17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 17:29

وَ لَا تَجْعَلْ یَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَ لَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا Open ayah 17:29 in the Quran reader

اور اپنے ہاتھ کو نہ تو گردن سے بندھا ہوا (یعنی بہت تنگ) کرلو (کہ کسی کچھ دو ہی نہیں) اور نہ بالکل کھول ہی دو (کہ سبھی دے ڈالو اور انجام یہ ہو) کہ ملامت زدہ اور درماندہ ہو کر بیٹھ جاؤ

وَلَا تَجْعَلْ يَدَكَ مَغْلُوْلَةً اِلٰى عُنُقِكَ وَلَا تَبْسُطْهَا كُلَّ الْبَسْطِ فَتَـقْعُدَ مَلُوْمًا مَّحْسُوْرًا : اور نہ تو اپنا ہاتھ گردن ہی سے باندھ لو (کہ بالکل کنجوس ہوجاؤ) اور نہ بالکل کھول ہی دو (کہ سب مال فنا کر دو ) ورنہ الزام خوردہ تہی دست ہو کر بیٹھ رہو گے۔ ابن مردویہ نے حضرت ابن مسعود ؓ : کا بیان نقل کیا ہے ‘ حضرت عبداللہ ؓ نے فرمایا ایک لڑکا رسول اللہ ﷺ : کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا میری ماں نے حضور ﷺ سے فلاں فلاں چیز مانگی ہے (یعنی کھانا یا کپڑا یا کچھ نقد وغیرہ) فرمایا آج تو ہمارے پاس کچھ نہیں ہے ‘ لڑکا بولا ‘ میری ماں کہتی ہے کہ اپنا کرتہ حضور مجھے عنایت کردیں آپ ﷺ نے اپنا کرتہ اس کو عنایت فرما دیا اور خود گھر کے اندر برہنہ بیٹھ گئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم نے منہال بن عمرو کی روایت سے بھی یہ واقعہ اسی طرح نقل کیا ہے۔ ابن ابی حاتم نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا جو کچھ میرے ہاتھ میں ہو تم اس کو خرچ کردیا کرو۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا یوں تو پھر کچھ بھی نہیں بچے گا۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ بغوی نے حضرت جابر ؓ : کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ایک لڑکے نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میری ماں آپ ﷺ سے پہننے کے لئے ایک کرتہ مانگ رہی ہے۔ حضور ﷺ کے پاس سوائے اس کرتہ کے جو پہنے ہوئے تھے اور کوئی کرتہ نہ تھا۔ فرمایا امید ہے کہ فلاں وقت سے فلاں وقت کچھ آجائے ‘ تم کسی اور وقت آنا لڑکا لوٹ کر اپنی ماں کے پاس چلا گیا پھر لوٹ کر آیا اور عرض کیا ‘ میری ماں کہتی ہے جو کرتہ آپ ﷺ پہنے ہوئے ہیں وہی دے دیجئے یہ درخواست سن کر رسول اللہ ﷺ : گھر کے اندر تشریف لے گئے اور کرتہ اتار کر اس لڑکے کو دے دیا اور برہنہ ہونے کے سبب گھر میں بیٹھ رہے ‘ پھر نماز کے لئے بلال نے اذان دی اور صحابہ ؓ : حضور ﷺ : کا انتظار کرتے رہے لیکن آپ ﷺ برآمد نہیں ہوئے ‘ صحابہ ؓ کے دلوں میں کچھ بےچینی پیدا ہوئی اور بعض لوگ حاضر بارگاہ ہوئے تو آپ کو برہنہ پایا اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ آیت کا تشریحی مطلب یہ ہے کہ حق کے راستے میں خرچ کرنے سے ہاتھ کو نہ روکو جیسے وہ شخص ہوتا ہے جس کے ہاتھ گلے سے بندھے ہوئے ہوں اور وہ ہاتھوں کو پھیلا نہ سکتا ہو اور بالکل ہاتھ کو پھیلا بھی نہ دو کہ ہاتھ میں کچھ باقی ہی نہ رہے یہاں تک کہ اپنی ذات کے اور اپنے اہل و عیال کے اور دوسرے اہل استحقاق کے حقوق بھی ادا نہ کرسکو۔ بیضاوی نے لکھا ہے یہ دونوں جملے کنجوسی کی انتہائی کنجوسی اور فضول برباد کرنے والے کی برباد کنی کی تصویر کشی کر رہے ہیں آیت میں دونوں کی ممانعت کی گئی ہے اور درمیانی راستہ یعنی سخاوت اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فَتَقْعُدَ مَلُوْمًا کا مطلب یہ ہے کہ باوجود فراخ دستی اور وسعت کے اگر کنجوسی کرو گے یا فضول برباد کرو گے اور تدبیر سے کام نہ لو گے تو اللہ کے نزدیک بھی اور لوگوں کی نظر میں بھی قابل مذمت ہوجاؤ گے۔ محسورا کا ترجمہ قتادہ نے پشیمان کیا ہے اور اس کا تعلق دونوں سے قرار دیا ہے یعنی انتہائی کنجوسی پر بھی پشیمان ہوجاؤ گے اور برباد کنی پر بھی۔ یا ملوماً کا تعلق کنجوسی سے ہے اور محسوراً کا تعلق فضول خرچی سے مطلب اس طرح ہوگا کہ اگر فراخی کے باوجود سائلوں کو نہ دو گے تو سائل تمہاری مذمت کریں گے اور اگر سب مال برباد کر دوگے تو تمہارے ہاتھ میں کچھ نہیں رہے گا اور حسرت زدہ ہو کر رہ جاؤ گے۔ حسرتہ بالمسئلہ تو نے سوال کرنے سے اس کو تنگ کردیا تو نے اس سے لپٹ چمٹ کر مانگا۔ حسرہ السفر اس کو سفر نے چور کردیا یا شکستہ کردیا۔
Ayah 17:30

اِنَّ رَبَّكَ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 17:30 in the Quran reader

بےشک تمہارا پروردگار جس کی روزی چاہتا ہے فراخ کردیتا ہے اور (جس کی روزی چاہتا ہے) تنگ کردیتا ہے وہ اپنے بندوں سے خبردار ہے اور (ان کو) دیکھ رہا ہے

اِنَّ رَبَّكَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَّشَاۗءُ وَيَــقْدِرُ : آپ کا رب جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی عطا فرماتا ہے اور جس کا رزق تنگ کرنا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے۔ لہٰذا تم اگر اپنی ضرورت کے مطابق کچھ مال روک لو گے تو تمہارا یہ عمل قابل ملامت نہیں۔ اِنَّهٗ كَانَ بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا : لاریب کہ وہ ہی اپنے بندوں سے باخبر اور ان کو دیکھنے والا ہے یعنی ان کے باطنی احوال کو بھی جانتا ہے اور ظاہری احوال کو بھی۔ بندوں کی جس بات میں مصلحت ہوتی ہے اللہ اس کا علم رکھتا ہے خواہ ان کو خود معلوم نہ ہو۔ آیت کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ رزق کی تنگی و فراخی اللہ کے حکم سے ہوتی ہے اللہ ہی ان کے ظاہر کو بھی جانتا ہے اور باطن کو بھی۔ پس جیسا مناسب ہوتا ہے کرتا ہے مگر بندوں پر لازم ہے کہ درمیانی چال سے رہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ بھی رزق فراخ کرتا ہے ‘ کبھی تنگ کرتا ہے پس تم بھی طریقۂ خداوندی پر چلو نہ بالکل روک ہی رکھو نہ بالکل ہاتھ کھلا ہی رکھو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مذکورہ کلام آئندہ کلام کی تمہید ہو جس میں بخوف افلاس اولاد کو قتل کرنے کی ممانعت کی ہے اور فرمایا ہے۔
Ayah 17:31

وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ خَشْیَةَ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَ اِیَّاكُمْ١ؕ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِیْرًا Open ayah 17:31 in the Quran reader

اور اپنی اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرنا۔ (کیونکہ) ان کو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ ان کا مار ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے

وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ: اور اپنی اولاد کو یعنی لڑکیوں کو محتاجی کے کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ ہم ان کو بھی رزق عطا کریں گے اور تم کو بھی۔ سب کو رزق دینے کی ہماری ذمہ داری ہے۔ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا : ان کو قتل کرنا یقیناً بڑا جرم ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا سب سے بڑا کون سا گناہ ہے۔ فرمایا (سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ) اللہ کے مثل دوسروں کو قرار دے باوجودیکہ اللہ ہی نے تجھے پیدا کیا ہے ‘ میں نے عرض کیا یہ بیشک بڑا گناہ ہے اس کے بعد کون سا گناہ ہے فرمایا اپنی اولاد کو خود قتل کرنا یا اس اندیشے سے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائے گی۔ میں نے عرض کیا اس کے بعد کون سا (گناہ) ہے فرمایا اپنے ہمسایہ کی بیوی سے زنا کرنا۔ متفق علیہ۔
Ayah 17:32

وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا Open ayah 17:32 in the Quran reader

اور زنا کے بھی پاس نہ جانا کہ وہ بےحیائی اور بری راہ ہے

وَلَا تَقْرَبُوا الزِّنٰٓى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً ۭ وَسَاۗءَ سَبِيْلًا : اور زنا کے قریب 1 ؂ بھی نہ جاؤ بلاشبہ زنا بہت زیادہ اور کھلی ہوئی برائی کا کام ہے اور برا راستہ ہے کہ اس سے قطع نسب ہوتا ہے اور فتنے بپا ہوتے ہیں۔ حضرت بریدہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ساتواں آسمان اور ساتوں زمینیں بوڑھے زانی پر لعنت کرتی ہیں اور (دوزخ کے اندر) زانیوں کی شرمگاہیں اپنی سڑی ہوئی بو سے دوزخیوں کو (بھی) اذیت پہنچائیں گی ‘ رواہ البزار۔ حضرت انس بن مالک کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زنا پر قائم رہنے والا بت پرست کی طرح ہے۔ رواہ الخرابطی۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب آدمی زنا کرتا ہے تو (زنا کرتے وقت) ایمان اس کے اندر سے نکل کر سائبان کی طرح اس کے اوپر معلق ہوجاتا ہے۔ پھر جب وہ باز آجاتا ہے تو ایمان اس کی طرف لوٹ آتا ہے۔ رواہ ابو داؤد والترمذی والبیہقی والحاکم۔ صحیحین میں آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا زانی جب زنا کرتا ہے تو ایمان دار ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا اور چور جب چوری کرتا ہے تو ایمان دار ہونے کی حالت میں چوری نہیں کرتا اور شراب پینے والا جب شراب پیتا ہے تو ایمان دار ہونے کی حالت میں شراب نہیں پیتا (یعنی ان افعال میں مشغول ہونے کی حالت میں اس کے اندر ایمان نہیں رہتا)
Ayah 17:33

وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ وَ مَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِیِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا یُسْرِفْ فِّی الْقَتْلِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا Open ayah 17:33 in the Quran reader

اور جس کا جاندار کا مارنا خدا نے حرام کیا ہے اسے قتل نہ کرنا مگر جائز طور پر (یعنی بفتویٰ شریعت) ۔ اور جو شخص ظلم سے قتل کیا جائے ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے (کہ ظالم قاتل سے بدلہ لے) تو اس کو چاہیئے کہ قتل (کے قصاص) میں زیادتی نہ کرے کہ وہ منصورو فتحیاب ہے

وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بالْحَقِّ ۭاور جس شخص کے قتل کو اللہ نے حرام کردیا ہے اس کو قتل مت کرو۔ ہاں مگر حق پر۔ نفس سے مراد ہے مسلمان یا ذمی کافر۔ الاّبالحق سے مراد ہے قصاص یا زنا یا بغاوت یا صحابہ کو گالیاں دینا وغیرہ (یعنی قصاص یا زنا یا بغاوت وغیرہ میں قتل کردینا ناحق قتل نہیں ہے) مرتد کا قتل نفس محرم کے قتل میں داخل نہیں ہے (یعنی مرتد کو قتل کردینا مباح الاصل ہے) اللہ نے فرمایا ہے اِنَّمَا جَزَآءُ الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰہَ وَرَسُوْلَۂ وَیَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْا (باغیوں کے متعلق فرمایا) قَاتِلُوْا الَّتِیْ تَبْغِیْ (قصاص کے متعلق فرمایا) اِنَّ النَّفْسَ بالنَّفْس۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو مسلمان شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں ‘ اس کا خون جائز نہیں مگر تین وجوہ میں سے کسی ایک وجہ سے یا تو وہ شادی شدہ زانی ہو یا کسی کے قتل میں اس کو قتل کیا جائے یا دین کو چھوڑ کر مسلمانوں کی جماعت سے خارج ہوگیا ہو۔ رواہ الشیخان و ابوداؤد والترمذی والنسائی۔ دین کو چھوڑنے سے مرتد ہوجانا مراد نہیں ہے کیونکہ ایسا آدمی تو مسلمان ہی نہیں رہتا وہ لا الہ الا اللہ کی شہادت پر قائم ہی نہیں رہتا بلکہ اس سے مراد بدعتی فرقے ہیں جو اپنی خواہشات اور رائے کے پرستار ہوتے ہیں اور جماعت (اہل سنت) کو ترک کردیتے ہیں جیسے رافضی ‘ خارجی وغیرہ (یہ حضرت مفسر کی رائے ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت مؤلف کے نزدیک معتزلہ اور روافض و خوارج وغیرہم کا قتل جائز ہے مگر جمہور اہل سنت کا یہ مسلک نہیں ہے ‘ مختلف اہل ہویٰ کا قتل اس لئے نہیں ہوا کہ وہ بدعتی ہوگئے تھے بلکہ ان سے قتال اس لئے کیا گیا کہ انہوں نے بغاوتیں کی تھیں اور باغی سے قتال کا جواز قاتلوا التی تبغی سے ثابت ہے۔ رہا مؤلف کا یہ اعتراض کہ مرتد مسلمان ہی نہیں ہوتا اور آیت میں مسلم کو قتل کرنے کی وجوہ کا بیان ہے تو یہ اعتراض ہی غلط ہے مرتد ارتداد سے پہلے مسلمان ہی ہوتا ہے گزشتہ حالت کے اعتبار سے اس کو مسلم کہا گیا (ماضی اور مستقبل کے اعتبار سے مجازی استعمال عام ہے) فصل حضرت ابن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سب سے پہلے خونوں کے فیصلے کئے جائیں گے۔ (متفق علیہ) حضرت براء بن عازب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی نظر میں مؤمن کے ناحق قتل کے مقابلہ میں (ساری) دنیا کا فنا ہوجانا حقیر ہے۔ رواہ ابن ماجۃ بسند حسن ‘ بیہقی نے اتنا زائد نقل کیا ہے کہ اگر (تمام) آسمانوں اور زمینوں والے ایک مؤمن کے قتل میں شریک ہوجائیں تو اللہ یقیناً (سب کو) دوزخ میں داخل کر دے گا۔ نسائی نے حضرت بریدہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک (ساری) دنیا کا فنا ہوجانا مؤمن کے قتل سے حقیر ہے۔ ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کسی نے مؤمن کے قتل میں آدھی بات کہہ کر بھی اعانت کی تو اللہ کے سامنے جب وہ جائے گا ‘ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا اللہ کی رحمت سے ناامید۔ اصبہانی نے اتنا زائد بیان کیا ہے کہ ابن عینیہ نے آدھی بات کی تشریح میں کہا کہ اُقْتُلْکا پورا لفظ نہ کہا ہو بلکہ صرف اُقْ کہا ہو۔ بیہقی نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بھی حدیث مذکور اسی طرح بیان کی ہے۔ حضرت معاویہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر گناہ کی امید ہوسکتی ہے کہ اللہ معاف فرما دے ‘ سوائے اس شخص کے جو کافر مرا ہوا یا کسی کو قصداً اس نے قتل کیا ہو۔ رواہ النسائی حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔ ابو داؤد نے حضرت ابو درداء کی روایت سے بھی ایسی ہی حدیث نقل کی ہے اور ابن حبان و حاکم نے اس کی تصحیح کی ہے۔ حضرت ابو موسیٰ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا صبح ہوتی ہے تو ابلیس اپنے لشکر کو پھیلا دیتا ہے اور کہتا ہے آج جو کسی مسلمان کو بےراہ کر دے گا میں اس کو تاج پہنا دوں گا پھر (شام کو یا کسی وقت) ایک واپس آکر کہتا ہے آج میں اس (مسلمان) کے ساتھ لگا رہا ‘ یہاں تک کہ اس نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ ابلیس کہتا ہے ہوسکتا ہے وہ (دوسرا) نکاح کرلے۔ دوسرا آکر کہتا ہے میں اس (مسلمان) کے ساتھ لگا رہا ‘ یہاں تک کہ اس نے اپنے باپ اور ماں کی نافرمانی کی ابلیس کہتا ہے ہوسکتا ہے کہ وہ پھر فرماں بردار ہوجائے۔ تیسرا آتا ہے اور کہتا ہے میں اس کے ساتھ لگا رہا ‘ یہاں تک کہ وہ مشرک ہوگیا ‘ ابلیس کہتا ہے تو تو ہی ہے (یعنی یہ تیرا کام بہت اچھا ہے) چوتھا آکر کہتا ہے میں اس کے ساتھ لگا رہا یہاں تک کہ اس نے (مؤمن کو) قتل کردیا۔ ابلیس کہتا ہے تو نے تو (ایسا کام کیا) پھر اس کو تاج پہنا دیتا ہے۔ رواہ ابن حبان فی صحیحہ۔ وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُوْمًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهٖ سُلْطٰنًا فَلَا يُسْرِفْ فِّي الْقَتْلِ ۭ اِنَّهٗ كَانَ مَنْصُوْرًا اور جو شخص ناحق قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو اختیار دیا ہے ‘ سو اس کو قتل کے بارے میں حد (شرع) سے تجاوز نہ کرنا چاہئے وہ شخص بلاشبہ طرفداری کے قابل ہے۔ ولی یعنی وارث جو مقتول کے امور کا اس کے مرنے کے بعد ذمہ دار ہوتا ہے۔ سلطاناً قوت اور قصاص لینے کا اختیار۔ لاَ یُسرِف فی القتل کا مطلب دو طرح سے بیان کیا ہے۔ (1) قاتل زیادتی نہ کرے ‘ یعنی جس کو قتل کرنے کا اس کو حق نہیں ہے اس کو قتل نہ کرے ‘ عقلمند وہ کام نہیں کرتا جس کا نتیجہ دنیا اور آخرت کی تباہی کی شکل میں ظاہر ہونے والا ہو۔ (2) حضرت ابن عباس ؓ اور اکثر اہل تفسیر نے یہ مطلب بیان کیا کہ مقتول کا ولی قصاص میں زیادتی نہ کرے یعنی قاتل کے علاوہ دوسرے کو قتل نہ کرے ‘ جاہلیت کے دور میں صرف قاتل کے قتل پر بس نہ کرتے تھے بلکہ قاتل کے علاوہ اس سے اونچے درجہ والے کو بھی قتل کرتے تھے۔ سعید بن جبیر نے کہا قاتل اگر ایک ہو تو اسی کو قتل کیا جاسکتا ہے ایک قتل کے عوض بےقصور اور شریک قتل نہ ہونے والی) جماعت کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔ عہد جاہلیت کا طریقہ تھا کہ مقتول اگر کوئی بڑا آدمی ہوتا تو قصاص میں تنہا اس کے قاتل کو ہی نہیں قتل کرتے تھے بلکہ قاتل کے ساتھ اس کے قرابتداروں کی ایک جماعت کو بھی قتل کرتے تھے۔ قتادہ نے کہا لا یسرف فی القتلکا یہ مطلب ہے کہ قاتل (سے قصاص تو لے لیا جائے اس) کو مثلہ نہ کیا جائے (یعنی اس کے ناک کان اور آلات رجولیت نہ کاٹے جائیں جیسا کہ جاہلیت کا دستور تھا) کَانَ مَنْصُوْرًا یعنی جو شخص ظلماً قتل کیا گیا ہو ‘ اللہ کی طرف سے اس کی مدد و نصرت دنیا میں بھی کی جاتی ہے کہ قاتل کو قصاص میں (حسب قانون شریعت) قتل کرنا ضروری ہے اور آخرت میں بھی مقتول منصور ہوگا ‘ اللہ اس کے گناہ ساقط کر دے گا اور اسکے قاتل کے لئے دوزخ لازم کر دے گا (مجاہد) قتادہ نے کہا کان کی ضمیر مقتول کے ولی کی طرف لوٹ رہی ہے۔ یعنی مقتول کے وارث کو قاتل کے خلاف نصرت دی جاتی ہے۔ قاتل سے قصاص لینے کا اس کو حق دیا گیا ہے ‘ حکام پر لازم ہے کہ اس کی مدد کریں۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک قاتل کی طرف ضمیر راجع ہے جس کو مقتول کا ولی قصاص میں قتل کرتا ہے اگر قصاص میں اسراف سے کام لے گا تو بار گناہ اس پر پڑے گا اور (قانون شریعت میں) قاتل کی حمایت کی جائے (کیونکہ اولیاء مقتول کو صرف قصاص لینے کا حق ہے ‘ قاتل پر زیادتی کرنے کا حق نہیں ہے)
Ayah 17:34

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١۪ وَ اَوْفُوْا بِالْعَهْدِ١ۚ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:34 in the Quran reader

اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ پھٹکنا مگر ایسے طریق سے کہ بہت بہتر ہو یہاں تک کہ ہو جوانی کو پہنچ جائے۔ اور عہد کو پورا کرو کہ عہد کے بارے میں ضرور پرسش ہوگی

وَلَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْيَتِيْمِ اِلَّا بالَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ : اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر اس طریقے سے جوبہترین ہو یعنی یتیم کے مال میں تصرف نہ کرو۔ ہاں ایسے طریقے سے تصرف کرسکتے ہو جو یتیم کے لئے بہتر ہو ‘ اس کے مال کی حفاظت ہو ‘ اور تجارتی افزانی ہو۔ حَتّٰى يَبْلُغَ اَشُدَّهٗ یہاں تک کہ وہ اپنے سن بلوغ کو پہنچ جائے ‘ یعنی اس حد کو پہنچ جائے جو صحیح تصرفات کے لئے ضروری ہے۔ استثناء (اِلاَّ بالَّتْی ہِیَ اَحْسَنُ ) اسی مفہوم پر دلالت کر رہا ہے۔ وَاَوْفُوْا بالْعَهْدِ اور عہد کو پورا کرو۔ یعنی اللہ نے اپنے احکام پر عمل کرانے کا تم سے وعدہ لیا ہے اس کو پورا کرو اور لوگوں سے جو تم جائز معاملات کا وعدہ کرو۔ اس کو بھی پورا کرو۔ اِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْــــُٔـوْلًا : بیشک (ایسے) عہد کی باز پرس ہونے والی ہے ‘ یعنی عہد کرنے والے سے عہد کا ایفاء مطلوب ہے یا یہ مطلب ہے کہ ہر عہد کے متعلق عہد کو توڑنے والے سے باز پرس کی جائے گی اور وعدہ شکنی پر اس کو سزا دی جائے گی ‘ یا عہد پوچھا جائے گا یعنی عہد توڑنے والے کو (قیامت کے دن) سرزنش کرنے کے لئے عہد دیاد دلایا جائے گا ‘ جیسے زندہ دفن کی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا۔ بِاَیِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ العہد سے پہلے مضاف محذوف ہو یعنی صاحب عہد سے عہد پوچھا جائے گا۔
Ayah 17:35

وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَ زِنُوْا بِالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَقِیْمِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا Open ayah 17:35 in the Quran reader

اور جب (کوئی چیز) ناپ کر دینے لگو تو پیمانہ پورا بھرا کرو اور (جب تول کر دو تو) ترازو سیدھی رکھ کر تولا کرو۔ یہ بہت اچھی بات اور انجام کے لحاظ سے بھی بہت بہتر ہے

وَاَوْفُوا الْكَيْلَ اِذَا كِلْتُمْ وَزِنُوْا بالْقِسْطَاسِ الْمُسْتَــقِيْم : اور ناپ کردیتے وقت ناپ کا پیمانہ پورا کر دیا کرو اور (تولتے وقت) صحیح ترازو سے تولا کرو (یعنی ناپ تول میں بےایمانی نہ کرو) مجاہد نے کہا قسطاس (ترازو) رومی لفظ ہے عربی میں استعمال کرلیا گیا ہے لیکن اس سے قرآن مجید کے عربی ہونے میں کوئی خرابی نہیں آتی ‘ کیونکہ جو غیر عربی لفظ عربی میں شامل کرلیا اور عربی الفاظ کے احکام اس پر جاری کردیئے گئے اعراب اور معرفہ و نکرہ کی خصوصیات عربی الفاظ کی طرح اس میں پیدا کردی گئیں وہ عربی بن گیا غیر عربی نہیں رہا (اگرچہ اصلاً وہ عجمی ہو) اکثر علماء کے نزدیک قسطاس عربی لفظ ہے قسط سے بنا ہے قسط کا معنی ہے ‘ عدل (برابرئ انصاف) الْمُسْتَقِیْمٹھیک۔ صحیح۔ ۭ ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا : یہ (فعل) بہت اچھا اور نتیجہ کے اعتبار سے بہت ہی بہتر ہے ‘ تاویل (تفصیل) انجام نتیجہ اٰل کا معنی ہے لوٹ گیا۔
Ayah 17:36

وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُوْلًا Open ayah 17:36 in the Quran reader

اور (اے بندے) جس چیز کا تجھے علم نہیں اس کے پیچھے نہ پڑ۔ کہ کان اور آنکھ اور دل ان سب (جوارح) سے ضرور باز پرس ہوگی

وَلَا تَــقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ اور جس چیز کا تم کو علم نہ ہو اس کے پیچھے نہ چلو۔ قَفَا یَقْفُوْکسی کے نشان قدم پر چلنا اتباع کرنا ‘ قافیہ اسی سے بنا ہے۔ علم نہ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ جس بات کا تم کو حسی علم بھی نہ ہو اور کوئی نقلی حکم بھی نہ ہو اور نہ کوئی عقلی قطعی دلیل ہو ‘ ایسی چیز کی پیروی نہ کرو۔ ایک شبہ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ ظنی دلیل کی روشنی میں عمل کرنا جائز نہیں (یعنی خبر آحاد اور قیاس سے چونکہ یقینی علم حاصل نہیں ہوتا صرف گمان غالب اور راجح خیال پیدا ہوجاتا ہے اس لئے نہ قیاسی احکام پر چلنا جائز ہے نہ ان اوامرو نواہی پر جو احادیث غیر متواترہ سے مستفاد ہو رہے ہوں) ازالہ آیت میں علم سے مراد ہے غالب راجح اعتقاد اور حکم خواہ اس کی سند قطعی اور یقینی ہو یا ظنی لفظ علم کا اس معنی میں استعمال بکثرت ہوتا ہے۔ بعض علماء نے کہا کہ آیت میں عدم اتباع کا حکم صرف عقائد کے متعلق ہے (یعنی ظنی ‘ وہمی ‘ شکی دلائل پر عقیدہ کی بنیاد نہ رکھو) بعض اہل علم نے کہا پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگانے اور جھوٹی شہادت دینے کی ممانعت اس آیت میں مراد ہے یعنی محصنات پر زنا کی تہمت تراشی اور شہادت زور کی ممانعت کے ساتھ آیت کی خصوصیت ہے عام عدم اتباع ظن مراد نہیں ہے۔ مجاہد نے کہا آیت کی مراد یہ ہے کہ جس چیز کا تم کو قطعی علم نہ ہو اس سے کسی کو متہم نہ کرو۔ کسی پر مت باندھو وہ بات جس کا یقینی ذرائع سے تم کو علم نہ ہو۔ قتادہ نے کہا مطلب یہ ہے کہ ان دیکھی چیز کو دیکھی ہوئی اور ان سنی کو سنی ہوئی اور غیر معلوم کو معلوم نہ قرار دو ۔ (حضرت مفسر نے فرمایا) میں کہتا ہوں ‘ ان احادیث آحاد سے جن کے اندر روایت کی تمام شرائط موجود ہوں اور صحیح قیاس سے اور دو مردوں یا ایک مرد اور دو عورتوں کی شہادت سے جو حکم ثابت ہوجائے اس پر عمل کرنا قطعی نصوص اور اجماع کی رو سے واجب ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے لَوْ لَا نَفَرَ مِنْ کُلِّ فِرْقَۃٍ مِّنْہُمْ طَاءِفَۃٌ لِّیَتَفُقُہْوا۔ دوسری آیت ہے فاعْتَبِرُوْا یَا اُولی الْاَبْصَارِتیسری آیت ہے واسْتَشْہِدُوْا شَہِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِکُمْ ۔۔ (1) مسلمانوں کے ہر فرقے میں سے اور جماعت میں سے دین کو سمجھنے کے لئے ایک ایک گروہ کیوں وطن سے باہر نکل کر (مدینہ) نہیں جاتا۔ (2) اے اہل نظر عبرت اور سبق حاصل کرو (اشباہ و نظائر کو سمجھو اور ان کو امثال پر قیاس کرو) (3) اپنے مردوں میں سے دو مردوں کو گواہ بنا لو۔ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ ﷺ : مختلف افراد صحابہ کو تبلیغ احکام کے لئے بھیجتے تھے ‘ پس اخبار آحاد یا قیاس اگرچہ ظنی ہوتے ہیں لیکن ان سے مستفاد احکام یقینی العمل ہوتے ہیں کیونکہ ان سے حاصل شدہ علم پر عمل کرنا نصوص قطعیہ سے واجب ہے۔ ۭ اِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰۗىِٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْــــُٔــوْلًا : کیونکہ کان اور آنکھ اور دل 1 ؂ ہر شخص سے ان سب کی (قیامت کے دن) باز پرس ہوگی۔ یعنی مذکورہ تینوں اعضاء میں سے ہر ایک سے اتباع مذکور کے متعلق باز پرس کی جائے گی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اعضاء مذکورہ سے دریافت کیا جائے گا کہ جس شخص کے یہ اعضاء تھے اس نے کیا کیا۔ یا یہ مطلب ہے کہ جو شخص سننے دیکھنے اور جاننے کا دعویٰ کرتا ہے ‘ اس کے اعضاء سے اس کی تصدیق طلب کی جائے گی آنکھ سے پوچھا جائے گا کیا اس نے دیکھا تھا (یا دیکھنے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا) کان سے سوال کیا جائے گا کیا اس نے سنا تھا (یا سننے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا) اور دل سے دریافت کیا جائے گا کیا اس نے جانا تھا (یا جاننے کا غلط دعویٰ کیا تھا) حضرت شکل بن حمید راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے میری درخواست پر مجھ سے میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا کہہ اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں ‘ اپنے کان کے شر سے اور اپنی آنکھ کے شر سے اور اپنی زبان کے شر سے اور اپنے دل کے شر سے اور اپنی منی کے شر سے۔ میں نے یہ دعا یاد کرلی۔ رواہ الترمذی و ابو داؤد والنسائی والحاکم والبغوی۔ حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے۔ اس حدیث کے راوی سعیدنے کہا منی کے شر سے پناہ مانگنے کا یہ مطلب ہے کہ میں اپنا پانی ایسے مقام پر نہ ڈالوں جو حلال نہیں ہے۔ مذکورہ تین اعضاء کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لئے کیا کہ یہ ہی آلات علم ہیں ‘ اکثر محسوسات کا علم آنکھ سے ہوتا ہے یا کان اور غیر محسوس چیزوں کا ادراک تو صرف دل ہی سے ہوتا ہے۔
Ayah 17:37

وَ لَا تَمْشِ فِی الْاَرْضِ مَرَحًا١ۚ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْضَ وَ لَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا Open ayah 17:37 in the Quran reader

اور زمین پر اکڑ کر (اور تن کر) مت چل کہ تو زمین کو پھاڑ تو نہیں ڈالے گا اور نہ لمبا ہو کر پہاڑوں (کی چوٹی) تک پہنچ جائے گا

وَلَا تَمْشِ فِي الْاَرْضِ مَرَحًا : اور زمین پر اکڑ کر نہ چلو۔ مرحاً یعنی اکڑتے ہوئے۔ مرح کا معنی ہے غرور اور مستانہ 2 ؂ چال سے چلنا۔ اِنَّكَ لَنْ تَخْرِقَ الْاَرْض : کیونکہ (چال میں زور اور غرور اختیار کر کے) زمین کو تم ہرگز نہ پھاڑ سکو گے (زمین کے دو ٹکڑے نہ کرسکو گے ‘ زمین کو نہ چیر سکو گے) وَلَنْ تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُوْلًا : اور (کتنا ہی اٹھ اٹھ کر پنجوں کے بل چلو لیکن) پہاڑوں کی اونچائی کو نہ پہنچ سکو گے پھر یہ مغرورانہ مستانہ چال سراسر حماقت نہیں تو اور کیا ہے اس سے فائدہ ہی کیا ہے۔ حضرت عیاض ؓ بن حماد مجاشعی کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ نے میرے پاس وحی بھیجی ہے کہ باہم تواضع اختیار کرو کوئی کسی پر فخر نہ کرے نہ کسی پر زیادتی کرے ‘ رواہ مسلم۔ حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کے دل میں ذرہ (چھوٹی سرخ چیونٹی یا ریت کا ذرہ) برابر تکبر ہوگا وہ جنت میں نہیں جائے گا۔ رواہ مسلم۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ‘ بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میری ازار (تہبند) ہے (یعنی عظمت اور بڑائی میرا لباس ہے) جو شخص ان دونوں میں سے کسی ایک میں بھی مجھ سے کشاکش کرے گا (یعنی مجھ سے اتار کر خود پہننا چاہے گا) میں اس کو دوزخ میں داخل کروں گا۔ رواہ مسلم حضرت سلمہ ؓ بن اکوع کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدمی برابر خودسری (غرور) کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کو جبارین (انتہائی ظالم اور مغرور گروہ) میں لکھ دیا جاتا ہے پھر اس پر وہ ہی عذاب آجاتا ہے جو ان پر آیا تھا۔ رواہ الترمذی۔ عمرو بن شعیب کے دادا راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن تکبر کرنے والوں کو چیونٹیوں کی طرح (حقیر و ذلیل بنا کر) آدمیوں کی صورتوں میں اٹھایا جائے گا کہ ہر طرف سے ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی ‘ ان کو بوئس نام کے جہنم میں داخل کیا جائے گا ‘ سب سے بڑی آگ ان پر مسلط ہوگی اور طینۃ الخبال یعنی دوزخیوں کا نچوڑ ان کو پلایا جائے گا۔ رواہ الترمذی۔ حضرت اسماء ؓ بنت عمیس کا بیان ہے میں نے خود رسول اللہ ﷺ : کو یہ فرماتے سنا وہ بندہ برا ہے جو اتراتا اور تکبر کرتا ہے اور اللہ برتر و بزرگ کو بھول جاتا ہے۔ رواہ الترمذی والبیہقی فی شعیب الایمان۔ ایک روز حضرت عمر ؓ نے منبر پر فرمایا تھا لوگو ! میں نے خود رسول اللہ ﷺ سے یہ فرمان سنا تھا کہ جو اللہ کے لئے تواضع اختیار کرتا ہے ‘ اللہ اس کو اٹھا کر اونچا کردیتا ہے گو وہ اپنی نظر میں تو نیچا ہوتا ہے مگر لوگوں کی نظروں میں بڑا ہوجاتا ہے اور جو خود بڑا ہوجاتا ہے اور جو خود بڑا بنتا ہے اللہ اس کو پست کردیتا ہے پس وہ لوگوں کی نظروں میں چھوٹا ہوجاتا ہے اور خود اپنی نظروں میں بڑا ہوتا ہے یہاں تک کہ لوگوں کے نزدیک وہ کتے اور سور سے بھی زیادہ ذلیل ہوتا ہے۔ واللہ اعلم۔ ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ (پوری) توریت پندرہ آیات میں ہے پھر آپ نے آیات ولا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا اَخَرَ ۔۔ تلاوت فرمائیں۔
Ayah 17:38

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَیِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا Open ayah 17:38 in the Quran reader

ان سب (عادتوں) کی برائی تیرے پروردگار کے نزدیک بہت ناپسند ہے

كُلُّ ذٰلِكَ كَانَ سَيِّئُهٗ عِنْدَ رَبِّكَ مَكْرُوْهًا : یہ سارے برے کام تیرے رب کے نزدیک (بالکل) ناپسندیدہ ہیں۔ کُلُّ ذٰلِکَ یعنی مذکورۂ بالا تمام امور جن میں سے کچھ مامورات ہیں اور کچھ منہیات۔ بعض امور کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے بعض احکام کے ارتکاب کی ممانعت کی گئی ہے۔ سَیِّءُہٗ یعنی امور مذکورہ میں سے جو برے ہیں اور ان کے ارتکاب کی ممانعت کی گئی ہے۔ مکروہ ناپسندیدہ قابل نفرت۔
Ayah 17:39

ذٰلِكَ مِمَّاۤ اَوْحٰۤى اِلَیْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ١ؕ وَ لَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ فَتُلْقٰى فِیْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا Open ayah 17:39 in the Quran reader

اے پیغمبر یہ ان (ہدایتوں) میں سے ہیں جو خدا نے دانائی کی باتیں تمہاری طرف وحی کی ہیں۔ اور خدا کے ساتھ کوئی معبود نہ بنانا کہ (ایسا کرنے سے) ملامت زدہ اور (درگاہ خدا سے) راندہ بنا کر جہنم میں ڈال دیئے جاؤ گے

ذٰلِكَ مِمَّآ اَوْحٰٓى اِلَيْكَ رَبُّكَ مِنَ الْحِكْمَةِ یہ باتیں اس حکمت میں کی ہیں جو خدا تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے آپ کے پاس بھیجی ہیں۔ صاحب قاموس نے حکمت کے متعدد معانی لکھے ہیں۔ عدل ‘ علم ‘ تحمل ‘ دانائی ‘ نبوت ‘ قرآن ‘ انجیل۔ میرے نزدیک اس جگہ علم نافع مراد ہے۔ وَلَا تَجْعَلْ مَعَ اللّٰهِ اِلٰـهًا اٰخَرَ اور (اے انسان) اللہ کے ساتھ دوسرا معبود قرار نہ دے۔ ممانعت شرک کا دوبارہ حکم دینے سے اس بات پر تنبیہ مقصود ہے کہ توحید ہی بنیاد ہے ‘ اسی پر تمام اعمال کی صحت کا مدار ہے یہ ہی ہر عمل کا انتہائی مقصد ہے اگر اللہ کے سوا کسی دوسرے کی غرض سے کوئی کام کیا جائے یا ترک کیا جائے تو کوئی کوشش نتیجہ خیز نہ ہوگی ‘ توحید ہر حکمت کا سرچشمہ اور مدار ہے علم توحید بالذات اور اصلی مقصد ہے ‘ باقی علوم سے مقصودعمل ہے ‘ خود فی نفسہٖ وہ مقصود نہیں ہیں ‘ شرک کا نتیجہ دنیا میں بھی برا ہے اور آخرت میں بھی۔ فَتُلْقٰى فِيْ جَهَنَّمَ مَلُوْمًا مَّدْحُوْرًا ورنہ تو الزام خوردہ اور ماندہ ہو کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ ملوماً یعنی تو خود اپنی جان کو برا کہے گا اور اللہ بھی اور ساری مخلوق بھی تجھے ملامت کرے گا۔ مدحوراً اللہ کی رحمت سے دھتکارا ہوا۔
Ayah 17:40

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بِالْبَنِیْنَ وَ اتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰٓئِكَةِ اِنَاثًا١ؕ اِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 17:40 in the Quran reader

(مشرکو!) کیا تمہارے پروردگار نے تم کو لڑکے دیئے اور خود فرشتوں کو بیٹیاں بنایا۔ کچھ شک نہیں کہ (یہ) تم بڑی (نامعقول بات) کہتے ہو

اَفَاَصْفٰىكُمْ رَبُّكُمْ بالْبَنِيْنَ وَاتَّخَذَ مِنَ الْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنَاثًا ۭاِنَّكُمْ لَتَقُوْلُوْنَ قَوْلًا عَظِيْمًا کیا تمہارے رب نے تمہارے لئے لڑکے مخصوص کردیئے ہیں اور اپنے لئے لڑکیاں اختیار کرلی ہیں بلاشبہ تم (اللہ کی شان میں) بڑی (گستاخی کی) بات کہتے ہو۔ یعنی بہت بری بات کہتے ہو ‘ اللہ کی طرف صاحب اولاد ہونے کی نسبت کر رہے ہو باوجودیکہ سلسلۂ تناسلی ان اجسام کی خصوصیت ہے جو زوال پذیر اور فانی ہیں ‘ پھر اولاد میں سے بھی اس اولاد کا والد اللہ کو قرار دیتے ہو جو صنف کے لحاظ سے کمزور ہے (اور اپنے لئے قوی صنف کو پسند کرتے ہو) اور اس پر طرفہ یہ کہ ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں کہتے ہو۔ ملائکہ تو ساری مخلوق میں لطیف ترین نوع ہیں ان کو بیٹیاں کہنا (یعنی ضعیف ترین صنف انسان قرار دینا) انتہائی حماقت ہے۔
Ayah 17:41

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْا١ؕ وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا Open ayah 17:41 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح کی باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ نصیحت پکڑیں گے۔ مگر وہ اس سے اور بدک جاتے ہیں

وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْا ۭ وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا : اور ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان کیا ہے تاکہ اس کو اچھی طرح سے سمجھ لیں اور ان کی نفرت ہی بڑھتی جاتی ہے۔ یعنی اس قرآن میں ہم نے متعدد مقامات پر جو عبرتیں ‘ حکمتیں ‘ احکام ‘ امثال ‘ دلائل اور نصیحتیں بیان کی ہیں وہ اسی لئے بیان کی ہیں کہ لوگ نصیحت پذیر اور سبق اندوز ہوں۔ یا یہ مطلب ہے کہ مذکورۂ بالا مطلب کو ہم نے بار بار مختلف طریقوں سے اس قرآن میں نصیحت پذیر کے لئے ثابت کیا ہے ‘ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ ہذا القرآن سے مراد ہو ملائکہ کو خدا کی بیٹیاں قرار دینے کا ابطالی قول یعنی فرشتوں کے بنات اللہ ہونے کا قول ہم نے بار بار بکثرت بیان کیا ہے۔ (اس مطلب پر قرآن بمعنی قرأت ہوگا یعنی قول) صَرَّفْنَا (باب تفعیل) کثرت پر دلالت کر رہا ہے۔ یعنی ہم نے بکثرت بیان کیا۔ لِیَذَّکرُّوا تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور جو چیز اللہ کے لئے سزاوار نہیں ہے اس کی نسبت اللہ کی طرف نہ کریں اور اوامرو نواہی کی پابندی کریں۔ وَمَا یَزِیْدُہُمْیعنی ہمارا بار بار بیان کرنا اور نصیحت کرنا ان کے لئے سودمند نہیں ہوتا اس سے ان لوگوں کو حق سے مزید نفرت اور دوری پیدا ہوتی ہے۔
Ayah 17:42

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا Open ayah 17:42 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر خدا کے ساتھ اور معبود ہوتے جیسا کہ یہ کہتے ہیں تو وہ ضرور (خدائے) مالک عرش کی طرف (لڑنے بھڑنے کے لئے) رستہ نکالتے

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗٓ اٰلِـهَةٌ كَمَا يَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِي الْعَرْشِ سَبِيْلًا : آپ کہہ دیجئے اگر اس کے ساتھ اور بھی معبود ہوتے جیسا یہ لوگ کہتے ہیں تو اس حالت میں عرش والے تک انہوں نے راستہ ڈھونڈ لیا ہوتا یعنی اگر ان کے قول کے مطابق اللہ کے ساتھ دوسرے خدا ہوتے تو بادشاہوں کے دستور کے موافق وہ عرش والے خدا سے لڑ پڑتے اور اس پر غالب آنے کی کوشش کرتے۔ اگر دو خدا ہوں گے تو ان کا باہم ٹکراؤ ممکن ہوگا اور امکان تصادم سے ایک کا مغلوب اور دوسرے کا غالب آنا یا دونوں کا مغلوب نہ ہونا ضروری ہے اسی طرح ایک غالب ہوگا یا دونوں عاجز ہوں گے اور عاجز ہونا شان الوہیت کے خلاف ہے اسی طرح مغلوب بھی خدا نہیں ہوسکتا۔
Ayah 17:43

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا Open ayah 17:43 in the Quran reader

وہ پاک ہے اور جو کچھ یہ بکواس کرتے ہیں اس سے (اس کا رتبہ) بہت عالی ہے

سُبْحٰنَهٗ وَتَعٰلٰى عَمَّا يَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِيْرًا : جو باتیں یہ لوگ کہتے ہیں اللہ ان (عیوب) سے پاک ہے اور بہت زیادہ برتر ہے۔ یعنی اللہ عاجز ہونے اور تصادم سے پاک ہے عجز و تصادم شان الوہیت کے منافی ہے اور مشرکوں کے مشرکانہ قول سے وہ بہت دور ہے جس طرح اللہ کی ذات ہر ذات (شئی) سے اعلیٰ اور بالا ہے اسی طرح اس کا وجود بھی تمام مراتب وجود سے اونچا ہے اور محتاج اولاد ہونا تو ادنیٰ ترین وجود کی خصوصیت ہے ‘ فنا پذیر موجودات کو اولاد کی ضرورت ہوتی ہے شرکت ملکیت کاملہ کے منافی ہے اور ناقص ملکیت کی علامت ہے۔
Ayah 17:44

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا Open ayah 17:44 in the Quran reader

ساتوں آسمان اور زمین اور جو لوگ ان میں ہیں سب اسی کی تسبیح کرتے ہیں۔ اور (مخلوقات میں سے) کوئی چیز نہیں مگر اس کی تعریف کے ساتھ تسبیح کرتی ہے۔ لیکن تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھتے۔ بےشک وہ بردبار (اور) غفار ہے

تُـسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّـبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِيْهِنَّ ۭ وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِه : تمام ساتوں آسمان اور زمین اور جتنے ان میں ہیں اس کی پاکی بیان کرتے ہیں اور کوئی چیز ایسی نہیں جو تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان نہ کرتی ہو۔ یعنی ہر چیزلوازم امکان خصوصیات حدوث اور ان تمام امور سے اللہ کی ذات کے پاک ہونے کا اعتراف کرتی ہے جو شان الوہیت کے خلاف ہیں اور اللہ کے جمال ذات ‘ کمال صفات اور انعامات متواترہ کا اپنی اس نوعی زبان سے اقرار کرتی ہے جو اللہ نے خاص طور پر اس کو عطا فرمائی ہے اور اس کو سنتا اور سمجھتا بھی وہی ہے جس کے دل کو اللہ نے اس زبان و قول کو سننے اور سمجھنے کی قابلیت دی ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا ہم آیات (معجزات) کو برکت جانتے تھے اور تم لوگ ان کو خوف انگیزی کا سبب خیال کرتے ہو ‘ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب ایک سفر میں تھے پانی کی کمی پڑگئی ‘ حضور ﷺ نے فرمایا جو کچھ بچا کھچا ہوا پانی ہو وہ میرے پاس لے آؤ صحابہ نے ایک برتن لا کر حاضر کردیا جس میں قدرے پانی تھا آپ نے دست مبارک اس میں ڈال دیا اور فرمایا برکت والے پاک (پانی) کی طرف آؤ اور برکت اللہ کی طرف سے ہے۔ میں نے خود دیکھا کہ آپ کی انگلیوں کے بیچ میں سے پانی پھوٹ کر نکل رہا تھا اور کھانا کھایا جاتا تھا تو کھانے کے اندر سے ہم سبحان اللہ کی آواز سنا کرتے تھے (یعنی کھانا سبحان اللہ کہتا تھا) رواہ البخاری۔ مجاہد کا قول ہے کہ ہر چیز خواہ جاندار ہو یا بےجان اللہ کی تسبیح پڑھتی ہے یعنی سبحان اللہ وبحمدہ کہتی ہے۔ ابراہیم نخعی نے کہا ہر چیز خواہ جاندار ہو یا جماد (بےجان) حمد کے ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرتی ہے یہاں تک کہ دروازے کی چرچراہٹ اور چھت کے ٹوٹ کر گرنے کی آواز بھی (تسبیح وتحمید کا اظہار کرتی ہے ‘ بعض علماء نے کہا (شئی سے مراد ہے ‘ ہر زندہ چیز یعنی) زندہ چیزیں سبحان اللہ پڑھتی ہیں (مقصد یہ ہے کہ جن و انس ‘ ملائکہ اور تمام جانور تسبیح خواں ہیں اور اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں) قتادہ نے کہا تمام حیوانات اور نباتات تسبیح کا اقرار کرتے ہیں (یعنی نموپذیر چیز سبحان اللہ پڑھتی ہے ‘ جمادات مراد نہیں ہیں) ۔ عکرمہ نے کہا درخت تسبیح پڑھتا ہے اور (اسی درخت کی لکڑی سے بنا ہوا) ستون تسبیح نہیں پڑھتا۔ میرے نزدیک یہ تخصیص غلط ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب خطبہ کے وقت ستون سے ٹیک لگانی چھوڑ دی (اور منبر پر خطبہ دینے لگے) تو آپ ﷺ : کی جدائی کی وجہ سے اس ستون کا بچوں کی طرح رونا صحیح حدیث سے ثابت ہے۔ آیت میں آیا ہے کہ (اللہ نے حضرت داؤد کے ساتھ پہاڑوں اور پرندوں کو تسبیح پڑھنے کا حکم دیا اور فرمایا) یَا جِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ ۔ طبرانی نے حضرت ابن مسعود ؓ : کی روایت سے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پہاڑ دوسرے پہاڑ سے پکار کر دریافت کرتے ہیں کیا تیرے اوپر سے کوئی آدمی اللہ کا ذکر کرتا گزرا ہے ‘ جب وہ پہاڑ ہاں کہہ دیتا ہے تو پوچھنے والا پہاڑ خوش ہوجاتا ہے ‘ اس کے علاوہ ہر چیز بزبان حال تو تسبیح میں مشغول رہتی ہی ہے ہر چیز ممکن ہے حادث ہے اور ہر ممکن و حادث ایک ایسے صانع کا محتاج ہے جو واجب الوجود ہو۔ قدیم بالذات ہو۔ ہر نقص ‘ عیب ‘ فنا اور زوال سے پاک ہو ‘ صفات کمالیہ سے متصف ہو۔ لہٰذا تسبیح سے صرف تسبیح حالی مراد لینا غلطی ہے ‘ ہر چیز تسبیح حالی اور تسبیح مقالی میں مشغول ہے۔ وَلٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِيْحَهُمْ لیکن (اے لوگو ! یعنی اے اکثر انسانو ! ) تم ان کی تسبیح خوانی کو نہیں سمجھتے۔ مطلب یہ ہے کہ تم ان کی تسبیح مقالی کو نہیں سمجھتے (تسبیح حالی کو تو تمام عقلمند انسان سمجھتے ہیں کون دانشور مصنوع کو بغیر صانع کے اور مخلوق کو بغیر خالق کے اور اثر کو بغیر موثر کے کہہ سکتا ہے) ہاں مشرک چونکہ کور بصیرت اور دماغی نابینا ہوتے ہیں (وہ تسبیح حالی کو بھی نہیں سمجھتے) 1 ؂ اِنَّهٗ كَانَ حَلِــيْمًا غَفُوْرًا بلاشبہ اللہ حلم والا اور بخشنے والا ہے۔ گناہ کی سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا اور جو توبہ کرتا ہے اس کو بخش دیتا ہے۔ ابن منذر نے ابن شہاب (زہری) کے حوالہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جب قریش کے مشرکوں کو قرآن مجید پڑھ کر سنایا اور اللہ کی طرف آنے کی دعوت دی تو انہوں نے مذاق بناتے ہوئے کہا قُلُوْبُنَا فِیْ اَکِنَّۃٍ مِّمَّا تَدْعُوْنَا اِلَیْہِ وَفِیْ اٰذَانِنَا وَقْرٌوَ مِنْ بَّیْنِنَا وَبَیْنِکَ حِجَابٌاس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 17:45

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ Open ayah 17:45 in the Quran reader

اور جب قرآن پڑھا کرتے ہو تو ہم تم میں اور ان لوگوں میں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے حجاب پر حجاب کر دیتے ہیں

وَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَيْنَكَ وَبَيْنَ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًا اور جب آپ قرآن پڑھتے ہیں تو ہم آپ کے اور ان لوگوں کے درمیان جو آخرت کو نہیں مانتے ‘ ایک ایسا پردہ حائل کردیتے ہیں جو (قرآن کو سمجھنے سے) آڑ بن جاتا ہے۔ قتادہ نے کہا حجاب سے مراد اَکِنَّہ ہے (یعنی وہی غلاف اور پردہ مراد ہے جو مشرکوں نے قُلُوْبَنَا فِیْ اَکِنَّۃٍمیں کہا تھا) حجاب یعنی ایسا پردہ جو دلوں کو قرآن فہمی سے روک دے اور فائدہ نہ اٹھانے دے۔ مَسْتُوْراً یعنی وہ پردہ حسی نہیں ہوتا جو اس سے پوشیدہ ہوتا ہے۔ یا یہ مراد ہے کہ وہ پردہ دوسرے پردوں کے اندر چھپا ہوا ہوتا ہے (یعنی پردے کے اوپر ایک اور پردہ ہوتا ہے) بعض علماء نے کہا اس جگہ مستور (اسم مفعول) ساتر (اسم فاعل) کے معنی میں ہے یعنی چھپانے والا۔ جیسے آیت کان وَعْدُہٗ مَاتِیًّا میں ماتِیًّاسے مراد ہے آنے والا۔ (آنکھ سب کچھ دیکھتی ہے لیکن حق کو نہیں پہچانتی ‘ ایضاً 12) بعض نے کہا حجاب سے مراد ہے ایسا پردہ جو رسول اللہ ﷺ : کی (رسولی شخصیت) کو ظاہری آنکھوں سے چھپا دینے والا تھا ‘ بغوی نے سعید بن جبیر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب تَبَّتْ یَدَا ابَِْی لَہَبٍنازل ہوئی تو ابو لہب کی بیوی ایک پتھر لے کر ( رسول اللہ ﷺ : کو مارنے کے لئے) آئی آپ ﷺ اس وقت حضرت ابوبکر ؓ کے ساتھ (بیٹھے ہوئے) تھے لیکن عورت کو رسول اللہ ﷺ : نظر نہیں آئے ‘ حضرت ابوبکر ؓ سے کہنے لگی تمہارا ساتھی کہاں ہے مجھے اطلاع ملی ہے کہ اس نے میری ہجو کی ہے حضرت ابوبکر ؓ نے فرمایا خدا کی قسم وہ تو شعر نہیں پڑھتے ‘ نہ شعر کہتے ہیں (پھر ہجو کس طرح کی) عورت یہ کہتی ہوئی لوٹ گئی ‘ مَیں تو اس پتھر سے اس کا سر پھاڑنے آئی تھی (اگر مل جاتا تو سر پھاڑ دیتی) حضرت ابوبکر ؓ نے (عورت کے جانے کے بعد) عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ وہ آپ کو نہیں دیکھ پائی ‘ فرمایا ایک فرشتہ میرے اور اس کے درمیان آڑ کئے رہا۔ میں کہتا ہوں سعید بن جبیر کی روایت کے بموجب آیت کا تعلق ایک مخصوص واقعہ سے قرار پائے گا ‘ ایسا ہمیشہ نہیں ہوتا تھا کہ آپ قرآن پڑھتے ہوں اور کافر آپ کو نہ دیکھ سکتے ہوں۔
Ayah 17:46

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا Open ayah 17:46 in the Quran reader

اور ان کے دلوں پر پردہ ڈال دیتے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور ان کے کانوں میں ثقل پیدا کر دیتے ہیں۔ اور جب تم قرآن میں اپنے پروردگار یکتا کا ذکر کرتے ہو تو وہ بدک جاتے اور پیٹھ پھیر کر چل دیتے ہیں

وَّجَعَلْنَا عَلٰي قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ يَّفْقَهُوْهُ اور ان کے دلوں پر قرآن فہمی سے روکنے والے پردے ڈال دیتے ہیں یعنی ایسے پردے جو دلوں کو چھپالیتے ہیں اور حق کو سمجھنے اور قبول کرنے سے رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ وَفِيْٓ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا اور ان کے کانوں میں ڈاٹ لگا دیتے ہیں تاکہ گوش قبول سے نہ سن سکیں (معنی کا فہم دل سے ہوتا ہے اور الفاظ کانوں سے سنے جاتے ہیں) اور قرآن اپنی معنویت کے لحاظ سے بھی معجزہ ہے اور لفظی ساخت کے اعتبار سے بھی اس لئے مشرکوں کے دلوں پر بھی اللہ نے پردہ ڈال دیا کہ معنوی اعجاز کو سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں بھی گرانی پیدا کردی کہ لفظی اعجاز کو سن نہ سکیں۔ وَاِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِي الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰٓي اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا اور جب آپ قرآن میں صرف اپنے رب کا ذکر کرتے ہیں تو وہ لوگ نفرت کرتے ہوئے پشت پھیر کر چل دیتے ہیں۔ یعنی اگر اللہ کے ساتھ ان کے معبودوں کا ذکر نہ ہو تو وہ محض توحید کا ذکر سن کر بدکتے اور بھاگتے اور نفرت کرتے ہیں۔ نُفُوراً بھاگنا ‘ بدکنا ‘ نفرت کرنا۔ یہ لفظ مفعول لہ ہے یا مفعول مطلق یا نافر کی جمع ‘ جیسے عاقد کی جمع عقود ہے۔
Ayah 17:47

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 17:47 in the Quran reader

یہ لوگ جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں تو جس نیت سے یہ سنتے ہیں ہم اسے خوب جانتے ہیں اور جب یہ سرگوشیاں کرتے ہیں (یعنی) جب ظالم کہتے ہیں کہ تم ایک ایسے شخص کی پیروی کرتے ہو جس پر جادو کیا گیا ہے

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا يَسْتَمِعُوْنَ بِهٖٓ اِذْ يَسْتَمِعُوْنَ اِلَيْكَ : جس وقت یہ لوگ آپ کی طرف کان لگاتے ہیں تو ہم خوب جانتے ہیں جس غرض سے یہ سنتے ہیں۔ یعنی جس سبب سے اور جس استہزائیہ طریقے سے وہ قرآن سنتے ہیں اور آپ کا اور قرآن کا مذاق اڑانے کے لئے آپ ﷺ : کی طرف کان لگاتے ہیں ہم اس سے بخوبی واقف ہیں۔ وَاِذْ هُمْ نَجْوٰٓى اِذْ يَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا اور جس وقت یہ لوگ آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں جب کہ یہ ظالم یوں کہتے ہیں کہ تم لوگ محض ایسے شخص کا ساتھ دے رہے ہو جو جادو زدہ ہے۔ نجویٰ مصدر بمعنی فاعل ہے یا نجی کی جمع ہے۔ یعنی جب آپ کی طرف کان لگا کر قرآن سنتے ہیں تو ہم ان کی اس غرض کو جو وہ دلوں میں پوشیدہ رکھتے ہیں خوب جانتے ہیں۔ یا یہ مطلب ہے کہ جب وہ باہم کانا پھوسی اور سرگوشیاں کرتے ہیں تو ہم خوب جانتے ہیں (کہ وہ کیا باتیں کہہ رہے ہیں) الظَّلِمُوْنَسے مراد ہیں ولید بن مغیرہ اور اس کے ساتھی۔ رسول اللہ ﷺ : کو سحر زدہ قرار دینا آپ پر ظلم تھا اور ولید بن مغیرہ وغیرہ اس ظلم کے مرتکب تھے۔ مسحور سحر زدہ کہ جادو کی وجہ سے اس کی عقل ٹھکانے سے نہ رہی ہو۔ مجاہد نے مسحور کا ترجمہ کیا ہے فریب خوردہ۔ بعض علماء نے کہا یہ لفظ ماسَحَرَکَسے ماخوذ ہے ‘ مَاسَحَرَکَ کا معنی ہے تجھے کس چیز نے پھیر دیا ‘ اس وقت مسحور کا ترجمہ ہوگا حق سے برگشتہ۔ ابو عبید نے مسحور کا ترجمہ کیا سحر والا اور سحر کا معنی ہے پھیپڑہ مراد یہ ہے کہ جو شخص تو تم جیسا پھیپڑوں والا آدمی ہے کھاتا ہے پیتا ہے سانس لیتا ہے۔
Ayah 17:48

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا Open ayah 17:48 in the Quran reader

دیکھو انہوں نے کس کس طرح کی تمہارے بارے میں باتیں بنائیں ہیں۔ سو یہ گمراہ ہو رہے ہیں اور رستہ نہیں پاسکتے

اُنْظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا دیکھو ان لوگوں نے آپ کے لئے کیسے کیسے القاب تجویز کئے ہیں سو یہ لوگ گمراہ ہوگئے۔ کسی نے شاعر کہا ‘ کسی نے جادوگر ‘ کسی نے سحر زدہ اور مسحور۔ کسی نے کاہن ‘ کسی نے جن رسیدہ دیوانہ۔ یہ باتیں کہنے کی وجہ سے یہ حق سے بھٹک گئے کیوں کہ ان باتوں میں سے کسی میں سچائی تو ہے نہیں ‘ کوئی بات حق نہیں ہے۔ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ سَبِيْلًا اب رستہ ہی نہیں پاسکتے۔ یعنی حق و ہدایت کے راستے پر چل نہیں سکتے ‘ کیونکہ اللہ نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں ‘ یا یہ مطلب ہے کہ حسب مراد کسی مدلل ‘ مناسب طعن کا ان کو راستہ نہیں ملتا کبھی کچھ کہتے ہیں کبھی کچھ کہتے ہیں ‘ بےدلیل ‘ اندھا دھند ہاتھ مارتے ہیں۔ جیسے حیران ‘ پراگندہ بدحواس آدمی ہوتا ہے۔ بدحواسی کی وجہ سے اس کو معلوم نہیں ہوتا کہ کیا کرے۔
Ayah 17:49

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا Open ayah 17:49 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیوں اور چُور چُور ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا ہو کر اُٹھیں گے

وَقَالُوْٓا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّرُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِيْدًا اور مشرکوں نے کہا کیا جب ہم ہڈیاں اور بوسیدہ ریزے ہوگئے تو کیا ہم کو پھر بھی از سر نو تخلیق کر کے اٹھایا جائے گا۔ رُفات فرسودہ بوسیدہ ریزے ریزے۔ فتات اور حطام کا بھی یہی معنی ہے۔ قاموس میں ہے رفت یرفت (نصر ینصر) توڑ دیا ‘ ٹوٹ گیا ‘ ریزہ ریزہ ہوگیا اور ریزہ ریزہ کردیا۔ یہ لفظ لازم بھی ہے اور متعدی بھی۔ رفات بروزن غراب ‘ فرسودہ بوسیدہ ‘ ریزہ ریزہ۔ مجاہد نے رفاتاً کا ترجمہ کیا ہے خاک ‘ مٹی ‘ زندہ آدمی کے بدن میں تروتازگی اور شادابی ہوتی ہے اور بوسیدہ ہڈیاں خشک ہوتی ہیں ‘ دونوں حالتوں میں تضاد ہے اس لئے مشرکوں کو بوسیدہ ہڈیوں کے از سر نوترو تازہ ہو کر زندہ ہوجانے کا انکار تھا۔
Ayah 17:50

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ Open ayah 17:50 in the Quran reader

کہہ دو کہ (خواہ تم) پتھر ہوجاؤ یا لوہا

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِيْدًا : آپ کہہ دیجئے تم لوگ پتھر یا لوہا
Ayah 17:51

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْ١ۚ فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَا١ؕ قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ۚ فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ١ؕ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا Open ayah 17:51 in the Quran reader

یا کوئی اور چیز جو تمہارے نزدیک (پتھر اور لوہے سے بھی) بڑی (سخت) ہو (جھٹ کہیں گے) کہ (بھلا) ہمیں دوبارہ کون جِلائے گا؟ کہہ دو کہ وہی جس نے تم کو پہلی بار پیدا کیا۔ تو (تعجب سے) تمہارے آگے سرہلائیں گے اور پوچھیں گے کہ ایسا کب ہوگا؟ کہہ دو کہ امید ہے جلد ہوگا

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا يَكْبُرُ فِيْ صُدُوْرِكُم : یا کوئی ایسی مخلوق ہو کر دیکھ لو جو تمہارے ذہن میں بہت ہی بعید ہو۔ یعنی پتھر بن جاؤ یا لوہا بن جاؤ یا کوئی اور اس سے بھی بڑھ کر ایسی چیز بن جاؤ۔ جو تمہارے خیال میں قبول حیات سے بہت دور ہو ‘ مثلاً آسمان ‘ زمین پہاڑ وغیرہ کچھ بھی ہوجاؤ۔ مرنے کے بعد کچھ بھی بن جانا فرض کرلو۔ (تم کو ضرور زندہ کر کے اٹھایا جائے گا) اعراض (یعنی مختلف احوال) کو قبول کرنے میں تمام اجسام برابر ہیں (ہر جسم عرض یعنی مختلف کمیت کیفیت وغیرہ کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے) بوسیدہ ہڈیاں ہوجانے کے بعد از سر نو زندہ ہوجانا تو زیادہ دشوار نہیں ہے۔ ہڈیاں تو پہلے زندہ ہی تھیں۔ تروتازگی کے بعد ان میں خشکی آتی ہے۔ جس میں ایک بار تازگی ہوچکی ہے اس کا دوبارہ تازگی کو قبول کرنا آسان ہے۔ کُوْنُوْا حِجَارَۃً ۔۔ سے مراد امر تکلیفی نہیں ہے۔ یعنی یہ مطلب نہیں کہ تم کو پتھر یا لوہا بن جانا لازم ہے یا اس کا تم کو اختیار ہے بلکہ مراد امر تقدیری ہے ‘ یعنی فرض کرلو کہ تم پتھر ہوجاؤ گے یا لوہا بن جاؤ گے یا کسی اور اس سے بھی زیادہ چیز میں تبدیل ہوجاؤ گے اور جمادیت میں اتنے آگے بڑھ جاؤ گے جو تمہارے خیال میں زندگی سے بہت ہی زیادہ دور ہے۔ فَسَيَقُوْلُوْنَ مَنْ يُّعِيْدُنَا ۭ قُلِ الَّذِيْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ ۚ سو (یہ بات سن کر) وہ کہیں گے کہ (مرنے کے بعد) دوبارہ ہم کو زندہ کرے گا کون (یعنی مان لیا کہ ہر جسم قبول حیات کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہر جسم میں ہر عرض کے توارد کی قابلیت ہے لیکن ہر جسم پر ہر عرض آتا تو نہیں ہے جب تک کوئی مؤثر نہ ہو محض صلاحیت و استعداد تو اس کے لئے کافی نہیں ہے کسی زبردست مؤثر اور فاعل کی ضرورت ہے اور ایسا کرنے والا ہمیں تو کوئی نظر نہیں آتا) آپ کہہ دیجئے کہ جس نے تم کو اوّل بار پیدا کیا (اس کی قدرت تم کو معلوم ہوچکی ہے) وہی دوبارہ بھی تخلیق کر دے گا (پہلے تو تم مٹی تھے زندگی کو قبول کرنے سے بہت دور اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرنے میں تو فقط پہلی حالت کا لوٹا کر لانا ہے اور ظاہر ہے کہ عدم محض سے وجود میں لانا معدوم کر کے موجود کردینے سے زیادہ دشوار ہے) ۔ فَسَيُنْغِضُوْنَ اِلَيْكَ رُءُوْسَهُمْ وَيَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَ یہ سن کر وہ تمہارے سامنے (تعجب یا استہزاء کے طور پر) سر مٹکا کر کہیں گے ‘ اچھا تو ایسا ہوگا کب (یعنی اگر ہم مان لیں کہ دوبارہ زندہ ہوجانا ناممکن نہیں ہے اور یہ بھی مان لیں کہ جس نے اوّل بار پیدا کیا وہی دوبارہ پیدا کرسکتا ہے) تو یہ بتاؤ کہ دوسری زندگی کب ہوگی (اس میں تاخیر کیوں ہے ‘ کروڑوں مرگئے اور آج تک کوئی دوبارہ زندہ ہو کر نہیں آیا یہ تاخیر کیوں ہو رہی ہے) قُلْ عَسٰٓي اَنْ يَّكُوْنَ قَرِيْبًا آپ کہہ دیجئے کہ امید ہے (ہو سکتا ہے) کہ دوسری زندگی قریب ہی ہو آخر دوسری زندگی ہوگی ضرور اور جو چیز آئندہ ضرور ہونے والی ہے وہ قریب ہی ہے) یا یہ مطلب ہے کہ قریب (اور قلیل) وقت میں ہی ایسا ہوجائے گا یا یہ مطلب ہے کہ ابتداء تخلیق عالم سے دوسری زندگی زیادہ دور نہیں ہے۔
Ayah 17:52

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 17:52 in the Quran reader

جس دن وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی تعریف کے ساتھ جواب دو گے اور خیال کرو گے کہ تم (دنیا میں) بہت کم (مدت) رہے

يَوْمَ يَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِيْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ یہ اس روز ہوگا جس روز اللہ تم کو پکارے گا اور تم (بلا اختیار) اس کی حمد کرتے ہوئے حکم کی تعمیل کرو گے۔ یعنی اسرافیل کی زبانی جب اللہ تم کو قبروں سے میدان قیامت کی طرف حساب فہمی کے لئے طلب فرمائے گا تو تم (تعمیل حکم اور عمل سے) دعوت کو قبول کرو گے۔ یا (دعوت اور استجابت سے مراد ہے قبروں سے اٹھایا جانا اور اٹھنا اس صورت میں) یہ مطلب ہے کہ اللہ تم کو قبروں سے اٹھائے گا اور تم اٹھو گے ‘ یعنی فوراً حساب فہمی کے لئے اٹھ کر میدان قیامت میں آجاؤ گے۔ بِحَمْدِہٖ کا یہ مطلب ہے کہ قبروں سے اٹھتے وقت تم اللہ کی حمد کرو گے اس وقت اقرار کرو گے کہ اللہ ہی تمہارا خالق ہے اور دوبارہ زندہ کر کے اٹھانے والا ہے یا بحمدہٖ کا یہ مطلب ہے کہ جس طرح حمد کرنے والے اطاعت کرتے ہیں تم بھی قبروں سے اٹھنے کے وقت ایسی ہی اطاعت کرو گے۔ بعض علمائے تفسیر نے لکھا ہے کہ آیت میں خطاب مؤمنوں کو ہے قبروں سے اٹھتے وقت مؤمن اللہ کی ثنا کریں گے ‘ کافر حمد نہیں کریں گے وہ تو قبروں سے اٹھتے وقت (ہائے وائے کریں گے اور کہیں گے یٰوَیْلَنَا مَنْ اَبَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا ہٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ یَا حَسْرَتٰی عَلٰی مَا فَرَّطْتُ فِی جَنْبِ اللّٰہِہائے ہم کو ہماری خواب گاہ سے کس نے اٹھا دیا۔ یہ وہی ہے جس کا اللہ نے وعدہ کیا تھا اور پیغمبروں نے سچ کہا تھا۔ ہائے افسوس ‘ ہم نے اللہ کے معاملہ میں کوتاہی کی۔ ختلی نے الدیباج میں حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے جبرئیل ( علیہ السلام) نے اطلاع دی ہے کہ لا الہ الاَّ اللہ مؤمنوں کے لئے مرنے کے وقت اور قبروں میں اور قبروں سے نکلنے کے وقت انس ہوگا (یعنی یہ کلمہ وحشت دور کرنے اور سکون بخشنے کا ذریعہ ہوگا) اے محمد اگر آپ دیکھیں گے تو تعجب ہوگا کہ (یہ مؤمن) تو قبروں سے سر جھاڑتے اٹھ کھڑے ہوں گے اور لا الہ الا اللہ والحمدللہ کہتے ہوں گے جس کی وجہ سے ان کے چہرے گورے ہوں گے اور یہ (کافر) پکاریں گے ہائے افسوس میں نے اللہ کے حق میں کوتاہی کی اس وقت ان کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ طبرانی ‘ ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا الہ الا اللہ (کا اقرار کرنے) والوں کو نہ مرتے وقت وحشت ہوگی ‘ نہ قبروں کے اندر نہ قبروں سے نکلتے وقت گویا میرے سامنے ہے وہ منظر کہ چیخ (یعنی صور کی آواز) ہوتے ہی (مؤمن) سروں سے مٹی جھاڑتے ہوئے اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ اَذْہَبَ عَنَّا الْحَزَنَکہہ رہے ہیں۔ عبد بن حمید ‘ ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کی روایت سے بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی ہے۔ وَتَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا اور تم خیال کرو گے کہ (دنیا میں یا قبروں میں) تم بہت ہی کم رہے قتادہ نے کہا قیامت کے مقابلہ میں وہ دنیا کی مدت کو حقیر سمجھیں گے۔ کلبی کا بیان ہے کہ جب مشرکوں نے مسلمانوں کو زیادہ دکھ پہنچانے شروع کئے تو مسلمانوں نے حضور ﷺ سے اس کی شکایت کی اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 17:53

وَ قُلْ لِّعِبَادِیْ یَقُوْلُوا الَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ یَنْزَغُ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 17:53 in the Quran reader

اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ (لوگوں سے) ایسی باتیں کہا کریں جو بہت پسندیدہ ہوں۔ کیونکہ شیطان (بری باتوں سے) ان میں فساد ڈلوا دیتا ہے۔ کچھ شک نہیں کہ شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے

وَقُلْ لِّعِبَادِيْ يَـقُوْلُوا الَّتِيْ ھِيَ اَحْسَنُ : اور میرے بندوں سے کہہ دو کہ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہے۔ یعنی اسلام کی دعوت اور کلمۂ توحید کی تبلیغ نرمی کے ساتھ مدلل طور پر خیرخواہی کا اظہار کرتے ہوئے۔ مشرکوں کی جہالت سے ٹکراؤنہ کریں۔ حسن نے کہا (مثلاً ) مشرکوں سے یوں کہیں اللہ آپ کو سیدھا راستہ دکھا دے اس آیت کا حکم قتال کی اجازت سے پہلے تھا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ اس آیت کا نزول حضرت عمر بن خطاب کے متعلق ہوا تھا آپ کو کسی کافر نے گالی دے دی تھی اس پر آپ کو اللہ نے درگزر کرنے کا حکم اس آیت میں دے دیا۔ بعض علماء نے کہا احسن الکلمہ کلمۂ اخلاق یعنی لا الہ الا اللہ ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک آیت کا حکم تمام مسلمانوں کے لئے عام ہے اللہ نے سب کو حکم دیا ہے کہ وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو اور وہ خصلت اختیار کریں جو سب سے افضل ہو۔ اِنَّ الشَّيْطٰنَ يَنْزَغُ بَيْنَهُمْ ۭ اِنَّ الشَّيْطٰنَ كَانَ لِلْاِنْسَانِ عَدُوًّا مُّبِيْنًا بے شک شیطان لوگوں میں فساد ڈلوا دیتا ہے ‘ واقعی شیطان انسان کا صریحی دشمن ہے۔ یعنی شیطان آدمیوں میں شر اٹھاتا ہے بگاڑ پیدا کرتا ہے وہ انسان کا کھلا ہوا دشمن ہے کافروں کو تو بہکا کر جہنم میں لے جاتا ہے اور مسلمانوں میں باہم فساد اور شر اٹھاتا رہتا ہے ‘ اس لئے مسلمانوں پر لازم ہے کہ کوئی بات ایسی نہ کہیں جس سے شیطان کو شر اور بگاڑ پیدا کرنے کا موقع مل جائے۔
Ayah 17:54

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ یَّشَاْ یُعَذِّبْكُمْ١ؕ وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 17:54 in the Quran reader

تمہارا پروردگار تم سے خوب واقف ہے۔ اگر چاہے تو تم پر رحم کرے یا اگر چاہے تو تمہیں عذاب دے۔ اور ہم نے تم کو ان پر داروغہ (بنا کر) نہیں بھیجا

رَبُّكُمْ اَعْلَمُ بِكُمْ ۭ اِنْ يَّشَاْ يَرْحَمْكُمْ اَوْ اِنْ يَّشَاْ يُعَذِّبْكُمْ : تمہارا رب تمہارے احوال سے خوب واقف ہے وہ اگر چاہے گا تو (ایمان کی توفیق دے کر) تم پر رحم کرے گا یا اگر چاہے گا تو (حالت کفر پر تمہارا خاتمہ کر کے) تم کو عذاب دے گا۔ ابن جریج نے کہا یہ آیت التی ہی احسنا کی تشریح ہے (یعنی کلمۂ احسن بکم اعلم۔۔ ہے) درمیانی کلام بطور جملۂ معترضہ کے ہے ‘ مطلب یہ ہے کہ کافروں سے تم یہ بات کہو کہ تمہارا رب تمہارے احوال سے بخوبی واقف ہے۔ تم ان سے گالی گلوچ نہ کرو اور جاہلانہ جواب نہ دو اور صراحتہً ان کو دوزخی نہ کہو۔ اس سے شر بڑھے گا ‘ پھر یہ بھی معلوم نہیں کہ جو اس وقت کافر ہیں ان کا خاتمہ کس حالت پر ہوگا (ممکن ہے وہ ایمان لے آئیں اور ان کا خاتمہ ایمان پر ہو) خاتمہ کا علم تو صرف اللہ کو ہے۔ کلبی نے کہا یہ خطاب اللہ کی طرف سے مؤمنوں کو ہے مطلب یہ ہے کہ اگر اللہ چاہے گا تو مکہ والوں کے پنجہ سے تم کو بچا لے گا ‘ اور چاہے گا تو ان کے ہاتھوں سے تم کو دکھ پہنچوائے گا ‘ اور ان کو تم پر قابو دے دے گا۔ وَمَآ اَرْسَلْنٰكَ عَلَيْهِمْ وَكِيْلًا اور (اے محمد ﷺ ہم نے آپ کو ان کا ذمہ دار بنا کر نہیں بھیجا۔ ان کے معاملات آپ کے ہاتھ میں نہیں دے دیئے کہ آپ زبردستی ان کو مؤمن بنا دیں اور ان کے کافر رہنے کی آپ ﷺ کے لئے کوئی اہمیت ہو ‘ آپ ﷺ : کو تو صرف بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے ‘ اس لئے ان سے نرمی کیجئے اور اپنے ساتھیوں کو حکم دیجئے کہ کافروں کی طرف سے پہنچنے والی اذیتوں کو برداشت کریں۔