18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا۔ کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سوا دوست بناتے ہو۔ حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا بدل ہے

واذا قلنا للملئکۃ اسجدوا لادم فسجدوا الا ابلیس اور یاد کرو اس واقعہ کو جب ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کے سامنے سجدہ کرو سو سب نے سجدہ کیا بجز ابلیس کے۔ قرآن مجید میں مختلف متعدد مقامات پر مختلف مقاصد کی تمہید کے طور پر فرشتوں کو آدم کے لئے سجدہ کرنے کا حکم اور ملائکہ کا سجدہ کرنا اور ابلیس کا انکار کرنا بیان کیا گیا ہے۔ اس جگہ بھی خاص مقصد کے لئے اس واقعہ کا تذکرہ کیا (مال دنیا اور شرافت نسب اور عزت قومی پر) فخر کرنے والوں کی جب آیات مذکورہ بالا میں مذمت کی اور ان کی اس حرکت کو ناپسندیدہ قرار دیا تو اس کو پختہ کرنے کے لئے ابلیس کے انکار اور فرشتوں کی تعمیل امر کا تذکرہ کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ اللہ کے حکم کے مقابلہ میں غرور کرنا ابلیس کی حرکت ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ پہلے ان لوگوں کا ذکر کیا جو دنیا کے شیفتہ اور فریفتہ ہیں اور اس فریب خوردگی کا سبب ہواء نفس اور اغواء ابلیسی ہے۔ اس لئے سب سے پہلے دنیوی جمال ظاہری کی طرف سے ان کو نفرت دلائی اور اس کی فنا پذیری و ناپائیداری کی طرف اشارہ کر کے اعمال صالحہ کی پائیداری وبقاء کو ظاہر فرمایا ‘ پھر قدیمی دشمنی کا ذکر کر کے شیطان کے اغواء سے بچنے کی درپردہ ہدایت کی۔ قرآن مجید میں متعدد مقامات پر سجدۂ ملائکہ اور انکار ابلیس کا بار بار تذکرہ اسی حکمت کا حامل ہے۔ کان من الجن وہ تھا جنات میں سے یعنی اس نے سجدہ نہیں کیا اس لئے کہ وہ جنات میں سے تھا۔ ففسق عن امر ربہ پس وہ اپنے رب کے حکم (کی تعمیل اور اس کی اطاعت) سے باہر ہوگیا۔ لفظ امر بتارہا ہے کہ ابلیس بھی ملائکہ کے ساتھ سجدہ کرنے پر مامور تھا۔ ففسق میں فاء سببیت کے لئے ہے (یعنی ابلیس کا جنات میں سے ہونا نافرمانی کا سبب تھا۔ مترجم) اس لفظ سے (بطور مفہوم مخالف) یہ بات ظاہر ہوئی کہ فرشتے اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے۔ ابلیس نے جو نافرمانی کی اس کا سبب یہ تھا کہ وہ جنات میں سے تھا۔ (ملائکہ میں سے نہ تھا) بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ ابلیس ملائکہ کے ہی ایک گروہ میں تھا ‘ اس گروہ کو جن کہا جاتا تھا اور اس کی تخلیق لپٹ والی آگ سے ہوئی تھی۔ اس قول پر الا ابلیس میں استثناء متصل ہوگا۔ (کیونکہ ابلیس نوع ملائکہ سے قرار پائے گا۔ مترجم) حسن بصری نے کہا ابلیس ملائکہ میں سے نہیں تھا جنات میں سے تھا اور جس طرح آدم تمام انسانوں کی اصل ہیں اسی طرح ابلیس تمام جنات کی اصل تھا اس قول پر استثناء منقطع ہوگا لیکن یہ قول بہت بعید از عقل ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے ‘ وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ الاَّ لِیَعْبُدُوْنِ میں نے جن و انس کو اپنی عبادت کے لئے ہی پیدا کیا ہے۔ یہ آیت اور سورة رحمن اور سورة جن کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانوں کی طرح کچھ جن مؤمن صالح ہیں اور کچھ ظالم ‘ کافر ‘ جہنم کا ایندھن اور ابلیس اور اس کی نسل کے تمام افراد اعداء خدا ہیں اور اعداء اولیاء خدا ہیں پھر ابلیس تمام جنات کی اصل کیسے ہوسکتا ہے۔ افتتخذونہ وذریتہ اولیآء من دونی وہم لکم عدو اس پر بھی کیا تم لوگ اس کو اور اس کی ذریت کو میرے سوا (اپنا) رفیق دوست بناتے ہو حالانکہ وہ سب تمہارے دشمن ہیں۔ استفہام انکاری ہے یعنی تم کو ایسا نہ کرنا چاہئے کہ اپنے کھلے ہوئے دشمنوں کو میری بجائے اپنا دوست قرار دو ‘ اور میری اطاعت کی جگہ ان کی اطاعت کرو۔ بئس للظلمین بدلا۔ یہ ظالموں کے لئے بہت برا بدل ہے۔ یعنی کافروں نے جو اللہ کی بجائے ابلیس اور اس کی ذریت کو دوست بنا رکھا ہے تو اللہ کے عوض کافروں کا ابلیس اور اس کی ذریت کو اختیار کرنا برا بدل ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ مجاہد نے شعبی کا بیان نقل کیا۔ شعبی نے کہا میں ایک روز بیٹھا ہوا تھا ایک قلی آیا اور اس نے مجھ سے دریافت کیا۔ کیا ابلیس کی بیوی ہے ‘ میں نے جواب دیا مجھے معلوم نہیں لیکن پھر مجھے یاد آیا کہ اللہ نے فرمایا ہے اَفَتَتَّخِذُوْنَہٗ وَذُرِّیَّتَہً اَوْلِیَآء اور اولاد بغیر بی بی کے ہو نہیں سکتی (کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے اَنّٰی یَکُوْنُ لَہٗ وَلَدٌ وَّلَمْ تَکُنْ لَّہٗ صَاحِبَۃٌ اللہ کے اولاد کہاں سے ہوسکتی ہے جب کہ اس کی بی بی نہیں ہے (مفسر (رح) ) یہ یاد آنے کے بعد میں نے کہہ دیا ہاں (ابلیس کی بی بی ہے) قتادہ نے کہا شیاطین میں آدمیوں کی طرح توالد و تناسل ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے بیان کیا کہ ابلیس خود اپنی دم اپنے دبر میں داخل کرلیتا ہے اس سے انڈا پیدا ہوجاتا ہے اور ایک انڈا پھٹ کر شیطانوں کی ایک جماعت نکل پڑتی ہے۔ مجاہد نے کہا ابلیس کی اولاد میں سے مندرجۂ ذیل شیطان ہیں۔ لاقین ‘ ولہان ‘ ہفاف ‘ مرہ ‘ زلنبور ‘ اعور ‘ مطوس ‘ یثور ‘ داسم ‘ ولہان وضو ‘ غسل اور نماز میں وسوسہ پیدا کرتا ہے۔ مرہ ہی کے نام سے ابلیس کی کنیت ابو مرہ مشہور ہے۔ ذلنبور بازاروں میں جھوٹی قسمیں کھلواتا اور صاحب مال سے مال کی جھوٹی تعریف کراتا ہے۔ اعور زنا پر آمادہ کرنے والا شیطان ہے۔ مرد کے عضو تناسل اور عورت کے سرینوں میں پھونک مار دیتا ہے۔ مطوس جھوٹی بےاصل افواہیں لوگوں میں پھیلاتا ہے۔ یثور مردہ کے وارثوں کو منہ پیٹنے اور گریبان پھاڑنے پر آمادہ کرتا ہے۔ (اسم وہ شیطان ہے کہ آدمی جب گھر میں جاتا ہے۔ اور کسی کو سلام نہیں کرتا اور اللہ کا ذکر بھی نہیں کرتا تو یہ شیطان اس آدمی کو گھر کی ہر چیز بےمحل رکھی ہوئی دکھتا ہے (جس سے آدمی کو غصہ آجاتا ہے اور وہ گھر والوں کو سخت سست کہنے لگتا ہے) اور بغیر بسم اللہ کئے آدمی کھانے لگتا ہے تو واسم بھی اس کے کھانے میں شریک ہوجاتا ہے۔ اعمش نے کہا بعض اوقات میں بغیر بسم اللہ کے گھر میں داخل ہوا اور اندر جا کر کسی کو سلام بھی نہیں کیا تو مجھے (بےجگہ رکھا ہوا) لوٹا نظر آیا ‘ میں نے کہا اس کو یہاں سے اٹھاؤ پھر گھر والوں سے جھگڑا کرنے لگا ‘ لیکن پھر مجھے یاد آگیا اور میں نے کہا یہ واسم ہے واسم ہے۔ حضرت ابی بن کعب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وضو (میں بہکانے والا) ایک شیطان ہے جس کو ولہان کہا جاتا ہے تم لوگ پانی (کے استعمال) کے وسوسے سے بچتے رہو۔ رواہ الترمذی وابن ماجۃ۔ ترمذی نے کہا یہ حدیث غریب ہے۔ اہل حدیث کی نظر میں اس کی سند قوی نہیں ہے۔ خارجہ بن مصعب راوی ضعیف ہے۔ حضرت ابو سعید خدری راوی ہیں کہ حضرت عثمان بن ابی العاص نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ شیطان میرے اور میری نماز و قراءت کے درمیان دخل انداز ہوجاتا ہے اور نماز کو مشتبہ بنا دیتا ہے (مجھے یاد نہیں رہتا کہ میں نے کتنی رکعتیں پڑھیں) فرمایا یہ شیطان ہے جس کو خنزب کہا جاتا ہے جب تم ایسا محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگو (یعنی اَعُوْذُ باللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَان الرَّجِیْمپڑھو) اور بائیں طرف کو تین بار تھتکا ردو ‘ حضرت عثمان ؓ : کا بیان ہے میں نے اس کے بعد ایسا ہی کیا اور اللہ نے اس کو مجھ سے دور کردیا۔ رواہ مسلم۔ حضرت جابر کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابلیس اپنا تخت پانی پر بچھاتا ہے پھر وہاں سے اپنے دستوں کو (اطراف عالم میں) روانہ کرتا ہے۔ ابلیس کا سب سے بڑا مقرب وہی ہوتا ہے جو سب سے زیادہ فتنہ انگیز ہو۔ کوئی آکر کہتا ہے میں نے یہ یہ کام کئے ابلیس کہتا ہے تو نے کچھ نہیں کیا پھر ایک شیطان آتا ہے اور کہتا ہے میں نے میاں بی بی میں علیحدگی کرا دی۔ ابلیس کہتا ہے تو نے اچھا کام کیا پھر اس کو اپنا مقرب بنا لیتا ہے۔ اعمش کا بیان ہے میرا خیال ہے راوی نے یہ بھی کہا ‘ پھر ابلیس اس کو چمٹا لیتا ہے۔ رواہ مسلم۔
Ayah 18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت۔ اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا

ما اشہدتہم خلق السموات والارض ولا خلق انفسہم میں نے ان کو (یعنی ابلیس اور اس کی ذریات کو) نہ آسمان و زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا اور نہ خود ان کو پیدا کرنے کے وقت۔ مقصد یہ ہے کہ کسی چیز کو پیدا کرنے میں میں نے ان سے مدد نہیں لی کہ وہ عبادت و اطاعت کے مستحق ہوجائیں۔ عبادت کا استحقاق اسی کو ہوسکتا ہے جو خالق ہو اور عبادت میں شرک کا معنی یہ ہے کہ خالقیت میں شرکت ہو اور خالقیت میں اللہ کے ساتھ کسی کی شرکت نہیں تو معبودیت میں کون اس کا شریک ہوسکتا ہے۔ وما کنت متخذ المضلین عضدا۔ اور میں ایسا (عاجز) نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا بازو (یعنی مددگار) بناتا۔ اَلْمُضِلَّیْنَ (گمراہ کرنے والے) سے مراد ہیں شیاطین۔ عَضُدًا (بازو) یعنی مددگار۔ اَلْمُضِلِّیْنَصراحت کے ساتھ کہا ضمیر غائب ذکر نہیں کی اس سے شاطین کی مذمت کا اظہار ہو رہا ہے۔ بعض علماء نے کہا مَا اَشْہَدْتُّہُمْمیں ہُمْضمیر (شیاطین کی طرف راجع نہیں) مشرکوں کی طرف لوٹ رہی ہے ‘ یعنی مشرکوں کو میں نے تخلیق اشیاء کا شاہد نہیں بنایا اور وہ علم عطا نہیں کیا جو دوسروں کو نہ دیا ہو۔ پھر ان کی خصوصیت ہی کیا ہے اگر ان کو خصوصی علم عطا کیا گیا ہوتا تو اس وقت یہ کہہ سکتے تھے کہ اگر ہم مسلمان ہوگئے تو سب لوگ مسلمان ہوجائیں گے (اب تو ان کا یہ دعویٰ ہی غلط ہے) اس لئے آپ ان کے قول کی طرف کوئی توجہ نہ دیں اور ان سے دین میں مدد کرنے کی امید ہی نہ رکھیں۔ میں اپنے دین کا مددگار ایسے گمراہ کرنے والوں کو بنانے والا نہیں۔ کلبی نے کہا ہُمْضمیر ملائکہ کی طرف راجع ہے یعنی میں نے ملائکہ کو تخلیق عالم میں شریک نہیں کیا تھا کہ ان کی پوجا کی جانے لگی اور ان کو اللہ کی بیٹیاں سمجھا جانے لگا۔ اس صورت میں وَمَا کُنْتُ مُتَّخِذَ المُضِلِّیْنَ عَضُدًاعلیحدہ جملہ ہوگا اور اس دوسرے جملہ کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے تخلیق عالم میں شیاطین سے مدد نہیں لی تھی ‘ خلاصہ یہ کہ نہ میں نے ملائکہ سے مدد لی نہ شیاطین سے۔
Ayah 18:52

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور جس دن خدا فرمائے گا کہ (اب) میرے شریکوں کو جن کی نسبت تم گمان (الوہیت) رکھتے تھے بلاؤ تو وہ ان کے بلائیں گے مگر وہ ان کو کچھ جواب نہ دیں گے۔ اور ہم ان کے بیچ میں ایک ہلاکت کی جگہ بنادیں گے

ویوم یقول نادوا شرکآء ی الذین زعمتم فدعوہم فلم یستجیبوا لہم وجعلنا بینہم موبقا۔ جس روز اللہ فرمائے گا پکارو میرے ان (مفروضہ) شریکوں کو جن کو تم (میرے شریک) خیال کرتے تھے وہ ان کو پکاریں گے۔ لیکن وہ ان کو جواب ہی نہ دیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک آڑ کردیں گے۔ زَعَمْتُمْیعنی تم گمان کرتے تھے کہ وہ میرے شریک ہیں یا سفارش کر کے میرے عذاب سے تم کو بچا لیں گے۔ بعض علماء کے نزدیک شرکاء سے مراد ہیں ابلیس اور اس کی ذریات۔ فَدَعَوْہُمْپس وہ ان کو فریادرسی کے لئے پکاریں گے۔ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَہُمْلیکن وہ فریادرسی نہیں کریں گے۔ وَجَعَلْنَا بَیْنَہُمْ اور ہم کافروں اور ان کے معبودوں کے درمیان کردیں گے۔ مَوْبِقًا ہلاکت کا مقام۔ اوبقہ اس کو ہلاک کردیا۔ عطاء اور ضحاک نے یہی ترجمہ کیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا موبق دوزخ کی ایک وادی کا نام ہے۔ مجاہد نے کہا گرم پانی کی ایک وادی ہے۔ عکرمہ نے کہا موبق آگ کا ایک دریا ہے جس میں آگ بہتی ہے اس کے کناروں پر سیاہ خچروں کے برابر سانپ ہیں۔ ابن الاعرابی نے کہا دو چیزوں کے درمیان جو چیز آڑ اور حاجب ہو اس کو موبق کہتے ہیں۔ بعض کے نزدیک موبق مصدر ہے فراء نے کہا بین کا معنی ہے وصل یعنی دنیا میں جو کافروں اور ان کے معبودوں کے درمیان ملاپ اور جوڑ تھا قیامت کے دن ہم اس کو ہلاکت بنا دیں گے یہی مضمون دوسری آیت میں آیا ہے لَقَدْ تَقَطَّعَ بَیْنَکُمْ تمہارا باہمی اتصال پار پارہ ہوگیا۔
Ayah 18:53

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں۔ اور اس سے بچنے کا کوئی رستہ نہ پائیں گے

وراء المجرمون النار فظنوا انہم مواقعوہا ولم یجدو عنہا مصرفا اور اس وقت مجرم دوزخ کو دیکھیں گے پھر یقین کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں اور اس سے کوئی بچنے کی راہ نہیں پائیں گے۔ اَلْمُجْرِمُوْنَ سے مراد ہیں مشرک۔ فَظَنُّوْا یعنی وہ یقین کرلیں گے۔ مُوَاقِعُوْہَا یعنی اس کے اندر گرنے والے ہیں۔ امام احمد نے حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے آیت واظَنُّوْا اَنَّہُمْ مُّوَاقِعُوْہَا کی تشریح میں فرمایا کافر کو پچاس ہزار برس کے بقدر (یعنی قیامت کے سارے دن) کھڑا رکھا جائے گا ‘ جیسے کہ دنیا میں اس نے کچھ کیا ہی نہ تھا اور وہ جہنم کو دیکھتا رہے گا اور چالیس برس کی مسافت سے بھی یہی خیال کرے گا کہ میں دوزخ میں گرایا جا رہا ہوں۔ مَصْرِفًایا مصدر ہے لوٹنا ‘ واپس ہونا یا اسم ظرف ہے یعنی کوئی ایسا مقام جس کی طرف وہ لوٹ سکیں (اور دوزخ سے بچ جائیں)
Ayah 18:54

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے) کے لئے طرح طرح کی مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے

ولقد صرفنا فی ہذا القران للناس من کل مثل و کان الانسان اکثر شئی جدلا اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں کی ہدایت کے واسطے ہر قسم کے (ضروری) عمدہ مضامین طرح طرح سے بیان کئے ہیں اور اس پر بھی انسان جھگڑا کرنے میں سب سے بڑھ کر ہے۔ بقول حضرت ابن عباس ؓ الانسان سے مراد ہے نضر بن حارث اور برقول کلبی ابی بن خلف جمحی۔ بعض کے نزدیک عام کافر مراد ہیں اللہ نے دوسری جگہ فرمایا ہے وَیُجَادِلُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بالْبَاطِلِ بعض کے نزدیک عام انسان مراد ہیں (کافر ہوں یا مؤمن) حضرت علی ؓ : کا بیان ہے ایک رات رسول اللہ ﷺ میرے اور اپنی صاحبزادی کے پاس آپہنچے اور فرمایا تم دونوں رات کو نماز نہیں پڑھتے ہو (یعنی تہجد کی نماز یا نفل نماز) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہماری جانیں اللہ کے قبضہ میں ہیں۔ وہ جب ہم کو اٹھانا چاہتا ہے ہم کو اٹھا دیتا ہے۔ میری اس گزارش کے بعد رسول اللہ واپس چلے گئے مجھے کوئی جواب نہیں دیا اور پشت پھیری ہی تھی کہ میں نے سنا کہ ران پر ہاتھ مار کر فرما رہے تھے وَکَانَ الْاِنْسَانُ اَکْثَرَ شَْی ئٍجَدَلاً ۔
Ayah 18:55

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں۔ اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں۔ بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انہیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو

وما منع الناس ان یومنوا اذ جآء ہم الہدی ویستغفروا ربہم الا ان تاتیہم سنۃ الاولین او یاتیہم العذاب قبلا۔ اور لوگوں کو بعد اس کے کہ ان کو ہدایت پہنچ چکی ایمان لانے سے اور اپنے پروردگار سے (گناہوں کی اور کفر کی) معانی مانگنے سے اور کوئی مانع نہیں رہا بجز اس کے کہ ان کو انتظار ہو کہ گزرے ہوئے لوگوں کا سا معاملہ ان کو بھی پیش آجائے یا اللہ کا عذاب ان کے سامنے آکھڑا ہوا۔ اَلْہُدٰیسے مراد ہے قرآن اور اسلام اور اللہ کی طرف سے بیان بعض کے نزدیک رسول اللہ ﷺ : کی ذات مراد ہے یعنی حق واضح ہونے کے بعد۔ سُنَّۃُ الْاَوَّلِیْنَیعنی اللہ کے عذاب کا وہ طریقہ جو گزشتہ کافروں کے لئے استعمال کیا گیا کہ ان کی جڑ اکھڑ گئی۔ قبلاً کا ترجمہ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک ہے رو در رو آمنے سامنے۔ مجاہد نے ترجمہ کیا ناگہانی۔
Ayah 18:56

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں۔ اور جو کافر ہیں وہ باطل کی (سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز سے ان کو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا

وما نرسل المرسلین الا مبشرین ومنذرین اور ہم رسولوں کو نہیں بھیجتے مگر (ثواب و جنت کی مؤمنوں کے لئے) بشارت دینے والے اور (کافروں کو عذاب و دوزخ سے) ڈرانے والے (بنا کر) یعنی پیغمبروں کو ہم نے اس بات پر قادر بنا کر نہیں بھیجا کہ کافر جو معجزات طلب کریں وہ پیش کردیں یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے پیغمبروں کو اس امر پر قادر بنا کر نہیں بھیجا کہ وہ ساری مخلوق کو ہدایت یافتہ بنا دیں۔ ویجادل الذین کفروا بالباطل لیدحضوا بہ الحق اور کافر لوگ ناحق کی باتیں پکڑ پکڑ کر جھگڑے نکالتے ہیں تاکہ اس کے ذریعہ سے حق بات کو بچلا دیں۔ مثلاً کافر کہتے ہیں اَبَعَثَ اللّٰہُ بَشَرًا رَّسُوْلاً کیا اللہ نے آدمی کو پیغمبر بنا کر بھیجا ہے مَا اَنْتُمْ الاَّ بَشَرٌ مِّثْلُنَا تم تو ہم جیسے انسان ہی ہو اس کے سوا کچھ نہیں۔ لَوْ شَاء اللّٰہُ لاَ نَزَلَ مَلٰءِکَۃً اگر اللہ چاہتا تو (ہدایت کے لئے) فرشتوں کو اتار دیتا لَوْ لَا نُزِّلَ ہٰذَا الْقُرْآنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ القَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍیہ قرآن ان دونوں بستیوں (مکہ و طائف) کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا۔ یہ بھی کافروں نے کہا تھا کہ تم جو ذبح کرتے ہو وہ ذبیحہ تو حلال ہو اور جس کو اللہ (تمہارے ذبح کئے بغیر) مار ڈالتا ہے وہ حرام ہو۔ لِیُدْحِضُوْا بہ الحق (خض پھسل جانا اوحاض (باب افعال) پھسلا دینا یعنی باطل کے ذریعہ سے جھگڑا کر کے حق کو اس کی جگہ سے ہٹا دیں 1 ؂۔ واتخذوا ایتی وما انذروا ہزوا اور انہوں نے میری آیتوں کو اور جس عذاب سے ان کو ڈرایا گیا تھا اس کو دل لگی بنا رکھا ہے۔ آیات سے مراد ہیں وہ آیات جو قرآن میں نازل کی گئی ہیں۔ ہزوا دل لگی کی چیز مثلاً کہتے ہیں لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ہٰذَا اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کہہ لیں۔ یُعْلِّمُہٗ بَشَرٌکوئی آدمی ان کو سکھا دیتا ہے۔ اِنْ ہٰذَا الاَّ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اس کے سوا کچھ نہیں کہ یہ اگلوں کی داستانیں ہیں۔ عذاب کے متعلق کہتے ہیں لَوْ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوْلُہمارے قول پر اللہ ہم پر عذاب کیوں نہیں بھیج دیتا زقوم کے متعلق کہتے تھے یہ تو عمدہ چھوارے اور مکھن کو کہتے ہیں۔
Ayah 18:57

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون جس کو اس کے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اُس نے اس سے منہ پھیر لیا۔ اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اس کو بھول گیا۔ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے کہ اسے سمجھ نہ سکیں۔ اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو رستے کی طرف بلاؤ تو کبھی رستے پر نہ آئیں گے

ومن اظلم ممن ذکر بایت ربہ فاعرض عنہا ونسی ما قدمت یدہ اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس کو اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی گئی اور اس نے آیات سے منہ پھیرلیا اور جو کچھ وہ پہلے کرچکا ہے اس (کے نتیجہ) کو بھول گیا ‘ یعنی اس شخص سے بڑھ کر اور کوئی ظالم نہیں جس کو قرآن کی آیات سے نصیحت کی گئی اور آیات کے الفاظ و معانی کا معجزہ ہونا اس پر واضح ہوگیا امر بھی اس نے آیات پر غور نہیں کیا اور نصیحت پذیر نہ ہوا اور جو گناہ پہلے کرچکا ہے اس کے انجام کو نہیں سوچا (سب کو بھولا بسرا کردیا) ۔ انا جعلنا علی قلوبہم اکنۃ ان یفقہوہ وفی اذانہم وقرا وان تدعہم الی الہدی فلن یہتدوا اذا ابدا۔ ہم نے اس (حق بات) کے سمجھنے سے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں اور (اس کے سننے سے) ان کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھی ہے اور (یہی وجہ ہے کہ) اگر آپ ان کو راہ راست کی طرف بلائیں تو ایسی حالت میں وہ ہرگز راہ راست پر نہیں آئیں گے۔ اِنَّا جَعَلَنَا۔۔ یہ منہ موڑنے اور بھولنے کی علت و سبب کا بیان ہے کہ ان کے دلوں پر کفر کی تاریکیوں کے پردے ڈال دیئے گئے ہیں ‘ ان کی تخلیق ہی کفر پر ہوئی ہے۔ اَنْ یَّفْقَہُوْہُ آیات رب کو سمجھنے سے کفر کے پردے ڈال دیئے گئے ہیں ‘ یعنی تاریکی کے پردے ڈالنے کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ سمجھ نہیں پاتے ‘ سمجھ نہیں سکتے۔ آیات رب سے مراد چونکہ قرآن ہے۔ اس لئے (ہٗ ) ضمیر واحد مذکر غائب ذکر کی۔ وَقْرًابوجھ ‘ گرانی مراد یہ ہے کہ ان کے کانوں میں پورے طور پر سننے کی صلاحیت ہی ہم نے نہیں عطا کی۔ اِذًا اس وقت یعنی جب دلوں پر پردے ڈال دیئے اور کانوں میں گرانی پیدا کردی تو ایسے وقت میں وہ ہرگز ہدایت یاب نہیں ہوسکتے۔ ہدایت یابی کی استعداد و صلاحیت ہی معدوم ہے۔ اس آیت میں وہ کافر مراد ہیں جن کا کبھی بھی ایمان نہ لانا اللہ کے علم میں تھا۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بخشنے والا صاحب رحمت ہے۔ اگر وہ ان کے کرتوتوں پر ان کو پکڑنے لگے تو ان پر جھٹ عذاب بھیج دے۔ مگر ان کے لئے ایک وقت (مقرر کر رکھا) ہے کہ اس کے عذاب سے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے

وربک الغفور ذوالرحمۃ لو یواخذہم بما کسبوا لعجل لہم العذاب بل لہم موعد لن یجدوا من دونہ موئلا۔ اور آپ کا رب بڑا مغفرت کرنے والا ہے ‘ رحمت والا ہے ‘ اگر ان سے ان کے اعمال پر داروگیر کرنے لگتا تو ان پر فوراً ہی عذاب واقع کردیتا (مگر ایسا نہیں کرتا) بلکہ ان کے واسطے ایک معین وقت ہے کہ اس سے ورے کوئی پناہ کی جگہ نہیں پاسکتے۔ اَلْغَفُوْر (مبالغہ کا صیغہ ہے) بہت زیادہ مغفرت کرنے والا۔ ذُوا الرَّحْمَۃِ (رحمت والا) یعنی جس کی صفت رحمت ہے۔ یُؤَاخِذُہُمْ ۔۔ اللہ کے غفور و رحیم ہونے کی شہادت یہ ہے کہ قریش کو اس نے مہلت اور چھوٹ دے رکھی ہے باوجودیکہ وہ رسول اللہ ﷺ : کی عداوت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ مَوْعِدٌیعنی قیامت کا دن اور (دنیا میں) جنگ بدر کا دن۔ مَوْءِلاً نجات اور پناہ کا ٹھکانہ اَلْ نجات پائی۔ اَلْ اِلَیْہِ اس کے پاس پناہ پکڑی۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ بستیاں (جو ویران پڑی ہیں) جب انہوں نے (کفر سے) ظلم کیا تو ہم نے ان کو تباہ کر دیا۔ اور ان کی تباہی کے لئے ایک وقت مقرر کردیا تھا

وتلک القری اہلکنہم لما ظلموا وجعلنا لمہلکہم موعدا۔ اور یہ بستیاں (جن کے واقعات مشہور و مذکور ہیں) جب انہوں نے شرارت کی تو ہم نے ان کو تباہ کردیا تھا۔ الْقُرٰیسے مراد ہیں قوم نوح ‘ عاد ‘ ثمود اور دوسری گزشتہ کافر اقوام کی تباہ شدہ بستیاں۔ لَمَّا ظَلَمُوْاجب انہوں نے ظلم کیا یعنی کفار قریش کی طرح انہوں نے کفر کیا (ظلم سے مراد ہے کفر و معصیت) مَہْلِکَ (مصدر میمی) ہلاک ہونا یا ہلاک کرنا۔ مَوْعِدًا یعنی معین ‘ مقررہ وقت جس سے کوئی بھی آگے بڑھ سکا نہ پیچھے ہٹ سکا۔ یعنی جس طرح گزشتہ اقوام ہالکہ کے ہلاک کرنے کا اللہ نے ایک وقت مقرر کردیا تھا جو اٹل تھا اسی طرح کفار قریش کے لئے ایک خاص وقت مقرر کردیا ہے جو اٹل ہے یہ اس سے آگے بڑھ نہیں سکتے نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔
Ayah 18:60

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں

واذ قال موسیٰ لفتہ لا ابرح حتی ابلغ مجمع البحرین اور (وہ وقت یاد کرو) جب موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا میں (اس سفر میں) برابر چلا جاؤں گا یہاں تک کہ دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچ جاؤں۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے باپ کا نام عمران تھا ‘ صحیح حدیث میں یہی آیا ہے۔ فتیٰ سے مراد ہیں یوشع بن نون بن افراثیم بن یوسف (علیہ السلام) (حضرت مفسر (رح) نے فرمایا) میں کہتا ہوں شاید یوشع کے باپ نون ‘ افراثیم کے نسل میں سے تھے (بیٹے نہیں تھے) کیونکہ افراثیم کا زمانہ نون کے زمانہ سے بہت پہلے تھا۔ لاَ اَبْرَحُیعنی برابر مسلسل چلتا رہوں گا۔ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِدو سمندروں کا سنگم یعنی مشرقی جانب خلیج فارس و بحر روم کا سنگم (قتادہ) محمد بن کعب نے کہا اس سے مراد طنجہ ہے حضرت ابی بن کعب کے نزدیک افریقیہ مراد ہے۔ او امضی حقبا۔ یا یونہی زمانۂ دراز تک چلتا رہوں گا۔ حُقُبًا یعنی طویل زمانہ تک قاموس میں ہے حُقُبَہ اسّی سال یا اس سے زیادہ کی مدت۔ زمانہ طویل۔ سال ‘ بہت سال۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم کی روایت میں حضرت ابن عباس کا قول آیا ہے حقب طویل زمانہ۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے فرمایا ‘ حقب اسّی سال۔ بعض کے نزدیک ستر سال کو ایک حقب کہتے ہیں۔ بخاری اور مسلم نے لکھا ہے سعید بن جبیر نے فرمایا میں نے حضرت ابن عباس ؓ سے عرض کیا نوف بکالی کا خیال ہے کہ خضر والے موسیٰ بنی اسرائیل والے موسیٰ نہ تھے (دونوں الگ الگ تھے) فرمایا دشمن خدا جھوٹ کہتا ہے ہم سے ابی بن کعب نے بیان کیا کہ انہوں نے خود رسول اللہ ﷺ : کو یہ فرماتے سنا کہ (ایک روز) موسیٰ بنی اسرائیل کے سامنے تقریر کرنے کھڑے ہوئے کسی نے سوال کرلیا (آج) سب سے زیادہ عالم کون ہے۔ حضرت موسیٰ نے جواب دیا ‘ میں اللہ کو موسیٰ کی یہ بات ناپسند ہوئی کیونکہ انہوں نے اللہ کی طرف جاننے کی نسبت نہیں کی (اور یوں نہیں کہا کہ اللہ جانے کون سب سے بڑا عالم ہے) اللہ نے وحی بھیجی موسیٰ تم سے زیادہ عالم میرا ایک اور بندہ ہے جو دو سمندروں کے سنگم میں ہے۔ موسیٰ : ( علیہ السلام) نے عرض کیا میرے رب اس سے میری ملاقات کیسے ہوگی۔ اللہ نے فرمایا ایک ٹوکری میں اپنے ساتھ ایک مچھلی رکھ لو (اور کنارے کنارے چل دو (جہاں مچھلی (اچھل کر پانی میں چلی جائے اور) غائب ہوجائے وہیں تمہاری ملاقات ہوگی موسیٰ ( علیہ السلام) توشہ دان یا ٹوکری میں ایک مچھلی (جو بھنی ہوئی تھی) لے کر چل دیئے اور ان کے خادم یوشع بن نون بھی ساتھ ہوگئے۔ چلتے چلتے ایک پتھر کے قریب پہنچے وہاں ٹھہر گئے اور پتھر پر سر رکھ کر دونوں سو گئے۔ مچھلی تڑپ کر ٹوکری سے نکل کر دریا میں جا گری اور پانی کے اندر اس نے اپنا راستہ (سرنگ کی طرح) بنا لیا ‘ اللہ نے پانی کی رفتار کو روک دیا اور پانی کی محراب بن گئی (اس واقعہ کے وقت یوشع بیدار تھے اور ان کی نظر کے سامنے مچھلی سمندر میں جا گری تھی) موسیٰ بیدار ہوئے تو دن کے باقی حصہ میں بھی چلتے رہے (یعنی سو کر اٹھے اور پھر چل دیئے اور شام تک چلتے رہے) یوشع اس واقعہ کا حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے ذکر کرنا بھول گئے۔ موسیٰ دن بھر چلتے رہے اور رات بھر بھی چلتے رہے دوسرے دن کی صبح ہوئی تو یوشع سے کہا ہم اس سفر سے تھک گئے کھانالاؤ ‘ جب تک موسیٰ مچھلی کے تڑپنے کے مقرر مقام سے آگے نہیں بڑھے تھے آپ کو تھکان نہیں ہوئی تھی ‘ جب اس جگہ سے آگے بڑھے تو تھکان کا احساس ہوا ‘ یوشع نے کہا حضرت جب ہم پتھر کے پاس ٹھہرے تھے (وہاں مچھلی تڑپ کر سمندر میں جا گری تھی) میں آپ سے مچھلی کا تذکرہ کرنا بھول گیا ‘ شیطان نے مجھے بھلا دیا۔ مچھلی نے تو سمندر کے اندر عجیب طرح سے اپنا راستہ لے لیا تھا۔ موسیٰ نے کہا اسی (جگہ) کی تو ہم تلاش میں تھے پھر دونوں اپنے نقش قدم پر لوٹ پڑے ‘ یہاں تک کہ مقررہ پتھر کے مقام پر آگئے وہاں ایک آدمی ملا جو کپڑے سے منہ چھپائے ہوئے تھا ‘ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس کو سلام کیا۔ خضر نے کہا تمہاری اس زمین میں سلام کا طریقہ کہاں ہے موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا میں موسیٰ ( علیہ السلام) ہوں۔ خضر نے کہا بنی اسرائیل والے موسیٰ ( علیہ السلام) ؟ موسیٰ نے کہا جی ہاں۔ میں آپ کے پاس اس غرض سے آیا ہوں کہ جو علم آپ کو دیا گیا ہے اس میں سے کچھ مجھے بھی بتائیں۔ خضر نے کہا موسیٰ ( علیہ السلام) آپ میرے ساتھ ٹھہر نہ سکیں گے مجھے اللہ کی طرف سے وہ علم دیا گیا ہے جس سے آپ واقف نہیں اور جو علم اللہ نے آپ کو دیا ہے اس سے میں واقف نہیں۔ موسیٰ نے کہا انشاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے۔ میں آپکے حکم کے خلاف نہیں کروں گا۔ خضر نے کہا اگر آپ میرے ساتھ چلنا ہی چاہتے ہیں تو جب تک میں خود بیان نہ کروں آپ مجھ سے (کسی پیش آنے والے واقعہ کے متعلق) کچھ دریافت نہ کریں۔ عہد و پیمان کے بعد دونوں چل دیئے۔ چلتے چلتے سمندر کے کنارے پہنچے ‘ ادھر سے ایک کشتی گزری۔ کشتی والوں سے ان بزرگوں نے سوار کرلینے کے لئے کہا ‘ کشتی والے خضر کو پہچانتے تھے انہوں نے بغیر کرایہ کے دونوں کو سوار کرلیا۔ سوار ہوگئے (اور چل دیئے تو اثناء راہ میں) اچانک موسیٰ ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ خضر بسولے سے کشتی کا ایک تختہ توڑ رہے ہیں ‘ کہنے لگے آپ یہ عجیب حرکت کر رہے ہیں ان لوگوں نے تو ہم کو بغیر کرایہ کے سوار کرلیا اور آپ ان کی کشتی کو پھاڑ رہے ہیں کہ سب کشتی والے ڈوب جائیں ‘ خضر نے کہا کیا میں نے پہلے ہی نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکیں گے۔ موسیٰ نے کہا میں بھول گیا تھا آپ بھول چوک پر میری پکڑ نہ کیجئے اور میرے معاملہ میں مجھ پر تنگی اور دشواری نہ ڈالئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا موسیٰ ( علیہ السلام) سے پہلی حرکت بھول کر ہوئی تھی اور دوسری حرکت بطور شرط اور تیسری حرکت قصداً یالارادہ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک چڑیا آکر کشٹی کے کنارے پر بیٹھ گئی اور چونچ ڈال کر دریا سے اس نے پانی لیا۔ خضر نے موسیٰ سے کہا میرا اور آپ کا علم ‘ علم کے خدا کے مقابلہ میں اس سے زیادہ نہیں جتنا اس چڑیا نے چو نچ سے سمندر کا پانی لیا۔ اس چڑیا نے چونچ میں پانی لے کر سمندر کے پانی میں کوئی کمی نہیں کردی (میرا اور آپ کا علم بھی اللہ کے علم کے بحر بےکراں میں کوئی کمی نہیں کرسکتا) پھر (کشتی سے اتر کر) دونوں چل دیئے خضر کو راستہ میں ایک لڑکا نظر آیا جو لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ خضر نے اس کو پکڑ کر اس کا سر اپنے ہاتھ سے اکھاڑ دیا اور قتل کردیا۔ موسیٰ نے کہا آپ نے یہ بری حرکت کی ایک معصوم کو بےقصور قتل کردیا۔ خضر نے کہا کیا میں نے آپ سے نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ رک نہیں سکیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خضر کی یہ حرکت پہلی حرکت سے زیادہ سخت تھی (اس لئے موسیٰ ( علیہ السلام) نے بےتاب ہو کر دریافت کر ہی لیا) موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اگر اس کے بعد میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا ‘ آپ کے لئے میری طرف سے معذرت کا کوئی موقع نہیں رہے گا۔ اس کے بعد پھر دونوں چل دیئے ایک گاؤں میں پہنچے ‘ بستی والوں سے کھانا مانگا ‘ انہوں نے کچھ کھانے کو نہیں دیا ‘ وہاں ایک دیوار نظر آئی جو گرنے ہی والی تھی ‘ خضر نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اس کو ٹھیک کردیا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا ہم اس بستی میں آئے بستی والوں سے کھانا مانگا کسی نے کھانا نہیں دیا نہ ہماری میزبانی کی (اور آپ نے ان کی دیوار ٹھیک کردی) اگر آپ چاہتے تو اس کی مزدوری ان سے لے سکتے تھے۔ خضر نے کہا اب میرے اور آپ کے درمیان فرا ق ہے (اس کے بعد اپنی تینوں حرکتوں کی مصلحت و حکمت بیان کی) اور کہا یہ ان باتوں کی تشریح ہے جن کو پوچھے بغیر آپ رہ نہ سکے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کاش موسیٰ صبر کئے رہتے (اور آئندہ اور واقعات ظہور پذیر ہوتے) یہاں تک کہ اللہ ہم کو ان کی تفصیل سے آگاہ فرماتا۔ ابن جریر ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیروں میں حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے رب سے دریافت کیا (اے اللہ) تجھے اپنے بندوں میں کون بندہ سب سے زیادہ پیارا ہے۔ اللہ نے فرمایا (مجھے سب سے زیادہ پیارا وہ بندہ ہے) جو مجھے یاد رکھتا ہے اور بھولتا نہیں ہے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کیا سب سے اچھا حاکم تیرے بندوں میں کون ہے۔ اللہ نے فرمایا جو نفسانی میلان پر نہیں چلتا ‘ حق کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے موسیٰ ( علیہ السلام) نے عرض کیا تیرے بندوں میں سب سے بڑا عالم کون ہے فرمایا جو اپنے علم کے ساتھ دوسرے لوگوں کا علم بھی ملا لیتا ہے (یعنی اپنے علم میں دوسروں سے پوچھ کر یا دوسروں سے سیکھ کر اضافہ کرلیتا ہے) اس غرض سے کہ شاید اس کی کوئی بات ایسی معلوم ہو جو ہدایت کا راستہ بتادے اور ہلاکت (کے راستہ) سے موڑ دے ‘ موسیٰ نے کہا تیرے بندوں میں اگر کوئی مجھ سے زیادہ جاننے والا ہو تو مجھے اس کا پتہ اور راستہ بتادے۔ اللہ نے فرمایا تجھ سے زیادہ عالم خضر ہے۔ موسیٰ نے کہا میں خضر کو کہاں تلاش کروں ‘ اللہ نے فرمایا پتھر کے قریب سمندر کے کنارے پر۔ موسیٰ نے کہا مجھے اس کا نشان کیسے معلوم ہوگا۔ اللہ نے فرمایا ایک مچھلی لے کر (بھون کر) ٹوکری میں رکھ لے جہاں وہ مچھلی کھو جائے اسی جگہ خضر ملے گا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے خادم سے فرمایا جس جگہ مچھلی کھو جائے مجھے بتادینا ‘ اس کے بعد حضرت موسیٰ اور ان کا خادم دونوں چل دیئے۔
Ayah 18:61

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

جب ان کے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا رستہ بنالیا

فلما بلغا مجمع بینہما پس جب دونوں مجمع البحرین پر پہنچے (دو دریاؤں کے سنگم پر پہنچے) یعنی مقرر پتھر تک پہنچ گئے۔ موسیٰ وہاں سو گئے اور بھونی ہوئی مچھلی تڑپ کر زندہ ہو کر سمندر میں چلی گئی۔ سفیان نے کہا بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس پتھر کے پاس آب حیات کا چشمہ تھا (جس کی خاصیت یہ تھی کہ) جس چیز پر (یعنی جس مردہ پر) اس کا پانی لگ جاتا تھا وہ زندہ ہو کر سمندر میں جا کودتی تھی۔ کلبی نے کہا یوشع بن نون نے آب حیات سے وضو کر کے ٹوکری میں رکھی ہوئی نمکین مچھلی پر چھینٹا دیا جس سے مچھلی زندہ ہو کر پانی میں جا کو دی اور پانی کے اندر دم مارتی چلی گئی پانی کے جس حصہ پر وہ دم مارتی تھی پانی خشک ہو (کر راستہ بن) جاتا تھا۔ نسیا حوتہما تو دونوں اپنی مچھلی کو بھول گئے۔ یعنی موسیٰ مچھلی مانگنا اور دریافت حال بیان کرنا بھول گئے اور یوشع مچھلی کے زندہ ہو کر سمندر میں جا گرنے کا تذکرہ کرنا بھول گئے۔ بغوی نے لکھا ہے مچھلی یوشع کے پاس تھی حقیقت میں وہ ہی مچھلی کا تذکرہ کرنا بھولے تھے لیکن چونکہ دونوں نے زاد راہ کے لئے اس کو رکھا تھا اس لئے بھولنے کی نسبت دونوں کی طرف کی گئی ‘ جیسے کہا جاتا ہے فلاں لوگ سفر کو نکلے اور کھانے کے لئے انہوں نے کھانا ساتھ لے لیا حالانکہ ساتھ لینے والا اور اٹھانے والا صرف ایک آدمی ہوتا ہے لیکن رکھنے والے سب ہوتے ہیں اس لئے سب کی طرف ساتھ لینے اور اٹھانے کی نسبت کردی جاتی ہے۔ فاتخذ سبیلہ فی البحر سربا۔ اور مچھلی نے دریا میں اپنی راہ لی اور چل دی ‘ یعنی بحکم خدا مچھلی نے سمندر کے اندر اپناراستہ بنا لیا۔ سرب چلنے کا راستہ سَاِرٌب بالنَّہَارِدن میں چلنے والا۔ بعض اہل لغت نے کہا سرب کا معنی ہے لمبائی میں چیرنا (یعنی مچھلی نے پانی کو چیر کر (راستہ بنا لیا) صحیح روایت میں آیا ہے کہ مچھلی پانی میں گھسی تو اللہ نے پانی کی رفتار کو اس کے گردوپیش سے روک دیا اور پانی کے اندر محراب سی بن گئی۔ یہ روایت پہلے ذکر کی جا چکی ہے۔
Ayah 18:62

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

جب آگے چلے تو (موسیٰ نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ۔ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے

فلما جاوزا قال لفتہ اتنا غدآئنا لقد لقینا من سفرنا ہذا نصبا۔ اس کے بعد جب دونوں (مجمع البحرین) سے آگے بڑھے (اور دوسرے دن دوپہرتک چلتے رہے) تو موسیٰ نے اپنے خادم سے کہا کھانا لاؤ ‘ اس سفر میں ہم بہت تھک گئے۔ غَدَائصبح کے وقت کا کھانا۔ عَشَائشام کے وقت کا کھانا ‘ نَصَبٌسخت تھکان۔ جب حضرت موسیٰ مقررہ پتھر سے آگے بڑھے تو اللہ کی طرف سے آپ پر بھوک کا دورہ پڑا تاکہ کھانے کی خواہش ہو اور مچھلی یاد آجائے اور اپنے مقصد کی طرف لوٹ آئیں۔ صحیحین کی حدیث میں آیا ہے کہ جب تک مقررہ مقام سے حضرت موسیٰ آگے نہیں بڑھے تھے آپ کو تھکان نہیں ہوئی تھی۔
Ayah 18:63

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے ساتھ آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا۔ اور مجھے (آپ سے) اس کا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا۔ اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا رستہ لیا

قال ارایت اذ اوینا الی الصخرۃ فانی نسیت الحوت وما انسانیہ الا الشیطن خادم نے کہا دیکھئے تو جب ہم اس پتھر کے پاس قیام پذیر ہوئے تھے تو مچھلی (کا تذکرہ کرنا اور زندہ ہو کر دریا میں جا کودنا) میں بھول ہی گیا اور (یہ حرکت صرف شیطان کی ہے) شیطان نے ہی مجھے بھلا دیا۔ ان اذکرہ واتخذ سبیلہ فی البحر عجبا۔ کہ اس کا تذکرہ آپ سے کرتا اور (بیان کرتا کہ) مچھلی نے سمندر کے اندر (کود کر) اپنا راستہ عجیب طرح سے بنا لیا۔ الصخرۃ یعنی وہ پتھر جس کے پاس ہم سوئے تھے۔ بغوی نے ہقل بن زیاد کے حوالہ سے لکھا ہے کہ وہ پتھر وہی تھا جو دریاء زیت سے ورے تھا۔ نَسِیْتُ الْحُوْتَاس کا مطلب دو طرح سے بیان کیا گیا ایک مطلب وہی ہے جو ترجمہ میں ذکر کردیا گیا کہ میں آپ سے مچھلی کا واقع بیان کرنا بھول گیا۔ دوسرا ترجمہ نَسِیْتُ کا تَرَکْتُہے یعنی میں نے مچھلی کھو دی مچھلی چھوڑ آیا ‘ بغوی نے لکھا ہے یوشع نے مچھلی کو جب کود کر سمندر میں گرتے دیکھا تو حضرت موسیٰ کو مطلع کرنے کا ارادہ کیا لیکن (حضرت موسیٰ کی بیداری کے بعد) ذکر کرنا بھول گئے اور دن بھر بھولے رہے ‘ یہاں تک کہ دوسرے روز ظہر کی نماز پڑھ لی اور حضرت موسیٰ نے کھانا طلب کیا تو حضرت یوشع کو مچھلی یاد آئی اور آپ نے عذر پیش کیا۔ اِلاَّ الشَّیْطٰنُیعنی شیطانی وسوسہ آفرینی اور اغواء قلبی نے مجھے مچھلی کا تذکرہ کرنا بھلا دیا۔ بیضاوی نے لکھا ہے حضرت یوشع آیات قدرت کے مشاہدے میں غرق ہوگئے تھے مچھلی کا واقعہ دیکھ کر یکسر بارگاہ قدس کی طرف ان کی ساری توجہ کھنچ گئی تھی اور اسی مقام فنا میں پہنچ جانے نے ان کو مچھلی کا تذکرہ بھلا دیا تھا لیکن فروتنی اور انکسار طبع کی وجہ سے انہوں نے بھولنے کی نسبت اپنی طرف اور فراموش کرانے (یعنی شیطانی اثر اندازی کی نسبت شیطان کی طرف کی۔ عَجَبًا کا موصوف محذوف ہے یعنی سبیلاً عجباً یا اتخاذاً اعجبا۔ بعض نے کہا لفظ عجباً حضرت موسیٰ نے کہا تھا یوشع نے جب ان سے مچھلی کا تذکرہ کیا اور سمندر میں اپنی راہ لینے کا اظہار کیا تو حضرت موسیٰ نے فرمایا عجیب ‘ بعض نے کہا اتخذ کی ضمیر حضرت موسیٰ کی طرف راجع ہے یعنی مچھلی کا سمندر کے اندر اپنا راستہ اختیار کرنے کو موسیٰ نے عجیب قرار دیا۔
Ayah 18:64

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا یہی تو (وہ مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے

قال ذلک ما کنا نبغ فارتدا علی اثارہما قصصا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا یہ ہی تو وہ چیز ہے جس کے ہم خواستگار تھے چناچہ دونوں نقش قدم پر لوٹ پڑے۔ یہاں تک کہ مقرر پتھر تک آگئے۔ وہی مقام حضرت خضر سے ملاقات کے لئے مقرر تھا۔
Ayah 18:65

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

(وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا

فوجدا عبدا من عبادنا (وہاں) ان دونوں نے ہمارے ایک بندہ کو پایا۔ جمہور علماء کے نزدیک یہ خضر تھے صحیح حدیث میں یہی آیا ہے خضر کا نام بلیا بن ملکان یا الیسع یا الیاس کہا گیا ہے ‘ خضر لقب تھا اس لقب کی وجہ بغوی نے ہمام ابن منبہ کی روایت کو قرار دیا ہے۔ ہمام راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خضر کو خضر کہنے کی یہ وجہ تھی کہ خضر جب خشک زمین یا خشک گھاس پر بیٹھ جاتے تو وہ سرسبز ہو کر لہلہانے لگتی تھی۔ مجاہد نے کہا جس جگہ خضر نماز پڑھتے تھے اس کے گرداگرد سبزہ ہی سبزہ ہوجاتا تھا۔ بغوی نے خضر کو اسرائیلی نسل سے قرار دیا ہے کسی نے کہا شاہزادہ تھے جو تارک الدنیا ہوگئے تھے۔ حضرت مفسر نے فرمایا میرے نزدیک صحیح یہ ہے کہ خضر اسرائیلی نہیں تھے۔ ورنہ موسیٰ ( علیہ السلام) کا اتباع کرنا ان پر لازم ہوتا ‘ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کے پیغمبر تھے۔ صحیح حدیث بھی اوپر ذکر کی جا چکی ہے کہ خضر کے سوال کے جواب میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا میں موسیٰ ( علیہ السلام) ہوں خضر نے کہا بنی اسرائیل والے موسیٰ ‘ حضرت موسیٰ نے کہا جی ہاں۔ ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شخص کپڑا اوڑھے چت لیٹا ہے ‘ کپڑے کا کچھ حصہ سر کے نیچے دبا ہے اور کچھ ٹانگوں کے نیچے۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ اس وقت خضر وسط سمندر میں ایک جھالر دار سبز مند بچھائے نماز پڑھ رہے تھے۔ اتینہ رحمۃ من عندنا جس کو ہم نے اپنی طرف سے رحمت (یعنی نبوت اور وحی) عطا کی تھی۔ وعلمنہ من لدنا علما۔ اور ہم نے اپنے پاس سے اس کو علم سکھایا تھا یعنی ایسا علم دیا تھا جو صرف ہمارے لئے خاص تھا ‘ بغیر ہماری توفیق کے اس کا حاصل ہونا ناممکن تھا ‘ اس جگہ علماً سے مراد ہے ذات وصفات کا علم۔ بغوی نے لکھا ہے اکثر علماء خضر کو نبی تسلیم نہیں کرتے ‘ حضرت مفسر نے فرمایا میرے نزدیک علماء کا یہ قول غور طلب ہے کیونکہ اولیاء کو جو علم الہام سے حاصل ہوتا ہے وہ ظنی ہوتا ہے یقینی نہیں ہوتا (قرینہ سے اس کو الہام رحمانی کہا جاسکتا ہے لیکن ہوسکتا ہے وہ القاء شیطانی ہو خصوصاً ایسی صورت میں کہ وہ تعلیم شریعت کے خلاف ہو اس صورت میں تو اس کا القاء شیطانی ہونا تقریباً یقینی ہوتا ہے۔ مترجم) یہی وجہ ہے کہ الہامی علوم باہم متعارض اور مختلف ہوتے ہیں۔ اب اگر خضر کا نبی نہ ہونا مان لیا جائے تو کیا جواب ہوگا ‘ معصوم بچہ کو بےقصور قتل کردینے کا محض اس وجہ سے کہ خضر کو الہام سے معلوم ہوگیا کہ ماں باپ اس کی محبت میں پڑ کر گناہگار اور بےراہ ہوجائیں گے اس لئے اس کو قتل کردیا جائے (یہ الہام تو شریعت کے خلاف تھا ‘ پھر خضر نے اس پر عمل کیوں کیا ‘ مترجم)
Ayah 18:66

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے (جن کا نام خضر تھا) کہا کہ جو علم (خدا کی طرف سے) آپ کو سکھایا گیا ہے اگر آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں

قال لہ موسیٰ ہل اتبعک علی ان تعلمن مما علمت رشدا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے اس سے کہا کیا میں آپ کے ساتھ اس شرط پر رہ سکتا ہوں کہ اللہ کی طرف سے جو علم مفید آپ کو سکھایا گیا ہے اس میں سے کچھ آپ مجھ کو بھی سکھا دیں۔ اصل کلام اس طرح ہونا چاہئے کہ موسیٰ : ( علیہ السلام) نے کہا میں آپ کے پاس آپ کے ساتھ رہنے کے لئے آیا ہوں تاکہ ساتھ رہ کر آپ سے کچھ علم حاصل کروں ‘ لیکن (ادب و تہذیب کو پیش نظر رکھ کر) طلب اجازت کے طور پر کلام کا رنگ بدلا اور سوالیہ طرز اختیار کیا۔ رشد خیرکو پانا ‘ رشداً اور رشداً دونوں ہم معنی ہیں۔ رشداً تعلمنی کا مفعول دوئم ہے یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اتبعک کا مفعول لہ (علت) ہو۔ آیت بتارہی ہے کہ بعض چیزوں میں مفضول کو فاضل پر برتری حاصل ہوسکتی ہے اگر مفضول کے اندر کوئی کمال ایسا ہو جو فاضل میں نہ ہو تو اعلیٰ کے لئے مناسب ہے کہ اپنے سے کم درجہ والے سے وہ کمال حاصل کرنے کی کوشش کرے اور اس کو اپنے لئے کسر شان نہ سمجھے آیت کی تفسیر میں اوپر حدیث نقل کردی گئی ہے جس میں مذکور ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے سوال کیا سب سے بڑا عالم کون ہے۔ تو اللہ نے فرمایا وہ شخص سب سے بڑا عالم ہے جو دوسروں کا علم لے کر اپنے علم میں اضافہ کرلے ‘ ممکن ہے اس کو کوئی ایسی بات معلوم ہوجائے جو تباہی سے بچا لے یا سیدھا راستہ دکھا دے۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے اچھی سند سے بروایت ابوہریرہ اور ابن عساکر نے حضرت علی ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حکمت کی بات مؤمن کی گم شدہ (کھوئی ہوئی امانت) ہے جہاں ملے مؤمن اس کا سب سے بڑا مستحق ہے (فوراً لے لے) ۔ رسول اللہ ﷺ سے جو درود منقول ہے (جس میں حضور ﷺ نے اپنے اور اپنی آل کے لئے وہ رحمت طلب کی ہے جو حضرت ابراہیم اور رآل ابراہیم (علیہ السلام) : کو عطا کی گئی تھی) وہ بھی اسی (گم شدہ رحمت) کے ذیل میں داخل ہے۔ بغوی نے لکھا ہے ‘ بعض احادیث میں آیا ہے کہ موسیٰ نے خضر سے جب یہ بات کہی (یعنی ساتھ رہنے کی درخواست کی) تو خضر نے کہا علم کے لئے توریت کافی ہے اور عمل کے لحاظ سے بنی اسرائیل (کی ہدایت) کا مشغلہ کافی ہے (مزید علم و عمل کی آپ کو ضرورت نہیں) موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اللہ نے مجھے اس کا حکم دیا ہے (کہ آپ کے ساتھ رہ کر علم میں اضافہ کروں) حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنے اس کلام میں ادب و تہذیب کو ملحوظ رکھا اور بطور انکسار اپنے کو بےعلم قرار دیا اور خضر سے درخواست کی کہ مجھے اپنے ساتھ رہنے کی اجازت دیجئے اور جو علم اللہ نے آپ کو عطا کیا ہے اس کا کچھ حصہ مجھے بھی بتائیے۔
Ayah 18:67

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

(خضر نے) کہا کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکو گے

قال انک لن تسطیع معی صبرا۔ یہ امر یقینی ہے کہ آپ میرے ساتھ رہ کر ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے۔ خضر نے استطاعت صبر کی نفی سخت تاکیدی طور پر کی ( اِنَّ ۔ لَنْوغیرہ نفی میں زور پیدا کر رہے ہیں) اس کے آگے خود ہی حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کے معذور ہونے کی تصویر کشی بھی کردی (تاکہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی شان میں سوء ادب اور گستاخی کا تصور بھی نہ ہو سکے۔ مترجم)
Ayah 18:68

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیوں کرسکتے ہو

وکیف تصبر علی ما لم تحط بہ خبرا۔ اور جس بات کا آپ کو پورا علم نہ ہو اس پر آپ صبر کیسے کرسکتے ہیں۔ خبراً کا معنی ہے علم ‘ اطلاع ‘ امتیاز۔ خضر کو معلوم تھا کہ ایسے واقعات سامنے آئیں گے جو (بظاہر) ممنوع اور برے ہوں گے اور انبیاء امور ممنوعہ پر اس وقت تک خاموش نہیں رہتے جب تک ان کے جواز کی کوئی وجہ ان پر ظاہر نہ ہوجائے۔ میں کہتا ہوں وہ انبیاء اور رسل جن کو اصلاح عامہ کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ ان کی شریعتوں کے احکام ایسے اصول اور ضوابط پر مبنی ہوتے ہیں جن کی اصلاحات کا تعلق عوام سے ہوتا ہے اس لئے ان کی حکمت و مصلحت عوام کے ذہنوں پر منکشف ہوجاتی ہے اور ہونا چاہئے بھی لیکن جو انبیاء کسی امت کی اصلاح کے لئے مبعوث نہیں ہوتے ان کے پاس وحی کے ذریعہ سے آنے والے احکام کا مقصد صرف انبیاء کے نفوس کی اصلاح یا اللہ کے ساتھ انبیاء کے معاملات کی براہ راست درستی ہوتا ہے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) (نبی دعوت تھے ان) کے انکار اور خضر کے فعل پر اعتراض کی وجہ یہی تھی کہ خضر کا عمل شریعت موسوی کے خلاف تھا دونوں کا مسلک جدا جدا تھا اتحاد مسلک اور ترک اعتراض استفادہ کے لئے ضروری ہے۔ موسیٰ کو اسی لئے خضر بھی سمجھ گئے کہ ان سے برداشت نہ ہو سکے گی یہ خاموش نہیں رہیں گے کیونکہ میری مصاحبت ان کو سودمند نہ ہوگی۔ اسی لئے صوفیاء کا قول ہے کہ اگر مرید کو یقین ہو کہ پیر عارف کامل ہے تو اس کے کسی فعل پر اعتراض نہ کرے خواہ اس کا فعل بظاہر شریعت کے خلاف ہو اور اگر اختلاف مسلک کی وجہ سے مرید اعتراض کئے بغیر نہیں رہ سکتا تو پیر کی صحبت ترک کر دے (یعنی مرید پر اگر ظاہر شریعت کا غلبہ ہو اور خلاف شرع بات دیکھ کر وہ روکنے ٹوکنے سے باز نہ رہ سکتا ہو تو پیر کو کامل العرفان سمجھنے کے باوجود اس کو پیر کی صحبت سے ہٹ جانا چاہئے۔ مترجم) ایک شبہ شریعت محمدیہ عام ہے قیامت تک اس کے احکام میں کوئی تبدیلی و تنسیخ ممکن نہیں (نہ کوئی دوسرا نبی آئے گا کہ براہ راست اس کا تعلق اللہ سے ہو اور راست تعلق کی وجہ سے وہ اسلامی شریعت کے خلاف کرسکے۔ پھر پیر کو شریعت کے خلاف کرتے دیکھ کر کامل العرفان سمجھنا یا کسی کامل عارف کا شریعت کے خلاف کرنا کیسے ممکن ہے اولیاء و عرفاء کو انبیاء پر کیسے قیاس کیا جاسکتا ہے انبیاء ( علیہ السلام) براہ راست مامور ہوتے ہیں اور اولیاء کا شرعی تعلق اللہ سے براہ راست نہیں ہوتا۔ مترجم) جواب بیشک منصوص ‘ محکم احکام کی خلاف ورزی کرنا اور خلاف ورزی کے ثبوت میں اپنے ذاتی الہام کو پیش کرنا جائز نہیں ‘ خضر نے لڑکے کو قتل کردیا ان کے لئے جائز تھا۔ لیکن شریعت محمدیہ کو ماننے والے اولیاء امت ایسا نہیں کرسکتے الہام کو بہانہ بنا کر کسی کو بےقصور قتل نہیں کرسکتے اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ اس بےقصور کو اس لئے مار ڈال تاکہ آئندہ اس کے والدین اس کی محبت کی وجہ سے تباہ نہ ہو سکیں۔ لیکن اختلافی مسائل میں مثبت ‘ منفی ہر پہلو کی ایک وجہ ہوتی ہے اگر اللہ کا کوئی ولی اور عارف کسی ایک قول کو اختیار کرے (جو جمہور کے مسلک کے خلاف ہو) تو اس کو حکم شریعت کے خلاف قرار نہیں دیا جاسکتا۔ جہری ذکر اور سماع و غناء کے مسائل اسی طرح کے ہیں ‘ (مجوزین کے پاس بھی کوئی علت جواز ہے) اگر اللہ کا کوئی عارف سماع یا جہری ذکر کا شغل کرتا ہے تو نکتہ چینی نہ کرنی چاہئے۔ بعض چیزیں بظاہر ممنوع نظر آتی ہیں لیکن واقع میں ایسی نہیں ہوتیں ‘ ایک شخص گلاس میں شراب نما شربت پیتا ہو اور لوگوں کو دکھاتا ہو کہ یہ شراب ہے اور اس کی غرض صرف یہ ہو کہ لوگوں کا ہجوم بدگمان ہو کر اس کے پاس سے چھٹ جائے تاکہ اس کے ذکر و فکر میں خلل نہ پڑے تو اس میں کیا خرابی ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ باوجود ولی کامل اور عارف ہونے کے کسی صغیرہ گناہ کا اس سے صدور ہوجائے اور وہ اس کے گناہ ہونے کا اقرار بھی کر رہاہو۔ عصمت تو انبیاء کے ساتھ خاص ہے۔ پھر بدگمانی اور نکتہ چینی کی کیا وجہ۔ مرید پر لازم ہے کہ اگر اس کے شیخ سے کوئی اس قسم کی کوئی حرکت صادر ہو رہی ہے تو خود اس کا مرتکب نہ ہو لیکن شیخ کی تردید بھی نہ کرے اور اس کے عارف کامل ہونے میں شک نہ کرے۔ اولیاء اللہ (جیسے شیخ ابن عربی ‘ ابن سبعین ‘ ابن فارض وغیرہ) کے بعض مقالات مشاہدہ اور کشف پر مبنی ہیں ( اور شریعت کے خلاف نظر آتے ہیں) مناسب ہے کہ ان کی کوئی صحیح تاویل کی جائے اور شریعت کے موافق بنانے کی کوشش کی جائے اور بدگمانی کو راہ نہ دی جائے اللہ نے فرمایا ہے لَوْ لَا اِذْ سَمِعْتُمُوْہُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَالْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِہِمْ خَیْرًا اگر صحیح تاویل ممکن ہی نہ ہو تو ان مقالات کو حالت سکر پر محمول کیا جائے ‘ فقہاء کا فتویٰ ہے کہ مباح چیز سے اگر سکر پیدا ہوجائے اور اس سکر کی حالت میں طلاق دے دے تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ تو اولیاء اللہ جو اللہ کی محبت میں ڈوبے رہتے ہیں ان کے اس غلبۂ حال کے مقالات کیسے قابل گرفت ہوسکتے ہیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پڑھنے اور سننے والے ان کے مقالات کا مرادی مطلب ہی نہ سمجھے ہوں ان کی اصلی مراد کچھ اور ہو اور سننے پڑھنے والے کچھ اور سمجھ جائیں۔ بات یہ ہے کہ تمام عبادات محسوس معانی یا محسوس معانی سے استنباط کئے ہوئے عقلی معانی کے بیان پر موقوف ہیں انہی محسوس یا مستنبط از محسوس معانی کے اظہار پر تمام عبادات کا انحصار ہے لیکن جب ذات وصفات الٰہیہ کی ایسی (جن کی نہ کوئی محسوس نظیر ہو نہ شبیہ) کا کسی عارف کے دل پر تو پڑ رہا ہو اور وہ ان کو بیان کرنا چاہے لیکن غیبی سادہ غیر محسوس حقائق کے اظہار کے لئے کسی زبان میں الفاظ وضع ہی نہیں کئے گئے ہیں پھر کس طرح سوائے استعارہ مجاز اور ناقص تشبیہ کے واردات قلب بیان کرے۔ ایسی تعبیر کو سن کر سننے والے کے لئے کسی طرح جائز نہیں کہ وہ اس تعبیر کا ظاہری معنی مراد لے کر عقائد اہل سنت کے خلاف قرار دے دے مناسب یہ ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کے کلام میں متشابہات کا جس طرح استعمال کیا گیا ہے (جن کی حقیقت ناقابل فہم و افہام ہے) اسی طرح صفات و ذات کی جلوہ ریزیوں کا الفاظ میں اظہار بھی ظاہری الفاظ کی تعبیر میں بطور استعارہ و مجاز کیا جاتا ہے (حقیقی وضعی معنی مراد نہیں ہوتے) اَلرَّحْمٰنُ عَلَی الْعَرْشِ اسْتَوٰی اور یَدُ اللّٰہِ فَوْقَ اَیْدِیْہِمْ (رحمن عرش پر ٹھیک ٹھیک مقیم ہوگیا۔ اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے) دونوں آیات قرآن کی ہیں جو ان کو آیات قرآن نہ کہے وہ کافر ہے (لیکن ان کے ظاہری الفاظ سے تو اللہ کا جسم ہونا ثابت ہوتا ہے) اور اللہ کے جسم ہونے کا عقیدہ رکھنا قریب قریب کفر کے ہے اسی طرح بعض اولیاء اللہ کا کلام بھی اگر بظاہر شرع کے خلاف ہو تو ظاہری معنی مراد نہ لئے جائیں اور ان کی تردید بھی نہ کی جائے۔ حضرت موسیٰ کو اپنے صابر رہنے کا چونکہ قطعی اعتماد نہ تھا اس لئے اللہ کی مشیت کے ساتھ اپنے صابر رہنے کو مشروط کر کے جواب دیا۔
Ayah 18:69

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

(موسیٰ نے) کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پایئے گا۔ اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا

قال ستجدنی ان شآء اللہ صابرا ولا اعصی لک امرا موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا آپ ان شاء اللہ مجھے آئندہ صابر پائیں گے اور میں آپ کے کسی حکم کے خلاف نہیں کروں گا۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے صابر رہنے کا وعدہ کیا کیونکہ صحبت خضر اسی وقت نتیجہ خیز ہوسکتی تھی ‘ جب موسیٰ ( علیہ السلام) خضر کے فعل پر اعتراض نہ کرتے اور خضر کے ساتھ رہنے کا حکم اللہ سے مل چکا تھا لیکن ان کو اپنے صابر رہنے میں شک تھا کیونکہ حضرت خضر کے مسلک سے آپ کا مسلک جدا تھا اور اختلاف مسلک صابر نہ رہنے اور اعتراض کر بیٹھنے کا موجب تھا۔ اسی لئے۔
Ayah 18:70

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

(خضر نے) کہا کہ اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں

قال فان اتبعنی فلا تسئلنی عن شئی حتی احدت لک منہ ذکرا۔ خضرنے کہا اگر میرے ساتھ آپ رہنا چاہتے ہیں تو مجھ سے کسی بات کے متعلق (پہلے) سے نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کے متعلق ابتداًء ذکر نہ کروں۔ یعنی اگر میں کوئی ایسا کام کروں جو آپ کو ناپسند ہو تو جب تک میں خود ہی ابتداًء اپنی طرف سے اس کا ذکر آپ سے نہ کروں آپ مجھ سے کوئی سوال نہ کریں کیونکہ سوال کرنے سے اعتراض کرنے کا گمان ہوتا ہے اور اعتراض کرنے سے استفادہ ناممکن ہوجاتا ہے۔
Ayah 18:71

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

تو دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کیا آپ نے اس لئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں یہ تو آپ نے بڑی (عجیب) بات کی

فانطلقا پس دونوں چل دیئے۔ یعنی ساحل پر کشتی پر سوار ہونے کے ارادے سے کشتی کی تلاش میں چل دیئے وہاں ایک کشتی مل گئی اور دونوں اس میں سوار ہوگئے۔ بغوی نے لکھا ہے جو لوگ کشتی میں سوار تھے ‘ انہوں نے کہا یہ دونوں چور ہیں ان کو کشتی سے نکال دو کشتی کے مالک نے کہا یہ لوگ چور نہیں ہیں مجھے ان کے چہرے انبیاء کے چہرے دکھائی دے رہے ہیں۔ حضرت ابی بن کعب کی روایت سے صحیحین کی حدیث ہم نقل کرچکے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک کشتی ان کی طرف سے گزری موسیٰ ( علیہ السلام) اور خضر نے کشتی والوں سے سوار کرلینے کی درخواست کی۔ کشتی والوں نے خضر کو پہچان لیا اور بلا کرایہ دونوں کو سوار کرلیا۔ حتی اذا رکبا فی السفینۃ خرقہا یہاں تک کہ جب دونوں کشتی میں سوار ہوگئے تو خضر نے کشتی کو پھاڑ دیا۔ صحیحین کی روایت میں آیا ہے جو ہم نقل کرچکے ہیں کہ خضر نے کشتی کا ایک تختہ بسولے سے اکھاڑ دیا (یعنی پھاڑنے سے مراد ہے اکھاڑ دینا) قال اخرقتہا لتغرق اہلہا موسیٰ نے کہا کیا کشتی والوں کو ڈبونے کے لئے آپ نے کشتی کو پھاڑ دیا۔ انہوں نے تو ہم کو بلا کرایہ سوار کرلیا اور آپ نے کشتی کو توڑ دیا۔ اب پانی اندر آجائے گا اور سب ڈوب جائیں گے۔ لقد جئت شیئا امرا۔ آپ نے یہ بڑی (بری) حرکت کی۔ بغوی نے لکھا ہے عربی زبان میں اِمْر کا معنی ہے بڑی مصیبت ہر بڑی سخت چیز۔ اَمِرَ الاَمْرُبات بڑی سخت ہوگئی معاملہ بڑا ہوگیا قتیبی نے امراً کا ترجمہ کیا ہے عجیب 1 ؂۔ بغوی نے لکھا ہے خضر نے ایک بڑا شیشے کا پیالہ لے کر کشتی کے سوراخ پر ڈھانک دیا ‘ پیالہ سوراخ میں اڑ گیا (اور پانی اندر نہ آسکا) جلال الدین محلی نے لکھا ہے روایت میں آیا ہے کہ کشتی کے اندر پانی نہیں آیا یعنی یہ خضر کا معجزہ تھا۔
Ayah 18:72

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

(خضر نے) کہا۔ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہ کرسکو گے

قال الم اقل انک لن تستطیع معی صبرا۔ خضر نے کہا کیا آپ سے میں نے (پہلے ہی) نہیں کہہ دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں کرسکیں گے۔ یہ گزشتہ واقعہ کی حضرت خضر کی طرف سے یاد دہانی ہے حضرت موسیٰ نے جب دیکھا کہ سوراخ سے کشتی میں سوار ہونے والوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا پانی اندر داخل ہی نہیں ہوا تو۔