Ayah 19:81115۔ (دنیا میں اس طرح کی ان کی حاجتیں اور مرادیں پوری کریں، اور آخرت میں اس طرح کہ ان کی شفاعت کریں) مشرکین کا ایک طبقہ بعث بعد الموت کا اور اپنے دیوتاؤں کی شفاعت کا قائل تھا، باقی اگر (آیت) ” عزا “۔ کا مفہوم صرف دنیوی مدد ونصرت تک محدود رکھا جائے تو آیت کا مضمون سارے ہی مشرکین پر صادق آئے گا۔ بڑی غرض اس پوجا پاٹ سے ہر قوم کے مشرکوں کی یہی ہوتی ہے کہ ہم بیماری سے اچھے ہوجائیں، مقدمہ میں کامیاب ہوجائیں، جنگ جیت جائیں، روپیہ خوب ملنے لگے وقس علی ھذا۔
Ayah 19:82116۔ (قالا بھی حالا بھی) قالا اس طرح کہ کھل کر ان کی عبادت سے انکار کریں گے، اور حالا اس طرح کہ بجائے ان کی عزت ونصرت کے اور ان کی ذلت ومقہوریت کا سبب بن جائیں گے، اے اعداء لھم وکانوا اولیاء فی الدنیا (معالم)
Ayah 19:83117۔ (اور یہ بدبخت اپنی قوت ارادی سے کام نہ لے کر اس شیطانی اثر کو قبول کرتے رہتے ہیں) (آیت) ” ارسلنا “۔ ارسال یہاں بھیجنے کے معنی میں نہیں، مسلط کردینے کے معنی میں ہے اور یہ ارسال تمامتر تکوینی حیثیت سے ہوتا ہے۔ ارسلنا اے سلطنا (ابن عباس ؓ (آیت) ” تؤزھم ازا “۔ از کے معنی حیلہ یا تدبیر وتزویر سے اکسانے، بھڑکانے وابھارنے کے ہیں، اے تغربھم علی المعاصی وتھیجھم لھا بالوساوس والتسویلات (کشاف) وقال الضحاک تغربھم اغراء (تاج) گویا ضمنا یہ بھی معلوم ہوگیا کہ شیطان کو قوت صرف ترغیب، تدبیر وتزویر سے آمادہ کردینے کی حاصل ہے، مجبور کردینے کی نہیں، یہ ان کافروں کا بالکل اختیاری فعل ہے کہ اپنی قوت تمیز اور عقل سلیم سے کام نہ لے کر اپنے بدخواہ ازلی کے کہے میں آجاتے ہیں۔
Ayah 19:84118۔ (کہ ان پر عذاب کسی طرح آجائے تاکہ آئندہ کے لیے مخلوق ان کے فتنہ وشر سے محفوظ ہوجائے) متی تستریح انت والمسلمون من شرورھم وتطھر الارض بقطع دابرھم (کشاف) ” حضور ﷺ کا جلد ہی عذاب چاہنا بعد مایوسی ان کے ایمان لانے کے شاید اس وجہ سے ہو کہ ان کا ضرر کفر دوسروں تک متعدی نہ ہوجائے، بس ایسا استعجال منافی شان رحمت کے نہیں “ (تھانوی (رح )
119۔ (اور وقت مناسب پر سزا دے لیں گے، تعجیل سزا میں حکمت ابتلاء ہی فوت ہوئی جاتی ہے) اعمال یہاں مقدر ہے۔ نعدانفاسھم واعمالھم (کبیر) قیل نعد اعمالھم لتجازیھم (بحر) اور اسی کا ترجمہ اردو محاورہ کے لحاظ سے ” حرکتیں “ کیا گیا ہے۔ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ ”‘ ہم ان کے مہلت کے دن خوب گنے جارہے ہیں “۔ نعدلھم ایام اجالھم (بیضاوی) قیل ایامھم التی سبق قضاء نا ان تمھلھم الیھا (بحر)
Ayahs 19:85–86120۔ مجرمین سے مراد ظاہر ہے کہ مومینن ہی ہوں گے۔
Ayah 19:87121۔ (اور وہ اجازت بھی خاص ہے اہل ایمان کے ساتھ، اہل کفر اس اجازت سے بھی نفع نہیں اٹھا سکتے) یہ اجازت ملائکہ، انبیاء اور صلحاء مومنین کو ملے گی۔ (آیت) ” عھدا “۔ عھد سے مراد یہاں اذن لی گئی ہے۔ وقیل عھد اللہ اذنہ لمن شاء فی الشفاعۃ (بحر) وقیل المراد بالعھد الامر والاذن (روح) دوسری مراد عھد سے عہد توحید ونبوت یا کلمہ شہادت و ایمان ہی ہوسکتا ہے اور ابن عباس ؓ سے یہی منقول ہے۔
Ayah 19:88122۔ مشرکوں کے عقیدہ میں تو خدا کے لیے اولاد کا اثبات ایک معمولی بات تھی ہی، مسیحیوں کے ہاں بھی ظہور اسلام کے قبل ہی مسیح کی ولدیت الی کا عقیدہ ایک مسلم حقیقت بن چکا تھا۔ حد یہ ہے یہ یہودی جیسی موحد قوم بھی یونان اور رومہ کے مشرک حکیموں، فلسفیوں کے اثر کے ماتحت اس عقیدہ سے بالکل بیگانہ ونامانوس نہیں رہے تھے۔ یہاں اشارہ غالب مسیحیوں کے جانب ہے وہی اپنے خدا کی صفت رحمانیت کے سب سے بڑے مدعی رہتے تھے۔
Ayah 19:89123۔ یعنی یہی اللہ کے فرزند قرار دینے کا قول۔ (آیت) ” ادا “۔ اے امرا منکر ا (راغب) قال ابن خالویہ الاد العجب وقیل العظیم المنکر والادۃ الشدۃ (کشاف) الاد فی کلام العرب من اعظم الدواھی (معالم)
Ayahs 19:90–91124۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے اس نہایت درجہ بیہودہ قول کا جو اثر معنوی ہے وہ اگر کہیں محسوس ومادی شکل اختیار کرلیتا تو اس کے آثار خارجی یہ اور یہ ہوکررہتے۔ یہاں یہ حقیقت خوب ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ ابنیت الہی اور چیز ہے اور ولدیت الہی اور ہیں دونوں ہی عقیدے سرتاسر باطل ونامعقول۔ لیکن یہ دوسرا عقیدہ اپنی بہیودگی میں پہلے سے بھی کہیں بڑھ کر ہے۔ پہلے کو تو پھر بھی مجازی معنی میں لیا جاسکتا اور تاویل کی جاسکتی ہے کہ ابنیت سے مراد محض محبوبیت اور تعلق تخصیصی ہے۔ لیکن یہ دوسرا عقیدہ تو کھلا ہوا گستاخانہ ہے اور خدا کی خدائی ہی کو باطل کردینے والا۔ (آیت) ” دعوا “ کا مرادف یہاں نسبوا بھی رکھا گیا ہے۔ اور جعلوا بھی اور سموا بھی (بحر) اور ماحصل سب کا ایک ہی ہے۔
Ayah 19:92125۔ خدا کو خدا مان کر یوں بھی تو کسی صورت میں اس کا صاحب اولاد تسلیم نہیں کیا جاسکتا، پھر جب اس کی صفت رحمانیت کو اس کی تمام صفات پر غالب ومقدم تسلیم کرلیا جائے (جیسا کہ مسیحیت میں ہے) جب تو اور بھی اس عقیدہ کی مہملیت اور مضحکہ خیزی کہیں زیادہ نظرآنے لگتی ہے کہ اسی رحمت مطلق کو معاصی خلائق کے کفارہ کے لئے اپنے بیٹے کی ضرورت پڑے !
Ayah 19:93126۔ اللہ اور اس کی ساری مخلوق کے درمیان صحیح علاقہ صرف ایک ہی ممکن ہے۔ اور وہ رشتہ عبد و معبود کا ہے۔ مقبول سے مقبول، مقرب سے مقرب بندہ کے لئے بھی بلند ترین مقام عبدیت ہی کا ہے۔ ولدیت الہی وغیرہ کا تخیل ہی سرے سے مہمل اور گستاخانہ ہے۔ (آیت) ” کل من فی السموت والارض “۔ کے عموم میں انبیاء ملائکہ وغیرہ سب ہی آگئے۔
Ayah 19:94127۔ احاطہ میں لے رکھا ہے اپنی قدرت سے، اور خوب شمار کر رکھا ہے اپنے علم سے، خوب شمار کر رکھنے میں مخلوقات کی ذات وصفات، عمل وکردار، سب کی جانچ، سب کی گنتی آگئی۔
Ayah 19:95128۔ (خدا ہی کا محتاج اور محکوم مال واولاد، اعزہ و احباب، افسری وسرداری، جاہ ومنصب کے تمام عوارض خارجی سے معری ہوکر)
Ayah 19:96129۔ (خلائق کے قلوب میں بلااسباب ظاہری کے) مشاہدہ ہے کہ بےغرض، متدین، مخلص، خادم خلق و عبادت گذار سے لوگوں کو محبت پیدا ہوجاتی ہے۔ متقیوں کے علاوہ دوسروی کو جہاں کہیں محبوبیت حاصل ہوتی ہے، وہاں کوئی نہ کوئی قریبی سبب ظاہری موجود ہوتا ہے۔ مثلا عزیز داری، ذاتی دوستی، ہم وطنی، ہمسائگی وغیرہا۔ یحبھم ویحببھم الی المومنین (ابن عباس ؓ سیحدث لھم فی القلوب مودۃ (کشاف) ” یہ تفسیر حدیث میں آئی ہے اور اس کا نعمت ہونا بلکہ اعظم نعمت ہونا ظاہر ہے۔ کیونکہ مغز نعمت کا راحت اور امن ہے۔ اور ظاہر ہے کہ محبوبیت اس کے اعظم اسباب سے ہے۔ اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے کسی کو بغض نہ ہوگا۔ بلکہ مقصود قرآن و حدیث کا یہ ہے کہ عام خلائق جن کا نہ کوئی نفع اس مومن سے وابستہ ہے نہ کوئی ضرر، وہ اس سے محبت کرتے ہیں چناچہ مشاہدہ ہے۔ اور اہل انتفاع کا محبت کرنا جیسا کہ نفع رساں کفار سے بھی لوگوں کو محبت ہوتی ہے یا اہل تضرر کا بغض کرنا جیسا کہ ظالموں کو مسلمانوں سے ہوتا ہے قابل اعتبار نہیں، کیونکہ درحقیقت وہ محبت اور بغض اپنے نفع اور ضرر سے ہے۔ اگر دونوں سے قطع نظر کی جائے اس وقت مومن کی صفات میں یہ اثر ہے کہ اس سے عام قلوب کا استجلاب ہوتا ہے۔ “ (تھانوی (رح) ایک معنی یہ بھی منقول ہیں کہ (آیت) ” ودا “۔ بہ معنی محبوب ہے، یعنی اللہ ایسے لوگوں کے لئے وہ چیز مہیا کردیتا ہے جسے وہ محبوب رکھتے ہیں۔ اے یھب لھم مایحبون (کبیر۔ عن ابی مسلم) ایک معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ خدائے رحمن ان کے دلوں میں اپنی محبت یعنی طاعت میں لذت وحلاوت ڈال دیتا ہے۔ اے سیجعل لھم لذۃ وحلاوۃ فی الطاعۃ (روح) مرشد تھانوی (رح) نے ارشاد فرمایا کہ قلوب خلائق سے مراد وہ قلوب ہیں جن میں حق تعالیٰ کی محبت موجود ہو، ورنہ جو دل محبت الہی سے خالی ہوتے ہیں، ان میں تو مومنین وصالحیں کے خلاف بغض ہی بھرا ہوتا ہے۔
Ayah 19:97130۔ آیت سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ قرآن کی آسانی صاحب قرآن پر اسی غرض سے ہے کہ وہ اس کے مطالب کو سمجھ کر ان سے بشارت اور انذار دونوں کا کام لیں۔ اور اسی سے فقہاء نے یہ نکالا ہے کہ جس پر قرآن آسان ہوجائے یعنی علماء وماہرین فن۔ ان پر واجب ہے کہ قرآن کی تعلیم وتذکیر کرتے رہیں (آیت) ” المتقین “۔ مراد مومنین ہیں کہ شرک وکفر سے متقی ہر مومن ہوتا ہی ہے۔ المتقین ال مومنین (مدارک) (آیت) ” قوما لدا “۔ بڑی جھگڑا لو قوم سے مراد کون سی قوم ہے ؟ ظاہر ہے کہ کل وہ منکر اسلام قومیں جو رسول اللہ ﷺ کی مخاطب اول تھیں لیکن جس تفصیل اور شدت کے ساتھ اس سورت میں عقیدہ ولدیت الہی کا رد کیا گیا ہے اس سے اشارہ یہ نکلتا ہے کہ خصوصیت کے ساتھ مراد مسیحی اقوام ہیں اور تاریخ سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ اس ساڑھے تیرہ سو برس کے عرصہ میں مسلمانوں کو مقابلہ بھی سب سے زیادہ مسیحیوں ہی کا کرنا پڑا ہے۔ سورت میں خود لفظ رحمن کا بار بار آنا اور مادہ رحمت کا تو اس سے بھی زیادہ کثرت کے ساتھ آنا، اس امر پر گواہ ہے کہ سورت کا مقصود سب سے زیادہ خدائے تعالیٰ کی صفت رحم پر زور دینا اور اس کی رحمت کو مطلق اور بلا بدل ومعاوضہ صورت میں پیش کرنا ہے۔ مسیحیوں کو سب سے بڑا دھوکا اللہ کی صفت رحمت ہی سے لگا ہے۔ اور اسی ایک صفت کے نہ سمجھنے سے وہ مسیح پرستی کے شرک میں جاپڑے ہیں۔ مسیحیت کا سارا فلسفہ دو لفظوں میں یہ ہے کہ بندوں کی گنہگاری دیکھ کر خدا ان سے روٹھ گیا اور اس کی صفت عدل کا تقاضا یہ ہوا کہ سب کو جہنم میں جھونک دینا چاہیے۔ لیکن اس کا رحم وکرم اس پر آمادہ نہیں ہوتا تھا۔ اس کی تدبیر اس نے یہ کی کہ وہ خود ایک انسان کے قالب میں ظاہر ہو کر دنیا میں آئے یا اپنے ایک اقنوم کو اپنا بیٹا بنا کر بھیجے اور ساری مخلوق کے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لے کر سب کی طرف سے کفارہ کو تیار ہوجائے، یعنی خود صلیب پر موت پا کر ایک مختصر مدت (تین دن) کے لئے دوزخ میں چلا جائے۔ اور سب کی طرف سے معاوضہ بن کر اور سب کو نجات دلا دے، گویا خدا بلامعاوضہ، بلاکفارہ، بلابدل رحم ومغفرت سے کام لے ہی نہیں سکتا ! مسیحیت کے اس سارے بنیادی فلسفہ کی تردید کے لئے قرآن کا ایک لفظ رحمن کافی ہے، یعنی اسلام کا خدا ایسا ہے جو مطلقا رحم پر قادر ہے۔ اپنی صفت رحمت کے ظہور کیلئے بےبسی اور مجبوری کے ساتھ کفارہ ومعاوضہ کا انتطار نہیں کیا کرتا۔
Ayah 19:98131۔ ابھی ابھی انذار، ڈرانے کا حکم آچکا ہے۔ اب ایک انذاری مضمون کے بیان میں تاریخ سے استشہاد ہورہا ہے کہ نافرمان قومیں کیسی کیسی پر قوت وپرشوکت، اپنی نافرمانیوں ہی کے پاداش میں روئے زمین سے کسی طرح مٹائی جاچکی ہیں۔ اور اثریات (آرکیالوجی) ان کے ایک ایک کھنڈر کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اور کھود کھود کر نکال رہا ہے !
132۔ مطلب یہ ہے کہ دیکھو وہ کیسے بےنام ونشان ہو کر تہس نہس ہو کر رہے ! آج نہ خود ان کی کوئی دھیمی سی آواز ہی کسی کو آرہی ہے، نہ ان کے متعلق کوئی بھٹک کسی کے کان میں پڑجاتی ہے۔ والحاصل اھلکنھم فلایمن ولا خیر (روح) رکز کہتے ہیں آواز خفی کو۔ الرکز۔ الرکز الصوت الخفی (کشاف) جب نفی آواز خفی کی ہوگئی تو بلند آواز کی تو بدرجہ اولی ہوگئی، نہ وہ خود باقی رہ گئے نہ کوئی ان کا نام لینے والا۔ اھلکنا ھم بالکلیۃ بحیث لا تری منھم احدا ولا تسمع من یخبر عنھم ویذکرھم بصوت خفی (روح) ۔