11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayahs 11:121–122

وَ قُلْ لِّلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ١ؕ اِنَّا عٰمِلُوْنَۙ Open ayah 11:121 in the Quran reader

اور آپ ان لوگوں سے کہہ دیجیے جو ایمان نہیں لاتے کہ تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو، ہم بھی (اپنے طور پر) عمل کررہے ہیں

وَ انْتَظِرُوْا١ۚ اِنَّا مُنْتَظِرُوْنَ Open ayah 11:122 in the Quran reader

اور تم انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں،170۔

170۔ ظاہر ہے کہ یہ تقریر آخری موقع کی ہے جب اثرات تبلیغ سے بالکل مایوسی ہوجاتی ہے۔ (آیت) ” وانتظروا انا منتظرون “۔ انتظار سے مراد نتائج اعمال کے ظہور کا انتظار ہے۔
Ayah 11:123

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اِلَیْهِ یُرْجَعُ الْاَمْرُ كُلُّهٗ فَاعْبُدْهُ وَ تَوَكَّلْ عَلَیْهِ١ؕ وَ مَا رَبُّكَ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 11:123 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لئے ہیں چھپی ہوئی چیزیں آسمانوں اور زمین کی اور سارے امر اسی کی طرف رجوع کرتے ہیں،171۔ سو آپ اسی کی عبادت کیجیے اور اسی پر بھروسہ رکھیے اور آپ کا پروردگار اس سے بیخبر نہیں جو کچھ تم لوگ کررہے ہو،172۔

171۔ علم اور ملک بھی اسی کا کامل اور اختیار و تصرف بھی اسی کا کامل۔ (آیت) ” للہ غیب السموت والارض “۔ زمین و آسمان کی ہر چھپی ہوئی چیز اللہ ہی کے لئے بہ اعتبار علم بھی اور بہ عتبار ملک بھی۔ 172۔ کوئی فعل کسی کا جیسا اور جس درجہ کا بھی ہو اس کے علم اور قدرت کی گرفت سے باہر نہیں۔ (آیت) ” و توکل علیہ “۔ یعنی اگر تبلیغ توحید میں اذیت کا احتمال ہو تو اسے خاطر میں نہ لائیے اور یقین یہی جمائے رکھیے کہ تصرفات تکوینی سب کے سب بس اسی کے اختیار میں ہیں۔