17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 17:15

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا یَهْتَدِیْ لِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْهَا١ؕ وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى١ؕ وَ مَا كُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا Open ayah 17:15 in the Quran reader

جو شخص ہدایت اختیار کرتا ہے تو اپنے لئے اختیار کرتا ہے۔ اور جو گمراہ ہوتا ہے گمراہی کا ضرر بھی اسی کو ہوگا۔ اور کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ اور جب تک ہم پیغمبر نہ بھیج لیں عذاب نہیں دیا کرتے

مَنِ اهْتَدٰى فَاِنَّمَا يَهْــتَدِيْ لِنَفْسِهٖ ۚ : جو شخص دنیا میں سیدھے راستے پر چلتا ہے وہ اپنے نفع کے لئے چلتا ہے۔ یعنی جو کوئی ہدایت یاب ہوگا تو اس کا فائدہ خود اسی کو ملے گا کسی کا ہدایت یافتہ ہونا دوسروں کو عذاب سے نہیں بچائے گا۔ وَمَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيْهَا : اور جو راستہ بھٹکتا ہے سو وہ اپنے نقصان کے لئے بےراہ ہوتا ہے۔ یعنی جو گمراہ ہوگا اسی کو اپنی گمراہی کا وبال اٹھانا پڑے گا اور اس کی گمراہی دوسروں کی ہلاکت کا باعث نہ ہوگی۔ ابن عبدالبر نے ایک کمزور سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ : کی روایت سے لکھا ہے کہ ایک بار حضرت خدیجہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے مشرکوں کے (ان) بچوں کا (جو بلوغ سے پہلے مرگئے ہوں) حکم دریافت کیا حضور ﷺ نے فرمایا وہ اپنے باپوں سے (پیدا ہوئے) ہیں (لہٰذا انہی کے حکم میں داخل ہیں) کچھ مدت کے بعد حضرت خدیجہ ؓ نے یہی سوال کیا تو فرمایا (اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ (اگر بڑے ہوجاتے تو) کیا کرتے اس کے بعد جب اسلام مستحکم ہوگیا اور حضرت خدیجہ ؓ نے یہی سوال کیا تو آیت ذیل نازل ہوئی۔ وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى ۭ: کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے (کے گناہ) کا بار (اپنے اوپر) نہیں اٹھائے گا۔ بلکہ صرف اپنے گناہ کا بار اپنے اوپر اٹھائے گا۔ وِزْرَ سے مراد ہے بار گناہ۔ وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِيْنَ حَتّٰى نَبْعَثَ رَسُوْلًا : اور ہم رسول ﷺ : کو بھیجے بغیر (کسی کو) عذاب دینے والے نہیں۔ یعنی زندگی کے قوانین شرعیہ پیش کرنے اور آخری حجت ختم کرنے والے پیغمبروں کو بھیجے بغیر ہم کسی کو عذاب دینے والے نہیں۔ امام شافعی (رح) نے کہا یہ آیت بتارہی ہے کہ جس شخص کو دعوت پیغمبر کی اطلاع نہ پہنچی ہو فقط عقل و ہوش ملنے کی وجہ سے اس پر کوئی اعتقادی یا عملی حکم واجب نہیں ہوتا ‘ پس پیغمبر کی دعوت نہ پہنچنے کی وجہ سے اگر کوئی شرک یا عملی معصیت کا مرتکب ہو تو اس کو عذاب نہ ہوگا۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا حاکم اللہ ہی ہے لیکن انسانی عقل بجائے خود اللہ کو ایک سمجھنے اور تمام عیوب و نقائص سے پاک جاننے اور معجزات کی روشنی میں نبوت کا اقرار کرنے کی مکلف ہے ‘ اقرار توحید و رسالت کا مدار عقل پر ہے حکم خداوندی اور ہدایت رسول پر نہیں جس کو بعثت نبی کی اطلاع نہ پہنچی ہو یا انبیاء کو اللہ مبعوث ہی نہ کرے تب بھی توحید و تنزیہ کا اعتراف عقل کا فریضہ ہے تمام شرائع اور احکام کا مدار توحید و نبوت کے اقرار پر ہے ‘ اب اگر توحید و نبوت کے اقرار کا مدار بھی حکم شریعت پر ہوگا تو دور پیدا ہوجائے گا اور اس چکر کے نتیجے میں کچھ حاصل نہ ہوگا۔ یوں سمجھو احکام شرعیہ نبوت و توحید کے اقرار پر مبنی ہیں اور نبوت و توحید کا اقرار حکم شرع پر مبنی ہے تو احکام شرعیہ خود ہی اپنی ذات پر موقوف ہوں گے پس انبیاء کے مبعوث نہ ہونے یا بعثت کی اطلاع نہ پانے کی وجہ سے اگر کوئی شخص شرک کرے گا تو مجرم اور مستحق عذاب ہوگا۔ اس قول کی تائید صحیحین کی اس حدیث سے ہوتی ہے جو حضرت ابو سعید خدری کی روایت سے آئی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ (حضرت آدم سے) فرمائے گا۔ آدم ! حضرت آدم ( علیہ السلام) جواب دیں گے لبیک ‘ حاضر۔ تمام بھلائیاں تیرے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ فرمائے گا (اپنی اولاد میں سے) دوزخ کا حصہ نکالو۔ آدم ( علیہ السلام) عرض کریں گے ‘ دوزخ کا حصہ کیا۔ اللہ فرمائے گا ‘ نو سو ننانوے فی ہزار۔ یہ فرمان ایسا ہوگا کہ (جس کی ہیبت سے) بچے بھی بوڑھے ہوجائیں گے اور ہر حاملہ کو اسقاط ہوجائے گا اور لوگ نشہ والوں کی طرح (بےقابو اور) مدہوش نظر آئیں گے ‘ حالانکہ وہ نشہ آور چیز پیئے ہوئے نہ ہوں گے بلکہ اللہ کا عذاب سخت ہوگا۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ : ﷺ وہ ایک (نجات یافتہ) ہم میں سے کون ہوگا فرمایا تم کو بشارت ہو کہ تم میں سے ایک (جہنمی) ہوگا اور یاجوج ماجوج میں سے ہزار۔ الی آخر الحدیث۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ عقل پانے کے بعد ہر شخص توحید کے اقرار کا مکلف ہے ‘ دیکھو یاجوج ماجوج کی قومیں سد کے پار ہوں گی ان میں کوئی پیغمبر مبعوث نہ ہوگا پھر بھی ان پر عذاب ہوگا۔ دو پیغمبروں کی درمیانی مدت میں جب کہ سلسلۂ رسالت (عارضی طور پر) منقطع ہوگیا ہو جو لوگ پیدا ہوئے ہوں گے ‘ قیامت کے دن ان کی جانچ کی جائے گی۔ بزار نے حضرت ثوبان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن اہل جاہلیت (دور اسلامی سے پہلے کے لوگ جو حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کے صحیح دین پر نہ تھے) اپنے بار اپنی اپنی پشت پر اٹھائے ہوئے آئیں گے ‘ اللہ ان سے باز پرس کرے گا وہ عرض کریں گے اے ہمارے رب تو نے ہمارے پاس اپنا کوئی رسول نہیں بھیجا تھا نہ ہم کو تیرا حکم پہنچا اگر تو کوئی رسول ہمارے پاس بھیجتا تو ہم سب سے زیادہ تیرے فرمانبردار بندے ہوتے اللہ فرمائے گا اچھا اگر میں تم کو اب کوئی حکم دوں تو مانو گے (اہل جاہلیت جواب دیں گے ‘ بیشک ہم مانیں گے) اللہ ان سے پختہ عہد و پیمان لے کر حکم دے گا ‘ جاؤ دوزخ میں داخل ہوجاؤ ‘ حسب الحکم وہ لوگ دوزخ کی طرف چلیں گے ‘ جب (قریب پہنچ کر) اس کو دیکھیں گے تو ڈر کر واپس لوٹ پڑیں گے اور عرض کریں گے ‘ اے ہمارے رب ہم کو تو دوزخ سے ڈر لگتا ہے ہم اس میں داخل نہیں ہوسکتے اللہ فرمائے گا ‘ ذلیل ہو کر اس میں داخل ہو (یعنی اس وقت تم نے نافرمانی کی اب ذلت کے ساتھ تم کو دوزخ میں جانا پڑے گا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر وہ پہلی ہی مرتبہ دوزخ میں داخل ہوجاتے تو آگ ان کے لئے ٹھنڈی پڑجاتی اور سلامتی بن جاتی۔ امام احمد اور ابن راہویہ نے اپنی اپنی مسندوں میں اور بیہقی نے کتاب الاعتقاد میں حضرت اسود بن سریع کی روایت سے بیان کیا ہے اور بیہقی نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ رسول اللہ : ﷺ نے فرمایا ‘ قیامت کے دن چار آدمی ایسے ہوں گے جو (اپنے گمراہ ہونے کی) حجت پیش کریں گے۔ بہراپٹ ‘ احمق ‘ پیر فرتوت جو وسواس کی حد تک پہنچ چکا ہوگا ‘ اور وہ شخص جو دور جاہلیت میں مرا ہوگا۔ بہرا کہے گا ‘ میرے رب اسلام آیا تو میں نے دعوت اسلامی نہیں سنی مجھے کچھ سنائی ہی نہیں دیتا تھا۔ احمق کہے گا جب اسلام آیا تو (میری یہ حالت تھی کہ) بچے میرے مینگنیاں مارتے تھے (میں تو پاگل تھا) پیر فرتوت کہے گا اسلام جس وقت آیا تو میں سمجھ سے قاصر تھا کچھ سمجھتا ہی نہ تھا اور دور جاہلیت میں جو شخص مرگیا ہوگا وہ کہے گا اے میرے رب میرے پاس تو تیرا کوئی رسول ہی نہیں آیا (اللہ فرمائے گا کیا اب اگر تم کو کوئی حکم دیا جائے تو تعمیل کرو گے وہ لوگ تعمیل کا وعدہ کریں گے) اللہ ان سے تعمیل حکم کا مضبوط وعدہ لے کر حکم دے گا کہ دوزخ میں چلے جاؤ (وہ داخل ہوں گے اور ڈر کر لوٹ آئیں گے) قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد ﷺ : کی جان ہے اگر وہ دوزخ میں (حکم ملتے ہی) داخل ہوجاتے تو آگ ان کے لئے ٹھنڈی پڑجاتی اور سلامتی بن جاتی۔ تینوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے۔ اس کے آخر میں اتنا زائد ہے کہ ان میں سے جو کوئی (تعمیل حکم میں) دوزخ کے اندر گھس جائے گا آگ اس کے لئے خنکی بخش اور سلامتی کا باعث ہوجائے گی اور جو اپنی (خوشی سے) داخل نہ ہوگا اس کو کھینچ کر آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ابن مبارک نے کہا مجھ سے مسلم بن یسار نے بیان کیا کہ قیامت کے دن ایک اندھے بہرے گونگے بندے کو اٹھایا جائے گا ‘ جس نے نہ کبھی کچھ سنا ہوگا نہ دیکھا ہوگا نہ کوئی بات کی ہوگی اللہ اس سے فرمائے گا جو حکم میں نے تجھے دیا تھا اور جو کچھ عطا کیا تھا تو نے اس پر کیا عمل کیا وہ عرض کرے گا ‘ اے میرے رب خدا کی قسم نہ تو تو نے مجھے آنکھیں دیں جن سے میں لوگوں کو دیکھتا نہ کان دیئے کہ تیرے اوامر ونواہی کو سنتا نہ مجھے زبان دی کہ میں اچھی بری بات کہتا میں تو بس ایک لکڑی کی طرح تھا۔ اللہ فرمائے گا اب اگر میں تجھے کچھ حکم دوں تو تعمیل کرے گا وہ شخص جواب دے گا جی ہاں اللہ فرمائے گا تو آگ میں گر پڑ یہ حکم سن کر وہ انکار کرے گا تو دھکے دے کر اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔ میں حنفیہ کے قول کے موافق کہتا ہوں کہ مشرک اگر با ہوش ہے تو اس کو خواہ پیغمبر کی دعوت نہ پہنچی ہو ‘ پھر بھی شرک کرنے کا عذاب دیا جائے گا۔ اللہ نے فرمایا ہے (اِنَّ اللّٰہَ لاَ یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ ) اللہ شرک کو معاف نہیں کرے گا۔ اس حکم میں بطور عموم وہ لوگ بھی داخل ہیں ‘ جو دور اسلام سے پہلے دور جاہلیت میں شرک پر مرگئے ہیں ‘ ممکن ہے وہ اللہ کے سامنے اپنی ناواقفیت کا عذر پیش کریں اور اللہ قیامت کے دن ان کا امتحان لے کر آخر جہنم میں بھیج دے۔ قیامت کے دن مشرک اپنے شرک کا انکار کریں گے اور ثبوت و شہادت طلب کریں گے تو ان کے اعضاء خود ان کے خلاف شہادت دیں گے اور اللہ کی طرف سے ثبوت مکمل ہوجائے گا اور شرک کا عذاب اللہ جس کو چاہے گا دے گا اور یہ تقاضاء عدل کے خلاف بھی نہ ہوگا (کیونکہ شرک سے روکنے والی اور توحید کی طرف رہنمائی کرنے والی عقل اللہ نے ان کو عطا کردی تھی ‘ اس کے لئے کسی مزید پیام بھیجنے کی ضرورت نہ تھی) البتہ دوسرے صحیح ضوابط زندگی سمجھنے کے لئے چونکہ عقل انسانی کافی نہیں ہے اس لئے بغیر رسالت و بعثت کے کوئی شخص ان کا مکلف نہیں ہے۔ اللہ نے فرمایا (مَا کَان اللّٰہُ لِیُضِلَّ قَوْمًا بَّعْدَ اِذْ ہَدٰہُمْ حَتّٰی یُبَیِّنَ لَہُمْ مَا یَتَّقُوْنَ ) اللہ ایسا تو نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت کرنے کے بعد گمراہ کر دے تاوقتیکہ ان باتوں کو کھول کر بیان نہ کر دے جن سے ان کو بچنا ضروری ہے۔ صاحب مدارک نے حنفیہ کے مسلک کی بناء پر آیت کا تفسیری مطلب اس طرح بیان کیا ہے کہ پیغمبرکو بھیجے بغیر ہماری طرف سے یہ بات نہیں ہوسکتی کہ دنیا میں کسی کو بیخ بن سے اکھاڑ پھینکنے کا عذاب دیں (گویا آیت میں لفظ معذبین سے مفسر مدارک کے نزدیک دنیوی عذاب اس طرح دینا مراد ہے کہ جڑ بنیاد سے کسی قوم کو اکھاڑ کر پھینک دیا جائے) میں کہتا ہوں یہ تفسیر بہت ہی دور از فہم ہے کیونکہ معذبین کا لفظ عام ہے دنیوی اور اخروی ہر طرح کے عذاب کو شامل ہے نکرہ منفی کی نفی عام ہوتی ہے کوئی وجہ نہیں کہ اس لفظ سے صرف عذاب دنیا اور عذاب دنیوی میں سے بھی خاص طور پر عذاب استیصال مراد لیا جائے کیونکہ یہ امر ظاہر ہے کہ جب بغیر اتمام حجت کے عذاب دینا ممکن نہیں تو عذاب آخرت کیسے ہو سکے گا (نفی تو دونوں کو شامل ہے) ۔ اس لئے قبل بعثت عذاب نہ دینے سے مراد ہے معاصی اور بد اعمالیوں پر عذاب نہ دینا۔ عذاب شرک کی نفی مراد نہیں ہے (نہ عذاب استیصال کی نفی) ۔ بعض علماء کا قول ہے کہ لفظ رسولاً عقل کو بھی شامل ہے لفظ رسول کے اندر پیغمبر بھی داخل ہیں اور ہر انسان کی تندرست عقل بھی۔ عقل بھی اللہ کی طرف سے ایک رسول ہے جو خیر و شر کا فرق بتاتی ہے اور اچھائی برائی کی اس کے ذریعہ سے تمیز ہوتی ہے۔ پس عقل انسانی جن فرائض و حقوق کا ادراک کرسکتی ہے ان کے ترک پر انسان کو عذاب دیا جائے گا (خواہ شرک ہو یا بدیہی واضح امور خیر و شر) ۔ فصل آیت سے ثابت ہو رہا ہے کہ مشرکوں کے بچوں اور دیوانے انسانوں کو عذاب نہ ہوگا۔ (نہ عذاب شرک نہ عذاب معاصی) کیونکہ ان کو نہ کسی پیغمبر کی دعوت پہنچی نہ عقل کی (ماں باپ کا شرک ان پر اثر انداز نہ ہوگا) رفتار آیت اسی مطلب پر روشنی ڈال رہی ہے۔ لاَ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِزْرَ اُخْرٰیسے یہی مستفاد ہو رہا ہے ‘ بعض احادیث میں بھی اسی طرح کا مضمون آیا ہے ‘ امام احمد نے خنساء بن معاویہ کے چچا کی روایت سے بیان کیا ہے۔ راوی کہتا ہے میں نے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ جنت میں کون لوگ جائیں گے فرمایا نبی جنتی ہیں ‘ شہید جنتی ہیں اور نوزائیدہ بچے جنتی ہیں اور زندہ درگور کئے ہوئے بچے جنتی ہیں (یعنی یہ لوگ بےحساب جنت میں جائیں گے ان کا جنت میں داخلہ بغیر عذاب کے قطعی ہے) ۔ بخاری نے حضرت سمرہ بن جندب کی روایت سے ایک طویل حدیث خواب بیان کی ہے جس کے اندر یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ایک پیر مرد۔ ایک درخت کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے گرداگرد کچھ بچے بھی تھے رسول اللہ ﷺ : کا گزر ادھر سے ہوا اور آپ نے جبرئیل ( علیہ السلام) سے دریافت کیا جبرئیل نے بتایا یہ ابراہیم ہیں اور یہ بچے مسلمانوں کے اور مشرکوں کے ہیں ‘ صحابہ نے یہ بات سن کر عرض کیا یا رسول اللہ : ﷺ مشرکوں کے بچے بھی فرمایا ہاں مشرکوں کے بچے بھی۔ اسی وجہ سے بعض علماء کا قول ہے کہ مشرکوں کے بچے اہل جنت کے خادم ہوں گے۔ (یعنی جنت میں تو رہیں گے لیکن مؤمنوں کے خدمتگار بن کر) کیونکہ ابو داؤد طیالسی نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ : ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کی بابت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا نہ تو ان کی برائیاں تھیں کہ وہ دوزخیوں میں سے ہوجائیں نہ ان کی بھلائیاں تھیں کہ (اہل جنت میں ان کا شمار ہوجائے اور) ان کو نیکیوں کا ثواب دیا جائے پس وہ اہل جنت کے خادم ہوں گے۔ ابن جریر نے حضرت سمرہ کا بیان نقل کیا ہے ‘ ہم نے رسول اللہ ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کے متعلق دریافت کیا فرمایا وہ اہل جنت کے خادم ہوں گے۔ یہ ہی حدیث حضرت ابن مسعود سے موقوفاً بھی مروی ہے۔ ایک شبہ صحیح حدیث میں آیا ہے کہ مشرکوں کے بچوں کا کوئی قطعی فیصلہ رسول اللہ ﷺ سے مروی نہیں۔ حضور ﷺ نے یقینی طور پر نہیں فرمایا کہ مشرکوں کے بچے جنتی ہوں گے یا دوزخی۔ چناچہ صحیحین میں بخاری و مسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کے متعلق دریافت کیا گیا تو حضور ﷺ نے فرمایا اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ کیا کرنے والے تھے ایسی ہی ایک حدیث حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بھی آئی ہے۔ ازالہ مشرکوں کے بچوں کی غیر یقینی حالت والی مذکورہ دونوں حدیثیں منسوخ ہیں آیت الفتح ان کی ناسخ ہیں جو لوگ کسی کے جنتی ہونے کی شہادت دیتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ ان کے قول کی تردید فرما دیتے تھے ‘ کیونکہ اللہ نے فرما دیا تھا (وَمَا اَدْرِی مَا یُفْعَل بِیْ وَلاَبِکُمْ ) (مجھے نہیں معلوم کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا اور میرے ساتھ کیا کیا جائے گا) اسی بناء پر حضرت عثمان بن مظعون کے جنتی ہونے کے قول کی بھی آپ نے تردید فرما دی تھی ‘ لیکن آیت فتح کے نزول سے آپ کو بڑی خوشی ہوئی اور اس کے بعد ایک جماعت کے لئے نام بنام آپ نے جنتی ہونے کی بشارت دی۔ مسلم نے حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک انصاری کے بچے کے جنازہ میں شرکت کے لئے رسول اللہ ﷺ : کو بلایا گیا ‘ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس کے لئے تو خوشی ہی خوشی ہے وہ تو جنت کی چڑیا تھی کبھی کوئی گناہ نہیں کیا نہ گناہ کرنے کی عمر پائی۔ یا اس کے خلاف کچھ ہوگا فرمایا (سنو) عائشہ ؓ ! اس نے جنت کو پیدا کیا تو اس کے لئے کچھ اشخاص بھی ان کے باپوں کی پشت میں ہی پیدا کردیئے اور دوزخ کو پیدا کیا تو اس کے لئے کچھ لوگ ان کے باپوں کی پشت میں ہی پیدا کردیئے۔ یہ حدیث بتارہی ہے کہ مسلمانوں کے بچوں کے معاملے میں کوئی یقینی علم نہیں ہے۔ توقف ہی رکھنا چاہئے۔ باوجودیکہ ان کے جنتی ہونے پر اجماع سلف ہے امام احمد اور ابن ابی زید اور ابو یعلی وغیرہ نے فراء وغیرہ کے حوالے سے اجماع ہونا نقل کیا ہے اس کے علاوہ قرآن و احادیث کی صریح عبارتیں بھی اسی پر دلالت کرتی ہیں کذا قال النووی والسیوطی۔ (لیکن یہ سب لاعلمی کا اظہار مسلمانوں کے بچوں کے سلسلہ میں بھی آیت فتح کے نزول سے پہلے تھا) ابن حبان نے اپنی صحیح میں اور بزارنے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہ امت جب تک تقدیر کی بابت (کوئی جھگڑا) اور بچوں کے (جنتی و دوزخی ہونے کے) سلسلہ میں کوئی گفتگو نہ کرے گی اس کا معاملہ ٹھیک رہے گا (کوئی فساد نہ ہوگا) ابن حبان کے نزدیک جن بچوں کا ذکر اس حدیث میں آیا ہے ان سے مراد مشرکوں کے بچے ہیں۔ یہ حدیث بھی آیت فتح سے منسوخ ہے اور یہ ارشاد اس زمانہ کا ہے جب رسول اللہ ﷺ کو مشرکوں کے بچوں کے نتیجہ کے متعلق کچھ معلوم نہ تھا۔ بعض احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکوں کے بچے دوزخ میں جائیں گے ابو یعلی نے حضرت براء بن عازب کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے مسلمانوں کے بچوں کے متعلق دریافت کیا گیا۔ فرمایا وہ اپنے باپوں کے ساتھ ہوں گے پھر مشرکوں کے بچوں کے متعلق دریافت کیا گیا تب بھی حضور ﷺ نے فرمایا وہ اپنے باپوں کے ساتھ ہوں گے۔ ابو داؤد نے حضرت عائشہ ؓ : کا بیان نقل کیا ہے ‘ ام المؤمنین نے فرمایا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! مؤمنوں کی اولاد کا کیا ہوگا ‘ فرمایا وہ اپنے باپوں سے ہیں (یعنی انہیں کے ساتھ ہوں گے) میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! کیا بغیر عمل کے فرمایا اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ وہ (زندہ رہتے اور جوان ہوتے تو) کیا کرتے میں نے عرض کیا مشرکوں کی اولاد کا کیا حکم ہے فرمایا وہ اپنے باپوں سے ہیں (یعنی دوزخی ہوں گے) میں نے عرض کیا بغیر عمل کے فرمایا ‘ اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ کیا کرتے۔ احمد نے بہت زیادہ ضعیف سند کے ساتھ نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے مشرکوں کے بچوں کے متعلق تذکرہ کیا ‘ فرمایا اگر تم چاہو تو دوزخ کے اندر میں تم کو ان کی جگہ بتادوں۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد المسند میں ایک مجہول منقطع سند کے ساتھ اور ابن ابی حاتم نے السنۃ میں حضرت علی ؓ : کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ام المؤمنین حضرت خدیجہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے ان دونوں بچوں کے متعلق دریافت کیا جو دور اسلامی سے پہلے مرچکے تھے۔ فرمایا دونوں دوزخ میں ہیں (یہ بات سن کر حضرت خدیجہ ؓ کے چہرے پر کچھ افسردگی کے آثار پیدا ہوگئے) حضور ﷺ نے حضرت خدیجہ ؓ کے چہرہ پر آثار کراہت دیکھ کر فرمایا اگر تم کو ان کا مقام نظر آجائے تو خود ان سے نفرت کرنے لگو گی۔ حضرت خدیجہ ؓ نے عرض کیا اور جو آپ سے میری اولاد ہو (اس کا کیا حکم ہے) فرمایا مؤمن اور ان کے بچے جنت میں ہوں گے اور مشرک اور ان کے بچے دوزخ میں ہوں گے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاتَّبَعَتْہُمْ ذُرِّیَّتُہُمْ بِاِیْمَانٍٍ اَلْحَقْنَابِہِمْ ذُرِّیَّتَہُمْ ) ۔ ابو داؤد نے حضرت ابن مسعود ؓ : کی روایت سے اچھی سند کے ساتھ بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لڑکی کو) زندہ دفن کرنے والی اور زندہ درگور کی ہوئی (دونوں) دوزخ میں ہوں گی۔ ابو داؤد نے ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت سلمہ بن قیس اشجعی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت سلمہ نے فرمایا ‘ میں اور میرا بھائی رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ہم نے عرض کیا ہماری ماں جاہلیت کے زمانے میں مرگئی وہ مہمان نوازی اور کنبہ پروری کرتی تھی مگر اس کی ایک بہن تھی جو سن بلوغ کو نہیں پہنچی تھی ‘ ہماری ماں نے اپنی اس بہن کو زندہ زمین میں دفن کردیا ‘ فرمایا زندہ دفن کرنے والی اور زندہ درگور کی ہوئی (دونوں) دوزخی ہوں گی۔ ہاں اگر زندہ دفن کرنے والی نے اسلام پا لیا اور مسلمان ہوگئی (تو جنتی ہوجائے گی) ان تمام احادیث کا جواب یہ ہے کہ الوائدہ سے (حدیث میں) وائی مراد ہے اور مؤورہ سے مراد ہے زندہ درگور کی جانے والی لڑکی کی ماں یعنی جس کی لڑکی زندہ درگور کی گئی ہو (اور وہ اس پر راضی ہو) احادیث کا باہم تعارض دور کرنے کے لئے یہ تاویل ضروری ہے۔ رہیں وہ احادیث جو مشرکوں کے بچوں کے دوزخی ہونے کے سلسلے میں ذکر کی گئی ہیں ان میں سے کوئی حدیث بھی اتنی قوی نہیں جتنی وہ احادیث قوی ہیں جن میں اولاد مشرکین کا جنت میں ہونا ظاہر کیا گیا ہے۔ پھر قرآن مجید کی آیات سے بھی ان کا ٹکراؤ ہو رہا ہے۔ اس لئے ناقابل قبول ہیں اور چونکہ یہ احادیث خبری شکل میں ہیں ‘ یعنی ان میں اولاد مشرکین کے دوزخی ہونے کی اطلاع دی گئی ہے اور نسخ احکام میں ہوتا ہے خبروں میں جاری نہیں ہوتا ‘ اس لئے ہم ان کو منسوخ نہیں کہتے بلکہ انتہائی ضعیف کہتے ہیں بایں معنی ان کو منسوخ کہہ سکتے ہیں کہ اللہ نے ان کے لئے عذاب دوزخ تو مقرر کردیا ہے لیکن رسول اللہ کی شفاعت سے اس کو دور کر دے گا ‘ ابن ابی شیبہ کی حدیث اس مضمون پر دلالت کر رہی ہے۔ ابن ابی شیبہ نے حضرت انس ؓ : کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اولاد انسانی میں سے جو لوگ لاہی (کھیلنے والے یا غافل) مرگئے ہوں ان کے متعلق میں نے اپنے رب سے دعا کی کہ ان کو عذاب نہ دیا جائے ‘ اللہ نے میرا سوال پورا کردیا۔ ابن عبدالبر نے کہا اس حدیث میں لاہی سے مراد بچے ہیں ان کے اعمال (قابل گرفت نہیں) محض لہو و لعب ہیں نہ عقل کے ساتھ ہوتے ہیں نہ عزم کے ساتھ۔ سیوطی نے لکھا ہے کہ سلف سے اب تک مشرکوں کے بچوں کے جنتی دوزخی ہونے کے سلسلہ میں علماء کے اقوال مختلف رہے ہیں۔ کچھ علماء احادیث مندرجۂ بالا کی روشنی میں اطفال مشرکین کے دوزخی ہونے کے قائل ہیں۔ لیکن ہم لکھ چکے ہیں کہ احادیث مذکورہ ضعیف ہیں ‘ استدلال میں پیش کرنے کے قابل نہیں۔ کچھ علماء ان کو جنتی اور کچھ اہل جنت کے خادم قرار دیتے ہیں۔ میرے نزدیک ان دونوں قولوں میں تعارض نہیں ہے ‘ کیونکہ اہل جنت کے خادم بھی جنت میں ہی ہوں گے۔ محتاط ترین قول یہ ہے کہ اطفال مشرکین کا معاملہ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے نہ ان کے جنتی ہونے کا قول۔ قول فیصل ہے نہ دوزخی ہونے کا۔ اس قول کی نسبت حماد ‘ ابن مبارک ‘ ابن راہویہ اور شافعی کی طرف کی گئی ہے اور نسفی نے امام ابو حنفیہ کا قول بھی یہی قرار دیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ قیامت کے دن جس طرح رسول اللہ ﷺ : کی بعثت سے پہلے کے لوگوں کی جانچ کی جائے گی ‘ اسی طرح اطفال مشرکین کا بھی امتحان لیا جائے گا۔ ابو یعلی اور بزار نے حضرت انس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن چار (قسم کے) لوگوں کو پیشی میں لایا جائے گا۔ (1) بچہ (جو پیدا ہونے کے بعد جوان ہونے سے پہلے مرگیا) (2) دیوانہ۔ (3) زمانۂ فترت والے (یعنی حضرت عیسیٰ کے بعد جب صحیح عیسائیت ختم ہوگئی اور رسول اللہ ﷺ : کی بعثت ابھی نہیں ہوئی اس درمیانی مدت کے لوگ) ۔ (4) شیخ فانی (یعنی پیر فرتوت) ان میں سے ہر ایک اپنا اپنا عذر پیش کرے گا ‘ اللہ آگ کے بالائی حصے سے فرمائے گا باہر نکل آ ‘ پھر فرمائے گا میں (دنیا میں) اپنے بندوں کے پاس انہیں میں سے کچھ لوگوں کو پیغمبر بنا کر بھیجتا رہا ہوں اور (آج) میں خود اپنی طرف سے تم کو پیغام دے رہا ہوں اس (آگ) میں داخل ہوجاؤ اس کے جواب میں وہ لوگ جن کے لئے اللہ کی طرف سے بدبختی لکھ دی گئی ہوگی کہیں گے اے رب کیا ہم اس آگ میں گھس جائیں ‘ اسی سے تو ہم بھاگ رہے ہیں ‘ جو ازلی خوش نصیب ہوں گے وہ فوراً جا کر آگ میں گھس پڑیں گے ‘ اللہ نافرمانوں سے فرمائے گا (جب تم نے آج میرا حکم نہیں مانا تو (دنیا میں) تم میرے پیغمبروں کی بہت زیادہ تکذیب اور نافرمانی کرتے آخر آگ میں داخل ہونے والوں کو جنت میں داخل کردیا جائے گا اور انکار کرنے والوں کو آگ میں بھیج دیا جائے گا۔ بزار اور محمد بن یحییٰ نے حضرت ابو سعید خدری (رح) کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (تین قسم کے لوگ اپنا عذر پیش کریں گے) فترت کے زمانہ میں جو شخص (کفر پر) مرا ہوگا وہ عذر پیش کرے گا اور دیوانہ عذر پیش کرے گا اور بچہ (جو بچپن میں مرگیا ہوگا وہ) عذر پیش کرے گا (یہ سب ہلاک ہونے والے اپنی اپنی معذرت کریں گے) ایام فترت میں ہلاک ہونے والا کہے گا ‘ اے میرے رب میرے پاس کوئی کتاب ہی نہیں پہنچی دیوانہ کہے گا تو نے مجھے سمجھ ہی نہیں دی کہ میں بھلائی سمجھتا بچہ کہے گا ‘ میں نے عقل (کی عمر یعنی سن بلوغ) کو ہی نہیں پایا ان کی معذرتوں کے بعد ایک آگ کا حصہ (یعنی دوزخ کا ابتدائی حصہ) سامنے آجائے گا اور اللہ فرمائے گا اس میں داخل ہوجاؤ فوراً وہ لوگ جن کے متعلق اللہ کو معلوم تھا کہ اگر یہ عمل کا زمانہ پاتے تو سعید ہوجاتے اس آگ میں گھس جائیں گے اور جن لوگوں کے متعلق اللہ کو معلوم تھا کہ اگر یہ عمل کے زمانے کو بھی پالیتے تب بھی بدنصیب رہتے آگ میں داخل ہونے سے رک جائیں گے اللہ فرمائے گا (آج جب) تم نے میری نافرمانی کی تو میرے پیغمبر (دنیا میں) اگر تمہارے پاس پہنچ جاتے تو کس طرح نافرمانی نہ کرتے۔ طبرانی اور ابو نعیم نے حضرت معاذ بن جبل کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن دیوانہ کو اور فترت کے زمانہ میں کفر پر مرنے والے کو اور بچپن کی عمر میں ہلاک ہونے والے کو پیشی میں لایاجائے گا ‘ دیوانہ کہے گا اے میرے رب اگر تو صحیح سمجھ دیتا تو یہ دوسرے عقلمند مجھ سے زیادہ خوش نصیب نہ ہوتے اور دوسرے دونوں بھی ایسی ہی بات کہیں گے اللہ فرمائے گا اچھا اب اگر میں تم کو کوئی حکم دوں تو مانو گے۔ سب کہیں گے جی ہاں اللہ فرمائے گا جاؤ دوزخ میں گھس جاؤ ( رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر وہ آگ میں گھس جاتے تو آگ سے کوئی دکھ ان کو نہ پہنچتا) پھر اللہ (دوزخ کے) کچھ حصے ان کے سامنے لے آئے گا ‘ وہ خیال کریں گے یہ تو ہر چیز سے زیادہ ہلاکت انگیز ہے اس لئے فوراً ہی واپس لوٹ پڑیں گے ‘ اللہ دوبارہ حکم دے گا ‘ پھر بھی وہ لوٹ آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تم کو پیدا کرنے سے پہلے ہی مجھے معلوم تھا کہ تم (اگر عمل پر قادر ہوتے تو) کیا کرتے۔ مندرجۂ بالا احادیث کی بناء پر جن لوگوں نے اطفال مشرکین کے متعلق توقف کا مسلک اختیار کیا ہے (اور صراحت کی ہے کہ قیامت کے دن اللہ ان کا فیصلہ کرے گا اور امتحان کے بعد ان کو دوزخ میں بھیج دے گا) یہ دین کی کھلی ہوئی صراحتوں کے خلاف ہے ‘ امام احمد اور ابو داؤد اور حاکم نے صحیح سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت علی ؓ اور عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین (قسم کے لوگوں) سے قلم اٹھا لیا گیا ہے (یعنی وہ شرعی احکام کے مکلف ہی نہیں ہیں) دیوانہ جب تک اچھا نہ ہوجائے ‘ سوتا ہوا آدمی جب تک بیدار نہ ہوجائے اور بچہ جب تک بڑا (یعنی بالغ) نہ ہوجائے۔ حدیث سے ثابت ہے کہ اگر کسی نے گناہ کا ارادہ کیا تو اس وقت تک اس سے مواخذہ نہ ہوگا جب تک کہ وہ گناہ عملی شکل میں نہ کرلے ‘ جب یہ بات ہے تو جس نے گناہ کا ارادہ ہی نہ کیا بلکہ گناہ کو سمجھنے کی اس میں صلاحیت ہی نہ ہو اس کو کیسے پکڑا جاسکتا ہے۔ لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَہَا لَہَا مَا کَسَبَتْ وَعَلَیْہَا مَا اَکْتََسبَتْ ۔ وَاَنْ لَیْسَ لِلْاِنْسَان الاَّ مَا سَعٰی۔ تمام امت اسلامیہ کا اجماع ہے کہ عقل و بلوغ پر تمام اوامرو نواہی کی بناء ہے۔ احادیث مذکورہ میں جو مولود و مجنون کے الفاظ بھی آئے ہیں ‘ شاید یہ راویوں کے وہم کا نتیجہ ہے یا یوں کہا جائے گا کہ بچہ اور دیوانہ تو قیامت کے دن اللہ کے حکم کی تعمیل میں آگ کے اندر گھس جائیں گے۔ زمانۂ فترت کے مشرکوں کی حالت اس کے خلاف ہوگی (وہ قیامت کے دن بھی اللہ کے حکم کی تعمیل نہیں کریں گے) سیوطی نے لکھا ہے اطفال مشرکین کے متعلق ایک قول یہ ہے کہ جنت اور دوزخ کے درمیان برزخ میں ان کو رکھا جائے گا (نہ وہ دوزخی ہوں گے نہ جنتی) بعض نے کہا ان کو خاک کردیا جائے گا۔ مگر اس کی کوئی دلیل نہیں۔ اولاد مسلمین کے متعلق اجماع امت ہے کہ وہ جنت میں جائیں گے ان کے متعلق کسی کا اختلاف نہیں۔
Ayah 17:16

وَ اِذَاۤ اَرَدْنَاۤ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْیَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِیْهَا فَفَسَقُوْا فِیْهَا فَحَقَّ عَلَیْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِیْرًا Open ayah 17:16 in the Quran reader

اور جب ہمارا ارادہ کسی بستی کے ہلاک کرنے کا ہوا تو وہاں کے آسودہ لوگوں کو (فواحش پر) مامور کردیا تو وہ نافرمانیاں کرتے رہے۔ پھر اس پر (عذاب کا) حکم ثابت ہوگیا۔ اور ہم نے اسے ہلاک کر ڈالا

وَاِذَآ اَرَدْنَآ اَنْ نُّهْلِكَ قَرْيَةً اَمَرْنَا مُتْرَفِيْهَا : اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس کے خوش عیش لوگوں کو حکم دیتے ہیں۔ مترفین یعنی صاحبان عیش و راحت اور جابر لوگ۔ مجاہد کی قرأت میں اَمَّرْنَا آیا ہے یعنی ہم مسلط کردیتے ہیں اور ان کو حاکم بنا دیتے ہیں ‘ حسن اور قتادہ اور یعقوب نے اَمْرناپڑھا ہے یعنی راحت و نعمت میں پڑے ہوئے لوگوں کو پیغمبر کی زبانی ہم طاعت و فرمانبرداری کا حکم دیتے ہیں امرناکے بعد بالطاعۃ کا لفظ محذوف ہے ‘ قرینہ یہ ہے کہ پہلے فرمایا تھا ہم پیغمبر کو بھیجے بغیر عذاب نہیں دیا کرتے اور اس آیت کے بعد فرمایا ہے۔ فَفَسَقُوْا فِيْهَا پس وہ اس بستی میں نافرمانی کرتے ہیں 1 ؂۔ فسق کا معنی ہے طاعت سے نکل جانا اور سرکش ہوجانا بعض اہل تفسیر کے نزدیک یہ معنی ہے کہ ہم اصحاب راحت و نعمت کو فسق کرنے کا حکم دیتے ہیں اور وہ فاسق ہوجاتے ہیں عرب کا محاورہ ہے اَمَرْتَہٗ فَجَلَسَ میں نے اس کو حکم دیا یعنی بیٹھنے کا حکم دیا تو وہ بیٹھ گیا۔ اس مطلب پر امر اپنے حقیقی معنی میں مستعمل نہ ہوگا۔ کیونکہ اللہ گناہ کا حکم نہیں دیتا۔ اِنَّ اللّٰہُ لاَ یَاْمُرُ بالْفَحْشَاءِاللہ بےحیائی کا حکم نہیں دیتا۔ بلکہ مجازی معنی مراد ہوگا یعنی ہم ان کو فسق پر آمادہ کردیتے ہیں اسباب فسق فراہم کردیتے ہیں ‘ نعمتوں کی ان پر بارش کردیتے ہیں جن کی وجہ سے وہ راحت پسند اور عیش کوش بن جاتے ہیں اور یہ عیش کوشی ان کو فسق میں مبتلا کردیتی ہے۔ بعض علماء نے اَمَرْنَا کا معنی کثَّرْنابیان کیا ہے اَمَرْتُ الشَّئَ میں نے اس چیز کو کثیر کردیا۔ فَاَمُرَپس وہ زیادہ ہوگئی۔ حدیث میں آیا ہے خَیْرُ الْمَالِ سَکَّۃٌ مَأ بُوْرَۃٌ وَُ مہْرَۃٌ مَامَوْرَۃٌ۔ سَکَّۃٌکھجور کے درختوں کی قطار۔ مابورۃ ہموار درست۔ مہرۃ بچھیری۔ مامورۃٌ کثیر النسل بہت بچے دینے والی۔ یعنی بہترین مال کھجور کے درختوں کی ہموار قطار ہے اور وہ بچھیری ہے جس کی نسل بہت ہو بہت بچے دینے والی ہو۔ ہرقل والی حدیث میں ابو سفیان کا قول آیا ہے لقد آمر امر ابن ابی کبثۃ ابو کبثہ (عبداللہ) کے بیٹے (یعنی محمد ﷺ کی بات تو بہت ہوگئی اس کا مرتبہ اونچا ہوگیا۔ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں عرض کیا تھا۔ مَالِیَ اَرٰی اَمْرَکَ یَاْمُرُمیں دیکھ رہا ہوں کہ آپ کا معاملہ بڑھتا جا رہا ہے ‘ حضور ﷺ نے فرمایا واللّٰہِ لَیَا مُرَنَّ عَلٰی مَا تَرٰی خدا کی قسم جتنا تم دیکھ رہے ہو اس سے اور بڑھتا جائے گا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا ہم جاہلیت کے زمانہ میں کہتے تھے قد آمر بنو فلانفلاں قبیلہ والے بہت ہوگئے۔ قاموس میں ہے امرہ اور امرہدونوں ہم معنی ہیں اس کی نسل اور مویشیوں کو بڑھا دیا بہت کردیا۔ ایک محاورہ ہے اَمِرَا مارۃً فلاں شخص حاکم بنا دیا گیا ممکن ہے آیت میں اَمَرْنااسی محاورہ سے ماخوذ ہو۔ یعنی ہم نے اس بستی کے راحت پسند اور عیش کوش لوگوں کو حاکم بنا دیا۔ مترفین کا خصوصیت کے ساتھ ذکر اس لئے کیا کہ دوسرے لوگ تو ان کے تابع ہوتے ہی ہیں پھر عیش پسند لوگ ہی زیادہ احمق اور فسق پر قادر ہوتے ہیں۔ فَحَقَّ عَلَيْهَا الْقَوْلُ فَدَمَّرْنٰهَا تَدْمِيْرًا : تب اس پر حجت تمام ہوجاتی ہے آخر اس بستی کو تباہ و غارت کر ڈالتے ہیں ‘ یعنی اس بستی کے رہنے والوں کو ہم تباہ اور ہلاک کردیتے ہیں جس کی وجہ سے بستی ویران اور تباہ ہوجاتی ہے۔ بخاری نے حضرت ام حبیبہ بنت ابو سفیان کی وساطت سے حضرت زینب بنت حجش کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک روز گھبرائے ہوئے خوف زدہ میرے پاس تشریف لائے آپ فرما رہے تھے لا الہ الا اللہ شر قریب آگیا ‘ عرب کے لئے اس سے تباہی (ہونے والی) ہے حضور ﷺ نے انگوٹھے اور کلمے کی انگلی کو ملا کر ایک حلقہ بنا کر فرمایا آج اتنا (سوراخ) یاجوج ماجوج نے کھول لیا ‘ حضرت زینب کا بیان ہے ‘ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ عرب میں تو نیک لوگ بھی ہیں کیا وہ بھی ہلاک ہوجائیں گے ‘ فرمایا ہاں اگر گندگی بڑھ جائے گی (تو سب ہلاک ہوجائیں گے)
Ayah 17:17

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا Open ayah 17:17 in the Quran reader

اور ہم نے نوح کے بعد بہت سی اُمتوں کو ہلاک کر ڈالا۔ اور تمہارا پروردگار اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے اور دیکھنے والا کافی ہے

وَكَمْ اَهْلَكْنَا مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْۢ بَعْدِ نُوْحٍ : اور نوح کے بعد ہم نے بہت قوموں کو ہلاک کردیا جیسے قوم عاد و قوم ثمود وغیرہ ‘ اس میں مکہ کے کافروں کے لئے وعید ہے۔ قرن وہ لوگ جو ایک زمانہ میں ہوں ‘ یعنی ان کی پیدائش ایک زمانہ میں ہو۔ قاموس میں ہے عرب بولتے ہیں ہُوَ عَلٰی قَرْنِی یعنی وہ میری عمر کا ہے ‘ میرا ہم سن ہے ‘ قرن کے ختم ہوجانے کا یہ معنی ہے کہ ایک زمانہ کا کوئی ایک شخص بھی باقی نہ رہے (جتنے ہم عمر لوگ ہیں سب مرجائیں تو کہا جائے گا یہ قرن ختم ہوگیا) قاموس میں ہے ختم قرن کا یہ معنی ہے کہ ایک جماعت اور (ہم زمانہ) قوم میں سے کوئی بھی باقی نہ رہے سب مرجائیں۔ میں کہتا ہوں قرن صحابہ کا یہ مطلب ہے کہ رسول اللہ ﷺ : کا صحبت یافتہ کوئی شخص باقی ہو (اگر کوئی صحابی باقی نہ رہے تو قرن صحابہ ختم ہوگیا) اور قرن تابعین کا یہ معنی ہے کہ صحابہ کی صحبت میں رہنے والا کوئی آدمی باقی ہو (اگر صحابہ کو دیکھنے والا اور صحابہ کا زمانہ پانے والا کوئی شخص باقی نہ رہے تو تابعین کا قرن ختم ہوگیا) بعض لوگ کہتے ہیں قرن زمانہ کی ایک محدود مدت کو کہتے ہیں ‘ یہ مدت کتنی ہو اس میں اقوال مختلف ہیں ‘ دس سال کی مدت یا بیس سال کی یا تیس سال کی یا چالیس سال کی یا پچاس سال کی یا ساٹھ سال کی یا ستّر سال یا اسّی سال یا سو سال کی یا ایک سو بیس برس کی۔ یہ تمام اقوال صاحب قاموس نے ذکر کئے ہیں۔ مفقود الخبر کے انتظار کی مدت حنفیہ کے نزدیک نوے سال ہے صحیح قول یہ ہے کہ قرن ایک صدی کو کہتے ہیں محمد بن قاسم نے عبداللہ بن تستر مازنی کی ایک روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دست مبارک میرے سر پر رکھ کر فرمایا یہ لڑکا ایک قرن جئے گا۔ محمد بن قاسم کا بیان ہے ہم عبداللہ کی عمر کا حساب برابر لگاتے رہتے تھے ‘ یہاں تک کہ ان کی عمر کے سو سال پورے ہوگئے تو ان کا انتقال ہوگیا۔ ۭوَكَفٰى بِرَبِّكَ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا : اور آپ کا رب اپنے بندوں کے گناہوں کو جاننے والا دیکھنے والا کافی ہے۔ یعنی لوگ چاہے کتنا ہی چھپائیں اللہ کو بندوں کے گناہوں کی خبر ہوتی ہے اور کتنے ہی پردے ڈالیں مگر اللہ دیکھتا ہے۔
Ayah 17:18

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّلْنَا لَهٗ فِیْهَا مَا نَشَآءُ لِمَنْ نُّرِیْدُ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:18 in the Quran reader

جو شخص دنیا (کی آسودگی) کا خواہشمند ہو تو ہم اس میں سے جسے چاہتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں جلد دے دیتے ہیں۔ پھر اس کے لئے جہنم کو (ٹھکانا) مقرر کر رکھا ہے۔ جس میں وہ نفرین سن کر اور (درگاہ خدا سے) راندہ ہو کر داخل ہوگا

مَنْ كَانَ يُرِيْدُ الْعَاجِلَةَ عَجَّــلْنَا لَهٗ فِيْهَا مَا نَشَاۗءُ لِمَنْ نُّرِيْدُ : جس کا مقصد (محض) دنیا ہوتی ہے تو ہم دنیا کے اندر جس کو مناسب سمجھتے ہیں اور جتنا چاہتے ہیں فوراً (یعنی دنیا ہی میں) دے دیتے ہیں۔ ما نشائجتنا ہم چاہتے ہیں اس کا پورا مطلوب یا کچھ مطلوب دے دیتے ہیں یہ ضروری نہیں کہ ہر تمنا پوری پوری دے دی جائے۔ لِمَنْ نُّرِیدُجس کو چاہتے ہیں۔ یہ اس لئے فرمایا کہ ہر شخص کا سوال اور تمنا تو پوری نہیں کی جاتی۔ ثُمَّ جَعَلْنَا لَهٗ جَهَنَّمَ ۚ يَصْلٰىهَا مَذْمُوْمًا مَّدْحُوْرًا : پھر (آخرت میں) ہم نے اس کے لئے جہنم مقرر کردیا ہے جس کی آگ میں وہ داخل ہوگا ‘ ایسی حالت میں کہ اس کو برا کہا جائے گا اور پھٹکار پڑے گی اور اللہ کی رحمت سے دور پھینک دیا گیا ہوگا۔ یعنی دھتکارا ہوا اللہ کی رحمت سے دور پھینکا ہوا۔
Ayah 17:19

وَ مَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَ سَعٰى لَهَا سَعْیَهَا وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَاُولٰٓئِكَ كَانَ سَعْیُهُمْ مَّشْكُوْرًا Open ayah 17:19 in the Quran reader

اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہوا اور اس میں اتنی کوشش کرے جتنی اسے لائق ہے اور وہ مومن بھی ہو تو ایسے ہی لوگوں کی کوشش ٹھکانے لگتی ہے

وَمَنْ اَرَادَ الْاٰخِرَةَ وَسَعٰى لَهَا سَعْيَهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ : اور جو آخرت کا طلبگار ہوگا اور ایمان دار ہونے کی حالت میں آخرت کے لئے اس کے مناسب کوشش کرے گا۔ آخرت کے لئے مناسب کوشش کرنے سے مراد ہے اوامرو نواہی کی پابندی۔ صرف تمنا کرنا یا خود اپنے دماغ کے تراشیدہ ذرائع کو موجب تقرب خیال کر کے حصول تقرب کی کوشش کرنا کافی نہیں ہے (بلکہ آخرت کے لئے جیسی کوشش ہونی چاہئے ویسی کوشش اگر کوئی مؤمن کرے گا اور آخرت کا طلبگار ہوگا) ایمان سے مراد بھی خالص ایمان ہے جس میں نہ کسی قسم کی تکذیب کی آمیزش ہو نہ شرک کا شائبہ۔ فَاُولٰۗىِٕكَ كَانَ سَعْيُهُمْ مَّشْكُوْرًا : سو ایسے لوگوں کی یہ کوشش مقبول ہوگی۔ کوشش مشکور ہونے سے مراد ہے اللہ کے نزدیک مقبول ہوجانا اور ثواب پایا۔ اللہ کی طرف سے شکر کا معنی ہے طاعت کا ثواب عطا کرنا۔
Ayah 17:20

كُلًّا نُّمِدُّ هٰۤؤُلَآءِ وَ هٰۤؤُلَآءِ مِنْ عَطَآءِ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا كَانَ عَطَآءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا Open ayah 17:20 in the Quran reader

ہم اُن کو اور ان کو سب کو تمہارے پروردگار کی بخشش سے مدد دیتے ہیں۔ اور تمہارے پروردگار کی بخشش (کسی سے) رکی ہوئی نہیں

كُلًّا نُّمِدُّ هٰٓؤُلَاۗءِ وَهٰٓؤُلَاۗءِ مِنْ عَطَاۗءِ رَبِّكَ : آپ کے رب کی یعنی اپنی عطاء سے ہم ہر فریق کی امداد کرتے ہیں ان کی بھی اور ان کی بھی۔ یعنی مذکورۂ بالا دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کو اس فریق کو بھی اور اس فریق کو بھی ہم آپ کے رب کی عطا سے پیہم مدد دیتے ہیں۔ وَمَا كَانَ عَطَاۗءُ رَبِّكَ مَحْظُوْرًا : اور آپ کے رب کی دین (دنیا میں کسی مؤمن یا کافر سے) روکی نہیں گئی ہے۔ (مطلب یہ ہے کہ جو آپ کا رب ہے وہی سب کا رب ہے کافر کا بھی مؤمن کا بھی کوئی فریق اس کی دین سے محروم نہیں ہے۔ مترجم) ہٰؤُلآَءِ وَہُوٰلاَءِ کُلاًّسے بدل ہے اور کلاًّمیں تنوین مضاف الیہ کے عوض لائی گئی ہے۔ اور عطاء (مصدر) بمعنی عطیہ ہے۔
Ayah 17:21

اُنْظُرْ كَیْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ وَ لَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَكْبَرُ تَفْضِیْلًا Open ayah 17:21 in the Quran reader

دیکھو ہم نے کس طرح بعض کو بعض پر فضیلت بخشی ہے۔ اور آخرت درجوں میں (دنیا سے) بہت برتر اور برتری میں کہیں بڑھ کر ہے

اُنْظُرْ كَيْفَ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلٰي بَعْضٍ : دیکھو ہم نے (دنیا میں) بعض کو بعض پر (رزق و حسن و صحت وغیرہ کے لحاظ سے) کس طرح فوقیت عطا کی ہے۔ وَلَلْاٰخِرَةُ اَكْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّاَكْبَرُ تَفْضِيْلًا : اور البتہ آخرت مراتب کے اعتبار سے بہت بڑی ہے اور فضیلت کے اعتبار سے بھی بہت بڑی ہے یعنی آخرت میں فرق مراتب دنیوی تفاوت سے بہت بڑا ہے ‘ جنت و دوزخ کے درمیان فرق عظیم ہے۔
Ayah 17:22

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا۠ Open ayah 17:22 in the Quran reader

اور خدا کے ساتھ کوئی اور معبود نہ بنانا کہ ملامتیں سن کر اور بےکس ہو کر بیٹھے رہ جاؤ گے

لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُوْمًا مَّخْذُوْلًا : اللہ کے ساتھ کوئی اور معبود مت تجویز کرو ورنہ بدحال ‘ بےمددگار ہو کر بیٹھ رہو گے خطاب اگرچہ رسول اللہ ﷺ : کو ہے مگر مراد خطاب امت ہے (کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے متعلق تو احتمال شرک کیا ہی نہیں جاسکتا تھا) یا ہر شخص مخاطب ہے یعنی اے انسان تو اللہ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔ فَتَقْعُدَیعنی تو ہوجائے گا ‘ قعود کا معنی اس جگہ ہوجانا ہے ایک محاورہ ہے شَحَذَ الشَّفْرَۃَ حَتّٰی قَعَدَتْ کَاَنَّہَا حَرْبَۃٌ اس نے دھار کو تیز کیا یہاں تک کہ وہ چھوٹے برچھے کی طرح ہوگئی۔ یا فَتَقْعُدَسے مراد ہے عاجز ہوجاؤ گے (عاجز ہو کر بیٹھ رہو گے) قَعَدَ عَنِ الشَّئٍ وہ اس شے سے عاجز ہوگیا۔ مذموماً یعنی فرشتوں اور مؤمن آدمیوں کی طرف سے مذمت کردہ۔ مخذولاً بےمدد۔ امداد سے محروم۔
Ayah 17:23

وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ؕ اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا Open ayah 17:23 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔ اگر ان میں سے ایک یا دونوں تمہارے سامنے بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ انہیں جھڑکنا اور اُن سے بات ادب کے ساتھ کرنا

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا : اور تیرے رب نے قطعی حکم 1 ؂ دے دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی پوجا مت کرو اور ماں باپ کے ساتھ خوب اچھا سلوک کرو۔ قضاء یعنی قطعی حکم۔ حضرت ابن عباس ؓ ‘ قتادہ ‘ حسن اور ربیع بن انس نے اس جگہ یہی ترجمہ کیا ہے۔ ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کا اس لئے حکم دیا کہ ظاہری اسباب کے تحت ماں باپ ہی اولاد کے وجود اور زندگی کی علت ہیں۔ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا : اگر تیرے پاس ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کو ہوں بھی نہ کرنا اور نہ ان کو جھڑکی دینا اور ان سے خوب ادب سے بات کرنا۔ عِنْدَکَ یعنی تیری زیر کفالت تیری نگہداشت میں۔ اُف سے مراد یا وہ لفظ ہے جو کراہت اور تنگدلی پر دلالت کرتا ہے یا اف اسم فعل ہے یعنی تنگدل ہوجانا۔ ابو عبیدہ نے کہا اصل لغت کے اعتبار سے اف اور تف اس میل کو کہتے ہیں جو انگلیوں پر جم جاتا ہے۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے اف کا معنی لغوی ہے ناخن کا تراشہ یعنی ناخن کا وہ حصہ جو کاٹ کر پھینک دیا جاتا ہے۔ یا ناخن کا میل یا کان کا میل اور وہ (ذرا سی) لکڑی یا کھپاچ کا ٹکڑا جو تم زمین سے اٹھا لو۔ یا اف سے مراد ہے قلت یعنی ایسی ادنیٰ بات بھی نہ کہو جو تمہاری طرف سے نفرت یا کراہت کا اظہار کر رہی ہو جب ادنیٰ ایذا رساں بات بصراحت نص حرام کردی گئی ہو تو اس سے بڑا ایذا رساں سلوک تو بدرجۂ اولیٰ حرام ہوگیا ‘ نص اسی پر دلالت کر رہی ہے۔ لاَ تَنْہَرْ ہُمَا یعنی ماں باپ کو جھڑکی نہ دو ۔ اپنی ناپسندیدہ بات پر ان کو نہ جھڑکو۔ قَوْلاً کَرِیْمًااچھی نرم بات۔ ابن مسیب نے یہی ترجمہ کیا ہے جیسے کوئی قصور وار اپنے بدخو آقا سے نرمی کے ساتھ بات کرتا ہے (ایسا ہی تم ماں باپ سے کلام کرو) مجاہد نے کہا جب ماں باپ بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے گھن نہ کرو اور جس طرح تمہارے بہت چھوٹے ہونے کے زمانے میں تمہارا بول و براز وہ صاف کرتے تھے اسی طرح ان کا (ایام پیری میں) بول و براز صاف کرنے سے تم نفرت نہ کرو اور ان کو اف بھی نہ کہو۔
Ayah 17:24

وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًاؕ Open ayah 17:24 in the Quran reader

اور عجزو نیاز سے ان کے آگے جھکے رہو اور ان کے حق میں دعا کرو کہ اے پروردگار جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن (کے حال) پر رحمت فرما

وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاح الذُّلِّ : اور دونوں کے لئے اپنی عاجزی کے بازو بچھا دو ۔ یعنی ان کے سامنے عاجزی اور تواضع کا اظہار کرو ‘ حضرت عروہ بن زبیر نے یہ مطلب بیان کیا کہ ان سے نرمی کرو۔ جس چیز کو وہ چاہتے ہیں اس سے ممانعت نہ کرو۔ مِنَ الرَّحْمَةِ : انتہائی رحم کی وجہ سے یعنی یہ خیال کرو کہ تم کل ان کے انتہائی محتاج تھے آج وہ تمہارے محتاج ہوگئے اس بات کا خیال کرو اور ان پر ترس کھاؤ۔ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيٰنِيْ صَغِيْرًا : (اور ان کے لئے دعا کرو) اور کہو اے میرے رب ان پر رحمت فرما ‘ جیسے انہوں نے مجھ کو میرے بچپن میں پالا پرورش کیا تھا ‘ یعنی ان پر اپنی لازوال رحمت نازل فرما صرف اس (دنیوی) فانی نعمت پر ہی اکتفا نہ کر۔ بغوی نے لکھا ہے والدین کے لئے دعاء رحمت کرنے کا یہ حکم اس وقت ہے جب وہ مسلمان ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک یہ آیت۔ آیت مَا کَانَ للِنَّبِیِّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِیْنَ سے منسوخ ہے۔ بیضاوی نے کہا دعاء رحمت کرنے کا حکم عام ہے ماں باپ کافر ہوں یا مسلمان سب کے لئے دعا کا حکم ہے کیونکہ کافر ماں باپ کے لئے دعاء رحمت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ ان کو اسلام کی توفیق دے اسلام کی توفیق دینا بھی رحمت ہے۔ حضرت ابو الدرداء کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ‘ باپ جنت (کے اندر داخل ہونے) کا وسطی دروازہ ہے اگر تم چاہو تو اس کی نگہداشت کرو یا (چاہو) کھو دو ۔ رواہ احمد والترمذی وا بن ماجۃ والحاکم بسند صحیح۔ حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ کی خوشنودی باپ کی خوشنودی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی باپ کی ناراضگی میں رواہ الترمذی والحاکم وصحیحہ۔ بزار نے حضرت ابن عمر اور حضرت ابو سعید خدری ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت میں داخل نہ ہوگا۔ احسان جتلانے والا اور نہ (ماں باپ کا) نافرمان اور نہ شراب کا خوگر۔ رواہ النسائی والدارمی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہ پڑھا اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو جس پر ماہ رمضان آگیا اور رمضان میں بھی) اس کی مغفرت نہیں ہوئی (یعنی اس نے روزے نہ رکھے اور سچے دل سے توبہ نہ کی) اور اس شخص کی ناک خاک آلود ہو ‘ جس کے ماں باپ یا دونوں میں سے ایک (اس کے سامنے) بوڑھے ہوگئے اور (ان کی خدمت نہ کرنے کی وجہ سے) وہ جنت میں داخل نہ ہوسکا۔ دوسری روایت میں ہے (بوڑھے) ماں باپ اس کو جنت میں نہ لے جاسکے۔ رواہ البغوی والترمذی والحاکم وصححہ۔ حضرت ابو امامہ ؓ کی روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ماں باپ کا اولاد پر کیا حق ہے ‘ فرمایا وہ دونوں تیری جنت اور دوزخ ہیں ‘ رواہ ابن ماجۃ۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے ماں باپ کے معاملہ میں صبح کو اللہ کا فرماں بردار ہوتا ہے اس کے لئے جنت کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اور جو شخص والدین میں سے کسی ایک کے معاملے میں صبح کو اللہ کا فرماں بردار ہوتا ہے تو اس کے لئے جنت کا ایک دروازہ مفتوح ہوجاتا ہے اور جو شام کو اپنے ماں باپ کے معاملہ میں اللہ کا نافرمان ہوجاتا ہے اس کے لئے دوزخ کے دو دروازے کھل جاتے ہیں اور ایک کے معاملے میں نافرمان ہوتا ہے تو دوزخ کا ‘ ایک دروازہ اس کے لئے کھل جاتا ہے۔ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ : خواہ ماں باپ نے اس کی حق تلفی کی ہو ‘ فرمایا خواہ انہوں نے اس کی حق تلفی کی ہو خواہ اس پر ظلم کیا ہو ‘ خواہ اس کا حق مارا ہو۔ یہ بھی حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو ماں باپ کا فرماں بردار اپنے والدین کی طرف رحم (و شفقت) کی نظر سے دیکھتا ہے اللہ ہر بار نظر کرنے کے عوض اس کے لئے ایک حج مقبول (کا ثواب ضرور) لکھ دیتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا خواہ ہر روز سو بار دیکھے ‘ فرمایا ہاں ‘ اللہ اس سے بھی بڑا اور پاک ہے۔ حضرت ابوبکرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام گناہوں میں سے اللہ جو گناہ چاہے گا معاف فرما دے گا سوائے ماں باپ کی نافرمانی کے۔ کیونکہ زندگی میں مرنے سے پہلے ہی (ماں باپ کی نافرمانی کی سزا) اللہ تعالیٰ دے دیتا ہے۔ یہ تینوں حدیثیں بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کی ہیں اور اوّل الذکر حدیث ابن عساکر نے بھی ذکر کی ہیں۔ طبرانی نے ضعیف سند سے اور حاکم نے حضرت ابوبکرہ ؓ کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمام گناہوں میں سے جس گناہ کو اللہ چاہتا ہے قیامت پر (اس کے عذاب یا مغفرت کو) ٹال دیتا ہے ‘ سوائے ماں باپ کی نافرمانی کے ماں باپ کی نافرمانی کی سزا تو مرنے سے پہلے اسی زندگی میں فوراً دے دیتا ہے۔
Ayah 17:25

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِیْ نُفُوْسِكُمْ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِیْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِیْنَ غَفُوْرًا Open ayah 17:25 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا پروردگار اس سے بخوبی واقف ہے۔ اگر تم نیک ہوگے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے

ۭرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَا فِيْ نُفُوْسِكُمْ : جو کچھ تمہارے دلوں میں ہوتا ہے ‘ تمہارا رب اس کو خوب جانتا ہے یعنی ماں باپ کی فرماں برداری کی نیت اور تعظیم کے اندرونی خیال سے اللہ خوب واقف ہے یہ اس بات پر تنبیہ ہے کہ دلوں میں بھی ماں باپ سے نفرت اور بوجھ کا خیال نہ آنا چاہئے۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ والدین کی فرماں برداری کے معاملے میں تمہاری نیتوں کو اللہ خوب جانتا ہے اگر ثواب کی امید پر اور اللہ کے حکم کی تعمیل میں فرمانبرداری کرو گے تو اللہ اس کا اجر دے گا اور اگر کسی دنیوی لالچ کی وجہ سے فرماں برداری کرو گے تو اس کا نتیجہ نیت کے موافق ہوگا۔ اِنْ تَكُوْنُوْا صٰلِحِيْنَ فَاِنَّهٗ كَانَ لِلْاَوَّابِيْنَ غَفُوْرًا : اگر تم سعادت مند ہو تو اللہ توبہ کرنے والوں کی خطا معاف کرنے والا ہے (تمہاری خطا معاف کر دے گا) سعید بن جبیر نے کہا اس آیت میں وہ لوگ مراد ہیں جن سے بےسوچے بلا ارادہ اچانک ماں باپ سے کوئی بےادبی بد سلوکی ہوگئی ہو اور نیت ان کی نیک ہی ہو تو اس کی پکڑ نہ ہوگی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آیت کا حکم عام ہو۔ جو بھی ماں باپ کا نافرمان اپنے والدین کے ساتھ کوئی بدسلوکی کر گزرے اور پھر توبہ کرلے وہ آیت کے حکم میں داخل ہے۔ سعید بن مسیب نے کہا اواب وہ شخص ہے جو گناہ کرنے کے بعد توبہ کرلے۔ پھر گناہ کرے اور توبہ کرلے ‘ پھر گناہ کرے اور گناہ کے پیچھے توبہ کرلے۔ سعید بن جبیر نے کہا خیر کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والا اواب ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا اواب وہ شخص ہے جو ہر مصیبت اور حادثہ کے وقت اللہ کی طرف رجوع کرتا ہے۔ سعید بن جبیر کی روایت سے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول اس طرح آیا ہے کہ اوابین سے مراد ہیں اللہ کی پاکی بیان کرنے والے کیونکہ اللہ نے پہاڑوں سے فرمایا تھا۔ یَا جِبَالُ اُوِّبِیْقتادہ نے کہا نمازی مراد ہیں۔ عوف عقیلی کے نزدیک چاشت کی نماز پڑھنے والے مراد ہیں۔ بغوی نے حضرت زید بن ارقم کی روایت سے بیان کیا ہے کہ قبا والے چاشت کی نماز پڑھ رہے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے برآمد ہو کر ملاحظہ فرمایا اور فرمایا یہ اوابین کی نماز ہے۔ رواہ احمد و مسلم و رواہ عبد بن حمید و سیبویہ عن عبداللہ بن ابی اوفی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا جو لوگ مغرب و عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں ان کو (رحمت کے) فرشتے گھیر لیتے ہیں ‘ یہ ہی اوابین کی نماز ہے۔
Ayah 17:26

وَ اٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ وَ الْمِسْكِیْنَ وَ ابْنَ السَّبِیْلِ وَ لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیْرًا Open ayah 17:26 in the Quran reader

اور رشتہ داروں اور محتاجوں اور مسافروں کو ان کا حق ادا کرو۔ اور فضول خرچی سے مال نہ اُڑاؤ

وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰى حَقَّهٗ : اور اپنے قرابت داروں کو ان کا حق دو ۔ کنبہ پروری حسن معاشرت ‘ اچھا سلوک اور بھلائی ان کے ساتھ کرو۔ اکثر اہل تفسیر نے یہی مطلب بیان کیا ہے 1 ؂۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا مال دار پر لازم ہے اس قرابت دار محرم کا خرچ جو نادار بچہ ہو یا نادار بالغ عورت ہو ‘ یا اپاہج یا نابینا نادار مرد ہو اس سے حفظ جان وابستہ ہے اور حفظ حیات ہی اصل بِر اور صلۂ رحمی ہے سورة بقرہ کی آیت وعلی الوارث مثل ذلک کی تفسیر میں ہم نے اس مسئلہ کی تنقیح کردی ہے۔ بغوی نے حضرت علی ؓ بن حسین ؓ (امام زین العابدین) کا قول نقل کیا ہے کہ قربیٰ سے مراد رسول اللہ ﷺ : کی قرابت ہے (یعنی رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں کو ان کا حق ادا کرو) ابن ابی حاتم نے سدی کی روایت سے بھی ایسا ہی نقل کیا ہے۔ طبرانی وغیرہ نے حضرت ابو سعید خدری کا بیان نقل کیا ہے کہ جب آیت وَاٰتِ ذالْقُرْبٰی حَقَّہٗ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کو طلب فرما کر فدک عطا فرما دیا۔ ابن مردویہ نے حضرت ابن عباس ؓ کی جانب بھی اس بیان کی نسبت کی ہے۔ ابن کثیر نے لکھا ہے اس روایت کو صحیح ماننا مشکل ہے کیونکہ اس روایت پر کہنا پڑے گا کہ یہ آیت مدنی ہے حالانکہ مشہور اس کے خلاف ہے (یعنی آیت کا مکی ہونا مشہور ہے) میں کہتا ہوں مشہور قابل اعتماد یہ روایت ہے کہ حضرت فاطمہ ؓ نے حضور ﷺ سے خود فدک طلب کیا تھا مگر آپ نے نہیں دیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کا قول بھی اسی طرح روایت میں آیا ہے اگر رسول اللہ ﷺ نے حضرت فاطمہ : ؓ کو فدک عطا فرما دیا ہوتا تو خلفاء راشدین خصوصاً حضرت علی ؓ پھر ہرگز اس کو نہ روکتے اور اس کے خلاف نہ کرتے۔ واللہ اعلم۔ وَالْمِسْكِيْنَ وَابْنَ السَّبِيْلِ : اور مسکین و مسافرو کو دو ۔ اس کی تفصیل سورة بقرہ میں کردی گئی ہے۔ وَلَا تُبَذِّرْ تَبْذِيْرًا : اور مال کو گناہ کے راستہ میں برباد نہ کرو۔ یعنی اپنے مال کو گناہ کے راستے میں خرچ نہ کرو۔ مجاہد نے فرمایا اگر کوئی شخص اپنا سارا مال حق کے راستے میں خرچ کر دے تو اس کو تبذیر (مال کو بکھیرنا برباد کرنا) نہیں کہا جائے گا اور اگر ایک سیر غلہ بھی گناہ کے راستے میں خرچ کیا تو اس کو تبذیر کہا جائے گا۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے تبذیر کی تشریح فرمائی مال کو خرچ کرنا حق (کے راستے) کے علاوہ (باطل راستہ میں) شعبہ کا بیان ہے میں ابو اسحاق کے ساتھ کوفہ کے راستہ میں جا رہا تھا ‘ سر راہ ایک دیوار چونے اور پختہ اینٹوں سے بنی ہوئی ملی ‘ ابو اسحاق نے کہا ‘ حضرت عبداللہ (ابن مسعود) کے قول پر یہ تبذیر ہے حق کے راستے کے علاوہ (باطل کے راستے میں) مال کا خرچ کرنا ہے۔
Ayah 17:27

اِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ كَانُوْۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیْنِ١ؕ وَ كَانَ الشَّیْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا Open ayah 17:27 in the Quran reader

کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں۔ اور شیطان اپنے پروردگار (کی نعمتوں) کا کفر ان کرنے والا (یعنی ناشکرا) ہے

اِنَّ الْمُبَذِّرِيْنَ كَانُوْٓا اِخْوَان الشَّيٰطِيْنِ : درحقیقت مال کو برباد کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں ‘ یعنی شرارت میں شیطانوں کی طرح ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی قوم کے طریقہ کا پابند ہوجائے تو وہ اس قوم کا بھائی ہے۔ وَكَان الشَّيْطٰنُ لِرَبِّهٖ كَفُوْرًا : اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے۔ یعنی منکر نعمت ہے کفر اور ناشکری میں بہت بڑھ چڑھ کر ہے اس لئے اس کی پیروی درست نہیں۔ اہل تحقیق کا قول ہے کہ کسی منعم کی عطا کردہ نعمت کو اس کی رضامندی کے زیر اثر صرف کرنا شکر ہے اور نافرمانی کے راستے میں صرف کرنا تبذیر ہے۔ گویا تبذیرشکر کی ضد ہے۔ لامحالہ تبذیر کرنے والا ناشکرا ہوگا۔ سعید بن منصور نے عطاء خراسانی کی روایت سے بیان کیا ہے کہ قبیلۂ مزنیہ کے کچھ لوگ خدمت گرامی میں حاضر ہو کر (جہاد میں شرکت کے لئے) کچھ سواریوں کے طلبگار ہوئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا میرے پاس کوئی سواری موجود نہیں کہ تم کو دے سکوں (جہاد سے محروم رہنے کا جب ان لوگوں کو یقین ہوگیا) تو رنج کی وجہ سے روتے ہوئے لوٹ گئے ان کو خیال ہوا کہ شاید رسول اللہ ﷺ : ہم سے ناراض ہیں اسی لئے ہم کو سواریاں نہیں عطا فرمائیں۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 17:28

وَ اِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَآءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّیْسُوْرًا Open ayah 17:28 in the Quran reader

اور اگر تم نے اپنے پروردگار کی رحمت (یعنی فراخ دستی) کے انتظار میں جس کی تمہیں امید ہو ان (مستحقین) کی طرف توجہ نہ کرسکو اُن سے نرمی سے بات کہہ دیا کرو

وَاِمَّا تُعْرِضَنَّ عَنْهُمُ ابْتِغَاۗءَ رَحْمَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ تَرْجُوْهَا فَقُلْ لَّهُمْ قَوْلًا مَّيْسُوْرًا : اور اگر اپنے رب کی طرف سے جس رزق کے آنے کی تم کو امید ہو اس کے انتظار میں تم کو ان کی طرف سے رخ پھیرنا پڑے تو ان سے نرمی کے ساتھ بات کہہ دو ۔ (یعنی نرمی کے ساتھ ان سے معذرت کر دو ) تم ان پر رحم کرو گے اور نرمی سے کلام کرو گے تو اللہ تم پر رحم فرمائے گا۔ میسور ‘ یَسَرَ الاَّمرَسے ماخوذ ہے۔ بغوی نے لکھا ہے نرم بات کہنے سے یہ مراد ہے کہ ان سے نرمی کے ساتھ وعدہ کرلو۔ بعض کے نزدیک دعاء یسر کرنا مراد ہے یعنی ان کے لئے دعا کرو کہ اللہ تمہاری مشکل آسان کر دے۔ ہم کو اور تم کو اللہ رزق عطا فرمائے۔ سعید بن منصور نے حضرت سیار بن ابی الحکم کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کچھ کپڑا پیش کیا گیا۔ حضور ﷺ بڑے سخی اور بخشش کرنے والے تھے آپ ﷺ نے فوراً لوگوں کو وہ کپڑا تقسیم کردیا ‘ تقسیم کے بعد کچھ لوگ پہنچے تو ان کو کچھ نہ ملا۔ حضور ﷺ : تقسیم سے فارغ ہوچکے تھے ‘ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔