12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 12:110

حَتّٰۤى اِذَا اسْتَیْئَسَ الرُّسُلُ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ قَدْ كُذِبُوْا جَآءَهُمْ نَصْرُنَا فَنُجِّیَ مَنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ لَا یُرَدُّ بَاْسُنَا عَنِ الْقَوْمِ الْمُجْرِمِیْنَ Open ayah 12:110 in the Quran reader

(پہلے بھی مہلتیں دی جا چکی ہیں) یہاں تک کہ پیغمبر مایوس ہی ہوگئے ہیں اور گمان کرنے لگے کہ ان سے غلطی ہوئی،198۔ (کہ اتنے میں) انہیں ہماری مددآپہنچی،199۔ سو ہم نے جس کے لئے چاہا وہ بچا لیا گیا اور ہمارا عذاب مجرم لوگوں سے ہٹتا نہیں،200۔

198۔ موجودہ کافروں کو تاخیر عذاب سے خوش ومطمئن نہ ہوجانا چاہیے پچھلی بدکار اور نافرمان قوموں پر آمد عذاب موعود میں بعض دفعہ دوسری مصلحتوں سے اتنی تاخیر ہوئی ہے کہ خود پیغمبروں کو باایں ہمہ استقامت وصبر و سلامت فکر، یہ خیال گزرنے لگا کہ کہیں ہم ہی سے تو وعدہ نزول عذاب کے بھیجنے اور تعین مدت عذاب میں غلطی نہیں ہوئی ہے۔ آیت کی تفسیر اور بھی متعدد طریقوں سے منقول ہے مگر سب سے زیادہ صاف بےتکلف اور بےغبار مفسر تھانوی (رح) کی اختیار کی ہوئی تفسیر ہے۔ 199۔ اور نصرت غیبی یہی کفار پر عذاب موعود تھی۔ 200۔ یعنی عذاب موعود اپنے وقت مقرر پر آکر رہا اور کفار منکرین معاندین بہرحال اپنے کیفر کردار کو پہنچے، عام قانون الہی ہمیشہ سے یہی چلا آرہا ہے۔ (آیت) ” فنجی من نشآء “۔ اور ظاہر ہے کہ بچا لینے کی مشیت الہی ہمیشہ مومنین ہی سے متعلق رہی ہے۔ وھم الرسل والمومنون لھم (روح) مطلب یہ ہوا کہ عذاب عمومی جب بھی آیا تو اہل ایمان کو بچا لیا گیا۔
Ayah 12:111

لَقَدْ كَانَ فِیْ قَصَصِهِمْ عِبْرَةٌ لِّاُولِی الْاَلْبَابِ١ؕ مَا كَانَ حَدِیْثًا یُّفْتَرٰى وَ لٰكِنْ تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ تَفْصِیْلَ كُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 12:111 in the Quran reader

ان کے قصوں میں اہل فہم کے لئے (بڑی) عبرت ہے،201۔ (قرآن) کوئی گھڑی ہوئی بات تو ہے نہیں یہ تو تصدیق (کرنے والا) ہے اس کا جو اس کے قبل (نازل) ہوچکا ہے اور تفصیل (کرنے والا) ہے ہر چیز کا اور ایمان والوں کے حق میں ہدایت و رحمت ہے،202۔

201۔ (اور وہ اہل فہم فورا سمجھ جاتے ہیں کہ طاعت کا انجام کیا ہوتا ہے اور نافرمانی کا انجام کیا) (آیت) ” قصصھم “۔ ضمیر انبیاء سابقین اور ان کی امتوں کی طرف ہے۔ اے قصص الانبیاء واممھم (بیضاوی) 202۔ جب ہی اسی کے ذریعہ سے اہل ایمان دنیا میں ہدایت حاصل کرتے ہیں اور آخرت میں رحمت۔ (آیت) ” تفصیل کل شیء “۔ یعنی ہر ایسی چیز کی تفصیل جس کا تعلق ہدایت سے ہے۔ چناچہ اصل دین کا کوئی مسئلہ ایسا نہیں جو براہ راست یا بالواسطہ قرآن مجید میں نہ نکل آئے۔ کل شیء یحتاج الیہ فی الدین اذ ما من امر دینی الا ولہ سند من القرآن بوسط او بغیر وسط (بیضاوی) یستند الی القران بذات اوبوسط (روح) تذئیل۔ سورة یوسف جسے قرآن مجید خود احسن القصص قرار دے رہا ہے بردران یوسف (علیہ السلام) کا بھی ذکر تفصیل کے ساتھ آیا ہے اسی مشابہت سے یہ نامہ سیاہ عرض پرداز ہے کہ وہ بھی اسی خانوادۂ بزرگ کا ایک ادنی و حقیر وننگ خاندان نام لیوا ہے سلسلہ نسب جہاں تک خاندانی شجروں سے پتہ چل سکا ہے اٹھاونویں پشت میں لادی بن یعقوب (علیہ السلام) تک پہنچتا ہے۔