Ayah 18:14وَّرَبَطْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : اور ہم نے ان کے دل مضبوط کردیئے۔ یعنی وطن گھر بار ‘ رشتہ دار ‘ دولت مال وغیرہ کو ترک کرنے پر ان کو صابر بنایا ‘ اظہارِ حق کرنے اور دقیانوس کے حکم کو ٹھکرانے کی ان میں جرأت پیدا کردی ‘ ان کو فناء قلب کا مقام حاصل ہوگیا۔ ساری مخلوق کا تصور و خیال ان کے دلوں سے مٹ گیا ‘ ہر چیز ان کی نظروں میں ہیچ ہوگئی اور اللہ کی محبت ‘ عظمت اور خشیت ان کے دلوں میں جم گئی۔
اِذْ قَامُوْا : جب وہ کھڑے ہوئے یعنی دقیانوس نے جب بت پرستی ترک کرنے پر ان کو ملامت کی تو اس کے سامنے کھڑے ہو کر فخر کے طور پر۔
فَقَالُوْا انہوں نے کہا۔
رَبُّنَا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ لَنْ نَّدْعُوَا۟ مِنْ دُوْنِهٖٓ اِلٰـهًا
ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں کا اور زمین کا رب ہے ہم اس کے سوا کسی اور معبود کی ہرگز عبادت نہیں کریں گے۔
لَّقَدْ قُلْنَآ اِذًا شَطَطًا : اگر ہم ایسا کریں گے تو یقیناً حد سے بڑھی ہوئی بےجا بات کہیں گے۔
شَطَّ دور ہوگیا۔ یعنی ایسی بات کے قائل ہوں گے جو حق سے دور اور حد (صداقت) سے باہر اور دائرۂ ظلم میں داخل ہوگی۔
Ayah 18:15هٰٓؤُلَاۗءِ قَوْمُنَا اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖٓ اٰلِهَةً ہماری اس قوم نے اللہ کے سوا دوسروں کو معبود بنا رکھا ہے یعنی بتوں کی پوجا کرتے ہیں۔
لَوْلَا يَاْتُوْنَ عَلَيْهِمْ بِسُلْطٰنٍۢ بَيِّنٍ : بتوں کو پوجنے کی کوئی واضح دلیل یہ کیوں نہیں پیش کرتے۔ بغیر واضح دلیل کے دین کے عقائد ناقابل قبول ہیں ‘ گمان اور باپ دادا کی پیروی عقائد کی صحت کو ثابت نہیں کرسکتی ‘ عقائد میں بلا دلیل اتباع درست نہیں۔
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا جو شخص اللہ پر دروغ بندی کرے اس سے بڑھ کر ظالم بھلا کون ہے۔ یعنی جو شخص اللہ کے ساتھ کسی کو ساجھی مانتا ہو اور کسی کو اللہ کی اولاد قرار دیتا ہو اس سے بڑھ کر ظالم کوئی نہیں ‘ یوں تو کسی پر بھی دروغ تراشی ظلم ہے لیکن اللہ پر تہمت تراشی تو سب سے بڑا ظلم ہے۔
جب ان جوانوں نے دقیانوس کو دو ٹوک جواب دے دیا (اور اس نے ان کو سوچنے غور کرنے کے لئے مہلت دے کر رخصت کردیا) اور سب نے شہر سے بھاگ جانے کا ارادہ کرلیا (بلکہ بھاگ گئے تو) آپس میں کہا)
Ayah 18:16وَاِذِ اعْتَزَلْتُمُوْهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ فَاْوٗٓا اِلَى الْكَهْفِ : اور جب تم ان (بت پرستوں) سے اور
ان کے ان معبودوں (یعنی بتوں) سے جن کو اللہ کے سوا وہ پوجتے ہیں الگ ہوگئے ہو تو چل کر غار میں اپنا ٹھکانہ بنا لو (تا کہ باہر والا کوئی تم کو دیکھنے ہی نہ پائے) اصحاب کہف کی قوم والے دوسرے مشرکوں کی طرح صنم پرستی کے ساتھ خدا کی بھی پوجا کرتے تھے ‘ اس لئے اصحاب کہف کو اپنے قول میں الا اللہ کہنے کی ضرورت ہوئی (مطلب یہ کہ تم بت پرستوں اور بت پرستی سے تو الگ ہوگئے ہو مگر خدا پرستی سے الگ نہیں ہو۔ خدا پرستی میں ان کے ساتھ ہو اور بت پرستی میں ان سے بیزار)
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مَا یَعْبُدُوْنَ الاَّ اللّٰہَ اللہ کا قول بطور جملہ معترضہ بیچ میں ذکر کردیا ہو اور ما نافیہ ہو اور یعبدون کی ضمیر اصحاب کہف کی طرف راجع ہو ‘ یعنی اللہ نے فرمایا کہ اصحاب کہف اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے۔
اَوآْاِلَی الْکَہْفِ یعنی غار کی طرف منتقل ہوجاؤ۔ اسی کو اپنا مسکن اور ٹھکانہ بنا لو تاکہ کافروں کے ساتھ رہنے سے بھی بچ جاؤ۔
يَنْشُرْ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِّنْ رَّحْمَتِهٖ وَيُهَــيِّئْ لَكُمْ مِّنْ اَمْرِكُمْ مِّرْفَقًا : تمہارا رب تم کو رزق کی فراخی
عنایت کرے گا اور دونوں جہانوں میں اپنی رحمت سے تمہارے لئے کشائش فرما دے گا اور تمہارے (تمام امور) میں فائدہ کا سامان (خود) فراہم کر دے گا۔ مِرْفَقْ اسم آلہ۔ وہ ذریعہ جس سے فائدہ حاصل ہو۔ اصحاب کہف کا ایمان پختہ اور اللہ کے فضل پر بھروسہ اٹل تھا ‘ اس لئے انہوں نے یہ بات کہی۔
Ayah 18:17وَتَرَى الشَّمْسَ اِذَا طَلَعَتْ تَّزٰوَرُ عَنْ كَهْفِهِمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَاِذَا غَرَبَتْ تَّقْرِضُهُمْ ذَات الشِّمَالِ وَهُمْ فِيْ فَجْــوَةٍ مِّنْهُ : اور (اے رسول یا اے مخاطب) تو دیکھے گا کہ دھوپ جب نکلتی ہے تو ان کے غار سے بائیں جانب کو بچی رہتی ہے اور چھپتی ہے تو بائیں طرف کو ہٹی رہتی ہے اور وہ غار کے فراخ مقام میں ہیں۔
تَزٰوَرُمڑ جاتا ہے پھرجاتا ہے۔ یہ لفظ زور سے بنا ہے زور کا معنی ہے جھکاؤ۔ ذَاتَ الْیَمِیْنَ دائیں جانب ذات الشِّمَالِ بائیں جانب غار سے دائیں بائیں جانب۔ تَقْرِضُ کترا جاتا ہے ‘ ان کو کاٹ دیتا ہے ان کو چھوڑ دیتا ہے۔ فَجْوٰۃٍکشادہ جگہ ‘ یعنی وسط غار میں اصحاب کہف پڑے ہیں نسیم و صبا کے جھونکے بھی ان کو لگتے ہیں ‘ دھوپ کی گرمی سے بھی محفوظ ہیں اور غار کا کوئی دکھ ان کو نہیں پہنچتا۔
ابن قتیبہ نے لکھا ہے غار کا رخ بنات النعش کی طرف تھا۔ غار کے محاذات میں قریب ترین مشرق و مغرب راس سرطان کا مشرق و مغرب تھا جس وقت سورج کا مدار اور سرطان کا مدار ایک ہوتا تو سورج کا طلوع اس کے مقابل بجانب یمین ہوتا اور غروب کے وقت غار میں مقابل سورج بجانب شمال ہوتا ‘ اس طرح غار کے دونوں پہلوؤں پر سورج کی شعاعیں پڑتیں اور عفونت پیدا نہ ہونے پاتی تھی اور ہوا میں اعتدال قائم رہتا تھا اور آفتاب کی کرنیں اصحاب کہف کے جسموں پر نہ پڑنے پاتی تھیں کہ بدن جھلس جائیں ‘ دکھ پائیں اور کپڑے فرسودہ ہوجائیں۔
بعض علماء نے ابن قتیبہ کی اس جغرافیائی وضاحت پر تبصرہ کرتے ہوئے بیان کیا کہ بنات النعش کے سامنے غار کا ہونا خواہ اثر انداز ہو لیکن حقیقت میں اللہ کی قدرت کارفرما تھی کہ اللہ اصحاب کہف کی طرف سے سورج کو پھیر دیتا تھا۔ اسی کی طرف اشارۂ آئندہ آیت میں کیا گیا ہے۔
ذٰلِكَ مِنْ اٰيٰتِ اللّٰهِ : یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ‘ یعنی اللہ کی صنعت کی اعجوبہ کاری اور اس کی قدرت کی نشانی ہے۔
یہ بھی مطلب ہوتا ہے کہ یہ یعنی اصحاب کہف کا واقعہ اور غار میں ان کا پناہ گیر ہونا اور ان کی حفاظت کے لئے سامان فراہم کرنا اور پھر ان کا صحیح صحیح قصہ بیان کرنا ‘ اللہ کی (قدرت صنعت ‘ علم اور قرآن کی صداقت کی) ایک نشانی ہے۔
مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ: جس کو اللہ ہدایت کر دے وہی ہدایت پانے والا ہے ‘ یعنی جس کو ہدایت یاب ہونے کی توفیق دے دے وہی کامیاب اور فلاح پانے والا ہوتا ہے ‘ اس جملہ میں اصحاب کہف کی تعریف ہے اور اس امر پر تنبیہ ہے کہ اصحاب کہف کے واقعہ کی طرح آیات قدرت بہت ہیں لیکن ان سے فائدہ اندوز وہی لوگ ہوتے ہیں جن کو غور و فکر کرنے کی اللہ توفیق عنایت فرمائے۔
وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ وَلِيًّا مُّرْشِدًا : اور جس کو اللہ گمراہ کر دے (یعنی بےمدد چھوڑ دے اور ہدایت نہ کرے) اس کے لئے کوئی ذمہ دار مددگار اور ہدایت کرنے والا تم کو نہیں۔
Ayah 18:18وَتَحْسَبُهُمْ اَيْقَاظًا وَّهُمْ رُقُوْدٌ: اور (آنکھیں کھلی ہونے اور کثرت سے کروٹیں لینے کی وجہ سے) تم ان کو بیدار سمجھو گے حالانکہ وہ سو رہے ہیں۔ ایقاظ بقیظ کی اور رقود راقد کی جمع ہے جیسے قعود قاعد کی جمع ہے۔
وَّنُقَلِّبُهُمْ ذَاتَ الْيَمِيْنِ وَذَات الشِّمَال اور (خواب میں بغیر ان کے ارادے کے) ہم ان کو دائیں بائیں
کروٹ دلاتے ہیں۔ یعنی کبھی دائیں پہلو پر اور کبھی بائیں پہلو پر ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ سوتے میں وہ لوگ ادھر سے ادھر اورادھر سے ادھر کو کروٹ بدلتے رہتے تھے تاکہ (پڑے پڑے) زمین ان کے گوشت کو نہ کھالے۔ بعض علماء کا قول ہے کہ عاشورا کے دن وہ کروٹ لیتے تھے۔ حضرت ابوہریرہ کا قول ہے کہ سال میں ایک مرتبہ ان کی کروٹ ہوتی تھی۔
وَكَلْبُهُمْ بَاسِطٌ ذِرَاعَيْهِ بالْوَصِيْدِ : اور ان کا کتا غار کے دہانے کے اندر اپنے دونوں اگلے ہاتھ
پھیلائے پڑا ہے۔
مجاہد اور ضحاک نے وصید کا ترجمہ کیا ہے غار کا صحن۔ عطاء نے ترجمہ کیا دہلیز۔ سدی نے کہا وصید دروازہ کو کہتے ہیں۔ عکرمہ کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا بھی یہی قول آیا ہے۔ اکثر اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ اصحاب کہف کا کتا واقعی کتا ہی تھا ‘ بعض علماء نے کہا کتا نہ تھا ‘ شیر تھا ‘ کلب ہر درندہ کو کہتے ہیں ‘ رسول اللہ ﷺ نے عتبہ بن ابی لہب کو بددعا دی تھی اور فرمایا تھا ‘ الٰہی اپنے کسی کلب کو اس پر مسلط کر دے (بددعا قبول ہوئی) عتبہ کو شیر نے پھاڑ کھایا۔ اوّل قول معروف ہے اور دوسرا قول ابن جریج کا ہے۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا وہ چت کبرا کتا تھا۔ ایک اور روایت میں آیا قلطی سے بڑا اور کردی (کتے) سے چھوٹا۔ مقاتل نے کہا اس کا رنگ زرد تھا ‘ قرطبی نے کہا گہرا زرد مائل بسرخی تھا۔ کلبی نے کہا اس کا رنگ دھنی ہوئی اون (یا روئی) کی طرح تھا۔ بعض نے کہا حجری رنگ تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ کے قول پر اس کا نام قطمیر اور حضرت علی کے قول پر اس کا نام ریان تھا اوزاعی نے کہا تقور تھا سدی نے کہا ثور تھا اور کعب نے کہا صہبا تھا۔ خالد بن معدان نے کہا سوائے اصحاب کے کتے اور بلعم (بن باعورا) کے گدھے کے اور کوئی چوپایہ جنت میں نہیں جائے گا۔ سدی کا قول ہے اصحاب کہف کروٹ لیتے تھے تو کتا بھی ان کے ساتھ کروٹ لیتا تھا۔ اصحاب کہف دائیں طرف کروٹ لیتے تھے تو کتا اپنا دایاں کان موڑ کر (دائیں) بل پر ہوجاتا تھا اور اصحاب کہف بائیں کروٹ لیتے تھے تو کتا اپنا بایاں کان توڑ کر (بائیں) بل پر ہوجاتا تھا۔
لَوِ اطَّلَعْتَ عَلَيْهِمْ لَوَلَّيْتَ مِنْهُمْ فِرَارًا وَّلَمُلِئْتَ مِنْهُمْ رُعْبًا : (اے مخاطب) اگر تو ان کو
جھانک کر دیکھ پائے تو ان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑا ہو اور تیرے اندر ان کی دہشت سما جائے۔ یعنی تمہارا دل خوف زدہ ہوجائے گا اور اس میں رعب بھر جائے گا۔ خوف کی وجہ اس مقام کی وحشت اور سنسان پن ہے۔ کلبی نے کہا اصحاب کہف کی آنکھیں بیدار آدمیوں کی طرح کھلی ہوئی ہیں ‘ معلوم ہوتا ہے اب بولنے ہی والے ہیں (منظر بڑا خوف آگیں ہے) بعض کا قول ہے ان کے بال بڑھے ہوئے اور ناخن لمبے ہوگئے ہیں۔ بعض علماء کا خیال ہے کہ اسی ہولناکی اور رعب آگینی کی وجہ سے کوئی وہاں جا نہیں سکتا۔ اس مقام کی رعب آگینی مانع دخول ہے ‘ یہی قول صحیح بھی ہے۔ سعید بن جبیر کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہم معاویہ کی معیت میں روم کے جہاد کو گئے۔ راستہ میں اصحاب کہف کے غار کی طرف سے گزر ہوا ‘ معاویہ بولے اگر (غار کے دہانہ یا بیچ کی دیوارکو) کھول دیا جاتا تو ہم اصحاب کہف کو دیکھ لیتے۔ میں نے کہا وہ ذات جو آپ سے بہتر تھی اس کو بھی اس سے روک دیا گیا تھا اللہ نے فرما دیا تھا ‘ لَواطَّلَعْتَ عَلَیْہِمْ تَوَلَّیْتَ مِنْہُمْ فِرَارًامعاویہ نے میری بات نہیں سنی اور کچھ لوگوں کو دیکھنے کے لئے بھیج دیا وہ لوگ جب غار میں داخل ہوئے تو اللہ نے کوئی ہوا (زہریلی گیس) ایسی پیدا کردی کہ سب جل گئے۔ اخرجہ ابن ابی شیبۃ وابن المنذر وابن ابی حاتم۔
Ayah 18:19وَكَذٰلِكَ بَعَثْنٰهُمْ اور اسی طرح ہم نے ان کو اٹھایا ‘ یعنی جس طرح نشان قدرت بنا کر غار کے اندر ہم نے طویل مدت تک ان کو سلایا اور ان کے اجسام کو سڑنے گلنے سے محفوظ رکھا۔ اسی طرح اس موت نما خواب سے ان کو بیدار کیا تاکہ ان کے بیدار ہونے سے بھی قدرت خداوندی کا مظاہرہ ہو۔
لِيَتَسَاۗءَلُوْا بَيْنَهُمْ تاکہ وہ آپس میں سوال (و جواب یعنی پوچھ گچھ) کریں اور اپنی حالت کا ان کو علم ہوجائے اور اپنے ساتھ اللہ کے سلوک کو پہچان کر قدرت خداوندی کا ان کو مزید یقین ہوجائے اور وقوع قیامت کے عقیدے میں بصیرت آگیں پختگی پیدا ہوجائے۔ اس تفسیر پر لیتساء لوا میں لام علت کے لئے ہوگا۔ یعنی بیدار کر کے اٹھانے کی علت یہ تھی کہ وہ باہم سوال و جواب کریں ‘ بغوی نے اس لام کو لام عاقبت (لام نتیجہ) قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ ان کے اٹھانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ انہوں نے باہم سوال جواب کئے اصل غرض یہ نہ تھی۔
قَالَ قَاۗىِٕلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ ۭ قَالُوْا لَبِثْنَا يَوْمًا اَوْ بَعْضَ يَوْمٍ : ان میں سے ایک کہنے والے نے کہا آپ
لوگ کتنی مدت (سوتے) رہے۔ دوسروں نے جواب دیا (پورے) ایک دن ہم (سوتے) رہے یا کچھ کم ایک دن۔ اصحاب کہف کو بیدار ہونے کے بعد یہ تو محسوس ہوا کہ ہم زیادہ دیر سوئے (لیکن دیر کی مقدار کتنی زیادہ ہوگئی اس میں اختلاف رائے ہونے لگا) بعض اقوال میں آیا ہے کہ زیادہ دیر سونے سے ان کی کچھ نمازیں فوت ہوگئی تھیں اس لئے (بطور افسوس یا بطور تعجب) انہوں نے یہ بات کہی۔
غار میں صبح کو داخل ہوئے اور شام کو بیدار ہوئے اس لئے انہوں نے دن بھر سوتے رہنا ظاہر کیا۔ لیکن آفتاب ڈوبا نہ تھا یہ دیکھ کر کچھ کم ایک دن کہا ‘ غرض یہ جواب محض تخمینی تھا اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ غالب ظن کی بنیاد پر کوئی بات کہنا جائز ہے۔
اصحاب کہف نے جب اپنے بال اور ناخن بڑھے ہوئے دیکھے تو خیال کیا کہ ایک دن نہیں بلکہ ہم کو سوتے سوتے (شاید) کوئی لمبی مدت ہوگئی اس لئے۔
قَالُوْا رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ بولے تمہارے رب کو بخوبی علم ہے تم لوگ کتنی دیر (سوتے) رہے۔ بعض اقوال میں آیا کہ ان کی جماعت کا سردار مکسلمینا تھا جب اس نے یہ اختلاف دیکھا تو اس نے کہا اس جھگڑے کو چھوڑو۔ اللہ ہی جانے تم کتنا سوتے رہے۔
فَابْعَثُوْٓا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖٓ اِلَى الْمَدِيْنَةِ اپنے میں سے کسی کو (یعنی تملیخا کو) یہ روپیہ دے کر
شہر (طرطوس) کو بھیجو۔ دور جاہلیت میں اس شہر کا نام افسوس تھا ‘ عہد اسلامی میں افسوس کی بجائے طرطوس ہوگیا (روپیہ اصحاب کہف کے پاس تھا) اس لئے معلوم ہوا کہ روپیہ اور توشہ ساتھ لینا (توکل کے خلاف نہیں بلکہ) متوکلوں کی شان ہے۔
ورق ‘ چاندی ٹھپہ دار ہو یا سادہ۔
فَلْيَنْظُرْ اَيُّهَآ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْيَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ پھر تحقیق کرے کہ کون سا کھانا حلال ہے سو اس میں
سے تمہارے پاس کچھ کھانا لے آئے (مولانا اشرف علی (رح) ۔ لیکن حضرت مفسر (رح) نے حسب ذیل تشریح کی۔
اَیُّہَا یعنی اس شہر کے رہنے والوں میں کون زیادہ حلال کھانا بیچتا ہے جو کسی سے چھینا ہوا نہ ہو اور کسی حرام ذریعہ سے حاصل کیا ہوا بھی نہ ہو یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے نام پر ذبح کیا ہوا ہو۔ ضحاک نے ازکیٰ کا ترجمہ کیا پاکیزہ ترین مقاتل بن حبان نے کہا نہایت عمدہ عکرمہ نے کہا مقدار میں زیادہ زکوٰۃ کا لغوی معنی ہے افزونی ‘ زیادتی۔ بعض نے کہا ازکیٰ سے مراد ہے بہت سستا۔
وَلْيَتَلَطَّفْ اور خوش تدبیری سے کام لے یعنی مہنگا نہ لے آئے یا یہ مطلب ہے کہ اپنے کو پوشیدہ رکھے کسی کو پتہ نہ ہونے پائے۔
وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ اَحَدًا : اور کسی کو تمہاری سن گن نہ ہونے دے یعنی کوئی ایسی حرکت نہ کرے جس سے نادانستگی میں تمہارا کچھ پتہ چل جائے۔
Ayah 18:20اِنَّهُمْ اِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ کیوں کہ ان لوگوں نے اگر تمہاری اطلاع پا لی یا تم پر ان کا قابو چل گیا۔ يَرْجُمُوْكُمْ : پتھر مار مار کر وہ تم کو ہلاک کردیں گے۔ (اگر تم نے مرتد ہونا قبول نہیں کیا اور ان کے بتوں کی پوجا نہ کی) ۔
اَوْ يُعِيْدُوْكُمْ فِيْ مِلَّتِهِمْ (یا اگر تم نے ارتداد کو قبول کرلیا) تو تم کو اپنے مذہب میں لوٹا لیں گے۔ شاید اصحاب کہف پہلے ان کے ہم مذہب تھے پھر مؤمن بن گئے۔ یا یہ مطلب ہے کہ جبراً تم کو اپنے مذہب میں داخل کرلیں گے۔ اس مطلب پر اعادہ کا معنی (لوٹا لینا نہ ہوگا بلکہ داخل کرنا ہوگا۔
وَلَنْ تُفْلِحُوْٓا اِذًا اَبَدًا : اور اس وقت (یعنی اگر تم نے ان کے مذہب میں داخل ہونا قبول کرلیا تو) کبھی بھی بہبودی نہیں پاؤ گے۔ (کبھی عذاب سے نجات نہیں ملے گی)
Ayah 18:21وَكَذٰلِكَ اَعْثَرْنَا عَلَيْهِمْ لِيَعْلَمُوْٓا اَنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ وَّاَنَّ السَّاعَةَ لَا رَيْبَ فِيْهَا
اور اسی طرح ہم نے لوگوں کو ان پر مطلع کردیا تاکہ وہ لوگ اس بات کا یقین کرلیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور قیامت (کے آنے) میں کوئی شک نہیں ہے۔
یعنی جس طرح ہم نے اصحاب کہف کو سلایا اور بصیرت پیدا کرنے کے لئے جگایا ‘ اٹھایا اسی طرح ہم نے لوگوں کو بھی ان پر مطلع کردیا تاکہ طویل نیند کے بعد بیدار کردینے سے وہ اطلاع پانے والے سمجھ جائیں کہ موت کے بعد قبروں سے (زندہ کر کے) اٹھانے کا اللہ نے جو وعدہ کیا ہے وہ حق ہے اور امکان قیامت میں کوئی شک نہیں جس خدا نے اصحاب کہف کی روحوں کو اپنے پاس محفوظ رکھا اور اتنی طویل مدت تک جسموں کو گلنے سڑنے نہ دیا ‘ پھر ان کی روحیں واپس کردیں اور نیند سے بیدار کردیا ‘ وہی خدا اس بات پر قادر ہے کہ سب انسانوں کی روحوں کو اپنے پاس روک رکھے اور پھر قیامت کے دن سب کو قبروں سے زندہ کر کے اٹھا دے۔
اِذْ يَتَنَازَعُوْنَ بَيْنَهُمْ اَمْرَهُمْ فَقَالُوا ابْنُوْا عَلَيْهِمْ بُنْيَانًا ۭ رَبُّهُمْ اَعْلَمُ بِهِمْ ۭ قَالَ الَّذِيْنَ غَلَبُوْا عَلٰٓي اَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِمْ مَّسْجِدًا : وہ وقت بھی قابل ذکر ہے ‘ جب اس زمانے کے لوگ اصحاب کہف کے معاملہ میں باہم جھگڑ رہے تھے ‘ سو ان لوگوں نے یہ کہا کہ ان کے پاس کوئی عمارت بنوا دو ۔ ان کا رب ان کو خوب جانتا تھا ‘ جو لوگ اپنے کام پر غالب تھے (یعنی حاکم وقت تھے) انہوں نے کہا ہم تو ان کے پاس ایک مسجد بنا دیں گے (مولانا اشرف علی (رح) )
حضرت مفسر قدس سرہ نے تفسیر آیات اس طرح کی ہیں۔
اِذْ یَتَنَازَعُوْنَ کا تعلق اَعْثَرْنَا سے ہے یعنی لوگوں کو ہم نے اصحاب کہف پر مطلع اس وقت کیا جب وہ باہم اپنے دین کے متعلق جھگڑ رہے تھے۔ عکرمہ نے کہا دوبارہ آدمیوں کے حشر کے متعلق ان کا آپس کا اختلاف تھا۔ غیر مسلم کہتے تھے حشر صرف ارواح کا ہوگا اجسام کا نہ ہوگا مسلمانوں کا قول تھا۔ ارواح کا مع اجسام کے ہوگا۔ اللہ نے اصحاب کہف کو اٹھا کر دکھا دیا کہ حشر ‘ ارواح اور اجسام دونوں کا ہوگا یا یہ مراد ہے کہ اصحاب کہف کے معاملہ میں لوگوں کا اختلاف ہوگیا جب اصحاب کہف بیدار ہونے کے بعد دوبارہ لیٹ گئے اور غافل ہوگئے تو بعض لوگوں نے کہا اس مرتبہ بھی وہ سو گئے ہیں مرے نہیں ہیں اور کچھ لوگوں نے کہا اب کی مرتبہ تو مرگئے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اصحاب کہف کے بعد مسلمانوں میں اور ان کے مخالفوں میں اختلاف رائے ہوگیا ‘ مسلمانوں نے تو کہا ہم یہاں مسجد بنائیں گے یہ لوگ ہمارے ہم مذہب تھے ‘ غیر مسلموں نے کہا ہم یہاں عمارتیں بنائیں گے جن کے اندر لوگ آباد ہوں گے اور ایک بستی آباد کریں گے یا غار کے دروازے پر ایسی عمارت بنائیں گے جس سے لوگوں کا اندر جانا بند ہوجائے ‘ غار والے ہمارے رشتہ دار اور بھائی بردار تھے اس لئے تعمیر کا ہم کو حق ہے۔
رَبُّہُمْ اَعْلَمُ بِہِمْ اللہ کی طرف سے ایک جملۂ معترضہ ہے جو جھگڑا کرنے والوں کے کلام کے درمیان اللہ نے ذکر کردیا ہے اس جملہ کا مقصد دونوں فریقوں کے قول کی تردید ہے۔ ہر فریق نے اصحاب کہف کو اپنے ساتھ ملایا تھا ‘ حالانکہ اصحاب کہف مشرکوں سے اور ان کے شرک سے جس طرح علیحدہ تھے ‘ اسی طرح عام مسلمانوں کے گروہ میں بھی ان کا شمار نہیں تھا ‘ ان کا درجہ بہت اونچا تھا ‘ صوفی سب کے ساتھ بھی ہوتا ہے اور سب سے الگ بھی۔ شیخ رومی (رح) نے کیا خوب کہا ہے
ہر کسے در ظن خود شد یار من وز درون من نجست اسرارِ من
یا یہ انہی اختلاف کرنے والوں کا قول ہے جن کا اختلاف مدت قیام کے متعلق بھی تھا اور نسب کے متعلق بھی اور اصحاب کہف کے دوسرے احوال کے متعلق بھی لیکن جب کوئی اتحادی رائے قائم نہ ہوسکی تو بولے اللہ ہی کو ان کا صحیح علم ہے (کہ وہ کون تھے ان کے حالات کیا تھے اور کتنی مدت سوتے رہے)
مسئلہ (حضرت مفسر (رح) کے نزدیک) یہ آیت دلالت کر رہی ہے کہ اولیاء کی قبروں کے پاس نماز پڑھنے کے لئے مسجد بنانا جائز ہے تاکہ اولیاء کے مزارات کے قرب سے برکت حاصل ہو۔ شیخ استاذ محمد فاخر محدث کے نزدیک مکروہ ہے ‘ کراہت کا ثبوت مندرجہ ذیل احادیث سے ہوتا ہے۔
مسلم نے ابوالہیاج اسدی کا قول نقل کیا ہے ‘ ابوالہیاج نے کہا مجھ سے حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ میں تجھے اس کام پر نہ بھیجوں جس کام پر رسول اللہ ﷺ نے مجھے بھیجا تجھے جو مورتی ملے اس کو مٹا دینا اور جو اونچی قبر ملے اس کو بغیر ہموار کئے (سطح زمین کے برابر کئے) نہ چھوڑنا۔
مسلم نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبر کو پختہ کرنے اس پر بیٹھنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع فرمایا ہے۔
شیخین نے حضرت عائشہ ؓ : اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ دونوں بزرگوں نے فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ پر شدت مرض ہوئی (کہ بےہوشی طاری ہوگئی) تو آپ کے چہرۂ مبارک پر چادر ڈال دی گئی ‘ لیکن دم گھٹنے لگا تو آپ نے چادر کو چہرہ سے ہٹا دیا اور اسی حالت میں فرما رہے تھے اللہ کی لعنت ہو یہود و نصاریٰ پر جنہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا رکھا تھا۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ (امت کو) اہل کتاب کی طرح کرنے سے ڈرا رہے تھے۔
میں کہتا ہوں ان احادیث سے قبروں کو پختہ کرنے اور اونچا کرنے اور ان کے اوپر عمارت بنانے کی ممانعت ثابت ہو رہی ہے ‘ قبروں کے قریب مسجد بنانے کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی ‘ رہی یہ بات کہ رسول اللہ ﷺ نے اہل کتاب کی مذمت میں فرمایا ‘ انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو مسجدیں بنا لیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے قبروں کو سجدے کرنے شروع کردیئے۔ حضرت ابو مرثد غنوی کی روایت سے یہ مطلب صراحت کے ساتھ آیا ہے رسول اللہ : ﷺ نے فرمایا قبروں پر نہ بیٹھو اور ان کی طرف (رخ کر کے) نماز نہ پڑھو۔ رواہ مسلم۔
Ayah 18:22سَيَقُوْلُوْنَ ثَلٰثَةٌ رَّابِعُهُمْ كَلْبُهُمْ ۚ وَيَقُوْلُوْنَ خَمْسَةٌ سَادِسُهُمْ كَلْبُهُمْ رَجْمًۢا بالْغَيْبِ ۚ وَيَقُوْلُوْنَ سَبْعَةٌ وَّثَامِنُهُمْ كَلْبُهُمْ : بعض لوگ تو کہیں گے وہ تین ہیں چوتھا ان کا کتا ہے اور بعض کہیں گے وہ پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے
اور (یہ لوگ) بےتحقیق اندھیرے میں تیر چلا رہے ہیں اور بعض کہیں گے وہ سات ہیں آٹھواں ان کا کتا ہے۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اصحاب کہف کی تعداد میں اختلاف کرنے والے کہیں گے کہ وہ تین تھے ‘ چوتھا کتا تھا اور (کچھ لوگ کہیں گے) وہ پانچ تھے ‘ چھٹا کتا تھا ‘ ان کا یہ قول اندھیرے میں تیر چلانے کے طور پر ہے کسی واقعی ثبوت پر مبنی نہیں ہے بغوی نے لکھا ہے کہ نجران کے عیسائی جن میں سید (یعقوبی فرقہ کا) اور عاقب (نسطوری فرقہ کا) بھی شامل تھے ‘ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں بیٹھے تھے کہ اصحاب کہف کی تعداد کے متعلق ان کے آپس میں اختلاف ہوگیا ‘ سید نے کہا وہ تین تھے چوتھا کتا تھا۔ عاقب نے کہا پانچ تھے چھٹا کتا تھا۔ رجم تیر چلانا (پتھر مارنا) الغیب یعنی ایسا واقعہ جو غائب ہے ان کے علم میں نہیں (یعنی ان کے یہ قول اندھیرے میں تیر چلانے کی طرح ہیں ‘ کسی کو صحیح طور پر معلوم نہیں کہ واقع میں وہ کتنے تھے ‘ لیکن جبرئیل ( علیہ السلام) کی اطلاع اور رسول اللہ ﷺ کے خبر دینے کے بعد مسلمان کہیں گے کہ وہ سات تھے اور آٹھواں کتا تھا وَثَامِنُہُمْ کَلْبُہُمْ کا جملہ وصفیہ ہے جو سبعۃٌ کی صفت ہے۔ صفت اپنے موصوف سے وابستہ ہوتی ہے اور حال اپنے ذوالحال سے متصل ہوتا ہے۔ جب معرفہ ذوالحال ہو اور جملہ حال تو اس کی باہم وابستگی ایسی ہی ہوتی ہے جیسی صفت کی موصوف کے ساتھ۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ وَثَامِنُہُمْ کَلْبُہُمْمیں واو ثمانی ہے۔ عرب کا قاعدہ ہے کہ سات تک کی گنتی تو بغیر حرف عطف کے کرتے ہیں اور آٹھویں عدد کو واو عطف سے شروع کرتے ہیں ‘ ایک دو ‘ تین ‘ چار ‘ پانچ ‘ چھ ‘ سات اور آٹھ ‘ قرآن میں آیا ہے۔
التَّاءِبُوْنَ ۔ العابدون۔ الحامدون۔ السائحون۔ الراکعون۔ الساجدون۔ الامرون بالمعروف والناہوں عن المنکر۔ ایک اور آیت میں آیا ہے
مسلمات ‘ مؤمنات ‘ قانتات ‘ تائبات ‘ عابدات ‘ سائحات ‘ ثیباتٍ و ابکاراً ۔
قُلْ رَّبِّيْٓ اَعْلَمُ بِعِدَّتِهِمْ مَّا يَعْلَمُهُمْ اِلَّا قَلِيْلٌ: آپ کہہ دیجئے کہ میرا رب ان کی (صحیح) تعداد سے
بخوبی واقف ہے اور ان کو (یعنی صحیح گنتی ان لوگوں کی) صرف تھوڑے آدمی جانتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عیسائیوں میں سے تھوڑے آدمی ان کی صحیح تعداد سے واقف ہیں۔ سب لوگوں میں سے صرف تھوڑے آدمی یعنی مسلمان اصحاب کہف کی صحیح تعداد کو جانتے ہیں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میں ان تھوڑے آدمیوں میں سے ہوں جو اصحاب کہف کی صحیح تعداد سے واقف ہیں وہ سات تھے۔ رواہ ابن جریر والفریابی وغیرہما۔ اسی طرح ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ وہ سات تھے ‘ آٹھواں کتا تھا۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ تعداد اصحاب کہف کے متعلق اللہ نے صرف تین اقوال بیان فرمائے کوئی چوتھا قول نہیں نقل کیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ کوئی چوتھا قول ہی نہ تھا پہلے دونوں قولوں کی رَجْمًا بالْغَیْبِ کا لفظ کہہ کے تردید کردی اور تیسرے قول کی تردید نہیں کی۔ معلوم ہوا کہ تیسرا قول ہی حق ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ اصحاب کہف کے نام حضرت ابن عباس ؓ کے قول میں اس طرح آئے ہیں ‘ مکسلمینا ‘ تملیخا ‘ مرطونس ‘ سنونس ‘ ساری نونس ‘ ذونواس ‘ کعسططیونس ‘ یہ آخری شخص چرواہا تھا (جو اصحاب کہف کی جماعت میں شامل ہوگیا تھا) رواہ الطبرانی فی الاوسط باسناد صحیح۔ شیخ ابن حجر نے شرح بخاری میں لکھا ہے ان اسماء کے تلفظ میں بڑا اختلاف ہے ‘ کوئی قابل اعتماد تلفظ نہیں۔
فَلَا تُمَارِ فِيْهِمْ اِلَّا مِرَاۗءً ظَاهِرًا : سو آپ ان کے بارے میں بجز سرسری بحث کے زیادہ بحث نہ کیجئے۔
یعنی اصحاب کہف کی تعداد میں ان لوگوں سے آپ صرف سطحی اختلاف و مناظرہ کرسکتے ہیں کوئی گہرا اختلاف نہ کریں ‘ زیادہ غور و خوض کرنے یا ان کو جاہل قرار دینے کی ضرورت نہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں۔
وَّلَا تَسْتَفْتِ فِيْهِمْ مِّنْهُمْ اَحَدًا اور اصحاب کہف کے (حالات ‘ تعداد یا قصہ کے) متعلق ان میں سے کسی
سے (تحصیل علم اور صحیح معلومات کے حصول کے لئے) دریافت بھی نہ کریں۔ یعنی اللہ نے جو آپ کو بتادیا ہے وہ کافی ہے ان کو اتنا بھی علم نہیں ہے پھر سوال بےسود ہے ‘ اس کے علاوہ آپ کا مقصد سوال ان لوگوں کو لاجواب یا رسوا کردینا بھی نہیں یہ مکارم اخلاق کے خلاف ہے ‘ اس لئے ان سے دریافت ہی نہ کریں۔
ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی کام کے سلسلے میں پختہ وعدہ کیا تھا (مگر انشاء اللہ نہیں فرمایا تھا) چالیس دن گزر گئے (اور وہ کام نہ ہوا) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 18:23وَلَا تَقُوْلَنَّ لِشَايْءٍ اِنِّىْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًا : اور آپ کسی کام کی نسبت یوں نہ کہا کیجئے کہ میں اس کو کل کر دوں گا۔
Ayah 18:24اِلَّآ اَنْ يَّشَاۗءَ اللّٰهُ ۡ: مگر مشیت خدا کو ملا دیا کیجئے (یعنی انشاء اللہ ضرور کہہ دیاکیجئے)
ابن المنذر نے مجاہد کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ یہودیوں نے قریش سے کہا تھا ان سے روح اور اصحاب کہف اور ذوالقرنین کے متعلق سوال کرو۔ قریش نے حضور : ﷺ سے یہ سوالات کئے حضور : ﷺ نے فرمایا ‘ کل میرے پاس آنا میں بتادوں گا لیکن انشاء اللہ نہیں فرمایا ‘ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ اوپر دس روز تک کوئی وحی ہی نہیں آئی آپ کو اس سے بڑی بےچینی ہوگئی ادھر قریش نے کہا تم جھوٹے ہو ‘ اس موقع پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ شروع سورت کی تشریح میں اس مضمون کی ابن جریر کی روایت کردہ تفصیل ہم لکھ چکے ہیں اور سورت بنی اسرائیل کی آیت وَیَسْءَلُوْنَکَ عَنِ الرُّوْحِ کے ذیل میں یہ روایت ذکر کردی گئی ہے۔
آیت مذکورہ میں انشاء اللہ کہے بغیر کسی آئندہ کام کو کرنے کے وعدہ کی ممانعت رسول اللہ : ﷺ کو ادب آموزی کے لئے کی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی کام کو پختہ طور پر کرنے کا ارادہ ہو تو کبھی بھی مشیت الٰہی سے وابستہ کئے بغیر اس کام کو کرنے کا وعدہ نہ کرو۔
وَاذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِيْتَ اور جب آپ بھول جائیں تو اپنے رب کا ذکر کیا کیجئے۔ یعنی اگر انشاء اللہ
کہنا بھول جاؤ تو تسبیح و استغفار کرو۔ اس جملہ میں انشاء اللہ کہنے کی مزید اہمیت ظاہر کی گئی ہے۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے کسی حکم کی تعمیل تم بھول جاؤ تو اللہ کو اور اس کے عذاب کو یاد کرو تاکہ نسیان کی تلافی ہوجائے۔ یا یہ معنی ہے کہ اگر تم کسی بات کو بھول جاؤ تو اللہ کو یاد کرو ‘ تاکہ اللہ تم کو وہ بات یاد دلا دے۔
عکرمہ نے کہا آیت کا مطلب یہ ہے کہ جس وقت تم کو غصہ آئے تو اللہ کو یاد کرو۔ وہب کا بیان ہے ‘ انجیل میں آیا ہے ‘ اے ابن آدم تجھے غصہ آئے تو مجھے یاد کر (غصہ ٹھنڈا پڑجائے گا) جب مجھے غصہ آئے گا تو میں بھی تیری یاد کروں گا (اور تیری کمزوری پر رحم کروں گا)
ضحاک اور سدی کے نزدیک آیت مذکورہ کا حکم نماز سے تعلق رکھتا ہے (نماز میں کچھ بھول جاؤ تو اللہ کو یاد کرو یا یہ معنی ہے کہ نماز پڑھنی بھول جاؤ تو جس وقت یاد آجائے پڑھ لو۔ حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص نماز پڑھنی بھول جائے تو جس وقت یاد آجائے پڑھ لے۔۔ رواہ البغوی۔ امام بخاری ‘ مسلم ‘ امام احمد ‘ ترمذی اور نسائی کی روایت میں حدیث ان الفاظ کے ساتھ آئی ہے۔ جو شخص نماز کو بھول جائے یا سو جائے (یا سوتا رہے) اور نماز نکل جائے تو اس کا اتار یہ ہے کہ جب یاد آجائے تو فوراً پڑھ لے۔
حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ جو شخص وتر کی طرف سے سو جائے (یعنی سو جانے یا سوتا رہنے کی وجہ سے وتر نہ پڑھ سکے) یا وتر (پڑھنا) بھول جائے تو جب یاد آجائے پڑھ لے۔ رواہ احمد والحاکم و صحیحہ۔
حضرت ابن عباس : ؓ ‘ مجاہد اور حسن نے کہا ‘ آیت کا معنی یہ ہے کہ انشاء اللہ کہنا اگر بھول جاؤ تو جس وقت بھی یاد آئے انشاء اللہ کہہ لو۔ اسی تشریحی مطلب کی وجہ سے ان حضرات کے نزدیک (آج کے کلام سے متعلق) ایک سال بعد بھی انشاء اللہ کہنا درست ہے بشرطیکہ انشاء اللہ کہنے سے پہلے کلام کے خلاف کوئی حرکت نہ کی ہو۔ اس مطلب کی تائید ابن مردویہ کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس آیت کے نزول کے بعد رسول اللہ ﷺ نے (کچھ اوپر دس روز یا چالیس روز کے بعد) انشاء اللہ کہہ لیا۔
جمہور فقہاء کا فتویٰ حضرت ابن عباس کے قول کے خلاف ہے۔ فقہاء نے صراحت کی ہے کہ اگر کوئی غیر مستقل کلام ایسا ہو جس سے پہلے کلام کے حکم میں تبدیلی آرہی ہو تو اس کو پہلے کلام کے بالکل متصل اور ساتھ ساتھ ہونا چاہئے۔ مثلاً اگر کلام کو کسی شرط کے ساتھ مشروط کرنا ہے یا کلام کو انشاء اللہ کے ساتھ مقید کرنا ہے یا غایب زمانی و مکانی کو ظاہر کرنا ہے یا کسی مبدل منہ کے بعد بدل بعض کو بیان کرنا ہے تو شرط اور انشاء اللہ اور غایت اور بدل بعض پہلے کلام کے بعد متصلاً ذکر کرنا ضروری ہے اگر دیر کے بعد لگائی ہوئی شرط یا قید کو معتبر مانا جائے گا تو نہ کوئی اقرار صحیح ہوگا نہ طلاق نہ غلام کی آزادی۔ نہ صدق معلوم ہوگا نہ کذب (مثلاً زید نے اقرار کیا کہ عمر کا مجھ پر اتنا روپیہ قرض ہے اور کچہری سے نکلنے کے بعد اس نے کہا بشرطیکہ عمر مجھے فلاں چیز دے دے ‘ یا زید نے بیوی کو طلاق دے دی یا غلام کو آزاد کردیا اور دو گھنٹہ کے بعد کسی شرط کے ساتھ مشروط کردیا اسی طرح زید نے کوئی بات کہہ دی ‘ اب معلوم نہیں کہ اس نے جھوٹ کہا یا سچ۔ ممکن ہے کل کو وہ اپنے گزشتہ کلام کو کسی شرط کے ساتھ مشروط یا کسی قید کے ساتھ مقید کر دے اور اس وقت کا سچ کل کو جھوٹ ثابت ہوا ایک واقعہ منقول ہے کہ خلیفہ منصور کو کسی نے اطلاع دی کہ امام ابوحنیفہ آپ کے دادا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے قول کے خلاف فتویٰ دیتے ہیں اور انشاء اللہ کی شرط کو کلام سے متصل ہونا ضروری قرار دیتے ہیں اور دیر کے بعد انشاء اللہ کہنے کا کوئی اعتبار نہیں کرتے خلیفہ نے امام ابوحنیفہ کو طلب کیا ‘ امام ابوحنیفہ نے خلیفہ کے سوال کے جواب میں فرمایا ‘ حضرت ابن عباس ؓ : کا فتویٰ تو آپ کے خلاف پڑتا ہے ‘ آپ رعایا سے فرماں بردار اور وفادار رہنے کی بیعت لیتے ہیں اور لوگ بیعت کرتے ہیں لیکن آپ کے دربار سے نکلنے کے بعد اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیں تو کیا ان کی بیعت قابل اعتبار نہیں رہے گی۔ منصور نے امام ابوحنیفہ کے قول کو مان لیا اور امام کے خلاف جس نے مخبری کی تھی اس کو دربار سے نکلوا دیا۔
رہا ابن عباس کا یہ استدلال کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کے نزول کے بعد انشاء اللہ فرمایا تھا تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ آپ نے پچھلی غلطی کی تلافی نزول آیت کے بعد انشاء اللہ کہہ کر کی تھی بلکہ آیت میں جو آپ کو ہر عزم اور قول کے وقت انشاء اللہ کہنے کا حکم دیا گیا تھا آپ ﷺ نے انشاء اللہ فرما کر یہ ظاہر کردیا کہ آئندہ انشاء اللہ میں اس حکم کی تعمیل کرتا رہوں گا۔
صوفیا نے آیت واذْکُرْ رَبَّکَ اِذَا نَسِیْتَکی ایک بہت ہی پُر کیف تشریح کی ہے ‘ آیت کا مطلب بر قول صوفیا یہ ہے کہ جب اللہ کے سواتم ہر چیز کو بھول جاؤ ‘ اس وقت خالص دل سے اللہ کو یاد کرو۔ صوفیا کہتے ہیں اللہ کی ہمہ وقت یاد اس وقت تک نہیں ہوسکتی ‘ جب تک ماسوا کے تصور کو دل سے مٹا نہ دیا جائے ‘ عام طور پر دل کی حالت بدلتی رہتی ہے۔ یکسوئی عموماً نہیں رہتی اور ظاہر ہے کہ ایک آدمی کے دو دل تو ہیں نہیں کہ ایک میں یاد خدا جمی رہے اور دوسرے میں مخلوق کا ذکر قائم رہے دل ایک ہی ہے جب اس میں ماسوی اللہ کا تصور ہوگا تو اللہ کی یاد میں فتور آجائے گا اور اللہ کے سوا اگر ہر چیز کو دل فراموش کر دے گا اور ماسوی اللہ کے تصور کو مٹا دے گا تو دل ہر دم یاد الٰہی میں مشغول اور غرق رہے گا ‘ اسی کو فناء قلب کہتے ہیں جب تک فناء قلب کا درجہ حاصل نہ ہوجائے صوفی اس کو موحد نہیں کہتے۔ حضرت مفسر (رح) نے لکھا ہے کہ صوفیاء کی تشریح ہی کتاب اللہ کی صراحت اور عربی قوانین لغت کے زیادہ مناسب ہے اس قول پر مجازی معنی کی طرف رجوع کرنا بھی نہیں پڑتا دیکھو اِذَا نَسِیْتَکا تعلق اُذْکُرْسے ہے ‘ یعنی بھولنے کے وقت اللہ کی یاد کرو۔ بھولنا اور یاد کرنا دو متضاد فعل ہیں ایک وقت میں دونوں کا اجماع نہیں ہوسکتا لا محالہ مجازی معنی مراد لینا ہوگا۔ دونوں فعل جدا جدا مختلف اوقات اور مختلف حالات میں ظاہر ہوں گے اور آیت میں تاویل کرنی پڑے گی ‘ کوئی بھی تاویل کی جائے مجاز کی طرف رجوع کئے بغیر چارۂ کار نہ ہوگا ‘ البتہ صوفیاء کا قول مبنی بر حقیقت ہے ذکر رب ‘ نسیان ماسوا کے وقت ہی ہوتا ہے اور اسی کو ذکر رب کہتے ہیں جس میں ماسوا کا نسیان ہوجائے۔
وَقُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّهْدِيَنِ رَبِّيْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا : اور کہہ دیجئے کہ مجھ کو امید ہے میرا رب
(نبوت کی صداقت کو) اس سے بھی زیادہ قریب الوصول بنا دے گا۔
اقرب رَشَدًاسے مراد ہے کوئی ایسی بہتری جو متصل ہی آنے والی ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اگر انشاء اللہ کہنا یا اللہ کے کسی حکم کی تعمیل کرنا تم بھول جاؤ تو اللہ کی یاد کرو یعنی تسبیح و استغفار کرو اور کہو کہ امید ہے اللہ مجھے کوئی ایسی راہ بتادے گا جو فراموش شدہ (لفظ یا حکم) سے افضل اور بہتر ہوگی یہ بہترین راہ کون سی ہے (جس سے گزشتہ کی تلافی اور آئندہ کی ترقی وابستہ ہے) وہ ہے صرف گزشتہ پر ندامت توبہ ‘ استغفار اور فوت شدہ کی قضاء۔
بعض علماء نے لکھا ہے کہ لوگوں نے جب رسول اللہ ﷺ سے اصحاب کہف کا واقعہ دریافت کیا اور اللہ نے اصحاب کہف کا قصہ بیان کردیا تو آخر میں اپنے پیغمبر کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو یہ بات بتادیں کہ اصحاب کہف کے واقعہ سے بڑھ کر روشن دلیل اور برہان نبوت اللہ عطا فرمائے گا چناچہ یہ وعدہ اللہ نے پورا کیا ‘ تمام انبیاء کے علوم بلکہ ماضی و مستقبل کے سارے علمی خزانے اللہ نے آپ کو عطا فرما دیئے ‘ اصحاب کہف کے واقعہ کے اظہار سے آپ کی نبوت کی سچائی کا اتنا قوی ثبوت نہیں ملتا جتنا تمام انبیاء ومرسلین کے علوم اور گزشتہ و آئندہ کے واقعات و حالات کے علم عطا فرمانے سے ملتا ہے۔ بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول ﷺ : کو (اور بواسطۂ رسول ﷺ ہر مسلمان کو) حکم دیا ہے کہ جب انشاء اللہ کہنا بھول جاؤ اور پھر یاد آجائے تو انشاء اللہ کہنے کے بعد یہ بھی کہو عَسٰی اَنْ یَّہْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ ہٰذَا رَشَدًایہی گزشتہ قصور کی توبہ ہے۔ صوفیا کی تشریح پر آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ جب اللہ کے سوا ہر چیز کو بھول جاؤ تو اللہ کی یاد کرو اور یہ (بھی) کہو کہ امید ہے اللہ مجھے ایسے راستے کی ہدایت کر دے گا یا ایسی چیز بتادے گا جو اس ذکر سے بھی زیادہ اقرب ہوگی یعنی اللہ اپنی ذات تک خود پہنچا دے گا اللہ کی ذات رگ جاں سے بھی زیادہ قریب ہے۔
Ayah 18:25وَلَبِثُوْا فِيْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِيْنَ وَازْدَادُوْا تِسْعًا : اور اصحاب کہف اپنے غار میں تین سو
برس سے نو برس زیادہ (سوتے) رہے۔ پہلے مجمل طور پر فرمایا تھا فَضَرَبْنَا عَلٰی اٰذَانِہِمْ فِی الْکَہْفِ سِنِیْنَ عَدَدًا اس آیت میں تفصیل فرما دی اور تعداد بتادی۔
قتادہ نے کہا اللہ نے اہل کتاب کا یہ قول نقل کیا ہے اہل کتاب اصحاب کہف کے سوتے رہنے کی معین تعداد بیان کرتے تھے اس قول کو اللہ نے ذکر کیا اور پھر اس کی تردید میں فرمایا۔ اگلی آیت میں۔
Ayah 18:26قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا ۚ: ہی کو خوب معلوم ہے کہ وہ کتنے زمانہ تک وہاں سوتے رہے۔ اگر مذکورہ بالا آیت کو اللہ کی طرف سے تعداد مدت کی تعیین قرار دیا جائے گا تو اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا لَبَثُوْا کا کوئی معنی نہ ہوگا۔
حضرت مفسر (رح) نے فرمایا تفسیر وہی ہے جو پہلے ذکر کی گئی ہے یعنی اللہ کی طرف سے یہ تعیین مدت کی صراحت ہے اہل کتاب کے قول کو نقل نہیں کیا گیا ہے۔ رہا برقول جمہور آیت اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا کا مطلب تو یہ پہلے قول کی تردید نہیں ہے 309 برس کی تعیین فرما دی اور آخر میں حکم دے دیا کہ اب اگر یہ لوگ تعیین مدت میں نزاع کرتے ہیں تو ان سے کہہ دو (اس جھگڑے سے کوئی فائدہ ہی نہیں) اللہ ان کی مدت قیام سے بخوبی واقف ہے (تمہارا نزاع تمہارے لئے سود مند نہیں) ۔
بعض علماء نے لکھا ہے کہ اہل کتاب کا ہی یہ قول ہے ‘ غار میں داخل ہونے سے رسول اللہ ﷺ کے زمانہ تک 309 برس کی مدت اہل کتاب کے خیال میں گزری تھی ‘ اللہ نے آیت اللّٰہُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا میں اس کی تردید فرما دی۔ یعنی ان کی روحیں قبض ہونے کے بعد سے اب تک جس قدر مدت گزری اللہ ہی کو اس کا علم ہے ‘ وہی بخوبی واقف ہے۔
ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے اور ابن جریر نے ضحاک کی روایت سے بیان کیا کہ شروع میں وَلَبِثُوْا فِیْ کَہْفِہِمْ ثَلٰثَ ماءَۃٍنازل ہوا تھا صحابہ نے عرض کیا یارسول اللہ : ﷺ تین سو سال یا تین سو مہینے اس کے جواب میں لفظ سِنِیْنَاور نازل ہوگیا۔ وَازْدَادُوْا تِسْعًا کی تشریح میں کلبی نے کہا نجران کے عیسائیوں نے کہا تھا ‘ تین سو برس رہنے کا علم تو ہم کو بھی ہے مزید نو برس رہنے کا علم ہم کو نہیں۔ (یعنی ہماری کتاب میں نہیں ہے) اس پر۔
قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْا ۚ آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کتنے (زمانہ تک) وہ (سوتے) رہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا ‘ اصحاب کہف شمسی حساب سے تین سو برس تک سوتے رہے اور اللہ نے قمری حساب سے تین سو نو برس رہنے کی صراحت کی ہے۔ ہر سو سال شمسی کے بحساب قمری ایک سو تین سال ہوتے ہیں۔ تین سو سال کے تین سو نو سال ہوگئے۔
لَهٗ غَيْبُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ۭ اَبْصِرْ بِهٖ وَاَسْمِعْ (تمام دنیا کی علمی نظر سے جو چیزیں آسمانوں میں اور
زمین میں پوشیدہ ہیں ان) تمام ارضی و سماوی پوشیدہ اشیاء کا علم اللہ ہی کو ہے سب چیزیں اسی کے دست ملکیت و تصرف میں ہیں ‘ وہ عجیب طرح کا دیکھنے والا اور سننے والا ہے یعنی اس کی بینائی اور شنوائی دوسروں کے دیکھنے سننے سے الگ اور عجیب ہے اس کو دیکھنے اور سننے سے کوئی چیز حاجب اور مانع نہیں ‘ انتہائی لطافت ہو یا کثافت ‘ باریک سے باریک چیز ہو یا بڑی سے بڑی ‘ پوشیدہ ہو یا ظاہر اس کے نزدیک کوئی فرق نہیں اس کو ہر چیز کا علم سمعی و بصری ہے۔
مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِيٍّ ۡ وَّلَا يُشْرِكُ فِيْ حُكْمِهٖٓ اَحَدًا : اہل ارض و سما کے لئے اللہ کے سوا کوئی
کارساز اور ان کے امور کا ذمہ دار نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں ان میں سے کسی کو شریک کرتا ہے۔ نہ دخیل بناتا ہے۔ حکم سے فیصلۂ قضاء یا امر و نہی یا علم غیب مراد ہے یعنی اپنے علم غیب میں وہ کسی کو شریک نہیں کرتا۔
رسول اللہ : ﷺ کو اصحاب کہف کا قصہ معلوم نہ تھا وہ آپ کے لئے غیب کے حکم میں داخل تھا لیکن اللہ نے وحی کے ذریعہ سے واقف بنا دیا اور قرآن میں ذکر کردیا گویا غائب اور غیر معلوم واقعہ کو بیان کردینا ایک معجزہ ہوگیا جو عبارت قرآنی کی شکل میں نمودار کردیا گیا۔ اس لئے آئندہ آیت میں تلاوت قرآن اور اصحاب قرآن کی مصاحبت کا حکم دیا گیا اور فرمایا۔
Ayah 18:27وَاتْلُ مَآ اُوْحِيَ اِلَيْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَ ڝ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ اور آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف
سے جو کتاب بذریعۂ وحی بھیجی گئی ہے وہ پڑھا کریں اس کے کلمات کو کوئی بدلنے والا نہیں۔
یعنی قرآن کی تلاوت کرو اور اس کے مفہوم پر عمل کرو اور ان لوگوں کی بات پر کچھ دھیان نہ دو جو اس کے سوا کسی دوسرے قرآن کے خواستگار ہیں یا اسی میں تم سے کچھ ترمیم و تبدیل کرانا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کے سوا اس میں کسی طرح کی تبدیل و ترمیم کرنے کی طاقت رکھنے والا کوئی بھی نہیں ہے کوئی شخص بھی اللہ کے سوا اس کو بدل نہیں سکتا۔ لاَ مُبَدِّلَ لِکَلِمٰتِہٖکا ایک مطلب یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ گناہگاروں ‘ نافرمانوں کو جو قرآن کے اندر عذاب کی وعید دی گئی ہے اس کو بدلنے والا کوئی نہیں (عذاب ہو کر رہے گا) ۔
وَلَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا : اور (اے محمد ﷺ اگر آپ قرآن پر نہ چلے تو) اللہ کے سوا آپ کو کوئی پناہ کی جگہ (حضرت ابن عباس) یا چھپنے کی جگہ (حسن بصری) یا جائے قرار نہیں ملے گی۔ لَحْدٌ: کا اصل لغوی معنی ہے جھکاؤ ‘ کجی۔
Ayah 18:28وَاصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَهٗ : اور اپنے آپ کو
قائم رکھو ‘ جمائے رکھو ان لوگوں کے ساتھ جو صبح شام اپنے رب کو پکارتے ہیں (دعا اور ذکر کرتے ہیں) اس سے ان کا مقصد صرف اپنے رب کی خوشنودی کا حصول ہوتا ہے (کوئی اور غرض نہیں ہوتی)
اصْبِرْنَفْسَکَ اپنے آپ کو روکے رکھو ‘ جمائے رکھو۔ بِالْغَدٰوۃِ وَالْعَشِیِّ صبح شام یا تمام اوقات میں۔ یُرِیْدُوْنَ یعنی ان کی عبادت کی غرض سوائے ذات خداوندی کے اور کچھ نہیں ہوتی۔ وَجْہَہٗ میں لفظ وجہ زائد ہے جیسے آیت وَیَبْقٰی وَجْہُ رَّبِّکَ میں لفظ وجہ زائد ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ ان کو اللہ کی ذات کے سوا اور کوئی مطلوب نہیں ‘ نہ دنیانہ آخرت۔
بغوی نے لکھا ہے کہ آیت مذکورۂ بالا عیینہ بن حصین فزاری کے حق میں نازل ہوئی ‘ مسلمان ہونے سے پہلے عیینہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ اس وقت کچھ نادار مسلمان خدمت گرامی میں بیٹھے ہوئے تھے جن میں سلمان فارسی بھی تھے حضرت سلمان ایک چھوٹی سی چادر اوڑھے ہوئے تھے اور آپ کو پسینہ بھی آ رہا تھا عیینہ بولا محمد ﷺ ! کیا آپ کو ان لوگوں کی بدبو سے دکھ نہیں ہوتا۔ ہم قبائل مضر کے سردار اور بڑے لوگ ہیں اگر ہم مسلمان ہوگئے تو سب لوگ مسلمان ہوجائیں گے لیکن ہم کو آپ کا اتباع کرنے سے ایسے لوگوں کی آپ کے پاس موجودگی روکتی ہے ان کو آپ ہٹا دیں تو ہم آپ کا ابتاع کرنے لگیں گے یا ہمارے لئے ان سے الگ کوئی بیٹھنے کی جگہ مقرر کردیں اور ان کی مجلس ہم سے الگ کردیں اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
قتادہ کا بیان ہے کہ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ ۔۔ سے اصحاب صفہ مراد ہیں جن کی تعداد سات سو تھی یہ سب نادار لوگ تھے اور رسول اللہ ﷺ : کی مسجد میں فروکش تھے نہ کسی کی کھیتی تھی نہ دودھ کے جانور نہ کوئی تجارت ‘ نمازیں پڑھتے رہتے تھے ایک وقت کی نماز پڑھ کر دوسری نماز کے انتظار میں رہتے تھے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ستائش ہے اس اللہ کے لئے جس نے میری امت میں ایسے لوگ پیدا کردیئے جن کی معیت میں مجھے جمے رہنے کا حکم دیا۔
اس آیت کی شان نزول کی کچھ تفصیل سورة انعام کی آیت ولا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّہُمْ ۔۔ کی تفسیر میں ہم نے کردی ہے۔
وَلَا تَعْدُ عَيْنٰكَ عَنْهُمْ ۚ تُرِيْدُ زِيْنَةَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : اور دنیوی زندگانی کی رونق کے خیال سے آپ کی
آنکھیں (یعنی توجہات) ان (غریب مسلمانوں) سے ہٹنے نہ پائیں۔ یعنی دولت مندوں کے ساتھ بیٹھنے اور مالدار دنیاداروں کی مصاحبت اختیار کرنے کے لئے تم ہمہ وقت اللہ کا ذکر کرنے والے (نادار) لوگوں سے آنکھیں پھیر لو ایسا نہ کرو۔
وَلَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا : اور جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل بنا دیا ہے اس کے
کہنے پر نہ چلو۔ بغوی نے لکھا ہے کہ آیت میں جس کا کہا ماننے کی ممانعت کی گئی ہے اس سے مراد عیینہ بن حصین فزاری ہے لیکن ابن مردویہ نے بروایت ضحاک حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ یہ آیت امیہ بن خلف جمحی کے حق میں نازل ہوئی۔ امیہ نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی تھی کہ ان فقیروں کو اپنے پاس سے نکال دیجئے اور سرداران مکہ کو اپنے پاس بٹھائیے ‘ اللہ کو یہ درخواست پسند نہ تھی اس لئے آیت مذکورہ نازل فرما دی۔ ربیع کی روایت سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔ ابن بریدہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حضرت سلمان ؓ بیٹھے ہوئے تھے کہ عیینہ بن حصین آگیا اور کہنے لگا جب ہم آپ کے پاس آیا کریں تو آپ اس کو (یعنی اس جیسے غریب لوگوں کو) اپنے پاس سے نکال دیا کریں ‘ اس پر آیت ولا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَہٗ عَنْ ذِکْرِنَانازل ہوئی۔
وَاتَّبَعَ هَوٰىهُ اور وہ اپنی خواہش پر چلتا ہے۔ یعنی سرداران قریش کے لئے آپ کی مجلس سے غریب مسلمانوں کو نکلوا دینے کا خواستگار ہوتا ہے۔ آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ اس کی اس درخواست کا موجب دو باتیں ہیں (1) اس کا دل اللہ کی یاد سے غافل ہے (اللہ کا تصور ہی اس کے دل میں نہیں ہے اور خدا کی طلب ہی اس کو نہیں) ۔ (2) دنیوی لذتوں میں اتنا ڈوبا ہوا ہے کہ اس کو پتہ ہی نہیں کہ شرافت کا مدار ذلیل باتوں سے نفس کو پاکیزہ رکھنے ‘ دل کو باطنی رذائل کی کثافت سے صاف رکھنے اور انوار معرفت سے منور کرنے پر ہے جسمانی آرائش پر نہیں ہے جو اس کے کہے پر چلے گا وہ بھی غفلت اور حماقت میں اسی کی طرح ہوگا۔
فرقۂ معتزلہ کے نزدیک قبیح افعال (کو پیدا کرنے) کی نسبت اللہ کی طرف کرنی درست نہیں اور اس جگہ لفظ اغفلنا میں غافل بنانے کی نسبت اللہ کی طرف کی گئی ہے اس لئے انہوں نے کہا اغفلنا کا معنی غافل بنانا نہیں ہے بلکہ غافل پانا ہے۔ ہم نے اس کے دل کو غافل پایا ‘ یا غفلت کی نسبت اس کے دل کی طرف کردی ‘ یعنی غافل چھوڑ دیا ‘ عرب کہتے ہیں اغفل ابلہ اس نے اپنے اونٹوں کو بغیر نشان زد کئے چھوڑ دیا۔
اہل سنت کہتے ہیں کہ اغفلنا میں اللہ کی طرف سے غافل کردینے کی نسبت اور اتبع ہواہ میں اتباع ہوا کی بندے کی طرف نسبت بتارہی ہے کہ بندہ نہ مجبور ہے نہ مختار کامل بلکہ بین بین ہے (خالق اللہ کے ہے اور ” کا سب “ بندہ) ۔
وَكَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا : اور اس کا یہ حال حد سے گزر گیا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ قتادہ اور مجاہد نے فرطا کا ترجمہ ضیاعاً یعنی ضائع شدہ کیا ہے بعض علماء نے کہا اس کا امر ضائع ہوگیا اور زندگی کے دن رائیگاں گئے۔ بعض نے فرطاً کا معنی ندامت بیان کیا ہے مقاتل بن حبان اور اخفش نے ترجمہ کیا حد سے آگے بڑھا ہوا کسی نے باطل کسی نے مخالفِ حق ترجمہ کیا ہے ‘ فرا نے متروک کہا ہے ‘ بیضاوی نے لکھا ہے حق کو پس پشت پھینک دینے والا۔ جو گھوڑا سب سے آگے نکل جائے اور سب گھوڑے اسکے پیچھے رہ جائیں اس کو فَرِسٌ فَرْطٌ کہا جاتا ہے فَرَطٌ (پیش خیمہ ‘ ہر اول) اسی سے بنا ہے۔