6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 6:96

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

وہ صبح کا برآمد کرنے والا ہے اور اسی نے رات کو راحت کی چیز بنائی اور سورج اور چاند کو حساب سے رکھا ہے یہ ٹھہرایا ہوا ہے، بڑے غلبہ والے کا، بڑے علم والا کا،142 ۔

142 ۔ یہ سارا عظیم الشان کارخانہ حیات، یہ نظام ارضی ونظام فلکی یوں ہی اٹکل پچو نہیں چل رہا ہے اس کے قانون کے مطابق اور اس کے ضابطہ کے ماتحت چل رہا ہے۔ جو (آیت) ” العزیز “۔ ہے۔ ہر غالب پر غالب، ہر قادر پر قادر، جس کی راہ ہر رکاوٹ سے خالی ہے اور جو ساتھ ہی العلیم بھی ہے۔ جس کی ہر جنبش تکوینی وتخلیقی بےانتہا حکمتوں اور مصلحتوں سے لبریز رہتی ہے۔ اور جو ہر علم و حکمت کا مبدا بھی ہے اور منتہی بھی، والعزیز اشارۃ الی کمال قدرتہ والعلیم اشارۃ الی کمال علمہ (کبیر) (آیت) ” فالق الاصباح “۔ وہ پردۂ شب سے صبح کا برآمد کرنے والا ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ ذلکم اللہ ربکم فالق الاصباح۔ پچھلی آیت میں ذکر نظام ارضی کا تھا۔ اب ذکر نظام فلکی کا ہے۔ (آیت) ” جعل۔۔۔ حسبانا “۔ رات کی سکونی کیفیت، سورج اور چاند کی نبی تلی گردش، اس کی شرح رفتار اور مقدار یہ سب اسی قادر مطلق و حکیم برحق کے دست قدرت میں ہیں۔ جو ہر ہر شعبہ موجودات کا اکیلا حاکم وناظم ہے، اس کے حضور میں کسی سورج دیوتا اور کسی چندر ماں اور کسی رات کی دیوی کا وجود فرض کرنا خرافت کی انتہا ہے۔ (آیت) ” حسبانا “۔ یعنی مصالح خلق کے بالکل متناسب ایسے حساب کے مطابق جس میں نہ کمی کا احتمال ہے نہ نازیادتی کا۔ ای بحساب یتعلق بہ مصالح العباد (قرطبی) ای جعل اللہ سیر الشمس والقمر بحساب لایزید ولاینقص (قرطبی) (آیت) ” ذلک “۔ یعنی اجرام سماوی کی یہ جکڑ بند اور ان کی تسخیر، اشارۃ الی جعلھما کذلک (روح)
Ayah 6:97

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

وہ وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے، تاکہ تم ان کے ذریعہ سے خشکی اور تری کی تاریکیوں میں راہ پاؤ بیشک ہم نے دلائل کھول کر بیان کردیئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو خبر رکھتے ہیں،143 ۔

143 ۔ دلائل اپنی توحید اور قدرت اور حکمت کے (آیت) ” جعل۔۔۔ البحر “۔ یہ ان یہ بتایا ہے کہ ستارے تو خود ہی انسان کے نفع کی غرض سے اس کی خدمت کے لئے بنائے گئے ہیں، الٹے ان کی پرستش میں لگ جانا اور خادموں کو مخدوم سمجھ لینا جہل وحمق کی انتہا ہے۔ (آیت) ’ جعل ھنا بمعنی خلق (قرطبی) (آیت) ” لقوم یعلمون “۔ یعنی ان شواہد و دلائل سے نفع وہی اٹھائیں گے جو علم وخبر رکھتے ہیں۔ خصھم لانہم منتفعون بھا (قرطبی) (آیت) ” یعلمون “۔ میں علم سے مراد یا تو عقل ہے اور یا فکر و استدلال۔ المراد بالعلم ھھنا العقل (کبیر) المراد من قولہ لقوم یعلمون لقوم یتفکرون ویتاملون ویستدلون بالمحسوس علی المعقول وینتقلون من الشاھد الی الغائب (کبیر)
Ayah 6:98

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہ وہی تو ہے جس نے تم (انسانوں) کو پیدا کیا ایک ہی شخص سے، پھر ایک جگہ زیادہ رہنے کی اور ایک جگہ چندے رہنے کی، بیشک ہم نے دلائل خوب کھول کر بیان کردیئے ہیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں،144 ۔

144 ۔ دلائل اپنی توحید اور صنعت اور حکمت کے۔ (آیت) ” انشاکم “۔ خطاب عام نسل انسانی سے ہے۔ (آیت) ” من نفس واحدۃ “۔ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) سے۔ یہاں وحدت انسانی کو بہ طور ایک حقیقت کے بیان کیا ہے اور اس مسئلہ کو صاف کردیا کہ سب نوع انسانی کا مورث اعلی ایک ہی ہوا ہے کئی نہیں ہوئے ہیں۔ جیسا کہ بعض ناقصوں فلسفیوں اور بعض باطل مذہب والوں نے خیال کیا ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی، اس ایک اصل کو مان لینے سے انسانیت جو آج مہذہب وغیر مہذب، کالی اور گوری، صاحب اور نیٹو، برہمن اور شودر، مشرقی اور مغربی اور خدا جانے کتنی اور ٹکڑیوں میں بٹی ہوئی ہے۔ پھر ایک بار بنی آدم کی وحدت میں تبدیل ہوسکتی ہے اور دنیا کے کتنے جھگڑے اور خرخشے مٹ سکتے ہیں۔ (آیت) ” فمستقرومستودع “۔ دونوں میں فرق یہ کیا گیا ہے کہ مستودع بہت سریع الزوال کو کہتے ہیں اور مستقر اتنا زودفنا نہیں۔ الفرق بین المستقر والمستودع۔ اذا المستقر اقرب الثبات من المستودع (کبیر) مستقر کی کئی تفسیریں منقول ہیں۔ لیکن اکثر نے اس سے مراد رحم مادرلی ہے۔ اکثر تابعین بلکہ صحابہ بھی اسی طرف گئے ہیں۔ و اکثر اھل التفسیر یقولون المستقر ما کان فی الرحم (قرطبی) عن ابن مسعود وابن عباس وابی عبدالرحمن السلمی وقیس بن ابی حازم و مجاھد وعطاء وابراھیم النخعی والضحاک وقتادہ والسدی وعطاء الخراسانی وغیرھم ای فی الارحام (ابن کثیر) (آیت) ” مستودع “۔ کی بھی کئی تفسیریں منقول ہیں۔ لیکن اکثر نے مراد پشت پدر لی ہے ادھر مستودع کے سلسلہ میں جن تابعین و صحابہ کے نام درج ہوئے انہی نے مستودع کی شرح یہی کی ہے المستودع ما کان فی الصلب رواہ سعید بن جبیر عن ابن عباس وقالہ النخعی (قرطبی) قالوا اواکثرھم ای فی الاصلاب (ابن کثیر) (آیت) ” لقوم یفقھون “۔ ابھی اوپر کی آیت میں لقوم یعلمون آچکا ہے۔ اہل تحقیق نے کہا ہے کہ اس آیت میں دلالت واضح وصریح تھی اس لئے یعلمون ثم یفقھون ھنا لان الدلالۃ ثم اظھر وھنا ادق (مدارک)
Ayah 6:99

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہ وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی اتارا پھر ہم نے اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی روئیدگی کو نکالا،145 ۔ پھر ہم نے اس سے سبز شاخ نکالی کہ ہم اس سے اوپر تلے چڑھے دانے نکالتے ہیں اور کجھور کے درختوں سے یعنی ان کے گپھوں سے خوشہ (نکلتے ہیں) نیچے کو لٹکے ہوئے اور (ہم نے) باغ، انگور اور زیتون اور انار کے (پیدا کئے) باہم مشابہ اور غیر مشابہ،146 ۔ اس کے پھل کو دیکھو جب وہ پھلتا ہے اور اس کے پکنے کو (دیکھو) بیشک ان سب میں دلائل ہیں ان لوگوں کے لئے جو ایمان کی طلب رکھتے ہیں،147 ۔

145 ۔ پانی ایک ہی ہوتا ہے لیکن نباتات اس سے کیسی رنگا رنگ اور کتنی مختلف قسموں کی پیدا ہوتی ہیں۔ یہاں یہ بتایا ہے کہ سارے قوانین طبعی بس ایک ہی قادر مطلق حکیم مطلق ذات کے مقرر کئے ہوئے ہیں بارش کے یا زراعت کے، کسی دیوی دیوتا کا خیال کرنا ہی حمق ونادانی ہے۔ (آیت) ” من السمآء “۔ کا اطلاق ہر اس چیز پر ہوتا ہے جو آسمان کی سمت سے نازل ہو۔ سماء عربی میں سحاب (بادل) بلکہ ہر اوپر والی چیز کے بھی مرادف ہے۔ المراد من السماء انزال المطر من جانب السماء (کبیر) سمی اللہ تعالیٰ السحاب السماء لان العرب سمی کل ما فوقک سماء (کبیر) الکلام علی تقدیر مضاف ای من جانب السماء (روح) ای کل صنف من النبات (قرطبی) ای کل صنف من اصناف النبات (روح) 146 ۔ (صورت، شکل، رنگ، مزہ، وزن وغیرہ کے اعتبار سے) یہ ساری مثالیں ایسی ہیں جو قرآن مجید کے مخاطبین اول یعنی عرب کیلئے آسانی سے قابل فہم تھیں۔ (آیت) ” جنت من اعناب “۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ واخرجنا جنات من اعناب۔ 147 ۔ (اور مصنوعات کی صناعی سے صانع کے کمال پر استدلال کرنا چاہتے ہیں۔ ) (آیت) ” انظروا الی ثمرہ اذا اثمروینعہ “۔ پھل کا نفس پیدا ہونا ہی اپنی خام حالت میں کیسے کیسے حکیمانہ اور باریک کیمیاوی اور طبیعی تغیرات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اور چہ جائیکہ پھل کی خام حالت سے پختگی میں منتقلی جس میں رنگ، مزہ، خوشبو، جسامت ہر چیز کیا سے کیا ہوجاتی اور کہاں سے کہاں پہنچ جاتی ہے۔ انظروا سے مراد رواروی میں نظر ڈال لینا نہیں، فکروعبرت کی نظر سے دیکھنا ہے ای نظر اعتبار لا نظر الابصار المجرد عن التفکر (قرطبی) ای انظروا الی حال نضجہ نظر اعتبار و استدلال علی قدرۃ مقدرہ ومدبرہ وناقلہ من حال الی حال (مدارک) (آیت) ” انظروا الی “ الخ، مخلوقات کی طرف بار بار تورجہ والتفات سے نظر کرنے کا جو یہ حکم قرآن مجید میں بار بار مل رہا ہے، اس پر محققین نے لکھا ہے کہ خلق پر نظر جبکہ للحق ہو مذموم نہیں بلکہ اگر مقصود میں اس کی احتیاج ہوتب تو مطلوب بھی ہے۔ (آیت) ” لایت “۔ آیات یہاں دلائل کے معنی میں ہے۔ دلائل اللہ کے قدرت پر۔ ای دلالات علی کمال قدرۃ خالق ھذہ الاشیاء و حکمتہ ورحمتہ (ابن کثیر) (آیت) ” لقوم یؤمنون “۔ سے مراد وہ لوگ ہیں جو ایمان کی تلاش وطلب رکھتے ہوں، تحقیق کی فکر میں لگے ہوئے ہوں، ای یطلبون الایمان باللہ تعالیٰ (روح)
Ayah 6:100

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور لوگوں نے اللہ کا شریک جنات کو قرار دے رکھا ہے درآنحالیکہ اس نے انہیں پیدا کیا ہے اور لوگوں نے اس کے لئے بیٹے اور بیٹیاں محض بےسند تراش رکھی ہیں پاک اور برتر ہے وہ اس سے جو کچھ یہ (اس کے باب میں) بیان کرتے ہیں،148 ۔

148 ۔ یہ کن لوگوں کا ذکر ہے ؟ مشرکین عرب تو یقیناً مراد ہیں، باقی دوسری جاہلی قومیں بھی مراد ہوسکتی ہیں جو بھی انہی عقائد کی ہوں (آیت) ” الجن “۔ جنات وہ ناری مخلوق ہیں۔ جو خاکی مخلوق انسان سے قبل اس پردۂ گیتی پر وجود میں آچکے تھے۔ عموما وعادۃ یہ انسان کے لئے گیر مرئی رہتے ہیں۔ ابلیس انہی کی صفت کا مخلوق ہے۔ (آیت) ” وجعلوا اللہ شرکآء الجن “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ وجعلو اللہ الجن شرکاء معناہ جعلوا الجن شرکاء للہ (کبیر) (آیت) ” خلقھم “۔ حالانکہ اسی اللہ نے ان مشرکوں کو پیدا کیا ہے۔ نہ کہ جنات نے۔ ابن مسعود کی قرأت وھو خلقھم نے اسے اور صاف کردیا ہے۔ والمعنی وقد علموا ان اللہ خالقھم دون الجن (بیضاوی) مطلب یہ ہے کہ ان مشرکوں کو خود تسلیم ہے کہ ہمارا خالق محض اللہ ہے، اس پر بھی یہ کیسی کج رائی ہے کہ یہ لوگ معبودیت میں جنات کو بھی شریک سمجھ رہے ہیں۔ ھم، کی ضمیر اگر جن کی جانب لی جائے تو معنی یہ ہوں گے کہ اسی خدا نے ان کو بھی پیدا کیا ہے پس جنات مخلوق ہو کر معبود اور شریک خدائی کیونکر ہوئے ؛۔ یعنی وھو خلق الجن (معالم) (آیت) ” وخرقوا لہ بنین وبنت “۔ خدا کا صاحب اولاد ہونا، اپنے کو دیوتاؤں کی اولاد سمجھنا، یہ مرض مشرک قوموں میں بہت زیادہ عام اور مشترک رہا ہے۔ ہندوستان کے برہمنوں اور چھتریوں کا اپنے کو سورج بنسی اور چندر بنسی کہلانا اور اپنے کو سورج دیوتا اور چندر ماں دیوتا کی اولاد قرار دینا، یونانی شرفا کا اپنے کو خدا زادہ یا دیوتا مشہور کرنا یہ سب اسی مشرکانہ وگستاخانہ ذہنیت کے کرشمہ ہیں۔ خود مسیحیوں کا عقیدہ ابنیت الہی (حضرت مسیح (علیہ السلام) سے متعلق) بھی اسی اصل کی ایک فرع ہے۔ (آیت) ” بغیر علم “۔ یعنی ان خرافانی عقائد پر اہل شرک نہ کوئی عقلی دلیل رکھتے ہیں نہ نقلی۔ (آیت) ” سبحنہ و تعلی عما یصفون “۔ مشرکوں نے کیسے کیسے بہتان اس پر لگا رکھے ہیں۔ اس کی ذات والا صفات ہر نالائق انتساب سے بالا تر ہے۔ قولہ سبحانہ تنزیۃ للہ عن کل ملایلیق بہ (کبیر) والمقصود ھھنا تنزیہ اللہ تعالیٰ عن ھذہ الاقوال الفاسدۃ (کبیر) (آیت) سبحنہ “۔ اور تعلیٰ ۔ مقصود دونوں سے اگرچہ اثبات تنزیہ ہی ہے۔ لیکن سبحنہ کا تعلق مخلوق کی زبان سے تسبیح پڑھنے یا اثبات تنزیہ سے ہے۔ بہ خلاف اس کے (آیت) ” تعلی “۔ سے اشارہ اللہ کی ذاتی صفت تقدس نکل رہا ہے۔ عام اس سے کہ مخلوق تسبیح کرے یا نہ کرے۔ فالمراد بقولہ سبحانہ ان ھذا القائل یسبحہ وینزھہ عما لایلیق بہ والمراد بقولہ وتعالیٰ کونہ فی ذاتہ متعالیا متقدسا عن ھذہ الصفات سواہ سبحہ اولم یسبحہ فالتسبیح یرجع الی اقوال المسبحین والتعالیٰ یرجع الی صفتہ الذاتیۃ التی حصلت لذاتہ لالغیرہ (کبیر)
Ayah 6:101

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

موجد ہے آسمانوں اور زمین کا اس کے اولاد کہاں سے ہوسکتی ہے ؟ درآنحالیکہ اس کے بیوی ہی نہیں، اور اسی نے ہر چیز کو پیدا کیا، اور وہی ہر چیز کو خوب جانتا ہے،149 ۔

149 ۔ ہر شے سے اس کا رشتہ خالقیت اور علیمیت کا ہے۔ وہ چھوٹی بڑی ہر شے کا خالق اور ہر شے کا علم کل رکھتا ہے۔ اس سے کوئی رشتہ دنیوی اور مادی عزیرداریوں پر قیاس کرکے جوڑنا تمام تر اپنی سفاہت کا ثبوت دینا ہے۔ (آیت) ” بدیع السموت والارض “۔ آسمان اور زمین سب اسی کی مخلوق ہیں نہ کوئی آکاش دیوتا ہیں نہ کوئی دھرتی مائی، بدیع یعنی محض ترتیب و ترکیب دے دینے والا نہیں بلکہ عدم محض سے ہست کرنے والا (آیت) ” بدیع “۔ پر حاشیہ سورة بقرہ میں گزر چکا۔ پارہ نمبر 1 آیت نمبر 1 17 ۔ الابداع عبارۃ عن تکوین الشیء من غیر مثال (کبیر) (آیت) ” انی۔۔ صاحبۃ “۔ مشرکین پر حجت قائم کی ہے کہ تم جب خدا کے صاحب اولاد ہونے کے قائل ہو، تو لازمی طور پر پہلے اس کے صاحب زوج ہونے کے قائل ہوئے۔ سو اسی کا ثبوت لاؤ کیسی لغوبات اس کے لئے منہ سے نکال رہے ہو۔ (آیت) ” ولم تکن لہ صاحبۃ “۔ اس میں تردید آگئی، مصر، کلدانیہ، یونان اور رومہ کی قدیم مشرک قوموں کی جنہوں نے اپنے ہر دیوتا کے ساتھ ایک ایک یا کئی کئی بیویاں بھی فرض کی ہیں۔
Ayah 6:102

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہ ہے اللہ تمہارا پروردگار، کوئی خدا نہیں بجز اس کے ہر شے کا پیدا کرنے والا، پس اسی کی عبادت کرو، اور وہی ہر چیز کا کار ساز ہے،150 ۔

150 ۔ سورشتہ عبدیت اس کے سوا کسی سے بھی جو ڑنا درست نہیں، آیت میں حق تعالیٰ کی ذات وصفات کی یکتائی کا اثبات ہے، وہ اپنی ذات وصفات کی یکتائی کا اثبات ہے، وہ اپنی ذات سے منفرد ہے۔ اور خالق و کارساز بھی ہر شے کا وہی ایک ہے۔
Ayah 6:103

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

اسے نگاہیں نہیں گھیر سکتیں اور وہ نگاہوں کو گھیرے ہوئے ہے اور وہ بڑا باریک بین ہے بڑا باخبر ہے،151 ۔

151 ۔ وہ مشرکوں کے دیوتاؤں کی طرح ناقص القوی نہیں، اس کا علم ہر کلیہ وجزئیہ کو محیط ہے۔ (آیت) ” لا۔۔۔ الابصار “۔ یعنی وہ کسی کے بھی حواس ظاہری کی گرفت میں اس دنیا میں نہیں آسکتا۔ درآنحالیکہ اس کی گرفت علمی میں سب ہی ہیں۔ ادراک احاطہ وتحدید کے معنی میں ہے۔ اور آیت سے مقصود حق تعالیٰ کی تنزیہ حدوث سے ہے۔ بین سبحانہ انہ منزہ عن سمات الحدود وھنا لاادراک بمعنی الاحاطۃ والتحدید (قرطبی) قال الزجاج ای لایبلغ کنہ حقیقتہ (قرطبی) قال ابن عباس لاتدر کہ الابصار فی الدنیا ویراہ المومنون فی الاخرۃ (قرطبی) اعلم ان الادراک غیر الرؤیۃ لان الادراک ھو الوقوف علی کنہ الشیء والا حاطۃ بہ (معالم) (آیت) ” لا تدرکہ الابصار “۔ الفاظ پر یہ شبہ پیش کیا گیا ہے کہ جب انسانی آنکھیں حق تعالیٰ کی دید کر ہی نہیں سکتیں تو پھر جنت میں اس کی رویت مومنین کو کیسے ہوگی ؟ نیز معراج میں رسول اللہ ﷺ کو کیسے ہوئی ؟ مفسرین محققین نے شبہ کو نقل کرکے مفصل وشافی جوابات دیئے ہیں۔ لیکن اس کم فہم کے نزدیک ایک مختصر اور سیدھی سی بات یہ ہے کہ یہاں ذکر تو اسی مادی وناسوتی دنیا کے قوی کا ہے۔ جنت میں تو قوی ہی دوسرے ہوں گے عالم ناسوت میں نفی دیدار سے جنت کے دیدار کو تعلق ہی کیا ؟ علی ہذا واقعہ معراج میں رسول اللہ ﷺ کی زیارت حق کا تعلق ہی ان قوائے ناسوتی سے بالکل نہیں، وہ واقعہ تو خودہی عالم آخرت کا ہے جس کا تجربہ ومشاہدہ بہ طور معجزہ کے رسول اللہ ﷺ کو اسی دنیا میں کرا دیا گیا۔ (آیت) ” لا تدرکہ الابصار “ محقق تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بصر سے مراد اگر بصارت ہے تو نفی رویت اسی دنیا کے ساتھ محدود رہے گی اور اگر بصارت وبصیرت دونوں مراد ہیں تو نفی ادراک کے معنی نفی ادراک بالکنہ کے لئے جائیں گے۔
Ayah 6:104

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

اب تمہارے پاس روشن دلائل تمہارے پروردگار کے پاس سے پہنچ چکے ہیں سو جو کوئی بصارت سے کام لے گا، وہ اپنے ہی لئے، اور جو کوئی اندھا رہے گا اس پر (وبال) رہے گا، اور میں کوئی تمہارے اوپر نگران تو ہوں نہیں،152 ۔

152 ۔ (کہ میرے اوپر تمہارے عقائد و اعمال کی ذمہ داری آتی ہو) یہ خطاب پیغمبر کو ہے کہ آپ یوں کہہ دیجئے (آیت) ” بصآئر من ربکم “ قرآن کے دلائل، رسول کے معجزات، سب بصائر کے تحت میں داخل ہیں۔ ای ایات وبراھین یبصربھا ویستدل (قرطبی) یعنی بالبصیرۃ الحجۃ البینۃ الظاھرۃ (قرطبی) البصائرھی البینات الحجج التی اشتمل علیھا القران وما جاہ بہ الرسول (ابن کثیر) (آیت) ” فمن ابصر “۔ یعنی دلائل سے توحید تک پہنچ جائے گا۔ (آیت) ” وما انا علیکم بحفیظ “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس سے اہل طریق کے اس معمول کی طرف اشارہ نکلتا ہے کہ حق ارشاد ادا کرکے پھر کسی کے درپے نہیں ہوتے۔
Ayah 6:105

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم دلائل کو (خوب) پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں جس سے یہ (کافر) یوں کہیں گے کہ آپ نے پڑھ لیا ہے،153 ۔ اور تاکہ ہم اس (قرآن) کو خوب کھول دیں

153 ۔ (ان مضامین کو کسی صاحب علم سے) چناچہ یہی ہوا، ایک امی کی زبان سے بلند پایہ علوم، معارف وحقائق کو صحیح وشستہ پیرایہ بیان میں سن کر ظالموں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یقیناً یہ مضامین عالی انہوں نے کسی نصرانی یا یہودی سے خوب پڑھ کریاد کرلئے ہیں اور جاہلیت کے انہیں لال بجھکڑوں کی نقل آج بڑے بڑے مستشرقین اور فضلائے یورپ کرکے قرآن مجید کی اس پیش خبری کی توثیق مزید کررہے ہیں۔ (آیت) ” لیقولوا “۔ میں، ل، عاقبت کا ہے لام ہے۔ لام علت کا نہیں۔ اللام لام العاقبۃ (بیضاوی) یعنی اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے نہ یہ کہ یہ نتیجہ ہونا چاہیے۔ لام عاقبت جس کلام پر لایا جائے، اس سے مراد ایسی چیز ہوتی ہے جو بہ طور نتیجہ نکل آئے لیکن مقصود نہ ہو۔ وھی اللام التی تدخل علی مایترتب علی شیء ولیس مقصودا (کازرونی حاشیہ بیضاوی)
Ayah 6:106

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

ان لوگون کے لئے علم رکھتے ہیں،154 ۔ پیروی کئے جائیے اس کی جو آپ کے پروردگار کی جانب سے وحی کیا گیا ہے کوئی خدا نہیں ہے بجز اس کے اور مشرکوں کی جانب سے بےالتفات رہیے،155 ۔

154 ۔ (آیت) ” ولنبینہ “۔ ضمیر قرآن کی تعلیم وہدایت کی جانب ہے۔ (آیت) ” لقوم یعلمون “۔ یعنی اس سے پورا فائدہ وہی اٹھائیں گے جو اپنی فہم و دانش سے کام لیں گے۔ 155 ۔ یعنی فرط شفقت سے ان بدبختوں کے حال پر بہت زیادہ غم وحزن نہ کیجئے اور اپنے التفات کا مرکز قرآن ووحی الہی کو رکھیے، مشکین کی طرف کچھ زیادہ توجہ ہی نہ کیجئے۔ ای لاتشغل قلبک وخاطرک بھم بل اشتغل بعبادۃ اللہ (قرطبی)
Ayah 6:107

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ کی مشیت (یہی) ہوتی تو (لوگ) یہ شرک نہ کرتے اور ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگران نہیں بنایا ہے اور نہ آپ ان پر مختار ہیں،156 ۔

156 ۔ (ہماری طرف ہے کہ جب چاہیں ان پر عذاب نازل کردیں یا قبول ہدایت پر انہیں مجبور کردیں) اے قیم بامورھم فی مصالحھم لدینھم اودنیاھم حتی تلطف لھم فی تناول مایجب لھم (قرطبی) (آیت) ” ولوشآء اللہ ما اشرکوا “۔ یعنی اگر مشیت تکوینی یہی ہوتی تو خلقت قبول ہدایت پر مجبور ومضطر ہوتی اور اپنا کوئی اختیار و ارادہ بھی اس باب میں نہ پاتی، لیکن مشیت تکوینی نے یہ نظام ہی سرے سے نہیں رکھا ہے۔ بلکہ ہر شخص کو قبول ہدایت میں انتخاب واختیار کی آزادی دے رکھی ہے۔ شرک بھی مشیت تکوینی سے باہر نہیں، جیسا کہ بعض گمراہ فرقوں نے سمجھ رکھا ہے بلکہ اس کے تحت ہی میں ہے۔ نص علی ان الشرک بمشیتہ وھو ابطلال لمذھب القدریۃ (قرطبی) مراعیا لاعمالھم ما خوذا باجرامھم (مدارک) (آیت) ” وما جعلنک علیھم حفیظا “۔ آپ ان لوگوں پر کوئی نگران تو ہیں نہیں کہ ان کی بےہودگیوں کی ذمہ داری کسی درجہ میں بھی آپ آرہی ہو یا یہ کہ آپ انہیں عذاب الہی سے کسی درجہ میں بچا سکیں۔ ای لایمکنک حفظھم من عذاب اللہ (قرطبی)
Ayah 6:108

وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَیَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْوًۢا بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ كَذٰلِكَ زَیَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ١۪ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِمْ مَّرْجِعُهُمْ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:108 in the Quran reader

اور انہیں دشنام نہ دو جن کو یہ (لوگ) اللہ کے سوا پکارتے رہتے ہیں، ورنہ یہ لوگ اللہ کو حد سے گزر کر براہ جہل دشنام دیں گے،157 ۔ اسی طرح ہم نے ہر طریق کے لوگوں کی نظر میں ان کا عمل خوشنما بنارکھا ہے، پھر ان سب کو اپنے پروردگار کے پاس جانا ہے سو وہ انہیں جتلا دے گا، جو کچھ بھی وہ کرتے رہتے تھے،158 ۔

157 ۔ فقہاء نے اسی اصل سے یہ قاعدہ مستنبط کیا ہے کہ جو طاعت درجہ واجب میں نہ ہو، اور کسی معصیت کا سبب بنی جاتی ہو تو اس اطاعت کو ترک کردیا جائے گا۔ قال العلماء حکمھا باق فی ھذہ الامۃ علی کل حال فمتی کان الکافر فی منعۃ وخیف ان یسب الاسلام اوالنبی (علیہ السلام) او اللہ عزوجل فلا یحل لمسلم ان یسب صلبانھم ولا دینھم ولا کنائسھم ولا یتعرض ما یؤدی الی ذلک لانہ بمنزلۃ البعث علیا لمعصیۃ (قرطبی) منع اللہ تعالیٰ فی کتابہ احدا ان یفعل فعلا جائزا یؤدی الی محظور ولا جل ھذا تعلق علمائنا بھذہ الایۃ فی سد الذرائع وھو کل عقد جائز فی الظاہر یؤول اویمکن ان یتوصل بہ الی محظور (ابن العربی) ” بتوں کو برا کہنا فی نفسہ امر مباح ہے مگر جب وہ ذریعہ بن جائے ایک امر حرام یعنی گستاخی بہ جناب باری تعالیٰ کا وہ بھی منہی عنہ اور قبیح ہوجائے گا۔ اس سے بےتکلف یہ ایک قاعدۂ شرعیہ ثابت ہوا کہ مباح جب حرام کا سبب بن جائے، وہ حرام ہوجاتا ہے “ (تھانوی (رح) فی ھذہ الایۃ ضرب من الموادعۃ و دلیل علی وجوب الحکم بسد الذرائع وفیھا دلیل علی ان المحق قد یکف عن حق لہ اذا ادی الی ضرر یکون فی الدین (قرطبی) فی ذلک دلیل علی وجہ المقابلۃ لہ لانہ بمنزلۃ البعث علی المعصیۃ (جصاص) ” لیکن جو امر درجہ واجب وفرض میں ہو، مثلا اثبات توحید و رسالت یا بطال شرک، فقہاء نے لکھا ہے کہ وہ ایسے مفاسد کے ترتب کی بنا پر ترک نہ کیا جائے گا “۔ الحق ان کان واجبا فیاخذہ بکل حال وان کان جائزا ففیہ یکون ھذا القول (ابن العربی) (آیت) ” الذین یدعون من دون اللہ “۔ جنہیں یہ مشرکین بہ طور معبود پکارتے ہیں، مفسرین نے یہاں شبہ نقل کیا ہے کہ مشرکین عرب جنہیں پکارتے تھے وہ تو بےجان بت تھے۔ پھر ان کیلئے الذین کیوں آیا جو صیغہ جاندار اور ذوی العقول کے لئے ہے۔ اور پھر خود ہی جواب دیا ہے کہ یہ مشرکین کے خیال کے مطابق ہے کہ وہ تو انہیں ذوی العقول میں شمار کرتے تھے۔ عبر عن الاصنام وھی لاتعقل بالذین علی معتقد الکفرۃ فیھا (قرطبی) لیکن اصلی جواب یہ ہے کہ الذین یدعون من دون اللہ سے مراد صرف بےجان بت ہی نہیں، بلکہ وہ تو تمام جاندار ہستیاں بھی ہیں جن کے معتقد اہل شرک، ہر قوم اور ہر دور میں رہے ہیں۔ (آیت) ” عدوا “۔ ای جھلا واعتداء (قرطبی) 158 ۔ (اور وہیں اس کا بدلہ بھی مل جائے گا) جس طرح یہ عالم عالم ابتلاء ہے، اسی طرح عالم آخرت عالم جزا ہے۔ جہاں کشف حقایق کے ساتھ ساتھ پورا پورا عدل بھی ہو کر رہے گا۔ (آیت) ” کذلک۔۔۔ یعملون “۔ یعنی اس پر حیرت مطلق نہ کی جائے کہ ایسی شدید گستاخی پر دنیا میں سزا فی الفور کیوں نہیں مل جاتی دنیا میں تو آزادی عمل کا قاعدہ ہی ہم نے مقرر کر رکھا ہے اور اسی لئے تو اس عالم کا نام عالم ابتلاء ہے۔ (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح ہم نے ان لوگوں کی نظر میں ان کے یہ عمل خوشنما اور پسندیدہ کردکھائے ہیں، اسی طرح ہر ہر طبقہ اور ہر ہر امت کی نظر میں اس کا اپنا عمل پسندیدہ کردکھایا گیا ہے۔ ای کما زینا لھؤلاء اعمالھم کذلک زینا لکل امۃ عملھم (قرطبی) ای مثل ذلک التزئین (مدارک)
Ayah 6:109

وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَیْمَانِهِمْ لَئِنْ جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ لَّیُؤْمِنُنَّ بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ وَ مَا یُشْعِرُكُمْ١ۙ اَنَّهَاۤ اِذَا جَآءَتْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:109 in the Quran reader

اور انہوں نے اللہ کی قسم بڑے زور سے کھا کر کہا کہ اگر ان کے پاس کوئی نشان آجائے تو وہ ضرور ہی اس پر ایمان لے آئیں، آپ کہہ دیجئے نشانیاں تو (سب) اللہ ہی کے پاس ہیں اور تم خبر نہیں رکھتے کہ جب وہ نشان آجائے گا (جب بھی) یہ ایمان نہیں لائیں گے،159 ۔

159 ۔ یہ پیش خبری عالم الغیب والشہادہ کی طرف سے ہے۔ اور اسی کو یہ کہنے کا حق بھی پہنچتا ہے کہ انکے فرمایشی معجزات بھی جتنے کے جتنے پورے ہوجائیں جب بھی غایت عناد سے یہ لوگ ایمان لانے کے نہیں۔ (آیت) ” جھدایمانہم “۔ محاورہ میں مراد بڑی سخت اور غلیظ قسموں سے ہے اور مشرکین عرب ایسی قسم اپنے خدائے اعظم اللہ ہی کے نام کی کھاتے تھے۔ ھذہ باغلظ الایمان عندھم (قرطبی) جھد الایمان اشدھا وھو باللہ (قرطبی) (آیت) ” لئن جآء تھم ایۃ لیؤمنن بھا “۔ یعنی ہمارے فرمائشی معجزات میں سے کوئی معجزہ دکھادیا جائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں اور صاحب معجزہ کی نبوت کے قائل ہوجائیں، کوئی معجزہ سے مراد فلاں متعین معجزہ تھا۔ ای من مقترحاتھم (بیضاوی، مدارک) روایت میں آتا ہے کہ خاص فرمائشی اس معجزہ کی تھی کہ مکہ کا کوہ صفا سونے کا بن جائے (آیت) ” انما الایت عند اللہ “۔ یعنی معجزات وخوارق کا وقوع پیغمبر یا کسی بندہ کے ہاتھ میں نہیں، تمام تر اللہ کے ہاتھ میں ہے اس لئے کہ معجزہ کی حقیقت سے نظام کائنات کے کسی مستمر اور بندھے ہوئے معمول میں کچھ ترمیم کرنا، اور ان کا تمام تر فاطر کائنات ہی کے اختیار میں ہونا بالکل ظاہر ہے وہی قدرت بھی اس پر رکھتا ہے اور وہی علم بھی اس کا رکھتا ہے کہ کس معجزہ کا وقوع موافق حکمت ہوگا اور کس کا مخالف حکمت، پس کسی مخصوص و متعین معجزہ کی فرمایش ہی سرے سے بےجا ہے، البتہ نفس کوئی معجزہ یا غیر معمولی نشان پیغمبر کے دعوی کی تصدیق وتقویت کے لیے عین موافق حکمت ہے، اور ایسے نشانات ایک نہیں بیشمار تصدیق رسالت محمدی ﷺ میں ظاہر ہوچکے تھے (آیت) ” وما یشعرکم۔۔۔ لا یؤمنون “۔ بعض مسلمانوں کو قدرۃ یہ خیال گزر رہا تھا کہ کاش ان منکروں کی فرمائشیں پوری کردی جائیں، تو شاید کہ یہ لوگ اس طرح مسلمان ہوجائیں، یہاں جواب اس کامل رہا ہے اور ضمیر کم کے مخاطب مومنین معاصرین ہیں۔ یا معشر المسلمین (ابن عباس ؓ وقال القراء وغیرہ الخطاب لل مومنین لان ال مومنین قالوا للنبی ﷺ یا رسول اللہ لونزلت الایۃ لعلھم یؤمنون (قرطبی) وکان المومنون یطمعون فی ایمانھم (مدارک) (آیت) ” انھا “۔ یعنی وہی فرمایشی معجزات، ای الایۃ المقترحۃ (مدارک)
Ayah 6:110

وَ نُقَلِّبُ اَفْئِدَتَهُمْ وَ اَبْصَارَهُمْ كَمَا لَمْ یُؤْمِنُوْا بِهٖۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ نَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ۠ Open ayah 6:110 in the Quran reader

اور ہم بھی ان کے دلوں کو اور ان کی نظروں کو پھیردیں گے جیسا کہ یہ لوگ اس کے اوپر پہلی بار ایمان نہیں لائے اور ہم ان کو ان کی سرکشی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے رہیں گے،160 ۔

160 ۔ (ان کے ضد اور عناد کے نتیجہ کے طور پر) یعنی حق کی طلب و تلاش چونکہ ان میں سرے سے ہے ہی نہیں، اس لیے ہزار معجزات دیکھ لیں، ہدایت انہیں نصیب نہ ہوگی اور یہ یوں ہی بدستور بھٹکتے ہی رہیں گے، (آیت) ” نقلب افدتھم وابصارھم “۔ ان کی آنکھیں حق بینی کی طرف اور ان کے دل حق طلبی کے قصد کی طرف سے ہٹا دیئے جائیں گے۔ ضمیر جمع متکلم کا استعمال حق تعالیٰ کی طرف یہاں صرف تکوینی سلسلہ علل کے مسبب الاسباب کی حیثیت سے ہے۔ عن قبول الحق وعن رؤیۃ الحق عند الایۃ التی اقترحوھا (مدارک) (آیت) ” لم یؤمنوا بہ “۔ ضمیر قرآن مجید کی جانب ہے۔ (آیت) ” اول مرۃ “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ خوارق کا طلب کرتے رہنا طریق ہدایت نہیں، طریق ہدایت صرف اتباع بینات ہے۔ پس سالک کو چاہیے کہ شیخ کے کرامات وخوارق کی تلاش میں نہ پڑے۔ بلکہ اس کے علم وعمل پر اطمینان کے بعد اس کی پیروی میں لگ جائے ،
Ayah 6:111

وَ لَوْ اَنَّنَا نَزَّلْنَاۤ اِلَیْهِمُ الْمَلٰٓئِكَةَ وَ كَلَّمَهُمُ الْمَوْتٰى وَ حَشَرْنَا عَلَیْهِمْ كُلَّ شَیْءٍ قُبُلًا مَّا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ یَجْهَلُوْنَ Open ayah 6:111 in the Quran reader

اور خواہ ہم ان پر فرشتوں ہی کو اتار دیتے اور (خواہ) ان سے مردے (بھی) باتیں کرنے لگتے اور (خواہ) ہم ہر چیز کو ان کے پاس ان کے سامنے ہی لاکرجمع کردیتے، جب بھی یہ لوگ ایمان لانے کے نہ تھے،161 ۔ سوا اس کے کہ اللہ ہی چاہے لیکن ان میں سے زیادہ تر جہالت ہی سے کام لیتے ہیں،162 ۔

161 ۔ (اس لیے کہ فرط شرارت اور شدت عناد سے یہ طلب حق کا قصدہی نہیں کرتے) بیان منکرین اسلام کی شدت عناد وقساوت قلب کا ہورہا ہے کہ بالفرض ان کی ساری فرمائشیں پوری کردی جائیں اور دنیا بھر کے خوارق انہیں دکھلادیئے جائیں، جب بھی چونکہ وہ اپنے میں طلب صادق پیدا ہی نہیں کرتے، اس لیے ہمیشہ کوئی نہ کوئی الٹی سیدھی تاویل کر ہی لیں گے۔ اور ایمان بہرحال نہ لائیں گے۔ (آیت) ” ولواننا نزلنا الیھم الملئکۃ “۔ جیسا کہ خود ان کی فرمائشیں ہیں۔ (آیت) ” لولا انزل علینا الملئکۃ۔ وکلمھم الموتی “۔ جیسا کہ خود ان کی فرمائشیں تھی۔ (آیت) ” فاتوا بابآینا۔ وحشرناعلیھم کل شیء قبلا “۔ یعنی ہر غیب ان پر مکشوف کردیتے۔ آیت سے صاف ظاہر ہورہا ہے کہ مشاہدۂ خوارق سے نفع ہرگز لازمی نہیں۔ اصل شے طلب صادق ہے۔ عاشق کہ شد کہ یار بہ حالش نظرنہ کرد۔ اے خواجہ دردنیست وگرنہ طبیب ہست اور مولانائے رومی (رح) صاحب مثنوی کی زبان میں، آب کم جو تشنگی آوربہ دست تابجوشد آب از بالاؤپست امام المفسرین فخر رازی (رح) نے لکھا ہے کہ کوئی ایک معجزہ تو پیغمبر کے لئے ضروری ہے کہ جس سے عوام صادق وکاذب کے درمیان فرق کرسکیں۔ لیکن ایک سے زیادہ کا مطالبہ کرتے رہنا محض ہٹ دھرمی ہے۔ ورنہ پھر ہر دوسرے کے بعد تیسرے اور تیسرے کے بعد چوتھے کی طلب برابر بڑھتی ہی رہے گی، اور سلسلہ کبھی ختم ہی نہ ہوگا۔ المعجزۃ الواحدۃ لابدمنھا لیتمیز الصادق من الکاذب فاما الزیادۃ علیھا فتحکم محض ولا حاجۃ الیہ والا فلھم ان یطلبوا بعد ظھور المعجزۃ الثانیۃ ثالثۃ وبعد الثالثۃ رابعۃ ویلزم ان لاتستقر الحجۃ (کبیر) 162 ۔ جہالت یہی کہ ایمان کا تو قصد ہی نہیں اور فرمائشیں خوارق ومعجزات کی پھر بھی کیے جاتے ہیں۔ پیغمبر کی اصل تعلیمات اور ایمان کے مقصد وغایت پر غور ہی نہیں کرتے۔ اور پیغمبر کو گویا ساحر یا شعبدہ باز سمجھتے ہیں۔ یہ معنی بھی لیے گئے ہیں کہ اتنا نہیں سمجھتے کہ ہر معجزہ وخارق عادت تمامتر اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ قال اصحابنا المراد یجھلون بان الکل من اللہ وبقضاۂ وقدرہ (کبیر) (آیت) ” الآان یشآء اللہ “۔ یعنی ان کی تقدیر ہی بدل دی جائے۔ مشیت انہیں زبردستی راہ ہدایت پر لے آئے تو اور بات ہے۔
Ayah 6:112

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا لِكُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا شَیٰطِیْنَ الْاِنْسِ وَ الْجِنِّ یُوْحِیْ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُوْرًا١ؕ وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ مَا فَعَلُوْهُ فَذَرْهُمْ وَ مَا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 6:112 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن (بہت سے) شیطان، انسان اور جنات (دونوں) میں سے پیدا کردیئے تھے ایک دوسرے کو چکنی چپڑی باتوں کا وسوسہ ڈالتے رہتے ہیں دھوکے کے لئے،163 ۔ اور اگر آپ کا پروردگار چاہتا تو یہ ایسا نہ کرسکتے، سو آپ انہیں اور جو کچھ یہ افتراء کررہے ہیں اس کو چھوڑے رکھیے،164 ۔

163 ۔ یعنی تاکہ لوگوں کو فریب میں مبتلا کریں، انسان شیطان کے فریب ہی میں آکر کفر میں مبتلا ہوتا ہے۔ یہاں اس حقیقت کا بیان ہے کہ ہر پیغمبر کے دور میں شیاطین، انس وجن ہی دھوکے کا سبز باغ دکھا دکھا کر لوگوں کو گمراہ کیا کئے ہیں۔ (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح یہ کافر آپ ﷺ کے دشمن ہیں۔ ای کما ابتلیناک بھولاء القوم (قرطبی) ای جعلنا لک عدوا کما جعلنا لمن قبلک من الانبیاء (کبیر) (آیت) ” شیطین الانس والجن “۔ یہ اس باب میں نص ہے کہ قرآن نے جنہیں اپنی بولی میں شیاطین کہا ہے وہ ہمیشہ جنات ہی نہیں ہوتے، جو انسان بھی شیطان کی نیابت انجام دینے لگے، وہ گویا شیطان بہ قالب انسان ہے، شیطان کا لفظ قرآن مجید میں ہر سرکش یا نافرمان کے لئے ہے۔ خواہ وہ جن ہو یابشر۔ المعنی مردۃ الانس والجن والشیطان کل عات متمرد من الانس والجن وھذہ قول ابن عباس و مجاھد والحسن وقتادۃ (کبیر) (آیت) ” یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول “۔ اس میں اشارہ ہے کہ شیطانی تلبیسات ہمیشہ کوئی نہ کوئی پہلو ظاہری خوشنمائی کارکھتی ہیں۔ اگر فوری لذت اور ظاہری آب وتاب ان میں نہ ہو تو کوئی ادھر کا رخ ہی کیوں کرے ؟ (آیت) ” یوحی “۔ یعنی وحی کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ یہ وسوسہ اندازی بھی بالکل خفیہ ہوتی ہے ؛۔ سمی وحیا لانہ یکون خفیۃ (قرطبی) جتنے جاہلی مذہب دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، غور کرلیجئے سب میں ملمع سازی کے پہلو اچھے خاصے موجود ہوں گے، ہر باطل فرقہ کوئی نہ کوئی ظاہری کشش اپنے میں ضرور رکھتا ہے۔ آج اہل باطل کے جنتے مختلف نظریات، مغرب ومشرق سے آرہے ہیں نئی نئی ، Ism کے ساتھ، ان سب کے دعوے کیسے کیسے خوشنما اور ظاہر فریب ہیں۔ کوئی کہتا ہے ہم روٹی کے سوال کو حل کیے دیتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ ہم دنیا سے مفلسی اور محتاجی کو مٹائے دیتے ہیں۔ وقس علی ہذا یہ سارے نمونے اسی (آیت) ” زخرف القول “ کے ہیں۔ (آیت) ” غرورا “۔ یہ سارے دعوے نرے ہی ہوتے ہیں۔ حقیقت اور اصلیت ان میں نام کو نہیں ہوتی۔ 164 ۔ (ہمارے اوپر۔ اور خود زیادہ فکروغم میں مبتلا نہ رہئے) ۔ (آیت) ” ولو شآء ربک) ” یعنی اگر اس کی مشیت تکوینی یوں ہی ہوتی۔ (آیت) ما فعلوہ۔ یعنی یہ سب کے سب اضطرار ا بھی مومن و متقی ہوتے لیکن اس نے اپنے مصالح تکوینی سے انسان کو ایمان پر مضطر ومجبور نہیں بنایا ہے بلکہ انہیں انتخاب واختیار کی آزادی دے رکھی ہے۔ (آیت) ” وما یفترون “۔ یعنی دین کے باب میں انہوں نے جو مسئلہ اور عقیدے گڑھ گڑھ کر رکھے ہیں۔
Ayah 6:113

وَ لِتَصْغٰۤى اِلَیْهِ اَفْئِدَةُ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ وَ لِیَرْضَوْهُ وَ لِیَقْتَرِفُوْا مَا هُمْ مُّقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:113 in the Quran reader

تاکہ اس (فریب آمیز بات) کی طرف ان لوگوں کے دل مائل ہوجائیں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور تاکہ اس کو یہ پسند کرنے لگیں اور تاکہ یہ مرتکب ہونے لگیں اس کے جس کے مرتکب ہورہے ہیں،165 ۔

165 ۔ شیطانی وسوسہ اندازی کا بیان ابھی اوپر آچکا ہے۔ اب شیطانی وسوسہ اندازیوں کی غرض وغایت کا بیان ہے۔ (آیت) ” وما یفترون “۔ یعنی دین کے باب میں اظہار کے لیے ہے۔ اللام لام کے (قرطبی) (آیت) ” الذین لایؤمنون بالاخرۃ “۔ سرکشی اور نافرمانی سے اصلی بچانے والی چیز یہی خوف آخرت ہے۔ اس بنیاد کا کمزور ہونا شیطان کے آغوش میں جاپڑنا ہے۔ (آیت) ” ولتصغی الیہ افئدۃ “۔ گمراہی کے سلسلہ میں پہلا درجہ اسی میلان نفس کا ہوتا ہے۔ (آیت) ” ولیرضوہ “۔ دوسرا درجہ ان گمرہانہ عقائد کا اعتقاد قلبی کے ساتھ پسند کرلینے کا ہوتا ہے۔ (آیت) ” ولیقترفوا “۔ تیسری منزل عملا معاصی میں مبتلا ہوجانے کی ہوتی ہے۔
Ayah 6:114

اَفَغَیْرَ اللّٰهِ اَبْتَغِیْ حَكَمًا وَّ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ اِلَیْكُمُ الْكِتٰبَ مُفَصَّلًا١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 6:114 in the Quran reader

تو کیا اللہ کے سوا کسی اور کو بہ طور حاکم تلاش کروں درآنحالیکہ اسی نے ہی تو تمہارے پاس کتاب مفصل نازل کی ہے،166 ۔ اور جن لوگوں کو ہم نے کتاب (آسمانی) دی ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ (یعنی قرآن) واقعیت کے ساتھ آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ سو آپ شک کرنے والوں میں نہ ہوجائیں،167 ۔

166 ۔ (جس کی ہدایات وتعلیمات دنیا وآخرت کے ہر معاملہ، ہر مرحلہ سے متعلق جامع، واضح اور مکمل ہیں) یہ قول رسول اللہ ﷺ کی زبان سے ادا کرایا جارہا ہے۔ (آیت) ” حکما “۔ یعنی میرے اور تمہارے درمیان فیصلہ صادر کرنے والا حاکم۔ (آیت) ” المعنی افغیر اللہ اطلب لکم حاکم وھو الذی کفاکم مؤنۃ المسالۃ فی الایات بما انزلہ الیکم (قرطبی) ای قل لھم یا محمد افغیر اللہ اطلب من یحکم بینی وبینکم (بیضاوی) 167 ۔ یعنی شک وتردد اس باب میں کرنے لگیں کہ اہل کتاب پر وضوح حق پوری طرح ہو بھی چکا ہے یا نہیں۔ یاد رکھیے ان پر خوب اچھی طرح ہوچکا ہے۔ ای من الشاکین فی انھم یعلمون انہ منزل من عند اللہ (قرطبی) فی ان اھل الکتاب یعلمون انہ منزل من ربک (کبیر) ای المترددین فی انہم یعلمون ذلک لما لا یشاھد منھم اثار العلم واحکامہ المعرفۃ (روح) (آیت) ” الذین اتینھم الکتب “۔ یعنی یہود ونصاری “۔ یرید الیھود والنصاری (قرطبی) (آیت) ” یعلمون “۔ یعنی جانتے ہیں اور خوب یقینی طور پر جانتے ہیں، ان پیشگوئیوں کی بنا پر جو ان کی کتابوں میں درج ہیں۔ ایراد الطائفتین بعنوان ایتاء الکتب للایذان بانھم علموا ما علموا من جھۃ کتابھم (روح) (آیت) ” بالحق “۔ یعنی گڑھی ہوئی چیز، شک وشبہ والی چیز نہیں حقیقی وواقعی چیز ہے۔
Ayah 6:115

وَ تَمَّتْ كَلِمَتُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّ عَدْلًا١ؕ لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖ١ۚ وَ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 6:115 in the Quran reader

اور آپ کے پروردگار کا یہ (کلام) صدق وعدل کے لحاظ سے کامل ہے، کوئی بدل نہیں سکتا اس کے کلام کو، اور وہی خوب سننے والا ہے، پورا علم رکھنے والا ہے،168 ۔

168 ۔ خوب سننے والا ان منکرین کے اقوال کا۔ (آیت) ” السمیع “۔ کوئی اسے غافل وبے خبر نہ سمجھ لے، پورا علم رکھنے والا ان منکرین کے عقائد اور دلی خیالات کا ، (آیت) ’ العلیم “۔ کوئی اسے ناواقف نہ خیال کرے، (آیت) ” کلمت ربک “۔ اہل معانی نے لکھا ہے کہ کلمۃ واحد ہے لیکن اس کا اطلاق مجموعہ کلام پر بھی ہوتا ہے۔ جب وہ پورا کلام حکم واحد میں ہوتا ہے۔ چناچہ کلمہ ” زہیر “ سے مراد قصیدہ زہیر اور کلمۃ سے مراد خطبۃ عربی میں عام ہے۔ الکمۃ قد یراد بھا الکلمات الکثیرۃ اذا کانت مضبوطۃ۔ بضابط واحد کقولھم قال زھیر فی کلمتہ یعنی قصیدتہ وقال قس فی کلمتہ ایہ خطبتہ (کبیر) (آیت) ” لامبدل لکلمۃ “۔ کسی میں یہ طاقت نہیں کہ اس کلام الہی میں کاٹ، چھانٹ، گھٹ بڑھ کرسکے، یہ ترمیم و تغیر سے ہمیشہ کیلیے محفوظ ہے۔ قال قتادۃ الکلماتھی القران لامبدل لہ لایزید فیہ المفترون ولا ینقصون (قرطبی) المراد انھا تبقی مصونۃ عن التحریف والتغییر (کبیر) دوسرے معنی امام رازی (رح) نے یہ بھی کیے ہیں کہ ان دلائل قومی میں منکروں کے شکوک وشہبات ذرا بھی رخنہ نہیں پیدا کرسکتے تلک الشبھات لا تاثیرلھا فی ھذہ الدلائل التی لا تقبل التبدیل البتۃ (کبیر) (آیت) ” وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا “۔ تمامتر صدق اپنے بیانات کے لحاظ سے۔ ماضی کے جتنے واقعات اس نے بیان کیے ہیں۔ دنیا میں تاریخی واثری تحقیقات جتنی بھی بڑھتی جائیں گی، قرآن کی صداقت کو اس سے دھکا نہیں لگ سکتا۔ وہ اور زیادہ ہی روشن ہوتی جائے گی، یکسر عدل اپنے احکام وہدایت کے لحاظ سے۔ دنیا کے بڑے سے بڑے پیچیدہ انفرادی واجتماعی مسائل میں تجربہ کرلیا جائے۔ قرآن کے قائم کردہ نقطہ عدل و اعتدال اور درجہ توازن کی قدر اور نکھرتی ہی آئے گی، امام رازی (رح) نے کل مضامین قرآنی کو خبر اور تکلیف کے دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ اور یہاں صفات صدق وعدل کو انہیں دونوں سے متعلق کیا ہے۔ صدق ان کان من باب الخبر وعدلا ان کان من باب التکالیف (کبیر) الصدق فی الاخبار والمواعید والعدل فی الاقضیۃ والاحکام (روح) فقہاء مفسرین نے آیت سے استدلال کیا ہے کہ تصریحات قرآنی کی طرح دلالات قرآنی بھی واجب الاتباع ہیں۔ دلت الایۃ علی وجوب اتباع دلالات القران لانہ حق لایمکن تبدیلہ بمایناقضہ (قرطبی)
Ayah 6:116

وَ اِنْ تُطِعْ اَكْثَرَ مَنْ فِی الْاَرْضِ یُضِلُّوْكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ اِنْ هُمْ اِلَّا یَخْرُصُوْنَ Open ayah 6:116 in the Quran reader

اور جو (لوگ) زمین پر (آباد) ہیں ان میں سے اکثر کا کہنا اگر آپ ماننے لگیں تو وہ آپ کو اللہ کی راہ سے بھٹکا کر رہیں،169 ۔ یہ تو بس اٹکل ہی کی پیروی کرتے ہیں، اور محض گمان میں پڑے رہتے ہیں،170 ۔

169 ۔ (کہ دنیا کی اکثریت تو منکروں اور گمراہوں ہی پر شامل ہے) 170 ۔ وحی الہی کے نور مبین اور علم قطعی کے سوا دنیا میں ” عقل “ اور ” علوم “ کے نام سے جو کچھ بھی ہے چاہے وہ ارسطو کی منطق ہو چاہے کینٹ کے مقولات سب ظن وتخرص ہی کے حکم میں داخل ہیں۔ ظن یہاں بہت وسیع معنی میں ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ باب احکام میں کشف والہام حجت نہیں۔ اور ان پر جزم کرنا تو بالکل ہی باطل ہے۔
Ayah 6:117

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ مَنْ یَّضِلُّ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:117 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار خوب واقف ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور وہی راہ پائے ہوؤں کو بھی خوب جانتا ہے،171 ۔

171 ۔ سو اس کے اس علم کامل و محیط کے لحاظ سے نافرمانوں کی سزا اور فرمانبرداروں کا انعام دونوں یقینی ہیں۔ من۔ یہاں ای کا مرادف ہے۔ من بمعنی ای (قرطبی)
Ayah 6:118

فَكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ بِاٰیٰتِهٖ مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 6:118 in the Quran reader

سو اس (جانور) میں سے کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیاجائے، اگر تم اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہو،172 ۔

172 ۔ آیت کے آخری ٹکڑے سے ظاہر ہورہا ہے کہ حلال کو حرام قرار دے لینا ایمان کے منافی ہے۔ (آیت) ” فکلوا “۔ میںکا تعلق آیت نمبر 1 16 سے سمجھا گیا ہے۔ جہاں اتباع ظن وتخرص یعنی وحی الہی کے سوا اور کسی چیز کے تابع فرمان ہونے صریح ممانعت وارد ہے۔ مسبب عن انکار اتباع المضلین الذین یحللون الحرام ویحرمون الحلال (کبیر) (آیت) ” ذکر اسم اللہ علیہ “۔ یہ تسمیہ الہی ذبح کے وقت ہونا چاہیے۔ اور بلاشرکت غیرے ہونا چاہیے۔ اور جانور کا حلال ہونا تو بہرحال ظاہرہی ہے۔ کلوا۔ صورۃ صیغہ امر ہے۔ مراد یہاں حکم نہیں صرف اجازت واباحت ہے۔ ظاہرہ امر ومعناہ الاباحۃ (جصاص) محققین نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ مباح صرف اسی صورت میں ہے، جب اپنے ذائقہ کے لیے کھائے، باقی اگر یہ نیت ہو کہ اس سے طاعت الہی کے لیے قوت آئے گی، تو یہی چیز باعث اجر بن جائے گی، ھذا اراد باکلہ التلذ فھو اباحۃ ویحتمل الترغیب فی اعتقاد صحۃ الاذن فیہ اکلہ للا ستعانۃ بہ علی طاعۃ اللہ تعالیٰ فیکون اکلہ فی ھذہ الحال ماجورا (جصاص) ایاتہ میں آیات احکام کے معنی میں ہے۔ بایاتہ ای باحکامہ واوامرہ (قرطبی)
Ayah 6:119

وَ مَا لَكُمْ اَلَّا تَاْكُلُوْا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ قَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَّا حَرَّمَ عَلَیْكُمْ اِلَّا مَا اضْطُرِرْتُمْ اِلَیْهِ١ؕ وَ اِنَّ كَثِیْرًا لَّیُضِلُّوْنَ بِاَهْوَآئِهِمْ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ Open ayah 6:119 in the Quran reader

اور تمہارے لئے آخر کیا وجہ ہے کہ تم ایسے (جانور) میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیاجاچکا ہے جب کہ (اللہ) نے تمہیں تفصیل بتا دی ہے ان (جانوروں) کی جنہیں اس نے تم پر حرام کیا ہے،173 ۔ سوا اس کے کہ اس کے لئے تم مضطر ہوجاؤ، اور یقیناً بہت سے لوگ اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کرتے رہتے ہیں بلاکسی علم کے، بیشک آپ کا پروردگار ہی خوب جانتا ہے حد سے نکل جانے والوں کو،174 ۔

173 ۔ اور یہ تفصیل یا تو قرآن مجید ہی کی دوسری آیتوں میں مل جائے گی، یا پھر حامل وہی رسول اللہ ﷺ کے ارشادات سے) (آیت) ” ذکر اسم اللہ علیہ “۔ یہ تسمیہ حلال جانور پر ذبح کے وقت اور بلاشرکت غیرے ہونا چاہیے۔ یہ نہیں کہ خدا کا نام تو لیا جائے لیکن اس کے ساتھ شریک دوسروں کو بھی کرلیا جائے، (آیت) ” الا تاکلوا “۔ یعنی ایسے جانور کو حرام سمجھنے لگو۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے غلو فی الزہد کی مخالفت نکلتی ہے۔ جیسے بعض جاہل صوفی کیا کرتے ہیں۔ 174 ۔ اور یہاں معتدین (حد سے نکل جانے والوں) سے مراد وہ لوگ ہیں جو اشیاء کی تحلیل وتحریم اپنے اختیار میں سمجھتے ہیں۔ ای الذین یجاوزون الحلال الی الحرام (معالم) (آیت) ” الاما اضطررتم الیہ “۔ یعنی جب بھوک کی شدت سے مجبور ہوجاؤ۔ اور کوئی حلال غذا نہ مل رہی ہو، تو ایسی حالت میں حرام بھی حلال کے حکم میں داخل ہوجاتا ہے۔ اور جو چیزیں بھی حرام ہیں ان میں سے کھانے کی اجازت ہوجائے گی، یرید من جمیع ما حرم کالمیتۃ وغیرھا (قرطبی) ای دعتکم الضرورۃ الی اکلہ بسبب شدۃ المجاعۃ (کبیر) (آیت) ” لیضلون باھوآءھم بغیر علم “۔ یعنی انہیں خواہشات کی پیروی دوسروں کو بلاکسی علم صحیح کے جو سند کا کام دے سکے گمراہ کرتے رہتے ہیں۔ مشرکین وملحدین کے پاس اپنی بات کی حمایت کے لیے نہ کوئی عقلی دلیل ہے نہ نقلی۔ بس یونہی ایک بات بک دیتے ہیں۔ ذبیحہ اور مردار جانور کے گوشت کے درمیان طبی حیثیت سے جو عظیم الشان فرق ہے، اس تک کا بھی تو ادراک نہیں رکھتے، تو اللہ کی سی ہمہ دانی اور پیغمبر کی سی باریک نظری، یہ کہاں سے لاسکتے ہین۔ انما یتبعون فیہ الھوی والشھوۃ ولا بصیرۃ عندھم ولاعلم (کبیر) (آیت) ” ھو اعلم بالمعتدین “۔ اور وہ جب ان ظالموں کے اسرار قلب تک کا پتہ رکھتا ہے تو انہیں سزا بھی پوری پوری دے گا۔ مقصود اس فقرہ سے تخویف وتہدید ہے۔ اذا کان عالما باحوالھم وکان قادرا علی مجازاتھم فھو تعالیٰ یجازیھم علیھا والمقصود من ھذہ الکلمۃ التھدید والتخویف (کبیر)
Ayah 6:120

وَ ذَرُوْا ظَاهِرَ الْاِثْمِ وَ بَاطِنَهٗ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَكْسِبُوْنَ الْاِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوْا یَقْتَرِفُوْنَ Open ayah 6:120 in the Quran reader

اور چھوڑ دو گناہ کے ظاہر کو (بھی) اور اس کے باطن کو (بھی) بیشک جو لوگ گناہ کما رہے ہیں انہیں عنقریب بدلہ مل جائے گا اس کا جو کچھ کہ وہ کرتے رہتے ہیں،175 ۔

175 ۔ (سو مکافات عمل سے غافل کوئی بھی نہ رہے) (آیت) ” سیجزون “۔ عنقریب یعنی قیامت میں بدلہ مل کررہے گا) ۔ (آیت) ” یکسبون۔ یقترفون “۔ ان سب الفاظ سے ثابت وظاہر ہے کہ گناہ بندہ کی اختیاری چیز ہے۔ ایسی چیز نہیں جو بندہ کے اختیار سے کچھ بھی باہر ہو۔ گوخود یہ اختیار اللہ ہی کی عطا کی ہوئی ایک قوت ہے۔ (آیت) ” ذروا ظاھرالاثم و باطنہ “۔ کے ظاہروباطن سے مراد کیا ہے ؟ جن دونوں کے چھوڑ دینے کا یکساں حکم ہے ؟ بعض نے کہا ہے کہ گناہ کے ظاہر سے مراد اس کی عملی شکل اور اس کے باطن سے مراد غلط اعتقاد، اعتقادی گناہ ہے۔ الظاھر ماکان عملا بالبدن ممانھی اللہ عنہ و باطنہ ما عقد بالقلب من مخالفۃ امر اللہ ما امرونھی (قرطبی) قال مجاہد ظاھرہ ما یعملہ الانسان بالحوارح من الذنوب و باطنہ ما ینویہ ویقصدہ بقلبہ (معالم) قیل ما عملتم وما نویتم (کبیر) ای قلیلہ وکثیرہ (ابن جریر، عن قتادہ) لیکن بہترین تفسیر یہ ہے کہ ظاھرالاثم سے وہ گناہ مراد لیے جائیں جو خلق کی نظر کے سامنے علانیہ کیے جائیں اور باطن الاثم سے مراد وہ گناہ سمجھے جائیں جو خلق کی نظر سے چھپا کر پوشیدہ کیے جاتے ہیں۔ جاہلی تہذیبوں میں فسق ومعصیت کی بہت سی صورتیں ایسی ہیں کہ بجائے خود وہ ذرا بھی معیوب نہیں۔ صرف ان کا کھل جانا گناہ ہے۔ یونان قدیم میں چوری بجائے خود کوئی جرم نہ تھی، چوری کا کھل جانا جرم تھا۔ آج فرنگی تہذیب میں حرامکاری بجائے خود کوئی عیب نہیں، صرف اس کا منظر عام پر آجانا، عام رسوائی وتفضیح پیدا ہوجانا، اس کا public, Scandal. بن جانا بس صرف یہ جرم ہے۔ عرب کی جاہلی تہذیب میں بھی حرامکاری بجائے خود جائز تھی، صرف اس کا افشاء جرم تھا۔ یہ خصوصیت اسلام ہی کی ہے کہ اس نے پوشیدہ وعلانیہ ہر حرام کاری کو جرم ہی قرار دیا۔ کان اھل الجاھلیۃ یستترون بالزنا ویرون ذلک حلال ما کان سرا فحرم السر منہ والعلانیۃ ما ظھر منھا (ابن جریر عن الضحاک) قیل ھو ما کان علیہ الجاھلیۃ من الزنا الظاھر واتخاذ الحلال فی الباطن (قرطبی) قال الضحاک کان اھل الجاھلیۃ یرون اعلان الزنا اثما والا ستسرار بہ غیراثم (جصاص) و اکثر المفسرین علی ان ظاہر الاثم الاعلان بالزنا وھم اصحاب الرایات و باطنہ الاستسرار بہ وذلک ان العرب کانوا یحبون الزنا وکان الشریف منھم یتشرف فیسربہ وغیر الشریف الایالی بہ فیظھرہ (معالم) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ گناہ کی اس قرآنی تقسیم سے ظاہر ہوتا ہے کہ گناہ جس طرح اعضاء وجوارح سے ہوتے ہیں اسی طرح قلب سے بھی ہوتے ہیں۔
Ayah 6:121

وَ لَا تَاْكُلُوْا مِمَّا لَمْ یُذْكَرِ اسْمُ اللّٰهِ عَلَیْهِ وَ اِنَّهٗ لَفِسْقٌ١ؕ وَ اِنَّ الشَّیٰطِیْنَ لَیُوْحُوْنَ اِلٰۤى اَوْلِیٰٓئِهِمْ لِیُجَادِلُوْكُمْ١ۚ وَ اِنْ اَطَعْتُمُوْهُمْ اِنَّكُمْ لَمُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 6:121 in the Quran reader

اور اس (جانور) میں سے مت کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو بیشک یہ بےحکمی ہے اور بیشک شیاطین اپنے دوستوں کو پٹی پڑھا رہے ہیں تاکہ وہ تم سے حجت کریں اور اگر تم ان کا کہا ماننے لگو تو یقیناً تم (بھی) مشرک ہوجاؤ گے،176 ۔

176 ۔ (اے مسلمانو ! ) (آیت) ” ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ علیہ وانہ لفسق “۔ مشرک وملحد تو بہرحال اللہ کا نام نہ لے گا۔ اس لیے اس کا ذبیحہ تو کھلا ہوا حرام ہے۔ سوال صرف مسلمان کے ترک تسمیہ کے باب میں رہ جاتا ہے۔ سو مسلم کے لیے بھی ذبح کرتے یا شکاری جانور چھوڑتے وقت ترک تسمیہ کی دو صورتیں ممکن ہیں، یا عمدا و دانستہ ہو، اور یا محض سہو ونسیان سے ہو۔ امام ابوحنفیہ (رح) اور بہت سے دوسرے فقیہوں اور بعض تابعین کا مذہب یہ ہے کہ یہ ممانعت و حرمت صرف اس صورت کے لیے ہے۔ جب ترک تسمیہ دانستہ وعمدا ہو۔ ان ترکھا عمدا لم یؤکلا قالہ مالک ؓ وابن القاسم وھو قول ابی حنیفۃ و اصحابہ والثوری والحسن بن حی و عیسیٰ وقالہ سعید بن جبیر وعطاء واختارہ النحاس وقال ھذا حسن لانہ لایسمی فاسقا اذا کان ناسیا (قرطبی) قال اصحابنا ومالک والحسن بن صالح ان ترک المسلم التسمیۃ عمدا لم یؤکل وان ترکھا ناسیا اکل (جصاص) اور مفسر ابن کثیر (رح) نے اس مذہب کی تائید میں حضرت علی اور حضرت ابن عباس ؓ جیسے صحابیوں اور سعید بن المسیب اور طاؤس اور عطاء اور حسن بصری جیسے تابعین اور ابوحنیفہ (رح) اور مالک (رح) اور احمد بن حنبل (رح) اور ابویوسف (رح) جیسے ائمہ فقہ کے نام گنائے ہیں۔ المذھب الثالث فی المسئلۃ ان ترک التسمیۃ علی الذبیحۃ نسیانا لم یضروان ترکھا عمدالم تحل ھذا ھو المشہور من مذھب الامام مالک واحمد بن حنبل وبہ یقول ابوحنیفۃ و اصحابہ واسحاق بن راھویہ وھو یحکی عن علی وابن عباس و سعید بن المسیب وعطاء وطاؤس والحسن البصری وابن مالک وعبدالرحمن بن ابی لیلی وجعفر بن محمد وربیعۃ بن ابی عبدالرحمن (ابن کثیر) اور اس حکم حرمت کے تحت میں وہ ذبیحے بھی آجاتے ہیں جن پر اللہ کے بجائے کسی اور کا نام لے دیا جائے۔ یا اللہ کے ساتھ ملا کر بھی کسی اور کا نام لے لیاجائے۔ ویدخل فیہ ما ذکر علیہ غیر اسم اللہ بعموم انہ لم یذکر علیہ اسم اللہ وبزیادۃ ذکر غیر اسم اللہ سبحانہ علیہ الذی یقتضی تحریمہ نصا (قرطبی (آیت) ” ان الشیطین لیوحون الی اولیھم لیجادلوکم “۔ مشرکین اپنے شیطانوں سے تعلیم پاکر مسلمانوں کے سامنے آکر طرح طرح کی بحثیں اور حجتیں نکالا کرتے تھے۔ مثلا ایک چلتا ہوا فقرہ یہ تھا کہ یہ کیا کہ انسان مارڈالے جب تو جانور حلال ہوجائے لیکن جس جانور کو خدا مارے یعنی وہ اپنے آپ سے مرجائے وہ حرام ہو۔ ہزار ہا سیدھے سادھے، بھولے بھالے مسلمان پہلے بھی اس طرح کے لفظی دھوکوں اور مغالطوں میں آجاتے تھے، اور آج بھی ایسے ہی ظاہر فریب، دل خوش کن فقروں میں برابر آتے رہتے ہیں۔ خود امت کے اندر جتنے باطل فرقے نکلے ہیں۔ سب کی بنیاد کسی نہ کسی ایسے ہی مغاطلہ پر ہے۔ (آیت) ” انہ لفسق “۔ یہاں فسق یا نافرمانی ان دونوں چیزوں کو کہا گیا ہے۔ ترک تسمیہ کو بھی اور ایسے ذیبحہ کے کھانے کو بھی۔ ھو راجع الی الامرین یعنی ترک التسمیۃ ومن الاکل (جصاص) الضمیر قیل عائد علی الاکل وقیل عائد علی الذبح بغیر اللہ (ابن کثیر) (آیت) ” وان اطعتموھم “۔ سیاق چاہتا ہے کہ یہ اطاعت اسی مسئلہ تحلیل مردار میں مراد ہو۔ ای فی تحلیل المیتۃ (قرطبی) (آیت) ” وان اطعتموھم انکم لمشرکون “۔ آیت سے فقہاء نے استدلال کیا ہے کہ اللہ کی حرام کی ہوئی چیز کو حلال ٹھہرا لینا انسان کو مشرک بنا دیتا ہے۔ دلت الایۃ علی ان من استحل شیئا مما حرم اللہ تعالیٰ صاربہ مشرکا (قرطبی) قال الزجاج وفیہ دلیل علی ان من احل شیئا مما حرم اللہ او حرم ما احل اللہ فھو مشرک (معالم) لیکن یہ تفصیل بھی فقہاء ہی نے کردی ہے کہ مشرک بنادینے والی وہ اطاعت ہے جو عقیدۂ قلب کے ساتھ ہو ورنہ محض عملی تقلید درجہ معصیت تک رکھے گی، منزل کفر تک نہ پہنچائے گی انما یکون المومن بطاعۃ المشرک مشرکا اذا اطاعۃ فی الاعتقاد وان اطاعہ فی الفعل وعقدہ سلیم مستمر علی التوحید والتصدیق فھو عاص (ابن العربی) آیت سے یہ بھی نکالا گیا ہے کہ ایمان کا اطلاق جمیع پر ہوتا ہے۔ جس طرح شرک کے مفہوم میں ہر مخالفت امر الہی داخل ہے۔ قال الکعبی الایۃ حجۃ علی ان الایمان اسم لجمیع الطاعات کما جعل تعالیٰ الشرک اسما لکل ما کان مخالفا للہ تعالیٰ (کبیر)
Ayah 6:122

اَوَ مَنْ كَانَ مَیْتًا فَاَحْیَیْنٰهُ وَ جَعَلْنَا لَهٗ نُوْرًا یَّمْشِیْ بِهٖ فِی النَّاسِ كَمَنْ مَّثَلُهٗ فِی الظُّلُمٰتِ لَیْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا١ؕ كَذٰلِكَ زُیِّنَ لِلْكٰفِرِیْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:122 in the Quran reader

کیا جو شخص مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کردیا اور ہم نے اس کے لئے ایک نور بنا دیا کہ اس کے ساتھ وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے وہ اس کی طرح ہوسکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہے (اور) ان سے نکلنے نہیں پاتا،177 ۔ اسی طرح کافروں کی نظر میں خوشنما کردیا گیا ہے جو کچھ وہ کرتے رہتے ہیں،178 ۔

177 ۔ یعنی وہ مومن جسے کفر سے نجات مل گئی ہے۔ اور کافر جو کفر کے اندھیروں میں پڑا ہے کہیں دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ التفسیر الماثور عن ابن عباس ؓ ان المراد بالمیت الکافر الضال وبالاحیاء الھدایۃ وبالنور القران وبالظلمات الکفر والضلالۃ (روح) (آیت) ” وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس “۔ یعنی وہ نور ایمان ہر وقت اس کے ساتھ ہے اور وہ اسے تمام گمراہیوں سے محفوظ رکھے ہوئے ہے۔ ای امانا یھتدی بہ سبل الخیر والنجاۃ (ابن قتیبہ) (آیت) ” فی الظلمت “۔ مراد وہ شخص ہے جو کفر کی تاریکیوں میں گھرا ہوا ہے۔ ای فی الکفر “۔ (ابن قتیبہ) ای الجھالات والا ھواء والضلالات المتفرقۃ (ابن کثیر) (آیت) ” نورا یمشی بہ “۔ ضمیر اس نور کی طرف ہے اور نور سے مراد نور ایمان اور نور ہدایت ہے۔ النور عبارۃ عن الھدی والایمان (قرطبی) یمشی بہ ای بالنور (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ صوفیہ عارفین کے یہاں معرفت طریق حق کو جو نور سے تعبیر کرتے ہیں اس کی سند اس آیت سے مل جاتی ہے۔ 178 ۔ اس عالم ابتلاء کے قیام وبقاء کا تو سارا راز ہی اس کی ظاہری خوشنمائی میں ہے۔ ہر کفر ہر نافرمانی میں اگر کوئی نہ کوئی لگاؤ ظاہری لذت اور عارضی راحت کا نہ ہو، تو دنیا کا کوئی بھی انسان اس راہ کو اختیار ہی کیوں کرے، (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح مومن نور ایمان سے حیات تازہ پا جاتا ہے۔ کافر اسی طرح اپنی بداعمالیوں میں مگن رہتا ہے۔ الاشارۃ بذلک الی احیاء المومن (بحر)
Ayah 6:123

وَ كَذٰلِكَ جَعَلْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ اَكٰبِرَ مُجْرِمِیْهَا لِیَمْكُرُوْا فِیْهَا١ؕ وَ مَا یَمْكُرُوْنَ اِلَّا بِاَنْفُسِهِمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 6:123 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے رئیسوں ہی کو جرائم کا مرتکب بنایا تاکہ وہ وہاں چال چلا کریں حالانکہ وہ چال بس اپنے ہی خلاف چلتے ہیں اور (اس کو بھی) نہیں سمجھتے،179 ۔

179 ۔ یہ سرکش مجرمین جتنے چالاک بھی ہوں بہرحال دانا وصاحب فہم نہیں ہوتے، قرآن مجید چالاکی اور دانائی کے اس فرق کو بار بار واضح کرتا جاتا ہے۔ (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح آج سردار ان مکہ آپ ﷺ کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کررہے اور منصوبہ باندھ رہے ہیں۔ یعنی وکما جعلنا فی مکۃ صناد یدھا لیمکروا فیھا (کشاف) (آیت) ” جعلنا “۔ من فعل کی نسبت اپنی جانب حق تعالیٰ نے محض علت العلل تکوینی کی حیثیت سے کی ہے۔ یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کی رضاء بھی اس میں شامل ہے۔ (آیت) ” جعلنا فی کل قریۃ اکبر مجرمیھا “۔ ذکر پرانی امتوں کا ہورہا ہے کہ ان میں بھی اول اول رئیسوں اور سرداروں ہی نے پیغمبرانہ تحریک اصلاح کی مخالفت میں قدم اٹھایا۔ اور قرآن مجید اس کی تصریح بار بار کرتا ہے۔ خص الاکابر لانھم ھم الحاملون مع الضلال والماکرون بالناس (کشاف) لانھم لاجم ریاستھم اقدر علی الغدر والمکروترویج الا باطیل علی الناس من غیرھم (کبیر عن الزجاج) (آیت) ” لیمکروا فیھا “۔ یعنی وہ چالیں پیغمبروں کی مخالفت میں اپنے ملک میں چلیں گے، جن سے ان کا مستحق سزا ہونا خوب ثابت ہوجائے گا۔ ل۔ لام۔ عاقبت کا ہے۔ یعنی اس کا نتیجہ یہی ہوتا ہے۔ قیل لام العاقبۃ والصیر ورۃ (بحر) (آیت) ” وما یمکرون الا بانفسھم “۔ یعنی ان چالوں کا وبال آخر کار خود انہی پر پڑتا ہے۔ ای وبال مکرھم راجع الیھم (قرطبی) لان مکرھم یحیق بھم (کشاف)
Ayah 6:124

وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰیَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰهِ١ؔۘؕ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا صَغَارٌ عِنْدَ اللّٰهِ وَ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا كَانُوْا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 6:124 in the Quran reader

اور جب انہیں کوئی نشان پہنچتا ہے،180 ۔ تو کہتے ہیں ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک ہم کو بھی وہی نہ ملے جو اللہ کے پیغمبروں کو مل چکا ہے،181 ۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی رسالت کا اہل ہے،182 ۔ جو لوگ مجرم ہیں ضرور انہیں اللہ کے پاس (پہنچ کر) ذلت نصیب ہوگی اور عذاب سخت (بھی) اس شرارت کی پاداش میں جو وہ کیا کرتے تھے،183 ۔

180 ۔ (اور وہ تصدیق نبوت کے لیے بالکل کافی ہوتا ہے) ایۃ کے معنی آیت تکوینی یا معجزہ بالکل ظاہر ہیں۔ بعض نے مراد آیت قرآنی بھی لی ہے۔ 181 ۔ یعنی معجزات مادی یا مرتبہ مخاطبہ الہی۔ فرط جہالت وغباوت سے کافروں کے بعض سرغنہ کہتے تھے کہ ہم تو ایمان جب لائیں گے جب ہم خود مرتبہ نبوت پر فائز کردیئے جائیں۔ اور فرشتوں کو ہم دیکھنے لگیں اور معجزات ہم سے بھی صادر ہونے لگیں۔ قالوا لن نومن حتی نکون انبیاء فنوتی مثل ما اوتی موسیٰ و عیسیٰ من الایات (قرطبی) وقال ابوجھل واللہ لرنرضی بہ ولا نتبعہ ابدا الا ان یاتنا وھی کما یاتیہ (قرطبی) قالوا لن نومن حتی یحصل لنا مثل ھذا المنصب من عند اللہ (کبیر) 182 ۔ یعنی شرف رسالت کا اہل ہر کس وناکس نہیں ہوسکتا۔ مرتبہ رسالت کے ظرف واہلیت کا فیصلہ تمامتر اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ ان کافروں کا یہ مطالبہ کیسا احمقانہ ہے کہ انہیں بھی وہی سرفرازیاں حاصل ہوجائیں ! آیت نے عقائد کے اس مسئلہ کو بھی صاف کردیا کہ ملکہ رسالت کسبی نہیں وہبی ہے۔ حیث۔ یہاں بہ طور ظرف کے۔ موضع وموقع کے معنی میں نہیں۔ بطور اسم کے اہل کے معنی میں ہے۔ وحیث لیس ظرفا ھنا بل اسم نصب نصب المفعول بہ علی الانساع ای اللہ اعلم اھل الرسالۃ (قرطبی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت سے یہ بھی ثابت ہوگیا ہے کہ استعداد ذات حصول فیضان کی شرط عادی ہے۔ 183 ۔ (دنیا میں حضرات انبیاء کے مقابلہ میں) (آیت) ” الذین اجرموا “۔ یہ جرم بھی تھا کہ پیغمبروں کی تکذیب کرتے تھے۔ اور اپنے کو ان کا ہمسر بلکہ ان سے کہیں بڑھ کر سمجھتے تھے۔ (آیت) ” عنداللہ “۔ سے مراد ہے ” حشر میں “۔ ای یوم القیمۃ (بیضاوی۔ روح) (آیت) ” الذین اجرموا “۔ یہ جرم بھی تھا کہ پیغمبروں کی تکذیب کرتے تھے۔ اور اپنے کو ان کا ہمسر بلکہ ان سے کہیں بڑھ کر سمجھتے تھے۔ (آیت) ” عنداللہ “۔ سے مراد ہے ” حشر میں “ ای یوم القیمۃ (بیضاوی۔ روح) (آیت) ” سیصیب “۔ میں س تاکید وتیقن کا ہے۔ السین للتاکید (روح) (آیت) ” صغار عنداللہ و عذاب شدید “۔ یعنی ایسے سرکشوں کو حشر میں ذلت تو نصیب ہو ہی گی، اور اس کے علاوہ بھی عذاب شدید دنیا وآخرت دونوں میں حاصل رہے گا۔ عذاب شدید فی الدارین من الاسروالقتل و عذاب النار (کشاف) فحصل بھذا الکلام انہ تعالیٰ اعدلھم الخزی العظیم والعذاب الشدید ثم بین ان ذلک انما یصیبھم لاجل مکرھم وکذبھم وحسدھم (کبیر)