11. Surah Hud

هودHud · 123 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 11:81

قَالُوْا یٰلُوْطُ اِنَّا رُسُلُ رَبِّكَ لَنْ یَّصِلُوْۤا اِلَیْكَ فَاَسْرِ بِاَهْلِكَ بِقِطْعٍ مِّنَ الَّیْلِ وَ لَا یَلْتَفِتْ مِنْكُمْ اَحَدٌ اِلَّا امْرَاَتَكَ١ؕ اِنَّهٗ مُصِیْبُهَا مَاۤ اَصَابَهُمْ١ؕ اِنَّ مَوْعِدَهُمُ الصُّبْحُ١ؕ اَلَیْسَ الصُّبْحُ بِقَرِیْبٍ Open ayah 11:81 in the Quran reader

وہ (فرستادے) بولے اے لوط (علیہ السلام) ہم تو آپ (علیہ السلام) کے پروردگار کے فرستادے ہیں ان کی رسائی آپ تک بھی نہ ہوسکے گی،119۔ آپ رات ہی کے کسی حصہ میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جائیے اور تم میں سے کوئی پیچھے پھر کر نہ دیکھے گا مگر ہاں آپ (علیہ السلام) کی بیوی (دیکھے گی) ،120۔ اسے بھی وہی آفت آئے گی جو ان (سب) پر نازل ہوگی ان (پر عذاب) کے وعدہ کا وقت صبح کا ہے اور صبح میں اب دیر ہی کیا ہے ؟ ،121۔

119۔ فرشتوں کو حضرت لوط (علیہ السلام) ابھی تک تو اپنے نوعمر و حسین مہمان سمجھے جارہے تھے اب انہوں نے آپ کا اضطراب واضطرار دیکھ کر اپنا فرشتہ ہونا ظاہر کیا اور اطمینان دلایا کہ ہم تو ہم ان فساق کی اتنی بھی مجال نہیں کہ آپ تک بھی پہنچ سکیں۔ 120۔ یہ عورت دل سے کافرہ اور ان بدمعاشوں سے ملی ہوئی تھی فرشتوں نے کہا کہ اس کے حق میں کوئی نصیحت کارگر نہ ہوگی اور نہ یہ ہماری ہدایت پر عمل کرے گی اس کا دل تو کافروں میں اٹکا ہوا ہے عین نزول عذاب کے وقت یہ بہ کمال ہمدردی ادھر مڑ کر دیکھے گی ضرور۔ اور خود بھی عذاب کا شکار ہو کر رہے گی، توریت میں ہے :۔ ” مگر اس کی جورو نے اس کے پیچھے سے پھر کے دیکھا اور وہ نمک کا کھمبا بن گئی “۔ (پیدائش 19: 26) ۔ 121۔ توریت میں ہے :۔” اور جس وقت لوط (علیہ السلام) ضغر میں داخل ہوا سورج کی روشنی زمین پر پھیلی تب خداوند نے سدوم اور عمورہ پر گندھک اور آگ خداوند کی طرف سے آسمان پر سے برسائی اور اس نے ان شہروں کو اور اس سارے میدان کو اور ان شہروں کے سب رہنے والوں کو اور سب کچھ جو زمین سے اگا تھا نیست کردیا۔ “ (پیدائش 19: 23۔ 25) ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔
Ayah 11:82

فَلَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا جَعَلْنَا عَالِیَهَا سَافِلَهَا وَ اَمْطَرْنَا عَلَیْهَا حِجَارَةً مِّنْ سِجِّیْلٍ١ۙ۬ مَّنْضُوْدٍۙ Open ayah 11:82 in the Quran reader

سو جب ہمارا حکم آپہنچا ہم نے اس (زمین) کے بلند کو اس کا پست بنا دیا اور ہم نے اس پر برسادیئے پتھر کھنگر کے تہ بہ تہ،122۔

122۔ یعنی لگاتار گرنے اور برسنے لگے۔ (آیت) ” جآء امرنا “۔ یعنی عذاب موعود کا وقت آپہنچا۔ (آیت) ” جعلنا عالیھا سافلھا “۔ یعنی ان بستیوں کا تختہ الٹ دیا۔ (آیت) ” سجیل “۔ سے مراد ہے سکھائی ہوئی مٹی کا پتھر جسے ہمارے ہاں جھانواں کہتے ہیں۔
Ayah 11:83

مُّسَوَّمَةً عِنْدَ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا هِیَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ بِبَعِیْدٍ۠ Open ayah 11:83 in the Quran reader

خاص نشان کئے ہوئے آپ کے پروردگار کے پاس اور وہ (مقام) ان ظالموں سے کچھ دور بھی نہیں،123۔

123۔ یعنی اہل مکہ سے۔ قوم لوط (علیہ السلام) کا مسکن دریائے یردن کی وادی میں تھا جہاں اب بحر مردہ واقع ہے اور لوطیوں کے بڑے شہر سدوم اور عمورہ بحر مردہ کے ساحل پر واقع تھے۔ اور قریش مکہ اپنے سفر شام میں برابر اسی راہ سے آتے جاتے تھے اور ان آبادیوں کی آسمانی ہلاکت کا زمانہ وقوع جدید تحقیق کے مطابق 2061 ؁ ق، م ہے۔ ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن کا حاشیہ۔ (آیت) ” مسومۃ “۔ یعنی دوسرے پتھروں سے ممتاز۔ (آیت) ” عند ربک “۔ یعنی عالم غیب میں۔ (آیت) ” حجارۃ من سجیل “۔ اس آتشیں پتھراؤ کی توجیہ کوہ آتش فشاں کی آتش فشانیوں سے بھی کی گئی ہے جو کسی قرآنی بیان کے منافی نہیں عذاب الہی وہ بہر صورت تھا۔
Ayah 11:84

وَ اِلٰى مَدْیَنَ اَخَاهُمْ شُعَیْبًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ وَ لَا تَنْقُصُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ اِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ بِخَیْرٍ وَّ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ Open ayah 11:84 in the Quran reader

اور مدین کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو بھیجا،124۔ وہ بولے اے میری قوم اللہ ہی کی عبادت کرو تمہارے لئے بجز اس کے کوئی بھی معبود نہیں اور ناپ اور تول میں کمی نہ کرو میں تو تم کو فراغت کی حالت میں دیکھتا ہوں اور میں ڈرتا ہوں تمہارے لئے گھیر لینے والے دن کے عذاب سے،125۔

124۔ مدین اور شعیب دونوں پر حاشیے سورة اعراف میں گزر چکے۔ (آیت) ” اخاھم “۔ بھائی سے مراد وہی وطنی یا نسلی بھائی ہیں قرآن میں اس لفظ کے بار بار آنے سے اس حقیقت پر بھی روشنی پڑجاتی ہے۔ نسبی اور وطنی اشتراک کے باوجود کسی کے نصیب میں ہدایت آجاتی ہے اور کوئی بدستور ظلمتوں اور ضلالتوں میں گرفتار رہتا ہے۔ 125۔ (آیت) ” یوم محیط “۔ یعنی وہ دن جو مجرم کو ہر طرف سے گھیر کر اسے مجبور وبے بس کردے گا اور کوئی صورت اس کی مخلصی اور رہائی کی باقی نہ رکھے گا۔ (آیت) ” یقوم۔۔۔ غیرہ “۔ ہر نبی کی پہلی اور بنیادی دعوت دعوت توحید ہی ہوتی ہے۔ (آیت) ” ولا تنقصوا لمکیال والمیزان “۔ اہل مدین ایک مشہور تجارت پیشہ قوم تھی، اور ان کے کاروباری اخلاق بھی سخت گندے اور پست تھے قرآن مجید اعتقادی گمراہیوں کے ازالہ کے ساتھ ساتھ اخلاقی معاشری معاملات کی بھی برابر اصلاح کرتا جاتا ہے۔
Ayah 11:85

وَ یٰقَوْمِ اَوْفُوا الْمِكْیَالَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 11:85 in the Quran reader

اور اے میری قوم ناپ اور تول پوری پوری کیا کرو اور لوگوں کا ان کی چیزوں میں نقصان مت کیا کرو اور زمین میں فساد کرتے نہ پھرو،126۔

126۔ قرآن مجید نے یہاں صاف صاف بتا دیا کہ تجارتی خیانتوں اور مالی معاملات میں بد دیانتی کا نتیجہ معاشرہ کی درہمی برہمی اور ملک وقوم کے حق میں عدم توازن کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ اور اس سب کے لیے قرآن مجید کی ایک جامع اصطلاح فساد فی الارض کی ہے۔
Ayah 11:86

بَقِیَّتُ اللّٰهِ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ١ۚ۬ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 11:86 in the Quran reader

اللہ (کے دیئے میں سے) بچا ہوا کہیں بہتر ہے تمہارے حق میں اگر تم ایمان والے ہو اور میں تم پر کوئی پاسبان تو ہوں نہیں،127۔

127۔ اپنے ہر قول وعمل کی ذمہ داری تمہیں خود محسوس کرنی چاہیے) حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی تقریر سے ایک طرف تو مخاطبین میں ان کی ذمہ داری کا شعور پیدا کرنا چاہا دوسرے یہ بتایا کہ پاک مال اور ناجائز ذرائع سے حاصل کی ہوئی آمدنی سے بہتر ہے۔ (آیت) ” بقیت اللہ “۔ یعنی وہ مال جو شریعت الہی نے تمہارے لیے جائز رکھا ہے اور جس کو ناجائز نہیں قراردیا ہے۔ ای ماابقاہ اللہ حلالالکم ولم یحرمہ علیکم (بحر)
Ayah 11:87

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ اَصَلٰوتُكَ تَاْمُرُكَ اَنْ نَّتْرُكَ مَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَاۤ اَوْ اَنْ نَّفْعَلَ فِیْۤ اَمْوَالِنَا مَا نَشٰٓؤُا١ؕ اِنَّكَ لَاَنْتَ الْحَلِیْمُ الرَّشِیْدُ Open ayah 11:87 in the Quran reader

وہ بولے اے شعیب (علیہ السلام) کیا یہ تمہاری نماز تمہیں تعلیم دیتی ہے کہ ہم ان چیزوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے بڑے کرتے آئے ہیں یا اس کو چھوڑ دیں کہ ہم اپنے مال کے ساتھ جو چاہیں کریں واقعی تم ہی تو بڑے عقل مند بڑے دیندار ہو،128۔

128۔ مخالفین کی یہ تقریر بہ طور طنز و تمسخر ہے۔ قال ابن عباس، ومیمون بن مھران، وابن جریج، واسلم وابن جریر یقولون ذلک اعداء اللہ علی سبیل الاستھزاء (ابن کثیر) قیل قالوا علی وجہ الاستھزاء (معالم) وصفوہ علی السلام بھذین الوصفین الجلیلین علی طریقۃ الاستعارۃ التھکمیۃ فالمراد بھما ضد معناھما وھذا ھو المروی عن ابن عباس ؓ والیہ ذھب قتادۃ والمبرد (روح) وہ بار بار اس پر الجھ رہے تھے کہ یہ کیسا دین اور کیسا نبی ہے جو ایک طرف تو ہمارے آبائی معتقدات، عبادات، رسوم وشعار کا تختہ الٹ دینا چاہتا ہے اور دوسری طرف ہمیں ہمارے آمد وخرچ پر بھی طرح طرح کی قیدیں لگاتا اور پابندیاں عائد کرتارہتا ہے۔ (آیت) ” ان نفعل “۔ کا عطف (آیت) ’ ما یعبد “۔ پر ہے۔
Ayah 11:88

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كُنْتُ عَلٰى بَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّیْ وَ رَزَقَنِیْ مِنْهُ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ وَ مَاۤ اُرِیْدُ اَنْ اُخَالِفَكُمْ اِلٰى مَاۤ اَنْهٰىكُمْ عَنْهُ١ؕ اِنْ اُرِیْدُ اِلَّا الْاِصْلَاحَ مَا اسْتَطَعْتُ١ؕ وَ مَا تَوْفِیْقِیْۤ اِلَّا بِاللّٰهِ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ Open ayah 11:88 in the Quran reader

(شعیب علیہ السلام) بولے اے میری قوم بھلا یہ تو بتاؤ کہ اگر میں اپنے پروردگار کی جانب سے دلیل پر قائم ہوں اور اس نے مجھ کو اپنے پاس سے ایک عمدہ دولت دی ہو،129۔ اور میں نہیں چاہتا کہ تمہارے برخلاف ان کاموں کو کروں جن سے میں تمہیں روکتا ہوں،130۔ میں تو بس اصلاح ہی چاہتا ہوں جہاں تک میں کرسکوں اور مجھے جو کچھ توفیق ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں،131۔

129۔ یعنی دولت نبوت۔ ھو النبوۃ والحکمۃ (روح) اس کو کہیں رحمۃ سے بھی تعبیر کیا ہے جیسا کہ اسی سورت کی آیت نمبر 63 میں حضرت صالح (علیہ السلام) کے سلسلہ میں اور جائز آمدنی بھی مراد لی گئی ہے۔ اشارۃ الی ما اتاہ اللہ من المال الحلال (بیضاوی) (آیت) ” ان کنت علی بینۃ من ربی “۔ یعنی اگر اللہ کی توحید وغیرہ کا علم مجھے صریحا ہوچکا ہو۔ 130۔ یعنی یہ تو ہے نہیں، کہ میں تمہیں کوئی راہ بتادوں اور خود کسی اور راہ پر چلوں میری یہ تبلیغ تو سرتاسر خیرخواہی ودلسوزی سے ہے اور دلیل یہ ہے کہ میں تمہیں وہی باتیں بتلاتا ہوں جو اپنے نفس کے لیے بھی پسند کرتا ہوں۔ 131۔ یہ ہوتا ہے پیغمبروں کا کمال عبدیت ! ادھردلسوزی اور اصلاح کی نسبت اپنی جانب زبان سے ذرا نکل گئی تھی معا اسے بھی حق تعالیٰ ہی کی جانب منسوب کردیا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک پیغمبر اور دنیا کے بڑے سے بڑے لیڈر کے حدود جدا ہوجاتے ہیں لیڈر کی نظر اپنے مجمع، جتھے، مادی طاقت مالی وسائل وغیرہ پر رہتی ہے۔ برخلاف اس کے پیغمبر کی نظر اول بھی اور آخر بھی اللہ ہی پر رہا کرتی ہے۔
Ayah 11:89

وَ یٰقَوْمِ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شِقَاقِیْۤ اَنْ یُّصِیْبَكُمْ مِّثْلُ مَاۤ اَصَابَ قَوْمَ نُوْحٍ اَوْ قَوْمَ هُوْدٍ اَوْ قَوْمَ صٰلِحٍ١ؕ وَ مَا قَوْمُ لُوْطٍ مِّنْكُمْ بِبَعِیْدٍ Open ayah 11:89 in the Quran reader

اور اے میری قوم میری ضد تمہارے لئے اس کا باعث نہ ہوجائے کہ تم پر بھی مصیبت آپڑے جیسی مصیبت آپڑی تھیں قوم نوح (علیہ السلام) یا قوم ہود (علیہ السلام) یا قوم صالح (علیہ السلام) پر،132۔ اور قوم لوط (علیہ السلام) تو تم سے زیادہ دور بھی نہیں ہوئی،133۔

132۔ ہر پیغمبر اپنی امت کے حق میں رافت رحمت و شفقت کا مجسمہ ہوتا ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اسی جذبہ سے متاثر ہو کر اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ کہیں میری ضد میں آکر تم اسی جذبہ سے متاثر ہو کر اپنی قوم سے فرماتے ہیں کہ کہیں میری ضد میں آکر تم ایسی حرکتوں کے مرتکب نہ ہو بیٹھنا کہ آخر انہی سزاؤں کے مستحق ٹھہر جاؤ جو تم سے پہلے مقہور ومخذول قوموں پر آچکی ہیں۔ (آیت) ” شقاقی “۔ آیت سے جہاں انبیاء کرام کی کامل اور انتہائی درد مندی روشنی میں آجاتی ہے وہیں سرکش ومتمرد قوموں کی ضد وعناد کا درجہ بھی سامنے آجاتا ہے۔ 133۔ چناچہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کے شہر مدین کا فاصلہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے مسکن (وادی دریائے یردن) سے کچھ زیادہ ہے بھی نہیں (آیت) ” ببعید “۔ مفسرین کے ایک بڑے گروہ نے اس بعد وقرب زمانی پر محمول کرکے گویا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ” امت لوط (علیہ السلام) کا زمانہ تو تم سے ایسا بعید ابھی ہوا بھی نہیں ہے “۔ وذلک انھم کانوا حدیثی عھد بھلاک قوم لوط “۔ (معالم) یہ قول بھی اگرچہ فی نفسہ بالکل صحیح ہے یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) حضرت ہود (علیہ السلام) حضرت صالح (علیہ السلام) ان سب سے قریب ترزمانہ حضرت لوط (علیہ السلام) ہی کا ہوا تھا لیکن جرجیح اس کو ہے کہ بعید کو بعد مکانی ہی کے معنی میں لے کر مسکن امت لوط (علیہ السلام) اور مسکن امت شعیب (علیہ السلام) کے درمیان قرب مکانی کی طرف مشیر سمجھا جائے، ای مادار قوم لوط منکم ببعید (ابن جریر) ذلک انھم کانوا جیران قوم لوط (معالم) بہرحال وہ قرب زمانی ہو یا قرب مکانی مقصود دونوں صورتوں میں امت لوط (علیہ السلام) کے انجام سے عبرت خصوصی دلانی تھی۔ قیل المراد فی الزمان وقیل فی المکان ویحتمل الامران (ابن کثیر)
Ayah 11:90

وَ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوْبُوْۤا اِلَیْهِ١ؕ اِنَّ رَبِّیْ رَحِیْمٌ وَّدُوْدٌ Open ayah 11:90 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار سے اپنے گناہ معاف کراؤ پھر اس کی طرف توجہ کرو بیشک میرا پروردگار بڑا رحمت والا ہے بڑا محبت والا ہے،134۔

134۔ چناچہ وہ صفت رحمۃ کے تقاضہ سے گناہوں کو معاف کردے گا اور صفت ود کے تقاضہ سے طاعتوں کو قبول کرے گا۔ (آیت) ” توبوا الیہ “۔ یعنی اس کی طرح رجوع طاعت و عبادت کے ساتھ کرو۔
Ayah 11:91

قَالُوْا یٰشُعَیْبُ مَا نَفْقَهُ كَثِیْرًا مِّمَّا تَقُوْلُ وَ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْنَا ضَعِیْفًا١ۚ وَ لَوْ لَا رَهْطُكَ لَرَجَمْنٰكَ١٘ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْنَا بِعَزِیْزٍ Open ayah 11:91 in the Quran reader

وہ لوگ بولے اے شعیب (علیہ السلام) تمہاری کہی ہوئی بہت سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں اور ہم تم کو تو اپنے (مجمع) میں کمزور ہی دیکھتے ہیں اور اگر تمہارے کنبہ کا ہم کو (لحاظ) نہ ہوتا تو ہم تم کو سنگسار کرچکے ہوتے اور تم ہم پر کچھ غالب تو ہو نہیں،135۔

135۔ جاہلی قومیں دباؤ صرف قوت کا مانتی تھیں چناچہ اب سلسلہ بحث و استدلال کو چھوڑ کر قوم شعیب (علیہ السلام) صاف صاف کہہ رہی ہے کہ تم ہم پر کچھ غالب وحاکم تو ہو نہیں قوت تو ہم ہی کو حاصل ہے ہم تو صرف تمہارے کنبہ وقبیلہ کا لحاظ کررہے ہیں جو ہمارے ہم مذہب ہیں ورنہ ہم تو اب تک تم پر سزائے سنگساری جاری کرچکے ہوتے۔ (آیت) ” رھطلک “۔ رھط یہاں مضاف الیہ ہے اس کا مضاف مقدر ہے۔ ای مراعاۃ رھطک۔ والظاھران مرادھم لولا مراعاۃ جانب رھطک (روح) پرانی جاہلی قوموں میں کنبہ اور خاندان کا پاس ولحاظ بڑی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے۔ (آیت) ” لرجمنک “۔ پرانی قوموں کے ضابطہ تعزیرات میں آخری اور انتہائی موقعوں کے لیے سزائے سنگساری عام طور پر رائج تھی،
Ayah 11:92

قَالَ یٰقَوْمِ اَرَهْطِیْۤ اَعَزُّ عَلَیْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اتَّخَذْتُمُوْهُ وَرَآءَكُمْ ظِهْرِیًّا١ؕ اِنَّ رَبِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 11:92 in the Quran reader

شعیب (علیہ السلام) نے کہا اے میری قوم کیا میرے کنبہ کا حق تم پر اللہ سے غالب تر ہے ؟ درآنحالیکہ اسی کو تم نے پس پشت ڈال دیا ہے بیشک میرا پروردگار احاطہ میں اس سب کو لئے ہوئے ہے جو تم کررہے ہو،136۔

136۔ اور تمہارا چھوٹا بڑا ایک ایک عمل اس کے علم میں ہے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کی غیرت اور شعور دینی کو بیدار کررہے ہیں کہ خدا کی عظمت و جلال کی بس اچھی قدر تم نے کی کہ قبیلہ اور کنبہ تک کی رعایت کرتے ہو لیکن ایک نہیں خیال کرتے تو بس خدائے تعالیٰ کے حقوق کا۔
Ayah 11:93

وَ یٰقَوْمِ اعْمَلُوْا عَلٰى مَكَانَتِكُمْ اِنِّیْ عَامِلٌ١ؕ سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ١ۙ مَنْ یَّاْتِیْهِ عَذَابٌ یُّخْزِیْهِ وَ مَنْ هُوَ كَاذِبٌ١ؕ وَ ارْتَقِبُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ رَقِیْبٌ Open ayah 11:93 in the Quran reader

اور اے میری قوم والو تم اپنی حالت پر عمل کرتے رہو میں (اپنے طور پر) عمل کررہا ہوں عنقریب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے، کہ کس پر عذاب اس کا رسوا کرنے والا آیا اور کون جھوٹا ہے اور تم انتظار کرو تمہارے ساتھ میں بھی منتظر ہوں،137۔

137۔ اب عنقریب عذاب الہی خود ہی عملی فیصلہ کئے دیتا ہے کہ واقعی جھوٹا کون تھا اور سزائے ذلت کا کون مستحق تھا۔ یہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بالکل آخری اپیل ہے۔ آپ (علیہ السلام) نے جب دیکھا کہ سارے دلائل بےاثر رہے اور کسی تبلیغ کا کچھ اثر ہی نہ ہوا تو آخر میں آپ (علیہ السلام) فرماتے ہیں کہ اچھا اب تک تو تم مجھ کو جھوٹا سمجھتے ہی رہے اب عنقریب عذاب الہی خود ہی عملی شکل میں فیصلہ کیے دیتا ہے کہ واقعی جھوٹا کون تھا اور سزائے ذلت کا مستحق کون ؟
Ayah 11:94

وَ لَمَّا جَآءَ اَمْرُنَا نَجَّیْنَا شُعَیْبًا وَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ اَخَذَتِ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دِیَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۙ Open ayah 11:94 in the Quran reader

اور جب ہمارا حکم آیا تو ہم نے بچا لیا شعیب (علیہ السلام) کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی رحمت (خاص) سے اور ظلم کرنے والوں کو ایک زور کے کڑاکے نے پکڑلیا سو وہ اپنے گھروں میں اوندھے گرے رہ گئے،138۔

138۔ (مردہ وبے جان ہوکر) (آیت) ” امرنا “۔ یعنی ہمارا حکم عذاب (آیت) ” برحمۃ منا “۔ پھر ایک بار اس حقیقت کی وضاحت کردی گئی کہ نجات جس کسی کو بھی ملتی ہے مومنین بلکہ پیغمبر تک کو بھی فضل خداوندی ہی سے ملتی ہے۔ (آیت) ” الذین ظلموا “۔ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے یعنی منکرین توحید ومعاندین نبوت۔
Ayah 11:95

كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ؕ اَلَا بُعْدًا لِّمَدْیَنَ كَمَا بَعِدَتْ ثَمُوْدُ۠ Open ayah 11:95 in the Quran reader

جیسے کبھی ان میں بسے ہی نہ تھے ! خوب سن لو مدین کو (رحمت سے) دوری ہوئی جیسی دوری ثمود کو ہوچکی تھی،139۔

139۔ رحمت الہی سے محروم وبعید ہوجاتے ہیں تو اہم مدین کی مثال ہر پرانی مغضوب ومقہور قوم سے دی جاسکتی ہے، قوم ثمود کا نام خصوصیت کے ساتھ لینے میں شاید کہ یہ مناسبت ہو کہ قوم ثمود بھی اس سے قبل اسی نواح اور اسی علاقہ میں آباد رہ چکی تھی ! اہل مدین نے اپنے ہی گرد ونواح کی تاریخ سے عبرت نہ حاصل کی ! بعض مفسرین نے یہ لکھا ہے کہ اہل مدین بھی قوم ثمود ہی کی طرح نسل عرب سے تھے۔ اور ان کی بےدینی اور بداعمالی بھی انہی کی سی تھی۔ کانوا جیرانھم قریبامنہم فی الدار شبیھا بھم فی الکفر وقطع الطریق وکانوا عربا مثلھم (ابن کثیر)
Ayahs 11:96–97

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا مُوْسٰى بِاٰیٰتِنَا وَ سُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍۙ Open ayah 11:96 in the Quran reader

اور بالیقین ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں اور ایک روشن دلیل کے ساتھ بھیجا

اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَاتَّبَعُوْۤا اَمْرَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ مَاۤ اَمْرُ فِرْعَوْنَ بِرَشِیْدٍ Open ayah 11:97 in the Quran reader

فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس، وہ لوگ فرعون ہی کے حکم پر چلتے رہے اور فرعون کا حکم ذرا (بھی) درست نہ تھا،140۔

140۔ یعنی حکومت فرعون کی پالیسی ہر قسم کی صلاح وخیر سے خالی تھی۔ ای لیس فیہ رشد ولا ھدی (ابن کثیر) موسیٰ ، فرعون، ملاء فرعون پر حاشیے بار بار گزر چکے۔
Ayah 11:98

یَقْدُمُ قَوْمَهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَاَوْرَدَهُمُ النَّارَ١ؕ وَ بِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُوْدُ Open ayah 11:98 in the Quran reader

وہ قیامت کے دن اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا پھر ان کو دوزخ میں جا اتارے گا اور بری ہے وہ جگہ اترنے کی جہاں یہ اتارے جائیں گے،141۔

141۔ فرعون جس طرح دنیا میں بدی اور بدکاری کا لیڈر تھا دوزخ میں بھی اس کی یہ لیڈری قائم رہے گی اور یہ حکم فرعون کے ساتھ مخصوص نہیں، محققین نے لکھا ہے کہ جو کوئی مفسدوں کا پیشوا ہوگا وہ اپنی ذریات کو لے کر ہی داخل جہنم ہوگا۔ ورد اصلا مصدر ہے یہاں بہ معنی جائے ورود وفرودگاہ۔ مراد دوزخ سے ہے۔
Ayah 11:99

وَ اُتْبِعُوْا فِیْ هٰذِهٖ لَعْنَةً وَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ بِئْسَ الرِّفْدُ الْمَرْفُوْدُ Open ayah 11:99 in the Quran reader

اس (دنیا) میں بھی لعنت ان کے پیچھے لگی رہی اور قیامت کے دن بھی (لگی رہے گی) بری ہے وہ بخشش جو ان پر کی جائے گی،142۔

142۔ آخرت میں ملعونیت کا ظہور تو کامل ترین صورت میں ہو ہی گا، دنیا میں بھی قہر وغضب کے ساتھ غرق ہوتے ہوئے سب نے دیکھ لیا۔
Ayah 11:100

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَیْكَ مِنْهَا قَآئِمٌ وَّ حَصِیْدٌ Open ayah 11:100 in the Quran reader

یہ ان بستیوں کی بعض خبریں تھیں جو ہم آپ سے بیان کرتے ہیں (بعض) ان میں سے قائم ہیں اور (بعض) ختم ہی ہوگئیں،143۔

143۔ یہاں یہ بتا دیا کہ مغضوب ومقہور بستیوں میں سے قرآن مجید نے دونوں قسم کی بستیوں کا بیان کیا ہے ایک وہ جو سرے سے مل یا میٹ ہوگئیں مثلا امت لوط (علیہ السلام) کا مسکن اور دوسرے وہ جن کی صرف آبادی ہلاک کردی گئی باقی وہ زمین اور علاقہ بدستور قائم ہیں۔ مثلا سرزمین مصر کہ فرعونی ڈبو دیئے گئے، لیکن اصل ملک بدستور موجود ہے۔ (آیت) ” ذلک “۔ اشارہ اوپر بیان کیے قصص و حکایات کے مجموعہ کی طرف ہے۔ اشارۃ الی ماقص من انباء الامم وبعدہ باعتبار تقضیہ (روح) (آیت) ” القری “۔ یعنی سابق کی تباہ وہلاک شدہ بستیاں۔
Ayah 11:101

وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ فَمَاۤ اَغْنَتْ عَنْهُمْ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمْرُ رَبِّكَ١ؕ وَ مَا زَادُوْهُمْ غَیْرَ تَتْبِیْبٍ Open ayah 11:101 in the Quran reader

اور ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ انہی نے اپنے اوپر ظلم کیا سو ان کے وہ دیوتا ان کچھ بھی کام نہ آئے جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے جب کہ آپ کے پروردگار کا حکم (عذاب) آپہنچا اور وہ (الٹے) ان کی ہلاکت ہی بڑھا تے رہے،144۔

144۔ یعنی یہ جھوٹے دیوتا اور معبود اپنے پجاریوں کی کوئی مدد تو کیا کرتے الٹے ان کی ہلاکت کا سبب ہی بن گئے۔ نہ یہ ان کی پوجا کرتے نہ سزائے ہلاکت میں مبتلا ہوتے۔
Ayah 11:102

وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌ١ؕ اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ Open ayah 11:102 in the Quran reader

اور آپ کے پروردگار کی پکڑ اسی طرح ہے جب وہ بستی والوں کو پکڑتا ہے جو (اپنے اوپر) ظلم کرتے رہتے ہیں بیشک اس کی پکڑ بڑی تکلیف وہ ہے بڑی سخت ہے،145۔

145۔ (اور وہ انہی لوگوں کے لیے ہے جو سخت نافرمانی کے مرتکب ہوتے رہتے ہیں) (آیت) ” القری “۔ قری سے مراد اہل قری ہیں۔
Ayah 11:103

اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّمَنْ خَافَ عَذَابَ الْاٰخِرَةِ١ؕ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّجْمُوْعٌ١ۙ لَّهُ النَّاسُ وَ ذٰلِكَ یَوْمٌ مَّشْهُوْدٌ Open ayah 11:103 in the Quran reader

بیشک ان (واقعات) میں اس کے لئے نشانی ہے جو آخرت کے عذاب سے ڈرتا ہو،146۔ وہ ایسادن ہوگا کہ اس میں (کل) انسان جمع کئے جائیں گے اور وہ دن ہے حاضری کا

146۔ یعنی نشانی عبرت وبصیرت کی۔ اس سے بڑھ کر عبرت کا موقع اور کیا ہوسکتا ہے کہ جب دنیا ہی کا عذاب اس قدر سخت ہے، حالانکہ دنیا مہلت گاہ ہے تو پھر آخرت تو دارالجزاء ہی ہے وہاں کے عذاب کی شدت کا کہنا ہی کیا !
Ayah 11:104

وَ مَا نُؤَخِّرُهٗۤ اِلَّا لِاَجَلٍ مَّعْدُوْدٍؕ Open ayah 11:104 in the Quran reader

اور ہم اسے بس ایک گنی ہوئی ہی مدت کے لئے ملتوی کئے ہوئے ہیں،147۔

147۔ یعنی وہ دن جو سب کی حاضری کا ہے اس کی آمد اور وقوع یقینی ہے اور اسے ملتوی تو صرف ایک قلیل مدت کے لیے رکھا گیا ہے۔ (آیت) ” یوم مشھود “۔ مشھود کے معنی مشھود فیہ کے لیے گئے ہیں۔ ای مشھود فیہ (کشاف) والمراد بالمشھود الذی کثر مشاھدوہ (کشاف)
Ayah 11:105

یَوْمَ یَاْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ اِلَّا بِاِذْنِهٖ١ۚ فَمِنْهُمْ شَقِیٌّ وَّ سَعِیْدٌ Open ayah 11:105 in the Quran reader

جس وقت وہ آئے گا کوئی شخص بول نہ سکے گا بجز اللہ کی اجازت کے پھر بعض تو ان میں شقی ہوں گے اور بعض سعید،148۔

148۔ (آیت) ” شقی “۔ یعنی بدبخت یا سزا وار نار۔ الذی وجبت لہ نار لا ساء تہ (کشاف) (آیت) ” سعید “۔ یعنی خوش نصیب یا قابل عفو وسزا وار جنت۔ الذی وجبت لہ اجنۃ لاحسانہ (کشاف) (آیت) ” لا تکلم نفس الا باذنہ “۔ یہ بیان یوم قیامت کے ہول اور دہشت کا ہورہا ہے۔ (آیت) ” منھم “۔ یعنی اہل محشر میں سے۔ ضمیر ھم اہل موقف کے لیے ہے اور ایسے موقع کے لیے جو سیاق سے بہ خوبی سمجھ میں آجائے عربی اسلوب بلاغت میں ضمیر کے قبل اسم لانا بالکل غیر ضروری ہے۔ الضمیر لاھل الموقف ولم یذکر لان ذلک معلوم (کشاف)
Ayah 11:106

فَاَمَّا الَّذِیْنَ شَقُوْا فَفِی النَّارِ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وَّ شَهِیْقٌۙ Open ayah 11:106 in the Quran reader

سو جو لوگ شقی ہیں وہ دوزخ میں ہوں گے اس میں ان کی چیخ پکار پڑی رہے گی،149۔

149۔ (آیت) ” زفیر۔ اور ” شھیق “۔ دونوں گدھے کی آوازیں ہیں۔ زفیر اس کی شروع کی آواز شھیق اس کے آخر کی آواز۔ قال الضحاک ومقاتل والفراء الزفیر اول نھیق الحمار والشھیق اخرہ (بحر) قال اھل اللغۃ من الکوفیۃ والبصریۃ الزفیر بمنزلۃ ابتداء صوت الحمار والشھیق بمنزلۃ اخر نھیقہ (روح) مراد یہ ہے کہ اہل دوزخ طرح طرح کی بڑی بڑی درد ناک آوازوں سے چیختے چلاتے رہیں گے۔
Ayah 11:107

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ فَعَّالٌ لِّمَا یُرِیْدُ Open ayah 11:107 in the Quran reader

اس میں پڑے رہیں گے (ہمیشہ ہمیش کو) جب تک کہ آسمان اور زمین قائم ہیں ہاں بجز اس کے کہ آپ کا پروردگار ہی چاہے بیشک آپ کے پروردگار جو چاہے پورے طور پر کرسکتا ہے،150۔

150۔ اسلام نے جس خدا کو پیش کیا ہے اس کے اختیار ات غیر محدود ہیں اور اس کا اقتدار اعلی سب پر حاکم ہے اس کے ارادہ کو قید میں رکھنے والی نہ کوئی اور قوت ارادی ہے نہ کوئی اور بےجان ضابطہ، آیت میں رد آگیا ان تمام ادیان باطل کا جنہوں نے خدا کا وجود تو مانا ہے لیکن محدود قوی اور اختیارات کے ساتھ یہ یہ کہہ دیا کہ خدا صرف انصاف کرسکتا ہے عفو پر قادر نہیں۔ یا یہ تعلیم دی ہے کہ ” کرم “ (ہندی زبان میں قانون مجازات کا مرادف) خدایا قانون ساز کی بھی قوت سے بالا دست ہے ! اس طرح کا کوئی عجیب و غریب خدا ہرگز اسلام کی نظر میں خدا نہیں۔ وہ جس عاصی، خاطی، مجرم کو چاہے بغیر کسی سزا کے یا بہت خفیف سزا کے بعد بخش دینے پر قادر ہے۔ ملاحظہ ہو حاشیہ تفسیر انگریزی۔ (آیت) ” مادامت السموت والارض “۔ محاورہ میں اس سے مراد ابدیت یا دوام سے ہوتی ہے۔ ورنہ ظاہر ہے کہ زمین و آسمان تو اس وقت فنا ہی ہوچکے ہوں گے اس لئے لفظی معنی مراد ہو ہی نہیں سکتے۔ عبارۃ عن تابید ونفی الانقطاع (کشاف) العرب یعبرون عن الدوام والابد بقولھم مادامت السموت والارض (کبیر) ھذا عبارۃ عن التابید ونفی الانقطاع علی منھاج قول العرب (روح) التعبیر عن التابید والمبالغۃ بما کانت العرب یعبرون بہ عنہ (بیضاوی) من عادۃ العرب اذا ارادت ان تصف الشیء بالدوام ابدا قالت ھذا دائم بدوام السموت والارض (ابن جریر) (آیت) ’ الا ما شآء ربک “۔ یہ استثناء (آیت) ” الذین شقوا “۔ سے ہے یعنی ہر شقی دوزخ میں جائے گا اور ہمیشہ اس میں پڑا رہے گا۔ عام قاعدہ وضابطہ تو یہی ہے لیکن (آیت) ” فعال لما یرید “۔ کی مشیت اس پر بھی غالب ہے وہ جس مجرم کو جس طرح اور جس حد تک چاہے بچالے۔ جمہور علماء امت کا اس پر اتفاق ہے کہ کافر کا عذاب دائمی ہوگا۔ جس سے اسے کبھی چھٹکارا نہ مل سکے گا۔ واما الجمھور الاعظم من الامۃ فقد اتفقوا علی ان عذاب الکافر دائم (کبیر) کانہ تعالیٰ یقول اظھرت القھروالقدرۃ تم اظھرت المغفرۃ والرحمۃ الانی فعال لما ارید ولیس لاحد علی حکم البتۃ (کبیر)
Ayah 11:108

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ سُعِدُوْا فَفِی الْجَنَّةِ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا مَا دَامَتِ السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ اِلَّا مَا شَآءَ رَبُّكَ١ؕ عَطَآءً غَیْرَ مَجْذُوْذٍ Open ayah 11:108 in the Quran reader

اور جو لوگ سعید ہیں وہ جنت میں ہوں گے اس میں رہیں گے (ہمیشہ ہمیش) جب تک کہ آسمان و زمین قائم ہیں بجز اس کے کہ آپ کا پروردگار چاہے (یہ) عطیہ غیر منقطع ہے،151۔

151۔ یہ بخشش غیر منقطع ہوگی، ایسا نہیں ہوسکتا کہ کوئی جنتی کچھ روز بعد جنت سے باہر کردیا جائے۔ (آیت) ” الا ما شآء ربک “۔ استثناء (آیت) ” الذین سعدوا “۔ سے ہے یعنی ہر مطیع و سعید بھی مشیت الہی وفضل خداوندی کے بعد ہی جنت میں داخل ہوسکے گا۔ معنی الاستثناء ھھنا ان دوامھم فی ماھم فیہ من النعیم لیس امرا واجبا بذاتہ بل ھو موکول الی مشیۃ اللہ تعالیٰ (ابن کثیر) مذہب اہل سنت کا یہ متفقہ مسئلہ ہے کہ عاصی مسلم بہرحال خلود نار کا مستوجب نہیں، اگر بالکل معافی نہ ہوئی جب بھی کچھ سزاجھیلنے کے بعد جنت میں لے آیا جائے گا۔ احادیث میں یہ مضمون بہت صراحت کے ساتھ آیا ہے مفسر نسفی نے لکھا ہے کہ معتزلہ کو جب ان احادیث کی گرفت سے مفر نہ ملا تو خود ان احادیث ہی سے انکار کربیٹھے۔ والمعتزلۃ لما لم یروا خروج العصاۃ من النار ردوا الاحادیث المرویۃ فی ھذا الباب وکفی بہ اثما مبینا (مدارک) اور یہی دستور ہمارے زمانہ کے گمراہ فرقوں کا بھی ہے۔
Ayah 11:109

فَلَا تَكُ فِیْ مِرْیَةٍ مِّمَّا یَعْبُدُ هٰۤؤُلَآءِ١ؕ مَا یَعْبُدُوْنَ اِلَّا كَمَا یَعْبُدُ اٰبَآؤُهُمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ وَ اِنَّا لَمُوَفُّوْهُمْ نَصِیْبَهُمْ غَیْرَ مَنْقُوْصٍ۠ Open ayah 11:109 in the Quran reader

سو (اے مخاطب) شک نہ کر اس چیز کے بارے میں جس کی یہ لوگ پرستش کرتے ہیں یہ اسی طرح عبادت کررہے ہیں جیسے ان کے باپ دادا ان کے قبل پرستش کرتے رہے ہیں اور ہم یقیناً ان کا حصہ ان کو پورا پورا دینے والے ہیں بےکم وکاست،152۔

152۔ (قیامت کے دن) (آیت) ” فلا تک فی مریۃ “ یعنی مذہب شرک شک وتذبذب کا مستحق نہیں صاف صاف قطعی انکار کے قابل ہے۔ (آیت) ” کمایعبد ابآؤھم من قبل “۔ یعنی جیسے ان کے آباواجداد غیر اللہ کی پرستش میں بالکل بلادلیل بلکہ خلاف دلیل لگے رہتے تھے یہ بھی اسی طرح اسی مرض میں مبتلا ہیں۔ (آیت) ” نصیبھم “۔ یعنی ان کے عذاب وسزا کا حصہ۔
Ayah 11:110

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَاخْتُلِفَ فِیْهِ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 11:110 in the Quran reader

اور بالقین ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی سو اس میں (بھی) اختلاف کیا گیا،153۔ اور اگر ایک بات پہلے ہی سے آپ کے پروردگار کی طرف سے نہ ٹھیرچ کی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ ہوگیا ہوتا اور یہ لوگ اس کی طرف شک کرکے تردد میں پڑے ہوئے ہیں،154۔

153۔ یعنی کچھ نے اسے مانا اور کچھ اس میں بھی طرح طرح کے شبہات اعتراضات بھی نکالتے رہے، حالانکہ کتاب توریت تو اسرائیلیوں کی اپنی ” قومی “ کتاب بھی تھی تو پھر قرآن کے باب میں تو جو کچھ بھی تردد و انکار ہو کوئی نئی بات نہ ہوگئی۔ 154۔ یعنی اس فیصلہ ہی کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں اور فیصلہ سے مراد عذاب موعود ہے۔ (آیت) ” کلمۃ سبقت من ربک “۔ اور وہ ٹھہرائی ہوئی بات یہی کہ پورا عذاب آخرت ہی میں ہوگا۔ (آیت) ” لقضی بینھم “۔ یعنی اسی دنیا میں فیصلہ ہوگیا ہوتا، اور فیصلہ سے مراد عملی مشاہد فیصلہ ہے۔ (آیت) ” بینہم “ سے مراد اختلاف کرنے والوں کے در میان ہے۔
Ayah 11:111

وَ اِنَّ كُلًّا لَّمَّا لَیُوَفِّیَنَّهُمْ رَبُّكَ اَعْمَالَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ بِمَا یَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ Open ayah 11:111 in the Quran reader

بیشک سب ہی ایسے ہیں کہ آپ کا پروردگار انہیں ان کے اعمال کا (عوض) پورا پورا دے گا بیشک جو کچھ یہ کرتے ہیں اس کی وہ پوری خبر رکھتا ہے،155۔

ف۔ 155 (آیت) ” اچھے برے مومن و کافر صالح فاسق، بڑے چھوٹے سب ہی کی پوری پوری فرد عمل اس کے سامنے موجود ہے۔ اس کے ہاں جزائے اعمال میں کسی غلطی، سہو ونسیان کا امکان ہی نہیں۔
Ayah 11:112

فَاسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ وَ مَنْ تَابَ مَعَكَ وَ لَا تَطْغَوْا١ؕ اِنَّهٗ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 11:112 in the Quran reader

تو آپ مستقیم رہیے جیسا کہ آپ کو حکم ہوا ہے اور وہ لوگ بھی) جو تائب ہو کر آپ کے ہمراہ ہیں،156۔ اور تم لوگ سرکشی نہ کرو بیشک جو کچھ تم کرتے ہو اسکو وہ خوب دیکھ رہا ہے،157۔

156۔ یعنی آپ راہ دین پر پوری طرح قائم رہیے اور کفار ومنکرین کے انجام کی فکر میں نہ پڑئیے اور یہی حکم آپ کے متبع مومنین کے حق میں بھی ہے۔۔ آپ کا درجہ استقامت آپ ﷺ کے مرتبہ کے لائق اور آپ کے ہمراہی مومنین کا ان کے مرتبہ کے لائق، محققین نے لکھا ہے کہ اعلی استقامت یہی ہے کہ حقوق حق اور حقوق خلق دونوں پوری طرح ادا ہوتے رہیں۔ ای فی القیام بحقوق الحق والخلق (روح) (آیت) ” ومن تاب معک “۔ اس عطف سے یہ ہرگز لازم نہیں آتا کہ پیغمبر (علیہ السلام) کی استقامت اور مومنین کی استقامت ایک درجہ یا ایک مرتبہ کی چیز ہے اشتراک صرف نفس عمل میں ظاہر ہوتا ہے نہ کہ مراتب عمل میں، والعطف لایقتضی اکثر من المشارکۃ فی مطلق الفعل (روح) (آیت) ” تاب “۔ تو بہ کس چیز سے مراد ہے ؟ کفر وضلالت سے توبہ۔ 157۔ اس کا علم بھی کامل، محیط اور اس کو قدرت جزا بھی ہر طرح پر حاصل ہے۔ (آیت) ” ولا تطغوا “۔ طغیان سے مراد ہے عقائد و عبادات یا اخلاق ومعاملات کسی بات میں بھی افراط یا تفریط اختیار کرنا اور یہ استقامت کی ضد ہے جس کا حکم ابھی مل چکا ہے۔
Ayah 11:113

وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُ١ۙ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ Open ayah 11:113 in the Quran reader

اور ان لوگوں کی طرف مت جھکوجو ظالم ہیں (اپنے حق میں) ،158۔ ورنہ تمہیں بھی (دوزخ) کی آگ چھوجائے گی اور (اس وقت) اللہ کے سوا کوئی تمہارا رفیق نہ ہوگا پھر تمہاری مدد بھی کی نہ جائے گی،159۔

158۔ (اے مسلمانو ! ) خطاب عام امت سے ہے۔ (آیت) ” ولا ترکنوا “۔ یہ رکون یا جھکنا بہ اعتبار دوستی اور محبت اور شرکت احوال و اعمال کے ہے۔ (آیت) ” الی الذین ظلموا “۔ یعنی کافروں اور مشرکوں کی طرف۔ 159۔ یہ ساری وعیدیں رکون الی الکفار یعنی کافروں کی طرف محض مائل ہونے پر بیان ہورہی ہیں اللہ اللہ ! کفر کس درجہ اللہ کی نظر میں مبغوض ہے ! علماء محققین کے حسب تصریح بلاضرورت کفار کی وضع اختیار کرنا باوجود قدرت ان پر نکیر ان کی تعظیم کرنا بلاضرورت شرعی ان کے ساتھ مصاحبت ومجالست اور ان کے ساتھ مداہنت یہ سب اسی نہی کے تحت میں آجاتا ہے اور یہ سب مثالیں رکوان الی الکفار کی ہیں۔ فاقتضی ذلک النھی عن مجالسۃ الظالمین وموانستھم والا نصات الیھم (جصاص)
Ayah 11:114

وَ اَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَیِ النَّهَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ الَّیْلِ١ؕ اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ١ؕ ذٰلِكَ ذِكْرٰى لِلذّٰكِرِیْنَۚ Open ayah 11:114 in the Quran reader

اور آپ نماز کی پابندی رکھیے ان کے دونوں سروں پر اور رات کے کچھ حصوں میں،160۔ بیشک نیکیاں مٹا دیتی ہیں بدیوں کو،161۔ یہ ایک نصیحت ہے نصیحت ماننے والوں کے لئے،162۔

160۔ اس میں بدرجہ اجمال دن رات کی پانچوں فرض نمازیں آگئیں۔ (آیت) ” طرفی النھار “۔ یا دن کے دونوں سروں سے مراد ایک طلوع فجر ہے دوسرے بعد زوال۔۔ پھر بعد زوال بجائے خود ظہر وعصر کے دو حصوں پر شامل ہے اور (آیت) ” زلفا من الیل “۔ کے اندر مغرب و عشاء کے اوقات آگئے قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی اوقات نماز کا ذکر ہے۔ بدرجہ اجمال ہی ہے تفصیلات صرف سنت رسول کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوں گی ہمارے زمانہ کے جن علماء مجددین نے محض قرآن مجید سے پوری تفصیلات نکالنی چاہی ہیں۔ انہوں نے عجب عجب مضحکہ خیز غلطیاں کی ہیں۔ 161۔ (اس لئے ہر نیکی کوشش کرتے رہو) یہ صحیفہ اسلامی کی عجیب و غریب دفعہ ہے جس کی نظیر مشکل ہی سے کسی دوسرے صحیفہ دینی میں ملے گی ارشاد ہوتا ہے کہ ہر حسنہ بجائے خود تو خیر نیکی ہے ہی، ایک خاصہ اذہاب سیۂ (بدی کو مٹانے) کا بھی رکھتی ہے نیکیوں کی افزائش کی ترغیب کا اس سے بہتر نسخہ اور کیا ہوسکتا ہے۔ اگر بندے اپنی باہمی معاملات میں اللہ کے اس قانون کو یاد رکھتے تو آج آپس کی رنجشوں اور شکایتوں کا دفتر کتنا مختصر ہوگیا ہوتا۔ اللہ تو اپنے ہاں کا یہ قاعدہ رکھے کہ نیکیوں کے ہوتے ہوئے بدیوں پر نظر نہ کی جائے اور بندے اس کے برعکس یہ عمل جاری رکھیں کہ اپنے بھائیوں کی کمزوریوں، لغزشوں، خطاؤں کے آگے ان کی خوبیوں پر برابر خاک ہی ڈالے رہیں، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ طاعت کے انوار سے معصیت کی ظلمتیں دور ہوجاتی ہیں اور ملکہ طاعت کے غلبہ سے مادۂ معصیت مضمحل ہوتا جاتا ہے۔ 162۔ یعنی یہ قاعدہ کہ نیکیوں سے گناہ معاف ہوجاتے ہیں ایک بڑی جامع نصیحت ہے ان لوگوں کے حق میں جو اسے سننا اور اس سے نفع اٹھانا چاہیں کہ اس سے نیکیوں کی بڑی ترغیب ہوتی ہے۔
Ayah 11:115

وَ اصْبِرْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 11:115 in the Quran reader

اور صبر کرتے رہئے بیشک اللہ نیک کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا،163۔

163۔ (سو آپ ﷺ کے اجر کا درجہ تو بہت بڑا ہے وہ کیسے ضائع ہوسکتا ہے) (آیت) ” واصبر “۔ صبر کرنے سے یہاں مراد کافروں اور منکروں کی اذیت رسانیوں پر صبر کرنا ہے۔
Ayah 11:116

فَلَوْ لَا كَانَ مِنَ الْقُرُوْنِ مِنْ قَبْلِكُمْ اُولُوْا بَقِیَّةٍ یَّنْهَوْنَ عَنِ الْفَسَادِ فِی الْاَرْضِ اِلَّا قَلِیْلًا مِّمَّنْ اَنْجَیْنَا مِنْهُمْ١ۚ وَ اتَّبَعَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَاۤ اُتْرِفُوْا فِیْهِ وَ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ Open ayah 11:116 in the Quran reader

پس کاش تمہارے پیشتر کی امتوں سے ایسے سمجھ درا لوگ ہوتے جو منع کرتے ملک میں فساد (پھیلانے) سے بجز چند لوگوں کے جن کو ہم نے ان میں سے بچا لیا تھا،164۔ اور جو لوگ (اپنی جانوں پر) ظلم کرنے والے تھے وہ جس ناز ونعمت میں تھے اسی کے پیچھے پڑے رہے اور (عادی) مجرم،165۔ ہوگے

164۔ یعنی اگلی امتوں میں اگر ایسے لوگ کثرت سے ہوتے جو دوسروں کو فساد فی الارض سے یا قانون الہی کی نافرمانیوں سے روکتے ٹوکتے رہتے تو ان قوموں پر عذاب ہی کیوں آتا وہ تو صرف معدودے چند لوگ تھے، جنہوں نے اپنا یہ فرض ادا کیا اور وہ عذاب کی گرفت سے محفوظ رکھے گئے۔ معناہ ولکن قلیلا ممن انجینا من القرون نھوا عن الفساد وسائر ھم تار کون للنھی (کشاف) (آیت) ” اولوا بقیۃ “ کے معنی اصحاب خیر اور اصحاب فضل کے بھی کئے گئے ہیں اور اصحاب فہم کے بھی، ای او لوافضل وخیر (کشاف) ای ذو وخصلۃ باقیۃ من الرأی والعقل (روح) الفساد فی الارض۔ قرآن مجید کی انہی قدیم قوموں اور امتوں میں سے۔ (آیت) ” ممن انجینا منھم “۔ یعنی جنہیں عذاب کی گرفت سے بچا لیا گیا یہ وہی لوگ تھے جو نہ صرف خود ہی کفر وشرک سے الگ رہے بلکہ دوسروں کو بھی اس سے روکتے رہے۔ 165۔ (کہ اس سے باز ہی نہ آئے) یعنی منکرین بددین بدستور اپنی مادی عیش و عشرت میں پڑے رہے اور سب کے سب مجرم ہی رہے۔
Ayah 11:117

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ لِیُهْلِكَ الْقُرٰى بِظُلْمٍ وَّ اَهْلُهَا مُصْلِحُوْنَ Open ayah 11:117 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار ہرگز ایسا نہیں کہ بستیوں کو ہلاک کردے (ان کی) زیادتیوں کے باعث درآنحالیکہ ان کے رہنے والے اصلاح میں لگے ہوں،166۔

166۔ (بلکہ عذاب ہلاکت تو ان پر اس وقت واقع ہوتا ہے۔ جب نہ وہ خود فساد فی الارض سے رکتے ہیں نہ دوسروں کو روکتے ہیں) (آیت) ” مصلحون “۔ اصلاح سے یہاں مراد اپنی اور دوسروں دونوں کی اصلاح ہے۔ (آیت) ” بظلم “۔ ظلم سے یہاں مراد کفر لیا گیا ہے اور ظلم کا صیغہ نکرہ ظلم کی عظمت ظاہر کرنے کو ہے۔ والتنکیر للتفخیم (روح) لیکن بعض اکابر مفسرین نے آیت کے بالکل دوسرے ہی معنی قرار دیے ہیں وہ ظلم کر شرک کا مرادف قرار دے کر کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ کسی قوم کو محض اس کے شرک کی بنا پر ہلاک نہیں کردیتا اس حال میں کہ وہ قوم آپس کے معاملات (بندوں کے معاملات) ٹھیک رکھے ہوئے ہو۔ المراد من الظلم ھھنا الشرک والمعنی انہ تعالیٰ لایھلک اھل القری بمجرد کو نھم مشرکین اذا کانوا مصلحین فی المعاملات فی ما بینھم والحاصل ان عذاب الاستیصال لا ینزل لاجل کون القوم معتقدین للشرک والکفر بل انما ینزل ذلک العذاب اذا اساء وا فی المعاملات وسعوا فی الایذاء والظلم (کبیر) ای لا یھلک القری بسبب شرک اھلھا وھم مصلحون فی المعاملات فیما بینھم لایضمون الی شرکھم فسادا اخر (مدارک) اور امام رازی (رح) نے فرمایا ہے کہ مذہب اہل سنت کے موافق آیت کی یہی تفسیر ہے۔ وھذا تاویل اھل السنۃ لھذہ الایۃ (کبیر) فقہاء نے یہیں سے یہ بھی نکالا ہے کہ تزاحم حقوق کے وقت حقوق العباد مقدم ہیں۔ ومن ذلک قدم الفقھاء عند تزاحم الحقوق حقوق العباد (بیضاوی) (آیت) ” لیھلک “۔ میں ل تاکید نفی کے لئے ہے۔ اللام لتاکید النفی (کشاف) واللام فیہ مثل ذلک زائدۃ لتاکید النفی عند الکوفیۃ (روح)
Ayah 11:118

وَ لَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَجَعَلَ النَّاسَ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لَا یَزَالُوْنَ مُخْتَلِفِیْنَۙ Open ayah 11:118 in the Quran reader

اور اگر آپ کے پروردگار کی مشیت ہوتی تو (سب) انسانوں کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن وہ اختلاف ہی کرنے والے ہمیشہ رہیں گے،167۔

167۔ گویا انسان کی اب جو خلقت رکھی گئی ہے اس کے لحاظ سے یہ ضرور ہے کہ اہل حق کے مقابلہ میں کچھ اہل ضلال بھی برابر پیدا ہوتے رہیں اور جس طرح صفت رحم وکرم کے مظہر اہل حق اہل جنت میں اسی طرح صفت غضب کے مورد اہل باطل واہل جہنم ہوتے رہیں۔ وذلک لیکونوا مظاہر جمالہ وجلالہ ولطفہ وقھرہ (روح) (آیت) ” ولوشآء ربک “۔ یعنی اگر مشیت تکوینی کا اقتضاء یہی ہوتا۔ (آیت) ” لجعل الناس امۃ واحدۃ “۔ یعنی سب کے سب اضطرارا وجبلۃ حق پر جمع ہوجاتے اور دنیا میں بس ایک ہی قوم اہل حق کی رہتی۔ قال قتادۃ یجعلھم مسلمین وذلک بالالجاء الی الایمان (جصاص)
Ayah 11:119

اِلَّا مَنْ رَّحِمَ رَبُّكَ١ؕ وَ لِذٰلِكَ خَلَقَهُمْ١ؕ وَ تَمَّتْ كَلِمَةُ رَبِّكَ لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنَ الْجِنَّةِ وَ النَّاسِ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 11:119 in the Quran reader

بجز اس کے جس پر آپ کے پروردگار کی رحمت ہو، اور اسی لئے اس نے انہیں پیدا کیا ہے اور آپ کے پروردگار کی یہ بات پوری ہوگئی کہ میں جہنم کو جنات اور انسانوں سب سے بھر دوں گا،168۔

168۔ (سواے پیغمبر ﷺ آپ طبقہ اہل ضلال کے وجود پر زیادہ غم وحیرت نہ کریں) (آیت) ” لذلک خلقھم “۔ یہاں یہ بتادیا کہ انسان کی خلقت ہی ایسی رکھدی گئی ہے کہ اہل حق کے مقابلہ میں اہل ضلال برابر پیدا ہوتے رہیں اور رسول اللہ ﷺ کو سمجھا دیا گیا کہ آپ اس پر زیادہ غم وحیرت نہ کریں، یہ بیان انسان کی غایت تکوینی کا ہوا اس لئے اس میں اور اس غایت تشریعی کے درمیان کوئی تناقض نہیں۔ جہاں یہ بیان ہوا ہے کہ انسان وجنات کی غایت آفرینش عبادت الہی ہے۔ بعض ائمہ تفسیر نے خلق کا تعلق رحم سے سمجھا ہے اور فقرہ کے معنی یہ لئے ہیں کہ ” رحمت ہی کے غرض سے انہیں پیدا کیا ہے۔ “ روی عن ابن عباس و مجاھد وقتادۃ والضحاک خلقھم للرحمۃ (جصاص) (آیت) ” اجمعین “۔ سے ظاہر ہے کہ مراد یہ نہیں کہ کل جنات اور انسان دوزخ میں ڈال دیئے جائیں گے بلکہ مراد یہ ہے کہ جتنوں کو دوزخ میں جانا ہے ان میں جن وانس سب ہی ہوں گے۔ (آیت) ” الامن رحم ربک “۔ یعنی بجز ان لوگوں کے جنہیں اللہ اختلاف باطل سے محفوظ رکھ لے، انما ھو استثناء من المختلفین بالباطل بالاطلاق فی الایمان المؤدی الی الثواب (جصاص)
Ayah 11:120

وَ كُلًّا نَّقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهٖ فُؤَادَكَ١ۚ وَ جَآءَكَ فِیْ هٰذِهِ الْحَقُّ وَ مَوْعِظَةٌ وَّ ذِكْرٰى لِلْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 11:120 in the Quran reader

اور پیغمبروں کے قصوں میں سے ہم یہ سب (قصے) آپ سے بیان کرتے ہیں جن سے ہم آپ کے دل کو تقویت دیتے ہیں اور ان (قصوں) کے اندر آپ کے پاس حق پہنچا ہے اور (ان میں) نصیحت اور یاد دہانی اہل ایمان کے لئے ہے،169۔

169۔ مطلب یہ ہوا کہ ان قرآنی قصوں کے مضامین ومطالب ایک تو بجائے خود حق اور واقعی پھر ایک تو برے کاموں سے رکنے کی نصیحت ان میں ملتی ہے دوسرے اچھے کاموں کی یاددہانی ان سے ہوتی ہے اور ثبات قلب ان سے جو آپ ﷺ کو حاصل ہوتا ہے وہ اس سب سے الگ۔ مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ مقبولین کی سرگزشت میں ایک خاص اثر تثبیت قلب وتقویت قلب کا ہے اس لیے مشائخ نے اولیاء صالحین کی حکایات کے جمع کرنے کا خاص اہمتام کیا ہے۔