8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 8:60–61

وَ اَعِدُّوْا لَهُمْ مَّا اسْتَطَعْتُمْ مِّنْ قُوَّةٍ وَّ مِنْ رِّبَاطِ الْخَیْلِ تُرْهِبُوْنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَ عَدُوَّكُمْ وَ اٰخَرِیْنَ مِنْ دُوْنِهِمْ١ۚ لَا تَعْلَمُوْنَهُمْ١ۚ اَللّٰهُ یَعْلَمُهُمْ١ؕ وَ مَا تُنْفِقُوْا مِنْ شَیْءٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یُوَفَّ اِلَیْكُمْ وَ اَنْتُمْ لَا تُظْلَمُوْنَ Open ayah 8:60 in the Quran reader

اور تیار کرو تم لوگ (اے مسلمانو ! ) ان (دشمنان حق) کے مقابلے کے لئے جو بھی قوت تم سے بن پڑے، اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے، تاکہ تم اپنی دھاک بٹھاسکو، اس (سامان حرب وضرب) کے ذریعے (ان ابناء کفر وباطل) پر جو کہ دشمن ہیں اللہ کے، اور دشمن ہیں تمہارے، اور ان کے علاوہ ان دوسروں پر بھی جو کو تم نہیں جانتے، مگر اللہ جانتا ہے ان سب کو،4 اور یاد (رکھو کہ) جو بھی کچھ تم لوگ خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں وہ پورا پورا لوٹایا جائے گا تمہاری طرف، اور تمہارے کوئی حق تلفی نہیں ہوگی،1

وَ اِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ هُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ Open ayah 8:61 in the Quran reader

اور اگر جھک جائیں یہ لوگ صلح (صفائی) کی طرف تو تم بھی جھک جاؤ اس کی طرف اور بھروسہ بہرحال اللہ ہی پر رکھنا، بیشک وہی ہے سنتا (ہر کسی کو، اور) جانتا (سب کچھ)2

125 دشمنانِ حق کے مقابلے کیلئے ہر ممکن قوت تیار کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان دشمنان حق کے مقابلے کے لیے جو بھی قوت تم سے ہو سکے تیار کرو { مِنْ قُوَّۃٍ } کا عموم پہلے زمانے کے تیر و تفنگ سے لے کر دور حاضر کے ٹینک، راکٹ اور بم وغیرہ سب کو شامل ہے۔ اور حدیث شریف میں اس کی تفسیر میں جو فرمایا گیا ہے " اَلا اِنَّ الْقُوَّۃَ الرَّمْیُ " کہ " قوت تیر اندازی ہے " تو یہ اس دور کے لحاظ سے ایک اہم قوت کا بیان ہے، نہ کہ حصر و قصر کا ذکر وبیان۔ کیونکہ اس دور میں دست بدست لڑائی کے علاوہ تلوارں، نیزوں اور تیروں سے ہی لڑائیاں ہوا کرتی تھیں۔ اور ظاہر ہے کہ ان سب میں سب سے زیادہ سلامتی والا اور کارگر حربہ تیر اندازی کا حربہ ہی ہوتا تھا۔ اس لئے لسان نبوت سے اس کی اس طرح تاکید فرمائی گئی کہ اس دور کی سب سے بڑی قوت بہرحال یہی تھی۔ پس اس لحاظ سے اس ارشاد نبوی کا تقاضا بھی یہی ہے کہ دور حاضر کے جدید ترین ہتھیار اس عموم میں داخل ہوں اور مسلمان ان سب کو بنانے چلانے اور اپنانے کی کوشش کریں۔ (روح، قرطبی، معارف للکاندھلوی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے مسلمانوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ وہ اپنی جنگی قوت کو اور زیادہ بڑھائیں تعداد ونفری کے لحاظ سے بھی اور سامان حرب و ضرب کے اعتبار سے بھی، جس میں خاص طور پر جنگی گھوڑوں کا ذکر فرمایا گیا ہے کیونکہ اس زمانے کی جنگ میں گھوڑوں کو وہی اہمیت حاصل تھی جو اس زمانے میں ٹینکوں اور ہوائی جہازوں کو حاصل ہے۔ 126 سامان جہاد کی تیاری کا ایک اہم مقصد، دشمنانِ حق پر دھاک بٹھانا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی قوت تم لوگوں سے ممکن ہو سکے اے ایمان والو تم وہ تیار کرو تاکہ اس کے ذریعے تم دھاک بٹھا سکو ان ابنائے کفر و باطل پر جو دشمن ہیں اللہ کے اور دشمن ہیں تمہارے اور ان کے علاوہ ان دوسروں پر بھی جن کو تم نہیں جانتے مگر اللہ ان سب کو خوب جانتا ہے۔ تاکہ تمہاری اس استعداد و تیاری کو دیکھتے ہوئے وہ تم پر حملہ کرنے کی اور راہ حق سے روکنے کی جرأت نہ کرسکیں۔ اور یہی اصل مقصد ہے جہاد اسلامی کا کہ اللہ کا دین اور اس کا کلمہ سربلند رہے اور کفر اور اس کا کلمہ سرنگوں { لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الْعُلْیَا وَکَلِمَۃُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی } سو جو بھی قوت تم سے ممکن ہو سکے اور ہر زمانے کے تقاضوں کے مطابق جیسی بھی قوت کی ضرورت ہو، وہ تم لوگ اپنے دشمنوں سے نمٹنے کیلئے تیار کرو، تاکہ تمہارے دشمنوں پر تمہاری دھاک بیٹھ جائے اور وہ تمہاری طرف بری نیت سے نگاہ بھی نہ اٹھا سکیں۔ سو اعداد قوت اسلام کا ایک اہم حکم اور اسلامی تعلیمات کا ایک اہم مقتضیٰ ہے۔ سو اس سے سامان حرب و ضرب کی تیاری سے متعلق حکم کا مقصد بیان فرما دیا گیا کہ اس سے تمہارے دشمنوں پر تمہاری دھاک بیٹھ جائے اور تمہاری ہیبت قائم ہوجائے تاکہ وہ تم کو نرم چارہ سمجھ کر تم پر حملہ کرنے کی جرات نہ کرسکیں۔ یہاں پر مسلمان کے دشمنوں کو اللہ کا دشمن قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ مسلمان کی جنگ جس سے بھی ہوتی ہے اللہ کے دین ہی کے لئے ہوتی ہے۔ اس کے سوا اس میں اور کسی چیز کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ سو جو اللہ کا دشمن ہے وہ مسلمانوں کا دشمن ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 127 حق اور اہل حق کے چھپے دشمنوں کی طرف اشارہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے علاوہ ان دوسروں کو بھی جن کو تم نہیں جانتے مگر اللہ ان کو جانتا ہے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حق اور اہل حق کے اور بھی ایسے دشمن ہیں جن کے بارے میں فرمایا گیا کہ اللہ ان سب کو جانتا ہے اور پوری طرح جانتا ہے کہ وہ علیم وخبیر سب کچھ جانتا ہے۔ اور اس سے کوئی چیز مخفی نہیں رہ سکتی۔ اور اسی لئے وہ تم لوگوں کو جہاد کے لئے تیاری اور اس کے لئے اَسباب و ذرائع اور سامان حرب و ضرب کی فراہمی کا یہ حکم دیتا ہے۔ رہ گئی یہ بات کہ ان { اٰخَرِیِنَ } یعنی " دوسرے لوگوں " سے مراد کون لوگ ہیں ؟ تو اس بارے میں بعض نے کہا کہ اس سے مراد منافقین ہیں۔ بعض نے کہا کہ یہود مدینہ۔ اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد روم وفارس کے کفار و مشرکین ہیں۔ لیکن اصل اور بہتر یہ ہے کہ { آخرین } کے اس لفظ کو اپنے عموم پر ہی رکھا جائے جس کے مطابق یہ ان تمام کفار کو جن کا ذکر ہوا اور ان کے علاوہ ان سب کو بھی شامل ہے جو آئندہ آنے والے زمانوں اور دوسرے ملکوں اور مکانوں میں ظاہر ہوں گے کہ لفظ کا عموم اور اللہ پاک کا حکم و ارشاد ان سب ہی کو شامل ہے۔ سو اس میں قریش بھی آگئے جو کہ مسلمانوں کے اعلانیہ اور کھلم کھلا اور ازلی دشمن تھے۔ اور وہ دوسرے بھی جو ابھی پردے میں تھے۔ جیسے یہود، جن کی خفیہ سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا ذکر اوپر ہوچکا ہے۔ اور دوسرے تمام کفار و مشرکین جو اس وقت موجود تھے اور جو آئندہ سامنے آئیں گے کہ دین حنیف کا یہ حکم ہمیشہ کے لئے ہے اور { آخرین } کا عموم ان سب ہی شامل ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے دشمنوں اور ان کے شرور سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 128 انفاق فی سبیل اللہ کی تعلیم و ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو بھی کچھ تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے وہ تم کو پورے کا پورا لوٹایا جائے گا کہ اس سے تمہیں اس دنیا میں عزت و عظمت کا معنوی اجر و صلہ بھی ملے گا اور اس کے علاوہ تم کو مال غنیمت، فَے، جزیہ اور خراج کی صورت میں مادی فوائد بھی حاصل ہوں گے۔ ، اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم اور دائمی اجر وثواب سے سرفرازی بھی نصیب ہوگی۔ (محاسن التاویل، معارف وغیرہ) ۔ اور آخرت کا اجر وثواب اور رضائے خداوندی اور نعیم جنت سے سرفرازی بھی جو کہ مومن صادق کا اصل مقصد اور نصب العین ہوتا ہے۔ پس تم لوگوں سے جس قدر بھی ہوسکے اللہ کی راہ میں اور اس کی رضاء کیلئے خرچ کیے جاؤ۔ وہ تمہیں اس واہب مطلق اور خالق کل کی طرف سے پورے کا پورا بلکہ " اضغافا مضاعفۃ " ہو کر واپس ملے گا ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس ارشاد میں انفاق فی سبیل اللہ کے لئے ترغیب وتحریض ہے کہ تم لوگ اللہ کی راہ میں جو بھی کچھ خرچ کرو گے اس کا کوئی دھیلا پیسہ ضائع نہیں جائے گا بلکہ وہ سب تم کو پورا واپس ملے گا اور کئی گنا بڑھ کر ملے گا اور اللہ تعالیٰ کے یہاں تمہاری پائی پائی کا حساب موجود ہے اور تمہیں تمہارا دیا سب کا سب واپس ملے گا۔ اس میں ذرہ برابر کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ پس اس کے نام پر اور اس کی رضا پر خرچ کیے جاؤ کہ آج اس کا موقع ہے ۔ وباللہ التوفیق - 129 اللہ تعالیٰ کے یہاں کسی کی کوئی حق تلفی نہیں ہوگی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور تمہاری کوئی حق تلفی نہیں ہوگی کہ تم کو اپنے کئے کا کوئی بدلہ نہ ملے یا کچھ گھٹا کر ملے۔ سو ایسی کوئی بھی صورت نہ ہوگی بلکہ تم کو اپنے کئے کرائے کے بھرپور اجر و صلہ سے نوازا جائے گا۔ بلکہ اصل سے کہیں بڑھا کردیا جائے گا کیونکہ یہ صلہ و بخشش اس واہب مطلق کی طرف سے ہوگا جو کہ اکرم الاکرمین ہے اور جس کی بخشش وعطاء کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہائ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں دئے دلائے کا اجر اور ثواب تم کو اس دنیا میں بھی ملے گا کہ اس سے تمہیں عزت و عظمت نصیب ہوگی، خیر و برکت ملے گی اور اصل اور پورا اجر وثواب آخرت کے اس ابدی گھر میں ملے گا جس کو نہ فناء ہے نہ زوال۔ اور جہاں کا اجر حقیقی اور اصل اجر ہے۔ پس عقل ونقل کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی دنیا و آخرت کے لیے کمائی کرتا اور جمع کرتا اور جوڑتا چلا جائے اور اپنی آخرت کے لیے کمائی کرنے اور وہاں کے لیے پونجی جمع کرنے ہی کو اصل مقصد بنائے ۔ { لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ } ۔ اللہ توفیق بخشے اور زندگی کا ہر لمحہ و لحظہ اپنی رضا و خوشنودی کے لیے صرف کرنے کی سعادت نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 8:62

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْۤا اَنْ یَّخْدَعُوْكَ فَاِنَّ حَسْبَكَ اللّٰهُ١ؕ هُوَ الَّذِیْۤ اَیَّدَكَ بِنَصْرِهٖ وَ بِالْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 8:62 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ دھوکہ دینا چاہیں آپ کو تو (اس کی پرواہ نہیں کرنا کہ) بیشک کافی ہے آپ کو اللہ (ان سب کے مقابلے میں) وہ وہی ہے، جس نے آپ کو قوت بخشی اپنی مدد سے، اور مسلمانوں کے ذریعے،

133 بھروسہ اللہ پر رکھیں اور دشمن کی پرواہ نہ کریں : کہ اگر اللہ پر صحیح طور سے بھروسہ ہو تو پھر کسی سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یعنی { اِنْ یُّرِیْدُوا } کے جملہ شرطیہ کا جو اب شرط محذوف ہے جو اسی طرح کے کسی جملے سے مقدر مانا جاسکتا ہے۔ اور { فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہِ } اس محذوف و مقدر کی علت اور دلیل ہے۔ اور یہ قرآن حکیم کا ایک معروف اسلوب ہے جو جگہ جگہ پایا جاتا ہے۔ سو اس ارشاد ربانی میں یہ درس عظیم دیا گیا ہے کہ اگر اللہ پر صحیح طور سے بھروسہ و اعتماد ہے تو پھر کفار و مشرکین کے شرور سے ڈرنے اور ان کی فکر کرنے کی ضرورت نہیں کہ اللہ آپ کو کافی ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ آپ کو دھوکہ دینے کی کوشش کریں تو آپ ان کی پرواہ نہ کریں کہ اللہ آپ کو کافی ہے۔ پس اس طرح کے کسی اندیشے کی بناء پر صلح اور خیر کی پیشکش کو ٹھکرایا نہ جائے بلکہ اللہ کے بھروسے پر اس کو قبول کرلیا جائے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ توکل علی اللہ کا درس صرف مسجد کی چار دیواری ہی تک محدود نہیں بلکہ میدان جنگ میں بھی مسلمانوں کی اصل قوت یہی ہے۔ اور دشمن سے مصالحت جیسے اہم امور اور بین الاقوامی معاملات میں بھی اہل ایمان کی ڈھارس اور ان کا پشت پناہ اللہ ہی ہے سو اللہ پر توکل ہی مسلمان کی اصل قوت اور اس کا حقیقی سرمایہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 134 کافی ہے اللہ آپ کو [ اے پیغمبر !] : جس نے آپ کو قوت بخشی اپنی مدد سے خاص طور پر اور ظاہری اسباب کے بغیر۔ جیسا کہ بدر میں ہوا کہ ایک طرف آپ ﷺ کی مدد کے لئے بطور خاص آسمان سے فرشتوں کے لشکر اتارے گئے اور دوسری طرف کفار کے دلوں میں رعب ڈال دیا گیا۔ پھر عین معرکہ کے دوران ان کی تھوڑی سی تعداد کو دشمن کی آنکھوں میں دو گنا کر کے دکھایا گیا جس سے ان کے حوصلے پست ہوگئے وغیرہ وغیرہ۔ جس سے وہ ذلت آمیز اور کمر توڑ شکست سے دوچار ہوئے ۔ والحمد اللہ ۔ سو وہ اللہ آپ کو کافی ہے ہر حال میں اور زندگی کے ہر موڑ پر۔ پس دل کا بھروسہ ہمیشہ اسی پر رکھیں۔ سو " اللہ کافی ہے آپ کو " کا ارشاد مسلمان کے لئے ایک عظیم الشان اور بےمثال ڈھارس اور اس کی قوت کا اصل سرچشمہ ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کا جاہل مسلمان اپنے اس سرچشمہ قوت سے غافل و بیخبر ، طرح طرح کے تنکوں کا سہارا لیتا اور عاجز و بےبس مخلوق پر تکیہ و آسرا کرتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ میدان جنگ میں بھی اللہ کو چھوڑ کر اوروں کو پکارتا اور ان کے نام کے نعرے لگاتا ہے۔ تو پھر اس کو اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد سے سرفرازی نصیب ہو تو کیسے ہو ؟ جب کہ یہ اس پر بھروسہ رکھتے اور اس کو پکارنے کے شرف ہی سے محروم رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 135 پیغمبر کی تائید وتقویت اہل ایمان کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ نے آپکو قوت بخشی اہل ایمان کے ذریعے کہ ظاہری اسباب کے درجے میں ان کو بھی آپ کے لئے مدد اور قوت کا ذریعہ بنایا اور انہوں نے جس اطاعت و فرمانبرداری اور جانبازی و سرفروشی سے آپ کا ساتھ دیا اس کی مثال چشم فلک نے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔ سو ایسے میں آپ کو ان کفار و مشرکین کی شر انگیزیوں کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے ؟ پس آپ کے سچے پیروکار اہل ایمان کی مدد آپ کیلئے کافی ہے اور آپ کی اطاعت و اتباع کی برکت سے آپ کے ان سچے پیروکاروں کو ایسی قوت اور برکت نصیب ہوئی کہ ان کی تھوڑی سی تعداد کفار کے اتنے بڑے لشکر پر غالب آگئی۔ سو مومن کی قوت کا اصل دارومدار قوت ایمان، توکل علی اللہ اور اطاعت و اتباع رسول میں ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ-
Ayah 8:63

وَ اَلَّفَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ١ؕ لَوْ اَنْفَقْتَ مَا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا مَّاۤ اَلَّفْتَ بَیْنَ قُلُوْبِهِمْ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ اَلَّفَ بَیْنَهُمْ١ؕ اِنَّهٗ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:63 in the Quran reader

اور اسی نے باہمی الفت ڈال دی ان کے دلوں میں، (اپنی خاص رحمت و عنایت سے، ورنہ) آپ اگر وہ سب کچھ خرچ کردیتے جو کہ روئے زمین پر (موجود ہے) تو بھی آپ ان کے دلوں کو آپس میں نہیں جوڑ سکتے تھے، لیکن اللہ ہی نے باہم جوڑ دیا، ان (کے پھٹے ہوئے دلوں) کو، بیشک وہ بڑا ہی زبردست، نہایت ہی حکمت والا ہے،3

136 تالیف قلوب کی عنایت کا ذکر وبیان : سو تالیف قلوب کا معجزہ ایک عظیم الشان معجزہ تھا جو پیغمبر اسلام کے ہاتھ پر قدرت کی طرف سے ظاہر ہوا کہ صدیوں سے بگڑے اور کٹے ہوئے اور اہواء و اَغراض کے جالوں میں پھنسے، جکڑے اور الجھے ہوئے دلوں اور پشت در پشت عداوت و دشمنی پر پلنے بڑھنے والے ان لوگوں کو باہم ملا کر شیرو شکر کردینا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ بلکہ ایسا کرنا عام انسانی قوت سے خارج اور بشری استطاعت سے باہر ہے۔ کیونکہ یہ لوگ وہ لوگ تھے جن کے اندر طرح طرح کے تعصبات پائے جاتے تھے۔ ان کے معبود اور ان کے خود ساختہ بت بھی آپس میں مختلف تھے۔ ان کے اندر موجود اسی طرح کے جاہلی تعصبات کی بناء پر ان کے درمیان طرح طرح کی جنگیں اور لڑائیاں بھی ہوچکی تھیں۔ سو ایسی صورتحال میں کسی شیطانی مقصد یا دنیاوی مفاد کیلئے کوئی بھیڑ جمع کردینا اگرچہ کچھ مشکل نہیں جیسا کہ ابنائے دنیا کے نعرے باز کرتے رہتے ہیں لیکن جہالت اور جاہلیت میں ڈوبے ہوئے ایسے لوگوں کو خالص دین حق کی بنیاد پر اکٹھے کردینا اور باہم شیر و شکر کردینا کوئی آسان کام نہ تھا۔ بلکہ یہ حضرت قادر مطلق ۔ جل و علا ۔ کی قدرت مطلقہ کا ایک عظیم الشان مظہر اور نمونہ تھا جو معجزانہ طور پر اسلام کے حق میں ظاہر ہوا ۔ فللہ الحمد رب العالمین ۔ سو ایسا ہونا اللہ پاک کی خصوصی توفیق و عنایت کے بغیر ممکن نہ تھا۔ دلوں کی باگ ڈور اسی قادر مطلق کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے کہ وہ علی کل شیء قدیر ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 137 اللہ ہی نے جوڑ دیا باہم پھٹے ہوئے دلوں کو : اور اس نے اپنی رحمت و عنایت کی بناء پر شراب الفت کی چاشنی اور محبت حق کی لذت سے ان کو اس طرح شیر و شکر کردیا کہ یہ سب ایک جسم و جان کی طرح ہوگئے۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ انہوں نے زمانہ جاہلیت کی ہر حمیت و عصبیت کو پاؤں تلے روند کر حق کے لئے اور صرف حق ہی کی خاطر اپنے بھائیوں اور باپ دادا تک کے خلاف بھی تلوار اٹھانے سے گریز نہیں کیا۔ جیسا کہ تاریخ اس کی شاہد عدل ہے۔ اور یہ اسلام کا وہ عظیم الشان معجزہ ہے جس کی نظیر اور مثال چشم فلک نے نہ اس سے پہلے دیکھی ہوگی اور نہ آئندہ قیامت تک کبھی دیکھ سکے گی ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الَّذِیْ بِیَدِہ اَزِمَّۃُ الاُمُوْرِ ۔ پس آپ بھروسہ ہمیشہ اسی قادر مطلق ربِّ رحمن ۔ جَلَّ وَ عَلَا ۔ پر رکھیں، جو دلوں کا مالک ہے اور جسکے قبضہ قدرت و اختیار میں ہر چیز کی باگ ڈور ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وہ آپ کی ہر موقع پر اور ہر اعتبار سے ایسی مدد فرمائے گا کہ پھر آپ کیلئے کسی شکست اور مغلوبیت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوگا ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وعلی ما یحب ویرید وَھُوَ الْہادِی اِلٰی سَوَائِ السَّبِیْل ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم و گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayah 8:64

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَسْبُكَ اللّٰهُ وَ مَنِ اتَّبَعَكَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 8:64 in the Quran reader

اے پیغمبر ! کافی ہے آپ کو بھی، اور ان تمام اہل ایمان کو بھی جو آپ کی پیروی کرتے ہیں،4

138 اور کافی ہے اللہ آپ کو اور جملہ اہل ایمان کو : یعنی { وَمَنْ } کا عطف لفظ اللہ ۔ جَلَّ جَلَالَہ ۔ پر نہیں، بلکہ { حَسْبُکَ } کے مضاف الیہ پر ہے۔ یعنی ضمیر مجرور پر کہ کفایت صرف اللہ ہی کی کفایت ہے۔ جیسا کہ اوپر کی آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا { فَاِنَّ حَسْبَکَ اللّٰہُ } نیز دوسری متعدد آیات کریمہ میں بھی یہی بیان فرمایا گیا۔ جیسے { حَسْبُنَا اللّٰہُ } " کافی ہے ہمیں اللہ " اور { حَسْبِیَ اللّٰہُ } " کافی ہے مجھے اللہ " وغیرہ۔ اس لئے حضرات مفسرین کرام بالعموم اسکا مطلب یہی بیان کرتے ہیں یعنی " اَللّٰہُ کَافِیْکَ وَکَافِی مَنْ اَتَّبَعَکَ " یعنی " اللہ کافی ہے آپ کو بھی اور ان سب اہل ایمان کو بھی جنہوں نے آپکی پیروی کی "۔ اور یہ ترکیب ایسے ہی ہے جیسے کہا جاتا ہے " حَسْبُکَ وَزیْدًا دِرَہُمٌ " یعنی " ایک درہم کافی ہے آپ کو بھی اور زید کو بھی " (صفوہ، محاسن، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو اب معنی یہ ہوگا کہ اللہ کافی ہے آپ کو بھی اے پیغمبر اور کافی ہے ان سب ایمان والوں کو بھی جو آپ کی پیروی کرتے ہیں۔ اور اگر { وَمَنِ اتَّبِعَکَ } کا عطف لفظ جلالہ یعنی " اللہ " پر مانا جائے جیسا کہ اقرب مذکور ہونے کی وجہ سے یہ متبادر بھی ہے تو اس صورت میں بھی معنیٰ واضح ہے کہ اصل کفایت تو بہرحال اللہ پاک ہی کی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کہ وہی سب کا مالک اور کارساز ہے۔ مگر اس نے اپنی اس کارسازی کے ضمن میں ظاہری اسباب کے درجے میں آپ کو ایسے سچے ایماندار اور مخلص و جاں نثار ساتھی بھی عطا فرما دئیے جو کہ آپ کے حکم و ارشاد پر اپنی جانوں کی بازی لگانے کو بھی اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں، جیسا کہ اوپر آیت نمبر 62 میں ارشاد فرمایا گیا ہے { ہُوَ الَّذِیْ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہ وَبِالْمُؤْمِنِیْن } اور جس کی کچھ وضاحت اوپر حاشیہ نمبر 134 میں بھی کردی گئی ہے۔ علامہ زمخشری جیسے محققین نے پہلے احتمال کو ہی اپنایا اور اس کو ترجیح دی ہے یعنی یہ کہ اللہ ہی کافی ہے آپ کو بھی اے پیغمبر اور ان اہل ایمان کو بھی جو آپ کی پیروی کرتے ہیں۔ اور علامہ ابن القیم ۔ (رح) ۔ نے " زاد المعاد " کے مقدمہ میں ٹھوس دلائل کے ساتھ اسی کو ترجیح دی ہے، جبکہ دوسرا قول مجاہد اور حضرت حسن بصری جیسے حضرات سے مروی ہے۔ اور صاحب جلالین وغیرہ کچھ اہل علم نے اسی کو اختیار کیا ہے۔ اور اس کا مطلب بھی وہی ہے جو ابھی ہم نے اوپر بیان کیا جس کے مطابق اس دوسرے قول و احتمال کا مآل و مدعا بھی وہی قرار پاتا ہے جو کہ پہلے کا ہے مگر راحج قول بہرحال پہلا ہی ہے۔ بلکہ دوسرے احتمال کے بارے میں بعض اہل علم نے سخت الفاظ بھی کہے ہیں اور اس کو گمراہی اور کفریہ الفاظ میں سے قرار دیا ہے کہ ایسا کہنا ماننا { حَسْبِیَ اللّٰہُ }، { حَسْبُنَا اللّٰہُ } اور { اَ لَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہ } جیسی دوسری متعدد آیات و نصوص کے خلاف اور انکے منافی ہے۔ (محاسن التاویل، حاشیہ جامع القرآن وغیرہ) ۔ سو حضرات اہل کی ان تصریحات کے مطابق اہل بدعت کے بعض بڑے تحریف پسندوں کی وہ سب تاویلات اور تک بندیاں ھَبَائً مَّنْثُورًا ہوجاتی ہیں جو انہوں نے اس آیت کریمہ سے متعلق کی ہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ من کل سُوْئٍ وّزَیغٍ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر موقع پر اپنی حفاظت و کفایت کے سائے میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 8:65–66

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلَى الْقِتَالِ١ؕ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ عِشْرُوْنَ صٰبِرُوْنَ یَغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 8:65 in the Quran reader

اے پیغمبر ! شوق دلاؤ ایمان والوں کو لڑائی کا (اور پرواہ نہ کرو کافروں کی کثرت تعداد کی کہ) اگر تم میں سے بیس ثابت قدم رہنے والے ہوں گے تو وہ غالب آجائیں گے دو سو پر، اور اگر تم میں سے ایک سو ہوں گے، تو وہ غالب آجائیں گے ایک ہزار کافروں پر، یہ اس لئے کہ یہ لوگ سمجھتے نہیں (حق اور حقیقت کو)

اَلْئٰنَ خَفَّفَ اللّٰهُ عَنْكُمْ وَ عَلِمَ اَنَّ فِیْكُمْ ضَعْفًا١ؕ فَاِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ مِّائَةٌ صَابِرَةٌ یَّغْلِبُوْا مِائَتَیْنِ١ۚ وَ اِنْ یَّكُنْ مِّنْكُمْ اَلْفٌ یَّغْلِبُوْۤا اَلْفَیْنِ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 8:66 in the Quran reader

اب تخفیف فرمادی اللہ نے تم سے، اور اس نے دیکھ لیا کہ تمہارے اندر کمزوری ہے، پس اگر تم میں سے ایک سو ہوں گے صبر والے، تو وہ غالب آجائیں گے دو سو پر، اور تم میں سے ایک ہزار ہوں گے (اسی شان کے) تو وہ غالب آجائیں گے دو ہزار پر، اللہ کے اذن (وحکم) سے، اور اللہ بہرحال ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے،1

139 جہاد فی سبیل اللہ کے لیے تحریض و ترغیب کا حکم وارشاد : سو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ اے پیغمبر ترغیب دو لوگوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی۔ جہاد و قتال کے فوائد و منافع بیان کرکے اور اس پر ملنے والے اجر وثواب سے ان کو آگاہ کر کے کہ جہاد فی سبیل اللہ کا یہ حکم و ارشاد ایمان والوں کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور کامرانی کا وسیلہ اور حیات جاودانی کا ذریعہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ تاکہ یہ لوگ اس سعادت سے متمتع و بہرہ ور ہو سکیں اور اس طرح دنیا سے شرور وفتن کا قلع قمع ہوسکے اور دین حق کا بول بالا ہو اور اعلائِ کلمۃ اللہ کی راہ کی رکاوٹیں دور ہوسکیں۔ سو جہاد فی سبیل اللہ دین حنیف کا ایک عظیم الشان مقصد اور تعلیمات اسلام کا ایک اہم مقتضیٰ ہے۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں پیغمبر کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ مسلمانوں کو جہاد پر ابھاریں اور ان کو اس کے لئے تیار کریں۔ سو جہاد فی سبیل اللہ کی شان بہت عظیم ہے پس اسباب و وسائل کی قلت کی پرواہ کئے بغیر لوگوں کو جہاد کی ترغیب وتعلیم دو ۔ اور جب اللہ تعالیٰ کی مدد اور ان مخلص جاں نثار مسلمانوں کی رفاقت آپ کو حاصل ہے تو پھر آپ کو ان کفار اشرار کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے۔ پس بھروسہ ہمیشہ اللہ پر رکھیں اور جہاد کی ترغیب دیں۔ 140 ایک سو مومن ایک ہزار کافروں پر بھاری : یعنی ایک اور دس کی نسبت رہے گی۔ سو اس میں جہاں ایک طرف مسلمانوں کے غلبہ کی واضح خوشخبری ہے، وہیں دوسری طرف یہ سخت آزمائش بھی ہے کہ مسلمانوں پر اپنے سے دس گنا فوج کے مقابلے میں بھی کھڑا ہونا واجب ہے اور بھاگنا جائز نہیں۔ (روح، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اصل قوت ایمان و یقین کی قوت ہے، جو کہ ایک ناقابل شکست قوت ہے، جس سے سرفرازی و سرشاری کے بعد ایک مومن صادق دس کافروں پر بھی بھاری ہوتا ہے۔ اور تاریخ اس کی شاہد عدل ہے جسکے مظاہر ماضی کے مختلف ادوار کے علاوہ دور حاضر میں بھی افغانستان، کشمیر، فلسطین اور چیچنیا وغیرہ میں آج ہمارے سامنے موجود ہیں۔ سو اصل قوت ایمان و یقین کی قوت ہے کہ اس سے سرشاری کے بعد مومن موت سے بھاگتا نہیں بلکہ اس کو گلے لگاتا ہے۔ اور اس سے ڈرتا نہیں بلکہ اس کی تمنا کرتا ہے کہ راہ حق میں موت خسارے کا سودا نہیں بلکہ حیات جاودانی اور سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ ویُرِیْد ۔ وَھُوَ الْہَادِیْ اِلٰی سَوَائِ السَّبِیْل ۔ سو اس سے قوت ایمان اور مومن صادق کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ 141 کافر لوگ سمجھتے نہیں حق اور حقیقت کو : کہ ان کے پیش نظر صرف دنیا اور اس کے حقیر منافع اور فانی مفادات ہوتے ہیں اور بس۔ جس سے نہ ان کو باطن کی قوت و عزیمت نصیب ہوسکتی ہے اور نہ ہی مصائب ومشاکل کے مقابلے میں ثبات وقرار۔ جبکہ مومن صادق کی لڑائی اور اس کا جہاد اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور حصول جنت کے عظیم اور پاکیزہ مقصد کے لئے ہوتا ہے، جس میں کامیابی ہی کامیابی ہے کہ اس میں اس کو یا فتح و غنیمت کی دولت نصیب ہوتی ہے اور یا شہادت اور جنت سے سرفرازی کی سعادت۔ اس لئے وہ پوری ثابت قدمی اور بےجگری سے لڑتا ہے۔ بلکہ وہ اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے ہی کی غرض سے لڑتا ہے اور اس کی امید اور تمنا رکھتا ہے کہ میری جان جان آفرین کی رضا و خوشنودی کے لئے قربان ہوجائے۔ اور اس کے نتیجے میں میں شہادت کے درجہ و مرتبہ سے مشرف ہو کر حیات ابدی کی دولت سے بہرہ ور ہوجاؤں اور اس کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب اس کے سینے پر دشمن کا تیر لگتا ہے اور وہ دنیا سے رخصت ہونے کو ہوتا ہے تو اس کے منہ سے ہائے و وائے جیسے کلمات حسرت میں سے کسی کلمے کی بجائے بلا اختیار اور بےساختہ اس طرح کا ایمان افروز اور حیات آفریں کلمہ نکلتا ہے " فُزْتُ وَرَبِّ الْکَعْبَۃِ " کہ " رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا "۔ جیسا کہ حضرت حرام بن ملحان ۔ ؓ ۔ نے اپنے سینے میں دشمن کا تیر لگنے پر کہا تھا۔ سو ایمان و یقین کی قوت ناقابل شکست قوت ہے ۔ والحمد للہ -
Ayahs 8:67–68

مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا١ۖۗ وَ اللّٰهُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:67 in the Quran reader

کسی نبی کی یہ شان نہیں کہ ان کے پاس قیدی رہیں، یہاں تک کہ وہ زور کچل دے زمین میں (کفر اور اس کے علم برداروں کا) تم لوگ چاہتے ہو دنیا کے (عارضی اور فانی) فائدے، جب کہ اللہ چاہتا ہے (تمہارے لئے) آخرت (اور اس کی حقیقی اور ابدی کامیابی) اور اللہ بڑا ہی زبردست، نہایت ہی حکمت والا ہے،

لَوْ لَا كِتٰبٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِیْمَاۤ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 8:68 in the Quran reader

اگر اللہ کی طرف سے ایک نوشتہ طے نہ ہوچکا ہوتا تو یقینا پہنچ کر رہتا تم لوگوں کو ایک بڑا عذاب،

144 جہاد اسلامی کا اصل مقصد کفر کا زور توڑنا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جہاد اسلامی کا اصل مقصد تو کفر کا زور توڑنا ہی ہے، تاکہ دین حق کے لئے راہ صاف ہوجائے اور کوئی فتنہ و رکاوٹ باقی نہ رہ جائے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَقَاتِلُوْہُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّ یَکُوْنَ الدِّیْنُ کَلُّہُ لِلّٰہِ } الاٰیۃ (الانفال : 39) ۔ غزوئہ بدر کے بعد جب آنحضرت ﷺ نے اساری بدر کے بارے میں صحابہ کرام ؓ سے مشورہ فرمایا تو حضرت صدیق اکبر۔ ؓ ۔ نے رائے دی کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے کہ ایک تو اس طرح ان کے لئے قبول اسلام کا موقع باقی رہے گا اور یہ ممنون بھی ہوں گے اور دوسرے اس لئے کہ اس طرح فدیہ لینے سے ہماری مالی پوزیشن بھی اچھی ہوجائے گی، جبکہ حضرت عمر فاروق ۔ ؓ ۔ کی رائے تھی کہ ان کو تہ تیغ کردیا جائے اور اس طور پر کیا جائے کہ ہر شخص اپنے قریبی رشتہ دار قیدی کا سر خود قلم کرے تاکہ دنیا کے سامنے یہ حقیقت پوری طرح آشکارا اور واضح ہوجائے کہ حق کے مقابلے میں ہم کسی قرابت و رشتہ داری کی پرواہ نہیں کرتے۔ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے پہلی رائے کو اختیار کرتے ہوئے ان قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا تو اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں اور ان میں یہ بتایا گیا کہ فدیہ لے کر قیدیوں کو چھوڑ دینے کا یہ فیصلہ اللہ تعالیٰ کے یہاں پسندیدہ فیصلہ نہیں۔ مگر اس بارے چونکہ مشورہ اور اجتہاد سے کام لیا گیا تھا اور اجتہادی خطا قابل مواخذہ نہیں ہوتی اس لئے اس بناء پر ان کی کوئی گرفت نہیں فرمائی گئی۔ سو اس سے اہل بدعت کے علم غیب کلی اور اختیارِکلی جیسے خود ساختہ عقائد کی جڑ کٹ جاتی ہے کیونکہ پیغمبر کو اگر اللہ پاک کی رضا اور پسندیدگی کا علم ہوتا تو آپ ایسا کام کبھی کرتے ہی نہ جو اس کی رضا اور پسندیدگی کے خلاف تھا۔ اور اگر آنجناب۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ مختار کل ہوتے تو آپ ﷺ کو ایسا کرلینے پر اس طرح عتاب نہ فرمایا جاتا۔ روایات میں ہے کہ ِاس ارشاد ربانی کے نزول کے بعد آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر ؓ دونوں رونے لگے۔ اور پھر آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس فیصلے پر اللہ کا عذاب اس درخت سے بھی زیادہ قریب پہنچ چکا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا۔ آپ ﷺ نے قریب ہی پائے جانے والے ایک درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ ارشاد فرمایا۔ نیز فرمایا کہ اگر یہ عذاب نازل ہوجاتا تو عمر اور سعد بن معاذ کے سوا کوئی بھی نہ بچ سکتا۔ (روح المعانی، زاد المسیر، ابن کثیر، مدارک التنزیل، محاسن التاویل اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سبحان اللہ ۔ کہاں حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی شان عبدیت کے یہ واضح اور کھلے مظاہر اور کہاں اہل بدعت کے علم غیب کلی اور اختیار کلی کے وہ شرکیہ عقائد جن کیلئے وہ طرح طرح کے پاپڑ بیلتے ہیں۔ یہاں تک کہ صاف وصریح نصوص تک میں طرح طرح کی تاویلات بلکہ تحریفات سے کام لیتے اور نہیں سمجھتے کہ وہ کس قدر ہولناک کام کا ارتکاب کررہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ فکر وعمل کی ہر کجی سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 8:69

فَكُلُوْا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلٰلًا طَیِّبًا١ۖ٘ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 8:69 in the Quran reader

اس (مال) کی بناء پر جو تم نے (اس ضمن میں) لیا ہے، پس اب کھاؤ (پیو) تم لوگ اس مال غنیمت میں سے جو تم نے حاصل کیا ہے حلال پاکیزہ، اور ڈرتے رہو تم اللہ سے، بیشک اللہ ہی بڑا بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے،2

146 زر فدیہ کو کھانے اور استعمال کرنے کی اجازت و اباحت : روایات میں وراد ہے کہ اساری بدر سے متعلق جب اوپر والا تنبیہی ارشاد نازل ہوا تو حضرات صحابہ کرام کو اس سے یہ تشویش لاحق ہوئی کہ جو زر فدیہ اس ضمن میں ان قیدیوں سے لیا گیا ہے اس کے بارے کیا کیا جائے ؟ آیا یہ ہمارے لئے حلال ہے یا نہیں ؟ تو اس کے بارے میں یہ ارشاد ربانی نازل ہوا جس میں اس مال کی حلت کی تصریح فرما دی گئی کہ اس سے تم لوگ کھاؤ اور پیو اور اس کو استعمال کرو۔ اس میں کوئی حرج اور مضائقہ نہیں۔ انکو فدیہ لیکر چھوڑنے کی غلطی اپنی جگہ غلطی تھی اور وہ بھی ایک اجتہادی اور غیر ارادی غلطی تھی۔ لیکن اس سے اس زر فدیہ کی حلت میں کوئی فرق نہیں آتا۔ یہ تمہارے لئے حلال اور طیب ہے۔ البتہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو کہ تمہارا وہ حلال اور طیب کسی ایسی چیز سے آلودہ نہ ہوجائے جس سے اللہ نے منع کیا ہو۔ اگر تم لوگ حدود الٰہی کا خیال کرتے اور ان میں تجاوز سے بچتے رہے تو وہ تمہاری چھوٹی خطاؤں اور غلطیوں پر تمہاری گرفت نہیں فرمائے گا بلکہ عفو و درگزر ہی سے کام لے گا کہ وہ بڑا ہی غفور و رحیم ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کی شان ہی بخشنا اور رحم فرمانا ہے ۔ فاغفر لی یا ربی وارحمنی فانک انت الغفور الرحیم -
Ayahs 8:70–72

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّمَنْ فِیْۤ اَیْدِیْكُمْ مِّنَ الْاَسْرٰۤى١ۙ اِنْ یَّعْلَمِ اللّٰهُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ خَیْرًا یُّؤْتِكُمْ خَیْرًا مِّمَّاۤ اُخِذَ مِنْكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 8:70 in the Quran reader

اے پیغمبر ! کہو ان قیدیوں سے جو کہ تم لوگوں کے قبضے میں ہیں، کہ اگر اللہ نے تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھی تو وہ تمہیں اس سے کہیں بہتر عطا فرمائے گا جو تم سے لیا گیا، اور تمہاری بخشش بھی فرمائے گا، اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا، نہایت ہی مہربان ہے،3

وَ اِنْ یُّرِیْدُوْا خِیَانَتَكَ فَقَدْ خَانُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ فَاَمْكَنَ مِنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:71 in the Quran reader

اور اگر انہوں نے آپ کو دھوکہ دینا چاہا تو (یہ کوئی نئی بات نہیں کہ) یہ لوگ تو اس سے پہلے بھی اللہ سے دھوکہ بازی کرچکے ہیں، مگر اللہ نے ان کو (آپ کے ہاتھوں) گرفتار کرادیا، اور اللہ بڑا ہی علم والا، نہایت ہی حکمت والا ہے،1

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یُهَاجِرُوْا مَا لَكُمْ مِّنْ وَّلَایَتِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا١ۚ وَ اِنِ اسْتَنْصَرُوْكُمْ فِی الدِّیْنِ فَعَلَیْكُمُ النَّصْرُ اِلَّا عَلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:72 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی، اللہ کی راہ میں جہاد کیا، اپنے مالوں کے ساتھ، اور اپنی جانوں کے ساتھ، اور جنہوں نے (ان مہاجروں کو) جگہ دی، اور ان کی مدد کی، وہی دوست (وارث) ہیں ایک دوسرے کے، اور جو ایمان تو لائے پر انہوں نے ہجرت نہیں کی، تو تمہیں ان کی ولایت (اور میراث) سے کوئی سروکار نہیں، یہاں تک کہ وہ ہجرت کریں، اور اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو تم پر ان کی مدد کرنا لازم ہے، مگر ان لوگوں کے مقابلے میں نہیں، جن کے درمیان اور تمہارے درمیان کوئی معاہدہ ہو، اور اللہ خوب دیکھتا ہے ان کاموں کو جو تم لوگ کر رہے ہو،

147 اساری بدر سے خیر کا وعدہ : سو پیغمبر کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ آپ اپنے زیر قبضہ ان قیدیوں سے کہو کہ اگر اللہ تعالیٰ نے تمہارے دلوں میں بھلائی دیکھی تو وہ تم کو اس سے کہیں بہتر عطا فرمائے گا جو اس نے تم سے لیا گیا ہے کہ سب خزانوں کا مالک اور سب کچھ دینے والا تو وہی وحدہ لاشریک ہے۔ وہ کتنا بہتر دیگا، کیا اور کہاں سے دیگا اور کس طرح اور کس شکل میں دے گا اور کتنا دیگا۔ سو یہ سب کچھ اسی کے علم و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اگر تمہاری نیتیں درست ہوئیں اے قیدیو تو وہ بہرحال تم کو بہتر بدلے سے نوازے گا۔ سو اصل مدارو انحصار انسان کے باطن اور اس کی نیت و ارادہ پر ہے۔ بہرکیف اس ارشاد میں قیدیوں کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے کہ جو کچھ تم سے لیا گیا ہے اس پر تمہیں دل گرفتہ ہونے کی بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ تمہیں قتل کی بجائے فدیہ لے کر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ورنہ تم تو اصل میں قتل اور گردن زدنی کے مستحق تھے۔ سو یہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تم لوگوں پر بہت بڑا احسان ہے۔ اور اس احسان کا حق یہ ہے کہ تم لوگ ٹھنڈے دل سے اپنے رویئے کا از سر نو جائزہ لو اور اپنی روش بدل کر اپنی اصلاح کرلو۔ اگر تم نے ایسا کیا تو اللہ تعالیٰ کی توفیق و عنایت تمہاری طرف متوجہ ہوجائے گی اور جو فدیہ تم سے لیا گیا وہ اس سے کہیں بڑھ کر تمہیں اپنی عنایات سے نوازے گا۔ تمہیں دین حق کی نعمت سے سرفراز فرمائے گا اور تمہاری کوتاہیوں کو بخش دے گا جس سے تمہاری دنیا بھی اچھی ہوجائے گی اور آخرت بھی۔ ورنہ تمہارے لئے محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ محرومی کی ہر شکل سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 148 اساری بدر کیلئے مغفرت و بخشش کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تم لوگوں کی بخشش فرمائے گا اور اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے۔ روایات کے مطابق اس آیت کریمہ کا اولین اور سب سے اہم مصداق حضرت عباس بن عبد المطلب ۔ ؓ ۔ ہیں۔ جنہوں نے اپنے خزانہ مدفون سے اپنا فدیہ ادا کیا تھا۔ چناچہ روا یات میں وارد ہے کہ آپ ؓ اسلام لانے کے بعداس بارے اظہار مسرت کے طور پر فرمایا کرتے تھے کہ اس آیت کریمہ میں فرمائے گئے دو وعدوں میں سے ایک تو پورا ہوگیا کہ مجھے اپنے دئے ہوئے مال فدیہ کے بدلے میں اتنا اور اتنا مال مل گیا ہے جو میرے دئے ہوئے زر فدیہ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ امید ہے دوسرا وعدہ بھی اسی طرح پورا ہوجائے گا اور میری بخشش بھی فرما دی جائے گی۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ چناچہ حضرت عباس ؓ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے زر فدیہ میں بیس اوقیے سونا دیا تھا۔ لیکن اب میرے پاس بیس غلام ہیں جو سب کے سب تاجر ہیں۔ اور ان میں سے ادنی غلام مجھے بیس ہزار درہم ادا کرتا ہے اور مجھے آب زمزم پلانے کی خدمت نصیب ہوئی جسکے مقابلے میں میں تمام اہل مکہ کے اموال کو بھی پسند نہیں کرتا۔ اور اس بناء پر مجھے اس بات کی پوری امید ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے گناہوں کو بھی معاف فرما دے گا کہ وہ اپنے وعدے کی کبھی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ (معارف للکاندھلوی وغیرہ) ۔ سو دینے اور نوازنے والی ذات اللہ وحدہ لا شریک ہی کی ذات ہے۔ پس بھروسہ ہمیشہ اسی وحدہ لا شریک پر رکھنا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 8:73

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ؕ اِلَّا تَفْعَلُوْهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِی الْاَرْضِ وَ فَسَادٌ كَبِیْرٌؕ Open ayah 8:73 in the Quran reader

اور جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست (اور وارث) ہیں، اگر تم لوگ ایسا نہیں کرو گے (اے مسلمانو ! ) تو زمین میں بڑا فتنہ اور فساد برپا ہوگا،

152 اللہ کے حکموں کی پابندی کی تاکید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم نے اگر ایسے نہ کیا تو اس کا نتیجہ بہت برا ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد سے سرتابی باعث شر و فساد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس تم سب پر لازم ہے کہ تم پابندی کرو ہر اس حکم وارشاد کی جس کا حکم تمہیں دیا گیا ہے۔ سو اہل ایمان سے دوستی وتعلق داری اور اہل کفر سے قطع تعلق و بیزاری کا جو حکم تمہیں دیا گیا ہے، سو جب تک تم سب ایمان کی بنیاد پر باہم مل کر ایک قوت نہیں بنوگے تو کفر تمہارے سر ہوجائے گا اور عقائد و اعمال میں بڑا فساد واقع ہوجائے گا اور خرابی پھیل جائے گی۔ کہ کفر و باطل کا غلبہ و تسلط جڑ بنیاد ہے تمام فتنوں اور فسادات کی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اللہ تعالیٰ کے حکم سے اعراض و سرتابی اور انحراف و روگردانی باعث شر و فساد ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْم۔ِ
Ayah 8:74

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الَّذِیْنَ اٰوَوْا وَّ نَصَرُوْۤا اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُؤْمِنُوْنَ حَقًّا١ؕ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِیْمٌ Open ayah 8:74 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت بھی کی، اور جہاد بھی کیا، اللہ کی راہ میں، اور جنہوں نے ان کو ٹھکانہ دیا اور ان کی مدد بھی کی تو ایسے ہی لوگ مومن ہیں سچے (پکے) ان کے لئے ایک عظیم الشان بخشش بھی ہے، اور عزت کی روزی بھی

153 مہاجرین و اَنصار سب کے سب پکے سچے مومن : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہی لوگ ہیں سچے پکے مومن۔ یعنی مہاجرین و انصار کہ ان حضرات نے جان و مال وغیرہ کی ہر قربانی دے کر اور دین و ایمان کی خاطر اپنے وطن اور اپنی قوم قبیلہ کو چھوڑ کر اپنے عقیدئہ و ایمان کی پختگی اور حقانیت کا واضح اور عملی ثبوت مہیا کردیا ہے۔ اس آیت کریمہ سے اہل السنت والجماعت کی حقانیت اور اہل تشیع کا بطلان واضح اور آشکارا ہوجاتا ہے کہ اس میں حضرات انصار و مہاجرین دونوں کے مومن صادق ہونے کی تصریح موجود ہے۔ اور تاکید و حصر کے ساتھ تصریح موجود ہے۔ اور یہی اہل السنت والجماعت کا عقیدئہ و مسلک ہے۔ جبکہ شیعہ کا عقیدہ اس کے برعکس ہے بلکہ ان کے یہاں تو صرف " پنج تن پاک " ہیں اور بس ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ اس آیت کریمہ سے تو ان لوگوں کا کفر بالکل عیاں ہوجاتا ہے جو ان حضرات صحابہ کے ایمان کا انکار یا اس میں شک کرتے ہیں کہ اس سے اس آیت کریمہ کا انکار لازم آتا ہے جو کہ بلاشبہ کفر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ وضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ 154 اَنصار و مہاجرین کیلئے مغفرت و بخشش کا وعدئہ ربانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لیے ایک عظیم الشان بخشش ہے اس چھوٹی بڑی خطاؤ لغزش کے لئے جو ان سے بتقاضائے بشریت سرزد ہوگئی ہو ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی کیسی عظیم الشان بشارتیں اور خوشخبریاں ہیں ان صحابہ کرام کے لئے اور اللہ پاک کے اس پاکیزہ و برحق کلام میں ؟ ۔ رِضْوَان اللّٰہِ عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ اَللّٰہُمَّ الْحِقْنَا بِہِمْ بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَآ اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْْنَ وَیَآاَکْرَمَ الاَکْرَمِیْنَ ۔ بہرکیف حضرات انصار و مہاجرین عظیم الشان اور بےمثال مراتب و درجات پر فائز اور ان سے بہرہ مند تھے۔ اور ان کیلئے عظیم الشان خوشخبریاں ہیں۔ اور اللہ پاک کے کلام حکیم میں اور صاف وصریح طور پر، تو پھر ان سے دشمنی رکھنے والا اور ان کے ایمان میں شک کرنے والا بدبخت کس طرح مسلمان ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ عقیدہ و ایمان اور فکر وعمل کی ہر کجی سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ راہ حق وصواب پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 155 اَنصار و مہاجرین کیلئے رزق کریم کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کے لیے رزق کریم یعنی بڑی ہی عمدہ اور عزت کی روزی ہے جنت کی سدا بہار زندگی میں کہ یہ مہمانی ہوگی اس ذات اقدس و اعلیٰ کی طرف سے جس کے کرم کی کوئی حدو انتہا نہیں { نُزُلاً مِّنْ غَفُوْرٍ رَّحِیْمٍ } بہرکیف ان حضرات صدق و صفا نے چونکہ دین حق کی سربلندی کے لئے اور رضائے خداوندی کے حصول اور اس سے سرفرازی کی غرض سے تن من دھن کی بازی لگائی اور ہر قربانی پیش کی۔ اس لئے ان کے لئے ان کے رب کی جانب سے عظیم الشان بخشش بھی ہے اور بڑا عمدہ رزق بھی جو ان کو جنت کی ابدی اور سدا بہار نعمتوں کی صورت میں ملے گا۔ اس موقع پر علامہ رشید رضا مرحوم اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں ان روافض پر کھلا رد ہے جو ان حضرات صحابہ پر زبان طعن دراز کر رہے ہیں۔ اور ان میں سے ہر بھونکنے والے کے منہ پر پتھر جو ان صحابہ کرام پر کتوں کی طرح بھونکتے ہیں۔ اور ان کے ایمان تک میں کیڑے نکالتے ہیں۔ (تفسیر المنار) ۔ خَذَلَہُمُ اللّٰہُ وَقاتَلُہُمْ اَنَّی یُوُفَکُوْنَ ۔ اللہ تعالیٰ حضرات صحابہ کرام کی سچی محبت اور ان کی پیروی نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 8:75

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْۢ بَعْدُ وَ هَاجَرُوْا وَ جٰهَدُوْا مَعَكُمْ فَاُولٰٓئِكَ مِنْكُمْ١ؕ وَ اُولُوا الْاَرْحَامِ بَعْضُهُمْ اَوْلٰى بِبَعْضٍ فِیْ كِتٰبِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 8:75 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اس کے بعد، اور انہوں نے ہجرت بھی کی اور جہاد بھی کیا، تمہارے ساتھ شامل ہو کر تو ایسے لوگ بھی تم ہی میں سے ہیں، اور رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں اللہ کے حکم کے مطابق، بیشک اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے۔1

156 بعد میں ایمان لانے والوں کے لیے بھی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ ایمان لائے اس کے بعد۔ یعنی صلح حدیبیہ کے بعد یا پہلی ہجرت کے بعد۔ یا اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد یا معرکہ بدر کے بعد۔ مختلف احتمال و اَقوال ہیں۔ اور یہ سب ہی صحیح اور درست ہیں اور من بعد کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے۔ (محاسن التاویل، مدارک التنزیل، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جو لوگ اس کے بعد ایمان لائے ان کا بھی بڑا مرتبہ ومقام ہے جیسا کہ اس کے بعد بیان ہو رہا ہے کہ یہ لوگ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ سو جب وہ ایمان لے آئے اگرچہ وہ ایمان بعد ہی میں لائے وہ بھی تم ہی میں سے ہیں۔ ایمان کے رشتے نے تم سب کو ایک لڑی میں پرو دیا۔ سو اصل چیز ہے ایمان اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنا ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں ایمان کے نور مقدس سے منور و معمور رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 157 سو ایسے لوگ تم ہی میں سے ہیں : کہ یہ بھی ایمان، ہجرت اور جہاد کی انہی عظیم الشان صفات سے موصوف ہیں جن سے تم اس سے پہلے سرفراز ہوچکے ہو۔ اس لئے سابقیت اور افضلیت کا شرف اگرچہ تم ہی کو حاصل ہے مگر نفس فضلیت میں وہ بھی تمہارے ساتھ شریک ہیں۔ قَالَ تَعَالٰی { لا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ، اَولٰٓئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوْا، وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی } ۔ (الحدید : 10) بہرکیف اس ارشاد میں ہجرت کی ترغیب و تشویق بھی ہے کہ تمہارے لئے بھی اسلامی معاشرے کا حصہ بننے کے لئے دروازہ کھلا ہوا ہے۔ تم بھی اس کی طرف سبقت کر کے اس میں اپنا مقام حاصل کرسکتے ہو۔ اور دوسری طرف اس میں دارالاسلام کے مسلمانوں کو اس امر کی تاکید بھی ہے کہ تم بھی بعد میں ایمان لانے والے اور ہجرت کرنے والے مسلمانوں کے لئے اپنے دلوں کے دروازے کھلے رکھو کہ وہ بھی تمہارے ہی بھائی بند اور تمہارے ہی ملی وجود کے اجزاء اور حصے ہیں۔ ان کے بارے میں نہ تمہارے دلوں میں کوئی تنگی پیدا ہونے پائے اور نہ کوئی احساس برتری۔ بلکہ ایمان و عقیدہ کے اشتراک کے باعث اور اس کے نتیجے میں تم سب لوگ ایک برابر ہو۔ سو اصل مدارو انحصار انسان کے ایمان و یقین اور اس کے عمل و کردار پر ہے۔ 158 رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں : باہمی تعاون و تناصر اور توارث و تآلف میں۔ دوسرے انصار و مہاجرین کے اعتبار سے۔ سو قدیم مہاجرین کا جو کوئی رشتہ دار بعد میں مسلمان ہوا یا بعد میں ہجرت کرکے آیا تو وہ بنسبت غیر رشتہ داروں کے اس قدیم مہاجر کی میراث کا زیادہ حقدار ہے اگرچہ وہ غیر رشتہ دار فضیلت و مرتبہ میں اس سے زیادہ ہو۔ میراث کے حکم میں مہاجرین اولین اور مہاجرین متاخرین سب برابر ہیں۔ سو اس آیت کریمہ سے وہ میراث جو صرف اور صرف اخوت اسلامی کی بناء پر قائم تھی منسوخ ہوگئی۔ اب میراث کا دار و مدار رشتہ و قرابت ہی پر رہ گیا ہے۔ مگر ایمان اور اسلام بہرحال شرط ہے مسلمان اور کافر میں باہم میراث جاری نہیں ہوسکتی۔ (معارف للکاندھلوی وغیرہ) ۔ 159 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے۔ سو وہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے، ظاہر و باطن اور حال و مآل ہر اعتبار سے۔ اور اس کا ہر حکم نہایت علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ یہ شان صرف اسی وحدہ لاشریک کی ہے اور بس۔ اس لئے اس کا ہر حکم ہر اعتبار سے کامل اور مکمل ہوتا ہے۔ اس میں نہ کسی نقص و قصور کا کوئی احتمال ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کا کوئی متبادل ممکن ہوسکتا ہے۔ پس حقیقی کامیابی اور فوز و فلاح صرف اسی میں مضمر ہے کہ اس کے جملہ احکام و اَوامر کو دل و جان سے قبول کر کے ان کو برضا ورغبت بجا لایا جائے ۔ فَاِیَّاکَ نَسْأَلُ اللّٰہُمَّ السَّدَادَ وَالتَّوْفِیْقَ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی ۔ یَا مَنْ بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کَلِّ شَیْْئٍ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ۔ سو اس سورة کریمہ کے آخر میں { علیم } کی صفت کے ذکر سے یہ امر واضح فرما دیا گیا کہ اس کے کسی بھی حکم کا کوئی متبادل ممکن نہیں ہوسکتا کہ وہ ہر چیز کو پوری طرح اور ہر اعتبار سے جاننا ہے اور اس کا ہر حکم و ارشاد کامل اور بےخطاء علم پر مبنی ہے۔ اور یہ شان اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کے لئے ممکن ہی نہیں۔ سو اس کا ہر حکم وارشاد کامل علم وحکمت اور رحمت و عنایت پر مبنی ہے اور اس پر ایمان و یقین اور اس کی تعمیل و پابندی میں بندے کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے ۔ وباللہ التوفیق سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور یہ شان چونکہ اسی وحدہ لا شریک کی ہے اس لیے اس کے ہر حکم وارشاد کی اطاعت مطلقا اور بلاچون وچرا واجب ہے۔