Ayah 6:71107 ۔ مقصود عقیدہ شرک کی حماقت وسفاہت دکھانا ہے۔ (آیت) ” قل “۔ خطاب پیغمبر سے ہے کہ آپ جملہ مومنین کیطرف سے مشرکین سے یہ کہیے۔ (آیت) ” اندعوا “۔ کیا ہم بھی پکاریں جیسے تم پکارتے ہو، اور جیسا کہ تم ہم سے چاہتے ہو، (آیت) ” نرد۔۔۔ اللہ “۔ شرک یوں بھی ایک تمامتر احمقانہ سفیہانہ عقیدۂ تھا، چہ جائیکہ اسلام کی روشنی پاجانے کے بعد پھر اسی کو اختیار کرنا، مشرکین نے مسلمانوں سے کہنا شروع کیا تھا کہ تم اپنے قدیم اور آبائی دین کو چھوڑ کر کہاں اس نئے شخص محمد ﷺ نامی کی دعوت پر بہک گئے، اب بھی واپس آجاؤ اور اپنے قومی وملی دین کی تقویت کا باعث بنو، مسلمانوں کو تعلیم اسی جواب کی مل رہی ہے کہ کیا تمہارا یہ مطلب ہے کہ ہم اسی طریق کی طرف واپس آجائیں جسے دین کہنا ہی دین کی توہین ہے یعنی جن میں کچھ بھی قدرت نہیں ہے، انہیں قادر مطلق کی جگہ پر رکھ لیں ؟ اور پھر وہ بھی اسلام کے بتائے اور دکھائے ہوئے حقائق کا مزہ چکھ چکنے کے بعد !
108 ۔ (مگر وہ ہکا بکا ہوکر کچھ سنتا سمجھتا نہ ہو) تمثیل کے اس دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ کیا تمہاری مرضی یہ ہے کہ اپنی ایسی حالت بنالیں کہ جس طرح ایک راہ گیر جنگل میں غول بیابانی کے ہاتھوں گرفتار ہو کر راہ اور رفیقاں راہ سے جداہو گیا اور اس کے رفیق اسے آواز پر آواز دیئے جارہے ہیں اور وہ ہے کہ مخبوط وسرگردان کچھ بھی سنتا سمجھتا نہیں، اسی طرح ہم گمراہوں کے پنجہ میں پر کر جادۂ حقیقت سے جدا ہوجائیں اور ہمارے ہادی اور پر نے رفیق پھر بھی خیر خواہی سے دعوت اسلام کئے جائیں اور ہم گمراہی کو نہ چھوڑئیں ؟
109 ۔ (اور اس خداوند کائنات کے مکمل، ہر جہتی، ہمہ گیر و دائمی قانون کے پورے فرمانبردار ہوجائیں (آیت) ” لنسلم لرب العلمین “۔ رب العالمین کے لفظ میں یہ اشارہ آگیا کہ دعوت ایسے قانون کی اطاعت کی دی جارہی ہے، جو کسی ملک، قوم، نسل، قبیلہ کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ جس میں رعایتیں ساری دنیا کے انسانوں، حیوانوں، جملہ مخلوقات کی رکھ لی گئی ہے۔ (آیت) ” لنسلم “۔ میں، ل، تعلیل کا ہے۔ ھی تعلیلاللامر بمعنی امرنا وقیل لنا اسلموا لاجل ان نسلم (کشاف) دوسری ترکیب یہ بھی جائز ہے کہ ل کو ان کا مرادف قرار دیا جائے۔ عربی محاورہ میں دوسری ترکیبوں کے ساتھ یہ ترکیب بھی درست ہے۔ ای ان نسلم والعرب یقول امرتک لتفعل وان تفعل وبان تفعل (معالم) (آیت) ” ان ھدی اللہ ھو الھدی “۔ اس میں بتادیا کہ جس راہ پر راہ کا اطلاق ہوسکے وہ تو بس وہی ہے جو خداوندعالم کی بتائی ہوئی ہے نہ کہ وہ جو محدود نظر رکھنے والے بندوں کی عقل یا جذبات کی سجائی ہوئی ہے۔ ھو الھدی یعنی ھو الھدی الکامل لنافع الشریف کما اذا قلت علم زید ھو العلم وملک عمر ھو الملک (کبیر)
Ayah 6:72110 ۔ (نہ کہ کسی دیوی، دیوتا، پیر پیغمبر، جن وملک کے حضور میں) جملہ کی ترکیب حصر پر دلالت کررہی ہے یعنی حشر اسی کے حضور میں ہوگا نہ کہ کسی اور کے، وتقدیم المعمول لا فادۃ الحصر مع رعایۃ الفواصل ای الیہ سبحانہ لا الی غیرہ تحشرون (روح) ان یہاں بان کے معنی میں ہے اور جملہ کا عطف نسلم پر ہے۔ ان ای بان (جلالین) ای امرنا بالایمان واقامۃ الصلوۃ (روح) حکم اقیموا الصلوۃ نیابت کررہا ہے تمام ظاہری عبادتوں کی اور حکم اتقوا ہر باطنی اصلاح کی واتقوہ میں ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ ای الرب فی مخالفۃ امرہ (روح)
Ayah 6:731 1 1 ۔ اشارہ حشر کی جانب ہے جس وقت وہ حشر کو واقع ہوجانے کا حکم دے گا وہ واقع ہوجائے گا، یہ شبہ محض عامیانہ نہیں کہ کوئی شے جب ابھی سرے سے موجود ہی نہیں، تو اسے حکم کیسے دیا جاسکے گا ؟ اول تو اس عالم کی وسعتوں اور پہنائیوں کو اس عالم آب وگل کی قیدوں اور حدبندیوں پر قیاس کرنا خود سر تا سر جہل ہے۔ پھر حکم کا مخاطب بنانے کے لئے کسی شے کا وجود خارجی اس عالم میں بھی کب ضروری ہے۔ اپنے ہر موجود ذہنی کو حکم دیتے رہنا، مخاطب کرتے رہنا ہم میں سے ہر ایک کا آئے دن کا تجربہ ہے۔ التقدیر خلق یوم یقول کن فیکون والمراد من ھذا لیوم یوم القیامۃ (کبیر) یہ معنی بھی لئے گئے ہیں، کہ واقعۃ کوئی حکم وخطاب نہ ہوگا، بلکہ فقرہ سے مقصود صرف اظہار قدرت ونفاذ مشیت ہے، المراد منہ التنبیہ علی نفاذ قدرتہ ومشیئتہ فی تکون الکائنات وایجاد الموجودات (کبیر) (آیت) ” وھو الذی خلق السموت والارض “۔ وہ کوئی ناقص العلم، ناقص القوی، دیوی دیوتا نہیں، ساری موجودات کا خالق، سب کو نیست سے ہست کرنے والا ہے۔ مخلوقات کے سارے صالح مصالح کی رعایت اس کے سوا اور کر ہی کون سکتا ہے ؟ زمین و آسمان کا نام لے دینے سے مراد سارے سفلیاب وعلویات ہوتے ہیں۔ وعدم التصریح بذلک الظھور اشتما لھما علی جمیع العلویات والسفلیات (روح) (آیت) ” بالحق “۔ یہ ساری تخلیق یوں ہی بغیر کسی غرض ومقصد کے نہیں ہوگئی ہے، بڑی بڑی گہری حکمتیں اور مصلحتیں اس کے ساتھ وابستہ ہیں۔ ای قائما بالحق والحکمۃ (کشاف) ای بالعدل (ابن کیثر) بالحق کو للحق کے معنی میں بھی لیا گیا ہے اور، ب، کو ل کا مرادف قرار دیا گیا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ اس کی یہ گری وصناعی اس کی حکمت و عظمت ووحدانیت پر دلیل کام دینے کی غرض سے ہے، قیل الباء بمعنی اللام ای اظھار للحق لانہ جعل صنعہ دلیلا علی وحدانتہ (معالم)
112 ۔ ذکر قیامت کا ہورہا ہے، صفت حکمت کے تقاضہ سے وہ جزا ہر ایک کو بالکل مناسب نہ خالی جاسکتا ہے نہ کسی کے ٹالے ٹل سکتا ہے۔ ای الصدق الواقع لامحالۃ یرید ان ما وعدہ حق کائن (معالم) یہ معنی بھی کئے گئے ہیں کہ اس کے قول (آیت) ” کن فیکون “۔ سے جو کچھ بھی ہوتا ہے۔ عین حکمت وصواب ہی ہوتا ہے۔ ای لایکون شیئا من السموت والارض وسائر المکونات الاعن حکمۃ وصواب (کشاف) (آیت) ” ولہ الملک یوم ینفع فی الصور “۔ قیامت کے دن جو کشف حقائق کا دن ہوگا اس کی حکومت ظاہرا اور علانیہ بھی سب کو ایسی ہی نظر آنے لگے گی، جیسی وہ حقیقۃ اس وقت بھی ہے۔ (آیت) ” لہ الملک “۔ اپنی ترکیب کے لحاظ سے کلمہ حصر ہے یعنی حکومت صرف اسی کی ہوگی۔ اور کسی کی نہیں اس میں بھی رد آگیا ان مشرک ونیم مشرک قوموں کا جو حشر میں اللہ تعالیٰ کی فرمان روائی میں دوسروں کو بھی شریک سمجھتے ہیں۔ والامر للہ فی کل وقت ولکن لاامر فی ذلک الیوم لاحد مع امر اللہ (معالم)
Ayah 6:74113 ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حاشیے پہلے گزر چکے، آپ (علیہ السلام) ایک بت پرست وستارہ پرست قوم کے درمیان اپنے آبائی ملک بابل یاکلدان (موجودہ عراق) میں بہ حیثیت مبلغ توحید، دعوت اسلام و توحید سب سے پہلے اپنے خاندان ہی کے رکن اعظم یعنی والد کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ ازر عربی توریت میں اس نام کا املا تارح ملتا ہے۔ اور انگریزی میں تیرا Terh اور تالمود میں تراء۔۔ جو لوگ علم اللسان کے مبادی سے بھی واقفیت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ایک ہی نام مختلف زبانوں میں جاجاکر کیسے کیسے عجیب تلفظ اختیار کرلیتا ہے۔ فلسطین کے قدیم مسیح مورخ یوسیبیس (264 تا 349 ء) کے ہاں ” آشر ‘ یا ” ہاتھر “ آیا ہے۔ ان دونوں تلفظوں کی مشابہت ومماثلت آزر سے بالکل ظاہر ہے۔ اور آزر وزارہ بھی اگر ایک ہی خاطر شروع سے کہتا آرہا ہے کہ آزر حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کے والد کا نہیں بلکہ چچا کا نام تھا۔ اور حال کے ایک آدھ جدید گمراہ فرقے بھی یہی کہہ رہے ہیں، لیکن ان میں سے کسی کے پاس بھی دلیل کے نام سے کوئی چیز نہیں، رہے محض احتمالات وامکانات، یہ تو ہر قطعی سے قطعی مسئلہ میں بھی پیدا کئے جاسکتے ہیں۔ اب۔ کو اس کے بالکل کھلے ہوئے ظاہر معنی سے ہٹا کر مجازی استعمال کی طرف لے جانے کے لئے آخر کوئی معقول وجہ بھی تو ہو۔ (آیت) ” اتتخذ اصناما الھۃ “۔ تارح (آزر) کی بت پرستی کا ذکر موجودہ توریت میں بھی ملتا ہے :۔ ” خداونداسرائیل کا خدا یوں فرماتا ہے کہ تمہارے باپ دادے تارح ابراہام کا باپ اور نحور کا باپ قدیم زمانہ میں نہر کے پار رہتے تھے اور غیر معبودوں کی بندگی کرتے تھے “۔ (یشوع۔ 24:2) اور یہود کی مستند کتاب جیوش انسائیکلوپیڈیا میں اتنا اور بھی ہے :۔ ” وہ علاوہ بت پرست ہونے کے بت ساز اور بت فروش بھی تھا “۔ (جلد 12 صفحہ نمبر 107) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مشغولی مع الحق اور مناظرۂ اہل باطل میں کوئی تنافی نہیں، بشرطیکہ حدود سے تجاوزنہ ہو۔
Ayah 6:75114 ۔ (چنانچہ اب وہ موحد کامل ہونے کے علاوہ خدمت تبلیغ پر بھی مامور تھے۔ اور اپنی قوم کو شرک سے توحید کی طرف بلا رہے اور لارہے تھے) (آیت) ” لیکون من الموقنین “۔ یعنی زمین و آسمان پر حق تعالیٰ کی حکومت قاہرہ کے مشاہدہ سے ان کے دل پر توحید کا نقش کامل بیٹھ گیا، اور ازدیاد معرفت نے انہیں مرتبہ ایقان تک پہنچا دیا۔ یستدل بھا لیکون من الموقنین (کبیر) انا اریناہ ھذہ الایات لیراھا ولا جل ان یوکن من الموقنین (کبیر) الیقین عبارۃ عن علم یحصل بعد زوال الشبۃ بسبب التامل (کبیر) لیکون من الموقنین اشارۃ الی درجات انوار التجلی وشروق شمس المعرفۃ والتوحید (کبیر) (آیت) ” کذلک “۔ یعنی جس طرح ہم نے ان پر ان کی قوم اور ان کے والد کی گمراہی روشن کردی تھی، ای کمااریناہ اضلال ابیہ وقومہ (جلالین) المعنی ومثل ما اریناہ من قبح عبادۃ الاصنام نری ملکوت السموت والارض (کبیر) ای کما اریناہ من قبح عبادۃ الاصنام نری ملکوت السموت والارض (کبیر) ای کما اریناہ البصیرۃ فی دینہ والحق فی خلاف قومہ (معالم) (آیت) ” ملکوت “۔ یعنی حکومت آسمانی کے کرشمہ۔ ملکوت۔ اس ملک کے لئے مخصوص ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کا ہو۔ الملک مختص بملک اللہ تعالیٰ (راغب) (آیت) ” ملکوت السموت والارض “۔ مراد یہ ہے کہ اپنی ربوبیت ومالکیت کے طریقے ہم نے ان کے دل میں اتار دیئے۔ ای ایات السموت والارض (ابن جریر، عن مجاہد) یعنی الربوبیۃ والالھیۃ وھدیناہ لطریق الاستدلال (کشاف) ای ربوبیتہ تعالیٰ ومالکیتہ لھا (روح) ملکوت کی اضاعت کی قدر علاوہ ارض کے سموت کی طرف ہونے کی اس وقت بہت بڑھ جاتی، اور معنویت سے لبریز ہوجاتی ہے، جب یہ یاد کرلیاجائے کہ اہل بابل (کلدان) محض بت پرستی کے زمینی شرک میں نہیں بلکہ ستارہ پرستی کے آسمانی شرک میں بھی مبتلا تھے۔ نری۔ یہ اراء ۃ کس طرح کی تھی ؟ مادی آنکھوں سے یا چشم ہوش سے ؟ دیدۂ بصارت سے یا دیدۂ بصیرت سے ؟ محققین کا قول ہے کہ بصارت حسی سے نہیں بلکہ بصیرت عقلی سے، تلک الا راء ۃ کانت اراء ۃ بحسب بصیرۃ العقل لا بحسب البصر الظاہر (کبیر) نری ابراہیم ملکوت السموت والارض اشارۃ الی مراتب الدلائل والبینات۔ (کبیر) ای نبی ن لہ وجہ الدلالۃ فی نظرہ الی خلقھما علی وحدانیۃ اللہ عزوجل فی ملکہ وخلقہ (ابن کثیر) ای نری بصیرۃ لطائف خلق السموت والارض (مدارک)
Ayah 6:76115 ۔ (اور نہ ایسوں کی الوہیت ومعبودیت کا قائل ہوسکتا ہوں) (آیت) ” فلما “۔ یہ سارا مکالمہ جو آگے نقل ہورہا ہے ضروری نہیں کہ سب ایک ہی وقت میں ہوا ہو۔ ہوسکتا ہے کہ اس کے مختلف اجزاء مختلف اوقات میں ہوئے ہوں۔ (آیت) ” فلما “۔ ہوسکتا ہے کہ آیت ما سبق کی تفصیل وتشریح ہی ہو۔ (آیت) ” جن علیہ الیل “۔ یہ کسی موقع پر کسی رات میں ہوا ہوگا۔ (آیت) ” راکوکبا “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ملک وقوم کی ستارہ پرستی آفتاب پرستی کے لئے ملاحظہ ہوں راقم کی انگریزی تفسیر کے حواشی (آیت) ” کو کبا “۔ لفظی معنی کے اعتبار سے کوئی بھی ستارہ مراد ہوسکتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ کوئی خاص طور پر اہم و روشن ہی ستارہ ہوگا، موجودہ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ قدیم جاہلی قوموں میں سب سے زیادہ زوروں سے پرستش ان دوستاروں مشتری Jupitor اور زہرہ Venus کی رہی ہے۔ ادھر ہمارے مفسرین کی صفائے قلب کا اثر دیکھئے کہ ان کے قلم سے بھی علی العموم انہیں دونوں ستاروں کے نام نکلے ہیں ! الکوکب الزھرۃ قالہ ابن عباس وقتادہ (بحر) او المشتری قالہ مجاھد والسدی (بحر) والمراد بالکوکب فی ماروی عن ابن عباس المشتری (روح) عن قتادہ انہ قال ذکرلنا انہ الزھرۃ (روح) (آیت) ” قال ھذا ربی “۔ آپ نے یہ اپنی ستارہ پرست قوم کو دکھا کر اور سنا کر ان پر حجت الزامی قائم کرنے کے لئے کہا۔۔۔ مخالف پر حجت الزامی قائم کرنا تبلیغ ومناظرۂ علمی کے معمولات میں سے ہے، بلکہ عام گفتگو میں دستور ہے کہ دوسرے کے خیال کو اپنی زبان سے بجنسہ دہرا دیتے ہیں اور سیاق و لہجہ سے ہمیشہ یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ مخاطب کا قول و خیال نقل ہورہا ہے بغیر اس کے کہ متکلم اس کی تصریح کرے، اردو، عربی، فارسی، انگریزی، ہر زبان میں یہ اسلوب بیان عام ہے، خود قرآن مجید ہی میں ایک جگہ قیامت کے بیان میں ہے (آیت) ” این شرکآء ی “ اللہ تعالیٰ کہے گا کہ آج میرے شریک کہاں ہیں ؟ اس کا مطلب بالکل واضح وظاہر ہے کہ وہ کہاں ہیں جو تمہارے زعم وپندار میں میرے شریک تھے، یہ مطلب کوئی احمق سے احمق بھی نہیں لیتا کہ حق تعالیٰ خود اپنے شریکوں کا وجود تسلیم کرکے انہیں بلا رہے ہیں۔ یرید ان یستدرجھم بھذا القول ویعرفھم خطأھم وجھلھم فی تعظیمھم شان النجوم وفضاحھم علی الامور (ابن قتیبہ) ماجری بینہ وبین قومہ کان احتجاجا ولا اعتقادا (ابن العربی) تأول بعضھم ذلک علی اضمار القول وکثیرا ما یضمر تقدیرہ قال یقولون ھذا ربی علی حکایۃ قولھم و توضیح فسادہ ممایظھر علیہ من سمات الحدوث ولا یحتاج ھذا الی الاضمار بل یصح ان یکون ھذا کقولہ تعالیٰ این شرکائی ای علی زعمکم (بحر) قال الزجاج الجواب عندی انہ قال ھذا ربی علی قولکم ونظیر ھذا قولہ تعالیٰ این شرکائی والمعنی شرکاء ی علی قولکم (قرطبی) المقصود منہ حکایۃ قول الخصم ثم ذکر علی عقبیہ ما یدل علی فسادہ (کبیر) معناہ ھذا ربی فی زعمکم واعتقادکم ونظیرہ قال تعالیٰ وانظرالی الھک الذی ظلت علیہ عاکفا (کبیر) (آیت) ” لا احب الافلین “۔ آپ نفی ان کی محبوبیت محض کی نہیں، محبوبیت معبودی کی کررہے ہیں، آپ فرما رہے ہیں کہ جو ہستیاں خود ہی غیر ثابت اور تغیر پذیر ہیں، ان کے لیے میرے دل میں کوئی جگہ عزت ووقعت کی کیسے ہوسکتی ہے ؟ عدم محبت سیاق عبارت میں صاف عدم معبودیت کے مرادف ہے۔ کنی بعدم المحبۃ عدم العبادۃ لانہ یلزم من نفیھا نفیھا بالطریق الاولی (روح) لا احب عبادۃ الارباب المتغیرین عن حال الی حال (کشاف) سرآمد موحدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا یہ استدلال کہ جو تاثر پذیر ہے وہ کسی کا محکوم ومسخر ہے، وہ اس قابل کب ہے کہ خدا مانا جائے، ظاہر ہے کہ خود اپنے لیے نہ تھا، بلکہ اپنے مشرک ہم قوموں کو قائل کرنے کے لیے تھا۔
Ayah 6:77116 ۔ (لیکن اس کی ہدایت تو اول روز سے میرے شامل حال ہے اور اسی لیے میں توحید پر قائم ہوں) چاند کی عدم معبودیت پر یہ تقریر، ضرور نہیں کہ آپ (علیہ السلام) نے اسی وقت کی ہو، ہوسکتا ہے کہ اس ستارہ والی تقریر سے الگ یہ تقریر کسی دوسرے موقع پر کی ہو۔ (آیت) ” ھذا ربی “۔ ستارہ پرستی کی طرح قمر پرستی بھی مشرک اور جاہلی قوموں میں بہت عام رہی ہے۔ اور اہل باطل بھی اس کا شکار تھے (آیت) ” لئن لم یھدنی “۔ انبیاء کبار تک اپنے کسی کمال کو اپنی جانب منسوب نہیں کرتے، بلکہ اسے تمامتر عطیہ الہی سمجھتے اور کہتے ہیں۔
Ayah 6:78117 ۔ (آیت) ” مما تشرکون “۔ جو شرک تم کیا کرتے ہو “ یہ ارشاد نہیں ہوا کہ جس شرک میں تم لوگ، میری قوم والو، مبتلا ہو، میں اس سے بری اور بیزار ہوں، (آیت) ” ھذا ربی ھذا اکبر “۔ سورج دیوتا کی پوجا دنیا میں ہمیشہ بڑی دھوم دھام سے، بڑے زوروں پر ہوا کی ہے۔ اور اہل کلدانیہ شمس پرستی میں امتیاز خاص رکھتے تھے۔ (آیت) ’ ھذا ربی “۔ تینوں موقع پر حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) کی زبان سے مشرکوں کی ترجمانی لفظ رب سے کرائی گئی ہے۔ الہ، یا اور کوئی لفظ وارد نہیں ہوا ہے۔ جاہلی قوموں کو سب سے زیادہ ٹھوکر صفت ربوبیت ہی میں کرائی گئی ہے۔ اور یہی دھوکا آج تک چلا آرہا ہے۔ سورج دیوتا یا زہرہ یا مشتری کو خالق کوئی نہیں مانتا، مشرک بس یہی کہتے ہیں کہ ہماری ضرورتیں ان سے وابستہ ہیں، ہماری دعائیں یہی سنتے ہیں، ہماری آرزوئیں یہی پوری کرتے ہیں۔ وقس علی ھذا۔ رب کا لفظ معنویت سے لبریز ہے۔
Ayah 6:79118 ۔ (آیت) ” وجھت وجھی “۔ توجیہ وجہ یارخ کے یکسو کرنے سے مراد طاعت ہے نہ کہ لفظی معنی۔ توجیہ الوجہ الیہ کنایۃ عن الطاعۃ (کبیر) (آیت) ” للذی “۔ عام قاعدہ کا مقتضا تھا کہ یہاں الی الذی ہوتا۔ لیکن الی سے معنی سمت وجہت اور مادی مرکزیت کے پیدا ہوتے ہیں، اور حق تعالیٰ جسمیت اور جہت سے ماوراء ومنزہ ہے اس لئے بجائے الی کے صرف، ل، لایا گیا، ترک کلمۃ الی ھنا والا کتفاء بحرف اللام دلیل ظاھر علی کون المعبود متعالیا عن الحیز والجھۃ (کبیر) (آیت) ” فطر “۔ یعنی انہیں عدم سے وجود میں لایا۔ ومعنی فطر اخرجھما الی الوجود (کبیر) (آیت) ” حنیفا “۔ حنیف وہ ہے جو اور ہر معبود سے یکسو ہو کر صرف اللہ تعالیٰ کی طرف جھک جائے ،۔ قیل انہ العادل عن کل معبود دون اللہ تعالیٰ (کبیر) (آیت) ” للذی فطرالسموت والارض “۔ یہ گویا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اپنے دعوی پر دلیل بھی ساتھ ساتھ پیش کرتے جاتے ہیں، فرماتے ہیں کہ میں تو اس خدا کا قائل ہوں جو تمہارے خود ساختہ زمینی وآسمانی خداؤں اور دیوتاؤں کا خالق ہے، سارے مکالمہ میں آپ (علیہ السلام) کوئی ایسی بات نہیں فرماتے، جس سے یہ معلوم ہو کہ آپ (علیہ السلام) پہلے کبھی مشرک تھے اور اب پہلی بار مسلم وموحد ہوئے ہیں۔
Ayah 6:80119 ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اس مقولہ کو حیرت واستعجاب کے لہجہ میں پڑھا جائے گا جب مفہوم پوری طرح واضح ہوگا، آپ (علیہ السلام) گویا یہ فرما رہے ہیں کہ ” اللہ کی شان “ ! تم مجھ سے بحث وجدل کرنے توحید کے مسئلہ میں چلے ہو، جو میرے اوپر بالکل کھل چکا ہے اور مجھے ہدایت علم الیقین کیا معنی عین الیقین کے ساتھ مل چکی ہے “ ! (آیت) ” حآجہ قومہ “۔ بجائے اس کے کہ قوم ابراہیم (علیہ السلام) حضرت کی صاف، سیدھی، فطری تعلیم کو مان لیتی الٹی آپ کے سر ہوگئی اور طرح طرح کی کج بحثیاں کرنے لگی، جیسا کہ ہر غبی، جاہل، مشرک قوم کا شیوہ ہے۔ (آیت) ” حآج ‘۔ کے معنی علمی مناظرہ کے نہیں، بلکہ لڑنے جھگڑنے کے ہیں، حاجہ ای خاصمہ وجادلہ (معالم)
120 ۔ (اتنا بھی کہ قادر اور عاجز کے درمیان فرق کرسکو) (آیت) ” الا ان یشآء ربی شیئا “ یعنی ہاں میرا پروردگار ہی مجھے کچھ نقصان پہنچانا چاہیے تو ہر آن اپنے ارادہ پر قادر ہے۔ وہ تمہارے دیوتاؤں کی طرح ناقص القوی محدود القدرۃ نہیں (آیت) ” وسع ربی کل شیء علما “۔ قدرت کاملہ کے ساتھی علم کامل و محیط بھی اس ذات کا خاصہ ہے۔ اہل کلدانیہ اپنے دیوتاؤں کی قدرت کاملہ کے ساتھ علم کامل کے بھی قائل نہ تھے، حضرت نے اپنی تقریر میں انہی دو صفات باری کا ذکر کرکے ان کے عقائد پر بھرپور ضرب لگا دی۔ (آیت) ” ما تشرکون بہ “۔ ماحرف موصول بےجان کیلئے آتا ہے۔ حضرت نے یہ پیرایہ بیان اختیار کرکے اوپر اشارہ کردیا کہ تمہارے دیوتا تو صفت حیات اور قدرت تک سے یکسرمحروم ہیں، وہ کیا کسی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اور ان سے ڈرنے کے معنی ہی کیا ؟ (آیت) ” الا ان یشآء ربی “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مطلق لا اخاف سے ایک صورت دعوی کی پیدا ہوسکتی تھی، حضرت انبیاء (علیہ السلام) سے بڑھ کر محتاط اور کون ہوگا۔ معا (آیت) ” الا ان یشآء ربی “۔ بھی بڑھا دیا۔ (آیت) ” لا اخاف ما تشرکون بہ “۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ جب آپ نے اثبات توحید پر یہ دلائل قائم کئے تو مذہب شرک کے پرستاروں سے اور کچھ تو نہ بنا، ہاں یہ ڈراوے اور دھمکیاں دینے لگے کہ اچھا ہمارے دیوتاؤں کو چھوڑتے ہو مگر دیکھنا کہ وہ بھی تمہیں سمجھ لیں گے، ان کی قوت وغضب سے واقف نہیں ہو، تمہیں تہس نہس کرڈالیں گے، وہی باتین جو آج بھی ضعیف الاعتقاد، وہم پرست گروہ اہل توحید کے مقابلہ میں کہتا رہتا ہے۔ وقد خوفوہ ان معبوداتھم تصیبہ بسوء (کشاف) ذلک انھم قالوا لہ احذر الاصنام فانا نخاف ان تمسک بسوء من خبل اوجنون لعیبک ایاھا (معالم)
Ayah 6:81121 ۔ اگر تم صاحب علم وصاحب ایمان ہو تو خود ہی بتاؤ کہ سلامتی اور بےخوفی کا مستحق ہم دونوں میں سے کون سافریق ہے ؟ اہل توحید یا اہل شرک۔ (آیت) ” فای الفریقین “۔ غایت تواضع وکسر نفسی سے حضرت نے یہ نہ فرمایا کہ ہم دونوں میں سے کون مستحق امن ہے بلکہ یہ فرمایا کہ اہل توحید اور اہل شرک ان دو میں سے کون مستحق امن ہے، ادب و احتیاط کوئی سیکھنا چاہے تو انہی حضرات انبیاء سے سیکھے ولم یقل فاینا احق بالامن انا ام انتم احترازا من تزکیتہ نفسہ فعدل عنہ (کشاف) (آیت) ” کیف۔۔۔ سلطنا “۔ ڈرنا مجھ کو چاہیے یا تم کو ؟ میں جو حاکم یکتا کی یکتائی کا قائل ہوں یا تم کو جنہوں نے بےدلیل، بےسند دیوتاؤں معبودوں کی فوج گڑھ رکھی ہے۔ کیسی الٹی بات کررہے ہو کہ مجھے ڈرا رہے ہو، میں جو توحید پر قائم ہوں تو میں تو ڈرجاؤں، اور تم جو اعظم ذنوب، شرک میں مبتلا ہو، تو تم بےخوف بنے رہو !۔
Ayah 6:82122 ۔ (اس دنیا میں بھی) یعنی راست روی صرف اہل توحید کا حصہ ہے، (آیت) ” بظلم “۔ جو معصیت ایمان کے منافی ہے وہ شرک ہے، یوں بھی سب سے بڑا ظلم جو انسان اپنی جان پر، اپنی عقل وضمیر اور روح پر کرسکتا ہے یہی ہے کہ اللہ کے ساتھ ذات یا صفات میں کسی کو شریک ٹھیرالے۔ قرآن مجید میں بھی اسی کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ (آیت) ” ان الشرک لظلم عظیم “۔ (سورۂ لقمان) اور یہاں بھی ظلم کے یہی معنی حضرت ابوبکر ؓ ، حضرت عمرؓ، حضرت سلمان ؓ ، حضرت حذیفہ ؓ ، حضرت ابن عباس ؓ ، وغیرہ جلیل القدر صحابیوں اور عکرمہ ؓ ، نخعی، ضحاک، ابن زید، علقمہ، قتادہ، مجاہد وغیرہ بہ کثرت تابعین سے مروی ہیں، سب سے بڑھ کر یہ کہ حدیث میں خود رسول اللہ ﷺ سے یہی تفسیر منقول ہے اور تفسیر کے ائمہ محققین اسی طرف گئے ہیں، واولی القولین بالصحۃ فی ذلک ما صح بہ الخبر عن رسول اللہ ﷺ وھو الخبر الذی رواہ ابن مسعود عنہ انہ قال الظلم الذی ذکرہ اللہ تعالیٰ فی الموضع ھو الشرک (ابن جریر) فالمراد ھھنا الذین امنواباللہ ولم یثبتوا اللہ شریکا فی المعبودبۃ والدلیل علی ان ھذا ھوالمراد ان ھذہ القصۃ من اولھا الی اخرھا انما وردت فی نفی الشرکاء اوالاضداد والانداد الیس فیھا ذکرالطاعات والعبادات (کبیر)
Ayah 6:83123 ۔ ( اور اپنی انہی صفات حکمت کامل وعلم محیط کے ماتحت، جو کمال جس کے حال و استعداد کے مناسب ہوتا ہے، وہی اس کو عطا کرتا ہے) (آیت) ” تلک “۔ یعنی یہی مکالمہ ابراہیمی جو اوپر گزر چکا، اشارہ الی کلام تقدم (کبیر) اشارۃ الی جمیع ما احتج بہ ابراھیم (علیہ السلام) علی قومہ (کشاف) (آیت) ” علی قومہ “۔ یہ نہیں ارشاد ہوا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو یہ دلیل خود ان کے مقابلہ میں سجھائی گئی۔ بلکہ یہ ہے کہ ان کی قوم کے مقابلہ میں بتائی گئی، علی قومہ ہے علی نفسہ نہیں ہے، یہ بجائے خود اس امر کی تائید میں ہے کہ آپ شروع ہی سے موحد تھے، شرک کے خلاف کسی دلیل ضرورت آپ کو نہیں، آپ کی قوم کو تھی۔ (آیت) تلک حجتنا اتینھا “۔ اس استدلال توحیدی کو اپنی جانب نسبت دے کر حق تعالیٰ نے اس میں اس میں شرف خصوصی اور امتیاز خاص پیدا کردیا۔ جیسے دنیوی بادشاہ موقع عظمت پر کہتے ہیں کہ یہ کام ہم نے کیا۔ لماذکرنفسہ تعالیٰ ھھنا باللفظ الدال علی العظمۃ وجب ان تکون تلک العظمۃ عظمۃ کاملۃ رفیعۃ شریفۃ وذاک یدل علی ان یتاء اللہ تعالیٰ تلک الحجۃ من اشرف النعم ومن اجل مراتب العطایا والمواھب (کبیر) (آیت) ” نرفع درجت “۔ یہ درجہ علمی وعملی ہر قسم کے ہوسکتے، اور درجات کی تنوین سے یہ ظاہر ہو رہا کہ یہ کوئی ایک مرتبہ نہیں بلکہ ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بہت سے مرتبے ہوں گے، والتنوین لایدل الا علی الدرجات الکثیرۃ (کبیر) (آیت) ” من نشآء “۔ سب کچھ مشیت تکوینی کے مطابق ہوتا ہے۔ اور مشیت کبھی حکمت مطلقہ سے جدا نہیں ہوتی۔ (آیت) ” نرفع درجت من نشآء “۔ جو لوگ علم کلام میں مشغول رہتے اور اثبات توحید میں لگے رہتے ہیں، ان کے شرف مرتبہ کا پورا ثبوت اس آیت سے مل گیا۔ اور یہیں سے ان لوگوں کا رد بھی نکل آیاجو دلائل کلامی پیش کرتے رہنے کو لغو ولا حاصل بتاتے ہیں، فقہاء مفسرین نے اس استنباط پر بہت زور دیا ہے۔ لانہ تعالیٰ اثبت لابراھیم حصول الرفعۃ والفوزبالدرجات العالیۃ لاجل انہ ذکر الحجۃ فی التوحید وقررھا وذب عنھا وذلک یدل علی انہ لا مرتبۃ بعد النبوۃ والرسالۃ اعلی و اشرف من المرتبۃ (کبیر) اوضح دلالۃ علی وجوب الاستدلال علی التوحید (جصاص) فلما استدل ابراھیم علی توحید اللہ واحتج بہ علی قومہ ثبت بذلک ان علینا مثلہ (جصاص)
Ayah 6:84124 ۔ یہ سب کے سب راہ ہدایت پر تھے، مہتدی بھی اور ہادی بھی، اسحاق ویعقوب (علیہما السلام) کے نام لانے میں تعلیم ہے اہل عرب بنی اسمعیل کو کہ تم کہیں یہود بنی اسرائیل کی بدزبانیوں سے مشتعل ہو کر انکے قبلہ وخاندان کے بزرگوں، ان دونوں پیغمبروں کی شان میں گستاخی نہ کرنے لگنا، اسحاق (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دوسرے صاحبزادہ حضرت سارہ ؓ کے بطن سے تھے، (2060 ق، م۔ تا 1880 ق، م) (آیت) ” ووھبنا لہ اسحاق ویعقوب “۔ ہم نے ان کو اسحاق ویعقوب (علیہما السلام) عطا کیے، ایک کو بیٹا اور دوسرے کو پوتا بنا کر۔ یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے صاحبزادہ 2000 ق، م 1850 ق، م۔ آپ کا دوسرا نام اسرائیل تھا، اور قوم بنی اسرائیل آپ ہی کی جانب منسوب ہے۔
125 ۔ نوح بن لمک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے اجداد میں سے مشہور ومعروف نبی ہیں، توریت میں بھی جو نسب نامہ درج ہے، اس کے اعتبار سے حضرت ابراہیم خلیل حضرت نوح (علیہما السلام) کی گیا رھویں پشت میں ہیں۔ آپ کا وطن وہی تھا جو تاریخ کے اس ابتدائی دور میں نسل انسانی کا وطن تھا، یعنی عراق کا دو آبہ دجلہ وفرات، آپ کا زمانہ قیاسی وتخمینی طور پر 2948 ق، م تا 1998 ق، م سمجھا گیا ہے۔ (آیت) ” ذریتہ “۔ میں ضمیر کس کی طرف ہے یعنی کس کی اولاد کا ذکر ہے ؟ مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ہوسکتے ہیں کہ اول تو آپ ہی کا مذکور سب سے قریب واقع ہوا ہے۔ دوسرے یہ یہ آگے جن جن کا ذکر آرہا ہے وہ سب آپ ہی کی اولاد میں تھے بھی، ای من ذریۃ نوح (معالم) بعض نے مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے لی ہے اس لیے کہ اصلا انہی کے فضائل یہاں مقصود ہیں، اس گروہ نے ذریۃ کے معنی وسیع کرکے لیے ہیں کہ اولاد دختری واولاد معنوی بھی اس میں شامل ہوجائے، روی عن ابن عباس ؓ ان ھولاء انبیاء (علیہم السلام) کلھم مضافون الی ذریۃ ابراہیم وان کان منھم من لم یلحقہ بولادۃ من قبل ام ولا اب (روح) والضمیر عند جمع لابراہیم (روح)
126 ۔ (جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کو دی کہ ان کی نسل میں ایک سلسلہ انبیاء اور خاصان خدا کا پیدا کردیا) داؤد بن یسی۔ نبی برحق اور بنی اسرائیل میں ایک بڑے شان و شوکت کے بادشاہ۔ متوفی 962 ق، م سلیمان (علیہ السلام) بن دواد (علیہ السلام) طبقہ انبیاء میں سب سے بڑے بادشاہ۔ متوفی 932 ق، م ایوب (علیہ السلام) ۔ آپ کا شمار پیغمبران عرب میں ہے۔ مسکن شمالی عرب میں علاقہ فلسطین کی مشرقی سرحد تھا، بائیبلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نسل میں سے پانچویں پشت میں تھے۔ اسرائیلی روایتوں میں آپ کی عمر 2 10 سال بیان کی گئی ہے۔ یوسف (علیہ السلام) بن یعقوب (علیہ السلام) ۔ پیدائش ملک کنعان (فلسطین) میں، بعد کو مصر کے بادشاہ ہوگئے۔ 19 10 تا 1800 ق، م۔ موسیٰ بن عمرا ان۔ صاحب توریت، اسرائیلیوں کے مشہور ترین پیغمبر 1540 ق، م تا 1400 ق، م ہارون بن عمران، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی، عمر میں تین سال بڑے ان سب میں ایک مشترک چیز یہ نظر آتی ہے کہ نبوت کے ساتھ ساتھ دولت یا حکومت یا قبیلہ کی سرداری غرض وجاہت دنیوی سے بھی مشرف تھے۔
Ayah 6:85127 ۔ یعنی اللہ کے ہاں معزز ومقرب، ان کی اگر دنیا میں بدنامی ہوئی اور بعض گروہوں نے ان کی بدگوئی کو اپنا شعار بنالیا تو اس سے متاثر نہ ہوجانا، قرآن تصدیق کرتا ہے کہ یہ سب صالح تھے، زکریا حضرت مسیح کے خالوہوتے تھے انجیل میں ان کا اور ان کے زوجہ محترمہ کا ذکر خیر تفصیل سے موجود ہے۔ یحٰی بن زکریا، متوفی 30 ء انجیل میں ان کا نام یوحنا آیا ہے۔ عیسیٰ ابن مریم (علیہ السلام) ۔ مشہور ومعروف نبی 29 ء میں دنیا سے تشریف لے گئے۔ الیاس۔ یہ غالبا وہ ہیں جن کا ذکر توریت کے بعض صحیفوں میں ایلیاہ نبی کے نام سے آیا ہے اور ان کے خارق عادت بہت سے دیئے ہیں ( 1 ۔ سلاطین وغیرہ) انگریزی تلفظ میں Elijah اہل کتاب نے اپنے ہاں کے انبیاء کی سیرتوں کو جی بھر کر داغدار کردیا تھا۔ قرآن مجید نے آکر از سرنو ان کی عصمت قائم کی، (آیت) ” الصلحین “۔ یعنی صالحیت میں کامل ترین۔ الکاملین فی الصلاح (بیضاوی) اور ان تمام خرافات سے مبراجو یہودونصاری نے ان حضرات کی جانب جاہلی قوموں کے دیوتاؤں کے گندے قصوں پر قیاس کرکے منسوب کردیئے ہیں۔
Ayah 6:86128 ۔ (انہیں نبوت سے سرفراز کرکے) ظاہر ہے کہ ہر نبی اپنے زمانے کے تمام غیر انبیاء سے افضل ہی ہوگا۔ قال القاضی ویمکن ان یفال المراد کلا من الانبیاء یفضلون علی کل شیء عن سواھم من العالمین (کبیر) (آیت) ” اسمعیل “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے صاحبزادے حضرت ہاجرہ (علیہ السلام) کے بطن سے 2070 ق، م تا 1933 ق، م۔ الیسع بن سفط توریت کے بعد صحیفوں میں ان کا ذکر بھی تفصیل سے آیا ہے۔ حضرت الیاس (علیہ السلام) کے جانشین تھے۔ انگریزی تلفظ میں ! Elisha یونس بن متی، نینوا (موجودہ نقشہ میں موصل) کے پیغمبر تھے، 78 1 ق، م تا 74 1 ق، م میں واقع ہوئی۔
Ayah 6:87129 ۔ جتنے حضرات کا اوپر ذکر آچکا ہے، یہ سب انبیاء صادقین تھے۔ اللہ کے مقبول و برگزیدہ، ان کے فسق اعتقادی وعملی سے متعلق جتنی بھی روایات شائع ہوں، اگرچہ وہ بائبل ہی کے ذریعہ سے ہوں، سب کی سب موضوع و باطل ہیں، (آیت) ” من ابآءھم میں من تبعیضیہ ہے ” کچھ “ کے معنی میں۔ من للتبیعض ای ھدینا بعض اباءھم وذریاتھم (قرطبی) (آیت) ” واجتبینھم وھدینھم “۔ ھم کی ضمیر انہی انبیاء (علیہ السلام) کی جانب ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اجتباء کا حاصل جذب ہے اور ہدایت کا حاصل سلوک ہے (آیت) ” ومن ابآءھم وذریتھم واخوانھم “۔ میں حق تعالیٰ نے حضرت انبیاء کے آباء اور اولاد اخوان یعنی اصول و فروع وفروع اصول تینوں کا ذکر موقع شرف ومدح میں کیا ہے ؛۔ اس سے ظاہرہوتا ہے کہ حضرات انبیاء سے ہر قسم کا رشتہ باعث شرف ہے۔ ذلک یدل علی انہ تعالیٰ خص کل من تعلق بھولاء الانبیاء بنوع من الشرف والکرامۃ (کبیر)
Ayah 6:88130 ۔ (اور ان کی بزرگ زادگی یا اور کوئی نسبت اضافی ذرا بھی کام نہ آتی) (آیت) ” یھدی بہ من یشآء من عبادہ “۔ بہ کی ضمیر ھدی اللہ کی طرف ہے او ھدی اللہ سے یہاں مراد توحید ومعروفت الہی ہے۔ یجب ان یکون المراد من ھذا الھدی معرفۃ التوحید وتنزیہ اللہ تعالیٰ عن الشرک (کبیر) (آیت) ” ولو اشرکوا “۔ بالفرض یہ شرک اعتقادی یا عملی میں مبتلا ہوئے ہوتے۔ جیسا کہ بائبل کے مختلف صحیفوں میں ان کے سرتھوپ دیا گیا ہے۔ (آیت) ” لحبط عنھم ما کانوا یعملون “۔ نبوت پر سرفراز وقائم رہنا کیا معنی، ایسی صورت میں تو وہ معمولی درجہ کے مومن بھی باقی نہیں رہ سکتے تھے، لیکن قرآن جب ان کے محسن و صالح ومہدی و افضل عالم ومجتبی وصاحب کتاب ونبی ہونے کا اثبات اس شدومد سے کررہا ہے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کے (معاذ اللہ) شرک سے متعلق جو کہانیاں گڑھی گئی ہیں وہ سرتا پا باطل اور افتراء شدید ہیں۔
Ayah 6:89131 ۔ یعنی گروہ صحابہ اور رسول اللہ ﷺ کے معاصر مومنین صادقین، جو نہ رسول اللہ ﷺ کی نبوت و رسالت کے منکر ہیں نہ ان انبیاء سابقین کے۔ قیل ھم اصحاب النبی ﷺ وکل من امن بہ (کشاف) قیل ھم اھل المدینہ وقیل ھم المھاجرون والانصار (کبیر) (آیت) ” اولئک۔۔۔ النبوۃ۔ ہم نے تو ان صالحین و ابرار کو کتاب ہو حکمت اور نبوت سے سرفراز کیا۔ اس پر بھی فسق پیشہ لوگ ان کے کمالات و فضائل سے انکار ہی کرتے رہے۔ (آیت) ” فان یکفربھا “۔ ھا کی ضمیر توحید کی طرف لی گئی ہے یا کتاب وحکم ونبوت کی جانب۔ والمراد فان یکفر بھذا التوحید (کبیر) ای بھذہ الثلاثۃ (بیضاوی) (آیت) ” ھولآء “۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کے منکرین ومکذبین۔ ای کفار عصرک یا محمد ﷺ (قرطبی) کفار قریش (کبیر) (آیت) ” بکفرین “۔ میں ب زاید ہے تاکید کے لئے۔ والباء زائدۃ للتاکید (قرطبی) وفی بکافرین تاکید النفی (کشاف)
Ayah 6:90132 ۔ (خود انہی کے نفع ومصلحت کے لئے) (آیت) ” اقتدہ “۔ میں ہ ضمیر کی نہ سمجھی جائے کہ اصل امر تو اقتد ہے۔ ہ وقف ووصل کی ہے۔ ھاء السکت وقفا ووصلا (جلالین) الھاء للوقف (بیضاوی) (آیت) ” فبھدھم اقتدہ “۔ ان حضرات کا وہ ھدی (طریق) کیا تھا۔ ان سب نے بھی اپنے اپنے معاصر منکرین کے ہاتھوں سخت مصائب اٹھائے تھے۔ لیکن اس کے باوجود اپنی جگہ پر ثابت قدم رہے تھے، رسول اللہ ﷺ کی تسلیہ قلب کے لئے ارشاد ہورہا ہے کہ آپ ﷺ کی راہ میں یہی سب کچھ پیش آنا ہے سو آپ بھی انہی کی طرح ثابت قدم رہیے۔ (المعنی اصبر کما صبروا (قرطبی) ای اقتدابھم فی تحمل سفاھاتا الجھال فی ھذالباب (کبیر) ھدی کے دوسرے معنی توحید و اصول دین کے بھی کئے گئے ہیں۔ والمراد بھدھم طریقتھم فی الایمان باللہ وتوحیدہ و اصول الدین دون الشرائع (کشاف) ای اقتدبھم فی نفی الشرک و اثبات التوحید (کبیر) (آیت) ” لااسئلکم علیہ اجرا “۔ علیہ میں ضمیر قرآن کی جانب ہے، سنت انبیاء ایک یہ بھی ہے کہ وہ تبلیغ دین کی کوئی فیس نہیں طلب کرتے۔ یہ تو ان کا عین مشن (مقصد زندگی) ہی ہوتا ہے۔ وکان من جملۃ ھدھم ترک طلب الاجر فی ایصال الدین و ابلاغ الشریعۃ (کبیر) بعض فقہاء نے اس سے یہ استباط کیا ہے کہ تعلیم قرآن وروایت حدیث پر معاوضہ لینا درست نہیں۔ فیہ دلیل علی ان اخذ الاجر علی تعلیم القران وروایۃ الحدیث لایجوز (مدارک) (آیت) ” ان ھو الا ذکری “۔ قرآن مجید کو کوئی قصہ کہانی کی کتاب، سائنس وفلسفہ کی کتاب، تاریخ، وجغرافیہ کی کتاب، ادب ومحاضرہ کی کتاب نہ سمجھو، یہ تو تمامتر ایک ہدایت نامہ ہے۔ ایک نصیحت نامہ ہے۔ ایک دستور العمل ہے۔ (آیت) ” ذکری للعلمین “۔ ذکری کے ساتھ للعرب نہیں للعالمین فرمایا۔ یعنی اس کی ہدایت اور اس کے قانون کسی ایک ملک وقوم کے ساتھ مخصوص نہیں، سارے عالم کے لئے ہیں۔ اور اس پہلو کو فخر المفسرین فخر رازی (رح) نے نظر انداز نہیں ہونے دیا ہے، یدل علی انہ ﷺ مبعوث الی کل اھل الدنیا لا الی قوم دون قوم (کبیر) استدل بالایۃ علی عموم بعثتہ ﷺ (روح)
Ayah 6:91133 ۔ یہ کہنے والے کون تھے ؟ روایات میں آتا ہے کہ کوئی یہودی تاھ اور سیاق قرآنی خود بھی یہی کہہ رہا ہے کہ یہ قول کسی یہودی کی زبان سے نکلا تھا، بہ ظاہر یہ مقولہ یہودی عقائد کے بالکل منافی ہے لیکن جوش مخالفت ایسی چیز ہے کہ اس حالت میں اپنے خلاف عقائد باتیں بھی زبان سے نکل جاتی ہیں۔ غلو کے وقت اپنے مسلک اور اپنے مسلمات کی بھی پروا نہیں رہ جاتی، خوش قسمتی سے بعض روایات بھی اس خیال کی تائید میں موجود ہیں۔ قیل ان صدور ھذا القول کان عن غضب وذھول عن حقیقتہ (روح) یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ اب کوئی کتاب نہیں اتاری، نہ یہ کہ کبھی کوئی کتاب نہیں اتاری۔ آیت میں جو اشکال ہے حیرت ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ نظر بجز فخر المفسرین امام رازی (رح) کے اور کسی کی نہ گئی۔ مشکل یہ ہے کہ یہ قول اگر کسی مشرک کا ٹھہرایا جاتا ہے تو معا بعد اس کا جو جواب قرآن مجید میں درج ہے۔ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اوپر جو نزول توریت ہو اس سے استدلال تو اس جواب کا کوئی ربط مشرک کے قول سے نہیں ٹھہرتا۔ قریش عرب مشرکین ہند کی طرح نفس نبوت اور سلسلہ وحی ہی کے قائل نہ تھے۔ لان کفار قریش والبراھمۃ کما ینکرون رسالتہ محمد ﷺ فذلک ینکرون رسالتہ سائر الانبیاء (کبیر) اور اگر یہود کا قول مانا جائے دشواری وہی آکر واقع ہوتی ہے کہ کوئی یہودی اپنے مسلمات کے خلاف ایسی بات زبان سے نکال کیونکر سکتا تھا امام رازی (رح) نے سچ فرمایا کہ فی ھذہ الایۃ بحث صعب (آیت کے اندر ایک سخت اشکال ہے) اور پھر اسے اپنی خداد و ذہانت سے حل یوں فرمایا ہے کہ اس یہودی کا مقصد صرف نبوت محمد ﷺ کی تکذیب تھی، اس پر حق تعالیٰ کی طرف سے جواب یہ ملتا ہے کہ جب و موسیٰ (علیہ السلام) کے صاحب وحی ہونے کا قائل ہے تو یہ تو تو کہہ ہی نہیں سکتا کہ حق تعالیٰ کسی بندہ سے مخاطبہ نہیں کرتا اور اس لئے محمد ﷺ پر وحی آنا ناممکن ہے۔ زیادہ سے زیادہ تو ان سے ان کی صداقت کے ثبوت کا مطالبہ کرسکتا ہے۔ والمقصودھنا انک لما سلمت ان اللہ تعالیٰ انزل التورۃ علی موسیٰ (علیہ السلام) فعند ھذا لا یمکنک الاصرار عی انہ تعالیٰ ما انزل علی شیئا لانی بشر وموسی بشرایضا (کبیر) (آیت) ” ما قدروا اللہ حق قدرہ “۔ قدر کی تفسیر عظمت سے بھی کی گئی ہے یعنی اللہ کا جو حق عظمت تھا، وہ ان لوگوں سے ادا نہ کیا۔ قال الحسن ماعظموا حق عظمتہ ونسبوا اللہ عزوجل الی انہ لایقیم الحجۃ علی عبادہ (قرطبی) لیکن دوسرے معنی جو سیاق کلام کے موافق تر ہیں، کہ ان لوگوں نے حق تعالیٰ کو پہچانا ہی نہیں جو اس کی بابت یہ فرض کرلیا کہ وہ اپنے بندوں کی ہدایت کے لئے رسول نہیں بھیجتا۔ قال ابو عبیدۃ ای ما عرفوا اللہ حق معرفتہ قال النحاس وھذا معنی حسن والمعنیان متقاربان (قرطبی) وما عرفوہ حق معرفتہ فی الرحمۃ علی عبادہ واللطف بھم حین ان کر وابعثۃ الرسل والوحی الیہم وذلک من اعظم رحمتہ واجل نعمتہ (کشاف) حیث انکروا النبوۃ والرسالۃ (کبیر) (آیت) ” اذ قالوا “۔ یہ کہنے والا ایک یہودی تھا۔ قال الحسن و سعید بن جبیر الذی قال احدالیھود (قرطبی) ھذہ الایۃ فی حق الیھو دوھو القول المشھور عند الجمھور (کشاف)
134 ۔ حجت الزامی کا خلاصہ یہ ہے کہ جس خدا کو تم توریت کا نازل کرنے والا تسلیم کرتے ہو وہ تو آج بھی زندہ وقائم اور اس پر قادر ہے کہ کوئی دستور حیات اس سے بھی جماع تروکامل تر نازل کردے (آیت) ” تجعلونہ قراطیس “۔ تقدیر کلام فی القراطیس سمجھ لی گئی ہے اور معنی یہ کئے گئے ہیں کہ اسے پارہ پارہ کردیا ہے۔ ای فی القراطیس (قرطبی) ای جعلوہ قراطیس مقطعۃ وورقات مفرقۃ (کشاف) (آیت) ” تبدونھا “۔ یعنی ظاہر کرتے ہو اس کتاب الہی کے بعض حصوں کو اپنی مصلحتوں کے موافق پاکر۔ (آیت) ” تخفون کثیر ا “ اس کتاب بہت سے احکام کو چھپا جاتے ہو، جنہیں اپنے مصالح کے خلاف پاتے ہو (آیت) ” علمتم مالم تعلموا “۔ تمہیں تعلیم دی گئی اسی کتاب کے ذریعہ سے ان حقائق کی جن سے تم ناواقف تھے (آیت) ” انتم ولا ابآؤ کم “۔ نسلوں پر نسلیں اور صدیوں پر صدیاں گزرتی چلی گئیں اور تمہیں اپنی بشری کوششوں سے ان حقائق کا علم نہ ہوسکا۔ (آیت) ” قل اللہ “۔ اللہ ہی نے یہ سب کچھ کیا۔ اور وہی آج بھی سب کچھ کر ڈالنے پر قادر ہے۔
Ayah 6:92135 ۔ یعنی ساری دنیا کو، (آیت) ” مبرک “۔ پہلی صفت قرآن مجید کی یہ ارشاد ہوئی کہ یہ ایک مبارک کتاب ہے۔ اس سے خلق جتنا چاہے۔ بہ قدر اپنے ظرف وہمت کے استفادہ کرے۔ ای کثیر المنافع والفوائد (کشاف) قال اھل المعانی کتاب مبارک ای کثیر خیرہ دائم برکتہ ومنفعتہ یشر بالثواب والمغفرۃ ویزجرعن القبیح والمعصیۃ (کبیر) فخررازی (رح) اس آیت کے ذیل میں جو اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہیں وہ بجنسہ نقل ہونے کے قابل ہے۔ یقول مصنف ھذا الکتاب محمد بن عمر الرازی وانا قدنقلت انواعا من العلوم النقلیۃ والعقلیۃ فلم یحصل لی بسبب شیء من العلوم من انواع السعادات فی الدین والدنیا مثل ما حصل بسبب خدمۃ ھذا العلم (کبیر) (اس کتاب کا مصنف محمد بن عمر رازی (رح) کہتا ہے کہ میں نے بہت سے علوم حاصل کیے نقلی بھی اور عقلی بھی لیکن کسی علم سے بھی مجھے دین ودنیا میں وہ خیر وسعادت نہ محسوس ہوئی جو اس علم (قرآن) کی خدمت سے حاصل ہوئی) (آیت) ” مصدق الذی بین یدیہ “۔ دوسری صفت یہ بیان ہوئی کہ وہ اپنے سے سابق ہر وحی اور ہر رسالت کی تصدیق کرتی ہے۔ (آیت) ” ولتنذر ام القری “۔ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اہل یہاں محذوف ہے اور (آیت) ” ام القری “۔ اس پر سب کا اتفاق ہے کہ اس سے اشارہ شہر مکہ کی جانب ہے۔ اتفقوا علی ان ھھنا محذوفا والتقدیر ولتنذر اھل القری واتفقوا علی ان ام القریھی مکۃ (کبیر) اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ مکہ کا یہ نام (آیت) ” ام القری “۔ (جس کے لفظی معنی بستیوں کے مرکز کے ہیں) پڑا کیوں ؟ بعض نے کہا کہ اس لئے کہ ساری اقلیموں کی روحانی پرورش کا سامان یہیں سے ہوتا ہے بعض نے کہا کہ اس لئے کہ قدیم جغرافیہ کے لحاظ سے یہ زمین کے عین وسط میں واقع تھا۔ کسی نے کہا اس لیے کہ اس وقت حجاز خصوصا اس کا یہ شہر دنیا کی تہذیبوں کا سنگم تھا، یعنی اس کے ایک بازو میں مصری، رومی، یونانی تہذیب تھی، اور دوسرے بازو میں کلدانی، ایرانی اور ہندی تمدن۔ کسی نے کہا کہ اس لیے کہ آج بھی دنیا کے تین بڑے براعظموں ایشیا، افریقہ، یورپ کا سر راہہ عین ساحل حجاز سے پھوٹتا ہے، ہوسکتا ہے کہ یہ سب کے سب اسباب صحیح ہوں۔ (آیت) ” ومن حولھا “۔ جب مکہ معظمہ ناف زمین یا مرکزبلاد قرار پایا تو اس کے ہر طرف آبادی جہاں تک بھی پھیلی ہوگی سب من حولھاہی کے تحت میں آئے گی۔ یعنی جمیع الافاق (قرطبی) ای اھل الشرق والغرب (مدارک وبیضاوی) یتاول جمیع البلاد والقری المحیطۃ بھا فیدخل فیہ جمیع بلاد العالم (کبیر) من اھل المدر والوبرفی المشارق والمغارب لعموم بعثتہ ﷺ (روح)
136 ۔ یعنی اعتقاد صحیح کے ساتھ ساتھ عمل صحیح میں بھی بختہ ومستقیم ہوجاتے ہیں۔ صلوۃ یہاں بہ طور جملہ عبادات کے قائم مقام کے ہے، محققین نے کہا ہے کہ آیت سے صلوۃ کی انتہائی اہمیت واشرفیت ظاہر ہوتی ہے کہ اسے گویا ایمان کے ہم رتبہ قرار دے دیا گیا ہے۔ المقصود منہ التنبیہ علی ان الصلوۃ اشرف العبادات بعدالایمان باللہ واعظمھا خطرا الاتری انہ لم یقع اسم الایمان علی شیء من العبادات الظاہرۃ الا علی الصلوۃ (کبیر) (آیت) ” والذین یؤمنون بالاخرۃ یؤمنون بہ “۔ بہ، کی ضمیر قرآن مجید کی جانب ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ خوف آخرت رکھتے ہیں وہ مؤاخذۂ اخروی کے ڈر سے پوری ذمہ داری اور اہتمام کے ساتھ حق کی تلاش وطلب میں رہتے ہیں۔ اور اس لیے قرآن کی بھی صداقت وحقانیت کے قائل ہوجاتے ہیں۔ ذلک ان اصل الدین خوف العاقبۃ فمن لم یزل بہ الخوف حتی یؤمن (کشاف) الذی یؤمن بالاخرۃ ھو الذی بالوعد والوعید والثواب والعقاب ومن کان کذلک فانہ یعظم رغبتہ فی تحصیل الثواب ورھبتہ عن حلول العقاب ویبالغ فی النظر والتامل فی دلائل التوحید والنبوۃ فیصل الی العلم والایمان (کبیر)
Ayah 6:93137 ۔ رسول اللہ ﷺ کے معاصرین میں نزول وحی کے طویل عرصہ کے زمانہ میں بعض ایسے بھی بدبخت تھے جنہوں نے یہ کہنا شروع کردیا تھا کہ ایسا کلام تو ہم بھی نازل کرسکتے ہیں۔ حدیث وسیر کی کتابوں میں ان کے نام نضر بن حارث اور عبداللہ بن سعد بن ابی سرح منقول ہوئے ہیں۔ والمراد عبداللہ بن ابی سرح الذی کان یکتب الوحی لرسول اللہ ﷺ ثم ارتد ولحق بالمشرکین (قرطبی) عن عکرمۃ ان ہذہ الایۃ نزلت فی النضربن الحارث (قرطبی) یہ عبداللہ بن ابی سرح وہی ہیں جو حضرت عثمان ؓ کے رضاعی بھائی اور رسول اللہ ﷺ کے کاتب وحی تھے، کتابت وحی ہی کے سلسلہ میں مرتد ہو کر مشرکوں سے جاملے، ایک مدت تک مرتد ومباح الدم رہنے کے بعد فتح مکہ کے دن اپنے واجب القتل ہونے کی خبر سن کر روپوش ہوگئے، پھر حضرت عثمان ؓ کی سفارش کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس وقت سے پھر پختہ مسلمان ہوگئے، پھر بڑے بڑے کارنامہ ان کے ہاتھ سے انجام پائے، ان میں سے فتح مصر و تسخیر نوبیہ (موجودہ حبشہ) ہیں۔ وفات اپنی حسب دعاعین نماز میں فجر کا سلام پھیرتے وقت پائی ؓ (آیت) ” افتری علی اللہ کذبا “۔ مثلا کوئی اسی کا قائل ہوجائے کہ خدا بندوں سے کبھی کوئی مخاطبہ ومکالمہ کرتاہی نہیں۔ (آیت) ” قال اوحی الی ولم یوح الیہ شیء “۔ اس کے تحت میں تمام جھوٹے مدعیان نبوت آگئے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ کوئی شخص کوئی خواب تراشے یا کسی واردوالہام کا ذب کا دعوی کرے یا اپنے ادہام وخیالات کو فیض غیبی کہے وہ بھی اسی ضمن میں آجاتے ہیں۔ بعض فقہاء ومفسرین نے کہا ہے کہ جو فقہ وسنن اور آثار سلف سے اپنے کو مستغنی سمجھ کر خود رائی اختیار کرتا ہے کہ میرے رائے فلاں مسئلہ میں یہ ہے اور عام احکام عوام کے لیے ہیں، مجھ جیسے خواص کیلئے نہیں، وہ بھی اسی وعید کے تحت میں آجاتا ہے۔ ومن ھذا النمظ من اعرض عن الفقہ والسنن وما کان علیہ السلف من السنن فیقول وقع فی خاطری کذا اواخبرنی قلبی بکذا (قرطبی)
138 ۔ (جنہیں سو سو طرح بچاتے پھرتے ہو) یہ کافر معاند کے اہوال موت کا بیان ہورہا ہے (آیت) ” اذا الظلمون “۔ ظالم سے مراد اس سیاق میں ہر قسم کے کافر ہیں خصوصا ان تینوں اقوال میں سے جو یہاں نقل ہوئے کسی کے بھی قاء ل ہوں۔ المراد بالظالمین ما یشمل الانواع الثلاثۃ من الفتراء (روح) (آیت) ” الملئکۃ “۔ مراد ہے فرشتوں کی جنس یا ملک الموت کے اعوان وانصار۔ (آیت) ” اخرجوا انفسکم “۔ یہ بہ طور امر نہیں بہ طور زجر وتعریض ہے، کافروں کی شداید نزع کو اور بڑھانے کے لیے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ جان تو فرشتہ نکال رہے ہوں گے، اپنی جان خود نکالنا انسان کا کام نہیں۔ لیس بامر بل ھو وعید و تقریع کقلول القائل امض الان لتری مایحل بک (کبیر) (آیت) ” اخرجوا انفسکم “۔ سے یہ بھی صاف ظاہر ہورہا ہے کہ انسان کی جان یا روح اس کے جسم سے الگ یا مغایر ایک چیز ہے۔ ھذا یدل علی ان النفس مغائرۃ اللاجساد (کبیر)
139 ۔ (اور اپنی عقل و رائے کو خدائی قانون کے مقابلہ میں پیش کرتے رہتے تھے) (آیت) ” عذاب الھون ‘۔ اور چند مقامات کی طرح یہاں بھی یہ تصریح سے بیان کردیا کہ آخرت کے اس عذاب میں جسمانی آزار اور سختیوں کے ساتھ توہین ورسوائی کا جزء بھی پوری طرح شامل ہوگا، دنیا کے استکبار کا نتیجہ آخرت میں تفضیح ورسوائی کی صورت میں ظاہر ہونا ہی تھا۔ المراد منہ انہ تعالیٰ جمع ھناک بین الایلام وبین الاھانۃ (کبیر)
Ayah 6:94140 ۔ یہ سارا مخاطبہ کافروں سے حشر کے دن ہوگا (آیت) ” لقد جئتمونا فرادی “۔ اب تمہارے ساتھ نہ وہ جتھے اور پارٹیاں ہیں نہ بڑے بڑے لاؤ لشکر جن پر تمہیں گھمنڈ رہا کرتا تھا، اور نہ خود تمہارے پاس کوئی لباس یا وردی ہے، خالی خولی اسی طرح آئے ہو، جس طرح دنیا میں پیدا ہوئے تھے، والمعنی جئتمونا واحد واحدا کل واحدمنکم منفردا بلااھل ولا مال ولا ولد ولا نصر ممن کان یصاحبکم فی الدنیاولم ینفعکم ما عبدتم من دون اللہ (قرطبی) ای منفردین عن الاعوان والاوثان التی زعمتم انما شفعاء کم وعن الاموال ولا ولاد وسائر ما اثرتموھا من الدنیا (روح) (آیت) ” وترکتم ما خولنکم ورآء ظھورکم “۔ مال و دولت اور دنیوی علوم وفنون وصنائع جن پر دنیا میں تم بھولے رہتے تھے، وہ سب تم کو وہیں چھوڑ آنا تھا اور آخرت میں ان میں کوئی چیز کچھ کام نہ آئی۔ (آیت) ” شفآء کم۔۔۔ شرکوا “۔ وہ تمہارے خیالی دیوتا اور بزرگ جن کے متعلق تمہیں یہ دعوی تھا کہ وہ اپنے دخل و تصرف سے تمہیں ہمارے مواخذہ عدل سے بچالیں گے، وہ سب کدھر غائب ہوگئے۔ یہ مستقل شفعاء کا عقیدہ یہود اہل توحید تک میں گھس گیا تھا اور مسیحیت کی تو بنیاد ہی کہنا چاہیے کہ کفارہ وشفاعت کے عقائد پر ہے۔
Ayah 6:95141 ۔ مطلب یہ ہوا کہ جمادات، نباتات، حیوانات ہر صفت موجودات کا نظام تکوینی وتخلیقی سارے کا سارا اسی کے ہاتھ میں ہے اور چھوٹی بڑی ہر چیز کا دارومدار اسی پر ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی دیوی دیوتا کی طرف متوجہ ہونا، کسی مشرکانہ نظریہ کو یا وہمیہ کو قابل التفات سمجھنا کس درجہ حمق وبے دانشی ہے۔ (آیت) ” ان اللہ فالق الحب والنوی “۔ نباتات کا خدا کوئی اور دیوی دیوتا نہیں جیسا کہ احمق مشرک قوموں نے فرض کرلیا ہے۔ نہ یہ ہے کہ نباتات میں روئیدگی از خود ہوجاتی ہے۔ ہر بیج ہر گٹھلی میں پھٹنے پھوٹنے کی صلاحیت پیدا کرنا پھر وقت مناسب پر اس صلاحیت کو فعلیت میں لانا یہ سب کام اسی پروردگار عالم کا ہے۔ (آیت) ” یخرج الحی من المیت و مخرج المیت من الحی “۔ بےجان سے جاندار کو نکالنے کی مثال جیسے انڈے سے مرغی یا نطفہ سے انسان، جاندار سے بےجان کو نکالنے کی مثال جیسے مرغی سے انڈا یا انسان سے نطفہ۔ اوپر مثال عالم نباتات کی آچکی یہ ذکر جمادات وحیوانات کا ہورہا ہے۔