Ayah 18:73قال لا تو اخذنی بما نسیت کہنے لگے (میں بھول گیا تھا) بھول پر آپ میری گرفت نہ کریں یعنی میں
معاہدہ بھول گیا تھا مجھے یاد ہی نہ رہا کہ سوال نہ کرنے کا میں نے آپ سے وعدہ کرلیا ہے۔
بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ نسیان سے مراد ہے یعنی میں نے آپ کی پہلی نصیحت پر جو عمل نہیں کیا اس کا آپ مواخذہ نہ کریں ‘ حضرت ابی بن کعب کی روایت کردہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا موسیٰ کی پہلی حرکت از روئے نسیان تھی اور دوسری حرکت بطور شرط اور تیسری حرکت قصداً ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا حضرت موسیٰ بھولے نہ تھے نسیان کا تذکرہ ضمنی طور پر آگیا ہے۔ گویا حضرت موسیٰ کچھ اور بھولے تھے (اپنے سابق معاہدہ کو نہیں بھولے تھے)
ولا ترہنی من امری عسرا۔ اور میرے اس معاملہ میں مجھ پر زیادہ تنگی نہ ڈالئے ‘ یعنی تنگی اور مواخذہ کر کے
مجھ پر مشقت اور دشواری نہ ڈالئے مطلب یہ ہے کہ آپ کے اس سلوک سے میرے لئے آپ کے ساتھ رہنا دشوار ہوجائے گا۔ رہقہ (ثلاثی مجرد) اس کو ڈھانک لیا اَرْہَقَہٗ اِیّاہُاس پر کسی چیز کو ڈھانک دیا۔ بعض نے آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ آپ میرے ساتھ سختی کا برتاؤ نہ کیجئے آسانی کا سلوک کیجئے۔
Ayah 18:74فانطلقا اس کے بعد (کشتی سے اتر کر) دونوں چل دیئے۔
حتی اذا لقیا غلما فقتلہ یہاں تک کہ جب دونوں کو ایک لڑکا ملا تو خضر نے اس کو مار ڈالا۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ لڑکوں کے ساتھ مل کر ایک لڑکا کھیل رہا تھا جو خوش کلام اور حسین تھا ‘ سدی نے کہا وہ سب سے زیادہ حسین تھا اس کا چہرہ چمکیلا تھا۔ خضر نے اس کو پکڑ کر مار ڈالا ‘ بعض علماء نے کہا پچھاڑ کر چھری سے ذبح کردیا۔ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ پکڑ کر اس کا سر (گردن کی جڑ سے) اکھاڑ دیا یہ بھی کہا گیا ہے کہ پتھر مار کر اس کا سر کچل دیا۔ کسی نے کہا اس کا سر دیوار سے ٹکرا دیا۔ عبدالرزاق کی روایت میں آیا ہے کہ تین انگلیوں کے اشارے سے اس کا سر اکھاڑ دیا ‘ حضرت ابن عباس ؓ اور اکثر مفسرین کے نزدیک وہ لڑکا نابالغ تھا ‘ قرآن مجید کے لفظ غلام سے یہی مستفاد ہو رہا ہے۔ بالغ ہونے کے بعد لفظ غلام کا اطلاق نہیں کیا جاتا۔ حضرت ابن عباس ؓ نے یہ بھی فرمایا کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا تھا اَقْتَلْتَ نَفْسًا زَکِیَّۃً آپ نے معصوم جان کو قتل کردیا اگر وہ نابالغ بچہ نہ ہوتا تو حضرت موسیٰ نَفْساً زَکیّۃً نہ فرماتے ‘ حسن نے کہا وہ پورا مرد تھا ‘ کلبی نے کہا نوجوان تھا جو راستہ لوٹتا تھا اور پھر اپنے والدین کے پاس پناہ گزین ہوجاتا تھا۔ ضحاک نے کہا لڑکا تھا جو بگاڑ کے کام کرتا تھا اور ماں باپ اس سے دکھ پاتے تھے۔ مسلم نے حضرت ابی بن کعب کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس لڑکے کو خضر نے قتل کیا تھا وہ سرشتی کافر تھا اگر زندہ رہتا تو ماں باپ کو اللہ کی نافرمانی اور کفر میں مبتلا کردیتا۔ فَقَتَلَہٗ میںبتارہی ہے کہ حضرت خضر نے جونہی لڑکے کو دیکھا فوراً تفتیش حال کے بغیر قتل کردیا۔
قال اقتلت نفسا زکیۃ بغیر نفس لقد جئت شیئا نکرا۔ موسیٰ نے کہا کیا آپ نے ایک
معصوم جان کو بغیر جرم و قصاص کے مار ڈالا ‘ آپ نے بلاشبہ یہ ناجائز کام کیا۔
بعض روایات میں زاکِیَۃً آیا ہے ‘ عام قراء کوفہ اور ابن عامر کی قراءت میں زَکِیَّۃً اور باقی قراء کی روایت میں زاکِیَۃً آیا ہے۔ کسائی اور فراء نے کہا دونوں لفظ ہم معنی ہیں ابو عمرو بن علاء نے کہا زاکِیَۃً وہ نفس معصوم جس نے کبھی گناہ نہ کیا ہو اور زَکِیَّۃً وہ نفس جس نے گناہ کے بعد توبہ کرلی ہو۔ بِغَیْرِ نَفْسٍکا یہ مطلب ہے کہ اس نے کوئی ایسی حرکت نہیں کی جو موجب قتل ہو یعنی نہ وہ قاتل ہے نہ مرتد۔ نکر وہ امر جو شرعاً ناجائز ہو۔ قتادہ نے کہا نکر کی برائی امر سے زیادہ ہوتی ہے۔ اسی لئے پہلی مرتبہ حضرت موسیٰ نے اِمْرًا فرمایا کشتی کو توڑنے سے لوگوں کے ڈوبنے کا صرف خطرہ تھا اور دوسری مرتبہ نکراً فرمایا کیونکہ حقیقت میں قتل کا صدور ہوچکا تھا۔ بعض نے کہا امر کا درجہ نکر سے بڑھ کر ہے کشتی توڑنے سے ایک جماعت کے ڈوبنے کا خطرہ تھا اس لئے وہاں اِمْرًا کہا اور دوسری بار صرف ایک شخص کا قتل تھا اس لئے نکراً کہا۔
Ayah 18:75قال الم اقل لک انک لن تستطیع معی صبرا۔ خضر نے کہا کیا میں نے آپ سے نہیں کہہ
دیا تھا کہ آپ میرے ساتھ رہ کر صبر نہیں رکھ سکیں گے اس مرتبہ خضر نے اپنے کلام میں لکبڑھا دیا تاکہ خطاب سے ترک معاہدہ پر عتاب کا اظہار پُر زور طور پر ہوجائے۔
Ayah 18:76قال ان سالتک عن شئی بعدہا فلا تصحبنی قد بلغت من لدنی عذرا۔
موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اس (مرتبہ) کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھنا (مجھ سے الگ ہوجانا) آپ بیشک میری طرف سے عذر کی انتہا کو پہنچ گئے کہ تین بار مجھ سے آپ کے معاہدہ کی خلاف ورزی ہوچکی ہے۔ مسلم نے حضرت ابی بن کعب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم پر اور موسیٰ ( علیہ السلام) پر اللہ کی رحمت ہو اگر وہ عجلت سے کام نہ لیتے تو عجیب (واقعات) دیکھتے لیکن ان کو اپنے ساتھی سے شرم آئی اور انہوں نے اِنْ سَاَلْتُکَ عَنْ شَیئٍ بَعْدَہَا فَلاَ تُصٰحِبْنِیْ قَدْ بَلَغَتْ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا فرمایا ابن مردویہ کی روایت میں یہ الفاظ آئے ہیں کہ میرے بھائی موسیٰ ( علیہ السلام) پر اللہ رحمت فرمائے ان کو شرم آگئی اور انہوں نے یہ بات کہہ دی اگر وہ اپنے ساتھی کے ساتھ ٹھہرے رہتے تو بڑی عجیب باتیں دیکھتے۔
Ayah 18:77فانطلقا حتی اذا اتیا اہل قریۃ پھر دونوں چل دیئے یہاں تک کہ جب ایک بستی والوں کے پاس پہنچے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ بستی انطاکیہ تھی ابن سیرین نے کہا ایکہ تھی کسی نے اس کا نام برقہ کہا ہے بغوی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے لکھا ہے کہ اندلس میں ایک شہر تھا وہی مراد ہے۔
استعطما اہلہا فابوا ان یضیفوہما تو دونوں نے وہاں کے باشندوں سے کھانا طلب کیا مگر انہوں نے
میزبانی کرنے سے انکار کردیا (کھانا نہ دیا) بغوی نے حضرت ابی بن کعب کی روایت سے بیان کیا ہے کہ بستی والے کنجوس تھے دونوں حضرات ان کے پاس پہنچے ان کی مجلسوں میں گشت کیا اور کھانا طلب کیا لیکن انہوں نے نہیں دیا حق مہمانی طلب کی تو کسی نے مہمان بھی نہ بنایا۔ قتادہ کا قول ہے وہ بدترین بستی ہے جو مہمان کی میزبانی نہ کرے۔ بغوی نے حضرت ابوہریرہ ؓ : کی روایت سے لکھا ہے دونوں بزرگوں نے بستی کے مردوں سے کھانا طلب کیا لیکن کسی نے نہیں دیا ‘ آخر عورتوں سے مانگا تو ایک عورت نے دے دیا اس پر دونوں نے وہاں کے مردوں پر لعنت کی (بددعا) کی۔ یہ عورت بربر والوں میں سے تھی۔
فوجدا فیہا جدارا یرید ان ینقض فاقامہ پھر دونوں کو وہاں ایک دیوار ملی جو گرا چاہتی تھی ‘ خضر
نے اس کو سیدھا کردیا۔ دیوار کا کوئی ارادہ نہیں ہوتا اس لئے مجازی معنی مراد ہے۔ یعنی گرنے کے قریب تھی (بہت جھکی ہوئی تھی) عرب بولتے ہیں میرا گھر اس کے گھر کو دیکھتا ہے ‘ یعنی دونوں آمنے سامنے ہیں۔
بغوی نے حضرت ابی بن کعب کی روایت سے رسول اللہ ﷺ : کا فرمان نقل کیا ہے حضور ﷺ نے فرمایا خضر نے ہاتھ کے اشارے سے دیوار کو سیدھا کردیا۔ سعید بن جبیر نے کہا دیوار کو ہاتھ لگا دیا فوراً دیوار سیدھی ہوئی ایک روایت میں حضرت ابن عباس ؓ : کا قول آیا ہے کہ خضر نے اس دیوار کو ڈھا کر دو بار بنا دیا۔ سدی نے کہا گارا بنایا پھر دیوار کو بنا دیا۔
قال لو شئت لتخذت علیہ اجرا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس کی اجرت لے سکتے تھے۔
حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے حضرت خضر کو اجرت طلب کرنے کی ترغیب دی تاکہ مزدوری کی رقم سے دونوں کے کھانے کا کچھ سامان ہوجائے اس کلام سے درپردہ یہ بھی معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ کی نظر میں خضر نے بیکار کام کیا۔ آیت بتارہی ہے کہ حضرت خضر نے دیوار کو بڑی محنت کر کے ٹھیک کیا تھا اگر محنت کا کام نہ کرتے تو اجرت کے مستحق نہ قرار پاتے اگر بطور معجزہ دیوار کو ٹھیک کردیتے تو اجرت کس طرح طلب کرسکتے تھے بلکہ لینے کا بھی استحقاق کیسے ہوتا۔
Ayah 18:78قال ہذا فراق بینی وبینک خضر نے کہا یہ (تیسرا اعتراض) میرے اور آپ کے درمیان جدائی (کا
سبب) ہے۔
تیسرے اعتراض میں خواہش نفس کا کسی قدر دخل تھا جو سابق دونوں اعتراضوں میں نہ تھا اس لئے حضرت خضر نے تیسرے اعتراض کو موجب فراق قرار دیا۔ 1 [1 بعض غالی صوفیا نے بھی یہی کہا ہے حضرت مفسر نے انہی کا اتباع کیا اور طلب اجرت کو خواہش نفس کی آمیزش قرار دیا ‘ لیکن صاحب کتاب جلیل القدر
معصوم پیغمبر کی شان میں یہ غلط فہمی سوء ادب ہے۔ بعض اہل تفسیر کو بھی حضرت ابن عباس کے ایک اثر کی بنا پر یہ غلط فہمی ہوئی ہے اور تیسرے سوال میں انہوں نے حضرت موسیٰ : ( علیہ السلام) کی خواہش نفس کا دخل قرار دیا ہے۔ مگر صاحب روح المعانی نے اس کو ہی بےبنیاد قرار دیا ہے زمخشری مفسر کشاف نے ان اہل تفسیر کی تردید کی ہے جو تیسرے اعتراض کے اندر خواہش نفس کو دخیل سمجھتے ہیں۔ معتزلہ باجو ودی کہ عصمت انبیاء کے قائل نہیں لیکن زمخشری نے باوجود معتزلی ہونے کے اس جگہ خواہش نفس کے دخیل ہونے کی تردید کی ہے۔ واللہ اعلم۔] مطلب یہ ہے کہ اب میرے اور آپ کے درمیان جداء ہونے کا وقت آگیا ‘ کیونکہ آپ نے ایک ایسا اعتراض کیا جس میں خواہش نفس کا دخل ہے ‘ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہٰذَا سے اشارہ اس فراق کی جانب ہو جس کی صراحت اِنْ سَاَلْتُکَ عَنْ شَی ئٍبَعْدَہَا فَلاَ تُصٰحِبْنِیْ میں کی گئی ہے۔
سانبئک بتاویل ما لم تستطع علیہ صبرا۔ اب میں آپ کو ان چیزوں کی اندرونی تشریح بتاتا
ہوں جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا تھا۔ کیونکہ بظاہر وہ خلاف شریعت نظر آتی تھیں حالانکہ واقعہ میں مآل اور انجام کے لحاظ سے وہ بری اور غلط نہ تھیں۔ بغوی نے لکھا ہے بعض تفاسیر میں آیا ہے کہ حضرت موسیٰ نے حضرت خضر کا دامن پکڑ لیا اور کہا ان واقعات کا جو علم اللہ نے آپ کو دیا ہے جدا ہونے سے پہلے مجھے بھی بتائیے ‘ اس پر حضرت خضر نے کہا۔
Ayah 18:79اما السفینۃ فکانت لمسکین یعملون فی البحر فاردت ان اعیبہا وکان وراۂم ملک یاخذ کل سفینۃ غصبا۔ کشتی تو تھی چند غریبوں کی جو دریا میں کمائی کرتے تھے (لوگوں کو دریائی سفر کراتے اور کرایہ
لیتے تھے) میں نے کشتی کو (توڑ کر) عیب دار کرنا چاہا (اور عیب دار کردیا) کیونکہ ان سے پرے راستہ میں) ایک بادشاہ تھا جو ہر (عمدہ سالم کشتی) کو چھین لیتا ہے۔
کعب نے کہا یہ کشتی دس غریبوں کی تھی جو بھائی بھائی تھے ‘ پانچ تو اپاہج تھے اور پانچ کام کرتے تھے۔ آیت بتارہی ہے کہ مسکین کا اطلاق اس شخص پر بھی ہوتا ہے جس کے پاس مال تو ہو مگر ناکافی ہو۔ بقدر ضرورت نہ ہو یا اصلی ضرورتوں سے زائد نہ ہو۔
ورائ سے مراد ہے سامنے جیسے مِنْ وَرَاءِہِمْ جَہَنَّمَ میں وراء سے مراد ہے آگے بعض کے نزدیک وراء سے مراد پیچھے ہے واپسی میں اس ظالم بادشاہ کے حدود سے ان مسکینوں کو گزرنا تھا۔ اوّل تفسیر صحیح ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی قراءت میں وراۂم کی جگہ امامہم (ان کے آگے) آیا بھی ہے۔ کُلَّ سَفِیْنَۃٍ سے مراد ہے ہر عمدہ سالم اچھی کشتی۔ خضر نے کشتی کا تختہ پھاڑ کر عیب دار کردیا تاکہ ڈاکو بادشآہ اس کو نہ چھین لے اس شخص کا نام جلیدی بن کر کر تھا ‘ محمد بن اسحاق نے سولہ بن جلید ازدی لکھا ہے اور شعیب جبائی نے ہددبن بدد کہا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے روایت میں آیا ہے کہ حضرت خضر نے کشتی توڑنے کی وجہ بطور معذرت کشتی والوں کے سامنے بیان کی اور ظالم غاصب بادشاہ کے واقعہ کی اطلاع دی خضر کے بتانے سے پہلے ان کو کچھ معلوم نہ تھا۔ جب اس بادشاہ کی حدود سے کشتی والے آگے بڑھ گئے تو انہوں نے کشتی کو درست کرلیا ‘ کسی نے کہا روغن قیرکاپالش کرلیا (یا رال سے جوڑ دیا) کسی نے کہا سوراخ میں شیشی اڑا دی ‘ قوم کے سامنے حضرت خضر کی معذرت کی روایت عبارت قرآن کے خلاف ہے ‘ قرآن کی صراحت ہے کہ اپنے کئے ہوئے کاموں کی وجوہ حضرت خضر نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے اس وقت بیان کیں جب کشتی سے اتر کر لڑکے کو قتل کر کے دیوار کو سیدھا کرچکے تھے اور دونوں کے الگ ہونے کا وقت آگیا تھا اگر حضرت خضر کشتی والوں کو کشتی کے اندر ہی اپنے فعل کی وجہ بتا چکے ہوتے تو حضرت موسیٰ بھی اس سے ضرور واقف ہوجاتے ‘ پھر دوبارہ موسیٰ سے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی۔
Ayah 18:80واما الغلم فکان ابواہ مؤمنین فخشینا ان یرہقہما طغیانا وکفرا۔ اور رہا وہ لڑکا تو
اس کے ماں باپ ایمان دار تھے ہم کو اندیشہ ہوا کہ یہ ان پر سرکشی اور کفر کا اثر (نہ) ڈال دے ‘ یعنی اپنی نافرمانی اور بدسلوکی کی وجہ سے ماں باپ پر چھا جائے گا اور بےچارے والدین دکھ اور مصیبت میں پڑجائیں گے یا یہ مطلب ہے کہ ماں باپ کے ایمان کے ساتھ اپنے کفر اور طغیان کو جمع کر دے گا ایک ہی گھر میں ماں باپ کا ایمان بھی ہوگا اور بیٹے کا کفر و طغیان بھی۔ یا یہ مطلب ہے کہ ماں باپ پر ایسا غلبہ پالے گا کہ زبردستی ان کو کافر بنا دے گا ‘ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ مؤمن ماں باپ بیٹے کی محبت کی وجہ سے آئندہ گمراہ اور کافر ہوجائیں گے۔ سعید بن جبیر نے یہ مطلب بیان کیا کہ محبت اولاد مؤمن والدین کو تبدیل مذہب تک لے جائے گی ہم کو اس کا اندیشہ تھا اس لئے ہم نے لڑکے کو قتل کردیا۔ حضرت خضر کا یہ اندیشہ محض عقلی نہ تھا (جس کے خلاف ہونا بھی ممکن تھا) بلکہ اللہ کی طرف سے خضر کے پاس وحی آگئی ہوگی کہ اگر یہ لڑکا زندہ رہاتو اس کے مؤمن ماں باپ گمراہ ہوجائیں گے اور یہ دونوں کو گمراہ ہوجانے پر مجبور کر دے گا۔
ابن ابی شیبہ نے زید بن ہرمز کی روایت سے بیان کیا ہے کہ نجدہ خارجی نے حضرت ابن عباس ؓ کے پاس ایک تحریر بھیجی جس میں سوال کیا کہ حضرت خضر نے لڑکے کو کیسے قتل کردیا ‘ رسول اللہ ﷺ نے تو لڑکوں کو قتل کرنے کی ممانعت فرمائی ہے (کیا پہلے بچوں کا قتل جائز تھا) حضرت ابن عباس ؓ نے جواب میں لکھا اگر تجھے لڑکوں کی (آئندہ) حالت کا ویسا ہی علم ہوجائے جو موسیٰ کے علم والے ساتھی کو تھا تو تیرے لئے بھی بچوں کو قتل کرنا جائز ہوجائے گا۔ آپ کی مراد یہ تھی کہ عام مسلمانوں کے پاس تو وحی نہیں آتی (اور براہ راست اللہ کی طرف سے ان بچوں کے احوال بذریعۂ وحی بتائے نہیں جاتے) رسول اللہ ﷺ کے بعد سلسلۂ وحی منقطع ہوچکا ہے اس لئے اب امت اسلامیہ کے لئے بچوں کو قتل کرنا جائز نہیں (عقلی قرائن اور الہام وجہ جواز نہیں ہوسکتے) اور حضرت خضر کے پاس وحی آئی تھی اور ان کو حکم دیا گیا تھا ‘ پس رسول اللہ : ﷺ کی ممانعت حضرت خضر پر لاگو نہیں ہے۔
ایک شبہ علم معلوم کے تابع ہوتا ہے صحیح علم کے لئے معلوم کا خارج میں وجود اور تحقق ہونا ضروری ہے اللہ جانتا تھا کہ وہ لڑکا اگر زندہ رہا تو کافر سرکش ہوگا لیکن وہ لڑکا زندہ ہی نہیں رہا نہ کفر و طغیان اس سے سرزد ہوا خضر نے اس کو جوان ہونے سے پہلے ہی قتل کردیا اس سے لازم آتا ہے کہ اللہ کا علم معلوم خارجی کے مطابق نہیں ہوا کیونکہ معلوم کا تحقق خارج میں ہوا ہی نہیں پھر کس طرح ایسے علم کو صحیح قرار دیا جاسکتا ہے جو معلوم خارجی کے مطابق نہیں تھا۔
جواب مخلوق کا علم معلوم کے تابع ہوتا ہے۔ معلوم خارجی سے مستفاد ہوتا ہے لیکن اللہ کا علم اس کے برعکس ہے وجود اشیاء اللہ کے علم کے تابع ہے اللہ کا علم اصل ہے اور معلوم خارجی اس کا تابع۔
حضرت مفسر (رح) نے فرمایا :
یہ جواب غیر مفید ہے اس سے اعتراض دفع نہیں ہوتا علم تابع ہو اور معلوم اس کا متبوع یا معلوم تابع ہو اور علم متبوع بہرصورت صحت علم کے لئے علم اور معلوم کی مطابقت ضروری ہے اور جب معلوم کا خارج میں وجود ہی نہ ہو تو مطابقت کا تصورہی کس طرح ہوسکتا ہے قضیہ شرطیہ کا خارج میں وجود ہی نہیں ہوا ‘ لڑکا بالغ نہیں ہوا کفر و طغیان کا اس سے صدور نہیں ہوا تو ایسے معلوم سے جس کا خارجی وجود ہی نہیں ہوا علم کا صحیح تعلق کس طرح ممکن ہے۔ اس لئے صحیح جواب یہ ہے کہ قضیہ شرطیہ کا صدق اور اس سے علم کا صحیح تعلق صرف علاقۂ لزوم پر موقوف ہے اگر شرط وجزا میں علاقۂ لزوم ہے تو قضیہ سچا ہوگا خواہ شرط کا وجود محال ہی ہو اور جزا کا بھی وقوع نہ ہوا ہو صرف تعلق لزوم صحیح ہو جیسے آیت لَوْ کَانَ فِیْہِمَا اٰلِہَۃٌ الاَّ اللّٰہُ لَفَسَدَتَاقضیہ شرطیہ ہے اور صادق ہے اگر چند الہٰ ہوں گے یا ہوتے تو ضرور آسمان و زمین کی بربادی ہوجاتی یا ہوجائے گی۔ اس قضیہ کی سچائی میں آلٰہہ کا نہ ہونا اور آسمان و زمین میں تباہی واقع نہ ہونا مانع نہیں کیونکہ وجودہ آلہہٰ اور وقوع فساد کے درمیان تعلق صحیح ہے۔ یا اِنْ کَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَۃً فَالنَّہَارُ مَوْجُوْدٌمیں علاقۂ ملازمتہ صحیح ہے ‘ جب سورج نکلے گا دن ہوجائے گا لیکن اس قضیہ شرطیہ کی صداقت نہیں چاہتی کہ سورج کبھی ضرور نکلے یا دن ضرور موجود ہو طلوع آفتاب بھی کبھی نہ ہو اور دن بھی کبھی موجود نہ ہو تب بھی یہ قضیہ سچا ہوگا کیونکہ طلوع آفتاب اور وجود نہار میں تعلق لزوم صحیح ہے۔
ایک جدید شبہ اور اس کا جواب
دو چیزوں میں اگر لزوم کا تعلق ہو تو اس کا تقاضا ہے کہ ایک چیز کا وجود دوسری چیز کے وجود کی علت تامہ ہو (جیسے طلوع آفتاب وجود نہار کی علت ہے) یا دونوں کسی تیسری علت کے محتاج اور معلول ہوں اور اس تیسری علت نے ان دونوں کے درمیان لزوم پیدا کردیا ہو جیسے دو اینٹیں محرابی شکل بنا کر کھڑی کردی جائیں تو ہر اینٹ دوسری اینٹ کے سہارے سے قائم ہوتی ہے اگر دونوں میں سے کسی اینٹ کو ہٹا دیا جائے اور سہارا ختم ہوجائے تو دوسری اینٹ گرپڑے گی مگر دونوں اینٹوں میں سے کسی کی بقاء بذات خود دوسری پر موقوف نہیں ہے بلکہ کسی معمار نے ان دونوں کو اس طرح کھڑا کردیا ہے کہ ہر ایک دوسری کے سہارے سے قائم ہے یہ معمار دونوں میں لزوم پیدا کرانے کی علت ہے) اب بتاؤ اس لڑکے کے زندہ رہنے اور کفر کرنے میں لزوم کس طرح کا تھا ‘ لڑکا خود کفر کی علت تامہ نہیں ہوسکتا اور نہ کسی تیسرے نے ان دونوں کے درمیان لزوم کا تعلق پیدا کرایا کہ لڑکا زندہ ہی بغیر کفر کے نہ رہ سکتا ہو۔
اس کے جواب کے لئے ہم کو اہل تصوف کی تحقیقات سے استفادہ کرنا ہوگا اہل تصوف کہتے ہیں کہ اشیاء کے وجود خارجی سے مقدم اور اصل اشیاء کی ماہیات کا ثبوت ہے ان ہی ماہیات ثابتہ کو حقائق امکانیہ اور اعیان ثابتہ کہا جاتا ہے۔ اعیان ثابتہ اللہ کی صفات کا عکس پر تو اور ظل ہیں اور اشیاء کا وجود خارجی اعیان ثابتہ کا پرتو اور ظل ہے ‘ اعیان ثابتہ کا مبدء اور اصل اللہ کی صفات ہیں ور اللہ کی صفات مختلف اور متعدد ہیں ہادی ہونا اور گمراہ کرنا بھی اللہ کی صفات ہیں اعیان ثابتہ میں سے جس عین ثابت پر صفت ہدایت اثر انداز ہوتی ہے وہ ہدایت یاب ہوتا ہے اور جس پر صفت اضلال پر توفگن ہوتی ہے وہ گمراہ ہوتا ہے اور اسی پر اشیاء کے وجود خارجی کی بنا ہوتی ہے اسی لئے کہا جاتا ہے کہ علم الٰہی میں معلوم تابع ہوتا ہے اور علم متبوع (جیسا علم ہوتا ہے خارجی وجود ویسا ہی ہوجاتا ہے علم اصل ہے اور موجودات خارجیہ اس کی فوٹو اور کا پی) پس جن اشیاء کا مبدء تعین صفت اضلال ہے اور وہ صفت اضلال کی پرتو ہیں ان کا گمراہ ہونا اور گمراہی کا ان سے ظاہر ہونا لازم ہے اور جن اشیاء کا مبدء تعین صفت ہدایت ہے ان کا ہدایت یاب ہونا ضروری ہے۔ صفت اضلال کے مظہر کا گمراہ اور شقی ہونا اور صفت ہدایت کے مظہر کا ہدایت یاب اور سعید ہونا لازم ہے یہی مطلب ہے اس فرمان نبوی ﷺ کا جس کے راوی حضرت علی ؓ ہیں ‘ حضور ﷺ نے فرمایا ہر ایک کے لئے وہی (راہ) آسان کردی جاتی ہے جس کے لئے اس کو پیدا کیا گیا ہے جو شخص اہل سعادت میں سے ہوتا ہے اس کے لئے اہل سعادت کے اعمال آسان کردیئے جاتے ہیں (اہل سعادت کے عمل کی اس کو توفیق دی جاتی ہے) اور جو اہل شقاوت میں سے ہوتا ہے اس کے لئے اہل شقاوت کا عمل آسان کردیا جاتا ہے (اہل شقاوت کے اعمال کی توفیق دے دی جاتی ہے) متفق علیہ۔
اس لڑکے کی تخلیق کفر پر ہونے کا یہی معنی ہے کہ اس کا مبدء تعین ضلال تھا (لامحالہ اس کو گمراہ ہونا تھا) ظہور ضلالت سے پہلے اس کا مرجانا اس کے لئے بھی مفید تھا اور اس کے والدین کے لئے بھی اور یہ سب کچھ اللہ کی مہربانی سے ہوا۔ اللہ پر لازم نہیں کہ بندہ کے لئے جو زیادہ مفید ہو وہی کام کرے یہ مسلک تو معتزلہ کا ہے جو وجوب اصلح کے قائل ہیں ‘ اگر اللہ پر زیادہ مفید کام کو واجب قرار دیا جائے گا تو آئندہ ہونے والے ہر کافر کو بچپن میں مار ڈالنا ہی اللہ پر واجب قرار پائے گا ‘ حقیقت میں یہ اللہ کی مہربانی ہے وجوب نہیں کہ بندہ کے لئے جو بات زیادہ مفید ہو اللہ وہی کرے۔ واللہ اعلم۔
Ayah 18:81فاردنا پس ہم نے چاہا۔ حضرت خضر نے جمع کا صیغہ بول کر اپنے ساتھ ارادہ کرنے میں اللہ کو شریک بنا لیا اور ظاہر ہے
کہ اللہ کے ارادے کا تعلق اللہ کے فعل سے ہوسکتا ہے لیکن خضر کے ارادے کا تعلق اللہ کے فعل سے ہوجائے یہ ناممکن ہے۔ خضر کے ارادے سے اللہ کا فعل نہیں ہوسکتا۔ اس لئے ارادہ کا معنی اس جگہ حقیقی نہیں بلکہ چاہنا مراد ہے۔
ان یبدلہما ربہما کہ ان کا رب (اس لڑکے کا) عوض عطا فرما دے اوّل لڑکے کو ہلاک کرنے کی جگہ دوسرے
لڑکے کو پیدا کردینا پہلے لڑکے کے ہلاک ہونے کا عوض اور بدل تھا اور ہلاک کرنے کے مرتکب حضرت خضر تھے مگر دوسرے لڑکے کو پیدا کرنا خالص اللہ کا کام تھا اس میں حضرت خضر کے فعل کو دخل نہ تھا اس لئے یُبْدِلَ فعل کی نسبت خالص اللہ کی طرف کی۔ یُبْدِلَکی بجائے یُبَدِّلَبھی متواتر قراءت ہے۔ ابدال اور تبدیل دونوں ہم معنی ہیں بغوی نے لکھا ہے کہ تبدیل عام ہے نفس شئی کو ہی بدل دینا یا اس کی حالت کو بدل دینا دونوں کو تبدیل کہتے ہیں اور ابدال اصل شئی کے بدلنے کو کہتے ہیں مگر بغوی کی یہ تحقیق غلط ہے اگر ایسا ہوتا تو دسری قراءت متواتر نہ ہوتی دونوں قراءتوں کو جمع کرنا ناممکن ہوجائے گا (کیونکہ اختلاف قراءت سے معنی میں تغیر آجائے گا)
خیرا منہ زکوٰۃ جو اس سے زیادہ (گناہوں اور بدکاریوں سے) پاک ہو۔
واقرب رحما۔ اور (ماں باپ پر) مہربانی اور رحم کرنے کے لحاظ سے (والدین سے) بڑا قرب رکھنے
والا ہو۔ رُحم بمعنی رحمت ہے۔
بعض علماء نے رحم کو رحم سے مشتق مان کر قرابت ترجمہ کیا ہے قتادہ نے کہا بڑا صلۂ رحم کرنے والا اور ماں باپ کا بڑا فرماں بردار ‘ خدمت گزار۔ بغوی نے کلبی کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے اس لڑکے کے عوض اس کے والدین کو ایک لڑکی عطا فرمائی جس سے ایک پیغمبر نے نکاح کیا اور اس کے بطن سے ایک نبی پیدا ہوا جس نے ایک امت کو ہدایت یافتہ بنا دیا ‘ حضرت جعفر بن محمد نے فرمایا اللہ نے والدین کو ایک لڑکی دی جس کی نسل سے ستّرپیغمبر پیدا ہوئے۔ ابن جریج نے کہا اس کے عوض اللہ نے ایک فرماں بردار مسلم لڑکا عنایت کیا ‘ ابن ابی شیبہ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے عطیہ کا قول نقل کیا ہے کہ ایک لڑکی اللہ نے ان کو دی جس کے بطن سے پیغمبر پیدا ہوا حضرت ابن عباس کا ایک قول بھی اسی طرح روایت میں آیا ہے ‘ ابن المنذر نے دوسری سند سے یوسف بن عمر کے حوالہ سے بیان کیا کہ اللہ نے اس لڑکے کے عوض ایک لڑکی عطا فرمائی جس سے بہت پیغمبر پیدا ہوئے۔ یہ قول بخاری نے اپنی تاریخ میں اور ترمذی و حاکم نے حضرت ابو درداء کی روایت سے مرفوعاً بیان کیا ہے اور حاکم نے حضرت ابو درداء ؓ کی روایت سے مرفوعاً بیان کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی قرار دیا ہے۔
مطرف نے کہا جب وہ لڑکا پیدا ہوا تھا تو اس کے ماں باپ خوش ہوئے تھے ‘ پھر جب وہ قتل ہوگیا تو والدین کو غم ہوا اگر وہ زندہ رہتا تو ماں باپ کی تباہی یقینی تھی ‘ آدمی کو چاہئے کہ اللہ کے حکم پر راضی رہے ‘ اللہ مؤمن کے لئے اگر ناگوار فیصلہ بھی کرتا ہے تب بھی مؤمن کے لئے اس بات سے بہتر ہوتا ہے جو وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے میں کہتا ہوں مؤمن پر لازم ہے کہ وہ اپنی پسند اور ناپسند دونوں میں اللہ کی مخفی تدبیر سے ڈرتا رہے اس کی رحمت کا امیدوار رہے اور اسی سے پناہ کا طلب گار رہے۔ اللہ کے حکم پر اعتراض نہ کرے ‘ ہر حال میں اس کے فیصلہ پر راضی رہے۔
Ayah 18:82واما الجدار فکان لغلمین یتیمین فی المدینۃ وکان تحتہ کنز لہما اور دیوار کا قصہ یہ
تھا کہ وہ بستی کے دو یتیم لڑکوں کی تھی اور دیوار کے نیچے ان کا خزانہ دفن تھا۔
بغوی نے لکھا ہے ان دونوں لڑکوں کا نام اصرم اور صریم تھے۔ کنز کا ترجمہ عکرمہ نے مال کیا ہے حضرت ابو درداء ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سونے چاندی کا خزانہ تھا یہ حدیث بخاری نے تاریخ میں اور حاکم نے بیان کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے۔ طبرانی نے اس آیت کی تشریح میں حضرت ابو درداء ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ ان کے لئے کنز (نامعلوم دفینے) حلال کردیئے گئے تھے اور مال غنیمت حرام کردیا گیا تھا اور ہمارے لئے کنز حرام کردیئے گئے اور مال غنیمت حلال کردیا گیا (حضرت مفسر نے فرمایا) میں کہتا ہوں ہمارے لئے کنز حرام کردیئے جانے کا یہ مطلب ہے کہ سونا چاندی بغیر زکوٰۃ ادا کئے جمع کر کے رکھنا ہمارے لئے حرام کردیا گیا ہے اللہ نے فرمایا ہے والَّذِیْنَ یَکْنِزُوْنَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنْفِقُوْنَہَا فِی سَبِیْلِ اللّٰہِ فَبَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ اور جو لوگ سونا چاندی جمع کر کے رکھتے ہیں اور اللہ کی راہ میں اس کو خرچ نہیں کرتے ان کو دکھ والے عذاب کی خوشی خبری دے دو ۔ حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا جس مال کی زکوٰۃ دے دی جائے وہ کنز نہیں ہے ‘ خواہ اس کو دفینہ بنا کر ہی رکھا جائے اور جس مال کی زکوٰ ادا نہ کی گئی ہو وہ کنز ہے خواہ اس کو زمین میں دفن نہ کیا گیا ہو۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس بستی والوں پر زکوٰۃ فرض نہ تھی جب ہی تو حضرت ابودرداء نے فرمایا کہ ان کے لئے مال کو کنز بنا کر رکھنا حلال کردیا گیا تھا۔
بغوی نے سعید بن جبیر کے حوالے سے لکھا ہے کہ وہ کنز کچھ صحیفوں کی شکل میں تھا جس میں علم تھا (گویا علمی خزانہ تھا) حاکم نے صحیح سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا وہ کنز سونے چاندی کا نہ تھا بلکہ علمی صحیفے تھے۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس کا بھی یہی قول نقل کیا ہے۔ بروایت بغوی حضرت ابن عباس ؓ : کا دوسرا قول آیا ہے کہ وہ سونے کی ایک تختی تھی جس میں تحریر تھا ‘ تعجب ہے کہ جس کا موت پر یقین ہو وہ خوش کیسے ہوتا ہے ‘ تعجب ہے کہ جس کا تقدیر پر یقین ہو وہ رنجید کیونکر ہوتا ہے۔ تعجب ہے کہ جس کو رزق (مقدر) ملنے کا یقین ہو وہ (تلاش رزق میں) تھکتا کیوں ہے (کیوں کمائی کے لئے سرگرداں پھرتا ہے) تعجب ہے کہ جس کو (آخرت کے) حساب پر یقین ہے وہ غافل کیسے رہتا ہے ‘ تعجب ہے کہ جو زوال دنیا کا یقین رکھتا ہے وہ (حاصل شدہ) دنیا پر مطمئن ہو کر کیسے بیٹھ جاتا ہے لاَ اِلٰہَ الاَّ اللّٰہُ محمد رسول اللّٰہتختی کے دوسری طرف لکھا تھا میں ہی اللہ ہوں میں اکیلا ہوں میرا کوئی ساجھی نہیں۔ میں نے خیر و شر کو پیدا کیا خوشی ہے اس شخص کے لئے جس کو میں نے خیر کے واسطے پیدا کیا اور اس کے ہاتھوں سے خیر کو جاری کرایا اور ہلاکت ہے اس شخص کے لئے جس کو میں نے شر کے لئے پیدا کیا اور شر کو اس کے ہاتھوں سے جاری کیا۔ بزار نے یہ حدیث ضعیف سند کے ساتھ حضرت ابوذر کی روایت سے مرفوعاً بیان کی ہے ابن مردویہ نے بھی حضرت علی ؓ : کی روایت سے اس کو مرفوع قرار دیا ہے لیکن خرابطی نے قمع الحرص میں اس کو حضرت ابن عباس ؓ : کا قول کہا ہے۔ زجاج نے کہا لفظ کنز اگر بےقید (بغیر مضاف الیہ کے) بولا جاتا ہے تو اس سے مالی خزانہ مراد ہوتا ہے اور قید (مضاف الیہ) کے ساتھ بولا جاتا ہے تو دوسری چیزوں کا خزانہ بھی مراد ہوتا ہے جیسے کنز العلم علم کا خزانہ اور تختی میں دونوں باتیں تھیں (وہ سونے کی بھی تھی اور وہ علم کا خزانہ بھی تھی)
وکان ابوہما صالحاً اور ان دونوں یتیموں کا باپ نیک تھا۔ بعض اہل علم نے اس شخص کا نام شح بیان کیا ہے۔
بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا باپ کی نیکی کی وجہ سے (اللہ کی طرف سے) دونوں یتیموں کی حفاظت کی گئی یعنی باپ کی نیکی کی وجہ سے یتیموں کی حفاظت کے لئے اللہ نے دیوار درست کردینے کا حکم خضر کو دیا محمد بن منکدر کا قول ہے کہ بندہ کے نیک ہونے کے سبب اللہ اس کی اولاد ‘ اولاد کی اولاد ‘ کنبہ ‘ خاندان اور ہمسایوں کی بھی حفاظت فرماتا ہے۔ سعید بن مسیب نے بیان کیا میں نماز پڑھتا ہوں اور اولاد کا خیال آجاتا ہے تو نماز اور بڑھا دیتا ہوں (تا کہ میری نماز کی وجہ سے اولاد کی حفاظت رہے)
یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ مرد صالح دونوں یتیموں کا باپ نہیں تھا بلکہ ساتواں دادا تھا (یعنی سات نسلوں تک ایک شخص کی نیکی کا اثر باقی رہا) ابن ابی حاتم نے سلیمان بن سلیم کے حوالہ سے بیان کیا ہے کہ توریت میں لکھا ہوا ہے کہ اللہ کسی نیک کی نیکی کی وجہ سے سات صدیوں تک (اس کی نسل اور قوم کی) حفاظت کرتا اور (کسی کی بدکرداری کی وجہ سے) سات صدیوں تک تباہی قائم رکھتا ہے۔
آیت دلالت کر رہی ہے کہ صلحاء کی اولاد کی رعایت اور ان کے فائدے کے لئے امکانی کوشش مسلمانوں پر لازم ہے لیکن شرط یہ ہے کہ وہ کافر اور اللہ سے سرکش نہ ہوں اگر کافر یا سرکش ہوں تو وہ زیادہ سزا کے مستحق ہیں دوسرے لوگوں کی سرکش اولاد سے صلحاء کی طاغی اولاد پر زیادہ سختی کی جائے حضرت خضر کا اس لڑکے کو قتل کردینا جس کے آئندہ کافر ہونے اور ماں باپ پر وبال پڑنے کا اندیشہ تھا اس قول کی تائید کر رہا ہے۔
فاراد ربک ان یبلغا اشدہما پس آپ کے رب نے چاہا کہ وہ اپنی بھرپور جوانی کو پہنچ جائیں۔ اَشْد کا معنی
ہے پوری پوری سوجھ بوجھ (کمال رشد) اور قوت۔ کہا گیا ہے کہ اشد کی عمر 18 سال ہے۔ امام ابوحنیفہ کا ظاہر قول یہ ہے کہ پچیس کی عمر میں آدمی حدّ اشد (کمال رشد) کو پہنچ جاتا ہے (یعنی اس کے بعد کمال رشد کو پہنچنے کی امید نہیں رہتی اگر پچیس سال تک کوئی کمال رشد کو نہیں پہنچا تو پھر اس سے زیادہ عمر میں بھی اس کو پورا رشد حاصل نہیں ہوگا) اس لئے اگر کسی سادہ لوح سبک سر کی عمر پچیس سال ہوجائے (سمجھا جائے گا کہ اس کو جتنی سمجھ بوجھ ملنی تھی مل گئی آئندہ انتظار غیر ضروری ہے) اس کا مال اس کو دے دیا جائے گا کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے فَاِنْ اٰنَسْتُمْ مِنْہُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوْا اِلَیْہِمْ اَمْوَالَہُمْ ۔ حضرت مفسر نے فرمایا میرے نزدیک چالیس سال کی عمر میں آدمی حدَِّ اشد کو پہنچتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے حَتّٰی اِذَا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَبَلَغَ اَرْبَعِیْنَ سِنَۃً ۔
ویستخرجا کنزہما رحمۃ من ربک اور اپنا دفینہ نکال لیں اور میں نے یہ سارے کام آپ کے رب کی
مہربانی (یعنی الہام یا وحی) سے کئے ہیں۔
بیضاوی نے لکھا ہے حضرت خضر نے کشتی کو عیب دار بنانے کے ارادے کی نسبت صرف اپنی ذات کی طرف کی ‘ کیونکہ عیب دار بنانا انہی کا فعل تھا ‘ اپنے فعل کا ارادہ خود انہوں نے ہی کیا تھا اس کے بعد اردنا کہنے میں اپنے ساتھ اللہ کو بھی فاعل ارادہ قرار دیا کیونکہ ہلاک یعنی قتل کرنا حضرت خضر کا فعل تھا ‘ قتل کے فاعل وہ خود تھے اور مقتول لڑکے کی جگہ دوسری اولاد کو پیدا کرنا اللہ ہی کا کام تھا اور اللہ کے کام کا ارادہ اللہ کے سوا کون کرسکتا ہے اسی لئے تیسری جگہ فَاَرَادَ رَبُّکَمیں ارادہ کی نسبت صرف اللہ کی طرف کی کیونکہ یتیم لڑکوں کے بالغ اور جوان ہونے میں اللہ کے ارادہ کے علاوہ کسی اور کا دخل ہی نہیں ہوسکتا تھا۔
یا یوں کہا جائے کہ کشتی توڑنا فی نفسہٖ شر ہے (اگر اس میں خیر تھی تو اضافی تھی) اس لئے اپنی ذات کی طرف نسبت کی اور تیسرا فعل سراسر خیر ہے اس لئے اس کی نسبت اللہ کی طرف کی اور دوسرے فعل میں شر اور خیر مخلوط تھی اس لئے اپنے ساتھ اللہ کی طرف بھی نسبت کی۔ یا یوں کہا جائے کہ اسباب و وسائط کی طرف توجہ کرنے میں عارف کا حال مختلف ہوتا ہے (کبھی خالص وسائط کی طرف توجہ ہوتی ہے کبھی وسائط سے بالکل منہ موڑ لیتا ہے ‘ کبھی مخلوط التفات ہوتی ہے)
وما فعلتہ عن امری اور (جو کچھ آپ نے دیکھا) میں نے اس میں سے کوئی حرکت اپنی رائے سے نہیں کی۔
بلکہ اللہ کے حکم سے کی۔
ذلک تاویل مالم تسطع علیہ صبرا یہ تشریح ہے ان باتوں کی جن پر آپ صبر نہیں کرسکتے تھے۔
بغوی کا بیان ہے کہ جب حضرت موسیٰ حضرت خضر سے جدا ہونے لگے تو فرمایا مجھے کچھ نصیحت کیجئے حضرت خضر نے کہا علم کی طلب لوگوں سے بیان کرنے کے لئے نہ کرنا بلکہ عمل کرنے کے لئے علم کی طلب کرنا۔ بیضاوی نے لکھا ہے اس قصہ سے یہ نتیجہ بھی اخذ کیا جاسکتا ہے کہ آدمی کو اپنے علم پر غرور نہ کرنا چاہئے اور جو بات پسند نہ آئے اور صحیح نہ معلوم ہو اس کے انکار میں عجلت نہ کرے ممکن ہے اس کی تہ میں ایک ایسی پوشیدہ حقیقت ہو جس سے یہ شخص ناواقف ہو۔ میں کہتا ہوں جس شخص کی بات کو صحیح نہ سمجھا جا رہا ہو ‘ اگر وہ عالم ہو دیندار ہو اور متقی ہو تب تو اس کے فعل کا فوری انکار کردینا اور بھی نامناسب ہے۔ اس سے برابر سیکھنے کی کوشش کرنی چاہئے ‘ معلم کا ادب کیا جائے گفتگو میں تہذیب رکھی جائے۔ قصور وار کو اس کے قصور پر متنبہ کرنا اور پھر معاف کردینا چاہئے اور جب اس سے بار بار قصور سرزد ہو تو اس سے جدائی اختیار کرلی جائے حضرت موسیٰ اور حضرت خضر کے اس قصہ سے ان تمام امور کی تعلیم مستفاد ہو رہی ہے۔
کیا حضرت خضر اب بھی زندہ ہیں ؟
بغوی نے لکھا ہے اس سلسلہ میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض کا خیال ہے خضر و الیاس دونوں زندہ ہیں ہر سال حج میں دونوں کی ملاقات ہوتی ہے خضر نے آب حیات پی لیا تھا ذوالقرنین جب آب حیات کی تلاش میں ظلمات میں داخل ہوا تو خضر کو اپنے ساتھ لے گیا خضر ہر اوّل دستہ میں آگے آگے تھے ‘ چلتے چلتے خضر چشمے پر پہنچ گئے اتر کر انہوں نے چشمہ کے پانی سے غسل کیا اور کچھ پی لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا ذوالقرنین راستہ بہک گیا اور نامراد واپس آگیا۔
(اکثر) علماء کا خیال ہے کہ خضر وفات پا چکے ‘ اللہ نے فرمایا ہے وَمَاجَعْلَنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِکَ الْخُلْدَ آپ سے پہلے ہم نے کسی انسان کو بقاء دوامی نہیں دی۔ ایک رات عشاء کی نماز کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے تمہاری یہ رات دکھا دی گئی (یعنی خواب میں شب قدر دکھا دی گئی یا یہ رات جو سامنے ہے اس میں مجھے یہ بات دکھا دی گئی) اب سے (آئندہ سو برس) کی انتہا تک ہر وہ شخص جو اس وقت روئے زمین پر زندہ ہے (مر جائے گا) زندہ نہیں رہے گا۔ مؤلف حصن حصین نے التعزیہ میں یہ حدیث نقل کی ہے۔ حاکم نے مستدرک میں حضرت انس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ : ﷺ کی وفات کے بعد ایک (اجنبی) شخص آگیا سپید داڑھی کھلتا ہوا رنگ جسامت میں بھاری آتے ہی لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے بڑھ گیا اور رونے لگا ‘ پھر صحابہ کی طرف رخ کر کے کہا ہر مصیبت کی تسلی اور ہر فوت شدہ کا عوض اور ہر مرنے والے کا جانشین اللہ ہی کے پاس ہے ‘ اسی کی طرف رجوع کرو ‘ وہ تمہاری اس مصیبت میں تم کو دیکھ رہا ہے تم انتظار کرو دکھ ایسے شخص کا ہے جس کی تلافی نہیں ہوسکتی اس کے بعد وہ آدمی واپس چلا گیا حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت علی ؓ نے فرمایا ‘ یہ حضرت خضر (علیہ السلام) تھے۔
حضرت خضر سے اولیاء کرام کی ملاقات اور تحصیل فیض کی حکایتیں تو مشہور ہی ہیں۔ یہ روایات بتاتی ہیں کہ خضر زندہ ہیں۔ صحیح بات یہ ہے کہ خضر اگر زندہ ہوتے تو رسول اللہ ﷺ : کی صحبت سے کنارہ کش نہ رہتے۔ حضور ﷺ : کی بعثت تو سب ہی لوگوں کے لئے تھی۔ خضر کیسے مستثنیٰ ہوسکتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا ‘ اگر موسیٰ میرے زمانہ میں زندہ ہوتے تو میری اتباع کئے بغیر ان کے لئے بھی کوئی چارہ نہ ہوتا (رواہ احمد والبیہقی فی شعب الایمان عن جابر بن عبداللہ) آسمان سے اترنے کے بعد حضرت عیسیٰ بھی امت اسلامیہ ہی کے ایک فرد کے پیچھے نماز پڑھیں گے (یعنی امام مہدی کی اقتدا کریں گے) رواہ مسلم عن ابی ہریرۃ و جابر بن عبداللہ۔
اس مسئلہ کا واحد حل حضرت مجدد (رح) کے بیان سے ہوسکتا ہے ‘ حضرت مجدد صاحب سے جب حضرت خضر کے زندہ یا مردہ ہونے کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپ نے اللہ کی طرف توجہ کی اور بارگاہ قدس سے اس کا جواب ملنے کی دعا کی ‘ چناچہ عالم مراقبہ میں آپ نے دیکھا کہ خضر سامنے آگئے ہیں۔ حضرت مجدد صاحب نے حضرت خضر سے خود ان کی حالت دریافت کی۔ حضرت خضر نے فرمایا میں اور الیاس دونوں زندہ نہیں ہیں لیکن اللہ نے ہماری روحوں کو ایسی طاقت عطا فرما دی ہے کہ ہم جسم کا لباس پہن کر بھٹکے ہوؤں کو راستہ بتاتے اور مصیبت زدوں کی مدد کرتے ہیں اگر اللہ چاہتا ہے (بعض لوگوں کو) علم لدنی بھی تعلیم کرتے اور نسبت بھی عطا کرتے ہیں ہم کو اللہ نے قطب مدار کا مددگار بنایا ہے ‘ قطب مدار کو اللہ نے مدار عالم بنایا ہے انہی کی برکت سے یہ عالم قائم ہے ہم ان کی مدد کرتے ہیں اس زمانہ میں ان کا مسکن ملک یمن ہے وہ فقہ شافعی کے پیرو ہیں ہم بھی قطب مدار کے ساتھ شافعی فقہ کے موافق نماز پڑھتے ہیں۔
Ayah 18:83ویسئلونک عن ذی القرنین اور وہ (یہودی یا مکہ کے مشرک بطور امتحان) آپ سے ذوالقرنین کے متعلق
سوال کر رہے ہیں۔ بغوی نے کہا ہے بعض علماء کے نزدیک ذوالقرنین کا نام مرزبان بن مرزیہ تھا یہ یونانی تھا اور یافث بن نوح کی نسل میں سے تھا بعض نے کہا وہ رومی تھا سکندر بن قبلیس بن فیلقوس نام تھا میرے نزدیک مؤخر الذکر قول زیادہ صحیح ہے۔ شیرازی نے الالقاب میں اور ابن اسحاق وابن المنذر و ابن ابی حاتم نے وہب بن منبہ یمنی کا بیان نقل کیا ہے وہب بن منبہ گزشتہ واقعات تاریخی کا بڑا عالم تھا کہ ذوالقرنین رومی تھا ایک بڑھیا کا ایک اکلوتا بیٹا تھا ‘ بڑھیا کی کوئی اور اولاد نہ تھی ذوالقرنین کا نام سکندر تھا۔ ابن المنذر نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ سکندر ہی ذوالقرنین تھا۔
بغوی نے لکھا ہے ذوالقرنین نبی تھا یا نہیں یہ اختلافی مسئلہ ہے کچھ لوگ کہتے ہیں نبی تھا ابوالطفیل کا بیان ہے کہ حضرت علی ؓ سے ذوالقرنین کے متعلق دریافت کیا گیا کہ وہ نبی تھا یا بادشاہ تھا۔ حضرت علی ؓ نے فرمایا نہ وہ نبی تھا نہ بادشاہ تھا ایک ایسا بندہ تھا جو اللہ سے محبت کرتا تھا اور اللہ اس سے محبت کرتا تھا ‘ اس نے اللہ کی فرمانبرداری خلوص سے کی اللہ نے اس کو خیر عطا فرمائی۔ ابن مردویہ نے سالم بن ابی الجعد کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت علی ؓ سے دریافت کیا گیا کیا ذوالقرنین نبی تھا ؟ فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ : کو فرماتے سنا تھا کہ ذوالقرنین اللہ کا مخلص فرماں بردار بندہ تھا۔ اللہ نے بھی اس کے خلوص کی قدردانی کی۔ بغوی نے لکھا ہے روایت میں آیا ہے کہ حضرت عمر ؓ نے سنا ایک شخص دوسرے کو ذوالقرنین کہہ کر پکار رہا ہے ‘ فرمایا پیغمبروں کے ناموں پر اپنے نام رکھنے پر تم نے قناعت نہیں کی کہ اب فرشتوں کے ناموں پر اپنے نام رکھنے لگے ‘ اکثر علماء کا خیال ہے کہ ذوالقرنین ایک عادل نیک بادشاہ تھا ‘ ذوالقرنین کی وجہ تسمیہ کیا تھی ‘ بغوی نے اس کے متعلق مختلف اقوال نقل کئے ہیں
1) آفتاب کے دو کنارے ہیں مشرق اور مغرب ذوالقرنین دونوں کناروں تک جا پہنچا تھا۔
2) روم اور فارس دونوں کا بادشاہ تھا۔
3) روشن دنیا میں بھی وہ رہا اور ظلمات میں بھی داخل ہوا (شاید یہ مراد ہے کہ افریقہ بلاد سوڈان اور روم دونوں جگہ گیا۔ نور سے مراد گوروں کا ملک اور ظلمت سے مراد کالوں کا ملک)
4) اس نے خواب دیکھا تھا کہ آفتاب کے دونوں کنارے اس نے پکڑ لئے ہیں۔
5) اس کے دو خوبصورت گیسو تھے (قرن گیسو یا زلف)
6) اس کے دو سینگ (یعنی سر میں دو ابھار) تھے جن کو عمامہ سے چھپائے رکھتا تھا۔ ابن عبدالحکم نے یونس بن عبید کی روایت سے اور شیرازی نے الالقاب میں قتادہ کے حوالہ سے بھی یہی نقل کیا ہے۔
7) ابوالطفیل کا بیان ہے کہ حضرت علی ؓ نے ذوالقرنین کی وجہ تسمیہ یہ بیان فرمائی کہ اس نے اپنی قوم کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کی قوم نے اس کے سر کے دائیں طرف ایسی چوٹ ماری کہ وہ مرگیا اور اللہ نے اس کو زندہ کردیا اور اس نے قوم کو اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کی قوم نے پھر اس کے سر کے بائیں جانب ایسی ضرب لگائی کہ وہ مرگیا مگر اللہ نے اس کو پھر زندہ کردیا (قرن کھوپڑی کا دایاں بایاں ابھار یا پیشانی کا دایاں بایاں رخ) ۔
احمد نے الزہد میں اور ابن المنذر ‘ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے العظمۃ میں ابوالورقاء کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت علی ؓ سے دریافت کیا گیا۔ ذوالقرنین کے دو سینگ کیسے تھے فرمایا تم خیال کرتے ہو گے کہ سونے یا چاندی کے دو سینگ تھے ایسا نہ تھا بلکہ وہ نبی تھے اللہ نے امت کو ہدایت کرنے کے لئے ان کو مبعوث فرمایا تھا انہوں نے امت کو دعوت دی لوگوں نے ان کے سر کے بائیں جانب ایسی چوٹ ماری کہ وہ مرگئے پھر اللہ نے ان کو زندہ کردیا اور دعوت کا حکم دیا انہوں نے قوم کو دعوت دی لوگوں نے ان کے سر کے دائیں جانب ایسی ضرب رسید کی کہ وہ مرگئے اور اللہ نے ان کا نام ذوالقرنین رکھ دیا۔
قال ساتلوا علیکم منہ ذکرا۔ آپ کہہ دیجئے (اے سائلو) میں اس کے حال کا کچھ تذکرہ تمہارے سامنے
(اللہ کا بیان کیا ہوا) تلاوت کرتا ہوں۔
Ayah 18:84انا مکنا لہ فی الارض ہم نے ہی اس کو زمین میں اقتدار عطا کیا تھا۔ وہ جس طرح چاہتا تھا حکم چلاتا تھا۔ بغوی
نے لکھا ہے کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا بادل کو ذوالقرنین کے حکم کے تابع بنا دیا گیا تھا ابر پر وہ سوار ہوتا تھا اس کے ذرائع دراز کردیئے گئے تھے اس کیلئے روشنی پھیلا دی گئی تھی (یعنی رات بھی اس کیلئے روشن کردی گئی تھی) رات دن اس کے لئے برابر تھے تمکین فی الارض کا یہی معنی ہے مطلب یہ ہے کہ زمین پر رفتار اس کے لئے آسان کردی گئی اور سارے راستے اس کے لئے کھول دیئے گئے تھے (راستے آسان کرنے کا شاید یہ مقصود ہو کہ ہر طرح کی سواری اس کو میسر تھی اور رات دن یا موسم کا اختلاف اس کے رفتار پر اثر انداز نہ ہوتا تھا)
واتینہ من کل شئی سببا۔ اور ہر قسم کا سامان ہم نے اس کو عطا کردیا تھا یعنی جو چیز وہ چاہتا تھا اور جس
طرف رخ کرتا تھا اس کا علم قدرت اور دوسرے کار برآری کے ذرائع ہم نے اس کو عطا کردیئے تھے۔ یا یہ مطلب ہے کہ مخلوق کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے ذوالقرنین کو اس کے حصول کے ذرائع ہم نے دے دیئے تھے یا یہ مقصد ہے کہ بادشاہوں کو دشمنوں سے لڑنے اور ملک فتح کرنے میں جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے وہ سب ذوالقرنین کو ہم نے دے دی تھیں۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ زمین کے کناروں کو ہم نے اس کے لئے قریب کردیا تھا۔ بغوی نے لکھا ہے حسن بصری نے سبباً کا ترجمہ بلاغاً کیا ہے یعنی مقصد تک پہنچانے والے اسباب ہم نے ذوالقرنین کو دے دیئے تھے۔
Ayah 18:85فاتبع سبباً سو وہ ایک راہ پر ہو لیا۔
اَتْبَعَپہنچ گیا۔ مَازِلْتُ اِتَّبَعْتُہٗ حَتّٰی اَتْبَعْتُہٗ میں نے برابر اس کا پیچھا کیا یہاں تک کہ اس تک پہنچ گیا۔ کذا رومی عن الاصمعی۔ سبباً سے اس جگہ مراد ہے راستہ یعنی مغرب کی طرف حضرت ابن عباس ؓ نے ترجمہ کیا فرود گاہ۔ منزل۔
Ayah 18:86حتی اذا بلغ مغرب الشمس یہاں تک کہ جب وہ (ارض مسکونہ کے انتہائی پچھمی جانب) آفتاب غروب
ہونے کے مقام پر پہنچا۔
وجدہا تغرب فی عین حمءۃ تو دلدلی چشمہ میں سورج کو ڈوبتا ہوا محسوس کیا۔ حمءۃ سیاہ دلدل۔ حمات
الْبِرُ کنویں میں کالی کیچڑ ہوگئی۔ بغوی کا بیان ہے حضرت معاویہ نے کعب احبار سے پوچھا سورج کیسے غروب ہوتا ہے توریت میں تم نے اس کے متعلق کیا پڑھا ‘ کعب نے کہا ہم نے توریت میں پایا ہے کہ سورج پانی اور کیچڑ میں غروب ہوتا ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے شاید ذوالقرنین سمندر کے کنارے پہنچ گیا ہوگا اور وہاں اس کو ایسا لگا ہوگا جیسے سورج دلدل میں غروب ہو رہا ہے کیونکہ جہاں تک اس کی نظر پہنچی ہوگی پانی اور کیچڑ ہی دکھائی دی ہوگی۔ اسی لئے اللہ نے وَجَدَہَا تَغْرُب (سورج کو دلدل میں ڈوبتا محسوس کیا) فرمایا کانَتْ تغرب (سورج دلدل میں ڈوبتا تھا) نہیں فرمایا ‘ کذا قال القتیبی۔
ووجد عندہا قوما اور اس چشمے کے پاس ذوالقرنین نے ایک قوم کو پایا۔ بیضاوی نے کہا وہ لوگ کھال کا
لباس پہنتے تھے اور کافر تھے اور سمندر جو مردہ مچھلیاں یا دوسرے بحری جانور کنارے پر پھینک دیتا تھا۔ وہی ان کی غذا تھی۔
قلنا یذالقرنین اما ان تعذب واما ان تتخذ فیہم حسنا۔ ہم نے کہا اے ذوالقرنین تو (چاہے تو)
ان کو سزا دے اور چاہے تو ان کے معاملے میں نرمی کا سلوک کرے (تجھے دونوں طرح کا اختیار ہے)
یعنی پہلے اس قوم کو توحید کی دعوت دو اگر نہ مانیں اور کفر پر جمے رہیں تو ان کو سزا دو قتل کر دو ‘ اگر توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو ان کی عزت کرو۔ ہدایت کرو شرائع الہیہ سکھاؤ۔ اس جگہ اما تقسیم کے لئے ہے (تردید کے لئے نہیں ہے) جیسے آیت ذیل میں لفظ او تقسیم کے لئے ہے اِنَّمَا جَزَآءُ الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْا اَوْ یُصَلَّبُوْا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْہِمْ وَاَرْجُلُہُمْ مِنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ (یعنی مختلف حالات کے لئے مختلف احکام ہیں توبہ کرلیں تو درگزر کرو ‘ کفر پر جمے رہیں تو عذاب دو ) ۔ بعض علماء کے نزدیک اما تخییر کے لئے ہے۔ یعنی اللہ نے ذوالقرنین کو اختیار دے دیا کہ تم چاہو تو ان کے کافر ہونے کی وجہ سے ان کو قتل کر دو اور چاہو تو ان کو اسلام کی دعوت دو ۔ اسلام کی دعوت ہی اَنْ تَّتَّخِذَ فِیْہِمْ حُسْنًاسے مراد ہے۔ بعض نے کہا ذوالقرنین کو اختیار دے دیا گیا کہ وہ چاہیں تو ان لوگوں کو قتل کردیں اور چاہیں تو قید کرلیں قتل کرنے کے مقابلہ میں قید کردینا حسن سلوک ہے۔ اوّل الذکر دونوں مطلبوں کی تائید آئندہ آیات سے ہو رہی ہے۔
Ayah 18:87قال اما من ظلم فسوف نعذبہ ثم یرد الی ربہ فیعذبہ عذابا نکرا۔ ذوالقرنین نے کہا جو ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے ‘ پھر اس کو اس کے رب کے پاس لوٹا کرلے جایا جائے گا وہ اس کو سخت ترین سزا دے گا
Ayah 18:88واما من امن وعمل صالحا فلہ جزآء الحسنی اور جو ایمان لے آئے گا اور اچھے کام کرے گا اس کے لئے نیکی کا اچھا بدلہ ہوگا ‘ یعنی اللہ کے حکم کی تعمیل میں یا اللہ کی طرف سے اختیار ملنے کے بعد جب اس نے دعوت اسلام دے دی تو کہا کہ میری اس دعوت کے بعد جو کوئی کفر پر جما رہا اور شرک کی صورت میں اپنے اوپر خود ظلم کرتا رہا تو میں اور میرے ساتھی اس کو قتل کردیں گے اور آخرت میں اللہ اس کو ایسا عذاب دے گا جو کسی کے علم میں نہیں وہ اتنا عظیم ترین اور غیر معمولی ہوگا کہ (اس دنیا میں) کسی کے سامنے نہیں آیا۔ نیک کام کرنے سے مراد ہے تقاضاء ایمان کے موافق عمل کرنا۔
وسنقول لہ امرنا یسرا۔ اور ہم اپنے برتاؤ میں اس کے لئے آسان بات کہیں گے۔
یُسرآسان سہولت والا جو دشوار نہ ہو۔ مجاہد نے یسراً کا ترجمہ کیا معروفاً اچھا بھلا۔ اللہ نے ذوالقرنین کو (براہ راست) خطاب کیا اور وحی بھیجی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نبی تھا ‘ صاحب وحی تھا۔
بغوی نے لکھا ہے صحیح ترین بات یہ ہے کہ ذوالقرنین نبی نہیں تھا اور وحی سے مراد اس جگہ الہام ہے (جیسا کہ اولیاء اللہ کو ہوتا ہے) ۔
میں کہتا ہوں ممکن ہے کسی پیغمبر کی معرفت ذوالقرنین کو یہ پیام ملا اور بعض انبیاء بنی اسرائیل میں اس کے ساتھ بھی کسی نبی کو اس کی اصلاح اور درستگی قائم رکھنے کے لئے لگا دیا گیا ہو۔
Ayah 18:89ثم اتبع سبباً پھر وہ (مشرق کی طرف جانے والے) راستہ پر پہنچ گیا۔
Ayah 18:90حتی اذا بلغ مطلع الشمس یہاں تک کہ جب (اس ارض معمورہ کے پورب کی طرف) سورج کے طلوع
ہونے کے مقام تک پہنچ گیا۔
وجدہا تطلع علی قوم لم نجعل لہم من دونہا سترا۔ تو سورج کو ایسی قوم پر طلوع ہوتے دیکھا
کہ ہم نے ان کے لئے سورج سے ورے کوئی آڑ نہیں بنائی تھی۔ یعنی ان کا کوئی لباس نہیں تھا ‘ نہ مکان کی کوئی آر تھی وہاں کی زمین تعمیر کا بار اٹھانے کے قابل نہیں تھی۔
کذلک (ذوالقرنین کا واقعہ) یوں ہی تھا یعنی ذوالقرنین کی وسعت اقتدار ‘ حکومت کی پہنائی اور اس کے
مرتبہ کی رفعت اسی طرح تھی جس طرح ہم نے بیان کردی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اس کا اہل مشرق کے ساتھ سلوک ایسا ہی تھا جیسا مغرب والوں کے ساتھ تھا یا یہ مطلب ہے کہ جس طرح ذوالقرنین نے سورج کو دلدلی چشمہ میں ڈوبتا محسوس کیا تھا اسی طرح دلدل سے برآمد ہوتے پایا تھا۔ یا یہ مطلب ہے کہ جس طرح مغرب والوں کے لئے ہم نے سورج سے کوئی آڑ نہیں بنائی اسی طرح مشرق والوں کے لئے بھی سورج سے کوئی آڑ نہیں تھی۔
Ayah 18:91وقد احطنا بما لدیہ خبرا۔ اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ سامان تھا ہم کو اس کی پوری خبر تھی۔ یعنی
ذوالقرنین کے پاس کتنی فوج تھی کتنا مال و اسباب تھا اور کتنے آلات جنگ اور علمی ذرائع تھے۔ غرض اس کی ساری بیرونی اور اندرونی طاقت و سروسامان سے ہم واقف ہیں مطلب یہ ہے کہ اس کے پاس اتنا لشکر اور سامان اور مال و اسباب تھا کہ کسی کو معلوم نہیں ہم ہی اس سے واقف ہیں۔ احطنا کے لفظ سے فوج کی کثرت اور سامان و حکومت کی وسعت کو ظاہر کرنا مقصود ہے۔
Ayah 18:92ثم اتبع سبباً پھر ذوالقرنین (ایک تیسرے) راستہ پر چل دیا۔ یعنی مغرب و مشرق کے درمیان جنوب سے شمال
کی طرف۔
Ayah 18:93حتی اذا بلغ بین السدین وجد من دونہما قوما لا یکادون یفقہون قولا۔ .
یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا تو دونوں پہاڑوں سے ورے اس کو ایک ایسی قوم ملی جو تقریباً کوئی بات بھی سمجھتی نہ تھی۔
سد اور سد ہم معنی ہیں ‘ عکرمہ نے کہا انسان کی بنائی بندش کو سد کہتے ہیں اور قدرتی رکاوٹ و آڑ کو سد 1 ۔ سدین سے مراد اس جگہ وہ دو پہاڑ ہیں جن کے درمیان ذوالقرنین نے ایک دیوار بنا دی تھی تاکہ یاجوج و ماجوج پرے سے دیوار کے ورے نہ آسکیں۔ بیچ میں دیوار حائل ہوجائے۔ یہ دونوں پہاڑ آرمینیا اور آذربائیجان کے تھے۔ ابن المنذر نے حضرت ابن عباس کی طرف اس قول کی نسبت کی ہے بعض اہل علم کا قول ہے کہ ترکوں کی حدود جہاں ختم ہوتی ہیں۔ اس کے بالکل آخری شمال میں دو پہاڑ تھے جن سے پرے یاجوج و ماجوج تھے وہی دونوں پہاڑ مراد ہیں۔ یہ قول سعید بن منصور نے سنن میں اور ابن جریر و ابن المنذر و ابن ابی حاتم نے اپنی تفسیروں میں نقل کیا ہے۔
مِنْ دُوْنِہِمَا یعنی دونوں پہاڑوں کے سامنے۔
لاَ یَفْقَہُوْنَ قَوْلاً یعنی کسی دوسرے کی بات نہیں سمجھتے تھے ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا نہ وہ کسی دوسرے کی بات سمجھتے تھے نہ کوئی دوسرا ان کی بات سمجھتا تھا۔