Ayah 16:81128۔ (مثلا غار کہ سردی گرمی سے، بارش سے، جنگلی جانوروں سے، سب سے پناہ کا کام دیتے ہیں) (آیت) ” مما خلق ظللا “۔ درختوں کے، عمارتوں کے، ٹیلوں اور پہاڑوں کے سایہ سے انسان کی آسائش اٹھانا بالکل ظاہر ہے۔
129۔ یہ سب اللہ کی مختلف نعمتوں ہی کی تفصیل ہورہی ہے۔ (آیت) ” سرابیل “۔ سربال کا لفظ عام ہے ہر قسم کے پیراہن کے لیے۔ القمیص من ای جنس (راغب) یہاں اس قمیص یا بالائی جسم کی پوشش کی دو خاص قسمیں ارشاد ہورہی ہیں۔ (آیت) ” سرابیل تقیکم الحر “۔ ایک وہ پوشش جو موسم کی سختیوں سے جسم کو محفوظ رکھے سردی کو چھوڑ کر یہاں صرف گرمی کی تخصیص کی پہلی وجہ تو یہ ہے کہ سردی سیح فاظت کا ذکر کچھ ہی اوپر آچکا ہے۔ (آیت) ” لکم فیھا دفء “۔ اور دوسری بات یہ کہ مخاطبین اول عرب تھے۔ اور عرب میں لباس کی اصلی ضرورت، ظاہر ہے کہ باد سموم کی تندلپٹ اور آفتاب گرم کی کڑی کرنوں ہی سے بچنے کے لیے ہے۔ قال عطاء الخراسانی المخاطبون بھذا الکلام ھم العرب وبلادھم حارۃ فکانت حاجتھم الی ما یدفع الحرفوق حاجتھم الی مایدفع البرد (کبیر) (آیت) ” سرابیل تقیکم باسکم “ پوشش کی دوسری قسم سے مراد ہیں جنگی پیراہن، زرہ جو شن وغیرہ۔
130۔ (کم سے کم ان نعمتوں ہی کے اعتراف میں) ان نعمتوں میں سے بعض تو کھلی ہوئی، بالکل قدرتی اور غیبی ہیں، اور دوسری جو انسانی صناعی اور دستکاری کی رہین منت ہیں، ان کا بھی مادہ تو اللہ ہی کا پیدا کیا ہوا، اور ان کے بارے میں انسان کو جو سلیقہ ترتیب و ترکیب ملا، وہ بھی تو عطیہ الہی ہی ہے ،
Ayah 16:82131۔ (تو آپ ان کے لیے غم وتردد میں ہرگز نہ پڑیں) (آیت) ” فان تولوا “۔سے اشارہ ادھر ہوگیا، کہ وضوح دلائل کے بعد بھی اگر یہ توحید و ایمان سے برگشتہ رہیں، صیغہ مخاطب سے غائب کی طرف انتقال صنعت التفات میں سے ہے، جس کا ذکر کئی بار آچکا ہے۔
Ayah 16:83132۔ (جو زبانی بھی اقرار توحید نہیں کرتے، بلکہ سرے سے منکر حق ہیں) اے الجاحدون غیر معترفین (کشاف) (آیت) ” یعرفون نعمت اللہ “۔ یہ معذور بھی نہیں، کہ سرے سے اللہ کی ان نعمتوں کو پہچان ہی نہ سکے ہوں۔ (آیت) ” ثم ینکرونھا “۔ یعنی اپنی عملی زندگی میں اللہ منعم حقیقی کی طرف سے انجام بن کر غیر اللہ کے ساتھ معاملہ اللہ سا کرنے لگتے ہیں۔
Ayah 16:84133۔ (کہ اب کچھ عذر ومعذرت پیش کرسکیں) (آیت) ” من کل امۃ شھیدا “۔ یہ گواہ اسی امت کا رسول ہوگا۔ یہ گواہ شہادت دے گا کہ میں نے تمام احکام کی تبلیغ پوری پوری کردی تھی، اس پر بھی امت منکر وباغی رہی۔ (آیت) ” امۃ “۔ امۃ سے مراد ظاہر ہے کہ امت دعوت ہے، یہ یعنی وہ قوم جو نبی کے پیام کی مخاطب رہی، یہ مراد نہیں کہ جنہوں نے اس پیام کو قبول بھی کیا۔
134۔ اور وجہ بالکل ظاہر ہے۔ آخرت صرف دارالجزاء ہے، دارالعمل نہیں۔
Ayah 16:85135۔ (کہ عذاب شروع ہی کچھ دیر بعد کیا جائے، یا یہ کہ وہ لوگ اس درمیان میں کچھ سعی وتدبیر کرلیں) (آیت) ” الذین ظلموا “۔ ظالم سے مراد کافر ہیں۔ یعنی اپنے حق میں ظلم کرنے والے۔ (آیت) ” اذا را الذین ظلموا العذاب “۔ یعنی جب وہ عذاب ان پر آپڑے گا۔ (آیت) ” فلایخفف عنھم “۔ ذرا بھی کمی نہ کی جائے گی، چاہے وہ کتنا ہی روئیں، پیٹیں، چلائیں۔
Ayah 16:86136۔ (تم حقیقۃ تو پرستار صرف اپنے نفس اور اپنی ہوا وہوس کے تھے، اور اپنی پرستاری کو منسوب ہماری جانب کردیتے تھے) (آیت) ” شرکآء ھم۔ شرکآؤنا “۔ شریکوں، سے مراد ان کے وہی دیوی دیوتا، ٹھاکر وغیرہ ہیں، جنہیں یہ شریک خدائی سمجھا کرتے تھے۔
Ayah 16:87137۔ (اور جتنے سہارے اپنے عقائد باطلہ کی بنا پر قائم کر رکھے تھے ان میں سے کوئی بھی ان کے کام نہ آئے گا) (آیت) ” والقوا الی اللہ یومئذ السلم “۔ یہ اطاعت اور خوشامد کی راہ اس وقت اختیار کریں گے، جب اپنے کو ہر طرح مجبور ومضطر پالیں گے، آخرت میں ان کا یہ طریق استلام و اطاعت دنیا کے ٹھیک طریق استکبار واعراض کے مقابل ہوگا۔ (آیت) ” ماکانوا یفترون “۔ افتراء پردازی یہی، کہ ہمارے یہ معبود ہمیں بچالیں گے، ہمارے کام آجائیں گے۔ (آیت) ” وضل عنھم “۔ یہی چیزیں تو سب ان سے بالکل گم ہوجائیں گی، ان خیالات وادہام کی واقعیت کا کہیں شائبہ بھی نہ ملے گا، اے بطل ماکانوا یأملون منہ ان الھتھم تشفع لھم عند اللہ تعالیٰ (کبیر)
Ayah 16:88138۔ پہلی سزامبتلائے کفر رہنے پر ہوگی، اور دوسری سزا دوسروں کے مبتلائے کفر کرنے پر ملے گی، اے زادوا علی کفرھم صدغیرھم عن الایمان فھم فی الحقیقۃ ازدادوا کفرا علی کفر فلاجرم یزیدھم اللہ تعالیٰ عذابا علی عذاب (کبیر) (آیت) ” فوق العذاب “۔ یہ عذاب تو وہی کفر والا ہے۔ المستحق بکفرھم (بیضاوی) (آیت) ” زدنھم عذابا۔۔۔ بماکانوا یفسدون “۔ یہ زاید عذاب سزائے اضلال واغواء ہوگی، بکونھم مفسدین بصدھم (بیضاوی)
Ayah 16:89139۔ یعنی کآپ کی شہادت عالمگیر ہوگی، سب کے مقابلہ میں حجت ہوگی۔ شہادت تو ظاہر ہے کہ آپ ﷺ بھی اپنی ہی امت کے متعلق دیں گے لیکن آپ ﷺ کی امت دعوت تو ساری انسانی آبادی ہے، اس لیے قدرۃ آپ ﷺ کی شہادت بھی عالمگیر کہی ہوگی، (آیت) ” فی کل امۃ شھیدا “۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 133۔ (آیت) ” من انفسھم “۔ لفظ عام ہے۔ یہ گواہ یا پیغمبر (علیہ السلام) ان امتوں کے خواہ ہم نسب ہوں، یا ہم وطن ہوں۔ (آیت) ” وجئنا بک شھیدا علی ھؤلآء “۔ ھؤلاء سے عام طور پر مراد امت محمدی سے لی گئی ہے۔ امتک (بیضاوی۔ مدارک) اے الذین بعثت الیھم (معالم) بعض نے ھؤلاء سے مراد انبیاء سابقین کو بھی لیا ہے۔ یعنی آنحضور ﷺ ان سب انبیاء علیھم السلام پر گواہ ہیں۔ لیکن محققین نے اس قول کو ضعیف ہی قرار دیا ہے۔ واما حمل ھؤلاء الشھداء علی الانبیاء فبعید (کبیر) (آیت) ” فی کل امۃ “۔ امۃ سے مراد ہر دور (قرن) یا جماعت ہے۔ واعلم ان الامۃ عبارۃ عن القرن والجماعۃ (کبیر) ۔
140۔ یعنی اس کتاب اعظم سے نفع دنیوی واخروی، مادی وروحانی، تو بس وہی لوگ حاصل کرسکتے ہیں جو اس کے ماننے والے ہوں گے، جو پہلے اس کی تصدیق توکریں، نہ ماننے والوں کے لئے اس کا وجود اس کے عدم کے برابر ہے۔۔ پیدائشی نابینا کے لئے آفتاب عالمتاب کا عدم ووجود یکساں ہے۔ (آیت) ” تبیانا لکل شیء “۔ کل شیء سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں، جن کا تعلق اعتقاد اور عمل سے ہے۔ یعنی دین و شریعت کے سارے اجزاء اجمالا یا تفصیلا اس کے اندرآگئے۔ یعنی دین و شریعت کے سارے اجزاء اجمالا یا تفصیلا اس کے اندر آگئے۔ یعنی بہ بیان کل شیء من امور الدین بالنص والدلالۃ (جصاص) بیانا بلیغا لکل شیء من امور الدین علی التفصیل اوالاجمال بالاحالۃ الی السنۃ اولقیاس (بیضاوی) رسول اللہ ﷺ نے جن وقائق احکام کی تشریح کی ہے، وہ سب کتاب اللہ ہی سے ماخوذ ہے، اور اسی لئے نبی کا حکم بھی خدا ہی کا حکم سمجھا گیا ہے۔ فما من حادثۃ جلیلۃ ولا رقیقۃ الا وللہ فیھا حکم قد بینہ فی الکتاب نصا اودلیلا فما بینہ النبی ﷺ فانما صدر عن الکتاب (جصاص) اور فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ اجماع اور اجتہاد و قیاس فقہاء سے جو احکام ومسائل ثابت ہیں، وہ بھی سب اسی تبیان کتاب اللہ کے تحت میں داخل ہیں۔ وما حصل علیہ الاجماع فمصدرہ ایضا من الکتاب لان الکتاب قددل علی صحۃ حجۃ الاجماع وما اوجبہ القیاس واجتھاد الرای وسائر ضروب الاستدلال من الاستحسان و قبول خبر الواحد جمیع ذالک من تبیان الکتاب (جصاص) واما الفقھاء فانھم قالوا القران انما کان تبیانا لکل شیء لانہ یدل علی ان الاجماع وخبر الواحد والقیاس حجۃ فاذا ثبت حکم من الاحکام باحد ھذہ الاصول کان ذلک الحکم ثابتا بالقران (کبیر) اما فی الاحکام المنصوصۃ فظاھر وکذا فی ما ثبت بالسنۃ او بالاجماع اوبقول الصحابۃ اوبالقیاس لان مرجع الکل الی الکتاب (مدارک)
Ayah 16:90141۔ یہ آیت شریف جہاں تک کہ تعلیمات اسلام کا تعلق ہے، قرآن مجید کی اہم ترین اور کلیدی آیات میں ہے۔ ایک معجزانہ ایجاز و جامعیت کے ساتھ اس کے اندر دین و شریعت کے اہم ترین احکام ونواہی دونوں آگئے۔ احکام ایجابی بھی اور احکام سلبی بھی۔ کتاب اللہ کا وصف (آیت) ” تبیانا لکل شیء “۔ ابھی ابھی بیان ہوا تھا۔ یہ آیت خود اسی تبیانت “ کی بہترین مثال ونمونہ ہے۔ امام فخرالدین رازی (رح) نے عبداللہ بن مسعود صحابی (رح) اور قتادۃ تابعی کے حوالہ سے لکھا ہے کہ حق تعالیٰ نے ہر خیر اور شر کے بیان کو اس آیت کے اندر اکٹھا کردیا ہے۔ اور کوئی عقیدہ خلق، نیت، عمل، معاملہ، اچھا یا برا ایسا نہیں، جو امرا یانہیا ایجابا یاسلبا اس کے اندر نہ آگیا ہو، اور خود بھی آیت کو ہر طرح جامع احکام قرار دیا ہے۔ جمع فی ھذہ الایۃ مایتصل بالتکلیف فرضا ونفلا وما یتصل بالاخلاق والاداب عموما وخصوصا (کبیر) وعن ابن مسعود ؓ اجمع ایۃ فی القران لخیر وشر ھذہ الایۃ وعن قتادۃ لیس من خلق حسن کان فی الجاھلیۃ یعمل ویستحب الاامر اللہ تعالیٰ بہ فی ھذہ الایۃ ولیس من خلق سیء الانھی اللہ تعالیٰ فی ھذہ الایۃ (کبیر) حضرات تابعین کے بھی خیال میں سارے دستور حیات کا ایک جماع ومکمل خاکہ اس آیت کے اندر آگیا ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز (رح) کے وقت یہ آیت اہل سنت کے خطبات جمعہ میں داخل ہوگئی، تاکہ ہر ہفتہ متواتر امت کے کان اس صدائے حق سے آشنا ہوتے رہیں۔ اور اس وقت سے آج تک یہ آیت امت کے خطبات جمعہ کا جزو بنی ہوئی چلی آرہی ہے۔ (آیت) ” بالعدل “۔ عدل سے مراد ہے قوائے علمی وعملی میں اعتدال وتوسط، عقائد و اعمال، اخلاق ومعاملات کے سارے مامورات اس کے اندر آگئے۔ اے بالتوسط فی الامور اعتقادا وعملا وخلقا (بیضاوی) (آیت) ” والاحسان “۔ احسان سے مراد وہ نیکیاں ہیں جن کا نفع دوسروں تک معتدی ہے۔ اس خصوصیت کے لحاظ سے ان کا ذکر الگ کرکے کیا گیا، اور اسی میں اپنے اعمال و طاعات کو بہترین انداز سے ادا کرنا بھی آگیا۔ اے احسان الطاعات وھو ما بحسب الکمیۃ اوبحسب الکیفیۃ (بیضاوی) اے احسان الاعمال والعبادۃ اے الاتیان بھا علی الوجہ اللائق وھو اما بحسب الکیفیۃ اوبحسب الکمیۃ (روح) (آیت) ” وایتآی ذی القربی “۔ یہ اسی احسان کی اہم ترین و افضل ترین شکل ہے اے اعطاء الاقارب مایحتاجون الیہ (بیضاوی) ان تین مامورات کے مقابل منہیات بھی تین ہی ہیں :۔ (آیت) ” عن الفحشآء “۔ فحشاء ایسی برائی ہے جو کھلی ہوئی اور صریح ہے، یعنی علانیہ، پلک میں کی جاتی ہے۔ اس کے تحت میں وہ سب برائیاں آگئیں، جو قوت شہویہ کی افراط سے پیدا ہوتی ہیں۔ عن الفحشاء اے ون الافراط فی متابعۃ القوۃ الشھوانیۃ (بیضاوی) اے الافراط فی متابعۃ القوۃ الشھویۃ (روح) (آیت) ” والمنکر “۔ منکر عام ہے ہر ایسے امر کو جو شعائر اسلامی سے باہرہو۔ اس کے تحت میں وہ سب معاصی آگئے جو قوت غضبیہ کے افراط سے پیدا ہوتے ہیں۔ ماینکر علی متعاطیۃ فی اشارۃ القوۃ الغضبیۃ (بیضاوی) ما ینکر علی متعاطیۃ من الافراط فی اظھار القوۃ الغضبیۃ (روح) (آیت) ” والبغی “۔ بغی وہ ظلم وسرکشی ہے جس کا ضرر دوسروں تک پہنچے، اس کے ماتحت وہ سب حرکتیں آگئیں، جو قوت وہمیہ کے غلبہ وافراط سے ظاہر ہوتی ہیں۔ الاستعلاء والاستیلاء علی الناس والتجیر علیھم (بیضاوی) اے الاستعلاء والا ستیلاء علی الناس والتجبر علیھم (بیضاوی) اے الاستعلاء والا ستیلاء علی الناس والتجبر علیھم وھو من اثار القوۃ الوھمیۃ (روح) (آیت) ” لعلکم تذکرون “۔ اس وعظ سے مقصود یہ ہے کہ تم اپنے میں تذکر وتنبہ پیدا کرو، معناہ ان المقصود من ھذا الوعظ ان یقدموا علی تحصیل ذلک التذکیر (کبیر) طلبا لان تتعظوا بذلک وتنبھوا (روح)
Ayah 16:91142۔ (خواہ صراحۃ خواہ دلالۃ والتزاما) (آیت) ” بعھد اللہ “۔ اس کے عموم میں ہر وہ عہد آگیا، جو شریعت کے موافق ہو، خواہ حقوق اللہ سے متعلق ہو، خواہ حقوق العباد سے متعلق ہو، اس کے اطلاق سے باہر صرف وہ عہد رہ جاتے ہیں، جو خلاف شریعت ہیں، المراد منہ کل عہد یلتزمہ الانسان باخیتارہ (کبیر) قال القاضی العھد یتناول کل امر یجب الوفاء بمقتضاہ (کبیر)
143۔ (ان معاہدات کا، انہی قسموں کے ذریعہ سے) (آیت) ” بعد توکیدھا “۔ اللہ کا واسطہ درمیان میں لا کر معاہدہ اور مؤکدو مستحکم ہوجاتا ہے، اے بعد توثیقھا بذکر اللہ (بیضاوی)
144۔ (اور معاوضہ بھی ہر صورت اسی کے مطابق دے گا) والمرادفیجازیکم علی ما تفعلون (کبیر) وفاء عہد کے کرنے اور نقض عہد سے بچنے کی پوری تاکید اس تنبیہ میں آگئی۔
Ayah 16:92145۔ (کہ کہیں تم بھی اس کی طرح اپنی قسموں کو، ان کی پختگی کے بعدتوڑ ڈالنے لگو) روایتوں میں آتا ہے کہ مکہ میں ایک دیوانی عورت تھی۔ دن بھر مشقت سے سوت کا تتی، اور پھر بیدردی سے اپنے ہاتھ سے تکا بوٹی کر ڈالتی، اولین مخاطبین قرآن اس سے خوب واقف تھے۔ اس کی مثال دے کر فرمایا ہے کہ کہیں تم اپنا حال اس کا سانہ کرلینا۔
146۔ (کثرت یا ثروت میں یا اور کسی اعتبار سے) (آیت) ” اربی “ کے معنی ہیں، کہ عدد یا مال میں بڑھ جائے۔ ھی ازید عددا واوفر مالا (کشاف) وھذہ الزیادۃ قد تکون فی العدد وفی القوۃ وفی الشرف (کبیر) یعنی مثلا کافروں کے دو گروہوں میں باہم مخالفت ہوئی، اور تمہاری ایک فریق سے صلح ہے۔ لیکن تم نے پلا دوسری طرف جھکتا ہوا دیکھا، تو تمہیں بھی خیال آیا کہ اس پہلے گروہ سے ٹوٹ کر اسی دوسرے کے ساتھ ہولیا جائے، یہ صورت شریعت کی نظر میں ممنوع اور سخت ناپسندیدہ ہے۔ (آیت) ” تتخذذون ایمانکم دخلا بینکم “ کہ اس عہد شکنی اور حلف کی خلاف ورزی سے دوستوں میں بےاعتباری بڑھے گی اور دشمنوں میں ناگواری (آیت) ” دخلا “۔ دخل کے معنی دغل کی طرح فساد اور چھپی ہوئی عداوت کے ہیں۔ الدخل کنایۃ عن الفساد والعداوۃ المستنبطۃ کالدغل (راغب) اے مفسدۃ ودغلا (کشاف) (آیت) ” بعد قوۃ “۔ یعنی اس سوت کو خوب مضبوطی سے بٹ چکنے کے بعد، اے بعد ان قتلتہ قتلا شدیدا الان العرب تسمی شدۃ القتل قوۃ (جصاص) من بعد ابرام و احکام (بیضاوی) فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ کسی عہد یا عبادت کو اپنے اوپر لازم کرلینے کے بعد پھر اسے پورا نہ کرنا، سوت کات چکنے کے بعد اسے نوچ ڈالنا ہی ہے۔ فمن عقد علی نفسہ عقدا اواوجب قربۃ اودخل فیھا ان لایتمھا فیکون بمنزلۃ التی نقضت غزلھا بعض بعد قوۃ (جصاص) فقہاء نے یہیں سے یہ مسئلہ بھی مستنبط کیا ہے کہ نفلی عبادت بھی شروع کرچکنے کے بعد اسے اتمام تک پہنچانا واجب ہوجاتا ہے، وھذا یوجب ان کل من دخل فی صلوۃ تطوع اوصوم نفل اوغیر ذلک من القرب ان لایجوز لہ الخروج منہ قبل اتمامہ) (جصاص) فرنگی قوموں نے قرآن مجید کی صرف اسی ہدایت پر عمل کرلیا ہوتا، تو آج دنیا کا نقشہ کتنا مختلف اور کتنا زیادہ پرامن ہوتا، نہ یہ روز روز کے نئے نئے معاہدے ہوتے کہ آج پر قوت فلاں قوم ہے، تو ساتھ اس کا دے دیا گیا، اور قدیم معاہد قوم سے عہد توڑ لیا گیا، اور نہ اس کے نتیجہ میں یہ روز روز کی جنگ اور بدامنی دنیا پر مسلط رہتی !
147۔ (اور مختلف راہیں اختیار کرتے رہے تھے) (آیت) ” یبلوکم اللہ بہ۔ بہ “۔ میں ضمیر یا تو فقرہ (آیت) ” ان تکون امۃ “۔ کی طرف ہے، یعنی ایک گروہ کی افزائش قوت و ثروت سے آزماتا ہے۔ اور یا یہ مراد ہو کہ اللہ اپنے اس امر ونہی سے تمہیں آزماتا ہے۔ الضمیر لقولہ ان تکون امۃ (کشاف) اے بھایامرکم وینھا کم (کبیر) (آیت) ” یبلوکم “۔ یعنی یہی آزمائش کہ دیکھیں کہ اب بھی پاس وفا کون رکھتا ہے، اور پلاجھکتے دیکھ کر کون دوسری طرف خود ہی جھک جاتا ہے، فقہاء نے لکھا ہے کہ عہد کے بعد نقض عہد اگر آسان اور مفید نظر آئے، جب بھی وفائے عہد لازم ہے۔ (آیت) ” لیبینن لکم یوم القیمۃ “۔ قیامت کے دن کا فیصلہ عملا وعیانا ہوگا، ورنہ دلائل کے لحاظ سے تو آج بھی ہوچکا ہے۔
Ayah 16:93148۔ یعنی اگر اس کی مشیت تکوینی یہی ہوتی کہ کوئی گمراہ ہونے ہی نہ پائے تو سب کو ایک ہی طریقہ پر لازمی طور پر چلا دیتا اور مذہب وملت کا کوئی اختلاف پیدا ہی نہ ہونے دیتا۔ لیکن اس کی حکمت بالغہ کو یہ تو منظور ہی نہیں، اس نے تو ہدایت وضلالت کا قانون ہی دوسرا رکھا ہے۔
149۔ (سو تم کہیں جبریت کے فریب میں نہ آجانا، اور اپنے کو مجبور محض نہ سمجھ بیٹھنا، تم فاعل مختار اور اپنے افعال کے ذمہ دار بنا کر بھیجے گئے ہو، تمہیں عقل، شعور، ارادہ واختیار سے سرفراز کیا گیا ہے تم سے ایک ایک عمل کے بابت سوال ہوگا)
Ayah 16:94150۔ (اور وہ دوسرے عہد شکنی میں تمہاری تقلید کرنے لگیں) (آیت) ” ولا تتخذوا ایمانکم دخلا بینکم “۔ وہ اس طرح کے اپنے عہدوں اور قسموں کو توڑنا شروع کردو۔
151۔ ایک تو خود اپنی معصیت کے سبب سے، اور دوسرے اس لئے کہ دوسرے لوگ تمہاری ہی مثال دیکھ کر نقض عہد کے مرتکب ہوئے اس عذاب سے، عذاب آخرت مراد ہے۔ (آیت) ” وتذوقوا السوٓء، السوٓء “۔ من السوء العذاب الدنیوی من القتل والا سرو النھب الجلاء وغیر ذلک (روح) (آیت) ” السوٓء “۔ لفظا صیغہ واحد ہے۔ مراد مجموعہ مصائب ہے۔ مراعاۃ للجموع اوللفظ الجمع علی الوجہ الکثیر (روح)
Ayah 16:95152۔ اجر آخرت کے مقابلہ میں دنیا کا کثیر ترین نفع بھی قلیل ہی ہے۔ یہ مراد نہیں کہ دنیا کا نفع اگر کثیر ہورہا ہو تو احکام کی خلاف ورزی جائز ہے، مراد یہ ہے کہ اجر آخرت کو دنیا کے کسی معاوضہ پر بھی ہرگز فروخت نہ کردینا، (آیت) ” بعھد اللہ “۔ عھد اللہ سے مراد رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت ایمانی ہے، جس کے اندر سارے ہی احکام شریعت آگئے، المراد بہ عند کثیر بیعۃ رسول اللہ ﷺ علی الایمان (روح)
153۔ (کہ اجر آخرت کیا قدروقیمت رکھتا ہے) (آیت) ” ماعنداللہ “۔ یعنی اجر آخرت “۔ (آیت) ” ھوخیرلکم “۔ دنیا کی ہر لذت، ہر نعمت سے کہیں بڑھ چڑھ کر :۔
Ayah 16:96154۔ یعنی دنیا کا سارا ذخیرہ اولا تو وہ ہے ہی کتنا، اور پھر جتنا ہے، سریع الزوال کیسا ہے، آنا فانا ختم ہوجانے والا ،۔ اور اجر آخرت اول تو بےحساب وبے نہایت، اور پھر اس سے بڑھ کر یہ کہ دائم و لازوال، غیر منقطع، موجودہ ” مہذب “ دنیاعقاید میں جس شے کو سب سے زیادہ اور یکسر بھولی ہوئی ہے وہ یہی آخرت کی نعمتیں اور ان کی اہمیت ہے، فسق ومعصیت کی طرف لے جانے والی، اور تقوی وطاعت کی طرف سے بےپروا کردینے والی سب سے بڑھ کر یہی آخرت فراموشی ہے، اور اسی لئے قرآن مجید صدہامختلف پیرایوں سے اسی کی یاد دلاتا رہتا ہے۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہ آیت صریح ہے آخرت کو دنیا پر ترجیح دینے کے باب میں۔
155۔ ترہیب و تخویف کے ساتھ ساتھ قرآن مجید ترغیب وتشویق سے بھی کیسا کام لیتا رہتا اور ہر نیک کار کو جنت کا مشتاق کس کس طرح بناتا رہتا ہے۔ (آیت) ” الذین صبروا “۔ یعنی جو لوگ احکام دین پر قائم وثابت قدم رہے اور اس کے لئے ہر کزی جھیل لے گئے، صیغہ مخاطب سے یہ صیغہ غائب کی طرف دفعۃ انتقال عربی کے مشہور ومعلوم اسلوب بلاغت، طریق التفات کے مطابق ہے۔ (آیت) ” لنجزین “۔ ن ثقیلہ تاکید کلام کے لئے ہے۔ نون العظمۃ (روح)
Ayah 16:97156۔ (اسی دنیا میں، جیسا کہ انبیاء ومومنین، متقین کی پاکیزہ زندگیاں خود اس پر گواہ ہیں) (آیت) ” من ذکر اوانثی “۔ اس تصریح نے اس حقیقت کو ایک بار پھر روشن کردیا کہ اجراعمال کے لحاظ سے عورت اسلام کی نظر میں مرد سے کم نہیں، اس کے مساوی ہے، اور مشرک قوموں نے عورت کو حق تعالیٰ کی نظر میں جو ایک پست و حقیر مخلوق ٹھیرایا ہے، اس کی پوری تردید ہوگئی۔ یہ تو ماضی کا قصہ تھا، لیکن کیا عجب ہے کہ جاہلیت جدید کسی دنیا کو اس عقیدہ کی جانب بھی لے جائے کہ نظام فطرت میں عورت نہیں عورت نہیں بلکہ مرد پست و حقیر ہے، تو قرآن مجید کی یہ آیت اس وہم کی تردید کے لئے بھی کافی ہوگی ،۔ (آیت) ” وھو مومن “۔ یہ ایمان تو پہلی اور بنیادی شرط ہے عمل صالح کی۔ بغیر اس کے کوئی عمل صالح، حقیقۃ صالح ہی نہیں، صرف صورۃ صالح کہا جاسکتا ہے۔ اہل سنت نے یہیں سے معتزلہ کے برخلاف یہ دلیل حاصل کی ہے، کہ عمل اور چیز ہے اور ایمان اور، وھو یدل علی ان العمل لیس من الایمان (مدارک) (آیت) ” حیوۃ طیبۃ “۔ مفسر تھانوی (رح) نے لکھا ہے کہ اس بشارت سے یہ مراد نہیں کہ مومن صالح کو کبھی فقر یا مرض طاری نہ ہوگا بلکہ مطلب یہ ہے کہ اطاعت کی برکت سے اس کے قلب میں ایسا نور پیدا ہوگا جس سے وہ ہر حال میں صابر وشاکر اور تسلیم ورضا سے رہے گا اور سکون وجمیعت خاطر کی اصل یہی رضا ہے۔
157۔ (آخرت میں) گویا ایمان وعمل صالح یا مومنانہ زندگی کا ایک معاوضہ تو جس کا نام حیات طیبہ ہے، نقد اسی دنیا میں مل جائے گا، اور پھر دوسرا اور اس سے کہیں بڑا معاوضہ آخرت میں نصیب میں آئے گا۔ نیز ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 155۔
Ayah 16:98158۔ (دل سے تو ضرور، اور بہتر یہ ہے کہ زبان سے بھی) (آیت) ” فاستعذ باللہ “۔ استعاذہ کی حقیقت ہے دل سے حق تعالیٰ پر نظر رکھنا، اور اس کا یہ درجہ شریعت میں واجب ہے، اور زبان سے بھی کلمات استعاذہ کا دہرانا مسنون ہے۔ (آیت) ” فاذا قرأت القران “۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ قرأت قرآن کے وقت شیطان کا دخل و تصرف یوں ہی بہت کم ہوتا ہے۔ (بلکہ بعض آیتوں اور سورتوں سے تو شیطان کے فرار کی تاثیر منقول ہے) تو جب ایسے خاص الخاص عمل میں استعاذہ ضروری ہوا، تو دوسرے اعمال صالحہ میں اس کی ضرورت جس درجہ کی ہوگی ظاہر ہی ہے۔ (آیت) ” فاذا قرأت القران “۔ الخ مراد یہ ہے کہ جب قرآن پڑھنے کا ارادہ ہو تو پہلے استعاذہ کرلے، یہ مراد نہیں کہ جب قرآن پڑھ چکے تو اس کے بعد استعاذہ کرے۔ معناہ اذا قرأت فقدم الاستعاذۃ قبل القران وحقیقۃ معناہ اذا اردت القران فاستعذ (جصاص) اے اذا اردت قراء ۃ القران فعبر عن ارادۃ الفعل بلفظ الفعل لانھا سبب لہ (مدارک) اور محاورۂ قرآنی میں یہ اسلوب بیان عام ہے۔ مثلا ان آیتوں میں :۔ (آیت) ” واذا قلتم فاعدلوا، واذا سالتموھن متاعا فاسئلوھن من وراء حجاب۔ اذا ناجیتم الرسول فقدموا بین یدی نجواکم صدقۃ۔ وغیرھا۔ ان سب موقعوں پر ارادۂ فعل کو فعل کے قائم مقام کی حیثیت دی گئی ہے۔
Ayah 16:99159۔ یہ نص صریح ہے اس باب میں کہ اہل ایمان واہل توکل پر شیطان کا وسوسہ مؤثر نہیں ہوتا۔ شیطان میں ہرگز قدرت اس کی نہیں کہ وہ بہ جبر کسی سے گناہ کراسکے۔ یہ صاف اعلان الہی ہے کہ جب تک تم خود ہی شیطان کے دوست نہ بن جاؤ۔ اور اس کے وسوسوں کو دل میں جگہ نہ دینے لگو، وہ تم پر قابو پا نہیں سکتا۔ اور اس کے حملوں سے بچنے کا نسخہ ایمان کامل اور توکل راسخ ہے۔ مرشدتھانوی (رح) نے اس حدیث نبوی ﷺ کو نقل کرکے کہ مومن جب شیطان پر غالب آنا چاہے تو شیطان اس کے مقابلہ میں ایک چیونٹی سے بھی زیادہ کمزور نکلتا ہے، لکھا ہے کہ اس کا مشاہدہ جی چاہے کرلیاجائے،
Ayah 16:100160۔ (کہ ان لوگوں کا طریق عمل ٹھیک ان مومنین، متوکلین کے مقابل ہوتا ہے) وہ مومن یہ مشرک، ان کی شان میں (آیت) ” علی ربھم یتوکلون یہ الذین یتولونہ “ کے مصداق۔ (آیت) ” بہ مشرکون “ میں ضمیر واحد مذکر غائب حق تعالیٰ کی جانب ہے۔ فیہ قولان الاول انہ راجع الی ربھم (کبیر) جو زان یوکن الضمیر للرب تعالیٰ شانہ وروی ذلک عن مجاھد (روح) بعض نے ابلیس کی جانب بھی لی ہے۔ اور بہ کو من اجلہ کا مرادف قرار دیا ہے یعنی اس کے سبب سے۔ انما ارادھم من اجلہ مشرکوں باللہ وھذا کما یقال صارفلان بک عالما اے من اجلک (ابن قتیبۃ) والقول الثانی انہ راجع الی الشیطان والمعنی بسببہ (کبیر) اے بسبب الشیطان واغوۂ ایاھم (روح)
Ayah 16:101161۔ (اے مدعی نبوت و رسالت) (آیت) ” واذا۔۔۔ ایۃ “۔ مثلا کسی آیت کے حکم کی تعمیم میں تخصیص پیدا کردیتے ہیں، یا اس کے برعکس تخصیص میں تعمیم، نسخ آیات پر مفصل حاشیہ سورة بقرہ (پ 1) میں (آیت) ” ماننسخ من ایۃ اوننسھا “ کے تحت میں گزر چکا (آیت) ” واللہ اعلم بما ینزل “۔ یعنی یہ تو اللہ ہی خوب جانتا ہے کہ مکلفین ومخاطبین کے اعتبار سے، کون ساحکم، کس وقت مناسب وپر مصلحت ہے۔ (آیت) ” قالوا انما انت مفتر “۔ یہ بکواس معاندین رسول اللہ ﷺ کی ہوتی تھی، جب کبھی بھی وہ کوئی ایسا حکم سنتے جو ان کے خیال میں کسی سابق حکم کے معارض ہوتا، تو چٹ یہی کہنے لگتے، کہ یہ کیا ؟ یہ تو تم اپنے قصد و ارادہ سے، اور اپنی مصلحت وقت دیکھ کر احکام میں ادل بدل کرتے رہتے ہو۔ گویا تبدیلی کا انتساب ایک انسان کی جانب تو ہوسکتا تھا، لیکن حق تعالیٰ کی طرف سے اس کے ہونے کا کوئی امکان نہ تھا ! اتنی موٹی سی بات جس طرح ان جاہلین قدیم کی سمجھ میں نہیں آئی تھی، بہت سے جاہلین جدید کی بھی سمجھ میں نہیں آرہی ہے۔ اور یہ لوگ بھی محض ان ” ترمیمات “ کے وق قوع سے نتیجہ یہ نکال رہے ہیں کہ قرآن خدا کا نہیں، انسان کا کلام ہے !
162۔ (کہ اپنے غایت جہل ونافہمی سے احکام کے ارتقاء وترتیب کو دلیل سمجھ رہے تھے افترا کی ! ) یہ ” ارتقاء “ مخاطبین کے فہم و استعداد کی نسبت سے کہا گیا۔
Ayah 16:102163۔ رسول اللہ ﷺ کو حکم مل رہا ہے کہ آپ حقیقت حال بیان کردیجئے کہ یہ کلام جسے تم میرا فرض کررہے ہو، حق تعالیٰ کا کلام ہے، جیسے فرشتہ مقرب جبریل امین (علیہ السلام) ، حکمت الہی کے مطابق میرے پاس لارہے ہیں، اور اس ترتیب و تدریج میں ایک مصلحت یہی ہے کہ اہل ایمان قدم توحید پر اور زیادہ جمتے رہیں، اور ان کی تربیت ایک خاص آئین حکمت کے مطابق ہوتی رہے۔ (آیت) ” روح القدس “۔ یعنی فرشتہ جبریل (علیہ السلام) ، حاشیہ گزر چکا۔ (آیت) ” بالحق “۔ یعنی آئین حکمت کے ماتحت ومطابق۔ اے ملتبسا بالحکمۃ (مدارک۔ بیضاوی)
Ayah 16:103164۔ یہ ایک نومسل رومی نصرانی غلام تھا، انجیل (علیہ السلام) وغیرہ سے واقف۔ رسول اللہ ﷺ کی باتوں کو شروع ہی سے توجہ ودلچپسی کے ساتھ سنتا تھا، تو آپ ﷺ بھی کبھی کبھی اس کے پاس جابیٹھتے تھے، تو بس اتنی سی بات پر عقل کے دشمنوں کو ایک شگوفہ ہاتھ آگیا، بعض روایتوں میں آتا ہے کہ یہ دو غلام تھے، جو مکہ میں شمشیر سازی کا کام کرتے تھے اور توریت انجیل بھی پڑھا کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ ادھر سے گزرتے، تو وہاں رک جاتے، بعض نافہموں نے ایک دن خود انہی سے پوچھ دیا کہ ” کیا تمہی انہیں قرآن سکھاتے ہو “ ؟ ” وہ بولے “ ہم بھلا انہیں سکھا سکتے ہیں، ہم تو خود ہی ان سے سیکھتے ہیں “۔ (آیت) ” یقولون انما یعلمہ بشر “۔ عجب کج فہم لوگ تھے، قرآن کے حیرت انگیزاثر اس کے اعلی مطالب، اسکی حکیمانہ تعلیمات، اس کی معجزانہ بلاغت کو دیکھتے، تو یہ کہہ اٹھتے کہ یہ ان صاحب کا کلام نہیں ہوسکتا، کوئی نہ کوئی انہیں سکھاتا ضرور ہے۔ اور اب ان کا حمق اس ” کوئی نہ کوئی “ کی تلاش کرنے لگتا۔ اور اس بدحواسی میں کبھی اس کا نام لے دیتے کبھی اس کا ! ہر طرف ٹھوکریں کھاتے رہتے، اور یہ نہ ہوتا کہ کبھی خود حق تعالیٰ ہی کا نام فرض کرلیتے ! ٹھیک وہی بھول بھلیاں جس میں آج بڑے بڑے ” روشن خیال “ مستشرقین بھٹکتے رہتے ہیں۔
165۔ عرب کے اہل زبان سے خطاب ہے کہ قرآن مجید کی معنوی بلندیوں تک تمہارا ذہن اگر نہیں پہنچتا تو خیر، لیکن یہ کیا قیامت ہے کہ اس معجزانہ فصاحت وحسن انشاء کا بھی تم کچھ لحاظ نہیں کرتے، اور اس بےانتہابلیغ کلام کو منسوب ایسے شخص کی جانب کررہے ہو، جو سرے سے اہل زبان تک نہیں ! (آیت) ” اعجمی “۔ وہ ہے جو صاف گفتگو اور اظہار ما فی الضمیر پر قادر نہ ہو، خواہ نسلا عرب ہی ہو، قال ابوالفتح الموصلی ترکیب، ع، چ، م وضع فی کلام العرب للابھام والاخفاء وضد البیان والایضاح (کبیر) قال الفراء واحمد بن یحی الاعجم الذی فی لسانہ عجمۃ وان کان من العرب (کبیر) وقال ابوعلی الفارسی الاعجم الذی لایفصح سواء کان من العرب اومن العجم (کبیر) الاعجم من فی لسانہ عجمۃ عرب یا کان اوغیر عربی (راغب) (آیت) ” یلحدون الیہ “۔ الحاد کے معنی راہ حق وصواب سے ہٹ کر جانے کے ہیں، اور ملحد کو اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ راہ حق اور تمام ادیان سے ہٹا ہوا ہوتا ہے۔ یقول لحد والحد اذا مال عن القصد ویقال للعادل عن الحق ملحد (کبیر) ومنہ الملحد لانہ امال مذھبہ عن الادیان کلھا (کبیر) (آیت) ” ھذا لسان عربی مبین “۔ یعنی یہ کلام تو معجزانہ حد تک فصیح ہے۔ جسے ہر اہل زبان، مومن ہو یا منکر بین طور پر دیکھ سکتا ہے۔
Ayah 16:104166۔ (آخرت میں) (آیت) ” ان الذین لایؤمنون بایت اللہ “۔ یہ وہ لوگ ہیں جو آیات الہی سے دیدہ و دانستہ منہ پھیرے رہتے ہیں۔ (آیت) ” لایھدیہم اللہ “۔ یعنی اللہ ایسے لوگوں کے سرتوفیق ہدایت زبردستی نہیں چپیک دیتا :۔
Ayah 16:105167۔ (کہ جو صادق اور سرتاسر صدق ہے، اسے کاذب ومفتری بتا رہے ہیں، اور خالق کے کلام کو مخلوق کا کلام ٹھیرا رہے ہیں) (آیت) ” اولٓئک ھم الکذبون “۔ یعنی پکے جھوٹے، اول نمبر کے لپاڑیے۔ الکاملون فی الکذب (کشاف) بعض محققین نے یہاں سے یہ نکالا ہے کہ کذب ایک بدترین کبیرہ ہے۔ (آیت) ” انما “۔ کے کلمہ حصر کے ساتھ کذب کا ذکر آنا گویا یہ معنی رکھتا ہے کہ کذب کا ارتکاب تو بس انہیں لوگوں سے ممکن ہے جو سرے سے آیات الہی پر ایمان ہی نہیں رکھتے فی ھذہ الایۃ دلالۃ قویۃ علی ان الکذب من اکبر الکبائر وافحش الفواحش والدلیل علیہ ان کلمۃ انما للحصر والمعنی ان الکذب والفریۃ لایقدم علیھما الامن کان غیر مومن بایات اللہ تعالیٰ والا من کافر کافرا وھذا تھدید فی النھایۃ (کبیر)
Ayah 16:106168۔ ایمان کے بعد ارتداد کی سزا شریعت میں بہت ہی سخت ہے، اور بہت ہی سخت ہونا چاہیے بھی، بغاوت سے بڑھ کر دنیا کے سارے قانون تعزیرات میں اور سنگین جرم ممکن کون ہے ؟ اور بغاوت بھی وفاداری کے عہد و پیمان مؤکد کے بعد ! (آیت) ” من کفر باللہ “۔ رسالت سے انکار، قرآن کے کلام الہی ہونے سے انکار، عقیدہ حشر سے انکار، یہ سب بھی کفر باللہ میں آگیا۔ (آیت) ” الا من اکرہ “۔ یعنی اسے ڈرا دھمکا کر یا مبتلائے عذاب کرکے اسے زبان سے انکار پر مجبور کردیا گیا ہو۔ ایسا شخص وعید سے مستثنی ہے۔ اکراہ۔ کے شرائط وغیرہ کی تفصیل فقہ کی کتابوں میں ملے گی، باب الاکراہ میں، فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص قدرت رکھتا ہو، وہ اگر قتل یا قطع عضو کی دھمکی دے، تو کلمہ کفر کا زبان سے تلفظ جائز ہوجائے گا، لیکن جبکہ ڈرانے والا اس پر قادر نہ ہو، یا خوف صرف مارپیٹ کا دلایا جائے تو یہ عذر کا فی نہ ہوگا۔ الاکراہ المبیح لذلک ھو ان یخاف علی نفسہ اوبعض اعضاۂ التلف ان لم یفعل ماامرہ بہ فابیح لہ فی ھذہ الحال ان یظھر کلمۃ الکفر (جصاص) (آیت) ” وقلبہ مطمئن بالایمان “۔ دل ایمان پر مطمئن ہو، یعنی عقیدہ میں فتور نہ آنے پائے، اور دل سے اس قول یا فعل کافرانہ کو برا سمجھے جائے، (آیت) ” من شرح بالکفر صدرا “۔ یعنی وہ مذہب کفر ہی کو صحیح اور مستحسن سمجھنے لگے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ چونکہ وسوسہ میں یہ شرح صدر نہیں ہوتا ہے، اور نہ اپنے اوپر اختیار ہی ہوتا ہے۔ اس لیے وسوسہ میں کوئی پہلو ذم کا نہیں۔
Ayah 16:107169۔ یعنی اللہ کفر اختیار کرنے والوں پر زبردستی توفیق ہدایت نہیں چپیک دیا کرتا (آیت) ” ذلک۔ یعنی یہی اللہ کا غضب و عذاب۔ (آیت) ” استحبوا الحیوۃ الدنیا علی الاخرۃ۔ استحبوا “۔ کے لفظ میں عزم وقصد شامل ہے۔ بس اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو دنیا کو عمدا وشعورا آخرت پر ترجیح دیتے ہیں۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ دنیا کی جس قدر محبت درجہ طبیعی میں ہے، اور عین مقتضائے بشریت ہے، وہ اس حکم میں شامل نہیں، یہ بھی فرمایا کہ آیت حب دنیا کے مذموم ہونے کے باب میں نص صریح ہے، جس طرح کہ اس باب میں کہ یہ حب دنیا مذموم وہ ہے جس میں دنیا کو آخرت پر ترجیح دی گئی ہو۔
Ayah 16:108170۔ اپنے اختیاری حب دنیا اور آخرت فراموشی کی بنا پر) (آیت) ” طبع۔۔۔ ابصارھم “۔ دل اور کان اور آنکھ پر مہر لگنے پر حاشیہ سورة بقرہ (پارۂ اول) کے پہلے رکوع کے خاتمہ پر آچکا ہے۔ یہ مہر لگنے کا عمل حق تعالیٰ کی طرف سے بہ طور تکوینی علت العلل کے ہوتا ہے، بندہ کے اختیاری کفر کے نتیجہ کے طور پر۔ (آیت) ” اولئک ھم الغفلون “۔ یعنی پلے سرے کے غافل، غفلت میں حد سے گزر جانے والے۔ اے الکاملون فی الغفلۃ الذین لااغفل منھم (کشاف)
Ayah 16:109171۔ جس نے بیج سرے سے ڈالا ہی نہیں، وہ کھیت کاٹے گا کیا ؟ آخرت تو صرف دارالجزاء کا نام ہے، جب دارالعمل میں کوئی عمل سرے سے ہوا ہی نہیں تو جزائے عمل کیسی۔
Ayah 16:110172۔ (جو مغفرت و رحمت تو نفس ایمان ہی پر مرتب کردیتا ہے، پھر ان اعمال شاقہ کے امتحان سے گزرنے پر مغفرت و رحمت کے درجات عالیہ وکاملہ کیوں نہ عنایت کردے گا) (آیت) ” للذین ھاجروا “۔ ہجرت سے مراد مدینہ تو ظاہرہی ہے۔ لیکن ہجرت حبشہ بھی سمجھی جاسکتی ہے۔ (آیت) ” بعد مافتنوا “ آزمائشوں سے کھلا ہوا اشارہ آغاز ظہور اسلام کے شداید شاقہ کی جانب ہے، نفس ابتلاء کفر بھی مراد ہوسکتا ہے۔ (آیت) ” جھدوا “۔ جہاد اپنے لغوی معنی میں ہر جہاد نفس پر شامل ہے۔ قتال اصطلاحی ہی کامرادف نہیں۔ (آیت) ” من بعدھا “۔ ضمیر اعمال سابقہ مذکورہ یعنی آزمائش میں پڑنے اور ہجرت اور جہاد اور ثابت قدمی کی طرف ہے۔ اے المذکورات من الفتنۃ والھجرۃ والجھاد والصبر (روح) سوال یہ اٹھایا گیا ہے، کہ سورة تو مکی ہے، پھر اس میں، ہجرت و جہاد کا ذکر کیسا ؟ لیکن اول تو ابن عطیہ کی روایت میں ہے کہ آیت مدنی ہے (اور مکی سورتوں میں مدنی آیتوں کی آمیزش کی مثالیں قرآن میں کثرت سے ہیں) اور ہجرت سے مراد، ہجرت حبشہ توبہ آسانی ہو ہی سکتی ہے، اور جہاد اپنے لغوی معنی (جدوجہد) میں۔ پھر ان سب کے علاوہ، صیغہ ماضی سے اخبار مستقبل کی مثالیں بھی قرآن میں شاذ نہیں۔
Ayah 16:111173۔ وہ وقت انصاف کامل کا ہوگا۔ دنیا کی طرح وہاں خیروشر کو مخلوط اور حق و باطل کو باہم ملتبس رکھنے کی قطعا حاجت نہ ہوگی۔ (آیت) ” یوم۔۔ نفسھا “۔ وہ گھڑی ایسی نفسی نفسی کی ہوگی کہ کسی کو کسی دوسری طرف توجہ کرنے کی مہلت ہی کب ہوگی، (آیت) ’ ’ وھم لایظلمون “۔ یعنی نیکی کے بدلہ میں کمی نہ ہوگی، گوزیادتی ہوجائے اور بدی کے بدلہ میں زیادتی نہ ہوگی، گوکمی ہوجائے۔ “ (تھانوی (رح) (آیت) ” عن نفسھا “۔ اس دوسرے نفس کے معنی عین یا ذات کے ہیں، اور پہلا نفس شخص کے مرادف ہے۔ یقال لعین الشیء وذاتہ نفسہ (کشاف) والنفس الجملۃ کماھی فالنفس الاولیھی الجملۃ والثانیۃ عینھا وذا تھا (کشاف) (آیت) ” تجادل “۔ مجادلہ یہاں عذر معذرت اور صفائی پیش کرنے کے معنی میں ہے۔ ومعنی المجادلۃ عنھا الاعتذار منھا (کشاف)
Ayah 16:112174۔ مثال سے مقصود یہ ظاہر کرنا ہے کہ کفر و انکار کے نتائج اس دنیا میں بھی کیسے سخت اور ہولناک ہوسکتے ہیں۔ (آیت) ” ضرب اللہ مثلا “۔ مثال سے مقصود نتائج کفر پر متنبہ کرنا ہے۔ (آیت) ” امنۃ۔۔ بانعم اللہ “۔ آیت سے ظاہر ہوگیا کہ دنیا میں امن و فراغت سے رہنا سہنا اور کافی سامان معیشت بہم پہنچتے رہنا حق تعالیٰ کی بڑی نعمتوں میں سے ہے، تحقیر کے نہیں شکریہ کے قابل۔ (آیت) ” فاذاقھا۔۔ یصنعون “۔ آیت سے ظاہر ہورہا ہے کہ دنیوی نعمتوں کی ناشکری بھی عذاب کا مستحق بنادیتی ہے۔ (آیت) ” فکفرت بانعم اللہ “۔ یہ ناشکری انہوں نے عقاید کفر وشرک کو اختیار کر کرکے کی۔
Ayah 16:113175۔ (سوائے اہل مکہ ڈرو، کہ کہیں تمہارا بھی یہی حال نہ ہوجائے) تاریخ کا بیان ہے کہ یہ انجام واقع ہو کررہا۔ (آیت) ” فاذاقھا اللہ لباس الجوع والخوف “۔ کی بات اہل مکہ کے حق میں ان کے انکار رسول ﷺ کے پاداش میں، پوری ہو کر رہی۔ (آیت) ” لباس الجوع “۔ مکہ میں قحط شدید پڑا جانور مرنے لگے، آدمی جان سے گزرنے لگے۔ (آیت) ” والخوف “۔ مکہ بالآخر مسلمانوں ہی کے ہاتھ پر فتح ہوا۔ قریش کے بڑے بڑے سرداروں کا سرنگوں ہوا۔ (آیت) ” وھم ظلمون “۔ عذاب الہی نے انکی گرفت عین اس حال میں کی، کہ وہ ارتکاب کفر وتکذیب میں مبتلا تھے۔ اے حال التباسھم بالظلم وھو الکفران والتکذیب (روح) (آیت) ” منھم “۔ یعنی خود انہی کی جنس وقوم میں سے، جس کے ایک ایک حال سے یہ خوب واقف تھے۔ اے من جنسھم یعرفونہ باصلہ ونسبہ (روح)
Ayah 16:114176۔ یعنی اگر خدا پرست اور توحید کے قائل ہو، تو مشرکوں کی طرف اپنے دل سے فلاں فلاں چیز کو ناجائز و حرام مت ٹھیرالو، بلکہ جو چیزیں اللہ کی شریعت نے حلال کی ہیں، انہیں جائز ہی سمجھتے رہو انہیں اللہ کی نعمتیں سمجھ کر انہیں برتو، اور حق تعالیٰ کا شکر زبان سے اور عمل سے ادا کرتے رہو،
Ayah 16:115177۔ (خود اس نے اپنی انہی صفات غفر و رحمت کے تقاضہ سے اس اضطرار کی حالت میں حرام غذاؤں کو بھی بہ قدر ضرورت جائز کردیا ہے) (آیت) ” انما حرم علیکم “۔ الخ۔ یہاں ذکر انہی چیزوں کا ہے، جن کی حلت و حرمت مشرکین مکہ میں زیر بحث تھی۔ حدیث نبوی ﷺ سے جو دوسری چیزیں حرام ثابت ہوئی ہیں، وہ ان کے علاوہ ہیں۔ (آیت) ” انما “۔ کا حصر محض اضافی ہے۔ یعنی حرام وہ چیزیں نہیں جنہیں تم نے اپنے دل سے حرام ٹھیرالیا ہے۔ بلکہ حرام تو بس یہ چیزیں ہیں باقی جو چیزیں کسی دوسری دلیل شرعی سے حرام ٹھیرائی گئی ہیں، ان سے یہاں کوئی تعرض ہی نہیں، والحصر اضافی علی ماقال غیر واحد اے انما حرم اکل ھذہ الاشیاء دون ماتزعمون من البحائر والسوائب ونحوھا (روح) (آیت) ” والمیتۃ۔ والدم۔ ولحم الخنزیر۔ وما اھل لغیر اللہ بہ “۔ ان سب پر حاشیے پ 8 سورة الانعام میں گزر چکے۔ (آیت) ” فمن اضطر “۔ یعنی جو شخص بھوک اور فاقہ کی شدت سے نڈھال ہوجائے۔ (آیت) ” غیر باغ ولا عاد “۔ حاشیہ پ 8 سورة الانعام میں گزر چکا۔
Ayah 16:116178۔ یعنی جب خدائی شریعت میں وہ مضمون ہے ہی نہیں جو تم بتا رہے ہو، تو تمہارا اس کو خدائی شریعت کی جانب منسوب کرنا، اسے خدا پر گڑھنا ہی تو ہوا۔ (آیت) ” لما تصف السنتکم “۔ یعنی اس پر کوئی دلیل صحیح تو قائم ہے نہیں۔ محض تمہارے زبانی دعوے ہی ہیں۔ (آیت) ” لتفترو “۔ میں ل عاقبت کا ہے، یعنی تمہارے اس قول کا حاصل یہی افتراء علی اللہ ہے۔ واللام من التعلیل الذی لایتضمن معنی الغرض (کشاف) واظن ان ھذا اللام لیس لام الغرض بل کان لام العاقبۃ (کبیر) اللام لام العاقبۃ والصیرورۃ (روح) (آیت) ” ولا تقولوا۔۔۔ حرام “۔ ترجمہ متن میں جو ترکیب اختیار کی گئی ہے، وہ کسائی لغوی اور زجاج نحوی کے قول کے مطابق ہے، اور بہت سے مفسرین کی اختیار کردہ۔ اے لاتقولوا ھذا حلال وھذا حرام لاجل وصف السنتکم الکذب والی ھذاذھب الکسائی والزجاج (روح)
Ayah 16:117179۔ ایسے مجرموں کو حقیقۃ فلاح و عافیت کہاں نصیب ؟ یہ عیش جو انہیں بظاہر نصیب ہورہا ہے۔ تمامتر عارضی وفانی ہے، پلک جھپکتے آنکھ کھل جائے گی، اس وقت حقیقت معلوم ہوگی :۔
Ayah 16:118180۔ یعنی جو ماکولات یہود پر بہ طور سزا حرام کردیئے گئے ان کے باب میں بھی حقیقۃ سارا قصورا انہی کا تھا۔ زیادتی ہماری طرف سے ذرا بھی نہیں ہوئی، یہاں تک کہ صورۃ بھی۔ (آیت) ” ماقصصنا علیک من قبل “۔ ملاحظہ ہوں سورة الانعام، آیت وعلی الذین ھادوا حرمنا کل ذی ظفر کے حاشیے۔
Ayah 16:119181۔ (چنانچہ ان نادانوں نافرمانوں کے بھی قصوروں سے درگزر کردے گا) (آیت) ” ثم تابوا من بعد ذلک اصلحوا “۔ یعنی حسب احکام وقواعد شرعی، ماضی سے متعلق توبہ اور حال سے متعلق اصلاح کرلے۔ (آیت) ” للذین عملوا۔۔۔۔ واصلحوا “۔ ملاحظہ ہوں سورة النساء رکوع 3 کے حاشیے۔ (آیت) ” السوٓء “۔ اس کے تحت میں چھوٹی بڑی ہر قسم کی برائی، معصیت آگئی، یہاں تک کہ کفر وشرک بھی، ھو مایسئی صاحبہ من کفر او معصیۃ ویدخل فیہ الافتراء علی اللہ وعن ابن عباس انہ الشرک والتعمیم اولی (روح) (آیت) ” من بعدھا “۔ ضمیر توبہ واصلاح کی جانب ہے، اے التوبۃ کما قال غیر واحد ولعل الاصلاح مندرج فی التوبۃ (روح) (آیت) ” ثم تابوا “۔ میں ثم تاکید اور زور دینے کے لئے ہے۔ للتوکید والمبالغۃ (روح) (آیت) ” بجھالۃ “۔ ہر معصیت ونافرمانی کی آخری بنیاد اسی نافہمی ونادانی ہی پر تو ہوتی ہے۔ التقیید بالجھالۃ لبیان الواقع لان کل من یعمل السوء لایعملہ الا بجھالۃ (روح)
Ayah 16:120182۔ (تو تم کس منہ سے ان کی پیروی اور ان کی نسل میں ہونے کا دعوی کرو ہے ہو، اے مشرکین عرب ! ) تم تو ہر معاملہ میں ان کی بالکل ضد ہو، وہ قانت وفرمانبردار تھے، تم نافرمان، وہ مومن حنیف، اللہ کی طرف یکسوئی سے لگے ہوئے اور ایک رخ تھے، اور تم ادھر سے منہ موڑے ہوئے، دنیا طلبی پر گرے ہوئے، وہ موحد تھے، تم مشرک، تمہارے ان کے درمیان رشتہ اشتراک ہی کیا ؟ (آیت) ” ابرہیم “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پر حاشیہ سورة بقرہ، پ 1، رکوع 15 میں گزر چکا، (آیت) ” امۃ “۔ یعنی اللہ کی عبادت وفرمانبرداری اور طاعات وحسنات میں پوری ایک جماعت کے قائم مقام اور برابر۔ اے قائما مقام جماعۃ فی عبادۃ اللہ (راغب) اے کان وحدہ امۃ من الامم لکمالہ فی جمیع صفات الخیر (کشاف) عن ابن عباس ؓ اے کان عندہ من الخیر ماکان عندامۃ وھی الجماعۃ الکثیر ۃ (روح) دوسرے معنی امام یا مقتداء کے ہیں، جو امور خیر میں بہ طور نمونہ کے کام دے۔ ابوعبیدہ لغوی نے یہی معنی لئے ہیں، اور مشہور صحابی عبداللہ بن مسعود ؓ اور فراء لغوی سے معلم خیر کے معنی منقول ہیں۔ الامۃ الامام وبہ فسرابوعبیدہ (تاج) وقال الفراء کان امۃ اے معلما للخیر وبہ فسر ابن مسعود ایضا (تاج) امۃ بمعنی ماموم اے یؤمہ الناس لیاخذوا منہ الخیر (کشاف) فھو الامام الذی یقتدی بہ (ابن کثیر) (آیت) ” حنیفا “۔ ہر مذہب باطل سے ہٹ کر دین حق کی طرف جھکے ہوئے اور اس پر ثابت وقائم۔ مائلا عن کل دین باطل الی الدین الحق غیر زائل عنہ (روح)