Ayah 17:98ذٰلِكَ جَزَاۗؤُهُمْ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاٰيٰتِنَا وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا : یہ ان کی سزا اس لئے ہوگی کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا (تھا) اور کہا (تھا) کہ جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا از سر نو پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے۔
Ayah 17:99اَوَلَمْ يَرَوْا اَنَّ اللّٰهَ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ قَادِرٌ عَلٰٓي اَنْ يَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ جس اللہ نے آسمانوں کو اور زمین کو پیدا کیا ہے وہ اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے آدمی (دوبارہ) پیدا کر دے۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی بناوٹ تو بہت زیادہ بڑی اور قوی ہے یہ انسان صغیر الجثہ بھی ہے اور کمزور بھی اور اللہ نے بغیر سابق نمونے اور نظیر کے یہ آسمان و زمین بنائے ہیں تو وہ انسانوں کو کیونکر دوبارہ پیدا نہیں کرسکے گا۔ ایجاد سے تو دوبارہ تخلیق آسان ہے۔
وَجَعَلَ لَهُمْ اَجَلًا : اور ان کے (عذاب) کے لئے ایک وقت مقرر کردیا ہے۔
لَّا رَيْبَ فِيْهِ ۭ جس کے آنے میں کوئی شک نہیں۔ بعض کے نزدیک اجل سے مراد موت ہے اور بعض کے نزدیک روز قیامت۔
فَاَبَى الظّٰلِمُوْنَ اِلَّا كُفُوْرًا پس (باوجودیکہ حق واضح ہے پھر بھی) ظالم لوگ بغیر انکار کئے نہ رہے۔ لفظ ظالمین بتارہا ہے کہ ان کا کفر و انکار بےجا ہے۔
Ayah 17:100قُلْ لَّوْ اَنْتُمْ تَمْلِكُوْنَ خَزَاۗىِٕنَ رَحْمَةِ رَبِّيْٓ اِذًا لَّاَمْسَكْتُمْ خَشْيَةَ الْاِنْفَاقِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ قَتُوْرًا :
آپ کہہ دیجئے کہ اگر تم لوگ میرے رب کی رحمت (یعنی نبوت) کے خزانوں (یعنی کمالات) کے مختار ہوتے تو اس صورت میں تم (اس کے) خرچ کرنے کے اندیشے سے ضرور ہاتھ روک لیتے اور آدمی ہے بڑا تنگدل۔ (حضرت مولانا تھانوی (رح) کے نزدیک رحمت سے مراد نبوت اور خزائن سے مراد کمالات ہیں ‘ لیکن حضرت مؤلف (رح) کے نزدیک) رحمت رب سے مراد رزق ہے یا ہر نعمت مراد ہے اور خَشْیَۃَ الْاِنْفَاقِسے مراد ہے ناداری کا خوف۔ یا ختم ہوجانے کا اندیشہ نَفَقَ الشَّئیُوہ چیز ختم ہوگئی ‘ عربی محاورہ ہے۔ قتور کا معنی ہے بخیل ‘ کنجوس۔ انسان حاجت مند ہے اور جس چیز کی اس کو حاجت ہوتی ہے اس کو خرچ کرنے میں کنجوسی کرتا ہے اور خرچ کرتا ہے تو معاوضہ کے لالچ میں ‘ مگر اللہ غنی ہے کسی چیز کا محتاج نہیں ‘ جتنا بھی وہ عطا فرما دے اس سے ہزاروں گنا زیادہ پیدا کرسکتا ہے اس لئے اس کے خزانے کبھی ختم نہیں ہوسکتے۔
Ayah 17:101وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰي تِسْعَ اٰيٰتٍۢ بَيِّنٰتٍ : اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو نوکھلے ہوئے نشانات (قدرت یعنی
معجزات) دیئے تھے۔ (تعیین معجزات میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور ضحاک کے نزدیک نو معجزات یہ تھے عصا ‘ ید بیضا ‘ و زبان کی گرہ کھل جانا ‘ سمندر کا لاٹھی کی ضرب سے پھٹ جانا ‘ طوفان ‘ ٹڈیاں ‘ مینڈک ‘ خون۔ عکرمہ ‘ مجاہد اور عطاء کے نزدیک نو معجزات یہ تھے طوفان ‘ ٹڈیاں ‘ جوئیں ‘ مینڈک ‘ خون ‘ عصا ‘ یدبیضا ‘ قحط ‘ پھلوں کی کمی۔ قبطیوں میں سے ایک شخص اپنی بی بی کے ساتھ ایک بستر پر سو رہا تھا (شاید حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی بددعا سے) دونوں پتھر بن گئے۔ ایک عورت کھڑی روٹی پکا رہی تھی (شاید حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی شان میں گستاخی کرنے سے) وہ بھی پتھر کی ہوگئی۔ محمد بن کعب قرظی نے طمس (صورتوں کو بدل دینا یا بگاڑ دینا) اور سمندر کو پھاڑنے اور طور کے سروں پر معلق ہوجانے کو بھی تسع آیات میں شمار کیا ہے۔
حضرت صفوان بن عسال کا بیان ہے ایک یہودی نے دوسرے یہودی سے کہا چلو اس نبی کے پاس چلیں۔ اس نے کہا ارے نبی نہ کہو اگر اس نے یہ لفظ سن لیا تو اس کی چار آنکھیں ہوجائیں گی۔ غرض دونوں رسول اللہ : ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نو واضح آیات دریافت کیں حضور نے فرمایا (نو کھلی ہوئی آیات یعنی احکام یہ ہیں) ۔ (1) کسی چیز کو اللہ کا ساجھی نہ قرار دو ۔ (2) چوری نہ کرو۔ (3) زنا نہ کرو۔ (4) ناحق ناجائز خون نہ کرو۔ (5) کسی بےقصور کو (قتل یا بغاوت وغیرہ کی تہمت لگا کر) حاکم کے پاس قتل کرانے کے لئے نہ لے جاؤ۔ (6) جادو نہ کرو۔ (7) سود نہ کھاؤ۔ (8) کسی پاکدامن عورت پر زنا کی تہمت نہ لگاؤ۔ (9) جہاد میں مقابلہ کے وقت بھاگنے کے لئے پشت نہ پھیرو اور اے یہودیو ! تمہارے لئے خاص طور پر یہ حکم تھا کہ سنیچر کے دن کی حرمت میں (حدود شرعیہ سے) تجاوز نہ کرو (کہ ظاہری حیلہ بہانہ کر کے سینچر کے دن اپنے معاشی کاروبار جاری رکھو اور کوئی شرعی حیلہ اس کے لئے تلاش کرلو) ۔ یہ سن کر دونوں یہودیوں نے حضور ﷺ کے ہاتھ پاؤں چوم لئے اور بول اٹھے ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ ﷺ نبی ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا پھر میرا اتباع کرنے سے تمہارے لئے کون چیز مانع ہے۔ کہنے لگے حضرت داؤد نے اپنے رب سے دعا کی تھی کہ انہی کی نسل سے اللہ ہر پیغمبر مبعوث فرمائے اب اگر ہم آپ کا اتباع کریں گے تو ہم کو ڈر ہے کہ یہودی ہم کو قتل کردیں گے۔ رواہ ابو داؤد والنسائی و ابن ماجہ والترمذی والحاکم۔ ترمذی نے اس روایت کو حسن صحیح کہا ہے۔ حاکم نے بھی اس کو صحیح قرار دیا ہے اور صراحت کی ہے کہ اس کو معلول قرار دینے کی ہم کو کوئی وجہ معلوم نہیں۔ بغوی کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے۔ ایک یہودی نے اپنے ساتھی سے کہا ‘ آؤ ہم اس نبی سے کچھ سوال کریں ساتھی نے کہا اس کو نبی نہ کہو اگر وہ سن لے گا تو اس کی چار آنکھیں ہوجائیں گی ‘ غرض دونوں نے حاضر ہو کر رسول اللہ ﷺ سے آیت وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍ بَّیِنٰتٍکی تشریح دریافت کی۔
بہرحال اس روایت کی روشنی میں آیات سے مراد احکام ہوں گے اور احکام وہ ہیں جو ہر قوم اور ہر شریعت میں موجود ہیں اس روایت میں جو یہودیوں کے لئے حرمت شنبہ کی خصوصیت ظاہر کی گئی اس کا شمار آیات تسع میں نہیں ہے۔ یہ حکم صرف یہودیوں کے لئے تھا اور اصل جواب سے یہ آخری جملہ زائد ہے۔
فَسْــــَٔـلْ بَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اِذْ جَاۗءَهُمْ پھر ہم نے (موسٰی ( علیہ السلام) سے) کہا (کہ فرعون سے) بنی اسرائیل کو مانگ لو (یعنی فرعون سے کہو کہ بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ چھوڑ دو اور موسیٰ ( علیہ السلام) سے یہ بات ہم نے اس وقت کہی) جب وہ فرعون اور اس کے آدمیوں کے پاس پہنچے تھے (اس تشریحی ترجمہ سے واضح ہو رہا ہے کہ فسئل میں خطاب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو ہے اور قُلْنَا الموسٰیہم نے موسیٰ سے کہا کا جملہ محذوف ہے اور اذ جاء ہم کا بھی قلنا محذوف سے تعلق ہے) اس تشریح کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جو سعید بن منصور نے سنن میں اور امام احمد نے الزہد میں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالہ سے نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فَسْءَلْ کی جگہ فَسَأَلَ (بصیغۂ ماضی) پڑھا تھا۔
یا خطاب رسول اللہ ﷺ : کو ہے اور مطلب اس طرح ہے ‘ اے محمد ﷺ ! آپ بنی اسرائیل سے وہ واقعات دریافت کیجئے جو فرعون و موسیٰ کے درمیان ہوئے تھے اور آیات بینات کے متعلق بھی ان سے پوچھئے (وہ آپ کی تصدیق کریں گے) تاکہ مشرکوں کو بھی آپ کی سچائی معلوم ہوجائے۔ یا اس لئے دریافت کیجئے کہ آپ کو بجائے خود بھی تسلی ہوجائے اور آپ جان لیں کہ بنی اسرائیل کی تمام فرمائشیں بھی اگر پوری کردی جائیں تو عناداً انکار پر جمے رہیں گے ‘ ایمان نہیں لائیں گے۔ جیسے ان سے پہلے کے لوگ گزر گئے (کہ آیات بینات دیکھنے کے بعد بھی ایمان نہیں لائے) یا یہ مطلب ہے کہ بنی اسرائیل سے دریافت کرلیجئے تاکہ آپ کو یقین اور اطمینان خاطر کامل طور پر پیدا ہوجائے۔ اس تشریح پر اِذْ جَآءَ ہُمْکا تعلق اٰیٰتِنَاسے ہوگا۔
فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰي مَسْحُوْرًا : فرعون نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا موسیٰ ( علیہ السلام) میرا تو یہ
قطعی خیال ہے کہ تیرے اوپر یقیناً جادو کیا گیا ہے تو بلاشبہ سحر زدہ ہے۔ تیرا دماغی توازن بگڑ گیا ہے کہ ایسی ناممکن باتوں کا مدعی بن بیٹھا ہے۔ اپنے کو اللہ کا رسول کہتا ہے۔ کلبی نے مسحوراً کا ترجمہ کیا حق سے برگشتہ کیا ہوا ‘ فراء اور ابو عبیدہ نے کہا مسحور بمعنی ساحر ہے جادوگر۔ محمد بن جریر نے کہا سحر کی تعلیم دیا ہوا یعنی تجھے جادو سکھا دیا گیا ہے اور یہ تمام عجیب باتیں جو تو ظاہر کر رہا ہے سحر کا کرشمہ ہیں۔
Ayah 17:102قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَآ اَنْزَلَ هٰٓؤُلَاۗءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ بَصَاۗىِٕرَ ۚ وَاِنِّىْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا : موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا تو جانتا ہے (یعنی دل میں) کہ یہ (عجائبات) خاص آسمان و زمین کے پروردگار نے بھیجے ہیں جو بصیرت حاصل کرنے کے کافی ذرائع ہیں اور میرے خیال میں ضرور تیری کم بختی کے دن آگئے ہیں۔
Ayah 17:103فَاَرَادَ اَنْ يَّسْتَفِزَّهُمْ مِّنَ الْاَرْضِ : پھر اس نے چاہا کہ اس سرزمین سے بنی اسرائیل کا قدم اکھاڑ دے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ‘ فرعون حضرت موسیٰ : ( علیہ السلام) کو برحق جانتا تھا ‘ لیکن عناد کی وجہ سے انکار کرتا تھا۔ اللہ نے فرمایا ہے (وَجَحَدُوْا بِہَا وَاسْتَیْقَنَتْہَا اَنْفُسُہُمْ ) انہوں نے معجزات کا انکار کیا مگر دل سے وہ یقین رکھتے تھے۔
بصَائربصیرت کی جمع ہے یعنی یہ آیات و معجزات میری سچائی کو تیرے سامنے ظاہر کر رہے ہیں مگر تو عناداً انکار کر رہا ہے۔
مَثْبُوْرًا کا ترجمہ حضرت ابن عباس ؓ نے ملعون کیا ہے اور مجاہد نے ہلاک شدہ اور قتادہ نے ہلاک کردہ۔ فراء نے کہا عرب کہتے ہیں مَا ثَبَرَکَ عَنْ ہٰذَا اس سے تجھے کس چیز نے روک دیا۔ اس صورت میں مثبور کا ترجمہ ہوا ایسا شخص جو سرشتی شریر ہو جو فطری طور پر خیر سے برگشتہ ہو۔ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون کے ظن کا مقابلہ اپنے ظن سے کیا فرعون کا ظن غلط تھا اولہ قطعیہ کے خلاف تھا اور حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا ظن ایسی علامات پر مبنی تھا جو مفید یقین تھیں۔
اَنْ یَّسْتَفِزَّہُمْ ان کو اکھاڑ دے موسیٰ ( علیہ السلام) کو اور ان کی قوم کو نکال دے۔
الارْضَ سے مراد ہے زمین مصر۔ یا تمام روئے زمین فرعون چاہتا تھا کہ بنی اسرائیل کو قتل کر کے روئے زمین سے ان کو نکال دے۔
فَاَغْرَقْنٰهُ وَمَنْ مَّعَهٗ جَمِيْعًا : پس ہم نے اس کو جو اس کے ساتھی تھے سب کو ڈبو دیا ‘ یعنی مصر سے ہم نے اس کی اور اس کے ساتھیوں کی جڑ اکھاڑ دی۔
Ayah 17:104وَّقُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِيْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ : اور فرعون کو ڈبونے کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے
کہا تم اس زمین میں (جہاں سے تم کو فرعون نکالنا چاہتا تھا) رہو۔
فَاِذَا جَاۗءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًا : پھر جب آخرت کا وعدہ آجائے گا تو ہم سب کو جمع کر کے حاضر کردیں گے۔
اَلْاٰخِرَۃِ یعنی دوسری مرتبہ یا دوسری زندگی ‘ یا دوسری ساعت یا دار آخرت۔ بہرحال قیامت مراد ہے۔ لفیفاً مخلوط ‘ باہم آمیختہ یعنی تم اور وہ دونوں قیامت کے دن مخلوط ہو کر آؤ گے۔ پھر اہل شقاوت کی جماعت الگ کردی جائے گی۔ لفیف مختلف متعدد قبائل کا مجموعہ ‘ مخلوطہ ‘ قیامت کے دن بھی ایسا ہی ہوگا شروع میں مؤمن ‘ کافر ‘ نیک ‘ بد مخلوط ہوں گے۔ کلبی کے نزدیک وعد آخرت آنے سے مراد ہے حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا آسمان سے آنا اور جِءْنَا بِکُمْ لَفِیْفًا کا یہ مطلب ہے کہ ادھر ادھر ہر طرف سے مختلف اقوام آئیں گی۔
Ayah 17:105وَبِالْحَـقِّ اَنْزَلْنٰهُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ ۭ : اور حق ہی کے ساتھ ہم نے اس کو اتارا ہے اور حق ہی کے ساتھ وہ نازل ہوا ہے۔ اوّل الحق سے مراد ہے وہ حکمت و مصلحت جو نزول قرآن کی مقتضی تھی اور دوسرے الحق سے مراد ہے دانائی اور سچائی جو قرآن کے اندر ہے۔ بعض اہل تفسیر نے آیت کا مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ ہم نے قرآن کو ملائکہ کی نگرانی میں آسمان سے اتارا ہے اور ملائکہ کی حفاظت میں ہی وہ رسول پر نازل ہوا ہے۔ شیاطین کی دسترس سے قرآن محفوظ ہے۔
وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّنَذِيْرًا : اور (اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو صرف بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے ‘
فرماں برداروں کو جنت کی خوش خبری دینے والا اور نافرمانوں کو دوزخ سے ڈرانے والا۔ یعنی آپ کا کام صرف بشارت اور تخویف ہے ہدایت پر مجبور کرنا آپ کا کام نہیں۔
Ayah 17:106ۘوَقُرْاٰنًا فَرَقْنٰهُ لِتَقْرَاَهٗ عَلَي النَّاسِ عَلٰي مُكْثٍ وَّنَزَّلْنٰهُ تَنْزِيْلًا : اور قرآن میں جا بجا ہم نے
فصل رکھا تاکہ آپ اس کو لوگوں کے سامنے ٹھہر ٹھہر کر پڑھیں اور ہم نے اس کو تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا۔
فَرَقْنَہُ یعنی ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے متفرق طور پر اتارا پورا قرآن بیس برس میں اترا 1
[1 معلوم نہیں حضرت مفسر (رح) کو بیس سال کی روایت کہاں سے پہنچی تاریخی حقیقت اس کے خلاف ہے۔ چالیس سال کی عمر میں بعثت ہوئی اور نزول قرآن
کا آغاز ہوا اور 63 یا 64 سال کی عمر میں وفات ہوئی اور قرآن کا نزول ختم ہوا ‘ اس حساب سے 23 سال یا 24 سال میں پورا قرآن اترا۔ مترجم۔]
یا یہ مطلب ہے کہ قرآن کو ہم نے تفصیل دار اور کھول کر بیان کیا ہے۔ حسن نے کہا فرقنا کا یہ مطلب ہے کہ ہم نے اس کے اندر حق کو باطل سے الگ کردیا ‘ حق و باطل میں امتیاز کردیا۔
مکث : مہلت۔ قرآن کو وقفہ وقفہ سے تھوڑا تھوڑا اتارنے کی حکمت یہ ہے کہ لوگوں کو سمجھنے اور یاد کرنے میں آسانی ہو۔
Ayah 17:107قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖٓ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا : (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے کہ تم قرآن کو سچا مانو یا نہ مانو۔ یعنی تمہارے ایمان سے قرآن کو کوئی فائدہ نہیں اور انکار سے اس کا کچھ ضرر نہیں تمہارے ایمان سے خود تم کو فائدہ پہنچے گا۔ قرآن کے کمال میں اضافہ نہ ہوگا اور انکار سے تمہارا نقصان ہوگا۔ قرآن کے کمال میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔
اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖٓ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًا : جن لوگوں کو قرآن
سے پہلے علم دیا گیا تھا جب یہ قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرپڑتے ہیں۔
یعنی اگر تم ایمان نہ لائے تو نہ لاؤ دوسرے لوگ اس پر ایمان لے آئے جو تم سے بہتر ہیں ان دوسرے ایمان لانے والوں سے مراد ہیں اہل کتاب کے علماء جو کتب سابقہ پڑھتے ‘ حقیقت وحی کو جانتے اور علامات نبوت سے واقفیت رکھتے تھے اور حق و باطل میں امتیاز کرسکتے تھے انہوں نے اللہ کے رسول ﷺ کے اوصاف اور حالات سابقہ کتابوں میں پڑھے تھے۔ بعض اہل تفسیر نے لکھا ہے اَلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ سے مراد ہیں وہ لوگ جو رسول اللہ ﷺ : کی بعثت سے پہلے دین حق کی جستجو میں لگے ہوئے تھے جونہی رسول اللہ ﷺ کی بعثت ہوئی وہ ایمان لے آئے ‘ جیسے حضرت زید بن عمرو بن نفیل حضرت سلمان فارسی حضرت ابوذر غفاری وغیرہ۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیت میں منکروں کو تہدید کرنی مقصود نہ ہو بلکہ رسول اللہ ﷺ : کو تسکین و تسلی دی گئی ہو کہ یہ جاہل ایمان نہیں لائے تو آپ پریشان نہ ہوں اہل علم تو ایمان لے آئے آپ ان منکروں کی روگردانی کی پروا نہ کیجئے۔ ٹھوڑیوں کے بل سجدہ میں گرنے سے مراد ہی منہ کے بل سجدہ میں گرنا۔ حضرت ابن عباس کا یہی قول ہے۔
یعنی حکم الٰہی کی تعظیم کے لئے اور اس شکر یہ میں کہ اللہ نے جو سابق کتابوں میں وعدہ فرمایا کہ انقطاع رسل کی مدت میں ہم محمد ﷺ کو پیغمبر بنا کر بھیجیں گے اور ان پر قرآن نازل کریں گے وہ وعدہ اللہ نے پورا کیا۔
Ayah 17:108ۙوَّيَـقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنْ كَانَ وَعْدُ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا : اور کہتے ہیں ہمارا رب (وعدہ خلافی سے)
پاک ہے ‘ ہمارے رب کا وعدہ یقیناً پورا ہونے والا ہے۔ یعنی کتب سابقہ میں اللہ نے جو وعدہ کیا تھا اور محمد رسول اللہ ﷺ کو بھیجنے اور قرآن نازل کرنے کی بشارت دی تھی ‘ لامحالہ اس کو پورا ہونا تھا۔
Ayah 17:109وَيَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ يَبْكُوْنَ : اور ٹھوڑیوں کے بل گرتے ہوئے روتے ہیں ٹھوڑیوں کے بل گرنے کا
دوبارہ ذکر اس لئے کیا کہ سجدہ کرنے کے سبب میں اختلاف تھا ‘ پہلا تو سجدۂ شکر تھا کہ اللہ نے وعدہ پورا کیا اور دوسرا سجدہ اس تاثر کا نتیجہ تھا جو قرآنی ہدایات پڑھ کر ان کے دلوں میں پید ہوا تھا۔
وَيَزِيْدُهُمْ خُشُوْعًا اور (قرآنی برکات کا جو نزول ان کے دلوں پر ہوتا ہے اس کی وجہ سے) قرآن سننا ان کے اندر خشوع ‘ علم اور یقین بڑھنے کا موجب ہوتا ہے۔
مسئلہ قرآن سننے کے وقت رونا مستحب ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے خوف سے رویا وہ دوزخ میں داخل نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ دودھ تھن میں لوٹ جائے (اور تھنوں کے اندر دودھ کا لوٹایا جانا تو محال ہے۔ پس خوف خدا سے رونے والے کا دوزخ میں داخل ہونا بھی محال ہے) اور اللہ کی راہ میں پڑنے والا غبار اور جہنم کا دھواں مسلمانوں کے نتھنوں میں جمع نہیں ہوگا (یعنی جس مسلمان کے بدن پر راہ خدا میں غبار پڑا ‘ وہ جہنم کا دھواں بھی نہ سونگھے گا) رواہ البغوی والحاکم ‘ حاکم نے اس روایت کو صحیح کہا ہے۔ بیہقی کی روایت میں حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں ‘ دو (قسم کی) آنکھوں کو دوزخ کی آگ کا پالینا حرام کردیا گیا ہے (ایک) وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی ‘ (دوسری) وہ آنکھ جو رات بھر (بیدار رہ کر) اسلام اور اہل اسلام کی کافروں سے حفاظت کرتی رہی۔ حضرت حکیم بن حزام کا بیان ہے میں نے خود حضور ﷺ : کو فرماتے سنا تین (طرح کی) آنکھوں پر آگ حرام کردی گئی ہے (ایک) وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روئی (دوسری) وہ آنکھ جو اللہ کی راہ میں بیدار رہی (تیسری) وہ آنکھ جو ممنوعات خداوندی سے بند رکھی گئی۔
بغوی نے حضرت ابو ریحانہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس آنکھ پر آگ حرام ہے جو اللہ کے خوف سے روئی اور اس آنکھ پر آگ حرام ہے جو اللہ کی راہ میں بیدار رہی اور اس آنکھ پر دوزخ حرام ہے جو اللہ کی ممنوعات سے بند رکھی گئی یا فرمایا اس آنکھ پر آگ حرام ہے جو اللہ کی راہ میں پھوڑی گئی۔ طبرانی نے اس روایت کو الکبیر میں لکھا ہے اور صحیح کہا ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ : کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس مؤمن بندے کی آنکھ سے اللہ کے خوف سے آنسو نکلتے ہیں خواہ وہ مکھی کے برابر ہوں اللہ نے آگ کو اس پر حرام کردیا ہے۔ رواہ ابن ماجۃ۔ ابن مردویہ وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز نماز پڑھی اور دعا کی یا اللہ یا رحمن۔ مشرک یہ الفاظ سن کر کہنے لگے اس بےدین کو دیکھو ہم کو تو دو معبودوں کو پکارنے سے منع کرتا ہے (اور خود دو کو پکارتا ہے) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 17:110قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ ۭ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَاۗءُ الْحُسْنٰى ۚ: آپ کہہ دیجئے کہ
تم اللہ کو (لفظ اللہ کہہ کر) پکارو یا رحمن جس سے بھی پکارو (دونوں درست ہیں) کیونکہ اس کے اچھے اچھے نام (بہت سے) ہیں۔ بغوی کے بیان میں حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے آیا ہے کہ مکہ میں ایک رات کو (نماز کے اندر) سجدے میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ یا اللہ یا رحمن۔ ابوجہل بولا محمد ﷺ ہم کو تو ہمارے معبودوں (کو پکارنے) سے منع کرتا ہے اور خود دو معبودوں کو پکارتا ہے۔ اس پر آیت بالا نازل ہوئی۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ ایک ہی ذات کے دونوں نام ہیں ‘ بولنے میں تعدد ہے مگر یہ تعدد وحدت ذات سے مانع نہیں۔ وہی ذات مستحق عبادت ہے کوئی دوسرا مستحق معبودیت نہیں۔ آیت میں لفظ او تخییر کے لئے ہے (یعنی تم کو اختیار ہے کہ ایک ذات کو لفظ اللہ کہہ کر پکارو یا لفظ رحمن کہہ کر) بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ یہودیوں نے کہا تھا آپ لفظ رحمن (اللہ کے لئے) کہتے ہیں (یہ لفظ تو توریت کا ہے) اللہ نے توریت میں بکثرت ذکر کیا ہے اس پر آیت بالا کا نزول ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ دونوں لفظ برابر ہیں ‘ دونوں کا مقصد ایک ہی ہے۔ پکارنے سے مراد ہے نام لینا۔ اللہ کے سب نام اچھے اچھے ہیں کیوں کہ ان سے صفات جلال و جمال کا ظہور اور ہر عیب و نقص سے پاکی کا مظاہرہ ہوتا ہے ‘ اللہ کے اسماء کی تفصیل اور اس سے متعلق مباحث سورة اعراف کی آیت وَلِلّٰہِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰی فَادْعُوْہُ بِہَاکی تفسیر میں لکھ دیئے ہیں۔
وَلَا تَجْـهَرْ بِصَلَاتِكَ وَلَا تُخَافِتْ بِهَا وَابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا : اور اپنی نماز نہ تو بہت پکار کر
پڑھو اور نہ بالکل چپکے چپکے ہی پڑھو اور دونوں کے درمیان ایک طریقہ اختیار کرو۔ یعنی نماز میں قراءت اتنی اونچی آواز سے نہ کرو کہ (دور رہنے والے) مشرک بھی اس کو سن لیں اور نہ اتنی ہلکی آواز سے پڑھو کہ پیچھے (صف اوّل) کے مسلمان (شرکاء نماز) بھی نہ سن پائیں ‘ بلکہ درمیانی راستہ اختیار کرو۔ متوسط درجہ ہر چیز کا بہتر ہوتا ہے (افراط وتفریط دونوں رخ قبیح ہیں) الصلوٰۃ سے مراد رات کی نماز ہے ‘ فرض ہو (مغرب ‘ عشاء) یا نفل (تہجد وغیرہ) کیونکہ دن کی نمازیں تو باجماع امت سری ہیں (ظہر و عصر میں قرأت جہری نہیں) جمہور امت اسلامیہ تمام کی تمام دن کی نمازوں میں قرأت سرّی کرتی چلی آئی ہے۔
یا متوسط راہ اختیار کرنے کا یہ مطلب ہے کہ دن (کی نمازوں) میں اور جہاں مشرک سن سکتے ہوں وہاں سرّی قرأت اختیار کرو۔ اور رات کی نماز میں متوسط جہر 1 سے قرأت کرو۔
بغوی نے بطریق بخاری ابو بشیر کی وساطت سے بروایت سعید بن جبیر حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ : جس زمانہ میں مکہ میں چھپے ہوئے تھے ‘ اس دور میں جب صحابہ کو نماز پڑھاتے تھے تو قرأت اونچی آواز سے کرتے تھے ‘ جب مشرک قرآن کو سنتے تو قرآن کو اور قرآن اتارنے والے کو اور جس پر اتارا گیا تھا اس کو سب کو برا کہتے تھے اس پر اللہ نے نازل فرمایا ولا تَجْہَرُ بِصَلاِتکَیعنی قرأت اونچی آواز سے نہ کرو کہ مشرک سن کر قرآن کو گالیاں دینے لگیں ولا تُخَافِتْ بِہَا اور نہ اتنی پست آواز سے پڑھو کہ ساتھی بھی نہ سن پائیں وابْتَغِ بیَْنَ ذٰلِکَ سَبِیْلاً اور درمیانی راہ اختیار کرو کہ صحابہ سن لیں اور مشرکوں تک قرأت کی آواز نہ پہنچے۔ بغوی نے لکھا ہے کچھ علماء کا خیال ہے کہ اس آیت کا نزول دعا کے متعلق ہوا تھا (یعنی صلوٰۃ سے مراد اس آیت میں دعا ہے) ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ :‘ نخعی ‘ مجاہد اور مکحول کا یہی قول ہے۔ بخاری نے نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے آیت ولا تَجْہَرُ بِصَلاَ تِکَ وَلاَ تُخَافِتْ بِہَاکے متعلق فرمایا یہ دعا کے متعلق نازل ہوئی تھی۔ ابن جریر نے بطریق حضرت ابن عباس ؓ اس روایت کو نقل کیا ہے۔ لیکن اوّل روایت کو قوی الاسناد ہونے کی وجہ سے ترجیح دی ہے نووی کے نزدیک اوّل روایت راجح ہے شیخ ابن حجر نے دونوں روایتوں میں مطابقت پیدا کرتے ہوئے لکھا ہے کہ نماز کے اندر دعا کے متعلق (غالباً ) اس آیت کا نزول ہوا۔
ابن مردویہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ : کعبہ کے پاس جب نماز پڑھتے تو دعا اونچی آواز سے کرتے۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ (حضرت مفسر نے فرمایا) مجھے تطبیق کی یہ کوشش پسند نہیں کیونکہ نماز کے اندر پڑھنے کی جو دعائیں اب تک منقول چلی آئی ہیں (جو قعدہ میں پڑھی جاتی ہیں اور نوافل میں بحالت قیام و سجود بھی بعض دعاؤں کا پڑھنا آیا ہے) وہ سب باتفاق روایت سرّی ہی پڑھی جاتی رہی ہیں صرف دعاء قنوت میں اختلاف ہے (کہ اس کو جہراً پڑھا جائے یا سراً ) اس کے علاوہ آیت اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَ خُفْیَۃً اِنَّہٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَکا حکم عام ہے نماز کے اندر ہو یا باہر ہر دعا کو چپکے چپکے پڑھنے کا حکم ہے۔ اس لئے (اگر روایات میں مطابقت پیدا کرنی ہی ہے تو) مناسب ترین یہ توجیہ ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی مذکورہ روایات میں دعا سے مراد سورة فاتحہ ہے کیونکہ اس کے اندر آیت اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَدعا ہی ہے۔
آیت مذکورہ کے سبب نزول کے متعلق دو روایتیں اور بھی آئی ہیں۔ لیکن چونکہ یہ روایات صحیح اور اجماعی روایات کے خلاف ہیں ‘ اس لئے قابل قبول نہیں۔ ابن جریر اور حاکم نے لکھا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے کہا تھا اللّٰہُمَّ ارْحَمْنِیْاس پر یہ آیت نازل ہوئی اور حکم دیا گیا کہ لاَ تَخَافَتُوْا وَلاَ تَجْہَرُوْا۔
بغوی نے حضرت عبداللہ بن شداد کی روایت سے بیان کیا ہے کہ قبیلۂ بنی تمیم کے اعرابی رسول اللہ رسول اللہ ﷺ کے سلام کے جواب میں بلند آواز سے کہتے تھے۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا مَالاَ وَّوَلَدًا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ یہ دونوں روایات قابل قبول نہیں۔
بغوی نے بطریق ترمذی حضرت عبداللہ بن رباح انصاری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر ؓ سے فرمایا تم پست آواز سے قرأت کر رہے تھے میں تمہاری طرف سے گزرا تھا۔ حضرت ابوبکر ؓ نے عرض کیا میں جس سے خطاب کر رہا تھا اس کو (ہی) سنا رہا تھا ‘ فرمایا ذرا آواز اونچی رکھا کرو اور حضرت عمر ؓ سے فرمایا میں تمہاری طرف سے گزرا تھا تو تم (قرآن پڑھنے میں) آواز بلند کر رہے تھے (یعنی بہت اونچی آواز سے پڑھ رہے تھے) حضرت عمر ؓ نے عرض کیا میں (اپنی قرأت سے) سوتے کو جگا رہا تھا اور شیطان کو بھگا رہا تھا ‘ فرمایا ذرا آواز کو نیچی رکھا کرو۔
حضرت ابو داؤد ؓ وغیرہ نے حضرت ابو قتادہ کی روایت سے بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی ہے۔
قراء تِ جہری اور سری کے کچھ مسائل ہم نے سورة اعراف کی آیت : وَاِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَہٗ وَاَنْصِتُوْا لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ وَاذْکُرْ رَبَّکَ فِی نَفْسِکَمیں بیان کئے ہیں اور جہر و اخفاء کا ذکر اُدْعُوْا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً کی تفسیر میں کیا ہے۔
فصل رسول اللہ : ﷺ کی قراءت کی کیفیت
حضرت ابوہریرہ ؓ : کا بیان ہے کہ قرأت میں رسول اللہ ﷺ : کبھی آواز کو اٹھاتے تھے اور کبھی پست کرتے تھے۔ رواہ ابو داؤد۔
حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ : گھر کے اندر ہوتے تھے تو آپ کی قرأت اتنی آواز سے ہوتی تھی کہ حجرہ کے اندر والے بھی سن لیتے تھے۔ رواہ ابو داؤد۔
حضرت ام سلمہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ : کی قرأت کی کیفیت (خود) پڑھ کر بتائی اور ایک ایک لفظ کھول کھول کر (پڑھ کر) بتایا۔ رواہ ابو داؤد والترمذی والنسائی۔
حضرت ام ہانی ؓ کا بیان ہے میں اپنے بالا خانہ پر رسول اللہ ﷺ : کی قرأت کی آواز سنا کرتی تھی (یعنی مسجد سے بالکل متصل حضرت ام ہانی کے مکان کی بالائی منزل تک قرأت کی آواز پہنچتی تھی) رواہ الترمذی والنسائی وابن ماجۃ۔
حضرت عبداللہ بن قیس ؓ : کا بیان ہے کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ : کی قرأت کی بابت دریافت کیا کہ حضور ﷺ : کیا چپکے چپکے قرأت کرتے تھے یا جہر کے ساتھ فرمایا ہر طرح پڑھتے تھے کبھی چپکے چپکے پڑھتے تھے ‘ کبھی جہر کے ساتھ۔ ترمذی نے کہا یہ حدیث صحیح حسن غریب ہے۔
Ayah 17:111وَقُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ يَكُنْ لَّهٗ شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَلَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَكَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا
اور کہو کہ تمام خوبیاں اسی اللہ کے لئے خاص ہیں جو نہ اولا درکھتا ہے اور نہ اس کا کوئی
سلطنت میں شریک ہے اور نہ کمزوری کی وجہ سے کوئی اس کا مددگار ہے اور اس کی خوب بڑائیاں بیان کیا کرو۔
(حضرت مفسر (رح) کے نزدیک) الملک سے مراد ہے الوہیت۔ مذلۃ کمزوری ‘ ولی ‘ حامی ‘ مددگار ‘ یعنی اس کے اندر کوئی کمزوری نہیں کہ اس کو اپنی کمزوری دفع کرنے کے لئے مددگار کی ضرورت ہو۔ اوّل جنسی اور غیر جنسی شریک کی نفی کی اور اختیاری شریک (یعنی اولاد) اور غیر اختیاری شریک (یعنی سلطنت میں کسی دوسرے کے ساجھی) نہ ہونے کی صراحت فرمائی ‘ پھر کسی مددگار کے ہونے اور کمزوری کو دور کرنے والے حامی کی نفی کی (یعنی اس امر کی صراحت کی کہ اس کے اندر کوئی کمزوری ہی نہیں ہے جس کو دور کرنے کے لئے مددگار کی ضرورت ہو نہ کوئی اس کا مددگار ہے) اور تینوں اوصاف پر حمد کو مرتب کیا کیونکہ جب وہ کامل الذات ‘ خلاقیت میں منفرد اور منعم علی الاطلاق ہے تو ہر حمد کا وہی مستحق ہے اس کے سوا تمام مخلوق ناقص ‘ مملوک اور نعمت یافتہ ہے پس مخلوق کی جو حمد بھی کی جائے وہ حقیقت میں اللہ ہی کی طرف لوٹتی ہے۔
امام احمد نے مسند میں نیز طبرانی نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت معاذ جہنی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا آخر سورة تک۔ آیت عزت ہے۔
آیت میں اس امر پر تنبیہ ہے کہ اللہ کی تنزیہ اور تمجید کتنی بھی کرتا ہو اور کتنی ہی اللہ کی حمد و ثنا کرے اور کتنی ہی عبادت کرے پھر بھی اس کو اقرار کرنا چاہئے کہ حق ادا کرنے سے قاصر رہا۔
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن جن کو جنت کی طرف سب سے پہلے بلایا جائے گا وہ وہی لوگ ہوں گے جو دکھ سکھ ہر حالت میں اللہ کی بہت زیادہ حمد کرتے ہیں ‘ رواہ الطبرانی والبیہقی والحاکم۔
حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حمد شکر کی چوٹی (یعنی مدار) ہے جو بندہ اللہ کی حمد نہیں کرتا وہ شکر نہیں کرتا۔ رواہ البیہقی وعبدالرزاق فی الجامع۔
حضرت جابر بن عبداللہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے بڑھیا دعا الحمدللہ ہے اور سب سے اعلیٰ ذکر لا الہٰ الا اللہ ہے۔ رواہ الترمذی وابن ماجۃ۔
حضرت سمرہ بن جندب کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کو سب سے زیادہ پیارے چار جملے ہیں لا الہ الا اللہ اور سبحان اللہ اور اللہ اکبر اور الحمدللہ جس سے شروع کرو ‘ کوئی ہرج نہیں (یعنی ترتیب ضروری نہیں) رواہ مسلم و احمد بسند صحیح۔ بغوی نے مذکورۂ بالا چاروں احادیث ذکر کی ہیں۔ حضرت عمران بن حصین کی روایت طبرانی نے ذکر کی ہے کہ قیامت کے دن سب بندوں میں بڑھیا درجہ والے وہ لوگ ہوں گے جو بہت زیادہ حمد کرتے ہیں۔
حضرت ابوذر ؓ کی روایت ہے کہ بندہ کا سبحان اللہ وبحمدہٖ کہنا اللہ کو بہت ہی محبوب ہے۔ رواہ احمد و مسلم والترمذی۔
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ نسل عبدالمطلب کے بچہ کی جب زبان کھل جائے تو اس کو تعلیم دو اور کہو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا۔۔ یہ حدیث ابن سنی نیعمل الیوم واللیلۃ میں نقل کی ہے۔ عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ کے حوالہ سے عبدالرزاق اور ابن ابی شیبہ نے اپنے اپنے مصنف میں اس کو مفصل بیان کیا ہے۔
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی خَیْرِ خَلْقِہٖ مُحَمَّدٍ وَّاٰلِہٖ وَاَصْحٰبِہٖ اَجْمَعِیْنَ ۔
سورۃ بنی اسرائیل کی تفسیر 3 رمضان 1202 ھ کو اللہ کی مدد و توفیق سے ختم ہوئی۔
الحمدللہ والشکرلہ کہ سورة بنی اسرائیل کا ترجمہ 13 ربیع الثانی 1388 ھ کو بعونہٖ تعالیٰ پورا ہوا۔