23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 23:79

وَ هُوَ الَّذِیْ ذَرَاَكُمْ فِی الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 23:79 in the Quran reader

اور وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے تم کو زمین پر پھیلا رکھا ہے اور تم (سب) اسی کے پاس اکھٹے کئے جاؤ گے،75۔

75۔ (قیامت میں) اس میں اشارہ ادھر آگیا کہ اس وقت اس کفران نعمت کی حقیقت معلوم ہوگی۔
Ayah 23:80

وَ هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ وَ لَهُ اخْتِلَافُ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 23:80 in the Quran reader

اور وہی ہے جو جلاتا ہے اور مارتا ہے اور اسی کے بس میں ہے رات اور دن کا الٹ پھیر سو کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟ ،76۔

76۔ (اور اتنی موٹی بات بھی نہیں سمجھتے ؟ ) مطلب یہ ہے کہ ان ساری قوتوں کا مرجع ومنبع تو وہی ایک ذات ہے یہ سب دلائل و شواہد اس کی توحید کے ہیں، پھر تم پر کیا حماقت سوار ہے کہ تم متفرق ومتعدد دیویوں، دیوتاؤں کے قائل ہو ! (آیت) ” یحی۔ یمیت ...... لہ ...... والنھار “۔ زندہ کرنے اور رکھنے، ہلاک کرنے اور سارے تصرفات تکوینی سب اسی مالک واحد وخود مختار کے ہاتھ میں ہیں۔
Ayahs 23:81–83

بَلْ قَالُوْا مِثْلَ مَا قَالَ الْاَوَّلُوْنَ Open ayah 23:81 in the Quran reader

نہیں بلکہ یہ لوگ ویسی ہی بات کہتے ہیں جیسے الگے (کافر) کہتے آئے

قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ Open ayah 23:82 in the Quran reader

کہتے ہیں کہ جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا ہم پھر سے اٹھائے جائیں گے ؟

لَقَدْ وُعِدْنَا نَحْنُ وَ اٰبَآؤُنَا هٰذَا مِنْ قَبْلُ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 23:83 in the Quran reader

یہ وعدہ تو ہم سے اوہمارے بڑوں سے پہلے ہی سے ہوتا آیا ہے یہ کچھ بھی نہیں ہے بجز اگلوں کی بےسند باتوں کے،77۔

77۔ جزاوسزا، حشر ونشر سے انکار کوئی بیسویں صدی کی نئی روشن خیالی نہیں یہ قدیم گمراہی تو اتنی بوڑھی ہے کہ خود ابلیس کی ہم سن ہے۔
Ayahs 23:84–85

قُلْ لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:84 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ (اچھا) زمین اور اس پر جو (رہتے بستے) ہیں کس کے ہیں اگر تم جانتے ہو

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 23:85 in the Quran reader

یہ ضرور یہ کہیں گے کہ اللہ کے ہیں تو کہیے کہ پھر کیوں نہیں غور کرتے ہو،78۔

78۔ (اور کیوں نہیں یہ شرک سے دستبردار ہوجاتے ہیں) اللہ یعنی ایک رب الارباب کے وجود سے انکار کرکے چند خداؤں کا ماننا دنیا میں شاذ ونادر ہی رہا ہے۔ ورنہ عموما شرک کے معنی تو بس یہ رہے ہیں کہ ایک طرف اقرار ایک رب الارباب کا بھی ضاری ہے اور دوسری طرف کائنات کو الگ الگ شعبوں میں تقسیم کرکے ایک ایک شعبہ کا ایک ایک مستقل خدا یا دیوتا مانا جاتا رہا ہے۔ زمین کا دیوتا الگ۔ آسمان کا الگ۔ ہوا کا دیوتا الگ۔ پانی کا دیوتا الگ۔ وقس علی ھذا۔ قرآن گرفت اسی عام وعالمگیر مشرکانہ ذہنیت پر کررہا ہے۔
Ayahs 23:86–87

قُلْ مَنْ رَّبُّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ وَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ Open ayah 23:86 in the Quran reader

آپ کہیے کہ (اچھا) سات آسمانوں کا مالک اور عالی شان عرش کا مالک کون ہے ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 23:87 in the Quran reader

تو ضرور وہ یہی جواب دیں گے کہ (یہ سب) اللہ کا ہے آپ کہیے کہ پھر تم کیوں نہیں ڈرتے ؟ ،79۔

79۔ (اور اس کی قدرت کامل اور توحید کا انکار کیے جاتے ہو ! ) جاہلی مذہبوں میں ایک بڑی جہالت یہ پھیلی رہی ہے کہ توحید کے اجمالی اقرار واعتراف کے بعد بھی مقتضیات توحید ومطالبات توحید پر ذرا سا بھی غور و توجہ کیے بغیر شرک بھی ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔
Ayahs 23:88–89

قُلْ مَنْۢ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُوَ یُجِیْرُ وَ لَا یُجَارُ عَلَیْهِ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:88 in the Quran reader

آپ کہیے وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار ہے اور وہ پناہ دیتا ہے اور کوئی اس کے مقابلہ میں پناہ نہیں دے سکتا اگر تم جانتے ہو ؟

سَیَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى تُسْحَرُوْنَ Open ayah 23:89 in the Quran reader

وہ ضرور یہی کہیں گے کہ یہ سب (صفت) اللہ ہی کی ہے۔ ؛ آپ کہیے کہ پھر تمہیں کیسا خبط ہورہا ہے ؟ ،80۔

80۔ (کہ مقدمات توحید تو تمہیں سب تسلیم ہیں اور اس کے قدرتی اور پھر لازمی نتیجہ سے نکلے جاتے ہو ! ) (آیت) ” وھو یجیر “۔ یعنی وہ جسے چاہتا ہے اپنی پناہ میں لے آتا ہے۔
Ayahs 23:90–91

بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 23:90 in the Quran reader

اصل بات یہ ہے کہ ہم نے انہیں حق بات پہنچا دی ہیں اور یقیناً یہ لوگ جھوٹے ہیں

مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ Open ayah 23:91 in the Quran reader

اللہ نے کسی کو بھی بیٹا نہیں قرار دیا ہے اور نہ اس کے ساتھ کوئی اور معبود ہے اگر ایسا ہوتا تو چڑھائی کرتا اللہ ان باتوں سے پا ک ہے جو یہ اس کی نسبت بیان کرتے ہیں،81۔

81۔ مشرک قوموں کی خرافی روایات (میتھالوجی) ان قصوں سے بھری پڑی ہیں کہ فلاں دیوتا اور فلاں دیوتا میں یوں جنگ ہوئی، اس نے اس پر یوں چڑھائی کی۔ وہ اس پر یوں غالب آیا۔ قرآن نے ایک مختصر سے بلیغ فقرہ میں ان لوگوں کی دیومالا کا گویا ست کھینچ کر رکھ دیا ہے۔ (آیت) ” مااتخذ اللہ من ولد “۔ اللہ کے نہ کوئی بیٹا ہے۔ جیسا کہ بدنصیب مسیحیوں نے سمجھ رکھا ہے۔ اور نہ اس کے کوئی بیٹی ہے جیسا کہ بدبخت مشرکوں نے گڑھ لیا ہے۔ (آیت) ” وما کان ....... بعض “۔ استدلال کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر معبودوں میں تعدد ہوتا تو یہ نظام عالم پارہ پارہ ہو کر رہ جاتا۔ لیکن ایسا نہ ہونا بدیہی ہے اس لیے اس مفروضہ پر جمے رہنا گویا بداہت کا انکار کیے جانا ہے۔
Ayahs 23:92–94

عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 23:92 in the Quran reader

وہ جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کا غرض ان لوگوں کے شرک سے بالاتر ہے

قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ Open ayah 23:93 in the Quran reader

آپ کہیے کہ اے میرے پیروردگار اگر آپ مجھے وہ (عذاب) دکھادیں جس کا وعدہ ان سے کیا جارہا ہے

رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِیْ فِی الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:94 in the Quran reader

تو اے میرے پروردگار مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو،82۔

82۔ یہ تعلیم ہے دیاوآداب دعا کی۔ مطلب یہ ہے کہ ہر مومن کو اللہ سے یہی دعا کرتے رہنا چاہیے کہ ” اردگرد کی پھیلی ہوئی برائیوں سے جب عذاب نازل ہونے لگے تو مجھے محفوظ ومستثنی کردیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ کہیں میں بھی اسی لپیٹ میں آجاؤں۔ “ اور یہ مقام ہے کمال عبدیت کا۔ پیغمبر یہاں محض واسطہ ہیں۔ مقصود امت کو تعلیم دینا ہے۔ ظاہر ہے کہ پیغمبر کے لیے محل عذاب ہونیکا تو احتمال بھی نہیں۔ ” دعا اس وجہ سے نہیں ہے کہ (نعوذ باللہ) ایسا امر محتمل ہے بلکہ اظہار ہے تہویل عذاب کا کہ جو محل اس کا محتمل ہی نہیں ہے۔ جب وہاں امر ہے استعاذہ کا۔ تو جو مستحق ہیں ان کو تو بہت ہی ڈرنا چاہیے۔ اور صحت سوال موقوف نہیں احتمال وقوع پر۔ بلکہ مقدوریت بھی کافی ہے “۔ (تھانوی (رح)
Ayah 23:95

وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِیَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ Open ayah 23:95 in the Quran reader

اور ہم بیشک اس پر قادر ہیں کہ ہم جو وعدہ ان سے کررہے ہیں وہ آپ کو بھی دکھا دیں،83۔

83۔ یعنی اللہ تو اس پر بھی قادر ہے کہ آپ کی زندگی ہی میں عذاب ان پر لے آئے۔
Ayah 23:96

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ Open ayah 23:96 in the Quran reader

) ان کی) بدی کا دفعیہ ایسے برتاؤ سے کیجیے جو بہت ہی اچھا ہو،84۔ ہم خوب جانتے ہیں جو یہ (آپ کی نسبت) کہا کرتے ہیں،85۔

84۔ (اور ان کی شرارتوں، خباثتوں کا انتقام اپنی طرف سے نہ لیجئے کیا عجب کہ دعوت واصلاح کے حق میں آپ کی یہی بےنفسی مفید ہوجائے) انتقام اپنے نفس کے لیے بھی لینا بالکل جائز ہے۔ لیکن پیغمبر کا مقام رخصت کا نہیں عزیمت کا ہوتا ہے اسے تعلیم اسی بلند مقام پر رہنے کی دی گئی ہے۔ یہ حکم اس وقت تک کے لیے ہے جب تک عذاب موعود نہ آئے۔ جہاد و قتال کا حکم، حقوق دین کے تحفظ کے لیے ہے اور یہ نرمی کی تعلیم حقوق نفس کے سلسلہ میں ہے۔ دونوں کا فرق خوب ملحوظ رہے۔ 85۔ (بس اس کا استحضار رہے۔ تو آپ کو انتقام لینے کی ضرورت ہی کیا باقی رہ جاتی ہے ہم خود ہی ہر سزا کے لیے کافی ہیں)
Ayah 23:97

وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ Open ayah 23:97 in the Quran reader

اور آپ کہیے کہ اے میرے پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں شیطانوں کے وسوسوں سے،86۔

86۔ (کہ میں ان کافروں سے خلاف مصلحت مقابلہ پر آمادہ ہوجاؤں) پیغمبر کے لیے اس کا تو احتمال ہی نہیں کہ شیطان انہیں کسی معصیت پر لاسکتا ہے۔ بس یہی ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی ترغیبات سے کسی امر خلاف مصلحت پر آمادہ کردے۔ یہاں اس سے بھی پناہ مانگنے کی دعا ارشاد ہوگئی ہے۔ عارفین نے کہا ہے کہ وسوسوں کا امکان جب منتہیوں کے لیے ہے تو مبتدی کہاں بچ سکتے ہیں۔
Ayah 23:98

وَ اَعُوْذُ بِكَ رَبِّ اَنْ یَّحْضُرُوْنِ Open ayah 23:98 in the Quran reader

اور اے میرے پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ (یعنی شیطان) میرے پاس بھی آئیں،87۔

87۔ وسوسہ ڈالنا الگ رہا شیطان تو پیغمبر کے پاس بھی نہیں پھٹکنے پاتے۔ اور یہی حاصل ہے اس دعاء استعاذہ کا۔
Ayah 23:99

حَتّٰۤى اِذَا جَآءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِۙ Open ayah 23:99 in the Quran reader

یہ کافر اپنی بکواس سے باز نہیں آتے) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی پر موت آکھڑی ہوتی ہے،88۔ (اس وقت) کہتا ہے کہ میرے پروردگار مجھے پھر واپس بھیج دے

88۔ (آیت) ” حتی “۔ اظہار غایت کے لیے ہے۔ یہاں اس کا تعلق (آیت) ” یصفون سے ہے، درمیانی آیت بہ طور جملہ معترضہ کے ہے۔ (آیت) ” یتعلق بیصفون اے لایزالون علی سوء الذکر الی ھذا الوقت والایۃ فاصلۃ بینھما علی وجہ الاعتراض والتاکید للاغضاء منھم (کشاف)
Ayah 23:100

لَعَلِّیْۤ اَعْمَلُ صَالِحًا فِیْمَا تَرَكْتُ كَلَّا١ؕ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَآئِلُهَا١ؕ وَ مِنْ وَّرَآئِهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 23:100 in the Quran reader

تاکہ جس (دنیا) کو چھوڑ کر آیا ہوں اس میں (پھر جاکر) نیک کام کروں ہرگز نہیں یہ ایک بات ہی ہے جسے وہ کہے جاراہا ہے،89۔ اور ان کے آگے ایک آڑ ہے (ان کے) دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک،90۔

89۔ اس بدبخت کی یہ تمنا ہرگز پوری نہ ہوگی اور نہ اسے پورا ہونا چاہیے تھا۔ دنیا میں اس پر شامت اسی بنا پر سوار رہی کہ وہ غیب کو بھول گیا۔ یہی غیبیت جب پھر اس پر طاری ہوگی تو پھر وہ آخرت و احکام آخرت کو اسی طرح بھول جائے گا۔ (آیت) ” ارجعون “۔ صیغہ جمع کا ہے۔ واحد کے لیے یہ جمع تعظیمی ہے۔ خطاب اللہ بلفظ الجمع للتعظیم (کشاف) 90۔ موت کے بعد روح انسانی ایک درمیانی عالم میں رہتی ہے۔ اور وقت حشر تک رہے گی، اسی کا اصطلاحی نام عالم برزخ ہے۔
Ayah 23:101

فَاِذَا نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَلَاۤ اَنْسَابَ بَیْنَهُمْ یَوْمَئِذٍ وَّ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 23:101 in the Quran reader

پھر جب صور پھونکا جائے گا تو اس روز نہ ان کے درمیان رشتے ناطے رہیں گے اور نہ کوئی کسی کو پوچھے گا،91۔

91۔ جب قیامت واقع ہوگی تو اس کا ہول اور عذاب اور بھی شدید تر ہوگا۔ اس روز دنیا کے رشتے ناطے، دوستی، تعارف کچھ کام نہ آئے گا، بعض محققین صوفیہ نے کہا ہے کہ یہ وعید کافروں کے حق میں ہے اور وعید سے متعلق یہ قاعدہ مقرر ہوچکا ہے کہ مفہوم مخالف معتبر ہوتا ہے۔ اس لیے نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اہل ایمان کو نسبت اپنے اپنے بزرگوں کے ساتھ نافع ہوگی۔ انشاء اللہ۔
Ayah 23:102

فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 23:102 in the Quran reader

البتہ جس کسی کا پلہ بھاری ہوگا تو ایسے ہی لوگ تو کامیاب ہوں گے،92۔

92۔ اس روز کام آنے والی چیز صرف ایمان ہوگی، اور اہل ایمان کی شناخت یہ ہوگی کہ ان کے عقائد و اعمال کا پلہ میزان عدل میں بھاری ہوگا۔
Ayahs 23:103–105

وَ مَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فِیْ جَهَنَّمَ خٰلِدُوْنَۚ Open ayah 23:103 in the Quran reader

اور جس کسی کا پلہ ہلکا ہوگا سو یہ لوگ وہ ہوں گے جنہوں نے اپنا نقصان کرلیا اور جہنم میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے

تَلْفَحُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ وَ هُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ Open ayah 23:104 in the Quran reader

ان کے چہروں کو آگ جھلستی ہوگی اور اس میں ان کے منہ بگڑے ہوئے ہوں گے

اَلَمْ تَكُنْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 23:105 in the Quran reader

کیوں کیا میری آیتیں تم کر پڑھ کر نہیں سنائی جاتی تھیں جنہیں جھٹلایا کرتے تھے ؟ ،93۔

93۔ یہ ان دوزخیوں سے اللہ تعالیٰ بلاواسطہ یا بہ واسطہ ارشاد کرے گا۔
Ayahs 23:106–107

قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا وَ كُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْنَ Open ayah 23:106 in the Quran reader

وہ کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہماری بدبختی نے ہم کو گھیر لیا تھا اور ہم گمراہ لوگ تھے

رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 23:107 in the Quran reader

اے ہمارے پروردگار ہم کو اس (جہنم) سے نکال دے اب اگر ہم پھر ایسا کریں تو بیشک ہم (پورے) قصور وار ہوں گے،94۔

94۔ (اس وقت ہمیں سزا دے لینا، لیکن اب تو چھوڑ ہی دے) وہاں پہنچ کر بڑے سے بڑا منکر اور مکذب بھی اقرار و اعتراف و ندامت و حسرت پر اپنے کو مجبور پائے گا۔
Ayahs 23:108–110

قَالَ اخْسَئُوْا فِیْهَا وَ لَا تُكَلِّمُوْنِ Open ayah 23:108 in the Quran reader

ارشاد ہوگا دھتکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے بات مت کرو

اِنَّهٗ كَانَ فَرِیْقٌ مِّنْ عِبَادِیْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَۚۖ Open ayah 23:109 in the Quran reader

ایک گروہ ایسا بھی تو میرے بندوں میں سے تھا جو (ہم سے) کہا کرتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار ہم ایمان لے آئے سو ہم کو بخش دے اور ہم پر رحم کر اور تو تو سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر ہے

فَاتَّخَذْتُمُوْهُمْ سِخْرِیًّا حَتّٰۤى اَنْسَوْكُمْ ذِكْرِیْ وَ كُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ Open ayah 23:110 in the Quran reader

تو تم نے انہیں تمسخر پر رکھ لیا تھا یہاں تک کہ (اس مشغلہ نے) تم کو ہماری یاد بھی بھلا دی اور تم ان سے ہنسی کرتے رہے،95۔

95۔ کتنی صحیح، موثر وعبرتناک تصویر ہے ! آج کتنے ہی منکر و کافر ہی نہیں، نام کے مسلمان بھی اپنی ” روشن خیالی “ کے زعم میں اسی طرح کا مضحکہ بیچارے سیدھے سادھے دیندار مسلمانوں سے برابر کرتے رہتے ہیں ! (آیت) ” انہ “۔ کلمہ تعلیل کا ہے۔ اس سے محققین صوفیہ نے یہ نکالا ہے کہ اولیاء اللہ کی بڑی شان ہوتی ہے۔ اور مقبولین سے گستاخی و تمسخر کا انجام نار ہے۔ (آیت) ” اخسؤا فیھا “۔ اخساء کا ترجمہ اردو کے کسی ایک لفظ سے دشوار ہے۔ عربی میں یہ لفظ کتے کے دھتکار نے کے موقع پر آتا ہے۔ اے ابعدوا فیھا کما یقال للکلب اذا طرد اخساء (معالم)
Ayah 23:111

اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ Open ayah 23:111 in the Quran reader

میں نے آج ان کو ان کے صبر کا بدلہ یہ دیا کہ وہی (پوری طرح) کامیاب نکلے،96۔

96۔ (اور تم اپنی روشن خیالی پر گھمنڈ رکھنے والے اس ناکامی کے عذاب میں گرفتار نکلے۔ ان غریبوں کا کیا بگڑا جو تمہارے تختہ مشق تھے۔ چند روزہ کلفت کو صبر کے ساتھ برداشت کرلے گئے۔ مصیبت تو تمہارے ہی حصہ میں آئی) ” مطلب جواب کا یہ ہوا کہ تمہارا قصور اس قابل نہیں کہ سزا کے وقت اقرار کرنے سے معاف کردیاجائے۔ کیونکہ تم نے ایسا معاملہ کیا جس سے ہمارے حقوق کا بھی اتلاف ہوا اور حقوق العباد کا بھی۔ اور عباد بھی کیسے، ہمارے مقبول ومحبوب، جو ہم سے خصوصیت خاصہ رکھتے تھے۔ کیونکہ ان کو سخر یہ بنانے میں ان کی ایذاء کہ اضاعۃ حق العبد ہے اور تکذیب حق جو منشا سخریہ کا ہے کہ اضاعۃ حق اللہ ہے دونوں لازم آئے، بس اس کی سزا کے لیے دوام اور اتمام مناسب ہے۔ اور مومنین کو جزائے فوز دینا منجملہ تمام سزا ہے کفار کے لیے۔ کیونکہ اعداء کی کامیابی سے روحانی تاذی ہوتی ہے “۔ (تھانوی (رح)
Ayahs 23:112–113

قٰلَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ Open ayah 23:112 in the Quran reader

ارشاد ہوگا کہ (اچھا) تم برسوں کے حساب سے کتنی مدت زمین پر رہے ؟

قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ فَسْئَلِ الْعَآدِّیْنَ Open ayah 23:113 in the Quran reader

وہ کہیں گے ہم ایک دن رہے ہوں گے یا دن کا بھی کچھ حصہ سو تو گننے والوں سے پوچھ لے،97۔

97۔ (ہمیں اب کچھ یاد دواد نہیں) یہ جوا اب ان کی زبان سے شدت سراسیمگی اور حواس کی گمشدگی میں ادا ہوگا۔ (آیت) ” العآدین “۔ گننے والوں سے مراد فرشتے لیے گئے ہیں، کہ ان کے پاس بندوں کی ہر چیز کا حساب و کتاب رہتا ہے۔ الملئکۃ الذین یحفظون اعمال بنی ادم ویحصونھا علیھم (ابن کثیر)
Ayah 23:114

قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 23:114 in the Quran reader

ارشاد ہوگا کہ بیشک تم (دنیا میں) تھوڑی ہی مدت رہے کاش تم (اسے) سمجھے رہے ہوتے ! ،98۔

98۔ ارشاد ہوگا کہ یہاں کے طول و دوام کے مقابلہ میں تم دنیا میں بیشک بہت ہی قلیل مدت کے لیے رہے، لیکن کاش تم نے دنیا ہی میں دنیا کے بےثبات اور زودفنا ہونے کا احساس کرلیا ہوتا۔
Ayah 23:115

اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 23:115 in the Quran reader

ہاں تو کیا تمہارا خیال تھا کہ ہم نے تمہیں یوں ہی بلامقصد پیدا کردیا ہے اور تم ہمارے پاس لوٹا کر لائے نہ جاؤ گے ؟ ،99۔

99۔ تمہاری کیسی شدید حماقت تھی کہ تم اپنی تخلیق ہی کا مقصد نہ سمجھے اور اسی کے دلائل کو جھٹلاتے رہے ! گویا جس طرح شمع یا چراغ گل ہوجاتا ہے، ایسے ہی انسانی روح بھی معدوم محض ہوجاتی ہے۔ قرآن اسی خیال باطل کی تردید کرتا ہے۔ اور انسان کی حیات دنیوی کا انجام پیش گاہ الہی میں حاضری بتاتا ہے۔ اسی میں رد آگیا ان باطل مذہبوں کا جو انسان کا انجام فنائے محض سمجھے ہوئے ہیں۔
Ayah 23:116

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِیْمِ Open ayah 23:116 in the Quran reader

سو اللہ (بڑا) عالی شان ہے بادشاہ حقیقی ہے ! اس کے سوا کوئی بھی معبود نہیں عرش بزرگ کا مالک ہے،100۔

100۔ عرش جو مخلوقات میں سب سے بڑی چیز ہے، یاد رہے کہ اللہ اس کا بھی مالک ہے، پروردگار ہے۔ نعوذ باللہ وہ خود کسی آسمان کے ساتھ متحد یا اس کا مترادف نہیں، جیسا کہ بعض ” دانشمندوں “ نے سمجھ رکھا ہے !
Ayah 23:117

وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 23:117 in the Quran reader

اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور خدا کو پکارے حالانکہ اس کے پاس اس پر کوئی دلیل نہیں، سو اس کا حساب اس کے پروردگار کے ہاں ہوگا یقیناً کافروں کو فلاح نہیں ہونے کی،101۔

101۔ (بلکہ وہ ابد الآباد تک عذاب میں مبتلا رہیں گے) (آیت) ” فانما حسابہ عند ربہ “۔ یہاں غافل انسان کے احساس ذمہ داری کو ایک بار پھر بیدار کیا ہے۔ اور یاد دلایا ہے کہ غیر اللہ سے لو لگانا کچھ بھی کام نہ آئے گا، پوری جوابدہی کرنی پڑے گی۔
Ayah 23:118

وَ قُلْ رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 23:118 in the Quran reader

اور آپ کہیے کہ اے میرے پروردگار میری مغفرت کر اور میرے اوپر رحم کر اور تو تور سب رحم کرنے والوں سے بڑھ کر ہے،102۔

102۔ اس الحاح و لجاجت کے ساتھ دعا کرنے کی تعلیم افضل البشر کو مل رہی ہے۔ تو دوسروں کا ذکر ! اللہ اللہ، کتنا زور عبدیت پر، اور کتنی تاکید توحید کی ہے ! (آیت) ’ رب اغفر “۔ رحمت، درجہ طاعات میں رحمت، مراتب نجات میں رحمت۔ وقس علی ہذا۔ غفر ورحمۃ کے درمیان یہ فرق بھی کیا گیا ہے کہ غفر تو گناہوں کو مٹا دیتا، اور خلق کی نگاہ سے انہیں اوجھل کردیتا ہے، اور رحمت اقوال و اعمال میں توفیق خیردیتا ہے۔ الغفر اذا اطلق معناہ محوالذنوب وسترہ عن الناس والرحمۃ معناھا ان یسدوہ ویوفقہ فی الاقوال والافعال (ابن کثیر)