Ayah 17:80وَقُلْ رَّبِّ اَدْخِلْنِيْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِيْ مُخْــرَجَ صِدْقٍ
اور دعا کرو کہ اے میرے رب مجھے خوبی کے ساتھ پہنچانا اور مجھے خوبی کے ساتھ لے جانا۔
مُدْخَلَ صِدْقٍ سے مراد مدینہ اور مُخْرَجَ صِدْقٍ سے مراد مکہ ہے۔ حسن اور قتادہ کا یہی قول ہے۔ مدخل اور مخرج اسم ظرف ہیں۔ داخل اور خارج ہونے کی جگہ۔ یہ دونوں مصدر ہیں اس صورت میں آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ مجھے مدینے میں اس طرح داخل فرما کہ میرے سامنے کوئی ناگوار صورت نہ آئے اور مکہ سے ایسے پسندیدہ طریقہ سے نکال کہ میری قلبی توجہ اور میلان خاطر بھی مکہ کی سکونت کی جانب باقی نہ رہے۔ ضحاک نے تشریح معنی اس طرح کی ہے کہ مجھے مکہ سے امن کی حالت میں نکال کہ مشرک مجھے دکھ نہ پہنچا سکیں اور مدینہ میں اس طرح داخل فرما کہ مجھے وہاں اقتدار اعلیٰ حاصل ہوجائے۔ مجاہد نے کہا داخل کرنے سے مراد ہے فریضۂ نبوت کی ادائیگی میں داخلہ اور خارج کرنے سے مراد ہے فرض نبوت کی انجام دہی سے فراغت یعنی جو امر نبوت تو نے میرے سپرد کیا ہے۔ اس میں صدق کے ساتھ مجھے داخل فرما اور صدق ہی کے ساتھ مجھے اس فرض کی ادائیگی کی توفیق عطا فرما۔ جب میں دنیا سے جاؤں تو نبوت کے فریضے کو کامل طور پر ادا کرچکا ہوں۔ حسن نے کہا مُدْخَلَ صِدْقٍٍسے مراد ہے جنت اور مُخْرَجَ صِدْقٍسے مراد ہے مکہ۔
میں کہتا ہوں جب مدخل صدق سے مراد جنت ہو تو مخرج صدقٍ سے دنیا سے جانا اگر مراد لیا جائے تو زیادہ مناسب ہے۔ بیضاوی نے کہا آیت کا مطلب یہ ہے کہ مجھے قبر میں خوشگوار طریقے سے داخل فرما اور قیامت کے دن قبر سے عزت کے ساتھ اٹھا ‘ بعض نے اس طرح تشریح مطلب کی ‘ مجھے اپنی اطاعت میں داخل فرما اور ممنوعات سے نکال دے۔ بعض نے کہا کسی جگہ میں داخلہ خارجہ ہو یا امر میں بہرحال صدق کا لفظ ذکر کرنے سے یہ مراد ہے کہ مجھے داخل کرنے میں ہو یا خارج کرنے میں ‘ دونوں صورتوں میں دو رخا اور دوغلا نہ بنا۔ دو رخا آدمی اللہ کے نزدیک باعزت نہیں ہوتا۔ یا داخل و خارج کرنے سے مراد ہے غار میں داخل کرنا اور وہاں سے نکالنا۔ صدق اور کذب اصل میں کلام خبری کی صفات ہیں۔ کوئی خبر یا اطلاع ہی سچی یا جھوٹی ہوتی ہے۔ لیکن انشاء (یعنی امر استفہام نہی وغیرہ) کو بھی کبھی صادق و کاذب کہہ لیتے ہیں۔ لیکن یہ اطلاق مجازی ہوتا ہے انشاء کے اندر اگر خبر کا معنی ہوتا ہے تو اس کو بھی سچا یا جھوٹا کہہ لیا جاتا ہے۔ مثلاً کوئی دریافت کرتا ہے ‘ کیا زید گھر میں ہے ؟ یہ جملہ اگرچہ سوالیہ انشائیہ ہے لیکن اس سے پتہ چلتا ہے سوال کرنے والا کہہ رہا ہے کہ گھر کے اندر زید کے موجود ہونے نہ ہونے کا مجھے علم نہیں ‘ اس لئے دریافت کر رہا ہوں ‘ پس دریافت کرنا اس بات کو ظاہر کر رہے کہ سوال کرنے والا اپنی لا علمی کی خبر دے رہا ہے ‘ یہ تو قول اور کلام کے لئے صدق و کذب کا استعمال ہوتا ہے۔ لیکن کبھی صدق و کذب کسی عمل اور فعل کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ اگر کوئی شخص لڑائی کا حق کامل طور پر ادا کر دے اور خوب لڑے کوشش میں کمی نہ کرے تو عرب کہتے ہیں ہُوَ صَدَقَ فِیْ الْقِتَالِ ۔ اللہ نے فرمایا ہے (رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاہَدُوْا اللّٰہَ ) یعنی کچھ لوگ ایسے ہیں کہ انہوں نے اللہ سے جو عہد کر رکھا تھا اس کو پورے طور پر ادا کیا۔ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہٗ الرُّؤْیَااللہ نے اپنے رسول کو وہ خواب سچ کر دکھایا۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی ہر عمدہ ‘ اعلیٰ و افضل کام کو صدق کہہ دیا جاتا ہے اور پھر کسی عمل یا چیز کی صدق کی طرف اضافت کردی جاتی ہے ‘ جیسے فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ ۔ لَہُمْ قَدَمَ صِدْقٍ ۔ وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ ۔ اسی محاورہ کے مطابق اَدْخِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ وَّاَخْرِجْنِیْ مُخْرَجَ صِدْقٍ ہے یعنی مجھے ایسا دخول و خروج عنایت فرما کہ اگر کوئی اس کو دیکھ کر تعریف کرے تو اس کی تعریف سچی ہو۔
وَّاجْعَلْ لِّيْ مِنْ لَّدُنْكَ سُلْطٰنًا نَّصِيْرًا : اور اپنے پاس سے مجھے ایسا غلبہ دینا جس کے ساتھ نصرت ہو۔
مجاہد نے سُلْطَنًا نَصِیْرًا کا ترجمہ کیا کھلی ہوئی غالب دلیل۔ حسن نے کہا ‘ ایسی طاقت ور حکومت جس سے مخالفوں پر غلبہ حاصل ہوجائے اور ایسی نمایاں طاقت جس سے دین کا قیام و استحکام ہوجائے۔ اس دعا کے نتیجہ میں اللہ نے فارس اور روم وغیرہ کی حکومتیں عطا فرمانے کا وعدہ فرما لیا (اور چند ہی روز میں اقتدار کامل عطا فرما دیا)
قتادہ نے کہا رسول اللہ ﷺ : کو معلوم تھا کہ بغیر اللہ کی مدد کے اقامت دین اور احکام قرآنی کا قیام نہیں ہوسکتا ‘ اس لئے آپ ﷺ نے سلطان نصیر کی درخواست کی۔
میں کہتا ہوں اللہ نے آپ کو یہ بتادیا تھا اور اس بات کا علم عطا فرما دیا تھا کہ اقامت دین کے لئے من جانب اللہ نصرت کی ضرورت ہے ‘ اسی لئے حکم دے دیا تھا کہ اللہ سے مدد کی درخواست کریں۔
بعض علماء نے کہا کہ کفر پر اسلام کو فتح یاب بنانے کی غرض سے رسول اللہ ﷺ نے اللہ سے دلیل واضح اور اقتدار حکومت کی درخواست کی تھی اور اللہ نے آپ ﷺ : کی اس دعا کو قبول فرما لیا اور ارشاد فرمایا فَاِنَّ حِزْبَ اللّٰہِ ہُمُ الْغٰلِبُوْنَ ۔ لِیُظْہِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖاور فرمایا لَیَسْتَخْلِفَنَّہُمْ فِی الْاَرْضِ ۔
Ayah 17:81وَقُلْ اور (اے محمد ﷺ فتح مکہ کے وقت جب آپ شہر میں داخل ہوں تو) کہئے۔
جَاۗءَ الْحَقُّ حق (یعنی اسلام یا قرآن یا خالص اللہ کی عبادت کا وقت) آگیا۔
وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۭ: اور باطل گیا ‘ یعنی شرک برباد ہوگیا ‘ بتوں کی پوجا کا دور گیا۔ زَہَقَ کا معنی ہے خَرَجَ ۔ زَہَقَ رُوْحُہٗ اس کی روح نکل گئی۔
اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا : باطل بلاشبہ برباد ہونے والا ہی ہے۔ یعنی باطل اس قابل ہی ہے کہ فنا ہوجائے قائم نہ رہے۔ باطل ہوتا ہی بےبنیاد ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ فتح مکہ کے دن (کعبہ میں) داخل ہوئے اس زمانہ میں کعبہ کے گرداگرد 360 استھان تھے ‘ اس وقت دست مبارک میں لکڑی تھی ‘ آپ اس لکڑی کی نوک سے ہر بت کو کچوکا دیتے جا رہے تھے اور فرماتے جا رہے تھے جَآءَ الْحَقُّ وَزَہَقَ الْبَاطِلُ ۔ وَمَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُرواہ البخاری و مسلم والترمذی والنسائی۔ طبرانی نے الصغیر میں اور ابن مردویہ نے اور الدلائل میں بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے۔
Ayah 17:82وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا هُوَ شِفَاۗءٌ وَّرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِيْنَ ۙ: اور قرآن میں ایسی چیزیں نازل کرتے
ہیں جو ایمان والوں کے لئے شفا اور رحمت ہیں۔ یعنی کفر و جہالت کی بیماری کے لئے شفا اور دلوں کی تاریکی کو دور کرنے والی روشنی ہے۔ روحوں کی کثافت کو زائل کرنے کے لئے جلا ہے۔ قلبی اور نفسانی میل کو صاف کرنے والی ہے اور اندرونی اخلاق رذیلہ کو دفع کرنے والی ہے۔ اس صورت میں مِنَ الْقُرْاٰنِمیں من بیانیہ ہوگا۔ بعض علماء کے نزدیک مِنْ تبعیضیہ ہے اور شفا سے مراد ہے امراض جسمانی کی شفا یعنی قرآن کا کچھ حصہ مثلاً سورة فاتحہ وغیرہ جسمانی بیماری کو دور کرنے والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا علیکم بالشفائین العسل والقرآن تم دونوں (اسباب) شفاء کو اختیار کرو شہد اور قرآن (ظاہر ہے کہ شہد بعض جسمانی بیماریوں کی دوا ہے اور شہد کے ساتھ قرآن کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس لئے کہنا پڑے گا کہ قرآن بھی جسمانی مرض کی شفاء ہے۔ یہ مطلب اور استنباط کمزور ہے۔ مترجم)
مؤمنوں کے لئے رحمت ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جو لوگ اس کو مانتے اور اس پر عمل کرتے ہیں ان کو قرآن سے دنیوی اور اخروی فوائد حاصل ہوں گے۔
وَلَا يَزِيْدُ الظّٰلِمِيْنَ اِلَّا خَسَارًا : اور جو ظالم یعنی قرآن کے منکر ہیں ان کے لئے اس سے نقصان
اور بڑھے گا۔ کفر اور تکذیب کی وجہ سے ان کے نقصان میں مزید اضافہ ہوگا۔ قتادہ کا قول ہے اس قرآن کے ساتھ جو کوئی بیٹھتا ہے وہ کچھ اس سے لے کر اٹھتا ہے یا کچھ نقصان کر کے ‘ اللہ فیصلہ کرچکا ہے کہ یہ قرآن مؤمنوں کے لئے شفاء اور رحمت ہے اور کفار کے لئے موجب خسارہ۔
Ayah 17:83وَاِذَآ اَنْعَمْنَا عَلَي الْاِنْسَانِ اَعْرَضَ اور آدمی کو جب ہم نعمت عطا کرتے ہیں تو منہ موڑ لیتا ہے ‘ نعمت سے مراد ہے جسمانی صحت ‘ مالی وسعت اور نزول قرآن اعراض کرنے سے یہ مراد ہے کہ وہ اللہ کا شکر ادا نہیں کرتا۔
وَنَاٰ بِجَانِبِهٖ ۚ: اور پہلو پھیر لیتا ہے۔ یعنی اپنی گردن نیوڑا لیتا ہے۔ پہلو کو موڑ لیتا ہے۔ گویا وہ اس کا ضرورت مند نہیں ہے مستغنی ہے۔
وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَـــــُٔوْسًا : اور جب اس کو کوئی برائی (ناداری یا بیماری) چھو بھی جاتی ہے تو بالکل نراس ہوجاتا ہے۔ اللہ کی رحمت کا امیدوار بھی نہیں رہتا۔
Ayah 17:84قُلْ كُلٌّ يَّعْمَلُ عَلٰي شَاكِلَتِهٖ ۭ: آپ کہہ دیجئے ہر شخص (شکر گزار ہو یا ناشکرا) اپنے طریقے پر کام کر رہا ہے۔
حضرت ابن عباس ؓ نے شاکلتہ کا ترجمہ کیا اپنی سمت اور اپنے رخ پر جس کی طرف اس کا جھکاؤ ہو ‘ خواہ ہدایت ہو یا گمراہی۔ قتادہ اور حسن نے کہا اپنی نیت پر یعنی جو شخص دنیا کی طرف مائل ہوتا ہے وہ اپنے عمل سے دنیوی بہبود حاصل ہونے کا خواستگار ہوتا ہے اور جو آخرت کا طلبگار ہوتا ہے وہ اپنے عمل میں اللہ کی خوشنودی اور آخرت کی بہتری کی نیت رکھتا ہے۔ مقاتل نے شاکلتہٖ کا ترجمہ کیا جبلت سرشت ‘ فراء نے کہا خلقی اور سرشتی طریقے پر ہر شخص کام کرتا ہے 1 ۔ قتیبی نے طبیعت اور پیدائشی حالت کہا ہے۔ الفاظ مختلف ہیں مطلب سب کا ایک ہے سب اقوال میں وہ پیدائشی صلاحیت و استعداد مراد ہے جو اللہ نے ہر شخص کے اندر رکھ دی ہے ‘ یہی مفہوم ہے رسول اللہ ﷺ کے اس قول کا کہ ہر شخص کو اسی بات کی توفیق دی جاتی ہے جس کے لئے اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ متفق علیہ عن علی ؓ بن ابی طالب مرفوعاً ۔
حضرت ابو درداء ؓ : کا بیان ہے ‘ ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے اور باہم گفتگو کر رہے تھے کہ کیا ہونے والا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم سنو کہ کوئی پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل گیا ہے تو سچ مان لینا ‘ لیکن اگر یہ سنو کہ کوئی شخص اپنی سرشت سے بدل گیا ہے تو نہ ماننا کیونکہ وہ (عارضی طور پر اگرچہ اپنی سرشت کو چھوڑے ہوئے نظر آئے گا۔ لیکن بالآخر) اسی جبلت کی طرف لوٹ آئے گا جس پر اس کی تخلیق ہوگی۔ رواہ احمد۔
استعداد فطری کیا ہے ؟
ہر شخص کے اندر ایک خاص کیفیت ابتداء آفرینش سے موجود ہے جو پیدا کرنے والے کی صفت کا عکس اور پرتو ہے ‘ خالق کے اندر ہادی ہونے کی صفت بھی ہے اور مضل ہونے کی بھی جس صفت کا پر تو جس شخص پر پڑتا ہے وہی کیفیت فطرتاً اس شخص کے اندر پیدا ہوجاتی ہے پھر ہر شخص کی مزاجی ترکیب چار عناصر سے ہوئی ہے اور عناصر کی طبیعتوں میں تضاد ہے پس جس عنصر کی خاصیت کا جس شخص پر فطرتاً غلبہ ہوتا ہے اسی کے مناسب فطری خواہش پیدا ہوجاتی ہے۔ اس کے علاوہ اجزاء زمین کی خصوصیات بھی گونا گوں ہیں۔ سرخ ‘ سفید ‘ سیاہ اور متوسط نرم ‘ سخت ‘ بری ‘ اچھی اس اختلاف ارضی کی وجہ سے بھی اختلاف تخلیقی ہوجاتا ہے ایک حدیث کا مفہوم بھی یہی ہے۔ پس فاعل مطلق کی خصوصی صفات کی اثر اندازی اور مادۂ تخلیقی کی مختلف طور پر اثر پذیری سے جو پیدائشی صلاحیت میں اختلاف ہوجاتا ہے یہی استعداد فطری کا اختلاف ہے۔
بعض علماء نے عَلٰی شَاکِلَتِہ کا معنی یہ بیان کیا ہے کہ ہر شخص اسی راستہ پر چلتا ہے جو اس نے اپنے لئے اختیار کرلیا ہوتا ہے۔
بیضاوی نے کہا ہر شخص اس راستہ پر چلتا ہے جو اس کی حالت کے مناسب ہوتا ہے گمراہی کا ہو یا ہدایت کا اس راستہ پر چلتا ہے جو اس کے جوہر روح اور ان احوال کے مناسب ہوتا ہے جو اس کے مزاج جسمانی کا تقاضا ہیں۔
صاحب قاموس نے لکھا ہے شاکلتہٖ شکل ‘ صورت ‘ مثل ہر وہ حالت جو مناسب ہو۔ کسی چیز کی محسوس یا وہمی صورت۔ سمت ‘ نیت ‘ طریقہ ‘ مذہب۔
فَرَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ اَهْدٰى سَبِيْلًا : سو تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ کون زیادہ صحیح راستہ پر ہے ‘
یعنی کس کے عقیدے اور عمل کا راستہ حق تک پہنچانے والا ہے اور کس کا عملی اور اعتقادی راستہ ٹیڑھا ہے اور کجی ہے تو کتنی ہے کم یا زیادہ۔
بخاری نے حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ کے کھیتوں میں ایک بار جا رہے تھے ‘ میں بھی ساتھ تھا ‘ آپ کے پاس کھجور کی ایک شاخ تھی آپ اس پر ٹیک لگائے چل رہے تھے ‘ چلتے چلتے یہودیوں کی ایک جماعت کی طرف سے گزرے حضور ﷺ : کو دیکھ کر یہودی باہم کہنے لگے ‘ ان سے روح کے متعلق دریافت کرو۔ ایک شخص بولا کچھ مت پوچھو ‘ کہیں ایسا جواب نہ دے دیں جو تم کو ناگوار ہو ‘ دوسرے نے کہا ہم ضرور پوچھیں گے چناچہ ایک یہودی نے کھڑے ہو کر روح کے متعلق حضور ﷺ سے دریافت کیا ‘ آپ ﷺ (کچھ دیر) خاموش رہے میں سمجھ گیا کہ وحی ہونے والی ہے ‘ میں بھی کھڑا ہوگیا ‘ کچھ دیر میں جب وحی کی حالت دور ہوگئی تو آپ ﷺ نے مندرجہ ذیل آیت تلاوت فرمائی۔
Ayah 17:85وَيَسْــــَٔـلُوْنَكَ عَنِ الرُّوْحِ ۭ قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّيْ وَمَآ اُوْتِيْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ اِلَّا قَلِيْلًا
اور یہ لوگ آپ سے (بطور امتحان) روح کے متعلق پوچھتے ہیں آپ کہہ دیجئے کہ روح میرے رب کے حکم سے بنی ہے ‘ اور (غیر مادی اشیاء کا) تم کو علم نہیں دیا گیا ہے مگر تھوڑاسا۔ یعنی روح اس کائنات میں سے ہے جس کی ایجاد بغیر مادہ کے صرف لفظ کن سے ہوئی ہے۔ اعضائے جسم کی پیدائش کی طرح اس کی پیدائش کسی مادی اصل سے نہیں ہے۔ سوال کرنے والوں کی سمجھ کے اندازے کے مطابق جواب دے دیا گیا جس سے اتنا معلوم ہوگیا کہ دوسری مادی مخلوق کی طرح روح کی ہستی نہیں ہے ‘ بلکہ سب سے الگ ہے لیکن یہودیوں نے تو روح کی حقیقت دریافت کی تھی اور حقیقت روح اس جواب سے واضح نہیں ہوئی۔ اس لئے آگے فرمایا۔
اور (غیر مادی اشیاء کا) تم کو علم نہیں دیا گیا ہے مگر تھوڑاسا۔ یعنی اتنا جتنا تم اپنے حواس کے ذریعہ حاصل کرسکو۔ نظری حقائق کا علم بدیہیات سے حاصل ہوتا ہے اور بدیہات کا علم احساسِ جزئیات سے (اس طریقے کے علاوہ نظری علوم حاصل کرنے کا اور کوئی راستہ نہیں) اسی لئے کہا گیا ہے کہ جس نے حس کو کھو دیا اس نے علم کو کھو دیا ‘ یہی وجہ ہے کہ اکثر غیر محسوس چیزوں کے اجزاء اور ذاتیات تک حس کی رسائی نہیں ہے ان کا علم محض امتیازی اوصاف اور خواص کے ذریعہ سے ہوتا ہے اور الفاظ کی وضع یا تو محسوس چیزوں کے لئے کی جاتی ہے یا ان نامحسوس چیزوں کے لئے جن کے حصول علمی کا ذریعہ محسوس اشیاء ہوتی ہیں۔ فرعون نے جب حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا مَا رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ رب العالمین کون۔ اس کی کیا حقیقت ہے تو جواب میں حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) نے رب العالمین کے بعض خصوصی اوصاف کا ذکر کیا (حقیقت نامعلوم تھی اس کو بتانے کے لئے الفاظ ہی نہ تھے اس لئے حقیقت کا کامل بیان نہ کرسکے) لیکن اس آیت سے یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ حقیقت روح کا علم رسول اللہ ﷺ اور بعض مخصوص روشن بصیرت رکھنے والے اولیاء کے لئے بھی ناممکن تھا کیونکہ انبیاء اور مخصوص اولیاء کا علم کسبی نہیں ہوتا ‘ ان کو علم کے لئے وساطت حواس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان کا علم محض الہامی اور انکشافی ہوتا ہے۔ غور و فکر کا نتیجہ نہیں ہوتا۔ نورانی اور لمعاتی ہوتا ہے وہ دلوں کے کانوں سے وہ آوازیں سنتے ہیں جو چہرے کے کانوں سے سنائی نہیں دیتیں اور چشم بصیرت سے وہ چیزیں دیکھتے ہیں جو چشم بصر سے نہیں دیکھی جا سکتیں۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ نے فرمایا ہے میرا بندہ نوافل کے ذریعہ سے برابر میرا تقرب حاصل کرتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ مجھے اس سے محبت ہوجاتی ہے اور جب مجھے اس سے محبت ہوجاتی ہے تو میں اس کے کان ہوجاتا ہوں جن سے وہ سنتا ہے اور میں اس کی آنکھیں ہوجاتا ہو جن سے وہ دیکھتا ہے (یعنی اس کا سننا میرا سننا اور اس کا دیکھنا میرا دیکھنا ہوجاتا ہے وہ کسی چیز کو ہاتھ سے پکڑتا ہے تو گویا میں پکڑتا ہوں اور وہ اپنے قدموں سے چلتا ہے تو گویا میں چلتا ہوں۔ مترجم) ۔
اصحاب بصیرت کو حقیقت روح کا علم ہوتا ہے ارباب انکشاف نے صراحت کی ہے کہ روح سفلی ایک ہے جس کو نفس کہا جاتا ہے اور علوی ارواح پانچ ہیں قلب ‘ روح ‘ سر ‘ خفی ‘ اخفی۔ ان سب میں ذاتی فرق بھی ہے اور صفاتی بھی ہر ایک کی ذات دوسرے کی ذات اور ہر ایک کے اوصاف دوسری کے اوصاف سے ممتاز ہیں کسی کا کسی سے اشتباہ نہیں۔ لیکن بعض لوگوں کو ان میں باہم اشتباہ ہوجاتا ہے بلکہ یہ تمام علوی ارواح اتنی لطیف ہیں کہ مراتب وجوب کے ساتھ ان کا اشتباہ ہوجاتا ہے اسی اشتباہ کی وجہ سے بعض لوگ کہہ اٹھے تھے ‘ میں نے تیس برس روح کی عبادت کی۔ تیس برس کے بعد اللہ نے روح کی حقیقت کا اور روح کے ممکن و حادث ہونے کا اس پر انکشاف کردیا اور وہ بول اٹھا۔ لاَ اُحِبُّ الْاٰفِلِیْنَ ۔
ایک شبہ ابن مردویہ نے عکرمہ کی روایت سے (مرسلاً ) بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے آیت مذکورہ صحابہ ؓ کے سامنے پڑھی تو صحابہ نے عرض کیا یہ (حکم یعنی روح کا علم نہ ہونا) تو ہمارے لئے مخصوص ہے (آپ کو تو روح کی حقیقت معلوم ہوگی) فرمایا نہیں بلکہ ہم بھی اور تم بھی (سب ہی) مخاطب ہیں (کسی کو بھی حقیقت روح معلوم نہیں) صحابہ نے عرض کیا ‘ عجیب بات ہے ایک وقت تو آپ فرماتے ہیں وَمَنْ یُّوْتَ الْحِکْمَۃَ فَقَدْ اُوْتِی خَیْرًا کَثِیْرًا (جس کو حکمت عطا کی گئی اس کو خیر کثیر عطا کردی گئی) اور دوسرے وقت آپ یہ بات فرماتے ہیں (کہ حقیقت روح مجھے معلوم نہیں۔ روح کو جاننے سے زیادہ حکمت اور خیر کثیر اور کیا ہوگی) اس پر آیت وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ شَجَرَۃٍ اَقْلاَمٌ۔۔ نازل ہوئی۔ یہ روایت بتارہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی روح کی حقیقت معلوم نہ تھی۔
ازالہ یہ روایت اگر پایۂ ثبوت کو پہنچ جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ مَا اُوْتِیْتُمْ مِّنَ الْعِلْمِ الاَّ قَلِیْلاً کا خطاب عام ہے۔ صحابہ اور رسول سب ہی مخاطب ہیں اور سب ہی کو روح کا تھوڑا سا علم عطا کیا گیا ہے اور یہ بات ہے بھی صحیح۔ انبیاء اور ملائکہ کے علوم ہوں یا دوسری مخلوق کے سب کے علوم کی مقدار اللہ کے علم کے مقابلہ میں نہایت حقیر اور قلیل ہے آیت وَلَوْ اَنَّ مَا فِی الْاَرْضِ مِن شَجَرَۃٍ اقْلاَمٌ۔۔ سے اس کی تائید ہو رہی ہے لیکن اس سے یہ بات ثابت نہیں کہ جو حکمت و معرفت انبیاء اور ان کے مخلص متبعین کو عطا فرمائی گئی ہے (جن کے اندر حقیقت روح کا علم بھی داخل ہے) وہ خیر کثیر نہیں ہے یقیناً جو حکمت انبیاء کو عطا کی گئی ہے (گو وہ اللہ کے علم کے مقابلے میں کتنی ہی حقیر و قلیل ہو پھر بھی) خیر کثیر ہے انسان کے ظاہری و باطنی کمال کی جامع ہے کوئی انسانی کمال اس سے خارج نہیں ہے۔
فائدہ آیت مذکورہ کی جو تشریح اور شان نزول ہم نے بیان کی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے ‘ لیکن بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کے حوالے سے بیان کیا ہے کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی۔ حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان ہے کہ قریش نے جمع ہو کر باہم مشورہ کیا اور کہا محمد ﷺ : ہم میں پلے بڑھے ہیں اور ہمیشہ امانت و سچائی کے حامل رہے ہیں ‘ کبھی ہم نے کسی جھوٹ کا ان پر شبہ بھی نہیں کیا۔ لیکن اب انہوں نے وہ دعویٰ کیا جو تم لوگ جانتے ہو ‘ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو مدینہ کے یہودیوں کے پاس بھیج کر دریافت کراؤ ‘ وہ اہل کتاب ہیں دیکھو وہ کیا کہتے ہیں۔ چناچہ چند آدمیوں کو یہودیوں کے پاس مدینہ میں بھیجا گیا ‘ لوگوں نے جا کر یہودیوں سے دریافت کیا یہودیوں نے جواب دیا محمد ﷺ سے جا کر تین باتیں پوچھو ‘ اگر وہ تینوں کا جواب دے دیں یا کسی کا جواب نہ دیں تو سمجھ لو وہ نبی نہیں ہیں اور اگر دو باتوں کا جواب دے دیں اور تیسری کا جواب نہ دیں تو سمجھ لو وہ نبی ہیں۔
1) ان سے دریافت کرو وہ نوجوان کون تھے جنہوں نے (بھاگ کر کہیں) پناہ پکڑی تھی ان کا کیا واقعہ تھا ؟
2) وہ کون شخص تھا جو مشرق اور مغرب تک پہنچ گیا تھا اس کا کیا واقعہ تھا ؟
3) روح کیا ہے ؟ اس کے متعلق بھی جا کر دریافت کرو۔
قریش نے رسول اللہ ﷺ سے یہ تینوں سوال کئے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں کل کو تمہارے سوالوں کے جواب دے دوں گا۔ آپ ﷺ نے انشاء اللہ نہیں فرمایا۔ اس لئے وحی آنے میں تاخیر ہوگئی۔ مجاہد کے قول میں بارہ دن۔ بعض اقوال میں پندرہ دن اور عکرمہ کے نزدیک چالیس دن تک تاخیر وحی کی صراحت آئی ہے۔ اہل مکہ کہنے لگے ‘ محمد ﷺ نے ہم سے کل کا وعدہ کیا تھا ‘ لیکن اتنی مدت ہوگئی کچھ بھی نہیں بتایا ‘ ادھر نزول وحی میں تاخیر ہوئی اُدھر اہل مکہ ایسی باتیں کہتے تھے رسول اللہ ﷺ : کو اس کا رنج ہوا (اور سخت رنج ہوا) اسی اثناء میں اچانک ایک روز جبرئیل یہ وحی لے کر آئے وَلاَ تَقُوْلَنَّ لِشَئٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِکَ غَدًا الاَّ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُپھر اوّل سوال کے متعلق نازل ہوا ‘ اَمْ حسبت ان اصحاب الکہف والرقیم کانوا مِنْ اٰیٰتنِاَ عجبًا۔ دوسرے سوال کے جواب میں نازل ہوا یَسْءَلُوْنَکَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِاور روح کے متعلق ارشاد ہوا قُلِ الرُّوْحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّیْترمذی نے یہ قصہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے۔
ابن کثیر نے دونوں حدیثوں کا تعارض دور کرنے کے لئے تکرار نزول کا قول اختیار کیا ہے حافظ ابن حجر نے بھی اسی قول کو پسند کیا ہے اور اتنا زائد بھی لکھا ہے ‘ یا یہودیوں کے سوال کے وقت رسول اللہ خاموش رہے اس امید پر کہ شاید بیان میں کچھ زیادتی کردی جائے اگر دونوں حدیثوں میں تطبیق کی کوشش نہ کی جائے تو لازمی طور پر کسی روایت کو ترجیح دینی پڑے گی اور ظاہر ہے کہ صحاح کی روایت ہی قابل ترجیح ہے۔ اس کے علاوہ بخاری کی روایت کے راجح ہونے کی وجہ یہ بھی ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ (جو راوی ہیں) یہودیوں کے وقت اسی جگہ موجود تھے اور بغوی کی روایت میں حضرت ابن عباس ؓ کی دوران قصہ میں موجودگی مذکور نہیں۔
بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس قول کی بھی نسبت کی ہے کہ جس روح کے متعلق سوال کیا گیا تھا اس سے مراد حضرت جبرئیل تھے (یعنی جبرئیل کے متعلق یہودیوں نے دریافت کیا تھا) حسن اور قتادہ کا بھی یہی قول منقول ہے۔
میں کہتا ہوں ضحاک کا قول عبد بن حمید اور ابوالشیخ نے اور ایک روایت میں حضرت علی ؓ : کا قول بغوی نے نقل کیا ہے کہ روح ایک فرشتہ ہے جس کے ستّر ہزار چہرے ہیں اور ہر چہرے میں ستّر ہزار زبانیں ہیں اور تمام زبانوں سے وہ اللہ کی پاکی بیان کرتا ہے۔ مجاہد نے کہا روح ایک اور مخلوق ہے جو ہیں تو آدمی کی شکل کے ان کے ہاتھ بھی ہیں پاؤں بھی ہیں اور وہ کھانا بھی کھاتے ہیں لیکن وہ آدمی نہیں ہیں اور فرشتے بھی نہیں ہیں۔ سعید بن جبیر نے کہا عرش کے سوا اللہ نے روح سے بڑی اور کوئی مخلوق پیدا نہیں کی اگر وہ چاہے تو ساتوں آسمانوں اور ساتوں زمینوں اور ان کی ساری موجودات کا ایک لقمہ بنا کر نگل سکتا ہے ‘ اس کی جسمانی ساخت تو فرشتوں جیسی ہے اور چہرے کا ڈول آدمیوں کے چہروں کی طرح ہے ‘ قیامت کے دن وہ عرش کے دائیں جانب کھڑا ہوگا اور تمام مخلوق سے زیادہ اللہ کے قریب ستر حجابوں کے پاس موجود ہوگا اور اہل توحید کی شفاعت کرے گا۔ اگر اس کے اور ملائکہ کے درمیان نور کا حجاب حائل نہ ہو تو آسمانوں والے اس کے نور سے سوختہ ہوجائیں عبد بن حمید اور ابن المنذر نے عکرمہ کا قول بیان کیا کہ روح فرشتوں سے بھی بڑی مخلوق ہے اور کوئی فرشتہ نازل نہیں ہوتا مگر اس کے ساتھ روح ضرور ہوتی ہے۔
بعض لوگوں کا قول ہے کہ روح سے مراد قرآن ہے اور مِنْ اَمْرِ رَبِّیْکا معنی ہے من وحی اللہ بعض کے نزدیک حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) مراد ہیں اس قول پر آیت کا مطلب اس طرح ہوگا کہ عیسیٰ ویسے نہیں جیسا یہود ان کو جانتے ہیں اور ان کی والدہ پر زنا کی تہمت لگاتے ہیں اور نہ ابن اللہ ہیں جیسا کہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے بلکہ ان کی پیدائش محض اللہ کے حکم سے کلمۂ کن سے بغیر باپ کے ہوئی تھی۔
آیت مندرجۂ بالا میں اللہ نے سارے جہان کے علم کا اپنے علم کے مقابلے میں قلیل اور حقیر ہونا ظاہر فرما دیا ‘ آئندہ آیت میں رسول اللہ ﷺ : کو کافروں کی طرف سے پہنچنے والے دکھ پر صابر رہنے کی تلقین فرمانے کی غرض سے نعمت وحی کی عظمت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔
Ayah 17:86وَلَىِٕنْ شِـئْنَا لَنَذْهَبَنَّ بالَّذِيْٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ بِهٖ عَلَيْنَا وَكِيْلًا
اور اگر ہم چاہیں تو جس قدر وحی ہم نے آپ کے پاس بھیجی ہے سب سلب کرلیں گے پھر (اس کو واپس لانے کے لئے) آپ کو ہمارے مقابلہ میں کوئی حمایتی نہ ملے۔ یعنی اگر ہم چاہیں تو اس قرآن کو واپس لے لیں اور لوگوں کے سینوں سے اس کو نکال دیں اور تحریروں سے مٹا دیں ‘ پھر آپ کو کوئی ایسی ہستی نہیں ملے گی جو ہم سے قرآن واپس لینے کی ذمہ داری لے سکے۔
Ayah 17:87اِلَّا رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ ۭ : مگر یہ آپ کے رب کی رحمت ہے (کہ اس نے ایسا نہیں کیا) ۔ اس آیت کا مطلب دو طرح سے ہوسکتا ہے (1) مگر اللہ کی رحمت اگر ہو تو وہ ہی واپس دلوا سکتی ہے۔ (2) استثناء منقطع ہے۔ یعنی اللہ کی رحمت نے اس قرآن کو باقی رکھا ہے تمہارے دلوں میں تحریروں میں قائم رکھا ہے ‘ اس مطلب پر اللہ کی طرف سے احسان ہونے کی دوہری صراحت کی گئی ہے ‘ قرآن کا نازل کرنا اور پھر اس کو باقی رکھنا۔
اِنَّ فَضْلَهٗ كَانَ عَلَيْكَ كَبِيْرًا : واقعہ یہ ہے کہ اللہ کا فضل آپ پر بڑا ہے کہ اللہ نے آپ کو نبی بنا کر بھیجا اور اپنی کتاب نازل فرمائی۔ پھر اس کو تحریروں اور دلوں میں جمع کرایا اور لوگوں سے بیان کرنے کا حکم دیا اور مقام محمود اور حوض کوثر آپ کو عطا فرمائی۔ بغوی نے لکھا ہے کہ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا قیامت سے پہلے قرآن کو اٹھا لیا جائے گا۔ قبل اس کے کہ قرآن اٹھا لیا جائے تم اس کو پڑھا کرو (یعنی اس کو سمجھ لو اور اس پر عمل کرو) ایک شخص کہنے لگا یہ تحریریں تو اٹھائی جاسکتی ہیں (کہ نئی نقلیں کرنا لوگ چھوڑ دیں اور پرانی تحریریں بوسیدہ فرسودہ ہو کر مٹ جائیں۔ مترجم) لیکن جو قرآن سینوں میں ہوگا وہ کیسے اٹھا لیا جائے گا ‘ فرمایا لوگ رات گزاریں گے سینوں میں قرآن ہوگا پھر اٹھا لیا جائے گا صبح کو اٹھیں گے تو کچھ بھی یاد نہ ہوگا اور نہ لکھے ہوئے کاغذوں میں کچھ ملے گا آخر شاعری میں لگ جائیں گے (اور قرآن کی جگہ شاعری لے لے گی) ۔
حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص نے فرمایا قیامت بپا ہونے سے پہلے قرآن لوٹ کر وہیں چلا جائے گا ‘ جہاں سے اترا تھا ‘ شہد کی مکھیوں کی بھنبھاہٹ کی طرح عرش کے گرداگرد اس کی گن گناہٹ ہوگی ‘ اللہ فرمائے گا کیوں کیا بات ہے قرآن کہے گا اے میرے مالک مجھے پڑھا تو جاتا ہے مگر مجھ پر عمل نہیں کیا جاتا۔ بغوی نے یہی بیان کیا ہے۔
صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمرو کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ علم کو اس طرح قبض نہیں کرے گا کہ لوگوں کے سینوں سے کھینچ کر نکال لے بلکہ علماء کو قبض کرلے گا اور جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں گے جو بغیر جانے فتوے دیں گے خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کردیں گے۔
امام احمد اور ابن ماجہ نے حضرت زیاد بن لبید کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بعض چیزوں کا تذکرہ کیا اور فرمایا ایسا اس وقت ہوگا جب علم جاتا رہے گا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ علم کیسے جاتا رہے گا ہم قرآن پڑھیں گے اور اپنی اولاد کو پڑھائیں گے اور ہماری اولاد اپنے بچوں کو پڑھائے گی اور یہ سلسلہ یوں ہی قیامت تک چلتا رہے گا۔ فرمایا زیاد تجھ پر تیری ماں روئے ‘ میں تو تجھے مدینہ کے دانش مند آدمیوں میں سے سمجھتا تھا ‘ کیا یہودی اور عیسائی توریت و انجیل نہیں پڑھتے لیکن توریت و انجیل کے احکام پر عمل نہیں کرتے (یہی حالت مسلمانوں کی ہوجائے گی) ترمذی نے یہ حدیث اسی طرح نقل کی ہے۔ اور دارمی نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بھی یونہی بیان کیا ہے۔
حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ میں نے خود حضور ﷺ : کو فرماتے سنا علم سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ فرائض (علم میراث) سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ ‘ قرآن سیکھو اور لوگوں کو سکھاؤ کیونکہ میں (ہمیشہ نہیں رہوں گا) وفات پا جانے والا آدمی ہوں اور علم بھی قبض کرلیا جائے گا اور فتنے پیدا ہوجائیں گے فریضہ (ترکۂ میّت کی تقسیم) کے متعلق دو آدمیوں میں اختلاف ہوگا تو کوئی تیسرا آدمی ان دونوں کا فیصلہ کرنے والا نہ ملے گا (یعنی کوئی عالم ہی نہیں رہے گا کہ فیصلہ کرسکے) رواہ الدارمی و الدارقطنی۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے اسی حدیث کو سن کر قرآن کے تحریروں سے زائل ہوجانے اور سینوں سے فراموش ہوجانے کا ذکر فرمایا۔
صحیحین کی حدیث سے ظاہر ہورہا ہے کہ قبض علم کی صورت یہ ہوگی کہ علماء نہیں رہیں گے یہ مطلب نہیں کہ سینوں کے اندر سے قرآن نکال لیا جائے گا۔ حضرت زیاد کی روایت سے معلوم ہو رہا ہے کہ قبض علم کا معنی صرف یہ ہے کہ علم پر عمل نہیں کیا جائے گا۔ توفیق عمل ختم ہوجائے گی۔ ان تینوں احادیث و روایات کے باہم تعارض کو دور کرنے کے لئے کہا جاسکتا ہے کہ اوّل علم کے مطابق عمل کی توفیق جاتی رہے گی۔ پھر علماء کی قلت ہوجائے گی۔ چناچہ یہ زمانہ قلت علماء کا ہی ہے پہلے علماء بہت تھے (پھر عمل میں کمزوری آئی) پھر تعلیم و تعلم میں کمی ہوئی اور علماء کم ہوگئے۔
سعید یا عکرمہ کی وساطت سے ابن جریر اور ابن اسحاق نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ سلام بن مشکم یہودیوں کی ایک جماعت کے ساتھ رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوا ارکان جماعت کے نام راوی نے بیان کئے تھے اور عرض کیا ہم آپ کا اتباع کس طرح کرسکتے ہیں آپ نے تو ہمارا قبلہ بھی چھوڑ دیا اور جو کچھ آپ لائے ہیں (یعنی قرآن) اس میں توریت کی طرح ہم کو کوئی ربط نظر نہیں آتا ہم پر کوئی ایسی کتاب اتارو جس کو ہم پڑھیں اور (اس کی حقانیت و صداقت کو) پہچان لیں ‘ ورنہ جیسا آپ نے بیان کیا ہے ایسا تو ہم بھی پیش کرسکتے ہیں ‘ اسی پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 17:88قُلْ لَّىِٕنِ اجْتَمَعَتِ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلٰٓي اَنْ يَّاْتُوْا بِمِثْلِ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لَا يَاْتُوْنَ بِمِثْلِهٖ وَلَوْ كَانَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ ظَهِيْرًا : آپ کہہ دیجئے کہ اگر (سب) انسان اور جنات متفق ہو کر ایسا قرآن لانے کے لئے جمع ہوجائیں تو اس جیسا قرآن نہیں لاسکیں گے خواہ (باہم مل کر) ایک دوسرے کے مددگار ہوجائیں (اور سب مل کر کوشش کریں) یعنی اگرچہ یہ لوگ بڑے بڑے بلیغ ‘ زبان داں ‘ شاعر اور خالص عرب ہیں لیکن بلاغت ‘ حسن ترتیب اور محاسن معنوی کے لحاظ سے قرآن جیسی عبارت نہیں پیش کرسکتے۔ بغوی نے لکھا ہے یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب کافروں نے کہا تھا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ ہٰذَا اگر ہم چاہیں تو ہم بھی اس جیسا کلام کہہ لیں۔ اللہ نے اس آیت میں کافروں کے اس قول کو غلط قرار دیا ‘ یہ اللہ کی طرف سے ایک معجزہ تھا کہ ویسا ہی ہوا جیسا اس آیت میں دعویٰ کیا گیا تھا باوجود انتہائی کوشش کے کوئی چھوٹی سے چھوٹی سورة بھی مقابلہ میں قرآن جیسی نہیں پیش کرسکے۔
بیضاوی نے لکھا ہے آیت میں ملائکہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ملائکہ کوئی کلام قرآن کی طرح اپنا بنایا ہوا پیش بھی کردیں تب بھی یہ قرآن انسانوں اور جنات کے لئے تو معجزہ رہے گا اس کے معجزہ ہونے میں فرق نہیں آئے گا۔ اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی ہے کہ ملائکہ کے توسط سے تو یہ قرآن پہنچا ہی ہے (انسان اور جن کو وساطت میں کوئی دخل نہیں ہے) میں کہتا ہوں قرآن کی مانند کلام پیش کرنے کی دعوت کا یہ معنی ہے کہ خود بنا کر لاؤ جس میں وحی خداوندی کا کوئی دخل نہ ہو اور فرشتے خود ایسا کلام لانے کا تصور بھی نہیں کرسکتے جس کے خالق وہ خود ہوں اور وہ غیر مخلوق کلام کی طرح ہو ‘ کلام اللہ کے مقابلہ میں کلام بنانے کی کوشش تو کفر ہے اور ملائکہ سے کفر و انکار کا ظہور ممکن نہیں ‘ وہ معصوم ہیں۔ یہ بھی ممکن ہوسکتا ہے کہ یہ آیت سابق آیت ثُمَّ لاَ تَجِدُ لَکَ بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیْلاً کے مفہوم کی تاکید ہو۔
Ayah 17:89وَلَقَدْ صَرَّفْـنَا للنَّاسِ فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ اور ہم نے لوگوں (کے سمجھنے) کے لئے
اس قرآن میں ہر قسم کا عمدہ مضمون طرح طرح سے بیان کیا ہے۔
صَرَّفْنَا یعنی بار بار طرح طرح سے وضاحت اور تاکید کر کے ہم نے بیان کیا۔
مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ہر مقصد اور معنی ‘ عبرتیں ‘ احکام ‘ وعدہ وعید وغیرہ۔
مَثَل کہاوت اپنے اندر ندرت رکھتی ہے قرآن کے اندر بھی ندرت ہے حسن ہے دل نشینی ہے یہ بھی ان اوصاف میں مثل کی طرح ہے۔
فَاَبٰٓى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا : پھر بھی اکثر لوگ بےانکار کئے نہ رہے۔ یعنی اکثر لوگوں نے سوائے کفر و انکار کے (قرآن کی ہدایت میں سے) کسی بات کو قبول کرنا پسند نہیں کیا۔
بغوی نے بوساطت عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ : کا مندرجۂ ذیل بیان نقل کیا ہے کہ عتبہ بن ربیعہ ‘ شیبہ بن ربیعہ ‘ ابو سفیان بن حرب اور قبیلۂ عبدالدار کا ایک اور آدمی (بقول بغوی نضر بن حارث) اور ابوالبختری ‘ اسود بن المطلب ‘ زمعہ بن اسود ‘ ولید بن مغیرہ ‘ ابوجہل بن ہشام ‘ عبداللہ بن ابی امیہ ‘ امیہ بن خلف ‘ عاص بن وائل ‘ نبیہ بن حجاج ‘ منبہ بن حجاج اور ان کے ساتھ کچھ اور لوگ سب کے سب غروب آفتاب کے بعد کعبہ کی پشت کے پاس جمع ہوئے اور باہم مشورہ کیا کہ کسی کو محمد ﷺ کے پاس بھیج کر ان کو بلواؤ اور ان سے بات چیت کرو اور جھگڑا طے کرلو تاکہ تمام حجت ہوجائے اور (پھر تم جو کچھ کرو) تم کو معذور سمجھا جائے ‘ چناچہ ایک شخص کو بھیج کر یہ پیام کہلوایا کہ تمہاری قوم کے سردار تم سے گفتگو کرنے جمع ہوئے ہیں آکر بات چیت کرلو۔ رسول اللہ ﷺ : کو خیال ہوا کہ لوگوں کی رائے میں کوئی نئی تبدیلی پیدا ہوگئی ہے آپ تو دل سے چاہتے تھے کہ کسی طرح ان کو ہدایت ہوجائے پیام ملتے ہی فوراً چلے آئے جب آکر بیٹھ گئے تو حاضرین نے کہا محمد ﷺ ہم نے آدمی بھیج کر تم کو اس غرض سے بلوایا ہے کہ تمہارے متعلق ہم حجت تمام کردیں کوئی عربی شخص آج تک اپنی قوم پر وہ مشکلات نہیں لایا جو تم اپنی قوم پر لائے ہو تم نے اسلاف کو گالیاں دیں ‘ ان کے مذہب کو برا کہا ‘ اہل عقل کو سبک سر قرار دیا ان کے معبودوں کو برا بھلا کہا ‘ جماعت میں پھوٹ ڈال دی کوئی ایسی قبیح بات باقی نہیں جو تم نے اپنے اور ہمارے درمیان پیدا نہ کردی ہو اگر اس چیز (قرآن اور اسلام) کو پیش کرنے سے تمہارا مقصد حصول زر ہے تو ہم آپس میں چندہ کر کے تم کو اتنا مال دینے کو تیار ہیں کہ تم سب سے زیادہ دولت مند ہوجاؤ۔ اور اگر تم عزت کے طلبگار ہو تو ہم تم کو اپنا سردار بنا لیں گے اور حکومت چاہتے ہو تو اپنا حاکم بھی تم کو قرار دے سکتے ہیں اور اگر کوئی جن تم پر مسلط ہوگیا ہے جو یہ کلام تم کو بتاتا ہے اور تم اس کو لوٹا نہیں سکتے تو ہم تمہارے علاج کے لئے اپنا مال خرچ کرنے کو تیار ہیں (کسی کاہن یا عامل کو روپیہ دے کر اس کا اتار کرا دیں گے) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جتنی باتیں تم نے کہیں ان میں سے کوئی بات بھی صحیح نہیں ہے۔ میں یہ قرآن پیش کر کے نہ زر کا طلبگار ہوں نہ عزت و سیادت کا ‘ نہ حکومت واقتدار کا مجھے تو اللہ نے تمہارے پاس پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور مجھے ایک کتاب عطا فرمائی ہے اور مجھے حکم دیا ہے کہ (ماننے والوں کو جنت کی) خوشخبری دے دوں اور (نہ ماننے والوں کو دوزخ سے) ڈراؤں اب میں اللہ کا پیام پہنچا چکا اور تم کو نصیحت کرچکا اگر مان لو گے تو یہ دنیا اور آخرت میں تمہاری خوش نصیبی ہوگی رد کر دو گے تو میں اللہ کے حکم پر صبر کروں گا اور منتظر رہوں گا کہ اللہ میرا اور تمہارا کیا فیصلہ کرتا ہے۔ کہنے لگے محمد جو کچھ ہم نے پیش کیا اگر تم کو وہ قبول نہیں تو (اپنی پیغمبری کا ثبوت پیش کرو) تم واقف ہو کہ ہماری یہ بستی بہت تنگ ہے (ہر طرف سے پہاڑ گھیرے ہوئے ہیں ہم اس کو کسی طرف بڑھا نہیں سکتے) اور ہمارے پاس مال بھی سب (یعنی اہل یمن و شام) سے کم ہے اور ہماری زندگی بھی بہت زیادہ دکھی ہے پس تم اپنے رب سے درخواست کر کے ان پہاڑوں کو جنہوں نے ہماری بستی کو تنگ کر رکھا ہے یہاں سے ہٹوا دو کہ ہمارا یہ شہر پھیل جائے اور شام و عراق کی طرح (ہمارے ملک میں بھی) ہمارے لئے دریا بہا دو اور یہ بھی اپنے رب سے کرا دو کہ ہمارے آباء و اجداد زندہ ہوجائیں جن میں قصی بن کلاب (قریش کا مورث اعلیٰ ) بھی ضرور ہو وہ بڑا سچا آدمی تھا۔ پھر ہم ان سب سے دریافت کریں کہ جو کچھ تم کہہ رہے ہو وہ سچ ہے یا جھوٹ اگر وہ تمہاری تصدیق کردیں گے تو ہم بھی تم کو سچا مان لیں گے ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے اس لئے نہیں بھیجا گیا ہے جو پیام مجھے دے کر گیا بھیجا تھا وہ میں نے تم کو پہنچا دیا اگر مان لو گے تو دنیا و آخرت میں یہ تمہاری خوش نصیبی ہوگی قبول نہ کرو گے تو میں اللہ کے حکم کے انتظار میں صبر کروں گا۔ کہنے لگے اچھا اگر تم یہ نہیں کرتے تو اپنے رب سے کہہ کر اتنا ہی کرا دو کہ وہ تمہاری تصدیق کرنے کے لئے ایک فرشتے کو بھیج دے اور تم کو کچھ باغ اور سونے چاندی کے خزانے دے دے کہ جس تکلیف (اور افلاس) میں ہم تم کو دیکھ رہے اس سے تم بےغم ہوجاؤ ‘ تم بازاروں میں کھڑے ہماری طرح روزی کی جستجو میں لگے رہتے ہو پھر اس کی فکر تم کو نہ رہے ‘ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ نے مجھے اس لئے نہیں بھیجا مجھے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے ‘ کہنے لگے اچھا تو ہمارے اوپر آسمان کو ہی گروا دو کیونکہ تمہارا دعویٰ ہے کہ تمہارا رب اگر چاہے تو ایسا کرسکتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا یہ اختیار اللہ کو ہے اگر وہ تمہارے ساتھ ایسا کرنا چاہے گا تو کر دے گا ‘ ایک شخص بولا ہم تو تمہاری بات اس وقت تک نہیں مانیں گے جب تک اللہ اور فرشتوں کو تم ہمارے سامنے لا کر شہادت نہ دلوا دو یہ بات سن کر رسول اللہ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور آپ کے ساتھ آپ کی پھوپھی عاتکہ بنت عبدالمطلب کا لڑکا عبداللہ بن ابی امیہ بھی اٹھ کھڑا ہوا اور (راستہ میں) کہنے لگے محمد ﷺ ! تمہاری قوم نے چند باتیں تمہارے سامنے رکھیں اور تم نے کسی بات کو قبول نہیں کیا پھر انہوں نے چند باتیں طلب کیں جن سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ کے ہاں تمہارا مرتبہ خصوصی ہے تم نے ان کو بھی نہ مانا پھر انہوں نے تم سے کہا کہ جس عذاب سے تم ڈرا رہے ہو وہ جلد لے آؤ تم نے ایسا بھی نہیں کیا اب بخدا میں تمہاری اس بات کا صرف اس وقت ہی یقین کرسکوں گا کہ تم میری نظر کے سامنے سیڑھی لگا کر آسمان پر چڑھ جاؤ۔ پھر میرے سامنے وہاں سے ایک کھلی ہوئی کتاب لے کر آجاؤ اور تمہارے ساتھ چار فرشتے بھی آئیں جو تمہاری تصدیق کریں اور میرا تو خیال ہے کہ اگر تم ایسا کر بھی گزرو گے تب بھی میں تمہاری تصدیق نہیں کرسکوں گا۔ کافروں کی اتنی نفرت دیکھ کر رسول اللہ ﷺ : غمگین ہو کر اپنے گھر لوٹ آئے اور آیات ذیل بَشَراً رَّسُوْلاً : تک نازل ہوئیں۔
ابن جریر نے بطریق ابن اسحاق ایک مصری شیخ (مجہول الاسم) کی وساطت سے بروایت عکرمہ حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے اور سعید بن منصور نے بھی سعید بن جبیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ان آیات کا نزول حضرت ام سلمہ کے بھائی عبداللہ بن امیہ کے متعلق ہوا صاحب لباب النقول نے لکھا ہے یہ روایت مرسل ہے مگر صحیح ہے۔ سابق روایت میں جو ابہام تھا اس کی توضیح اس سے ہوجاتی ہے۔
Ayah 17:90وَقَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكَ : اور (کفار مکہ نے) کہا کہ ہم ہرگز آپ کا قول سچا نہیں مانیں گے۔ یعنی قرآن کا معجز ہونا ان کو ثابت ہوگیا اور دوسرے معجزات بھی دیکھ لئے ‘ پھر بھی ازراہ عناد انہوں نے کہا۔
حَتّٰى تَفْجُرَ لَنَا مِنَ الْاَرْضِ يَنْۢبُوْعًا : جب تک آپ مکہ کی زمین سے ہمارے لئے کوئی چشمہ جاری نہ کردیں
Ayah 17:91اَوْ تَكُوْنَ لَكَ جَنَّةٌ مِّنْ نَّخِيْلٍ وَّعِنَبٍ فَتُفَجِّرَ الْاَنْهٰرَ خِلٰلَهَا تَفْجِيْرًا : یا خاص آپ کے لئے کھجوروں
اور انگوروں کا کوئی باغ نہ ہو پھر اس باغ کے بیچ بیچ میں جگہ جگہ بہت سی نہریں آپ جاری کردیں۔
الْاَرْضِ یعنی ارض مکہ ‘ ینبوع ایسا چشمہ جو کبھی خشک نہ ہو۔ یہ لفظ نَبَعَ الْمَاءُ (پانی پھوٹ نکلا) سے ماخوذ ہے۔
Ayah 17:92اَوْ تُسْقِطَ السَّمَاۗءَ كَمَا زَعَمْتَ عَلَيْنَا كِسَفًا : یا جیسا کہ آپ کہا کرتے ہیں آسمان کے ٹکڑے آپ
ہم پر نہ گرا دیں یعنی آسمان پھٹ جائے اور اس کے ٹکڑے ہم پر گرپڑیں۔ کِسَفٌ کِسْفَۃٌ: کی جمع ہے جیسے قطع قطعۃ کی جمع ہے کَسِفَۃٌ بمعنی قطعۃٌ کے ہے پارہ ‘ ٹکڑا۔
اَوْ تَاْتِيَ باللّٰهِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةِ قَبِيْلًا : یا آپ اللہ کو اور فرشتوں کو ہمارے سامنے لا نہ کھڑا کردیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے قبیل کا ترجمہ کفیل کیا ہے یعنی اللہ اور ملائکہ کو اپنے دعوے (کی صداقت) کا ذمہ دار اور کفیل بنا کر پیش کرو جو شہادت دیں کہ تمہاری بات صحیح ہے اگر اس بات کو ماننے سے ماننے والوں کو کچھ نقصان پہنچا تو اس کے ذمہ دار اللہ اور ملائکہ ہوں گے۔ قتادہ نے قبیلاً کا ترجمہ کیا مقابلاً آمنے سامنے یعنی ہمارے آنکھوں کے سامنے لے آؤ۔ فراء نے کہا عرب بولتے ہیں لَقِیْتُ فُلاَنًا قَبِیْلاً وَ قُبُلاً میں نے فلاں شخص سے دو در دو ملاقات کی۔ اس ترجمہ پر قبیلاً الملائکۃ سے حال ہوگا۔ مجاہد نے کہا قبیل قبیلۃ کی جمع ہے قبیلاً سے مراد ہے قسم یعنی قسم قسم کے ملائکہ کو پیش کرو۔
Ayah 17:93اَوْ يَكُوْنَ لَكَ بَيْتٌ مِّنْ زُخْرُفٍ اَوْ تَرْقٰى فِي السَّمَاۗءِ ۭ وَلَنْ نُّؤْمِنَ لِرُقِيِّكَ حَتّٰى تُنَزِّلَ عَلَيْنَا كِتٰبًا نَّقْرَؤُهٗ ۭ: یا تمہارے لئے کوئی سونے کا مکان ہو یا تم آسمان (کے زینہ) پر چڑھ جاؤ اور ہم تمہارے (صرف) چڑھنے کا بھی یقین نہیں کریں گے جب تک تم ایک ایسی کتاب لے کر ہم پر نازل نہ ہو جس کو ہم پڑھیں۔ زخرف کا اصل لغوی معنی ہے سجاوٹ اس جگہ مراد ہے سونے کا مکان۔ یہ قول عبداللہ بن امیہ کا تھا۔ کِتٰبًا نَّقْرؤُہٗسے یہ مراد ہے کہ اس کتاب کے اندر تمہاری تصدیق ہو اور ہم کو تمہارا اتباع کرنے کا حکم دیا گیا ہو۔
قُلْ (اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجئے یعنی ان کے سوالات و مطالبات پر تعجب کرتے ہوئے کہہ دیجئے۔ یا اللہ کو اس کمزوری سے پاک قرار دیتے ہوئے کہہ دیجئے۔
سُبْحَانَ رَبِّيْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا سبحان اللّٰہ میں بجز اس کے کہ آدمی ہوں مگر پیغمبر
ہوں اور کچھ نہیں ہوں۔ یعنی تمہارا سوال پورا کرنا انسانی اور بشری طاقت سے خارج ہے ‘ ہاں اگر اللہ چاہے تو تمہاری خواہشات پوری کر دے لیکن فرمائشی معجزات کا اظہار اللہ کا دستور نہیں ‘ اپنے رسول کے ہاتھ پر اللہ اتنی آیات و معجزات کا اظہار کرچکا ہے کہ تمہاری ان فرمائشات کو پورا کرنے کی ضرورت نہیں ‘ قرآن مجید اس نے اتار دیا ‘ رسول ﷺ : کی انگلی کے اشارے سے چاند کو دو ٹکڑے کردیا ‘ رسول ﷺ : کی انگلیوں سے پانی کے چشمے بہا دیئے اور طرح طرح کے معجزوں کا ظہور ہوچکا ‘ اس آیت میں کافروں کے سوالات کا ایک مجمل جواب دیا گیا ہے۔ تفصیل جواب دوسری آیات میں آیا ہے فرمایا ہے وَلَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْکَ کِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ ۔۔ وَلَوْ فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَابًا مِّنَ السَّمَآءِ ۔ وَلَوْ اَنْ قُرْاٰنًا سُیِّرَتْ بِہِ الْجِبَالُ اَوْ قُطِّعَتْ بِہِ الْاَرْضُ اَوْ کُلِّمَ بِہِ الْمَوْتٰی یعنی کچھ بھی ہوجائے (قرآن کے ذریعہ سے پہاڑ چلنے لگیں یا زمین کی طنابیں کھینچ دی جائیں۔ یا مردے زندہ ہو کر بولنے لگیں) وہ ایمان نہیں لائیں گے ہر کام کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔
Ayah 17:94وَمَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ يُّؤْمِنُوْٓا اِذْ جَاۗءَهُمُ الْهُدٰٓى اِلَّآ اَنْ قَالُوْٓا اَبَعَثَ اللّٰهُ بَشَرًا رَّسُوْلًا :
اور ہدایت (یعنی رسول یا قرآن) کے آچکنے کے بعد لوگوں کو ایمان لانے سے سوائے اس کے اور کوئی وجہ مانع نہیں کہ انہوں نے (تعجب کیا اور) کہا کیا اللہ نے آدمی کو رسول بنا کر بھیجا ہے۔ یعنی وحی نازل ہوگئی ‘ حق ظاہر ہوگیا اب رسول اور قرآن پر ایمان نہ لانے کی اور کوئی (معقول قابل قبول) وجہ سوائے اس کے نہیں کہ ان کو آدمی کا پیغمبر ہونا عجیب نظر آیا اور انہوں نے نبوت بشری کا انکار کردیا لیکن ان کا یہ تعجب و انکار بےجا عقل اور نقل کی شہادت ہے کہ رسول ﷺ : کو اسی نوع میں سے ہونا چاہئے جو مرسل الیہ کی ہو۔ تاکہ رسول ان کو پیام دے سکے اور وہ رسول کی رسالت سے فائدہ اندوز ہو سکیں غیر جنس سے کیا فائدہ ہوسکتا ہے۔
Ayah 17:95ققُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰۗىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَاۗءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا :
آپ کہہ دیجئے اگر زمین پر فرشتے چین کے ساتھ چلتے پھرتے (فرشتوں کی آبادی ہوتی اور یہیں ان کی سکونت ہوتی آسمان تک پہنچنے کا ان کو اختیار نہ ہوتا) تو ہم آسمان سے ان کے لئے رسول بنا کر کسی فرشتہ کو اتار دیتے (لیکن زمین پر تو آدمی آباد ہیں ‘ آسمان پر جا کر یہ خود احکام حاصل نہیں کرسکتے ان کی ہدایت کے لئے تو آدمی کو ہی رسول بنا کر بھیجنا ضروری تھا ‘ اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ مترجم)
Ayah 17:96قُلْ كَفٰى باللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَبَيْنَكُمْ ۭ: آپ کہہ دیجئے میرے اور تمہارے درمیان بس اللہ ہی شہادت
کے لئے کافی ہے۔ یعنی میرے رسول ﷺ ہونے کا اللہ شاہد ہے اور اسی کی شہادت بس کافی ہے اسی نے میرے ہاتھ پر معجزات میرے دعوے کی تصدیق کے لئے ظاہر فرما دیئے یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کی شہادت اس امر پر کافی ہے کہ میں نے فرض رسالت ادا کیا اس کا پیام تم کو پہنچا دیا اور ظہور حق کے بعد بھی از روئے عناد تم نے مخالفت کی۔ وہی میرا تمہارا فیصلہ کرے گا جو حق پر ہوگا اس کو ثواب دے گا اور جو باطل پر ہوگا اس کو سزا دے گا۔
اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا : کیونکہ وہ اپنے بندوں کو خوب جانتا خوب دیکھتا ہے۔ یعنی ڈرانے والے پیغمبر ہوں یا وہ امت جس کو ڈرایا جاتا ہے ‘ سب کے ظاہری اور باطنی احوال سے اللہ واقف ہے اور ان کے احوال کے موافق سزا و جزا دے گا۔ اس جملہ میں رسول اللہ ﷺ کے لئے پیام تسکین اور کافروں کے لئے عذاب کی تہدید ہے۔
Ayah 17:97وَمَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۚ وَمَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِهٖ
اور جس کو اللہ راہ راست پر لگا دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جن کو اللہ گمراہ چھوڑ دے (یعنی بےمدد چھوڑ دے اور کج راہی سے محفوظ نہ رکھے اور شیطانی اغواء اندرونی کو وہ قبول کرلیں) تو ان لوگوں کے لئے تم کو بجز خدا کے اور کوئی حمایتی نہیں ملے گا جو ان کو راہ راست پر ڈال سکے۔
وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰي وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّبُكْمًا وَّصُمًّا : اور قیامت کے دن ہم ان کو
اندھا گونگا بہرا اٹھائیں گے کہ وہ منہ کے بل چلیں گے یا منہ کے بل ان کو گھسیٹا جائے گا۔ حضرت انس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا ‘ کافر منھ کے بل قیامت کے دن کیسے چلے گا فرمایا جس خدا نے اس کو ٹانگوں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل اس کو چلا نہیں سکتا۔ متفق علیہ۔
ابو داؤد اور بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کا حشر تین طریقے پر ہوگا ‘ کچھ لوگ سوار ہوں گے۔ کچھ پیدل ‘ کچھ منہ کے بل (گھسٹتے ہوئے) ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ منہ کے بل کیسے چلیں گے ‘ فرمایا جس نے ٹانگوں کے بل چلایا ہے وہ منہ کے بل بھی چلا سکتا ہے۔ ترمذی نے اس روایت کو حسن کہا ہے اور حضرت معاویہ بن جندب کی روایت سے اس طرح بھی بیان کیا ہے کہ حضرت معاویہ بن جندب نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ تمہارا حشر کیا جائے گا۔ سوار ہونے کی حالت میں اور پیدل ہونے کی حالت میں اور تم کو گھسیٹا جائے گا منہ کے بل۔ (یعنی قیامت کے دن کچھ لوگ سوار کر کے لے جائے جائیں گے اور کچھ پیدل اور کچھ منہ کے بل گھسیٹ کر)
نسائی ‘ حاکم اور بیہقی نے حضرت ابوذر ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن لوگوں کی تین جماعتیں (بنا کر) اٹھائی جائیں گی ‘ ایک جماعت کپڑے پہنے کھائے پئے اور سواریوں پر سوار ہوگی اور ایک جماعت پیدل چلے گی اور دوڑے گی اور ایک جماعت کو ملائکہ منہ کے بل گھسیٹیں گے۔
اندھے گونگے بہرے ہونے کا یہ مطلب ہے کہ کوئی ایسی صورت ان کے سامنے نہیں آئے گی جس کو دیکھ کر ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور کوئی ایسا عذر بیان نہ کرسکیں گے جو قابل قبول ہو اور کوئی خوش کن مسرت آفریں بات ان کے کانوں میں نہیں پڑے گی۔ کیونکہ آیات قدرت اور نشان ہائے عبرت کو دیکھنے سے ان کی آنکھیں اندھی تھیں۔ کلام حق سننے سے ان کے کان بہرے تھے اور کلمۂ حق بولنے سے ان کی زبانیں گونگی تھیں۔ بغوی نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف اس تفسیر کی نسبت کی ہے۔ (حضرت ابن عباس ؓ کی اس تشریح کا حاصل یہ ہے کہ اندھا گونگا بہرا ہونے سے یہ مراد نہیں کہ وہ کچھ بھی نہ دیکھ سکیں گے نہ بول سکیں گے نہ سن سکیں گے بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس طرح دنیا میں وہ آیات و ہدایات کو چشم بصیرت سے نہیں دیکھتے تھے اور کلمۂ حق کو گوش قبول سے نہیں سنتے تھے اور کلام حق زبانوں پر نہیں لاتے تھے ‘ اسی طرح قیامت کے دن وہ کوئی جاذب قلب شکل نہیں دیکھیں گے کوئی صدا مسرت آفریں نہیں سنیں گے اور کوئی قابل قبول عذر زبانوں سے نہ پیش کرسکیں گے اس تشریح کے بعد اس آیت میں اور ان آیات میں جن میں قیامت کے دن کافروں کو دیکھنا سننا اور بولنا مذکور ہے کوئی تعارض نہیں ہوسکتا۔ اللہ نے فرمایا ہے وَرَأَی الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَمجرم دوزخ کو دیکھیں گے۔ دَعَوْا ہُنَالَکَ ثُبُوْرًاوہاں ہلاکت کو پکاریں گے۔ سَمِعُوْا تَغَیُّظًا وَّزَفِیْرًاغصے اور جھنجھلاہٹ کو سنیں گے (ان آیات میں کافروں کا قیامت کے دن دیکھنا پکارنا اور سننا ثابت ہو رہا ہے اور آئندہ ایک آیت میں تینوں کا یکجائی تذکرہ ہے فرمایا ہے) رَبَّنَا ابصرنا وسمعنا فارجعنا نَعْمَلُ صَالِحًا کافر کہیں گے اے ہمارے رب ہم نے دیکھ لیا اور سن لیا اب ہم کو دنیا میں لوٹا دے کہ ہم نیک کام کرلیں۔ ان آیات میں حقیقی رویت ‘ سماعت اور نطق کی صراحت ہے اور عُمْیًا وَُّ بکْمًا وَّ صُما سے حقیقی دیکھنے سننے اور بولنے کی نفی مقصود نہیں بلکہ اس بینائی ‘ شنوائی اور گویائی کی نفی مقصود ہے جو حضرت ابن عباس ؓ کی تشریح میں مذکور ہے فلا منافاۃ بَیْنَہُمَا)
بعض اہل تفسیر نے (آیات کے تعارض کو دور کرنے کے لئے) یہ مطلب بیان کیا ہے کہ حشر کے وقت تو واقعی سب کافر اندھے ‘ گونگے بہرے ہوں گے۔ لیکن دوزخ کے سامنے جانے اور حساب کے لئے پیش ہونے کے وقت بینا شنوا اور گویا ہوجائیں گے۔
بعض نے کہا کہ حساب کے بعد جب موقف سے دوزخ کی طرف ان کو لے جایا جائے گا اس وقت ان کے حواس غائب ہوجائیں گے ‘ اس وقت گویائی سلب ہوجائے گی ‘ بینائی اور شنوائی زائل ہوجائے گی۔
سعید بن منصور اور بیہقی نے محمد بن کعب کا قول نقل کیا ہے کہ (دوزخ کے اندر) دوزخیوں کی پانچ مرتبہ درخواست ہوگی اور ہر مرتبہ کی پکار کا جواب اللہ دے دے گا ‘ اس کے بعد وہ بول ہی نہ سکیں گے۔
1) دوزخی کہیں گے رَبَّنَا اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَاَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَہَلْ اِلٰی خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ ۔ اللہ اس کے جواب میں فرمائے گا ذٰلِکُمْ بِاَنَّہٗ اِذَا ادُعِیَ اللّٰہُ وَحْدَہٗ کَفَرْ تُمْ ۔۔
2) پھر دوزخی کہیں گے رَبَنَّا اَبْصَرْنَا وَسَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا اِنَّا مُوْقِنُوْنَ ۔ اللہ جواب میں فرمائے گا فَذُوْقُوْا بِمَا نَسْیِتُمْ لِقَآءَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا اِنَّا نَسِیْنَاکُمْ ۔۔
3) پھر دوزخی کہیں گے رَبَّنَا اَخِّرْنَا اِلٰی اَجَلٍ قَرِیْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَکَ وَنَتَّبِعِ الرُّسُلَاللہ جواب میں فرمائے گا اَوَلَمْ تَکُوْنُوْا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَکُمْ مِّنْ زَوَالٍ ۔
4) پھر دوزخی کہیں گے رَبَّنَا اَخْرِجْنَا نَعْمَلُ صَالِحًا غَیْرَ الَّذِیْ کُنَّا نَعْمَلُاللہ جواب میں فرمائے گا اَوْلَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ ۔۔
5) پھر دوزخی کہیں گے رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَکُنَّا قَوْمًا ضَّآلِّیْنَ رَبَّنَآ اَخْرِجْنَا مِنْہَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظَالِمُوْنَ ۔ اللہ جواب میں فرمائے گا اِخْسَءُوْا فِیْہَا وَلاَ تُکَلِّمُوْنَاس کے بعد دوزخی کبھی کلام نہیں کریں گے۔
مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ۭ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا (پھر) ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے وہ جب ذرا دھیمی ہونے
لگے گی تب ہی ان کے لئے اور زیادہ بھڑکا دیں گے۔ یعنی جب ان کی کھالیں اور گوشت جل چکیں گے اور آگ کی بھڑک میں کچھ سکون پیدا ہوجائے گا تو دوبارہ ان کو کھالیں اور گوشت پہنا دیا جائے گا اور اس ایندھن سے پھر آگ بھڑکائی جائے گی اور یونہی برابر ہوتا رہے گا۔ چونکہ مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھائے جانے کے وہ منکر تھے اس لئے اللہ بھی ان کو یہ سزا دے گا کہ بار بار مریں گے اور بار بار جئیں گے اور یہ سلسلہ قائم رہے گا اس کی طرف آیت ذیل میں اشارہ فرمایا۔