Ayah 16:4160۔ (مشرکین معاندین کی طرف سے) (آیت) ” من بعد ما ظلموا “۔ ہجرت یعنی اپنے وطن کی سرزمین کو معہ وہاں کے دوستوں، عزیزوں وغیرہ بیشمار مرغوبات ومالوفات کے چھوڑ دینا ہمیشہ ہی نفس پر شاق گزرتا ہے، شدید مظلومیت وبیچارگی کے بعد تو نفس پر یہ دشواری کئی گنی اور بڑھ جاتی ہے۔ (آیت) ” فی اللہ “۔ یعنی اللہ کے واسطے یا اللہ کی راہ میں۔ لاقامۃ دینہ (جلالین) فی حقہ ولوجھہ (مدارک۔ بیضاوی) (آیت) ” والذین ھاجروا “۔ یہاں ذکر ان مومنین سابقین وصادقین کا ہے، جنہوں نے کفار مکہ کے مظالم سے تنگ آکر رسول اللہ ﷺ کے حکم سے، نہ صرف شہر مکہ بلکہ ملک حجاز اور سارے علاقہ عرب کو چھوڑ کر، ایک دوردراز ملک حبشہ کی جانب ہجرت کی تھی۔ ھؤلآء اصحاب محمد ظلمھم اھل مکۃ فاخرجوھم من دیارھم حتی لحق طوائف منھم بالحبشۃ (ابن جریر، عن قتادہ) (آیت) ” ھاجروافی اللہ “ اس قید سے فقہاء مفسرین نے یہ بھی نکالا ہے کہ ہجرت شریعت میں معتبر وہی ہے جو دین الہی کے خاطر ہو، ورنہ نفس ہجرت تو محض انتقال وطن کے مرادف وہم سطح ہے۔ ودل تعالیٰ بقولہ والذین ھاجروا فی اللہ ان الھجرۃ اذالم تکن للہ لم یکن لہ موقع وکانت بمنزلۃ الانتقال من بلد الی بلد (کبیر)
61۔ یعنی کاش ان بیخبر کافروں کا آخرت کے اجر بےنہایت اور راحت دائمی کا کچھ اندازہ ہوتا ! (آیت) ” کانوا یعلمون “۔ میں ضمیر غائب کافروں کی جانب ہے۔ الضمیر للکفار (کشاف) عائد الی الکفار (کبیر) (آیت) ” فی الدنیا حسنۃ “۔ چناچہ مہاجرین مکہ کو بھی مدینہ پہنچ کر بالآخر ہر طرح کی حکومت وعزت حاصل ہوگئی، اور ریاست مکہ ہی نہیں، سارا صوبہ حجاز، کل ملک عرب، بلکہ اطراف مشرق ومغرب بھی ان کے زیر نگیں آگئے۔ وھی الغلبۃ علی اھل مکۃ الذین ظلموھم وعلی العرب قاطبۃ وعلی اھل المشرق والمغرب (کبیر)
Ayah 16:4262۔ (چنانچہ وطن چھوڑتے وقت یہ بھی نہیں خیال کرتے کہ کیا کھائیں گے، کہاں سے پائیں گے) خیال رہے کہ یہ سفر ساتویں صدی عیسوی کے شروع میں خشکی اور تری دونوں سے مکہ سے سینکڑوں میل دور حبشہ کا تھا۔ بیسویں صدی عیسوی کی پر تکلف ریل گاڑیوں اور پر تعیش جہازوں میں نہ تھا۔ (آیت) ” الذین صبروا “۔ یعنی ہر طرح کی تکلیفوں اور ناخوشگو اور واقعات پر صبر سے کام لیتے رہتے ہیں۔
Ayah 16:4363۔ (نہ کسی فرشتہ، جن، یا فوق البشر، کو رسول بنا کر) مشرکین عرب دیوتا، اوتار وغیرہ کے تخیل سے تو خوب آشنا تھے، لیکن نفس رسالت، یا کسی بشر محض کا پیغمبری سے سرفراز ہوجانا ان کی سمجھ سے باہر تھا، اسی میں وہ بار بار الجھتے تھے، اور ذات مصطفوی پر اپنے نزدیک بڑا اصولی اور گہرا اعتراض یہی کرتے تھے کہ یہ کھاتے پیتے، چلتے پھرتے بشر ہو کر پیغمبر کیسے ہوگئے ؟ یہ انہی منکرین کو سنا کر آنحضرت ﷺ سے ارشاد ہورہا ہے کہ انسانوں کے لئے انسانوں کیلئے سلسلہ نبوت تو ازل سے برابر بشر ہی کے ذریعہ سے قائم ہے۔ (آیت) ” رجالا “ کے لفظ سے، یہ استدلال اور بالکل صحیح استدلال کیا گیا ہے کہ مرتبہ نبوت نبوت مردوں ہی کے لئے محدود ومحصور ہے، اور کسی عورت کے لئے اس منصب کی گنجائش ہی نہیں۔ دلت الایۃ علی انہ تعالیٰ ما ارسل احدا من النساء (کبیر) سورة یوسف کی آیت نمبر 109 میں بھی ایسے ہی الفاظ آئے ہیں۔ وہاں کا حاشیہ بھی ملاحظہ کرلیا جائے۔ (آیت) ” بالبینت والزبر “۔ امام رازی (رح) نے فرمایا، اور بہت صحیح فرمایا کہ ان دو مختصر لفظوں کے اندر سارا خلاصہ رسالت آگیا۔ البینت۔ کے اندر سارے معجزات و شواہد صدق پیغمبر۔ اور (آیت) ” الزبر “۔ کے اندر اصل احکام وہدایات۔ الزبر لفظۃ جامعۃ لکل ماتکامل بہ الرسالۃ لان مدار امرھا علی المعجزات الدالۃ علی صدق من یدعی الرسالۃ وھی البینات وعلی التکالیف التی یبلغھا الرسول من اللہ تعالیٰ الی العباد وھی الزبر (کبیر) الاولی للدلالۃ علی الصدق والثانیۃ لبیان الشرائع والتکالیف (روح) (آیت) ” بالبینت “۔ البینت کے معنی دلائل و شواہد بھی بالکل درست ہیں۔ اے بالحجج والدلائل (ابن کثیر)
Ayah 16:4464۔ خطاب مشرکین عرب سے ہے۔ اور ان سے ارشاد یہ ہورہا ہے کہ جنہیں تم بھی اہل علم سمجھتے ہو، یعنی اہل کتاب یہود ونصاری، ذرا انہی سے اس مسئلہ کے متعلق پوچھ گچھ کرکے اپنا اطمینان کرلو، مسئلہ رسالت میں، اور بشر ہی کے رسول ہونے میں تو وہ بھی مسلمانوں ہی کے ہم زبان ہیں۔ (آیت) ” اھل الذکر “۔ کے معنی اہل کتاب کے، صحابہ تابعین، ائمہ لغت و اکابر مفسرین سب سے منقول ہیں۔ اے اھل الکتاب من الیھود والنصاری (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ والحسن والسدی) واھل الذکر اھل الکتاب وقیل للکتب الذکر لانہ موعظۃ وتنبیہ للغافلین (کشاف) الذکر الکتاب فیہ تفصیل الدین ووضع الملل (قاموس) وکل کتاب من الانبیاء ذکر (تاج) الذکر الکتب المتقدمۃ (راغب)
65۔ (ان مضامین قرآنی کے اندر) (آیت) ” الذکر “۔ سے مراد یہاں قرآن مجید ہی ہے۔ (آیت) ” لتبین للناس “۔ یعنی تاکہ آپ ان مضامین کو اپنی تشریح و توضیح کے ساتھ خلق سے روشناس کردیں۔ یہ آیت قرآنی اس باب میں نص ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی حیثیت محض حامل وحی یا ” خط رساں “ کی نہیں، بلکہ شارح اور بیان کرنے والے کی بھی ہے۔ (آیت) ” ما نزل الیھم “ قرآن مجید کی اصل مخاطب، رسول اللہ ﷺ کے ذریعہ وواسطہ سے، ساری نوع انسانی ہے۔
Ayah 16:4566۔ چناچہ معرکہ بدر میں ہوا بھی یہی، کہ سرداران قریش کو اس کا گمان تک نہ تھا کہ ہم لوگ بایں سازوسامان اور بایں کثرت تعداد، تھوڑے سے اور وہ بھی بےسروسامان مسلمانوں کے ہاتھوں سے ایسی بری طرح شکست کھاجائیں گے۔ (آیت) ” الذین مکروا السیات “۔ یعنی وہ لوگ جو اسلام اور رسول اسلام کے خلاف طرح طرح کی سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ والاقرب ان المراد سعیھم فی ایذاء رسول اللہ ﷺ و اصحابہ علی سبیل الخفیۃ (کبیر) (آیت) ” یخسف اللہ بھم الارض “۔ مطلب یہ ہے کہ ان پر کوئی بھی ناگہانی مصیبت زمینی آپڑے۔
Ayah 16:4667۔ متمرد و سرکش انسان اپنی پوری کوشش اور ساری قوتیں صرف کرکے ایڑی، چوٹی کا زور لگا کر دیکھ لے، حق تعالیٰ کا کسی معاملہ میں ذرا بھی مقابلہ نہیں کرسکتا، آخر کارخود ہی ہار کر تھک کر، مجبور ہوکر، بیٹھ جانا پڑے گا۔ (آیت) ” یاخذھم فی تقلبھم “۔ یعنی نزول عذاب کے لئے اسے کسی خاص اہتمام کی ضرورت تھوڑے ہی ہے، وہ ان کے جس حال میں چاہے انہیں گرفتار کرلے۔
Ayah 16:4768۔ (چنانچہ فورا عذاب کی گرفت میں نہیں لے لیتا، بلکہ رجوع و توبہ کے لئے بار بار مہلت دیتا ہے) والمعنی انہ یمھل فی اکثر الامر لانہ رؤف رحیم فلا یعاجل بالعذاب (کبیر) مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو ہر طرح انسان کی ہلاکت و بربادی پر قادر ہے، چاہے اس کا ظاہر ذریعہ کوئی طبعی سبب مثل زلزلہ وغیرہ کے ہو، چاہے وہ کسی قوی وزبردست دشمن کو مسلط کردے، چاہے وہ یونہی چلتے پھرتے ہلاک کردے، اور چاہے پہلے جتا کر، بتلا کر، متنبہ کرکے کوئی سامان ہلاکت کا پیدا کردے۔ (آیت) ” یاخذھم علی تخوف “۔ یعنی بار بار بلائیں لاکر، تدریحا لوگوں کو ہلاک کردے، اے یاخذھم علی ان ینقصھم شیئا بعد شیء فی انفسھم واموالھم حتی یھلکوا (کشاف) تنقص شیئا فشیئا حتی یھلک الجمیع (جلالین) (آیت) ” تخوف “۔ کے اصلی معنی انسان میں ظہور خوف کے ہیں۔ التخوف ظھور الخوف من الانسان (راغب) اور اس مصدر سے جو فعل متعدی آتا ہے، اس کے معنی اثر خوف سے گھٹانے کے ہیں۔ وتخوفناھم اے تنقصناھم تنقصا اقتضاء الخوف (راغب)
Ayah 16:4869۔ یعنی کیا یہ لوگ اس پر غور نہیں کرتے کہ تکوینی طور پر اس کائنات کی ایک ایک چیز، یہاں تک کہ سایہ دار چیزوں کے سائے بھی، حکم الہی کے مطیع ومنقاد ہیں۔ مشرک جاہلی قوموں میں سایہ دار چیزیں قانون الہی میں ہی کی محکوم ہیں۔ (آیت) ” ظللہ “۔ مفسرین قدیم نے لکھا ہے کہ سایہ کے موجبات ومسببات، حرکت سایہ کے اسباب، پھر سایہ کے خواص یہ سب حکم الہی ہی سے ہیں۔ (آیت) ” سجدا للہ۔ سجدا “ یہاں اپنے اصلی معنی میں ہے، یعنی فرمانبردار، جیسا کہ ہر مخلوق کو اپنے خالق اور فاعل حکیم کے روبرو ہونا ہی چاہیے۔ ھذا سجود تسخیر وھو الدلالۃ الصامتۃ الناطقۃ المنبھۃ علی کونھا مخلوقۃ وانھا خلق فاعل حکیم (راغب) المراد بھذا لسجود الانقیادو التواضع (کبیر) (آیت) ” وھم دخرون “۔ یعنی یہ سایہ دار چیزیں سب اسی کی مطیع وفرمانبردار ہیں۔ داخرون اے اذناء (راغب)
Ayah 16:4970۔ (تکوینی طور پر) (آیت) ” یسجدا۔ سجودیہاں اپنے اصل مفہوم، انقیاد واستلام کے معنی میں ہے۔ آیت کا حاصل یہ ہے کہ مخلوق کو چھوٹی یا بڑٰ کوئی سی بھی ہو اور عالم ارواح یا عالم اجسام میں کہیں بھی ہو، سب کی سب عظمت الہی کی مسخر ومنقاد ہیں۔ اے کل ماسوی اللہ سواء کان من عالم الارواح او من عالم الاجسام فھو منقاد خاضع الجلال اللہ تعالیٰ وکبریاۂ (کبیر)
71۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی مطیع ومنقاد جب تکوینی طور پر، زمین و آسمان کی ساری ہی زندہ ومتحرک مخلوق ہے، اور سب سے بڑھ کر خود فرشتے جو ایک لحاظ سے اعظم مخلوقات ہیں اور مشرکوں نے انہی کو دیوی دیوتا قرار دیا اور خدا کا مدمقابل سمجھا ہے، وہ تو خاص طور پر مطیع ومنقاد ہیں، تو ان مشرکوں بیچاروں کی بساط ہی کیا ہے، (آیت) ” یستکبرون “۔ کے باب استفعال سے بعض نے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ ملائکہ کے دل میں اپنی بڑائی کی طلب تک نہیں پیدا ہوتی، چہ جائیکہ خود بڑائی کرنے لگیں۔ لایطلبون ذلک فضلا عن فعلہ والاتصاف بہ (روح) (آیت) ” من دآبۃ “۔ دابۃ کے معنی یہاں جاندار کے بھی کئے گئے ہیں، اور متحرک کے بھی۔ اور سجدۂ انقیاد کے ایک سرے پر دابۃ اور دوسرے سرے پر ملائکہ کو لاکر گویا یہ بتادیا کہ ادنی سے لے کر اعلی تک ہر ذی حیات زنجیر انقیاد میں یکساں جکڑا ہوا ہے۔ بین بھذا الایۃ ان الحیوانات باسرھا منقادۃ للہ تعالیٰ لان اخسھا الدواب واشرفھا المآئکۃ (کبیر)
Ayah 16:5072۔ یہ سب دیوتا پرستی اور ملائکہ پرستی کی تردید میں ارشاد ہورہا ہے۔ (آیت) ” من فوقھم “ فوق سے یہاں کھلی ہوئی مراد فوقیت معنوی یا غلبہ ہے۔ ورنہ محض سمت یا جہت کے فوق سے تو خوف پیدا ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ المراد بالفوقیۃ الفوقیۃ بالقھر والقدرۃ لانھاھی الموجبۃ للخوف (کبیر) اے عالیا علیھم بالقھر (جلالین) راغب نے فوق کے استعمال کے چھ موقع بتائے ہیں۔ مکان، زمان، جسم، عدد، منزلت اور انہی میں سے ایک معنی فوقیت بہ اعتبار قہر و غلبہ کے رکھے ہیں، تو ریت موجودہ میں بعض فرشتوں کو عاصی ونافرمان فرشتہ کہہ کر پیش کیا گیا ہے۔ قرآن مجید اس تخیل کی جڑ ہی کاٹے دیتا ہے۔ قرآن فرشتوں کو بار بار تمامتر معصوم ہستی کی حیثیت سے پیش کرتا ہے۔ وھی دلالۃ قاھرۃ قاطعۃ علی عصمۃ الملائکۃ عن جمیع الذنوب (کبیر) (آیت) ” یخافون ربھم “۔ سوال یہ ہوا ہے کہ ملائکہ سے جب معصیت کا امکان ہی نہیں، تو وہ پروردگار سے ڈرتے کیوں رہتے ہیں ؟ جواب یہ ہے کہ یہ خوف وہ نہیں، جو اپنی معصیت سرشتی سے پیدا ہوتا ہے، بلکہ یہ وہ خوف ہے جو محض عظمت الہی کے احساس اور حق تعالیٰ کی ہیبت واجلال سے پیدا ہوتا ہے۔ اس قسم کا خوف جو عوام سے کہیں زیادہ خواص واہل معرفت کے دلوں میں اور سب سے بڑھ کر حضرت انبیاء کے سینوں میں موجزن رہا کرتا ہے۔ امام المفسرین رازی (رح) نے بہت خوب فرمایا ہے۔ ذلک الخوف خوف الاجلال ھکذا روی عن ابن عباس ؓ والدلیل علی صحتہ قولہ تعالیٰ انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء وھذا یدل علی انہ کلما کانت معرفۃ اللہ اتم کان الخوف عنہ اعظم وھذا الخوف لایکون الا خوف الاجلال والکبریاء (کبیر) اور جب عصمت ملائکہ کی یہ ایک اصل سمجھ میں آگئی تو اس سے خود بخود بہت سے بےسند اور غلط لیکن زبان زد عوام قصوں کی جڑ کٹی جاتی ہے، جن میں فرشتوں کو کبائر کے مرتکب کی حیثیت پیش کیا گیا ہے۔ مثلا ہاروت وماروت کی بدنامی زہرہ کے ساتھ، یا خود ابلیس کا زمرۂ ملائکہ میں سے سمجھا جانا ہے۔
Ayah 16:5173۔ (جیسا کہ مجوس نے اور بعض اور بددین فرقوں نے قرار دے رکھا ہے۔ قرآن مجید جس طرح شرک کی اور ہر صورت کو مٹا رہا ہے اسی طرح ثنویت کو بھی، مزید تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” وقال اللہ) یعنی اللہ نے اپنی مخلوق کو پیغمبروں کے ذریعہ سے یہ حکم دے رکھا ہے۔
74۔ (کہ میں ہی ہر طرح کے انعام اور عتاب پر قادر ہوں) ھو (صیغہ غائب) کے معا بعد (آیت) ” ایای (صیغہ متکلم) کی طرف انتقال پیدا ہوجاتا ہے۔ وھو من طریقۃ الالتفات وھو ابلغ فی الترھیب من قولہ ایاہ فارھبوہ (کشاف)
Ayah 16:5275۔ (پھر اس میں کسی دوسرے دین کی شرکت کے کیا معنی) واصب کے معنی واجب وثابت کے ہیں۔ الواصب الواجب الثابت (کشاف) اور دین واصب سے جزائے دائمی بھی مراد لی گئی ہے یعنی عذاب وثواب۔ والہ الجزاء ثابتہ دائما سرمدا لایزال یعنی والثواب والعقاب (کشاف) اے لہ تعالیٰ الجزاء دائما لاینقطع ثوابہ للمطیع و عقابہ للعاصی (روح)
76۔ شرک کی اصل وبنیاد عموما اسی غیر اللہ کے خوف پر ہوتی ہے۔ مشرک انسان سمجھتا یہ ہے کہ فلاں فلاں طاقتیں ایسی ہیں جو مجھے نقصان پہنچا سکتی ہیں سوا نہیں رکھنے کے لئے ان کے آگے یوں نذر ماننی چاہیے، یوں بھینٹ چڑھانا چاہیے، وقس علی ہذا۔ (ملاحظہ ہو حاشیہ انگریزی تفسیر القرآن) قرآن نے اسی پر ضرب لگائی ہے :۔
Ayah 16:5377۔ (اس کے رفع کرنے کو) یہاں اس حقیقت کو یاد دلادیا ہے کہ جو اور جس قسم کی بھی نعمت انسان کو حاصل ہے، اس کا سر چشمہ ذات خداوندی ہی ہے اور اس سے بڑھ کر یہ کہ انسان کو خود بھی اس کا احساس ہے، چناچہ جب اس پر مصیبت پڑتی ہے، تو وہ بےساختہ خدا ہی کو یاد کرنے لگتا ہے۔ فخرالمفسرین رازی (رح) آیت کے تحت میں لکھتے ہیں کہ آج یکم محرم 602 ہجری کو جب میں اس آیت کی تفسیر لکھ رہا ہوں، صبح کے وقت شدید زلزلہ آیا، اور لوگ دعاوتضرع میں مصروف ہوگئے، لیکن جب زلزلہ ختم ہوگیا، تو اسے بھول بھال کر پھر غفلت میں پڑگئے، اور اپنے کام کاج میں لگ گئے۔ (آیت) ” تجزؤن “ یعنی گڑ گڑاتے ہو، دہائی دیتے ہو، فریاد کرتے ہو، جوار کے لفظی معنی جنگلی جانوروں کے چلانے کے ہیں، اے ترفعون اصواتکم بالاشتغاثۃ وتتضرعون الیہ بالدعاء (کبیر) والجؤار فی الاصل صیاح الوحش واستعمل فی رفع الصوت بالدعاء والاستغاثۃ (روح)
Ayahs 16:54–5578۔ (اپنی نعمتوں میں سے) اور رفع تکلیف تو خود ہی ایک بڑی نعمت ہے۔ (آیت) ” لیکفروا “ َ میں ل عاقبت کا ہے۔ اللام لام العاقبۃ (روح)
79۔ (کہ اس کفر وشرک کا انجام کیا ہوتا ہے) سوف، عنقریب یعنی مرتے ہیں۔
Ayah 16:5680۔ یعنی یہ مشرکین ہماری ان نعمتوں میں جو ہم نے انہیں دے رکھی ہیں، ان معبودوں کا بھی حصہ لگاتے ہیں، جن کے معبود ہونے ہی پر کوئی دلیل ان کے پاس نہیں۔ ذکر مشرکین عرب کا ہورہا ہے۔ ان کی ان خصوصیات کا ذکر سورة الانعام (پارہ نمبر 8) میں آچکا ہے۔ (آیت) ” لما لایعلمون “۔ وہ جن کی بابت ان کے پاس نہ کوئی علم ہے نہ ثبوت ہے نہ تحقیق ہے۔ بس بلادلیل وحجت اندھا دھند انہیں اپنا دیوتا مانے جاتے ہیں۔
81۔ (اے مشرکو ! ) موقع تہدید پر صیغہ ایک طرف تو غائب سے مخاطب ہوا اور دوسری طرف متکلم سے غائب کا ہوگیا۔ (آیت) ” تاللہ “۔ زور وتاکید کے موقع پر قسم کا لانا عربی اسلوب بیان کی ایک صناعت ہے (آیت) ” تاللہ “۔ حرف قسم کات کے ساتھ لانا لفظ اللہ ہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ (آیت) ” لتسئلن “۔ باز پرس سے مؤاخذہ حشر مراد ہے۔
Ayah 16:5782۔ یعنی اولاد نرینہ مطلب یہ ہوا کہ ایک تو حق تعالیٰ کی جانب اولاد کا انتساب خود ہی کیسی جہالت وسفاہت ہے، اور پھر اولاد میں بھی حق تعالیٰ کیلئے وہ صنف، جسے اپنے نزدیک حقیر و ذلیل جانتے ہو یعنی لڑکے کے بجائے لڑکیاں ! اور بیٹوں کو اپنے لئے مخصوص رکھتے ہو ! (آیت) ” ویجعلون للہ البنت “۔ روایتوں میں آتا ہے کہ یہ بلاقریش کے قبائل بنی خزاعہ اور بنی کنانہ میں زائد تھی، وہی ملائکہ کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے۔ ھم خزاعۃ وکنانۃ (روح)
Ayah 16:5883۔ (کہ کیسی عار وننگ کی چیزخاندان میں آئی) لڑکی سے عارآنے کی بلاقبائل قریش کے علاوہ، یوں بھی دنیائے شرک میں عام رہی ہے۔
Ayah 16:5984۔ (یہ سوال مشرک باپ کے دل میں برابر گردش کرتا رہتا ہے) ۔ عرب میں قبیلہ تمیم اس بلا میں خاص طور پر مبتلا تھا، لیکن دنیا کی تاریخ میں مشرک قوموں نے بہ کثرت اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر کردیا ہے۔ ہسٹورینس ہسڑی آف دی ورلڈ میں ہے :۔ ” دختر نوز اد کو زندہ دفن کردینے کا دستور بہت عام رہا ہے۔ “ (جلد 8۔ صفحہ 8) ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ دختر کشی کے اسباب ومحرکات دوگانہ تھے۔ کبھی تو لڑکی کا وجود باعث عار سمجھتے تھے، اور شرم وحیا کے مارے اسے مار ڈالتے تھے، اور کبھی اس کے بارے مصارف کے خیال سے، وھم کانوا یفعلون ذلک تارۃ للغیرۃ والحمیۃ وتارۃ خوفا من الفقر والفاقۃ ولزوم النفقۃ (کبیر) اور یہ آخری محرک یورپ کی جدید تحرید ” برتھ کنڑول “ کا بالکل نقش اول تھا۔
85۔ (کہ اول تو خدا کو صاحب اولاد ٹھیرایا اور پھر اس میں بھی اس کیلئے بیٹی تجویز کی ! ) یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ لڑکی کے نام سے اتنی چڑھ، اور اس کے ساتھ یہ شقاوت کا برتاؤ، سب ان کی عقل کی کیسی بدترین تجویزیں ہیں :۔
Ayah 16:6086۔ یعنی تمام صفات کمال و جمال، خصوصا قدرت کاملہ اور نزاہت۔ (آیت) ” مثل السوء “۔ دنیا میں بری حالت یہ کہ ایسے شدید جہل وحمق میں مبتلا رہے، اور آخرت میں یہ کہ ہر طرح کی عقوبت وذلت کے شکار ہوں گے۔
87۔ چناچہ اسم عزیز کے تقاضہ سے ہر وقت سزا دینے پر قادر لیکن اسم حکیم کے تقاضہ سے سزائے شرک کو موت کے وقت تک ملتوی کردیا ہے۔
Ayah 16:6188۔ یعنی بدکار تو بہرحال اپنی بدی کے پاداش میں ہلاک کر ہی دیے جاتے، اور جب وہ باقی ہی نہ رہ جاتے، تو نیک کاروں کا وجود بھی بےمعنی رہ جاتا، اگر دنیا میں ظلم اور ظالم کا وجود نہ باقی رہے تو کوئی انصاف کس کے مقابلہ میں کرے گا ؟ دنیا میں کوئی مفلس نہ باقی رہے، تو صفت فیاضی کے ظہور کی کیا صورت باقی رہے گی ؟ مصیبت زدوں کے وجود سے دنیا خالی ہوجائے، تو کوئی ہمدردی اور شفقت کیلئے کس کو تلاش کرے گا ؟۔ غرض انسانی آبادی تو ساری کی ساری یوں ختم ہوجاتی۔ اور جب کوئی انسان نہ زندہ رہتا، تو پھر حیوانات کی بھی ضرورت نہ رہ جاتی جو تمامتر انسان ہی کی خدمت کے لئے ہیں۔ (آیت) ” دآبۃ “۔ کے معنی انسان کے لئے بھی لئے گئے ہیں۔ لیکن مفہوم کا عموم ہی بہتر سمجھا گیا ہے، جس میں ہر جاندار آجائے، قال ابو عبیدۃ عنی انسان خاصۃ والاولی اجراؤھا علی العموم (راغب) (آیت) ” علیھا “۔ ضمیرھا زمین کی جانب ہے۔ اے علی الارض (بیضاوی) الکنایۃ فی قولہ علیھا عائدۃ الی الارض (کبیر) (آیت) ” بظلمھم “۔ ظلم یہاں ہر قسم کے کفر ومعصیت کو شامل ہے۔ اے بسبب کفرھم رمعاصیھم (روح) بکفرھم ومعاصیھم (بیضاوی)
89۔ (بلکہ ٹھیک ٹھیک قدرتی پروگرام کے مطابق ہی ہلاک ہو کر رہیں گے)
Ayah 16:6290۔ کسی اخروی زندگی کے اول تو یہ قائل ہی نہیں اور جو قائل ہیں بھی تو وہاں اپنے لئے چین ہی چین سمجھ رہے ہیں۔ (آیت) ” ویجعلون للہ مایکرھون “۔ مشرکانہ مذہبوں پر نظر ہو، تو اندازہ ہو کہ ان لوگوں نے کیسی کیسی پست بلکہ سرتاسر گندی باتیں اپنے دیوی دیوتاؤں بلکہ خود معبود اعظم کے حق میں گڑھ رکھی ہیں !۔
91۔ (دوزخ میں) یعنی یہ لوگ تو دوسرے اہل جہنم کیلئے بہ طور مقدمۃ الجیش کے ہوں گے۔ (آیت) ” مفرطون “۔ فرط اسے کہتے ہیں جو اپنے ساتھیوں سے آگے دوڑ کر انہیں پانی تک پہنچا دے۔ مفرطون اے معجلون قال الواحدی ھو الاختیار ووجھہ ما قال ابو زید وغیرہ فرط الرجل اصحابہ یفرطھم فرطا وفروطا اذا تقدمھم الی الماء الیصلح الدلاء (کبیر)
Ayah 16:6392۔ (اس لئے وہ لوگ پیغمبروں کی تعلیمات سے غیر متاثر رہ کر اپنے کفریات ہی کو پسند کرتے رہے) (آیت) ” زین۔۔۔ اعمالھم “۔ شیطانی تحریک اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ ایسی چیزوں کو جو واقعی حسن و زیبائی سے خالی ہیں، ظاہری اور عارضی خوشنمائی دے دیتی ہے۔ چناچہ جتنے بھی شیطانی اعمال ہیں، ان کا جائزہ لے ڈالیے، سب میں یہی چیز مشترک ملے گی، شرابی کو فوری اور عارضی لذت شراب میں محسوس ہوتی ہے، سینما باز کو سینما میں، جواری کو جوئے میں، وقس علی ھذہ۔ اس سے بچنے کا آسان اور مؤثر طریقہ صرف عقل اور قوت فکر کا صحیح استعمال ہے۔ جہان انسان نے غور وتأمل سے کام لیا، اور اشیاء کا اصلی حسن وقبح اس کی نظر میں ظاہر ہونے لگا، شیطانی ترغیبات کی کشش بھی اس کے لئے ازخود مفقود ہوجاتی ہے :۔
93۔ (اور یہ پچھلے بھی انہی اگلوں کی طرح کفر کررہے ہیں۔ تو یہ سزا بھی لامحالہ انہی کی سی پائیں گے۔ آپ ان کیلئے غم وتردد میں نہ پڑئیے) المراد منہ کفار مکۃ (کبیر) (آیت) ” الیوم “۔ آج یعنی اسی دنیا میں (آیت) ” فھو ولیھم الیوم “۔ یعنی شیطان ان کارفیق رہ کر انہیں طرح طرح کی پٹی پڑھاتا رہتا ہے۔
Ayah 16:6494۔ یعنی یہ کتاب الہی مومنین کے حق میں سراسر ہدایت و رحمت ہے۔ اور آپ ﷺ پر یہ اس لئے نازل ہوئی، کہ آپ ﷺ ان اہل باطل اور اہل حق کے درمیان جو معتقدات نزاعی ہیں، مثلا توحید یا معاد، اس باب میں مسلک حق کی خوب توضیح وتشریح کردیں، (آیت) ” لتبین “۔ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو صاف کردیا کہ پیغمبر کا منصب محض من وعن، پیام پہنچا دینے کا نہیں، بلکہ اس کی شرح وترجمانی کردینے کا بھی ہے۔
Ayah 16:6595۔ (ان باتوں کو گوش ہوش سے) (آیت) ” واللہ۔۔۔ الارض “۔ اوپر سے پانی برسانی اور اس سے زمین خشک و مردہ کو از سر نو سرسبز کردینا، جو روز مرہ کا مشاہدہ ہے، یہ کام سب حق تعالیٰ ہی کا ہے، کسی دیوی دیوتا کا نہیں، اور نہ انسان کے اپنے بس کا۔ (آیت) ” لایۃ “۔ یعنی اللہ کی قدرت، ربوبیت، صناعی کی بڑی دلیل ہے۔ نباتات کی حیات تازہ ونو سے حشر وبعث اجساد کی طرف ہر فطرت سلیم والے کا ذہن آسانی سے منتقل ہوسکتا ہے۔
Ayah 16:6696۔ ان گھریلو جانوروں کی ساخت و ترکیب اور ان کے اعضاء کے افعال میں جو صدہا عجائب ہیں، ان کی تفصیلات بیالوجی (حیاتیات) اور زوآلوجی (حیوانیات) کے ہر ماہر پر روشن ہیں۔ یہ سب صناعیاں اور حکمتیں پتہ کس چیز کا دیتی ہیں ؟ ایک صناع اعظم کا، ایک حکیم مطلق کا (آیت) ” لعبرۃ “۔ عبرۃ کہتے ہیں معلوم سے مجہول اور مشاہد سے غیر مشاہد تک پہنچنے کو والعبرۃ مختصہ بالحالۃ التی یتوصل بھا من معرفۃ المشاھد الی ما لیس بمشاھد (راغب)
97۔ جہاں سے گوبر اور خون وغیرہ گندی چیزیں اور فضلے پیدا ہوتے ہیں، وہیں سے دودھ جیسی نفیس پاکیزہ نعمت انسان کے لیے تیار کردینا جس کے آگے بڑے سے بڑے کیمیا دان اور کیمیا ساز مع اپنی ساری تجربی کار گاہوں کے دنگ رہ جائیں، اگر ایک کھلی ہوئی دلیل ایک صناع اعظم کے وجود پر نہیں، تو اور کیا ہے ؟ (آیت) ” بطونہ “۔ میں ضمیر واحد مذکر غائب اس چیز کے لئے ہے، جس کا ذکر اوپر آچکا ہے، اور یہ معنی لے کر (آیت) ” انعام “ کے لئے بجائے مؤنث کے ضمیر مذکر واحد جائز ہے۔ کسائی اور مبرد نے یہی کہا ہے، اور قرآن مجید ہی سے اس کی سندیں پیش کی ہیں۔ اے فی بطون ما ذکرنا وھذا جواب الکسائی قال المبرد ھذا شائع فی القران (کبیر) (آیت) ” سآئغا “۔ سائغ وہ مشروب ہے جو لذت یا آسانی کے ساتھ حلق سے اترے۔ معناہ جاریا فی حلوقھم لذیذا ھنیئا (کبیر) سھل المرور فی الحلق (کشاف)
Ayah 16:6798۔ (کہ ایک ہی مادہ سے کہاں ایک طرف مسکرات جیسی گندی چیزیں تیار کردیں اور کہاں دوسری طرف لطیف وپاکیزہ مشروبات وماکولات، عرق، شربت، مربے وغیرہ) (آیت) ” سکرا ورزقا حسنا “۔ گویا ایک ہی مادہ میں سم وتریاق دونوں کی خاصیتیں رکھ دیں۔ (آیت) ” النخیل والاعناب “۔ انگور اور کھجور دونوں کی شرابیں مشہور شرابیں ہیں، عرب میں بھی مشہور تھیں، اور آج یورپ میں بھی مشہور ہیں۔ (آیت) ” سکرا “۔ سکر کے لفظ پر سوال پیدا ہوا ہے کہ نشہ کا ذکر محل مدح پر قرآن مجید نے کیسے کردیا ؟۔ جواب یہ ہے کہ اول تو یہاں مقصود مدح نہیں۔ بلکہ ذکر صرف اس کا ہے کہ خرمے اور انگور سے فلاں فلاں کام لئے جاسکتے ہیں، اور مخاطب صرف مومنین نہیں، بلکہ کافر بھی شامل ہیں، اور وہ برابر ان پھلوں سے نشہ کا کام لیتے رہتے ہیں، اس لئے اس ذکر میں مطلق مضائقہ نہیں، دوسرے یہ کہ آیت مکی ہے، اور نشہ کی حرمت اس وقت تک ہوئی نہیں تھی، اس پر بھی قرآن مجید نے سکر کو رزق حسن سے علیحدہ وممتاز کرکے ظاہر کردیا، کہ یہ دو بالکل مختلف قسم کے کام انہیں پھلوں سے لئے جاسکتے ہیں۔
Ayah 16:6899۔ چناچہ شہد کی مکھیاں اپنا چھتا انہیں مقامات پر لگاتی ہیں، ان مکھیوں کا چھتا بھی صنعت وکاریگری کا ایک حیرت انگیرنمونہ ہوتا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ کسی مہندس یا انجینئر نے اسے تیار کیا ہے۔ (آیت) ” اوحی “۔ وحی یہاں اصطلاحی مفہوم میں نہیں، جو وحی نبوت کے مرادف ہے۔ بلکہ اپنے عام ووسیع معنی میں ہے، دل میں بات ڈال دینے کے مرادف ہے۔ واصل الوحی الاشارۃ السریعۃ (راغب) اے انہ تعالیٰ قرر فی انفسھا ھذہ الاعمال العجیبۃ (کبیر) ماہرین نفسیات انگریزی میں جس شے کو (جبلت) سے تعبیر کرتے ہیں، وہ وحی حیوانی ہی کا دوسرا نام ہے۔ اور علامہ راغب نے اسی مفہوم کو ” تسخیر “ سے ادا کیا ہے۔ (آیت) ” النحل “۔ شہد کی مکھی اپنی فراست، دانائی کے لحاظ سے ساری حیوانی دنیا میں مشہور وممتاز ہے۔ فرنگی ماہرین فن نے کتابوں پر کتابیں ان مکھیوں کی فراست و دانائی اور حسن انتظام و تدبر پر لکھ ڈالی ہیں۔ حق تھا کہ اس ننھی سی مخلوق کی ذہانت خاصہ کو وحی الہی اپنی جانب منسوب کرتی (آیت) ” ممایعرشون “۔ سے مراد عمارتیں بھی ہوسکتی ہیں، اور انگور وخرما کی ٹہنیاں بھی۔ (آیت) ” من الجبال من الشجر مما یعرشون “۔ میں ہر جگہ تبعیضیہ ہے۔ یعنی یہ مراد نہیں کہ مکھی اپنا چھتا ہر پہاڑ، ہر درخت، ہر اونچی عمارت پر لگاتی ہے، بلکہ مراد یہ ہے کہ ان چیزوں میں سے جو بھی اسے مناسب معلوم ہوتی ہیں، ان پر لگاتی ہے۔
Ayah 16:69100۔ ان مکھیوں کا ایک ایک پھل پھول پر رس چوسنے کیلئے بیٹھتے رہنا اور میلوں کا سفر طے کرکے، بغیر راستہ بھولے بھٹکے، اپنے چھتے کی طرف واپس آجانا ایک مشہور عالم واقعہ ہے۔ (آیت) ” سبل ربک “۔ راستوں کا انتساب حق تعالیٰ نے اپنی جانب کیا ہے۔ شہد کی مکھیوں کے آنے جانے کے راستہ اس حکمت سے بنانا صرف اسی ذات کا کام ہے، جسے اور راستے خاص اس مکھی کیلئے مسخر ومنقاد ہیں۔
101۔ کوئی آٹھ نو قسم کے شہد تو اکیلے ملک عرب ہی میں ہوتے ہیں۔ (آیت) ” شراب “۔ کہ اسی شیریں مشروب کو شہد کہتے ہیں۔
102۔ (بہت سی بیماریوں سے) شہد کے منافع و فضائل طب یونانی (عربی) ، طب ہندی (ویدک) طب افرنگی (ڈاکٹری) سب کو مسلم ہیں، اور یہاں اگر اس کے فوائد نقل کئے جائیں، تو خود ایک مستقل مقالہ ہوجائے۔
103۔ (اور یہ خیال میں لاتے ہیں کہ قدرت حق نے ایک زہریلے نیش زن جانور سے کیسی حیرت انگیز، شفا بخش چیز پیدا کردی) (آیت) ” الایۃ “۔ نشانی حق تعالیٰ کی قدرت کاملہ اور حکمت بےانتہاء کی۔
Ayah 16:70104۔ (جیسا کہ بہت زیادہ پیرانہ سالی کے وقت اکثر مشاہدہ میں آتا رہتا ہے) یہ پیدا کرنے کا، موت دینے کا، بعض کو پیر فرتوت بنادینے کا، سارا کام صرف حق تعالیٰ ہی کا ہے، کوئی اس میں اس کا شریک وسہیم نہیں، یہ نہیں کہ پیدائش کا دیوتا کوئی اور ہے، موت کا کوئی اور، اور زندہ رکھنے کا کوئی اور۔ (آیت) ” ارذل العمر “۔ یعنی عمر کی وہ منزل کہ جب نہ قوت جسمانی ہی برقرار رہے، اور نہ قوت دماغی، (آیت) ” لکی “ میں ل عاقبت یا نتیجہ کا ہے۔
105۔ وہ اپنی صفت علم اقتضاء سے ہر شخص کی ضرورت ومصحلت کا علم رکھتا ہے، اور صفت قدرت کے اقتضاء سے ویسا ہی اس کا انتظام بھی کردیتا ہے۔
Ayah 16:71106۔ (تکوینی مصلحتوں سے) آیت سے اس حقیقت پر پوری طرح روشنی پڑگئی کہ مال و دولت میں عدم مساوات فطری و طبعی ہے، اور تقسیم دولت میں مساوات کا دعوی بجائے خود بےبنیاد اور خلاف فطرت ہے، فقہاء اور فقہاء مفسرین نے آیت سے مالک اور غلام کے درمیان نفی مساوات صراحت کے ساتھ نکالی ہے۔ قال ابوبکر قد تضمنت الایۃ انتفاء المساوات بین المولی وبین عبدہ فی الملک (جصاص)
107۔ (بلکہ ایسی تقسیم تو فطرت بشری پر ایک بار ہے) آیت جڑ کاٹ رہی ہے اہل باطل کے اس نظام معاشی کی، جس کا پرانا نام مزدکیت تھا، اور جدید نام سوشلزم یا (انتہائی صورتوں میں) کمیونزم ہے۔
108۔ شرک پر اصرار کئے جانا عین نعمت الہی سے انکار کرنا ہے۔
Ayah 16:72109۔ (اور اس طرح تمہاری بقائے نوعی کا سامان کردیا) (آیت) ” من انفسکم “۔ یعنی تمہاری ہی جنس ونوع سے۔ (آیت) ” حفدۃ “۔ حافد کے عام معنی پوتے کے ہیں۔ المراد بالحفدۃ علی ماروی عن الحسن والازھری وجاء فی روایۃ عن ابن عباس واختارہ ابن العربی اولاد الاولاد (روح) لیکن ایک معنی خادم، مددگار، وغیرہ کے بھی لئے گئے ہیں، روی عن ابن عباس ان الحفدہ الخدم والا عوان وقال الحسن اعانک فقد حفدک وقال مجاھد وقتادہ وطاؤس الحفدۃ الخدم (جصاص) امام رازی (رح) نے متعدد معانی ومفہومات بیان کرکے لکھا ہے کہ بہتر یہ ہے کہ لفظ کے عموم میں ان سارے مفہوموں کی وسعت کو شامل رکھا جائے، والاولی دخول الکل فیہ لما بینا ان الالفظ محتمل للکل بحسب المعنی المشترک الذی ذکرناہ (کبیر)
110۔ (اور اس طرح تمہاری بقائے شخصی کا سامان کردیا) (آیت) ” الطیبت “ یہاں اپنے لغوی معنی میں ہے، یعنی نفیس ولذیذ کے مرادف ہے۔ اے اللذائذ وھو معنا ھا اللغوی (روح) اے اللذائذ (بیضاوی) (آیت) ” من الطیبت “۔ میں من تبعیض کا ہے۔ من للتبعیض (بیضاوی۔ روح)
111۔ (اس کے سچے دین کے منکر رہ رہ کر) (آیت) ” افبالباطل “۔سے مراد ہے پھر بھی، یعنی اللہ کی توجہ و ربوبیت کے سارے دلائل و شواہد سننے اور جاننے کے بعد (آیت) ” بالباطل یؤمنون “۔ یعنی بےبنیاد وہمی چیزوں پر، مثلا بتوں کی معبودیت پر ایمان لاتے ہیں۔
Ayah 16:73112۔ یعنی نہ صرف یہ کہ بالفعل اختیار نہیں رکھتے، بلکہ سرے سے اس کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے، اگر چاہیں جب بھی یہ اختیار نہیں حاصل کرسکتے۔ (آیت) ” رزقا من السموت “۔ آسمان سے رزق مثلا بارش۔
Ayah 16:74113۔ صحیح مثال اپنے متعلق وہی بیان کرسکتا، اور صحیح صفات اپنی وہی بتا سکتا ہے، تم جب اپنی نافہمی سے کوشش کروگے، ایسی ہی الٹی پلٹی باتیں کروگے۔ مشرکین کا ایک مایہ ناز استدلال اس وقت یہی تھا، اور اب بھی ہے کہ آخر دنیا کے بادشاہوں کی خدمت میں براہ راست عرض ومعروض کون کرسکتا ہے، درمیانی واسطوں کی، عرض بیگیوں کی، امیروں وزیروں کی ضرورت پڑتی ہی ہے۔ پھر جو سب سلاطین کا سلطان کا سلطان اور شہنشاہ اعظم ہے، اس سے براہ راست اور بلا واسطہ تعلق پیدا کرنا کیونکر ممکن ہے ؟ اور ہم جو ان مورتیوں کی اور ان ستاروں کی پرستش کرتے ہیں، تو وہ بھی اسی لئے کہ وہ رب الارباب کے خادم اور اس کے ہاں مقرب ہیں، استدلال کی خرافت بالکل ظاہر ہے۔ دنیا کا بڑے سے بڑا بادشاہ بھی آخر انسان ہی ہوتا ہے، بشر ہی کے سے محدود وناقص قوی رکھتا ہے۔ وہ تو اس پر مجبور ہے کہ دوسروں کی اعانت حاصل کرے۔ اس کے برخلاف کہاں رب العالمین، جو ہر قید سے ماوراء، ہر اعتبار سے غیر محدود، ہر حد ونہایت سے برتر ہے، دونوں کا کوئی مقابلہ ہے ؟ دونوں کے درمیان کوئی نسبت ہے ؟ مغالطہ قیاس مع الفارق کی اس سے زیادہ کھلی ہوئی مثال اور کیا ہوگی ؟ آیت کی یہ توضیح امام رازی (رح) کے مذاق کے مطابق تھی۔ عام مفسرین نے امثال کو مثل کی جمع قرار دے کر معنی یہ کئے ہیں کہ مخلوقات میں سے کسی شے کو اس کے مثل نہ بتاؤ۔ قال المفسرون یعنی لاتشبھوہ بخلقہ (کبیر)
Ayah 16:75114۔ (کہ کسی مال میں تصرف کرسکے، بجز اپنے مالک کی اجازت کے) غلام کے لئے تو خیر مالک سے اجازت کے بعد امکان تصرف باقی ہے، معبودان باطل میں تو مالک کی اجازت سے بھی مالکیت میں دخل پانے کا امکان نہیں۔ (آیت) ’ ضرب اللہ مثلا “۔ مثال سے مقصود بطلان شرک کا اظہار ہے :۔
115۔ (جب اور جس طرح چاہے، کوئی اس کی روک ٹوک کرنے والا نہیں)
116۔ ظاہر ہے کہ نہیں، تو جب مالک مجازی ومملوک مجازی مساوی نہیں ہوسکتے، جو اپنی اصل وخلقت کے لحاظ سے بالکل ایک ہیں، اور باہم فرق محض اعتباری واضافی رکھتے ہیں، تو مالک حقیقی ومملوک حقیقی کیونکر یکساں و مساوی ہوسکتے ہیں، جن کے درمیان کوئی شے بہ طور قدر مشترک ہی نہیں۔ (آیت) ” ھل یستون “۔ ذکر ایک ہی صفات کے لوگوں کا ہورہا ہے۔ مقصود یہاں دو فرد نہیں، بلکہ ان متضادصفات کے کل اشخاص ہیں۔ ایک ایک طرف، دوسرے دوسری طرف۔ صیغہ بھی اسی لئے بجائے تثنیہ کے جمع کا آیا ہے ،
117۔ (نہ کہ اصنام اور معبود ان باطل کے لئے) کامل الذات والصفات اور مستحق عبادت وہی ایک ہے۔ اور نعمتوں کے دینے میں کوئی اس کا شریک نہیں، اے ھو المستحق للحمد دون ما یعبدون من دونہ اذلا نعمۃ للاصنام علھیم فتحمد علیھا (بحر)
118۔ (اور شرک سے باز نہیں آتے) (آیت) ” اکثرھم “۔ ضمیر جمع مذکر غائب مشرکین کی جانب ہے، ان لوگوں کا عدم علم حقیقت چونکہ عدم تدبر اور عدم توجہ کا نتیجہ ہے، اس لئے ایسے لوگ معذور بھی نہیں قرار دیئے جاسکتے۔
Ayah 16:76119۔ گویا اس درجہ خرف ولا یعقل ہے کہ خود تو کیا کرتا، مالک کی تعلیم کے باوجود بھی کوئی کام درست نہیں کرپاتا۔ (آیت) ” احدھما ابکم “۔ یعنی علاوہ غلام ہونے اور ہر طرح معذور ہونے کے گونگا بھی ہے، اور تکلم پر غیر قادر۔ جو نہ اپنی کہہ سکے نہ دوسرے کی سن سکے، (آیت) ” ابکم “ کے ایک معنی اہل لغت سے لایعقل اور سماعت و بصارت سے محروم ہونے کے بھی منقول ہیں۔ عن ابن الاعرابی الابکم الذی الذی لایعقل (کبیر) قال الزجاج الا بکم المطبق الذی لایسمع ولا یبصر (کبیر) الابکم الذی ولد اخرس فلا یفھم ولا یفھم (کشاف) پیدائشی گونگا بہرا بھی ہوتا ہے۔ جو نہ کسی کی سنتا ہے اور نہ اپنی کسی کو سنا سکتا ہے۔ الابکم الخرس المقارن للخلقۃ ویلزمہ الصم (روح) فکانہ قیل احدھما اخرس اصم ولا یفھم (روح) (آیت) ” لایقدر علی شیء “۔ نہ اپنے متعلق قدرت، نہ اپنے سے غیر کے متعلق قدرت۔ لایقدر علی شیء من الاشیاء المتعلقۃ بنفسہ اوغیرہ بحدس اوفراسۃ لسوء فھمہ وادرالہ (روح) تمثیل سے مقصود مشرک کی تمامتر بےبسی کو ظاہر کرنا ہے۔
120۔ یعنی ناطق ہے، عاقل ہے، فاعل مختار ہے، قوت علمی وعملی کا جامع ہے۔
Ayah 16:77121۔ (جو ایک فرع ہے حق تعالیٰ کے علم کامل و محیط کی) للہ کی ترکیب ہی سے اشارہ ہوگیا کہ یہ علم غیب خاصہ صرف حق تعالیٰ کا ہے، جس میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ للہ تعالیٰ خاصہ لا لاحد غیرہ استقلالا ولا اشتراکا (روح) یفید الحصر معناہ ان العلم بھذہ الغیوب لیس الا للہ (کبیر)
122۔ آیت کے شروع میں بیان حق تعالیٰ کے کمال علم کا ہے، اور آخر آیت میں بیان کمال قدرت کا، دونوں کے درمیان ذکر قیامت کا ہے۔ جو قبل وقوع دیکھئے تو ایک مثال ہے کمال علم کی، اور بعد وقوع کے لحاظ سے نظر کیجئے تو ایک مثال ہے کمال قدرت کی ! (آیت) ” الاکلمح البصر “ یعنی ایسا ہی آنا فانا “۔ عام محاورۂ انسانی میں کسی شے کے فی الفور واقع ہوجانے کے لئے طریق تعبیر یہی ہے۔ الغرض من التشبیہ بیان مقدار زمان وقوعہ وتحدیدہ (روح) والمراد منہ تقریر کمال القدرہ (کبیر) (آیت) ” اوھو اقرب “۔ اور یہاں بل کا مرادف ہے۔ اظہار شک وتردد کیلئے نہیں۔ اوقال الفراء بمعنی بل (روح) قیل بمعنی بل (بیضاوی) لاشبھۃ فی انہ لیس المراد طریقۃ الشک بل المراد بل ھو اقرب (کبیر) (آیت) ” امر الساعۃ “ سے مراد ہے مردوں میں جان پڑجانے کا ماجرا “۔
Ayah 16:78123۔ (یہ خیال کرکے کہ اس نے ان آلات کے ذریعہ سے تمہاری بےعلمی علم سے بدل دی) (آیت) ” جعل لکم السمع والابصار والافئدۃ “۔ سماعت اس لئے دی کہ حق تعالیٰ کے احکام سنو۔ آنکھیں اس لئے دیں، کہ حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت کے نمونے مشاہدہ کرو اور دل اس لئے کہ حق تعالیٰ کی عظمت کا احساس، اور اس پر غور و تدبر کرو۔ جعل لکم السمع لتسمعوا مواعظ اللہ والابصار لتبصروا دلائل اللہ والافئدۃ لتعقلوا عظمۃ اللہ (کبیر) (آیت) ” السمع والابصار والافئدۃ “۔ سماعت اور بصارت کی تخصیص شاید اس لئے کہ آلات علم وذرائع معرفت میں اہم ترین یہی دو ہیں۔ اور دل کی تخصیص اس لئے کہ حواس ظاہری وباطنی سب اسی کے تابع ہیں۔ (آیت) ” وجعل لکم “۔ الخ وہمیشہ ترتیب زمانی ہی کے لئے نہیں آتا۔ اس لئے یہ سوال ہی نہیں پیدا ہوتا کہ جعل لکم السمع والابصار کو اخرجکم من بطون امھتکم کے بعد کیوں لایا گیا ہے۔
Ayah 16:79124۔ یعنی اس صانع مطلق ہی نے ان کا جسم اس سبک وضع کا بنایا ہے کہ باوجود ثقل کے، ہوائے لطیف ورقیق میں دوڑتے پھرتے ہیں۔ آیت میں ضمنا پرند پرستی کی بھی تردید آگئی، یعنی یہ پر ندغریب معبود ہونے کی صلاحیت تو کیا رکھتے، اپنے ہوا میں سنبھال بھی نہیں سکتے بغیر اذن خداوندی کے مشرک قوموں نے پرندوں تک کو بھی بغیر معبود بنائے نہیں چھوڑا ہے۔ باز، شکرا، الو، مور بہت سے پرندوں کو پرستش ہوچکی ہے۔ اور نیل کنٹھ وغیرہ کا تقدس تو آج بھی ہندوستان میں دیکھاجاسکتا ہے۔
125۔ (حق تعالیٰ کی حکمت، قدرت، اور ربوبیت کی)
Ayah 16:80126۔ (اور اس لئے سفر میں ان کا لادنا، اکھاڑنا، نصب کرنا سب سہل معلوم ہوتا ہے) (آیت) ” جعل لکم من بیوتکم سکنا “۔ یہ حالت حضر کا ذکر ہے، اور اس کے معا بعد خیموں کی سفری زندگی کا بیان ہے، گویا انسانی معاشرت کی دونوں حالتوں کی مکمل تصویر آگئی، (آیت) ” من بیوتکم سکنا “۔ یہ اینٹ اور پتھر اور مٹی، اور چونے اور لکڑی کے گھر، بیشتر انسانی آبادی کے مسکن، انسان کے لئے راحت قلب و سکون خاطر کا کتنا بڑا ذریعہ اور سبب ہیں، اس کی قدر کوئی اس غریب سے پوچھے، جو بیچارہ بےگھرا ہو، اور اپنا چھوٹا بڑا کوئی مکان بھی نہ رکھتا ہو ! جس طرح ہم بچپن سے کپڑے پہنے رہنے کے اس قدر عادی ہوگئے ہیں کہ ہمیں ان کا وزن تک نہیں محسوس ہوتا، اسی طرح مکان بھی چونکہ چھوٹا بڑا، کوئی نہ کوئی، اپنی حیثیت و بساط کے لائق ہم میں سے ہر شخص رکھتا ہے، اس لئے اس کا پورا اندازہ ہی نہیں ہونے پاتا کہ مکان ہے کتنی بڑی نعمت، یہ قرآن مجید ہی کا کام تھا جو اسے وجہ سکون ومایہ تسکین پکار کر کہہ دے۔ (آیت) ” من جلود الانعام بیوتا “۔ یہ سفری مکان یا خیمے ڈیرے عموما چرمی اور پوستینی ہوا کئے ہیں، (آیت) ” تستخفونھا یوم ظعنکم ویوم اقامتکم “۔ یہ خیمے ڈیرے محض تعیش کا سامان نہیں اور صرف شکار وغیرہ تکلفات ہی کے کام میں نہیں آتے، بلکہ دنیا کی ایک خاصی بڑی آبادی کا مستقل مسکن بھی ہیں۔ عرب اہل بادیہ نے جس طرح نسلوں پر نسلیں خیموں ڈیروں ہی میں گزار دیں، کسی پر مخفی نہیں۔ یہود کی بھی قدیم عبری نسل مدتوں خیمہ بدوش رہی۔ آج بھی دنیا کی نیم وحشی ” خانہ بدوش “ قوموں سے اکثر کا، اور بڑی سی بڑی متمدن قوموں کے ایک خاصے حصہ کا گزر خیموں ہی پر رہا کرتا ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ توریت میں بھی خیموں ڈیروں کے حوالے کثرت سے آئے ہیں۔
127۔ اس کے اندر کمل، دھ سے، شال، دوشالے، کملیاں، جوتے، کوڑے، موزے، تھیلے، تھیلیاں، مشکیزے، بکس بیگ، پیٹیاں، گھوڑے کی کاٹھیاں اور ساز، اور ہر قسوم کا چرمی اور ریشمی سامان آگیا۔ (آیت) ” اثاثاومتاعا “۔ متاع کا مفہوم اثاث سے وسیع تر ہے۔ اور سامان تجارت، اسباب آرائش وزینت وغیرہ سب پر شامل ہے۔ اور امام رازی (رح) نے یہ بھی کہا ہے کہ اثاث تو وہ ہے جو انسان کی پوشش اور دوسری ضروریات میں کام آتا ہے، اور متاع وہ سامان ہے جن سے مکانوں میں فرش اور زینت کا کام لیا جاتا ہے۔ الاثات ما یکتسی بہ المرء ویستعملہ فی الفطاء والوطاء والمتاع مایفرش فی المنازل ویزین بہ (کبیر) آیت سے فقہاء نے یہ نکالا ہے کہ بال، خھال وغیرہ کا انتفاع مردہ جانوروں سے بھی جائز ہے فیہ الادلالۃ علی جواز الانتفاع بما یؤخذ منھا من ذلک بعد الموت اذلم یفرق بین اخذھا بعد الموت و قبلہ (جصاص)