17. Surah Al-Israa

الإسراءThe Night Journey · 111 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 17:55

وَ رَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِیّٖنَ عَلٰى بَعْضٍ وَّ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا Open ayah 17:55 in the Quran reader

اور جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں تمہارا پروردگار ان سے خوب واقف ہے۔ اور ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر فضیلت بخشی اور داؤد کو زبور عنایت کی

وَرَبُّكَ اَعْلَمُ بِمَنْ فِي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ : اور آسمانوں میں اور زمین میں جو بھی ہیں ان کے احوال سے آپ کا رب ہی خوب واقف ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کون نبوت اور ولایت کے قابل ہے کس کی تخلیق سعادت پر ہوئی اور کون پیدائشی شقی ہے۔ قریش اعتراض کرتے تھے کہ ابو طالب کا یتیم نبی کیسے ہوسکتا ہے اور بلالو صہیب جیسے محتاج لوگ اللہ کے ولی اور جنتی کس طرح ہوسکتے ہیں اور بڑے بڑے شرفاء مکہ دوزخی کیسے بن سکتے ہیں اس آیت میں ان بےہودہ خیالات کی تردید کردی گئی (کہ اہلیت اور صلاحیت سے اللہ کے سوا کوئی واقف نہیں ‘ دولت اور ظاہری عزت معیار قابلیت نہیں ‘ فطری جوہر قابل کس کو دیا گیا ہے اور کون اس سے محروم ہے اس سے اللہ ہی واقف ہے۔ وَلَقَدْ فَضَّلْنَا بَعْضَ النَّبِيّٖنَ عَلٰي بَعْضٍ اور حقیقت یہ ہے کہ ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض پر برتری عطا کی۔ یعنی اخلاقی اور نفسانی فضائل سے نوازا اور جسمانی و مادی آلودگیوں سے پاک صاف کیا اور اسی کو معیار فضیلت بنایا مال و اولاد وغیرہ کی کثرت و قلت کو انبیاء کی فضیلت کا ذریعہ نہیں قرار دیا ‘ اس آیت کی تفسیر کے ذیل میں قتادہ نے کہا اللہ نے ابراہیم کو اپنا خلیل بنایا موسیٰ سے کلام کیا ‘ عیسیٰ کی پیدائش (بغیر باپ کے) صرف لفظ کُن سے کی (حضرت مفسر نے فرمایا) میں کہتا ہوں جب عیسیٰ ( علیہ السلام) : گہوارے کے اندر شیر خوارگی کی حالت میں تھے اس وقت ان سے کلام کیا اور ان سے فصیح زبان میں بات کروائی اور ان کو کتاب و حکمت عطا فرمائی اور توریت و انجیل کا علم مرحمت فرمایا اور روح القدس کو (ہر وقت) ان کی امداد پر مامور فرمایا (قتادہ نے کہا) اور سلیمان کو ایسی حکومت عنایت کی جو آپ کے بعد کسی کو ملنا مناسب نہیں یعنی جن و انس کو ان کا تابع حکم بنا دیا اور شیطانوں کو سلیمان کے حکم سے زنجیروں میں مقید کرا دیا اور داؤد کو زبور عطا فرمائی۔ وَّاٰتَيْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًا : اور داؤد کو ہم نے زبور دی یعنی وحی کے ذریعہ سے ان کے پاس کتاب بھیج کر فضیلت و بزرگی سے نوازا حکومت (بھی دی مگر حکومت) کو وجہ برتری نہیں قرار دیا۔ مکہ کے کافروں نے رسول اللہ ﷺ : کی نبوت کا انکار اس وجہ سے کیا کہ اگر کسی کو نبی بنایا جانا ہی تھا تو ایسے آدمی کو کیوں بنایا گیا جس کو کوئی وجہ برتری حاصل نہیں۔ نہ مال و دولت اس کے پاس ہے نہ دنیوی وجاہت و اقتدار۔ مذکورۂ بالا آیات میں اللہ نے اس کی تردید کردی اور فرما دیا کہ بعض انبیاء کو بعض پر ہم نے برتری عطا کی تھی ‘ یعنی اخلاقی بلندی ‘ نفسانی بزرگی ‘ جسمانی آلودگیوں سے پاکی ‘ وہبی علوم عمومی ہدایت اور مراتب قرب کے لحاظ سے ایک کو دوسرے سے اونچا کیا تھا ‘ مال و اولاد کی کثرت وجہ برتری نہ تھی۔ رسول اللہ ﷺ : کو تمام انبیاء سے برگزیدہ بنایا آپ پر نبوت کو ختم کردیا ‘ آپ کی امت کو خیر الامم قرار دیا ‘ کیونکہ زبور میں صراحت فرما دی تھی کہ میری زمین کے وارث اصحاب صلاح ہوں گے اور امت محمدیہ کو زمین کا وارث بنایا ‘ معلوم ہوا کہ یہ امت سب امتوں پر برتری رکھتی ہے ‘ رسول اللہ ﷺ : کو قرآن مجید عطا کیا جو حجم میں اگرچہ کم ہے مگر علم و افادیت و اعجاز میں سب سے زائد ہے ‘ رسول اللہ ﷺ : کو آخری درجۂ قرب پر پہنچایا اور اس قرب کو آیت دَنٰی فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی میں ظاہر فرمایا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ زبور اللہ کی کتاب ضرور تھی جو حضرت داؤد کو دی گئی تھی اس میں ایک سو پچاس سورتیں تھیں اور سب سورتیں دعا اور حمد وثناء سے بھری ہوئی تھیں۔ نہ ان میں حرام و حلال کا بیان تھا نہ فرائض و حدود کا۔ بخاری وغیرہ نے حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ کچھ آدمی کچھ جنوں کی پوجا کرتے تھے جب وہ جن مسلمان ہوگئے۔ تب بھی یہ مشرک لوگ انہی جنات سے چمٹے رہے اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 17:56

قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا یَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَ لَا تَحْوِیْلًا Open ayah 17:56 in the Quran reader

کہو کہ (مشرکو) جن لوگوں کی نسبت تمہیں (معبود ہونے کا) گمان ہے ان کو بلا کر دیکھو۔ وہ تم سے تکلیف کے دور کرنے یا اس کے بدل دینے کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتے

قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ فَلَا يَمْلِكُوْنَ كَشْفَ الضُّرِّ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيْلًا آپ کہہ دیجئے کہ جن (جنات) کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تمہارا دکھ دور کرنے یا منتقل کرنے (یعنی تمہارے اوپر سے ٹال کر دوسروں کو اس دکھ میں مبتلا کرنے پر قابو نہیں رکھتے۔ یعنی جن جنات کو تم معبود قرار دیتے ہو وہ تمہارے افلاس اور قحط سالی وغیرہ کو دور نہیں کرسکتے۔
Ayah 17:57

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ یَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِیْلَةَ اَیُّهُمْ اَقْرَبُ وَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَ یَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ١ؕ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا Open ayah 17:57 in the Quran reader

یہ لوگ جن کو (خدا کے سوا) پکارتے ہیں وہ خود اپنے پروردگار کے ہاں ذریعہ (تقرب) تلاش کرتے رہتے ہیں کہ کون ان میں (خدا کا) زیادہ مقرب ہوتا ہے اور اس کی رحمت کے امیدوار رہتے ہیں اور اس کے عذاب سے خوف رکھتے ہیں۔ بےشک تمہارے پروردگار کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِـيْلَةَ جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کی طرف وسیلہ ڈھونڈتے ہیں۔ وہ خود اللہ کا قرب ایمان اور اطاعت کے ذریعہ سے چاہتے ہیں ‘ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وسیلہ خاص ہے اور وصیلہ عام۔ وصیلہ کا معنی ہے کسی چیز سے اتصال اور وسیلہ کا معنی ہے رغبت کے ساتھ کسی چیز تک پہنچنا۔ وسیلۂ الی اللہ سے مراد ہے علم اور عمل کے لحاظ سے اللہ کی قائم کی ہوئی راہ کی نگہداشت اور مکارم شریعت کے حصول کا ارادہ اور کوشش۔ گویا وسیلۂ الی اللہ کا مرادی معنی ہوا قرب خداوندی۔ قاموس میں ہے وسیلہ اور واسلہ بادشاہ کے دربار میں خاص مرتبہ ‘ درجہ ‘ قربت ‘ وَسَّلَ اِلَی اللّٰہِ تَوَسُّلاً کا معنی ہے ایسا عمل کیا کہ جس سے اللہ کے قرب میں پہنچ گیا۔ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ ان کا جو ان میں سب سے زیادہ قرب (خداوندی) رکھتے ہوں۔ یعنی ان میں جو سب سے زیادہ قربت رکھنے والے ہیں وہ خود بھی وسیلہ کے طلبگار ہیں قربت نہ رکھنے والوں کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ (زجاج) بعض اہل تفسیر نے اس طرح مطلب کیا ہے کہ وہ ایسے شخص کو طلب کرتے ہیں جو سب سے زیادہ اللہ کا مقرب ہوتا ہے اس کا وسیلہ پکڑتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ وہ اقرب الی اللہ ہونے کی بڑی شدت سے خواہش رکھتے ہیں یعنی کثرت طاعت کے سبب اللہ کے مقرب ترین بندے ہوجانا چاہتے ہیں۔ وَيَرْجُوْنَ رَحْمَتَهٗ وَيَخَافُوْنَ عَذَابَهٗ : اور امید رکھتے ہیں اس کی رحمت کی اور ڈرتے ہیں اس کے عذاب سے۔ یعنی جب وہ معبود خود ہی اللہ کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں تو کس بنیاد پر مشرک ان کو اپنا معبود قرار دیتے ہیں۔ اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُوْرًا : آپ کے رب کا عذاب حقیقت میں ہے ہی ڈرنے کی چیز۔ یعنی ایسا خوفناک ہے کہ اس سے فرشتوں اور پیغمبروں کو بھی ڈرنا چاہئے۔ بیضاوی نے کہا مطلب یہ ہے کہ جن کو تم معبود خیال کرتے ہو جیسے فرشتے اور مسیح اور عزیر ان میں سے کوئی بھی تمہارا دکھ دور نہیں کرسکتا ‘ یہ تو خود اللہ کے مقرب ترین بندہ بننے کے لئے وسیلہ کے خواستگار ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد نے کہا عیسیٰ ( علیہ السلام) ان کی والدہ ‘ عزیر ‘ ملائکہ ‘ چاند سورج اور ستارے سب اپنے رب کی جانب وسیلہ کے طلبگار ہیں ‘ اس کی رحمت کے امیدوار ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں (پھر ان کو کارساز معبود کس طرح بناتے ہو) بغوی نے لکھا ہے ایک بار مشرک سخت کال میں مبتلا ہوئے ‘ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ مردار تک کھا گئے ‘ مجبور ہو کر رسول اللہ ﷺ سے دعا کرنے کی درخواست کی اس پر آیت قُلِ (للمشرکین) ادْعُوْا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ (انہا الہۃ) مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَلاَ یَمْلِکُوْنَ کَشْفَ الضُّرِّ عَنْکُمْنازل ہوئی۔ آپ ﷺ : مشرکوں سے کہہ دیجئے کہ اللہ کے سوا تم جن کو معبود خیال کرتے ہو انہیں سے دعا کرو ‘ وہ تمہارا دکھ دور کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔
Ayah 17:58

وَ اِنْ مِّنْ قَرْیَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ كَانَ ذٰلِكَ فِی الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا Open ayah 17:58 in the Quran reader

اور (کفر کرنے والوں کی) کوئی بستی نہیں مگر قیامت کے دن سے پہلے ہم اسے ہلاک کردیں گے یا سخت عذاب سے معذب کریں گے۔ یہ کتاب (یعنی تقدیر) میں لکھا جاچکا ہے

وَاِنْ مِّنْ قَرْيَةٍ اِلَّا نَحْنُ مُهْلِكُوْهَا قَبْلَ يَوْمِ الْقِيٰمَةِ اَوْ مُعَذِّبُوْهَا عَذَابًا شَدِيْدًا اور (کفار کی) ایسی کوئی بستی نہیں جس کو ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا (قیامت کے دن) اس کو سخت عذاب نہ دیں۔ یعنی جو بستی کفر و معصیت کرنے والی ہے ہم اس کو یا تو قیامت سے پہلے ہلاک اور تباہ کردیں گے یا سخت عذاب دیں گے۔ مقاتل وغیرہ نے کہا ہلاک کرنے سے مراد ہے مار ڈالنا ‘ موت کو مسلط کردینا ‘ یعنی بستی والے اگر مؤمن ہوں تو ہم ان پر موت کو مسلط کردیں گے زندگی ختم کردیں گے اور کافر ہوں تو طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کردیں گے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا جب کسی بستی میں زنا اور سود پھیل جاتا ہے (یا علی الاعلان لوگ زنا کرتے اور سود کھاتے ہیں) تو اللہ اس بستی کو تباہ کرنے کا حکم دے دیتا ہے۔ كَانَ ذٰلِكَ فِي الْكِتٰبِ مَسْطُوْرًا کتاب میں یہی لکھا ہوا ہے الکتاب سے مراد ہے لوح محفوظ۔ حضرت عبادہ بن صامت ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے اوّل اللہ نے جس کو پیدا کیا وہ قلم تھا پھر اس سے فرمایا لکھ قلم نے کہا کیا لکھوں فرمایا تقدیر کو لکھ حسب الحکم قلم نے ہر اس چیز کو لکھا جو ہوچکی ہے یا ابد تک ہونے والی ہے۔ رواہ الترمذی ‘ ترمذی نے اس حدیث کی سند کو غریب کہا ہے۔ طبرانی اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے اور طبرانی و ابن مردویہ نے حضرت ابن زبیر کے حوالہ سے ایک حدیث ذرا تفصیل کے ساتھ اسی طرح نقل کی ہے کہ اہل مکہ نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ کوہ صفا کو سونے کا کر دیجئے اور ان پہاڑوں کو یہاں سے ہٹا دیجئے تاکہ (میدانی زمین نکل آئے اور) ہم اس میں کھیتی کریں ‘ اللہ نے اپنے پیغمبر کے پاس وحی بھیجی کہ اگر آپ چاہیں تو میں ان کی درخواست پوری کرنے میں ڈھیل کر دوں (ٹال دوں) اور آپ چاہیں تو ان کا سوال پورا کر دوں ‘ لیکن سوال پورا کرنے کے بعد اگر یہ لوگ ایمان نہ لائے تو میں ان کو اسی طرح تباہ کر دوں گا جس طرح ان سے پہلے والوں کو تباہ کیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے کہا نہیں ‘ تو ان کو ڈھیل دے (درخواست پوری نہ کر) اس پر اللہ تعالیٰ نے آیات ذیل نازل فرمائیں۔
Ayah 17:59

وَ مَا مَنَعَنَاۤ اَنْ نُّرْسِلَ بِالْاٰیٰتِ اِلَّاۤ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ١ؕ وَ اٰتَیْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا١ؕ وَ مَا نُرْسِلُ بِالْاٰیٰتِ اِلَّا تَخْوِیْفًا Open ayah 17:59 in the Quran reader

اور ہم نے نشانیاں بھیجنی اس لئے موقوف کردیں کہ اگلے لوگوں نے اس کی تکذیب کی تھی۔ اور ہم نے ثمود کو اونٹنی (نبوت صالح کی کھلی) نشانی دی۔ تو انہوں نے اس پر ظلم کیا اور ہم جو نشانیاں بھیجا کرتے ہیں تو ڈرانے کو

وَمَا مَنَعَنَآ اَنْ نُّرْسِلَ بالْاٰيٰتِ اِلَّآ اَنْ كَذَّبَ بِهَا الْاَوَّلُوْنَ اور ہم کو (مطلوبہ) نشانیاں بھیجنے سے صرف یہ امرمانع ہے کہ (ایسے مطلوبہ معجزات ہم نے گزشتہ قوموں کے لئے ظاہر کئے تھے پھر ان) پہلے لوگوں نے ان آیات کی تکذیب کی (اور ہم نے ان کو تباہ کردیا) یعنی مکہ کے کافر بھی طبیعت اور خود خصلت میں گزشتہ کافروں کی طرح ہیں انہوں نے بھی اسی طرح کی نشانیاں طلب کی تھیں اور جب ہم نے ان کی مطلوبہ نشانیاں ظاہر کردیں تو انہوں نے نہ مانا اور ہم نے ان کو غارت کردیا یہ کافر بھی انہی کی طرح ہیں ‘ اگر ان کے مطلوبہ معجزات ظاہر کردیئے جائیں گے اور یہ نہ مانیں گے تو ان کو تباہ کردیا جائے گا اور ہم اس امت کو تباہ کرنا چاہتے نہیں مہلت دینی چاہتے ہیں۔ وَاٰتَيْنَا ثَمُوْدَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوْا بِهَا اور ہم نے (قوم) ثمود کو (ان کی درخواست پر) اونٹنی (پتھر کے اندر سے نکال کر) دی تھی جو کھلی ہوئی نشانی تھی ‘ پھر انہوں نے اس پر ظلم کیا ‘ یعنی کفر کیا ‘ یا اس کو قتل کر کے خود اپنے اوپر ظلم کیا۔ وَمَا نُرْسِلُ بالْاٰيٰتِ اِلَّا تَخْوِيْفًا اور ہم ایسے معجزات کو صرف ڈرانے کے لئے بھیجا کرتے ہیں۔ یعنی بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنے والے عذاب دنیا سے۔ ڈرانے کے لئے جب خوف دلانا ان پر اثر انداز نہ ہوا تو دنیا میں ہی عذاب آپہنچا ‘ یا یہ مطلب ہے کہ (غیر مطلوبہ) معجزات جو ہم ظاہر کرتے یا قرآنی آیات بیان کرتے ہیں وہ صرف عذاب آخرت سے ڈرانے کے لئے۔
Ayah 17:60

وَ اِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاطَ بِالنَّاسِ١ؕ وَ مَا جَعَلْنَا الرُّءْیَا الَّتِیْۤ اَرَیْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ وَ الشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِی الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ نُخَوِّفُهُمْ١ۙ فَمَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا طُغْیَانًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 17:60 in the Quran reader

جب ہم نے تم سے کہا کہ تمہارا پروردگار لوگوں کو احاطہ کئے ہوئے ہے۔ اور جو نمائش ہم نے تمہیں دکھائی اس کو لوگوں کے لئے آرمائش کیا۔ اور اسی طرح (تھوہر کے) درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی۔ اور ہم انہیں ڈراتے ہیں تو ان کو اس سے بڑی (سخت) سرکشی پیدا ہوتی ہے

وَاِذْ قُلْنَا لَكَ اِنَّ رَبَّكَ اَحَاط بالنَّاسِ : اور (یاد کرو) جب ہم نے آپ ﷺ سے کہا تھا (آپ کے پاس وحی بھیجی تھی) کہ آپ کا رب سب لوگوں کو گھیرے ہوئے ہے یعنی اللہ کی ذات علم قدرت سب کو اپنے احاطے میں لئے ہوئے ہے لہٰذا تم کسی کی پروا نہ کرو اور جو پیام آپ کو دے کر بھیجا گیا وہ پہنچاؤ یا (الناس سے مراد قریش ہیں) مطلب یہ ہے کہ اللہ قریش کو گھیرے ہوئے ہے یعنی ان کو ہلاک کر دے گا (احاط بہم ان کو ہلاک کردیا) اس مطلب پر یہ آیت واقعۂ بدر کی بشارت ہوگی اور چونکہ آئندہ واقعۂ بدر کا ظہور پذیر ہونا یقینی تھا اس لئے ماضی کے صیغہ سے تعبیر کردی گئی (گویا ایسا ہوچکا) ابو یعلی نے حضرت ام ہانی ؓ کی روایت سے اور ابن المنذر (رح) نے حسن ؓ کے حوالہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ : کو جس رات کو معراج ہوئی تو اس کی صبح کو قریش کے چند آدمیوں کے سامنے معراج کا واقعہ بیان فرمایا ‘ قریش آپ کی ہنسی اڑانے لگے ‘ اور حضور ﷺ سے سیر معراج کی کوئی نشانی دریافت کی (بیت المقدس کا نقشہ اور اپنے قافلہ کی خبر دریافت کی) آپ نے بیت المقدس کی حالت اور نقشہ بیان کردیا اور قافلہ کی کیفیت بھی ظاہر کردی اس پر ولید بن مغیرہ بولا یہ شخص جادوگر ہے اس پر اللہ نے آیت ذیل نازل کی۔ وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْيَا الَّتِيْٓ اَرَيْنٰكَ اِلَّا فِتْنَةً لِّلنَّاسِ : اور جو تماشا ہم نے آپ ﷺ کو (شب معراج) دکھایا تھا اس کو بس ہم نے لوگوں کے لئے موجب گمراہی کردیا ‘ لوگوں کے لئے معراج کا واقعہ ایک جانچ کی حیثیت رکھتا تھا کافروں نے تو انکار کر ہی دیا ‘ لیکن بعض کمزور ایمان والے بھی ایمان سے پھرگئے۔ اس آیت میں سیر معراج کو رؤیا (خواب) سے تعبیر کیا گیا ہے اسی آیت سے تائید ہوتی ہے ‘ حضرت عائشہ ؓ کے اس قول کی کہ معراج روحانی تھی جسمانی نہ تھی (رواہ البخاری) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا رؤیا سے مراد ہے رویت یعنی آنکھوں سے دیکھنا سعید (رح) بن جبیر ‘ حسن (رح) بصری ‘ مسروق (رح) :‘ قتادہ (رح) :‘ مجاہد (رح) :‘ عکرمہ (رح) :‘ ابن جریج (رح) اور اکثر علماء کا قول بھی یہی ہے۔ عرب کہتے ہیں ‘ رأیت بعینی رویتہً ورویاً میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ رویت اور رویا ہم معنی ہیں بعض علماء کا خیال ہے کہ حضور ﷺ کو دو مرتبہ معراج ہوئی تھی ایک بار آنکھوں سے دیکھنے کی اور ایک بار دل سے دیکھنے کی۔ 1 ؂ [( حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے حکم بن عاص کی اولاد کو منبر پر بندروں کی طرح (اچھلتے) دیکھا اور اسی کے متعلق اللہ نے فرمایا وَمَا جَعَلْنَا الرُّءَْ یا الَّتِیْ اَرَیْتٰکَ الاَّ فِتْنَۃً للِّنَّاسِ وَالشَّجَرَۃَ الْمَلْعُوْنَۃَیعنی اس آیت میں جس خواب کا ذکر ہے اس کا تعلق حکم اور اس کی اولاد سے ہے (حکم اس کا بیٹا مروان اس کے بیٹے عبدالملک وغیرہ سارے لوگوں کے لئے فتنہ تھے اور خلافت پر قابض ہوگئے تھے یہ بات رسول اللہ ﷺ کو دکھا دی گئی تھی حضرت سہل ؓ بن سعد ‘ یعلی ؓ بن مرۃ ‘ حضرت حسین ؓ بن علی ؓ ‘ حضرت عائشہ ؓ اور سعید بن مسیب کی روایت سے بھی اسی سے ملتی جلتی حدیث آئی ہے۔ (مفسر (رح) ] حضرت امام حسین ؓ راوی ہیں کہ ایک روز رسول اللہ ﷺ : صبح کو کچھ غمگین تھے سبب دریافت کرنے پر فرمایا ‘ میں نے دیکھا کہ میرے اس منبر پر گویا بنی امیہ باری باری سے آ رہے ہیں ‘ عرض کیا گیا یا رسول اللہ ﷺ : آپ فکر مند نہ ہوں یہ دنیا ہے جو ان کو مل جائے گی۔ اس پر آیت وَمَا جَعَلْنَا الرُّءْ یَا الَّتِیْ اَرَیْنٰکَ الاَّ فِتْنَۃً لِّلنَّاس نازل ہوئی۔ اس روایت کے بموجب لفظ فتنہ سے مراد ہوا ا بنی امیہ کے دور اقتدار میں بدعات اور فسق و فجور کا پھیل جانا۔ یہ حدیث شیخ ابن جریر نے حضرت سہل بن سعد کی روایت سے بھی بیان کی ہے اس روایت کے بموجب حدیث کے الفاظ یہ ہیں رسول اللہ ﷺ نے بنی فلاں (یعنی بنی امیہ) کو خواب میں دیکھا کہ وہ آپ ﷺ کے منبر پر بندروں کی طرح کود رہے ہیں (کبھی ایک آتا ہے کبھی دوسرا) حضور ﷺ : کو اس خواب سے دکھ ہوا اس پر اللہ نے آیت مذکورہ نازل فرمائی۔ ابن ابی حاتم نے حضرت عمرو بن عاص اور حضرت یعلی بن مرہ کی روایت سے نیز ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں سعید بن مسیب سے مرسلاً نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (خواب میں) بنی امیہ کو منبر پر دیکھا جس سے آپ کو دکھ ہوا اللہ نے آپ کے پاس وحی بھیجی کہ ان کو تو یہ دیا گیا ہے (یعنی اللہ کا یہی فیصلہ ہے) اس سے آپ ﷺ کو سکون ہوگیا۔ مذکورۂ بالا تمام احادیث ضعیف ہیں۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ الرَّء یا سے مراد وہ خواب ہے جو حدیبیہ کے سال رسول اللہ ﷺ نے دیکھا کہ آپ ﷺ اور آپ کے ساتھی مکہ میں داخل ہوگئے ہیں ‘ آپ ﷺ مقررہ میعاد سے پہلے مکہ کی طرف چل کھڑے ہوئے ‘ جب مشرکوں نے حدیبیہ کے مقام پر آپ ﷺ : کو روک دیا تو آپ ﷺ لوٹ آئے پہلے تو آپ ﷺ نے لوگوں سے بیان کیا تھا کہ ہم مکہ میں داخل ہوجائیں گے اور پھر اسی سال حدیبیہ سے واپس لوٹنا پڑا اس سے لوگ فتنہ میں پڑگئے اور بعض لوگوں میں شک پیدا ہوگیا ‘ پھر جب دوسرے سال مکہ میں (صلح کے ساتھ حسب معاہدہ) داخل ہوگئے تو آیت لَقَدْ صَدَقَ اللّٰہُ رَسُوْلَہُ الرُّءَْ یا بالْحَقِّنازل ہوئی ‘ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ : کو وہ خواب سچ کر دکھایا۔ بیضاوی نے اس روایت پر یہ شبہ وارد کیا ہے کہ آیت مکی ہے (اور حدیبیہ کا واقعہ تو ہجرت کے بعد کا ہے) ہاں اگر مکہ میں خواب دیکھا ہو اور اقامت مدینہ کے زمانہ میں اس کو بیان کیا ہو تو شبہ کا جواز ہوسکتا ہے۔ میں کہتا ہوں یہ بھی ٹھیک نہیں ہے۔ بیضاوی نے لکھا ہے ‘ شاید اس خواب کا تعلق واقعۂ بدر سے ہو جس طرح دوسری آیت میں آیا ہے وَاِذْا یُرِیْکَہُمُ اللّٰہُ فِی مَنَامِکَ قَلِیْلاً روایت میں ہے کہ جب حضور ﷺ بدر کے پانی پر اترے فرمایا میں لوگوں (یعنی مشرکوں) کی قتل گاہوں کو (اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں یہ فلاں شخص کی قتل گاہ ہے یہ فلاں کی قتل گاہ۔ قریش نے یہ بات سنی تو اس کا مذاق اڑایا۔ وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُوْنَةَ فِي الْقُرْاٰنِ ۭ: اور جس درخت کی قرآن میں مذمت کی گئی ہے (اس کو بھی موجب گمراہی کردیا) شجرۂ ملعونہ سے مراد ہے زقوم (تھوہر) کا درخت یعنی اللہ نے اس درخت کو بھی لوگوں کے لئے جانچ کی چیز بنا دیا۔ درخت زقوم کا فتنہ ہونا دو طرح سے بیان کیا گیا ہے۔ (1) ابو جہل نے کہا ابن ابو کثبہ (محمد بن عبداللہ) تم کو ایسی آگ سے ڈراتے ہیں جو پتھروں کو بھی جلا دے گی لیکن خود ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ وہاں ایک درخت اگے گا (جس کو آگ نہیں جلائے گی) تم لوگ جانتے ہو کہ آگ درخت کو جلا ہی دیتی ہے ‘ اس بیوقوف نے اتنا بھی نہیں سمجھا کہ جو سمندل کی پشت کی کھال کو آگ میں جلنے سے محفوظ رکھتا ہے اور جس نے شتر مرغ کے شکمی اعضاء کو یہ طاقت بخشی ہے کہ وہ لوہے کے تپتے دہکتے ٹکڑے نگل لیتا ہے اور اس کی آنتیں نہیں جلتیں نہ حلق میں سوزش ہوتی ہے کیا وہ دوزخ میں ایسا درخت نہیں پیدا کرسکتا جو آگ سے نہ جلے۔ مفسر مدارک نے لکھا ہے کہ سمندل ترکستان میں ایک چھوٹا سا جانور ہوتا ہے جس کی کھال کے رومال بنائے جاتے ہیں ‘ جب رومال میلے ہوجاتے ہیں تو ان کو آگ میں ڈال دیا جاتا ہے ‘ آگ سے ان کا میل جل کر صاف ہوجاتا ہے اور کھال پر آنچ بھی نہیں آتی۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے سمندل ہندوستان میں ایک پرندہ ہوتا ہے جو آگ میں نہیں جلتا (مشہور یہ ہے کہ سمندل جس کو سمندر کہا جاتا ہے ایک ایسا جاندار ہوتا ہے جو آگ میں ہی پیدا ہوتا ہے اور آگ میں ہی جیتا اور زندگی گزارتا ہے ‘ آگ سے باہر نکالا جائے تو مرجاتا ہے۔ (مترجم) ۔ (2) ابن الزبعری نے کہا تھا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں اور ہم تو زقوم کا معنی مکھن اور چھوارے ہی جانتے ہیں اس کے علاوہ کوئی دوسرا معنی ہم کو معلوم نہیں ‘ یہ سن کر ابو جہل نے لونڈی کو آواز دے کر کہا یَا جَاریۃ تَعَالی زَقِّمِیْنَاجاریہ ہمارے لئے زقوم لا۔ باندی فوراً مکھن اور چھوارے لے آئی ‘ ابو جہل بولا لوگو ! زقوم کھاؤ ‘ محمد ﷺ : تم کو اسی سے ڈراتے ہیں۔ زقوم کا ذکر اللہ نے سورت الصافات میں کیا ہے۔ ابن ابی حاتم اور بیہقی نے البعث میں حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ہے کہ جب اللہ نے زقوم کا ذکر کیا اور قریش کو زقوم سے ڈرایا تو ابو جہل نے قریش سے کہا جس زقوم سے محمد ﷺ : تم کو ڈراتے ہیں وہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا ہم کو معلوم نہیں ‘ ابو جہل نے کہا یثرب میں عمدہ قسم کی کھجوریں مکھن کے ساتھ کھائی جاتی ہیں اس (مجموعہ) کو زقوم کہا جاتا ہے ہم کو اگر وہ (زقوم) مل جائے تو ہم تو اس کو خوب کھائیں (لَنَتَزَقَّمَنَّہَا تَزَقُّمًا) اس پر آیت والشجرۃ الملعونۃ فی القرآن اور آیت اِنَّ شَجَرَۃَ الزَّقُّوْمِ طَعَامُ الْاَثِیْمِنازل ہوئی۔ حقیقت میں ملعون تو زقوم کھانے والا ہوگا۔ بطور مبالغہ آیت میں درخت کی ہی صفت ملعونۃ ذکر کی ہے کیونکہ یہ درخت جحیم کی جڑ میں ہوگا اور وہ ایسا مقام ہے جہاں پہنچنے والے رحمت خداوندی سے بہت ہی زیادہ دور ہوں گے۔ یا یوں کہا جائے کہ ملعونۃ کا معنی ہے بہت برا ‘ ضرر رساں ‘ ناگوار ‘ ہر ناگوار ‘ ضرر رساں کھانے کو عرب ملعون کہتے ہیں۔ بعض کے نزدیک زقوم سے مراد شیطان یا ابو جہل یا حکم بن العاص ہے۔ یہ محض تاویل ہے۔ وَنُخَوِّفُهُمْ ۙ فَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا طُغْيَانًا كَبِيْرًا اور ہم ان کو ڈراتے ہیں لیکن ڈرانے سے ان کی بڑھی ہوئی سرکشی میں اور اضافہ ہی ہوتا ہے۔ طغیان ‘ سرکشی اور تمرو۔
Ayah 17:61

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِیْنًاۚ Open ayah 17:61 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ بولا کہ بھلا میں ایسے شخص کو سجدہ کرو جس کو تو نے مٹی سے پیدا کیا ہے

وَاِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِيْسَ ۭ قَالَ ءَاَسْجُدُ لِمَنْ خَلَقْتَ طِيْنًا : اور یاد کرو جب ہم نے ملائکہ سے کہا آدم کے لئے (یعنی کو یا طرف) سجدہ کرو فوراً سوائے ابلیس کے سب نے سجدہ کیا ‘ ابلیس بولا کیا میں اس شخص کو سجدہ کروں جس کو تو نے گارے سے بنایا ہے۔ ابلیس نے اپنے انکار کی وجہ آدم کی تخلیقی (وگری ہوئی) حالت کو قرار دیا۔ بغوی نے لکھا ہے کہ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا بیان نقل کیا ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ اللہ نے آدم کو پیدا کیا جس کی صورت یہ ہوئی کہ ایک مٹھی زمین کی خاک لی ‘ شیریں بھی اور نمکین بھی اس سے آدم کا پتلا بنایا ‘ پس جس کو میٹھی خاک سے بنایا وہ تو خوش نصیب ہوگیا ‘ خواہ اس کے ماں باپ کافر ہوں اور جس کی تخلیق نمکین خاک سے کی وہ بدبخت ہوا خواہ وہ انبیاء زادہ ہو۔ احمد ‘ ترمذی ‘ ابو داؤد ‘ بیہقی اور حاکم نے حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت سے بیان کیا اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ : فرما رہے تھے کہ اللہ نے ایک مٹھی خاک تمام زمین سے لی اس سے آدم ( علیہ السلام) کو بنایا۔ پس اولاد آدم زمین کے مطابق ہوئی سرخ ‘ سفید ‘ سیاہ یا درمیانی رنگ ‘ نرم ‘ سخت ‘ خراب ‘ عمدہ (اخلاق والے) اسی وجہ سے ہوگئے۔
Ayah 17:62

قَالَ اَرَءَیْتَكَ هٰذَا الَّذِیْ كَرَّمْتَ عَلَیَّ١٘ لَئِنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّیَّتَهٗۤ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 17:62 in the Quran reader

(اور از راہ طنز) کہنے لگا کہ دیکھ تو یہی وہ ہے جسے تو نے مجھ پر فضیلت دی ہے۔ اگر تو مجھ کو قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں تھوڑے سے شخصوں کے سوا اس کی (تمام) اولاد کی جڑ کاٹتا رہوں گا

ۚقَالَ اَرَءَيْتَكَ هٰذَا الَّذِيْ كَرَّمْتَ عَلَيَّ ۡ (ابلیس نے کہا بھلا بتا تو یہ وہی ہے جس کو تو نے مجھ پر برتری عطا کی ہے اور مجھے اس کو سجدہ کرنے کا حکم دے رہا ہے اس کی کیا وجہ ہے ؟ لَىِٕنْ اَخَّرْتَنِ اِلٰى يَوْمِ الْقِيٰمَةِ لَاَحْتَنِكَنَّ ذُرِّيَّتَهٗٓ اِلَّا قَلِيْلًا : اگر روز قیامت تک تو نے مجھے مہلت دے دی تو سوائے چند لوگوں کے میں اس کی (ساری) اولاد کو اپنے بس میں کرلوں گا ‘ یعنی اگر تو مجھے مہلت دے گا اور قیامت تک زندہ رکھے گا تو اغوا کر کے میں اس کی نسل کی بیخ کنی کر دوں گا۔ اِحتَنَکَ الْجَزَادُا الزَّرْعَ محاورہ ہے ٹڈی نے ساری کھیتی کھالی۔ یا یہ مطلب ہے کہ میں اس کو جدھر چاہوں گا کھینچ کرلے جاؤں گا اور اس پر تسلط قائم رکھوں گا۔ حنَکََ الدَّابَّۃَ گھوڑے کا نچلا جبڑا (اوپر سے ملا کر) رسی سے باندھ دیا تاکہ جس طرف چاہے مالک اس کو کھینچ کرلے جائے۔ قاموس میں ہے احتنک اس پر غالب آگیا۔ تسلط جما لیا۔ اِحْتَنَکَ الْجَرَادُ الْاَرْضَ ٹڈی نے زمین کی ساری سبزی کھالی۔ قَلِیْلاً سے مراد ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے اپنی حفاظت میں لے لیا ہے (یعنی انبیاء اور خاص خاص اشخاص) انہی کے متعلق اللہ نے فرمایا تھا اِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْہِمْ سُلْطَانٌ۔ بیضاوی نے لکھا ہے نسل آدم کو بہکانے پر قادر ہونے کا علم ابلیس کو شاید ملائکہ کے قول سے ہوگیا تھا ‘ ملائکہ نے کہا اَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَایا حضرت آدم ( علیہ السلام) کی بناوٹ سے وہ سمجھ گیا ہوگا کہ اس کے اندر قوت غضب و شہوت اور وہم کی پیدائش کردی گئی ہے (لامحالہ اس کو اغوا کرنا سہل ہے)
Ayah 17:63

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَآؤُكُمْ جَزَآءً مَّوْفُوْرًا Open ayah 17:63 in the Quran reader

خدا نے فرمایا (یہاں سے) چلا جا۔ جو شخص ان میں سے تیری پیروی کرے گا تو تم سب کی جزا جہنم ہے (اور وہ) پوری سزا (ہے)

قَالَ اذْهَبْ فَمَنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ فَاِنَّ جَهَنَّمَ جَزَاۗؤُكُمْ جَزَاۗءً مَّوْفُوْرًا : اللہ نے نے فرمایا جا اور ان میں سے جو بھی تیرے پیچھے چلے گا ‘ جہنم تم سب کی کامل سزا ہوگی۔ یعنی جا اور جو تیرا دل چاہے کر یہ اللہ کی طرف سے دھتکار اور نکل جانے کا حکم تھا اور نفس کے کہے پر چلنے کی خودمختاری تھی ‘ موفورا بمعنی وافر ہے یعنی مکمل پوری پوری عرب بولتے ہیں وَفِّرْ لِصَاحِبِکَ عِرْضَہٗاپنے ساتھی کی پوری پوری عزت کر۔
Ayah 17:64

وَ اسْتَفْزِزْ مَنِ اسْتَطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَ اَجْلِبْ عَلَیْهِمْ بِخَیْلِكَ وَ رَجِلِكَ وَ شَارِكْهُمْ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 17:64 in the Quran reader

اور ان میں سے جس کو بہکا سکے اپنی آواز سے بہکاتا رہ۔ اور ان پر اپنے سواروں اور پیاروں کو چڑھا کر لاتا رہ اور ان کے مال اور اولاد میں شریک ہوتا رہ اور ان سے وعدے کرتا رہ۔ اور شیطان جو وعدے ان سے کرتا ہے سب دھوکا ہے

وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْـتَـطَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ وَاَجْلِبْ عَلَيْهِمْ بِخَيْلِكَ وَرَجِلِكَ اور ان میں سے جس جس پر تیرا قابو چلے اپنی چیخ پکار سے اس کا قدم اکھاڑ دینا اور ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لانا۔ اِسْتِفْزَازْابھار دینا ‘ پھسلا دینا ‘ بیوقوف بنا لینا۔ قاموس میں ہے اِسْتَفَزَّہٗاس کو ابھارا دے کر اکھاڑ دیا اور گھر سے نکال دیا۔ بِصَوْتِکَحضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک صوت سے اس جگہ دعوت گناہ مراد ہے۔ جو بھی اللہ کی نافرمانی کی دعوت دے وہ ابلیس کی جماعت میں شامل ہے۔ ازہری نے استَفْزِزْ بِصَوْتِکَ سے یہ مراد لی ہے کہ ان کو اپنی طرف بلانا اور اکھاڑ کر اپنی جانب مائل کرلینا۔ مجاہد نے کہا صوت سے مراد ہے گانا بجانا۔ اَجْلِبْ عَلَیْہِمْ ۔ جَلَبَ (باب نصر) اِجْتَلَبَ (باب افتعل) ایک جگہ سے کسی کو دوسرے مقام کی طرف لے گیا۔ (قاموس) حدیث میں آیا ہے لاَ جَلَبَ یعنی ایک جگہ کا غلہ (جب کہ اس جگہ بھی ضرورت ہو) دوسری جگہ لے جانا جائز نہیں ہے۔ صاحب نہایہ نے لکھا ہے کہ جَلَبَ دو طرح کا ہوتا ہے۔ 1) زکوٰۃ کا محصل جا کر کسی خاص مقام پر فروکش ہوجائے اور اپنے کارندوں کو جا بجا ہر طرف بھیج دے تاکہ زکوٰۃ دینے والے خود اپنا مال لا کر جمع کرائیں۔ اس کی شرعاً ممانعت کردی گئی اور زکوٰۃ کے تحصیلداروں کو حکم دیا گیا کہ خود لوگوں کے گھروں اور قیام گاہوں پر جا کر زکوٰۃ کا مال وصول کریں۔ 2) گھوڑوں کی دوڑ کے موقع پر کوئی شخص اپنے گھوڑے کے پیچھے کسی اور کو لگا دے تاکہ وہ آدمی گھوڑے کو چیخ چیخ کر زور سے تیز دوڑنے پر بھڑکاتا رہے (اور گھوڑا کہیں سست رفتار نہ ہونے پائے) اس کی بھی ممانعت کردی گئی ہے۔ قاموس میں اَجَلَبَ علی الفرس کا یہی معنی آیا ہے۔ جلبتہٌ کا معنی آواز بھی ہے ‘ قاموس میں ہے رَعَدَ فَجَلَبَ لرزا اور چیخا۔ اَجْلَبَ علیہ اس پر چیخ کر اس کو بھڑکایا اور ابھارا ‘ قتیبی نے کہا جلب جلبۃ کی جمع ہے۔ آوازیں ‘ شور ‘ جلب بمعنی اجتماع بھی آیا ہے۔ نہایہ میں ہے اَجْلَبُوْا عَلَیْہِاس پر جمع ہوگئے اَجْلَبَہٗاس کی مدد کی۔ اس تنقیح پر آیت کا مطلب اس طرح ہوگا۔ اپنے تمام لشکر کو اور اغواء و مکر کے تمام ذرائع کو جمع کرلینا۔ یا یہ مطلب ہے کہ گناہوں پر آمادہ کرنا بھڑکانا یا یہ مطلب ہے کہ گناہوں کی طرف ان کو ہنکانا یا چلانا یا یہ مطلب ہے کہ گناہ کرنے میں ان کی مدد کرنا۔ بِخَیْلِکَ وَ رَجِلِکَ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ گناہوں کے راستہ پر چلنے والا ابلیس کا لشکری ہے سوار ہو کر چلے یا پیادہ۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا جنات اور انسانوں میں سے کچھ اشخاص ابلیس کے سوار بھی ہیں اور پیادے بھی جو بھی معصیت کے راستہ میں لڑے وہ ابلیس کا لشکری ہے۔ بیضاوی نے آیت کا مطلب اس طرح لکھا ہے کہ اپنی طرف سے اغواء کر کے لوگوں کو بھڑکانا سوار ہوں یا پیادے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مذکورہ عبارت کا حقیقی مفہوم مراد نہ ہو بلکہ اللہ نے جو شیطان کو اغوا پر تسلط عنایت فرمایا تھا کہ وہ کامل طور پر گمراہ کرسکتا تھا اور ہدایت انسانی کو بیخ و بن سے اکھاڑ سکتا تھا اس کو ایسے سپہ سالار سے تشبیہ دی جو اپنے پورے لشکر کے ساتھ دشمن کی بستی پر حملہ کر کے بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔ وَشَارِكْهُمْ فِي الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ وَعِدْهُمْ ۭ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا اور ان کے مال و اولاد میں اپنا ساجھا کرلینا اور ان سے وعدے کرنا اور شیطان ان سے بالکل جھوٹے وعدے کرتا ہے۔ مجاہد ‘ حسن بصری اور سعید بن جبیر (رح) کے نزدیک شرکت فی الاموال سے مراد یہ ہے کہ حرام کمائی کرنے اور اس کو جمع کر رکھنے پر لوگوں کو آمادہ کرنا اور حرام مال خرچ کرنا۔ عطا نے کہا اس سے مراد سود (کا لین دین) ہے اور (بتوں اور دیوتاؤں کے ناموں پر چھوڑے ہوئے یا خود ساختہ قوانین مذہب کے زیر اثر) آزاد کئے ہوئے جانور بھی مراد ہیں جن کو کھانا (اور بعض اوقات ان سے سواری لینا بھی) مشرک حرام قرار دیتے ہیں۔ ضحاک نے کہا غیر اللہ کے نام جانوروں کی بھینٹ چڑھانامراد ہے۔ شرکت فی الاولاد سے حضرت ابن عباس ؓ کے نزدیک زندہ دفن کی ہوئی لڑکیاں مراد ہیں۔ مجاہد اور ضحاک نے کہا اولاد زنا مراد ہے ‘ حسن اور قتادہ نے کہا اولاد کو یہودی اور عیسائی اور مجوسی بنانا مراد ہے (جب کہ یہ مذاہب منسوخ ہوچکے) حضرت ابن عباس ؓ : کا قول دوسری روایت میں آیا ہے کہ اولاد کے ناجائز نام رکھنا مراد ہے جیسے عبدالحارث ‘ عبدالشمس ‘ عبدالعزی ‘ عبدالدار وغیرہ۔ حضرت امام جعفر بن امام زین العابدین نے فرمایا جب انسان بیوی سے قربت کا ارادہ کرتا ہے تو شیطان اس کے ذکر پر بیٹھ جاتا ہے اب اگر وہ شخص بسم اللہ کہے بغیر کام شروع کردیتا ہے تو اس کے ساتھ شیطان بھی جماع میں مشغول ہوجاتا ہے اور انسان کی طرح عورت کے اندام نہانی میں شیطان بھی انزال کرتا ہے (اس طرح اولاد کی پیدائش میں شیطان شریک ہوجاتا ہے) بغوی نے لکھا ہے بعض احادیث میں آیا ہے کہ تم میں کچھ لوگ مغرب ہیں ‘ دریافت کیا گیا مغرب کون لوگ ہیں۔ فرمایا جن (کی پیدائش) میں شیطان شریک ہوتے ہیں۔ وعدہ دلانے سے مراد ہے جھوٹی ‘ غلط امیدیں دلانا مثلاً بتوں کی شفاعت ‘ باپ دادا کی بزرگی پر بھروسہ۔ توبہ میں تاخیر ‘ یہ عقیدہ پیدا کرنا کہ دوزخ اور قیامت وغیرہ کچھ بھی نہیں۔ ایک شبہ استفزز ‘ اجلب ‘ شارک ‘ عد۔ یہ سب امر کے صیغے ہیں تو کیا اللہ نے ابلیس کو معصیت کا حکم دیا تھا۔ اللہ تو گناہ کا حکم نہیں دیتا۔ ازالہ صیغے امر کے ضرور ہیں لیکن مفہوم تہدید مراد ہے یا امر سے مقصود توہین۔ ابلیس ہے کہ تو کچھ بھی کرلے ‘ تیری کسی حرکت سے میری حکومت میں فرق نہیں آسکتا۔ غرور بمعنی فریب دھوکہ ‘ باطل کو بصورت حق دکھانا۔ (یعنی ایسے آراستہ کر کے دکھانا کہ حق معلوم ہونے لگے ‘ 12) بغوی نے لکھا ہے آثار (اقوال صحابہ) میں آیا ہے کہ ابلیس کو جب نکال کر زمین پر بھیج دیا گیا تو ابلیس نے عرض کیا اے میرے رب آدم کی وجہ سے تو نے مجھے جنت سے نکال دیا ‘ اب مجھے اس پر اور اس کی اولاد پر قابو عطا فرما دے (کہ میں جس طرح چاہوں ان کو بےراہ کر دوں) اللہ نے فرمایا تجھے قابو دے دیا فرمایا۔ ابلیس نے کہا ‘ مجھے تیرے بغیر تو اس کی طاقت نہیں ‘ اللہ نے فرمایا استفزز من استطعت منہم بصوتک۔۔ آدم ( علیہ السلام) نے عرض کیا اے میرے رب تو نے ابلیس کو مجھ پر اور میری نسل پر مسلط کردیا اور تیرے بغیر میں اس سے محفوظ رہنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اللہ نے فرمایا تیری جو بھی اولاد ہوگی ‘ میں اس کی حفاظت کے لئے محافظ مقرر کر دوں گا ‘ آدم ( علیہ السلام) نے عرض کیا میں اس کلام کی مزجد تفصیل چاہتا ہوں ‘ اللہ نے فرمایا ہر نیکی کا بدلہ دس گنا دیا جائے گا ‘ آدم ( علیہ السلام) نے عرض کیا اور کیا۔ اللہ نے فرمایا جب تک روح جسم میں رہے گی توبہ (کی قبولیت) سامنے رہے گی (یعنی توبہ کا دروازہ بند نہ ہوگا) آدم ( علیہ السلام) نے عرض کیا اور کچھ اللہ نے فرمایا یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِہِمْ لاَ تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَۃِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ ابلیس نے عرض کیا اے رب تو نے انبیاء بھیجے اور (ان کے پڑھنے کو) کتابیں نازل کیں ‘ میرے پڑھنے کے لئے کیا (مقرر کیا) ہے ‘ اللہ نے فرمایا ‘ شعر ‘ ابلیس نے عرض کیا میری تحریر (رسم خط) کیا ہوگا ‘ فرمایا (اعضاء جسم کو) گودنا (گویا گودنا اور گدوانا شیطانی تحریر اور رسم خط ہے) ابلیس نے کہا میرے پیغامبر کون ہیں ؟ فرمایا کاہن۔ عرض کیا میرے رہنے کا مقام کون سا ہے ‘ فرمایا حمام (جہاں لوگ برہنہ غسل کرتے اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں) عرض کیا میرے بیٹھنے کا مقام کہاں ہے فرمایا بازاروں میں۔ عرض کیا میرا کھانا کیا ہے فرمایا وہ چیز جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ عرض کیا میرے پینے کی چیز کیا ہے۔ فرمایا ہر نشہ آور چیز ‘ عرض کیا میرا جال کون سا ہے فرمایا عورتیں عرض کیا میرا سامان (تفریح) کیا ہے ‘ فرمایا باجے۔
Ayah 17:65

اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَكَ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنٌ١ؕ وَ كَفٰى بِرَبِّكَ وَكِیْلًا Open ayah 17:65 in the Quran reader

جو میرے (مخلص) بندے ہیں ان پر تیرا کچھ زور نہیں۔ اور (اے پیغمبر) تمہارا پروردگار کارساز کافی ہے

اِنَّ عِبَادِيْ لَيْسَ لَكَ عَلَيْهِمْ سُلْطٰنٌ ۭ وَكَفٰى بِرَبِّكَ وَكِيْلًا : بلاشبہ میرے (مخلص) بندوں (کے اغواء) پر تجھے قدرت نہ ہوگی اور تیرا رب (ان کی حفاظت کا) ذمہ دار ہونے کے لئے کافی ہے۔ یعنی جو مخلص بندے اللہ پر بھروسہ رکھیں گے اس کی پناہ کے خواستگار ہوں گے اور اپنے تمام امور اس کے سپرد کردیں گے اللہ ان کو اپنی حفاظت میں رکھے گا (ان پر تیری دسترس نہ ہوگی)
Ayah 17:66

رَبُّكُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِی الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا Open ayah 17:66 in the Quran reader

تمہارا پروردگار وہ ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کے فضل سے (روزی) تلاش کرو۔ بےشک وہ تم پر مہربان ہے

رَبُّكُمُ الَّذِيْ يُزْجِيْ لَكُمُ الْفُلْكَ فِي الْبَحْرِ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ ۭ اِنَّهٗ كَانَ بِكُمْ رَحِـيْمًا تمہارا رب وہی ہے جو تمہارے لئے دریا میں کشتیاں چلاتا ہے تاکہ تم اس کا رزق تلاش کرو۔ بیشک وہ تمہارے حال پر بہت مہربان ہے۔ یزجی ہنکاتا ہے چلاتا ہے۔ فضل تجارتی نفع اور طرح طرح کا وہ رزق جو تمہارے پاس نہیں ہوتا۔ اللہ تم پر مہربانی ہے اسی نے تمہارے لئے تمام ضرورت کی چیزیں فراہم کردی ہیں اور تمہاری مشکلوں کو آسان کرتا ہے۔
Ayah 17:67

وَ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِی الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا Open ayah 17:67 in the Quran reader

اور جب تم کو دریا میں تکلیف پہنچتی ہے (یعنی ڈوبنے کا خوف ہوتا ہے) تو جن کو تم پکارا کرتے ہو سب اس (پروردگار) کے سوا گم ہوجاتے ہیں۔ پھر جب وہ تم کو (ڈوبنے سے) بچا کر خشکی پر لے جاتا ہے تو تم منہ پھیر لیتے ہو اور انسان ہے ہی ناشکرا

وَاِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَنْ تَدْعُوْنَ اِلَّآ اِيَّاهُ ۚ اور جب تم کو دریا میں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بجز خدا کے تم جتنوں کی عبادت کرتے تھے ‘ سب غائب ہوجاتے ہیں۔ الضر یعنی ڈوبنے کا سخت خوف۔ مطلب یہ ہے کہ کہ ایسے خوف کے وقت تم اللہ کے سوا کسی معبود کو یاد نہیں کرتے سب باطل معبود تمہارے ذہن سے غائب ہوجاتے ہیں یا یہ مطلب ہے کہ تمام باطل معبود تمہاری مدد کرنے سے غائب ہوجاتے ہیں اور سوائے اللہ کے کوئی تمہاری فریاد رسی نہیں کرتا۔ فَلَمَّا نَجّٰىكُمْ اِلَى الْبَرِّ اَعْرَضْتُمْ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ كَفُوْرًا : پھر جب اللہ تم کو ڈوبنے سے بچا کر خشکی کی طرف لے جاتا ہے تو تم (اللہ کی توحید سے) کترا جاتے ہو اور (کافر) انسان بڑا ناشکرا ہوتا ہے۔ کفور نعمتوں کا منکر اور ادائے شکر نہ کرنے والا۔
Ayah 17:68

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ یُرْسِلَ عَلَیْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِیْلًاۙ Open ayah 17:68 in the Quran reader

کیا تم (اس سے) بےخوف ہو کہ خدا تمہیں خشکی کی طرف (لے جا کر زمین میں) دھنسا دے یا تم پر سنگریزوں کی بھری ہوئی آندھی چلادے۔ پھر تم اپنا کوئی نگہبان نہ پاؤ

اَفَاَمِنْتُمْ اَنْ يَّخْسِفَ بِكُمْ جَانِبَ الْبَرِّ اَوْ يُرْسِلَ عَلَيْكُمْ حَاصِبًا ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ وَكِيْلًا : سو کیا تم اس بات سے بےفکر ہو بیٹھے کہ تم کو خشکی کی طرف لا کر زمین میں دھنسا دے یا تم پر کوئی ایسی آندھی بھیج دے جو کنکر پتھر برسانے لگے پھر کسی کو تم اپنا کارساز نہ پاؤ۔ یعنی خشکی کے جس حصّہ پر تم موجود ہو اللہ اس کو الٹ دے یا تمہاری وجہ سے اس کو الٹ دے اور تم کو اس طرح ہلاک کر دے۔ حاصب وہ آندھی اور طوفان جس میں سنگریزے بھی اڑ جاتے ہیں اور کہیں سے کہیں جا گرتے ہیں 1 ؂۔ وکیل سے اس جگہ مراد ہے بچانے والا ‘ حفاظت کرنے والا ‘ روک دینے والا۔
Ayah 17:69

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ یُّعِیْدَكُمْ فِیْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَیُرْسِلَ عَلَیْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّیْحِ فَیُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ١ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَیْنَا بِهٖ تَبِیْعًا Open ayah 17:69 in the Quran reader

یا (اس سے) بےخوف ہو کر تم دوسری دفعہ دریا میں لے جائے پھر تم پر تیز ہوا چلائے اور تمہارے کفر کے سبب تمہیں ڈبو دے۔ پھر تم اس غرق کے سبب اپنے لئے کوئی ہمارا پیچھا کرنے والا نہ پاؤ

اَمْ اَمِنْتُمْ اَنْ يُّعِيْدَكُمْ فِيْهِ تَارَةً اُخْرٰى فَيُرْسِلَ عَلَيْكُمْ قَاصِفًا مِّنَ الرِّيْحِ فَيُغْرِقَكُمْ بِمَا كَفَرْتُمْ ۙ ثُمَّ لَا تَجِدُوْا لَكُمْ عَلَيْنَا بِهٖ تَبِيْعًا۔ یا تم اس بات سے بےفکر ہو بیٹھے ہو کہ خدا تعالیٰ پھر تم کو دوبارہ دریا میں ہی لے جائے ‘ پھر تم پر ہوا کا سخت طوفان بھیج دے۔ پھر تم کو تمہارے کفر کے سبب غرق کر دے پھر اس بات پر ہمارا پیچھا کرنے والا تم کو کوئی بھی نہ ملے۔ یعنی ہوسکتا ہے کہ اللہ ایسے اسباب تمہارے لئے پیدا کر دے کہ دوبارہ تم کو سمندر کا سفر کرنا پڑجائے اور پھر ایک طوفان بھیج دے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے قاصف کا ترجمہ کیا عاصف تیز آندھی ‘ طوفان۔ ابو عبیدہ نے کہا قصف کا معنی ہے کوٹنا توڑ دینا ‘ قاصف وہ ہوا جو اپنی قوت سے ہر چیز کو توڑ پھوڑ ڈالے۔ قتیبی نے کہا ‘ قاصف وہ ہوتا ہے جو درختوں کو توڑ ڈالے۔ بِمَا کَفَرْ تُمْیعنی تمہارے شرک کی وجہ سے یا گزشتہ نعمت نجات کی ناشکری کرنے کی وجہ سے۔ تَبِیْعًامددگار یا طلبگار انتقام۔
Ayah 17:70

وَ لَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِیْۤ اٰدَمَ وَ حَمَلْنٰهُمْ فِی الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ وَ رَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلْنٰهُمْ عَلٰى كَثِیْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِیْلًا۠ Open ayah 17:70 in the Quran reader

اور ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی اور ان کو جنگل اور دریا میں سواری دی اور پاکیزہ روزی عطا کی اور اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی

وَلَقَدْ كَرَّمْنَا بَنِيْٓ اٰدَمَ وَحَمَلْنٰهُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ وَرَزَقْنٰهُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ اور ہم نے آدم کی اولاد کو عزت دی اور خشکی اور دریا میں ان کو سوار کیا اور نفیس نفیس (کھانے پینے) کی چیزیں ان کو عطا کیں۔ یعنی آدمی کو بہت خاص نعمتیں عطا کیں ‘ حسن صورت۔ سب سے زیادہ معتدل مزاج ‘ قد کا اعتدال ‘ عقل سے اشیاء میں امتیاز ‘ زبان ‘ تحریر اور اشاروں سے سمجھانے کی قوت معاش و معاد کی ہدایت ‘ زمین کی موجودات پر تسلط یعنی تمام چیزوں سے کام لینا اور مختلف ہنر اور پیشے اور تمام مادی عنصری اور فلکی کائنات کا ربط تاکہ انسان کو مختلف منافع حاصل ہوں اور اسباب رزق فراہم ہوں ‘ پھر دوسرے جانوروں کے برخلاف آدمی کو ہاتھ سے اٹھا کر اور پکڑ کر کھانے کی تعلیم یہ تمام امور انسان کے لئے مخصوص کئے پھر محبت و عشق کا جذبہ معرفت وحی اور مراتب قرب کی عطا بھی انسان پر خاص کرم ہے۔ حاکم نے تاریخ میں اور دیلمی نے حضرت جابربن عبداللہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انگلیوں سے کھانا بھی (انسان کے لئے اللہ کی طرف سے) عزت بخشی ہے۔ حَمَلْنٰہُمْ کا یہ معنی ہے کہ دریا اور خشکی میں سوار ہونے کے لئے ہم نے سواریاں عطا کیں ‘ خشکی میں چوپائے (موٹر ریل وغیرہ) اور دریا میں کشتیاں جہاز۔ حَمَلْتُہٗ حملاً میں نے سوار ہونے کے لئے اس کو سواری دی۔ یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے آدمیوں کو سوار کیا تاکہ زمین کے اندر پاؤں نہ دھنسیں اور پانی میں ڈوب نہ جائیں ‘ دونوں مصیبتوں سے محفوظ رکھنے کے لئے سواریاں بنائیں۔ اَلطَّیَّبٰتِ سے مراد ہیں لذیذ نفیس کھانے پینے کی چیزیں۔ وَفَضَّلْنٰهُمْ عَلٰي كَثِيْرٍ مِّمَّنْ خَلَقْنَا تَفْضِيْلًا اور ہم نے اپنی کثیر مخلوق پر ان کو برتری عطا فرمائی۔ لغت میں فضل کا معنی ہے زیادتی ‘ اس جگہ ثواب اور مراتب قرب کی زیادتی مراد ہے۔ فضلناہُم میں ہمضمیر بنی آدم کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مگر مراد کل بنی آدم نہیں بلکہ صرف اہل ایمان مراد ہیں۔ آیت والْمَطَلَّقَاتُ یَتَرَبَّصْنَّ بِاَنْفُسِہَّنالمطلقات کا لفظ تمام مطلقہ عورتوں کو شامل ہے ‘ بائنہ ہوں یا رجعیہ ‘ لیکن اس سے آگے وَبُعُوْلَتُہُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّہِنَّ میں ہن ضمیر المطلقات کی طرف لوٹ رہی ہے۔ مگر عام مطلقات کی طرف نہیں بلکہ صرف وہ عورتیں مراد ہیں جن کو رجعی طلاق دی گئی ہو ‘ آیت مذکورۂ بالا میں صرف مؤمن اس وجہ سے مراد ہیں کہ کافروں کو اللہ نے دوسری مخلوق پر برتری نہیں عطا فرمائی کافر تو اللہ کے نزدیک بدترین اور ذلیل ترین مخلوق ہیں ‘ اللہ نے ان کو شرالبریہ (بدترین خلق) قرار دیا ہے۔ ظاہر آیت سے معلوم ہو رہا ہے کہ اللہ نے انسان کو کل مخلوق پر برتری نہیں عطا فرمائی بلکہ کثیر مخلوق سے افضل بنایا ہے۔ اس موضوع پر علماء کے اقوال میں اختلاف ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ملائکہ پر انسان کو فضیلت نہیں دی گئی۔ باقی مخلوق سے انسان کو افضل بنایا گیا ہے۔ کلبی نے کہا سوائے چند ملائکہ کے باقی فرشتوں سے بھی انسان کو برتری حاصل ہے۔ جبرئیل ( علیہ السلام) ‘ میکائیل ( علیہ السلام) اسرافیل ( علیہ السلام) اور ملک الموت کے علاوہ سب پر انسان کو فضیلت دے دی گئی ہے کچھ لوگ ہیں کہ آیت میں لفظ کثیر سے کل مراد لیتے ہیں یعنی تمام ملائکہ پر بھی انسان کو فضیلت دی گئی ہے۔ ایسا استعمال دوسری آیت میں بھی ہوا ہے وَاَکْثَرُہُمْ کَاذِبُوْنَمیں اکثر سے مراد کل لوگ ہیں۔ اس مضمون کی تائید حضرت جابر کی روایت کردہ مرفوع حدیث سے بھی ہوتی ہے کہ جب اللہ نے آدم کو اور ان کی ذریت کو پید کردیا تو فرشتوں نے عرض کیا اے رب ! تو نے ان کو پیدا کردیا (اس طرح اور ان طاقتوں کے ساتھ کہ) وہ کھائیں گے پئیں گے عورتوں سے صنفی قربت کریں گے اور سواریوں پر سوار ہوں گے ‘ پس ان کے لئے تو دنیا (کے عیش) کر دے اور ہمارے لئے آخرت خاص کر دے ‘ اللہ نے فرمایا جس کو میں نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اس کے اندر اپنی روح کا کچھ حصہ پھونکا ‘ اس کو میں اس مخلوق کی طرح نہیں کروں گا جس کو (پیدا کرنے کے لئے) میں نے کُن کہا اور وہ ہوگئی۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان۔ تحقیقی فیصلہ عام مؤمن یعنی صالح مؤمن جو اللہ کے ولی ہیں عام ملائکہ سے افضل ہیں اور جو مؤمن گنہگار ہیں اولیاء نہیں ہیں تو گناہوں سے پاک صاف ہوجانے کے بعد عام فرشتوں سے افضل بنا دیئے گئے ہیں کیونکہ گناہوں سے صفائی (توبہ کے ذریعہ سے بھی ہوتی ہے اور بغیر توبہ کے) مغفرت کے ذریعے سے بھی اور بقدر گناہ سزا پا جانے کے بعد بھی ہوتی ہے بہرحال صفائی کے بعد ان کو بھی اولیاء کے شامل کردیا جائے گا اور جنت میں ان کا داخلہ ہوجائے گا اس طرح ان کو بھی عام فرشتوں سے برتری حاصل ہوجائے گی ‘ رہے خاص مؤمن یعنی انبیاء تو وہ تمام خاص ملائکہ سے بھی افضل ہیں دیکھو اللہ نے فرمایا ہے اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰءِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِبے شک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک کام کئے وہ سب مخلوق سے بہتر ہیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مؤمن اللہ کے نزدیک ان ملائکہ سے بھی جو اس کے پاس ہیں زیادہ عزت والا ہے کذا ذکرہ البغوی۔ ابن ماجہ کی روایت میں اس طرح آیا ہے مؤمن (یعنی نفس مؤمن خواہ کسی درجہ کا ہو) اللہ کے نزدیک بعض ملائکہ سے زیادہ عزت والا ہے۔ 1 ؂[1 ؂ شاید حضرت مفسر سے اس جگہ کچھ تسامح ہوا کہ آیت اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰءِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِکو انبیاء کی فضیلت عامہ کے ثبوت میں پیش کیا یہ آیت انبیاء کے لئے مخصوص نہیں ‘ اس میں تمام مؤمنین صالحین شامل ہیں ‘ انبیاء ہوں یا اولیاء ‘ مؤمن صالح تو ولی بھی ہوتا ہے۔ پھر حضرت مفسر نے تائید میں جو دو حدیثیں نقل کی ہیں۔ ان میں بھی صرف انبیاء کا ذکر نہیں ہے یہ تو ہوسکتا ہے کہ مؤمن سے مراد مؤمن صالح ہو۔ قرینۂ عبارت یہی بتارہا ہے لیکن انبیاء کی خصوصیت تو احادیث میں بھی مذکور نہیں اولیاء بھی تو مؤمن صالح ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ حضرت مفسر کے نزدیک تو المؤمن سے مراد جنس مؤمن ہے جس میں گناہگار مؤمنوں کا بھی شمول ہے مؤمن معصوم یا غیر معصوم ‘ تائب یا غیر تائب ‘ عاصی یا غیر عاصی کسی کا بھی ذکر نہیں۔ نفس مؤمن سب ہی ہیں۔ مترجم۔] حضرت مفسر نے فرمایا آیت مذکورہ میں کثیر کا لفظ اور حضرت ابوہریرہ ؓ : کی روایت میں بعض ملائکہ کا لفظ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ بعض مؤمنین یعنی انبیاء کو تمام ملائکہ پر فضیلت نہیں دی گئی ہے ‘ ہاں بطور مفہوم یہ سمجھا جاسکتا ہے کہ کثیر مخلوق پر بنی آدم ( علیہ السلام) : کو فضیلت دی گئی اور انبیاء بھی بنی آدم ہیں ان کو بھی کثیرمخلوق پر برتری عطا کردی گئی۔ سب مخلوق پر فضیلت نہیں دی گئی ‘ یعنی کل ملائکہ پر فضیلت نہیں عطا کی گئی ‘ مگر یہ نفی کل۔ مفہوم مخالف کے طور پر مترشح ہو رہی ہے اور ہمارے نزدیک مفہوم مخالف غیر معتبر ہے اور یہاں تو یقیناً مفہوم مخالف مراد ہی نہیں ہے کیونکہ اولٰءِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّۃِمیں البریہکا لفظ تمام مخلوق کو شامل ہے جس میں خواص ملائکہ بھی داخل ہیں۔ حقیقت میں آیت کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے تمام مؤمنوں کو یعنی ہر مؤمن کو کثیر مخلوق پر فضیلت عطا کی ہے (یعنی استغراق مجموعی سے مراد ہے استغراق افرادی اس صورت میں مطلب واضح ہے کہ ہر فردِ مؤمن کو کثیر مخلوق پر برتری عطا کی گئی ہے عام مؤمن کو عام ملائکہ پر اور خاص مؤمن کو خاص ملائکہ پر بھی) اہل سنت کے عقائد کی کتابوں میں لکھا ہے کہ خاص خاص انسان ہر فرشتے پر فضیلت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ خاص ملائکہ سے بھی افضل ہیں۔ ملائکہ پر مؤمنوں کی برتری کا سبب یہ ہے کہ بہائم میں شہوت (یعنی جذبہ) ہے عقل (یعنی حواس سے بالاتر فہم کی طاقت) نہیں ہے اور ملائکہ میں عقل ہے شہوت نہیں ہے ان کی سرشت ہی طاعت پر ہوئی ہے (کوئی داعی معصیت ان کے اندر موجود ہی نہیں ہے) اور انسان کے اندر عقل بھی ہے اور شہوت بھی اب جو عقل سے راہ راست اختیار کرتا اور فرماں بردار بن جاتا ہے اور شہوت کا عقل سے مقابلہ کرتا ہے وہ حقیقت میں راہ خدا کا مجاہد ہے (داعی معصیت اس کے اندر موجود ہے اور عقل محافظ بھی ہے وہ عقل سے کام لیتا ہے اور دعوت معصیت کو رد کردیتا ہے یہ مجاہدہ ہے) اور مجاہدین کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے والَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَاور جو عقل کو بیکار چھوڑ کر تقاضاء شہوت کو پورا کرتا ہے اور دنیوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتا ہے تو اس کا ٹھکانا دوزخ ہے ایسے (مفلوج العقل) لوگ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ چوپایوں سے بھی زیادہ گم کردہ راہ ہیں (چوپایوں کے پاس تو شہوت سے روکنے والی عقل موجود ہی نہیں ہے وہ تو فطرتاً معذور ہیں اور ہوا پرست انسانوں کے پاس عقل فطری ہے) اور عقل سے یہ لوگ کام نہیں لیتے۔
Ayah 17:71

یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْ١ۚ فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓئِكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 17:71 in the Quran reader

جس دن ہم سب لوگوں کو ان کے پیشواؤں کے ساتھ بلائیں گے۔ تو جن (کے اعمال) کی کتاب ان کے داہنے ہاتھ میں دی جائے گی وہ اپنی کتاب کو (خوش ہو ہو کر) پڑھیں گے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہ ہوگا

يَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۢ بِاِمَامِهِمْ ۚ: جس روز ہم تمام آدمیوں کو ان کے امام کے ساتھ طلب کریں گے۔ یعنی یاد کرو اس دن کو یا اس روز لوگوں پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔ جب سب لوگوں کو ہم حساب فہمی کے لئے طلب کریں گے۔ مجاہد اور قتادہ نے کہا امام سے مراد ہے ہر امت کا نبی۔ ابو صالح اور ضحاک نے کہا وہ الٰہی کتاب مراد ہے جو ہر امت کو دی گئی تھی۔ ابن مردویہ نے حضرت علی ؓ کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہر امت کو ان کے امام اور ان کے رب کی کتاب کے ساتھ طلب کیا جائے گا۔ سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ : کا قول نقل کیا ہے کہ امام سے مراد ہے ہر قوم کا وہ امام وقت جو اپنی قوم کو گمراہ کرتا یا ہدایت کی طرف بلاتا تھا ‘ اللہ نے دونوں کے متعلق ائمہ کا لفظ فرمایا ہے ایک آیت ہے وَجَعَلْنَا ہُمْ اَءِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا یعنی ائمہ ہدیٰ ۔ دوسری آیت ہے وَجَعَلْنَہُمْ اٰءِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِیعنی آئمہ ضلالت۔ بعض نے کہا امام سے مراد ہے (باطل فرضی) معبود۔ سعید بن مسیب نے کہا ہر قوم اپنے سردار کے پاس جمع ہوگی۔ خیر کا سردار ہو یا شر کا۔ حسن اور ابوالعالیہ نے کہا امام سے مراد ہیں وہ اعمال جو زندگی میں انسان پہلے ہی بھیج دیتا ہے۔ قتادہ نے کہا آیت بتارہی ہے کہ امام سے مراد ہے اعمالنامہ کتاب کو امام کہا جاتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ہے وَکُلَّ شَئٍ اَحْصَیْنَاہُ فِیْ اِمَامٍ مُّبِیْنِیعنی فی کتاب مبین۔ بعض کے نزدیک امام سے مراد وہ طاقتیں ہیں جو انسان کو غلط یا صحیح عقائد و اعمال پر آمادہ کرتی ہیں۔ محمد بن کعب نے کہا امام ام کی جمع ہے جیسے خفاف خف کی یعنی ماؤں کے ناموں کے ساتھ لوگوں کو پکارا جائے گا۔ اس میں حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کا اکرام و اعزاز اور حضرت امام حسن ؓ و حضرت امام حسین ؓ : کی عظمت کا اظہار مقصود ہوگا اور یہ مصلحت بھی ہوگی کہ اولاد زنا رسوا نہ ہونے پائے۔ بِاِمَامِہِمْکا مطلب یہ ہے کہ جس نبی یا کتاب یا قائدِ خیر و شر کی پیروی کی ہوگی ‘ اس کے ساتھ پیروی کرنے والے ہوں گے یا اپنے اپنے اعمالنامے اور صحیفے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے ہوں گے یا یہ مطلب ہے کہ امام کے نام کے ساتھ ان کو پکارا جائے گا۔ مثلاً یوں کہا جائے گا ‘ اے فلاں شخص کی امت اے فلاں شخص کی پیروی کرنے والو ‘ اے فلاں مذہب والو ‘ اے فلاں کتاب والو ‘ اے فلاں فلاں اعمال والو ‘ اے مریم کے بیٹے ‘ اے فاطمہ کے بیٹے وغیرہ۔ فَمَنْ اُوْتِيَ كِتٰبَهٗ بِيَمِيْنِهٖ فَاُولٰۗىِٕكَ يَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَلَا يُظْلَمُوْنَ فَتِيْلًا پس جن لوگوں کو ان کے اعمالنامے (دائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ اپنے اعمالناموں کو پڑھیں گے اور ان کی بالکل حق تلفی نہیں کی جائے گی۔ فتیل (بٹا ہوا) وہ باریک سونتا جو کھجور کی گٹھلی کے شگاف میں ہوتا ہے۔ یا وہ میل کی بتی جو آدمی چٹکی سے بٹ کر پھینک دیتا ہے ‘ یہاں مراد یہ ہے کہ فتیل برابر بھی ان کے ثواب میں کمی نہیں کی جائے گی۔ آیت میں صرف ان لوگوں کا ذکر کیا گیا جن کے دائیں ہاتھوں میں اعمالنامے دیئے جائیں گے ‘ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کے بائیں ہاتھ میں یا پشت کے پیچھے سے اعمالنامے دیئے جائیں گے (ان کی حالت کچھ اور ہوگی) وہ جب اپنے اعمالنامے پڑھیں گے تو شرمندگی اور حیرت ان پر چھا جائے گی ‘ اتنی کہ زبانوں کو گنگ کر دے گی اور وہ (صحیح جواب دینے کے بجائے) کہیں گے کاش یہ کتاب مجھ کو نہ دی گئی ہوتی کافروں کا تذکرہ اس آیت میں نہیں نہ ان کے اعمالنامے دینے کا بیان ہے کیونکہ اگلی آیت خود کافروں کی حالت کا اظہار کر رہی ہے۔ فرمایا ہے۔
Ayah 17:72

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 17:72 in the Quran reader

اور جو شخص اس (دنیا) میں اندھا ہو وہ آخرت میں بھی اندھا ہوگا۔ اور (نجات کے) رستے سے بہت دور

وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا : اور جو شخص اس (دنیا) میں اندھا رہے گا وہ آخرت میں بھی اندھا رہے گا۔ بعض روایات میں حضرت ابن عباس ؓ : کی طرف یہ قول منسوب کیا گیا ہے۔ کہ ہٰذِہٖ سے مراد ہیں اللہ کی وہ نعمتیں جن کا اظہار اللہ نے رَبُّکُمُ الَّذِیْ یُزْجِیْ لَکُمُ الْفُلْکَ سے تفضیلاً تک کیا ہے اور فِی الْاٰخِرَۃِسے مراد آخرت کے معاملے ہیں یعنی اللہ کی ان کھلی ہوئی نعمتوں کو دیکھتے ہوئے جو شخص نابینا رہا ‘ وہ آخرت کے معاملے میں تو بہت ہی زیادہ اندھا ہوگا کیونکہ آخرت کو تو اس نے دیکھا ہی نہیں۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک ہٰذہٖسے دنیا کی طرف اشارہ ہے یعنی جو شخص اس دنیا میں دلائل توحید و حق کو دیکھنے (بچشم عقل معائنہ کرنے) سے نابینا ہے وہ آخرت میں نجات کا راستہ دیکھنے سے تو بہت زیادہ نابینا ہوگا۔ نجات کا راستہ اس کو بالکل دکھائی نہ دے گا۔ لفظ اعمیٰ اسم تفضیل کا صیغہ ہے اور تفضیلی معنی ہی مراد ہے ‘ یعنی بہت زیادہ اندھا۔