثال حنفی جب گرفتار ہو کر رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوا اور حضور ﷺ نے اس سے وعدہ لے کر چھوڑ دیا پھر وہ مکہ کو چلا گیا اور مسلمان ہوگیا (قریش نے اس کو گرفتار کرنا چاہا وہ بھاگ کر) مکہ اور یمامہ کے درمیان آکر آ بیٹھا اور یمامہ سے جو غلے کی رسد مکہ کو آیا کرتی تھی اس کو روک دیا ‘ قریش بھوکے مرنے لگے ‘ یہاں تک کہ جانوروں کا اون کھانے لگے ‘ مجبور ہو کر ابو سفیان رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ کیا آپ کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ آپ کو دنیا والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا بیشک یہی بات ہے۔ ابو سفیان نے کہا تو (یہ کیسی رحمت ہے کہ) آپ نے آبا و اجداد کو تو تلوار سے قتل کردیا اور ان کی اولاد کو قحط سالی سے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت میں (گویا) شہادت ہے اس بات کی کہ اگر ہم نے دوسرا عذاب بھی ان سے دور کردیا تو یہ اللہ کے سامنے زاری نہیں کریں گے جیسے پہلے عذاب میں گرفتار ہونے کے بعد اللہ کی طرف انہوں نے رجوع نہیں کیا اور زاری نہیں کی۔
ایک شبہ تفسیر مذکورہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے خوشحال کافروں کو جس عذاب میں گرفتار کیا تھا وہ عذاب دور نہیں کیا ‘ حالانکہ بغوی نے صراحت کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قریش کیلئے بددعا کی ‘ اور فرمایا اے اللہ ! دور یوسفی کی طرح ان کو بھی قحط سالیوں میں مبتلا کر دے اور قریش قحط زدہ ہوگئے۔ پھر ابو سفیان نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا ‘ میں آپ سے اللہ اور قرابت داری کے حوالے سے پوچھتا ہوں کیا آپ کا یہ دعویٰ نہیں ہے کہ آپ کو لوگوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا بیشک یہی بات ہے۔ ابو سفیان نے کہا تو آپ نے باپوں کو تلوار سے قتل کرا دیا اور ان کی اولاد کو قحط سے۔ اب اللہ سے دعا کیجئے کہ خدا اس قحط کو دفع کر دے۔ چناچہ حضور ﷺ نے دعا کی اور اللہ نے قحط کو دور کردیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ بددعا کی وجہ سے جو قحط قریش پر پڑا تھا وہ حضور ﷺ : کی دعا سے اللہ نے دور کردیا (اور آپ کا بیان کردہ تفسیری مطلب بتارہا ہے کہ قحط سالی دور نہیں کی گئی) ۔
میں اس کے جواب میں کہتا ہوں کہ آیت سے صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ زمانہ میں ان پر رحم نہیں کیا گیا اور عذاب دور نہیں کیا گیا کیونکہ اللہ جانتا تھا کہ عذاب دور ہونے کے بعد بھی یہ لوگ کفر پر اڑے رہیں گے لیکن عذاب (کبھی) دفع نہ ہوگا آیت میں اس کی صراحت نہیں ہے چناچہ پہلے ان سے عذاب دور نہیں کیا گیا ‘ پھر رسول اللہ ﷺ : کی دعا سے دور کردیا گیا لیکن انہوں نے پھر بھی توبہ نہیں کی اور اپنی سرکشی پر اڑے رہے اور گمراہی میں ہی سرگرداں گھومتے رہے۔
Ayah 23:77حتی اذا فتحنا علیہم بابا ذا عذاب شدید اذا ہم فیہ مبلسون۔ یہاں تک کہ جب سخت
عذاب کا دروازہ ان پر کھول دیا تو یکدں حیران و نراس ہوگئے۔ یہاں تک کہ سب سے زیادہ سرکش و متمرد شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر دعائے رحمت کا طلبگار ہوا اس آیت میں عذاب شدید سے قحط کا عذاب مراد ہے۔ بشرطیکہ آیت حَتّٰی اِذَا اَخَذْنَا مُتْرَفِیْہِمْ بالْعَذَابِمیں العذاب سے مراد ہو جنگ بدر میں مارا جانا جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے ‘ بھوک کا عذاب ‘ قید اور قتل کے عذاب سے سخت ہوتا ہے اس لئے اس کو عذاب شدید فرمایا اور اگر العذاب سے قحط اور بھوک کا عذاب مراد ہو جیسا کہ ضحاک کا خیال ہے تو پھر عذاب شدید سے مراد ہوگا عذاب موت یا عذاب قبر یا عذاب قیامت اور عذاب دوزخ اور اس وقت فَتَحْنَاماضی کا صیغہ مستقبل کے معنی میں ہوگا چونکہ آئندہ عذاب کا وقوع یقینی تھا اس لئے ماضی کا صیغہ استعمال کیا جیسے آیت اِذَ الشَّمْسُ کُوِّرَتْ میں ماضی بمعنی مستقبل ہے ‘ اس صورت میں آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے ہر طرح کی مصیبت ڈال کر ان کا امتحان لیا۔ قید و قتل کا بھی اور قحط و بھوک کا بھی لیکن انہوں نے عاجزی نہیں کی اور اللہ کے سامنے زاری نہیں کی آخر جب عذاب آخرت میں گرفتار ہوں گے تو اس وقت حیران اور نراس ہو کر رہ جائیں گے اسی حیرانی اور ناامیدی کا اظہار آیت یَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُبْلِسُ الْمُجْرِمُوْنَ میں کیا ہے۔
Ayah 23:78وہو الذی الشالکم السمع والابصار والافدۃ قلیلا ما تشکرون۔ اور اللہ ایسا ہے
جس نے تمہارے لئے کان آنکھیں اور دل پیدا کئے تم لوگ بہت ہی کم شکر کرتے ہو۔ کان اور آنکھیں بنائیں تاکہ اللہ کی قدرت کی نشانیاں تم ان کے ذریعے سے معلوم کرو اور دل بنائے اس لئے کہ تم ان نشانیوں پر غور کرو اور سوچ و بچار سے کام لو (اور تمام دینی (دنیوی منافع کو حاصل کرو) ۔
قَلِیْلاً مَّا میں ما زائد ہے اور قلیلاً سے مراد ہے تھوڑا شکر یا کم وقت میں شکر۔ کیونکہ شکر کی حقیقت یہ ہے کہ کان ‘ ناک ‘ دل کا استعمال اس غرض کیلئے کیا جائے جس کے لئے ان کو پیدا کیا گیا ہے اور ان کو پیدا کرنے والے کے ساتھ کسی دوسرے کو شریک نہ کیا جائے۔ بعض نے کہا محاورہ میں قلیل بمعنی عدم کے مستعمل ہے اس صورت میں یہ مطلب ہوگا کہ تم بالکل شکر نہیں کرتے۔
Ayah 23:79وہو الذی ذراکم فی الارض اور اللہ وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں پیدا کیا اور (توالد تناسل کے ذریعہ زمین پر پھیلایا) ۔
والیہ تحشرون۔ اور (قیامت کے دن) اسی کے پاس تم جمع کئے جاؤ گے۔ یعنی پہلے پراگندہ اور جدا جدا ہو گے پھر جمع کئے جاؤ گے۔
Ayah 23:80وہو الذی یحی ویمیت اور وہی ہے جو جلاتا ہے اور مردہ کرتا ہے (یعنی زندگی اور موت اسی کے قبضہ میں ہے جس
کو چاہتا ہے زندگی عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے زندگی چھین لیتا ہے) ۔
ولہ اختلاف اللیل والنہار افلا تعقلون۔ اور اسی کے اختیار میں رات و دن کا گھٹنا بڑھنا ہے سو کیا تم اتنی بات نہیں سمجھتے۔
لَہٗیعنی اسی کے حکم اور فیصلہ کے ماتحت ہے۔ اخْتِلاَفُ الَّیْلِ وَالنَّہَارِیعنی تاریکی اور روشنی میں رات دن کا اختلاف ‘ ہر ایک کے منافع میں اختلاف یا چھوٹے بڑے ہونے میں اختلاف۔
اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَیعنی غور اور فکر سے کام لے کر اتنا نہیں سمجھتے کہ یہ سب کچھ ہماری قدرت سے ہو رہا ہے اور ساری کائنات ہماری قدرت کے اندر ہے اس لئے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر کے اٹھانے پر بھی ہم قادر ہیں۔
Ayah 23:81بل قالوا مثل ما قال الاولون۔ بلکہ یہ بھی ویسی ہی بات کہتے ہیں جو اگلے
Ayah 23:82قالواء اذا متنا وکنا ترابا وعظاماء انا لمبعوثون۔
(کافروں) نے کہی تھی یہ کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈیاں بن کر رہ جائیں گے تو کیا (دوبارہ) زندہ کر کے ہم اٹھائے جائیں گے۔
یعنی کفار مکہ وہی بات کہہ رہے ہیں جو ان سے پہلے گزشتہ اقوام کے کافروں نے کہی تھی۔
ءَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَمیں سوال انکاری ہے یعنی ایسا ہو نہیں سکتا کہ ہم دوبارہ اٹھائے جائیں۔ کافروں نے اپنی ابتدائی پیدائش پر غور نہیں کیا اور اتنا نہ سوچا کہ اس زندگی سے پہلے وہ مٹی تھے اور اس سے پہلے کچھ بھی نہ تھے (معدوم محض تھے عدم سے نکل کر مٹی کی شکل میں پھر غذائی شکل میں پھر خون اور نطفہ کی شکل میں زندہ انسان کی شکل میں آئے) ۔
Ayah 23:83لقد وعدنا نحن وابآونا ہذا من قبل ان ہذا الا اساطیر الاولین۔ اس کا تو ہم سے اور ہم سے
پہلے ہمارے بڑوں سے وعدہ ہوتا چلا آیا ہے یہ کچھ نہیں محض بےسند باتیں ہیں جو اگلوں سے منقول ہوتی چلی آئی ہیں۔
یعنی مرنے کے بعد جی اٹھنے کا وعدہ تو ہمارے بڑوں سے وہ لوگ کرتے ہی چلے آئے ہیں جنہوں نے اللہ کے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ ہٰذَا یعنی مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنا۔ اس کا وعدہ تمام مدعیان نبوت کرتے چلے آئے ہیں۔
مِنْ قَبْلُاب سے پہلے۔ لیکن اتنی طویل مدت گزرنے کے بعد بھی اب تک وہ وعدہ پورا نہیں ہوا۔
اِنْ ہٰذَانہیں ہے یہ وعدۂ قیامت۔
اِلاَّ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَمگر اگلے لوگوں کی جھوٹی بنائی باتیں۔ سطر ‘ قطار ‘ کتاب کی۔ سطر بوئے ہوئے درختوں کی لائن کھڑے ہوئے آدمیوں کی لائن ‘ یہاں اوّل معنی مراد ہے۔ سَطَرُ فُلاَنٌفلاں شخص نے لکھا سطر کی جمع اسطر اور سطور اور اسطار آتی ہے اور اساطیر اسطار کی جمع ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ یہ بات خدا کی طرف سے نازل شدہ نہیں ہے بلکہ اگلے لوگوں کی بےبنیاد جھوٹ لکھی ہوئی چلی آتی ہے۔ مبرد نے کہا اساطیر اسطورہ کی جمع ہے جیسے اراجیح ارجوحہ کی اور احادیث احدوثہ کی اور اعاجیب اعجوبہ کی اور اضاحیک اضحوکہ کی اس کا استعمال تفریح اور دل بہلانے کے لئے لکھی ہوئی جھوٹی تحریروں کے لئے ہوتا ہے اسی لئے اساطیر کا تفسیری ترجمہ اکاذیب کیا گیا ہے۔
Ayah 23:84قل لمن الارض ومن فیہا ان کنتم تعلمون۔ آپ ان سے پوچھئے زمین اور جو بھی زمین میں ہیں
کس کے (پیدا کئے ہوئے) ہیں اگر تم جانتے ہو (یا اگر تم اہل علم میں سے ہو) تو بتاؤ۔ استفہام تقریری سے یعنی مخاطب کو اقرار پر آمادہ کیا گیا ہے کہ اس کو سوائے اقرار کے کوئی چارہ نہ رہے۔
اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ اگر تم اہل علم میں سے ہو یا اگر تم جانتے ہو تو جواب دو ‘ بتاؤ۔ مخاطب کی اہانت اور تحقیر اس سوال سے مقصود ہے کہ ایسی بات جس کو بچے اور دیوانے بھی جانتے ہیں تم نہیں جانتے ‘ تمہارا حال اور قول تمہاری جہالت کا شاہد ہے۔ یہ ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ممکن ہی نہیں تمام لوگ اس کے قائل ہیں۔ عقل صریح اور نقل صحیح اس کی گواہ ہے اس لئے ان کو کہنا پڑے گا۔
Ayah 23:85سیقولون للہ کہ یہ سب کچھ اللہ کا ہے پھر اس اقرار کے بعد۔
قل افلا تذکرون۔ آپ ان سے کہئے (کہ جب اللہ ہی کا سب کچھ ہے) تو پھر تم کیوں غور نہیں کرتے کہ جس نے زمین اور زمین کے باشندوں کو پہلی مرتبہ پیدا کیا وہ دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قادر ہوگا اعادۂ ایجاد کی قدرت کا انکار کیا معنی رکھتا ہے۔
Ayah 23:86قل من رب السموت السبع ورب العرش العظیم۔ آپ (یہ بھی) ان سے کہئے کہ ان سات آسمانوں کا مالک کون ہے اور عرش عظیم کا مالک کون ہے
Ayah 23:87سیقولون للہ قل افلا تتقون۔
وہ ضرور جواب میں کہیں گے کہ (یہ سب کچھ) اللہ کا ہے آپ کہئے تو پھر تم (اس سے) کیوں نہیں ڈرتے۔ یعنی جب تم اقرار کرتے ہو کہ آسمانوں اور عرش عظیم کا خالق اللہ ہی ہے اور کوئی نہیں تو پھر تم اس کے عذاب سے کیوں نہیں ڈرتے کیوں دوسروں کو اس کا ساجھی قرار دیتے ہو اور وہ چیزیں جو اس کے دائرۂ قدرت میں داخل ہیں کیوں ان کو قدرت سے خارج سمجھتے ہو۔
Ayah 23:88قل من بیدہ ملکوت کل شیء آپ ان سے پوچھئے کہ ہر چیز کا اختیار کس کے ہاتھ میں ہے۔
مَلَکُوْتُ کا معنی ہے حکومت ‘ عزت ‘ غلبہ ‘ مَلَکُوْت میں واؤ اور تا مبالغہ کی ہے۔ یعنی انتہائی غلبہ جتنا تصور کیا جاسکتا ہو ‘ اس لئے اس لفظ کا استعمال صرف اللہ کی حکومت و اقتدار کے لئے مخصوص ہے۔ بعض کے نزدیک مَلَکُوْتُ سے مراد ہیں خزانے اور (بےگنتی) ذخیرے۔
وہو یجیر ولا یجار علیہ ان کنتم تعلمون۔ اور وہی (جس کو چاہتا ہے) پناہ دیتا ہے اور اس کے
مقابلہ میں کوئی کسی کو پناہ نہیں دے سکتا اگر تم جانتے ہو تو بتاؤ۔
یُجِیْرُحفاظت کرتا ہے برائی سے بچاتا ہے ‘ جس کو چاہتا ہے پناہ دیتا ہے۔
وَلاَ یُجَارُ عَلَیْہِیعنی جس کو اللہ پناہ نہ دے اس کو کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ اللہ جس کو دکھ پہچانا چاہے اس کو دکھ پہنچنے سے کوئی بچا نہیں سکتا اور کوئی شخص اللہ کو ضرر پہنچانے کی قدرت نہیں رکھتا۔
Ayah 23:89سیقولون للہ قل فانی تسحرون۔ (اب بھی) وہ ضرور کہیں گے کہ (یہ سب حکمت وقدرت اللہ کی
ہے تو ان سے کہئے کہ پھر تم کو کیسا خبط ہو رہا ہے یعنی جب تم ان باتوں کا اقرار کرتے ہو تو پھر کس فریب میں پڑ کر حق و ہدایت سے روگرداں ہو رہے ہو ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جب اس کا اعتراف کرتے ہو تو پھر حق کو باطل تم کس طرح خیال کرتے ہو۔
Ayah 23:90بل اتینہم بالحق وانہم لکذبون۔ بلکہ ہم نے ان کو سچی بات پہنچائی ہے وہ یقیناً جھوٹے ہیں۔
الْحَقُّسے مراد توحید اور قیامت کا وعدہ اور کاذب ہونے سے یہ مراد ہے کہ یہ توحید اور قیامت کے انکار میں جھوٹے ہیں۔
Ayah 23:91ما اتخذ اللہ من ولد وما کان معہ من الہ اللہ نے کسی کو (اپنی) اولاد نہیں قرار دیا اور نہ اس کے
ساتھ کوئی اور خدا ہے۔ اس کی اولاد نہیں (کیونکہ اولاد اپنے باپ کی ہم جنس ہوتی ہے اور) اللہ کی مثل اور ہم جنس کوئی نہیں ‘ وہ ہر مماثلت اور مجانست سے پاک ہے اور نہ کوئی اور خدا ہے جو الوہیت میں اللہ کا شریک ہو۔
اذا لذہب کل الہ بما خلق ولعلا بعضہم علی بعض جب کوئی اور بھی الٰہ ہوتا تو وہ ضرور خالق
بھی ہوتا) اور ہر الٰہ (خدا) اپنی مخلوق کو (تقسیم کر کے) جدا کرلیتا اور ایک دوسرے پر چڑھائی کردیتا۔
اپنی مخلوق کو لے کر جدا ہوجانا اور دوسرے کو اپنی مخلوق پر تصرف کرنے سے روک دیتا اور ہر ایک کی ملکیت دوسرے کی ملکیت سے علیحدہ ہوجاتی (اور ان کے باہم لڑائی ہوتی) اور (لڑائی میں) ایک دوسرے پر غالب آجاتا۔ جیسے دنیا کے بادشاہوں کا طریقہ ہے تعدد آلہہ کے وقت باہمی جنگ وجدال ناممکن نہیں اور جنگ میں ایک دوسرے پر غلبہ ہونا ہی چاہئے نتیجہ میں ایک مغلوب ہوتا اور مغلوب خدا نہیں ہوسکتا۔ مغلوبیت کمزوری اور حدوث کی علامت ہے اور اگر کوئی کسی پر غالب نہ آسکتا تو دونوں غالب آنے سے عاجز ہوتے اور عجز علامت حدوث ہے الوہیت کے منافی ہے۔
سبحن اللہ عما یصفون۔ اللہ ان باتوں سے پاک ہے جو یہ لوگ (اس کی شان میں بیان کرتے ہیں ‘
Ayah 23:92علم الغیب والشہادۃ فتعلی عما یشرکون۔ جاننے والا ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا۔ غرض ان کی شرک آفرینیوں سے ‘ اللہ بزرگ و برتر ہے۔ یعنی اولاد اور شریک سے اللہ پاک ہے جس کی دلیل اوپر ذکر کردی گئی۔
عَالِمُ الْغَیْبِ وَالشَّہَادۃِ نفی شریک کی دوسری دلیل ہے (اگر کسی موصوف کی کوئی خاص صفت بیان کی جائے تو وہ صفت ہی کسی حکم کی علت ہوتی ہے جیسے اَحْسِنْ بِزَیْدٍ صَدیْقِکَ الْقَدِیْمِاپنے پرانے دوست زید کے ساتھ بھلائی کر۔ بھلائی کرنے کے حکم کی علت زید کی پرانی دوستی ہے۔ پس اللہ کا شریک نہ ہونے کی ایک دلیل یہ ہے کہ وہی پوشیدہ اور ظاہر کا عالم ہے یعنی عالم کل ہے اس کے سوا کوئی ہمہ گیر علم نہیں رکھتا) یہ بات مشرک بھی مانتے تھے کہ علمی ہمہ گیری میں اللہ منفرد ہے۔
Ayah 23:93قل رب اما ترینی ما یوعدون۔ آپ دعا کیجئے کہ اے میرے رب جس عذاب کا ان کافروں سے وعدہ کیا جائے گا
Ayah 23:94رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین۔ اگر وہ عذاب تو مجھے دکھا دے تو اے میرے رب مجھے ان ظالموں میں شامل نہ کردینا
Ayah 23:95وانا علی ان نریک ما نعدہم لقدرون۔ اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جس (عقراب) کا وعدہ ہم ان سے کر رہے ہیں وہ آپ کو دکھا دیں۔
لیکن بیخ بن سے اکھاڑ دینے والے غارت کن عذاب ہم ان پر نازل نہیں کرتے کیونکہ آپ ان میں موجود ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کچھ لوگ ایمان لے آئیں گے اور بعض کی نسل میں مؤمن پیدا ہوں گے۔
اِنَّا عَلٰی اَنْ نُرِیَک۔۔ دوسرا جملۂ معترضہ ہے قیامت کا اور عذاب موعود کا وہ لوگ انکار کرتے تھے اور بطور استہزاء جلد نزول عذاب کے خواستگار تھے ان کے انکار اور عجلت طلبی کو رد کرنے کے لئے یہ جملہ ذکر فرمایا۔
Ayah 23:96ادفع بالتی ہی احسن السیءۃ آپ ان کی برائی کا دفعیہ ایسے برتاؤ (خصلت) سے کرو یا کیجئے جو بہت ہی
اچھا اور نرم ہو۔
سب سے اچھی خصلت سے مراد ہے درگزر کرنا۔ رخ پھیرلینا ‘ صبر کرنا اور بھلائی کرنا۔ یعنی ان کی برائی کے مقابلے میں اپنی طرف سے ان کے ساتھ بھلائی کرو۔ اس تفسیر پر آیت میں کافروں کی ایذا رسانی پر صبر کا اور جنگ سے باز رہنے کا حکم دیا گیا ہے اور آیت جہاد سے اس آیت کا حکم منسوخ قرار دیا جائے گا۔ بعض کے نزدیک حسنہ سے کلمۂ توحید اور سیۂ سے کلمۂ شرک مراد ہے بعض کے خیال میں سیۂ برا کام (گناہ کا کام) ہے اور حسنہ سے مراد ہے برے کام سے بازداشت اور ممانعت۔
نحن اعلم بما یصفون۔ وہ جو کچھ بیان کرتے ہیں ہم اس سے بخوبی واقف ہیں۔ یعنی آپ کے متعلق کافر جو کچھ کہتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ آپ کے حالات کے خلاف بیان کرتے ہیں ہم اس سے بخوبی واقف ہیں اور سزا دینے پر قدرت بھی رکھتے ہیں ‘ اس لئے آپ خود انتقام کے درپے نہ ہوں اور سارے معاملے کو ہمارے سپرد کردیں۔ یہ جملہ گویا دفع السیۂ بالحسنہ کی علت ہے آپ بھلائی کریں اور برائی کے مقابلہ میں بھلائی سے کام لیں اس لئے کہ ہم آپ کا انتقام لے لیں گے۔ ہم ان کے بیان کو بھی خوب جانتے ہیں اور سزا دینے کی قدرت بھی رکھتے ہیں۔
Ayah 23:97وقل رب اعوذبک من ہمزت الشیطین۔ اور آپ دعا کیجئے اے میرے رب ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں
Ayah 23:98واعوذ بک رب ان یحضرون۔
اور اے میرے رب میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ شیطان میرے پاس آئیں۔
ہَمَزٰتزور سے دھکا دینا یعنی وسوسے ڈال کر گناہوں کی طرف لے جانا۔
اَنّْ یْحْضُرُوْنِکہ میرے پاس آئیں۔ یعنی میری نماز میں ‘ عبادت میں اور دوسرے امور میں میرے پاس بھی آئیں کیونکہ شیطان جب پاس آئے گا تو ضرور وسوسہ بھی پیدا کرے گا۔
Ayah 23:99حتی اذا جآء احدہم الموت قال رب ارجعون۔ یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی (کے سر) پر موت آ کھڑی ہوتی ہے اس وقت کہتا ہے اے میرے رب مجھے (دنیا میں) پھر واپس بھیج دے
Ayah 23:100لعلی اعمل صالحا فیما ترکت
تا کہ جس (دنیا) کو میں چھوڑ کر آیا ہوں اس میں پھر جا کر نیک کام کروں۔
حتیٰ ابتدائیہ ہے اس کا تعلق یصفون سے ہے یا کاذبون سے یعنی جب اس کو دونوں ٹھکانے دکھائی دینے لگتے ہیں کہ اگر ایمان لاتا تو جنت کا یہ ٹھکانہ اس کو ملتا اور ایمان نہیں لایا تو دوزخ کے اندر اس کا یہ ٹھکانہ ہے اور اس سے کہہ دیا جاتا ہے کہ جنت کے ٹھکانے کی جگہ اللہ نے دوزخ کے اندر یہ ٹھکانہ مقرر کردیا تو اس وقت وہ کہتا ہے اے میرے رب مجھے دنیا میں واپس کر دیجئے۔
ارْجِعُون میں خطاب رب کو ہی ہے لیکن تعظیماً جمع کا صیغہ استعمال کیا۔ بعض نے کہا تکرار فعل مقصود ہے اس لئے جمع کا صیغہ ذکر کیا گویا اصل کلام یوں تھا اِرْجِعْنِیْ اِرْجِعْنِیْبعض کا قول ہے کہ رب اور روح قبض کرنے والے ملائکہ سب کو خطاب ہے اوّل رب کو مخاطب بنایا کیونکہ فریاد اصل میں اسی سے کی پھر ملائکہ سے درخواست کی کہ وہ دنیا میں پھر لوٹا دیں۔
فِیْمَا تَرَکْتُ ما سے مراد ایمان ہے یعنی وہ ایمان جس کو میں نے ترک کردیا تھا اس میں داخل ہو کر میں نیک کام کروں یا مال یا دنیا مراد ہے یعنی جو مال دنیا میں چھوڑ آیا ہوں پھر اس میں جا کر نیک کام کروں۔
ابن جریج کی حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب مؤمن کو (موت کے فرشتے) نظر آتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کیا ہم تجھے دنیا کی طرف لوٹا دیں۔ مؤمن کہتا ہے کیا افکار و آلام کے گھر کی طرف (تم مجھے لوٹانا چاہتے ہو میں ایسا نہیں چاہتا) بلکہ میں تو اللہ کے پاس جانا چاہتا ہوں اور کافر (کے سامنے جب ملائکہ آتے ہیں تو وہ) کہتا ہے رَبِّ ارْجِعُوْنِ ۔
صحیحین میں حضرت عبادہ بن صامت کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو اللہ سے ملنا پسند کرتا ہے اللہ بھی اس سے ملنا پسند کرتا ہے اور جو اللہ سے ملنا برا سمجھتا ہے اللہ بھی اس سے ملنے سے نفرت کرتا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے یا کسی اور بی بی نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں (کون مرنا چاہتا ہے) فرمایا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ بات یوں ہے کہ مؤمن کے سامنے جب موت آتی ہے تو اس کو اللہ کی خوشنودی اور عزت بخشی کی بشارت دی جاتی ہے اس وقت (پیچھے رہنے والی) کوئی چیز بھی آگے آنے والی چیز سے زیادہ محبوب نہیں ہوتی اس لئے وہ اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملنا پسند کرتا ہے۔ لیکن جب کافر کے مرنے کا وقت آتا ہے تو اس کو اللہ کے عذاب اور سزا کی اطلاع دی جاتی ہے اس وقت پیش آنے والی چیز سے زیادہ بری کوئی چیز اس کو نظر میں نہیں ہوتی اس لئے وہ اللہ سے ملنے کو ناگوار سمجھتا ہے اور اللہ بھی اس سے ملنے سے نفرت کرتا ہے۔
کلا ہرگز نہیں۔ دنیا کی طرف واپس ہرگز نہیں ہوسکتی۔
انہا کلمۃ ہو قآئلہا اس کی یہ ایک بات ہی بات ہے جس کو وہ کہے جا رہا ہے۔ کلمۃ سے مراد ہے پورے کلام کا ایک ٹکڑا یعنی مفید جملہ۔ نحو کی اصطلاح میں کلمہ مفرد لفظ کو کہتے ہیں ( لیکن عربی محاورہ میں مفید کلام کو کلمہ کہا جاتا ہے)
ہُوَ قَآءِلُہَا یعنی حسرت اس پر چھا جاتی ہے عذاب کا ڈر ہوتا ہے اس لئے ایسی بات کہتا ہے ورنہ دنیا میں واپس جانا ناممکن ہوتا ہے واپسی کی درخواست بیکار ہوتی ہے۔
ومن ورآۂم بزرخ الی یوم یبعثون۔ اور ان لوگوں سے آگے ایک چیز آڑ ہے اس دن تک جبکہ ان کو اٹھایا جائے گا۔
مِنْ وَّرَآءِہِمْان کے آگے۔ بَرْزَخٌمجاہد نے کہا ان لوگوں کے اور واپسی کے درمیان حجاب ہے (آڑ ہے) قتادہ نے کہا برزخ سے مراد ہے دنیا کی باقی عمر۔ کیونکہ جب تک دنیا کی باقی مدت ختم نہ ہوجائے گی زندگی کی طرف واپسی نہ ہوگی۔ ضحاک نے کہا برزخ موت سے قیامت تک کی مدت۔ بعض نے کہا برزخ سے مراد قبر ہے۔
Ayah 23:101فاذا نفخ فی الصور فلا انساب بینہم یومئذ ولا یتسآء لون۔ پھر جب (قیامت میں) صور پھونکا جائے گا تو ان میں باہمی رشتے ناتے اس روز نہ رہیں گے اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ صور پھونکے جانے سے مراد اس جگہ پہلا نفخۂ صور ہے۔ یعنی نفخۂ بیہوشی ‘ جس کے متعلق فرمایا ہے فَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ فَلاَ اَنْسَابَ بَیْنَہُمْ یَوْمَءِذٍ وَلاَ یَتَسَآءَ لُوْنَجب صور پھونکا جائے گا تو جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں سب بےہوش ہوجائیں گے اور اس روز ان کے درمیان (دنیا والی) رشتہ داریاں نہیں رہیں گی اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا۔ ثُمَّ نُفِخَ فِیْہِ اُخْرٰی فَاِذَا ہُمْ قِیَامٌ یَّنْظُرُوْنَ پھر دوبارہ صور پھونکا جائے گا تو یک دم سب (اٹھ کے) کھڑے ہوجائیں گے اور (حیرت سے) دیکھتے ہوں گے۔ وَاَقَبْلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَتَسَآءَ لُوْنَاور ایک دوسرے کی جانب رخ کر کے باہم پوچھیں گے۔ الخ
صحیح یہ ہے کہ آیت میں نفخہ سے مراد نفخۂ بعث (جس کے بعد سب لوگ زندہ ہو کر اٹھ کھڑے ہوں گے) مراد ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا قیامت کے دن بندے یا بندی کا ہاتھ پکڑ کر علی الاعلان سب اگلوں پچھلوں کے سامنے کھڑا کیا جائے گا اور ایک منادی ندا دے گا ‘ یہ فلاں بن فلاں ہے اس کی طرف کسی کا حق ہو تو وہ اپنا حق لینے آجائے اس وقت جس شخص کا اپنے باپ یا بیٹے یا بی بی یا بھائی پر کوئی حق ہوگا وہ خوش ہوگا اور اپنا حق وصول کرے گا۔ اس کے بعد حضرت ابن مسعود ؓ نے آیت فلاَ اَنْسَابَ ۔۔ پڑھی۔ عطا کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کا قول بھی آیا ہے کہ اس جگہ نفخہ سے مراد دوسرا نفخہ ہے۔
فَلاَ اَنْسَابَ بَیْنَہُمْ یعنی دنیا میں تو شرافت نسب پر فخر کرتے تھے ‘ قیامت کے دن کوئی کسی پر نسبی (اور نسلی) فخر نہ کرسکے گا۔ یا یہ مطلب ہے کہ رشتے ناطے اس روز فائدہ نہیں پہنچائیں گے۔ کیونکہ سب اتنے وحشت زدہ اور حیران ہوں گے کہ کوئی کسی سے محبت نہیں کرے گا اور آپس میں مہربانی کا جذبہ معدوم ہوجائے گا اور یہ حالت ہوجائے گی کہ آدمی اپنے بھائی اور ماں باپ اور بیوی بچوں سے بھی بھاگے گا۔
بَیْنَہُمْکی ضمیر کافروں کی طرف راجع ہے ‘ کافروں ہی کا ذکر اس سے پہلے کیا گیا ہے مؤمن مراد نہیں ہیں ‘ مؤمنوں کے متعلق تو اللہ نے فرمایا ہے (اَلْحَقْنَابِہِمْ ذُرِّیَّتَہُم) ْہم ان کے ساتھ ان کی اولاد کو بھی شامل کردیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ قیامت کا دن ہوگا تو اس روز مسلمانوں کے لڑکے نکلیں گے (یعنی کوثر و تسنیم کے پاس سے ایسی حالت میں برآمد ہوں گے) کہ ان کے ہاتھوں میں شربت (شراب طہور) ہوگا۔ لوگ ان سے کہیں گے ہم کو پلا دو ‘ وہ جواب دیں گے (نہیں) ہم اپنے ماں باپ کو پلائیں گے۔ اپنے ماں باپ کو پلائیں گے ‘ یہاں تک کہ ساقط شدہ بچہ بھی جنت کے دروازے پر کھڑا ہوا کہے گا جب تک میرے باپ اندر نہ جائیں گے میں اندر داخل نہ ہوں گا۔ رواہ ابن ابی الدنیا عن عبداللہ بن عمر اللیثی۔ ابو ذرارہ کی حدیث بھی اسی کے ہم معنی آئی ہے۔
ایک شبہ ابن عساکر نے صحیح سند کے ساتھ حضرت ابن عمر ؓ کی راویت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میرے نسبی اور سسرالی ناتے کے علاوہ ہر نسبی اور سسرالی رشتہ ٹوٹ جائے گا۔
جواب مؤمنوں کی نسبی رشتہ داریاں رسول اللہ ﷺ کے ضمن میں داخل ہیں۔ حضور ﷺ سب مسلمانوں کے باپ تھے ‘ اور آپ کی بیبیاں مسلمانوں کی مائیں تھیں۔ (پس آپ کا رشتہ منقطع نہ ہوگا یعنی مؤمنوں کے رشتے ناطے منقطع نہ ہوں گے) ۔
بغوی نے کہا ‘ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن کوئی ذریعہ اور نسب سود مند نہ ہوگا سوائے رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ اور نسبت کے ‘ یعنی سوائے قرآن و ایمان کے۔
وَلاَ یَتَسَآءَ لُوْنَکا یہ مطلب ہے کہ باہم رشتے نہیں پوچھیں گے جیسے دنیا میں پوچھا کرتے تھے کہ تم کس خاندان اور کس قبیلے سے ہو۔
ایک شبہ اللہ نے دوسری آیت میں فرمایا ہے (وَاَقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَتَسَآءَ لُوْنَ ) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ باہم احوال دریافت کریں گے۔
جوابحضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا قیامت کے احوال اور مواقع مختلف ہوں گے کسی مقام پر تو اتنا خوف طاری ہوگا کہ کوئی کسی کو نہ پوچھے گا اور بعض مواقع ایسے بھی آئیں گے کہ ذرا افاقہ اور سکون ہوگا اس وقت ایک دوسرے کی حالت دریافت کرے گا۔
Ayah 23:102فمن ثقلت موازینہ فاولئک ہم المفلحون۔ سو جس شخص کا (ایمان اور نیکی کا) پلڑہ بھاری ہوگا وہی
لوگ کامیاب ہوں گے۔
مَوَازِیْنُموزون کی جمع ہے یعنی (وزن کئے ہوئے) عقائد اور نیک اعمال بھاری ہوں گے۔ بھاری ہونے سے مراد ہے زیادہ ہونا۔ نیکیوں کا گناہوں کے مقابلے میں نیچے کو جھک جانا۔ یا موازین میزان کی جمع ہے (اور میزان کا معنی ہے ترازو) یعنی جس کی ترازو میں نیکیوں کا پلڑہ نیچے کو جھکا ہوگا۔ موازین کو بصیغہ جمع اس لئے ذکر کیا کہ ہر شخص کی (وزن کشی کی) ترازو الگ ہوگی۔ یا تعدد میزان سے مراد وزن کا تعدد ہے۔
الْمُفْلِحُوْنَنجات پانے والے اور درجات پر پہنچنے والے۔
علمائے اہل سنت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ میزان کا قائم ہونا اور اعمال کا اس میں تولا جانا حق ہے۔ خوارج ‘ معتزلہ اور شیعہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اکثر اہل بدعت (جو سلف صالحین کے خلاف عقائد رکھتے ہیں) اس کے منکر ہیں۔
بیہقی نے البعث میں حضرت عمر بن خطاب کی روایت سے حدیث جبرئیل ( علیہ السلام) نقل کی ہے۔ اس حدیث میں ہے کہ جبرئیل ( علیہ السلام) نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا محمد ﷺ ! ایمان کیا ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ کو ماننا۔ اللہ کے فرشتوں اور رسولوں کو ماننا اور جنت ‘ دوزخ ‘ میزان اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اٹھائے جانے کا یقین کرنا اور اس بات کو ماننا کہ اچھی بری تقدیر اللہ کی طرف سے (مقرر) ہے (یعنی دنیا میں جو اچھائی برائی ہوتی ہے اللہ نے اس کا علمی اندازہ پہلے سے کرلیا تھا) جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا اگر میں ایسا کرلوں تو کیا میں مؤمن ہوجاؤں گا ‘ فرمایا ‘ ہاں ‘ جبرئیل ( علیہ السلام) نے کہا آپ نے سچ کہا۔
حاکم نے مستدرک میں برشرط مسلم حضرت سلمان کی روایت سے بیان کیا ہے اور اس کو صحیح کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میزان قائم کی جائے گی (اتنی بڑی ہوگی کہ) اگر آسمان و زمین اس میں رکھ دیئے جائیں تو اس میں سما جائیں۔ ابن مبارک نے الزہد میں اور اجری نے الشریعت میں حضرت سلمان ؓ : کا قول موقوفاً نقل کیا ہے اور ابوالشیخ ابن حبان نے اپنی تفسیر میں حضرت ابن عباس کا قول بھی یہی بیان کیا ہے کہ میزان کی ایک زبان اور دو پلڑے ہوں گے۔
ابن ابی الدنیا نے ابن جریر نے اپنی تفسیر میں حضرت حذیفہ کا قول بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن میزان والے حضرت جبرئیل ( علیہ السلام) ہوں گے۔
میزان کے متعلق احادیث متواتر المعنی ہیں۔
فصل
وزن کشی کیسے ہوگی۔ کیفیت اور وزن کی تفصیل میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض کا قول ہے کہ بندے کو مع اس کے اعمال کے تولا جائے گا مؤمن کا وزن اس کی نیکیوں کے موافق ہوگا اور کافر کا کوئی وزن ہی نہیں نکلے گا۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بعض لوگ آئیں گے جو عظیم الجثہ اور موٹے ہوں گے اور خدا کے نزدیک ان کا وزن مچھر کے پر کے برابر بھی نہ ہوگا۔ پھر حضور ﷺ نے آیت فلاَ نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزَنًاتلاوت فرمائی۔ متفق علیہ من حدیث ابی ہریرہ ؓ ۔
اس تفسیر کی بنا پر جن لوگوں کا وزن ہلکا ہوگا وہ کفار ہی ہوں گے۔ (گناہگار مؤمن خفیف الوزن نہ ہوں گے) ۔
بعض نے کہا اعمال نامے تولے جائیں گے یعنی وہ صحیفے جن کے اندر نیکیاں اور بدیاں لکھی ہوں گی ‘ ان کی وزن کشی ہوگی۔ ترمذی ‘ ابن ماجہ ‘ ابن حبان ‘ بیہقی اور حاکم نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن میری امت کے ایک آدمی کو سب کے سامنے لایا جائے گا اور اس کے ننانوے طومار رکھے جائیں گے ہر طومار کا طول بقدر رسائی نظر ہوگا پھر (اللہ اس سے) فرمائے گا کیا اس میں سے کسی بات کا تجھے انکار ہے کیا میری طرف سے اعمال نویسوں نے تیرے اوپر کوئی ظلم کیا ہے۔ وہ شخص عرض کرے گا نہیں ‘ اے میرے رب (اعمال نویسوں نے میری کوئی حق تلفی نہیں کی) اللہ فرمائے گا ‘ کیوں نہیں میرے پاس تیری ایک نیکی ہے تجھ پر آج ظلم مطلقاً نہ ہوگا (اس نیکی کا بدلہ ملے گا) چناچہ اس شخص کا ایک کارڈ نکالا جائے گا جس میں اَشْہَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗلکھا ہوگا۔ بندہ عرض کرے گا اے میرے رب ان طوماروں کی موجودگی میں اس کارڈ کی کیا حقیقت ہے اللہ فرمائے گا تیری حق تلفی نہیں کی جائے گی ‘ چناچہ تمام طومار ایک پلڑے میں رکھے جائیں اور وہ کارڈ دوسرے پلڑے میں طوماروں والا پلڑا اوپرکو اڑ جائے گا (یعنی اٹھ جائے گا) اور کارڈ بھاری نکلے گا۔ اللہ کے نام سے کوئی چیز بھاری نہیں ہوتی۔ امام احمد نے حسن ‘ صحیح سند سے حضرت ابن عمر کی روایت سے اسی طرح حدیث نقل کی ہے۔
بعض نے کہا اعمال کو مجسم بنا کر تولا جائے گا۔ حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر آسمانوں کو اور زمین اور ان کے اندر کی اور ان دونوں کے درمیان کی اور ان کے نیچے کی ساری کائنات کو لا کر میزان کے ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دوسرے پلڑے میں لا الٰہ الا اللہ کی گواہی کو رکھا جائے تو لا الٰہ الا اللہ کی شہادت والا پلڑہ جھک جائے گا (وزنی نکلے گا) رواہ الطبرانی۔
ابن عبدالرزاق نے علم کی فضیلت کے باب میں اپنی سند سے ابراہیم نخعی کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن آدمی کے عمل لا کر اس کی ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دیئے جائیں گے تو وہ پلڑا ہلکا رہے گا پھر بادلوں کی طرح ایک چیز لا کر ترازو کے دوسرے پلڑے میں رکھ دی جائے گی وہ وزنی نکلے گی۔ پھر اس شخص سے کہا جائے گا تو جانتا ہے یہ کیا ہے وہ شخص جواب دے گا نہیں (میں واقف نہیں) کہا جائے گا یہ علم کی فضیلت ہے جو تو لوگوں کو تعلیم دیتا تھا۔
ذہبی نے علم کی فضیلت کے بیان میں حضرت عمران بن حصین کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن علماء کی روشنائی اور شہیدوں کے خون کا موازنہ کیا جائے گا تو علماء کی روشنائی شہیدوں کے خون سے بھاری نکلے گی۔
میں کہتا ہوں کہ مؤمن بندہ کو مع اس کے نیک اعمالناموں یا مع مجسم نیک اعمال کے (دونوں باتوں کا مطلب ایک ہی ہے) ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور دوسرے کافر بندہ کو مع اس کے برے اعمالناموں کے یا مع اس کے مجسم برے اعمال کے دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو کافر کا وزن مچھر کے پر کی برابر نہ نکلے گا۔ اسی کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے (وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُہٗ ) یعنی اس کی میزان میں (اس کا) کوئی وزن ہی نہ ہوگا۔ مؤمن کی ترازو میں ضرور (کچھ نہ کچھ) وزن ہوگا خواہ لا الٰہ الا اللہ کی شہادت کے سبب ہی ہو اسی کے متعلق اللہ نے بطور کنایہ فرمایا (فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُہٗ ) مگر مؤمن کے ثقل کے درجات ہوں گے جو کبیرہ گناہوں سے بچتے رہے ہوں گے اور اللہ نے ان کے گناہ ساقط کردیئے ہوں گے تو ان کی میزانوں میں وزن سب سے زیادہ ہوگا بدیوں کا پلڑا اڑ جائے گا۔ بالکل خالی رہے گا (اس میں کوئی وزن ہی نہ ہوگا) ۔ اور جن لوگوں کے عمل مخلوط ہوں گے ‘ اچھے عمل بھی ہوں اور برے عمل بھی ان میں جنت کے اندر داخل ہونے کی صلاحیت ہوگی انہیں کے متعلق حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ قیامت کے دن لوگوں کی حساب فہمی ہوگی گناہوں کی بہ نسبت ایک نیکی بھی اگر کسی کی زائد ہوگی تو وہ جنت میں چلا جائے گا اور جس کے گناہ نیکیوں سے زیادہ ہوں گے وہ دوزخ میں چلا جائے گا یعنی گناہوں کی کثافت سے پاک صاف بنانے کے لئے اس کو آگ میں داخل کیا جائے گا جیسے لوہا آگ میں پڑ کر میل کچیل سے پاک صاف ہوجاتا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ایک دانگ کے وزن سے بھی میزان کا وزن ہلکا بھاری ہوگا اور جن اشخاص کی نیکیاں اور بدیاں برابر ہوں گی وہ اصحاب اعراف ہوں گے اس وقت تک اعراف میں رہیں گے جب تک اللہ ان کے جنت میں داخلے کا حکم دے دے اس کے بعد جنت میں چلے جائیں گے۔
حضرت ابن عباس ؓ : کا یہ قول ابن ابی حاتم نے نقل کیا ہے اس قول میں کافروں کی حالت کا بیان نہیں ہے کیونکہ کافر کی کوئی نیکی ہی نہ ہوگی اور قرآن میں صرف مؤمنین صالحین کا ذکر ہے یا کافروں کا۔ گناہگار مؤمنوں کا کوئی تذکرہ نہیں اس کی وجہ شاید یہ ہو کہ نزول قرآن کے زمانہ میں سارے مؤمن صالح ہی تھے سب صحابہ تھے ‘ کبائر سے پرہیز رکھنے والے تھے۔ یا گناہوں سے توبہ کرنے والے تھے اور گناہوں سے توبہ کرنے والے بےگناہ کی طرح ہوجاتے ہیں۔
Ayah 23:103ومن خفت موازینہ فاولئک الذین خسروا انفسہم فی جہنم خلدون۔
اور جن لوگوں کی میزانیں ہلکی ہوں گی تو وہ ایسے ہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنی جانوں کو گھاٹے میں رکھا ‘ جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔ یعنی جن کے اچھے اعمال ہلکے ہوں گے یا اچھے اعمال کا پلڑہ ہلکا ہوگا ایسا کہ ان کی نیکیوں کا کوئی وزن ہی نہ ہوگا ایسے لوگ لامحالہ کافر ہی ہوں گے۔
بزار اور بیہقی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن آدم کے بیٹے کو لا کر میزان کے دونوں پلڑوں کے درمیان کھڑا کیا جائے گا اور ایک فرشتہ کو میزان پر مقرر کردیا جائے گا اب اگر اس کی میزانیں بھاری نکلیں تو وہ فرشتہ ایسی آواز سے جس کو ساری مخلوق سنے گی کہے گا ‘ فلاں شخص خوش نصیب ہوگیا اس کے بعد کبھی بدنصیب نہ ہوگا اور اگر اس کی میزانیں ہلکی نکلیں تو وہ فرشتہ ایسی آواز سے جس کو ساری مخلوق سنے گی کہے گا فلاں شخص بد نصیب ہوگیا آئندہ اس کے بعد کبھی خوش نصیب نہ ہوگا۔ اس حدیث میں خفت سے مراد ہے بالکل وزن نہ ہونا۔
میں کہتا ہوں شاید گناہگار مؤمنوں کے اعمال دو بار تولے جائیں گے اگر اس کی نیکیوں میں کسی قدر ہلکا پن ہوگا تو اس کو اس وقت تک کے لئے دوزخ میں داخل کردیا جائے گا کہ وہ پاک صاف ہوجائے پھر پاک صاف ہونے کے بعد اس کے اعمال کی پھر تول کی جائے گی اس وقت اس کی میزانیں بھاری نکلیں گی تو فرشتہ ندا دے گا فلاں شخص خوش نصیب ہوگیا اس کے بعد کبھی بد نصیب نہ ہوگا۔ ہم نے سورت القارعہ میں اس مبحث کی کسی قدر تحقیق کردی ہے۔
آیت میں مندرجہ بالا میں صرف کفار مراد ہیں اس کی دلیل اس سے آگے آنے والی آیت ہے فرمایا ہے فَاُولٰءِکَ الَّذِیْنَ ۔۔ کہ یہی وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے خود اپنا نقصان کیا اور نفس کو کامل کرنے کا جو وقت تھا وہ کھو دیا۔