18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 18:94

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک دیوار کھینچ دیں

قالوا یذالقرنین ان یاجوج وماجوج مفسدون فی الارض انہوں نے کہا اے ذوالقرنین یاجوج و ماجوج ہمارے ملک میں آکر تباہی مچاتے ہیں۔ یعنی قتل و غارت کرتے اور ہماری کھیتیوں کو اجاڑ دیتے ہیں۔ کلبی نے کہا موسم بہار میں یاجوج و ماجوج گھس آتے تھے۔ تمام سبز چیزوں (سرسبز کھیتیوں اور پھلوں ترکاریوں) کو تو کھالیتے تھے اور خشک چیزوں کو اٹھا کر اپنے ملک میں لے جاتے تھے ‘ ان لوگوں کو ان سے بڑا دکھ پہنچتا تھا ‘ بعض نے کہا وہ آدم خور تھے آدمیوں کو کھا جاتے تھے۔ یاجوج و ماجوج عجمی لفظ ہیں ‘ بعض کے نزدیک عربی ہیں عرب بولتے ہیں آج الظلم یعنی اَسْرَعَ بغوی نے لکھا ہے یہ دونوں لفظ اجیج النار ( آگ کا شعلہ ‘ بھڑک ‘ شرارہ) سے ماخوذ ہیں کثرت تعداد کی وجہ سے ان کو آگ کے شعلوں اور چنگاریوں سے تشبیہ دی گئی۔ بغوی نے لکھا ہے یاجوج و ماجوج یافث بن نوح کی نسل سے ہیں۔ ضحاک نے کہا وہ ترکوں کی ایک نسل ہے سدی نے کہا ترک یاجوج کا ایک فوجی دستہ تھا جو (پہاڑوں سے ورے) نکل آیا تھا ‘ جب ذوالقرنین نے دیوار (سد) بنا دی تو وہ دستہ پہاڑوں سے ادھر ہی رہ گیا تمام ترک اسی کی نسل سے ہیں۔ قتادہ نے کہا یاجوج کے 22 قبائل تھے ذوالقرنین نے سد بنائی تو ایک قبیلہ ادھر ہی رہ گیا 21 قبائل ادھر چلے گئے اسی ایک قبیلہ کو ترک کہا جاتا ہے کیونکہ سد سے ورے اس کو ترک کردیا (چھوڑ دیا) گیا تھا۔ اہل تاریخ نے لکھا ہے حضرت نوح ( علیہ السلام) کے تین بیٹے تھے سام حام یافث سارے عرب فارس اور روم والے سام کی نسل سے ہیں اور حام کی نسل سے حبش زنج اور نوبہ کے لوگ ہیں (یعنی سارا افریقہ حام کی نسل سے ہے) اور یافث کی نسل سے ترک خرز صعالیہ اور یاجوج و ماجوج ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ : کا قول عطا کی روایت میں آیا ہے کہ سارے آدمی تو ایک حصہ ہیں اور یاجوج و ماجوج دس حصے (یعنی یاجوج و ماجوج کی تعداد باقی انسانوں سے دس گنا زائد ہے) حضرت حذیفہ ؓ : کی مرفوع روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یاجوج (ایک الگ) قوم ہے اور ماجوج (دوسری) قوم ہے ہر ایک کی تعداد چار سو ہزار (چار لاکھ) ہے وہ سب آدم کی اولاد ہیں ان میں سے کوئی بھی اس وقت تک نہیں مرتا جب تک اپنی پشت (یعنی نسل) سے پیدا شدہ ایک ہزار آدمی ایسے نہ دیکھ لے جو ہتھیار اٹھانے کے قابل ہوں (یعنی جوان ہوں) یہ لوگ غیر آباد دنیا کی طرف پھیلتے جائیں گے۔ میں کہتا ہوں شاید حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب ذوالقرنین نے دیوار بنوائی تھی اور یاجوج و ماجوج کی ادھر آنے سے بندش کردی تھی تو اس وقت ان کے دو گروہ تھے ‘ ہر گروہ کی تعداد چار لاکھ تک پہنچ چکی تھی اس کے بعد کتنی ہوگی تو ظاہر ہے کہ جب ہر شخص اپنی نسل کے ایک ہزار آدمی چھوڑ کر مرتا ہے تو ان کی گنتی کون کرسکتا ہے۔ (یَسِیْرُوْنَ اِلٰی خَرَاب الدُّنْیَاکا ایک ترجمہ تو وہ ہے جو اس فقیر مترجم نے کیا ‘ دوسرا ترجمہ حضرت مفسر نے فرمایا کہ) یَسِیْرُوْنَ اِلٰی خَرَاب الدُّنْیَاکا یہ معنی ہے کہ قیامت کے قریب وہ سد کو توڑ کر نکلیں گے اور ویران دنیا کی طرف آئیں گے (یہ فقیر اس ترجمہ کو بعید از فہم جانتا ہے) واللہ اعلم۔ بغوی نے لکھا ہے یاجوج و ماجوج تین طرح ہیں ایک قسم تو درخت ارز کے برابر ہے ان میں سے ہر شخص کا قد ایک سو بیس ہاتھ لمبا ہے دوسری قسم کا طول و عرض برابر ہوتا ہے 130 ہاتھ لمبا اور اتنا ہی چوڑا ان کے سامنے کوئی پہاڑ بھی نہیں ٹھہر سکتا۔ تیسری قسم وہ ہے جو ایک کان بچھاتے اور ایک کان اوڑھتے ہیں (قیامت کے قریب جب یہ برآمد ہوں گے تو) جو گھوڑا یا خنزیر یا جنگلی وحشی جانور ان کے سامنے آجائے گا اس کو بغیر کھائے نہیں چھوڑیں گے ‘ ان میں سے جو کوئی مرجاتا ہے اس کو کھالیتے ہیں ان کا اگلا دستہ شام میں اور پچھلا حصہ خراسان میں ہوگا۔ مشرق کے (تمام) دریاؤں اور بحیرۂ طبریہ (بحیرۂ مردار) کا پانی پی جائیں گے۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت علی ؓ نے فرمایا ان میں سے بعض کا طول ایک بالشت اور عرض ایک ہاتھ ہے اور بعض بہت زیادہ لمبے ہیں۔ کعب احبار نے کہا وہ اولاد آدم میں ایک عجیب مخلوق ہیں ایک روز حضرت آدم کو احتلام ہوا اور نطفہ مٹی کے ساتھ مخلوط ہوگیا اس نطفہ سے اللہ نے یاجوج و ماجوج کو پیدا کردیا وہ باپ کی طرف سے تو ہمارے (علاتی) بھائی ہیں لیکن ہماری ماں کی نسل سے نہیں ہیں۔ بغوی نے وہب بن منبہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ذوالقرنین رومی تھا اور ایک بڑھیا کا بیٹا تھا جوان ہوا تو نیک مؤمن بندہ ہوا اور اللہ نے اس سے فرمایا ‘ میں تجھے ایسی قوموں (کی اصلاح) کے لئے بھیجوں گا ‘ جن کی زبانیں مختلف ہوں گی ان میں سے دو قومیں ایسی ہوں گی جن کے درمیان پوری زمین کے طول کا فاصلہ ہوگا ایک غروب آفتاب کے مقام پر ہوگی جس کو ناسک کہا جائے گا اور دوسری سورج نکلنے کے مقام پر ہوگی جس کو منسک کہا جائے گا اور دو قومیں اور ہوں گی جن کے درمیان پوری زمین کا عرض فاصل ہوگا جنوب کی طرف والی قوم کو ہاویل کہا جائے گا اور شمالی والی کو قاویل ‘ باقی اقوام وسط ارض پر آباد ہوں گی جن میں جنات بھی ہوں گے اور انسان بھی اور یاجوج و ماجوج بھی۔ ذوالقرنین نے عرض کیا پھر کس قوم کو ساتھ لے کر میں ان سے قوت و کثرت میں مقابلہ کروں گا اور کس زبان میں ان سے گفتگو کروں گا ‘ اللہ نے فرمایا میں تجھے طاقت عطا کروں گا ‘ تیری زبان میں پھیلا دؤں گا اور تیرا بازو مضبوط کر دوں گا تجھے کوئی چیز خوف زدہ نہ کرے گی تجھے ہیبت کا لباس پہناؤں گا کہ تجھے کوئی شے روک نہ سکے گی ‘ میں نو رو ظلمت کو تیرا فرماں بردار بنا دوں گا اور دونوں کو تیرا مددگار کر دوں گا۔ نور تجھے آگے آگے راستہ دکھائے گا اور تاریکی پیچھے پیچھے سے تجھے گھیرے میں لیتی رہے گی۔ حسب الحکم ذوالقرنین چل دیا اور آفتاب کے غروب ہونے کے مقام تک پہنچ گیا۔ وہاں اس کو دشمنوں کی ایک جماعت ملی جو بیشمار تھی ان کی گنتی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔ ذوالقرنین نے ظلمت سے مدد لے کر ان سے مقابلہ کیا سب کو ایک جگہ جمع کر کے اللہ کی عبادت کی ان کو دعوت دی کچھ لوگوں نے دعوت کو مان لیا کچھ کترا گئے جو لوگ روگرداں ہوگئے ان پر ذوالقرنین نے ظلمت کو مسلط کردیا تاریکی ان کے پیٹوں اور گھروں کے اندر گھس گئی ‘ آخر وہ ذوالقرنین کی دعوت میں داخل ہوگئے ‘ اسی جگہ مغرب والوں کا ذوالقرنین نے ایک لشکر تیار کیا اور اس کو ساتھ لے کر ہاویل (جنوبی قوم کے پاس پہنچ گیا اور یہاں بھی وہی سلوک کیا جیسا ناسک کے ساتھ کیا تھا پھر منسک کی طرف گیا جو طلوع آفتاب کے مقام کے قریب آباد تھے ‘ یہاں پہنچ کر ذوالقرنین اور اس کے لشکر نے وہی عمل کیا جو مذکورہ دونوں قوموں کے ساتھ کرچکا تھا ‘ پھر قاویل (شمالی قوم) کی طرف رخ کیا اور ان سے بھی وہی معاملہ کیا جو مندرجہ بالا اقوام کے ساتھ کیا تھا ‘ اس کے بعد وسطی اقوام کی طرف توجہ کی مشرقی جانب ترکوں کی سرحد پر پہنچا تو وہاں نیک ایمان دار آدمیوں کا ایک گروہ اس کے پاس آیا اور کہا ذوالقرنین ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ایک مخلوق ایسی ہے جو بہائم (چوپایوں) کی طرح ہے اور درندوں کی طرح ان کے نوکیلے دانت اور کچلیاں ہیں سانپوں اور بچھوؤں کو کھا جاتے ہیں اور گھوڑوں گدھوں اور جنگلی جانوروں کو پھاڑ کھاتے ہیں ان کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ کسی مخلوق کی اتنی تعداد نہیں ہے اور اتنی ہی ان کی افزونی ہے کہ کسی مخلوق کی نہیں ہے وہ ہماری سرزمین پر آجاتے ہیں تسلط جماتے ہیں اور تباہی مچاتے ہیں کیا ہم آپ کے لئے چندہ کر کے رقم جمع کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان ایک بندھ بنا دیں ‘ ذوالقرنین نے کہا میرے رب نے جو مجھے طاقت و دولت وغیرہ) عطا فرمائی ہے وہ (تمہارے چندہ سے) بہتر ہے تم لوگ میرے لئے پتھر کی چٹانیں اور لوہا اور تانبا فراہم کر دو اور میں جا کر ان کے حالات معلوم کرتا ہوں۔ یہاں سے ذوالقرنین ان لوگوں کے احوال دریافت کرنے کے لئے چلا اور ان کی بستیوں کے اندر داخل ہوگیا۔ اس نے دیکھا کہ سب لوگ ایک ہی قد کے ہیں ہمارے متوسط القامت آدمی کے طول سے ان کا طول قامت آدھا ہے ان کے پنجے اور نوکیلے دانت اور کچلیاں درندوں کی طرح ہیں اور سارے بدن پر سخت بال اتنی کثرت سے ہیں کہ جسم کو چھپائے ہوئے ہیں۔ سردی گرمی سے بچاؤ ان کو ان بالوں ہی کے ذریعہ سے حاصل ہوتا ہے۔ ہر شخص کے دو بڑے بڑے کان ہیں ایک کان بچھاتا ہے ایک اوڑھتا ہے ان کانوں ہی سے موسم گرما اور سرما میں کام چلاتا ہے ‘ جہاں جمع ہوتے ہیں آپس میں جانوروں کی طرح جماع کرتے ہیں ‘ ذوالقرنین یہ کیفیت دیکھ کر لوٹ آیا اور دونوں پہاڑوں کے درمیان پہنچ کر اس نے پیمائش کی پھر پانی تک بنیاد کھدوا کر پتھر کی چٹانوں سے اس کو بھر دیا اور تانبا پگھلا کر اس سے مصالحہ کا کام لیا ‘ اس طرح دیوار مکمل ہوگئی ‘ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ زمین کے نیچے سے ایک پہاڑ پھوٹ آیا ہے ‘ (یہ سب اسرائیلی خرافات ہیں۔ بیضاوی) ۔ فہل نجعل لک خرجا علی ان تجعل بیننا وبینہم سدا۔ سو کیا ہم لوگ آپ کے لئے کچھ چندہ جمع کردیں اس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی روک بنا دیں (کہ وہ ہماری طرف نہ آسکیں) خَرْجاور خراج دونوں ہم معنی ہیں ‘ مزدوری اجرت۔ ابو عمرو نے کہا خراج وہ چیز ہے جس کا ادا کرنا تم پر لازم ہو اور خرج وہ چیز ہے جس کو دے کر تم دوسرے کو راغب بناتے ہو۔ بعض نے کہا خراج زمین کا ٹیکس اور خرج فی کسی شخصی ٹیکس ہوتا ہے۔ عرب کہتے ہیں ادخرج راسک وخراج مدینتک اپنی ذات کا خرب (پرسن ٹیکس) ادا کرو اور اپنے شہر کا خراج۔ بعض نے کہا جو چیز زمین پر لازم ہو یا شخصی طور پر وہ خراج ہے اور خرج مصدر ہے۔ سداً یعنی ایسی دیوار اور بندش کہ یاجوج و ماجوج پھر ادھر نہ آسکیں۔
Ayah 18:95

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

ذوالقرنین نے کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے۔ تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنا دوں گا

قال ما مکنی فیہ ربی خیر فاعینونی بقوۃ اجعل بینکم وبینہم ردما۔ ذوالقرنین نے کہا جس مال میں میرے رب نے مجھے اختیار دیا ہے وہ بہت کچھ ہے (سو مال کی تو مجھے ضرورت نہیں) البتہ ہاتھ پاؤں سے تم لوگ میری مدد کرو ‘ میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط دیوار بنا دوں گا
Ayah 18:96

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کر دیا۔ اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو۔ یہاں تک کہ جب اس کو (دھونک دھونک) کر آگ کر دیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس تانبہ لاؤ اس پر پگھلا کر ڈال دوں

اتونی زبر الحدید تم لوگ مجھے لوہے کی چادریں لا دو ۔ مَامَکَّنِیْ یعنی مال اور دولت سے اللہ نے جو کچھ مجھے عنایت کیا ہے وہ اس مال سے بہتر ہے جو بطور معاوضہ تم مجھے دینے کو کہہ رہے ہو۔ قُوَّۃٍسے مراد معمار مزدور کارکن یا آلات۔ رَدْمًابہت مضبوط دیوار (تہ بر تہ چنی ہوئی) زبُرَالْحَدِیْدِلوہے کے بڑے بڑے ٹکڑے۔ زُبُر کا واحد زبرۃ ہے زبرۃ بڑا ٹکڑا۔ اٰتُوْنِیْ زُبُرَ الْحَدِیْدِ مجھے لوہے کے ٹکڑے لا دو ۔ مطلب یہ کہ مالی مدد کی اور معاوضہ کی مجھے ضرورت نہیں ‘ تم لوگ جسمانی اور آلاتی مدد کرو۔ لوگ لوہے کی چادریں یا ٹکڑے لے آئے ‘ لکڑیاں اور کوئلے بھی ساتھ لائے۔ ذوالقرنین نے لوہے لکڑی اور کوئلوں کو تہ بر تہ چنا اوپر لوہا پھر نیچے لکڑی پھر کوئلے پھر لوہا پھر لکڑی۔ حتی اذا ساوی بین الصدفین قال انفخوا حتی اذا جعلہ نارا قال اتونی افرغ علیہ قطرا یہاں تک کہ جب (ردے ملاتے ملاتے) ان کے دونوں سروں (کے بیچ کے خلا) کو برابر کردیا تو کہا دھونکو (دھونکنا شروع) ہوگیا ‘ یہاں تک کہ جب (دھونکتے دھونکتے) اس کو لال انگارہ کردیا تو کہا اب میرے پاس پگھلا ہوا تانبہ لاؤ کہ اس پر میں ڈال دوں۔ صدفین دونوں کنارے صَدْفٌ جھکاؤ ‘ میلان۔ تصادف آمنے سامنے ہونا۔ افرغ میں ڈال دوں ‘ افراغ بٹونا ‘ بہا دینا قطر پگھلا ہوا تانبہ۔ لوگ تانبہ لے کر آئے پھر پگھلا ہوا تانبہ دہکتے ہوئے لوہے پر ڈال دیا گیا ‘ آگ سے لکڑی اور کوئلہ جل گیا ‘ پگھلے ہوئے تانبے نے اس کی جگہ لے لی اس طرح لوہے کی اینٹیں پگھلے ہوئے تانبے کے مصالحہ سے باہم پیوست ہوگئیں اور ایک آہنی دیوار پہاڑ بن کر کھڑی ہوگئی۔ بغوی نے لکھا ہے اس دیوار کی چوڑائی پچاس ہاتھ ‘ اونچائی سو ہاتھ اور لمبائی ایک فرسخ تھی۔ یہ تمام کام کاریگروں اور معماروں کا تھا ‘ لیکن ذوالقرنین کی تدبیر اور حکم سے ہوا اس لئے آیت میں دیوار تیار کرنے کی نسبت اس کی طرف کی گئی۔
Ayah 18:97

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں

فما اسطاعوا ان یظہروہ وما استطاعوا لہ نقبا۔ اس کے بعد یاجوج و ماجوج (دیوار اونچی اور چکنی ہونے کی وجہ سے) اس پر چڑھ نہ سکے اور نہ (سخت مضبوط آہنی ہونے کی وجہ سے) اس میں سوراخ کرسکے۔
Ayah 18:98

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے۔ جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کردے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے

قال ہذا رحمۃ من ربی ذوالقرنین نے کہا یہ (یعنی دیوار اور اس کو بنانے کی قدرت دینا) میرے رب کی (اپنے بندوں پر) رحمت ہے۔ فاذا جآء وعد ربی جعلہ دکآء پھر جب میرے رب کا وعدہ آجائے گا تو اس دیوار کو وہ زمین کے ساتھ ہموار کر دے گا۔ وعدۂ رب سے مراد ہے یاجوج و ماجوج کے خروج کا وقت یا قرب قیامت۔ دک مصدر ہے بمعنی مدکوک یعنی زمین پر پھیلا کر اس کو ہموار کر دے گا۔ وکان وعد ربی حقا۔ اور میرے رب کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ ذوالقرنین کے قصہ میں یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ ذوالقرنین ظلمات میں گھس گیا پھر لوٹ کر آیا تو شہر زور میں اس کی وفات ہوگئی۔ بعض کا قول ہے کہ ذوالقرنین کی عمر کچھ اوپر تیس برس کی ہوئی۔ بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ : کا مرفوع بیان نقل کیا ہے کہ یاجوج و ماجوج روز دیوار کو کاٹتے ہیں اور اتنا کھودتے ہیں کہ سورج کی کرنیں (دوسری طرف کی) چمکنے کے قریب ہوجاتی ہیں تو ان کا سردار کہتا ہے اب لوٹ چلو ‘ باقی کل کو کھود لیں گے لوگ چلے جاتے ہیں ‘ رات میں اللہ دیوار کو پھر حسب سابق کردیتا ہے دوسرے دن آکر وہ پھر کھودتے ہیں اور اتنا کھودتے ہیں کہ دوسری طرف کی روشنی نظر آنے کے قریب ہوجاتی ہے تو سردار روک دیتا ہے اور کہتا اب واپس چلو کل کو اس کی تکمیل کرلیں گے سب واپس چلے جاتے ہیں۔ اللہ رات میں پھر دیوار کو پہلے کی طرح کردیتا ہے روزانہ ایسا ہی کرتے ہیں جب مقررہ وقت آجائے گا اور حسب معمول دیوار کو کھود کر اتنا کردیں گے کہ ایک ورق رہ جائے گا ‘ قریب ہوگا کہ پار کی روشنی نظر آجائے اور سردار ان سے کہے گا اب واپس چلو کل کو انشاء اللہ ہم اس کو کھود دیں گے۔ انشاء اللہ کہنے کا یہ اثر ہوگا کہ واقعی دوسرے دن آکر دیکھیں گے کہ دیوار کو جس طرح (ورق کے برابر) چھوڑ کر گئے تھے ویسی ہی ہے ‘ پس بقیہ دیوار کو بھی کھود دیں گے اور پار نکل آئیں گے اور جہاں جہاں پانی ہوگا ان مقامات کی تلاش کر کے پہنچیں گے (سارے تالابوں ‘ چشموں ‘ کنوؤں اور جھیلوں دریاؤں کا پانی پی جائیں گے) لوگ ان کے خوف سے قلعہ بند ہو کر بیٹھ رہیں گے وہ آسمان کی طرف تیر چلائیں گے اور اللہ ان کے تیروں کو ایسا سرخ کر کے لوٹا دے گا جیسے وہ خون آلود ہوں (اور کسی شکار کے لگ کر واپس لوٹے ہوں) وہ خوش ہو کر کہیں گے ہم زمین والوں پر بھی غالب آگئے اور آسمان والوں پر بھی اس کے بعد اللہ ان کی گدیوں (گردنوں کے پچھلے حصہ) میں گلٹیاں ( یعنی وہ کیڑے جو اونٹ بکری وغیرہ کی ناک میں پیدا ہو کر باعث ہلاکت ہوتے ہیں اور انسان کی گردن بغل وغیرہ میں داخل ہو کر گلٹیوں اور سرطانی زخموں کی شکل میں برآمد ہوتے ہیں) برآمد کر دے گا ‘ سب مرجائیں گے۔ مسلم نے حضرت نواس بن سمعان کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بار صبح کے وقت دجال کا ذکر کیا (دوران ذکر میں) حضور ﷺ : کی آواز پست بھی ہوجاتی تھی اور اٹھ بھی جاتی تھی یہاں تک کہ ہم نے خیال کیا کہ دجال (یہیں) نخلستان میں موجود ہے۔ پھر (دوسرے وقت) جب ہم حضور ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ نے (خوف کا اثر ہمارے اندر پہچان لیا اور) فرمایا تم لوگوں کا کیا حال ہے ؟ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے دجال کا تذکرہ کیا تھا اور حضور ﷺ : کی آواز میں پستی بھی تھی اور بلندی بھی اس سے ہمارا خیال ہوا کہ کہیں (اس جگہ) نخلستان میں ہی ہے۔ فرمایا دجال کے علاوہ ایک اور چیز ہے جو تمہارے لئے زیادہ خوفناک ہے دجال تو میری زندگی میں اگر برآمد ہوگیا تو تمہاری طرف سے میں اس کا مقابلہ کرلوں گا اور میں نہ ہوا تو اس وقت ہر شخص خود اپنی طرف سے اس کا مقابلہ کرے گا اور اللہ میری طرف سے ہر مسلمان کا محافظ ہے۔ دجال ایک ژولیدہ نوجوان ہوگا اس کی ایک آنکھ پٹ ہوگی میرے نزدیک وہ عبدالعزیٰ بن قطن سے ملتا جلتا ہوگا جو شخص اس کو پائے تو سورة کہف کی ابتدائی آیات اس کے سامنے پڑھے ‘ وہ عراق اور شام کے درمیان برآمد ہوگا اور دائیں بائیں لوٹ اور تباہی مچائے گا ‘ اللہ کے بندو ! تم (ایمان پر) ثابت قدم رہنا۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کا قیام زمین پر کتنی مدت رہے گا ‘ فرمایا چالیس دن۔ جن میں ایک دن ایک سال کے برابر ہوگا۔ ایک دن ایک مہینے کے برابر ‘ ایک دن ایک ہفتہ کے برابر اور باقی ایام تمہارے دنوں کی طرح ہوں گے۔ ہم نے عرض کیا جو دن سال کے برابر ہوگا کیا اس میں ہمارے لئے صرف ایک دن کی نمازیں کافی ہوں گی ؟ فرمایا نہیں مقدار کا اندازہ کرلینا۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کی سرعت رفتار کی کیا حالت ہوگی فرمایا جیسے بادل جس کے پیچھے آندھی ہو۔ کچھ لوگوں کی طرف سے اس کا گزر ہوگا۔ ان کو وہ اپنے اوپر ایمان لانے کی دعوت دے گا وہ مان لیں گے۔ دجال آسمان کو حکم دے گا ان پر بارش ہوجائے ‘ فوراً بارش ہوجائے گی زمین کو حکم دے گا سبزہ پیدا کر ‘ فوراً زمین سرسبز ہوجائے گی ‘ ان کے اونٹ جنگل سے چر کر واپس لوٹیں گے تو ان کے کوہان خوب اونچے ‘ تھن خوب لمبے دودھ سے بھرے ہوئے اور کوکھیں (چارہ کھانے کی وجہ سے) پھولی ہوئی ہوں گی۔ اس کے بعد دجال کا گزر ایک اور قوم کی طرف ہوگا اور وہ ان کو دعوت دے گا وہ لوگ دجال کی دعوت کو رد کردیں گے ‘ جب دجال ان کے پاس سے لوٹے گا تو فوراً وہ سب قحط زدہ ہوجائیں گے ‘ کوئی چیز ان کے مال میں سے باقی نہیں رہے گی دجال ویرانے کی طرف سے گزرے گا اور حکم دے گا اپنے دفینے برآمد کر دے ‘ فوراً ویرانے سے دفینے نکل کر شہد کی مکھیوں کی طرح اس کے پیچھے پیچھے ہوجائیں گے۔ پھر دجال ایک شخص کو طلب کرے گا جو جوانی سے بھرپور ہوگا اور تلوار سے اس کے دو ٹکڑے کر کے علیحدہ علیحدہ دو طرف کو رسائی تیر کے فاصلے پر رکھ دے گا اور (اس شخص کو) آواز دے گا (دونوں ٹکڑے جڑ کر) وہ شخص زندہ ہوجائے گا اور ہنستا کھلکھلاتا چلا آئے گا ‘ دجال اسی حال میں ہوگا کہ اللہ عیسیٰ بن مریم کو بھیج دے گا آپ دمشق کے مشرقی جانب سفید میناروں کے پاس (یا منارے پر) دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے اتریں گے ‘ سر جھکائیں گے تب اور سر اٹھائیں گے تب پسینے کے قطرے چاندی کے موتیوں کی طرح آپ کے چہرے سے لڑھک کر گریں گے آپ کے سانس کی خوشبو وہاں تک پہنچی گی جہاں آپ کی نگاہ پہنچے گی۔ حضرت عیسیٰ دجال کی تلاش کریں گے اور لد (ایک بستی کا نام جو فلسطین میں ہے) کے پاس پہنچ کر دجال کو قتل کریں گے اس کے بعد آپ ان لوگوں کے پاس پہنچیں گے جن کو اللہ نے دجال کے شر سے محفوظ رکھا ہوگا ان کے چہروں سے غبار صاف کریں گے اور جنت میں ان کے درجات جو اللہ نے مقرر فرمائے ہیں اس کی بشارت دیں گے اسی دوران میں حضرت عیسیٰ کے پاس وحی آئے گی کہ میں (سد ذوالقرنین سے) اپنے ان بندوں کو نکال کرلے آیا ہوں جن سے لڑنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے (یعنی سد ٹوٹ گیا اور یاجوج و ماجوج اندر آگئے ہیں) آپ میرے بندوں کو کوہ طور پر لے جا کر حصار بند ہوجائیں حضرت عیسیٰ حکم کی تعمیل کریں گے یاجوج و ماجوج آجائیں گے ہر ٹیلہ کی آڑ سے نکل کر پھیل پڑیں گے ان کا اگلا گروہ بحیرۂ طبریہ (بحیرۂ مردار) پر پہنچ کر تمام پانی پی جائے گا ‘ پچھلا گروہ جب بحیرۂ طبریہ پر پہنچے گا تو وہ کہے گا یہاں کبھی پانی ضرور تھا (یعنی صرف نمی کو دیکھ کر ان کی یہ رائے ہوگی کہ یہاں کبھی پانی ضرور تھا) حضرت عیسیٰ اپنے ساتھیوں کو لئے حصار بند رہیں گے (اور پہاڑ پر اتنی غذائی قلت ہوجائے گی کہ) جتنی سو دینار کی تم لوگوں کی نظر میں آج قیمت تھی اس سے زیادہ اس زمانہ میں گائے بیل کی ایک سری کی ان کی نظر میں قدر ہوگی حضرت عیسیٰ اور آپ کے ساتھی اللہ سے دعا کرتے رہیں گے آخر اللہ یاجوج و ماجوج کی گردنوں میں جراثیمی پھنساں پیدا کر دے گا جن کی وجہ سے وہ سب کے سب (یکدم) ایک آدمی کی طرح مرجائیں گے حضرت عیسیٰ ساتھیوں کو لے کر پہاڑ سے نیچے اتریں گے لیکن ان کو زمین پر ایک بالشت جگہ بھی ایسی نہیں ملے گی جس میں (یا جوج و ماجوج کی لاشوں کی) عفونت اور سڑاند پھیلی ہوئی نہ ہو آپ اور آپ کے ساتھی دعا کریں گے اللہ ایسے پرندے بھیج دے گا جو بختی اونٹوں کی گردنوں جیسے ہوں گے یہ پرندے تمام لاشوں کو اٹھا کر وہاں پھینک دیں گے جہاں اللہ کی مرضی ہوگی پھر بحکم خدا ایک عظیم بارش ہوگی جو ہر گھر میں پہنچے گی ڈیرہ خیمہ ہو یا مٹی کا بنا ہوا مکان بارش کو کوئی آڑ روک نہ سکے گی بارش سے ساری زمین دھل کر صاف چکنی ہوجائے گی پھر اللہ کے حکم سے زمین میں غلہ اور پھلوں کی خوب پیداوار ہوگی اور حاصل ارضی میں بڑی برکت ہوگی اور یہ حالت ہوجائے گی کہ ایک انار ایک گروہ کے کھانے کے لئے کافی ہوگا اور اس کا چھلکا ایک جماعت کے لئے سائبان کا کام دے گا دودھ میں بھی بڑی برکت ہوگی ایک اونٹنی کا دودھ ‘ ڈھیروں آدمیوں کے لئے کافی ہوگا اور ایک گائے کا دودھ پورے قبیلہ کو اور ایک بکری کا دودھ قبیلہ کی ایک شاخ کے لئے کفایت کرے گا ‘ اسی حالت میں اللہ ایک خوشگوار ‘ خوشبودار ہوا چلا دے گا اور یہ ہوا ہر شخص کے بغل کے نیچے (یعنی پہلو پر) لگے گی جو مؤمن اور مسلم ہوگا اس کی روح ہوا کا جھونکا لگتے ہی پرواز کر جائے گی اور صرف برے لوگ زمین پر رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح لڑتے رہیں گے انہی پر قیامت برپا ہوگی۔ مسلم کی دوسری روایت میں اتنا اور آیا ہے کہ طبریہ جھیل پر پہنچ کر پچھلا گروہ کہے گا یہاں کبھی پانی تھا ‘ اس کے بعد یاجوج و ماجوج کوہ خمر پر پہنچیں گے ‘ کوہ خمر بیت المقدس کے ایک پہاڑ کا نام ہے وہاں پہنچ کر کہیں گے ہم نے زمین والوں کو تو قتل کردیا آؤ اب آسمان والوں کو قتل کریں یہ کہہ کر آسمان کی طرف چھوٹے تیر پھینکیں گے اللہ ان کے تیروں کو خون سے رنگین کر کے لوٹا دے گا (تیروں کو خون سے رنگا ہوا دیکھ کر وہ خوش ہوجائیں گے) ترمذی کی روایت میں ہے کہ پرندے ان کی لاشوں کو اٹھا کر گڑھوں اور غاروں میں پھینک دیں گے اور مسلمان ان کے تیروں کمانوں اور ترکشوں کو سات برس تک ایندھن کے طور پر جلائیں گے۔ بغوی نے یہ حدیث نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ وہب نے بیان کیا پھر یاجوج و ماجوج سمندر پر پہنچ کر اس کا پانی پی جائیں گے اور سارے سمندری چوپائے اور جانور کھا جائیں گے یہاں تک کہ لکڑیاں اور درخت بھی اور جو آدمی ان کے پنجے میں آجائے گا اس کو بھی کھا جائیں گے لیکن مکہ ‘ مدینہ اور بیت المقدس میں نہیں پہنچ سکیں گے ‘ بخاری نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یاجوج و ماجوج کے بعد کعبہ کا حج اور عمرہ کیا جائے گا۔
Ayah 18:99

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

(اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے

وترکنا بعضہم یومئذ یموج فی بعض اور ہم اس روز ان کی یہ حالت کریں گے کہ ایک میں ایک گڈمڈ ہو جائیں گے۔ بعض علماء نے کہا یہ واقعہ اس وقت ہوگا جب یاجوج وماجوج سد کو توڑ چکے ہوں گے ‘ یعنی دیوار توڑ کر یاجوج و ماجوج پانی کی طرح لہریں مارتے داخل ہوں گے کثرت اور ریل پیل کی وجہ سے ہر ایک دوسرے سے آگے بڑھنا چاہے گا اور آپس میں گڈمڈ ہوجائیں گے ‘ بعض کا قول ہے کہ ایسا واقعہ اس وقت ہوگا کہ قیامت بپا ہوجائے گی اور لوگ قبروں سے باہر آجائیں گے اور جنات بھی انسانوں کے ساتھ گڈمڈ ہوجائیں گے اور سب حیرت میں ڈوبے ہوئے ہوں گے۔ اس تفسیر کی تائید آئندہ آیت سے ہو رہی ہے۔ ونفخ فی الصور اور (قبروں سے مردوں کو زندہ کر کے اٹھانے کے لئے) صور پھونکا جائے گا۔ یہ وقت قیامت برپا ہونے کا ہوگا۔ فجمعنہم جمعا۔ اور (حساب و سزا و جزا کے لئے) ہم سب مخلوق کو (ایک ہموار میدان میں) جمع کریں۔ گے
Ayah 18:100

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور اُس روز جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے

وعرضنا جہنم یومئذ للکفرین عرضا اور اس روز جہنم کو ہم کافروں کے بالکل سامنے لے آئیں گے کہ وہ اپنی آنکھوں سے اس کا مشاہدہ کرلیں۔
Ayah 18:101

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے

الذین کانت اعینہم فی غطآء عن ذکری جن کی آنکھوں پر میری یاد کی طرف سے پردہ پڑا ہوا تھا۔ غطآء کسی چیز کو چھپانے والا پردہ۔ ذکر سے مراد ہے ان دلائل وبراہین کو دیکھنا جن سے اللہ کی ذات وصفات کا ثبوت ہو رہا ہے (یعنی ان کی آنکھوں پر غفلت اور ضد اور جہالت کے پردے پڑے ہوئے تھے ان کو اللہ کی ذات وصفات کی توحید و عظمت دکھائی نہیں دیتی تھی) ۔ وکانوا لا یستطعیون سمعا۔ اور (ان کے کانوں میں ڈاٹیں تھیں) وہ سن نہیں سکتے تھے یعنی میری توحید الوہیت اور ربوبیت کو یاد دلانے والے دلائل اور میرے کلام اور ہدایت آفریں بات کو سن بھی نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ اللہ نے ان کے لئے شقاوت لکھ دی تھی اور رسول اللہ ﷺ : کی اور آپ کے ساتھیوں کی دشمنی اور عناد و ضد کو ان کے دلوں میں ڈال دیا تھا۔ کافروں کا مبدء تعین اللہ کا اسم مضل تھا (یعنی اسم مضل کا پر تو ان پر پڑا تھا پس تخلیقاً وہ مظہر ضلالت تھے اس لئے ان کا ہدایت یاب ہونا ناممکن تھا مکمل تشریح ہم کئی مقامات پر کرچکے تعین خلق کے مبادی صفات الٰہیہ ہیں ‘ صفاتِ الٰہیہ کا پر تو مخلوق پر پڑا ہے جس کی وجہ سے کوئی ہدایت یافتہ اور کوئی گمراہ ہوگیا ‘ یہ تفصیل کئی جگہ کردی گئی ہے)
Ayah 18:102

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کارساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے

افحسب الذین کفروا ان یتخذوا عبادی من دونی اولیآء سو کیا پھر بھی ان کافروں کا خیال ہے کہ مجھ کو چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز (یعنی معبود و حاجت روا) قرار دیں۔ عِبَادِیْسے مراد ہیں فرشتے ‘ مسیح ( علیہ السلام) ‘ عزیر ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ شیطان مراد ہیں جن کی اطاعت اللہ کے سوا کفار کرتے ہیں مقاتل کے نزدیک بت مراد ہیں بتوں کو اس جگہ اصنام کہا گیا ہے اسی طرح جس طرح آیت اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ عِبَادٌا اَمْثَالَکُمْمیں بتوں کو اصنام کہا گیا ہے۔ اَوْلِیَآء یعنی کارساز رب یا سفارشی ‘ شفاعت کرنے والے۔ استفہام انکاری ہے یعنی کافر جیسا خیال کرتے ہیں واقعہ ایسا نہیں ہے ان کے معبود ان کے دشمن ہیں قیامت کے دن ان سے بیزاری کا اظہار کریں گے ‘ نیک بندے تو کافروں کے دشمن ہی ہیں اس میں کوئی شبہ ہی نہیں ہے۔ رہے شیاطین اور بت تو یہ بھی قیامت کے دن باہم تکفیر کریں گے ایک دوسرے پر لعنت بھیجے گا اور اپنے پرستاروں سے سب اظہار نفرت و براءت کریں گے۔ انا اعتدنا جہنم للکفرین نزلا۔ ہم نے تو ان کافروں کی دعوت کے لئے دوزخ کو تیار کر رکھا ہے۔ نُزُلمقام نزول یا طعام مہمانی۔ آیت میں کافروں کے لئے استہزاء کے طور پر جہنم کو طعام ضیافت قرار دیا گیا ہے۔
Ayah 18:103

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہم تمہیں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں

قل ہل ننبئکم بالاخسرین اعمالا۔ آپ کہہ دیجئے کیا ہم تم کو بتائیں کہ اعمال کے لحاظ سے سب سے زیادہ گھاٹے میں کون لوگ ہوں گے۔
Ayah 18:104

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی۔ اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں

الذین ضل سعینہم فی الحیوۃ الدنیا وہم یحسبون انہم یحسنون صنعا۔ سب سے زیادہ خسارے میں وہ لوگ ہوں گے کہ دنیوی زندگی میں کی ہوئی ان کی ساری کوششیں اکارت (اور رائیگاں) جائیں گی اور وہ یہی سمجھتے رہتے ہیں کہ ہم اچھے کام کر رہے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاص نے فرمایا آیت میں سب سے زیادہ خسارہ پانے والوں سے مراد ہیں عیسائی اور یہودی جو اپنے گروہ کو حق پر سمجھتے ہیں حالانکہ ان کی شریعت منسوخ ہوچکی بعض کے نزدیک وہ تارک الدنیا خانقاہ نشین راہب مراد ہیں جو اپنے خیال میں آخرت کے طالب اور لذائذ دنیا سے روگرداں ہیں حالانکہ وہ شریعت اسلامیہ کے منکر ہیں ان کی یہ ساری کوششیں سراب اور ناکارہ ثابت ہوں گی۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا حروراء والے (یعنی خارجی) مراد ہیں خارجیوں کا فرقہ ہی سب سے پہلا گروہ تھا جس نے صحابہ کرام ؓ اور صحابہ کے رفقاء کے خلاف بغاوت کی اور بغاوت کو حق سمجھا۔ حضرت علی کے اس کلام کا مقصد یہ ہے کہ آیت میں بدعتی اور نفسانی میلانات کے پرستار مراد ہیں (جن کے سرگروہ اور مؤسس خارجی تھے) پس معتزلہ روافض اور اہل سنت کے تمام مخالف اسی حکم میں داخل ہیں۔ میں کہتا ہوں آیت کا کھلا ہوا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ آیت میں کفار مراد ہیں جو قیامت قائم ہونے اور دوسری جسمانی زندگی پانے کے منکر تھے اور دنیوی فائدہ ہی ان کا مقصود زندگی تھا اس زندگی کے منافع جن طریقوں سے وابستہ ان کو نظر آتے تھے انہی راستوں پر چلتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ اس دنیا کے سوا کوئی اور زندگی نہیں اگر کوئی شخص آخرت کی تمنا میں ایسے کام کرتا ہے جن سے دنیوی منافع میں نقصان ہوتا ہے تو ایسا آدمی بیوقوف ہے۔
Ayah 18:105

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لئے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے

اولئک الذین کفروا بایت ربہم ولقآۂ یہ ہی ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رب کی آیات اور اللہ سے ملنے کا انکار کیا یعنی مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کے منکر ہوئے۔ آیت میں (درپردہ) ان لوگوں پر بھی تشنیع ہے جو قیامت اور حشر و نشر کے تو قائل ہیں ‘ لیکن اعمال دنیوی کو اعمال اخروی پر ترجیح دیتے ہیں ہمیشہ ساری زندگی دنیا کو سنبھالنے اور سنوارنے میں لگائے رکھتے ہیں آخرت کا ان کو تصور بھی نہیں ہوتا۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ہوشیار وہ آدمی ہے جس نے اپنے نفس کو اپنے حکم کا تابع رکھا اور مرنے کے بعد (والی زندگی) کے لئے کام کئے اور بےعقل وہ آدمی ہے جو نفس کا پیرو رہا اور اللہ پر اس نے (جھوٹی) آرزوبندی کی (یعنی اللہ کی قہاریت اور عذاب دینے کی طرف سے غافل رہا اور جو دل چاہا وہ کیا اور یہ خیال کرلیا کہ اللہ رحیم ہے کریم ہے وہ یقیناً معاف کر ہی دے گا) رواہ احمد والترمذی وابن ماجۃ والحاکم بسند صحیح عن انس ؓ ۔ اگر آیت میں یہودی اور عیسائی مراد ہوں تو آیات رب اور ملاقات رب کے انکار کا یہ مطلب ہوگا کہ (اگرچہ یہ لوگ قیامت کا اقرار کرتے ہیں مگر) قیامت کی جو واقعی تشریح ہے اس کے منکر ہیں یا (اپنے گروہ کے لئے) عذاب پانے کے منکر ہیں۔ فحبطت اعمالہم فلا نقیم لہم یوم القیمۃ وزنا۔ سو اس لئے ان کے سارے اعمال غارت ہو گئے قیامت کے روز ہم ان کے نیک اعمال کا ذرا بھی وزن قائم نہیں کریں گے۔ اَعْمَالُہُمْیعنی وہ کام جو دنیا کمانے کے لئے انہوں نے کئے تھے یا وہ اعمال جو اخروی ثواب کی خاطر انہوں نے کئے تھے ‘ لیکن ثواب سے محروم رہیں گے ‘ کیونکہ نیک اعمال قبول ہونے کی بنیادی شرط ایمان ہے اور وہ کافر تھے ‘ وزن قائم نہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے ہاں ان کی کوئی قدر نہ ہوگی۔ اللہ ان کے ان اعمال کا اعتبار نہیں کرے گا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (قیامت کے دن) بعض بڑے موٹے آدمی ایسے آئیں گے کہ مچھر کے پر کی برابر بھی اللہ کے نزدیک ان کا وزن نہ ہوگا (اس کی تصدیق کے لئے) پڑھو ‘ فَلاَ نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا۔ رواہ البخاری ومسلم فی الصحیحین۔ ابو نعیم اور اجری نے اس آیت کی تشریح میں حضرت ابوہریرہ ؓ : کی یہ روایت نقل کی ہے بعض طاقت ور ‘ مضبوط ‘ پُر خور آدمیوں کو (قیامت کے دن میزان (کے پلڑہ) میں رکھا جائے گا۔ لیکن اس کا وزن جو برابر بھی نہ ہوگا ‘ فرشتہ ایسے ستّر ہزار آدمیوں کو ایک ہی دھکا دے کر پھینک دے گا۔ یا آیت کا یہ مطلب ہے کہ ایسے لوگوں کے اعمال تولنے کے لئے میزان قائم ہی نہیں کی جائے گی ‘ ان کے اعمال کی وزن کشی ہی نہیں ہوگی بلکہ بغیر وزن کئے ان کو دوزخ میں پھینک دیا جائے گا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ جن اعمال کو وہ نیکیاں خیال کرتے ہیں میزان عدل میں ان اعمال کا کوئی وزن نہ ہوگا۔ بغوی نے ابو سعید خدری کا قول نقل کیا ہے کہ قیامت کے دن لوگ اپنے اعمال لے کر آئیں گے جو ان کی نظر میں اتنے بڑے ہوں گے جیسے تہامہ کے پہاڑ ‘ لیکن تولنے کے بعد ان کا کوئی وزن ہی نہ ہوگا یہی مطلب ہے آیت فلاَ نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًاکا۔ سیوطی نے لکھا ہے کیا اعمال کی وزن کشی صرف اہل ایمان کے لئے ہوگی اور کافروں کے اعمال تولے ہی نہ جائیں گے ‘ یا کافروں کے اعمال کی ہی وزن کشی ہوگی یہ مختلف فیہ مسئلہ ہے۔ کچھ علماء اوّل قول کے قائل ہیں اور کچھ علماء وزن کشی کے عموم کے قائل ہیں اوّل گروہ اپنے قول کی تائید میں آیت فلاَ نُقِیْمُ لَہُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وَزْنًا کو پیش کرتا ہے۔ دوسرا گروہ اس کے جواب میں کہتا ہے کہ آیت کا مقصد یہ نہیں کہ ان کے اعمال تولے نہیں جائیں گے بلکہ مجازی معنی مراد ہے یعنی ان کے اعمال قابل اعتبار نہ ہوں گے ‘ کیونکہ دوسری آیت میں آیا ہے وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِنْیُہٗ فَاُولٰءِکَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْا اَنْفُسَہُمْ فِیْ جَہَنَّمَ خٰلِدُوْنَ ۔۔ فَکْنُتُمْ بِہَا تُکَذِّبُوْنَتک۔ سیوطی نے قرطبی کا قول نقل کیا ہے کہ ہر شخص کے اعمال کا زن ہونا ضروری نہیں (نہ ہر مؤمن کے اعمال کا نہ ہر کافر کے اعمال کا) جو لوگ بلاحساب کے جنت میں چلے جائیں گے ان کے اعمال کا وزن بھی نہ ہوگا (جب حساب ہی نہیں تو وزن کیسا) اسی طرح کچھ لوگ بلا حساب دوزخ میں بھیج دیئے جائیں گے ان کے اعمال کا بھی وزن نہ ہوگا ‘ انہی کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمَاہُمْ ۔۔ علامہ سیوطی نے فرمایا قرطبی کا یہ قول جامع ہے اور دونوں آیات میں تضاد کو دور کرتا ہے ‘ جس فریق کو فوراً جہنم میں بھیج دیا جائے گا اس کے اعمال کا وزن بھی نہ ہوگا ‘ باقی کافروں کے اعمال تولنے کے لئے میزان قائم کی جائے گی۔ حضرت مفسر نے فرمایا میں کہتا ہوں شاید جن کافروں کا آیت مذکورہ میں ذکر کیا گیا ہے ان سے مراد منافق اور اہل کتاب ہوں۔ منافق تو قیامت کے دن (شروع میں چھٹائی سے پہلے) مسلمانوں کے گروہ میں شامل رہیں گے اور اہل کتاب کسی دوسرے معبود کی طرف مشرکوں کی طرح نہیں جائیں گے ‘ ہر مشرک اس معبود کے پیچھے چلا جائے گا جس کی وہ پوجا کرتا ہے مگر اہل کتاب میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
Ayah 18:106

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

یہ ان کی سزا ہے (یعنی) جہنم۔ اس لئے کہ انہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور ہمارے پیغمبروں کی ہنسی اُڑائی

ذلک جزآؤہم بما کفروا واتخذوا ایتی و رسلی ہزوا۔ (بلکہ) ان کی سزا وہی ہوگی یعنی دوزخ اس سبب سے کہ انہوں نے کفر کیا تھا اور میری آیتوں اور پیغمبروں کا مذاق بنایا تھا۔ ذٰلِکَیعنی بات یہی ہے۔ بِمَا کَفَرُوْا میں ما مصدری ہے اور با سببی یعنی کفر کرنے اور میرے احکام اور میرے پیغمبروں کا مذاق بنانے کے سبب ان کی سزا جہنم ہوگی۔ ہُزُوًا وہ چیز یا شخص جس کا مذاق بنایا جائے۔
Ayah 18:107

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کئے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے

ان الذین امنوا وعملوا الصلحت کانت لہم جنت الفردوس نزلا۔ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے ان کی مہمانی کے لئے فردوس کے باغ ہوں گے۔ کانت لَہُمْیعنی اللہ کے سابق حکم اور وعدہ میں جنات فردوس نیکو کار مؤمنوں کا مسکن ہے ‘ حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم اللہ سے مانگا کرو تو فردوس ملنے کی دعا کیا کرو کیونکہ وہ جنت کے وسط میں ہے اور دوسری جنتوں سے اعلیٰ ہے اس کے اوپر رحمن کا عرش ہے اور اسی سے جنت کی نہریں نکلتی ہیں ‘ متفق علیہ۔ ترمذی اور حاکم نے حضرت عبادہ بن صامت کی روایت سے اور بیہقی نے حضرت معاذ بن جبل کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کے سو درجات ہیں ہر دو درجوں کے درمیان فاصلہ اتنا ہے جتنا آسمان و زمین کے درمیان ‘ فردوس جنت کا سب سے اونچا درجہ ہے اسی سے جنت کی چاروں نہریں نکلتی ہیں اس سے اوپر عرش ہے جب اللہ سے تم (جنت ملنے کی) دعا کیا کرو تو فردوس کی دعا کیا کرو۔ بزار نے حضرت عرباض بن ساریہ کے حوالہ سے اور طبرانی نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب اللہ سے تم دعا کرو تو (جنت) فردوس مانگا کرو وہ دوسری ساری جنتوں سے اونچی ہے۔ حضرت ابو امامہ کی روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ فردوس والے عرش کی چرچراہٹ سنتے ہیں (یعنی فردوس اور عرش کے درمیان کوئی دوسری جنت حائل نہیں ہے) بغوی نے حضرت کعب کا قول نقل کیا ہے کہ جنتوں میں فردوس سے اونچی کوئی جنت نہیں ہے بھلائی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے اسی میں داخل ہوں گے۔ مقاتل نے کہا فردوس جنت کا ٹیلہ (یعنی سب سے بلند) سب سے اعلیٰ سب سے افضل اور سب سے زیادہ پُر نعمت ہے امام احمد ‘ طیالسی اور بیہقی نے حضرت ابو موسیٰ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فردوس کی چار جنتیں ہیں دو سونے کی جن کی آرائش کی چیزیں اور مکان اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں۔ الخ۔ میں کہتا ہوں اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر جنت کا نام فردوس ہے لیکن صحیح اوّل قول ہے (کہ فردوس ایک خاص جنت کا نام ہے) اور اس حدیث میں راوی سے کچھ سہو ہوگیا ہے (اس لئے ناقابل اعتبار ہے) یا فردوس سے اس کا لغوی معنی مراد ہے کعب نے کہا فردوس لغت میں انگوروں کے باغ کو کہتے ہیں عکرمہ نے کہا حبشی زبان میں فردوس گھنے باغ کو کہا جاتا ہے زجاج نے کہا یہ لفظ رومی ہے منقول ہو کر عربی میں استعمال کیا جانے لگا ہے۔ ضحاک نے کہا فردوس اس گھنے باغ کو کہتے ہیں جس کے درخت باہم گتھے ہوئے ہوں۔ بعض علماء نے کہا ہر پسندیدہ خوبصورت باغ کو فردوس کہا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک فردوس ایسے باغ کو کہتے ہیں جس میں طرح طرح کا سبزہ اگا ہوا ہو ‘ فردوس کی جمع فرادیس آتی ہے۔ فردوس کے یہ تمام لغوی معنی ہیں جو حدیث مذکور میں مراد ہیں رہا علمی اور معین اسمی معنی تو وہی ہے جو اوّل الذکر حدیث اور آیت میں مراد ہے یعنی فردوس ایک ایسی جنت کا نام ہے جو سب سے اونچی اور افضل ہے۔ اگر آیت میں فردوس کا لغوی معنی مراد ہو تو نیکوکار اہل ایمان سے بھی عام اہل ایمان مراد ہوں گے اور اگر فردوس سے مراد کوئی مخصوص جنت ہو تو اہل ایمان سے مراد کامل حقیقی ایماندار ہوں گے۔ بیہقی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ نے اپنے ہاتھ سے فردوس کو پیدا کیا اور مشرک نیز دوامی عادی شراب خور کے لئے اس کو ممنوع کردیا۔ ابن ابی الدنیا نے صفت الجنۃ میں حضرت عبداللہ بن حارث بن نوفل کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے تین چیزیں انپے دست (خاص) سے بنائیں آدم کو اپنے ہاتھ سے بنایا توریت کو اپنے ہاتھ سے لکھا اور فردوس کو اپنے ہاتھ سے لگایا اور فرمایا قسم ہے اپنی عزت و جلال کی ‘ اس کے اندر نہ کوئی دوامی خوگر شراب داخل ہوگا نہ دیوث (بھاڑو) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ دیوث کا کیا مطلب فرمایا وہ شخص جو اپنی بیوی کے اندر برے کام (یعنی زنا) کو ٹھہرائے (یعنی بیوی کی بھاڑ کھائے)
Ayah 18:108

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

ہمیشہ ان میں رہیں گے اور وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے

خلدین فیہا لا یبغون عنہا حولا۔ وہ جنات الفردوس میں ہمیشہ رہیں گے اس سے ہٹنا نہ چاہیں گے۔ کیونکہ جنت سے زیادہ نفیس اعلیٰ عمدہ کوئی چیز ہی نہیں ہوگی کہ وہ جنت کو چھوڑ کر اس کی طرف راغب ہوں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ لایبغون سے خالدین کی صرف تائید مقصود ہو۔ حاکم وغیرہ نے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ قریش نے یہودیوں سے (مدینہ میں جا کر) کہا ہم کو کچھ ایسے سوال بتاؤ کہ ہم جا کر اس شخص سے یعنی رسول اللہ ﷺ سے بطور امتحان دریافت کریں ‘ یہودیوں نے کہا آپ لوگ اس شخص سے روح کے متعلق دریافت کریں۔ قریش نے آکر رسول اللہ ﷺ سے روح کے متعلق سوال کیا اس پر آیت یَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ قُلِ الرُّوْح مِنْ اَمْرِ رَبِّی وَمَا اُوتِیْتُمْ مِنَ العلْم الاَّ قَلِیْلاً نازل ہوئی ‘ یہودی کہنے لگے ہم کو تو علم کثیر حاصل ہے ہم کو تو ریت دی گئی ہے اور جس کو توریت دی گئی اس کو خیر کثیر مل گئی ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 18:109

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے) لئے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائے اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لائیں

قل لو کان البحر مدادا لکلمت ربی لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی ولو جئنا بمثلہ مددا۔ آپ کہہ دیجئے کہ سمندر (کا سارا پانی) اگر میرے رب کے (علم و حکمت کے) کلمات لکھنے) کے لئے روشنائی ہو جائے (اور کلمات رب قلم سے لکھے جائیں) تو کلمات رب کے ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجائے گا (کیونکہ سمندر کا پانی متناہی ہے اس کی مقدار محدود ہے اور کلمات رب نا متناہی اور غیر محدود ہیں) خواہ ہم اس موجود سمندر کی طرح اتنی ہی اس میں زیادتی بھی کردیں۔ کیونکہ متناہی کا مجموعہ متناہی ہوتا ہے سمندر متناہی ہے اگر اتنا ہی بڑا ایک اور سمندر اس کے ساتھ ملا دیا جائے اور تمام پانی روشنائی بن جائے تو وہ مجموعہ بھی متناہی ہوگا۔ بلکہ عالم امکان میں جو چیز موجود ہے یا موجود ہونے والی ہے جب وہ موجود ہوگی تو متناہی ہوگی ‘ غیر متناہی مقدار کا وجود ہی محال ہے۔ مِدَادًاوہ چیز جس سے دوسری چیز کو مدد پہنچائی جائے جیسے دوات کے لئے روشنائی چراغ کے لئے تیل۔ اصل لغت کے لحاظ سے مدد کا معنی ہے زیادتی اور کسی چیز کا تواتر۔ میں کہتا ہوں سات سمندر اور اتنے ہی اور اگر روشنائی بن جائیں اور قلم کے ذریعہ سے اس روشنائی سے اللہ کے کلمات لکھے جائیں تو ناممکن ہے کہ کلمات کے ایک حصہ کے بھی تمام گزشتہ احوال لکھے جاسکیں۔ (کیونکہ جانب ماضی میں ہر حصہ کے احوال انگنت اور نامحدود ہیں) متناہی غیر متناہی کا احاطہ کیسے کرسکتا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہودیوں نے کہا تھا آپ کا خیال ہے کہ ہم کو حکمت عطا کی گئی ہے اور آپ ہی کی کتاب میں یہ بھی ہے کہ جس کو حکمت دی گئی اس کو خیر کثیر عطا کردی گئی پھر اب یہ اختلاف کیسا ہے اس شبہ کو دور کرنے کے لئے اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کی بھیجی ہوئی کتاب کے علم میں یقیناً خیر کثیر ہے درستی معاش و معاد کی اس کے اندر ہے لیکن کلمات خداوندی کے سمندر تو اتھاہ اور ناپیدا کنار ہیں ان کے مقابلہ میں تو یہ سارا علم ایک قطرہ ہے۔