Ayah 6:4165 ۔ آیت میں مخاطبہ ملحدوں سے نہیں، بلکہ اس نوع کے کافروں سے ہے جو قائل تو ایک صانع عالم کے تھے لیکن اس کے ساتھ اعمال ربوبیت میں دوسروں کو بھی شریک سمجھتے تھے۔ (آیت) ” ان شآء “۔ یعنی اگر ان مصائب سے نجات دلانا اس کی مشیت تکوینی کے مطابق ہو۔
Ayah 6:4266 ۔ (اور اپنے کفر وتکذیب سے توبہ کرلیں) یہاں صاف الفاظ میں ابتلاء کی غرض بھی بیان کردی، کہ مقصود اصلی ان سخت دل والوں کے دلوں میں نرمی، انابت و خشیت پیدا کرنا تھا۔ (آیت) ” یتضرعون “۔ تضرع کے معنی خشوع و خضوع، انابت ورجوع کے ہیں۔ معنی التضرع التخشع وھو عبارۃ عن الانقیاد وترک التمرد (کبیر) پچھلے صحیفوں میں بھی اس سے ملتا جلتا مضمون ملتا ہے۔ مثلا :” خداوند تیرا خدا بیابان کے بیچ پر چالیس برس تجھ کو لئے پھراتا کہ تجھے عاجز کردے اور تجھے آزماوے۔ اور تیرے دل کی بات دریافت کرے کہ اس کے احکام مانے گا کہ نہیں۔ “ (استثناء 8:2) (آیت) ” بالباسآء والضرآء “۔ باسآء سے مراد فقروفاقہ وغیرہ مالی مصائب سمجھے گئے ہیں اور ضراء سے بیماری وغیرہ جسمانی مصائب گو اس کے برعکس کا استعمال بھی صحیح ہے۔ ومعنی بالباساء بالمصائب فی الاموال والضراء فی الابدان ھذا قول الاکثر وقد یوضع کل واحد منھما موضع اخر (قرطبی) قال الحسن الباساء شدۃ الفقر من البؤس والضراء الامراض والاوجاع (کبیر)
Ayah 6:4367 ۔ (بجائے نرم پڑنے کے) ایسے قسی القلب مجرموں کا انجام سابق صحیفوں میں یوں درج ہے :۔” وہ جو باوجود باربار تنبیہ پانے کے سخت گردنی کرتا ہے، ناگہان برباد کیا جائے گا اور اس کا کوئی چارہ نہ ہوگا “۔ امثال۔ 29: 1) (آیت) ” فلولا۔۔۔ تضرعوا “۔ اور اس تضرع سے ان کا جرم بھی معاف ہوجاتا، فقرہ کے شروع میں (آیت) ” لولا کے لے آنے سے اس امر کا اظہار مقصود ہے کہ بجز عناد وقسوت قلب اور خود بینی کے اور کوئی مانع ان کے پاس تضرع سے تھا ہی نہیں، ذکر کلمۃ لولا یفید انہ ماکان لھم عذار فی ترک التضر ع الاعناد ھم وقسوتھم واعجابھم باعمالھم زینھا الشیطان لھم (کبیر) (آیت) ” قست قلوبھم “۔ قساوت قلب یہ تھی کہ کفر اور اصرار معاصی پر قائم رہے۔ ھی عبارۃ عن الکفر والاصرار علی المعصیۃ (قرطبی)
68 ۔ شیطان کا اصلی حربہ یہی تزئین معاصی ہے۔ ہرگندہ سے گندہ فسق ومعصیت میں وہ کوئی نہ کوئی پہلو ظاہری زینت یا فوری لذت کا ضرور دکھا دیتا ہے۔ اور انسان کا کمزور نفس اس کا شکار ہوجاتا ہے۔ شراب نوشی، سود خواری، حرامکاری سے لے کر آج کی سینما بازی تک میں بھی یہ خصوصیت سب میں مشترک نکلے گی۔
Ayah 6:4469 ۔ (ہر طرح مایوس ہوکر) یہاں اس حقیقت کا بیان ہے کہ جاہ و ثروت، خوشحالی اوراقبال مندی کو صداقت سے ہرگز نہیں، گو اکثر حالات میں مطیعین اور اہل حق کو یہ دنیوی سربلندیاں بھی بہ طور انعام مل جاتی ہیں۔ (آیت) ” نسوا “۔ نسیان سے یہاں وہ عدم حافظہ کا عمل مراد نہیں جو غیراختیاری ہے، بلکہ ترک اختیاری مراد ہے، نسو بمعنی ترکوا عن ابن عباس وابن جریج وھو قول ابی علی (قرطبی) (آیت) ” ماذکروا بہ “۔ یعنی ایمان و اطاعت کے مطالبات جو بار بار یعنی ہر قسم کے اسباب نعمت انہیں مہیا ہوگئے۔ ای من النعم والخیرات ای کثرنا لھم ذلک (قرطبی) مطلب یہ ہوا کہ پہلے سختیوں میں اور اب آسانیوں میں دونوں طرح ہم نے انہیں رکھ دیکھا کہ اب بھی وہ فطرت سلیم سے کام لے کر کسی طرح راہ حق پر آجائیں۔ وہ کسی طرح بھی نہ آئے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ انہی استدراجی نعمتوں کی ایک نظیر اس شخص کا حال ہے جس کا ذوق وحال باوجود معصیت وفسق کے باقی رہے، یہ اس کے حق میں استدراج ہے۔ وہ جاہل اس پر فخر کرتے ہیں کہ دیکھو ہماری نسبت کیسی قوی ہے۔ (آیت) ” اذا فرحوا بما اوتوا “۔ یعنی دنیوی جاہ و حشمت کی غفلت ومستی میں پڑکر ان کا کفر خوب بڑھ گیا۔ (آیت) ” فاذا ھم مبلسون “۔ گویا اردو محاورہ میں ان کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، اور وہ غایت یاس میں مبتلا ہوگئے۔ ایسوں میں کل خیر قال الفراء المبلس الذی انقطع رجاء ہ وقال الزجاج المبلس شدید الحسرۃ الحزین (کبیر)
Ayah 6:4570 ۔ یعنی اس خدا کے لئے جو محافظ ہے نظام تکوینی کا اور اس سے ہر رخنہ اندازی کو دور کرتا رہتا ہے۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ یہ ظلم وہ اپنی جانوں پر بھی کرتے رہے۔ اور نظام کائنات پر بھی۔
Ayah 6:4671 ۔ اور جن مقدمات و مبادی سے توحید لازم آتی ہے۔ ان پر غور ہی نہیں کرتے اور نتیجہ توحید تک اپنے کو پہنچنے ہی نہیں دیتے ہیں۔ ) (آیت) ” یصدفون “۔ صدف۔ اعراض کے مرادف ہے۔ ای یعرضون عن ابن عباس والحسن و مجاھد وقتادہ والسدی، یقال صدف عن الشیء اذا اعرض عنہ (قرطبی) (آیت) ” کیف نصرف الایت “۔ تصریف آیات یہ کہ انہیں گھماکربار بار لایا جائے اور مختلف اعتبارات سے پیش کیا جائے۔ وتصریف الایات الاتیان بھا من جھات من اعذار وانذار وانذار وترغیب وترھیب ونحو ذلک (قرطبی) المراد من تصریف الایات ایرادھا علی الوجودہ المختلفۃ المتکاثرۃ بحیث یوکن کل واحد منھا یقوی ماقبلہ فی الایصال الی المطلوب (کبیر) (آیت) ” ان اخذ اللہ سمعکم وابصارکم “۔ یعنی تمہاری سماعت و بصارت سے تمہیں اس طرح محروم کردے کہ تمہیں نہ کچھ سنائی دے نہ کچھ دکھائی دے۔ ابصار کا جمع ہونا تو ظاہر ہے۔ سمع لفظا واحد ہے لیکن چونکہ مصدر ہے۔ اس لئے کام جمع کا دے رہا ہے۔ وحد سمعکم لانہ مصدر یدل علی الجمع (قرطبی) (آیت) ” ختم علی قلوبکم “۔ تمہارے دلوں پر ایسی مہر کردے کہ تمہاری عقلیں مخبوط ومعطل ہوجائیں۔ یہ دلوں پر مہر جو تکوینی طور پر لگ جائے اس مہرلگ جانے سے اس کا الگ ہونا ظاہر ہی ہے جو کفر وفسق پر اصرار سے بہ طور نتیجہ طبیعی کے لگ جاتی ہے اور جس کا ذکر محرومی ایمان کے سلسلہ میں کئی بار آچکا ہے۔ (آیت) ” یاتیکم بہ “۔ بہ میں ضمیر واحد اس مذکور کی جانب ہے جو ابھی اوپر گزر چکا۔ ای باحد ھذہ المذکورات (قرطبی) جو زان یکون راجعا الی احد ھذہ المذکورات (روح)
Ayah 6:4772 ۔ عذاب الہی کی خصوصیت ہی یہ ہے کہ اس کا شکار صرف مجرمین ہوتے ہیں اور مطیعین اس سے بچا لئے جاتے ہیں۔ حقا علینا ننج المومنین “۔ (آیت) ’ عذاب اللہ بغتۃ اوجھرۃ “۔ بغتۃ۔ وہ عذاب ہے جو یک بیک اور اچانک بغیر کسی اطلاع کے آجائے۔ اور (آیت) ” جھرۃ “۔ وہ عذاب ہے جو پورے طور پر اظہار علامات کے بعد آئے، مقصود کلام یہ ہے کہ کوئی عذاب کسی قسم کا بھی ہو اس کے دفع کرنے کی قوت وقدرت صرف اللہ ہی کو حاصل ہے۔ ھذا عام فی جمیع انواع العذاب والمعنی انہ لا دافع لنوع من انواع العذاب الا اللہ سبحانہ (کبیر) اے لایھلک انتم الا بشرککم والظلم ھنا بمعنی الشرک (قرطبی) آیت میں تعلیم اس مضمون کی ہے کہ ہلاکت و بربادی تو بہرحال کافروں ہی کے لئے ہے۔ باقی مومن کے لئے تو خوشحالی اور بدحالی دونوں یکساں نعمت ہی ہیں۔ خوشحالی کا نعمت ہونا تو ظاہر ہی ہے۔ بدحالی بھی اس معنی میں نعمت ہے کہ وہ کفارۂ سیئات، یارفع مراتب کا کام دے گی، ذلک تنبیہ علی ان المومن المتقی ھو السعید سواء کان فی البلاء اوفی الالاء والنعماء وان الفاسق الکافر ھو الشقی کیف دارت قضیتہ واختلفت احوالہ (کبیر)
Ayah 6:4873 ۔ (قیامت کے دن) (آیت) ” لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون “۔ خوف کا تعلق مستقبل سے ہے۔ اور حزن ماضی پر ہوتا ہے۔ (آیت) ” لاخوف علیھم “۔ یہاں یہ نہیں ارشاد ہوا ہے کہ بہ اقتضائے ایمان، وہ اللہ کا طبعی خوف بھی نہ رکھتے ہوں گے، بلکہ ارشاد صرف یہ ہے کہ واقعۃ ان کے لئے کوئی اندیشہ ناک بات نہ ہوگی (آیت) ” وما نرسل۔۔۔ منذرین “۔ یعنی پیغمبروں کی بعثت کی غرض تمامتر یہ ترغیب وترہیب ہوتی ہے یہ کچھ اپنی پوجا کرانے کے لئے نہیں آتے، نہ اس لئے کہ خارق عادت عجائبات دکھایا کریں۔ والمقصود ھنا ان الانبیاء والرسل بعثوا مبشرین ومنذرین ولا قدرۃ لھم علی اظھار الایات وانزال المعجزات بل ذاک مفوض الی مشیۃ اللہ تعالیٰ وکلمتہ و حکمۃ (کبیر) (آیت) ” فمن امن واصلح “۔ ایمان کا تعلق قلب سے ہے، اور اصلاح کا اعضاء ظاہری سے۔ الایمان الذی ھو عمل القلب والاصلاح الذی ھو عمل الجسد (کبیر)
Ayah 6:4974 ۔ (اور کفر میں جا پڑتے ہیں) یفسقون ای یکفرون (قرطبی) (آیت) ” والذین کذبوا بایتنا “۔ یعنی ان کا عمل تکذیب پیغمبروں کی اسی تبشیر وانذار کے بعد بھی جاری ہے۔ ایات کے تحت میں قرآن مجید اور معجزات نبوی دونوں داخل ہیں۔ ای بالقران والمعجزات (قرطبی) (آیت) ” یمسھم العذاب “۔ یہ عذاب عام ہے۔ خواہ دنیا میں ہو، خواہ آخرت میں، یہ وعید انہیں فاسقین کے لئے ہے جو ساتھ ہی آیات اللہ کے مکذبین میں سے بھی ہوں۔
Ayah 6:5075 ۔ (کہ لوازم بشریت سے منزہ ہوں) (آیت) ” قل لا اقول لکم عندی خزآئن اللہ “۔ یعنی نہ میری ملک وقدرت کامل کہ جس کو جو چاہوں عطا کردوں۔ (آیت) ” ولا اعلم الغیب “۔ اور نہ میرا علم کامل و محیط کہ وہ خاصہ حق تعالیٰ ہے۔ آیت کے ان تین فقروں میں مشرکوں کے تین عقیدوں کا رد تو ظاہر ہی ہے لیکن اس کے علاوہ مسیحیت کا رد بھی اس میں آگیا ہے۔ جس نے مسیح (علیہ السلام) کو خدائے تعالیٰ کا ہم پلہ وہمسر بنا کر پیش کیا ہے۔ ملاحظہ ہو اناجیل رائج الوقت کی چند آیتیں :۔ ” باپ بیٹے سے محبت رکھتا ہے۔ اور اس نے سب چیزیں اس کے ہاتھ میں دیدی ہیں۔ “ (یوحنا 3:36) ’ میں اور باپ ایک ہیں۔ “ (یوحنا۔ 10:30) ” جو کچھ باپ کا ہے وہ سب میرا ہے۔ “ (یوحنا۔ 16: 15) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں پیغمبر کیلئے اثبات کیا گیا ہے دو صفات کا۔ پہلا اثبات عبدیت کا، جس کے لوازم میں امتشال امر اور اتباع وحی ہے، دوسرا اثبات بشریت کا، جس کے لوازم میں اکل وشرب، خوف ورجاء ہے۔ اسی طرح دو صفات کی نفی ہے۔ پہلی نفی عبد سے خواص الوہیت کی مثلا قدرت کامل وعلم محیط کی ہے۔ دوسری نفی بشر سے تنزہ عن البشریۃ کی ہے۔
76 ۔ (جو اتنی موٹی سی بات تمہاری سمجھ میں آجائے کہ کہیں نور وحی سے منور، صاحب بصیرت اور کہیں فیضان نور سے محروم، بےبصر دونوں برابر ہوسکتے ہیں) (آیت) ” الاعمی والبصیر “۔ سے مراد کافر و مومن ہیں۔ ای الکافر والمومن عن مجاھد (قرطبی) (آیت) ” ان اتبع الا ما یوحی الی “۔ یہ ہے ایک مختصر سے فقرہ میں ساری حقیقت نبوت و رسالت کی، صاحب وحی کا ہر قدم وحی الہی کی ہی روشنی میں اٹھتا ہے۔ اور نبی تمامتر وحی الہی ہی کا اتباع کرتارہتا ہے۔ نبی کو شریعت میں جو معصوم مانا گیا، وہ تمامتر فرع ہے اسی اصل کی، جب رسول اپنے سارے فرائض رسالت میں احکام الہی کا پیرو ہوگیا تو اس میں خطا وغلطی کا امکان ہی کہاں باقی رہ گیا ؟ آیت سے یہ مراد نہیں کہ پیغمبر اجتہاد سے محروم ہوتا ہے، اجتہاد و قیاس شرعی کے موقع جب امتیوں کے لئے ہیں تو پیغمبر کے لئے تو بدرجہازاید ہیں۔ مراد صرف یہ ہے کہ جو امور قابل اجتہاد نہیں، وہاں تمامتر وحی الہی ہی پیغمبر کی زندگی کی رہنمائی کرتی رہتی ہے
Ayah 6:5177 ۔ ( اور ایمان وطاعت کی راہ اختیار کرلیں) (آیت) ” الذین یخافون ان یحشروا “۔ پیغمبر اپنا وعظ سناتا تو سب کو ہے لیکن اس سے نفع اندوز بس وہی ہوتے ہیں جن کے دلوں میں خوف خدا وخوف عاقبت کسی درجہ میں موجود ہوتا ہے، یا جن کا ضمیر کسی حد تک زندہ ہوتا ہے۔ خص فی ھذہ الایۃ الذین یخافوں الحشر لان انتفاعھم بذلک الانذار اکمل بسبب ان خوفھم یحملھم علی اعداد الزاد لیوم المعاد (کبیر) (آیت) ” لعلھم یتقون “۔ کہ شاید آپ کے موعظہ سے متاثر ہو کر وہ پوری طرح راہ ہدایت پاجائیں راہ ایمان پر ثابت قدم ہوجائیں، ای فی المستقبل وھو الثبات علی الایمان (قرطبی) (آیت) ” وانذربہ “۔ ضمیر اس وحی کی جانب ہے جس کا ذکر ابھی آچکا ہے۔ والضمیر لما یوحی الی (بیضاوی) ای انذر بما اوحی الیک (بحر) ای بالقران (قرطبی) قال ابن عباس والزجاج بالقران (کبیر) انذار یوں تو پیغمبر کے ذ مہ مطلق وعام صورت میں بھی واجب ہے لیکن یہاں مقصود انذار خاص ہے۔ جو وہیں ہوتا ہے جہاں نفع معتدبہ متوقع ہوتا ہے۔ انذار کے معنی یہاں اعلام بھی کئے گئے ہیں۔ الانذار الاعلام (قرطبی) الانذار الاعلام بموضع المخالفۃ (کبیر) (آیت) ” ولی ولا شفیع “۔ یہ غیر اللہ کے متعلق دستگیری یا شفاعت کا عقیدہ بہت زائد پھیلا ہوا تھا۔ اور مشرکین کے علاوہ یہود ونصاری تک میں عام تھا، اسی لئے اس کی تردید بار بار اور شدومد سے آئی ہے۔ اس سے اس شفاعت کی نفی نہیں ہوتی جو اہل سنت کے نزدیک انبیاء وملائ کہ وصالحین کی طرف سے ثابت ہے، اس لئے کہ یہ شفاعت مستقلا واصالۃ نہیں بلکہ حق تعالیٰ ہی کی طرف سے نیابۃ ہوگی (آیت) ” من دونہ “۔ اور الاباذنہ کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ قولہ لیس لھم من ولی ولا شفیع لانھا فی مذھبنا فی اثبات الشفاعۃ للمومنین لان شفاعۃ الملائکۃ والرسل للمومنین انما تکون باذن اللہ فکلماکانت تلک الشفاعۃ باذن اللہ کانت فی الحقیقۃ من اللہ تعالیٰ (کبیر) (آیت) ” الی ربھم “۔ یہ مطلب نہیں کہ حق تعالیٰ کسی سمت وجہت میں قائم ہیں اور حشر وہاں ہوگا بلکہ مرادصرف وہ مقام ہے جو پروردگار نے خلق کے اجتماع اور فیصلہ کیلئے مقرر کیا ہے۔ المراد المکان الذی جعلہ ربھم لاجتماعھم وقضاءھم (کبیر) المراد الحشر الی المکان الذی جعلہ عزوجل محلا لاجتماعھم وللقضاء علیھم (روح)
Ayah 6:5278 ۔ یعنی دن رات اپنے فرائض میں لگے رہتے ہیں جانباز سپاہی کی طرح ہر وقت اپنی ڈیوٹی پر حاضر رہتے ہیں۔ الغداوۃ والعشی سے صبح وشام کے متعین ہی اوقات مراد نہیں بلکہ دوام مراد ہے۔ ذکر ھذین القسمین تنبیھا علی کو نھم مواظبین علی الصلوات الخمس (کبیر) المراد بذکر الغداوۃ والعشی الدوام (کشاف) المراد بھما ھھنا الدوام (روح) (آیت) ” یدعون ربھم “۔ کے تحت میں عبادت الہی اور ہر قسم کے فرائض آگئے۔ المراد بالدعاء المحافظۃ علی الصلوۃ المکتوبۃ فی الجماعۃ قال ابن عباس و مجاھد والحسن (قرطبی) یواصلون دعاء ربھم ای عبادتہ ویواظبون علیھا (کشاف) (آیت) ” ولا تطرد “۔ یعنی اپنی مجلس سے نہ نکالیے۔ عرب جاہلیت خصوصا قریش کے امراء و رؤساء اسی طرح طبقاتی کبرونخوت میں مبتلا تھے۔ جس کی مثالوں سے آج یورپ بھرا پڑا ہے وہ اپنے عوام کے ساتھ ایک مجلس میں نشست کے روادارنہ تھے چہ جائیکہ ایسے مجمع میں جس میں غیر عرب حبشی وغیرہ اور پھر ان میں بھی غلام تک ہوں، انہی ریئسوں اور سرداروں نے اس مصلح اعظم ﷺ کے ہاں کہلا بھیجا کہ ان عوام واجلاف کو اپنے پاس سے ہٹائیے تو ہم لوگوں کے لیے گنجائش نکلے قرآن کو ان شعائر جاہلیت پر تو ضرب کاری ہی لگانا مقصود تھی، جواب ان آیات کے ذریعہ عطا ہوا۔
79 ۔ یعنی مطیعین اور فرمانبرداروں کو بلاعذر اپنی مجلس سے محروم کر دنیا سخت ناانصافی کا برتاؤ ہے۔ (آیت) ” یریدون وجھہ “۔ یعنی یہ اطاعت و عبادت بھی تمامتر اخلاص کے رنگ سے رنگین ہے۔ یخلصون نیاتھم فی عبادتھم (بحر) ای طاعتہ والاخلاص فیھا (قرطبی) ای مخلصین لہ سبحانہ فیہ (روح) (آیت) ” وجھہ “۔ سے محاورہ میں مراد کسی شیء کی ذات یا حقیقت ہی ہوتی ہے یا پھر عظمت وتعظیم مقصود ہوتی ہے۔ الوجہ یعتبر بہ عن ذات الشیء وحقیقتہ (کشاف) یذکرون لفظ الوجہ للتعظیم کما یقال ھذا وجہ الرای وھذا وجہ الدلیل (کبیر) حسابھم حسابک حساب سے مراد باطن کی تفتیش سے لی گئی ہے۔ یعنی جس طرح ان کے باطن کی تفتیش آپ کے ذمہ درا بھی نہیں۔ اسی طرح آپ کے باطن کی تفتیش ان کے ذمہ بھی نہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں مریدین کے ہی بعض حقوق کا بیان ہے کہ انہیں بلامصلحت اپنے پاس سے مطرود نہ کرئیے۔ (آیت) ” من حسابھم من شیء “ پہلا، من، تبعیض کے لیے ہے اور دوسرا من زور وتاکید کے لیے ہے۔ من الاولی للتبعیض والثانیۃ زائدۃ للتوکید (قرطبی) فقہاء نے آیت اور اس کے ہم مفہوم احادیث سے یہ استنباط کیا ہے کہ کسی شخص کی عزت وتعظیم اس کی خوش غلافی کی بنا پر اور کسی کی تحقیر اس کی بدلباسی کی بنا پر کرنا دونوں ناجائز ہیں۔ وقد حصل من قوۃ الایۃ والحدیث النھی عن ان یعظم احد لجاھہ ولثوبہ وعن ان یحتقر واحد لخمولہ ولرثاثۃ ثوبہ (قرطبی)
Ayah 6:5380 ۔ شروع میں اسلام کے ماننے والوں میں ضعفاء وغرباء کثرت سے تھے۔ شرکش و شریر الطبع قریش ان بیچاروں کو دیکھ دیکھ کر طنز وتعریض سے کہتے تھے کہ ” اجی ان لوگوں کی بدحالی دیکھو “۔ یہ تو اپنے دین کو اللہ کی نعمت بتاتے ہیں تو کیا یہی بدحالی اللہ کی نعمت ہے ؟ “ (آیت) ” وکذلک “۔ یعنی امارت و افلاس کے درمیان فرق قائم کرکے۔ (آیت) ” فتنا بعضھم ببعض “۔ یعنی خوشحالی کافروں کو بدحالی مومنوں کے ذریعہ سے۔ المفتون بالغنی والفقراوبالشرف والوضاعۃ والقوۃ والضعف (بحر) (آیت) ” لیقولوا “۔ میں ل، عاقبت کا ہے یعنی امارت و افلاس کی اس طبقاتی تقسیم سے ایک مقصود تکوینی امتحان بھی ہے۔ یہ کہنے والے امراء ورؤسا تھے۔ اور جن لوگوں کی طرف اشارہ تھا، وہ ضعفاء وفقراء تھے۔ یعنی الاشراف والاغنیاء وھولاء یعنی الضعفاء والفقراء (قرطبی)
81 ۔ (چنانچہ ان غریبوں، مسکینوں نے حق کو پہنچانا اور قدر کی، انہیں دولت ایمان سے سرفراز کردیا گیا، رؤساء وامراء قریش کفران و انکار میں لگے رہے۔ قسمت سے محروم رہ گئے)
Ayah 6:5482 ۔ رحمت و شفقت کل کائنا ت کے لیے عمومی اور مطیعین ومومنین کے لیے خصوصی، اور اس قانون رحمت کی ایک دفعہ یہ ہے جو ابھی بیان ہورہی ہے۔ (آیت) کتب “۔ یہاں اوجب کے مرادف ہے یعنی حق تعالیٰ نے اپنے اوپر محض اپنے فضل وکرم سے بلاکسی کے توسط کے لازم یا واجب کرلیا ہے۔ ای اوجب ذلک بخبرہ الصدق ووعدہ الحق (قرطبی) ای اوجبھا علی ذاتہ المقدسۃ تفضلا و احسانا بالذات لابتوسط شیء اصلا (روح) کتب میں خود ہی وجوب موجود ہے اور پھر جب علی اس کے ساتھ آگیا تو تاکید اور دہری ہوگئی۔ کتب کذا علی فلان یفید الایجاب وکلمۃ علی ایضا تفید الایجاب ومجموعھما بالغۃ فی الایجاب (کبیر) علی نفسہ، نفس سے مراد یہاں ذات و حقیقت ہے نہ کہ جسم۔ النفس ھھنا بمعنی الذات والحقیقۃ واما بمعنی الجسم والدم فاللہ سبحانہ وتعالیٰ مقدس عنہ (کبیر) معناہ وعدکم بالرحمۃ وعدا مؤکدا (مدارک) (آیت) ” سلم علیکم “۔ السلام علیکم تو مسلمانوں کے ہاں کا اصطلاحی سلام بھی ہے ہر دوسرے فرقہ اور قوم کے طریق سلام وتحیت سے ممتاز، نہ ڈندوت نہ پالاگن، نہ گڈمارننگ نہ ” جے رام جی کی “ نہ ” نمستے “ نہ ” آداب و بندگی “ بلکہ صرف دعائے رحمت کہ اللہ ہر طرح فلاح وسلامتی نصیب رکھے۔ وہ جامع وبے نظیر دعا جوہر موقع پر، ہر مرتبہ اور ہر سن کے انسان کو دن اور رات کے ہر وقت بلاتکلف دی جاسکتی ہے۔ اور یہاں سباق میں (آیت) ” سلم علیکم “۔ کے معنی ہوں گے کہ اللہ تمہیں ان تمام خرابیوں اور مصیبتوں سے محفوظ رکھے جو کفر و انکار کے لازمی نتیجہ کے طور پر دنیا اور آخرت میں پیش آئیں۔ (آیت) ” سلم علیکم “۔ کے معنی ہوں گے کہ اللہ تمہیں ان تمام خرابیوں اور مصیبتوں سے محفوظ رکھے جو کفر و انکار کے لازمی نتیجہ کے طور پر دنیا اور آخرت میں پیش آئیں۔ (آیت) ” سلم علیکم “۔ ایک جامع دعاء ہے جس میں دنیوی اور اخروی ہر قسم کی سلامتی آگئی۔ معناہ سلمکم اللہ فی دینکم وانفسکم (قرطبی) (آیت) ” یؤمنون بایتنا “۔ آیات سے مراد یہاں آیات قرآنی بھی ہوسکتی ہیں اور دلائل بھی۔ والمراد بالایات الایات القرانیۃ۔ او الحجج مطلقا (روح) فخر المفسرین امام رازی (رح) نے حسب معمول یہاں بھی غایت نکتہ رسی سے کام لیا ہے، ان کی تقریر کا خلاصہ یہ ہے کہ اللہ کے سوا جو کچھ بھی ہے سب پر اطلاق آیت اللہ کا ہوسکتا ہے۔ وہ سب آیات یا اس کی ذات وجود کی ہیں یا اس کی وحدانیت کی اور یا اس کی صفات عالیہ کی، اور اس معنی میں آیات الہی کی کوئی انتہاء نہیں۔ ہر شخص جو معرفت حاصل کرنا چاہتا ہے اسے آیات کے کسی نہ کسی حصہ ہی پر قناعت کرنا ہوتی ہے۔ کل آیات الہی کا احاطہ حد بشر سے باہر ہے اور بندہ کی ترقی کی کوئی انتہا ہی اس طریق معرفت کے لحاظ سے نہیں، وہ برابر ترقی ہی کرتا جائے گا، تو اب رسول اللہ ﷺ کو یہ حکم ملتا ہے کہ جس بندہ میں یہ صفت دیکھو اسے سلامتی کی بشارت پہنچا دو ۔ (آیت) ” کتب علی نفسہ الرحمۃ “۔ دوسری آیتوں کی طرح اس آیت سے بھی ثابت ہوگیا کہ ذات باری تعالیٰ کے لئے نفس کا استعمال جائز ہے۔ دلت ھذہ الایۃ علی ان لا یمتنع تسمیۃ ذات اللہ تعالیٰ بالنفس (کبیر)
83 ۔ چناچہ وہ شان غفر کے تقاضا سے معاصی کی لغویتوں سے بھی بچا لے گا، اور شان رحمت کے تقاضا سے مزید نعمتوں سے بھی سرفراز کرے گا، (آیت) ” غفور “۔ بسبب ازالۃ العقاب رحیم بسبب ایصال الثواب (کبیر) (آیت) ” من عمل منکم سوٓء بجھالۃ “۔ یعنی بدعملی کا وقوع اگر وقتی غلبہ نفس سے جہل و غفلت کی بنا پر ہوجائے۔ (آیت) ” تاب واصلح “۔ یعنی وقوع معصیت کے بعد نفس کو اس پر تنبیہ ہوجائے اور اپنے امکان بھر ایک طرف ماضی کے کفارہ اور دوسری طرف حال ومستقبل میں بچنے کا اہتمام کرلیا جائے۔ تاب اشارۃ الی الندم علی الماضی واصلح اشارۃ الی کونہ اتیابالا عمال الصالحۃ فی الزمان المستقبل (کبیر)
Ayah 6:5584 ۔ اور اس مومنین صادقین کا طریقہ بھی ممتاز ہو کر خودبخود واضح ہوجائے گا) والحق والباطل لا واسطۃ بینھما فمتی استبانت طریقۃ المجرمین فقد استبانت طریقۃ المحققین ایضا لامحالۃ (کبیر) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جیسے اسی سورة میں ہم اور بھی دلائل مشرکین کے خلاف کھول کر بیان کرچکے ہیں۔ ای کما فصلنا لک فی ھذہ السورۃ دلائلنا ومحاجتنا مع المشرکین (قرطبی) کما فصلنا لک فی ھذہ السورۃ دلائلنا علی صحۃ التوحید والنبوۃ والقضاء والقدر (کبیر) (آیت) ” الایت “۔ یعنی وہ احکام و دلائل جن کی ضرورت اقامت دین اور مقابلہ اہل باطل کے لئے مومنین کو پڑ سکتی ہے۔ ای فی کل ماتحتاجون الیہ من امر الدین وتیبن لکم ادلتنا وحجتنا فی کل حق ینکرہ اھل الباطل (قرطبی) نمیز ونفصل لک دلائلنا وحججنا فی تقریر کل حق ینکرہ اھل الباطل (کبیر)
Ayah 6:5685 ۔ آیت سے خدائی قانون کی ہر جہتی ہمی گیری اور اس کے مقابلہ میں بندوں کی عقل آرائیوں کی انتہائی پستی وگندگی دونوں پر یکساں روشنی پڑجاتی ہے رسول جو پاک نفسوں اور قدسی سرشتوں کے سردار ہیں، ان تک کی زبان سے کہلوایا جارہا ہے کہ تمہارے قاعدے اور ضابطے، تمہاری عبادتیں اور پوجا پاٹ اس درجہ گندے ہیں کہ میں ان کی پیروی کرنے لگوں تو اپنے مرتبہ سے کہیں گرجاؤں اور خود میرا شمار گمراہوں میں ہونے لگے۔ (آیت) ” الذین تدعون من دون اللہ “۔ یعنی تمہارے خود ساختہ اور تراشیدہ معبود۔ ای تدعونھم فی امھات امورکم علی جھۃ العبادۃ اراد بذلک الاصنام (قرطبی) (آیت) ” اھوآء کم “۔ ھوی کا لفظ بہت عام ہے وحی الہی کے مقابلہ میں جو بھی ” عقل آرائی “ کام میں لائی جائے گی، اس کا شمارہوائے نفس میں ہوگا۔
Ayah 6:5786 ۔ یعنی عذاب الہی۔ ای العذاب (قرطبی) (آیت) ” ما عندی ما تستعجلون بہ “۔ یعنی مجھ میں اس عذاب کی جلد یا بدیر لانے کی قدرت کہاں ؟ لا قدرۃ لی علی تقدیمہ او تاخیرہ (کبیر) منکرین طنز کے لہجہ میں رسول اللہ ﷺ سے بار بار کہتے تھے کہ سچے ہو تو ہم پر عذاب الہی لا دکھاؤ یہ جواب اسی بیہودہ فرمائش کا دیا جارہا ہے۔ فانھم کانوا لفرط تکذیبھم یستعجلون نزولہ استھزاء (قرطبی) (آیت) ” علی بینۃ من ربی “۔ سب سے بڑا بینۃ یہی قرآن مجید ہے جو دنیا کا عظیم ترین دائمی ومستقل معجزہ ہے۔ اپنی تعلیمات کے لحاظ سے جامع وکامل، اپنی ہدایت و احکام کے لحاظ سے بےمثل اور اپنی انشاء وطرز بیان کے لحاظ سے بھی اپنا نظیر آپ ای علی حجۃ من جھۃ ربی وھی القران (کشاف) بینۃ کا صیغہ نکرہ تنوین کے ساتھ اظہار عظمت کے لئے ہے۔ یعنی بہت بڑی دلیل، التنوین للتفخیم ای بینۃ جلیل الشان (روح) (آیت) ” وکذبتم بہ “۔ یعنی تمہارا حال یہ ہے کہ تم ایسی صاف روشنی کی طرف سے آنکھیں بند کئے ہو، بہ ضمیر مذکر البینۃ کی جانب ہے، اس کے معنی بیان، یا اس کے مفہوم و مراد ” قرآن “ کے لحاظ سے۔ ای بالبینۃ لانھا فی معنی البیان وقیل بالفرقان (قرطبی) ذکر الضمیر علی تاویل البیان اوالقران (کشاف) ای ما جئت بہ (معالم) بینۃ کے اصل معنی بیان کے ہیں، اور بیان و توضیح کے معنی میں یہ محاورہ عربی لغت میں عام ہے۔ ای انی علی بیان وبینۃ وبرھان قد وضح لی من ربی وکذلک تقول العرب فلان العرب فلان علی بینۃ من ھذا الامر اذا کان علی بیان منہ (ابن جریر) ای علی بیان وبصیرۃ وبرھان (معالم)
87 ۔ (چنانچہ اپنی حکمت مطلقہ کے مطابق وہ صحیح ومناسب وقت پر اپنا عمل اور ناطق فیصلہ بھی صادر فرمادے گا) والمراد ان ذلک العذاب ینزلہ اللہ فی الوقت الذی اراد انزالہ فیہ (کبیر) (آیت) ” یقص الحق “۔ اللہ ہی حق کو بتلاتا ہے۔ چناچہ اس وقت بھی اس نے حق کو روشن دلائل کے ساتھ قرآن کی صورت میں پیش کردیا۔ ای یحکم بالحق بدلیل (معالم) (آیت) ” ان الحکم الا للہ “۔ یعنی اختیار و حکومت تو تمامتر اللہ کی ہے۔ کائنات میں حاکمانہ تصرف صرف وہی کرسکتا ہے۔ میں عذاب اپنے ارادہ واختیار سے کب لاسکتا ہوں اس کا انحصار تو ارادۂ الہی پر ہے۔ ای فی تاخیر العذاب وتعجیلہ (قرطبی) ای فی تاخیر عذابکم (کشاف) والمراد ھھنا ان الحکم الا للہ فقط فی تاخیر عذابھم (کبیر) فمعنی الکلام اذا ما الحکم فی ماتستعجلون بہ ایھا المشرکون من عذاب اللہ فی ما بینی وبینکم الا للہ (ابن جریر) انما ای یرجع امر ذلک الی اللہ ان شاء عجل لکم ما سالتموہ من ذلک وان شاء انظرکم واجلکم (ابن کثیر) آیت کے اس جزء کو فرقہ خوارج نے بار بار پیش کیا ہے اور اس سے اپنا بڑا کام نکالنا چاہا ہے یہاں تک کہ خلیفہ راشد وبرحق حضرت علی ؓ کے خلاف بغاوت اسی آیت کو پیش کر کرکے پھیلائی تھی، اور آج بھی ایک گروہ ہر انسانی مادی حکومت کو اسی آیت کے ماتحت ” غیر اسلامی “ حکومت قرار دے کر اس سے کسی قسم کا تعاون ناجائز بلکہ حرام ٹھیرارہا ہے سباق قرآنی پر ادنی غوروتامل سے بھی معلوم ہوسکتا ہے کہ آیت کو اس بحث سے ذرا بھی تعلق نہیں۔ سباق تمامتر حکومت تکوینی وارسال آیات ومعجزات کا ہے۔ (آیت) ” لقضی الامر بینی وبینکم “۔ یعنی احقاق حق کے واسطے اس عذاب کو میں اب تک نازل کراچکا ہوتا، ای من العذاب لا نزلت بکم حتی ینقضی الامر الی اخرہ (قرطبی) لاھلکتکم عاجلا غضبا لربی (کشاف) لاوقعت لکم ما تستحقونہ من ذلک (ابن کثیر) اس فقرے نے اور زیادہ صاف کردیا کہ (آیت) ” ان الحکم الا للہ “۔ سے مراد حکومت تکوینی ہی تھی۔
Ayah 6:5888 ۔ اور وہی سارا فیصلہ کرے گا جو جس کے مناسب حال وقرین حکمت ہو، خواہ عذاب دنیوی ہو یا اخروی) اللہ اعلم بالظلمین وبما یجب فی الحکمۃ من وقت عقابھم ومقدارہ (کبیر) یعنی انہ ھو العالم بکل شیء فھو یعجل ما تعجیلہ اصلح ویؤخر ماتاخیرہ اصلح (کبیر) (آیت) ” عندی “۔ یعنی میرے قبضۃ واختیار میں۔ ای فی قدرتی (کشاف) ای فی قدرتی وامکانی (کبیر) ای لوکان مرجع ذلک الی (ابن کثیر)
Ayah 6:5989 ۔ یعنی قدرت کاملہ تو الگ رہی، علم کامل بھی بجز اللہ کے کسی کو حاصل نہیں، مشرکوں اور نیم مشرکوں کو حیات، قدرت، علم انہیں تینوں صفات میں سخت ٹھوکریں لگی ہیں۔ قرآن مجید بھی اسی لئے انہی تینوں صفات کے بارے میں کثرت تکرار وتاکید کے ساتھ بیان کرتا ہے۔ (آیت) ” عندہ مفاتح الغیب “۔ تو وہی جب اور جس قدر چاہے جس چیز کو ظہور میں لے آئے۔ (آیت) ” مفاتح “۔ جمع مفتح (بالفتح) کی بھی ہے اور مفتح (بالکسر) کی بھی۔ مفتح کے معنی خزانہ کے مسلم ہیں۔ مفتح کے لفظی معنی کنجی کے ہیں، لیکن مراد اس سے بھی یہاں وسائل واسباب ہی سے ہوگی، غرض معنی خواہ یہ لئے جائیں کہ غیب کے خزانے اس کے ہاتھ میں ہیں یا غیب کی کنجیاں اس کے ہاتھ میں ہیں۔ مراد دونوں صورتوں میں ایک ہی ہے کہ غیب کا مالک صرف وہی ہے۔ اراد انہ ھو التوصل الی المغیبات وحدہ لایتوصل الیھا غیرہ (کشاف) لفظ المفاتح یمکن ان یکون المراد منہ المفاتیح ویمکن ان یراد منہ الخزائن (کبیر)
90 ۔ یعنی لوح محفوظ میں، جو علم الہی ہی کی متشکل صورت کا نام ہے۔ یا کتاب مبین سے مجرد علم الہی ہی مراد لیا جائے اور امام رازی (رح) نے اسی معنی کو ترجیح دی ہے۔ الکتاب المبین علم اللہ تعالیٰ اواللوح (کشاف) ذلک الکتاب المبین ھو علم اللہ تعالیٰ ولا غیر وھذا ھو الاصوب (کبیر) الا ھو مثبت فی اللوح المحفوظ (ابن جریر) مختلف مثالوں کے ذریعہ سے بتایا ہے کہ اللہ کا علم جزئیات کلیات ہر شے پر محیط ہے۔ اس میں رد آگیا ان مشرک فلاسفہ کا جو علم الہی کو صرف کلیات پر محدود مانتے ہیں، آیت کی اہمیت ومعنویت جب ہی پوری طرح سمجھ میں آسکتی ہے جب مشرک قوموں کے ان عقائد کا پوری طرح علم ہو۔
Ayah 6:6091 ۔ یعنی میعاد معین تمہاری عمر کی، اسی طرح بیداری وخواب کے دوران سے، پوری کردی جائے، اے انسانو ! اجل مسمی ای اعمار کم المکتوبۃ ومعنی القضاء فصل الامر علی سبیل التمام ومعنی قضاء الاجل فصل مدۃ العمر من غیرھا بالموت (کبیر) اے یستوفی کل انسان اجلا ضرب لہ (قرطبی) (آیت) ” بالیل “۔ یعنی سونے کے وقت جو عموما وعادۃ (نہ کہ کلیۃ ولازما) رات ہی کا ہوتا ہے، عنی النوم (ابن جریر، عن السدی) و تخصیص التوفی باللیل والجرح بالنھار للجری علی السنن المعتاد والافقد یعکس (روح) محاورۂ قرآنی میں ایسی مثالیں شاذ تھیں۔ (آیت) ” یتوفکم “۔ یعنی تمہاری روح نفسیاتی کو جس سے احساس ودراک متعلق ہیں معطل کردیتا ہے یا اسے قبض کرلیتا ہے، جدید نفسیات کی اصطلاحی بولی میں، تمہارے شعور کو باطل کردیتا ہے۔ فیتوفی انفسکم التی بھا تقدرون علی الادراک والتمییز (کبیر) لا تخرج منہ الروح ولکن یخرج منہ الذھن (قرطبی) ایک جدید فرقہ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت قرآن مجید کے الفاظ متوفیک اور توفیتنی سے ثابت کرنی چاہی ہے۔ وہ علاوہ دوسرے قطعی دلائل کے یہاں (آیت) ” یتوفکم “۔ کے استعمال میں بھی اپنا رد دیکھ لے۔ (آیت) ” بالنھار “۔ یعنی بیداری میں جب شعور پوری طرح کام کرتا ہوتا ہے۔
92 ۔ (دنیا میں اور اسی کے مناسب جزاسزا جاری کرے گا) آیت کا مطلب یہ ہوا کہ اللہ موت وبعثت مجازی کے کرشمہ تو تمہیں رات دن، خواب وبیداری کے ذریعہ سے دکھاتا ہی رہتا ہے۔ ایسے کیلئے کیا مشکل ہے کہ وہ تمہیں آخری طور پر موت دے کر پھر حشر میں اٹھا کھڑا کرے۔ (آیت) ” اجل مسمی “۔ ہر شخص کی مدت عمر۔ معین لکل فرد وھو اجل بقاۂ فی الدنیا (روح)
Ayah 6:6193 ۔ یہ فرشتے اعمال کی کتابت کے لیے بھی ہوتے ہیں اور جان کی حفاظت کے لیے بھی (آیت) ” حفظۃ “ میں دونوں مفہوم آگئے۔ گوحفظ و کتابت اعمال کا پہلو ظاہر تر ہے۔ اتفقوا علی ان المقصود من حضور ھولاء الحفظۃ ضبط الاعمال (کبیر) ای ملائکۃ حافظین لاعمالکم (کشاف) عن قتادۃ یحفظون العمل والرزق والاجل (روح) ارسال الملئکۃ بما حملوا من الحفظ الذی امروابہ (قرطبی) (آیت) ” ھو القاھر فوق عبادہ “۔ اس کا غلبہ اپنے بندوں پر اس کے علم و حکمت وقدرت کے لحاظ سے نہ کہ سمت ومکان کی بلندی کے اعتبار سے۔ لایجوزان یکون المراد من ھذہ الایۃ الفوقیۃ بالمکان والجھۃ بل یجب ان یکون منھا الفوقیۃ بالقھر والقدرۃ (کبیر) یعنی فوقیۃ المکانۃ والرتبۃ لافوقیۃ المکان والجھۃ (قرطبی)
Ayah 6:6294 ۔ (تعمیل احکام میں) ای لا یقصرون فی ما امروا بہ (کبیر) ای لاینقصون مما امروابہ ولا یزیدون فیہ (کشاف) (آیت) ” رسلنا “۔ مراد وہ فرشتہ ہیں، جن کا کام ہی قبض روح کرنی ہے۔ وھم ملک الموت واعوانہ (کشاف) قبض روح کا عمل اصلا صرف قدرت حق تعالیٰ سے ہوتا ہے۔ ظاہری عمل ملک الموت کرتے ہیں، باقی دوسرے فرشتہ اس کے ماتحت ہوتے ہیں اور انہی کے لئے یہاں صیغہ جمع آیا ہے۔ التوفی فی الحقیقۃ یحصل بقدرۃ اللہ وھو فی عالم الظاھر مفوض الی ملک الموت وھو الرئیس المطلق فی ھذا الباب ولہ اعوان وخدم اونصار (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ بعض صوفیہ اس کے قائل ہوئے ہیں کہ قبض ارواح کبھی حق تعالیٰ خود فرماتے ہیں۔ کبھی ملک الموت اور کبھی دوسرے فرشتہ (رسل) اور یہ متوفی کے احوال کے تفاوت پر ہے۔ آیت نے اسے بھی صاف کردیا کہ اختیار ان ملائکہ موت کا کچھ بھی نہیں، ان کا کام محض تعمیل احکام ہے۔ جس میں یہ قصور کرتے ہی نہیں، یہیں سے رد نکل آیا ان مشرک قوموں کا جو خود فرشتہ موت کو فاعل مختار و متصرف بالذات سمجھ کر اس کی پوجا کرتے رہتے ہیں۔ آیت منجملہ ان قرآنی دلائل کے ہے جو عصمت ملائکہ پر ناطق ہیں۔ دلت ھذہ الایۃ علی ثبوت عصمۃ الملائکۃ علی الاطلاق (ابن جریر) (آیت) ” ردوا الی اللہ “۔ الی سے یہاں یہ مراد نہیں کہ یہ مراجعت کسی خاص سمت یا مکان کی جانب ہوگی کہ حق تعالیٰ ہر مکان وجہت سے منزہ ہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ مراجعت اللہ کے حکم سے ہوگی۔ یجب ان یکون ذلک الرد مفسرا بکونہ منقادا لحکم اللہ مطیعا لقضاء اللہ (کبیر) ای الی حکمہ وجزاۂ (روح) (آیت) ” مولھم الحق “۔ مالک حقیقی وہی اللہ ہے۔ اس کا انکشاف اس روز خاص وعام، کافر و مومن سب کو ہو کر رہے گا۔ ورنہ دنیا میں تو کیسے کیسے مالکان باطل انسان پر حکمران رہتے ہیں۔
95 ۔ اس میں بھی رد ہے ان مشرک قوموں کا جو یہ سمجھتی تھیں کہ خدا کو بھی دنیوی محاسبوں کی طرح کسی بڑے طویل وپیچیدہ حساب میں الجھنا ہوگا۔ (آیت) ” الالہ الحکم “۔ یہاں یہ یاد دلا دیا کہ فیصلہ صرف حق تعالیٰ کا حق ہے کہ نہ کہ مسیح یا کسی اور شریک قدرت کا۔ یومئذ لاحکم فیہ لغیرہ (کشاف) ای لہ الحکم وحدہ یوم القیمۃ ای القضاء والفصل (قرطبی)
Ayah 6:6396 ۔ آیت کا مفہوم ظاہر ہے ہجوم مصائب کے وقت اور شدت اضطرار میں جب تمام مادی ودنیوی سہاروں سے مایوسی ہوجاتی ہے تو فطرت بشری خود بخود حق تعالیٰ کی جانب متوجہ ہوتی اور دعا وزاری سے کام لینے لگتی ہے تو سوال کرکے فطرت بشری کے اسی احساس توحید کو بیدار کیا گیا ہے۔ (آیت) ” ظلمت البروالبحر “۔ سے مراد مطلق شدائد ہی لی گئی ہے۔ ای من شدائد ھما استعیرت الظلمۃ للشدۃ (بیضاوی) مجاز عن مخاوفھما واھوالھما (کشاف کبیر) امام رازی نے فرمایا ہے کہ آیت میں مصیبت زدہ انسان کے لئے چار صفات کا اثبات ہے۔ ( 1) دعا، (2) تضرع، (3) اخلاص قلب (وھو المراد من قولہ خفیۃ) اور (4) التزام شکر۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت اپنے عموم کے لحاظ سے خفی وجلی، قلبی ولسانی ہر قسم کے ذکر کی مشروعیت پر دال ہے۔
Ayah 6:6497 ۔ عام نفس بشری کی خباثت کا بیان ہے کہ مصیبت کے وقت تو کم ظرف انسان رونے گڑگڑانے چلانے لگتا ہے۔ اور ادھر مصیبت ختم ہوئی کہ ادھر پھر وہی اکڑ پیدا ہوجاتی ہے۔ (آیت) ” ومن کل کرب “۔ یعنی ایک وہی مصیبت کی کیا تخصیص ہے، نجات جس غم سے بھی ملتی ہے، نجات دینے والا ہر حال میں وہی ہوتا ہے۔
Ayah 6:6598 ۔ یہاں دنیوی مصائب کی تین عام و متعارف صورتوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک (آیت) ” عذابا من فوقکم ‘۔ یعنی اوپر سے آنے والا عذاب۔ جیسے پتھر، آندھی، طوفان وغیرہ۔ ایک تفسیر ظالم حاکموں سے بھی آئی ہے۔ یحمل ھذا اللفظ علی مجازہ قال ابن عباس ؓ عذابا من الامراء (کبیر) ای السلاطین الظلمۃ (معالم) من قبل اکابر کم وسلاطینکم (کشاف) دوسرے (آیت) ” من تحت ارجلکم “ یعنی نیچے سے آنے والا عذاب، زلزلہ، سیلاب وغیرہ اس کی کھلی ہوئی مثالیں ہیں۔ مجازا سرکش رعایا یا نافرمان غلام بھی مراد لئے گئے ہیں۔ قال ابن عباس من العبید والسفلۃ (کبیر) من قبل سفلتکم وعبیدکم (کشاف) (آیت) ” یذیق بعضکم باس بعض “۔ تیسری قسم عذاب الہی کی یہ بیان ہوئی ہے کہ گروہ کو گروہ سے بھڑا دیا جائے اور انسان کا ملک الموت انسان کو بنادیا جائے۔ یہ عذاب دوسرے آسمانی اور زمینی عذابوں سے گھٹ کر نہیں، کچھ بڑھ ہی کر ہے۔ اس کا تجربہ دنیا کو ادھر چھ سات سال خوب ہوچکا ہے۔ اور آج بھی جنگ ختم ہوجانے کے سال بھر بعد ( 1946 ء ، 1365 ھ۔ ) میں بھی ہورہا ہے ای یجعلکم فرقایقاتل بعضکم بعضا (قرطبی) ای بالحرب والقتل فی الفتنۃ (قرطبی) (آیت) ” ھو القادر “۔ یعنی وہ کامل القدرت ہے، اور تم کو خود بھی اس کا اقرار ہے۔ ای ھو الذی عرفتموہ قادرا وھو الکامل القدرۃ (کشاف) مفسرین کے درمیان ایک سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ آیت میں جس عذاب تفرقہ کا ذکر ہے۔ اویلبسکم شیعا ویذیق بعضکم باس بعض میں اس کا تعلق صرف کافروں سے ہے یا مومنوں سے بھی ؟ تو اگرچہ کہنے والوں نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ کافروں کے ساتھ مخصوص ہے۔ قیلھی فی الکفار خاصۃ (قرطبی) لیکن محققین اسی طرف گئے ہیں کہ یہ مومنین کے بارے میں بھی ہے اور کافروں اور مومنوں کے لئے عام ہے۔ عن مجاہد الایۃ عامۃ فی المسلمین والکفار (قرطبی) قال الحسنھی فی اھل الصلاۃ (قرطبی) امام قرطبی (رح) اندلسی ساتویں صدی ہجری کے آدمی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ یہی آخری قول صحیح ہے۔ اور صحیح ہونا کیا معنی یہ تو مشاہدہ میں آچکا ہے۔ ہمارے ہی بھائی بند دشمن بن کر ہم پر مستولی ہوئے آپس میں تلوار چلی، جانیں گئیں، مال لٹا اور ایک نے دوسرے کی جان ومال کو حلال سمجھا۔ انا للہ۔ قلت ھو الصحیح فانہ المشاھد فی الوجود فقد لبسنا العدوفی دیارنا واستولی علی انفسنا واموالنا مع الفتنۃ المستولیۃ علینا بقتل بعضنا بعضا واستباحۃ بعضنا اموال بعض (قرطبی) (آیت) ’ ’ لعلھم یفقھون “۔ یعنی ہم دلائل و شواہد کو اسی لئے واضح کررہے ہیں کہ اب بھی یہ نادان شرک ومعصیت کی قباحتوں کو سمجھ جائیں۔ یرید بطلان ماھم علیہ من الشرک والمعاصی (قرطبی)
Ayah 6:6699 ۔ (کہ عذاب کے واقع کردینے پر قادر ہوں، میں تو اس کی تفصیلات تک کا علم نہیں رکھتا ہوں) (آیت) ” کذب بہ “۔ ضمیر عذاب الہی کی طرف ہے ای بالعذاب (بیضاوی) یجوزان یکون المراد عنہ عذاب الاخرۃ ویجوز ان یکون المراد منہ استیلاء المسلمین علی الکفار بالحرب والقتال والقھر فی الدنیا (کبیر) والضمیر راجع الی العذاب المذکور فی الایۃ السابقۃ (کبیر) (آیت) ” وھو الحق “۔ یعنی واقع ہو کر رہنے والا ہے۔ الواقع لا محالۃ (بیضاوی) ای لابدان ینزل بھم (کبیر، کشاف)
Ayah 6:67100 ۔ (کہ عذاب آخر آیا) اس عذاب سے عذاب آخرت بھی مراد ہوسکتا ہے۔ اور عذاب دنیوی بھی جو قرآن کے مخاطبین اول قریش پر شدید و ذلیل شکست کی صورت میں مسلط ہو کر رہا۔ یجوز یکون المراد منہ عذاب الاخرۃ ویجوز ان یکون المراد منہ استیلاء المسلمین علی الکفار بالحرب والقتال والقھر فی الدنیا (کبیر) (آیت) ” سوف “۔ یہاں تاکید کے لئے ہے۔ سوف للتاکید (روح) (آیت) ” مستقر “۔ کے لفظی معنی تو ہیں جائے وقوع و استقرار کے، لیکن یہاں مراد وقت وقوع و استقرار ہے، بعض نے دونوں معنی جائز رکھے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ جس واقعہ کی خبر دے دیتا ہے وہ اپنے وقت ومقام پر ضروری ہی واقع ہوکررہتا ہے۔ والمعنی ان لکل خبریخبرہ اللہ تعالیٰ وقتا اومکانا یحصل فیہ من غیر خلف وتاخیر (کبیر) قال ابن عباس وغیرواحد لکل نبا حقیقۃ ای لکل خبر وقوع ولو بعد حین (ابن کثیر) ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ ہر عمل ایک جزاء ضرور رکھتا ہے۔ قیل ای لکل عمل جزاء (قرطبی)
Ayah 6:68101 ۔ (تکذیب، طنز و استہزاء کے ساتھ) بالتکذیب والاستھزاء بھا واللعن فیھا (بیضاوی) (آیت) ” اذا رایت ‘۔ خطاب یہاں عام ناظرین قرآنی سے ہے۔ ای اذا رایت ایھا السامع (کبیر) (آیت) ” الذین یخوضون فی ایتنا “۔ آیات میں یہ اں معجزات و دلائل، احکام سب آگئے، لیکن بالخصوص مراد قرآن ہے۔ ایات اللہ وھی القرآن (جصاص) یعنی فی القران (معالم) خوض۔ کے لفظی معنی بیہودہ گوئی، بےکار حجت نکالنے کے ہیں۔ لفظ لفظ الخوض فی اللغۃ عبارۃ عن المفارضۃ علی وجہ العبث واللعب (کبیر) خوض پر حاشیہ پارہ نمبر 5 میں گزر چکا (سورۃ النساء آیت 140 کے تحت میں)
102 ۔ یہاں اہل ایمان کو صاف حکم مل رہا ہے کہ جو بےدین مذہبی احکام ومسائل کے ساتھ مضحکہ و تمسخر کرتے ہیں، ان کے پاس اتنی دیر تک بیٹھنا اٹھنا جائز نہیں، بلکہ ایسے لوگوں سے کنارہ کشی واجب ہے۔ ھذا یدل علی ان علینا ترک مجالسۃ الملحدین وسائرالکفار عند اظھار ھم الکفر والشرک ومالایجوزعلی اللہ تعالیٰ (جصاص) ھذا دلیل علی ان مجالسۃ اھل المنکرلاتحل (ابن العربی) پھر جن قوموں نے وقتی وہنگامی طور پر نہیں، بلکہ اپنا مستقل مشغلہ ہی احکام اسلامی کے ساتھ طنز وتمسخربنارکھا ہے۔ ان کی صحبتوں سے کنارہ کشی، ان کی مجلسوں سے علیحدگی کس درجہ اہم وضروری ہوگی ! بےدینوں اور غیرمذہب والوں سے بلاضرورت خلامال، اور بلاکسی مصلحت کے مجالست ومخالطت اس حکم ممانعت کے تحت میں آگیا۔ (آیت) ” فلاتقعد “۔ یہاں بیٹھنے کے لفظی معنی لے کر یہ مراد نہیں مراد نہیں کہ کھڑے ہونے کی اجازت ہے۔ بلکہ قعود اپنے وسیع معنی میں ہے۔ اور بےدینوں سے صحبت و اختلاط کی ہر صورت ناجائز ہے۔ (آیت) ” اما ینسینک الشیطن “۔ یعنی اگر خیال نہ رہے، کسی اور شغل میں پڑکران لوگوں سے صحبت وہم نشینی رہے، محض سہو ونسیاں سے شریعت نے جو مواخذہ اٹھادیا ہے اس کی نظیریہ آیت بھی ہے۔ یفید ان التکلیف ساقط عن الناسی (کبیر) (آیت) ” مع القوم الظلمین “۔ فقہاء مفسرین نے یہاں سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ اہل کفر سے مجالست ومخالطت علی العموم ممنوع ہے، خواہ وہ اپنے کو کسی نام یا لقب سے یاد کرتے ہوں، اور خواہ وہ اس خاص وقت میں اپنی شرارت وخباثت کا اظہار کررہے ہو یا نہیں۔ ذلک عموم فی النھی عن مجالسۃ سائرالظالمین من اھل الشرک واھل الملۃ لوقوع الاسم علیھم جمیعا سواء کانوا مظہرین فی تلک الحال للظلم والقبائح اوغیر مظھرین لہ لان النھی عام عن مجالسۃ الظالمین (جصاص)
Ayah 6:69103 ۔ (اور اس کوشش کا اجر تو ان یاددہانی کرنے والوں کو مل ہی جائے گا) مطلب یہ ہے کہ بعض جگہ مومنین کو بالکل علیحدگی سے تو تعذر ہوگا، مثلا آغاز اسلام ہی میں کہ جب مومنین مسجد کعبہ میں مصروف طواف و عبادت ہوتے۔ اور وہیں مشرکین بھی اول فول بکتے ہوتے۔ یا آج بھی اسکولوں میں، بازاروں میں، دفتروں میں، ریل پر، جہاز پر، لاری پر غرض کثرت سے موقع مسلمانوں اور بےدینوں کے اجتماع کے پیش آسکتے ہیں تو ایسے سب موقعوں کے لئے مسلمانوں کو سمجھایا ہے کہ ان بےدینوں کی بک جھک کا کوئی اثر تمہارے نامہ اعمال پرتو پڑے گا نہیں، اپنی بیہودہ گوئی کے ذمہ دار تمام تر وہ خودہی ہیں۔ تم اس سے ذرا نہ گھبراؤ۔ ضرورت کے وقت تم ان کے ساتھ رہ سکتے ہو۔ البتہ اتنا تم پر بھی واجب ہے کہ اپنے امکان ووسعت بھر انہیں تلقین وتبلیغ کرتے رہو، ممکن ہے وہ راہ راست پر آہی جائیں اور نہ بھی آئیں جب بھی تمہارا اجر تو کہیں گیا نہیں۔ (آیت) ” من شیء “۔ میں۔ من۔ استغراق کیلئے ہے یعنی کچھ بھی اثر نہ پہنچے گا۔ من زائدۃ للاستغراق (روح) (آیت) ” الذین یتقون “۔ یعنی وہ لوگ جو کفر، بےدینی معاصی سے بچے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” من حسابھم “۔ ضمیر مشرکین اور بےدینوں یعنی تبلیغ و تفہیم میں لگے رہیں اپنی حسب قدرت واستطاعت۔ ای یذکرونھم ویفھمونھم ‘(کبیر۔ عن ابن عباس) لکن علیھم ان یذکروھم ویمنعوھم عماھم فیہ (روح) ولکن علیھم تذکرۃ لھم وموعظۃ (جلالین) (آیت) ” ذکری لعلھم یتقون “۔ کہ اس موعظت سے شاہد کہ وہ لوگ بھی تمسخر سے باز آجائیں۔ والمعنی لعل ذلک الذکری یمنعھم من الخوض (کبیر)
Ayah 6:70104 ۔ یعنی ایسے بےدینوں سے مجالست ومخالطت ترک کئے رہو، یہ مراد نہیں کہ ان پر تبلیغ وتلقین کرنا چھوڑ دو ۔ ومعنی ذرھم اعرض عنھم ولیس المراد ان یترک انذارھم (کبیر) المراد ترک معاشرتھم وملاطفتھم ولا یترک انذارھم وتخویفھم (کبیر) اعرض عنھم ولا تشغل قلبک بھم (کشاف) (آیت) ” اتخذوا دینھم لعبا ولھوا “۔ ایسے کون ہیں جنہوں نے اسلام کو نہیں، خود اپنے دین کو لہو ولعب یا مشغلہ تفریح بنالیا ہے ؟ دین کو بھلا کوئی قوم بھی مشغلہ تفریح بنا سکتی ہے ؟ مفسرین کو اسی لئے یہاں دین کو متعین کرنے میں دقت پیش آئی ہے حالانکہ ہندی مسلمان اپنے گردوپیش جو کچھ دیکھ رہا ہے اس کے بعد کوئی دشواری باقی ہی نہیں رہتی۔ یہ ہولی جیسے مقدس تہوار کو محض ناچ اور رنگ، فحش گوئی و شراب نوشی کا جلسہ بنالینا، یہ دیوالی جیسے یادگار تہوار کو جوئے اور روشنی کا مستقل تماشہ بنالینا یا یہ دسہرہ کی حیثیت محض ایک سوانگ اور ناٹک کی رکھ دینا ” یہ بڑے دن “ (کرسمس) کے پاک دن کو شراب نوشیوں اور بدمستیوں کے لئے وقف کردینا، یہ ” نوروز “ کے شاہانہ جلسے یہ سب مثالیں اور نظرین اگر دین کو لہو ولعب اور مشغلہ تفریح بنالینے کی نہیں تو اور کیا ہیں ؟ اللہ اپنی نعمتوں اور سرفرازیوں سے مالا مال کرے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو کیسی گہری اور نکتہ رسی کی بات فرماگئے ہیں ! قال ابن عباس ؓ جعل اللہ لکل قوم عیدا یعظمونہ ویصلون فیہ ویعمرونہ بذکر اللہ تعالیٰ ثم ان الناس اکثرھم من المشرکین واھل الکتاب اتخذوا عیدھم لھوا ولعبا غیر المسلمین (کبیر) عبرت کے ساتھ ہمارے اہل اعراس غور کریں کہ خود ان کے عرس بھی جو بدعات اور منکرات کے مجموعہ ہوتے ہیں، کہیں اس وعید کے تحت میں تو نہیں آئے جاتے ہیں۔ (آیت) ” غرتھم الحیوۃ الدنیا۔ اور دنیا سے اسی گہری فریب خوردگی ہی کا یہ اثر ہے کہ انہیں اپنے تمسخر کا انجام کچھ نظر نہیں آتا !
105 ۔ (قیامت کے دن) تشریح قانون مجازات ومکافات ہورہی ہے ، (آیت) ” وذکربہ “۔ ضمیر قرآن کی جانب ہے۔ ای ذکربالقران (کبیر) (آیت) ” ان تبسل نفس بما کسبت “۔ آیت سے ایک تو اسی حقیقت پر روشنی پڑنی کہ سزا جس کسی کو جو کچھ بھی ملے گی، اپنے ہاتھوں کے کرتوت کی ہوگی، دوسرے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ تبلیغ وتذکیر کا جو حکم ہے اس کی تہ میں جذبہ شفقت علی الخلق ہی کام کررہا ہے۔ ای مخافۃ ان تسلم الی الھلکۃ والعذاب (کشاف) لھا۔ تعدل، منھا۔ یہ سب مؤنث ضمیریں نفس کے لئے ہیں۔ (آیت) ” لیس لھا من دون اللہ ولی ولا شفیع “۔ اس میں تردید ہے اسی عالمگیر مشرکانہ ونیم مشرکانہ عقیدہ کی کہ جزاء کے وقت فلاں دیوتا اوتار یا فلاں دیوتا تو خود کارسازی کے لیے اور بگڑی ہوئی بنانے کے لئے کافی ہوجائیں گے اور یا ان کی سفارش ومداخلت کام کرجائے گی، (آیت) ” لایؤخذمنھا “۔ جاہلی مذہبوں میں یہ عقیدہ بھی عام رہا ہے کہ معاوضے اور فدیے حشر میں بھی کام آجائیں گے،
106 ۔ یہ بیان ہورہا ہے ان بدکرداروں، بےدینوں کے انجام بد کے ظہور تام کا جو آخرت میں واقع ہوگا۔ (آیت) ” بماکانوا یکفرون “۔ اوپرجس طنزوتمسخر کا ذکر ہوا، وہ بھی اسی کفر کی ایک شاخ ہے۔