12. Surah Yusuf

يوسفJoseph · 111 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 12:70

فَلَمَّا جَهَّزَهُمْ بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَایَةَ فِیْ رَحْلِ اَخِیْهِ ثُمَّ اَذَّنَ مُؤَذِّنٌ اَیَّتُهَا الْعِیْرُ اِنَّكُمْ لَسٰرِقُوْنَ Open ayah 12:70 in the Quran reader

پھر جب ان کا سامان تیار کردیا تو پانی کا گلاس اپنے (حقیقی) بھائی کے شلیتہ میں رکھ دیا،133۔ اس کے بعد ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا اے قافلہ والو ضرور تم ہی چور ہو،134۔

133۔ (اس مصلحت کے ساتھ کہ جب یہ لوگ رخصت ہوجائیں گے تو آپ ہی اس جام شاہی کی تلاش شروع ہوگی، اور شبہ خواہ مخواہ انہیں قافلہ والوں پر ہوگا) یہ منصوبہ بنیامین کے مشورہ ہی سے تیار ہوا تھا، اس لیے وہ قدرۃ بےفکر اور مطمئن تھے اور ان کے کسی دھوکے یا غلط فہمی میں پڑنے کا امکان نہ تھا۔ السقایۃ غلہ ناپنے کا پیمانہ بھی یہی تھا۔ اور توریت میں ہے کہ یہ گلاس چاندی کا تھا۔ اور اس نے اپنے گھر کے داروغہ کو یہ حکم کیا کہ ان آدمیوں کے بوروں کو غلہ سے جتنا کہ وہ لے جاسکیں بھر اور ہر شخص کی نقدی اس کے بورے کے اندر ڈال دے اور میرا پیالہ روپے کا پیالہ چھوٹے کے بورے میں اوپر وار اس کے غلہ کی قیمت سمیت رکھ دے چناچہ اس نے یوسف (علیہ السلام) کے فرمانے کے موافق عمل کیا “۔ (پیدائش 44 : 1، 2) 134۔ یہ ندا کرنے والا یقیناً مہمان خانہ کا کوئی افسر ہوگا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس نے یہ بہ طور خود کیا یا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حکم سے ؟ قرینہ تو یہی کہتا ہے کہ از خود کیا ہوگا۔ وزیر تک اس صاف اور سیدھی کاروائی کو لے جانے کی ضرورت کیا تھی، اور نہ قرآن مجید ہی میں اس کی طرف کوئی اشارہ ہے۔ صرف بعض مفسرین کی یہ رائے ہے اور اگر اسے تسلیم کرلیا جائے تو زیادہ سے زیادہ صورت توریہ کی لازم آتی ہے یعنی سرقہ سے حقیقۃ مراد وہ سرقہ تھا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) سے غائب کردیا تھا۔ لیکن سامعین معنی قریب یعنی پیمانہ کا سرقہ سمجھے۔ لیکن اگر یوسف (علیہ السلام) کا اذن وحکم نہ فرض کیا جائے تو اس توجیہ وتاویل کی بھی ضرورت نہیں رہتی۔ اور اس صورت میں بات بالکل صاف ہورہتی ہے کہ مہمان خانہ کے اہل کاروں اور عملہ والوں نے از خود ہی یہ قیاس کرکے یہ صدا لگائی) اکابر اہل تفسیر ادھر ہی گئے ہیں۔ لیس فی القرآن انھم نادوا بذلک النداء عن امر یوسف (علیہ السلام) والاقرب الی ظاہر الحال انھم فعلوا ذلک من انفسھم (کبیر) قال قائل من الموکلین بالصیحان وقد فقدوہ ولم یدروا من اخذہ ایتھا العیر انکم لسارقون علی ظن منھم انہم کذلک ولم یامرھم یوسف بذلک (جصاص) قیل قالوہ من غیر امر یوسف (معالم) وھو من قبل المؤذن بناء علی زعمہ (روح) حضرت یوسف (علیہ السلام) کو ملزم قرار دینے کی اصل ذمہ داری توریت پر ہے۔ چناچہ اس میں ہے۔ :” جوں ہی صبح کی روشنی ہوئی اور سب اپنے گدھے لے کے چل نکلے جب وہ شہر سے تھوڑی دور باہر گئے یوسف (علیہ السلام) نے اپنے گھر کے داروغہ کو کہا کہ اٹھ اور ان لوگوں کا پیچھا کر اور جب تو انہیں پاوے تو انہیں کہہ کہ تم نے کس نیکی کے عوض یہ بدی کی۔ “ (پیدائش 44: 4، 5) (آیت) ” ثم اذن مؤذن “۔ یعنی جب قافلہ کچھ دور نکل گیا اور شاہی مہمان خانہ کے اہل کاروں کو وہ پیمانہ غائب نظر آیاتو قدرۃ انہی شبہ اسی قافلہ والوں پر گزرا اور ان میں سے کسی نے لپک کر یہ آواز دی۔ (آیت) ” انکم لسرقون “۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ ظن غالب کی بناء پر اگر کسی کو چور کہہ دیا جائے تو اس پر کذب کا اطلاق نہیں ہوگا۔ فلم یکن قول ھذا القائل کذبا اذ کان مرجعہ الی غالب ظنہ (جصاص)
Ayah 12:71

قَالُوْا وَ اَقْبَلُوْا عَلَیْهِمْ مَّا ذَا تَفْقِدُوْنَ Open ayah 12:71 in the Quran reader

وہ بولے اور ان کی طرف متوجہ ہوئے کہ تمہاری کیا چیز گم ہوئی ہے،135۔

135۔ (کہ جس سے ہم پر شبہ چوری کا کررہے ہو) برادران یوسف (علیہ السلام) نے یہ صدا سن کر پیچھے مڑ کر دیکھا اور حیران ہو کر کہا کہ آخر وہ ہے کیا چیز جس کے غائب ہوجانے سے آپ ہم لوگوں کو چور سمجھنے لگے ! (آیت) ” علیھم “۔ کے صیغہ جمع سے معلوم ہوتا ہے کہ تلاش میں تعاقب کرنے والا کوئی فرد واحد نہ تھا بلکہ متعدد سلطانی اہلکار تھے۔
Ayah 12:72

قَالُوْا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَ لِمَنْ جَآءَ بِهٖ حِمْلُ بَعِیْرٍ وَّ اَنَا بِهٖ زَعِیْمٌ Open ayah 12:72 in the Quran reader

وہ بولے ہم سے شاہی پیمانہ گم ہوا ہے اور جو کوئی اسے لے آئے گا اس کے لئے ایک بار شتر (غلہ) ہے اور میں اس کا ذمہ دار ہوں،136۔

136۔ یہ انعام خزانہ سرکار کی طرف سے مقرر ہوا تھا اور قحط وخشک سالی کے زمانہ میں غلہ کا راشن اتنی بڑی مقدار میں ایک بہت بڑا انعام تھا۔ (آیت) ” انا بہ زعیم “۔ یہ کہنے والا کون تھا اور انا کی ضمیر کس کی طرف ہے ! لازمی نہیں کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) ہی سے مرا دلی جائے۔ سرکاری اہلکار متعلقہ بھی مراد ہوسکتا ہے اور اکثر اکابر سلف اسی طرف گئے ہیں۔ الزعیم ھو المؤذن (ابن جریر عن مجاہد) یقول المؤذن (مدارک ومعالم) وھو قول المؤذن (روح)
Ayah 12:73

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ عَلِمْتُمْ مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِی الْاَرْضِ وَ مَا كُنَّا سٰرِقِیْنَ Open ayah 12:73 in the Quran reader

وہ بولے بخدا ! تمہیں خوب معلوم ہے کہ ہم لوگ ملک میں فساد پھیلانے نہیں آئے ہیں اور نہ ہم چور ہیں،137۔

137۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے اپنے اوپر یہ عجیب و غریب اور توہین آمیز الزام سن کر ان اہلکار ان سرکاری سے کہا کہ ہم اپنے ملک وقوم کے اعیان واشراف میں ہیں۔ چوری سے ہمیں واسطہ کیا۔ اور پھر ہم تو آپ کے مہمان ایک بارقبل بھی رہ چکے ہیں اور ہمارے اطوار وخصائل آپ پر واضح ہوچکے ہیں آپ کو یہ خیال ہی کیسے گزرا کہ ہم آپ کے ملک میں کوئی جرم کرنے یا قانون شکنی کرنے آئے ہیں۔ (آیت) ” تاللہ لقد علتم “۔ خطاب یہاں عہدہ داران سرکاری سے ہے اور تاے قسم اور لقد کی دہری تہری تاکید سے اپنے دعوی پر انتہائی زور دینا مقصود ہے جیسے اردو میں کہتے ہیں کہ یہ خیال ہی آپ کو کیسے پیدا ہوتا۔ (آیت) ” تاللہ “۔ ت قسم ہے، اور یہ تاے قسم عربی میں صرف لفظ اللہ پر داخل ہوتی ہے۔ اس کے کسی مرادف رحمن۔ رب وغیرہ پر نہیں آتی۔
Ayah 12:74

قَالُوْا فَمَا جَزَآؤُهٗۤ اِنْ كُنْتُمْ كٰذِبِیْنَ Open ayah 12:74 in the Quran reader

وہ بولے اس (چور) کی کیا سزا اگر تم جھوٹے نکلے ؟ ،138۔

138۔ (اور چور ثابت ہوگئے) ان افسروں نے کہا اگر تلاش کے بعد سامان تمہارے ہی پاس نکل آیا اور تمہاری صفائی جھوٹی ثابت ہوئی تو تم ہی اپنے ملک وقوم کے آئین کے لحاظ سے بتاؤ کہ تمہاری کیا سزا ؟
Ayah 12:75

قَالُوْا جَزَآؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِیْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَآؤُهٗ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 12:75 in the Quran reader

وہ بولے کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتہ میں وہ (پیمانہ) مل جائے تو وہی شخص اپنی سزا ہے ہم لوگ مجرموں کو یونہی سزا دیا کرتے ہیں،139۔

139۔ یعنی ہماری شریعت اسرائیلی میں چور کی سزا یہی ہے توریت میں جو سزائیں درج ہیں، خیال رہے کہ وہ شریعت موسوی کی ہیں، شریعت اسرائیلی سے کئی سال بعد کی۔ (آیت) ” فھوجزآؤہ “۔ یعنی چوری کی سزا میں صاحب مال چور کو اپنا غلام بنا لے، والمعنی ان استعبادہ ھو جزاء ذلک الجرم (کبیر)
Ayah 12:76

فَبَدَاَ بِاَوْعِیَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ اَخِیْهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِنْ وِّعَآءِ اَخِیْهِ١ؕ كَذٰلِكَ كِدْنَا لِیُوْسُفَ١ؕ مَا كَانَ لِیَاْخُذَ اَخَاهُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِكِ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ وَ فَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِیْمٌ Open ayah 12:76 in the Quran reader

پھر (یوسف علیہ السلام) نے اپنے (حقیقی) بھائی کے تھیلے سے قبل دوسروں کے تھیلوں سے (تلاش کی) ابتداء کی، پھر اس (پیمانہ) کو اپنے (حقیقی) بھائی کے تھیلہ سے برآمد کرلیا اس طرح کی تدبیر ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی خاطر کردی،140۔ (یوسف علیہ السلام) اپنے بھائی کو بادشاہ (مصر) کے قانون کے لحاظ سے نہیں لے سکتے تھے،141۔ مگر یہ ہے کہ اللہ ہی کو منظور تھا ہم جس کے مرتبہ چاہتے ہیں بلند کرتے ہیں اور ہر صاحب علم سے بڑھ کر ایک عالم ہے،142۔

140۔ (بنیامین کو پاس رکھ لینے کی) (آیت) ” کدنا “۔ صیغہ متکل لاکرگویا یہ صاف کردیا کہ سلسلہ میں جو کچھ بھی مخفی کاروائیاں تھیں سب ہمارے ایماء سے ہوئیں، یوسف (علیہ السلام) کسی منزل پر بھی قابل الزام نہیں 4۔ (آیت) ” فبدا “۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ تلاشی یوسف (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ ہی سے لی ہو۔ ان کے کسی نائب کا فعل بھی انہی کا سمجھا جائے گا۔ کید۔ مکر کے قسم کے الفاظ جب حق تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتے ہیں تو ان سے مراد ان اعمال کی منتہائے مقصود اور حاصل غرض ہوتی ہے نہ کہ ان اعمال کے ابتدائی مدارج۔ انا ذکر نا قانونا معتبرا فی ھذا الباب وھو ان امثال ھذہ الالفاظ تحمل علی نھایات الاغراض لاعلی بدایات الاغراض (کبیر) کذلک کدنا لیوسف “۔ فقہاء نے یہاں سے یہ استدلال کیا ہے کہ مقصد مباح کے حاصل کرنے کے لئے حیلہ کرنا جائز ہے۔ (دلالۃ علی اجازۃ الحیلۃ فی التوصل الی المباح (جصاص) 141۔ مصری قانون میں چوری کی سزا غلامی نہیں، جرمانہ وتازیانہ تھی۔ (آیت) ” لیاخذ “۔ اخذ کے یہاں معنی، پکڑ لینے کے نہیں، گرفتار تو بنیامین ہو ہی گئے تھے، یہاں اس سے مراد یوسف (علیہ السلام) کا انہیں اپنے پاس رکھ لینا ہے جیسا کہ ادنی تامل سے معلوم ہوسکتا ہے۔ (آیت) ” ماکان “۔ الخ۔ مصری قانون کے لحاظ سے یہ بات حضرت یوسف (علیہ السلام) کے لئے ممکن نہ تھی۔ اے لم یکن لہ اخذہ فی حکم ملک مصر قال الضحاک وغیرہ (ابن کثیر) یعنی ان یوسف لم یکن یتمکن من حبس اخیہ فی حکم الملک (معالم) والمعنی انہ کان حکم الملک فی السارق ان یضرب ویغرم ضعفی ما سرق فما کان یوسف قادرا علی حبس اخیہ عند نفسہ بناء علی دین الملک وحکمہ (کبیر) اور ظاہر ہے کہ یہ باہر کے آئے ہوئے لوگ اصولا اسی ملک کے قانون کے ماتحت تھے جس میں اس وقت مقیم تھے، جیسا کہ آج تک بین الاقوامی قانون کا دستور چلا آتا ہے۔ (آیت) ” فی دین الملک “۔ یوسف (علیہ السلام) کو نور نبوت سے معلوم ہوچکا تھا کہ آیندہ کو نظام حکومت انہی کے ہاتھ میں آنے والا ہے۔ اس لیے آپ سردست مصری آئین سے کوئی تعرض نہ فرماتے تھے۔ 142۔ (پس کوئی بھی اپنے علم پر نازاں نہ ہو، جہاں سب کا علم ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے بھی اوپر اس ہستی کا علم ذاتی اور علم محیط ہے۔ جس کا نام عالم الغیب والشہادۃ ہے) (آیت) ” الا ان یشآء اللہ “۔ چناچہ خود انہی لوگوں کی زبان سے یہ نکلا کہ ہم میں جس کی بھی چوری ثابت ہو اسے اپنا غلام بنا لو۔۔۔ یعنی عام قاعدہ کے لحاظ سے تو یوسف (علیہ السلام) کو کوئی اختیار تھا ہی نہیں کہ بنیامین کو اپنے پاس روک رکھیں، یہ تو محض اللہ نے اپنی مشیت تکوینی سے یہ بات عہدہ داروں کے دل میں ڈال دی جو انہوں نے خود اسرائیلیوں سے ان کے قانون کی بابت سوال کرلیا۔ (آیت) ” نرفع درجت من نشآء “۔ سیاق چاہتا ہے کہ یہاں درجات علم مراد ہوں، چناچہ یوسف (علیہ السلام) کا مرتبہ علم میں اتنا بڑھ کر رہا۔ اے بالعلم کما رفعنا درجۃ یوسف علی اخوتہ (معالم) 143۔ (اس لئے اس کی چوری پر کچھ ایسا تعجب نہیں) برادران یوسف (علیہ السلام) کی سیرت جو شروع سے نمودار ہورہی ہے اب اس میں ایک اور عنوان کا اضافہ ہوا ایک الزام یوسف (علیہ السلام) پر اور دھر دیا کہ انہوں نے اپنے بچپنے میں اپنے نانا کے ہاں ایک سونے کی مورتی اٹھا کر غائب کردی تھی اس خیال سے کہ اب بت پرستی سے باز رہیں گے۔ کان جدۃ ابوامہ کافرا یعبد الاوثان فامرتہ امہ بان یسرق تلک الاوثان ویکسرھا فلعلہ یترک عبادۃ الاوثان ففعل ذلک فھذا ھو السرقۃ (کبیر عن سعید بن جبیر)
Ayah 12:77

قَالُوْۤا اِنْ یَّسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ اَخٌ لَّهٗ مِنْ قَبْلُ١ۚ فَاَسَرَّهَا یُوْسُفُ فِیْ نَفْسِهٖ وَ لَمْ یُبْدِهَا لَهُمْ١ۚ قَالَ اَنْتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا١ۚ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا تَصِفُوْنَ Open ayah 12:77 in the Quran reader

(برادران یوسف علیہ السلام) بولے کہ اگر اس نے چوری کی ہے تو اس کا (عینی) بھائی بھی اس کے پشتر چوری کرچکا ہے،143۔ پس یوسف (علیہ السلام) نے اسے اپنے دل میں پوشیدہ رکھا اور اسے ان پر ظاہر نہ ہونے دیا،144۔ کہا کہ تم تو (اور بھی) بدتر ہو اور جو کچھ تم بیان کررہے ہو اسے اللہ ہی خوب جانتا ہے،145۔

144۔ یوسف (علیہ السلام) کو اپنے برادران نامہربان کا یہ قول سن کر غصہ تو قدرۃ آیا لیکن آپ نے اسے ظاہر نہ فرمایا۔ ھا کی ضمیر دونوں جگہ اس فقرہ کی طرف ہے جو آگے آرہا ہے۔ فاسر الجملۃ واما الکلمۃ التیھی قولہ انتم شرمکانا (کبیر عن الزجاج) یعنی الکلمۃ التی بعدھا (ابن کثیر) یعنی بھا الکلمۃ (معالم) دوسرے مرجع بھی ذکر کئے گئے ہیں۔ مثلا اجابۃ کہ یوسف (علیہ السلام) نے اس وقت جواب نہ دیا۔ یا مقالۃ کہ یوسف (علیہ السلام) نے سرقہ کی اصل حقیقت ان پر نہ کھول دی۔ اے فاسر یوسف اجابتھم فی نفسہ فی ذلک الوقت (کبیر) ویجوز ایضا ان یکون اضمارا للمقالۃ والمعنی اسر یوسف مقالتھم، یعنی اسر یوسف فی نفسہ کیفیۃ تلک السرقۃ ولم یبین لھم انھا کیف وقعت (کبیر) اسرھا اے جواب ھذہ الکلمۃ (ابن عباس ؓ لم یبدھا اے جو ابھا (ابن عباس ؓ 145۔ یعنی تم جو ہم دونوں کو چو ربنا رہے ہو اس کی حقیقت اللہ ہی پر خوب روشن ہے۔ قال۔ یوسف (علیہ السلام) نے یہ سب کچھ اپنے دل میں کہا۔ اے فی نفسہ (ابن عباس ؓ (آیت) ” انتم شرمکانا “۔ کہ دوسرے تو مال ہی چراتے ہیں اور تم نے تو انسان کو چرا لیا ! اور وہ بھی اپنے باپ سے اس کے محبوب ترین بیٹے کو !
Ayah 12:78

قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ اِنَّ لَهٗۤ اَبًا شَیْخًا كَبِیْرًا فَخُذْ اَحَدَنَا مَكَانَهٗ١ۚ اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:78 in the Quran reader

وہ بولے اے عزیز ! اس کا باپ بہت ہی بوڑھا ہے سو آپ اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو لے لیجیے ہم تو آپ کو بہت نیک مزاج پاتے ہیں،146۔

146۔ برادران یوسف (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ اب تو برے پھنسے اور ضابطہ سے اب کوئی صورت بنیامین کی عزیز مصر کے قید سے چھوٹنے کی نظر نہیں آتی اور باپ کو جو زبردست اور حلفیہ قول وقرار دے آئے تھے وہ سب یاد آئے تو اب لگے خوشامد کی راہ سے کہنے کہ حضور والا اس لڑکے کے چاہنے والے باپ بہت بوڑھے ہیں، ان کے قلب کو بہت سخت صدمہ ہوگا اس لئے آپ یہ کیجیے کہ اس لڑکے کے بجائے ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے اور اسے جانے دیجئے اور حضور جیسے رحیم المزاج حاکم ہماری درخواست ضرور ہی منظور کرلیں گے ہمیں بڑی آس لگی ہوئی ہے۔ (آیت) ” یایھا العزیز “۔ اب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) مدار المہامی پر فائز ہوچکے ہیں۔
Ayah 12:79

قَالَ مَعَاذَ اللّٰهِ اَنْ نَّاْخُذَ اِلَّا مَنْ وَّجَدْنَا مَتَاعَنَا عِنْدَهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِذًا لَّظٰلِمُوْنَ۠ Open ayah 12:79 in the Quran reader

(یوسف (علیہ السلام) نے) کہا اللہ اس سے پناہ میں رکھے کہ ہم نے جس کے پاس اپنی چیز پائی ہے اس کے سوا (کسی اور کو) ہم پکڑ رکھیں اس حالت میں تو ہم ہی بڑے ناانصاف ٹھیریں گے،147۔

147۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے بھی غضب کردیا ! مجھ سے یہ چاہتے ہو کہ مال کسی کے پاس نکلے اور سزا کسی کو ملے، حاشا مجھ سے تو یہ ناانصافی نہیں ہوسکتی۔ شریعت اسلامی میں بھی سزائے بدنی میں مبادلہ جائز نہیں، زید اگر اپنی خوشی سے اپنے کو عمرو کے عوض رجم یا قتل یا قطع عضو کے لئے پیش کردے تو قاضی یا مدعی کو اس کے قبول کرلینے کا اختیار نہیں، حضرت یوسف (علیہ السلام) کمال احتیاط سے بنیامین کو اپنی زبان سے چور نہیں کہتے بلکہ صرف اتنا کہتے ہیں کہ مال تو تمہارے سامنے جس کی تلاشی میں نکلا، سزا تم اس کے سوا کسی اور کو دلانا چاہتے ہو !
Ayah 12:80

فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوْا مِنْهُ خَلَصُوْا نَجِیًّا١ؕ قَالَ كَبِیْرُهُمْ اَلَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنَّ اَبَاكُمْ قَدْ اَخَذَ عَلَیْكُمْ مَّوْثِقًا مِّنَ اللّٰهِ وَ مِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطْتُّمْ فِیْ یُوْسُفَ١ۚ فَلَنْ اَبْرَحَ الْاَرْضَ حَتّٰى یَاْذَنَ لِیْۤ اَبِیْۤ اَوْ یَحْكُمَ اللّٰهُ لِیْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 12:80 in the Quran reader

پھر جب وہ ان کی طرف سے مایوس ہوگئے تو علیحدہ باہم مشورہ کرنے لگے،148۔ ان میں سے سب سے بڑے نے کہا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تمہارے باپ تم سے اللہ کی قسم کھلا کر قول لے چکے ہیں اور اس کے قبل یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں تو تقصیر کر ہی چکے ہو،149۔ سو میں تو (اس) سرزمین سے ٹلتا نہیں جب تک میرے باپ مجھ کو اجازت نہ دیں یا اللہ ہی میرے حق میں فیصلہ کردے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے،150۔

148۔ (کہ اب کیا کرنا چاہیے، نہ بنیامین کو چھوڑ کر واپس جاتے بنتا ہے نہ یہاں ٹھیرتے) منہ، ضمیر یوسف (علیہ السلام) کی طرف بھی جاسکتی ہے اور بنیامین کی طرف بھی، ، پہلی صورت میں ” جب ان لوگوں کو یوسف (علیہ السلام) کی طرف سے یوسف (علیہ السلام) کے جواب سے مایوسی ہوگئی ، “ دوسری صورت میں ”‘ جب ان لوگوں کو بنیامین کی طرف سے بنیامین کے متعلق مایوسی ہوگئی۔ 149۔ (وہی ایک پرانی شرمندگی کیا کم ہے، کہ یہ نئی شرمندگی لے کر ان کے پاس جاؤں) (آیت) ” قال کبیرھم “۔ توریت میں اس موقع پر نام یہودا کا درج ہے جو اپنے بھائیوں میں چوتھے نمبر تھا، قرآن نے اس تاریخی غلطی کی تصحیح کردی، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کبیر سے مراد لازمی طور پر سن کر بڑائی نہ ہو، عقل وغیرہ کی بڑائی بھی مراد لئے جانے کی گنجائش ہے۔ قیل کبیرھم فی العقل وھو یھودا وھو الذی نھاھم عن قتل یوسف (کبیر) اے اعقلھم (ابن قتیبہ) یعنی فی العلم والعقل لا فی السن قال ابن عباس ؓ والکلبی ھو یھوذا وھو اعقلھم (معالم) (آیت) ” الم تعلموا۔۔۔ اللہ “۔ یعنی ہم تو حلف مؤکد کے ساتھ بنیامین کی حفاظت کا وعدہ کرچکے ہیں اور ایسی مجبوری ابھی تک لاحق ہوئی نہیں ہے کہ ہم کوئی تدبیر کسی درجہ میں بھی نہ کرسکیں۔ 150۔ یعنی یا تو والد ماجد ان حالات خصوصی کو سن کر خود ہی مجھے یہاں سے ہٹنے اور وطن آنے کی اجازت دے دیں اور یا اللہ تعالیٰ بنیامین کی رہائی کی کوئی سبیل نکال دے اور ہم سب اسے ساتھ لے کر چلیں۔
Ayah 12:81

اِرْجِعُوْۤا اِلٰۤى اَبِیْكُمْ فَقُوْلُوْا یٰۤاَبَانَاۤ اِنَّ ابْنَكَ سَرَقَ١ۚ وَ مَا شَهِدْنَاۤ اِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَ مَا كُنَّا لِلْغَیْبِ حٰفِظِیْنَ Open ayah 12:81 in the Quran reader

تم لوگ اپنے باپ کے پاس واپس جاؤ اور ان سے کہو کہ اے ابا آپ کے بیٹے نے چوری کی اور ہم تو شاہد اتنے ہی کے تھے جتنا ہم جانتے تھے اور ہم غیب کے تو جاننے والے تھے نہیں،151۔

151۔ یعنی ہمیں کیا خبر تھی کہ بنیامین یہ حرکت کرے گا ورنہ ہم کبھی قول وقرار نہ کرتے۔ (آیت) ” وما شھدنا الا بما علمنا “۔ یعنی قول وقرار دیتے وقت تو ہم نے صرف اتنی ہی ذمہ داری لی تھی جتنی ہمارے ظاہر علم میں آسکتی تھی، فقہاء نے یہاں سے یہ نکالا ہے کہ ظاہر علم پر بھی بغیر حقیقت علم کے شمول کے اسم علم کا اطلاق جائز ہے۔ ھذا یدل علی جواز اطلاق اسم العلم من طریق الظاھر وان لم یعلم حقیقتہ (جصاص)
Ayah 12:82

وَ سْئَلِ الْقَرْیَةَ الَّتِیْ كُنَّا فِیْهَا وَ الْعِیْرَ الَّتِیْۤ اَقْبَلْنَا فِیْهَا١ؕ وَ اِنَّا لَصٰدِقُوْنَ Open ayah 12:82 in the Quran reader

آپ اس بستی والوں سے دریافت کرلیجیے جہاں ہم تھے اور اس قافلہ والوں سے (بھی) جس میں ہم آئے ہیں اور بیشک ہم ہی سچے ہیں،152۔

152۔ یعنی اگر آپ ہماری بات کا یقین نہیں کرتے تو اپنے کسی معتبر آدمی کو بھیج کر مصر سے تصدیق کرا لیجئے یا ہمارے ساتھ جو اور اہل قافلہ تھے انہی سے دریافت کرلیجئے سب ہمارے ہی بیان کی تصدیق کریں گے۔ (آیت) ” والعیرالتی اقبلنا فیھا “۔ اس وقت سفر کا عام طریقہ یہی تھا کہ بہت سے لوگ مل کر اور قافلہ بنا کر سفر کرتے تھے اور پھر قحط وگرانی کی مصیبت تو آس پاس کے ملکوں میں پھیلی ہوئی تھی، آل یعقوب (علیہ السلام) کے علاوہ اور بھی خدا معلوم کتنے اس طرح قافلہ بنا کر مصر پہنچ رہے تھے۔
Ayah 12:83

قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ اَنْفُسُكُمْ اَمْرًا١ؕ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّاْتِیَنِیْ بِهِمْ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:83 in the Quran reader

(یعقوب (علیہ السلام) نے) کہا (اجی نہیں) بلکہ تمہارے لئے تمہارے دل نے ایک بات گڑھ لی ہے،153۔ میں صبر ہی کروں گا بلاآمیزش شکایت، کیا عجب کہ اللہ ان سب کو مجھ تک پہنچا دے،154۔ بیشک وہی بڑا علم والا ہے بڑا حکم والا ہے،155۔

153۔ (جیسا کہ واقعہ یوسف (علیہ السلام) میں پہلے ہی تم کرچکے ہو) شدت غم وحزن میں انسان ایسے ہی کلمات پر طبعا مضطر ہے اور پیغمبر بھی انسان ہی ہوتے ہیں، سارے انسانی جذبات کے ساتھ یہ گفتگو اب اس موقع کی ہے کہ بڑے بھائی اور بنیامین کو مصر میں چھوڑا اور سب بھائی کنعان میں اپنے والد ماجد کی خدمت میں پہنچے ہیں اور روئداد مصائب سنائی ہے۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ جو متہم ومشتبہ ہو، اس کو یقین کے ساتھ نہیں، لیکن حدودظن تک متہم ومشتبہ سمجھنا موجب معصیت نہیں کہ اس پر انسان طبعا مضطر ہی ہے۔ 154۔ (اور میرے یوسف کے خواب کی تعبیر سچی نکل آئے) (آیت) ” بھم جمیعا “۔ بھم۔ صیغہ جمع کا ہے، تثنیہ کا نہیں، مراد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اپنے تینوں بچھڑے ہوئے بیٹوں سے تھی، یوسف (علیہ السلام) وبنیامین کی محبوبیت تو ظاہر ہی ہے۔ لیکن معلوم ہوا کہ تعلق خاطر اسی تیسری اولاد سے بھی پوری طرح تھا۔ (آیت) ” فصبر جمیل “۔ فقرہ کی ترکیب مختلف طریقوں سے کی گئی ہے۔ سب سے (آیت) ” فصبر جمیل “۔ فقرہ کی ترکیب مختلف طریقوں سے کی گئی ہے۔ سب سے صاف اور بےتکلف وہ ہے جس کے مطابق ترجمہ متن میں درج کیا گیا ہے۔ جمیل سے مراد ایسا صبر ہے، جو بلاآمیزش شکوہ وشکایت ہو۔ 155۔ اسی کو خوب خبر ہے کہ ان میں سے کون کون، کس حال میں، کہاں کہاں ہے۔ اور وہی جب ملانا چاہے گا تو اپنی حکمت سے اسباب اور تدبیریں بھی ایسی پیدا کرے گا۔ میرا حال زار بھی اس پر خوب روشن ہے اور مجھے جو اس ابتلاء میں اسی نے ڈالا ہے وہ بھی کسی حکمت ومصلحت ہی سے ہے۔
Ayah 12:84

وَ تَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰۤاَسَفٰى عَلٰى یُوْسُفَ وَ ابْیَضَّتْ عَیْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِیْمٌ Open ayah 12:84 in the Quran reader

اور ان کی طرف سے منہ پھیرلیا اور کہنے لگے ہائے یوسف ! اور غم سے (روتے روتے) ان کی آنکھیں سفید پڑگئیں اور وہ گھٹ گھٹ کر رہتے تھے،156۔

156۔ جسے فطرت بشری سے ذرا بھی واقفیت ہے وہ جانتا ہے کہ نئی چوٹ سے پرانی چوٹ تازہ ہوجاتی ہے اور تازہ غم سے پرانا غم ہرا ہوجاتا ہے۔ یہ امر انسان کے لئے طبعی ہے چناچہ اسی کے اقتضاء سے آپ (علیہ السلام) بھی حضرت یوسف (علیہ السلام) کو از سر نو شدت کے ساتھ یاد کرنے لگے۔ پیغمبر اپنے جذبات و احساسات کے لحاظ سے بالکل بشر ہوتا ہے، مافوق البشر نہیں ہوتا ہے۔ یہ سبق قصہ یوسفی کے ایک ایک جزئیہ سے بار بار دہرایا جارہا ہے۔ (آیت) ” تولی عنھم “۔ یہ منہ پھیرلینا انقباض طبعی کے اثر سے تھا۔ (آیت) ” وابیضت عینہ من الحزن “۔ یہ اشک افشانی کمالات نبوت کے ذرا بھی منافی نہیں (جیسا کہ آج کل کے بعض نافہموں نے لکھ دیا ہے) بلکہ اور زیادہ شفقت اور رقت قلب کی علامت ہے۔ یجوز للنبی (علیہ السلام) ان یبلغ الجزع ذلک المبلغ لان الانسان مجبول علی ان لایملک نفسہ عن الحزن (مدار) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) تو خیر نوجوان تھے ہمارے حضور انور تو اپنے فرزند ابراہیم (علیہ السلام) کی وفات پر آنسوؤں کے ساتھ روئے ہیں جو ابھی شیر خوار ہی تھے۔ (آیت) ” فھو کظیم “۔ یعنی دل پر اور آنکھوں پر تو اختیار نہ تھا باقی زبان پر کوئی کلمہ بےصبری یا جزع فزع کا نہیں آنے پاتا تھا۔ یہ فقرہ اس لیے بڑھا دیا گیا کہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی شدت غم کے ساتھ ساتھ آپ کی شدت ضبط بھی نمایاں ہوجائے، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ محبت طبعی محبت حق کے منافی نہیں، اس کے ساتھ جمع ہوسکتی ہے، بلکہ کاملین میں اس کا غلبہ انہیں رضائے حق سے غافل نہیں کردیتا بلکہ اس تعلق کو اور مضبوط کردیتا ہے۔
Ayah 12:85

قَالُوْا تَاللّٰهِ تَفْتَؤُا تَذْكُرُ یُوْسُفَ حَتّٰى تَكُوْنَ حَرَضًا اَوْ تَكُوْنَ مِنَ الْهٰلِكِیْنَ Open ayah 12:85 in the Quran reader

(بیٹے) بولے تم تو واللہ یوسف ہی کی یاد میں سدا لگے رہو گے یہاں تک کہ جاں بلب ہوجاؤ گے یا دم ہی نکل جائے گا،157۔

157۔ لڑکوں نے یہ جھنجھلا کر اور جزبز ہو کر کہا ہے۔۔۔ بوڑھوں کی ضد پر یہ جوانوں کا جھنجھلاہٹ بشری کی کتنی صحیح تصویر ہے۔ (آیت) ” تاللہ “۔ خدا کی قسم جس میں ناگواری اور حیرت کے جذبات بھی شامل ہیں۔
Ayah 12:86

قَالَ اِنَّمَاۤ اَشْكُوْا بَثِّیْ وَ حُزْنِیْۤ اِلَى اللّٰهِ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:86 in the Quran reader

یعقوب (علیہ السلام) نے) فرمایا میں تو اپنے رنج وغم کی شکایت بس (اپنے) اللہ ہی سے کررہا ہوں اور اللہ کی طرف سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے،158۔

158۔ نہ تمہیں اس کے الطاف بیکراں کا وہ علم ہے جو مجھے ہے اور نہ تمہیں وہ اسرار وعلوم مرحمت ہوئے ہیں جو مجھے ہوئے ہیں۔ (آیت) ” انما اشکوا بثی وحزنی الی اللہ “۔ یعنی میں جو کچھ بھی عرض ومعروض شکوہ وشکایت کررہا ہوں اپنے اللہ سے کررہا ہوں، تمہیں اس سے کیا سروکار اور تم اس میں خواہ مخواہ ہی دخل دے رہے ہو، مفسرتھانوی (رح) نے لکھا ہے صبر جمیل کے منافی اگر ہے توشکایت الی الخلق نہ کہ شکایت الی الخالق جو عین دعاء والتجائے مطلوب ہے۔
Ayah 12:87

یٰبَنِیَّ اذْهَبُوْا فَتَحَسَّسُوْا مِنْ یُّوْسُفَ وَ اَخِیْهِ وَ لَا تَایْئَسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْئَسُ مِنْ رَّوْحِ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 12:87 in the Quran reader

اے میرے بیٹوجاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کی تلاش کرو اور اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو اللہ کی رحمت سے مایوس تو بس کافر ہی لوگ ہوتے ہیں،159۔

159۔ کیا ٹھکانہ ہے اس اعتماد علی اللہ کا ! یہ ہے شان نبوت ! اظہار درد وغم اپنے مالک ومولی کے حضور میں کرکے اب آپ ظاہری تدبیروں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور یوسف (علیہ السلام) اور بنیامین کی تلاش پر ان کے انہی بھائیوں کو پھر لگاتے ہیں :۔
Ayah 12:88

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلَیْهِ قَالُوْا یٰۤاَیُّهَا الْعَزِیْزُ مَسَّنَا وَ اَهْلَنَا الضُّرُّ وَ جِئْنَا بِبِضَاعَةٍ مُّزْجٰىةٍ فَاَوْفِ لَنَا الْكَیْلَ وَ تَصَدَّقْ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَجْزِی الْمُتَصَدِّقِیْنَ Open ayah 12:88 in the Quran reader

پھر جب وہ لوگ (عزیز) کے پاس پہنچے تو بولے اے عزیز ہم کو اور اور ہمارے گھروالوں کو (بڑی) تکلیف پہنچ رہی ہے،160۔ اور ہم یہ نکمی پونجی لے کر آئے ہیں سو آپ ہمیں ہمارے لئے غلہ پوری ناپ سے دیجئے اور ہمارے ساتھ رعایت کیجئے، بیشک اللہ رعایت کرنے والوں کو جزائے خیر دیتا ہے،161۔

160۔ (غلہ کی ناداری سے) (آیت) ” دخلوا علیہ “۔ ضمیر عزیز کی جانب ہے اور یوسف (علیہ السلام) ہی اب عزیز تھے۔ یہ تیسرا سفر بھی ان بھائیوں نے مصر ہی کا اختیار کیا ایک تو ” راشن “ کی حاجت شدید اور یہ حاجت وہیں سے پوری ہوسکتی تھی، دوسرے بنیامین کی رہائی کی کوئی تدبیر اگر ممکن تھی تو وہیں جانے سے بن پڑ سکتی تھی۔ (آیت) ” مسنا واھلنا الضر “۔ اب کی لہجہ میں اضطرار اور عاجزی قدرۃ اور عاجزی قدرۃ زاید ہے۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ حاجت کے وقت یہ طریق اظہار جائز ہے اور اس سے حق تعالیٰ کی شکایت کا پہلو نہیں پیدا ہوتا۔ دل ذلک علی جواز اظہار مثل ذلک عند الحاجۃ الیہ وانہ لایجری مجری الشکوی من اللہ تعالیٰ (جصاص) 161۔ اپنی پیش کردہ رقم کو حقیر وناقص کہہ کر پیش کرنا عزیز پر اور زیادہ اپنی مسکنت و احتیاج کا اظہار کرنا تھا، یوسف (علیہ السلام) اپنے بھائیوں کے مزاج کی تمکنت سے خوب واقف تھے، اب جو ان کا لہجہ گدایا نہ اور سائلانہ دیکھا، نہ رہا گیا، دل پگھل گیا، شفقت پیغمبری تو غیروں تک کا دکھ دیکھ نہیں سکتی چہ جائیکہ یہ تو اپنے بھائی ہی تھے، تصدق۔ المتصدقین، تصدق اور صدقہ سے یہاں اصطلاحی معنی مراد نہیں کسی کے ساتھ معاملت میں بہت زیادہ رعایت برتنا مجازا صدقہ ہی کے حکم میں داخل ہے، قال سعید بن جبیر انما سالوا التفضل بالنقصان فی السعر ولم یسئلوا الصدقۃ (جصاص) ای تفضل علینا بالمسامحۃ والاغماض عن رداء ۃ البضاعۃ اوزد علی حقنا (مدارک) ای تفضل علینا ولا تنقصنا، ھذا قول اکثر المفسرین (معالم) سموا ما ھو فضل وزیادۃ لایلزمہ صدقۃ (کشاف) (آیت) ” فاوف لنا الکیل “۔ یعنی ہماری راشننگ میں کہیں کمی نہ کردیجئے گا۔ ہماری ضرورتوں کا لحاظ کرکے اللہ ہم پر رحم کیجئے۔
Ayah 12:89

قَالَ هَلْ عَلِمْتُمْ مَّا فَعَلْتُمْ بِیُوْسُفَ وَ اَخِیْهِ اِذْ اَنْتُمْ جٰهِلُوْنَ Open ayah 12:89 in the Quran reader

(یوسف علیہ السلام) بولے وہ بھی تمہیں یاد ہے جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی سے (برتاؤ) کیا تھا جبکہ تم نادان تھے،162۔

162۔ (اور اپنے افعال کے انجام سے بیخبر ) اس طرز خطاب میں خود ایک حد تک ان مجرموں کی دلدہی آگئی، (آیت) ” جھلون “۔ اکابر سلف نے کہا ہے کہ ہر معصیت جہالت ہی سے سرزد ہوتی ہے۔ قال بعض السلف کلم من عصی اللہ فھو جاھل (ابن کثیر) لما لم یفعلوا مایقتضیہ العلم ولا یقدم علیہ الاجاھل سماھم جاھلین (کشاف)
Ayah 12:90

قَالُوْۤا ءَاِنَّكَ لَاَنْتَ یُوْسُفُ١ؕ قَالَ اَنَا یُوْسُفُ وَ هٰذَاۤ اَخِیْ١٘ قَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْنَا١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یَّتَّقِ وَ یَصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 12:90 in the Quran reader

وہ بول پڑے ارے تو کیا تم یوسف ہی ہو ؟ ،163۔ فرمایا (ہاں) میں یوسف ہی ہوں اور یہ ہے میرا بھائی واقعی ہم پر اللہ نے (بڑا ہی) احسان کیا،164۔ واقعی جو شخص بھی تقوی اور صبر اختیار کرتا ہے سو اللہ نیک کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا ہے،165۔

163۔ عزیز کی زبان سے یہ سوال ادا ہوتے ہی ان بھائیوں کے سامنے پچھلے واقعات کی یاد بجلی کی تیزی کے ساتھ آگئی، اور وہ اپنے رشک کے جذبات اور یوسف (علیہ السلام) کے خواب سے ان خیالات میں ترقی اور یوسف (علیہ السلام) وبنیامین کے ساتھ عداوت وہ گھر سے جنگل میں لے جانا اور کنوئیں میں گرانا وہ وہاں انہیں غلام کہہ کر قافلہ والوں کے ہاتھ فروخت کر ڈالنا اور اپنی بدسلوکیاں ایک ایک کرکے یاد آگئیں اور ساتھ ہی یہ خیال تازہ ہوگیا کہ یوسف (علیہ السلام) کا خواب جھوٹا نہیں ہوسکتا تھا عجب نہیں کہ یہی اس کی تعبیر ہورہی ہو، (آیت) ” لانت “۔ استفہام حیرت وحیرانی کا ہے۔ الاستفھام یدل علی الاستعظام ای انھم تتعجبوا من ذلک (ابن کثیر) (آیت) ” قالوا “۔ وہ لوگ یہ سن کر فرط حیرت سے بول پڑے۔ 164۔ (کہ پہلے ہمیں توفیق صبر وتقوی عطا کی اور پھر اس کی برکت سے یہ دنیوی نعمتیں عطا کیں ! ) 165۔ (بلکہ پورا پورا ادا کردیتا ہے) قرآن مجید تو دوسروں کی زبان سے بھی جزئیات کے ساتھ ساتھ اصول وکلیات ادا کرا دیتا ہے پھر یوسف (علیہ السلام) تو نبی ہی تھے، ان کی زبان سے ایک گہری اصولی حقیقت بیان کردی۔ (آیت) ” یتق ویصبر “۔ تقوی سے مراد گناہوں سے بچنا اور صبر سے مراد بلاء ومصیبت پر صبر کرنا ہے ،
Ayah 12:91

قَالُوْا تَاللّٰهِ لَقَدْ اٰثَرَكَ اللّٰهُ عَلَیْنَا وَ اِنْ كُنَّا لَخٰطِئِیْنَ Open ayah 12:91 in the Quran reader

وہ بولے قسم ہے اللہ کی کہ اللہ نے تم کو ہم پر فضیلت دے رکھی ہے اور بیشک ہم ہی خطاوار رہے ہیں،166۔

166۔ (تمہارے اور بنیامین دونوں کے ساتھ اپنے معاملات میں) بڑے بھائیوں اور وہ بھی ایسے خیرہ سر بڑے بھائیوں کا، چھوٹے بھائی سے عجز ونیاز کے ساتھ معافی مانگنا، اللہ اکبر، کیسا مؤثر سماں ہوگا ! تاللہ سے الخاطئین تک پڑھ جائیے تو لب و لہجہ میں حسرت، ندامت، معذرت سب کچھ ملیں گی، (آیت) ” لقد اثرک اللہ علینا “۔ بیشک اللہ نے تمہیں بزرگی دے رکھی ہے اور تم بزرگی کے اہل بھی ہو۔
Ayah 12:92

قَالَ لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْكُمُ الْیَوْمَ١ؕ یَغْفِرُ اللّٰهُ لَكُمْ١٘ وَ هُوَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ Open ayah 12:92 in the Quran reader

یوسف (علیہ السلام) نے) کہا کہ (نہیں) آج تم پر کوئی الزام نہیں اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب مہربانوں سے بڑھ کر مہربان ہے،167۔

167۔ (تو جب میں نے تمہیں معاف کردیا، اور دل سے وہ باتیں بھلا دیں تو میرا خدا کیوں نہ معاف کرے گا، وہ تو تائبین کی خطائیں معاف کرتا ہی رہتا ہے) (آیت) ” لاتثریب علیکم الیوم “۔ میری طرف سے تم پر کوئی مؤاخذہ نہیں، میں نے تمہیں معاف کردیا، میرا دل تمہاری طرف سے صاف ہوگیا یہی آیت وہ تھی، جو رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے وقت اپنے جانی اور شدید دشمنوں کے مقابلہ میں پڑھ کر یوسف (علیہ السلام) سے بھی بڑھ کر اپنی فراخ دلی کا ثبوت دیا تھا :۔
Ayah 12:93

اِذْهَبُوْا بِقَمِیْصِیْ هٰذَا فَاَلْقُوْهُ عَلٰى وَجْهِ اَبِیْ یَاْتِ بَصِیْرًا١ۚ وَ اْتُوْنِیْ بِاَهْلِكُمْ اَجْمَعِیْنَ۠ Open ayah 12:93 in the Quran reader

اب تم) میرے اس پیراہن کو لئے جاؤ اور اس کو میرے والد کے چہرہ پر ڈال دو (ان کی) آنکھیں روشن ہوجائیں گی،168۔ اور اپنے گھروالوں کو (بھی) سب کو میرے پاس لے آؤ،169۔

168۔ واقعہ اعجازی رنگ کا ہے، اور قصہ یوسفی سے جہاں اور بہت سے سبق براہ راست قدرت خداوندی کے مل رہے ہیں، انہی میں سے ایک یہ بھی ہے۔ 169۔ (والد ماجد تو بغیر یہاں آئے رہ ہی نہیں سکتے، وہ تو بہرحال تشریف لائیں گے لیکن ان کے ساتھ تم سب اور گھربار کو بھی لیتے آنا) (آیت) ” باھلکم اجمعین “۔ اس وقت تک حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا کنبہ اچھا خاصہ وسیع ہوچکا تھا بیٹے، بہوئیں، پوتے، پوتیاں سب ملا کر ستر نفوس تھے، توریت میں ہے :۔ ” اور یعقوب (علیہ السلام) اپنی سب نسل سمیت مصر میں آیا، وہ اپنے بیٹوں اور بیٹوں کے بیٹوں کو جو اس کے ساتھ تھے اور اپنی بیٹیوں اور اپنی بیٹیوں کی بیٹیوں کو اور اپنی سب نسل کر مصر میں لایا۔ “ (پیدائش 46: 6، 7) سو وہ سب جو یعقوب (علیہ السلام) کے گھرانے کے تھے اور مصر میں آئے، ستر جانیں تھیں (پیدائش 46: 27)
Ayah 12:94

وَ لَمَّا فَصَلَتِ الْعِیْرُ قَالَ اَبُوْهُمْ اِنِّیْ لَاَجِدُ رِیْحَ یُوْسُفَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُفَنِّدُوْنِ Open ayah 12:94 in the Quran reader

اور جب (ادھر سے) قافلہ چلا ہے،170۔ تو ان کے باپ بولے کہ اگر تم مجھے بالکل سٹھیایا ہوانہ سمجھو تو مجھے تو یوسف (علیہ السلام) کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے،171۔

170۔ یعنی جب برادران یوسف کا قافلہ مصر سے کنعان کے لئے روانہ ہوا۔ 171۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یہ بات اپنے آس پاس کے لوگوں سے فرمائی اور چونکہ جانتے تھے کہ لوگ آسانی سے باور نہ کریں گے، پیرایۂ بیان بھی اسی قسم کا اختیار فرمایا لولا ان تفندون حضرات انبیاء کی لطافت احساس اور قوت ادراک کا کیا کہنا ! مصر سے کنعان صدہا میل کے فاصلہ پر، ادھر قافلہ کو حرکت ہوئی اور ادھر اتنی دور آپ (علیہ السلام) کو پیراہن یوسفی کی خوشبو محسوس ہوگئی، لیکن یہ حیرت انگیز ذکاوت حس بھی ان حضرات کی اپنی اختیاری چیز نہیں ہوتی اور اسی لئے ہر وقت قائم نہیں رہتی، محض فیضان الہی کے تابع ہے اور اسی کو معجزہ کہتے ہیں۔ قصہ یوسف اعجازی رنگ کے واقعات سے بھرا ہوا ہے۔ (آیت) ” تفندون “۔ فند وہی شئی ہے جسے اردو میں سٹھیاجانا کہتے ہیں یعنی کبر سنی کی بنا پر عقل و حواس میں فتور آجانا۔ التفنید النسبۃ الی الفند وھو الخرف و انکار العقل من ھرم (کشاف) اے تنسبونی الی الفند والکبر (ابن کثیر) قال الضحاک تھرمونی فتقولون شیخ کبیر قد خرف وذھب عقلہ (معالم) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ چونکہ ملاقات کا وقت موعود قریب آلگا تھا یہ خوشبواتنے فاصلہ سے مدرک ہوگئی، اور جب وہ کنوئیں میں نسبۃ بہت قریب تھے چونکہ وقت نہ آیا تھا یہ خوشبو مدرک نہ ہوئی اور یہی معاملہ حضرات اولیاء کے مکاشفات کا ہے۔ ع : گہے برطارم اعلی نشینم۔ گہے برپشت پائے خود نہ بینم۔
Ayah 12:95

قَالُوْا تَاللّٰهِ اِنَّكَ لَفِیْ ضَلٰلِكَ الْقَدِیْمِ Open ayah 12:95 in the Quran reader

(لوگوں نے) کہا بخدا ! آپ تو اپنے اسی قدیم وہم میں (مبتلا) ہیں،172۔

172۔ وہی ہوا جو آپ کا خیال تھا، لوگوں نے آپ کے کہے کا یقین نہ کیا اور آپ (علیہ السلام) کو سچا اور نیک سمجھنے کے باوجود آپ (علیہ السلام) کے اس ” وہم “ کو غلوئے محبت یوسفی پر محمول کرنے لگے۔
Ayah 12:96

فَلَمَّاۤ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىهُ عَلٰى وَجْهِهٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا١ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ١ۙۚ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 12:96 in the Quran reader

پھر جب خوشخبری لانے والا آپہنچا تو اس نے وہ پیراہن آپ (علیہ السلام) کے منہ پر ڈال دیا تو آپ (علیہ السلام) کی آنکھیں،173۔ روشن ہوگئیں ، (یعقوب (علیہ السلام) نے) فرمایا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں اللہ کی طرف سے وہ علم رکھتا ہوں جو تم لوگ نہیں رکھتے،174۔

173۔ خوشبو اور خوشی کے اثر سے ضعف بصر کے دور ہوجانے اور نور نظر کے عود کر آنے میں کوئی بات ” خلاف عقل “ اور ” خلاف فطرت “ نہیں۔ البتہ یہ واقعہ ہی چونکہ معمول عام کے خلاف ہے یہاں اعجازی ہی حیثیت سے بیان ہوا ہے۔ توریت میں اس موقع پر ہے :۔” جب اس نے گاڑیاں جو یوسف نے اس کے لانے کو بھیجی تھیں دیکھیں تو ان کے باپ یعقوب (علیہ السلام) کی زندگی دوبارہ ہوئی اور اسرائیل بولا یہ بس ہے کہ میرا بیٹا یوسف اب تک جیتا ہے میں جاؤں گا اور پیشتر اس سے کہ میں مروں اسے دیکھوں گا۔ (پیدائش 45: 27، 28) (آیت) ” البشیر “۔ بشیر جو خبر دینے کو قافلہ کے آگے آگے چلے، یہاں مراد یہود ابن یعقوب (علیہ السلام) سے لی گئی۔ قال ابن مسعود ؓ جاء البشیر بین یدی العیر قال ابن عباس ؓ ھو یھودا (معالم) 174۔ 4 (چنانچہ اب تو تم کو اپنی رائے کی غلطی اور میرے علم خداداد کی صحت کا مشاہدہ ہوگیا) قافلہ اب مصر سے کنعان پہنچ چکا ہے اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا نور بصارت عود کر آیا ہے۔ اس موقعہ کی گفتگو۔
Ayah 12:97

قَالُوْا یٰۤاَبَانَا اسْتَغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَاۤ اِنَّا كُنَّا خٰطِئِیْنَ Open ayah 12:97 in the Quran reader

(بیٹے) بولے اے ہمارے باپ ہمارے گناہوں کی مغفرت کی دعا کیجئے بیشک ہم ہی خطا وار رہے ہیں175

175۔ (کہ اپنی نالائقی سے آپ کو کیسی کیسی تکلیفیں پہنچائیں، اب آپ خود بھی معاف فرمادیں اور حق تعالیٰ سے بھی ہمارے حق میں دعا فرمادیں) برادران یوسف (علیہ السلام) آخر نبی زادے تھے اور اسحاق (علیہ السلام) نبی کے پوتے اور ابراہیم (علیہ السلام) خلیل کے پر پوتے اتنی اعلی خاندانی شرافت اور پھر صالح ترین ماحول اپنا اثر آخر کب تک نہ دکھاتے۔
Ayah 12:98

قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ Open ayah 12:98 in the Quran reader

فرمایا (اچھا) میں عنقریب تمہارے لئے اپنے پروردگار سے دعائے مغفرت کروں کروں گا، بیشک وہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحمت والا ہے،176۔

176۔ چناچہ پچھلی تقصیریں بھی معاف کردیتا ہے اور آئندہ ترقی و مراتب کے رستے برابر کھلے رکھتا ہے۔ (آیت) ” سوف “۔ یعنی عنقریب ہی قبول دعاء کے موزوں ترین وقت پر :۔
Ayah 12:99

فَلَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى یُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَیْهِ اَبَوَیْهِ وَ قَالَ ادْخُلُوْا مِصْرَ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ اٰمِنِیْنَؕ Open ayah 12:99 in the Quran reader

پھر جب (سب) یوسف کے پاس پہنچے تو انہوں نے والدین کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا مصر میں چلئے (اور) انشاء اللہ (وہاں) امن چیز سے (رہیے گا) ،177۔

177۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس مبارک قافلے کا اسقبال پایہ تخت سے نکل کر سرحد مصر پر کیا تھا اور اب خاص شہر میں چلنے اور رہنے کا التماس کررہے ہیں۔ توریت میں ہے :۔ ” اور یوسف نے اپنی گاڑی تیار کی اور اپنے باپ کے استقبال کے لئے جشن کو چلا اور اپنے تئیں اس پاس حاضر کیا اور اس کے گلے لپٹا اور دیر تک رویا۔ “ (پیدائش 46، 28، 29) (آیت) ” اوی الیہ “۔ یعنی اپنے پاس تعظیم واکرام کے ساتھ بٹھایا اور ہر طرح خاطر مدارات بزر گداشت کی، (آیت) ” ابویہ “۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی والدہ کا تو انتقال ہوچکا تھا، پرورش سوتیلی ماں اور حقیقی خالہ نے کی تھی، یہاں مجازا انہی کو والدہ کہا گیا۔ (آیت) ” علی العرش “۔ عرش کا لفظ عام ہے ہر بلند تخت، اور چبوترہ (پلیٹ فارم) مراد ہوسکتا ہے، اور اگر تخت شاہی ہی مراد لی جائے تو ممکن ہے حضرت یوسف (علیہ السلام) اس وقت تک مرتبہ شاہی تک پہنچ گئے ہوں۔ قال اھل اللغۃ العرش السریر الرفیع والمراد بالعرش ھھنا السریر الذی کان یجلس علیہ یوسف (کبیر)
Ayah 12:100

وَ رَفَعَ اَبَوَیْهِ عَلَى الْعَرْشِ وَ خَرُّوْا لَهٗ سُجَّدًا١ۚ وَ قَالَ یٰۤاَبَتِ هٰذَا تَاْوِیْلُ رُءْیَایَ مِنْ قَبْلُ١٘ قَدْ جَعَلَهَا رَبِّیْ حَقًّا١ؕ وَ قَدْ اَحْسَنَ بِیْۤ اِذْ اَخْرَجَنِیْ مِنَ السِّجْنِ وَ جَآءَ بِكُمْ مِّنَ الْبَدْوِ مِنْۢ بَعْدِ اَنْ نَّزَغَ الشَّیْطٰنُ بَیْنِیْ وَ بَیْنَ اِخْوَتِیْ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَطِیْفٌ لِّمَا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 12:100 in the Quran reader

اور اپنے والدین کو انہوں نے تخت پر بٹھایا اور سب (یوسف) کے سامنے جھک گئے،178۔ اور (یوسف نے) کہا اے میرے باپ یہ ہے میرے قبل والے خواب کی تعبیر اسے میرے پروردگار نے سچ کردکھایا،179۔ اور اس نے میرے ساتھ (کیسا) احسان اس وقت کیا جب مجھے قید خانہ سے نکالا،180۔ اور آپ (سب) کو صحرا سے لئے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈلوادیا تھا،181۔ بیشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے اس کی تدبیر کردیتا ہے، بیشک وہی ہے علم والا، حکمت والا،182۔

178۔ (جیسا کہ عبرانی آداب وتہذیب میں داخل تھا) (آیت) ” سجدا “۔ سجدہ سے جیسا کہ اوپر بھی کئی موقعوں پر آچکا ہے مراد ہر جگہ یہی اصطلاحی سجدہ نہیں ہوتا جو کسی مخلوق کے لئے اب حرام ہے، بلکہ یہاں مراد محض زمین بوس ہونا ہے جو اکثر قوموں میں ایک متعارف طریقہ اظہار تعظیم کا ہے اور شریعت اسلامی میں یہ بھی ناپسندیدہ ہے۔ قدیسمی التواضع سجودا وکان المراد ھھنا التواضع (کبیر) وکان تحیۃ الناس یومئذ السجود ولم یرد بالسجود وضع الجباہ علی الارض انما ھو الانحناء والتواضع (معالم) سجود انحناء لا وضع جبھۃ وکان تحیتھم فی ذلک الزمان (جلالین) قیل ماکانت الا انحناء ولا تعفیر الجباہ (مدارک) (آیت) ’ خروالہ “۔ میں ل کے معنی لاجل کے بھی لئے گئے ہیں۔ یعنی گویا آیت کا مطلب یہ ہوا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو پاکر اس خوشی میں ان سب نے اللہ کا سجدہ شکر ادا کیا وھو قول ابن عباس ؓ فی روایۃ عطاء وان المراد بھذہ الایۃ انھم خروالہ اے لاجل وجدانہ سجد اللہ تعالیٰ (کبیر) 179۔ یعنی وہی خواب جو میں نے شروع میں دیکھا تھا اور آپ سے عرض کیا تھا کہ چاند اور سورج اور گیارہ ستارے میرے آگے تعظیم سے جھکے ہیں۔ 180۔ (اور اس مرتبہ سلطنت تک پہنچا دیا) ابدی نعمتیں اور راحتیں بھی اللہ کے قانون و شریعت میں حقیر وناقابل التفات نہیں جیسا کہ متشددین نے اور اہل غلو نے سمجھ رکھا ہے۔ 181۔ (جس کا ظاہری اقتضاء تو یہ تھا کہ اب میرے اور ان کے درمیان صفائی اور یکجائی تمام عمر نہ ہوسکتی) نبی کی کریم النفسی ملاحظہ ہو کہ الزام ایسے شدید دشمن بھائیوں پر ذرا نہ آنے دیا بلکہ ذمہ داری شیطان کی قرار دے کر اپنی اور اپنے بھائیوں کی حیثیت ایک ہی رکھی۔ (آیت) ” من البدو “۔ یعنی اس دیہات یا ویرانے سے نکال کر اس شہر اور مرکز تمدن میں لے آیا۔ بدو، حضر کے مقابلہ کا لفظ ہے۔ البد و خلاف الحضر (راغب) اے من البادیۃ وقال الواحدی البد وبسیط من الارض یظھر فیہ الشخص من بعید (کبیر) کنعان اس وقت مصر کے مقابلہ میں جو مرکز تہذیب و تمدن تھا ایک دیہات ہی کی حیثیت رکھتا تھا۔ کان یعقوب ووالدہ بارض کنعان اھل مواش اوبریۃ (کبیر) 182۔ اس کے لئے مستقبل کا کوئی راز راز نہیں اور وہ بڑے اور چھوٹے سارے ہی واقعات کو کسی حکمت ومصلحت کے ماتحت ہی واقع ہونے دیتا ہے۔ (آیت) ” لطیف “۔ یعنی ہر امر کی تدبیر لطیف کردینے والا مخلوق کی نظروں سے مخفی اور فہم سے باہر تدبیریں کردینے والا۔ اے لطیف التدبیر لہ (روح) فاذا اراد حصول شیء سھل اسبابہ فحصل وان کان فی غایۃ البعد عن الحصول (کبیر) ساری سورة کے واقعات اسی اسم لطیف کی تجلیات کے نمونوں سے لبریز ہیں۔
Ayah 12:101

رَبِّ قَدْ اٰتَیْتَنِیْ مِنَ الْمُلْكِ وَ عَلَّمْتَنِیْ مِنْ تَاْوِیْلِ الْاَحَادِیْثِ١ۚ فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١۫ اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ Open ayah 12:101 in the Quran reader

اے پروردگار تو نے مجھے حکومت (بھی) دی اور خوابوں کی تعبیر کا علم بھی دیا،183۔ اے آسمانوں اور زمین کے خالق تو ہی میرا کارساز دنیا اور آخرت میں ہے مجھے دنیا سے (اپنا) فرماں بردار اٹھا اور مجھے صالحین میں جا ملا،184۔

183۔ (اور جو علم بھی کیسا ظنی اور تخمینی نہیں، یقینی، اور یقینیات تک رسائی تو وحی کے بعد ہی ہوسکتی ہے) (آیت) ” من الملک “۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی باقاعدہ بادشاہت وفرمانروائی اگر تاریخ سے ثابت نہیں تو عملا تو آپ اس مرتبہ پر بہرحال پہنچ چکے تھے، توریت میں ہے :۔ ” اور اس نے مصر کی ساری مملکت پر حاکم کیا اور فرعون نے یوسف کو کہا کہ میں فرعون ہوں، اور بغیر تیرے مصر کی ساری زمین میں کوئی انسان اپنا ہاتھ پاؤں نہ اٹھائے گا اور فرعون نے یوسف (علیہ السلام) کا خطاب ” جہاں پناہ “ رکھا۔ (پیدائش 41: 43، 44) اور بعض نے من کو تبعیضیہ قرار دے کر اس سے یہ نکالا ہے کہ آپ (علیہ السلام) ملک کے تمامتر فرمانروا تھے بلکہ بہرحال ایک بادشاہ کے ماتحت ہی تھے، قال الاصم انما قال من الملک لانہ کان دون ملک فوقہ (کبیر) (آیت) ” من تاویل الاحادیث “۔ یہاں بھی من کے تبعیضیہ ہونے سے یہ نکتہ نکالا گیا ہے کہ بشر بڑے سے بڑا عالم ہو جب بھی بہرحال اس کا علم محدود ومتناہی ہوگا۔ اے بعضا من ابعاض العلم فلھذا لسبب ذکر فیہ کلمۃ من لانھا دالۃ علی التبیعض (کبیر) (آیت) ” تاویل الاحادیث “۔ مراد خوابوں کی تعبیر کا علم تو ظاہر ہی ہے باقی اور علوم الہیہ بھی اس میں شامل ہیں۔ المراد بتاویل الاحادیث اما تعلیم تعبیر الرؤیاء وھو الظاھر واماتفھیم غوامض اسرار الکتب الالھیۃ ودقائق سنن الانبیآء (روح) 184۔ (اور جس طرح دنیا میں میرے سارے کام بنادیئے آخرت میں بھی میرے سارے کام بنا دے، یہاں کی کارسازی کا پورا جلوہ وہاں بھی دکھادے) (آیت) ” توفنی مسلما “۔ سے آرزوئے موت کا اثبات نہیں ہوتا بلکہ صرف اس کا اثبات ہوتا ہے کہ موت جب بھی آئے دین اسلام پر آئے، قال ابن عباس ؓ فی روایۃ عطاء یرید اذا توفیتنی فتوفنی علی دین الاسلام فھذا طلب لان یجعل اللہ وفاتہ علی الاسلام ولیس فیہ مایدل علی انہ طلب الوفاۃ (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” توفنی مسلما “۔ الخ سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں ایک باوجود عصمت اور امتناع کفر کے انبیاء (علیہم السلام) کا خوف کرتے رہنا، دوسرے شوق لقاء میں موت کی آرزو کرنا، امام رازی (رح) نے آیت کے تحت میں لذایذ دنیوی کی بےحاصلی اور زود فنائی وغیرہ کو تفصیل سے بیان کرکے لکھا ہے کہ میرے لئے یہ کیفتیں حال بن گئی ہیں اور میں مکروہات دنیوی سے عاجز آکر اکثر اس دعائے یوسفی کا ورد کرتا رہتا ہوں۔ (آیت) ” الحقنی بالصلحین “۔ اس پر شبہ یہ کیا گیا ہے کہ صالحین تو عامہ مومنین میں ہوتے رہتے ہیں، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) خود ایک نبی جلیل القدر تھے۔ پھر آپ نے محض درجہ صالحین کی تمنا کیسے کی ؟ جواب یہ ہے کہ صالحین کا مفہوم اضافی ہے اس کا معیار ہر ایک کے درجہ و مرتبہ کے مطابق الگ الگ ہوتا ہے، حضرت یوسف (علیہ السلام) جس مرتبہ صالحین کی تمنا کررہے تھے آپ (علیہ السلام) کے پیش نظر حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مرتبے و عظمت کے ” صالحین “ تھے۔
Ayah 12:102

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ۚ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ اَجْمَعُوْۤا اَمْرَهُمْ وَ هُمْ یَمْكُرُوْنَ Open ayah 12:102 in the Quran reader

یہ (قصہ) غیب کی خبروں میں سے ہے جس کی ہم آپ کی طرف وحی کرتے ہیں،185۔ اور آپ ان کے پاس اس وقت موجود نہ تھے جب انہوں نے اپنا ارادہ پختہ کرلیا تھا اور وہ چالیں چل رہے تھے،186۔

185۔ (اے رسول ! ) یہاں پر زور دے کر ارشاد ہوا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو یہ سارا قصہ محض وحی کے ذریعہ معلوم ہوا ہے ورنہ یوں ساری دنیا کی طرح آپ کے لئے بھی یہ قصہ غیب ہی میں داخل تھا۔ 186۔ (یوسف (علیہ السلام) کے کنوئیں میں ڈالنے کا اور حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پاس آکر باتیں بنا رہے تھے) (آیت) ” لدیھم “۔ یعنی برادران یوسف (علیہ السلام) کے پاس۔ یرید اخوۃ یوسف (روح) مطلب یہ ہوا کہ نہ آپ ﷺ خود ان واقعات کے وقت موجود تھے اور نہ آپ ﷺ کے پاس کوئی دوسرا ذریعہ معلومات صحیح کا بجز وحی الہی کے ہے کوئی دوسرا آپ کا رہنما نہیں۔
Ayah 12:103

وَ مَاۤ اَكْثَرُ النَّاسِ وَ لَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 12:103 in the Quran reader

اور اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں گو آپ کا کیسا ہی جی چاہے،187۔

187۔ (اس لئے آپ توقع ہی نہ رکھیے کہ ان تمامتر صحیح اخبار بالغیب کے بعد بھی یہ لوگ ایمان لے آویں گے) مراد یہ ہے کہ یہود وغیرہ تو آپ ﷺ کے امتحان کے لئے آپ سے اس قصہ کی فرمایش کررہے تھے اب آپ ﷺ نے بغیر کسی ظاہری ومادی ماخذ کے جو صحیح ومستند قصہ اول سے آخر تک انہیں سنا دیا ! تو چاہیے تو یہ تھا کہ یہ فورا آپ ﷺ کے صاحب وحی ہونے پر ایمان لے آتے اور آپ ﷺ کے دل سے لگی ہوئی بھی یہی تھی، لیکن اس کی توقع نہ رکھیے ان میں سے اکثر اس کا قصد ہی نہ کریں گے۔ (آیت) ’ ’ ولو حرصت “۔ حرص کے لئے اردو محاورہ میں دل سے لگی ہونا ہی آئے گا۔ ومعنی الحرص طلب الشیء باقصی مایمکن من الاجتھاد (کبیر)
Ayah 12:104

وَ مَا تَسْئَلُهُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 12:104 in the Quran reader

اور آپ ان سے اس (تبلیغ) پر کچھ معاوضہ تو مانگتے نہیں یہ (قرآن) تو بس ایک نصیحت ہے دنیاجہان کے لئے،188۔

188۔ یعنی اس کے اندر تو دنیا بھر کی نفع کی چیزیں جمع ہیں کوئی ذرا طلب کرکے دیکھے تو۔
Ayah 12:105

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ اٰیَةٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ یَمُرُّوْنَ عَلَیْهَا وَ هُمْ عَنْهَا مُعْرِضُوْنَ Open ayah 12:105 in the Quran reader

اور کتنی ہی نشانیاں آسمانوں اور زمین میں ہیں کہ ان پر سے (یہ لوگ) گزرتے ہیں اور زن کی طرف سے منہ پھیرے رہتے ہیں،189۔

189۔ یعنی نہ ان پر یہ توجہ کرتے ہیں۔ اور نہ ان سے سبق حاصل کرتے ہیں۔ اے لایعتبرون بھا (کشاف) ولا یلتفتوا الیھا (کشاف) (آیت) ” یمرون “۔ ھم کی ضمیریں کافروں اور منکروں کے لئے ہیں۔ (آیت) ” وکاین من ایۃ “۔ نشانیوں سے مراد توحید وقدرت الہی پر دلالت کرنے والے واقعات و حوادث کائنات ہیں۔ (آیت) ” یمرون علیھا “۔ یعنی وہ واقعات و حوادث ان منکرین آخرت کے علم ومشاہدہ میں آتے رہتے ہیں۔ ای یشاھد ونھا (روح)
Ayah 12:106

وَ مَا یُؤْمِنُ اَكْثَرُهُمْ بِاللّٰهِ اِلَّا وَ هُمْ مُّشْرِكُوْنَ Open ayah 12:106 in the Quran reader

اور ان میں سے اکثرلوگ اللہ پر ایمان بھی لاتے ہیں اور پھر شرک بھی کئے جاتے ہیں،190۔

190۔ (جس سے ان کا دعوائے ایمان باللہ ہی باطل ہوا جاتا ہے) مطلب یہ ہوا کہ آخرت کے منکر تو کثرت سے ہیں ہی، باقی جو لوگ انکار خدا نہیں بلکہ اقرار خدا کے مدعی ہیں ان کا بھی عموما حال یہ ہے کہ ایک طرف تو خدا کو بھی مانے جاتے ہیں، اور دوسری طرف اس کے شریک دیوی اور دیوتا بھی، قرار دیئے چلے جاتے ہیں، جو صاف الوہیت کے منافی ہے، مشرکوں اور جاہل مشرکوں کا جو انجام ہوتا ہے اسے چھوڑئیے، خود ہماری قوم کے ” اہل قبو ر “ ٹھنڈے دل سے غور کریں، کہ مزارات ومقابر “ سے بالکل تعبد کا معاملہ رکھنا ان پر چادریں چڑھانا ان پر نذریں ماننا، نفع ونقصان انہیں سے وابستہ جاننا یہ سب کہیں ان کو اس آیت کی زد میں تو نہیں لے آتا۔ ومن اولئک عبدۃ القبور الناذرون لھا المعتقدون للنفع والضر من اللہ تعالیٰ اعلم بحالہ فیھا دائم الیوم اکثر من الدود (روح)
Ayah 12:107

اَفَاَمِنُوْۤا اَنْ تَاْتِیَهُمْ غَاشِیَةٌ مِّنْ عَذَابِ اللّٰهِ اَوْ تَاْتِیَهُمُ السَّاعَةُ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 12:107 in the Quran reader

سو کیا یہ اس کی طرف سے بےفکر ہیں کہ انہیں اللہ کا کوئی عذاب چھالے یا ان پر اچانک قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو،191۔

191۔ مطلب یہ ہے کہ ہر کفر فی نفسہ سزا و عقوبت کا مستحق ومستوجب ہے، خواہ فورا خواہ بتا خیر لیکن یہ شامت زدہ وآخرت فراموش نفس سزا ہی کی طرف سے غافل اور بےفکر پڑے ہوئے ہیں۔
Ayah 12:108

قُلْ هٰذِهٖ سَبِیْلِیْۤ اَدْعُوْۤا اِلَى اللّٰهِ١ؔ۫ عَلٰى بَصِیْرَةٍ اَنَا وَ مَنِ اتَّبَعَنِیْ١ؕ وَ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 12:108 in the Quran reader

آپ کہہ دیجئے کہ میرا طریق یہی ہے میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں،192۔ دلیل پر قائم ہوں میں (بھی) اور میرے پیرو بھی،193۔ اور پاک ہے اللہ اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں194

192۔ اتنے سے فقرہ میں توحید و رسالت دونوں کا اثبات ہوگیا، (آیت) ” ھذہ “۔ یعنی یہی اثبات توحیدورسالت ویوم آخرت جن کا ذکر اوپر آچکا۔ یعنی الدعوۃ الی التوحید والا عداء للمعاد (بیضاوی) ھذہ الدعوۃ التی اعوا الیھا والطریقۃ التی انا علیھا (کبیر) 193۔ یعنی میں تو اصالۃ اور بالذات اور میرے پیرو میرے واسطہ سے اور میرے طفیل میں۔ (آیت) ” علی بصیرۃ “۔ سے اشارہ ہوگیا کہ اسلام کو رانہ تقلید کا نام نہیں بلکہ دین حق ایک ثابت شدہ مدلل حقیقت ہے، محققین نے لکھا ہے کہ آیت اس پر ناطق ہے کہ علم کلام اور علم اصول خاص پیغمبرانہ علم ہیں اور ان حضرات کی بعثت خلق کی جانب انہی علوم سے کام لینے کے لئے ہوتی ہے۔ وھذہ الایۃ تدل علی ان حرفۃ الکلام وعلم الاصول حرفۃ الانبیاء علیھم الصلوۃ والسلام وان اللہ ما بعثھم الی الخلق الا لا جلھا (کبیر) 194۔ (میرے اور دین شرک کے درمیان اشتراک ہی کیا میں اس کے ایک ایک جزئیہ سے علیحدہ وبیزار) (آیت) ” سبحن اللہ “۔ یعنی اللہ تعالیٰ ہر قسم کی آلایش شرک سے پاک اور بالاتر ہے، جو اس کی ذات یا صفات سے متعلق مشرکوں نے روا رکھا ہے۔
Ayah 12:109

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ مِّنْ اَهْلِ الْقُرٰى١ؕ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ وَ لَدَارُ الْاٰخِرَةِ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ اتَّقَوْا١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 12:109 in the Quran reader

اور ہم نے بستیوں والوں میں سے آپ سے قبل بس مردوں ہی کو بھیجا کہ ہم نے ان کی طرف وحی کی،195۔ تو کیا یہ لوگ زمین پر چلے پھرے نہیں ورنہ دیکھ لیتے کہ،196۔ ان لوگوں کا کیسا (برا) انجام ہوا جو ان کے قبل تھے اور عالم آخرت ہی ان لوگوں کے حق میں بہتر ہے جو تقوی (اختیار) کئے ہوئے ہیں، سو کیا تم (اتنا بھی) نہیں سمجھتے ؟ ،197۔

195۔ یعنی پیغمبر بنا کر تو ہمیشہ بشر ہی کو بھیجا گیا ہے، بشریت پیغمبری کے منافی ہونا کیا معنی عین اس کا جزء لازم ہے اتنی موٹی حقیقت بھی دیوتا پرست، اوتار پرست مشرکوں کے ذہن میں نہیں آتی، فقہاء مفسرین نے کہا ہے کہ آیت سے بہ اشارۃ النص دو اور مسئلہ بھی روشنی میں آجاتے ہیں :۔ (1) ایک یہ کہ پیغمبر ہمیشہ آبادی والی بستیوں میں سے ہوئے ہیں نہ کہ بےتعلق خانہ بدوش جرگوں قبیلوں میں سے۔ من اھل القری لم یبعث رسولا من اھل البادیۃ (کبیر) یعنی من اھل الامصار دون اھل البداوی (ابن جریر) (2) دوسرے یہ کہ پیغمبری ہمیشہ مردوں ہی میں رہی ہے کوئی عورت کبھی اس مرتبہ پر فائز نہیں کی گئی۔ (آیت) ” الا رجالا “۔ والایۃ تدل علی ان اللہ تعالیٰ ما بعث رسولا الی الخلق من النسوان (کبیر) یخبر تعالیٰ انہ انما ارسل رسولہ من الرجال لامن النساء وھذا قول جمھور العلماء (ابن کثیر) الذی علیہ السنۃ والجماعۃ وھو الذی نقلہ الشیخ ابو الحسن علی بن اسماعیل الاشعری عنھم انہ لیس فی النساء نبی ۃ (ابن کثیر) یعنی رجالا لا نساء (بحر عن ابن عباس ؓ فالرسول لایکون امراۃ (بحر) قیل معناہ نفی استنباء النساء (بیضاوی) 196۔ (کفار ومنکرین میں سے) یعنی پچھلی سرکش ونافرمان قوموں کے کھنڈروں پر گزرنے سے عبرت کا سبق یہ لوگ حاصل کرسکتے ہیں اور یہی مقصد کسی درجہ میں اب تاریخوں کے مطالعہ سے بھی حاصل ہوسکتا ہے اور مقصود اگر عبرت وتذکرہو تو سیاحت عالم اور علم آثار قدیمہ سے اشتغال بھی ایک عبادت ہے۔ 197۔ (کہ باقی کے مقابلہ میں فانی کی ہستی اور بساط ہی کیا ہے ! )