6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 6:125

فَمَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ اَنْ یَّهْدِیَهٗ یَشْرَحْ صَدْرَهٗ لِلْاِسْلَامِ١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ اَنْ یُّضِلَّهٗ یَجْعَلْ صَدْرَهٗ ضَیِّقًا حَرَجًا كَاَنَّمَا یَصَّعَّدُ فِی السَّمَآءِ١ؕ كَذٰلِكَ یَجْعَلُ اللّٰهُ الرِّجْسَ عَلَى الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:125 in the Quran reader

اللہ جس کے لئے ارادہ کرلیتا ہے کہ اسے ہدایت نصیب کردے اس کا سینہ وہ اسلام کے لئے کھول دیتا ہے،184 ۔ اور جس کے لئے وہ ارادہ کرلیتا ہے کہ اسے گمراہ رکھے اس کے سینہ کو وہ تنگ (اور) بہت تنگ کردیتا ہے جیسے اسے آسمان میں چڑھنا پڑ رہا ہو،185 ۔ اس طرح اللہ گندگی ڈالے رکھتا ہے ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے،186 ۔

184 ۔ (چنانچہ وہ شخص قبول اسلام میں کوئی پس وپیش نہیں کرتا) (آیت) ” فمن یرد اللہ “۔ ارادۂ الہی سے مراد اس کی مشیت تکوینی ہے۔ 185 ۔ (اور چڑھ نہ پاتا ہو، تو ظاہر ہے کہ اسے کس درجہ میں مشقت اٹھانی پڑرہی ہوگی۔ اور اس کی سانس کیسی پھول رہی ہوگی) تشبیہ سے مقصود اس تکلیف شدید کا اظہار ہے جو کافر کو ایمان لانے کے خیال سے ہوتی ہے۔ شبہ اللہ الکافر فی نفورہ من الایمان وثقلہ علیہ بمنزلۃ من تکلف ما لایطیقہ کما ان صعود السماء لایطاق (قرطبی) کانما یزاول امر اغیر ممکن لان صعود السماء مثل فی مایمتنعوی بعد من الاستطاعۃ وتضیق عنہ المقدرۃ (کشاف) والمراد المبالغۃ فی ضیق صدرہ (روح) (آیت) ” ومن یرد ان یضلہ “۔ یہ ارادۂ الہی بھی مشیت تکوینی وتقدیری کے معنی میں ہے رضاء الہی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے اصل نکل آئی صوفیہ محققین کے اصطلاحات بسط وقبض عقلی کی۔ 186 ۔ یہاں بھی فعل کی نسبت اللہ تعالیٰ کی جانب محض تکوینی حیثیت سے یا محض بطور مسبب الاسباب کے ہے اور مقصود کلام یہ ہے کہ ان کے ارادی کفر وشرارت کے ثمرات بھی مرتب ہوتے رہتے ہیں۔ اور انہیں راہ ہدایت کی توفیق ہی نہیں نصیب ہوتی۔ (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح کافر ایمان لانے میں تنگی صدر محسوس کرتا ہے۔ کجعلہ ضیق الصدر فی اجسادھم (قرطبی) (آیت) ” الرجس “۔ رجس کے لفظی معنی گندگی کے ہیں۔ یہاں مراد ہے محرومی، وبے توفیقی۔ یعنی الخذ لان ومنع التوفیق (کشاف)
Ayah 6:126

وَ هٰذَا صِرَاطُ رَبِّكَ مُسْتَقِیْمًا١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّذَّكَّرُوْنَ Open ayah 6:126 in the Quran reader

اور یہی تیرے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے،187 ۔ ہم نے آیتوں کو خوب کھول کر بیان کردیا ہے ان لوگوں کے لیے جو نصیحت کرتے ہیں،188 ۔

187 ۔ (اے مخاطب) (آیت) ” ھذا “۔ یعنی دین اسلام۔ ای ھذا الذی انت علیہ یا محمد والمومنون (قرطبی) اشارۃ الی البیان الذی جاء بہ القران اوالی الاسلام (بیضاوی) (آیت) ” مستقیما “۔ تاکید کے لیے ہے ورنہ صراط رب تو ظاہر ہے کہ مستقیم ہی ہوگی۔ یہ تاکیدایسی ہے جیسے حق کے ساتھ مصدق قرآن میں آتا ہے۔ وھو حال مؤکدۃ کقولہ وھو الحق مصدقا (بیضاوی) 188 ۔ آیتیں مفصل ہیں تو سب ہی کے لیے۔ البتہ نفع ان سے وہی لوگ حاصل کریں گے۔ جن کے دلوں میں نصیحت و ہدایت کی طلب ہے۔
Ayah 6:127

لَهُمْ دَارُ السَّلٰمِ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ هُوَ وَلِیُّهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:127 in the Quran reader

ان کے واسطے سلامتی کا گھر ہے ان کے پروردگار کے پاس اور وہی ان کا دوست ہے بہ سبب اس کے کہ جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں،189 ۔

189 ۔ اللہ کا اپنے صالح بندوں کے ساتھ جو یہ علاقہ قرب وولایت ہے۔ یہ ان بندوں کے حسن عمل کا نتیجہ ہے۔ (آیت) ” وھو ولیھم “۔ ولی کے معنی قریب کے ہیں۔ اور اسی سے مفسرین نے استدلال کیا ہے کہ آیت سے بندگان صالح کا انتہائی شرف ظاہر ہورہا ہے۔ (آیت) ” عندربھم “۔ اللہ سے بندوں کی قربت کا ترجمان ہے اور (آیت) ” ولیھم “۔ بندوں سے اللہ کی قربت کا مظہر۔ والولی معناہ القریب فقولہ عند ربھم یدل علی قربھم من اللہ تعالیٰ وقولہ ھو ولیھم یدل علی قرب اللہ منھم ولا نری فی العقل درجۃ للعبد اعلی من ھذہ الدرجۃ (کبیر) (آیت) ” ھو ولیھم “۔ کی ترکیب حصر پر بھی دلالت کررہی ہے۔ یعنی اللہ ہی اس کا دوست و کارساز ہے۔ نہ کوئی اور۔ یفید الحصر ای لاولی لھم الا ھو (کبیر) (آیت) ” بما کانوا یعملون “۔ اس میں گویا یہ بتادیا کہ یہ مرتبہ ولایت الہی اعمال ہی سے حاصل ہوتا ہے۔ ترک اعمال سے اس کے حاصل کرنے کی کوئی صورت نہیں۔ (آیت) ” دارالسلم “۔ یعنی دارالسلامۃ وہ مکان جو ہر قسم کے آفات سے محفوظ ہو اور ظاہر ہے کہ وہ جنت ہے۔ ای التی یسلم فیھا من الافات (قرطبی) المعنی دارالسلامۃ والعرب تلحق ھذہ الھاء فی کثیر من المصادر وتحذفھا (کبیر) ای دارالسلامۃ من المکارہ (بیضاوی) (آیت) ” لھم دارالسلم “۔ کی ترکیب حصر کے لیے ہے۔ یعنی سلامتی کا ٹھکانا ایسے لوگوں کے لیے ہے۔ نہ کہ دوسروں کے لیے۔ ھذا یوجب الحصر فمعناہ لھم دارالسلام لا لغیرھم (کبیر)
Ayah 6:128

وَ یَوْمَ یَحْشُرُهُمْ جَمِیْعًا١ۚ یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُمْ مِّنَ الْاِنْسِ١ۚ وَ قَالَ اَوْلِیٰٓؤُهُمْ مِّنَ الْاِنْسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَّ بَلَغْنَاۤ اَجَلَنَا الَّذِیْۤ اَجَّلْتَ لَنَا١ؕ قَالَ النَّارُ مَثْوٰىكُمْ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:128 in the Quran reader

اور وہ دن (یاد کرنے کے قابل ہے) جب (اللہ) ان سب کو جمع کرے گا (اور کہا جائے گا) اے جماعت جنات ! تم نے بڑا حصہ لیا انسانوں (کی گمراہی) میں،190 ۔ اور انسانوں میں سے ان کے دوست (بھی) کہیں گے، اے ہمارے پروردگار (واقعی) ہم نے ایک دوسرے سے فائدہ حاصل کیا تھا اور ہم آپہنچے اپنی میعاد معین تک جو تو نے ہمارے لئے معین کی تھی،191 ۔ (اللہ) فرمائے گا تمہارا ٹھکانا دوزخ ہے اس میں (ہمیشہ کو) رہو گے سوا اس کے کہ اللہ ہی (نکالنا) چاہے، بیشک آپ کا پروردگار بڑا حکمت والا ہے، بڑا علم والا ہے،192 ۔

190 ۔ یعنی انسانوں کو خوب بہکایا۔ ای من الاستمتاع بالانس (قرطبی) قد استکثرتم من الدعاء الی الضلال (کبیر) ای من اغواءھم واضلالھم (بیضاوی) (آیت) ” یحشرھم جمیعا “۔ سارے خلائق کے حشر کیے جانے کی طرف اشارہ ہے۔ المراد حشر جمیع الخلق فی موقف القیامۃ (قرطبی) الضمیر یعود الی المعلوم لاالی المذکور وھو الثقلان و جمیع المکلفین الذین علم ان اللہ یبعثھم (کبیر) (آیت) ” یمعشرالجن “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ فیقال لھم یمعشر الجن۔ یہ صیغہ مجہول اس لیے کہ یہ بہت بعید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کافروں سے براہ راست کلام کرے، قال الزجاج التقدیر فیقال لھم یا معشر الجن لانہ یبعد ان یتکلم اللہ تعالیٰ بنفسہ مع الکفار (کبیر) 191 ۔ یعنی قیامت آگئی۔ اور ہم نے شیطانی وعدوں کا جھوٹ مشاہدہ کرلیا۔ (آیت) ” اولیؤھم من الانس “۔ یعنی وہ انسان جو اس دنیا میں ان شیاطین جن سے دوستی کا علاقہ رکھتے تھے، اور ان کی باتوں میں آجایا کرتے تھے۔ حصل من الجن بالدعآء ومن الانس القبول والمشارکۃ حاصلۃ بین الفریقین (کبیر) ای الذین اطاعوھم (بیضاوی) (آیت) ” استمتع بعضنا ببعض “۔ چناچہ ایک طرف گمراہ انسانوں کو اپنے ان عقائد کفر وشرک میں لذت ملتی ہے۔ دوسری طرف ان شیطانوں کو اس میں مزا آتا ہے کہ ہمارا جادو خوب چلا۔ ای انتفع الانس بالجن بان دلوھم علی الشھوت وما یتوصل بہ الیھا والجن بالانس بان اطاعوھم وحصلوا مرادھم (بیضاوی) 192 ۔ (اس کے یہاں نہ کوئی سزا نامناسب وغیرحکیمانہ ہوسکتی ہے نہ کسی مجرم کا جرم اس کے علم سے باہر ہوسکتا ہے) (آیت) ” مثوکم “۔ اس مخاطبہ میں کفار جن وانس ہر قسم کے کفار شامل ہیں۔ (آیت) ” الا ما شآء اللہ “۔ ارادۂ الہی ہی سب سے برتر اور آخری قانون ہے۔ وہی سب پر حاکم و غالب ہے اور مشیت الہی کسی دوسرے قانون کی پابندومحکوم نہیں۔ (آیت) ” ماشآء اللہ “ میں، ما، کو، من، کو معنی میں بھی لیا گیا ہے۔ اور الا سے استثناء اہل ایمان کا کیا گیا ہے۔ قال ابن عباس والاستثناء لاھل الایمان فما علی ھذا بمعنی من (قرطبی) اور اس تقدیر پر توقف ہر مرنے والے کے باب میں کیا جائے گا کہ ممکن ہے کہ اس کافر کا خاتمہ ایمان ہی پر ہوا ہو۔ عن ابن عباس انہ قال ھذہ الایۃ تو جب الوقف فی جمیع الکفار ومعنی ذلک انھا تو جب الوقف فی من لم یمت اذ قد یسلم (قرطبی)
Ayah 6:129

وَ كَذٰلِكَ نُوَلِّیْ بَعْضَ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضًۢا بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ۠ Open ayah 6:129 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم ظالموں کو ایک دوسرے کے قریب رکھیں گے بہ سبب ان اعمال کے جو وہ کرتے رہے تھے،193 ۔

193 ۔ یہ ٹھیک ٹھیک بدلہ ان کے اعمال کا ہوگا، کوئی ظلم و زیادتی ہرگز ہرگز نہ ہوگی۔ ارواح میں باہم مشابہت وہم جنسی ہوتی ہے۔ خبیث روحین جن وانس کی ایک جگہ رہیں گی، اور طاہر روحیں جن وانس کی یکجا۔ لان الجنسیۃ علۃ الضم فالارواح الخبیثۃ تنضم الی ما یشاکلھا فی الخبث (کبیر) (آیت) ’ کذلک “۔ یعنی جس طرح دنیا میں ایک دوسرے سے علاقہ قرب وولایت تھا۔ قرناء ھم فی العذاب کما کانوا فی الدنیا (بیضاوی) (آیت) ” نولی بعض الظلمین بعضا “۔ میں نولی کے معنی ” ہم مسلط کردیں گے “ کے بھی کیے گئے ہیں۔ قال ابن زید تسلط ظلمۃ الجن علی ظلمۃ الانس (قرطبی) اور یہ معنی لے کر بھی محققین نے کہا ہے کہ ظلم کے تحت میں ہر قسم کا ظلم داخل ہے۔ خواہ چوری کے ذریعہ سے ہو یا تاجرانہ دغابازی سے یا اور کسی طریقہ سے۔ یدخل فی الایۃ جمیع من یظلم او یظلم الرعیۃ اوالتاجر یظلم الناس فی تجارتہ اوالسارق وغیرھم (قرطبی) مزید استنباط یہ بھی کیا گیا ہے کہ جب رعایا ظالم ہوتی ہے تو ان پر حاکم بھی ظالم ہی مسلط کردیا جاتا ہے۔ الایۃ تدل علی ان الرعیۃ متی کانوا ظالمین فاللہ تعالیٰ یسلط علیھم ظالما مثلھم (کبیر) (آیت) ” بما کانوا یکسبون “۔ بنیاد اس تولیت یا تسلط کی وہی ہم جنسی ہوگی۔ ای بسبب کون ذلک البعض مکتسبا للظلم والمراد منہ ما بینا ان الجنسیۃ علۃ للضم (کبیر)
Ayah 6:130

یٰمَعْشَرَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ اَلَمْ یَاْتِكُمْ رُسُلٌ مِّنْكُمْ یَقُصُّوْنَ عَلَیْكُمْ اٰیٰتِیْ وَ یُنْذِرُوْنَكُمْ لِقَآءَ یَوْمِكُمْ هٰذَا١ؕ قَالُوْا شَهِدْنَا عَلٰۤى اَنْفُسِنَا وَ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا وَ شَهِدُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰفِرِیْنَ Open ayah 6:130 in the Quran reader

اے جماعت جن وانس ! کیا تمہارے پاس تمہی میں سے پیغمبر نہیں آئے تھے (جو) میرے احکام تمہیں سناتے تھے اور تمہیں اسی آج کے دن کے وقوع سے ڈرایا کرتے تھے، بولیں گے (بیشک) ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں،194 ۔ ان کو (آج) دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا ہے اور وہ اپنے خلاف خود گواہی دیں گے کہ بیشک ہم کافر رہے،195 ۔

194 ۔ (اور اپنے جرم کا اقرار کرتے ہیں۔ بیشک ہمارے پاس کوئی عذر و جواب نہیں) یہ مخاطبہ قیامت میں ہوگا۔ اور سوال ظاہر ہے کہ مزید توبیخ کے لیے ہوگا۔ (آیت) ” یمعشر الجن والانس “۔ معشر کے معنی اس جماعت کے ہیں جو حکم واحد میں ہو، اور ان کے افراد کے درمیان معاشرت ومخالطت ہو۔ قال اھل اللغۃ المعشر کل جماعۃ امرھم واحد ویحصل بینھم معاشرۃ ومخالطۃ (کبیر) (آیت) ” رسل منکم “۔ نے ایک بڑی بحث یہ پیدا کردی ہے کہ آیا جنات کے در میان بھی سلسلہ نبوت قائم رہا ہے ؟ ضحاک تابعی سے سوال کا جواب اثبات میں نقل ہوا ہے۔ ان سے کسی نے سوال کیا کہ آیا ہمارے رسول ﷺ سے قبل جنات میں بھی نبی گزرے ہیں ؟ انہوں نے جواب میں یہی آیت پڑھی اور فرمایا۔ یعنی بذلک رسلا من الجن ورسلا من الانس (ابن جریر، عن الضحاک) ایک اور قول بھی اس مضمون کا نقل ہوا ہے کہ جن وانس کے درمیان پیغمبر انہی کے ہم جنس آتے رہے ہیں۔ وتعلق بظاھرہ قوم وقالوا بعث الی کل من الثقلین رسل من جنسھم (بیضاوی) وعلیہ ظاہر النص (مدارک) لیکن اکابر کا بڑاگروہ اس جانب گیا ہے کہ منکم سے مراد مجموعہ جن وانس ہے نہ کہ دونوں فریق فردا فردا۔ والرسل من احد الفریقین کما قال (آیت) ” مرج البحرین یلتقین “۔ ثم قال (آیت) ” یخرج منھما اللؤلؤوالمرجان “۔ وانما معنی ذلک یخرج من بعضھما اومن احدھما (ابن جریر) فمعنی ” منکم “ اے من احدکم (قرطبی) اور جمہور کا فیصلہ یہ ہے کہ مستقل انبیا صرف انسانوں میں پیدا ہوئے ہیں۔ جنات میں صرف ان کے نائب یا نذیر ہوتے رہے ہیں۔ لم یرسل منھم الیھم رسول ولم یکن لہ من الجن قط رسول مرسل وانما الرسل من الانس خاصۃ فاما من الجن فالنذر (ابن جریر) ومعنی منکم فی الخلق والتکلیف والمخاطبۃ ولما کانت الجن ممن یخاطب ویعقل قال منکم وان کانت الرسل من الانس وغلب الانس فی الخطاب کما یغلب المذکر علی المؤنث (قرطبی) الرسل من الانس خاصۃ لکن لما جمعوا مع الجن فی الخطاب صح ذلک (بیضاوی) قال مجاھد الرسل من الانس والنذر من الجن (معالم) الرسل من الانس خاصۃ وانما قیل رسل منکم لانہ لما جمع الثقلین فی الخطاب صح ذلک وان کان من احدھما (مدارک) ای من جملتکم والرسل من الانس فقط ولیس من الجن رسل کما قد نص علی ذلک مجاھد وابن جریج وغیر واحد من الاثمۃ من السلف والخلف (ابن کثیر) البتہ اجماع اس قول پر بھی نہیں اور نہ اس پر کوئی حجت قطعی قائم ہے۔ القول الثانی وھو قول الاکثرین انہ ما کان من الجن رسول البتۃ وانما کان الرسل من الانس وما رأیت فی تقریر ھذا القول حجۃ الاادعاء الاجماع وھو بعید لانہ کیف ینعقد الاجماع مع حصول پھیلائے، لفظی معنی میں وہی رسول ہے۔ اور اس معنی میں ہر عالم، ہر مبلغ، ہر نائب رسول، رسول ہی ہے۔ اور جنات میں ان کے مبعوث ہونے سے کسی کو بھی انکار نہیں۔ (آیت) ” ایتی “۔ ایات کا لفظ یہاں عام ہے۔ احکام، کتب الہی، سب پر شامل ہے۔ 195 ۔ (دنیا میں) (آیت) ” شھدوا علی انفسھم “۔ یہ اپنے خلاف گواہی منکرین قیامت میں دین گے۔ (آیت) ” وغرتھم الحیوۃ الدنیا “۔ یہاں یہ بتا دیا کہ دنیوی لذتوں کو مقصود اعظم سمجھ کر، ان میں منہمک ہوجانا یہی راز ہے آخرت سے غفلت اور کفر کا، آج دنیا میں جتنے ملحد افراد یا ملحد جماعتیں ہیں، غور کرکے دیکھ لیا جائے۔ سب کے کفر والحاد کی تہ میں کوئی نہ کوئی مادی انہماک ہی نکلے گا۔
Ayah 6:131

ذٰلِكَ اَنْ لَّمْ یَكُنْ رَّبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا غٰفِلُوْنَ Open ayah 6:131 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہے کہ آپ کا پروردگار بستیوں کو ظلم کی پاداش میں اس حال میں ہلاک نہیں کردیتا کہ وہاں کے باشندے بیخبر ہوں،196 ۔

196 ۔ یہاں یہ صراحت کردی ہے کہ یہ پیغمبروں کا بھیجنا تو اسی لیے ہوتا ہے کہ منکروں پر خوب اتمام حجت ہوجائے، ان میں تبلیغ عقائد پوری طرح ہوجائے۔ کیونکہ ان مراتب کے پورے ہوئے بغیر، منکروں اور بدمذہبوں کو بیخبر ی میں پکڑلینا سنت الہی ہے بھی نہیں۔ ذلک۔ یعنی یہ رسولوں کا بھیجنا۔ اشارۃ الی ما تقدم من بعثۃ الرسل الیھم (مدارک) اشارۃ الی ارسال الرسل (بیضاوی) (آیت) ” مھلک القری بظلم “۔ یہاں یہ سنت الہی بیان کردی کہ آخرت کے علاوہ دنیا میں بھی گرفت بیخبر ی میں اور بلااتمام حجت نہیں کی جاتی۔ (آیت) ” واھلھا غفلون “۔ یعنی یہ لوگ احکام الہی سے بیخبر ہوں۔
Ayah 6:132

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:132 in the Quran reader

اور ہر ایک کے لئے درجے ہیں جیسے اس نے عمل کئے ہیں، اور جو کچھ یہ کرتے رہتے ہیں آپ کا پروردگار اس سے بیخبر نہیں،197 ۔

197 ۔ وہاں تو ایک ایک کے اعمال کے ہر ہر جزئیہ کی پوری روداد موجود ہے۔ اسے سب کو ان کے مناسب حال جزاوسزا دینا مشکل کیا ہے ؟ (آیت) ” ولکل درجت “۔ ہر ایک کے لیے الگ الگ درجے ہیں جزاوسزا کے۔ ای لکل عامل بطاعۃ درجات فی الثواب ولکل عامل بمعصیۃ درکات فی العقاب (قرطبی)
Ayah 6:133

وَ رَبُّكَ الْغَنِیُّ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَسْتَخْلِفْ مِنْۢ بَعْدِكُمْ مَّا یَشَآءُ كَمَاۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ ذُرِّیَّةِ قَوْمٍ اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 6:133 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار غنی ہے صاحب رحمت ہے،198 ۔ وہ چاہے تو تم (سب) کو اٹھا لے اور تمہارے بعد جس کو چاہے تمہاری جگہ لا بسائے جس طرح تم کو پیدا کردیا ایک دوسری قوم کی نسل سے،199 ۔

198 ۔ صفت غنا لا کر یہ یاد دلا دیا کہ وہ جو بار بار پیغمبر بھیجتا رہا ہے تو کچھ اس لیے نہیں کہ وہ بندوں کی عبادت کا محتاج رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر احتیاج وشائبہ احتیاج سے پاک ہے۔ اور صفت غنا لاکر یاد دیا کہ وہ جو بار بار پیغمبر بھیجتا رہا ہے تو کچھ اس لیے نہی کہ وہ بندوں کی عبادت کا محتاج و متمنی ہے۔ یہ تو مشرکوں ہی کے دیوتا ہوتے ہیں جو اپنے پوجا ریوں کی پوجا وپاٹ کے محتاج رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر احتیاج وشائبہ احتیاج سے پاک ہے۔ اور صفت رحمت لاکر یہ یاد دلادیا کہ اس کا یہ باربار پیغمبروں کو بھیجتے رہنا اسی رحمت کے تقاضہ سے ہے تاکہ بندے مرضیات الہی سے آگاہ باخبر ہو کر دنیا میں نفع زیادہ سے زیادہ حاصل کرتے رہیں۔ (آیت) ” وربک الغنی ذوالرحمۃ “۔ کی ترکیب حصر کے معنی پیدا کررہی ہے۔ مراد یہ ہوتی ہے کہ غنی بھی کوئی اس کے سوا نہیں۔ اور صاحب رحمت بھی کوئی اس کے سوا نہیں۔ وعلم ان قولہ ربک الغنی ذوالرحمۃ یفید الحصر (کبیر) فثبت انہ لاغنی الا ھو حیث انہ لارحیم الا ھو (کبیر) امام المفسرین امام رازی (رح) نے آیت کے ذیل میں مذہب اہل سنت اور مسلک معتزلہ پر بحث کرکے آخر میں اپنے والد ماجد کے حوالہ سے شیخ ابوالقاسم سلیمان بن ناصر انصاری کا یہ بالکل صحیح فیصلہ نقل کیا ہے کہ اہل سنت کی نظر حق تعالیٰ کی قدرت ومشیت پر زیادہ رہتی ہے اور معتزلہ کی نظر تنزیہ وصفت عدل پر۔ اور دونوں کی تشفی و توقع اجر کے لیے یہی کلمہ وربک الغنی ذوالرحمۃ کافی ہے، اعلم یا اخی ان الکل لایجادلون الاالتقدیس والتعظیم وسمعت الشیخ الاما الوالد ضیاء الدین عمر بن الحسین قال سمعت الشیخ ابا القاسم سلیمان بن ناصر الانصاری یقول نظر اھل السنۃ علی تعظیم اللہ فی جانب القدرۃ ونفاذ المشیۃ ونظر المعتزلۃ علی تعظیم اللہ فی جانب القدرۃ ونفاذ المشیۃ ونظر المعتزلۃ علی تعظیم اللہ فی جانب العدل والبراء ۃ عن فعل ما لا ینبغی فاذا تاملت علمت ان احدا لم یصف اللہ الا بالتعظیم والاجلال والتقدیس والتنزیۃ ولکن منھم من اخطاومنھم من اصاب ورجاء الکل متعلق بھذہ الکمۃ وھی قول وربک الغنی ذوالرحمۃ (کبیر) 199 ۔ یعنی جس طرح پرانی نسلیں معدوم ہوگئیں، اور ان کی جگہ اب تم ہو، اسی طرح اللہ اگر چاہے تو یک بیک تم سب کو فنا کرکے ایک نئی نسل انسانی اٹھاکھڑی کرے۔ (آیت) ” یذھبکم “۔ یعنی تمہیں ہلاک کردے اذھاب یہاں اہلاک کے معنی میں ہے۔ اماتت بھی مراد لی گئی ہے۔ الاقراب ان المراد بہ الاھلاک ویحتمل الاماتۃ ایضا (کبیر) خطاب رسول اللہ ﷺ کے منکرین معاصرین سے ہے (آیت) ” من بعدکم “۔ یعنی تمہاری ہلاکت کے بعد۔ یعنی من بعد اذھابکم (کبیر)
Ayah 6:134

اِنَّ مَا تُوْعَدُوْنَ لَاٰتٍ١ۙ وَّ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ Open ayah 6:134 in the Quran reader

وہ جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بیشک آکر رہے گا، اور تم (اللہ کو) ہرا انہیں سکتے،200 ۔

200 ۔ (اپنے کسی حیلہ وتدبیر سے) یعنی یہ کسی طرح نہیں ہوسکتا کہ تم اللہ کے ہاتھ نہ آؤ (آیت) ” ما تو عدون “۔ یعنی وعدہ قیامت ووعدۂ عذاب۔
Ayah 6:135

قُلْ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 6:135 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے اے میری قوم والو ! عمل کرتے رہو اپنے طریقہ پر میں (اپنے طور پر) عمل کر رہا ہوں عنقریب ہی تم کو معلوم ہوجائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں (نافع) ہے یقیناً ظالموں کو فلاح نہیں ہونے کی،201 ۔

201 ۔ (نہ آخرت میں نہ دنیا میں آخر کار) (آیت) ” قل “۔ اس پیام کا یہ حکم رسول اللہ ﷺ کو بطور اتمام حجت کے مل رہا ہے۔ اور مقصود اس سے تہدید ہے۔ مقصود ان لوگوں کو ان کی گمراہی میں قائم وثابت رہنے کی اجازت نہیں۔ ھذا تھدید شدید ووعیداکید (ابن کثیر) ھی تفویض الامر الیہم علی سبیل التھدید (کبیر) والتھدید بصیغۃ الامر مبالغۃ فی الوعید (بیضاوی) (آیت) ” مکانۃ “۔ کے معنی طور وطریقہ کے ہیں۔ المکانۃ الطریقۃ “ (قرطبی) (آیت) ” الظلمون “۔ اور سب سے بڑھ کر ظاہم وہی کافر و مشرک ہیں جو حق تعالیٰ کے باب میں سرسرناانصافی کررہے ہیں۔
Ayah 6:136

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ مِمَّا ذَرَاَ مِنَ الْحَرْثِ وَ الْاَنْعَامِ نَصِیْبًا فَقَالُوْا هٰذَا لِلّٰهِ بِزَعْمِهِمْ وَ هٰذَا لِشُرَكَآئِنَا١ۚ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا یَصِلُ اِلَى اللّٰهِ١ۚ وَ مَا كَانَ لِلّٰهِ فَهُوَ یَصِلُ اِلٰى شُرَكَآئِهِمْ١ؕ سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 6:136 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے کھیتی اور مویشیوں میں سے جو (اللہ ہی نے) پیدا کئے ہیں کچھ حصہ اللہ کا مقرر کر رکھا ہے،202 ۔ اور اپنے خیال کے مطابق کہتے ہیں کہ یہ (حصہ) اللہ کا ہے اور یہ (حصہ) ہمارے دیوتاؤں کا اور پھر جو (حصہ) ان کے دیوتاؤں کے لئے ہوتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پہنچتا نہیں اور جو حصہ اللہ کا ہوتا وہ ان کے دیوتاؤں کی طرف پہنچ جاتا کیسی بری ہے ان کی تجویز ! ،203 ۔

202 ۔ جاہلیت عرب میں ایک دستور یہ بھی تھا کہ یہ لوگ اپنی سالانہ پیداوار وغیرہ میں سے ایک حصہ بطور خیرو خیرات الگ نکال رکھتے اس میں ایک جزو اللہ تعالیٰ کے نام کا رکھتے۔ اور اسے مسافروں، مسیکنوں، مہمانوں پر خرچ کرتے، اور ایک جزو اپنے دیوتاؤں کے لیے نامزد کردیتے، اسے مجاوروں، پنڈتوں، پروہتوں کے ذریعہ مندروں میں بتوں اور مورتیوں پر چڑھاتے۔ اصولی اور نظری حیثیت سے تو یہی تقسیم تھی لیکن عملا یہ بھی تھا کہ دونوں حصوں میں اگر اتفاق سے کچھ خلط ہوجاتا تو کل کا کل دیوتاؤں ہی کے لیے چڑھا وے پر منتقل کردیتے یا اگر یہ دیکھتے کہ عمدہ مال اللہ والے حصہ میں چلا جارہا ہے، جب بھی اسے دیوتاؤں کی طرف کردیتے یہاں ان کی اس دہری، دہری حماقت پر توجہ دلائی ہے۔ صرفوا من مالھم طائفۃ الی اللہ بزعمھم وطائفۃ الی اصنامھم قالہ ابن عباس والحسن و مجاھد وقتادۃ (قرطبی) (آیت) ” جعلوا “۔ کے فاعل وہی مشرکین عرب ہیں۔ اور جعلو اللہ نصیبا کے معنی یہ ہیں کہ ایک حصہ خدا کے لیے کردیا اور ایک حصہ اپنے دیوتاؤں کے لیے۔ قال الزجاج وتقدیر الکلام جعلوا للہ نصیبا ولشرکاءھم نصیبا ودل علی ھذا المحذوف تفصیلہ القسمین فی ما بعد (کبیر) (آیت) ” ذرا من الحرث والانعام “۔ میں یہ اشارہ کردیا کہ نباتات ہوں یا حیوانات۔ بہرحال جو کچھ بھی وہ اپنے دیوتاؤں کی نذر کررہے ہیں ان میں سے کوئی چیز بھی تو دیوی دیوتاؤں کی پیدا کی ہوئی نہیں۔ سب کچھ اللہ ہی کا تو پیدا کیا ہوا ہے۔ 203 ۔ ایک تو نفس تقسیم ہی اللہ اور دیوتاؤں کے درمیان کیسی حماقت وجہالت اور پھر اللہ کے مقابلہ میں دیوتاؤں کی ترجیح کیسی حماقت درحماقت !
Ayah 6:137

وَ كَذٰلِكَ زَیَّنَ لِكَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِكِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِیُرْدُوْهُمْ وَ لِیَلْبِسُوْا عَلَیْهِمْ دِیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:137 in the Quran reader

اور اسی طرح ان کے دیوتاؤں نے بہت سے مشرکوں کی نظر میں ان کی اولاد کے قتل کو خوشنمابنا رکھا ہے،204 ۔ جس سے وہ انہیں برباد کرڈالیں اور ان کے دین کو ان پر مخبوط کردیں اور اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے تو آپ ان کو اور ان کی گڑھنت کو (ان کے حال پر) چھوڑے رہیں،205 ۔

204 ۔ (چنانچہ یہ احمق مشرکین ان دیوتاؤں کو خوش کرنے کے لیے دھڑا دھڑ اپنی اولاد کو موت کے گھاٹ اتارتے جاتے ہیں ! ) مفسرین کا خیال آیت کے الفاظ سے عرب جاہلی کی رسم دختر کشی کی طرف گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے لیکن زیادہ لگتی ہوئی بات یہ ہے کہ اس مقام پر اشارہ دختر کشی کی جانب نہیں، بلکہ عام اولاد کشی کی جانب ہے۔۔۔ غریب مفسرین کو کیا خبر کہ بڑی بڑی ” مہذب وشائستہ “ لیکن جاہلی و مشرک قوموں میں کیسی کیسی ظالمانہ ووحشیانہ رسمیں موجود رہ چکی ہیں ! اولاد کو دیوتاؤں کے استھانوں پر بےتکلف بھینٹ چڑھا دینے کا دستور سامی قوموں میں عام رہا ہے اور خود ہندوستان میں مدتوں یہ رسم رہی ہے کہ بچوں کو گنگا مائی کی موجوں کے آغوش میں ڈال دیا جاتا تھا کہ گھڑیال اور مگرمچھ انہیں نگل لیں۔ اور ان آبی درندوں میں الوہیت کی شان پیدا ہوجائے ! تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” شرکآؤھم “۔ شرکاء سے مراد پہلی نظر میں ان کے دیوتا اور معبود ان باطل معلوم ہوتے ہیں کہ انہی کا خیال ان مشرکوں کو اس طرف لاتا تھا۔ بعض نے اس کے معنی شیاطین کے کیے ہیں۔ قیل ھم الشیاطین وسمی الشیاطین شرکاء لانھم اطاعوھم فی معصیۃ اللہ فاشرکوھم مع اللہ فی وجوب طاعتھم (قرطبی) قال مجاھد شرکاء ھم شیاطینھم وسمیت الشیاطین شرکاء لانھم اطاعوھم فی معصیۃ اللہ تعالیٰ (کبیر) بعض اہل تحقیق نے صاف اس سے مراد مندروں کے پجاریوں، پروہتوں سے لی ہے۔ قال الفر اء والزجاج شرکاء ھم ھنا ھم الذین کانوا یخدمون الاوثان (قرطبی) وقال الکلبی کان لالھتھم سدنۃ و خدام وھم الذین کانوا یزینون للکافر قتل اولادھم وعلی ھذا القول الشرکاء ھم السدنۃ (کبیر) 205 ۔ (اور بہت زیادہ اس کی فکر اپنے سر نہ لیں) (آیت) ” لیردوھم “۔ کے فاعل پر وہ حاشیہ ملاحظہ ہو جو ابھی شرکآؤھم پر گزر چکا ہے۔ (آیت) ” لیردوھم “ میں۔ ل۔ عاقبت کا ہے یعنی یہ ظاہر کرنے کو کہ اس عمل کا نتیجہ یہی ہونا تھا اللام ھھنا محمولۃ علی لام العاقبۃ (کبیر) وللام للعاقبۃ ان کان من السدنۃ اذلیس محط نظرھم ذلک لکنہ عاقبۃ (روح) (آیت) ” دینھم “۔ یہ واضح رہے کہ عرب یعنی بنی اسماعیل کا اصل دین توحید خالص تھا۔ (آیت) ” ولوشآء اللہ “۔ اگر اس کی مشیت تکوینی یہی ہوتی۔ آیت بالا کو پڑھتے وقت ہمارے ملک کے ناظرین اپنے ہاں کی بھی مشرکانہ خرفات کو یاد کرلیں۔ شیخ سدوکا بکا، ہٹھیلے کا مرغا وغیرہ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ جعلوا للہ مما ذرا سے لے کر آخر رکوع یعنی قد ضلوا وما کانوا مھتدین تک آیات میں ہمارے زمانہ کی بہت سی بدعات کا رد آگیا ہے۔ جو بدعات مذکور کے بہت مشابہ ہیں۔ اور یہ مشابہت ومطابقت ذرا غور کرنے سے نظر آجائے گی۔ اور غضب یہ ہے کہ آج کل کے رسمی شیوخ تک ان میں مبتلا ہیں۔
Ayah 6:138

وَ قَالُوْا هٰذِهٖۤ اَنْعَامٌ وَّ حَرْثٌ حِجْرٌ١ۖۗ لَّا یَطْعَمُهَاۤ اِلَّا مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَ اَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُهُوْرُهَا وَ اَنْعَامٌ لَّا یَذْكُرُوْنَ اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا افْتِرَآءً عَلَیْهِ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ بِمَا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:138 in the Quran reader

اور کہتے ہیں اپنے خیال کے مطابق کہ یہ (فلاں فلاں) مواشی اور کھیت ممنوع ہیں انہیں کوئی نہیں کھا سکتا سوا ان کے جن کو ہم چاہیں اور (فلاں) چوپائے ہیں کہ ان کی پشت حرام کردی گئی ہے اور (فلاں) چوپائے ہیں کہ ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے ہیں (یہ سب) اللہ ہی پر بہتان باندھے ہوئے،206 ۔ (اللہ) انہیں ابھی بدلہ دیتا ہے اس بہتان کا جو یہ باندھ رہے ہیں،207 ۔

206 ۔ یہ سب جاہلیت عرب کے مختلف دستوروں کا بیان ہورہا ہے۔ اور ان سے ملتی ہوئی رسمیں دوسری مشرک قوموں میں بھی عام ہیں۔ (آیت) ” افترآء علیہ “۔ کمال افتراء یہ ہے کہ ان مشرکانہ رسموں کو عبادت اور ذریعہ تقرب الہی مشہور کر رکھا ہے ! (آیت) ” حجر “۔ یعنی عام استعمال کے لیے مخصوص۔ یقال فلان فی حجر فلان ای فی منع منہ عن التصرف فی مالہ وکثیر من احوالہ (راغب) الحجر لفظ مشترک وھو ھنا بمعنی الحرام واصلہ المنع (قرطبی) الحجر الممنوع منہ بتحریمہ (راغب) قال قتادۃ یعنی حراما واصلہ المنع (جصاص) (آیت) ” الامن نشآء “۔ یہ کھانا مخصوص انہی مندروں کے پجاریوں پروہتوں کے لیے تھا۔ وھم خدام الاصنام (قرطبی) یعنون خدم الاوثان والرجال دون النساء (کبیر) (آیت) ” حرمت ظھورھا “۔ یہ تحریم ظہر سواری اور باربرداری سے متعلق تھی، عرب بعض جانوروں کو دیوتاؤں کے نام پر نامزد کرکے سانڈ بنا کر چھوڑ دیتے کہ پھر ان سے نہ سواری کا کام لیا جاسکتا نہ بار برداری کا۔ فلا ترکب ولا تحمل علیھا (روح) ہندوستان کے مشرکوں میں بھی بیل، بھینس وغیرہ کو بھوانی دیوی کے نام پر چھوڑ دینے کا عام رواج ہے۔ 207 ۔ ابھی سے مراد موت کا وقت ہے جو کچھ بھی دور نہیں اور جزاء کا ابہام شدت تخویف کے لیے ہے۔ وابھم الجزاء للتھویل (روح) (آیت) ” افتراء کا لفظ لانے سے مقصود وعید کی اہمیت ہے۔ المقصود منہ الوعید (کبیر) (آیت) ” سیجزیھم “۔ میں۔ س۔ یقین کے معنی میں بھی لیا گیا ہے۔ لابد (روح)
Ayah 6:139

وَ قَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ هٰذِهِ الْاَنْعَامِ خَالِصَةٌ لِّذُكُوْرِنَا وَ مُحَرَّمٌ عَلٰۤى اَزْوَاجِنَا١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مَّیْتَةً فَهُمْ فِیْهِ شُرَكَآءُ١ؕ سَیَجْزِیْهِمْ وَصْفَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:139 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ ان چوپایوں کے شکم میں جو کچھ ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لئے ہے اور ہماری بیویوں کے لئے حرام ہے،208 ۔ اور اگر وہ مردہ ہو تو اس میں وہ سب شریک ابھی (اللہ) ان سے بدلہ لیتا ہے ان کے (اس) بیان پر، بیشک وہ بڑا حکمت والا ہے بڑا علم والا،209 ۔

208 ۔ منجملہ اور وہم پرستیوں کے ایک ضعیف الاعتقادی یہ بھی پھیلی ہوئی تھی کہ فلاں فلاں چوپایوں کے شکم کے اندر کی چیزوں سے نفع اٹھانا صرف مردوں کے لیے جائز ہے اور عورتوں کے لیے ناجائز۔ (آیت) ” ما فی بطون “۔ اس کے تحت میں دودھ بھی آگیا۔ اور بچہ بھی، ائمہ تفسیر سے دونوں معنی منقول ہیں۔ قال ابن عباس ھو اللبن وقیل الاجنۃ (قرطبی) قال مجاھد والسدی یعنی بھا الاجنۃ وقال غیرھم ارادبھا الالبان والاجنۃ جمیعا (جصاص) (آیت) ” خالصۃ “۔ کی ۃ ائمہ نحو سے منقول ہے کہ لفظ کے معنی میں مبالغہ اور قوت پیدا کرنے کے لیے ہے جیسے علام سے علامہ نساب سے نسابہ۔ والھاء فی خالصۃ للمبالغۃ فی الخلوص و مثلہ رجل علامۃ ونسابۃ عن الکسائی والاخفش (قرطبی) قال الکسائی معنی خالص وخالصۃ واحد الا ان الھاء للمبالغۃ (قرطبی) انما انثت خالصۃ علی المبالغۃ فی الصفۃ (جصاص) 209 ۔ سو اپنی صفت حکمت کی بنا پر وہ ہمیشہ ہر ایک کو سزا مناسب حال ہی دے گا اور اپنی صفت علم کی بنا پر کسی مجرم سے بھی بیخبر نہیں رہ سکتا۔ (آیت) ” ان یکن میتۃ “۔ یہ مردہ کونسی چیز ہے ؟ وہی جو ان پوپایوں کے شکم میں تھی، یعنی بچہ۔ ای ان یکن مافی البطون میتۃ (قرطبی) (آیت) ” فیہ “۔ یعنی اس مردہ سے نفع اٹھانے کے باب میں۔ (آیت) ” فھم “۔ یعنی مردو عورت سب۔ ای الرجال والنسآء (قرطبی) ایک جاہلی دستوریہ تھا کہ بچہ اگر زندہ ہے جب تو اس سے انتفاع مردوں کے لیے مخصوص ہے اور اگر مرچکا ہے تو پھر اس میں سب شریک ہوسکتے ہیں۔ یعنی اجنۃ الانعام اذا کانت میتۃ استوی ذکرھم وانثاھم فیھا فاکلوھا جمیعا (جصاص) مشرکین عرب نے ان سب مسائل کو اپنے دین کا جزو بنارکھا تھا۔ اصولیین نے آیت سے یہ مسئلہ بھی نکالا ہے کہ عالم کو چاہیے کہ اپنے مخالف پر اطلاع تو حاصل کرلے اس کے رد کرنے کی غرض سے۔ وفی الایۃ دلیل علی ان العالم ینبغی لہ ان یتعلم قول من خالفہ وان لم یاخذ بہ حتی یصرف فساد قولہ ویعلم کیف یرد علیہ (قرطبی)
Ayah 6:140

قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَهُمْ سَفَهًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ وَّ حَرَّمُوْا مَا رَزَقَهُمُ اللّٰهُ افْتِرَآءً عَلَى اللّٰهِ١ؕ قَدْ ضَلُّوْا وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ۠ Open ayah 6:140 in the Quran reader

بڑے ہی گھاٹے میں وہ لوگ آگئے جنہوں نے اپنی اولاد کو قتل کردیا از راہ حماقت بغیر کسی بنیاد کے،210 ۔ اور جو کچھ انہیں اللہ نے نصیب کر رکھا تھا اسے (اپنے اوپر) حرام کرلیا اللہ پر افتراء کرتے ہوئے (یہ لوگ) خوب ہی بھٹکے اور (کسی طرح) راہ یاب نہ ہوئے،211 ۔

210 ۔ اولاد کشی کی رسم کسی ایک قوم یا ملک تک محدود نہ تھی۔ عرب، ہندوستان، یونان، رومہ، سب اس بلا میں مبتلا رہے ہیں۔ اسلام نے آکر اور اس دستورکو مٹا کر محض قومی یا ملکی نہیں۔ بلکہ ایک عالمی اور کائناتی اصلاح انجام دی۔ (ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن) (آیت) ” سفھا بغیر علم “۔ یہ لاکر صاف بتلادیا ہے کہ اس جاہلی گو ” مہذب “ دستور کی بنیاد ہرگز نہ کسی وحی الہی پر ہے نہ کسی دلیل عقلی وتجربی پر بلکہ یہ تمامتر جہل ونادانی کا ثمرہ ہے۔ اردو محاورہ کی رعایت سے (آیت) ” قد خسر “۔ کا ترجمہ ” بڑے ہی گھاٹے میں آگئے “ سے کیا گیا ہے۔ 211 ۔ (آیت) ” ما رزقھم اللہ “۔ عام طور پر مفسریننی اس فقرہ سے مراد کھانے پینے کی چیزیں لی ہیں۔ لیکن یہ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد مقتول اولاد ہی ہو۔ جن کا ذکر چل رہا تھا۔ یعنی ملتی ہوئی اولاد سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ آج ” منع حمل “ کے نام سے جو ملعون تحریک دجل وتزویر کی انتہائی خوشنمائی اور رنگ آمیزیوں کیساتھ شائع ہورہی ہے۔ وہ پوری طرح اس کے تحت میں آجاتی ہے۔ (آیت) ” افترآء علی اللہ “۔ احکام شریعت میں حک واضافہ کھلا ہوا (آیت) ” افترآء علی اللہ “۔ ہے اسی طرح اللہ کے قوانین تکوینی میں بھی ” ایجادہ بندہ “ کو دخل دینا اور لمبے لمبے دعوے ہانکتے رہنا کہ ہمارے اس مجوزہ نظام میں فلاں فلاں اجتماعی مصالح ہیں یہ بھی ایک قسم افتراء علی اللہ ہی کی ہے۔ (آیت) ” قد ضلوا وما کانوا مھتدین “۔ تاکید اور تصریح کے لیے ہے کہ یہ لوگ خوب جی بھر کر گمراہ ہوئے ہیں اور انہیں صحیح فلسفہ کی ہوا ہی نہیں لگی ہے۔
Ayah 6:141

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّ غَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ وَّ النَّخْلَ وَ الزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُكُلُهٗ وَ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُتَشَابِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ كُلُوْا مِنْ ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ اٰتُوْا حَقَّهٗ یَوْمَ حَصَادِهٖ١ۖ٘ وَ لَا تُسْرِفُوْا١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَۙ Open ayah 6:141 in the Quran reader

اور وہ وہی (اللہ) تو ہے جس نے باغ پیدا کئے (ٹیٹوں پر) چڑھائے ہوئے اور بغیر چڑھائے ہوئے اور کھجور کے درخت اور کھیتی کہ ان کے کھانے کی چیزیں مختلف ہوتی ہیں اور زیتوں اور انار باہم مشابہ (بھی) اور غیر مشابہ (بھی) ،212 ۔ اس کے پھلوں میں سے کھاؤ جب وہ نکل آئے اور اس کا حق (شرعی) اس کے کاٹنے کے دن ادا کردیا کرو،213 ۔ اور اسراف مت کرو بیشک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا،214 ۔

212 ۔ ان سارے نباتات، اشجار واثمار کا پیدا کرنے والا ہی ایک خالق بےہمتا ہے نہ کہ زراعت کا کوئی دیوتا بارش کی کوئی دیوی وغیرہ، مثالوں میں نام قدرۃ انہیں چیزوں کے آئے جن سے مخاطبین اول یعنی عرب مانوس وواقف تھے۔ (آیت) ” متشابھا وغیر متشابہ “۔ یہ مماثلت وعدم مماثلت رنگ، مزہ، خوشبو، جسامت ہر اعتبار سے ہوسکتی ہے۔ 213 ۔ (مسکینوں اور اہل حاجت کو دے دلا کر) (آیت) ” حقہ “۔ فقہاء حنفیہ نے تصریح کردی ہے کہ یہاں حق شرعی سے مراد خیر و خیرات ہیں عشر مراد نہیں جو زمین کی زکوٰۃ ہے اور بہت سے تابعین اور بعض صحابہ کا یہی قول ہے۔ قال علی بن الحسین وعطاء والحکم وحماد و سعید بن جبیر و مجاھد ھو حق فی المال سوی الذکوۃ امر اللہ بہ ندبا وروی عن ابن عمر ومحمد بن الحنفیہ۔ ایضا (قرطبی) عن الشعبی ان ھذا حق فی المال سوی الزکوۃ (روح) (آیت) ” من ثمرہ “۔ میں ضمیر مندرجہ بالااثمار میں سے ہر ایک کی جانب ہے۔ ای من ثمر کل واحد من ذلک (بیضاوی) 214 ۔ اور سب سے بڑا اسراف یہ تھا کہ پیداوار میں سے ایک حصہ بتوں، دیوتاؤں کے نام کا نکالا جاتا تھا۔ (آیت) ” ولا تسرفوا “۔ اسراف کے لفظی معنی کسی انسانی فعل میں سے حد سے تجاوز کرجانے کے ہیں۔ السرف تجاوز الحد فی کل فعل یفعلہ الانسان (راغب) قال ابن الاعرابی السرف تجاوز ما حد لک (کبیر) قرآن مجید کا ایک اعجاز یہاں یہ ہے کہ احکام کے جزئیات بلکہ بعض اوقات تو جزئیات درجزئیات کے ضمن میں وہ ایسے حکیمانہ کلیات و اصول بیان کرجاتا ہے، جو زندگی کے سارے ہی شعبوں پر یکساں منطبق ہوجاتے ہیں۔ چناچہ یہاں بھی چلتے چلتے ایک ایسا چٹکلہ بیان کردیا کہ انسان اگر اسی ایک پر عمل کرلے، تو اخلاق معاملات، سیاسیات، معاشرت، غرض کیا انفرادی اور کیا اجتماعی ہر زندگی کے سارے شعبوں کی مشکلات دور ہوسکتی ہیں۔ اور بڑے سے بڑے پتھر پانی ہو کر رہ سکتے ہیں۔ (آیت) ” انہ لا یحب المفسرفین “۔ فخرالمفسرین امام رازی نے یہاں بھی ایک نکتہ خوب پیدا کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ آیۃ کریمہ وقالت الیھود والنصری نحن ابنوا اللہ واحباء ہ قل فلم یعذبکم بذنوبکم سے معلوم ہوا کہ جو اللہ کے محب ومحبوب ہیں وہ اہل نار ومبتلائے عذاب نہیں ہوسکتے۔ اور جب یہ ثابت ہے تو اس کا عکس بھی صحیح ہے کہ جو اللہ کے غیر محب ومحبوب ہیں بعض ان میں کے اہل نار ہیں۔
Ayah 6:142

وَ مِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَةً وَّ فَرْشًا١ؕ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ وَ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِ١ؕ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 6:142 in the Quran reader

اور چوپایوں میں بڑے قد کے (بھی) ہیں اور چھوٹے قد کے (بھی) اللہ نے تمہیں جو کچھ دے رکھا ہے اس میں سے کھاؤ اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو،215 ۔ وہ تو تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے

215 ۔ (کہ جس چیز کو چاہا اپنے دل سے حرام کرڈالا، اپنے دل سے حلال ٹھہرالیا) ای فی التحلیل والتحریم من عند انفسکم کما فعلہ اھل الجاھلیۃ (کبیر) ذکر شرک کی انہی صورتوں کا ہورہا ہے، جو عرب میں عام طور پر رائج تھیں۔ (آیت) ” مما رزقکم اللہ “۔ اشارہ یہ کردیا کہ یہ جانور بھی صرف اللہ ہی کے پیدا کیے ہوئے، اللہ ہی کے عطیہ ہیں۔ کسی دیوی، دیوتا کے نہیں۔ جو تم انہیں خواہ مخواہ شریک کیے لیتے ہو۔ رزق سے مراد حلال ہی جانور ہیں۔ یرید ما احلھا لکم (کبیر) جانوروں کا معاملہ بھی اسی طرح کا ہے جیسا باغ اور زراعت کا تھا۔ (آیت) ” حمولۃ وفرشا “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ وانشاحمولۃ وفرشامن الانعام (قرطبی) وھو الذی انشالکم من الانعام حمولۃ وفرشا (جصاص) زمخشری اور رازی دونوں نے لکھا ہے کہ ومن الانعام کا و آیت کا عطف آیت ماقبل وھو الذی انشأ جنت سے کررہی ہے۔ (آیت) ” حمولۃ “ کے معنی بڑے اور قدآور جانور کے کیے گئے ہیں، جیسے اونٹ جو بوجھ اٹھانے اور سواری اور محنت کے قابل ہوں۔ الحمولۃ ما اطاق الحمل والعمل (قرطبی) ماتحمل الاثقال (کشاف، کبیر) صالحۃ للحمل علیھا کالابل الکبائر (جلالین) (آیت) ” فرشا “۔ اور فرش وہ چھوٹے قد کے جانور ہیں، جو گوشت اور دودھ کے لیے استعمال میں آتے ہیں۔ جیسے بکری، قال ابن زید الحمولۃ مایرکب والفرش مایوکل لحمہ ویحلب (قرطبی) مایفرش للذبح (کشاف، کبیر) لاتصلح للحمل کالابل الصغار والغنم سمیت فرشا لانھا کالفرش للارض لدنوھا منھا (جلالین)
Ayah 6:143

ثَمٰنِیَةَ اَزْوَاجٍ١ۚ مِنَ الضَّاْنِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْمَعْزِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ نَبِّئُوْنِیْ بِعِلْمٍ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَۙ Open ayah 6:143 in the Quran reader

(اللہ نے) آٹھ جوڑے (پیدا کئے) ،216 ۔ دو قسمیں بھیڑ میں سے اور دو قسمیں بکری میں سے، آپ کہیے کہ (اللہ نے) آیا دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادوں کو، یا اس (بچہ) کو جس کو دونوں مادائیں اپنے رحم میں لئے ہوئے ہیں مجھے بتلاؤ تو دلیل کے ساتھ اگر تم سچے ہو،217 ۔

216 ۔ (ان چوپایوں کے جن کی حلت و حرمت میں تم اپنی تراش خراش سے کام لے رہے ہو) (آیت) ” ثمنیۃ ازواج “۔ کی تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ وانشأثمانیۃ ازواج (قرطبی) (آیت) ” ازواج “۔ سے مراد جانوروں کی قدرتی تقسیم نرومادہ میں ہے۔ ثمانیۃ ازواج یعنی ثمانیۃ افراد وکل فرد عند العرب محتاج الی اخر یسمی زوجا (قرطبی) اور یہی مراد آگے چل کر انثیین سے بھی ہے۔ ای الذکر والانثی (قرطبی) 217 ۔ (اپنے اس دعوے میں کہ فلاں، فلاں حرام ہے)
Ayah 6:144

وَ مِنَ الْاِبِلِ اثْنَیْنِ وَ مِنَ الْبَقَرِ اثْنَیْنِ١ؕ قُلْ ءٰٓالذَّكَرَیْنِ حَرَّمَ اَمِ الْاُنْثَیَیْنِ اَمَّا اشْتَمَلَتْ عَلَیْهِ اَرْحَامُ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ اَمْ كُنْتُمْ شُهَدَآءَ اِذْ وَصّٰىكُمُ اللّٰهُ بِهٰذَا١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا لِّیُضِلَّ النَّاسَ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 6:144 in the Quran reader

اور (اسی طرح) دو قسمیں ہیں اونٹ میں (بھی) اور دو قسمیں ہیں گائے میں (بھی) آپ کہیے کہ (اللہ نے) آیا دونوں نروں کو حرام کیا ہے یا دونوں مادوں کو یا اس (بچہ) کو جسے دونوں مادہ اپنے رحموں میں لئے ہوئے ہیں۔ کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے تم کو اس کا حکم دیا تھا،218 ۔ تو اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ، بہتان باندھے بغیر علم کے، تاکہ لوگوں کو گمراہ کرے اللہ تو ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا،219 ۔

218 ۔ ابھی اوپر آچکا ہے۔ (آیت) ” نبؤنی بعلم “۔ یعنی کسی نبی الہی کی سند دعوی حرمت پر لاؤ، اب یہ سوال ہورہا ہے کہ جب نبی کی سند نہیں پیش کرسکتے ہو تو کیا حق تعالیٰ نے براہ راست تم کو مخاطب کرکے ان چیزوں کو حرام کیا ہے۔ (آیت) ” بھذا “۔ یعنی تمہارے قول وزعم کے مطابق اس تحلیل وتحریم کا حکم (آیت) ”۔ من البقر “۔ بقر ہی کے تحت میں بھینس بھی آجاتی ہے۔ اصولیین نے آیت سے تحقیق میں مناظرہ کا حکم نکالا ہے۔ چناچہ یہاں پیغمبر ﷺ کو مخالفین سے مناظرہ کا حکم مل رہا ہے اور آیت سے قیاس واستنباط کا بھی اثبات ہورہا ہے۔ قال العلماء الایۃ دلت علی اثبات المناظرۃ فی العلم لان اللہ تعالیٰ امر نبیہ (علیہ السلام) بان یناظرھم ویبین لھم فساد قولھم وفیھا اثبات القول بالنظر والقیاس (قرطبی) 219 ۔ یعنی ایسے لوگوں کو جو افتراء علی اللہ میں دلیر ہوں۔ (آیت) ” ممن افتری علی اللہ کذبا “۔ اور ایک بڑا افتراء علی اللہ ہے کہ تحلیل وتحریم ماکولات کا مسئلہ بندہ اپنے ہاتھ میں لے لے۔ اور اسے خدائی تعلیم سمجھے (آیت) ” بغیر علم “۔ اس کا نحوی تعلق (آیت) ” افتری علی اللہ “۔ سے ہے یعنی بغیر یہ علم حاصل رکھے ہوئے کہ اس کی حرمت خدائے تعالیٰ کے یہاں سے ہوئی ہے، اسے اپنے دل سے گڑھ کر حرام ٹھہراتا ہے۔ ای افتری علیہ سبحانہ جاھلا بصدور التحریم عنہ جل شانہ (روح) بعض محققین نے لکھا ہے کہ جب قرآن مجید محض بےعلم وتحقیق تحریم عنہ جل شانہ (روح) بعض محققین نے لکھا ہے کہ جب قرآن مجید محض بےعلم وتحقیق تحریم اشیاء کردینے والوں کو ظالم ترین (ومن اظلم ممن افتری) ٹھہرا رہا ہے، تو ظاہر ہے کہ ان مجرموں کا کیا درجہ ہوگا جو عدم علم وبے تحقیقی کے ساتھ نہیں، بلکہ دانستہ تحریف کی جسارت کے ساتھ تحلیل حرام یاتحریم حلال کرتے رہتے ہیں۔ فان من افتری علیہ سبحانہ بغیر علم بصدور ذلک عنہ جل جلالہ مع احتمال صدورہ اذا کان فی تلک الغایۃ من الظلم فماالظن ممن افتری وھو یعلم عدم الصدور (روح)
Ayah 6:145

قُلْ لَّاۤ اَجِدُ فِیْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیَّ مُحَرَّمًا عَلٰى طَاعِمٍ یَّطْعَمُهٗۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّكُوْنَ مَیْتَةً اَوْ دَمًا مَّسْفُوْحًا اَوْ لَحْمَ خِنْزِیْرٍ فَاِنَّهٗ رِجْسٌ اَوْ فِسْقًا اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ رَبَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:145 in the Quran reader

آپ کہہ دیجے مجھ پر جو وحی آئی ہے اس میں تو میں (اور) کچھ نہیں حرام پاتا کسی کھانے والے کے لئے جو اسے کھائے سوا اس کے کہ وہ مردار ہو یا بہتا ہوا خون کیا سؤر کا گوشت ہو، کیوں کہ وہ (بالکل) گندہ ہے،220 ۔ یا جو فسق (کا ذریعہ) ہو غیر اللہ کے لئے نامزد کیا گیا،221 ۔ لیکن جو کوئی بیقرار ہوجائے اور طالب لذت نہ ہو، نہ حد سے تجاوز کرے، تو بیشک آپ کا پروردگار بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے،222 ۔

220 ۔ (اور اسی لیے اس کے گوشت کے علاوہ بھی دوسرے اجزاء مثلاکھال، چربی وغیرہ نجس اور حرام ہیں) (آیت) ” فانہ “۔ میں ضمیر خنزیر کی طرف ہے۔ ای اللحم او الخنزیر لانہ الاقرب ذکرا (روح) واستدل الشافعیۃ بقول سبحانہ فانہ رجس علی نجاسۃ الخنزیر بناء علی عود الضمیر علی خنزیر لانہ اقرب مذکور (روح) اذا احتمل للضمیر العود علی شیئین کان عودہ علی الاقرب ارجع (بحر) (آیت) ” فی ما اوحی الی “۔ یعنی ان جانوروں کے سلسلہ میں جو وحی مجھ پر آئی ہے، جن کی حلت و حرمت پر یہاں گفتگو ہورہی ہے، یہاں جن حرام چیزوں کا حصر کیا گیا ہے، ان سے مراد یہی ہے کہ تم اور چیزوں کو اپنی رائے وتجویز سے کہاں سے حرام ٹھہرائے لیتے ہو، وحی الہی نے تو ابھی تک حرام تو بس یہی چیزیں کی ہیں۔ یہ مراد نہیں کہ کل محرمات کی یہ مکمل فہرست ہے، آیت مکی ہے اس سے زیادہ چیزیں تو مدنی سورة مائدہ ہی میں مل جائیں گی۔ شراب اور گردن مروڑا ہوا جانور وغیرہ اور متعدد جانوروں کی حرمت جو حدیث میں آئی ہے وہ اس کے علاوہ۔ (آیت) ’ والمعنی قل یا محمد لا اجد فی ما اوحی الی محرما الا ھذا الاشیاء الاما تحرمونہ بشھوتکم والایۃ مکیۃ ولم یکن فی الشریعۃ فی ذلک الوقت محرم غیر ھذہ الاشیاء ثم نزلت سورة المائدہ بالمدینہ وزید فی المحرمات کالمنخنقۃ والموقوذۃ والمتردیۃ والنطیحۃ والخمروغیرذلک وحرم رسول اللہ ﷺ بالمدینہ اکل کل ناب من السباع وکل ذی مخلب من الطیر (قرطبی) ھذہ الایۃ مکیۃ وکل محرم حرمہ رسول اللہ ﷺ اوجاء فی الکتاب مضموم الیھا فھو زیادۃ حکم من اللہ عزوجل علی لسان نبیہ (علیہ السلام) ونظیرہ نکاح المرأۃ علی عمتھا وعلی خالتھا مع قولہ واحل لکم ما وراء ذلکم وکحکمہ بالیمین مع الشاھد مع قولہ فان لم یکونا رجلین فرجل وامرأتان (قرطبی) علی ھذا اکثر اھل العلم من النظر واھل الفقہ والاثر (قرطبی) ذلک مخصوص بالاتفاق الجمیع من الفقھاء علی تحریم اشیاء غیر مذکورۃ فی الایۃ کالخمر ولحم القردۃ والنجاسات وغیرھا (جصاص) فیہ ایذان بان طریق التحریم لیس الاالتنصیص من اللہ تعالیٰ دون التشھی والھوی (روح) (آیت) ” علی طاعم یطعمہ ‘۔ عام ہے ہر کھانے والے کے لیے۔ مرد، عورت، کوئی بھی ہو۔ ای طاعم کان من ذکرا وانثی ردا علی قولھم محرم علی ازواجنا (روح) (آیت) ” میتۃ “۔ دم مسفوح۔ (آیت) ” لحم خنزیر “۔ سب پر حاشیہ سورة بقرہ پارہ 2 میں گزر چکے۔ (آیت) ” فانہ رجس “۔ یعنی سؤر چونکہ نجس ہے اس لیے حرام ہے۔ اس ذرا سے فقرہ سے ایک بڑی اصل ہاتھ آگئی۔ یعنی نجاست کا سبب حرمت ہونا نص قرآنی سے ثابت ہوگیا، تو اب جہاں جہاں نجاست پائی جائے گی۔ وہاں حرمت کا حکم بھی نص قرآنی ہی کے ماتحت لگا دیا جائے گا۔ فھذا یقتضی ان النجاسۃ علۃ لتحریم الاکل فوجب ان یکون کل نجس یحرم اکلہ (کبیر) 221 ۔ (بہ قصد تقرب و عبادت) یہ وہ جانور ہیں جو بجائے خود حلال وطیب ہیں لیکن ذابح کی نیت فاسد نے انہیں حرام بنادیا ہے۔ (آیت) ” اھل لغیر اللہ بہ “۔ پر حاشیہ سورة بقرہ پارہ 2 میں گزر چکا (آیت) ” فسقا “۔ ذریعہ فسق کو خود فسق سے تعبیر کرنا تاکید و اظہار اہمیت کے لیے ہے۔ سمی ما اھل لغیر اللہ بہ فسقا لتوغلہ فی باب الفسق (کبیر) 222 ۔ (اور انہی صفات غفر و رحمت کے تقاضہ سے اس نے ایسی حالت میں بندوں پر حرام چیزیں حلال کردیں اور گناہ کی چیزوں سے گناہ اٹھالیا) (آیت) ” فمن اضطر “۔ یعنی جو کوئی بھوک کی شدت سے بےقرار ہورہا ہو، اور اسے حلال غذا نہ مل رہی ہو۔ (آیت) ” غیرباغ “۔ یعنی اس حرام جانور کو لذت وذائقہ کے لیے نہ کھائے۔ (آیت) ” ولا عاد “۔ یعنی شدت گرسنگی کی اصل ضرورت سے زائد کھانے والا نہ ہو، ان سب فقروں پر حاشیہ پہلے گزر چکے۔
Ayah 6:146

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا كُلَّ ذِیْ ظُفُرٍ١ۚ وَ مِنَ الْبَقَرِ وَ الْغَنَمِ حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ شُحُوْمَهُمَاۤ اِلَّا مَا حَمَلَتْ ظُهُوْرُهُمَاۤ اَوِ الْحَوَایَاۤ اَوْ مَا اخْتَلَطَ بِعَظْمٍ١ؕ ذٰلِكَ جَزَیْنٰهُمْ بِبَغْیِهِمْ١ۖ٘ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 6:146 in the Quran reader

اور جو لوگ کہ یہودی ہوئے ان پر ہم نے کھر والے کل جانور حرام کردیئے تھے،223 ۔ اور گائے اور بکری میں سے ہم نے ان پر ان دونوں کی چربیاں حرام کی تھیں بجز اس (چربی) کے جو ان کے پشتوں پر یا ان کی انتڑیوں میں لگی ہوئی ہو، یا جو ہڈی سے ملی ہوئی ہو، یہ سزا دی تھی ہم نے ان کو ان کی شرارت پر اور ہم ہی یقیناً سچے ہیں،224 ۔

223 ۔ (آیت) ” ذی ظفر “۔ ظفر کا اردو ترجمہ ایک لفظ سے کرنا مشکل ہے۔ پرندوں میں تو اس میں کل وہ پرند آجاتے ہیں، جن کے بجائے انگلیوں کے پنجے ہوتے ہیں، جیسے چیل، گدھ، باز، شکرا وغیرہ اور چرندوں میں وہ سارے جانور شامل ہیں جن کے سم ہوتے ہیں۔ مثلا گھوڑا، گدھا، خچر، اونٹ وغیرہ۔ وھو من البھائم والطیرمالم یکن مشقوق الاصابع (ابن جریر) قال عبداللہ بن مسلم انہ کل ذی مخلب من الطیر وکل ذی حافر من الدواب ثم قال کذالک قال المفسرون (کبیر) قال مجاھد وقتادۃ ذی ظفر مالیس بمتفرج الاصابع من البھائم والطیر (قرطبی) قال ابن عباس و سعید بن جبیر وقتادہ والسدی و مجاھد ھو کل مالیس بمفوتح الاصابع (جصاص) (آیت) ” الذین ھادو “۔ یعنی جنہوں نے شریعت یہود کو قبول کیا تھا۔ موجودہ توریت محرف میں حلت و حرمت حیوانات کے احکام مقامات ذیل میں ملیں گے :۔ کتاب احبار باب، 1 1 کتاب استثناء بات 14 ۔ 224 ۔ (اور ہمارے اس بیان کے خلاف کوئی چیز اگر تو ریت محرف وغیرہ میں ملے تو وہ ہرگز قابل اعتناء نہیں) (آیت) ” ذلک جزینھم ببغیھم “۔ یعنی ان چیزوں کی حرمت فی نفسہ مقصود نہ تھی بلکہ یہ حکم بہ طور سزا تھا۔ اور یہیں سے یہ قاعدہ ہاتھ آتا ہے کہ حرمت اشیاء کبھی کبھی گناہوں کے باعث بھی ہوجاتی ہے۔ وفی ھذا دلیل علی ان التحریم انما یکون بذنب لانہ ضیق (قرطبی) (آیت) ” اوالحوایا “۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ اوما حملت حوایا ھما والالف والالف واللام بدل من الاضافۃ (قرطبی)
Ayah 6:147

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقُلْ رَّبُّكُمْ ذُوْ رَحْمَةٍ وَّاسِعَةٍ١ۚ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُهٗ عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 6:147 in the Quran reader

سو اگر یہ آپ کو جھٹلائیں تو آپ کہہ دیجیے کہ تمہارا پروردگار بڑی وسیع رحمت والا ہے، اور اس کا عذاب مجرم لوگوں سے ٹل نہیں سکتا،225 ۔

225 ۔ (جب اس عذاب کا وقت حکمت الہی اور مصلحت تکوینی کے ماتحت آجاتا ہے) توریت وانجیل کے حوالوں کے لیے ملاحظہ ہو انگریزی کی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ (آیت) ” فان کذبوک “۔ یہ اشارہ کن لوگوں کی طرف ہے ؟ سیاق سے تو یہود ہی مراد معلوم ہوتے ہیں۔ اور اکثر محققین بھی اسی طرف گئے ہیں۔ ای الیھود کما قال مجاھد والسدی وھو الذی یقتضیہ الظاہر (روح) الظاھر عود الضمیر علی اقرب مذکور وھم الیھود (بحر) لیکن اس سے بھی بہتر یہ ہے کہ اشارہ تمام مخالفین ومعاندین کے حق میں جامع سمجھا جائے۔ اور یہود ومشرکین اور ان کے اشباہ وامثال سب ہی مراد لیے جائیں۔ ای فان کذبوک یا محمد مخالفوک من المشرکین والیھود ومن شابھھم (ابن کثیر) (آیت) ” فقل ربکم ذورحمۃ واسعۃ “۔ اور اسی رحمت وسیع کے اقتضاء سے وہ مہلت اور گنجائش بھی بہت زیادہ دیتا رہتا ہے۔ یہ جواب یہود کے اس اعتراض کا معلوم ہوتا ہے کہ آپ سچے ہیں تو ہم پر عذاب کیوں نہیں آتا ہے ؟
Ayah 6:148

سَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكْنَا وَ لَاۤ اٰبَآؤُنَا وَ لَا حَرَّمْنَا مِنْ شَیْءٍ١ؕ كَذٰلِكَ كَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ حَتّٰى ذَاقُوْا بَاْسَنَا١ؕ قُلْ هَلْ عِنْدَكُمْ مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوْهُ لَنَا١ؕ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا تَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:148 in the Quran reader

جو لوگ شرک کرتے ہیں اب کہیں گے کہ اللہ اگر چاہتا تو شرک نہ ہم کرتے نہ ہمارے باپ دادا کرتے، اور نہ ہم کسی چیز کو حرام کرسکتے،226 ۔ اسی طرح جھٹلایا تھا ان لوگوں نے بھی جو ان سے قبل ہوئے ہیں یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کو چکھا،227 ۔ آپ کہیے کہ آیا تمہارے پاس ہے کوئی دلیل ؟ (ہو) تو اسے ہمارے سامنے ظاہر کرو،228 ۔ تم تو نری گمان کی پیروی کرتے ہو، اور محض اٹکل سے کام لیتے ہو،229 ۔

226 ۔ خلاصہ اہل شرک وضلالت کے اس استدلال کا یہ ہے کہ خدا جب ہر چیز پر قادر ہے، اور باوجود قدرت اس نے ہمیں شرک وتحریم حلال سے طبعا وتکوینا نہ روک دیا تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ شرک وتحریم حلال اسے ناپسند ہی نہیں بلکہ اس کی عین مرضی سے ہورہے ہیں۔ مغالطہ استدلال کے اندر یہ ہے کہ مشیت تکوینی اور پسندورضا کو مرادف سمجھ لیا گیا ہے۔ حالانکہ رضائے الہی تشریعی کا قانون دوسرا ہے۔ اور مشیت الہی تکوینی کا دوسرا۔ دونوں اپنی جگہ کارفرما ہیں۔ دونوں درمیان کوئی تصادم وتزاحم نہیں۔ قانون مشیت نے انسان کو آزادی ہر طرح کی دے رکھی ہے۔ انسان اپنے طریق عمل کے انتخاب میں آزاد ہے۔ وہ اپنے ارادہ کا مالک ومختار ہے۔ اچھی وبری جو راہ چاہے، اپنی پسند وقصد سے اختیار کرے، لیکن رضاء الہی کا حکم یہ ہے کہ وہ بدی کی راہ سے بچے۔ اور نیکی کی راہ پر چلے۔ بہ حیثیت خالق و قادر مطلق وقادرمطلق اس نے پیدا زہر کو بھی کر رکھا ہے اور بیماری کو بھی، لیکن بہ حیثیت حاکم وآمر اس کا حکم یہی ہے کہ بیماری کا علاج کیا جائے اور زہرکاتوڑ تریاق سے کیا جائے، جو کج فہم خدا کی قدرت اور اپنی مجبوری کو اپنی بےدینی اور بدکرداری کے لیے حیلہ اور آڑبناتے ہیں، وہ آخربیماری میں اپناعلاج کیوں کرتے ہیں ؟ اور روحانیات کی طرح جسمانیات کے ہر آزار میں اپنے کو معذور ومجبور کیوں نہیں سمجھتے ؟ (آیت) ” الذین اشرکوا “۔ کا مفہوم قرآن مجید کی اصطلاح میں المشرکین سے وسیع تر ہے۔ المشرکین سے مراد مشرکین عرب ہی ہوتے ہیں، بہ خلاف اس کے (آیت) ” الذین اشرکوا “۔ کے عموم میں ہر قوم، ہر ملک، ہر زمانہ کے اہل شرک داخل ہیں۔ (آیت) ” سیقول “۔ بہ طور پیشگوئی کے اور مستقبل کے لیے ہے۔ اخبار من مستقبل (بیضاوی) اخبر اللہ عزوجل بالغیب عما سیقولون (قرطبی) معتزلہ نے یہ کہہ کر شرک کا تابع مشیت ہونا موقع ذم میں وارد ہوا ہے، اپنے مسلک کی تائید اور تقویت آیت سے نکالنا چاہی ہے۔ حالانکہ اگر وہ مزید غوروتدبر سے کام لیتے تو ان پر ظاہر ہوجاتا کہ مذمت نفس اس عقیدہ کی نہیں ہورہی ہے، بلکہ اس کی ہورہی ہے کہ مشرکین اس عقیدہ کی آڑ میں اپنے کو بری الذمہ اور بےقصور قرار دے رہے تھے اور مشیت اور شرک کے درمیان خط کررہے تھے۔ 227 ۔ (آیت) ” کذلک “۔ منکرین ومکذبین کا یہ لنگڑا، لولا استدلال کچھ نیا اور اس امت کے ساتھ مخصوص نہیں، پرانی امتوں کا بھی یہی شیوہ چلاآیا ہے۔ 228 ۔ مکذبین کی دلیل عقلی کی لغویت ابھی اوپر کے حاشیہ سے ظاہر چکی ہے۔ اب مطالبہ ان سے دلیل نقلی کا ہو رہا ہے یعنی کس پیغمبر کی یہ کی یہ تعلیم رہی جو تم پیش کررہے ؟ (آیت) ” من علم “۔ یعنی دلیل تمہارے اس مقدمہ پر کہ فعل پر قدرت دینا اس فعل سے رضا کو مستلزم ہے۔ 229 ۔ یعنی علم وتحقیق سے قطعی معری۔ تمہارے پاس نہ کوئی دلیل عقلی ہے، نہ کوئی دلیل نقلی۔ آج بھی ملحدوں اور مشرکوں دونوں کا یہی حال ہے۔ بس چند مفروضات ومزعامات ہیں، جو ان کی ساری عمارت کی بنیاد ہیں۔
Ayah 6:149

قُلْ فَلِلّٰهِ الْحُجَّةُ الْبَالِغَةُ١ۚ فَلَوْ شَآءَ لَهَدٰىكُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 6:149 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ پوری حجت تو اللہ ہی کی رہی اور اگر (اللہ) چاہتا تو سب کو ضرور ہدایت دے دیتا،230 ۔

230 ۔ یعنی اگر اس کی مشیت تکوینی یہی ہوتی تو تم سب لوگ محروم الارادہ ومسلوب الاختیار ہو کر بس ایک ہی ڈھرے پر اضطرارا چلتے، لیکن اس نے اجر وصلہ تو ایمان اختیار پر رکھا ہے نہ کہ ایمان اضطراری پر۔ انہ قدشاء منھم الایمان اخیتارا ولو شاء اللہ الایمان منھم قسرا لکان علیہ قادرا ولکنھم کانوا لایستحقون بہ الثواب والمدح۔ (جصاص) (آیت) ” فللہ حجۃ البالغۃ “۔ اللہ کی حجت پوری کی پوری رہی اور تمہاری حجت باطل ہوگئی۔
Ayah 6:150

قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ الَّذِیْنَ یَشْهَدُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ حَرَّمَ هٰذَا١ۚ فَاِنْ شَهِدُوْا فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ هُمْ بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 6:150 in the Quran reader

آپ کہیے کہ اپنے گواہوں کو لاؤ جو اس پر گواہی دیں کہ اللہ نے ان (چیزوں) کو حرام کیا ہے،231 ۔ اور اگر وہ (جھوٹی) گواہی دیں بھی دیں تو آپ نہ ان کے ساتھ گواہی دیجیے اور نہ ان لوگوں کی خواہشوں کی پیروی کیجیے جو ہماری آیتوں کو جھٹلاتے ہیں اور جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے، اور اپنے پروردگار کے برابر (دوسروں) کو ٹھیراتے رہتے ہیں،232 ۔

231 ۔ (اور شہادت مقبول وہی ہوگی جو مشاہدہ یا مثل مشاہدہ پر مبنی ہو) کوئی عقلی دلیل تو شرک پر قائم ہی نہیں اب مطالبہ یہ ہورہا ہے کہ کسی پیغمبر کی تعلیم سے، کسی آسمانی کتاب سے، اس کی نقلی، روایتی، تاریخی ہی شہادت پیش کرو، 232 ۔ (اور یہی ان کی شرک پسندی، اور آخرت انکاری ان کے دلوں میں طلب حق نہیں پیدا ہونے دیتی) (آیت) ” فلا تشھد معھم “۔ یعنی آپ ان کی گواہی کی تصدیق نہ کیجئے، بلکہ ان کی غلطی ان پر ظاہر کیجئے۔ ای فلاتصدقھم فیہ وبین لھم فسادۂ (بیضاوی)