18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 18:29

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْ١ۙ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًا١ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا١ؕ وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَ١ؕ بِئْسَ الشَّرَابُ١ؕ وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا Open ayah 18:29 in the Quran reader

اور کہہ دو کہ (لوگو) یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے برحق ہے تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کافر رہے۔ ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قناتیں ان کو گھیر رہی ہوں گی۔ اور اگر فریاد کریں گے تو ایسے کھولتے ہوئے پانی سے ان کی دادرسی کی جائے گی (جو) پگھلے ہوئے تانبے کی طرح (گرم ہوگا اور جو) مونہوں کو بھون ڈالے گا (ان کے پینے کا) پانی بھی برا اور آرام گاہ بھی بری

وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ : (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیں حق (وہ ہے جو) تمہارے رب کی طرف سے ہے۔ یعنی حق وہ ہے جس کو اللہ نے حق قرار دیا ہو۔ اقتضاء خواہشات حق نہیں ہے ‘ یا یہ مطلب ہے کہ یہ یعنی قرآن یا اسلام حق ہے جو اللہ کی طرف سے آیا ہے۔ فَمَنْ شَاۗءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَاۗءَ فَلْيَكْفُرْ : اب جو (ایمان لانا) چاہے ایمان لے آئے اور جو (کافر رہنا) چاہے وہ کافر رہے۔ یہ کلام وعید آگیں ہے ایمان و کفر دونوں کو اختیار دیا گیا ہے جو اپنے اندر ایک خاص تہدید رکھتا ہے۔ گویا عیینہ کی درخواست کا جواب ہے۔ عیینہ نے کہا تھا ان لوگوں (کے لباس اور بدن) کی بدبو سے کیا آپ کو تکلیف نہیں ہوتی ہم قبیلۂ مضر کے شرفاء اور سردار لوگ ہیں ہم ان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتے ‘ اگر ہم مان لیں گے تو سارے لوگ ایمان لے آئیں گے ‘ مناسب یہ ہے کہ ان لوگوں کو اپنے پاس سے ہٹا دیجئے تاکہ ہم (آپ کے پاس بیٹھ سکیں اور آپ کی بات سنیں اور) آپ پر ایمان لے آئیں ‘ اللہ نے اس کے جواب میں غریب مسلمانوں کے ساتھ بیٹھنے اور ان کو پاس بٹھانے کی رسول اللہ : ﷺ کو ہدایت فرمائی اور انپی مجلس سے ان کو نکال دینے کی ممانعت کردی اور صاف صراحت کردی کہ حق رب کی طرف آگیا ہے ‘ ماننا چاہو اس کو مانو نہ ماننا چاہو نہ مانو اللہ کو کسی کے ماننے نہ ماننے کی پروا نہیں ‘ ہر شخص کا اپنا نفع و نقصان ہے جو مان لے گا اسی کو ایمان کا فائدہ پہنچے گا نہ مانے گا تو کفر کی مضرت اسی پر پڑے گی۔ اِنَّآ اَعْتَدْنَا للظّٰلِمِيْنَ نَارًا ۙ اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَا : اور ظالموں یعنی کافروں کے لئے ہم نے آگ تیار کر رکھی ہے جس کی قاناتیں ان کو گھیر لیں گی۔ متعدد چھوٹے ڈیروں اور خیموں کے گرداگرد جو احاطہ باڑھ کی طرح کھینچ دیا جاتا ہے اس کو سرادق کہتے ہیں۔ صاحب نہایہ نے لکھا ہے دیوار ہو یا خیمہ یا کچھ اور چیز بہرحال جو (باڑہ کی طرح) کسی چیز کو گھیرے ہوئے ہو وہ سرادق ہے۔ سرادق معرب لفظ ہے اور مفرد ہے۔ معرب قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ عربی زبان میں کوئی مفرد لفظ ایسا نہیں جس کے ابتدائی دو حرفوں کے بعد تیسرا حرف الف ہو اور الف کے بعد دو حرف اور ہوں۔ بعض کے نزدیک سرادق ‘ سردق کی جمع ہے۔ امام احمد ‘ ترمذی اور حاکم نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ رسول اللہ : ﷺ نے فرمایا سرادق النار (دوزخ کی قناتیں) چار دیواریں ہوں گی (ایک کے بعد دوسری ‘ دوسری کے بعد تیسری ‘ تیسری کے بعد چوتھی) ہر دیوار کی موٹائی چالیس سال کی (راہ کے برابر) ہوگی۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ سرادق النار آگ کی دیوار ہوگی۔ (جو محیط ہوگی) کلبی نے کہا آگ کی لپٹ ہوگی جو کافروں کو (ہر طرف سے) باڑہ کی طرح گھیرے ہوگی۔ بعض علماء نے کہا ایک دھواں ہوگا جو کافروں کو محیط ہوگا۔ اللہ نے اسی کا ذکر آیت (انطلقوا الی ظل ذی ثلث شعب) میں کیا ہے۔ وَاِنْ يَّسْتَغِيْثُوْا يُغَاثُوْا بِمَاۗءٍ كَالْمُهْلِ اور اگر (شدت پیاس کی وجہ سے) وہ پانی مانگیں گے تو ان کو ایسا پانی دیا جائے گا جو مہل کی طرح ہوگا۔ امام احمد ‘ ترمذی ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن حبان ‘ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابو سعید خدری (رح) کی روایت سے نقل کیا ہے کہ آیت بِمَآءٍ کَالْمُہْلِکی تشریح میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تیل کی تلچھٹ کی طرح ہوگا منہ کے قریب لایا جائے گا تو چہرہ کی کھال اس میں گرپڑے گی۔ امام احمد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ حاکم ‘ ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن المنذر ‘ ابن ابی الدنیا اور بیہقی نے حضرت ابو امامہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت ویسُقْیٰ مِنْ مَآءٍ صَدِیْدٍکی تشریح میں فرمایا ‘ وہ سامنے لایا جائے گا تو دوزخی کو سخت ناگوار ہوگا ‘ پھر (منہ کے) قریب لایا جائے گا تو چہرہ کی اور سر کی کھال جل بھن کر گرپڑے گی جب اس کو پئے گا تو انتڑیاں کٹ کر دبر سے نکل جائیں گی ‘ اللہ فرماتا ہے وَاِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ کَالْمُہْلِ یَشِْوی الْوُجُوْہَابن ابی حاتم نے ابو طلحہ کے طریق سے حضرت ابن عباس کا قول کالمہل کی تشریح کے متعلق نقل کیا ہے ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ سیاہ ہوگا جیسے زیتون کے تیل کی تلچھٹ۔ حضرت ابن عباس ؓ کا قول بغوی کی روایت میں یہ آیا ہے وہ گاڑھا پانی ہوگا ‘ زیتون کے تیل کی گاد کی طرح۔ مجاہد نے مہل کا ترجمہ کیا ہے۔ لہو ‘ پیپ ‘ خون ‘ حضرت ابن مسعود ؓ سے اس کا ترجمہ دریافت کیا گیا تو آپ نے کچھ سونا چاندی منگوا کر پگھلایا۔ جب پگھل گیا تو فرمایا یہ مہل کی طرح ہے اس کے ہم شکل ہیں۔ يَشْوِي الْوُجُوْهَ وہ چہروں کو بھون ڈالے گا ‘ یعنی جب وہ منہ کے قریب لایا جائے گا تو اتنا گرم ہوگا کہ اس کی گرمی سے چہرے بھن جائیں گے۔ بِئْسَ الشَّرَابُ وہ (مہل) برا مشروب ہوگا۔ وَسَاۗءَتْ مُرْتَفَقًا : اور (آگ) بری آرام گاہ ہوگی۔ مُرْتَفَقًا کا ترجمہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرودگاہ ‘ مجاہد نے مقام اجتماع ‘ عطاء نے قرار گاہ اور قتیبی نے مجلس کیا ہے۔ ارتفاق کا لغوی معنی ہے کہنی کھڑی کر کے اس پر رخسار ٹیکنا پس لغت کے لحاظ سے مرتفقاً (اسم ظرف) کا ترجمہ ہوا ٹیک کی جگہ ‘ آرام گاہ۔ دوزخ کوئی آرام گاہ نہیں ہے لیکن جنت کو آگے آرامگاہ فرمایا ہے تقابل کے طور پر نار کو بھی مرتفق فرما دیا۔
Ayah 18:30

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ Open ayah 18:30 in the Quran reader

(اور) جو ایمان لائے اور کام بھی نیک کرتے رہے تو ہم نیک کام کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتے

اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًا۔ بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے تو ہم ان لوگوں کا اجر ضائع نہیں کریں گے جنہوں نے اچھی طرح کام کئے .
Ayah 18:31

اُولٰٓئِكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآئِكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠ Open ayah 18:31 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن میں ان کے (محلوں کے) نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ان کو وہاں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور وہ باریک دیبا اور اطلس کے سبز کپڑے پہنا کریں گے (اور) تختوں پر تکیئے لگا کر بیٹھا کریں گے۔ (کیا) خوب بدلہ اور (کیا) خوب آرام گاہ ہے

اولئک لہم جنت عدن تجری من تحتہم الانہر ایسے لوگوں کے لئے ہمیشہ رہنے کے باغ ہوں گے جن کے درختوں کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ عَدْنٍقیام کرنا ٹھہرنا۔ عَدَنَ الْمَآء بالْمَکَانٍپانی فلاں جگہ ٹھہر گیا۔ جَنّٰتُ عَدْنٍوہ باغ اور جنتیں جہاں مؤمن (ہمیشہ) قیام کریں گے۔ یحلون فیہا من اساور من ذہب وہاں اہل جنت کو سونے کے کنگنوں کا زیور پہنایا جائے گا۔ سوار کنگن اس کی جمع اسوار یا اسورۃ ہے اور اسوار یا اسورۃ کی جمع اساور ہے۔ اساور اور ذہب کو نکرہ لانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ وہ کنگن اور سونا نرالی شان کا ہوگا کہ اس کے حسن کا کوئی احاطہ نہیں کرسکتا۔ طبرانی نے الاوسط میں اور بیہقی نے اچھی سند سے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اگر ادنیٰ جنتی کے ادنیٰ زیور کا تمام دنیا کے زیوروں سے موازنہ کیا جائے تو جو ادنیٰ زیور آخرت میں اللہ جنتی کو عطا کرے گا وہ دنیا کے تمام زیوروں سے بڑھ چڑھ کر ہوگا۔ ابوالشیخ نے العظمۃ میں کعب احبار کا بیان نقل کیا ہے کہ اللہ کا ایک فرشتہ ہے جو اپنی پیدائش کے آغاز سے اہل جنت کے زیور ڈھال رہا ہے اور قیامت تک ڈھالتا رہے گا اگر اہل جنت کا ایک زیور بھی سامنے لے آیا جائے تو اس کے مقابلے میں سورج کی روشنی ماند پڑجائے۔ ویلبسون ثیاباً خضرا من سندس واستبرق متکئین فیہا علی الارآئک نعم الثواب وحسنت مرتفقا۔ اور سبز رنگ کے کپڑے باریک اور دبیز ریشم کے پہنیں گے (اور) وہاں مسہریوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے کیسا اچھا صلہ ہوگا اور جنت کیا ہی اچھی آرام گاہ ہوگی۔ ابن السنی اور ابو نعیم نے طب النبی : ﷺ میں حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ : کا سب سے پسندیدہ رنگ سبز تھا۔ سندس باریک ریشمی کپڑا۔ استبرق دبیز ریشمی کپڑا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ جنت کے کپڑوں کے دبیز ہونے سے مراد ہے بناوٹ کی مضبوطی عمرحربی نے کہا سندس زربفت کو کہتے ہیں۔ نسائی ‘ ابو داؤد ‘ بزار اور بیہقی نے بسند حسن حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ارشاد فرمائیے اہل جنت کے کپڑے کس قسم کے ہوں گے کیا (بنے بنائے) پیدا شدہ ہوں گے یا بنے ہوئے ہوں گے جن کو بن کر تیار کیا گیا ہوگا یہ بات سن کر ایک شخص کو ہنسی آگئی حضور : ﷺ نے فرمایا ایک ناواقف جب کسی جاننے والے سے پوچھتا ہے تو تم لوگ ہنستے ہو ‘ پھر دو بار فرمایا جنت کے پھلوں سے ان کے پھٹنے پر (تیار شدہ) برآمد ہوں گے بزار ابو یعلی اور طبرانی نے جابر کی روایت سے حضرت ابوالخیر مرثد بن عبداللہ کا قول نقل کیا ہے کہ جنت کے اندر ایک درخت ہے جس سے سندس اگتا ہے جنتیوں کا لباس اسی کا ہوگا۔ اَ لْاَرَءِکَ الاریکۃ کی جمع ہے ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اگر چاروں طرف پردہ ہو اور اندر لیٹنے کی مسہری نہ ہو یا چارپائی لیٹنے کی ہو اور گرداگرد پردہ نہ ہو تو اس کو اریکہ نہیں کہتے اریکہ پردہ والی مسہری کو کہتے ہیں۔ بیہقی نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ مسہریاں موتی اور یاقوت کی ہوں گی۔ ثواب ‘ صلہ یعنی جنت اور اس کی نعمتیں۔ مرتفق بیٹھنے کی جگہ اور قرار کا۔ یعنی جنتیں اور مسہریاں کیسی اچھی قرار گاہ ہوں گی۔
Ayah 18:32

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کئے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی

واضرب لہم مثلا رجلین اور ان سے دو آدمیوں کا حال بیان کرو۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مکہ میں قبیلۂ بنی مخزوم کے دو بھائی رہتے تھے ایک مؤمن تھا دوسرا کافر ‘ مؤمن کا نام ابوسلمہ عبداللہ (ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ کے سابق شوہر) بن عبدالاسود بن عبد یالیل تھا اور کافر کا نام اسود بن عبدالاسود بن عبدیالیل انہی دونوں کے حق میں اس آیت کا نزول ہوا۔ بعض اہل علم کا قول ہے کہ عیینہ بن حصین اور اس کے ساتھیوں کے احوال اور حضرت سلمان کے حال کو بطور تمثیل بنی اسرائیل کے دو بھائیوں کے احوال سے تشبیہ دی ہے جن میں سے ایک کا نام برقول ابن عباس یہودا اور برقول مجاہد تملیخا تھا اور دوسرے کا نام قطروس اور برقول وہب قطفر تھا اوّل مسلمان تھا دوسرا کافر سورة والصافات میں بھی انہی کا قصہ بیان کیا ہے عبداللہ بن مبارک نے بروایت معمر عطاء خراسانی کا بیان ان دونوں کے متعلق حسب ذیل نقل کیا ہے۔ ایک شخص کے دو بیٹے تھے دونوں کو باپ کی وراثت سے آٹھ ہزار درینار ملے۔ دونوں نے تقسیم کر کے اپنا اپنا حصہ لے لیا ‘ ایک بھائی نے ایک ہزار دینار کی زمین خریدی دوسرے نے ہزار دینار خیرات کردیئے اور کہا اے اللہ میرے بھائی نے ہزار دینار کی زمین خریدی ہے میں تجھ سے جنت میں ایک ہزار کی زمین خریدتا ہوں ‘ اوّل شخص نے ہزار دینار صرف کر کے مکان بنایا دوسرے نے ہزار دینار غریبوں کو تقسیم کر کے دعا کی ‘ اے اللہ ! اس نے ہزار دینار خرچ کر کے مکان بنایا ہے میں تجھ سے جنت کے اندر ہزار دینار کا مکان خریدتا ہوں۔ پھر اوّل شخص نے ہزار دینار صرف کر کے ایک عورت سے شادی کرلی اور دوسرے نے ہزار دینار راہ خدا میں دے کر کہا اے اللہ میں تجھ سے درخواست کرتا ہوں کہ جنت کے اندر کسی جنت کی عورت سے میرا نکاح کر دے ‘ پھر اوّل شخص نے ایک ہزار دینار خرچ کر کے باندی غلام اور گھر کا سامان خریدا اور دوسرے نے ہزار دینار خیرات کر کے اللہ سے جنت کے اندر خدام اور سامان ملنے کی درخواست کی۔ جب یہ دوسرا شخص سب مال خیرات کرچکا تو کچھ مدت کے بعد مال کی کوئی سخت ضرورت پیش آئی اور دل میں خیال کیا مجھے بھائی کے پاس جانا چاہئے شاید اس کی طرف سے مجھے کچھ مل جائے یہ سوچ کر بھائی کے راستہ پر ایک طرف کو جا بیٹھا ‘ اس طرف سے دولت مند بھائی اپنے خادموں کے جھرمٹ میں گزرا اور بھائی کو دیکھ کر پہچان لیا اور پوچھا کیا حال ہے اس شخص نے کہا مجھے ایک حاجت درپیش ہے اور مفلس ہوگیا ہوں ‘ آپ کے پاس کچھ بھلائی کی امید لے کر آیا ہوں دولتمند بھائی نے کہا تمہارا مال کیا ہوا ‘ تقسیم کے وقت تم نے اپنا حصہ لے لیا تھا ‘ غریب بھائی نے اپنی سرگزشت بیان کردی ‘ دولت مند بھائی بولا ‘ اچھا تو تم خیرات کرنے والوں میں شامل ہوگئے چلے جاؤ ‘ میں کچھ نہیں دوں گا ‘ غرض اس نے غریب کو دھتکار دیا آخر دونوں مرگئے اور ان ہی کے متعلق آیت فاقْبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَسآءَلُوْنَنازل ہوئی۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ مال دار بھائی غریب بھائی کو ہاتھ پکڑ کر اپنے مال کی سیر کرانے لے گیا اور گھما پھرا کر سب طرح کا مال دکھایا۔ وَاضْرِبْ لَہُمْہم ضمیر کافروں اور مؤمنوں دونوں کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مثلبمعنی حال ‘ رجلین سے مراد ہیں وہ دو آدمی جو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے (حضرت ابو سلمہ مخزومی اور اسود مخزومی) یا جو کبھی پہلے گزر گئے تھے (یعنی دو اسرائیلی بھائی یہودا اور قطروس) کوئی مقرر شخص مراد نہیں ہے بلکہ دو شخص جن میں مندرجۂ آیت اوصاف ہوں (عبرت دلانے اور نصیحت کرنے کے لئے) فرض کر لئے گئے ہیں اور ان کی حالت بیان کردی گئی ہے۔ جعلنا لاحدہما جنتین من اعناب وحففنہما بنخل وجعلنا بینہما زرعا اور دو شخصوں میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دے رکھے تھے اور ان دونوں باغوں کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنا رکھا تھا اور ان دونوں کے درمیان کھیتی بھی پیدا کردی تھی۔ اَحَدِہِمَاسے مراد کافر ہے۔ انگوروں کے باغوں سے مراد ہیں انگور کے درختوں کے باغ ‘ حَفَفْنٰہْمَا بِنَخْلٍیعنی انگور کے باغوں کے گرداگرد باڑھ کی طرح کھجور کے درخت تھے انگور کے باغ کھجور کے درختوں کے باڑھ کے اندر تھے۔ حَفَّہُ القومُاس کو قوم نے گھیر لیا۔ حففتہ بقومٍمیں نے اس کو قوم سے گھیر دیا اس کے گرداگرد قوم کا گھیرا ڈال دیا۔ اس صورت میں بقومٍ میں ب زائد ہوگی (کیونکہ حففت خود متعدی بدو مفعول ہے جن میں دوسرا مفعول فاعل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وَجَعَلْنَا بَیْنَہُمَا یعنی دونوں باغوں کے درمیان واقع ہونے والی زمین بھی بنجر نہ تھی بلکہ اس میں ایک کھیتی تھی ‘ اس طرح ان باغوں میں پھل بھی تھے اور غلے کی پیداوار بھی تھی اور ترتیب بھی عمدہ تھی۔
Ayah 18:33

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے۔ اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی

کلتا الجنتین اتت اکلہا ولم تظلم منہ شیئا اور دونوں باغ اپنے پورے پھل دیتے تھے اور کسی کی پیداوار میں ذرا بھی کمی نہ تھی ‘ یعنی باغوں کے پھلوں اور پیداوار میں وہ کمی نہ تھی جو معمولاً عام باغوں میں ہوا کرتی ہے کہ ایک سال پھل خوب آتے ہیں اور دوسرے سال کم۔ وفجرنا خللہما نہرا۔ اور دونوں باغوں کے اندر ہم نے نہر چلا رکھی تھی۔
Ayah 18:34

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں

وکان لہ ثمر اور اس شخص کے پاس اور بھی تمول کا سامان تھا۔ فَجَّرْنَا یعنی زمین سے چشمے نکال کر بہا دیئے تاکہ باغوں میں تروتازگی اور شادابی باقی رہے لَہٗ ثَمَرٌازہری نے کہا ثَمَرۃٌکی جمع ثَمَرٌاور ثَمِرَ کی ثِمَارٌ اور ثمارٌ کی ثمرٌ۔ قاموس میں ہے کہ ثمرۃ ‘ درخت کے پھل اور مختلف انواع کا مال ‘ ثَمَرَۃٌ اور ثَمَرَۃٌ واحد ہے اس کی جمع ثِمَارٌ ہے اور ثِمَارٌ کی جمع ثمر اور ثمر کی اثمار۔ سونے چاندی ‘ مویشی اور اولاد کو بھی ثمرۃ کہا جاتا ہے۔ مذکورہ آیت کا مطلب بعض اہل علم نے یہ بیان کیا ہے کہ دو باغوں کے مالک کے پاس باغوں کے علاوہ اور بھی طرح طرح کا بکثرت مال تھا ثمر مالہ ‘ اس کا مال بہت ہوگیا۔ مجاہد نے کہا ثمر سے مراد سونا چاندی ہے۔ بغوی نے لکھا ثمر بفتح میم جن لوگوں نے پڑھا ہے تو ان کے نزدیک یہ ثمرۃ کی جمع ہوگی اور مراد ہوں گے درختوں کے پھل جو کھائے جاتے ہیں اور جن لوگوں نے ثمر پڑھا ہے ان کے نزدیک طرح طرح کا کثیر مال مراد ہوگا۔ فقال لصاحبہ وہو یحاورہ انا اکثر منک مالا واعز نفرا۔ سو اس نے اپنے ساتھی سے دوران گفتگو میں کہا میں تجھ سے مال میں بھی زیادہ ہوں اور جتھا بھی میرا زبردست ہے۔ یعنی باغوں والے نے نادار مؤمن سے دوران گفتگو میں کہا ‘ میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور میں نوکروں چاکروں کے اعتبار سے بھی تجھ سے زیادہ باعزت ہوں۔ نفر سے مراد ہیں نوکر چاکر خدمت گار بعض نے کہا نرینہ اولاد مراد ہے کیونکہ مؤمن نے (اس کے جواب میں) کہا تھا اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْکَ مَالاً وَّوَلَدًاً اگرچہ تو مجھے اپنے مقابلے میں کم مالدار اور قلیل الاولاد دیکھ رہا ہے۔
Ayah 18:35

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور (ایسی شیخیوں) سے اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو

ودخل جنتہ وہو ظالم لنفسہ قال ما اظن ان تبید ہذہ ابدا۔ اور اپنے اوپر جرم قائم کرتے ہوئے اپنے باغ میں پہنچا کہنے لگا میں نہیں خیال کرتا کہ یہ کبھی بھی تباہ ہوگا۔ یعنی اللہ کی طرف سے ڈھیل ملنے ‘ دماغ پر غفلت کے پردے پڑجانے اور شوق و ہوس کی ہمہ گیری کے سبب وہ خیال کرنے لگا کہ جو کچھ میرے پاس ہے وہ زندگی بھر میرے پاس رہے گا ‘ کبھی برباد نہ ہوگا۔ یہ مطلب نہیں کہ ان نعمتوں کے ساتھ میں ہمیشہ زندہ رہوں گا کیونکہ کسی کافر کا بھی یہ عقیدہ نہیں ہوسکتا کہ میں موت سے ہمیشہ محفوظ رہوں گا کبھی نہیں مروں گا۔ ہاں قول سے مراد اگر دلالت حال لی جائے تو مؤخر الذکر مطلب بھی ہوسکتا ہے ‘ جو لوگ دنیا اور دنیا کی لذتوں میں غرق ہوتے ہیں ان کے اعمال اور خیالات زبان حال سے پکار کر کہتے ہیں کہ ایسے اعمال و خیالات رکھنے والے اپنی زندگی کو دوامی سمجھے ہوئے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ کبھی موت نہیں آئے گی اور دنیا کی یہ لذتیں ان کو ہمیشہ حاصل رہیں گی۔
Ayah 18:36

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو (وہاں) ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا

وما اظن الساعۃ قآئمۃ ولئن رددت الی ربی لاجدن خیرا منہا منقلبا۔ اور میں نہیں خیال کرتا کہ قیامت بپا ہونے والی ہے اور (بالفرض) اگر (مرنے اور جی اٹھنے کے بعد) مجھے لوٹ کر اپنے رب کی طرف جانا ہی پڑا (جیسا کہ تمہارا خیال ہے) تو یقیناً اس سے بہتر نتیجہ مجھے (وہاں) ضرور ضرور ملے گا۔ منقلب ‘ مقام واپسی ‘ نتیجہ اس کا خیال تھا کہ اللہ کی نظر میں میری عزت زائد ہے اس نے جو کچھ مجھے دیا ہے میری عزت کی وجہ سے دیا ہے اس لئے قیامت کے بعد بھی مجھے ان باغوں سے بہتر مقام و مرتبہ عنایت کرے گا۔
Ayah 18:37

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس (خدا) سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا مرد بنایا

قال لہ صاحبہ وہو یحاورہ اکفرت بالذی خلقک من تراب ثم من نطفۃ ثم سوک رجلا اس کے (مؤمن) ساتھی نے اس کو جواب دیتے ہوئے کہا کیا تو اس خدا کو نہیں مانتا جس نے خاک سے تجھے پیدا کیا پھر (باپ) کے نطفہ سے (پیدا کیا) پھر تجھے پورا ٹھیک مرد بنا دیا۔ مٹی ہر شخص (کے بدن) کا مادہ ہے اس لئے یہ کہنا صحیح ہے کہ ہر شخص خاک سے بنایا گیا ہے یا یہ کہ حضرت آدم کا پتلا خاک سے بنایا گیا تھا نطفہ ہر انسان کا مادۂ قریبہ ہے (مٹی سے غذاء نباتی و حیوانی پیدا ہوتی ہے اس لئے مٹی بعید مادہ ہے پھر غذا سے خون بنتا ہے خون بھی مادۂ بعیدہ ہے پھر خون سے نطفہ اور نطفہ سے انسان پس نطفہ۔ مادۂ قریبہ ہے۔ مترجم) سواک تجھے ٹھیک کر کے پورا انسان بنا دیا ‘ رجلاً یعنی پورا بالغ مرد۔ وجود قیامت میں شک ہونے کی بنیاد ہے اللہ کی قدرت کا انکار تو گویا انکار قیامت حقیقت میں انکار خدا ہے جو شخص اللہ کی قدرت کی ہمہ گیری کو مانتا ہے وہ جانتا ہے کہ جس خدا نے آدمی کو (اپنے علم و ارادہ کے ساتھ) خاک سے پیدا کیا وہ دوبارہ بھی پیدا کر دے گا۔
Ayah 18:38

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

مگر میں تو یہ کہتا ہوں کہ خدا ہی میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

لکنا ہو اللہ ربی ولا اشرک بربی احدا لیکن (میں تو کہتا ہوں کہ) اللہ میرا رب ہے میں اس کے ساتھ (عبادت و ربوبیت میں) کسی کو ساجھی نہیں قرار دیتا۔ بقول بغوی ‘ کسائی نے بیان کیا کہ کلام میں کچھ تقدیم و تاخیر ہے اصل کلام تھا لٰکِنَ اللّٰہُ ہُوَ رَبِّیْ (اس صورت میں۔ کہتا ہوں۔ جملہ محذوف ماننے کی ضرورت نہ ہوگی بلکہ) لَکِنَّاکا الف زائد ہوگا۔
Ayah 18:39

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور (بھلا) جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تو تم نے ماشاالله لاقوة الابالله کیوں نہ کہا۔ اگر تم مجھے مال واولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتے ہو

ولو لا اذ دخلت جنتک قلت ما شآء اللہ لا قول الا باللہ اور جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تھے (اور پھلوں سے لدے درخت تھے) تو ماشآء اللّٰہُ لاَ قُوَّۃَ الاَّ باللّٰہِکیوں نہیں کہا۔ لَوْلاَ اِذْ دَخَلْتِیعنی داخل ہوتے وقت تم نے کیوں نہیں کہا۔ ما شاء اللّٰہ یعنی اللہ جو کچھ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے 1 ؂‘ باغ میں جو کچھ ہے وہ اللہ کی مشیت سے وابستہ ہے اگر وہ چاہے گا ‘ باقی رکھے گا ‘ باقی رکھنا نہ چاہے گا برباد کر دے گا۔ لاَ قُوَّۃَ الاِّ باللّٰہِیعنی تو نے اپنی عاجزی اور اللہ کی قدرت کا اقرار کیوں نہیں کیا اور کیوں نہیں کہا کہ اللہ کی مدد کے بغیر میں اس کو محفوظ رکھنے کی طاقت نہیں رکھتا جو کچھ مجھے اس باغ کو لگانے پرورش کرنے اور انتظام کرنے کی سہولت حاصل ہوئی ہے وہ اللہ کی توفیق اور اس کی مدد سے حاصل ہوئی ہے ‘ بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے کوئی چیز دیکھی اور اس کے دل کو پسند آئی اور اس نے مَا شَآء اللّٰہَ لاَ قُوَّۃَ الاَّ باللّٰہِکہہ دیا تو پھر اس کو کوئی ضرر نہیں پہنچے گا (نہ نظر لگے گی نہ غیبی حوادث اس چیز پر آئیں گے) ابن السنی کی روایت میں صراحت کے ساتھ آیا ہے کہ اس کو نظر نہیں لگے گی۔ بغوی نے ہشام بن عروہ کی روایت سے بیان کیا کہ عروہ کو جب اپنا کوئی مال پسند آتا اور عجیب معلوم ہوتا تھا یا اپنے کسی باغ میں داخل ہوتے تھے تو کہتے تھے ما شاء اللّٰہ لا قوۃ الا باللّٰہ۔ ان ترن انا اقل منک مالا وولدا۔ اگر تو مجھے دیکھ رہا ہے کہ (آج) میں تجھ سے مال و اولاد میں کم ہوں
Ayah 18:40

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (تمہارے باغ) پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہوجائے

فعسی ربی ان یوتین خیرا من جنتک ویرسل علیہا حسبانا تو امید ہے عنقریب اللہ مجھے تیرے باغ سے بہتر اور بڑھیا چیز عنایت فرما دے اور تیرے باغ پر (تیرے کفر کی وجہ سے) کوئی تقدیری آفت آسمان سے بھیج دے۔ حسبان کا ترجمہ قتادہ نے عذاب اور حضرت ابن عباس ؓ نے آگ اور قتیبی نے پتھریلا طوفان اور بیضاوی نے کڑک کیا ہے بیضاوی نے کہا حسبان حُسْبَانَۃٌکی جمع ہے ‘ بعض علماء نے اس کو مصدر بمعنی حساب قرار دیا ہے اور حساب سے مراد ہے گناہوں کے برابر عذاب یا تقدیر الٰہی کی بھیجی ہوئی آفت۔ من السمآء آسمان سے۔ فتصبح صعیدا زلقا۔ پھر وہ باغ چٹیل چکنا میدان بن جائے یعنی کوئی درخت اور سبزہ اس میں باقی نہ رہے ‘ صاف میدان ہوجائے۔ مجاہد نے صعیداً زلقا کا ترجمہ کیا ہولناک ریگستان۔
Ayah 18:41

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس (کی نہر) کا پانی گہرا ہوجائے تو پھر تم اسے نہ لاسکو

او یصبح مآؤہا غورا فلن تستطیع لہ طلبا یا اس کا پانی زمین کے اندر اتنی گہرائی میں چلا جائے کہ تو اس کو تلاش بھی نہ کرسکے (ملنا اور پانا تو درکنار) ۔
Ayah 18:42

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور اس کے میووں کو عذاب نے آگھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا۔ تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر (حسرت سے) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا

واحیط بثمرہ فاصبح یقلب کفیہ علی ماانفق فیہا اور اس شخص کے (باغ کے) پھلوں (یا سامان تمول) کو آفت نے آگھیرا پھر اس نے اس باغ پر جو کچھ خرچ کیا تھا اس پر ہاتھ ملتا رہ گیا۔ یعنی عذاب نے اس کے باغ کے پھلوں یا ہر طرح کے مال کو اپنے گھیرے میں لے لیا اور خلاف امید تباہ کردیا ‘ احاطہ سے مراد ہے غالب آجانا برباد و تباہ کردینا دشمن جب گھیر لیتا ہے تو جو بھی اس کے احاطہ میں آجائے اس پر غالب آجاتا اور تباہ کردیتا ہے۔ یُقَلِّبُ کَفَّیْہِکف افسوس ملنے لگا ہاتھ پر ہاتھ ملنے لگا یا افسوس و حسرت کے ساتھ ہتھیلیاں اس نے الٹی کرلیں (اور پشت کف کو کاٹنے لگا) تقلیب کفین سے بطور کنایہ مراد ہے پشیمان ہونا یعنی جو کچھ اس نے باغ میں خرچ کیا تھا اس کے برباد ہوجانے پر وہ (پریشان حسرت زدہ اور) پشیمان ہوا۔ وہی خاویۃ علی عروشہا اور وہ باغ اپنی ٹیٹوں پر گرا ہوا پڑا تھا۔ یعنی انگور کی بیلوں کی چھتریاں زمین پر گرگئیں اس طرح سب بیلیں زمین پر آرہیں (اور سارا انگورستان اجڑ گیا) ویقول یلیتنی لم اشرک بربی احدا۔ اور (قیامت کے دن یا قبر میں جب دیکھے گا کہ اس کا جنتی مقام دوزخ کے مقام سے بدل دیا گیا تو) کہے گا کاش میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ قرار دیتا (یہ ترجمہ مرادی حضرت مفسر نے کیا ہے۔ مولانا تھانوی نے ترجمہ اس طرح کیا ہے اور کہنے لگا کیا خوب ہوتا اگر میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا)
Ayah 18:43

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

(اس وقت) خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا

ولم تکن لہ فءۃ ینصرونہ من دون اللہ وما کان منتصرا۔ اور اس کے پاس کوئی ایسا مجمع نہ ہوا کہ خدا کے سوا اس کی مدد کرتا اور نہ وہ خود ہم سے بدلہ لے سکا (مولانا تھانوی (رح) اور قیامت کے دن عذاب کو دفع کرنے پر قدرت رکھنے والی اس کے لئے اللہ کے سوا کوئی جماعت نہ ہوگی اور نہ وہ تنہا اپنی قوت پر اللہ کے انتقام سے بچ سکے گا۔ (حضرت مفسر)
Ayah 18:44

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

یہاں (سے ثابت ہوا کہ) حکومت سب خدائے برحق ہی کی ہے۔ اسی کا صلہ بہتر اور (اسی کا) بدلہ اچھا ہے

ہنالک وہاں اور اس وقت یعنی جب اس کو قیامت کے دن اٹھایا جائے گا۔ الولایۃ للہ الحق مدد کرنا اللہ برحق ہی کا کام ہوگا (مفسر (رح) مدد کرنا اللہ برحق کا ہی کام ہے (مولانا تھانوی (رح) حمزہ اور کسائی کی قرأت اَلْولاَیَۃ بکسر واو اور بمعنی غلبہ آیا ہے اور جمہور کی قرأت الولایۃ بفتح واو ہے جس کا معنی ہے دوستی ‘ مدد۔ اللّٰہُ وَلِیُّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا میں بھی یہی مضمون ولایت (یعنی مدد اور نصرت) ظاہر فرمایا ہے۔ بعض علماء نے کہا ولایت کا معنی ہے ربوبیت اور ولایت کا معنی ہے حکومت۔ یہ بھی جائز ہے کہ اللہ نے کافر کا یہ قول اسی وقت کا نقل کیا ہو جب اس نے اپنے باغوں کو تباہ دیکھ کر اظہار پشیمانی کیا تھا اور شرک سے توبہ کرلی تھی یا اپنے مؤمن بھائی کی نصیحت سن کر اور باغ کی اجڑی حالت دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ یہ ساری مصیبت شرک کی وجہ سے آئی ہے یہ حقیقت سمجھ کر اس نے بےاختیار بےتابی کی حالت میں شرک سے بیزاری کا اظہار کردیا (مولانا اشرف علی نے اسی مطلب کے موافق ترجمہ کیا ہے اور شرک سے بیزاری کی تمنا کو اسی وقت اور اسی موقعہ کا قول قرار دیا ہے جب اس کافر نے اپنے سامان تمول کو برباد اور باغ کو اجڑا ہوا دیکھا تھا) یعنی اس موقعہ پر اس اضطراری حالت میں اس کو یقین ہوگیا کہ نصرت یا حکومت اللہ برحق کی ہی ہے۔ ہو خیر ثوابا وخیر عقبا۔ اسی کا ثواب سب سے بہتر اور اسی کا نتیجہ سب سے اچھا ہے۔ یعنی اللہ اپنے اطاعت گزاروں کو سب سے اچھا بدلہ دیتا ہے کیونکہ دوسرے لوگ جو اطاعت کا دنیا میں بدلہ دیتے ہیں وہ حقیر اور فنا پذیر ہوتا ہے اور اللہ دنیا میں تو اپنی حکمت کے مطابق اچھا بدلہ دیتا ہی ہے آخرت میں عظیم الشان لازوال ثواب عنایت فرمانے والا ہے۔
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا۔ تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی۔ پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں۔ اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

واضرب لہم مثل الحیوب الدنیا کمآء انزلنہ من السمآء فاختلط بہ نبات الارض فاصبح ہشیماً تذروہ الریح اور آپ ان لوگوں سے دنیوی زندگی کی حالت بیان کیجئے کہ وہ ایسی ہے جیسے ہم نے آسمان سے پانی برسایا ہو ‘ پھر اس کے ذریعہ سے زمین کی نباتات خوب گنجان ہوگئی ہوں پھر وہ ریزہ ریزہ ہوجائے کہ اس کو ہوائیں اڑائے پھرتی ہوں۔ یعنی دنیوی زندگی کی رونق اور اس کی زوال پذیری کی کیفیت بیان کرو ‘ یا حیات دنیا کی عجیب حالت بیان کرو (مثل کا معنی عجیب کیفیت بھی ہے اور اس حالت کو بھی مثل کہتے ہیں۔ جو کسی دوسری حالت کے مشابہ ہو خواہ اس میں کوئی ندرت نہ ہو مگر غرض تشبیہ پوری ہو رہی ہو اور مشبہ کی حالت مشبہ بہ کی حالت کے مماثل و مشابہ ہو۔ اس جگہ حیات دنیا اور بارش کے پانی سے پیدا ہونے والے سبزہ کے درمیان مشترک صفت رونق آگینی اور پھر جلد رونق کا فنا ہوجانا ہے۔ مترجم) فَاخْتَلَطَ بِہٖ نَبَاتُ الْاَرْضِیعنی پانی کے سبب زمین کا سبزہ گھنا ہوگیا اور اتنا زیادہ ہوا کہ باہم گتھ گیا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ پانی نے سبزہ کو متاثر کیا اور سبزہ پانی سے سیراب و شاداب ہوگیا۔ فَاَصْبَحَ ہَشِیْمًا پھر تھوڑی ہی مدت میں سبزہ خشک ہو کر ریزہ ریزہ ہوگیا۔ تَذْرُوْہُ الرِّیٰحُ ابوعبیدہ نے کہا ہوائیں اس کو ادھر ادھر منتشر کرنے لگیں۔ آیت میں تشبیہ مفرد بمفرد نہیں ہے نہ پانی مشبہ بہ ہے نہ پانی کی حالت۔ بلکہ مشبہ بہ وہ کیفیت ہے جو مجموعہ سے منتزع ہوتی ہے (یعنی پانی سے سبزہ کا پیدا ہونا گھنا اور شاداب ہونا پھر خشک ہوجانا اور اس کو ہواؤں کا ادھر ادھر اڑائے پھرنا ‘ ان تمام چیزوں سے ایک خاص نمو اور فنا کی کیفیت منتزع ہوتی ہے اس سے حیات دنیا کی ترقی پذیر اور پھر عنقریب فنا آگیں کیفیت کو تشبیہ دی ہے۔ مترجم) وکان اللہ علی کل شئی مقتدرا۔ اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ (یعنی قابو پائے ہوئے ہے کامل اقتدار رکھتا ہے۔ مترجم)
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی (رونق و) زینت ہیں۔ اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے پروردگار کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں

المال والبنون زینۃ الحیوۃ الدنیا والبقیت الصلحت خیر عند ربک ثوابا وخیر املا مال اور اولاد حیات دنیا کی ایک رونق ہے اور جو اعمال صالحہ باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی بدرجہا بہتر ہیں اور امید کے لحاظ سے بھی سب سے افضل ہیں۔ یعنی وہ مال و اولاد جس پر عیینہ بن حصین اور اس جیسے دوسرے دولت مندوں کو فخر ہے محض دنیوی رونق کی چیزیں ہیں آدمی ان پر فخر کرتا ہے پھر یہ چیزیں عنقریب فنا ہوجاتی ہیں یہ زاد آخرت نہیں ہیں ‘ لیکن وہ اعمال صالحہ جن کا اچھا نتیجہ دوامی اور غیر فانی ہے وہ اللہ کے نزدیک اس دنیوی مال و اولاد سے ہزاروں درجہ بہتر ہیں اور سب سے بڑی تمنا کے قابل چیز ہے (دنیوی چیزوں کی امید و تمنا فانی کی تمنا ہے اور اعمال صالحہ کے ثواب کی تمنا باقی کی تمنا اور باقی فانی سے بدرجہا افضل ہے۔ مترجم) بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا مال اور اولاد دنیا کی کھیتی ہے اور اعمال صالحہ آخرت کی کھیتی اور بعض لوگوں کے لئے اللہ دونوں کو جمع کردیتا ہے حضرت ابن عباس ؓ ‘ عکرمہ اور مجاہد نے فرمایا ‘ باقیات صالحات سبحان اللہ اور الحمدللہ اور لا الہٰ الا اللہ اور اللہ اکبر ہیں حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ باقیات صالحاتکو زیادہ (پڑھا) کرو۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ باقیات صالحات کیا ہیں۔ فرمایا سبحان اللّٰہ لا الہ الا اللّٰہ الحمدللّٰہ اللّٰہ اکبر لا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ پڑھنا۔ رواہ احمد و ابن حبان والحاکم۔ حضرت جابر ؓ : کی روایت ہے لاَ حَوْلَ وَلاَ قُوَّۃَ اِلَّا باللّٰہِ (کا ذکر) بہت کیا کرو اس سے ضرر کے ننانوے دروازے بند ہوجاتے ہیں جن میں سے ادنیٰ دروازہ غم ہے۔ رواہ العقیلی۔ عقیلی نے حضرت نعمان بن بشیر کی مرفوع حدیث نقل کی ہے سُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُہی باقیات صالحات ہیں۔ طبرانی نے اسی طرح کی حدیث حضرت سعد بن عبادہ کی روایت سے بھی نقل کی ہے۔ ابن جریر نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے افضل کلام سُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْدُلِلّٰہِ وَلاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُہے۔ ابن جریر نے یہ حدیث ایک اور صحابی کی روایت سے بھی بیان کی ہے۔ رواہ احمد ‘ حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سبحان اللہ والحمدللہ ولا الہٰ الا اللہ واللہ اکبر کہنا مجھے ان تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے جن پر سورج نکلتا ہے (یعنی روئے زمین کی تمام چیزوں سے زیادہ پیاری مجھے یہ تسبیح وتحمید و تہلیل و تکبیر ہے) رواہ مسلم والترمذی۔ سعید بن جبیر مسروق اور ابراہیم نخعی کے نزدیک باقیات صالحات سے مراد پنجگانہ نمازیں ہیں ‘ حضرت ابن عباس ؓ کا ایک قول بھی ایک روایت میں یہی آیا ہے لیکن دوسری روایت میں آیا ہے کہ باقیات صالحات اعمال صالحہ ہیں ‘ قتادہ کا یہی قول ہے۔
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف میدان دیکھو گے اور ان (لوگوں کو) ہم جمع کرلیں گے تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے

ویو نسیر الجبال وتری الارض بارزۃ وحشرنہم فلم نغادرمنہم احدا۔ وعرضوا علی ربک صفا اور یاد کرو اس دن کو جب ہم پہاڑوں کو ہٹا دیں گے اور آپ زمین کو دیکھیں گے کہ کھلا میدان پڑا ہے اور ہم ان سب کے سب کو (قبروں سے اٹھا کر) جمع کریں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑیں گے اور وہ آپ کے رب کے روبرو برابر برابر کھڑے کر کے پیش کئے جائیں گے۔ یعنی ہم پہاڑوں کو اکھاڑ کر خاک بنا دیں گے جو فضا میں اڑی اڑی پھرے گی۔ وَتَرَی الْاَرْضَ بَارِزَۃً اور زمین چٹیل میدان کھلی ہوئی صاف نظر آئے گی نہ اس پر کوئی عمارت ہوگی نہ پہاڑی نہ درخت ابن ابی حاتم نے قتادہ کی طرف اس تفسیرہ کی نسبت کی ہے لیکن عطا نے بارزۃ کی تشریح میں کہا زمین کا اندرونی حصہ اوپر آجائے گا جو مردے وغیرہ اس کے اندر ہوں گے وہ برآمد ہوجائیں گے۔ وَحَشْرَنٰہُمْاور ہم لوگوں کو قبروں سے اٹھائیں گے۔ فَلَمْ نُغَادِرُاور ان میں سے کسی کو قبر سے اٹھائے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔ غَاِدَرَ (باب مفاعلہ) اور غَدَرَ (باب ضرب) دونوں کا معنی ہے چھوڑ دیا ‘ وفاء وعدہ کے ترک کو بھی اسی مناسبت سے غدر کہا جاتا ہے۔
Ayah 18:48

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور سب تمہارے پروردگار کے سامنے صف باندھ کر لائے جائیں گے (تو ہم ان سے کہیں گے کہ) جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح آج) تم ہمارے سامنے آئے لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (قیامت کا) کوئی وقت مقرر ہی نہیں کیا

وَعُرِضُوْا جیسے بادشاہ کے سامنے اس کی فوج لائی جاتی ہے اسی طرح اللہ کے سامنے سب لوگوں کو صف بند شکل میں لایا جائے گا۔ لیکن بادشاہ کی پیشی معائنہ اور شناخت کے لئے ہوتی ہے اور اللہ کی پیشی حکم جاری کرنے کے لئے ہوگی۔ صفاً یعنی سب ایک قطار میں سامنے آئیں گے ‘ کسی سے کسی کی رکاوٹ نہیں ہوگی ‘ کوئی دوسرے کے سامنے آنے سے مانع نہ ہو سکے گا۔ لقد جئتمونا کما خلقنکم اوّل مرۃ (دیکھو) آخر تم ہمارے پاس آئے ‘ جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ یعنی جس طرح ہم نے تم کو برہنہ بدن برہنہ یا غیر مختون پیدا کیا تھا۔ پیدائش کے وقت تمہارے پاس دنیا کا مال و دولت کچھ بھی نہ تھا اسی طرح آج نادار برہنہ غیر مختون۔ ہم نے تم کو قبروں سے اٹھایا ہے۔ شیخین نے صحیحین میں اور ترمذی نے سنن میں حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ (خطبہ دینے) کھڑے ہوئے اور فرمایا لوگو تم کو (قبروں سے) اٹھا کر اللہ کے سامنے برہنہ بدن برہنہ پا اور غیر مختون حالت میں لے جایا جائے گا ‘ پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی کَمَا بَدَأْنَا اَوَّلَ خَلْقٍ نُعِیْدَہٗ پھر سب مخلوق سے پہلے ابراہیم (علیہ السلام) کو لباس پہنایا جائے گا۔ شیخین نے حضرت عائشہ ؓ : کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تم کو برہنہ پا برہنہ بدن غیر مختون اٹھایا جائے گا۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا مرد بھی ہوں گے عورتیں بھی۔ کیا ایک دوسرے کو دیکھے گا۔ فرمایا عائشہ ؓ ! (اس وقت کا) معاملہ بہت سخت ہوگا (یعنی کسی کو کسی کی طرف دیکھنے کا ہوش ہی نہ ہوگا) طبرانی نے الاوسط میں صحیح سند کے ساتھ حضرت ام سلمہ ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے اس روایت کے آخر میں ہے کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا ‘ یہ تو بڑی خرابی ہوگی ہم میں سے بعض بعض کو (برہنہ) دیکھیں گے فرمایا لوگ اپنے ہی شغل میں ہوں گے حضرت ام سلمہ ؓ نے کہا وہ کس شغل میں ہوں گے فرمایا اعمالنامے کھول کر (سامنے) لائے جائیں گے جن کے اندر چھوٹی چیونٹی کے برابر اور رائی کے دانہ کے برابر بھی اعمال کا اندراج ہوگا ‘ بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بھی اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے اس روایت میں یہ بھی ہے کہ بی بی نے کہا ہم میں سے بعض بعض کی برہنگی کو دیکھیں گے ‘ فرمایا اری اس روز ہر شخص اپنے ہی حال میں ہوگا جو (دوسرے کی طرف دیکھنے سے) اس کو بےنیاز بنائے ہوئے ہوگا۔ طبرانی نے حضرت سہل بن سعد کی روایت سے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے اور حضرت امام حسن کی روایت سے مرفوعاً یہ حدیث آئی ہے جس میں مذکور ہے کہ بی بی کے جواب میں حضور ﷺ نے فرمایا ہم میں سے بعض بعض کو کیسے دیکھیں گے ‘ آنکھیں تو پھٹی ہوئی اوپر کی طرف حیرت سے دیکھ رہی ہوں گی یہ بیان کرتے وقت حضور ﷺ نے اپنی نظر اوپر کی طرف اٹھائی۔ طبرانی اور بیہقی نے حضرت سودہ بنت زمعہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کو برہنہ پا برہنہ بدن غیر مختون اٹھایا جائے گا پسینہ (کا سیلاب) کسی کے منہ تک لگام کی طرح آیا ہوگا اور کسی کے کانوں کی لو تک میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! یہ تو بڑی خرابی ہوگی ‘ ہم میں سے ایک دوسرے کو (برہنہ) دیکھے گا ‘ فرمایا لوگ اپنی ہی حالت میں مبتلا ہوں گے ان کی اپنی حالت دوسرے کی طرف دیکھنے نہ دے گی ‘ اس روز ہر شخص اپنے ہی حال میں ہوگا جو (دوسرے کی طرف دیکھنے سے) اس کو بےنیاز بنائے ہوگا۔ قرطبی نے لکھا ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ بھی تو حدیث میں آیا ہے کہ مردے اپنی قبروں میں کفن پہنے ہوئے باہم ملاقات کرتے ہیں اور احادیث مذکورہ میں برہنہ اٹھائے جانے کی صراحت ہے دونوں میں کھلا ہوا تعارض ہے۔ لیکن حقیقت میں کوئی اختلاف نہیں احادیث مذکورہ میں قیامت کے دن برہنہ اٹھایا جانا مذکور ہے اور اس حدیث کے اندر عالم برزخ میں کفن پوش ہونے کی حالت میں باہم ملاقات کا تذکرہ ہے ‘ ہاں احادیث مذکورہ بالا کا تعارض مندرجہ ذیل احادیث سے ضرور ہوتا ہے۔ ابو داؤد ‘ حاکم ‘ ابن حبان اور بیہقی نے بیان کیا کہ حضرت ابو سعید خدری کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے نئے کپڑے طلب فرما کر پہنے اور فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا آپ فرما رہے تھے جن کپڑوں میں مردہ مرتا ہے انہی کپڑوں میں اسے اٹھایا جائے گا۔ ابن ابی الدنیا نے حسن سند سے بیان کیا کہ حضرت معاذ بن جبل نے اپنی ماں کو نئے کپڑوں کا کفن دے کر دفن کیا اور فرمایا اپنے مردوں کو اچھے کفن دیا کرو کیونکہ انہی (کفن کے کپڑوں) میں ان کو اٹھایا جائے گا۔ سعید بن منصور نے سنن میں بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب نے فرمایا اپنے مردوں کو اچھے کفن دیا کرو کیونکہ قیامت کے دن انہی (کفن کے کپڑوں) میں ان کو اٹھایا جائے گا۔ قرطبی نے کہا کچھ علماء نے تو ان احادیث کے ظاہر (یعنی حکم کے عموم) کا اعتبار کیا ہے (اور ہر مردہ کو اچھا کفن دینے کا حکم دیا ہے) بعض نے ان احادیث کے حکم کو شہیدوں کے ساتھ مخصوص مانا ہے کیونکہ شہیدوں کو انہی کپڑوں میں دفن کرنے کا حکم ہے جن کو پہنے ہوئے وہ شہید ہوئے ہوں۔ حضرت ابو سعید نے (سمجھنے میں کچھ غلطی کی) شہید کے متعلق حکم سنا اور عام لوگوں کے واسطے عمومی حکم سمجھ گئے۔ بیہقی نے مختلف روایات کے اختلاف کو دور کرنے کے لئے کہا کہ بعض کو برہنہ اٹھایا جائے گا اور بعض کو کپڑے پہنے ہوئے۔ میں کہتا ہوں یہ تاویل اچھی ہے۔ رہی آیت مذکورہ بالا تو یہ صرف کفار کے لئے ہے کیونکہ آگے جملہ میں کفار ہی کو خطاب کیا گیا ہے۔ بل زعمتم ان لن نجعل لکم موعدا بلکہ تم یہی سمجھتے رہے کہ ہم تمہارے لئے کوئی وقت موعود نہیں لائیں گے۔ مَوْعِد وعدۂ حشر پورا کرنے کا وقت۔ لفظ بل اس جملہ میں انتقال بیان کو ظاہر کر رہا ہے ایک بیان سے دوسرے بیان کی طرف منتقل ہونے کا اظہار بل سے ہو رہا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو رہا ہے کہ برہنہ حالت میں اٹھایا جانا ان لوگوں کے لئے مخصوص ہوگا جو صلحا نہ ہوں (کافر ہوں) رسول اللہ ﷺ نے الابصار شاخصۃ (نظریں اوپر کو اٹھی ہوں گی) فرمایا اور اللہ نے فرمایا لِکُلِّ امْرِئِ مِنْہُمْ یَّوْمَءِذٍ شَاْنٌ یُغْنِیْہِ دونوں جگہ کافر ہی مراد ہیں خوف کی وجہ سے آنکھوں کا پھٹ جانا اور اوپر کو حیرت سے دیکھتے رہنا کفار کی خصوصیت ہوگی صلحاء کا یہ حال نہ ہوگا۔ البتہ یہ شبہ اس تاویل کے باوجود باقی رہتا ہے کہ اگر صلحاء عریاں نہیں اٹھیں گے تو پھر اس حدیث کا کیا مطلب ہے کہ سب مخلوق سے پہلے ابراہیم کو لباس پہنایا جائے گا ‘ اس کے ازالہ کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ اس حدیث میں قبر سے برآمد ہونے سے پہلے کی حالت کو ظاہر کیا گیا ہے قبر کے اندر صلحاء کو عزت افزائی کے لئے لباس پہنا دیا جائے گا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو سب سے پہلے پہنایا جائے گا۔ یہ جواب ضعف سے خالی نہیں۔ بعض علماء نے لکھا ہے کہ حدیث میں جو آیا ہے کہ مردہ کو اسی لباس میں اٹھایا جائے گا جس میں وہ مرنے کے وقت ہوگا ‘ اس حدیث میں لباس سے مراد اعمال ہیں یعنی مرتے وقت جو عملی حالت اس کی ہوگی ‘ اسی حالت پر اس کو اٹھایا جائے گا۔ دیکھو اللہ نے آیت وَلِبَاس التَّقْوٰی ذٰلِکَ خَیْرَمیں تقویٰ کو لباس فرمایا ہے۔
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور (عملوں کی) کتاب (کھول کر) رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا) ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو۔ (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے۔ اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا

ووضع الکتب اور اعمالنامے رکھے جائیں گے۔ الکتاب میں الف لام جنسی ہے (جس کا اطلاق کثیر پر بھی ہوتا ہے اور یہاں کثیر ہی مراد ہیں) لوگوں کے دائیں یا بائیں ہاتھوں میں یا میزان میں یا اللہ کے سامنے اعمالنامے رکھ دیئے جائیں گے۔ فتری المجرمین مشفقین مما فیہ ویقولون یویلتنا مال ہذا الکتب لا یغادر صغیرۃ ولا کبیرۃ الا احصہا پھر آپ مجرموں کو دیکھیں گے کہ اس میں جو کچھ (لکھا) ہوگا اس ڈرتے ہوں گے اور کہیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی اس نامۂ اعمال کی عجیب حالت ہے کہ بغیر لکھے نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا۔ الْمُجْرِمِیْنَیعنی وہ لوگ جن کے بائیں ہاتھوں میں اعمالنامے دیئے جائیں گے۔ مِمَّا فِیْہِان گناہوں سے جو اعمالنامے میں لکھے ہوں گے۔ یٰوَیْلَتَنَاویل ‘ بمعنی ہلاکت وہ اپنی خاص ہلاکت کو پکاریں گے پکارنے کا مقصد (موت کو بلانا نہیں ہوگا بلکہ) بےقراری کا اظہار اور دوسروں کو اپنے اوپر نازل ہونے والی مصیبت سے آگاہ کرنا مقصود ہوگا۔ مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِیہ سوال (حقیقتاً استفہام کے لئے نہ ہوگا بلکہ) اظہار تعجب کے لئے ہوگا۔ لاَ یُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَلاَ کَبِیْرَۃً کی تشریح میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا صغیرہ (بےجا) تبسم اور کبیرہ قہقہ ہے سعید بن جبیر نے کہا صغیرہ (نامحرم کا) چھو لینا بوسہ لینا اور کبیرہ زنا ہے۔ دونوں بزرگوں نے صغائر و کبائر کی مثالیں دی ہیں یہ مقصد نہیں ہے کہ اس آیت کی یہی تفسیر ہے۔ سورة نساء کی آیت اِنْ تَّجْتَنِبُوْا کَبَاءِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرُ عَنْکُمْ سَیِّٰاتِکُمْکی تفسیر میں ہم نے کبائر کی تفصیل کردی ہے۔ اِلاَّ اَحْصٰہَا مگر اعمال نامے نے اس کی گنتی کر رکھی ہے اس کا احاطہ کرلیا ہے یعنی کسی چھوٹے بڑے گناہ کو بغیر احاطہ کئے نہیں چھوڑا۔ حضرت سہل بن سعد کا بیان ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان گناہوں سے بھی بچو جن کو حقیر سمجھا جاتا ہے حقیر گناہوں کی مثال ایسی ہے جیسے کچھ لوگ کسی وادی کے اندر اترے ہوں پھر کوئی ایک لکڑی لائے کوئی دوسری لکڑی (اور ان حقیر لکڑیوں کو جمع کر کے) لوگ روٹی پکا لیں (مقصد یہ کہ حقیر اور چھوٹے گناہوں کا مجموعہ بڑا ہوجاتا ہے) حقیر گناہ (بھی) ہلاک کرنے والے کبائر (ہو جاتے) ہیں۔ رواہ البغوی۔ طبرانی نے حضرت سعدبن عبادہ کا بیان نقل کیا ہے ‘ حضرت سعد نے فرمایا جب رسول اللہ ﷺ : حنین سے فارغ ہوگئے (اور واپس ہوئے) تو ہم ایک ویران بےآب وگیاہ مقام پر اترے جہاں کچھ بھی نہ تھا ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو جو چیز بھی ملے وہ لے آئے یا جس کے پاس جو چیز موجود ہو وہ لے آئے ‘ تھوڑی دیر ہی گزرنے پائی تھی کہ ہم نے (تھوڑا تھوڑا لا کر) ڈھیر کردیا حضور ﷺ نے فرمایا تم اس کو دیکھ رہے ہو جس طرح تم نے (تھوڑا تھوڑا) جمع کر کے یہ ڈھیر کردیا اسی طرح آدمی پر (چھوٹے چھوٹے) گناہوں کا اجتماع ہوجاتا ہے۔ اس لئے تم میں سے ہر شخص پر لازم ہے کہ اللہ سے ڈرے اور چھوٹا بڑا کوئی گناہ نہ کرے (اور سمجھ رکھے کہ) ہر گناہ شمار کر کے اس کے ذمے قائم رکھا جاتا ہے۔ نسائی ‘ ابن ماجہ اور ابن حبان نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جن گناہوں کو حقیر سمجھا جاتا ہے ان سے بھی بچو کیونکہ اللہ کی طرف سے ان کا مطالبہ کرنے والا بھی (قیامت کے دن) ہوگا۔ بخاری نے بیان کیا کہ حضرت انس ؓ نے فرمایا تم لوگ کچھ ایسے اعمال کرتے ہو جو تمہاری نظروں میں بال سے زیادہ باریک اور حقیر ہوتے ہیں اور ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں ان کو ہلاکت انگیز گناہوں میں شمار کرتے تھے ‘ امام احمد نے بھی صحیح سند سے ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ ووجدا ما عملوا حاضرا اور جو کچھ انہوں نے کیا ہوگا (اعمالناموں میں لکھا ہوا) موجود پائیں گے۔ یا یہ مطلب ہے کہ تمام اعمال کا بدلہ پائیں گے۔ ولا یظلم ربک احدا۔ اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا۔ یعنی بن کیا کوئی گناہ نہیں لکھتا یا عمل کے موافق سزا میں اضافہ نہیں کرتا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کی تین پیشیاں ہوں گی ‘ دو پیشیاں تو جھگڑنے اور اپنے اپنے عذر پیش کرنے کی ہوں گی اور تیسری پیشی وہ ہوگی کہ اعمالنامے اڑ کر لوگوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں گے کوئی دائیں ہاتھ سے اعمالنامے کو لے گا کوئی بائیں ہاتھ سے۔ ابن ماجہ نے یہ حدیث حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت سے اور ترمذی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے اور بیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ کے حوالہ سے موقوفاً بیان کی ہے۔ حکیم ترمذی نے کہا پہلی پیشی جھگڑے کے لئے ہوگی ‘ یعنی بندے اپنے گناہوں سے بری ہونے کے لئے جھگڑے کریں گے وہ رب سے واقف نہیں ہوں گے اس لئے جھگڑے کریں گے اور خیال کریں گے کہ اس طرح ہم حجت پیش کرنے میں غالب ہوجائیں گے اور سزا سے بچ جائیں گے دوسری پیشی میں اللہ کی طرف سے حضرت آدم اور دوسرے انبیاء کے سامنے اتمام حجت کیا جائے گا اور دشمنوں کو عذاب دینے کی حقانیت ثابت ہوجائے گی اور اللہ ان کو دوزخ میں بھیج دے گا اور تیسری پیشی صرف مؤمنوں کی ہوگی جو ان کی مغفرت کے لئے ہوگی ‘ البتہ تنہائی میں اللہ ان کو طلب کر کے کچھ زیادہ سرزنش کر دے گا مؤمن کو (اپنا گناہ دیکھ کر) بڑی شرم آئے گی اور خجالت کا مزہ چکھے گا پھر اللہ ان کو معاف کر دے گا اور ان سے راضی ہوجائے گا۔ حضرت انس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام اعمالنامے عرش کے نیچے جمع ہوتے ہیں جب میدان قیامت ہوگا اور لوگ کھڑے ہوں گے تو اللہ ایک ہوا بھیج دے گا جو اعمالناموں کو اڑا کر لائے گی اور دائیں بائیں ہاتھوں میں پہنچا دے گی۔ سب سے اوّل اعمالنامہ میں یہ تحریر ہوگی۔ اِقْرَاءْ کِتَابَکَ کَفٰی بِنَفْسِکَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ حَسِیْبًاابن جریر نے لکھا ہے کہ قتادہ نے بیان کیا جو شخص دنیا میں پڑھا نہ ہوگا وہ بھی اس وقت نامۂ اعمال پڑھ لے گا۔