19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 19:41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور آپ (اس) کتاب میں ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر کیجیے،61۔ وہ بڑے راستی والے تھے نبی تھے،62۔

61۔ (اے ہمارے پیغمبر) یعنی آپ اس کتاب سے ابراہیم (علیہ السلام) کا تذکرہ پڑھ کر اپنی قوم سنائیے۔ ورنہ کتاب میں ذکر کرنے والا تو ظاہر ہے کہ خود حق تعالیٰ ہی ہے۔ والمراد اتل علیھم نبا ابراہیم وذاکرہ وموردہ فی التنزیل ھو اللہ تعالیٰ (بحر) اے اتل علی الناس قصتہ (روح) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) (2160 ؁ تا 1985 ؁ ق، م) پر حاشیہ سورة بقرہ (پ 1) رکوع 15 میں گزر چکا۔ 62۔ صدیق، صدوق کا صیغہ مبالغہ ہے اور لفظی معنی بہت بڑے سچے کے ہیں۔ اصطلاح میں ولی کامل کے مرادف ہے، اور بعد نبی کے سب سے اونچا مرتبہ صدیق ہی کا ہوتا ہے۔ الصدیقون ھم قوم ودین الانبیاء فی الفضیلۃ (راغب) الصدیق من کثر منہ الصدق وقیل بل یقال لمن لایکذب قط (راغب) ھو الذی یکون عادتہ الصدق (کبیر) المراد فرط صدقہ وکثرۃ ماصدق بہ من غیوب اللہ (مدارک) الصدیق الکثیر الصدق القائم علیہ (معالم)
Ayah 19:42

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے جب انہوں نے اپنے باپ سے کہا تھا کہ اے میرے باپ آپ کیوں ایسی چیز کی پرستش کرتے ہیں جو نہ سنے نہ دیکھے اور نہ آپ کے کچھ بھی کام آسکے،63۔

63۔ (عقل سے سوچئے تو بت پرستی کی لاحاصلی آپ پر بالکل روشن ہوجائے) (آیت) ” لم تعبد “۔ الخ۔ ظاہر ہے کہ مراد بتوں اور مورتیوں کی پرستش سے ہے۔ عراق قدیم یا کلدانیہ کا شرک، بدترین قسم کا شرک تھا۔ دیوی دیوتاؤں کے نام 5 ہزار کی تعداد میں اب تک کتبوں میں مل چکے ہیں۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ (آیت) ” مالایسمع ...... شیئا “۔ مطلب یہ کہ جو ہستی واجب الوجود نہیں، وہ لائق عبادت تو کسی حال میں بھی نہیں، چہ جائیکہ ایسی ہستیاں جو سماعت، بصارت وغیرہ سے بھی عاری ہوں ! مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے طریق دعوت وتبلیغ میں حسن خلق وادب کو ملحوظ رکھا تاکہ مخاطب فساد ومکابرہ پر آمادہ نہ ہوجائے۔
Ayah 19:43

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

اے میرے باپ میرے پاس وہ علم آچکا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا سو میری پیروی کیجئے میں آپ کو سیدھا راستہ بتادوں گا،64۔

64۔ (جو توحید، ایمان اور نجات کا راستہ ہے) (آیت) ” العلم “۔ یعنی علم بالوحی جس میں غلطی کا احتمال ہی نہیں۔ فقہاء نے یہاں سے مسائل ذیل کا استنباط کیا ہے :۔ (1) بےعلموں پر علماء کی اتباع واقتداء لازم ہے۔ (2) باپ کو بیٹے سے استفادہ وتلمذ جائز ہے۔ (3) فضل نسب علم و کمال کا ہم سطح نہیں۔
Ayah 19:44

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

اے میرے باپ آپ شیطان کی پرستش نہ کیجیے شیطان بیشک خدائے رحمن کا نافرمان ہے،65۔

65۔ شیطان کے کہے میں آکر بت پرستی اور شرک میں مبتلا ہوجانا خود شیطان پرستی ہے۔ اے لاتطعہ فی عبادتک ھذہ الاصنام فانہ ھو الداعی الی ذلک والراضی بہ (ابن کثیر) المراد الطاعۃ لانھم ما کانو ! یعبدون الشیطان فوجب حملہ علی الطاعۃ (کبیر) (آیت) ” للرحمن عصیا “۔ صفت رحمانیت کو نمایاں کرنے سے مقصود مخاطب کو اور زیادہ غیرت دلانا ہے کہ شیطان کی یہ کفر اور ناسپاسی بھی کیسے مالک کے مقابلہ میں ہے ؟ ایسے کہ جو سرتاسر رحمت ہے۔ (آیت) ” یابت “۔ یا ابت کی تکرار بار بار کرنا اور اسی طرح آیت ماقبل میں ہدایت کا انتساب بجائے حق تعالیٰ کے اپنی جانب کرنا یہ سب اس لیے ہے کہ مخاطب کو بجائے وحشت کے انس پید اہو۔
Ayah 19:45

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

اے میرے باپ میں اندیشہ کرتا ہوں کہ آپ پر خدائے رحمن کی طرف سے عذاب آپڑے تو آپ شیطان کے ساتھی بن جائیں،66۔

66۔ (دوزخ اور عذاب آخرت میں) (آیت) ” عذاب من الرحمن “۔ یہاں یہ جتلا دیا کہ گو وہ رحمن ہے مگر سزا دینے میں اس کو مانع نہ عدم قدرت ہوسکتی ہے نہ عدم ارادہ۔
Ayah 19:46

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

(آزر نے) کہا تو کیا اے ابراہیم تم میرے معبودوں سے پھرے ہوئے ہو ؟ اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کرڈالوں گا،67۔ اور مجھے تو ایک مدت کے لئے چھوڑ ہی دو ،68۔

67۔ سنگساری کی سزا قدیم قوموں میں عام تھی، اور کلدانیہ کے قانون میں تو لڑکا عمر بھر باپ کا غلام ہی سمجھا جاتا تھا۔ باپ کی زندگی بھر اسے خود مختاری کسی طرح کی حاصل ہی نہیں ہوتی تھی۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ (آیت) ” لئن لم تنتہ “۔ یعنی اگر اپنے اس انوکھے عقیدہ اور تعلیم سے باز نہ آئے۔ 68۔ یعنی میرا سامنا کرنا تو بہرحال چھوڑ ہی دو ۔ (آیت) ” مل یا “۔ ملی کے معنی زمانہ طویل کے ہیں، اور یہی یہاں بھی اکابر سے منقول ہیں۔ قیل للمدۃ الطویلۃ (راغب) زمانا طویلا (ابن جریر۔ عن الحسن) حینا طویلاودھرا “۔ (ابن جریر) روی عن الحسن و مجاھد و سعید بن جبیر والسدی قالوا دھرا طویلا (جصاص)
Ayah 19:47

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

(ابراہیم علیہ السلام) بولے آپ میرا سلام لیں،69۔ اب میں آپ کے لئے اپنے پروردگار سے مغفرت کی درخواست کروں گا،70۔ بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے،71۔

69۔ (اور میری اور آپ کی راہیں آج سے جدا ہیں) حضرت نے جب دیکھا کہ تبلیغ ونصیحت کا اثر الٹا ہورہا ہے تو کہا، بہتر ہے میرا آخری سلام قبول ہو۔ میں اب رخصت ہوتا ہوں۔ یہ سلام وداع اور رخصتی کا ہے کہ میری راہ الگ ہے، آپ کی راہ الگ۔ اس سے اس فقہی مسئلہ کو کہ کافر کو سلام جائز ہے یا نہیں، نفیا یا اثباتا کوئی تعلق ہی نہیں۔ توادع ومتارکۃ (کبیر) قال المجھور ھذا بمعنی المسالمۃ لابمعنی التحیۃ (بحر) ھذالسلام للمتارکۃ بقرینۃ المقام فلامس بمسئلۃ السلام علی الکافر جواز ومنعا بھذا المقام (تھانوی (رح) لیکن بعض نے یہ بھی کہا کہ یہ سلام رفق وآشتی ومسالمت کا ہے اور اس میں اس کی تعلیم ہے کہ سفیہ کو حلیم کی زبان سے ایسا ہی جواب ملنا چاہیے اور اس میں حق ابوت کا احترام بھی ہے۔ قیل سلام برولطف وھو جواب الحلیم للسفیہ (معالم) یعنی امالنا فلانیالک منی مکروہ ولا اذی وذلک محرمۃ الابوۃ (ابن کثیر) مقابلۃ للسیءۃ بالحسنۃ اے لا اصیبک بمکروہ (بیضاوی) 70۔ (اس طرح کہ آپ کو جیتے جی ہدایت نصیب ہوجائے کہ اسی پر مغفرت مرتب ہوتی ہے) معناہ ساسال اللہ تعالیٰ لک توبۃ تنال بھا المغفرۃ (معالم) انما استغفر لابیہ لانہ کان یرجوا منہ الایمان (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ سند ہے کافر کے لیے دعائے ہدایت کے جواز کی۔ 71۔ (اس لیے مجھے امید ہے کہ وہ میری دعا قبول بھی کرلے گا، بشرطیکہ وہ کسی حکمت تکوینی کے معارض نہ ہوئی)
Ayah 19:48

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں کنارہ کرتا ہوں تم لوگوں سے اور ان سے بھی جنہیں تم لوگ خدا کے سوا پکارتے ہو،72۔ اور میں تو اپنے پروردگار ہی کو پکاروں گا یقین ہے کہ میں اپنے پروردگار کو پکار کر محروم نہ رہوں گا،73۔

72۔ یعنی قلبا واعتقادا تو میں پہلے ہی سے علیحدہ تھا، اب سکونت بھی یہاں کی چھوڑے دیتا ہوں، چناچہ اس کے بعد آپ ملک شام کو ہجرت فرماگئے تو ان کے مخاطبین اول، مشرکین عرب کے لیے اس قصہ ابراہیمی میں خصوصیت کے ساتھ سبق ہدایت موجود ہے۔ وہ بھی نسل ابراہیمی سے تھے اور پنے کو پیرو بھی انہیں کے دین کو ظاہر کرتے تھے۔ (آیت) ” واعتزلکم “۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس میں معاند سے یکسو ہوجانے کی تعلیم ہے۔ 73۔ (بہ خلاف مشرکوں کے، جو اپنی معبودوں کو پکار کر محروم ہی رہتے ہیں) حضرت ابراھیم (علیہ السلام) پیغمبر ہیں، اور پیغمبر بھی کیسے جلیل القدر۔ اللہ کے خلیل۔ اس پر دعوی کے ساتھ یہ نہیں کہتے کہ میری دعا قبول ہی ہوجائے گی۔ بلکہ عبدیت کی پوری شان تواضع کے ساتھ اس کی صرف امید ظاہر کرتے ہیں۔
Ayah 19:49

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

پھر جب وہ کنارہ کش ہوگئے ان لوگوں سے بھیجن کی وہ لوگ اللہ کے سوا عبادت کرتے تھے تو ہم نے انہیں اسحاق (علیہ السلام) اور یعقوب (علیہ السلام) کو عطا کیا،74۔ اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا

74۔ یعنی جب آپ اپنے شہر حران (ملک کلدانیہ) سے ہجرت کرکے ملک شام میں آب سے، تو اس ترک وطن واہل وطن سے آپ دنیوی ومادی اعتبار سے بھی گھاٹے میں نہ رہے، دوسرا وطن آپ کو مل گیا۔ صاحب اولاد آپ ہوئے، اولاد در اولاد تک پیغمبر ہوئی، ساری خوشیاں اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں آپ کی اس ہجرت اور ترک وطن کا ذکر تو ریت موجودہ میں ان الفاظ میں ہے :۔” اور خداوند نے ابرام کو کہا تھا کہ تو اپنے ملک اور اپنے قرابتیوں کے درمیان سے اور اپنے باپ کے گھر سے اس ملک میں جو میں تجھے دکھاؤں گا نکل چل، اور میں تجھے ایک بڑی قوم بناؤں گا۔ اور تجھ کو مبارک اور تیرے نام بڑا کروں گا۔ اور تو ایک برکت ہوگا “۔ (پیدائش 12: 1، 2) ” سو وہ ملک کنعان میں آئے .... اور ابرام رفتہ رفتہ دکہن کی طرف گیا “ (پیدائش 12: 9) (آیت) ” اسحاق ویعقوب “۔ اسحاق بہ طور بیٹے کے اور یعقوب بہ طور پوتے کے۔ دونوں کی پیدائش حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی ہی میں ہوئی۔
Ayah 19:50

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ہم نے ان سب کو اپنی رحمت عطا کی،75۔ اور ہم نے ان سب کا نام نیک اور بلند کیا،76۔

75۔ (اور انہیں ہر طرح کی دنیوی نعمتوں اور روحانی کمالات سے سرفراز کیا) حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب (علیہ السلام) ایک طرف انبیاء مرسلین اور خاصان خدا میں سے تھے اور دوسری طرف ایک طرح کی دنیوی نعمتوں مثلا قبیلہ کی سرداری، کثرت اولاد وغیرہ سے بھی بہرہ ور تھے۔ قال الکلبی المال والولد وھو قول الاکثرین (معالم) 76۔ (آئندہ نسلوں میں) چناچہ آج تک ان تینوں کا نام دنیا کی تین بڑی قومیں مسلمان، مسیحی، یہودی، تعظیم تکریم وعقیدت ہی کے ساتھ لیتے ہیں اور ان حضرات کے حق میں (آیت) ” جعلنا لھم لسان صدق علیا “۔ کی تفسیر اس سے بڑھ کر روشن اور جلی اور کیا ہوگی، کہ مسلمان کی کوئی نماز تک مکمل نہیں ہوپاتی، جب تک ابراہیم اور آل ابراہیم (علیہ السلام) کا نام لے کر ان پر دورد وسلام نہ بھیج لیا جائے۔
Ayah 19:51

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور آپ (اس) کتاب میں موسیٰ (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کیجئے،77۔ بیشک وہ (اللہ کے) خاص کیے ہوئے (بندے) تھے اور وہ رسول تھے۔ نبی تھے،78۔

77۔ یعنی آپ لوگوں کو اس کتاب میں سے پڑھ کر سنائیے ورنہ ذکر کرنے والا تو حقیقۃ اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 61۔ (آیت) ” موسیٰ “۔ پر حاشیے سورة بقرہ پارہ اول میں گزر چکے ، 78۔ رسول اور نبی کی تفسیر میں اقوال متعدد ہیں، تتبع آیات مختلفہ سے جو بات احقر کے نزدیک محقق ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ ان دونوں کے مفہوم میں عموم وخصوص من وجہ ہے، رسول شریعت جدیدہ، خواہ شریعت اس رسول کے اعتبار سے بھی جدید ہو جیسے توریت وغیرہ یا صرف مرسل الیہم کے اعتبار سے جدید ہو جیسے اسمعیل (علیہ السلام) کی شریعت، وہی شریعت ابراہیمہ تھی، لیکن قوم جرہم کو اس کا علم حضرت اسمعیل (علیہ السلام) ہی سے حاصل ہوا۔ اور خواہ وہ رسول نبی ہو یا نہ ہو جیسے ملائکہ کہ ان پر رسل کا اطلاق کیا گیا ہے اور وہ انبیاء نہیں ہیں، یا جیسے انبیاء کے فرستادے اصحابہ جیسا سورة یسین میں ہے (آیت) ” اذ جآء ھا المرسلون “۔ اور نبی وہ ہے جو صاحب وحی ہو خواہ شریعت جدیدہ کی تبلیغ کرے یا شریعت قدیمہ کی، جیسے اکثر انبیاء بنی اسرائیل کی شریعت موسویہ کی تبلیغ کرتے تھے۔ یعنی من وجہ وہ عام ہے، من وجہ یہ عام ہے، پس جن آیتوں میں دونوں مجتمع ہیں اس میں تو کوئی اشکال نہیں کہ خاص وعام کا جمع ہونا صحیح ہے اور جس موقع پر دونوں میں تقابل ہوا ہے جیسے (آیت) ” ما ارسلنا من قبلک من رسول ولا نبی “۔ الخ چونکہ عام وخاص مقابل نہیں ہوتے اس لیے اس نبی کو عام نہ لیں گے بلکہ خاص کرلیں گے مبلغ شریعت سابقہ کے ساتھ، بس معنی یہ ہوں گے (آیت) ” ما ارسلنا من قبلک من “ صاحب شرع جدید والا صاحب غیر شرع جدید۔ لیکن چونکہ اب متبادر لفظ رسول سے صاحب نبوت ہوتا ہے اس (تھانوی (رح) (آیت) ” مخلص وہ ہے جسے اللہ نے اپنا خاص کرلیا، اور اعتقاد وعمل کی ہر طرح کی غلطی سے محفوظ کرلیا ہو۔ اے معصوما من الکفر والشرک والفواحش (ابن عباس ؓ حقیقۃ الاخلاص البشری عن کل ما دون اللہ تعالیٰ (راغب)
Ayah 19:52

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں طور کی داہنی جانب سے آواز دی اوہم نے ان کو مقرب بنایا راز کی گفتگو کے لئے،79۔

79۔ یہ گفتگو راز کی یا سرگوشی کی اس معنی میں تھی کہ اس مکالمت کے وقت اس کے سننے میں کوئی اور شریک نہ تھا۔ (آیت) ” الطور “۔ طور پر حاشیہ سورة بقرہ پارہ اول میں گزر چکا۔ (آیت) ” من جانب الطور الایمن “۔ داہنے جانب سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی داہنی جانب ہے۔ والمراد بہ یمین موسیٰ (علیہ السلام) (روح)
Ayah 19:53

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور ہم نے اپنی رحمت سے انہیں ان کے بھائی ہارون کو نبی کی حیثیت سے عطا کیا،80۔

80۔ یعنی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو، جو عمر میں بڑے تھے، حضرت ہارون (علیہ السلام) کو جو عمر میں بڑے تھے، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی اعانت وتقویت کے لیے ان کے منصب نبوت میں شریک کردینا سرتاسر ہمارا فضل وکرم ہی تھا۔
Ayah 19:54

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور آپ (اس) کتاب میں اسمعیل (علیہ السلام) کا (بھی) ذکر کیجیے،81۔ بیشک وہ وعدہ کے (بڑے ہی) سچے تھے اور رسول تھے نبی تھے،82۔

81۔ یعنی اسمعیل (علیہ السلام) (2070 ؁ تا 1933 ؁ ق۔ م) بن ابراہیم (علیہ السلام) جو اپنے والد ماجد کی چھوٹی بیوی صاحبہ حضرت ہاجرہ شہزادی مصر کے بطن سے تھے۔ مصر اس وقت مرکز تمدن تھا۔ وہاں کی شہزادی قدرۃ تہذیب و تمدن کے لوازم سے آراستہ تھیں، ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ 82۔ آپ قوم جرہم کی جانب نبی مرسل تھے، جو اصلاوابتداء یمن کے باشندے تھے، مگر اب وادی مکہ میں آباد ہوگئے تھے، اور خالص عرب تھے۔ (آیت) ” صادق الوعد “۔ یعنی یہ صفت علاوہ دوسری صفات حسنہ کے آپ پر خصوصیت سے غالب تھی، (آیت) ” رسولا نبیا “۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 78۔ یہ خیال رہے کہ قرآن مجید نے حضرت اسمعیل (علیہ السلام) کو رسول اور نبی دونوں یہاں کہا ہے، بہ خلاف اس کے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے لیے صرف نبی کا لفظ آیا ہے۔
Ayah 19:55

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتے رہتے تھے اور وہ اپنے پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے،83۔

83۔ یعنی آپ اللہ کے مقبول و برگزیدہ بندہ تھے، نہ کہ خدانخواستہ مردود وغیر مقبول، جیسا کہ یہود اور نصرانیوں نے گڑھ لیا ہے، اللہ کے ہاں پسندیدہ تو وہی ہوسکتا ہے، جو ادائے طاعات و عبادات میں درجہ کمال پر ہو۔ وھو فی نھایۃ المدح لان المرضی عند اللہ ھو الفائز فی کل طاعاتہ باعلی الدرجات (کبیر) (آیت) ” اھلہ “۔ آپ کی بیوی صاحبہ بھی مصر ہی کی ایک خاتون تھیں، توریت میں ہے :۔” اور وہ فاران کے بیابان میں رہا، اور اس کی ماں نے ملک مصر سے ایک عورت اس کے بیاہنے کو لی “۔ (پیدائش۔ 21: 21) اھل سے مراد محض گھروالے بھی ہوسکتے ہیں، جیسا کہ امام رازی اور صاحب کشاف وصاحب بیضاوی نے لیا ہے۔ اور تمام امت بھی مراد ہوسکتی ہے، جیسا کہ صاحب معالم و صاحب جلالین کا خیال ہے۔ اور حسن بصری تابعی سے بھی منقول ہے۔ اگر گھر والے بھی مراد لیے جائیں تو معنی یہ ہوں گے کہ آپ نے تبلیغ شروع ہی انہیں لوگوں سے کی۔ قیل کان یبدا باھلہ فی الامر بالصلاح والعبادۃ لیجعلھم قدوۃ لمن سواھم (کبیر) (آیت) ” یامر ...... الزکوۃ “۔ یہ وصف ایک پیغمبر کے سلسلہ فضائل میں بیان ہورہا ہے اس سے ظاہر ہے کہ اپنے اعزہ، اقارب و احباب کو عبادات بدنی ومالی کی ترغیب دلاتے رہنا کتنی بڑی فضیلت کی چیز ہے۔
Ayah 19:56

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

آپ (اس) کتاب میں اور ادریس کا بھی ذکر کیجیے بیشک وہ بڑی راستی والے تھے نبی تھیے،84۔

84۔ صدیق کے لیے ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 60، 62۔ (آیت) ” ادریس “۔ اغلب یہ ہے کہ یہ وہی نبی ہیں، جن کا نام توریت میں حنوک آیا ہے، یہ قابیل کے فرزند اکبر تھے۔ (پیدائش۔ 4: 17) یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کے پوتے۔ توریت سے ان کے مزید حالات یہ ملتے ہیں :۔” اور حنوک 65 برس کا ہوا کہ اس سے متوسلح پیدا ہوا۔ اور متوسلح کی پیدائش کے بعد حنوک 300 برس خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا، اور اس سے بیٹے اور بیٹیاں پیدا ہوئیں اور حنوک کی ساری عمر 365 برس کی ہوئی۔ اور حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا (پیدائش 5: 21۔ 23) بعض مورخین نے ان کا زمانہ 3284 ؁ تا 3017 ؁ ق، م۔ متعین کیا ہے واللہ اعلم۔
Ayah 19:57

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں بلند مرتبہ تک پہنچایا،85۔

85۔ (کمالات و مراتب روحانی کے لحاظ سے) یہودی ومسیحی عقیدہ کے لحاظ سے حضرت ادریس یا حنوک آسمان پر زندہ اٹھا لیے گئے ہیں۔ چناچہ توریت میں ہے :۔ ” اور حنوک کی ساری عمر 365 برس کی ہوئی اور حنوک خدا کے ساتھ ساتھ چلتا تھا اور غائب ہوگیا اس لیے کہ خدا نے اسے لے لیا۔ “ (پیدائش 5: 24) اور انجیل میں ہے :۔” ایمان سے حنوک اٹھالیا گیا تاکہ موت کو نہ دیکھے اور چونکہ خدا نے اسے اٹھالیا تھا، اس لیے اس کا پتہ نہ ملا “۔ (عبرانیوں 11: 5) قرآن مجید اس باب میں کوئی تصریح نہیں کرتا اور نہ کوئی حدیث صحیح ہی آپ کے رفع جسمانی کے باب میں وارد ہوئی ہے، بعض مفسرین نے اسرائیلیات سے اسی قصہ رفع جسمانی کو نقل کیا ہے۔ لیکن محققین کا قول یہی ہے کہ یہ رفعت اور مکان اور علو سب معنوی ہیں۔ ان سے مراد محض شرف نبوت اور تقرب عند اللہ ہے، جو ہر نبی کو حاصل ہے، جسمانی علو و رفعت اس سے ثابت نہیں ہوتا۔ اور روایت جو اس باب میں نقل ہوئی ہے، خود اس کے اندر کمزوری موجود ہے۔ المکان العلی الشرف النبوۃ والزلفی عند اللہ (کشاف) یعنی شرف النبوۃ والزلفی عنداللہ (بیضاوی) ھذا من اخبار کعب الاحبار الاسرائیلیات وفی بعضہ نکارۃ واللہ اعلم (ابن کثیر) وھذا لرفع لا قتضاۂ علو الشان ورفعۃ القدر (روح) رفعت اور مکان اور علوسب معنوی ہیں اور جو قصہ حسی کا مشہور ہے اگر وہ صحیح بھی ہو تب بھی تفسیر کا موقوف علیہ بنانے کی ضرورت نہیں “۔ (تھانوی (رح) اے رفعنا قدرہ وشرفناہ بالمناجاۃ (کبیر)
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں کہ ان پر اللہ نے انعام فرمایا ہے منجملہ (دیگر) انبیاء کے (جو) نسل آدم سے (تھے) ،86۔ اور بعض ان کی (نسل) سے تھے جنہیں ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا اور بعض ابراہیم،87۔ ویعقوب (علیہ السلام) کی نسل میں سے ہیں۔ اور (یہ سب) ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت دی اور ہم نے ان کو مقبول بنایا اور جب ان کے سامنے خدائے رحمن کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو (زمین پر) گر پڑتے تھے سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے،88۔

86۔ یعنی یہ سب کے سب آدمی ہی تھے۔ کوئی ان میں سے فوق البشر یا اولاد آدم سے باہر نہ تھا۔ نہ کوئی جن تھا، نہ فرشتہ، نہ کوئی دیوی دیوتا۔ (آیت) ” اولیک “۔ یعنی یہ سارے لوگ جن کا ذکر زکریا (علیہ السلام) سے لے کر ادریس (علیہ السلام) تک اب تک اس سورة میں آچکا ہے۔ 87۔ مثلا حضرت زکریا (علیہ السلام) اور حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کہ یہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) دونوں کی اولاد میں تھے اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت اسمعیل (علیہ السلام) اور خود حضرت اسرائیل (علیہ السلام) کہ تنہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں تھے۔ 88۔ (اپنی اطاعت و عبودیت کے اظہار کے لیے) اللہ کے ہاں مقبولیت، کمال عبدیت عبودیت سے الگ نہیں، اسی کا دوسرا نام ہے۔ آیت میں انبیاء کے دو قسم کے اوصاف بیان ہوئے ایک ان کا مقبول وصاحب کمال ہونا، دوسرا ان کا خشوع و خشیت باکمال عبدیت۔
Ayah 19:59

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد (بعض ایسے) ناخلف جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو برباد کیا اور خواہشات کی پیروی کی سو وہ عنقریب خرابی سے دو چار ہوں گے،89۔

89۔ (آخرت میں) (آیت) ’ خلف “۔ (بہ سکون لام) کے معنی ہیں بری اولاد، جسے ہمارے محاورہ میں ناخلف بھی کہتے ہیں یعبر عن الردی بخلف (راغب) یقال فی عقب الخیر خلف بالفتح وقیل فی عقب السوء خلف بالسکون (کشاف) (آیت) ” اضاعوالصلوۃ “۔ اضاعت عام ہے، خواہ اعتقادی بھی ہو، خواہ محض عملی۔ (آیت) ” الشھوت “۔ خواہشوں سے نفسانی ناجائز خواہشیں مراد ہیں ضروری طاعتوں سے غافل کرنے والی۔ (آیت) ” غیا “۔ غی ہر بڑی خرابی پر محیط اور حاوی ہے۔ کل شر عند العرب غی (کشاف) الغی عند العرب کل شر (بحر)
Ayah 19:60

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

البتہ جس نے توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک کام کرنے لگا سو یہ لوگ جنت میں داخل ہوں گے،90۔ اور ان کا ذرا نقصان نہ کیا جائے گا،91۔

90۔ (بےغل وغش۔ بغیر اس خرابی سے دوچار ہوئے) (آیت) ” من تاب “۔ یعنی کفر ومعصیت سے توبہ کرے۔ 91۔ یعنی یہ نہ ہوگا کہ ان کا کوئی عمل لکھنے سے رہ جائے، یا ان کے توبہ واصلاح کے بعد ان کے کفر سابق کے جرم ان پر برابر عائد ہوتے رہیں۔
Ayah 19:61

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

وہ (جنت) ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کا وعدہ غائبانہ خدائے رحمن نے اپنے بندوں سے کر رکھا ہے۔ بیشک اس کا وعدہ پورا ہو کر رہنے والا ہے،92۔

92۔ آیت میں خاص طور پر قابل لحاظ لفظ (آیت) ” بالغیب “۔ ہے ان صالحین ومومنین نے حق تعالیٰ کی آواز کو براہ راست تو سنا ہے نہیں، ان تک وعدہ الہی صرف واسطہ درواسطہ، فرشتوں اور پیغمبروں کی دوہری منزلیں طے کرتا ہوا پہنچا ہے۔ وہ اسی پر اعتماد کامل کیے ہوئے ہیں، اور یہ اعتقاد و ایمان کا درجہ اعلی ہے، جنت اور نعمائے جنت سب اسی ایمان بالغیب کا صلہ ہیں۔ (آیت) ” عدن “۔ عدن کے معنی اقامۃ کے ہیں۔ بہشت کا اصلی وصف یہ ہوگا کہ وہ فانی نہیں، باقی اور قائم رہنے والا باغ ہے، جس کا دنیا کے فانی باغوں سے کوئی مقابلہ ہی نہیں۔
Ayah 19:62

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

اس (جنت) میں وہ کوئی فضول بات نہ سنیں گے۔ ہاں البتہ سلام (کی آوازیں سنیں گے) اور انہیں اس میں ان کا کھانا صبح وشام (ملتا رہے گا) ،93۔

93۔ یعنی برابر اور علی الدوام۔ (آیت) ” لا یسمعون فیھا لغوا الا سلما “۔ اہل جنت کے کانوں میں کوئی بات بےتکی یا نکمی پڑنے ہی نہ پائے گی، جتنی آوازیں بھی آئیں گی، سب خوشگوار اور دل پسند ہی ہوں گی۔ خواہ یہ آوازیں فرشتوں کی ہوں یا دوسرے جنتوں کی۔ اے لا یسمعون فیھا الا قولا یسلمون فیہ من العیب والنقیصۃ (مدارک) (آیت) ” بکرۃ وعشیا “۔ اردو محاورہ میں بھی صبح وشام سے ایک مراد دوام ہوتی ہے، نہ کہ طلوع و غروب آفتاب کے دو متعین وقت۔ ع : چسکا پڑا ہے جام کا، شغل ہے صبح وشام کا : عربی محاورہ میں بھی مراد یہی ہے بلکہ اس سیاق میں تو اس کے سوا کوئی اور مراد ہو ہی نہیں سکتی۔ جنت میں ظلمت ہی سرے سے کہاں ہوگی، جس سے یہ متعارف صبح وشام پیدا ہوتے ہیں۔ قیل اراد دوام الرزق وورودہ کما تقول انا عند فلان صباحا ومساء وبکرۃ وعشیا ترید الدیمومۃ ولا تعقد الوقتین المعلومین (کشاف)
Ayah 19:63

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہ جنت ایسی ہے کہ ہم اپنے بندوں میں اس کا وارث اس کو بنادیں گے جو (اللہ سے) ڈرنے والا ہو،94۔

94۔ (کہ خوف خدا ہی ایمان اور عمل صالح کا مبنی اور منبع ہے) تقیا من الکفر والشرک (ابن عباس ؓ (آیت) ” نورث “۔ اہل لطائف نے لکھا ہے کہ کلمہ میراث میں اس طرف اشارہ ہے کہ جنت انعام وتفضل محض ہے، نہ کہ صلہ عمل، جس طرح میراث کے لیے محض صحت نسب کافی ہے۔ وراثت جنت کے لیے صحت ایمانی کافی ہے۔۔ حسن بصری تابعی سے ایسے ہی معنی منقول ہیں۔
Ayah 19:64

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور ہم (یعنی فرشتہ) نازل نہیں ہوتے بجز آپ کے پروردگار کے حکم کے،95۔ اسی کی (ملک) ہے جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ ہمارے پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے اور آپ کا پروردگار بھولنے والا نہیں،96۔

95۔ (ہم کوئی خود مختار تو ہیں نہیں، جو اپنے ارادہ سے آتے جاتے رہیں۔ ہم تو تمامتر امر الہی کے تابع و محکوم ہیں) یہ قول حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی زبان سے ادا کیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ پر محبوب حقیقی کے پیامات کا جو اشتیاق غالب رہتا تھا اس کے تقاضا سے ایک روز آپ (علیہ السلام) نے جبرائیل (علیہ السلام) سے کہا کہ اور زیادہ کیوں نہیں آتے ہو۔ اس کا جواب یہاں جبرئیل (علیہ السلام) کی زبان سے ادا ہورہا ہے۔ حدیث صحیح میں یہی تفسیر آئی ہے۔ قال النبی ﷺ لجبریل ما یمنعک ان تزورنا اکثر مما تزورنا فنزلت وما نتنزل الا الخ (بخاری۔ عن ابن عباس ؓ ۔ کتاب التفسیر) (آیت) ” بامر “۔ امر کے معنی آیت میں اذن کے بھی لیے گئے ہیں اور حکم کے بھی، اور لغۃ وہ دونوں کے لیے عام ہے۔ معناہ الاذن بدلیل سبب النزول المذکور ویحتمل الحکم ویحتمل ان یکون المراد ماھو اعم من ذلک (فتح) 96۔ (جیسا کہ بعض جاہلی مشرک قوموں نے قرار دے رکھا ہے) (آیت) ” لہ .... ذلک “ مالکیت اسی کے لیے محصوص ہے ہر مخلوق کی، زمانا بھی اور مکانا بھی۔ ہمارا ارادہ تو تمامتر ارادہ الہی کا مسخر و محکوم ہے۔ وہی جب اور جہاں چاہے ہمیں بھیجے۔ الغرض ان امرنا موکول الی اللہ تعالیٰ یتصرف فینا بحسب مشیئتہ وارادتہ و حکمتہ (کبیر) لا ننتقل من کان الی زمان ولا نتنزل فی زمان دون زمان الامامرہ ومشیئتہ (بیضاوی) (آیت) ” وما کان ربک نسیا “۔ اس کے لیے اس کا احتمال ہی نہیں کہ کہیں ہمارا بھیجنا مصلحت ہو اور وہ بھول جائے۔
Ayah 19:65

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

وہ پروردگار آسمانوں کا اور زمین کا ہے اور اس سب کا جو دونوں کے درمیان ہے سو تو اس کی عبادت کیا کر اور اس کی عبادت پر قائم رہ،97۔ بھلا تو کسی کو اس کا ہم صفت جانتا ہے ؟ ،98۔

97۔ (اگر چہ اس راہ میں مشکلات بھی پیش آئیں) یہاں خطاب عام ہے۔ محض رسول اللہ ﷺ مخاطب نہیں۔ بعض نے خطاب کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مخصوص سمجھا ہے۔ اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ آپ تاخیر وحی سے گھبرائیے نہیں اور کافروں کے تمسخر کی کچھ پروانہ کیجئے۔ بلکہ بدستور عبادت میں لگے رہئے۔ اے لاتتشوش بابطاء الوحی وھزأ الکفرۃ (بیضاوی) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں مجاہدات طریق کی طرف اشارہ ہے اور ان پر صبر وثبات کی تعلیم ہے۔ 98۔ یعنی ذات کی طرف صفات باری میں بھی کوئی شریک نہیں۔ (آیت) ” سمیا “۔ سمی کے معنی محض ہم نام کے نہیں۔ ہم صفات کے بھی ہیں اور وہی یہاں مراد ہیں۔ اے نظیرا لہ یستحق اسمہ وموصوفا یستحق صفتہ علی التحقیق (راغب) اے ھل تعلم للرب مثلا اوشبھا (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ قال مجاھد وابن جبیر وقتادۃ سمیا مثلا وشبھا وروی ذلک عن ابن عباس ایضا (بحر)
Ayah 19:66

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور انسان کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو بھلا پھر زندہ کرکے نکالا جاؤں گا ؟ ،99۔

99۔” انسان “ سے مراد منکر آخرت انسان، یا آج کا ” روشن خیال “۔ دہری العقیدہ انسان ہے۔ یقول استفسار استفہام کے طور پر نہیں۔ بلکہ اعتراض استہزاء کے لہجہ میں کہتا ہے۔
Ayah 19:67

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا انسان کو یہ یاد نہیں کہ ہم ہی اس کو اس سے قبل خلق کرچکے ہیں درآنحالیکہ وہ کچھ بھی نہ تھا،100۔

100۔ (تو جب عدم محض سے وجود میں لا چکے ہیں تو حیات ثانی تو اس سے کہیں آسان تر ہے) (آیت) ” ولم یک شیئا “ اس میں ردان فلاسفہ جاہلین اور معقولین نامعقولین کا بھی آگیا جو خلقت انسان سے قبل ہیولی وغیرہ کا وجود فرض کیے ہوئے ہیں۔
Ayah 19:68

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

تو قسم ہے آپ کے پروردگار کی ہم ان کو (بھی) جمع کریں گے اور شیاطین کو (بھی) پھر ان (سب) کو دوزخ کے گرد حاضر کریں گے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے،101۔

101۔ (فرط ہیبت سے) (آیت) ” الشیطین “۔ یعنی ان لوگوں کو بہکانے والے، گمراہ کرنے والے، الذین کانوا یغو ونھم (روح) الذین اغو وھم (مدارک)
Ayah 19:69

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہم ہر گروہ میں سے ان کو جداکر لیں گے جو خدائے رحمن سے سرکشی میں سب سے بڑھے ہوئے تھے،102۔

102۔ یعنی ہر فرقہ، ہر گروہ سے اس کے شریر ترین، سرکش ترین افراد چن کر الگ کرلیے جائیں گے۔ (آیت) ” من کل شیعۃ “۔ یعنی جس جس گمراہ گروہ کی طرف وہ اپنے کو منسوب کرتے رہے ہیں۔ المراد بالشیعۃ الطائفۃ التی شاعت اے تبعت نادیا من الغواۃ (کبیر)
Ayah 19:70

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

پھر ہم ہی انہیں بھی خوب جانتے ہیں جو اس میں جانے کے زیادہ مستحق ہیں،103۔

103۔ (سو پہلے وہی سرغنہ اور سردار ہی جہنم میں جھونکے جائیں گے۔ اور عذاب کی شدت اور اشدیت وغیرہ کی ترتیب وہاں بھی ملحوظ رہے گی)
Ayah 19:71

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا گزر اس تک نہ ہو یہ آپ کے پروردگار پر لازم ہے جو پورا ہو کر رہے گا،104۔

104۔ (اے نوع انسان ! ) خطاب عام نوع انسانی سے ہے۔ ایھا الناس (ابن جریر) واولی الاقوال فی ذلک بالصواب قول من قال یردھا الجمیع (ابن جریر) التفات الی الانسان (بیضاوی) قال الاکثرون انہ عام فی کل مومن و کافر (کبیر) یعنی دوزخ سے گزر تو بہرحال سب ہی کا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ مومنین کو اس سے ضرر ذرا بھی نہ پہنچے۔ جس طرح خود ملائکہ دوزخ کو دوزخ سے تکلیف مطلق نہ ہوگی، دوسرا قول یہ بھی ہے کہ یہ خطاب صرف اہل طغیان سے ہے جن کا ذکر اوپر سے چلا آرہا ہے۔ بمعنی الکفار لا یردھا مومن (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ قال عکرمۃ الایۃ فی الکفار (معالم) قال بعضھم المراد من تقدم ذکرہ من الکفار (کبیر) (آیت) ” واردھا “۔ ورود سے یہاں مراد داخلہ نہیں بلکہ محض پہنچنا یا گزر ہونا ہے۔ قال قوم لیس المراد من الورود الدخول والمراد الحضور والرویۃ (معالم) قال عبدالرحمن بن زید بن اسلم ورود المسلمین المرور علی الجسربین ظھراینھا وورود المشرکین ان یدخلوھا (ابن کثیر) قال بعضھم الورود الدنومن جھنم وان یصیروا حوالھا (کبیر) خود قرآن مجید میں بھی فعل ورد دوسرے مقامات پر اس معنی میں آیا ہے۔ مثلا (آیت) ’ فارسلوواردھم “۔ (یوسف) (آیت) ” ولما وردمآء مدین “۔ (قصص) (آیت) ” کان ..... مقضیا “۔ اہل حق کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ذمہ واجب کوئی بھی شے نہیں۔ اس کا مطلب صرف اس قدر ہے کہ حق تعالیٰ کے حق میں وجوب بہ معنی اضطرار ولزوم مواخذہ ممتنع ہو (خدا کا فعل بھی اگر اضطراری یا کوئی قابل مواخذہ ٹھہر گیا تو ظاہر ہے کہ وہ خدا کہاں باقی رہا ؟ ) لیکن یہ وجوب ولزوم اگر تیقن وقوع کے معنی میں لیا جائے تو ممنوع نہیں اور یہاں اسی معنی میں استعمال ہوا ہے یعنی اللہ کے ارادہ واختیار سے یہ ضرور پورا ہو کر رہے گا۔ یہ لزوم ووجوب اختیاری ہے اور جو ممنوع ہے، وہ غیر اختیاری واضطراری ہے۔
Ayah 19:72

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر انہیں ہم نجات دے دیں گے جو (اللہ سے) ڈرتے تھے اور ظالموں کو اسی میں پڑا رہنے دیں گے گھٹنوں کے بل گرے ہوئے،105۔

105۔ (اور ان ظالموں سے مراد کافر ہی ہیں) (آیت) ” الذین اتقوا “۔ اللہ سے ڈرتے تھے اور اس لیے مومن بھی تھے۔ درجہ ضروری میں متقی تو ہر مومن ہوتا ہے۔ اس لیے (آیت) ” الذین اتقوا “۔ سے مراد مومنین ہی لیے گئے ہیں۔ اے اتقوالشرک وھم المومنون (معالم) قال ابن عباس المتقی ھو الذی اتقی الشرک یقول لا الہ الا اللہ واعلم ان الذی قالہ ابن عباس ھو الحق الذی یشھد الدلیل بصحتہ (کبیر) جو مومن کامل ہیں انہیں تو کسی تکلیف کی ہوا بھی نہ لگنے پائے گی بلکہ دوزخ کی حالت کا معاینہ اور پھر اس سے اپنی محفوظیت کا تقابل تو اور زیادہ ان میں فرح و سرور کی کیفیت پیدا کرے گا۔ اذا شاھدو اذلک العذاب صار ذلک سببا لمزید التذاذھم بنعیم الجنۃ (کبیر) البتہ جو مومنین ناقص ہیں انہیں کچھ تکلیف اٹھانے کے بعد ہی نجات ملے گی، آیت میں جو لوگ مخاطبت صرف نافرمانوں سے سمجھتے ہیں، انہوں نے (آیت) ” الذین اتقوا “۔ سے مراد یہ لی ہے کہ ان کے اندر باوجود معاصی حقیقت ایمان موجود تھی، وہ بعد چندے نجات پاجائیں گے اور جو بالکل ظالم ہیں کافر ہی ہیں، وہ اس میں پڑے سڑا کریں گے۔
Ayah 19:73

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب انہیں ہماری کھلی ہوئی نشانیاں سنائی جاتی ہیں،106۔ تو جو لوگ کافر ہیں وہ ایمان والوں سے کہتے ہیں کہ (ہم) دونوں فریقوں میں مکان کس کا بہتر ہے اور مجلس کس کی بہتر ہے،107۔

106۔ جن کا خلاصہ یہ ہے کہ مومنین کے لیے طرح طرح کی نعمتوں اور راحتوں کے وعدے ہیں اور منکرین کے لیے طرح طرح کی وعیدیں۔ 107۔ (اور اسی سے ظاہر ہے کہ ہم دونوں میں سے حق پر کون ہے ؟ ) یہ جاہلی استدلال آج جس زور وشور سے پیش کیا جارہا ہے، پیشتر شاید کبھی نہ ہوا ہو۔ صرف اہل باطل ہی نہیں، بلکہ ان سے مرعوب بہت سے مسلمان بھی مسیحی قوموں، مشرک قوموں، لامذہب قوموں کی مثالیں پیش کر کرکے پکار پکار کر مسلمانوں سے کہہ رہے ہیں۔ کہ ان کی ترقیاں دیکھو، ان کی دولت، حکومت، عظمت، جاہ و ثروت دیکھو، ان کی اقبال مندی پر نظر کرو، اور تم اگر اپنی ترقی اور رفاہ چاہتے ہو تو انہیں کے طریقہ اختیار کرو، انہیں کی روش پر چلو اور وہی کرو جو یہ ” ترقی یافتہ “۔ اقبال مند “ قومیں کررہی ہیں۔ ” ترقی “ و ” فلاح “ نام ہی انہیں دنیا پرست قوموں کی تقلید کا ہے ! (آیت) ” للذین امنوا “۔ میں ل مخاطبت وتبلیغ کا ہے لیکن ایک قول یہ بھی ہے کہ لام اجل کا ہے یعنی مومنین کے حق میں کہتے ہیں۔ اے قالوا لاجلھم وفی حقھم (روح) (آیت) ” مقاما وندیا “۔ مقام سے مراد مکان ومنزل لی گئی ہے۔ اور ندی سے مراد مجلس ومجمع۔ مقاما اے مکانا ومنزلا (روح) ندیا اے مجلسا ومجتمعا (روح) خیر مقاما اے احسن منازل وارفع دورا (ابن کثیر) احسن ندیا ھو مجتمع الرجال (ابن کثیر) قال ابن عباس المقام المنزل والندی المجلس (ابن کثیر)
Ayah 19:74

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

حالانکہ ہم ان سے قبل کتنے ہی گروہ ہلاک کرچکے ہیں جو (ان سے بھی) بڑھ چڑھ کر تھے سامان وتمول میں،108۔

108۔ جواب ملتا ہے کہ یہ ظاہری سازوسامان، یہ دولت و حکومت، یہ زرق برق لباس تہذیب و تمدن ہی اگر دلیل حقانیت و ثبوت صداقت ہوتا تو آخر بڑی بڑی پرشوکت، پر قوت، پر ثروت نافرمان قومیں کیوں غارت ہوگئیں ؟ بابل وکلدانیہ کا تمدن کیا ہوگیا ؟ اہرام مصر والی عمارتیں کیوں زمین کے برابر ہوگئیں ؟ شاہان عجم کا کروفردہ کیا ہوا ؟ یونانیوں کا دم خم کہاں چلا گیا۔ قیصروکسری کے تاج وتخت کیوں تاراج ہو کر رہے ؟ اور آج آنکھوں کے سامنے دیکھتے دیکھتے زار روس کی حکومت قاہرہ کا تختہ کیسا الٹ کررہا۔ قیصر ولیم اور اس کے آہنی ارادے کیوں گمناہی کی نذر ہوگئے ؟ ہٹلر مع اپنے سارے سامان چنگیزی اور اتنے دم داعیہ کے کیوں فنا کے گھاٹ اتر گیا ؟
Ayah 19:75

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

آپ کہہ دیجیے کہ جو لوگ گمراہی میں پڑے ہیں خدائے رحمن انہیں خوب ڈھیل دیتا جاتا ہے،109۔ یہاں تک کہ جس چیز کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے جب وہ اس کو دیکھ لیں گے خواہ وہ عذاب ہو خواہ قیامت ہو ابھی انہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ مکان براکس کا ہے اور حمایتی کمزور کس کے ہیں،110۔

109۔ یہ اصل قانون تکوینی کا بیان ہے۔ یعنی کوئی قوم حکومت الہی سے متعلق کیسے ہی غلط سلط نظریے قائم کرے، دنیا میں اسے مہلت تو بہرحال ملتی ہی رہتی ہے اور گرفت اسی پر فورا نہیں ہوتی۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت کے عموم میں اہل باطل کے احوال کا بقاء بھی داخل ہے پس احوال پر (جب وہ اعمال سے خالی ہوں) مغرور نہ ہونا چاہیے۔ 110۔ یعنی آج جنہیں اپنی مجلسی قوت پر فخر اور اپنے تمدن پر ناز ہے، اور اسی کو وہ دلیل اپنی صداقت وحقانیت کی بنائے ہوئے، کل کشف حقائق کے وقت انہیں خود نظر آجائے گا کہ ان کے حمایتی اور ان کے جتھے والے بودے اور بےبس ہیں ! مکان اور جند اس آیت میں آیت نمبر 73 کے مقام اور ندی کے ہیں۔ (آیت) ” جندا “۔ جند کا اطلاق ہر بشری مجمع پر ہوتا ہے۔ یقال لکل مجتمع جند (راغب) یہاں مراد حمایتیوں کا گروہ یا جتھا ہے۔ الجند ھم الراعون والانصار (کشاف) (آیت) ” اضعف جندا “۔ سے یہ مراد نہیں کہ قیامت میں ان کے حمایتیوں کا گروہ ہوگا تو سہی لیکن کمزور۔ جند۔ وہاں والوں کو نہیں بلکہ یہ تو دنیا کے اہل مجلس کو کہا گیا ہے جن کی حمایت ونصرت پر اہل دنیا کو ناز وغرہ رہا کرتا ہے (آیت) ” العذاب “۔ عذاب سے مراد یہاں اسی دنیا کا عذاب لیا گیا ہے۔
Ayah 19:76

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور اللہ ہدایت والوں کی ہدایت بڑھاتا ہے اور جو نیک کام باقی رہنے والے ہیں وہ آپ کے پروردگار کے نزدیک ثواب میں بھی بہتر ہیں اور انجام میں بھی بہتر،111۔

111۔ یعنی ایک تو وہ نعمتیں خود ہی اعلی درجہ کی، اور پھر باقی اور پائدار اور غیر منقطع۔ گویا آخری حالت اہل ایمان ہی کی بہتر ہوگی، بلحاظ کیفیت بھی بلحاظ کمیت بھی۔ (آیت) ” ویزید اللہ الذین اھتدوا ھدی “۔ تو مومن کا اصل سرمایہ تو یہی ہدایت خداداد ہے، اور اس پر کوئی حد مقرر نہ ہونے سے مفہوم یہ ہوا کہ باطنی ومعنوی ترقی کی کوئی حد نہیں۔ دوسرے عارفین نے کہا ہے کہ ایمان کے لیے مراتب متفاوت ہیں، جس جس طرح اصل مقصود غیر منتہی ہے، قصد ومنزل بھی غیر منتہی ہیں اور ہر سالک کے لیے ہادی کی ضرورت باقی ہے۔ (آیت) ” البقیت الصلحت “۔ سے مراد علاوہ ایمان کے کل اعمال صالحہ ہیں جن کا ثواب دائمی اور اجر غیر منقطع ہے نہ کہ کوئی مخصوص و متعین عبادت۔ قال المحققون انھا الایمان والاعمال الصالحۃ لان نفعھا یدوم ولا یبطل (کبیر)
Ayah 19:77

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلاآپ نے اس شخص کو بھی دیکھا جو ہماری نشانیوں سے کفر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھے تو مال واولاد مل کر رہیں گے،112۔

112۔ (آخرت میں) اس کا یہ قول بہ طریق تمسخر و استہزاء تھا صحاح کی حدیثوں میں یہ روایت آتی ہے کہ ایک صحابی کا قرضہ ایک مشرک کے ذمہ باقی تھا (اور یہ معلوم ہے کہ مشرکین مکہ آخرت کے منکر تھے) جب انہوں نے اس سے تقاضا زائد کیا تو اس نے کہا کہ تم جب تک محمد ﷺ کی صداقت سے انکار نہ کرو گے میں قرضہ نہ چکاؤں گا۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ تو ہونے کا نہیں، چاہے تو مر کر بھی زندہ ہوجائے، وہ منکر از راہ تمسخر وتمرد بولا کہ اچھا جب یہ بات ہے کہ میں مر کر دوبارہ بھی آسکتا ہوں تو بس جبھی آنا اور اپنا قرضہ چکانا، میں تو اس وقت بھی صاحب مال واولاد ہوں گا۔
Ayahs 19:78–80

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

تو کیا یہ غیب پر مطلع ہوگیا ہے یا اس نے خدائے رحمن سے کوئی عہد لے لیا ہے ؟

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں (البتہ) ہم اس کا کہا ہوا ابھی لکھے لیتے ہیں اور اس کے لئے عذاب بڑھاتے ہی چلے جائیں گے

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور اس کی کہی ہوئی کی ہم ہی مالک رہ جائیں گے،113۔ اور وہ ہمارے پاس تنہا آئے گا،114۔

113۔ یعنی وہ منکر تو دنیا سے گزر جائے گا، اور اس کا اختیار نہ مال پر رہ جائے گا نہ اولاد پر۔ ہم ہی سب چیزوں کے مالک رہیں گے۔ 114۔ یعنی مال واولاد سب سے معری، بےسازوسامان، بےیارو مددگار۔