11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 11:41

وَ قَالَ ارْكَبُوْا فِیْهَا بِسْمِ اللّٰهِ مَجْرٖؔىهَا وَ مُرْسٰىهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 11:41 in the Quran reader

اور (نوح (علیہ السلام) نے) کہا (آؤ) اس میں سوار ہوجاؤ اللہ ہی کے نام سے اس کا چلنا ہے اور اس کا ٹھیرنا،61۔ بیشک میرا پروردگار بڑا بخشنے والا ہے بڑا رحمت والا ہے

61۔ (اس لئے اس پر سوال ہو کر غرق کا اندیشہ بھی نہ کرنا) (آیت) ” قال ارکبوا “۔ ظاہر ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے اس قول کے مخاطب آپ کے عیال اور آپ کے متبعین ہیں۔ بسم اللہ “۔ سے مراد یہاں بامر اللہ یا باذن اللہ لی گئی ہے یعنی اس کا چلنا اور ٹھہرنا سب اللہ ہی کی قدرت اور حکم سے ہے۔ ای بقدرتہ اوبامرہ او باذنہ (روح) کان فی معزل من الکفار وکانہ انفرد عنھم فظن نوح (علیہ السلام) ان ذلک انما کان لانہ احب مفارقتھم (کبیر) (آیت) ” مجرھا “۔ عربی تلفظ میں ی کی آواز صرف یا معروف کی ہے چناچہ قرآن مجید کے قاری بھی ہر جگہ اسی قاعدہ کا لحاظ رکھتے ہیں۔ لیکن اس خاص موقع پر مجری کی ی کی آواز یائے مجہول کی نکلے گی اور اسے بجائے ” مجری “ کے ” مجرے “ ہی پڑھا جائے گا۔
Ayah 11:42

وَ هِیَ تَجْرِیْ بِهِمْ فِیْ مَوْجٍ كَالْجِبَالِ١۫ وَ نَادٰى نُوْحُ اِ۟بْنَهٗ وَ كَانَ فِیْ مَعْزِلٍ یّٰبُنَیَّ ارْكَبْ مَّعَنَا وَ لَا تَكُنْ مَّعَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 11:42 in the Quran reader

اور وہ (کشتی) انہیں لے کر چلنے لگی پہاڑ جیسی موجوں میں،62۔ اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے لڑکے کو پکارا اور وہ کنارے پر تھا،63۔ کہ اے میرے (پیارے) بیٹے سوار ہوجا ہمارے ساتھ، اور کافروں کے ساتھ مت رہ،64۔

62۔ اصل مقصود طوفان کی شدت کا اظہار ہے۔ المقصود منہ بیان شدۃ الھول والفزع (کبیر) یہ اور بات ہے کہ یہاں واقعی اونچی اونچی موجیں پہاڑوں پر چڑھ چڑھ گئی تھیں۔ توریت میں اس موقع پر ہے :۔ ” اور سات دن کے بعد ایسا ہوا کہ طوفان کا پانی زمین پر آیا۔ جب نوح (علیہ السلام) کی عمر چھ سو برس کی ہوئی۔ دوسرے مہینے کی سترھویں تاریخ کو اسی دن بڑے سمندر کے سب سوتے پھوٹ نکلے۔ اور آسمان کی کھڑکیاں کھل گئیں اور چالیس دن اور چالیس رات زمین پر پانی کی جھڑی لگی رہی۔ (پیدائش 7: 11۔ 12) 63۔ (سفینہ نوح واہل نوح (علیہ السلام) دونوں سے الگ جسما بھی اور عقیدۃ بھی “ ) ابنہ یہ لڑکا کافر تھا اور اس کا نام کنعان آتا ہے۔ (آیت) ” فی معزل “۔ علیحدگی اور کنارہ کشی صوری ومعنوی دونوں قسم کی مراد ہوسکتی ہیں۔ والمراد بعدہ عنھم اما جسما اومعنی (روح) عزل فیہ نفسہ عن ابیہ اوعن دینہ (بیضاوی) 64۔ (نہ معنوی واعتقادی حیثیت سے اور نہ صوری وجسمانی حیثیت سے) (آیت) ” یبنی “۔ کلمہ محبت و شفقت کا ہے۔ ونداؤہ بالتصغیر من باب التحنن والرافۃ (روح) التصغیر للشفقۃ (تھانوی) (آیت) ” یبنی ارکب معنا “۔ حضرت کا اپنے کافر بیٹے سے یہ فرمانا یقیناً اسی بنا پر ہوگا کہ آپ (علیہ السلام) کو اس کے کفر کا علم نہ تھا۔ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ شرط معیت پوری کرکے یعنی اب ایمان لاکر ہمارے ساتھ آجا۔ انما ناداہ ؔ ظنا منہ انہ مومن او ظنا منہ انہ یؤمن ان کان کافرا (بحر)
Ayah 11:43

قَالَ سَاٰوِیْۤ اِلٰى جَبَلٍ یَّعْصِمُنِیْ مِنَ الْمَآءِ١ؕ قَالَ لَا عَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ اِلَّا مَنْ رَّحِمَ١ۚ وَ حَالَ بَیْنَهُمَا الْمَوْجُ فَكَانَ مِنَ الْمُغْرَقِیْنَ Open ayah 11:43 in the Quran reader

وہ بولا میں ابھی کسی پہاڑ کی پناہ لئے لیتا ہوں وہ مجھے پانی سے بچا لے گا،65۔ (نوح (علیہ السلام) نے) کہا آج کے دن کوئی بچانے والا نہیں اللہ کے حکم (عذاب) سے البتہ وہی جس پر رحم کردے، اور دونوں کے درمیان موج حائل ہوگئی سو وہ ڈوبنے والوں میں ہوگیا،66۔

65۔ (مجھے آپ کی کشتی تک آنے کی کیا ضرورت ہے آپ میرے لیے گھبرا کیوں رہے ہیں) بدنصیب کیا جانتا تھا کہ طوفان طبعی نہیں ہے۔ قہر الہی جوش میں آیا ہوا ہے۔ بولا کہ مجھے سیلاب سے غرقابی کا اندیشہ ہے پیرنے میں مشاق ہوں ابھی پانی کا دھارا چیرتا ہوا کسی چوٹی تک پہنچ جاؤں گا اور پہاڑ تو ڈوبنے سے رہے۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اسباب مباح سے تمتع کرنا توکل کے منافی نہیں جیسے سفینہ نوح کے اندر آجانا البتہ اسباب غیر مباح کی طرف دوڑنا بالکل منافی تو کل ہے۔ مثلا کنعان کا پہاڑ کو وسیلہ نجات سمجھنا۔ 66۔ اس سبق آموز قصہ کنعان سے بائبل کے صفحات خالی ہیں۔ (آیت) ” من امر اللہ “۔ یعنی اللہ کے عذاب وقہر سے۔ ای من عذاب اللہ (معالم۔ کبیر) (آیت) ” لاعاصم۔۔۔ رحم “۔ حقیقت میں پیغمبر (علیہ السلام) اور شفیق باپ نے فرمایا کہ اے ناسمجھ یہ سیلاب وطوفان معمولی اور طبعی واقعہ نہیں قہر الہی ہے۔ اس سے پناہ دینے کی مجال کسی کو نہیں نہ پہاڑ کو نہ پہاڑ کی چوٹی کو، ہاں اللہ خود ہی جس کو بچالینا چاہے بچا لے۔ بائیبل میں اس شدت طوفان کے ذکر میں ہے :۔ ” اور پانی بڑھ گیا اور کشتی کو اوپر اٹھا دیا سوکشتی زمین پر سے اٹھ گئی اور پانی زمین پر بڑھا اور بہت زیادہ ہوا اور کشتی پانی کے اوپر بہتی رہی، اور پانی زمین پر بےنہایت بڑھ گیا اور سب اونچے پہاڑ جو آسمان کے نیچے تھے چھپ گئے پندرہ ہاتھ پانی ان کے اوپر بڑھا اور پہاڑ ڈوب گئے “۔ (پیدائش 7: 17۔ 21)
Ayah 11:44

وَ قِیْلَ یٰۤاَرْضُ ابْلَعِیْ مَآءَكِ وَ یٰسَمَآءُ اَقْلِعِیْ وَ غِیْضَ الْمَآءُ وَ قُضِیَ الْاَمْرُ وَ اسْتَوَتْ عَلَى الْجُوْدِیِّ وَ قِیْلَ بُعْدًا لِّلْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 11:44 in the Quran reader

اور ارشاد ہوا کہ اے زمین اپنا پانی نگل جا اور اے آسمان تھم جا،67۔ اور پانی گھٹ گیا اور کام پورا ہوگیا اور (کشتی) آٹھہری جودی پر اور کہہ دیا گیا کہ (اپنے اوپر) ظلم کرنے والے لوگ (رحمت سے) دور ہوگئے،68۔

67۔ (بارش اور طوفانی بارش سے) پہلے زمین اور آسمان کے مالک نے زمین کو حکم دیا تھا کہ پانی ابلنا شروع کردے اور آسمان کو کہ برسانا شروع کردے۔ بےتکان دونوں نے تعمیل کردکھائی۔ اب جب مقصد پورا ہوگیا تو زمین کو حکم ملتا ہے کہ اپنا پانی اپنے اندر جذب کرے اور آسمان کو کہ مزید بارش موقوف۔۔۔ دیر ارشاد کی تھی تعمیل میں دیر ہو ہی کیا سکتی تھی، توریت میں ہے :۔ ” اور خدا نے زمین پر ایک ہوا چلائی اور پانی ٹھہر گیا اور گہراؤ کے سوتے اور آسمان کی کھڑکیاں بند ہوئیں اور آسمان سے مینہ تھم گیا “۔ (پیدائش 8: 1۔ 2) (آیت) ” قیل “۔ یہ ارشاد اس وقت ہوا جب طوفان اپنا کام کرچکا اور منکروں کو ڈبو چکا تھا توریت میں اس طوفان کی مدت ایک جگہ چالیس دن درج ہے اور ایک جگہ 5 مہینہ چالیس دن طوفان کی باڑھ زمین پر رہی “۔ (پیدائش 7: 17) ” اور پانی کی باڑھ ڈیڑھ سو دن تک زمین پر رہی “۔ (پیدائش 7: 24) 68۔ اس آیت کی معجزانہ فصاحت وبلاغت کی داد منکرین اسلام نے بھی دی ہے۔ ابن مقفع نامی ایک ملحد طبع شخص گزرا ہے۔ اس نے یہ زعم خود قرآن کا جواب کہنا شروع کیا تھا جیسے ایک دوسرے کے جواب میں شاعر اپنا کلام پیش کرتے ہیں۔ جب اس آیت پر پہنچا تو قلم جواب سے رک گیا عاجز ہو کر بولا کہ اس کلام کا جواب بشر کی طاقت سے باہر ہے۔ (بحر) مستشرق اور لغوی لین (Lane) نے بھی اس کی داد دی ہے۔ الجودی کوہستان اراراط کی اس چوٹی کا نام ہے جو جبل وام (Vam) کے جنوب ومغرب میں واقع ہے اس جوار میں کردوں کی زبان پر آج تک یہ روایت چلی آرہی ہے کہ کشی نوح (علیہ السلام) یہیں آکر رکی تھی۔ توریت میں ذکر کسی چوٹی کا نہیں صرف سلسلہ کوہستان اراراط کا ہے۔ (پیدائش 8: 5) ملاحظہ ہوں حواشی تفسیر انگریزی۔
Ayah 11:45

وَ نَادٰى نُوْحٌ رَّبَّهٗ فَقَالَ رَبِّ اِنَّ ابْنِیْ مِنْ اَهْلِیْ وَ اِنَّ وَعْدَكَ الْحَقُّ وَ اَنْتَ اَحْكَمُ الْحٰكِمِیْنَ Open ayah 11:45 in the Quran reader

اور نوح (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار کو پکارا اور کہا اے میرے پروردگار میرا بیٹا تو میرے گھروالوں ہی میں ہے اور تیرا وعدہ (بھی بالکل) سچا اور تو تو ہر حاکم کے اوپر حاکم ہے،69۔

69۔ (تیری قدرت لاانتہاء تیرے اختیارات غیر محدود تیرے لیے کیا دشوار کہ اب بھی اسے مومن بنا کر اس کی نجات کا سامان کردے) (آیت) ” ونادی نوح ربہ “۔ یہ مناجات حضرت نوح (علیہ السلام) نے اس وقت کی جب دیکھا کہ کنعان اب ڈوبنے ہی پر ہے۔ (آیت) ” ان وعدک الحق “۔ وہ وعدہ الہی یہی کہ تمہارے گھروالوں میں سے جو کوئی بھی ایمان لے آئے گا بچا دیا جائے گا۔
Ayah 11:46

قَالَ یٰنُوْحُ اِنَّهٗ لَیْسَ مِنْ اَهْلِكَ١ۚ اِنَّهٗ عَمَلٌ غَیْرُ صَالِحٍ١ۖ٘ۗ فَلَا تَسْئَلْنِ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ اِنِّیْۤ اَعِظُكَ اَنْ تَكُوْنَ مِنَ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 11:46 in the Quran reader

(اللہ نے) فرمایا اے نوح (علیہ السلام) یہ تمہارے گھروالوں ہی میں سے نہیں،70۔ یہ ایک تباہ کار شخص ہے،71۔ سو مجھ سے ایسی چیز کی درخواست نہ کرو جس کی تمہیں خبر نہ ہو میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں کہ تم (آیندہ کہیں) نادان بن جاؤ،72۔

70۔ (ہمارے علم ازلی میں) اھل سے مراد وہی اہل ایمان گھر والے ہیں جن کے لیے نجات کا وعدہ ہوچکا تھا اور یہیں سے علماء محققین نے یہ نکالا ہے کہ شریعت میں معتبر قرابت ایمانی ہے نہ کہ قرابت نسبی۔ ای لیس منھم اصلا لان مدار الاھلیۃ ھو القرابۃ الدینیۃ (روح) ھذہ الایۃ یدل علی ان العبرۃ بقرابۃ الدین لا بقرابۃ النسب لان فی ھذہ الصورۃ کانت قرابۃ النسب حاصلۃ من اقوی الوجوہ ولکن لما انتفت قرابۃ الدین لاجرم نفاہ اللہ تعالیٰ بابلغ الالفاظ (کبیر) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ شرف نسب کے ساتھ جب تک صلاح جمع نہ ہو وہ کالعدم ہے۔ 71۔ (جو ایمان کا قصد ہی نہیں کرتا) عمل سے مراد ذو عمل لی گئی ہے۔ مداومت عمل فاسد کی بنا پر۔ واصلہ انہ ذو عمل فاسد فحذف ذوللمبالغۃ بجعلہ عین عملہ لمداومتہ علیہ (روح) ای انہ ذوعمل باطل فحذف المضاف لدلالۃ الکلام علیہ (کبیر) 72۔ (اور آئندہ پھر کبھی ایسی ہی درخواست پیش کرنے لگو) منشائے خداوندی یہ معلوم ہوتا ہے کہ اے نوح (علیہ السلام) ہمارے وعدۂ نجات جو تمہارے گھر والوں کے لیے تھا وہ (آیت) ” الامن سبق علیہ القول “۔ کے ساتھ مقید تھا اور اس کے مصداق کو عمدا مبہم وغیر متعین رکھا گیا تھا سو تمہارا یہ فرزند اسی استثناء کے تحت میں آجاتا ہے ایسے مشتبہ اشخاص کے حق میں دعا کرنے سے احتیاط مناسب تھی۔ (آیت) ” فلا تسئلن ما لیس لک بہ علم “۔ محققین نے لکھا ہے کہ جب مشتبہ الحال لوگوں کے حق میں دعا سے ممانعت آچکی ہے تو جن لوگوں کا فساد عقیدہ ظاہر ہوچکے ان کے حق میں تو اور زیادہ احتیاط واجب ہے۔ فیکون النھی واردافی مشتبھۃ الحال ویفھم منہ حال معلوم الفساد بالطریق الاولی (روح) مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ یہاں سے ہمارے زمانے کے مشائخ کی دعاؤں کا حال کھلا جاتا ہے کہ ان سے مقدمہ کی، عمدہ کی، جس چیز کی بھی دعا کرائی جاتی ہے وہ بلالحاظ حرام و حلال اس کے لیے دعا کردیتے ہیں۔
Ayah 11:47

قَالَ رَبِّ اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِكَ اَنْ اَسْئَلَكَ مَا لَیْسَ لِیْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ تَرْحَمْنِیْۤ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 11:47 in the Quran reader

(نوح علیہ السلام) بولے اسے میرے پروردگار میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں کہ میں آیندہ تجھ سے ایسی چیز کی درخواست کروں جس کی مجھے خبر نہ ہو، اور اگر تو میری مغفرت نہ کرے اور مجھ پر رحم نہ کرے تو میں نقصان اٹھانے والوں میں آجاؤں گا،73۔

73۔ حضرات انبیاء کی شان عبدیت کا کیا کہنا ! گویا ہر وقت مناجات وابتہال و استغفار کا بہانہ ہی ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ ادنی سی لغزش محض اجتہادی لغزش نفس کی خرابی سے نہیں محض فہم وتعبیر کی بناپرہوئی اور انہیں بس عرض حال کا موقع مل گیا۔
Ayah 11:48

قِیْلَ یٰنُوْحُ اهْبِطْ بِسَلٰمٍ مِّنَّا وَ بَرَكٰتٍ عَلَیْكَ وَ عَلٰۤى اُمَمٍ مِّمَّنْ مَّعَكَ١ؕ وَ اُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ یَمَسُّهُمْ مِّنَّا عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 11:48 in the Quran reader

ارشاد ہوا کہ اے نوح (علیہ السلام) اترو ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں لے کر اپنے اوپر بھی اور ان جماعتوں پر بھی جو تمہارے ساتھ ہیں،74۔ اور جماعتیں تو ایسی بھی ہوں گی کہ ہم انہیں چند روزہ عیش دیں گے پھر ان پر ہماری طرف سے عذاب دردناک ہوگا،75۔

74۔ بہ لحاظ ایمان و اعتقاد) (آیت) ” ممن معک “۔ من، ابتداء غایت کے لیے ہے۔ یعنی وہ نسل بھی جو اس وقت حضرت نوح (علیہ السلام) کے ہمراہ موجود تھی اور ان سے چلنے والی ایمانی نسلیں بھی گویا معیت ایمانی حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ اس وقت تک کے مومنین کو بھی حاصل ہے اور اس طرح سلامتی اور برکات کی بشارت میں ہر دور کے اہل ایمان شامل ہوگئے۔ المراد ممن معک نسلا وتولدا (کبیر) ومن فی قولہ ممن معک لابتداء الغایۃ والمعنی وعلی امم ناشءۃ من الذین معک (کبیر) من لابتداء الغایۃ ای ناشءۃ من الذین معک وھم الامم ال مومن ون الی اخر الدھر (بحر) (آیت) ” اھبط “۔ جہاز سے کوہ جودی پر اترنے کا حکم تو اوپر مل چکا تھا اب حکم ہورہا ہے کہ پہاڑ سے زمین پر اترو۔ الھبوط النزول قیل من الجبل الی الارض (روح) (آیت) ’ ’ قیل “۔ یہ حکم اس وقت ہورہا ہے جب طوفان پوری طرح ختم ہوچکا ہے اور زمین رہنے بسنے کے قابل ہوگئی ہے۔ (آیت) ” بسلم منا “۔ امام رازی (رح) نے کہا ہے کہ عارفین ہر نعمت کا مشاہدہ اسی حیثیت سے کرتے ہیں کہ وہ نعمت حق تعالیٰ کی جانب سے ہے۔ آیت میں منا کا اضافہ حضرت نوح (علیہ السلام) کے مرتبہ عرفان وصدیقیت کے لحاظ سے ہے۔ 75۔ (آخرت میں) ظاہر ہے کہ مراد بعد کی آنے والی کافر قومیں ہیں۔ (آیت) ” امم “۔ تقدیر کلام یوں سمجھی گئی ہے۔ وامم منھم اور مفسرین محققین نے لکھا ہے کہ آیت کے دونوں ٹکڑوں میں ایک طرف مومنین قیامت تک کے لیے، اور دوسری طرف کفار قیامت تک کے لیے شامل ہوگئے ایک کے لیے سلامتی کا وعدہ اور دوسرے کے لیے عذاب کی وعید۔ قال المفسرون دخل فی تلک السلام ۃ کل مومن وکل مومن ۃ الی یوم القیمۃ ودخل فی ذلک المتاع وفی ذلک العذاب کل کافر وکافرۃ الی یوم القیامۃ (کبیر)
Ayah 11:49

تِلْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهَاۤ اِلَیْكَ١ۚ مَا كُنْتَ تَعْلَمُهَاۤ اَنْتَ وَ لَا قَوْمُكَ مِنْ قَبْلِ هٰذَا١ۛؕ فَاصْبِرْ١ۛؕ اِنَّ الْعَاقِبَةَ لِلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 11:49 in the Quran reader

یہ (قصہ) اخبار غیب میں سے ہے ہم نے اسے وحی کے ذریعہ سے آپ تک پہنچا دیا، اس کو اس (بتانے) سے قبل نہ آپ ہی جانتے تھے اور نہ آپ کی قوم،76۔ سو صبر کیجیے یقیناً نیک انجامی پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے،77۔

76۔ یعنی واقعات نوح (علیہ السلام) کا صحیح اور مستند ومفصل علم اہل تاریخ واہل توریت کے ناقص اور غلط سلط بیانات سے قطع نظر اب آپ کو وحی الہی سے ہی یاد کرایا جارہا ہے۔ (آیت) ” من انبآء الغیب “۔ یہ غیب ظاہر ہے کہ علم بشری کے اعتبار سے ہوگا ورنہ علم الہی میں ظاہر ہے کہ غیب کے کوئی معنی ہی نہیں۔ 77۔ تو آپ اے رسول بددل وشکتہ خاطر نہ ہوں یہ ہٹ دھرم اور معاند کافر تو اب بھی آپ کو جھٹلائے جائیں گے لیکن آپ ان کی تکذیب پر صبر کیجئے اور حکایت نوح (علیہ السلام) سے تسکین حاصل کیجئے کہ جس طرح ان کے عہد میں آخری انجام مومنوں ہی کا اچھا اور کافروں کا برا ہوا، آپ کے ساتھ بھی یہی معاملہ پیش آکر رہے گا۔ (آیت) ” فاصبر “۔ میںجزا کی ہے یعنی اب جب یہ معلوم ہوچکا تو صبر لازم ہے۔ ای واذقد اوحینا ھا الیک اوعلم تھا بذلک فاصبر علی مشاق تبلیغ الرسالۃ واذیۃ قومک (روح) (آیت) ” ان العاقبۃ للمتقین “۔ آیت میں اس کی تعلیم ہے کہ آخری کامیابی و کامرانی صبر کا نتیجہ ہوتی ہے۔ فیہ تنبیہ علی ان الصبر عاقبتہ النصروالظفر والفرح والسرور کما کان لنوح (علیہ السلام) ولقومہ (کبیر)
Ayah 11:50

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُفْتَرُوْنَ Open ayah 11:50 in the Quran reader

اور (قوم) عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود (علیہ السلام) کو بھیجا،78۔ انہوں نے کہا اے میری قوم اللہ ہی کی عبادت کرو اسکے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں باقی (سب) تم محض افتراء کررہے ہو،79۔

78۔ قوم عاد اور حضرت ہود نبی پر حاشیے سورة الاعراف کے رکوع 9 میں گزر چکے۔ (آیت) ” الی عاد “۔ عرب قدیم کی قوم عاد خلیج فارس کے کنارے کنارے عراق کی سرحد تک آباد تھی اس کا اصل مسکن یمن وحضر موت کا علاقہ تھا۔ مزار نبی ہود کے نام سے علاقہ حضرموت میں قسم کے مشرق میں ایک زیارت گاہ آج تک موجود ہے۔ 79۔ یعنی اصل حقیقت تو صرف توحید ہے باقی سب تمہارے گڑھے ہوئے ڈھکوسلے ہیں۔ (آیت) ” اعبدوا للہ “۔ یعنی صرف خدائے واحد کی پرستش کرو کسی اور کو اس میں شریک نہ کرو۔ معناہ لاتعبدوا غیر اللہ (کبیر) ای وحدواللہ (معالم) امر الھم بعبادۃ اللہ وحدہ لاشریک لہ ناھیا لھم عن الاوثان التی افتروھا (ابن کثیر) اللہ کے وجود اور اس کی عبادت سے منکر تو دنیا میں شاذونادر ہی کوئی قوم ہوئی ہے ورنہ انسانیت کا اصل مرض الحاد نہیں بلکہ شرک رہا ہے لہ شریک لہ ناھیا لھم عن الاوثان التی افتروھا (ابن کثیر) اللہ کے وجود اور اس کی عبادت سے منکر تو دنیا میں شاذو نادر ہی کوئی قوم ہوئی ہے ورنہ انسانیت کا اصل مرض الحاد نہیں بلکہ شرک رہا ہے یعنی ایک خدائے اعظم کے اقرار کے ساتھ ساتھ دوسرے چھوٹے موٹے دیوی دیوتاؤں کی شرکت اور انتظامات کائنات میں ان کا دخل و تصرف۔ فخرالمفسرین امام رازی (رح) نے آیت کے تحت میں اپنی سیاحت ہند کا ذکر کیا ہے اور اپنا مشاہدہ درج کیا ہے کہ وجود باری کے منکر مشرکین ہند بھی نہ تھے۔ صرف اس کی توحید کے منکر تھے اور بت پرستی میں مبتلا۔۔ یہی بیماری پہلے بھی تھی اور یہی آج بھی ہے۔ کاش کوئی صاحب ذرا تلاش کرکے اس کا پتہ لگاتے کہ امام موصوف ہندوستان میں کب آئے تھے کہاں کہاں کی سیاحت کی تھی کل کتنے دن رہے تھے۔ وقس علی ھذا۔ یہ خدمت اگر دین کی نہیں تو ایک بڑے خادم دین کی ضرور ہوجاتی۔
Ayah 11:51

یٰقَوْمِ لَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى الَّذِیْ فَطَرَنِیْ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 11:51 in the Quran reader

اے میری قوم میں تم سے اس (تبلیغ) پر کچھ معاوضہ نہیں مانگتا میرا معاوضہ تو بس اسی کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے پھر کیا تم (اس کو) نہیں سمجھتے ؟ ،80۔

80۔ ضرور اور مناسب حاشیے سورة یونس میں گزر چکے۔
Ayah 11:52

وَ یٰقَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ یُرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا وَّ یَزِدْكُمْ قُوَّةً اِلٰى قُوَّتِكُمْ وَ لَا تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:52 in the Quran reader

اور اے میری قوم والو اپنے پروردگار سے اپنے گناہ معاف کراؤ پھر اس کی طرف متوجہ رہو،81۔ وہ تم پر خوب بارشیں برسائے گا اور تم کو (اور) قوت دے کر تمہاری قوت میں ترقی کردے گا اور مجرم ہو کر روگردانی مت کرتے رہو،82۔

81۔ یعنی استغفار تو کرو ماضی سے متعلق اور اب توبہ و رجوع اللہ کی جانب کرو مستقبل کیلئے۔ 82۔ آیت سے اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ طاعات کو راحت دنیوی میں بھی دخل ہے اور مشاہدہ بھی ہے کہ طاعت وحسن عمل کا ثمرہ کبھی کبھی برکتوں کی صورتوں میں ظاہر ہوتا رہتا ہے۔ گواصل دارا الجزاء عالم آخرت ہی ہے، روایتوں میں آتا ہے کہ قوم عاد تین سال سے خشک سالی میں مبتلا تھی۔
Ayah 11:53

قَالُوْا یٰهُوْدُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَّ مَا نَحْنُ بِتَارِكِیْۤ اٰلِهَتِنَا عَنْ قَوْلِكَ وَ مَا نَحْنُ لَكَ بِمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:53 in the Quran reader

وہ بولے اے ہود (علیہ السلام) تم ہمارے سامنے کوئی سند لے کر تو آئے نہیں اور ہم اپنے دیوتاؤں کو چھوڑ دینے والے نہیں تمہارے (محض) کہہ دینے سے اور ہم کسی طرح تم پر یقین کرنے والے نہیں،83۔

83۔ بینہ یا سند سے مراد کوئی دلیل عقلی نہیں، دلائل عقلی تو توحید پر متعدد اور شروع سے موجود تھیں ان جاہلین کی مراد اس سے ان کے فرمائشی خوارق، معجزات و عجائب سے تھی ،
Ayah 11:54

اِنْ نَّقُوْلُ اِلَّا اعْتَرٰىكَ بَعْضُ اٰلِهَتِنَا بِسُوْٓءٍ١ؕ قَالَ اِنِّیْۤ اُشْهِدُ اللّٰهَ وَ اشْهَدُوْۤا اَنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّمَّا تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 11:54 in the Quran reader

ہمارا قول تو یہ ہے کہ ہمارے کسی دیوتا ہی نے تم کو شامت میں مبتلا کر رکھا ہے،84۔ (ہود (علیہ السلام) نے) کہا میں اللہ کو گواہ کرتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ میں ان چیزوں سے بیزار ہوں جنہیں تم شریک قرار دیتے رہتے ہو

84۔ یعنی تم نے جو ہمارے فلاں دیوتا کی شان میں گستاخی کی اس نے اپنی ماریوں ماری کہ تمہیں خبطی باؤلا کردیا اور تم لگے بہکی بہکی باتیں کرنے جاہلی ذہنیت کی کتنی صحیح ترجمانی !
Ayahs 11:55–56

مِنْ دُوْنِهٖ فَكِیْدُوْنِیْ جَمِیْعًا ثُمَّ لَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 11:55 in the Quran reader

اللہ کے علاوہ تو تم سب میرے ساتھ داؤ گھات کرلو پھر مجھ کو ذرا مہلت نہ دو

اِنِّیْ تَوَكَّلْتُ عَلَى اللّٰهِ رَبِّیْ وَ رَبِّكُمْ١ؕ مَا مِنْ دَآبَّةٍ اِلَّا هُوَ اٰخِذٌۢ بِنَاصِیَتِهَا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 11:56 in the Quran reader

میں نے تو اللہ پر بھروسہ کر رکھا ہے (جو) میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی پروردگار۔ جتنے بھی جاندار ہیں سب کی پیشانی ہی پکڑے ہوئے ہے بیشک میرا پروردگار ہے صراط مستقیم پر،85۔

85۔ یعنی وہی صراط مستقیم کی جانب رہنمائی کرتا ہے اور وہ ملتا بھی صراط مستقیم پر چلنے سے ہے حضرت ہود (علیہ السلام) کی ساری تقریر توحید کے ایک مبلغ وداعی کے لیے ہمیشہ کے لیے نمونہ ہے۔ (آیت) ” الا ھو اخذ بنا صیتھا “۔ یعنی سب اس کے قبضہ قدرت میں ہیں جیسے اردو محاورہ میں کہتے ہیں کہ کوئی بے اس کے حکم کے کان نہیں ہلا سکتا۔ ای ما من حیوان الا ھو تحت قھرہ وقدرتہ ومنقاد لقضاۂ وقدرہ (کبیر) واعلم ان العرب اذا وصفوا انسانا بالذلۃ والخضوع قالوا ما ناصیۃ فلان الابیدفلان ای انہ مطیع لہ فخوطبوا فی القران بما یعرفون (کبیر)
Ayah 11:57

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ یَسْتَخْلِفُ رَبِّیْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۚ وَ لَا تَضُرُّوْنَهٗ شَیْئًا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَفِیْظٌ Open ayah 11:57 in the Quran reader

لیکن اگر تم پھرے رہے تو میں نے تمہیں وہ (پیام) پہنچا یا دیا جسے دے کر مجھے تمہاری طرف بھیجا گیا تھا اور میرا پروردگار تمہاری جگہ تمہارے سوا کسی قوم کو آباد کردے گا اور تم اس کو کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا رہے ہو، بیشک میرا پروردگار ہر شیء پر نگہبان ہے،86۔

86۔ (اس سے نہ کوئی شے مخفی ہے نہ اس کی نظر کبھی کسی معاملہ میں بھی چوک سکتی ہے) (آیت) ” فان۔۔۔ الیکم “۔ یعنی میں تو اپنی تبلیغ کے بعد بری الذمہ ہوگیا اتنی صریح ہدایتوں کے بعد بھی تم نہیں مانتے تو آگے تم جانو اور تمہارا کام۔ (آیت) ” ویستخلف ربی قوما غیرکم “۔ یعنی تم تو تباہ وہلاک کردیئے جاؤ گے باقی اللہ کو جو کام دنیا میں تم سے لینا تھا اس کے لیے وہ کسی دوسری قوم کو لا کھڑا کرے گا۔ (آیت) ” ولا تضرونہ شیئا “۔ یعنی تمہاری ان بدبختانہ حرکتوں سے اللہ تعالیٰ کو کیا ضرر۔۔۔ ضرر تو سر تا سر تمہارا اپنا ہی ہے۔
Ayah 11:58

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا هُوْدًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا١ۚ وَ نَجَّیْنٰهُمْ مِّنْ عَذَابٍ غَلِیْظٍ Open ayah 11:58 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آپہنچا ہم نے ہود (علیہ السلام) کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت سے بچا لیا،87۔ اور ہم نے انہیں ایک بہت سخت عذاب سے بچالیا

87۔ ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ (آیت) ” جآء امرنا “۔ یعنی اس قوم کی ہلاکت کا حکم آپہنچا۔ (آیت) ” نجینھم من عذاب غلیظ “۔ عذاب ہلاکت سے بچ جانے کا ذکر تو ابھی ابھی اس آیت کے اندر آچکا ہے۔ اس نجات عذاب غلیظ سے مراد آخرت کے عذاب سخت سے نجات پانا۔ فالمراد من النجاۃ الاولیھی النجاۃ من عذاب الدنیا والنجاۃ الثانیۃ من عذاب القیامۃ (کبیر)
Ayah 11:59

وَ تِلْكَ عَادٌ١ۙ۫ جَحَدُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ عَصَوْا رُسُلَهٗ وَ اتَّبَعُوْۤا اَمْرَ كُلِّ جَبَّارٍ عَنِیْدٍ Open ayah 11:59 in the Quran reader

اور یہ قوم عاد تھی انہوں نے اپنے پروردگار کی نشانیوں سے انکار کیا اور اس کے رسولوں کی نافرمانی کی اور یہ ظالموں سرکشوں کے حکم کی پیروی کرتے رہے،88۔

88۔ یعنی علاوہ شرک وبدعقیدگی کے طرح طرح کی اخلاقی لعنتوں میں بھی مبتلا رہے۔ (آیت) ” جحدوا بایت ربھم “۔ یعنی معبود حقیقی کے احکام اور اس کی توحید کے دلائل سب کی طرف سے منہ پھیرے رہے۔ کفر جحود اس انکار کو کہتے ہیں جو دل میں یقین آجانے کے بعد محض ضد وعناد سے کیا جائے۔ الجحود نفی ما فی القلب اثباتہ و اثبات مافی القلب نفیہ (راغب) (آیت) ” عصوا رسلہ “۔ رسل کے صیغہ جمع سے معلوم ہوتا ہے کہ یا تو علاوہ حضرت ہود (علیہ السلام) کے اور بھی کوئی رسول مستقلا یا بہ طور آپ (علیہ السلام) کے نائب کے ہوں گے اور یا پھر اس حقیقت کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ کسی ایک رسول کا انکار سلسلہ انبیاء سے انکار ہے۔
Ayah 11:60

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ عَادًا كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّعَادٍ قَوْمِ هُوْدٍ۠ Open ayah 11:60 in the Quran reader

اور اس دنیا میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگ گئی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) خوب سن لو کہ قوم عاد نے اپنے پروردگار سے کفر کیا، خوب سن لو کہ ہود (علیہ السلام) کی قوم عاد کو دوری (نصیب) ہوئی،89۔

89۔ (دونوں جہانوں میں اللہ کی رحمت سے) (آیت) ” فی ھذہ الدنیا لعنۃ “۔ دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگ گئی یعنی ان پر ہلاکت کا عذاب نازل ہوا۔ یہ مراد بھی ہوسکتی ہے کہ اس دنیا کی مادی زندگی بھی ان پر طرح طرح کی مصیبتوں سے تنگ کردی گئی جیسا کہ آج بھی تمام نافرمان قوموں سے متعلق مشاہدہ ہورہا ہے۔ (آیت) ” یوم القیمۃ “۔ آخرت میں لعنت سے مراد اسی عذاب دائمی میں گرفتار ہوجانا ہے۔
Ayah 11:61

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ هُوَ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَ اسْتَعْمَرَكُمْ فِیْهَا فَاسْتَغْفِرُوْهُ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ Open ayah 11:61 in the Quran reader

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو (ہم نے بھیجا) وہ بولے اے میری قوم اللہ ہی کی عبادت کرو اس کے سوا کوئی بھی تمہارا معبود نہیں،90۔ اسی نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور تمہیں اس زمین میں آباد کردیا،91۔ سو تم اسی سے گناہ معاف کراؤ اور اسی سے گناہ معاف کراؤ اور اسی کی طرف توجہ کرو بیشک میرا پروردگار قریب ہے اور قبول کرنے والا،92۔

90۔ ہر نبی کی تعلیم ہر دور میں اسی خالص توحید کی رہی ہے۔ (آیت) ” من الہ “۔ من جب نفی کے ساتھ آتا ہے تو نفی کو اور مؤکد ومکمل بنا دیتا ہے یعنی کوئی بھی نہیں۔ ثمود اور صالح پر حاشیے سورة اعراف میں گزر چکے نیز ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حاشیے۔ جس طرح قوم عاد عرب کے جنوبی مشرقی علاقہ یعنی اطراف یمن و عراق عرب میں آباد تھی، اسی طرح قوم ثمود کا تسلط عرب کے شمالی ومغربی علاقہ وادی القری میں تھا اور نبی ہود (علیہ السلام) کی طرح نبی صالح (علیہ السلام) کا مزار بھی آج تک موجود ہے وادی سیر میں۔ (آیت) ” اخاھم “۔ اخ سے مراد وطنی اور نسبی بھائی ہیں۔ 91۔ یعنی پیدا بھی اسی نے کیا اور زندہ وقائم بھی وہی رکھے ہوئے ہے عجب نہیں جو قوم ثمود بھی ہندی مشرکوں کی طرح ایجاد اور ابقاء کے الگ الگ خداؤں (برہما اور وشنو) کی قائل تھی۔ (آیت) ” انشاکم من الارض “ زمین سے پیدا کیا، یعنی زمینی مادہ سے پیدا کیا۔ نسبھم الی الارض لان اصلھم وھو ادم خلق من تراب الارض (جصاص) (آیت) ” واستعمرکم فیھا “۔ بعض فقہاء مفسرین نے یہیں سے اپنی دقت نظر سے زمین کی آباد کاری کا وجوب نکالا ہے خواہ یہ آبادی زراعت کی شکل میں ہو یا باغات کی یا تعمیرات کی۔ وفیہ الدلالۃ علی وجوب العمارۃ للزراعۃ والغر اس والابنیۃ (جصاص) 92۔ (اس عرض ومعروض کا جو اس سے استغفار کے لیے کی جائے) (آیت) ” توبوا الیہ “ یعنی اس کی طرف طاعت و عبادت کے ساتھ توجہ کرو، (آیت) ” فاستغفروہ “۔ میں اشارہ ماضی کی طرف ہے اور توبوا الیہ میں آئندہ کی اصلاح کی جانب۔ (آیت) ” قریب مجیب “۔ یعنی جو اس کی طرف توجہ کرے تو خدائے اسلام اس سے دور اور اجنبی وبیگانہ نہیں اس کے قریب ہی ہے اور کوئی درخواست معافی اور ندامت اس کے سامنے نامسموع نہ رہے گی اور ہر عرض کرنے والے کی سننے والا اور قبول کرنے والا بھی ہے۔
Ayah 11:62

قَالُوْا یٰصٰلِحُ قَدْ كُنْتَ فِیْنَا مَرْجُوًّا قَبْلَ هٰذَاۤ اَتَنْهٰىنَاۤ اَنْ نَّعْبُدَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا وَ اِنَّنَا لَفِیْ شَكٍّ مِّمَّا تَدْعُوْنَاۤ اِلَیْهِ مُرِیْبٍ Open ayah 11:62 in the Quran reader

وہ بولے اے صالح (علیہ السلام) تم تو اس کے قبل ہم میں (بڑے) ہونہار تھے (تو) کیا تم ہمیں (اس سے) منع کرتے ہو کہ ہم ان کی عبادت کریں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے اور ہم تو اس کی طرف سے بڑے شک میں ہیں تردد میں پڑے ہوئے جس کی طرف تم ہمیں بلا رہے ہو،93۔

93۔ یعنی تم جو ہمارے اور اپنے آباواجداد کے طریقوں کے خلاف یہ نئی تعلیم دے رہے ہو سو یہ تو ہمارے دل میں اترتی نہیں، اور نہ ہمارا دماغ اسے قبول کرنے پر آمادہ ہے۔ (آیت) ” قدکنت فینا مرجوا قبل ھذا “۔ یعنی ہمیں تو تم سے بڑی بڑی امیدی تھیں اور ہم سمجھتے تھے کہ تم فخر قوم ونازش وطن ثابت ہوگے اب یہ تم نئی اور انوکھی باتیں کیسی کرنے لگے ؟ ہر پیغمبر میں دیانت وصداقت ذہن وذکاء عقل وفہم حلم ورشد کے آثار شروع ہی سے نمایاں ہوتے ہیں۔ (آیت) ” اتنھنآ ان نعبدما یعبد ابآؤنا “۔ سوال بہ طور استفہام انکاری اور استعجاب کے ہے، قوم حیرت کے ساتھ کہہ رہی ہے کہ کیا تم ایسا غضب کررہے ہو کہ ہمیں اپنے اور ہمارے آبائی دین سے روک رہے ہو شرک میں ڈوبے ہوئے بڑے بڑے ” عقلاء “ کو آج بھی صدائے توحید ایسی ہی عجیب اور نامانوس نظر آتی ہے !
Ayah 11:63

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ اٰتٰىنِیْ مِنْهُ رَحْمَةً فَمَنْ یَّنْصُرُنِیْ مِنَ اللّٰهِ اِنْ عَصَیْتُهٗ١۫ فَمَا تَزِیْدُوْنَنِیْ غَیْرَ تَخْسِیْرٍ Open ayah 11:63 in the Quran reader

(صالح (علیہ السلام) نے) کہا اے میری قوم والوبھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر میں اپنے پروردگار کی جانب سے دلیل پر ہوں اور اس نے مجھے اپنی طرف سے رحمت (خاص) عطا کی ہو،94۔ سو (یہ تو بتاؤ) مجھے کون بچا لے گا اللہ سے اگر میں اس کی نافرمانی کروں، سو تم تو سراسر میرا نقصان ہی کررہے ہو،95۔

94۔ (اور دعوت توحید پر مجھے مامور کیا ہو) (آیت) ” رحمۃ “۔ سے مراد نبوت لی گئی ہے۔ ای نبوۃ (بیضاوی) نبوۃ و حکمۃ (معالم) (آیت) ” ان کنت علی بینۃ من ربی “۔ یعنی مجھ پر توحید کی حقیقت روشن ہوچکی ہو۔ 95۔ (یہ فرمائش کرکے کہ میں دعوت توحید ترک کردوں) (آیت) ” ان عصیتہ “۔ یعنی تمہاری حسب فرمائش میں دعوت توحید میں تساہل وتغافل سے کام لینے لگوں۔
Ayah 11:64

وَ یٰقَوْمِ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ قَرِیْبٌ Open ayah 11:64 in the Quran reader

اور اے میری قوم یہ اونٹنی اللہ کی ہے، اور تمہارے حق میں ایک نشان، سو اسے چھوڑے رہو کہ اللہ کی زمین پر چرتی کھاتی پھرے اور اس کو برائی کے ساتھ ہاتھ نہ لگانا ورنہ تم کو قریبی عذاب آپکڑے گا،96۔

96۔ یعنی ایسا عذاب جس کے آنے میں دیر نہ لگے گی اور جو تم کو یہیں اسی مادی دنیا میں محسوس ہوجائے گا۔ (آیت) ” ناقۃ اللہ “۔ اضافت تعظیم کے لیے ہے جیسے بیت اللہ، کعبۃ اللہ وغیرہ میں۔ ، الاضافۃ للتشریف (روح) اس اونٹنی اور اس کے متعلقات پر حاشیے سورة اعراف میں گزر چکے ،
Ayah 11:65

فَعَقَرُوْهَا فَقَالَ تَمَتَّعُوْا فِیْ دَارِكُمْ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ١ؕ ذٰلِكَ وَعْدٌ غَیْرُ مَكْذُوْبٍ Open ayah 11:65 in the Quran reader

پھر (ان لوگوں نے) اس کو مار ڈالا تب (صالح (علیہ السلام) نے) کہا تم اپنے گھروں میں تین دن اور بسر کرلو یہ ایسا وعدہ ہے جس میں ذرا جھوٹ نہیں،97۔

97۔ (اس لیے کہ خدائی وعدہ ہے) (آیت) ” تمتعوا فی دارکم ثلثۃ ایام “۔ اس تین دن کے بعد پھر تو عذاب آنا ہی ہے۔
Ayah 11:66

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا صٰلِحًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ مِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ Open ayah 11:66 in the Quran reader

پھر جب ہمارا حکم آپہنچا تو ہم نے صالح (علیہ السلام) کو اور ان کو جو ان کے ساتھ ایمان لے آئے اپنی رحمت سے بچا لیا اور اس دن کی رسوائی سے بھی بیشک تیرا پروردگار ہی بڑا قوت والا ہے بڑا غلبہ والا ہے،98۔

98۔ وہ جس کو چاہے مبتلائے عذاب بھی کرسکتا ہے اور جسے چاہے بچا بھی سکتا ہے وہ ہر صورت پر یکساں قادر ہے۔ (آیت) ” من خزی یومئذ “۔ یعنی ایک نجات تو عذاب ہلاکت سے دی دوسری نجات ذلت ورسوائی سے۔
Ayah 11:67

وَ اَخَذَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:67 in the Quran reader

اور جو ظالم لوگ تھے انہیں ایک چیخ نے آپکڑا سو وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے،99۔

99۔ (اور اسی حال میں سب کے سب فنا ہوگئے) (آیت) ” الصیحۃ “۔ یہاں صیحۃ وارد ہوا ہے جس کے معنی چیخ چنگھاڑیا بلند آواز کے ہیں اور سورة اعراف میں اس موقع کے لئے رجفہ آیا ہے جس کے معنی زلزلہ کے ہیں لیکن زلزلہ اور بلند آواز کے درمیان منافات ذرا بھی نہیں جس کے لیے ضرورت تطبیق کی پڑے بلکہ تیز زلزلہ اور سخت گھڑ گھڑاہٹ کا ساتھ تو مشاہدہ میں عموما آچکا ہے۔
Ayah 11:68

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَاۤ اِنَّ ثَمُوْدَاۡ كَفَرُوْا رَبَّهُمْ١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّثَمُوْدَ۠ Open ayah 11:68 in the Quran reader

گویا ان (گھروں) میں کبھی بسے ہی نہ تھے، خوب سن لو کہ قوم ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا، خوب سن لو کہ قوم ثمود کو دوری ہوگئی،100۔

100۔ (اپنے پروردگار کی رحمت سے) (آیت) ” الا ان ثمودا کفروا ربھم “۔ اس نے خوب واضح کردیا کہ قوم ثمود پر ہلاکت ناگہانی کا جو عذاب آیا وہ کفر ہی کی بنا پر آیا۔
Ayah 11:69

وَ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ بِالْبُشْرٰى قَالُوْا سَلٰمًا١ؕ قَالَ سَلٰمٌ فَمَا لَبِثَ اَنْ جَآءَ بِعِجْلٍ حَنِیْذٍ Open ayah 11:69 in the Quran reader

اور بالیقین ہمارے فرستادے ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس خوشخبری لے کر آئے،101۔ (اور) بولے (آپ پر) سلام ہو (ابراہیم (علیہ السلام) نے) کہا (تم پر) سلام پھر دیر نہیں لگائی کہ ایک تلاہوا بچھڑا لے آئے،102۔

101۔ (آپ (علیہ السلام) کے صاحبزادے اسحاق کے تولد کی) (آیت) ” رسلنا “۔ یعنی فرشتے بشر کی شکل میں۔ توریت میں یہ تفصیل مزید درج ہے کہ یہ آنے والے تعداد میں تین تھے :۔ ” اور وہ دن کو گرمی کے وقت اپنے خیمہ کے دروازہ پر بیٹھا تھا اور اس نے اپنی آنکھیں اٹھا کر نظر کیا اور کیا دیکھا کہ تین مرد اس کے پاس کھڑے ہیں “۔ (پیدائش 18: 1۔ 2) 102۔ جگمگاتے ہوئے ہوٹلوں کے دور سے بہت ہی پہلے اور سراؤں کے دور سے بھی بہت پہلے مسافروں، راہگیروں، نوواردوں کی خاطر ومدارات اور مہمان نوازی اس وقت کا عام دستور اور دلیل شرافت تھا اور پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ایک تو شیخ القبیلہ اور پھر ذاتی حیثیت سے شریف ترین انسان ! آپ کی مہمان نوازیاں تاریخ کا ایک مسلم واقعہ ہیں۔ اللہ کے فرشتے بشری قالب میں تھے آپ انہیں معمولی مسافر سمجھ کر فورا ان کی خاطر داری میں لگ گئے، توریت میں اس ضیافت ومہمانی کی مزید تفصیلات درج ہیں :۔ ” اور ابراہام خیمہ میں سرہ کے پاس دوڑا گیا اور کہا کہ تین پیمانہ آٹا لے کے جلد گوندھ کے پھلکے پکا اور ابراہام گلے کی طرف دوڑا اور ایک موٹا تازہ بچھڑا لا کر ایک جوان کو دیا اور اس نے جلد اسے تیار کیا۔ پھر اس نے گھی اور دودھ اور اس بچھڑے کو جو اس نے پکوایا تھا لے کے ان کے سامنے رکھا اور آپ ان کے پاس درخت کے نیچے کھڑا رہا اور انہوں نے کھایا۔”(پیدائش 18: 7۔ 8) اس حکایت قرآنی سے یہ بھی نکل آیا کہ پیغمبر برحق کے لیے (معاذ اللہ) عالم الغیب ہونا تو الگ رہا صاحب کشف ہونا بھی ضروری نہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پیغمبر بلکہ بہت سے پیغمبروں کے سردار ہوئے ہیں لیکن اتنا بھی آپ (علیہ السلام) شناخت نہ کرسکے کہ یہ نوارد انسان ہیں یا فرشتے۔ (آیت) ” قالوا سلما “۔ قال سلم “۔ فقہاء مفسرین نے اس سے یہ نکالا ہے کہ سلام فرشتوں کا طریقہ ہے اور اہل اسلام میں بھی ہر دور میں رائج وشائع رہا ہے۔ فیہ الدلالۃ علی ان السلام قد کان تحیۃ اھل الاسلام وانہ تحیۃ الملئکۃ (جصاص)
Ayah 11:70

فَلَمَّا رَاٰۤ اَیْدِیَهُمْ لَا تَصِلُ اِلَیْهِ نَكِرَهُمْ وَ اَوْجَسَ مِنْهُمْ خِیْفَةً١ؕ قَالُوْا لَا تَخَفْ اِنَّاۤ اُرْسِلْنَاۤ اِلٰى قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:70 in the Quran reader

پھر جب (ابراہیم علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس (کھانے) کی طرف نہیں بڑھ رہے ہیں تو ان سے متوحش ہوئے اور ان سے دل میں خوفزدہ ہوئے،103۔ وہ بولے کہ ڈرئیے نہیں ہم تو قوم لوط (علیہ السلام) کی طرف بھیجے گئے ہیں،104۔

103۔ (کہ یہ کوئی مفسد دشمن یا کوئی ڈاکو تو نہیں ہیں) وقت کا دستور یہ تھا کہ جو دشمن یا کوئی ڈاکو کسی کو اپنا ہدف بنانا چاہتے تھے اس کے ہاں کھانے سے پرہیز کرتے تھے اور جس کے ہاں کھالیتے پھر اس کو نہ ستاتے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قدرۃ ایسے موقع پر یہی خیال گزرا اور ان سے خوف وہراس بھی طبعی طور پر پیدا ہوا۔ خوف وہراس امور طبعی ہیں (جس طرح بھوک اور پیاس) اور مرتبہ ولایت کیا معنی مرتبہ رسالت کے بھی ذرہ بھر منافی نہیں۔ (آیت) ” ایدیھم لاتصل الیہ “۔ توریت موجودہ میں یہ فقرہ کہ ” انہوں نے کھایا “ قطعا ایک ایجاد بندہ ہے اور قرآن مجید کو اسی بیان کی تردید کے لیے یہ صراحت کرنی پڑی۔ 104۔ (ایک خاص مقصد کے لیے اور ہم انسان نہیں فرشتے ہیں) مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا کہ آپ کا ان کو فرشتہ یقین کرلینا صرف ان کے دعوی پر نہ تھا بلکہ قوت مدرکہ قدسیہ کے ذریعہ سے متوجہ ہو کر یقین کیا جس سے اولا توجہ نہ فرمائی تھی جیسا بعض اوقات محسوسات میں بھی یہ قصہ پیش آتا ہے۔
Ayah 11:71

وَ امْرَاَتُهٗ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنٰهَا بِاِسْحٰقَ١ۙ وَ مِنْ وَّرَآءِ اِسْحٰقَ یَعْقُوْبَ Open ayah 11:71 in the Quran reader

اور ان کی بیوی کھڑی تھیں پس وہ ہنسیں،105۔ پھر ہم نے انہیں بشارت دی اسحاق (علیہ السلام) کی اور اسحاق (علیہ السلام) کے آگے، یعقوب (علیہ السلام) کی،106۔

105۔ خوشگوار حیرت کے وقت ہنسی کا آجانا بالکل امر طبعی ہے اور خوشگوار حیرت کا موقع اس سے بڑھ کر کیا ہوگا کہ گھر کے اندر جن آنے والوں کو انسان اور وہ بھی دشمن سمجھا جارہا تھا وہ دوست اور دوست بھی کیسے اللہ کے فرشتے نکلے۔ (آیت) ” امراتہ “۔ مراد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کہ زوجہ اولی حضرت سارہ ؓ ہیں۔ مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا کہ ظاہرا حضرت سارہ ؓ پہلے اس جگہ نہ تھیں شاید پردہ میں ہوں پھر جب معلوم ہوگیا کہ فرشتے ہیں ان سے کیا پردہ سامنے چلی آئیں۔ جیسا کہ ایک دوسری جگہ قرآن ہی کے لفظ (آیت) ” فاقبلت “۔ سے معلوم ہوتا ہے۔ 106۔ (بہ طور پوتے کے) اس میں ضمنا یہ بات بھی آگئی کہ اسحاق زندہ رہیں گے اور صاحب اولاد ہوں گے۔ توریت میں ہے :۔ ” پھر خداوند نے ابراہام سے کہا کہ سرہ کیوں ہنس کر بولی کہ کیا میں جو ایسی بوڑھیا ہوگئی ہوں سچ مج چنوں گی کیا خداوند کے نزدیک کوئی بات مشکل ہے۔ (پیدائش 18: 13۔ 14)
Ayah 11:72

قَالَتْ یٰوَیْلَتٰۤى ءَاَلِدُ وَ اَنَا عَجُوْزٌ وَّ هٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا١ؕ اِنَّ هٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیْبٌ Open ayah 11:72 in the Quran reader

بولیں ہائے خاک پڑے کیا (اب) میں بچہ جنوں درآنحالیکہ میں بوڑھی ہوچکی اور یہ میرے میاں (بھی بالکل) بوڑھے یہ تو بڑی ہی عجیب بات ہے،107۔

107۔ (بہ اعتبار اسباب ظاہر کے) حضرت سارہ ؓ کا یہ خوشخبری سن کر اسباب ظاہری ومادی کے لحاظ سے اس پر تعجب کرنا بالکل قدرتی تھا۔ وھو استعجاب من حیث العادۃ دون القدرۃ (بیضاوی) اور یہیں سے ہمارے محققین نے کہا ہے کہ کسی واقعہ پر اسباب ظاہر کے لحاظ سے تعجب کرنا مسبب الاسباب پر یقین کامل رکھنے کے منافی نہیں، توریت میں اس موقع پر ہے :۔ ابراہام اور سرہ بوڑھے اور بہت دن کے تھے اور سرہ سے عورتوں کی معمولی، عادت موقوف ہوگئی تھی تب سرہ نے اپنے دل میں ہنس کر کہا کہ بعد اس کے کہ میں ضعیف ہوگئی اور میرا خاوند بھی بوڑھا ہوا کیا مجھ کو خوشی ہوگی ؟ “ (پیدائش 18: 11۔ 12) (آیت) ” یویلتی “۔ عربی میں یہ اظہارحیرت وتعجب کے موقع پر بولتے ہیں۔ تقولھا العرب عند التعجب من الشیء (ابن جریر) اردو میں یہ ترجمہ یہاں کی زنانہ بول چال کے مطابق مفسر تھانوی (رح) کا کیا ہوا۔
Ayah 11:73

قَالُوْۤا اَتَعْجَبِیْنَ مِنْ اَمْرِ اللّٰهِ رَحْمَتُ اللّٰهِ وَ بَرَكٰتُهٗ عَلَیْكُمْ اَهْلَ الْبَیْتِ١ؕ اِنَّهٗ حَمِیْدٌ مَّجِیْدٌ Open ayah 11:73 in the Quran reader

وہ بولے ارے تم تعجب کرتی ہو اللہ کے کام میں،108۔ اے خاندان والو تم پرتو اللہ کی (خاص) رحمت اور اس کی برکتیں (نازل ہوتی رہتی) ہیں بیشک وہ تعریف کے لائق اور بڑا شان والا ہے،109۔

108۔ (حالانکہ پیغمبر کے گھر میں رہ کر خوارق اور قدرت الہی کے عجائب تمہاری نظر سے برابر گزرتے ہی رہتے ہیں) زوج پیغمبر حضرت سارہ ؓ کے اس اظہار حیرت پر اب خود فرشتے اظہار حیرت کررہے ہیں۔ محققین نے اس مکالمہ سے یہ نہیں نکالا ہے کہ ملائکہ کی گفتگو غیر نبی کے ساتھ ناممکن نہیں۔ 109۔ (کہ اس کے نزدیک کوئی بڑا سا بڑا کام بھی مشکل نہیں اور اسی کی ذات ہر تحمید ہر تمجید کی مستحق ہے۔ (آیت) ” اھل البیت “۔ اس آیت نے اسے صاف کردیا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کے زوج پر ” اہل بیت “ کا اطلاق تو بہرحال ہوتا ہے بلکہ بیت نبوی کو مفہوم اول تو ازواج نبی ہی ہوتے ہیں۔ یدل علی ان ازواج النبی ﷺ من اھل بیتہ (جصاص)
Ayah 11:74

فَلَمَّا ذَهَبَ عَنْ اِبْرٰهِیْمَ الرَّوْعُ وَ جَآءَتْهُ الْبُشْرٰى یُجَادِلُنَا فِیْ قَوْمِ لُوْطٍؕ Open ayah 11:74 in the Quran reader

پھر جب ابراہیم (علیہ السلام) سے خوف زائل ہوگیا اور ان کی خوشخبری مل گئی تو وہ لگے ہم سے قوم لوط (علیہ السلام) کے باب میں بحث کرنے،110۔

110۔ یعنی قوم لوط (علیہ السلام) کی سفارش میں اصرار بلیغ کرنے۔ اس کی ضروری تفصیلات سورة عنکبوت میں انشاء اللہ ملیں گی۔ (آیت) ” فلما۔۔۔ البشری “۔ جب آپ کو اطمینان ہوگیا کہ آئے ہوئے مہمان انسان نہیں فرشتہ ہیں، اور آپ کا قلب فرزند کی بشارت سے مزید مسرت حاصل کرچکا۔ آیت سے یہ سبق بھی ملا کہ پیغمبر بھی اپنی طبعی زندگی میں بشری قوانین ہی کا پابند ہوتا ہے۔ توریت میں اس مقام پر ایک خاصہ طویل مکالمہ نقل ہوا ہے۔ (پیدائش 18: 23۔ 33)
Ayah 11:75

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَحَلِیْمٌ اَوَّاهٌ مُّنِیْبٌ Open ayah 11:75 in the Quran reader

بیشک ابراہیم (علیہ السلام) بڑے حلیم بڑے درد مند بڑے نرم دل تھے،111۔

111۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی نرم دلی اور حلیم المزاجی پر حاشیے پہلے گزر چکے نیز ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔
Ayah 11:76

یٰۤاِبْرٰهِیْمُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا١ۚ اِنَّهٗ قَدْ جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ۚ وَ اِنَّهُمْ اٰتِیْهِمْ عَذَابٌ غَیْرُ مَرْدُوْدٍ Open ayah 11:76 in the Quran reader

اے ابراہیم (علیہ السلام) اسے جانے دو قطعا تمہارے پروردگار کا حکم آچکا ہے اور ان پر ضرور ایک نہ ہٹنے والا عذاب آنے والا ہے،112۔

،112۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعاء وسفارش پر ارشاد ہوا کہ اپنی درخواست پر اصرار نہ کرو یہ لوگ ایمان لانے والے اور سدھرنے والے ہیں ہی نہیں۔ آیت سے صاف معلوم ہوگیا کہ مقبول سے مقبول بندہ کی بھی ہر دعا یا سفارش کا قبول ہوجانا لازمی نہیں۔ بندہ کی نگاہ بہرحال محدود ہی ہوتی ہے حکمت کاملہ کا احاطہ کہاں کرسکتی ہے۔
Ayah 11:77

وَ لَمَّا جَآءَتْ رُسُلُنَا لُوْطًا سِیْٓءَ بِهِمْ وَ ضَاقَ بِهِمْ ذَرْعًا وَّ قَالَ هٰذَا یَوْمٌ عَصِیْبٌ Open ayah 11:77 in the Quran reader

اور جب ہمارے فرستادے لوط (علیہ السلام) کے پاس سے پہنچے تو لوط (علیہ السلام) ان کی وجہ سے کڑھے اور ان کی وجہ سے بہت تنگدل ہوئے اور بولے یہ آج کا دن بہت بھاری ہے،113۔

113۔ (دیکھا چاہیے جو عزت وآبرو سے گزر جائے) (آیت) ” لما جآءت رسلنا “۔ یعنی جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے کمسن اور خوبرو لڑکوں کی شکل میں لوط (علیہ السلام) کے شہر سدوم میں (جوملک شام میں بحرمردہ کے عین ساحل پر واقع تھا) پہنچے۔ لوط حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے اور خود بھی پیغمبر تھے آپ پر حاشیہ سورة اعراف میں گزر چکا۔ قوم لوط (علیہ السلام) کی غیر طبعی اور خلاف وضع فطرت شہوانیت آج ضرب المثل کے درجہ تک پہنچ گئی ہے اور کسی مزید صراحت کی ضرورت نہیں۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کو قدرۃ اپنے مہمانوں سے متعلق یہی اندیشہ پیدا ہوا کہ ان بیچاروں کی کیسی بےعزتی ان نابکاروں کے ہاتھ ہوگئی۔ (آیت) ” ضاق بھم ذرعا “۔ عربی محاورہ میں اس موقع پر بولتے ہیں جیسے ہمارے ہاں کہتے ہیں کہ اس کا آنا جی کو کھل گیا۔ وضاقت نفسہ غما (ابن جریر)
Ayah 11:78

وَ جَآءَهٗ قَوْمُهٗ یُهْرَعُوْنَ اِلَیْهِ١ؕ وَ مِنْ قَبْلُ كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ هٰۤؤُلَآءِ بَنَاتِیْ هُنَّ اَطْهَرُ لَكُمْ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ لَا تُخْزُوْنِ فِیْ ضَیْفِیْ١ؕ اَلَیْسَ مِنْكُمْ رَجُلٌ رَّشِیْدٌ Open ayah 11:78 in the Quran reader

اور ان کے پاس ان کی قوم (کے لوگ) دوڑے ہوئے آئے،114۔ اور وہ پہلے ہی سے بدکاریاں کیا کرتے تھے،115۔ (لوط علیہ السلام) بولے اے میری قوم یہ میری بیٹیاں (بھی تو موجود) ہیں یہ تمہارے حق میں پاکیزہ ہیں سو اللہ سے ڈرو اور مجھے میرے مہمانوں میں رسوا نہ کرو کیا تم میں کوئی بھی بھلا آدمی نہیں،116۔

114۔ (اپنے اس ارادۂ بد کے ساتھ حسب معمول) (آیت) ” قومہ “۔ سے مراد ساری کی ساری قوم نہیں بلکہ مراد ہیں ان کی قوم کے کچھ لوگ۔ 115۔ قوم لوط (علیہ السلام) والے علاوہ اس مخصوص فسق کے اور بھی طرح طرح کی شناعتوں میں مبتلا تھے اور اجنبیوں اور پردیسیوں کے ساتھ تو ان کی بدسلوکی خاص طور پر بڑھی ہوئی تھی، ملاحظہ ہوں انگریزی تفسیر القرآن کے حواشی۔ 116۔ (آیت) ” بناتی “۔ کے لفظ پر بڑی بحث ہوئی ہے لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد حضرت لوط (علیہ السلام) کی صلبی بیٹیاں تو ہو ہی نہیں سکتیں وہ تو کل دوتھیں اور یہاں مجمع کا مجمع نشہ فسق میں مست تھا۔ مراد امت کی عورتیں ہیں امت کی عورتیں پیغمبر کے لیے بہ منزلہ بیٹیوں ہی کے ہوتی ہیں۔ آپ نے اپنے دروازہ پر مجمع فساق دیکھ کر فرمایا کہ آخر عورتیں بھی تو موجود ہیں ان کے ساتھ نکاح کیوں نہیں کرلیتے ؟ المراد نساء امتہ (کبیر عن مجاہد و سعید بن جبیر) وھذا القول عندی ھو المختار (کبیر) یعنی نساء امتہ فانکحوھن (ابن جریر عن ابن جریج) الاحسن ان تکون الاضافۃ مجازیۃ ای بنات قومی اذا النبی یتنزل منزلۃ الاب لقومہ (بحر) (آیت) ” اطھر “۔ یہاں طاہر کے معنی میں ہے۔ جیسے اللہ اکبر میں، اکبر، کبیر کے معنی میں ہے یہ مراد نہیں کہ عمل نکاح نسبتہ طاہر تر ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ عمل نکاح فی نفسہ طاہر وپاکیزہ ہے (کبیر) وصیغۃ افعل فی ذلک مجاز ( روح) توریت میں اس موقع پر ہے۔ ” شہر کے مردوں یعنی سدوم کے مردوں نے جوان سے لیکر بوڑھے تک سب لوگوں نے ہر طرف سے اس گھر کو گھیر لیا اور انہوں نے لوط (علیہ السلام) کو پکار کے اس سے کہا کہ وہ مرد جو آج کی رات تیرے ہاں آئے کہاں ہیں۔ انہیں ہمارے پاس باہر لاتا کہ ہم ان سے صحبت کریں تب لوط (علیہ السلام) دروازہ سے ان کے پاس باہر گیا اور کواڑ اپنے پیچھے بند کیا اور کہا کہ اے بھائیو ایسا برا کام نہ کیجیو اب دیکھو میری دوبیٹیاں ہیں جو مرد سے واقف نہیں مرضی ہو تو ان کو تمہارے پاس نکال لاؤں اور جو تمہاری نظر میں پسند ہو ان سے کرو مگر ان مردوں سے کچھ کام نہ رکھو کیونکہ وہ اسی واسطے میری چھت کے سائے میں آئے۔ (پیدائش 19: 4۔ 8) (آیت) ” فاتقوا اللہ “۔ آپ (علیہ السلام) کی اصلی اپیل تو یہی ہے آپ نے انہیں خوف خدا سے ڈرایا کہ وہی اصل بنیاد ہر معصیت سے رکنے کی ہے۔ (آیت) ” ولا تخزون فی ضیفی “۔ آپ (علیہ السلام) نے دوسری اپیل فہم مخاطبین کی رعایت سے یہ کی کہ انہیں عرف عام کا واسطہ دلایا۔ مہمانوں کے سامنے سبکی عرفا بھی بہت معیوب تھی۔
Ayah 11:79

قَالُوْا لَقَدْ عَلِمْتَ مَا لَنَا فِیْ بَنٰتِكَ مِنْ حَقٍّ١ۚ وَ اِنَّكَ لَتَعْلَمُ مَا نُرِیْدُ Open ayah 11:79 in the Quran reader

وہ بولے تم تو خوب جانتے ہو کہ ہم کو تمہاری بیٹیوں کی کوئی ضرورت نہیں اور تم وہ بھی خوب جانتے ہو جو کچھ ہم ارادہ رکھتے ہیں،117۔

117۔ ہم کو عورتوں کی طرف رغبت والتفات ہے کب ؟ ہم تو کسی اور ہی پھیر میں ہیں جو تم پر خوب روشن ہے۔ ا ی وانک یلوط لتعلم ان حاجتنا فی غیربناتک (ابن جریر) والظاھر ان معنی من حق من نصیب ولا من غرض ولا من شھوۃ (بحر) من حق ای حاجۃ (جلالین) ای من حاجۃ (بیضاوی)
Ayah 11:80

قَالَ لَوْ اَنَّ لِیْ بِكُمْ قُوَّةً اَوْ اٰوِیْۤ اِلٰى رُكْنٍ شَدِیْدٍ Open ayah 11:80 in the Quran reader

(لوط علیہ السلام) بولے کاش میرا تم پر کچھ زور دباؤ ہوتا یا میں کسی مضبوط پایہ کی پناہ لیتا،118۔

118۔ یعنی یا تو خود مجھ میں اتنی طاقت ہوتی کہ میں بہ زور حکومت تم کو تمہارے شر سے روک سکتا یا میرا کوئی زبردست جتھا، کنبہ، قبیلہ ہوتا ! حضرت لوط (علیہ السلام) تو خود ہی پردیس میں مقیم تھے اس لیے قدرۃ آپ کے ساتھ عزیزوں، قریبوں کی کوئی خاص جماعت نہ تھی۔ پریشان کن حالات میں اسباب ظاہری سے تمسک کرنا ایک امر طبعی ہے اور شریعت میں بالکل جائز ہے۔