23. Surah Al-Muminoon

المؤمنونThe Believers · 118 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 23:39–41

قَالَ رَبِّ انْصُرْنِیْ بِمَا كَذَّبُوْنِ Open ayah 23:39 in the Quran reader

) پیغمبر نے) کہا اے میرے پروردگار میرا بدلہ لے کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا

قَالَ عَمَّا قَلِیْلٍ لَّیُصْبِحُنَّ نٰدِمِیْنَۚ Open ayah 23:40 in the Quran reader

(اللہ نے) کہا اے میرے پروردگار میرا بدلہ لے کہ انہوں نے مجھے جھٹلایا (اللہ نے) فرمایا عنقریب یہ لوگ پچھتا کر رہیں گے

فَاَخَذَتْهُمُ الصَّیْحَةُ بِالْحَقِّ فَجَعَلْنٰهُمْ غُثَآءً١ۚ فَبُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 23:41 in the Quran reader

چناچہ پھر انہوں نے ایک سخت آواز نے موافق وعدۂ برحق کے آپکڑا تو ہم نے ان کو خس و خاشاک بنادیا،37۔ سو خدا کی مار ظالم لوگوں پر،38۔

37۔ یعنی ان قوموں کو ہلاک وبرباد کرنے کے بعد ان کے مسکنوں تک کو ویران کردیا۔ (آیت) ” بالحق “۔ سے مراد ہے اس صحیح وعدہ کے مطابق جو رسول سے ہوچکا تھا۔ اے بالوعد الصدق الذی وعدہ الرسول (روح) (آیت) ” الصیحۃ “۔ سے مراد آندھی بھی ہوسکتی ہے، زلزلہ بھی۔ غرض عذاب کی ہر صورت۔ (آیت) ” عما “۔ میں عن مرادف ہے بعد کا۔ عن بمعنی بعدھنا (روح) (آیت) ” قلیل “۔ کو زمان قلیل کے معنی میں لیا گیا ہے۔ اے عن زمان قلیل (بیضاوی) 38۔ ظالم سے مراد کافر ومنکر کہیں۔ (آیت) ” بعدا “۔ عربی محاورہ میں یہ اسی موقع پر آتا ہے جیسے اردو میں ” خدا کی مار “
Ayah 23:42

ثُمَّ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قُرُوْنًا اٰخَرِیْنَؕ Open ayah 23:42 in the Quran reader

پھر ہم نے ان کے بعد دوسرے گروہوں کو پیدا کیا،39۔

39۔ (اور یہ مختلف امتیں بھی تکذیب انبیاء کی پاداش میں اپنے اپنے وقت پر ہلاک ہوتی رہیں)
Ayah 23:43

مَا تَسْبِقُ مِنْ اُمَّةٍ اَجَلَهَا وَ مَا یَسْتَاْخِرُوْنَؕ Open ayah 23:43 in the Quran reader

کوئی امت اپنے مقرر وقت سے نہ پیش دستی کرسکتی ہے اور نہ وہ لوگ پیچھے ہٹ سکتے تھے،40۔

40۔ (وقت ہلاکت کے لحاظ سے) یعنی جس قوم کو جس وقت ہلاک ہونا ہی تھا وہ عین وقت معین پر ہلاک ہوئی۔ نہ اس سے ذرا پہلے نہ اس سے ذرا پیچھے۔
Ayah 23:44

ثُمَّ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا تَتْرَا١ؕ كُلَّمَا جَآءَ اُمَّةً رَّسُوْلُهَا كَذَّبُوْهُ فَاَتْبَعْنَا بَعْضَهُمْ بَعْضًا وَّ جَعَلْنٰهُمْ اَحَادِیْثَ١ۚ فَبُعْدًا لِّقَوْمٍ لَّا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 23:44 in the Quran reader

پھر ہم نے اپنے پیغمبروں کو متواتر بھیجا جب کبھی کسی امت کے پاس اس کا پیغمبر آیا انہوں نے جھٹلایا سو ہم نے ایک کے پیچھے ایک کو لگا دیا،41۔ اور ہم نے انہیں کہانیاں بنادیا سو خدا کی مار ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے تھے،42۔

41۔ (ہلاک ہونے میں) یعنی جوں جوں جو قوم اپنے رسول کی تکذیب کی مجرم ہوتی رہی اسی نسبت وترتیب سے وہ ہلاک وبرباد کی جاتی رہی۔ 42۔ یعنی وہ ایسے نیست ونابود ہوئے کہ ان کا نام ونشان بھی باقی نہ رہا۔ بس محض ان کے تذکرے اور قصے رہ گئے کہ لوگ سنیں اور عبرت حاصل کریں۔ اے صاروا یتحدث بھم وبحالھم فی الاھلاک علی سبیل التعجب والاعتبار وضرب المثل بھم (بحر) احادیث جمع ہے احدوثۃ کی۔
Ayahs 23:45–46

ثُمَّ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى وَ اَخَاهُ هٰرُوْنَ١ۙ۬ بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 23:45 in the Quran reader

پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھیجا اپنے احکام اور کھلی دلیل کے ساتھ

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا وَ كَانُوْا قَوْمًا عَالِیْنَۚ Open ayah 23:46 in the Quran reader

فرعون اور اس کے درباریوں کے پاس سو ان لوگوں نے تکبر کیا اور وہ لوگ تھے ہی متکبر،43۔

43۔ قبول حق واتباع ہدایت کی راہ میں بڑا مانع یہی جذبہ خود بینی و استکبار رہا ہے۔ (آیت) ” بایتنا وسلطن مبین “۔ یعنی احکام اور معجزۂ صریح کے ساتھ۔
Ayah 23:47

فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَیْنِ مِثْلِنَا وَ قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ Open ayah 23:47 in the Quran reader

چناچہ وہ بولے کیا ہم اپنے ہی جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں درآنحالیکہ ان کی قوم (بھی) ہمارے زیر حکم ہے،44۔

44۔ یعنی ایک تو یہ دونوں یوں ہی محض بشر ہیں ہمارے ہی جیسے۔ کوئی فوق البشر نہیں، کوئی دیوتا نہیں اور پھر بشر بھی کیسے ایسے پست و حقیر کہ ان کی قوم کی قوم ہماری محکوم و غلام ہے۔ اسے تو آزاد کر اسکے نہیں اور چلے ہیں ہمارے سامنے پیغمبری کا دعوی کرنے ! شامت زدہ قوموں کی ہمیشہ یہ شامت رہی ہے کہ اصل مسئلہ پر خلوئے ذہن کے ساتھ غور ہی نہیں کرتے۔ صحیح تنقیح کو سامنے لاتے ہی نہیں۔ غیر متعلق اور دوسرے مسائل میں الجھ جاتے ہیں۔ (آیت) ” وقومھما لنا عبدون “۔ حکمران ظاہر ہے کہ فرعون تھا نہ کہ اس کی ساری قوم، لیکن وہی نفسیت بشری جو آج پھیلی ہوئی ہے اس وقت بھی تھی، یعنی حکمران قوم کا ایک ایک فرد اپنے کو بھی بجائے خود حکمران سمجھ رہا تھا اور پھر یہاں تو فرعون کے ارکان دربار کا ذکر ہے۔ یہ تو بہرحال اپنے کو حاکم سمجھتے ہی۔ اور اپنی ” محکوم رعایا “۔ کے ایک ایک فرد کو ذلت و حقارت کی نظر سے دیکھتے ہی۔
Ayahs 23:48–49

فَكَذَّبُوْهُمَا فَكَانُوْا مِنَ الْمُهْلَكِیْنَ Open ayah 23:48 in the Quran reader

غرض وہ لوگ ان دونوں کی تکذیب ہی کرتے رہے سو وہ ہلاک ہو کر رہے

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ یَهْتَدُوْنَ Open ayah 23:49 in the Quran reader

اور بالیقین ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی تاکہ وہ لوگ ہدایت پائیں،45۔

45۔ (آیت) ” الکتب “۔ سے مراد ظاہر ہے کہ توریت ہے اور ذکر اب فرعونیوں کی ہلاکت کے بعد اسرائیلیوں کا ہو رہا ہے۔ (آیت) ” لعلھم “۔ ضمیر جمع غائب اسرائیلیوں یا قوم موسیٰ کی جانب ہے، نہ کہ قوم فرعون کی۔ ولا یجوز عود الضمیر الی فرعون وقومہ (بیضاوی)
Ayah 23:50

وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْیَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰیَةً وَّ اٰوَیْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِیْنٍ۠ Open ayah 23:50 in the Quran reader

اور ہم نے ابن مریم اور ان کی والدہ کو ایک بڑا نشان بنایا،46۔

46۔ (اپنی قدرت وصنعت کا، مثلا یہی کہ عیسیٰ مسیح کو باپ کے بلاتوسط پیدا کردیا) (آیت) ” ایۃ “ کی تنوین اظہار عظمت کیلئے ہے۔ اور بڑا نشان محاورۂ قرآنی میں وہ ہے جو معمولات عام سے ہٹ کر ہو، امام رازی (رح) سے فرمایا کہ مریم وابن مریم دوہستیوں کا ذکر لا کر قیاس یہ چاہتا تھا کہ (آیت) ” ایۃ “۔ (واحد) کے بجائے صیغہ تثنیہ ایتین استعمال ہوتا۔ لیکن قرآن مجید نے صیغہ واحد لاکر ادھر اشارہ کردیا کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات مراد نہیں۔ بلکہ کسی ایک ایسے واقعہ کی طرف اشارہ ہے، جس میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ دونوں شریک ہیں اور ایسا عجیب و غریب واقعہ بجز ان کی بےباپ کی ولادت کے اور کوئی نہیں۔ سلسلہ اسرائیلی کے انبیاء کا ذکر یہاں صرف دو بڑے پیغمبروں پر ختم کردیا۔ ایک وہ جو اس امت کے لئے کتاب احکام ودستور شریعت لیکر آیا۔ دوسرا جو اس سلسلہ کا خاتم ہوا۔
Ayah 23:51

یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا١ؕ اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ Open ayah 23:51 in the Quran reader

اور ہم نے ان دونوں کو بلند زمین پر پناہ دی جو ٹھہرنے کے قابل اور شاداب تھی،47۔ اے پیغمبر نفیس کھاؤ اور نیک عمل کرو،48۔ میں خوب جانتا ہوں تمہارے کئے ہوئے کاموں کو

47۔ یہ مقام کون سا تھا ؟ اور واقعہ کب کا ہے ؟ بعض اہل تفسیر ادھرگئے ہیں کہ یہ ذکر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت کا ہے۔ اس وقت حضرت مریم (علیہا السلام) کسی بلند ٹیلہ پر مقیم تھیں۔ اور نیچے چشمہ پر رہا تھا جیسا کہ سورة مریم میں ہے۔ (آیت) ” قدجعل ربک تحتک سر یا “۔ ابن کثیر نے اسی کو ترجیح دی ہے۔ لیکن اکثر محققین کی رائے میں اس سے مراد ملک مصر ہے اور آیت کا تعلق ایک دوسرے قصہ سے ہے حضرت مسیح (علیہ السلام) کی پیدائش کے زمانہ میں ملک شام کا حاکم ہیرو دیس (HEROD) تھا اور وہ نجوم وکہانت کے عروج کا زمانہ تھا۔ انجیل کی روایت ہے کہ اسے نجومیوں سے یہ پتہ چلا کہ اسرائیلیوں کا آیندہ بادشاہ ایک گھر میں تولد ہوگیا ہے۔ اور وہ گھر حضرت مریم (علیہ السلام) کے شوہر یوسف نجار کا تھا۔ اس نے چاہا کہ اس بچہ کو پکڑ کر قتل کرڈالے اور آیندہ کے لئے اندیشہ ہی باقی نہ رہے۔ یوسف اس کے قبل ہی غیبی اطلاع پاکر مع حضرت مریم و عیسیٰ (علیہ السلام) کے وطن چھوڑ کر مصر کے لئے روانہ ہوگئے۔” خداوند کے فرشتہ نے یوسف کو خود میں دکھائی دے کر کہا کہ اٹھ بچہ اور اس کی ماں کو ساتھ لیکر مصر کو بھاگ جا۔ اور جب تک میں تجھ سے نہ کہوں وہیں رہنا۔ کیونکہ ہیرودیس اس بچہ کو تلاش کرنے کو ہے تاکہ اسے ہلاک کردے پس وہ اٹھا اور رات کے وقت بچہ اور اس کی ماں کو ساتھ لیکر مصر کو روانہ ہوگیا۔ اور ہیرودیس کے مرنے تک وہیں رہا۔ “ (متی 2: 13، 14) (آیت) ” اوینھما “۔ سے بھی اشارہ یہی نکلتا ہے کہ موقع کوئی خطرہ کا تھا جس سے مریم (علیہ السلام) کا بچایا گیا۔ اور مفسرین کا بھی ایک بڑا گروہ اسی طرف گیا ہے۔ لیس الربی الابمصر (ابن کثیر۔ عن ابن زید) وروی عن وھب بن منبہ نحوھذا (ابن کثیر) قال الکلبی وابن زیدھی بمصر (کبیر) (آیت) ” ربوۃ “۔ کے لفظی معنی ٹیلہ یا بلند زمین کے ہیں۔ ھی الارض المرتفعۃ (کشاف) ھی ما ارتفع من الجبل دون الارض (روح دوسرے مقامات مثلا دمشق، رملہ، ایلیاء، بیت المقدس وغیرہ کے نام بھی نقل ہوئے ہیں۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ 48۔ اور پیغمبروں ہی کے ضمن میں حکم انکی امتوں کا بھی آگیا۔ (آیت) ” کلوا من الطیبت “۔ میں ذکر تکوینی نعمت کا ہے۔ (آیت) ” واعملوا صالحا “۔ میں حکم تشریعی ہے۔ نفیس ولذیذچیزوں سے مراد ظاہر ہے کہ صرف حلال غذائیں ہیں۔ حرام غذا میں اگر لذت ہے بھی تو محض عارضی وفوری، جس پر حقیقۃ لذت کا اطلاق ہو ہی نہیں سکتا۔ محققین صوفیہ نے کہا ہے کہ آیت میں رہبانیت کا بھی ابطال ہے جس میں بعض غالی مبتلا ہیں۔
Ayah 23:52

وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ Open ayah 23:52 in the Quran reader

اور یہی تمہارا طریقہ ہے کہ وہ ایک ہی طریق ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں سو مجھی سے ڈرتے رہو،49۔

49۔ (اور میرے احکام کی مخالفت نہ کرو) اللہ سے ڈرنے کے معنی بس اسی قدر ہیں کہ اس کے احکام کی مخالفت پر جرات اقدام باقی نہ رہے۔ یہ معنی ہرگز نہیں کہ (نعوذ باللہ) اسے (آیت) ” ھوا “۔ بنا کر اس طرح ڈرا جائے۔ جس طرح کسی جابر حاکم یا موذی دشمن سے ڈرا جاتا ہے۔ اللہ تو محبت و محبوبیت کی چیز ہے، دہشت ووحشت کی نہیں۔ اس کا خوف، صرف خوف عقلی رہنا چاہیے نہ کہ خوف طبعی۔ (آیت) ” امۃ “ سے یہاں مراد دین یا مسلک سے ہے۔ امتکم اے ملتکم وشریعتکم (روح) امۃ واحدۃ اے بالملۃ والدین (ابن جریر۔ عن ابن جریح) دین اللہ کی طرف سے ہمیشہ ایک ہی رہا ہے۔
Ayah 23:53

فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ زُبُرًا١ؕ كُلُّ حِزْبٍۭ بِمَا لَدَیْهِمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 23:53 in the Quran reader

پر ان (کی امتوں) نے دین میں اپنا طریقہ الگ الگ پیدا کرلیا ہر گروہ کے پاس جو (دین) ہے وہ اسی میں مگن ہے،50۔

50۔ (اور باوجود وضوح حق کے اپنے ہی دین وطریقہ سے چمٹا ہوا ہے)
Ayah 23:54

فَذَرْهُمْ فِیْ غَمْرَتِهِمْ حَتّٰى حِیْنٍ Open ayah 23:54 in the Quran reader

سو آپ ان کو ان کی غفلت میں ایک خاص وقت تک پڑا رہنے دیجیے،51۔

51۔ (اے ہمارے پیغمبر۔ اور ان کی ضد اور اصرار علی الباطل پر زیادہ غم نہ کیجئے) یہ ذکر رسول اللہ ﷺ کے معاصر کفار کا ہے۔ (آیت) ” حتی حین “۔ مراد وقت موت تک ہے۔
Ayahs 23:55–56

اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَۙ Open ayah 23:55 in the Quran reader

کیا یہ لوگ یہ گمان کررہے ہیں کہ ہم ان کو جو کچھ مال واولا ددیتے چلے جاتے ہیں

نُسَارِعُ لَهُمْ فِی الْخَیْرٰتِ١ؕ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 23:56 in the Quran reader

تو ہم ان کو جلدی جلدی فائدے پہنچا رہے ہیں نہیں بلکہ یہ لوگ سمجھتے نہیں،52۔

52۔ یہ دھوکا عام وعالمگیر ہے۔ آج تک ہزاروں لاکھوں مذہب اسی میں مبتلا ہیں۔ تکوینی عیش و راحت کو اپنی حقانیت ومقبولیت کی دلیل سمجھ رہے ہیں ! حالانکہ نظام تکوینی میں قانون ربوبیت کے ماتحت تو سانپوں، بچھوؤں سب ہی کی پرورش و کفالت ہوتی رہتی ہے۔ محققین عارفین نے کہا ہے کہ جس طرح ظاہری نعمتوں سے دھوکا نہ کھانا چاہیے اسی طرح باطنی نعمتوں (احوال ومواجید وغیرہا) پر مطمئن ومغرور نہ ہوجانا چاہیے۔
Ayahs 23:57–60

اِنَّ الَّذِیْنَ هُمْ مِّنْ خَشْیَةِ رَبِّهِمْ مُّشْفِقُوْنَۙ Open ayah 23:57 in the Quran reader

بےشبہ جو لوگ اپنے پروردگار کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَۙ Open ayah 23:58 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار کی نشانیوں پر ایمان رکھتے ہیں

وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِرَبِّهِمْ لَا یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 23:59 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے پروردگار کے ساتھ شرک نہیں کرتے

وَ الَّذِیْنَ یُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌ اَنَّهُمْ اِلٰى رَبِّهِمْ رٰجِعُوْنَۙ Open ayah 23:60 in the Quran reader

اور جو لوگ دیتے رہتے ہیں جو کچھ دیتے رہتے ہیں اور ان کے دل اس سے ڈرتے رہتے ہیں کہ انہیں پروردگار کے پاس واپس جانا ہے،53۔

53۔ (تودیکھئے کہ ہمارے اعمال خیرقبول بھی ٹھہرتے ہیں یا نہیں) (آیت) ” الذین ...... مشفقون “۔ خدائے نادیدہ سے ڈرتے رہتے ہیں، اور اس لئے اس کی معصیت ونافرمانی سے بھی بچتے رہتے ہیں۔ خوف الہی پر حاشیہ ابھی گزر چکا ہے۔ ملاحطہ ہو حاشیہ نمبر 49 (آیت) ” الذین ........ یشرکون “۔ مشرکین عرب کا اصلی مرض یہی تھا کہ اقرار الوہیت کے ساتھ ساتھ شرک بھی کئے جاتے تھے ...... تنہا وجود باری کا اقرار شریعت میں اسی لئے مستند اور کافی نہیں۔ جب تک کہ نفی شرک بھی ساتھ ہی ساتھ نہ ہو۔ (آیت) ” یؤتون مااتوا “۔ ان کی یہ عطا و بخشش دین کی راہ میں، احکام الہی کے ماتحت ہوتی رہتی ہے۔ عارفین نے کہا ہے کہ سالک کو اپنے اعمال اور اپنے نفس پر کبھی مطمئن نہ ہونا چاہیے۔
Ayah 23:61

اُولٰٓئِكَ یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ هُمْ لَهَا سٰبِقُوْنَ Open ayah 23:61 in the Quran reader

یہ لوگ البتہ فائدے جلدی جلدی حاصل کررہے ہیں اور وہی ان کی طرف دوڑ رہے ہیں،54۔

54۔ یعنی یہ اہل ایمان واہل تقوی ہی نفع حاصل کرتے ہیں، نہ کہ وہ کافر بےدین جو اپنی دنیوی کامیابیوں اور کامرانیوں پر مغرور ہو کر اپنے کو برسرحق سمجھ رہے ہیں۔ نسارع لھم فی الخیرات کا گمان رکھنے والوں کی تردید میں الفاظ بھی انہی کے الٹ کرلے آئے گئے ہیں۔ (آیت) ” الخیرت “۔ یہاں طاعات کے معنی میں ہے، اور ان کی طرف اہل ایمان ہی سبقت کرتے ہیں۔ الخیرات ھنا الطاعات یسارع الیھا اھل الایمان باللہ ویجتھدون فی السبق الیھا رغبۃ فیھا علما بمالھم بھامن حسن الجزاء (جصاص)
Ayah 23:62

وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَیْنَا كِتٰبٌ یَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 23:62 in the Quran reader

اور ہم کسی پر اس کی وسعت سین زیادہ بار نہیں ڈالتے،55۔ اور ہمارے پاس ایک رجسٹر ہے جو ٹھیک ٹھیک بتا دے گا اور لوگوں پر ظلم ذرا نہ ہوگا،56۔

55۔ (چنانچہ ایمان وتقوی کے جو کام ادھر بتائے گئے وہ بالکل وسعت بشری کے حدود کے اندر ہیں) 56۔ (بلکہ ہر ایک کی سعی پوری طرح مشکور ہوگی، اور ذرہ ذرہ ہر عمل خیر پر ثواب ملے گا) یہاں یہ بتا دیا کہ جس طرح اعمال خیر سہل ہیں، اسی طرح ان کا ثمرہ بھی یقینی اور غیرمشتبہ ہے۔ اس لئے سعی کے قابل تو بس یہی ایمانی زندگی ہے۔ (آیت) ” کتب “ سے مراد نامہ اعمال ہے۔ (آیت) ” ینطق بالحق “۔ یعنی اس میں غلطی اور سہو کا احتمال ہی نہیں۔ سب کچھ ٹھیک ہی ٹھیک درج ہوگا۔
Ayah 23:63

بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ Open ayah 23:63 in the Quran reader

لیکن ان (کافروں) کے قلوب اس (دین) کی طرف سے غفلت (وجہالت) میں پڑے ہیں اور اس کے علاوہ بھی ان کے (برے) عمل ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں،57۔

57۔ جس طرح مومینن کا سرمایہ، علاوہ ان کے ایمان کے اعمال حسنہ وصالحہ ہوں گے، اسی طرح کافر علاوہ کفر کے طرح طرح کے اعمال بد میں بھی مبتلا رہا کرتے ہیں۔
Ayah 23:64

حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِیْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ یَجْئَرُوْنَؕ Open ayah 23:64 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان کے خوشحال لوگوں کو عذاب میں پکڑ لیں گے تو یہ فورا چلا اٹھیں گے،58۔

58۔ (اور اپنا کبر و استکبار بھول بھال، بےاختیار فریاد برپا کرنے لگیں گے اور عاجزی کے ساتھ رحم کی درخواست کرنے لگیں گے) (آیت) ’ ’ مترفیھم “۔ یعنی ان کے بڑے بڑے لیڈر، سردار اور پیشوا جو اس وقت ہر طرح کا سامان جاہ وحشم رکھتے ہیں۔ (آیت) ” بالعذاب “۔ عذاب سے یہاں مراد عذاب بعد الموت ہے۔
Ayah 23:65

لَا تَجْئَرُوا الْیَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 23:65 in the Quran reader

اب چلاو مت ہماری طرف سے تمہاری مطلق مدد نہ ہوگی،59۔

59۔ یہ دارالعمل نہیں دارالجزاء ہے۔ یہاں چلانا عاجزی کرنا لاحاصل ہے۔
Ayahs 23:66–67

قَدْ كَانَتْ اٰیٰتِیْ تُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ تَنْكِصُوْنَۙ Open ayah 23:66 in the Quran reader

میری آیتیں تم کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم الٹے پاؤں بھاگتے تھے

مُسْتَكْبِرِیْنَ١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ Open ayah 23:67 in the Quran reader

تکبر کرتے ہوئے قرآن کا مشغلہ بناتے ہوئے بیہودہ بکتے ہوئے،60۔

60۔ جو دارالعمل تھا اس میں تو تمہاری یہ حالت تھی۔ شان نزول کی روایتوں میں آتا ہے کہ یہ فخر وناز کرنے والے قریش تھے۔ جنہیں فخر تولیت و خدمت کعبہ پر تھا۔ مشائخ محققین نے اس سے اخذ کرکے کہا ہے کہ اپنی کسی نسبت یا فضیلت اضافی پر، مثلا یہ کہ ہم فلاں بزرگ کی اولاد ہیں، فلاں فلاں برکات کے حامل ہیں فخر کرنا مذموم ہے۔
Ayah 23:68

اَفَلَمْ یَدَّبَّرُوا الْقَوْلَ اَمْ جَآءَهُمْ مَّا لَمْ یَاْتِ اٰبَآءَهُمُ الْاَوَّلِیْنَ٘ Open ayah 23:68 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے (اس) کلام میں غور نہیں کیا یا (یہ بات ہے کہ) ان کے پاس وہ بات آئی جو ان کے اگلے بڑوں کے پاس (کبھی) نہیں آئی تھی ؟ ،61۔

61۔ (یعنی کیا تکذیب کی بنیاد یہ ہے کہ وحی و رسالت کا تخیل ہی ان کے لئے نامانوس ہے۔ اور یہ آواز پہلی بار ان کے کان میں پڑرہی ہے ؟ ) (آیت) ” افلم یدبروالقول “۔ یعنی اگر یہ لوگ اس کلام پر غور کرتے تو اس کے اعجاز کے قائل ہوجاتے اور تکذیب سے باز آجاتے۔ یہاں تکذیب کا اصل باعث بےالتفاتی کو ٹھہرایا ہے۔
Ayah 23:69

اَمْ لَمْ یَعْرِفُوْا رَسُوْلَهُمْ فَهُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ٘ Open ayah 23:69 in the Quran reader

یا یہ لوگ اپنے رسول کو پہچان نہ سکے اور اس لئے ان کے منکر رہے ؟ ،62۔

62۔ (آیت) ” ام لم یعرفوا رسولھم “۔ یعنی رسول کے صدق سے، دیانت سے امانت سے ناواقف تھے ؟ مطلب یہ ہے کہ ان کفار معاصرین کے انکار کی ممکن وجہ یہ ہے کہ یہ آپ کی سیرت سے، آپ کے اخلاق فاضلہ سے ناواقف ہیں ! ظاہر ہے کہ یہ وجہ بھی نہیں ہوسکتی۔ وہ تو آپ کی پاکیزہ سیرت کے پورے گواہ تھے۔
Ayah 23:70

اَمْ یَقُوْلُوْنَ بِهٖ جِنَّةٌ١ؕ بَلْ جَآءَهُمْ بِالْحَقِّ وَ اَكْثَرُهُمْ لِلْحَقِّ كٰرِهُوْنَ Open ayah 23:70 in the Quran reader

یا یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ انہیں جنون ہے،63۔ نہیں بلکہ یہ (رسول) ان کے پاس حق لے کر آئے اور ان میں سے اکثر حق (ہی) سے نفرت رکھتے ہیں،64۔

63۔ نہیں بلکہ اس کے برعکس لوگ تو آپ کی اصابت رائے کے فہم وذکاوت کے پوری طرح قائل تھے۔ سو اس وجہ کا بھی باطل ہونا بالکل ظاہر ہے۔ حیرت اور حیرت سے زیادہ عبرت کا مقام ہے کہ عرب کے ان جاہلین کے بالکل قدم بقدم آج یورپ کے جاہلین جدید بھی، ایک طرف آپ کے کمال حکمت و دانائی کے قائل ہیں یہاں تک کہ یہ کہتے ہیں کہ آپ نے اپنی حکمت وخوش تدبیری سے قرآن نامے ایک جامع کتاب گڑھ لی، سارے ملک عرب کی بیسیوں ٹکڑیوں اور ٹولیوں کو متحد کرلیا۔ سب کو ایک دین کا پابند بنالیا۔ بڑے بڑے پر قوت دشمنوں، مشرکین و یہود وغیرہ پر غالب آآگئے وقس علی ہذا۔ ایک طرف تو آپ کی دانائی، فرزانگی، خوش تدبیری کا اعتراف اس زور شور سے ہے اور دوسری طرف آپ کو (نعوذ باللہ) نیم مجنون وصرع زدہ بتانے پر بھی اصرار جاری ہے ! 64۔ سو اصل وجہ ان فرض کی ہوئی وجوہ میں سے کوئی نہیں، بلکہ یہ ہے کہ انہیں حق ہی سے بیزاری ہے اور طلب حق تو ان میں کیا ہوتی، الٹی اس سے ہے کہ انہیں حق ہی سے بیزاری ہے اور طلب حق تو ان میں کیا ہوتی، الٹی اس سے نفرت ہے۔
Ayah 23:71

وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَهْوَآءَهُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّ١ؕ بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِذِكْرِهِمْ فَهُمْ عَنْ ذِكْرِهِمْ مُّعْرِضُوْنَؕ Open ayah 23:71 in the Quran reader

اور اگر (دین) حق کہیں ان لوگوں کی خواہشوں کا تابع ہوجاتا تو آسمان و زمین اور جو ان میں (آباد) ہیں (سب) تباہ ہوجاتے،65۔ بلکہ ہم نے تو ان کے پاس ان کی نصیحت (ہی کی بات) بھیجی سو یہ لوگ اپنی نصیحت سے بھی روگردانی کرتے ہیں،66۔

65۔ اگر دنیا سے نظام حق ناپید ہوجائے تو پہلے تشریعی حیثیت سے اور پھر اس کے نتیجہ کے طور پر تکوینی حیثیت سے نظام عالم ہی درہم وبرہم ہوجائے۔ (آیت) ” ولو اتبع الحق اھوآء ھم “۔ یہ ان منکرین کی خواہش کی طرف اشارہ ہے۔ ان لوگوں کا مذاق اس قدر فاسد ہوچکا تھا کہ اتباع حق کرنا الگ رہا الٹا وہ دین حق کو اپنی ترمیمات کا تختہ مشق بنانے کی فکر میں تھے۔ صوفیہ عارفین نے کہا ہے کہ اسی طرح اہل طریق بھی مریدین کی خواہشوں کا اتباع نہیں کرتے، بلکہ صرف حکمت ومصلحت کا اتباع کرتے ہیں۔ 66۔ (اور اپنے نفع نقصان کی طرف سے اتنے اندھے ہوچکے ہیں)
Ayah 23:72

اَمْ تَسْئَلُهُمْ خَرْجًا فَخَرَاجُ رَبِّكَ خَیْرٌ١ۖۗ وَّ هُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 23:72 in the Quran reader

کیا آپ ان سے کچھ معاش طلب کرتے ہیں،67۔ سو معاش آپ کے پروردگار کی (دی ہوئی) سب سے بہتر ہے اور وہی سب روزی دینے والوں سے بہتر ہے،68۔

67۔ (جیسا کہ اکثر جاہلی مذہبوں کے پروہت اور پجاری اپنے ماننے والوں سے طلب کیا کرتے ہیں) سوال کا مطلب یہ ہے کہ ایسے بےبنیاد وہم سے بھی تو یہ اپنی تکذیب کے لیے سہارا نہیں پاسکتے۔ 68۔ (تو آپ اس حقیقت سے آشنا ہو کر تو کبھی اس خیال کی طرف رخ بھی نہیں کرسکتے) فقہاء نے یہاں سے یہ مسئلہ نکالا ہے کہ علماء اور واعظین کو اجرت طلب کرنا ناجائز ہے۔ محققین صوفیہ نے کہا ہے کہ جس کی اصلاح کی جائے اس سے مال طلب کرنا مذموم ہے اور مقصود میں مخل ہوتا ہے
Ayah 23:73

وَ اِنَّكَ لَتَدْعُوْهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 23:73 in the Quran reader

اور یقیناً آپ تو ان کو سیدھے راستہ کی طرف بلا رہے ہیں،69۔

69۔ (علم، یقین و ایمان کی پوری مستحکم قوت کے ساتھ)
Ayah 23:74

وَ اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنٰكِبُوْنَ Open ayah 23:74 in the Quran reader

اور یقیناً جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ راہ سے بھٹکنے والے ہیں،70۔

70۔ (وہ تو ہر سیدھی بات کو ٹیڑھی بنا لیں گے) ہدایت کی طلب دل میں جبھی پیدا ہوتی ہے۔ جب پہلے آخرت کا یعنی اس ” آج “ کے بعد ایک ” کل “ کے ظہور کا یقین ہولے۔
Ayah 23:75

وَ لَوْ رَحِمْنٰهُمْ وَ كَشَفْنَا مَا بِهِمْ مِّنْ ضُرٍّ لَّلَجُّوْا فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 23:75 in the Quran reader

اور اگر ہم ان پر مہربانی کردیں اور انہیں جو تکلیف ہے اسے دور بھی کردیں تو بھی یہ لوگ اپنی گمراہی میں بھٹکتے ہوئے اصرار کرتے رہیں،71۔

71۔ اس حد تک ان کی فطرت مسخ ہوچکی ہے اور کفر انکار پر اتنا جمود انہیں ہوچکا ہے۔
Ayah 23:76

وَ لَقَدْ اَخَذْنٰهُمْ بِالْعَذَابِ فَمَا اسْتَكَانُوْا لِرَبِّهِمْ وَ مَا یَتَضَرَّعُوْنَ Open ayah 23:76 in the Quran reader

اور بالیقین ہم نے انہیں عذاب میں ہی پکڑا لیکن ان لوگوں نے نہ اپنے پروردگار کے سامنے فروتنی کی اور نہ عاجزی کی،72۔

72۔ اشارہ خصوصی معاصر معاندین رسول ﷺ کے سلسلہ میں قحط مکہ کی جانب ہے جو 8، نبوی میں ہوا تھا۔ (آیت) ” فما استکانوا، وما یتضرعون “۔ استکانت اور تضرع مرادف نہیں اول کا تعلق ظاہر سے اور ثانی کا قلب سے ہے۔
Ayah 23:77

حَتّٰۤى اِذَا فَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَابًا ذَا عَذَابٍ شَدِیْدٍ اِذَا هُمْ فِیْهِ مُبْلِسُوْنَ۠ Open ayah 23:77 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب ہم ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں گے تو اس وقت یہ بالکل حسرت زدہ رہ جائیں گے،73۔

73۔ (کہ یہ کیا ہوگیا اور اس وقت سارے حواس درست ہوجائیں گے) (آیت) ” عذاب شدید “۔ یہ عذاب شدید آخرت میں تو یقیناً ہوگا اور احتمال اس دنیا میں بھی ہے۔
Ayah 23:78

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Open ayah 23:78 in the Quran reader

اور وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے کان اور آنکھیں اور دل بنائے (لیکن) تم لوگ بہت ہی کم شکریہ ادا کرتے ہو،74۔

74۔ یعنی اتنا بھی تو نہیں کہ کم از کم ایسے قادر ومنعم پر ایمان ہی لے آتے۔