Ayah 12:3466۔ (یعنی آپ (علیہ السلام) کو عصمت وعفاف کے مقام بلند سے ذرا بھی ہٹنے نہ دیا) فاستجاب لہ ربہ “۔ آپ (علیہ السلام) کی دعا وہ کون سی تھی جو قبول ہوئی ؟ وہ دعا بھی ثبات عصمت کی تھی کہ ایسے تقوی شکن حالات میں بھی میرے قدم ثبات کو ذرا بھی لغزچش نہ ہو۔
67۔ بڑا سننے والا دعاؤں اور ظاہر الفاظ کا اور خوب جاننے والا دلوں کے احوال و اسرار کا۔ قرآن مجید پیغمبر پرستی کے امکان پر بار بار ضرب لگاتا جاتا ہے۔ ہر اصلی بڑائی کو اللہ ہی کی جانب منسوب کرتا رہتا ہے۔
Ayah 12:3568۔ (اور یہ غالبا رفع بدنامی کے خیال سے) ایک عبرانی غلام کے ہاتھوں ایک مصری امیر زادی کی کتنی بدنامی ہوچکی تھی اس کے لیے انتظاما یہ ضروری معلوم ہوا کہ ایک مدت تک کے لئے خود اس غلام کو عام نگاہوں اور چرچوں سے دور کہیں محبوس کردیاجائے۔ (آیت) ” لھم “۔ یعنی خود عزیز اور اس کے مشیروں کو۔ یعنی للعزیز و اصحابہ فی الرای (معالم) ای للعزیز و اصحابہ المتصدین للحل والعقد (روح) (آیت) ” من بعد ماراو الایت “۔ یعنی بعد اس کے کہ انہیں شہادتیں یوسف (علیہ السلام) کی پاکدامنی اور بےقصوری کی مل چکی تھیں اور وہ خود بھی اس پر یقین کرچکے تھے۔ ہندوستان کی سرزمین پر بھی رامائن میں قصہ اسی طرح کا مذکور ہے کہ رامچندر جی کو اگرچہ بذات خود اپنی بیوی سیتا کی عصمت ووفاداری پر پورا اعتماد تھا تاہم پبلک کی بدظنی رفع کرنے کے خیال سے انہیں گھر سے نکال دیا۔ (آیت) ” لیسجننہ “۔ یہ جیل خانہ عام اور معمولی نہ تھا۔ سخت قسم کا اور خطرناک مجرموں کے لئے مخصوص تھا۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ توریت میں اس مقام پر ہے۔ ” اور یوسف کے آقا نے اس کو پکڑا اور ایک جگہ جہاں بادشاہ کے قیدی بند تھے قید میں ڈالا “ (پیدائش 39: 2) (آیت) ” الایت “۔ سے مراد یوسف کی بیگناہی اور عصمت کی شہادتیں ہیں۔ ای الشواھد الدالۃ علی براء تہ (علیہ السلام) وطھارتہ (روح) (آیت) ” حتی حین “۔ اکثر قدیم قوانین میں ایک دستور تھا کہ بادشاہ مجرم کو سزا کسی مخصوص و متعین میعاد کے لئے نہیں دیتا تھا، بلکہ جب تک اپنی مرضی ہو اسے قید رکھتا تھا ؛۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی سزا یابی عجب نہیں کہ اسی قسم کی ہو ہماری تفسیروں میں اس میعاد قید کے متعلق متعدد اقوال نقل ہوئے ہیں لیکن بہتر یہی ہے کہ کسی میعاد معین کا حکم نہ لگایا جائے بلکہ محض ایک طویل مدت مراد لی جائے۔ والاولی ان لا یجزم بمقدار وانما یجزم بالمدۃ الطویلۃ (روح) والصحیح ان ھذہ المقادیر غیر معلومۃ وانما القدر المعلوم انہ بقی محبوسا مدۃ طویلۃ (کبیر)
Ayah 12:3669۔ ان میں سے ایک بادشاہ کا ساقی تھا دوسرا شاہی نان پر۔ الزام دونوں پر یہ تھا کہ انہوں نے بادشاہ کو زہر دینا چاہا تھا۔ تحقیقات اسی جرم کی ہورہی تھی اور یہ لوگ جیل کی حوالات میں بند کردیئے گئے۔ توریت میں ہے :۔ ” بعد ان باتوں کے یوں ہوا کہ شاہ مصر کا ساقی اور نان پر اپنے خداوند شاہ مصر کے مجرم ہوئے اور فرعون اپنے دو سرداروں پر جن میں ایک ساقیوں کا دوسرا نان پزوں کا داروغہ تھا غصے ہوا اور اس نے ان کو نگہبانی کے لئے جلوداروں کے سردار کے گھر میں اسی جگہ جہاں یوسف بند تھا قید خانہ میں ڈالا۔ “ (پیدائش 40: 8۔ 11) معہ یعنی اسی زمانہ میں۔ یہ لازم نہیں کہ یہ دونوں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ ہی ساتھ داخل ہوئے ہوں۔
70۔ (انگور سے) متقی کہیں بھی ہو کسی فضاوماحول میں بھی ہو آثار تقوی بےظاہر ہوئے رہ نہیں سکتے۔ چند ہی روز میں ان قیدیوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) میں بزرگی کے آثار پالئے تھے اور ان کے سامنے اپنے اپنے خواب عرض کئے، پہلا خواب شاہی ساقی کا ہے۔ توریت میں ہے :۔” وہ بولے ہم نے ایک خواب دیکھا ہے جس کی تعبیر کرنے والا کوئی نہیں، یوسف (علیہ السلام) نے انہیں کہا کیا تعبیر کی قدرت خدا کو نہیں ؟ مجھ سے بیان کیجئے تب سردار ساقی نے اپنا خواب یوسف (علیہ السلام) سے بیان کیا اور اس نے کہا دیکھ میرے خواب میں ایک تاک میرے سامنے تھی اس تاک میں تین ڈالیاں تھیں ان میں کلیاں نکلیں اور ان میں پھول آئے اور اس کے سب گچھوں میں انگور پکے اور فرعون کا پیالہ میرے ہاتھ میں تھا سو میں نے ان انگوروں کو لے کے فرعون کے جام میں نچوڑا اور وہ جام میں نے فرعون کے ہاتھ میں دیا۔ “ (پیدائش 40: 8۔ 11) (آیت) ” اعصر خمرا “۔ سے شراب وشربت دونوں کے پہلو نکل سکتے ہیں۔ یہ بادشاہ انگور کا شربت پیا کرتا تھا۔
71۔ یہ خواب بادشاہی نان پز کا تھا۔ توریت میں اس کی زبان سے ہے :۔” میں بھی خواب میں تھا اور دیکھا کہ سر پر تین ٹوکریاں روٹی کی تھیں اور اوپر کی ٹوکری میں فرعون کے لئے سب قسم کا پکا ہوا مال تھا اور پرندے میرے سر پر اس ٹوکری میں سے کھاتے تھے۔ “ (پیدائش 40: 16، 17)
72۔ حسن و جمال کی طرح فضل و کمال بھی چھپنے والی چیز نہیں۔ اور اس کا اثر کافر تک محسوس کرلیتے ہیں، توریت میں ہے :۔ ” وہ وہاں قید خانہ میں رہا کرتا تھا لیکن خداوند یوسف کے ساتھ تھا۔ “ (پیدائش 39: 20، 21) قتادہ تابعی کے قول میں ہے کہ آپ (علیہ السلام) مریضوں کا علاج کرتے تھے غمگینوں کو تسلی دیتے تھے اور عبادت میں منہمک رہتے تھے اور دوسرے اقوال بھی ایسے ہی نقل ہوئے ہیں۔ قال قتادۃ کان یداوی مریضھم ویعزی حزینھم ویجتھد فی عبادۃ ربہ (جصاص) وقیل کان یعین المظلوم وینصر الضعیف ویعود المریض (جصاص) معناہ انانراک تؤثر الاحسان وتاتی بمکارم الاخلاق و جمیع الافعال الحمیدۃ (کبیر) اور توریت میں ہے :۔ ” قید کے داروغہ نے سب قیدیوں کو جو قید میں تھے یوسف کے ہاتھ میں سونپا اور جو کچھ وہ کرتے تھے اس کے حکم سے کرتے تھے اور قید خانہ کا داروغہ سب کاموں کی طرف سے جو اس کے ہاتھ میں تھے بےفکر تھا۔ “ (پیدائش 39: 22، 23) (آیت) ” بتاویلہ “۔ میں ضمیر دونوں خوابوں کے ماجرے کی طرف ہے۔ والضمیر للرؤیتین بتاویل ماذکر او ماروی (روح)
Ayah 12:3773۔ آپ نے فرمایا کہ ابھی تمہارا کھانا آنے بھی نہ پائے گا کہ میں خواب کی تعبیر بتادوں گا بس ایک ذرا دم لو۔ اور اس درمیان میں آپ کو موقع تبلیغ کا ہاتھ آگیا۔ (آیت) ” بتاویلہ “۔ میں ضمیر ان بیان شدہ خوابوں کے مجموعہ کی طرف ہے۔ ای بتاویل ماقصصتماعلی (بیضاوی)
74۔ نہ کہ علم جو تش نجوم کہانت وغیرہ کا کوئی شعبہ جس کا مصرجاہلی میں اتنا زور تھا) آپ (علیہ السلام) نے پہلے تو مصری سائلوں کے اس ممکن خیال کو مٹایا کہ آپ (علیہ السلام) کا ملکہ تعبیر بھی جو تشیوں وغیرہ کے عملیات کے قسم کا ہے اور پھر آپ اپنے ذاتی کمال کی نفی کرکے اپنے علم کو تمامترافضال الہی کا ثمرہ قراردے رہے ہیں۔ اور یوں دین حق کی تبلیغ معاشروع کردی ” ذلکما “۔ یعنی یہ علم تعبیر رؤیا۔ ای ذلک التاویل (بیضاوی) (آیت) ” ذلک “۔ کا اشارہ بعید اس علم کے شرف ومنزلت کے اظہار کے لئے ہے۔ ومعنی البعد فی ذلک الاشارۃ الی بعد منزلۃ وعلودرجتہ (روح) مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ کوئی عالم دین اگر اپنے کمالات واوصاف اس نیت سے بیان کرے کہ لوگ ان سے نفع اٹھائیں تو جائز ہے۔
75۔ مصری مذہب مسئلہ توحید اور وقوع آخرت دونوں کا منکر تھا۔ (آیت) ” ترکت “۔ کا یہ مطلب نہیں کہ آپ پہلے دین شرک پر تھے اور اب اسے چھوڑا ہے ترک کے معنی عدم اختیار کے ہیں اور یہ ضروری ہرگز نہیں کہ انسان پہلے اس عادت میں پڑچکا ہو۔ الترک عبارۃ عن عدم التعرض للشیء ولیس من شرطہ ان یکون قدکان خائضافیہ (کبیر) والمراد بالترک الامتناع (روح) یہ مراد بھی لی گئی ہے کہ اب تک مصری آپ (علیہ السلام) کو اپنا ہم مذہب سمجھ رہے تھے اور آپ (علیہ السلام) نے کھل کر کبھی اپنے عقائد کا اظہار کیا نہ تھا آج پہلی بار آپ (علیہ السلام) علانیہ توحید کی تبلیغ کررہے ہیں اور اپنے مخاطبین کے خیال کے مطابق اپنے دین سابق سے نکل رہے ہیں۔ (آیت) ” ھم “۔ کی تکرار تاکید معنی کے لئے ہے وقوع آخرت کے اہل مصر خصوصیت سے منکر تھے۔ کرر ھذا اللفظ للتاکید (کبیر) توریت حسب معمول ان مطالب عالیہ سے بالکل خالی ہے۔
Ayah 12:3876۔ اپنی عالی نسبی کا ذکر ایسے موقع پر بالکل جائز ہے مقصد اس سے سامعین کے دل میں جذبہ شوق و توجہ کو ترقی دینا تھا۔ یوسف (علیہ السلام) خود تو اس وقت تک اپنے مخاطبین کی نظر میں ایک معمولی اور گمنام شخص تھے بخلاف اس کے ان کے ان آباوادجداد کا نام اس وقت بھی بہ حیثیت موحد وداعی دین توحید کے مشہور ہوچکا تھا اور ان کی شہرت حدود کنعان سے باہر اچھی خاصی پھیل چکی تھی۔
77۔ (خواہ کسی حیثیت سے ہو) اس میں شرک کی ہمہ جہتی نفی آگئی اور شرک کی ہر قسم سے انکار آگیا۔ بت پرستی، ستارہ پرستی، آتش پرستی، نیچر پرستی وغیرہ سب سے (آیت) ” من شیء “۔ اسی نفی کامل کے لئے ہے۔ (آیت) ” لنا “۔ سے مراد گروہ انبیاء بھی لی گئی ہے اور اولاد ابراہیم (علیہ السلام) بھی۔ لیکن ایک مراد نوع انسانی بھی ہوسکتی ہے یعنی شرک کسی انسان کو بھی زیبا نہیں۔
78۔ یعنی نہ اس نعمت کی قدر کرتے ہیں نہ اس کا حق ادا کرتے ہیں۔ (آیت) ” ذلک “ یعنی یہی عقیدۂ توحید ودین حق۔ ای التوحید (بیضاوی) ھو ترک الاشراک (کبیر) علینا وعلی الناس یعنی ہمارے اوپر براہ راست اور ساری خلقت پر ہمارے واسطے سے۔
Ayah 12:3979۔ مخاطبہ مشرکوں سے تھا جنہوں نے ہر ہر شعبہ زندگی میں اپنے لئے الگ الگ دیوی دیوتا مقرر کر رکھے تھے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) ان سے دریافت فرماتے ہیں کہ اس تعدد وتفرق پر بھی کبھی غور کیا ہے ؟ بندگی ایک خدائے واحد وزبردست کی بھلی یا اتنے ایک دیویوں اور دیوتاؤں کی ؟ (آیت) ” القھار “۔ یعنی وہ جو سب پر غالب اور کوئی اس پر غالب نہ ہو۔ ای الغالب الذی لایغالبہ احد (روح)
Ayah 12:4080۔ یعنی تمہارے ان گڑھے ہوئے معبودوں کی حقیقت ہی کیا ؟ ان کا وجود خارجی بہ حیثیت معبود ہے کہاں ؟ یہ تو صرف چند گڑھے ہوئے نام ہیں حقیقت سے بالکل خالی۔ نام جو اور جتنے چاہو گڑھ لو کوئی ثبوت ادنی سا بھی تو ان کی خدائی کا لاؤ (آیت) ” وابآؤ کم “۔ میں اشارہ ہے کہ دین شرک محض اندھی تقلید کے بل پر چل رہا ہے۔
81۔ (نہ عقلی نہ نقلی “۔ یعنی شرک پر دلیل کوئی سی بھی قائم نہیں۔ تم دلیل توحید پر مانگتے ہو حالانکہ کوئی معمولی سی دلیل شرک پر تو لاؤ۔ (آیت) ” بھا “۔ میں ضمیر غیر اللہ کی معبودیت کی طرف ہے۔ اے بعباد تھا (جلالین)
82۔ حکم تکوینی صرف اسی کا چل رہا ہے کائنات کا کون سا شعبہ ہوا، پانی، آگ، بادل موت، زندگی، بیماری، صحت آخر کون سی چیز تمہارے کسی دیوی دیوتا کے حکم واختیار سے چل رہی ہے ؟ اس کا کوئی ادنی ہی ثبوت پیش کرو، اور اس حکم تکوینی کے ساتھ حکم تشریعی بھی صرف اسی کا حق ہے ان مسائل میں کہ جن میں اس نے خدائی تشریع کی ضرورت سمجھی اور باقی مسائل اس نے عقل وبصیرت دے کر بندوں ہی کے اوپر چھوڑ دیئے ہیں۔ حکم تشریعی بھی کسی دیوی دیوتا کا نہیں چل سکتا۔ آیت کی اس صحیح تفسیر کے بعد خوارج قدیم وجدید کو کوئی موقع اپنے دعوی کے اثبات کانہ رہا۔
83۔ (جو ہمیشہ سے چلا آرہا ہے) قرآن مجید نے اس حقیقت کا اعلان دعوے کے ساتھ بار بار کیا ہے کہ دین فطرت اور انسان کا دین قدیم یہی مسلک توحید ہے اور شرک کی آمیزش بعد کو ہوئی ہے۔ انیسویں صدی عیسوی کے ” روشن خیال “ مدتوں اس منزل میں بھی بھٹکتے رہے اور یہی کہے گئے کہ انسان تو رفتہ رفتہ ارتقاء کے ذریعہ سے شرک سے توحید تک پہنچا ہے یہاں تک کہ اب بیسویں صدی میں بڑے بڑے اہل سائنس کو بھی قائل ہونا پڑا ہے کہ انسان کا قدیم ترین دین دین توحید ہی تھا۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔
84۔ یعنی ایسی صاف اور سیدھی بات پر بھی اکثر لوگ جمود رسم پرستی یا عناد کی بنا پر غور نہیں کرتے اور اس سے انکار ہی کرتے رہتے ہیں۔
Ayah 12:4185۔ (جیسا کہ پہلے پلاتا رہتا تھا) یہ خطاب ساقی سے ہے۔۔ خواب کی تعبیر اب جاکر شروع ہوتی ہے۔ اتنی مفصل اور حکیمانہ دعوت توحید کے بعد توریت میں ایک لفظ بھی اس وعظ کا نہیں۔ توریت میں ہے :۔ ” تب یوسف بولا اس کی تعبیر یہ ہے کہ یہ تین ڈالیاں تین دن ہیں اور فرعون اب سے تین دن میں تیری روبکاری کرے گا اور تجھے تیرا منصب پھیر دے گا اور تو آگے کی طرح جب تو فرعون کا ساقی تاھ اس کے ہاتھ میں پھر جام دے گا۔ “ (پیدائش 40: 13) (آیت) ” ربہ “۔ رب سے مراد ظاہر ہے کہ اس ساقی کا آقا یا بادشاہ مصر ہے اور قرآن مجید میں رب آقائی مجازی کے معنی میں کثرت سے آیا ہے۔
86۔ یہ تعبیر نان پز کے خواب کی تھی۔ توریت میں ہے :۔ ” یوسف نے جواب دیا اور کہا اس کی تعبیر یہ ہے کہ تین ٹوکریاں تین دن ہیں فرعون اب سے تین دن میں تیرا سر تیرے تن سے جدا کرے گا اور ایک درخت پر تجھے لٹکائے گا اور پرندے تیرا گوشت نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ “ (پیدائش 40: 18۔ 19)
87۔ جس جزم ووثوق کے ساتھ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ ارشاد فرمایا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی تعبیر وحی الہی کے ماتحت تھی۔
Ayah 12:4288۔ (کہ ایک شخص ایسا اور ایسا بےقصور جیل میں بند ہے) حضرت یوسف (علیہ السلام) کی پاکبازی تو ان قیدیوں کے خود مشاہدہ میں آچکی تھی اور وہ کہہ چکے تھے (آیت) ” انا نرک من المحسنین “۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اس سے کوئی اور نئی بات نہیں چاہی صرف اتنا چاہا کہ جو بات اس کے علم و تجربہ میں آچکی ہے بس اس کا تذکرہ بادشاہ کے کان تک پہنچا دیا جائے۔ (آیت) ” للذی ظن انہ ناج منھما “۔ یعنی اس ساقی سے۔ توریت میں ہے :۔” لیکن جب تو خوشحال ہو تو مجھے یاد کیجیو اور مجھ پر مہربانی کیجیو اور فرعون سے مراذکر کیجیو اور مجھے اس گھر سے مخلصی دلوائیو کہ وہ عبرانیوں کی ولایت سے مجھے چرا لائے اور یہاں بھی میں نے ایسا کام نہیں کیا کہ وہ مجھے قید خانہ میں رکھیں۔ “ (پیدائش 40: 14۔ 15) (آیت) ” عندربک “۔ یعنی اپنے آقا بادشاہ ملک سے۔۔۔ بعض جدید اہل قلم نے بادشاہ کے لئے ایک پیغمبر کی زبان سے لفظ رب کے ادا ہونے پر بڑی حیرت کا اظہار کیا ہے۔ حالانکہ جب لفظ کے کھلے ہوئے معنی علاوہ خالق پروردگار کے آقا ومالک کے بھی موجود ہیں تو اس کے استعمال پر یہ اظہار حیرت خود حیرت انگیز ہے۔ پیغمبر (علیہ السلام) حقایق کے ترجمان ہوتے ہیں ان کی زبان آجکل کے اخبار نویسوں پر جوش خطیبوں اور سیاسی لیڈروں کی زبان نہیں ہوتی۔ مالک وآقا کی تعبیر لفظ رب سے کرنا زبان عرب میں عام ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 39 صفحہ 518 ذلک معروف فی اللغۃ ان یقال للسید رب (قرطبی) الرب المالک والسید والمصلح والمعبود (ابوالبقاء) محققین نے لکھا ہے کہ اسباب عادی سے کام لینا بالکل جائز ہے اس لئے اس باب حضرت یوسف (علیہ السلام) پر کوئی شبہ نہیں ہوسکتا اور یہ حقیر کہتا ہے کہ یہاں تو جس سے استعانت کی جارہی ہے وہ تو سرے سے مومن ہی نہ تھا کافر ہی تھا۔ اور استعانت کرنے والے ایک نبی برحق ہیں ! یہاں سے ان تقوی میں غلو کرنے والے متشددین کی بےحقیقتی بالکل واضح ہوجاتی ہے۔ جنہوں نے مخلوق سے ہر استعانت کو ناجائز بلکہ حرام قرار دیا ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ازالہ شدت ومحن کے لئے کسی مخلوق سے استعانت کرنے میں مطلق مضائقہ نہیں خصوصا اس سے جس پر احسان کیا ہو احسان سے محبت پیدا ہوجاتی ہے اور محبت سے یہ استعانت گوارا ہوجاتی ہے۔
89۔ اس ” چند سال “ کی مدت کی تعیین کہیں سے نہ ہوسکی البتہ یہ واضح ہے کہ یہ میعاد نوسال کے اندر ہی تھی، عربی میں بضع کا اطلاق 3 سے 9 کے عدد تک ہوتا ہے۔ اور آیت کے الفاظ سے یہ لازم نہیں آتا کہ آپ (علیہ السلام) کی مدت قیام جیل میں ان دونوں کے چھوٹنے کے بعد بھی کئی سال کی رہی۔ ہوسکتا ہے کہ (آیت) ” بضع سنین “۔ سے مراد آپ (علیہ السلام) کی کل مدت جیل کے اندر بسر کرنے کی ہو۔ یہ آپ (علیہ السلام) کے جیل خانہ میں پڑے رہنے کا ذکر بہ طور عتاب کے نہیں ہے بلکہ اسے محض نسیان پر مرتب کرنے سے مقصود صرف اس امر کا اظہار ہے کہ وہ شخص جو درمیانی واسطہ تھا چونکہ بھول گیا اس لئے کوئی سامان آپ کے نکلنے کا نہ ہوسکا۔ اپنی دنیوی راحت کے جائز حصول کی فکر کرنا اور اس کے لئے اسباب عادیہ کو کام میں لانا مثلا یہیں جیل سے رہائی پانے کے لئے ایک کافر خیرخواہ کو واسطہ بنانا اس کے ذریعہ سے ایک کافر بادشاہ تک بات پہنچانا جب مرتبہ نبوت و کمال تقوی کے منافی نہیں تو عام دنیا داروں کے لئے تو مباح بدرجہ اولی ہے۔ توریت میں ہے :۔ ” اور تیسرے دن جو فرعون کی سالگرہ کا دن تھا اس نے اپنے سب نوکروں کی مہمانی کی اور اس نے سردار ساقی اور نان پز کی اپنے نوکروں سے روبکاری کی اور اس نے سردار ساقی کو اس کی خدمت پر پھر قائم کیا اور اس نے فرعون کے ہاتھ میں جام دیا۔ پر سردار ساقی نے یوسف (علیہ السلام) کو یاد نہ کیا بلکہ اسے بھول گیا۔ “ (پیدائش 40: 20۔ 23)
Ayah 12:4390۔ اب تذکرہ ایک عرصہ بعد کا شروع ہوتا ہے بادشاہ مصر نے بھی ایک خواب دیکھا اور اپنے ارکان دولت سے بیان کیا۔۔۔ یہ واضح رہے کہ ملک مصر اس وقت سات صوبوں میں تقسیم تھا اور زراعت کی دیوی گائے کی صورت میں تھی۔ (ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے) توریت میں اس خواب کو بھی حسب معمول بڑی طوالت سے بیان کیا ہے (پیدائش 41: 1۔ 7)
91۔ اب آج کوئی بادشاہ ایسا خواب دیکھے تو شاید پروا بھی نہ کرے لیکن اس وقت مصر میں سحر۔ نجوم وکہانت کے علوم کے ساتھ ساتھ خوابوں کی بھی بڑی اہمیت تھی۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ توریت میں ہے :۔” اور فرعون جاگا اور دیکھا کہ وہ خواب تھا اور یوں ہوا کہ صبح کو اس کا جی گھبرایا تب اس نے مصر کے سارے جادوگروں اور اس کے سب دانشمندوں کو بلا بھیجا اور فرعون نے اپنا خواب ان سے کہا پر ان میں سے کوئی فرعون کے خواب کی تعبیر نہ کرسکا۔ “ (پیدائش 41: 8)
Ayah 12:4492۔ دربایوں نے کہا کہ یہ کوئی باقاعدہ مربوط تعبیر طلب خواب تھوڑے ہی ہے یہ تو پریشان خیالیوں کی طرح پریشان خوابیاں ہیں ان کی تعبیر کا ہمیں کوئی علم نہیں۔
Ayah 12:4593۔ (جیل خانہ میں یوسف (علیہ السلام) صدیق تک) (آیت) ” الذی نجامنھما “۔ ظاہر ہے کہ وہی ساقی مراد ہے جو عرصہ ہوا جیل کی حوالات سے چھوٹ آیا تھا۔ (آیت) ” واد کر “۔ یعنی اسے حضرت یوسف کا ماجرا بادشاہ سے کہنا یاد آگیا۔ (آیت) ” بعد امۃ “۔ امۃ مدت طویل کے معنی میں ہے۔ ای بعد مدۃ طویلۃ (کشاف۔ بحر) توریت کے طول طویل بیان کے لئے ملاحظہ ہو (پیدائش 41: 9۔ 13)
Ayah 12:4694۔ ساقی آپ (علیہ السلام) کی بزرگی کا پوری طرح متعقد ہے جیسا کہ اس کے خطاب (آیت) ” ایھا الصدیق “۔ سے بالکل ظاہر ہے۔ (آیت) ” ارجع الی الناس “۔ یعنی ان لوگوں کے پاس واپس پہنچوں جنہوں نے مجھے یہ تعبیر دریافت کرنے بھیجا ہے اور جو میری واپسی کے منتظر ہوں گے۔ (آیت) ” لعلھم یعلمون “۔ انہیں علم پہلے تو تعبیر خواب کا ہوجائے اور پھر ضمنا آپ (علیہ السلام) کی بزرگی اور پاکبازی بھی ان پر روشن ہوجائے۔
Ayah 12:4795۔ یہ واضح رہے کہ مصر تمامتر ایک زرعی ملک تھا۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔
Ayah 12:4896۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) آخر نبی ہی تھے یا اس وقت ہونے والے نبی تھے آپ (علیہ السلام) کے اخلاق کی بلندی کا کیا کہنا ساقی سے اس کی مجرمانہ غفلت پر کسی قسم کے شکوہ وشکایت کے بجائے پوری خوش دلی کے ساتھ اسے تعبیر بتادیتے ہیں۔ اور تعبیر ہی پر اکتفا نہیں کرتے ساتھ ہی ساتھ اور بلا سوال و درخواست انتظام قحط کی تدبیر بھی بتائے جاتے ہیں ! توریت کے طول طویل بیان کے لئے ملاحظہ ہو (پیدائش 41: 25۔ 26)
Ayah 12:4997۔ تعبیر وتدبیر کے بعد اب آپ ﷺ بشارت بھی غالبا وحی الہی کے ماتحت سنا رہے ہیں۔ یہ قحط جو اس قوت پڑا دنیا کے سخت ترین قحطوں میں سے ہوا ہے اور عالم کی تاریخ قحط میں ایک اہم مقام رکھتا ہے آگے چل کر یہ حدود مصر تک محدود نہ رہا بلکہ حجاز فلسطین شام تمام ممالک ملحقہ میں اس کی شدت محسوس ہوئی، بلکہ توریت میں تو یہاں تک درج ہے کہ یہ قحط عالمگیر تھا اور ساری دنیا اس مصیبت سے بلبلا اٹھی :۔ ” اور سب زمین میں گرانی ہوئی “۔ (پیدائش 41: 54) ” اور تمام روئے زمین پر کال تھا “۔ (پیدائش 41: 56) ” سارے ملک مصر میں یوسف کنے مول لینے آئے کیونکہ سب ملکوں میں سخت کال تھا “۔ (پیدائش 41: 57) ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی (آیت) ” فیہ یعصرون “۔ حضرت کا مخاطب براہ راست یاد کرلیجئے کہ شاہی ساقی ہے جس کا تعلق ہی شیرہ اور شراب سے ہے اس سے گفتگو میں اسی کے کام کی چیزلانا کس درجہ بلیغ اور برمحل ہے (آیت) ” یغاث “۔ مصدرغیث کا صیغہ ہے جس کے معنی بارش کے ہیں ابن عباس ؓ صحابی اور مجاہد تابعی وغیرہ سے یہی منقول ہے اور جمہور نے اسی قول کو اختیار کیا ہے لیکن دوسرا قول یہ بھی نقل ہوا ہے کہ یہ مصدر غوث کا صیغہ ہے جس کے معنی کشایش ہوجانے، فریاد رسی ہونے کے ہیں۔ اویغاثون من الغوث (بیضاوی) قیل ھو الغوث اے الفرج (روح) یحتمل ان یکون من الغوث۔ یعصرون۔ اوپر سے حضرت یوسف (علیہ السلام) کا تخاطب اہل مصر سے چلا آرہا ہے اور ہر جگہ صیغہ جمع مخاطب استعمال ہورہا ہے اور اس سارے کلام کا تعلق انتظامات قحط سے ہے یہاں پہنچ کر یک بیک صیغہ بدل جاتا ہے اور بجائے مخاطب کے غائب کا ہوجاتا ہے یعنی ” لوگوں کے لئے “ بارش یا فریاد رسی ہوگی اور ” لوگ “ شیرہ نچوڑیں گے گویا صاف اشارہ اس امر کی طرف کردیا کہ رفع قحط کا تعلق تنہا مصر سے نہیں باہر کے ملکوں سے بھی ہے اور بارش دنیا کے مختلف علاقوں میں ہوگی۔ قرآن مجید کا یہ اسلوب بیان کہ ضمنا بھی کہاں کہاں باتیں بتا جاتا ہے اگر بجائے خود اعجاز نہیں تو اور کیا ہے۔ (آیت) ” عام “۔ کے معنی بھی سنۃ کی طرح سال ہی کے ہیں لیکن استعمال میں فرق یہ ہے کہ خشکی اور تنگی کے موقع پر سنۃ لایا جاتا ہے اور شادابی و خوشحالی کے موقع پر عام بولا جاتا ہے العام کالسنۃ لکن کثیرا ماتستعمل السنۃ فی الحول الذی یکون فیہ الشدۃ والجدب والعام فی ما فیہ الرخاء والخصب (راغب)
Ayah 12:5098۔ ساقی آکر مفصل رپورٹ بادشاہ کی خدمت میں پیش کرتا ہے بادشاہ اتنی مفصل اور دلنشین تعبیر سن کر یوسف (علیہ السلام) کا غائبانہ معقتد ہوجاتگا ہے اور قدرۃ مشتاق زیارت بھی۔
99۔ (کبھی نہیں بلا کر میرے حال کی بھی تحقیق کی ؟ ) (آیت) ” الی ربک “۔ رب کا لفظ اس سورة میں بار بار آقائے مجازی وظاہری کے لئے استعمال ہورہا ہے۔ ملاحظہ ہوا ان کو میرے پاس۔
100۔ یعنی اللہ پر تو میری بےگناہی اور عورتوں کے جوڑ توڑ روشن ہی ہیں میں چاہتا ہوں کہ میرے جیل سے باہر آنے سے قبل خلق پر بھی میری بےگناہی روشن ہوجائے۔ (آیت) ” کیدھن “۔ میں ضمیر بعض نے کہا کہ انہیں مخصوص عورتوں کی جانب ہے اور بعض نے کہا کہ نہیں عام جنس نسوان کی جانب ہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے چاہا کہ تہمت کا ازالہ ہوجائے اور مقتدا کو یہی مناسب ہے تاکہ اس کی دعوت الی الحق پر نفع مرتب ہو۔
Ayah 12:51101۔ (یعنی آیا تم نے ان میں اپنی جانب رغبت والتفات پایا تھا ؟ ھل وجدتن فیہ میلا (کشاف) اب وہ ” لیڈیاں “ دربار میں بلائی گئی ہیں اور ان سے تحقیقات شروع ہوئی ہے۔
102۔ (اور ہماری شہادت ہے کہ وہ بالکل پاک وصاف ہیں) (آیت) ” حاش للہ “۔ کلمہ تعجب یوسف (علیہ السلام) کے کمال عصمت وپاکبازی کے اظہار کے لئے ہے۔ قلن حاشا للہ تعجبا من عفتہ وذھابہ بنفسہ عن شیء من الریبۃ ومن نزاھتہ عنھا (کشاف) (آیت) ” من سوٓء “۔ یعنی کسی قسم کی بھی برائی، کوئی شائبہ بھی برائی کا ان میں نہ پایا۔
103۔ زلیخا نے جب دیکھا کہ بڑی چھوٹی سب شہادتیں اس کے خلاف ہی گزر گئیں تو اب صاف لفظوں میں اقرار کرلیا کہ قصور سرتاسر میرا ہے دامن یوسفی ہر لوث ہر داغ سے پاک ہے وہ شروع ہی سے متقی وپاکباز رہے۔
Ayah 12:52104۔ جیسا کہ اس سارے قصہ سے ظاہر ہے کہ کسی کی چلا کی دیر تک چلنے نہیں پاتی آخر میں سب کی اصلیت ظاہر ہی ہو کر رہی۔۔۔ یہ سارا قول یوسف (علیہ السلام) کا ہے۔ (آیت) ” ذلک “۔ یعنی یہ اہتمام برأت ورفع تہمت۔ ای ذلک التثبیت والتشھیر لظھور البراء ۃ (کشاف) ای ذلک التثبیت (بیضاوی) (آیت) ” لیعلم “۔ ضمیر عزیر کی طرف ہے۔ لیعلم العزیز (معالم) لیعلم العزیز (کشاف۔ بیضاوی) عزیز کو یوسف کی پارسائی اور بےگناہی کا علم تو پہلے ہی ہوچکا تھا مقصود یہ ہے کہ اب یقین اور زاید ہوجائے۔ (آیت) ” انی لم اخنہ بالغیب “۔ عزیز کی خیانت اس کے غیب میں یہی تھی کہ اس کی بیوی کے ناموس کو داغدار کیا جائے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) ملک میں اس جرم کی اہمیت کو دیکھ کر اس سے اپنی تبری کا خاص اہتمام فرماتے ہیں۔ اور یہیں سے ان مفسرین کی صحت تفسیر کی ایک اور شہادت ملتی ہے جنہوں نے ان ربی احسن مثوای میں رب سے مراد عزیز ہی سے لی ہے۔ سطور ماسبق میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ مصری تہذیب و تمدن میں زنا بجائے خود کوئی اتنا بڑا جرم نہ تھا جتنا ایک شادہ شدہ عورت کا اپنے شوہر کے حقوق خصوصی میں خیانت :۔
Ayah 12:53105۔ (جیسا کہ وہ ہر نبی کے نفس کو اس آلائش سے پاک کردیتا ہی ہے) نبی برحق حضرت یوسف (علیہ السلام) کی عصمت اب سب پر روشن ہوچکی ہے۔ اور آپ (علیہ السلام) خود بھی ابھی ابھی اپنی زبان سے اس کا اظہار فرما چکے ہیں۔ ذلک لیعلم انی الخ اس کے معا بعد آپ (علیہ السلام) یہ کلیہ بیان فرماتے ہیں کہ نفس بشری توبرائیوں کی جانب رجحان رکھتا ہی ہے۔ اور خود میرا نفس بھی بذات خود اس سے مستثنی نہیں، جیسا ملکہ بدی سب انسانوں کے نفس میں ہے، میرے نفس میں بھی ہے، لیکن حکیم مطلق جسے نبی بناتا ہے اسے نفس بشری کے ساتھ ایک نفس پیغمبری بھی دے دیتا ہے، ان آلایشوں سے پاک صاف جس کا تعلق اپنے مالک ومولی سے ہر وقت جڑا رہتا ہے اور یہی ہمہ وقتی تعلق اسے ہر معصیت سے ہر اخلاقی لغزش سے روکے اور سنبھالے رہتا ہے۔ پس میں اگر معصوم رہا یا معصوم رہو تو اس میں میرا کوئی ذاتی کمال ذرا سا بھی نہیں۔ یہ تو تمام تر میرے مالک ومولی کے فضل خاصہ کا نتیجہ ہے۔ (آیت) ” ومآابریء۔۔۔ السوٓء “۔ انسان اپنے نفس کی اطاعت کرے یا نہ کرے، یہ الگ سوال ہے، نفس تو بہرحال بدی کی ترغیب دیتا اور بدی کی راہوں کی طرف لے جاتا ہی رہتا ہے تو بھلا نفس کاتبریہ کیونکر ممکن ہے۔ یعنی ان النفس کثیرۃ النزاع الی السوء فلایبری نفسہ وان کان لایطاوعھا (جصاص) (آیت) ” الا ما رحم ربی “۔ حضرات انبیاء کے مرتبہ تواضع کا کیا کہنا۔ اپنی خوبی کے حصہ کو منسوب اپنی جانب کرنے کے بجائے اسے نتیجہ تمامتر فضل خداوندی کا قرار دیا جارہا ہے۔
106۔ چناچہ شان غفر کا تقاضہ یہ ہے کہ نفس امارہ کو بھی توبہ وانابت کے بعد لوامہ بنا کر مغفرت اس پر مرتب کردیتا ہے اور شان رحیمی کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنی موہبت خاص سے انبیاء کو نفس مطمئنہ عطا کردیتا ہے۔
Ayah 12:54107۔ کہ یہ تو اپنی سیرت خاص اور کردار اعلی اور انتظامی اہلیت کے لحاظ سے سرکاری وشاہی مناصب کے لائق ہیں۔ یہ اب تک نج کی ملازمت میں کیسے پڑے رہ گئے) توریت میں ہے :۔” یہ تعبیر فرعون کی نگاہ میں اور اس کے سب نوکروں کی نظر میں اچھی معلوم ہوئی، فرعون نے اپنے نوکروں کو کہا کیا ہم ایسا جیسا یہ مرد ہے کہ جس میں خدا کی روح ہے، پاسکتے ہیں ؟ “ (پیدائش 41: 38)
108۔ (اور اس گفتگو سے بادشاہ پر آپ (علیہ السلام) کے مزید کمالات و فضائل منکشف ہوئے)
109۔ (ان اونچے اور بھروسہ کے عہدہ ومنصب کے لائق) توریت میں ہے :۔” اور فرعون نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا از بس کہ خدا نے اس سبب میں تجھے بینائی دی ہے۔ سو کوئی تجھ سا عاقل ودانشور نہیں ہے۔ تو میرے گھر کا مختار ہو اور اپنا حکم میری سب رعیت پر جاری کر۔ فقط تخت نشینی میں میں تجھ سے بزرگ تر رہوں گا۔ “ (پیدائش 41: 39۔ 40)
Ayah 12:55110۔ یعنی ایسے بڑے اور ذمہ دارانہ عہدہ کے لئے ضرورت دو چیزوں کی ہوتی ہے۔ ایک دیانت وامانت، دوسرے اس کام سے واقفیت۔ سو مجھ میں یہ دونوں وصف موجود ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کا عہدہ گویا آج کل کی اصطلاح میں وزیر مال (ریونیومنسٹر) اور وزیر خزانہ (فنانس منسٹر) کا جامع تھا۔ (آیت) ” اجعلنی علی خزآئن الارض “۔ یہ عہدہ آج کل کی اصطلاح میں ریونیومنسٹر (وزیر محاصل ومالگذاری) اور فنانس منسٹر (وزیر مال وخزانہ) کا جامع معلوم ہوتا ہے۔ فقہاء مفسرین نے لکھا ہے کہ جب مقصود نفع رسانی ہو نہ کہ نفس پروری، تو اپنے کو عہدہ ومنصب کے لئے پیش کردینا ناجائز نہیں۔ یہاں تک یہ غیر مسلم نظام حکومت کے ماتحت بھی عہدہ ومنصب قبول کرلینا مطلق صورت میں حرام نہیں۔ (آیت) ” انی حفیظ علیم “۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ کسی کو واقف کرنے کے لئے اپنے فضل و کمال کو بیان کردینا بالکل جائز ہے اور فلاتزکوا انفسکم کے تحت میں نہیں آتا۔ فوصف نفسہ بالعلم والحفظ وفی ھذا دلالۃ علی انہ جائز للانسان ان یصف نفسہ بالفضل عند من لا یعرفہ دلالۃ علی انہ جائز للانسان ان یصف نفسہ بالفضل عند من لایعرفہ وانہ لیس من المحظور من تزکیہ النفس (جصاص) دلت الایۃ علی انہ یجوز للانسان ان یصف نفسہ بما فیہ من علم وفضل (قرطبی) دلت الایۃ علی جواز ان یخطب الانسان عملا یکون لہ اھلا (قرطبی) توریت میں ہے۔ ” پھر فرعون نے یوسف (علیہ السلام) سے کہا کہ دیکھ میں نے تجھے ساری زمین مصر پر حکومت بخشی، اور فرعون نے اپنی انگشتری اپنے ہاتھ سے نکال کر یوسف (علیہ السلام) کے ہاتھ میں پہنا دی۔ تب اس کے آگے منادی کی گئی، سب ادب سے رہو اور اس نے اسے مصر کی ساری مملکت پر حاکم کیا اور یوسف (علیہ السلام) کو کہا، میں فرعون ہوں اور تیرے بغیر مصر کی ساری زمین میں کوئی انسان اپنا ہاتھ یا پاؤں نہ اٹھائے گا “۔ (پیدائش 41: 44) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آیت میں دلالت ہے کہ منصب و حکومت کی درخواست جبکہ اس میں مخلوق کا نفع ہو اور خود اپنا یہ ضرر نہ ہو کہ غیر اللہ میں مشغول ہوجائے، قادح کمال نہیں۔
Ayah 12:56111۔ (اور عملا انہی کو ملک کے سیاہ وسفید کا مالک بنادیا) (آیت) ” کذلک مکنا “۔ یعنی اس عجیب و غریب طریقہ سے، ایسے معجزانہ انداز سے۔ کہاں تو وہ کنوئیں کی گہرائیوں اور جیل کی چاردیواری کے اندر وہ بےبسی اور بےکسی تھی اور کہاں یہ اقتدار مطلق العنانی کی حد تک حاصل ہوگیا، اس وقت کی متمدن ترین سلطنت میں ! توریت میں ہے :۔ ” اور فرعون نے یوسف (علیہ السلام) کا خطاب جہاں پناہ رکھا۔۔ اور یوسف (علیہ السلام) مصر کی زمین میں پھرا۔۔ اور یوسف (علیہ السلام) فرعون کے حضور سے نکل کر مصر کی ساری زمین میں پھیرا “۔ (پیدائش 41: 44) (آیت) ” مکنا لیوسف فی الارض “۔ خوب خیال کرلیا جائے، ایک کافر بادشاہ کی بخشی ہوئی اس عزت کو قرآن مجید تمکین فی الارض سے تعبیر کرتا اور موقع مدح و احسان پر اس کا اظہار کرتا ہے۔
112۔ یعنی نیک کاروں، نیک کرداروں کا اجر ومعاوضہ تو موعود ہی ہے، باقی رحمت وفضل کا ذکر کوئی ضابطہ متعین نہیں۔ جس پر وہ چاہے بلاحق و استحقاق کردے۔
Ayah 12:57113۔ یعنی اہل ایمان وتقوی کے لیے آخرت میں جو انعام ہے، وہ دنیا کی ہر دولت ونعمت سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ دنیا کا بڑے سے بڑا اقتدار بھی نیکوکاری کا اصلی صلہ نہیں۔
Ayah 12:58114۔ یہ ذکر اس وقت کا ہے جب قحط شدید نہ صرف مصر میں پڑچکا ہے بلکہ اس کے اثرات فلسطین وغیرہ دوسرے ملکوں تک محیط ہوچکے ہیں اور یہ ذکر یوسف (علیہ السلام) کے ان دس سوتیلے بھائیوں کا ہورہا ہے، جو آپ کے سرمصیبت لائے تھے، یہ عظیم الشان اور تاریخی قحط تو مصر کے تمام ملحقہ ممالک میں تھا، فرق اتنا تھا کہ دوسری اور جگہوں میں قحط ہی قحط تھا۔ اور یہاں یوسف (علیہ السلام) کے حسن تدبیر سے قحط کا انتظام بھی تھا۔ ایسا کہ نہ صرف مصریوں کو غلہ پہنچتا رہا بلکہ باہر والوں کے ہاتھ بھی ایک نرخ مقرر پر فروخت ہوتا رہا۔۔۔ راشننگ “ اور ” کنٹرول “ کی یہ بہترین تاریخی نظیر بھی ایک پیغمبر ہی کے روئداد زندگی کا جزء ہے۔ توریت میں ہے :۔ ” اور سب زمین میں گرانی ہوئی پر ہنوز مصر کی زمین میں روٹی تھی۔ پر جب ساری زمین مصر بھوک سے ہلاک ہونے لگی تو خلق روٹی کے لیے فرعون کے لیے آگے چلائی۔۔ اور تمام روئے زمین پر کال تھا۔۔۔ اور سارے ملک مصر میں یوسف (علیہ السلام) کنے مول لینے آئے۔ کیونکہ سب ملکوں میں سخت کال تھا “۔ (پیدائش 41: 54۔ 57) ” سو یوسف (علیہ السلام) کے دس بھائی غلہ مول لینے کو مصر میں آئے “ (پیدائش 42: 3) آیت سے یہ معلوم ہوا کہ ملکی معاملات میں حسن انتظام و تدبر اعلی، کمالات نبوت کے منافی نہیں، چہ جائیکہ اسے کسی اور مقبول و برگزیدہ بندہ کے کمالات روحانی کے منافی سمجھا جائے، (آیت) ” وجآء اخوۃ یوسف “۔ یعنی برادران یوسف مصر میں غلہ لینے کے لیے آئے۔
115۔ اب حضرت یوسف (علیہ السلام) کا عالم ہی ظاہر ہے کہ دوسرا تھا۔ وہ غریب بھلا اس عالم میں آپ کو کیا پہچانتے، ان کا تو ذہن بھی ادھر نہیں جاسکتا تھا کہ جس ” ذلیل غلام “ کو وہ قافلہ والوں کے ہاتھ بیچ آئے ہیں اور کہیں اتنی بڑی سلطنت کا وزیر اعظم یا مدار المہام ہوسکتا ہے ! اور کہاں لڑکپن کے چہرہ کا نقشہ اور کہاں اب پختہ سن وسال کا چہرہ مہرہ ! توریت میں ہے :۔ ” سو یوسف (علیہ السلام) کے بھائی آئے اور اپنے کو زمین کی طرف جھکائے ہوئے اس کے حضور خم ہوئے، یوسف نے اپنے بھائیوں کو دیکھا اور انہوں پہچان گیا۔۔ یوسف (علیہ السلام) نے تو اپنے بھائیوں کو پہچانا، پر انہوں نے اسے نہ پہچانا “۔ (پیدائش 42: 7۔ 9)
Ayah 12:59116۔ یعنی اب تو تمہیں خود ہی مشاہدہ ہوگیا کہ میں ہر شخص کا حصہ دیتا رہتا ہوں۔ کسی کا حصہ کاٹتا نہیں، گیارہ آدمی آؤگے تو پورے گیارہ حصے ملیں گے، توریت میں ہے :۔ ” اور تم کال کے لیے اپنے گھر میں غلہ لے جاؤ لیکن اپنے چھوٹے بھائی کو مجھ پاس سے آئیو۔ تمہاری باتیں یوں ثابت ہوں گی اور تم نہ مرو گے “۔ (پیدائش 42: 19۔ 20) (آیت) ” ائتونی ، ، ، ابیکم “۔ ان دس بھائیوں کو جب ان کے حصہ کا پورا غلہ مل گیا تو انہوں نے عرض کیا کہ علاوہ ہمارے بوڑھے باپ کے ہمارا ایک علاتی بھائی بھی ہے، اس کا حصہ بھی عطا ہو۔ اس پر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ضابطہ کا جواب دیا کہ اس کو لاکر حاضر ہو، جب تمہارا دعوی ثابت ہو، اور جب ہی اس کا حصہ بھی ملے (آیت) ” انی اوفی الکیل “۔ یعنی فی نفر پورا پورا حساب کرکے دیتا ہوں، اسی طریقہ کو آج کی اصطلاح میں راشننگ یا راتب بندی کہتے ہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” انا خیرالمنزلین “ سے معلوم ہوا کہ اپنی خوش معاملگی کا اظہار اگر مقصود اس سے اپنی مدح نہ ہو بلکہ کوئی اور مصلحت ہو تو تواضع کے منافع نہیں۔
Ayah 12:60117۔ (کہ اس صورت میں میں تمہیں کاذب سمجھوں گا۔ اور یہی نتیجہ نکالنا ہوگا کہ تم نے مجھے دھوکا دے کر ایک زائد حصہ وصول کرنا چاہا تھا، غلہ ایک ایک کو ایک مقدار معین میں ملتا تھا اور اس میں غائبوں کا کوئی حصہ نہ تھا، ورنہ ظاہر ہے کہ ہر شخص فرضی تعداد غائبوں کی بتا کر جتنا چاہتا خود حاصل کرلیتا اور دوسروں کا حصہ کٹ جاتا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی بس یہی فرمایا کہ اپنے دعوی کا ثبوت لاحاضر کرو، ورنہ تمہارا دعوی سرے سے باطل سمجھا جائے گا۔۔ نفع اندوزی (پرافیٹرنگ) اور چور بازاری (بیلک مارکٹنگ) جس طرح آج گرانی اور کمیابی اشیاء کے زمانہ میں ایک سخت قانونی جرم ہے، عجب کیا ہے جو اس وقت کے مصری قانون میں بھی ہو۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ یوسف (علیہ السلام) کے اس طریق عمل نے ثابت کردیا کہ خشک سالی کے زمانہ میں جب ہلاکت نفوس کا اندیشہ ہونے لگے، ہمیشہ حکام کے لئے جائز ہے کہ ہر فرد کے لیے اس کی ضرورت کے مطابق راتب بندی کردی جائے۔ وفی ماقص اللہ تعالیٰ علینا من قصۃ یوسف وحفظہ للاطعمۃ فی سنی الجدب وقسمتہ علی الناس بقدرالحاجۃ دلالۃ علی ان الائمۃ فی کل عصران یفعلوا مثل ذلک اذا خافوا ھلاک الناس من القحط (جصاص)
Ayah 12:61118۔ یعنی باپ سے کہہ سن کے اس بھائی کے لانے کی کوشش اپنی والی تو ضرور ہی کرڈالیں گے۔
Ayah 12:62119۔ یعنی جب اپنے وطن پہنچ کر یہ قیمت بھی واپس شدہ پائیں گے تو اس احسان وکرم سے متاثر ہو کر پھر تو ضرور ہی آئیں گے۔ توریت میں ہے :۔ ” تب یوسف (علیہ السلام) نے حکم کیا کہ ان کے بورے غلہ سے بھریں اور ہر شخص کی نقدی اس کے بورے میں رکھ کر پھیر دیں اور انہیں سفر کی خورش بھی دے دیویں۔ ان سے یوں سلوک کیا گیا “۔ (پیدائش۔ 42: 25)
Ayah 12:63120۔ (آپ ان کو ہمارے ہمراہ کرنے میں ان کے متعلق کسی پس وپیش کو دخل نہ دیں، ہم ان کی بہ حفاظت واپسی کا پورا ذمہ لیتے ہیں) فرزندان یعقوب (علیہ السلام) نے آکر اپنے والدماجد سے عرض کیا کہ ہمیں اپنے گیارہویں بھائی کا حصہ تو ملا نہیں بلکہ آئندہ کے لیے ہمیں یہ فرمان ہوا ہے کہ ہم لوگ اگر اسے نہ لے گئے تو یہ سمجھا جائے گا کہ ہم لوگ دغا سے گیا رہواں حصہ وصول کرنا چاہتے تھے اور غلہ کا حصہ ہم میں سے کسی ایک کو بھی نہ ملے گا۔ تو اب اس کا علاج صرف یہ ہے کہ اب کی بنیامین کو بھی ہمارے ہمراہ کردیجئے۔ توریت میں ہے :۔ آخر وہ زمین کنعان میں اپنے باپ یعقوب (علیہ السلام) کے پاس پہنچے۔ اور اپنا سب حال جو ان پر گزرا تھا اس سے کہا اور بولے کہ وہ شخص جو اس ملک کا مالک ہے ہم سے سختی سے بولا اور ہمیں زمین کے جاسوس ٹھیرایا۔ ہم نے اسے کہا ہم سچے آدمی ہیں۔ ہم جاسوس نہیں ہیں۔ ہم بارہ بھائی ایک باپ کے بیٹے ہیں۔ ہم میں سے ایک نہیں ملتا۔ اور سب سے جو چھوٹا ہے، آج اپنے باپ کے پاس زمین کنعان میں ہے۔ تب اس شخص نے جو ملک کا مالک ہے، ہم کو کہا میں اب تمہیں جانچوں گا کہ سچے ہو کہ نہیں، اپنا ایک بھائی مجھ پاس چھوڑو اور اپنے گھرانے کے لیے کال کی خورش لو اور جاؤ اور اپنے چھوٹے بھائی کو میرے پاس لے آؤ۔ تب میں جانوں کا کہ تم جاسوس نہیں بلکہ سچے ہو۔ پھر میں تمہارے بھائی کو تمہارے حوالے کردوں گا۔ اور تم ملک میں سودا گری کیجیو۔ “ (پیدائش 42: 29۔ 34)
Ayah 12:64121۔ (سو میری نگہبانی اور میری شفقت سے ہوتا کیا ہے) حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم اپنی ذمہ داری اور ضمانت کس منہ سے پیش کررہے ہو ؟ تم وہی تو ہو جو یوسف کو بھی انہیں ضمانتوں اور وعدوں کے ساتھ لے گئے لیکن تم کہتے ہو کہ غلہ بغیر بنیامین کے ساتھ کیے ہوئے ملے گا نہیں تو خیر اگر لے ہی جانا ہے تو اسے اللہ کے سپرد کیا۔ حفاظت وذمہ داری بھی اسی کی سب سے بڑھی ہوئی اور شفقت و عنایت بھی اسی کی سب سے بڑھی ہوئی۔
Ayah 12:65122۔ (لیجئے ہم تو سرتاسر نفع ہی میں رہے، اپنے اندازہ اور توقع سے بڑھ بڑھ کر اور اب تو بنیامین کو ساتھ لے کر دوسرا سفر بہت ہی ضروری ہوگیا ہے) اے اعطانا الطعام ثم نرد علینا ثمن الطعام علی احسن الوجوہ فای شیء نبغی وراء ذلک (کبیر) (آیت) ” ولما۔۔ الیھم “۔ توریت میں ہے :۔ ” اور یوں ہوا کہ جب انہوں نے اپنے بورے خالی کیے تو دیکھا کہ ہر شخص کی نقدی بندھی ہوئی اس کے بورے میں تھی۔ “ (پیدائش 42: 35)
123۔ یعنی یہ غلہ جواب کی بار ہم لائے ہیں یہ کب تک چلے گا۔ تھوڑے ہی دن میں تو پھر ضرورت پڑجائے گی۔ اے ذلک مکیل قلیل لا یکفینا (کشاف) دوسرے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ ” یہ تو بڑی آسانی سے مل جانے والا غلہ ہے “۔ یعنی محض بنیامین کے ساتھ ہونے سے ایک اونٹ غلہ اور ملا جاتا ہے۔ یہ سودا تو بڑے مزہ کا ہے۔ (آیت) ” ونزداد کیل بعیر “۔ (تو آپ اسے ساتھ لے جانے کی ہمیں اجازت دے ہی دیجئے) اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ فی کس ایک ایک اونٹ بھر غلہ ملتا تھا۔
Ayah 12:66124۔ (تو البتہ مجبوری کی بات ہے) زمانہ قدیم کے سفر ہر طرح کی بدامنی اور خطرات کے شکار رہتے تھے اور پھر یہ سفر تو کنعان سے مصر تک کا اس وقت کے معیار سے بہت دور دراز کا تھا۔ (آیت) ” موثقا من اللہ “۔ قول وقرار کا قسم سے مؤکد کرنا ظاہر ہے کہ مزید احتیاط اور مضبوطی کے لیے تھا۔ (آیت) ” الا ان یحاط بکم “۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ یہ استثناء دلیل ہے شفقت پدری کی، توریت میں اس مقام پر یوں ہے :۔ ” اور ان کے باپ یعقوب (علیہ السلام) نے انہیں کہا تم نے مجھے بےاولاد کیا، یوسف نہیں ہے اور شمعون بھی نہیں، بنیامین کو بھی لے جاؤ گے، یہ سب باتیں میرے مخالف ہیں، تب روبن نے اپنے باپ سے خطاب کرکے کہا کہ اگر میں اس کو تجھ پاس نہ لاؤں تو میرے دونوں بیٹوں کو قتل کیجیو۔ اسے میرے ہاتھ میں سونپ دے کہ میں اسے پھر تجھ پاس پہنچا دوں گا “ (پیدائش 42: 36، 37)
125۔ (کہ وہی تمہارے قول وقرار کا گواہ بھی ہے اور وہی اسے پورا کرانے پر بھی قادر ہے) گویا اس ایک فقرہ میں تشریعی تاکید اور تکوینی تو کل دونوں کے پہلو آگئے۔ توریت میں ہے :” تب یہوداہ نے اپنے باپ اسرائیل کو کہا کہ اس جوان کو میرے ساتھ بھیج کہ ہم اٹھیں اور جاویں تاکہ ہم اور تو اور ہمارے بچے جیویں اور مرنہ جاویں۔ اور میں اس کا ضامن ہوتا ہوں تو میرے ہی ہاتھ سے اس کو طلب کیجیو۔ اگر میں اسے تیرے پاس نہ لاؤں اور تیرے سامنے نہ بٹھاؤں تو تو یہ گناہ ابدتک میری گردن پر رکھیو۔ “ (پیدائش 43: 8، 9)
Ayah 12:67126۔ (جب ملک مصر کے پائے تخت میں شہر پناہ سے داخل ہونا) یہ ایک تدبیر تھی حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے خیال میں مختلف مکروہات مثلا شبہ جاسوسی اور نظر بد وغیرہ سے بچنے کی، قیل نھاھم خشیۃ ان یستراب بھم لقول یوسف انتم جواسیس (بحر) (آیت) ” من ابواب متفرقۃ “۔ زمانہ قدیم میں ہر بڑے شہر کے گردا گرد شہر کے اندر داخلہ کے متعدد پھاٹک ہوتے تھے، نظر بد کا اعتقاد قدیم شریعتوں میں عام تھا۔ اس لیے اگر اس سے تحفظ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی غرض مانی جائے جب بھی کوئی مضائقہ نہیں لیکن ایک دوسرے معنی بھی ممکن ہیں، حضرت یعقوب (علیہ السلام) گویا یہ فرما رہے ہیں کہ اب مصر کے لوگ تمہیں جان پہچان گئے ہیں اور عزیز کی نظر عنایت تم پر معلوم ومعروف ہوچکی ہے۔ اب شہر پناہ کے ایک ہی دروازے سے داخل ہوگے تو تم ٹھیرے پردیسی۔ تمہاری وجاہت، تمہاری جمعیت، خواہ مخواہ اہل مصر کی نظر میں کھٹکے گی اور ان کے جذبات حسد کو حرکت میں لائے گی اس سے بہتر یہ ہے کہ تم لوگ بجائے ایک ساتھ رہنے کے الگ الگ متفرق پھاٹکوں سے داخل ہو، تو ممکن ہے لوگوں کی نظر نہ پڑے، اور تم ہدف حسد ہونے سے بچ جاؤ۔
Ayah 12:68127۔ (سو تم بھی اصل بھروسہ اسی پر رکھنا۔ اپنی تدبیروں پر نظر نہ رکھنا) (آیت) ” وما اغنی عنکم من اللہ من شیء “۔ یعنی میں کیا اور میری تدبیر ہی کیا ! کوئی تقدیر الہی تھوڑے ہی تم پر سے ٹال سکتا ہوں۔۔۔ کیا شان عبدیت ہر پیغمبر میں ہوتی ہے ! آیت سے معلوم ہوا کہ نفس تدبیر ہرگز منافی توکل نہیں، البتہ اس تدبیر پر پورا اعتماد کر بیٹھنا اور اسی کو مؤثر حقیقی سمجھنے لگنا منافی توکل ہے۔ (آیت) ” من شیء “۔ میں نفی کامل کا بیان ہے، یعنی میری تدبیریں کسی خفیف وادنی درجہ میں بھی مشیت الہی کا مقابلہ نہیں کرسکتیں۔ (آیت) ” ان الحکم الا اللہ “۔ سارے اختیارات تکوینی وتقدیری اللہ ہی کے ہاتھ میں ہیں، کسی مخلوق کو مشیت الہی میں ذرا بھی دخل نہیں۔ (آیت) ” علیہ۔۔۔ المتوکلون “۔ کلام یعقوبی کا اصل مقصد اسی مسئلہ توکل پرزور دینا معلوم ہوتا ہے۔
128۔ (کچھ اس ظاہری تدبیر سے خدانخواستہ انہیں تقدیر الہی سے معارضہ تھوڑے ہی مقصود تھا) آیت میں بڑا سبق تسکین و تسلی کا عام امتیوں کے لیے ہے۔ درجہ تدبیر وتدبیر جائز میں خدا معلوم کتنے امور ہیں جو دل میں آتے رہتے ہیں۔ ان سب کے لیے یہ بڑی سند ایک پیغمبر کے عمل سے ہاتھ آگئی۔
129۔ (اور وہ علم مرضیات الہی کا تھا، جیسا کہ ہر نبی کو ہم دیتے رہتے ہیں) حضرت یعقوب (علیہ السلام) اس علم صحیح کے ہوتے ہوئے ظاہر ہے کہ تدبیر کو مؤثر حقیقی کب سمجھ سکتے تھے۔ انہوں نے صرف درجہ تدبیر میں ایک احتیاط برتی تھی، اور ایسی احتیاطیں نامشروع نامحمود نہیں بلکہ عین مشروع ومحمود ہیں۔
130۔ (بلکہ اپنے جہل سے تدبیر کو مؤثر حقیقی سمجھنے لگتے اور معتوب ہوتے ہیں) مومن صادق اور عارف اس کے برعکس تدبیر کو بھی ایک ذریعہ تعمیل ارشاد کا بنا لیتا اور مستحق اجروثواب ہوجاتا ہے۔
Ayah 12:69131۔ (شفقت وعزت کے ساتھ) خاطر داریوں اور مہمان نوازیوں کی تفصیلات توریت میں درج ہیں۔ لیکن دوسرے بھائیوں کے شمول میں، ہمارے مفسرین نے مخصوص بنیامین کی خاطر داریوں کا ذکر کیا ہے۔ اور یہی سیاق قرآنی کے زیادہ مطابق ہے اور عقل بھی اسی کو قبول کرتی ہے۔
132۔ (کہ اب تو اللہ نے ہم بچھڑے ہوؤں کو ملادیا) ملنے کے بعد یقیناً بھائی بھائی میں خوب باتیں ہوئی ہوں گی، اور یہ تجویز یقیناً زیر بحث آئی ہوگی کہ آئندہ کے لیے ان ظالم بھائیوں سے بچ کر بنیامین کی یوسف (علیہ السلام) ہی کے پاس رہنے کے لیے کیا تدبیر اختیار کی جائے۔ اور بالآخر ایک صورت طے پاگئی جس کا ذکر ابھی بعد کی آیتوں میں آتا ہے۔ (آیت) ” قال انی انا اخوک “۔ یہ مکالمت ظاہر ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے کہیں تخلیہ میں ان سے کی ہوگی۔