Ayah 16:121183۔ (چنانچہ انہی کے نقش قدم پر چلنے اور انہی کی ملت حنیف اختیار کرنے میں آج بھی فلاح ونجات ہے) (آیت) ” اجتبہ “۔ حضرت ابراہیم خلیل (علیہ السلام) دنیا کے تین مشہور وزبردست مذہبوں کے آج بھی مسلم مقتدا و پیشوا ہیں۔ اسلام کے، یہودیت کے، نصرانیت کے۔ (آیت) ” شاکرالانعمہ “۔ کہاں وہ اتنے شکر گزار بندہ تھے، اور کہاں تم ایسے ناشکرے نکلے۔ انعم۔ پر سوال یہ ہوا ہے کہ یہ تو جمع قلت ہے، پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پرتو بڑی کثرت سے نعمتیں نازل ہوئی تھیں، پھر ان کے لئے یہ جمع قلت کیسے آئی ؟ امام رازی (رح) نے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اس جمع قلت کا تعلق تو (شاکرا) آپ ﷺ کی شکر گزاری سے ہے، تو جب آپ قلیل نعمتوں تک کے شکرگزار تھے، تو پھر بڑی اور کثیر نعمتوں کی شکرگزار تھے، تو پھر بڑی اور کثیر نعمتوں کی شکر گزاری کا پوچھنا ہی کیا :۔ المراد انہ کا شاکرا لجمیع نعم اللہ ان کانت قلیلۃ فیکف الکثیر ۃ (کبیر)
Ayah 16:122184۔ آیت منجملہ دوسری آیات کے، اس باب میں نص قاطع ہے کہ دنیوی نعمتوں سے سرفرازی، مراتب اخروی کے ذرا بھی منافی نہیں، وھذالدفع توھم ان ما اوتیہ فی الدنیا ینقص مقامہ فی العقبی (روح) (آیت) ” فی الدنیا حسنۃ “۔ دنیا میں جتنی بھی نعمتیں ہوسکتی ہیں، سب حضرت (علیہ السلام) کی ذات میں جمع ہوگئی تھیں، مفسرین ہی نہیں، مؤرخین کا بیان کا بیان بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ (آیت) ” فی الاخرۃ لمن الصلحیں “۔ اور صالح بھی کیسے ؟ صالحیت کے اعلی ترین مرتبہ پر فائز۔ صالحین کے سرور وسردار۔
Ayah 16:123185۔ (تو پھر اے مشرکو، تم اپنے کو طریق ابراہیمی کا پیروکس منہ سے کہتے ہو ؟ ) (آیت) ” ثم اوحینا “۔ الخ۔ ثم یہاں اظہار فضیلت کے لیے ہے۔ یعنی علاوہ ان فضائل کے، سب سے بڑی فضیلت انہیں ہم نے یہ دی کہ خود محمد مصطفیٰ ﷺ کو ان کے طریقہ پر چلنے کا حکم دیا۔ فی ثم ھذہ مافیھا من تعظیم منزلۃ رسول اللہ ﷺ واجلال محلہ والایذان بان اشرف مااوتی خلیل اللہ ابراھیم من الکرامۃ واجل مااولی من النعمۃ اتباع رسول اللہ ﷺ ملتہ (کشاف) (آیت) ” ان اتبع ملۃ ابرھیم حنیفا “۔ اور وہ طریقہ ابراہیم (علیہ السلام) حنیف توحید کا مل کا تھا، چناچہ اب وہ طریقہ ابراہیمی طریقہ محمدی میں منحصر اور اسی کے مرادف ہو کر رہ گیا ہے۔ والمراد من ملۃ ابراہیم التوحید ونفی الشرک (روح) (آیت) ” حنیفا “۔ سب سے یکسو، یک رخ یعنی غیر اللہ سے رشتہ بالکل توڑے ہوئے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 182۔ (آیت) ” ملۃ۔ ابرھیم۔ حنیفا۔ وماکان من المشرکین “۔ سب پر حاشیے سورة بقرہ، پ 1، رکوع 15 میں گزر چکے ہیں۔ سورة الانعام میں بھی اسی ملتی ہوئی ایک آیت آچکی ہے، یہاں چونکہ رسول اسلام ﷺ کو ملت ابراہیمی ہی کی تجدید کا حکم مل رہا ہے، اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس خصوصیت کو پھر دہرا دیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) کی ملت بس توحید اور نفی شرک ہی کی تو تھی۔
Ayah 16:124186۔ (اپنے پیغمبروں کی ہدایات و احکام سے) (آیت) ” جعل السبت “۔ یعنی ان لوگوں پر اس روز کا تعطل توبہ ظور سزا عاید کیا گیا تھا۔ اصل دین ابراہیمی میں نہ تھا۔ (آیت) ’ ’ ہفتہ کا ساتواں دن، سنیچر، شنبہ، جو شریعت یہود میں ایک مقدس دن تھا، جس میں ہر دنیوی مشغولیت سے احتراز واجب تھا، اس پر حاشیے پہلے گزر چکے۔ (آیت) ” فیہ “۔ یعنی احکام حرمت سبت کے بارہ میں۔
187۔ یہ اختلافات خواہ آپس کے ہوں یا اپنے پیغمبروں اور ہادیوں کی ہدایات سے۔ (آیت) ” لیحکم “۔ اس فیصلہ سے فیصلہ عملی ومشاہد یعنی ترتب اجرو عذاب مراد ہے، ورنہ دلائل و شواہد کے لحاظ سے تو فیصلہ آج بھی موجود ہے۔ والمعنی انہ تعالیٰ لیحکم یوم القیمۃ للمحقین بالثواب وللمبطلین بالعقاب (کبیر)
Ayah 16:125188۔ (جس میں شدت وخشونت نہ ہو) (آیت) ’ بالحکمۃ “۔ یعنی دلائل عملی کے ساتھ۔ (آیت) ” الموعظۃ الحسنۃ “ یعنی ترغیب وترہیب سے ان کے جذبات اعلی ابھار کے۔ (آیت) ” وجادلھم بالتیھی احسن “۔ یعنی جب بحث آہی پڑے تو شائستہ عنوان سے گفتگو کیجئے۔
189۔ (سوکس نے مانا اور کس نے نہ مانا، اس کا فیصلہ اللہ ہی پر چھوڑ دیجئے۔ آپ اس تحقیق میں نہ پڑیئے)
Ayah 16:126190۔ (اور ان حدود سے آگے نہ بڑھو) انتقام کا وقت بھی نازل ہوتا ہے، مظلوم کا نفس جوش انتقام میں عموما حد سے آگے بڑھ جاتا اور اب خود ظالم ہوجاتا ہے، قرآن مجید نے اس اشتعال کے وقت جذبات پر قابورکھنے کی بار بارتاکید کی ہے، اور انتقام کو حدود کے اندر رکھنے کا خاص اہتمام فرمایا ہے، (آیت) ” وان عاقبتم “۔ خطاب اب محض رسول اللہ ﷺ سے نہیں، عام امت سے ہے، شریعت میں عام فطرت بشری کا لحاظ کرکے انتقام لینا بالکل جائز رکھا گیا ہے۔ اور اس مقام کا نام اصطلاح سلوک میں مقام رخصت ہے۔ (آیت) ” ماعوقبتم بہ “۔ یہاں عقاب محض بہ طریق مشاکلت استعمال ہوا ہے، ورنہ عقاب کے عام لغوی معنی تو کسی جرم سابق پر سزا دینے کے ہیں۔ اے بمثل مافعل بکم۔۔۔ علی نھج المشاکلۃ (روح) وان عاقبتم “۔ الخ ترکیب کلام خود کہہ رہی ہے کہ بہتر اور افضل تو انتقام نہ لینا ہی ہے۔ لیکن اگر اس پر نہ قدرت ہو اور مجرم کو سزا دینے پر ہی تل جاؤ، تو اتنی احتیاط تو بہرحال ضروری ہے کہ سزا بس جرم ہی کے متناسب ہو۔ اس سے زایدہرگز نہ ہونے پائے۔ جیسے مریض سے طبیب کہتا ہے کہ بدپرہیزی اگر کرنا ہی ہے تو فلاں مقدار سے زاید نہ کرنا۔ یعنی ان رغبتھم فی استیفاء القصاص فاقنعوا بالمثل ولا تزیدوا علیہ (کبیر) دلیل علی ان الاولی لہ ان لایفعل (کبیر)
191۔ (کہ اس سے خوب مراتب قربت بڑھتے ہیں) اس مقام کا نام اصطلاح سلوک میں عزیمت ہے۔ اسلام نے بالکل صحیح طور پر فطرت بشری کے مطابق اجازت تو انتقام لے لینے کی بھی دی ہے، لیکن مقام بلند صبر و تحمل اور عفو و درگزر ہی کا ہے۔ متعدد مفسرین نے یہاں یہ لکھ دیا ہے، کہ یہ آیت آیت قتال سے منسوخ ہے۔ لیکن جیسا کہ فخرالمفسرین رازی (رح) نے فرمایا، اور بالکل صحیح فرمایا، اسکو جہاد و قتال کے مسئلہ سے کوئی سروکار ہی نہیں، اس میں تو ایک اخلاقی تعلیم حسن ادب کی، اور لوگوں کے ساتھ زیادتی نہ کرنے کی دی گئی ہے، اور وہ اپنی جگہ قائم ہے۔ وھذا فی غایۃ البعد لان المقصود من ھذہ الایۃ تعلیم حسن الادب فی کیفیۃ الدعوۃ الی اللہ تعالیٰ وترک التعدی وطلب الزیادۃ ولا تعلق لھذہ الاشیاء بایۃ السیف (کبیر) فقہاء نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ قصاص لینے سے بڑھ کر مرتبہ عفو کردینے کا ہے، وقد دلت علی ان العفو عن القاتل والجانی افضل من الستیفاء القصاص (جصاص)
Ayah 16:127192۔ (جیسا کہ ہر شخص کا بھی صبر توفیق الہی ہی سے ہوتا ہے) مفسرتھانوی (رح) نے کہا ہے کہ بدون توفیق الہی کوئی شخص نہ صبر کرسکتا ہے اور کوئی طاعت یا حسنہ لیکن توفیق کے مراتب بھی مختلف ہوتے ہیں، گونفس توفیق مشترک رہتی ہے، انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ یہ توفیق الہی خاص اور زاید ہوتی ہے، اور ان کے اعمال میں مؤثر رہتی ہے، (آیت) ” واصبر “ یعنی آپ صبر کیے رہیے، جیسا کہ اب تک بھی کیے رہے ہیں۔ اور آپ کیوں نہ کرتے، آپ تو عزیمت کے بلند ترین مقام پر سرفراز تھے، باللہ یعنی اللہ کے لطف وتوفیق سے، اے بعون اللہ و توفیقہ (عکبری) وقال غیر واحد اے الا بتوفیقہ ومعونتہ (روح)
193۔ (اور یقین رکھیے کہ ان کی یہ بڑی سی بڑی چالیں بھی آپ کو ضرر نہ پہنچا سکیں گی) (آیت) ” ولا تحزن علیھم “۔ یعنی ان کے حال پر زیادہ غم وتأسف نہ کیجئے۔
Ayah 16:128194۔ (پھر آپ تو تقوی و احسان دونوں کے اعلی ترین مرتبہ پر ہیں، آپ کو تو اللہ کی محبت سب سے بڑھ کر حاصل رہے گی) (آیت) ” مع الذین “۔ الخ حق تعالیٰ کی یہ معیت متقین کے ساتھ اس معنی میں ہوتی ہے کہ وہ انہیں گناہوں سے بچاتا رہتا اور طاعتوں کی توفیق دیتا رہتا ہے، اور اپنی رحمت وفضل سے انہیں گھیرے رہتا ہے، ومعیۃ نصرتہ فی المامور وعصمۃ فی المحظور (مدارک) اے بالعون والنصرۃ (معالم) معیتہ بالرحمۃ والفضل اشارۃ الی التعظیم لامر اللہ تعالیٰ (کبیر) (آیت) ” الذین ھم محسنون “ یہ وہ لوگ ہیں، جو خلق کے ساتھ بہترین سلوک سے پیش آتے رہتے ہیں، اس میں مخلوق الہی کے ساتھ حسن سلوک کی فضیلت کی جانب اشارہ ہوگیا، اشارۃ الی الشفقۃ علی خلق اللہ (کبیر) محققین عارفین نے یہیں سے یہ نکالا ہے کہ فن سلوک کا خلاصہ یہی دو چیزیں ہیں، ایک امر الہی کی تعظیم، دوسرے خلق الہی کی ساتھ شفقت، ذلک یدل علی ان کمال السعادۃ للانسان فی ھذین الامرین اعنی التعظیم لامر اللہ تعالیٰ والشفقۃ علی خلق اللہ۔ اور بعض صوفیہ نے اپنی زبان میں یوں کہا ہے کہ حضرت حق کے ساتھ معاملہ صدق اور خلق کے ساتھ معاملہ خلق بس یہی طریقت کی معراج ہے۔ وعبرعنہ بعض المشائخ فقال کمال الطریق صدق مع الحق وخلق مع الخلق (کبیر)