8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 8:43

اِذْ یُرِیْكَهُمُ اللّٰهُ فِیْ مَنَامِكَ قَلِیْلًا١ؕ وَ لَوْ اَرٰىكَهُمْ كَثِیْرًا لَّفَشِلْتُمْ وَ لَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ سَلَّمَ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 8:43 in the Quran reader

(اور وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب اللہ تعالیٰ دکھا رہا تھا کہ آپ کو وہ لوگ آپ کے خواب میں (اے پیغمبر ! ) کم کرکے، اور اگر کہیں وہ آپ کو انہیں زیادہ کر کے دکھا دیتا ہے، تو یقینا تم لوگ (اے نبی ! کے ساتھیو) ہمت ہارجاتے اور باہمی جھگڑے میں پڑجاتے، لیکن اللہ نے اس سے بچالیا، بیشک وہ پوری طرح جانتا ہے، سینوں کے حال کو،

84 معرکہ بدر سے متعلق ایک خاص خواب کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب اللہ دشمنوں کو آپ کے رویا میں کم کر کے دکھا رہا تھا : تاکہ اس طرح اہل حق کے حوصلے بلندہوں اور وہ ان کفار کے مقابلے کے لئے مستعد اور تیار ہوجائیں۔ اور یوں حقیقت نفس الامری کے اعتبار سے وہ لوگ تھے بھی کم اور بہت کم۔ کیونکہ نور ایمان اور قوت یقین سے محرومی کے باعث ان کا وجود نہ ہونے کے برابر بلکہ اس سے بھی برا تھا۔ کہ کفار و منکرین تو { شرُّ البَرِیّۃ } " بد ترین مخلوق " ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اصل قوت ایمان و یقین کی قوت سے ہے، ورنہ محض ظواہر کا نہ کوئی وزن ہے نہ اعتبار، خواہ وہ کتنے ہی چمکدار کیوں نہ ہوں۔ سو یہ قدرت کی تدبیر و کارستانی اور اس کی غیبی تائید و نصرت کا ایک اور مظہر تھا جس سے قدرت نے اہل حق کو نوازا تھا کہ اس نے پیغمبر کو ان کے رویا میں دشمن کی فوجوں کی تعداد تھوڑی دکھائی۔ اور پیغمبر نے مسلمانوں سے ان کا ذکر ایک قلیل التعداد جماعت ہی کی حیثیت سے کیا۔ بلکہ جیسا کہ اوپر آیت نمبر 7 میں گزر چکا ہے، ان کو یہ خوشخبری بھی دی کہ دشمنوں کا یہ قلیل التعداد گروہ مسلمانوں سے مغلوب ہو کر رہے گا جس سے ہمتیں اور بڑھ گئیں ۔ والحمد للہ - 85 بدر میں قدرت کی ایک اور عنایت کا ذکر : کہ اس موقع پر قدرت نے کفار کو مسلمانوں کے سامنے زیادہ کر کے نہیں دکھایا جیسا کہ ظاہری تعداد کے اعتبار سے تھا کہ گنتی اور عدد کے لحاظ سے وہ مسلمانوں سے تین گنا زیادہ تھے۔ سو اگر وہ کفار کو مسلمانوں کے سامنے اس طرح ظاہر کردیتا تو تم لوگ اے مسلمانو ہمت ہار جاتے اور باہم اختلاف میں پڑجاتے۔ سو یہ اہل بدر کے لئے قدرت کی ایک اور عنایت تھی کہ اس نے ان کے دشمن زیادہ نہیں دکھائے۔ سو دولت ایمان الطاف و عنایات خداوندی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے کہ دونوں لشکروں کے درمیان تعداد کے فرق اور بشری تقاضوں کی بناء پر ایسا ہونا ایک طبعی امر تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے نہیں کیا۔ اور ایسے امور سے تمہاری حفاظت فرمائی۔ سو ایمان و یقین کی دولت الطاف و عنایات خداوندی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ بنتی ہے۔ سو اللہ تعالیٰ اگر پیغمبر کو دشمن کی فوج زیادہ تعداد میں دکھاتا، جیسا کہ وہ فی الواقع تھے اور پیغمبر اس کو اسی طرح لوگوں کے سامنے بیان کردیتے تو یقینا اس سے مسلمانوں کے حوصلے پست ہوجاتے اور جنگ کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف رائے پیدا ہوجاتا جس کے نتیجے میں صورت حال دگرگوں ہوجاتی۔ 86 اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی و عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ لیکن اللہ نے بچا لیا۔ یعنی اس نے مسلمانوں کو اس صورت حال سے ان کے صدق و اخلاص کی بنا پر۔ سو نہ ان کے ہمت ہارنے کی نوبت آئی اور نہ ہی وہ باہمی اختلاف اور نزاع کا شکار ہوئے۔ سو دولت ایمان و یقین حفظ وامان خداوندی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ سو اس نے اہل ایمان کو سلامت رکھا اور اس فشل و کمزوری اور تنازع و اختلاف کا موقع ہی نہ آنے دیا۔ سو ایمان و یقین کی دولت حفظ وامان خداوندی سے بہرہ مندی اور سرفرازی کا ذریعہ ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الّذِیْ شَرَّفَنَا بنِعْمَۃِ الایْمَانِ ۔ اللّٰھُمّ فَزِدْ نَا مِنْہُ وَثَبِّتْنَا عَلَیْہِ یا ذا الجلال والاکرام - 87 اللہ تعالیٰ کے علم وآگہی کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ سینوں کے حال کو بھی پوری طرح جانتا ہے۔ اس لئے کوئی بھی بشری کمزوری اس سے کسی بھی طور مخفی نہیں ہوسکتی۔ اس لئے وہ اپنے علم و حکمت کے تقاضوں کے مطابق اپنے بندوں سے معاملہ فرماتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور ایمان والوں کو وہ ان کے ایمان و یقین کی بناء پر ایسی کمزوریوں اور لغزشوں سے محفوظ رکھنے کے وسائل و مواقع مہیا فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یہاں پر یہ امر بھی ملحوظ رہنا چاہئے کہ یہاں { یُرِیْکَ }، { مَنَامِکَ } اور { اَرَاکَ } سب میں خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے کہ رویا میں جو کچھ دکھایا گیا وہ سب آنحضرت ﷺ ہی کو دکھایا گیا۔ سو پیغمبر اہل ایمان کے لئے بمنزلہ آنکھ اور دل کے ہوتا ہے۔ لیکن وہ جو کچھ دیکھتا ہے اس کا تعلق سب سے ہوتا ہے۔ اس وجہ سے جہاں تک دیکھنے کا تعلق ہے اس کو تو آنحضرت ﷺ ہی تک محدود رکھا گیا لیکن اس کے رد عمل کے ذکر میں تمام مسلمانوں کو شامل کرلیا گیا۔
Ayah 8:44

وَ اِذْ یُرِیْكُمُوْهُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْۤ اَعْیُنِكُمْ قَلِیْلًا وَّ یُقَلِّلُكُمْ فِیْۤ اَعْیُنِهِمْ لِیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ؕ وَ اِلَى اللّٰهِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۠ Open ayah 8:44 in the Quran reader

اور (وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب اللہ کم کر کے دکھا رہا تھا ان لوگوں کو جو تمہاری نگاہوں میں (اے مسلمانو ! ) جب تمہارا آمنا سامنا ہوا، (معرکہ بدر میں) اور تم کو کم کر کے دکھا رہا تھا ان کی نگاہوں میں، تاکہ اللہ پورا فرمادے، ایک ایسے کام کو جس نے پورا ہو کر رہنا تھا، (اس کے حکم واذن سے2) اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سب کام2،

88 بدر میں قدرت کی تدبیر و کارستانی کا ایک اور مظہر : کہ کفار کو اہل ایمان کی نگاہوں میں کم دکھایا گیا۔ سو یہ اہل بدر کیلئے ایک اور عنایت خداوندی تھی۔ یعنی کفار کو اہل ایمان کیلئے کم کرکے دکھانا۔ تاکہ اس طرح تمہارے حوصلے بڑھیں۔ جیسا کہ روایات میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے اپنے ساتھی سے فرمایا کہ میرے خیال میں یہ کافر تو یہی کچھ ستر کے لگ بھگ ہوں گے۔ تو اس نے جواب میں کہا کہ میرا خیال ہے کہ سو تک ہوں گے۔ (الروح، قرطبی، ابن کثیر، صفوۃ اور محاسن وغیرہ) ۔ حالانکہ وہ ایک ہزار سے بھی زیادہ تھے۔ یہ اس غیبی امداد کا ایک اور مظہر تھا، جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے بدر کے اس معرکہ حق و باطل میں اپنے ان بندگان صدق و صفا کو اپنی شان کرم وعطاء سے نوازا تھا کہ اس کی صفت و شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف یہ اہل بدر کے لئے قدرت کی تدبیر و کارستانی اور اس کی عنایت و مہربانی کا ایک مظہر تھا کہ جب دونوں فوجیں میدان معرکہ میں ایک دوسرے کے سامنے آگئیں تو ابتدائی مرحلہ میں اللہ تعالیٰ نے کفار کے لشکر کو مسلمانوں کی نگاہ میں کم کر کے دکھایا اور مسلمانوں کو کفار کی نگاہوں میں کم کر کے دکھایا۔ تاکہ کوئی خوف کھا کر پیچھے نہ ہٹے اور معرکہ بپا ہو کر رہے۔ تاکہ اس سے مطلوب و مقصود نتائج حاصل ہو سکیں۔ 89 اور تم کو کم کر کے دکھایا ان کی نگاہوں میں : سو یہ اسی تدبیر خداوندی کا حصہ ہے کہ معرکہ بدر میں مسلمانوں کو کفار کی نظروں میں کم کرکے دکھایا گیا تاکہ وہ دلیر ہو کر مقابلہ اور جنگ کے لئے آگے بڑھیں۔ اور اپنے اس انجام کو پہنچ کر رہیں جو ان کے لئے مقدر ہوچکا تھا۔ اور جس کے نتیجے میں اسلام کی حقانیت اور کفر و شرک کے بطلان نے اپنی واضح شکل میں سب کے سامنے آنا تھا۔ جیسا کہ واقعتا ہوا ۔ والحمد للہ ۔ روایات میں وارد ہے کہ ابوجہل اینڈ کمپنی نے مسلمانوں کی تعداد کی اس کمی کو دیکھ کر کہا " اِنَّ مَحَمَّدًا وَ اَصْحَابَہ اَکَلَۃُ جَزُوْرٍ " کہ محمد اور اس کے ساتھیوں کی تعداد تو بس اتنی ہے کہ ان کے کھانے کے لئے ایک ہی اونٹ کافی ہے۔ یہ دراصل عربی زبان کی ایک ضرب المثل تھی جو کسی گروہ کی تعداد کی کمی کو بیان کرنے کے لئے بولی جاتی تھی۔ اور اسی بناء پر ان لوگوں نے اپنے فخر و غرور کے نشے میں بدمست ہو کر مزید کہا کہ ان لوگوں سے تو لڑنے اور مقابلے کرنے کی بھی ضرورت نہیں، بلکہ ان کو یونہی پکڑ کر مشکیں کس دی جائیں ۔ (طبری، قرطبی، ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر اور معارف وغیرہ) ۔ مگر واضح رہے کہ کفار کی نگاہوں میں مسلمانوں کو تھوڑا کر کے دکھانے کی یہ بات اتبدائے معرکہ میں ہوئی تھی تاکہ وہ پیچھے نہ ہٹیں۔ ورنہ بعد میں جب معرکہ شروع ہوگیا اور مسلمانوں کی مدد کے لئے آسمان سے فرشتوں کی فوج بھی اترآئی تو پھر یہ صورت اس کے برعکس ہوگئی کہ اس موقع پر کافروں کو مسلمان اپنے سے دوگنی تعداد میں نظر آنے لگے۔ جیسا کہ سورة آل عمران کی گیارہویں آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے { یَرَوْنَہُمْ مِّثْلَیْہِمْ رَأْیَ الْعَیْنِ } تاکہ اس طرح کفار کے حوصلے پست ہوں اور وہ مسلمانوں کے مقابلے میں رعب وہیبت کا شکار ہوجائیں۔ جس طرح کہ واقعتا ہوا۔ سو یہ نصرت و تائید خداوندی کا ایک اور مظہر تھا جس سے بدر کے اس معرکے اور فیصلے کے اس دن میں مسلمانوں کو قدرت کی طرف سے نوازا گیا ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ سو اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کی شانیں مختلف ہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 90 سب کاموں کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سارے کام۔ پس ہوتا وہی ہے جو اس وحدہ لاشریک کو منظور ہوتا ہے۔ وہ اگر چاہے تو قلت کو کثرت پر فوقیت اور غلبہ عطا فرمادے اور ضعف کو قوت پر غالب فرما دے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں اور اسی کی مشیت و منظوری کے تابع ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لیے مومن صادق کا کام اور اس کی شان یہ ہے کہ اس کا بھروسہ و اعتماد اللہ وحدہ لاشریک ہی پر رہے۔ پس نہ تو وہ کبھی اپنے اسباب و وسائل پر بھروسہ کرے خواہ وہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہو اور نہ ہی کبھی دشمن کے اسباب و وسائل سے ڈرے اور خوفزدہ ہو خواہ وہ کیسے اور کتنے ہی کیوں نہ ہوں کیونکہ دار و مدار اسباب و وسائل پر نہیں بلکہ اسباب و وسائل کے خالق ومالک کی نصرت و امداد پر ہے۔ اس لیے مومن صادق کی توجہ ہمیشہ اس بات پر مرکوز رہے کہ میں اللہ والا بن جاؤں تاکہ اس کی نصرت و امداد سے مشرف ہوسکوں۔ اس کے بعد مجھے کسی کی کوئی پرواہ نہیں۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ سارے کاموں اور جملہ معاملات کا سر رشتہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ کم دکھانا اور زیادہ دکھانا، جتانا اور ہرانا، بڑھانا یا گھٹانا وغیرہ وغیرہ۔ سو جو بھی کچھ ہوتا ہے وہ اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہوتا ہے۔ آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ اپنا فرض ادا کرے اور اپنی ذمہ داری صحیح طرح سے نبھائے۔ اس کے بعد سب کچھ اسی قادر مطلق پر چھوڑ دے اور اس غلط فہمی میں کبھی بھی مبتلا نہ ہو کہ وہ خدا سے بےنیاز ہو کر کچھ بنایا بگاڑ سکتا ہے اللہ تعالیٰ فکر و نظر اور عمل و کردار کے ہر زیغ و ضلال اور انحراف سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ۔ اَللَّھُمَّ فَخُذْنَا بِنَواصِیْنَا اِلٰی مَا فِیْہِ حُبُّکَ وَرِضَاکَ بِکُلِ حَالِ مِّنَ الْاَحُوال وَفِی کُلّ مَوْطِنٍ مِّنَ المَوَاطِنِ فِی الْحَیَاۃ، یا ذَا الْجَلَالِ وَالاکْرَامِ-
Ayah 8:45

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا لَقِیْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَ اذْكُرُوا اللّٰهَ كَثِیْرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 8:45 in the Quran reader

اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہو، جب تمہارا مقابلہ (دشمن کے) کسی گروہ سے ہوجائے، تو تم ثابت قدم رہا کرو، اور بکثرت یاد کیا کرو، اللہ کو، تاکہ تم سرفراز ہوسکو فلاح (اور حقیقی کامیابی) سے3

91 اہل ایمان کو ثبات اور استقامت کا حکم وارشاد : سو اہل ایمان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ ثابت قدم رہو دشمن کے مقابلے میں اور راہ حق و صواب پر۔ اور اس سے گریز و فرار کا کبھی خیال بھی اپنے دل میں نہ لانا کہ تمہارا راستہ بہرحال حق اور تمہارا انجام بہرکیف فوز و فلاح ہے کہ انجام کار کامیابی انہی لوگوں کیلئے ہے جو ایمان اور تقویٰ کی دولت سے سرشار و سرفراز ہیں۔ سو دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے پر تم کو سربلندی اور فائز المرامی سے نوازا جائے گا ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور راہ حق میں ثابت قدمی اس لئے ضروری ہے کہ اللہ پاک کی نصرت و امداد ہمیشہ اسباب کے پردوں میں ظاہر ہوتی ہے۔ یہ دنیا بندوں کے لئے امتحان گاہ ہے۔ جب بندے اپنی صلاحیت کا ثبوت دیتے ہیں اور راہ حق میں اپنی استقامت اور ثابت قدمی کے جوہر دکھاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد ان کے لئے ظاہر ہوتی ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق وصواب پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے اور ہر قسم کے زیغ و زلل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 92 اللہ تعالیٰ کو کثرت سے یاد کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہا کرو کہ اس کی یاد دلشاد روحوں کی غذا اور دلوں کی قوت و آبادی کا سامان ہے۔ سو ہر حال میں اور ہر طرح سے اس کے ذکر اور اس کی یاد دلشاد سے سرشار و سرفراز اور شاد کام رہو۔ جنان و لسان سے بھی اور جوارح و اَرکان سے بھی۔ سو اللہ کا ذکر اور اسکی یاد سرفرازی وفائز المرامی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ خاص کر میدان معرکہ اور حالت جنگ میں ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو شجر ایمان کی سرسبزی و شادابی ذکر الٰہی کی جھڑی ہی سے حاصل ہوتی ہے اور ذکر الٰہی یوں تو سانس کی طرح ایمانی زندگی کے لئے ہر لمحہ و لحظہ ہی میں ضروری ہے لیکن حالات جب زیادہ صبر آزما ہوں تو اس وقت ذکر الٰہی اور بھی زیادہ مقدار میں مطلوب ہوتا ہے۔ اس لئے جنگ کی حالت میں ذکر کی کثرت کا حکم و ارشاد فرمایا گیا۔ تاکہ اس کے نتیجے میں اس کی نصرت و امداد سے سرشاری و سرفرازی نصیب ہو سکے۔ سو اس وحدہ لا شریک کی یاددلشاد دلوں کی آبادی اور ان کی شادابی کا ذریعہ و وسیلہ ہے جبکہ اس سے غفلت و لاپرواہی دلوں کی ویرانی اور ان کی اجاڑ کا باعث ہے۔ اور خدا فراموشی کا نتیجہ خود فراموشی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلاَ تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسَاہُمْ اَنْفُسَہُمْ اُوْلٰئکَ ہُمُ الْفَاسِقُوْنَ } ۔ (الحشر : 19) یعنی " تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جو اللہ کو بھول گئے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو خود اپنے آپ سے غافل کردیا۔ یعنی خدا فراموشی کا لازمی نتیجہ خود فراموشی ہے اور ظاہر ہے کہ خود فراموشی بڑا ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 93 ذکر خداوندی اور یاد الہی باعث سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ کثرت سے اللہ کو یاد کرو تاکہ تم حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز ہو سکو کہ اس کی یاد دلشاد سے تمہارے دلوں کو قوت ملے گی۔ تمہارے حوصلے بلند ہوں گے اور تمہیں اسکی نصرت و امداد سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ جسکے بعد تمہارے لیے کامیابی ہی کامیابی ہے اور اس طرح تم لوگ حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز و سرشار ہوسکو گے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو ذکر الٰہی فوز و فلاح سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ اور " فلاح " ایک جامع لفظ ہے جو کہ دنیا و آخرت کی کامیابی پر محیط و مشتمل ہے۔ سو مجرد غلبہ تو ہوسکتا ہے کہ ذکر الٰہی کے بغیر بھی حاصل ہوجائے لیکن وہ فلاح کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔ فلاح اسی غلبہ سے حاصل ہوگی جس کا دروازہ ذکر الٰہی کی مدد سے کھلے۔ یہاں سے اس بارے بھی غور کیا جائے کہ ذکر اللہ کی عظمت شان اور اس کے تقاضے کیا ہیں اور آج کا مسلمان غفلت کے کس ہاویے میں گرا ہوا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 8:46

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَا تَنَازَعُوْا فَتَفْشَلُوْا وَ تَذْهَبَ رِیْحُكُمْ وَ اصْبِرُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَۚ Open ayah 8:46 in the Quran reader

اور دل وجان سے کہا مانا کرو تم لوگ اللہ کا، اور اس کے رسول کا، اور آپس میں جھگڑا (اور اختلاف) نہ کیا کرو کہ اس سے تم کمزور ہوجاؤ گے، اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی، اور صبر (وضبط) سے ہی کام لیتے رہا کرو، بیشک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے،

94 اطاعت خدا و رسول کا حکم وارشاد : سو اس سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور کہا مانو تم لوگ اللہ اور اسکے رسول کا : اور رضا ورغبت اور دل کی خوشی اور چاہت سے مانو کہ اس میں خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہے کہ اس سے تم کو اس دارفانی میں سکون و اطمینان اور راحت قلبی کی سعادت اور حیات طیبہ کی انمول دولت نصیب ہوگی۔ اور آخرت کے اس جہان ابدی میں حقیقی اور دائمی کامیابی سے سرفرازی بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ اور اس ضمن میں عمومی اطاعت کے ساتھ ساتھ خاص طور پر دشمن کے مقابلے میں کامل نظم و نسق اور ڈسپلن کا ثبوت دو ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کے دو منفرد پہلو ایسے ہیں کہ ان کی بنا پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری اور صدق دل سے اور غیر مشروط طور پر مطلوب ہے۔ اور یہ عقل ونقل دونوں کا تقاضا ہے۔ ان دو پہلوؤں میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا جو بھی کوئی حکم وارشاد ہوتا ہے وہ خالص بندوں ہی کے بھلے کے لیے ہوتا ہے۔ اور بھلا بھی ایسا جو دنیا وآخرت دونوں کو شامل ہے۔ اور دوسرا پہلو یہ ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کے کسی حکم وارشاد میں کسی خطا و قصور کا قطعا کوئی احتمال نہیں ہوتا۔ وہ سراسر خیر ہی خیر ہوتا ہے۔ اور یہ شان اللہ اور اس کے رسول کے سوا اور کسی کے حکم کی ہوسکتی ہی نہیں۔ اس لیے باقی ہر کسی کی اطاعت مشروط ہے مگر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت مطلق اور بغیر کسی شرط وقید کے مطلوب ہے کہ وہ سراسر خیر ہے ۔ وباللہ التوفیق - 95 باہمی نزاع وجدال کی ممانعت : سو اس سے باہمی نزاع وجدال کی ممانعت فرما دی گئی ہے اور اس ضمن میں یہ بہی واضح فرما دیا گیا کہ آپس کے نزاع وجدال کا نقصان خود اپنے آپ ہی کو ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ آپس میں جھگڑا اور اختلاف نہیں کرنا کہ اس کے نتیجے میں تم کمزور ہوجاؤ اور تمہاری ہوا اکھڑ جائے۔ سو معلوم ہوا کہ باہمی نزاع اور جدال و خلاف اپنی کمزوری کا باعث ہے۔ مگر افسوس کہ آج مسلمان اسی مرض میں مبتلا اور اسی بیماری کا شکار ہیں۔ اور ان میں جا بجا اور طرح طرح سے اس کے مظاہر نظر آتے ہیں، جسکے نتیجے میں یہ طرح طرح کی ہلاکتوں اور مشکلات کا شکار ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ آپس میں اختلاف نہیں کرنا کہ اس کے نتیجے میں تم کمزور پڑجاؤ گے اور تمہاری ہوا اکھڑ جائی گی لیکن افسوس کہ آج مسلمان جگہ جگہ آپس میں برسر پیکار ہیں۔ ملکوں ملکوں کے درمیان اور قبیلوں اور پارٹیوں کے درمیان سرپھٹول ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 96 صبر و ضبط سے کام لینے کی تعلیم و تلقین : سو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ صبر و ضبط ہی سے کام لیتے رہا کرو۔ اور راہ حق میں خواہ تم کو کیسے ہی صبر آزما حالات کا سامنا پیش آئے، اس سے کبھی ہلنا نہیں کہ سربلندی بہرحال تمہاری ہی ہے۔ اور غلبہ آخر کار حق ہی کا ہے کہ صبر وسیلہ ظفر ہے۔ چناچہ اسی صبر و استقامت اور اطاعت و ثابت قدمی کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام تعداد کی قلت اور سامان حرب و ضرب کی کمی کے باوجود تھوڑے سے عرصے میں چاروں طرف پھیل گئے اور اسلام کا جھنڈا ہر طرف لہرا دیا ۔ ( قال بہ ابن کثیر) ۔ بہرکیف اس میں صبر و ثبات کا حکم فرمایا گیا اور وہی بات جو اوپر { فَاثْبُتُوْا } " تم ثابت قدم رہو " کے الفاظ سے ارشاد فرمائی گئی تھی اس کو یہاں پر { فَاصْبِرْوُا } کے الفاظ سے ارشاد فرمایا گیا۔ سو صبر و ضبط اور استقامت وثابت قدمی کی راہ حق میں خاص اہمیت ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ اس سے سرشار رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 97 اللہ تعالیٰ کی معیت کا مژدہ جانفزا : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ ساتھ ہے صبر کرنے والوں کے۔ اپنی تائید و نصرت اور حمایت و مدد کے اعتبار سے۔ اور جس کو اس کی نصرت و معیت کا یہ شرف و امتیاز حاصل ہو اس کو کسی کی کیا پرواہ ہوسکتی ہے۔ پس صبر و استقامت کا دامن کبھی ہاتھ سے نہیں جانے دینا اور اس خالق کل اور مالک مطلق کے ساتھ اپنا رشتہ وتعلق ہمیشہ صحیح اور مستحکم رکھو کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کی تائید و نصرت سے سرفرازی فوز و فلاح کی کفیل وضامن ہے، جسکے حصول کا بڑا اہم اور بنیادی ذریعہ صبر و استقامت ہے۔ پس اس کو ہمیشہ اپنائے رکھنے کی فکر و کوشش میں رہنا ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد سے سرفراز ہونا چاہتے ہو تو اپنے اندر جماعتی کردار اور نظم و نسق سے اس کا استحقاق پیدا کرو۔ خداوند قدوس منتشر اور غیر منظم بھیڑ کا ساتھ نہیں دیتا، بلکہ اس کی نصرت و امداد ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو اس کی راہ میں جہاد کے لئے " بنیان مرصوص " بن کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ لِمَا یُحِبُّ وَیُرِیْدُ وعی ما یحب ویرید ۔ وَھُوَا الْہَادِیْ الٰی سَوَائِ السَّبِیْلِ ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کی معیت اور اس کی تائید و نصرت سے سرفرازی کے لیے صبر و استقامت کی ضرورت ہے۔
Ayahs 8:47–49

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ خَرَجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بَطَرًا وَّ رِئَآءَ النَّاسِ وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطٌ Open ayah 8:47 in the Quran reader

اور کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا، جو نکلے اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور لوگوں کو دکھلانے کے لئے درآں حالیکہ وہ روکتے ہیں اللہ کی راہ سے، اور اللہ پوری طرح احاطہ کئے ہوئے ہے ان تمام کاموں کا جو یہ لوگ کر رہے ہیں،

وَ اِذْ زَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ وَ قَالَ لَا غَالِبَ لَكُمُ الْیَوْمَ مِنَ النَّاسِ وَ اِنِّیْ جَارٌ لَّكُمْ١ۚ فَلَمَّا تَرَآءَتِ الْفِئَتٰنِ نَكَصَ عَلٰى عَقِبَیْهِ وَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكُمْ اِنِّیْۤ اَرٰى مَا لَا تَرَوْنَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ١ؕ وَ اللّٰهُ شَدِیْدُ الْعِقَابِ۠ Open ayah 8:48 in the Quran reader

اور (ان کو وہ بھی بتادو کہ) جب شیطان نے خوشنما کر کے دکھائے ان (کفار) کو ان کے کام، اور اس نے (ان کو تھپکی دیتے ہوئے، ان سے) کہا کہ آج تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا، اور میں تمہارا پکا حمایتی ہوں، مگر جب آمنا سامنا ہوا (حق وباطل کے) ان دونوں لشکروں کا، تو یہ الٹے پاؤں پھر گیا، اور (ان سے صاف) کہہ دیا کہ میرا تم سے کوئی واسطہ نہیں، میں وہ کچھ دیکھ رہا ہوں جو تمہیں نظر نہیں آرہا، میں ڈرتا ہوں اللہ سے اور اللہ بڑا ہی سخت عذاب دینے والا ہے،

اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ غَرَّ هٰۤؤُلَآءِ دِیْنُهُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَاِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 8:49 in the Quran reader

(اور وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب کہہ رہے تھے منافق اور لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا (شک وار تیاب کا) کہ دھوکے میں ڈال رکھا ہے ان (مسلمانوں) کو ان کے دین نے، حالانکہ جو (صحیح معنوں میں) بھروسہ رکھتا ہے اللہ پر، تو (اس کے لئے ناکامی ہے ہی نہیں، کہ) بیشک اللہ بڑا ہی زبر دست، نہایت ہی حکمت والا ہے،

98 کفار کی روش سے بچنے کے لئے تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان لوگوں کی طرح نہیں ہوجانا جو اپنے گھروں سے اتراتے ہوئے اور دکھلاوا کرتے ہوئے نکلے تھے جیسا کہ کفار قریش اور مشرکین مکہ نکلے تھے، جو کہ اپنے فخر و غرور کے نشے میں چور اور بدمست و مخمور تھے۔ روایات میں ہے کہ جب کفار قریش کا قافلہ سلامتی کے ساتھ نکل گیا اور وہ لوگ مسلمانوں کی زد سے بچ گئے تو امیر قافلہ ابو سفیان بن حرب نے لشکرکفار کی طرف پیغام بھیجا کہ چونکہ ہم سلامتی کے ساتھ نکل آئے ہیں، اس لیے اب لڑنے بھڑنے اور جنگ وجدال کی کوئی ضرورت نہیں۔ لہذا آپ سب لوگ اب واپس چلے جائیں۔ تو اس کے جواب میں ابو جہل اینڈ کمپنی نے نہایت تکبر کے ساتھ کہا کہ نہیں اب تو ہم بدر میں ضرور جائیں گے۔ اور وہاں جا کر اپنی فتح کا جشن منائیں گے تاکہ ہماری بہادری کے گیت گائے جائیں اور پورے جزیرہ نمائے عرب میں ہماری دھاک بیٹھ جائے۔ تاکہ آئندہ کوئی ہماری طرف آنکھ اٹھانے کی بھی جرأت نہ کرسکے۔ پھر اس تکبر کا جو انجام ہوا وہ دنیا نے دیکھا کہ ان لوگوں کو شراب کی بجائے موت کے پیالے پینے پڑے۔ اور رقاصاؤں کے رقص و سرود کی بجائے ان پر نوحہ کرنے والیوں نے نوحے کئے۔ اور عربوں پر دھاک بٹھانے کی بجائے ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ ان کا غرور خاک میں مل گیا۔ یہ خود مٹ گئے اور ہمیشہ کے لئے نمونہ عبرت بن گئے۔ سو کبر و غرور کا انجام بڑا ہی برا اور عبرتناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ کے سائے میں رکھے ۔ آمین۔ 99 کفار کے دوہرے جرم کے ارتکاب کا ذکر وبیان : سو اس سے ان کفار کے دوہرے جرم کے ارتکاب کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے کہ ایک طرف تو یہ بدبخت پیغام حق و ہدایت سے منہ موڑ کر خود کفر و شرک کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں اور دوسری طرف یہ دوسروں کو بھی راہ حق و ہدایت سے روکتے ہیں۔ اور اس طرح ایسے بدبخت لوگ نور حق و ہدایت سے خود محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اس سے محروم کرنے کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور اس طرح یہ لوگ ضلال اور اضلال کے دوہرے جرم و گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اپنے گھروں سے اس جوش و خروش اور طمطراق کے ساتھ ان بدبختوں کے نکلنے کا اصل مقصد اللہ کے بندوں کو اللہ کی راہ سے روکنا تھا۔ لیکن ان مت کے مارے ہوؤں کو اس کا علم نہیں تھا کہ یہ چیز ان کے بس کا روگ نہیں۔ اور آسمان پر تھوکا انسان کے اپنے ہی منہ پر آ لگتا ہے۔ سو اس طرح ایسے لوگ دین حق کا تو کچھ نہیں بگاڑیں گے لیکن اپنی محرومی اور سیاہ بختی کے داغ کو ضرور پکا اور گہرا کریں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر شر اور فتنہ سے محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 100 اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ پوری پوری طرح احاطہ کیے ہوئے ہے ان کے سب کاموں کا۔ یعنی اپنے علم اور قدرت کے اعتبار سے۔ پس نہ تو ان کا کوئی عمل اور اس کی کوئی کیفیت اس کے احاطہ علم سے باہر ہوسکتی ہے اور نہ ہی یہ اس کی گرفت و پکڑ سے کسی طرح نکل سکتے ہیں۔ اور نہ ہی ایسے لوگ اپنی حرکتوں سے اسلام کا راستہ روکنے اور اسکے نور کو بجھانے کی کوششوں میں کبھی کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں ان کو جو ڈھیل اور چھوٹ ملی ہوئی ہے وہ بھی ایک خاص مدت تک ہے اور بس کہ ان کا کوئی بھی عمل اس قادر مطلق کے احاطہ علم وقدرت سے باہر نہیں ہوسکتا۔ سو ان عقل کے اندھوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ انسان خواہ کتنی ہی وسعت کے ساتھ اپنا جال پھیلائے اور اپنی ترکتازیوں کے کتنے ہی جوہر دکھائے اور مظاہرے کرے، اس کی ہر چیز ہر وقت اور ہر حال میں خداوند قدوس کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اس لئے ہوگا وہی جو اس کو منظور ہوگا۔ اور ان کو چھوٹ اسی حد تک ملے گی جو اس کی مشیت کے ماتحت ہوگی اور بس۔ کہ وہ وحدہ لا شریک ان کے سب کاموں کا احاطہ کیے ہوئے ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 8:50

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ یَتَوَفَّى الَّذِیْنَ كَفَرُوا١ۙ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ١ۚ وَ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 8:50 in the Quran reader

اور اگر تم دیکھ لو (حال اس وقت کا) کہ جب فرشتے جان قبض کرتے ہیں کافروں کی، اور وہ ضربیں لگا رہے ہوتے ہیں ان کے چہروں اور ان کی پیٹھوں پر، اور (ان سے کہہ رہے ہوتے ہیں کہ لو اب) چھکو تم مزہ جلنے کے عذاب کا، (اگر تم یہ دیکھ سکو تو تمہیں بڑا ہی ایک ہولناک منظر نظر آئے)1

108 کافروں کے منہ اور انکے دبر ایک برابر : سو یہاں پر { اَدبار } اور { وجوہ } کو ایک ساتھ بیان فرمایا گیا ہے کہ ان دونوں پر مار پڑ رہی ہوگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کافر کا منہ اور اس کا دبر ایک برابر ہیں۔ اور وجہ ظاہر ہے کہ ان دونوں سے گندگی اور نجاست نکلتی ہے۔ سو ان میں سے کہ ایک سے پیشاب پاخانے کی حسی اور ظاہری ناپاکی نکلتی ہے اور دوسرے سے کفر و شرک کی معنوی اور باطنی نجاست ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کا ایک مظہر اب بھی اس صورت میں سامنے آتا ہے کہ جو لوگ مرنے کے بعد اپنے مردوں کو جلاتے ہیں وہ سب سے پہلے آگ ان کے منہ میں ہی لگاتے ہیں۔ اور یہ کام بھی وہی شخص کرتا ہے جو کہ مرنے والے کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہوتا ہے۔ اور اس طرح ان لوگوں کو ان کے کفر کی سزا یہیں سے اور سب کے سامنے شروع ہوجاتی ہے۔ جبکہ اصل عذاب آخرت کا ہے جو کہ بڑا ہی ہولناک اور انتہائی سخت ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم کہیں اس وقت کو دیکھ سکوجب کہ کفار کی جانکنی کے موقع فرشتے ان کے مونہوں اور ان کے مقعدوں پر ضربیں لگا رہے ہوتے ہیں تو تم کو نہایت ہی ہولناک منظر نظر آئے۔ اور اسی پر بس نہیں بلکہ اس کے بعد ان کے لئے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ کا عذاب ہوگا۔ سو کفر وانکار ہلاکتوں کی ہلاکت اور خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 109 کافروں کیلئے آخرت میں عذاب پر عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرشتے ان کی تذلیل و توبیخ کے لیے ان سے کہہ رہے ہوں گے کہ اب چکھو مزہ جلنے کے عذاب کا اور اس طرح ان کی اور بھی تذلیل و تحقیر اور رسوائی ہوگی جس سے ان کے دکھ میں اور بھی اضافہ ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کافروں کیلئے دوزخ کی آتش سوزاں کے حسی عذاب کے ساتھ ساتھ باطن کو جلا دینے والی ایسی باتوں کا معنوی اور باطنی عذاب بھی ہوگا۔ اور اس طرح وہ عذاب پر عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ سو یہ قرآن حکیم کا دنیا پر کس قدر عظیم الشان احسان ہے کہ اس نے پیشگی بتادیا کہ وہاں ایسے اور ایسے عذابوں سے سابقہ اور واسطہ پڑے گا تاکہ جس نے بچنا ہو وہ بچ جائے قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کو ہمیشہ کے عذاب میں مبتلا ہونا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس کافر کا انجام یہ ہونے والا ہے اس کو اگر دنیا کی اس فانی زندگی میں دنیا بھر کی دولت بھی مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا ؟ اور اس سے بڑھ کر محروم اور بدبخت اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور اس کے برعکس جس مومن صادق کو دوزخ کے اس ہولناک عذاب سے بچا کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفراز کردیا جائے اس سے بڑھ کر خوش نصیب اور کون ہوسکتا ہے ؟ اگرچہ دنیا میں اس کو نان جویں بھی میسر نہ رہی ہو۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے ۔ اللَّھُمَّ فَزِدْنَا مِنْہُ وَثَبِّتَنَا عَلَیْہِ ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 8:51

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۙ Open ayah 8:51 in the Quran reader

یہ سب بدلہ ہے اس کا جو تم لوگوں نے آگے بھیجا خود اپنے ہاتھوں سے، ورنہ اللہ ایسا نہیں کہ (ذرہ برابر کوئی) ظلم کرے اپنے بندوں پر،

110 دوزخ انسان کے عمل و کردار کا طبعی نتیجہ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دوزخ کی آگ انسان کے خود اپنے ہاتھوں کی کمائی کا بدلہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان سے کہا جائے گا کہ یہ بدلہ ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا جو تم لوگوں نے آگے بھیجی تھی۔ پس اب تم اپنے سوا کسی کی بھی ملامت نہیں کرسکتے کہ یہ سب کچھ تمہارے اپنے ہی کئے کرائے کا نتیجہ اور پھل ہے۔ پس ملامت خود اپنی ہی کرو، جیسا کہ شیطان ان سے دوزخ میں کہے گا { فَلا تَلُوْمُوْنِیْ وَلُوْمُوْا اَنْفُسَکُمْ } الاٰیۃ (ابراہیم :) یعنی " تم لوگ مجھے ملامت نہ کرو بلکہ خود اپنی ہی کو ملامت کرو " کہ اپنے اس انجام کے ذمہ دار تم خود ہو۔ اور کمائی کا اصل اور بڑا ذریعہ چونکہ انسان کے ہاتھ ہی ہوتے ہیں اس لئے لوگوں کی کمائی کو ان کے ہاتھوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ ورنہ اس میں ان کے دوسرے اعضاء وجوارح بھی شریک و شامل ہوتے ہیں۔ سو یہ قرآن حکیم کا دنیا پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے دنیا کو غیب کے ان حقائق کی اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ اور اتنی پیشگی خبر دے دی تاکہ جس نے بچنا ہو وہ اپنے بچنے کا سامان کرلے۔ مگر دنیا ہے کہ پھر بھی غفلت میں ڈوبی پڑی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 111 اللہ کبھی ظلم نہیں کرتا اپنے بندوں پر : سو نہ وہ کسی کو بلا جرم سزا دیتا ہے اور نہ ہی کسی کو اس کے جرم سے زیادہ سزا دیتا ہے۔ اور ظلم کا کیا معنی اس کے یہاں تو کرم ہی کرم، رحمت ہی رحمت اور عنایت ہی عنایت ہے کہ وہ اکرم الاکرمین اور ارحم الراحمین ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور وہ رحمن و رحیم اور غفور و ودود ہے، جس کی طرف سے اس کے بندوں کیلئے رحمتیں ہی رحمتیں اور عنایتیں ہی عنایتیں ہیں۔ لیکن اس کا کیا کیا جائے کہ بندے اس سے منہ موڑ کر خود ہلاکت و تباہی کی راہ کو اپنائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور عربی قاعدہ کے مطابق نفی جب مبالغہ کے صیغہ پر داخل ہوتی ہے جیسا کہ یہاں ہے تو وہ مبالغہ فی النفی کے لئے ہوتی ہے۔ یعنی وہ اپنے بندوں پر کچھ بھی ظلم نہیں کرتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 8:52

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ فَاَخَذَهُمُ اللّٰهُ بِذُنُوْبِهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ شَدِیْدُ الْعِقَابِ Open ayah 8:52 in the Quran reader

(حق کی عداوت و تکذیب میں ان کا حال بھی ویسا ہی ہے) جیسا کہ فرعون والوں اور ان لوگوں کا تھا جو کہ گزر چکے ہیں ان سے بھی پہلے، کہ انہوں نے جھٹلایا اللہ کی آیتوں کو، آخر کار اللہ نے پکڑا ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں، بیشک اللہ بڑا ہی قوت والا، سخت عذاب دینے والا ہے،2

112 کفر کا نتیجہ بہرحال بہت برا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخر کار اللہ نے ان کو پکڑا ان کے گناہوں کی پاداش میں۔ یعنی ان کے کفر و شرک اور تکذیب و انکار کے جرم میں۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دور حاضر کے ان کافروں اور منکروں کا حال بھی ویسا ہی ہے جیسا کہ فرعون والوں اور ان لوگوں کا تھا جو ان سے بھی پہلے گزر چکے ہیں کہ انہوں نے اللہ کی آیتوں کو جھٹلایا۔ تو آخر کار اللہ نے ان کو پکڑا انکے گناہوں کی پاداش میں۔ سو جو حال ان کا تھا وہی ان کا ہے۔ اور اس کے جس وبال و نکال اور انجام و مآل سے ان کو دوچار ہونا پڑا وہی ان کے لئے بھی مقرر ہے۔ کہ جزا جنس عمل سے ہوتی ہے۔ سو جب جرم میں یہ دونوں فریق یکساں ہیں تو اس کی جزا و سزا بھی دونوں کے لئے ایک ہی ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو تکذیب اور انکار حق کے جرم کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ دائمی اور نہایت ہی ہولناک تباہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس لیے کفر و انکار کے جرم پر کسی کو مہلت اور ڈھیل جتنی بھی ملے وہ بہرحال ڈھیل اور مہلت ہی ہے۔ انجام کار ان کو ہولناک تباہی سے دو چار ہونا ہوگا۔ 113 اللہ تعالیٰ کی قوت و گرفت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ بڑا ہی قوت والا سخت عذاب دینے والا ہے۔ پس نہ اس پر کوئی غالب آسکتا ہے اور نہ ہی کوئی اس کی گرفت و پکڑ سے کسی طرح نکل کر بھاگ سکتا ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ظالموں کو جو ڈھیل مل رہی ہے اس سے ان کو کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ ظالموں کو ان کے ظلم کی سزا بہرحال ملے گی۔ اور اس کی پکڑ بڑی ہی سخت ہے۔ جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ظالم کو ڈھیل دیتا جاتا ہے یہاں تک کہ جب اس کو پکڑتا ہے تو پھر اس کے لیے بھاگ نکلنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ سو اللہ تعالیٰ جو منکرین کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے تو وہ اپنی رحمت کی بناء پر دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تاکہ ایسے منکر و معاند لوگ اپنے کفر وعناد سے باز آجائیں اور اس کے عذاب سے بچ جائیں۔ لیکن جب ایسے عناصر باز آنے کی بجائے اپنے کفر وعناد اور سرکشی و طغیانی ہی میں بڑھتے جاتے ہیں تو آخر کار اللہ ان کو ان کے کئے کرائے کی پاداش میں پکڑتا ہے اور اس طرح ایسے لوگ اپنے کئے کرائے کے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہلاکت اور تباہی کے ہر راستے اور ہر روش سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 8:53

ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ لَمْ یَكُ مُغَیِّرًا نِّعْمَةً اَنْعَمَهَا عَلٰى قَوْمٍ حَتّٰى یُغَیِّرُوْا مَا بِاَنْفُسِهِمْ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:53 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ اللہ ایسا نہیں کہ بدل دے کسی ایسی نعمت کو جو اس نے عطا فرمائی ہو کسی قوم کو، یہاں تک کہ وہ لوگ (اپنی بدنصیبی سے) خود بدل نہ دیں ان حالات کو، جن کا تعلق خود ان کی اپنی ذاتوں سے ہے، بیشک اللہ سنتا (ہر کسی کی اور) جانتا ہے (سب کچھ) ،3

114 قوموں کی ترقی اور ان کے عروج کی بنیاد اخلاق و کردار : سو اللہ تعالیٰ کسی قوم سے اپنی عطا کردہ نعمت کو چھینتا نہیں۔ یہاں تک کہ وہ لوگ اپنی حالت کو خود بدل دیں کہ کرم والی کوئی ذات کسی پر کوئی عنایت کرنے کے بعد اس کو واپس نہیں لیتی کہ یہ بات اس کی اپنی شان کرم کے خلاف ہوتی ہے۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس و اعلیٰ کے کہنے ہی کیا جو کہ اکرم الاکرمین ہے۔ اور جس کا کرم حقیقی اور لامتناہی کرم ہے اور جس کی شان ہی کرم فرمانا ہے۔ مگر جب کوئی بدنصیب قوم اپنی ناشکری اور بداطواری سے اپنے آپ کو اس نعمت کے قابل نہ رہنے دے تو پھر اس قادر مطلق کے عدل وانصاف کا مقتضیٰ اور اس قوم کی اس ناشکری کا طبعی تقاضا یہی ہوتا ہے کہ وہ نعمت اس سے چھین لی جائے۔ جیسا کہ فرعون والوں اور ان سے بھی پہلے کے کافروں کے ساتھ بالفعل ہوچکا ہے۔ اور اس کی تازہ مثال کفار قریش تھے جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم الشان نعمتوں سے نوازا۔ ان کو بھوک سے بچا کر بافراغت کھانا بخشا۔ خوف کی بجائے امن سے سرفراز فرمایا۔ نبی آخر الزمان کو ان کے اندر مبعوث فرماکر ان کو اپنی کامل ہدایت کی اس اَبَدی نعمت سے بہرہ ور فرمایا جو دارین کی سعادتوں اور حقیقی فوز و فلاح کی ضامن وکفیل ہے۔ مگر انہوں نے ان عظیم الشان نعمتوں کی قدر نہ پہچانی اور انہوں نے انکار و تکذیب ہی سے کام لیا۔ تو اس کے نتیجے میں آخر کار وہ اپنے اس انجام سے ہم کنار ہوئے جس کے وہ اپنے اعمال و کردار کی بناء پر مستحق تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قوموں کا عروج اور ان کی ترقی دنیاوی مال و اَسباب کی فراوانی اور تعداد کی کثرت و بڑھوتری پر نہیں، جیسا کہ ابنائے دنیا کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور جس کی بناء پر کفار و مشرکین کہا کرتے تھے { نَخْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالاً وَّاَوْلَادًَا، وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ } (سبا : 35) ۔ سو قوموں کی ترقی اور ان کے عروج کی اصل بنیاد یہ نہیں جیسا کہ ایسے لوگوں نے سمجھ رکھا ہے، بلکہ ان کی ترقی کی اساس و بنیاد ایمان و اخلاق کی دولت اور صالح کردار پر ہے۔ یہ دولت جب کسی قوم میں موجود ہوگی تو وہ قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوگی خواہ وہ مادی اعتبار سے بالکل تہی دامن ہی کیوں نہ ہوں۔ اور یہ چیز جب نہیں تو وہ قوم ہلاکت کی راہ پر ہے، خواہ دنیاوی اعتبار اور مادی لحاظ سے کتنے ہی عروج پر کیوں نہ ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 8:54

كَدَاْبِ اٰلِ فِرْعَوْنَ١ۙ وَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَغْرَقْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ١ۚ وَ كُلٌّ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 8:54 in the Quran reader

(سو ان کی حالت بھی ویسی ہی ہوئی) جیسا کہ حالت تھی فرعون والوں کی، اور ان لوگوں کی جو کہ گزرچکے ہیں ان سے بھی پہلے، کہ انہوں نے جھٹلایا اپنے رب کی آیتوں کو، تو آخرکار ہلاک کردیا ہم نے ان سب کو ان کے گناہوں کی پاداش میں، اور غرقاب کردیا ہم نے فرعون والوں کو، کہ وہ سب ظالم تھے،1

115 کفر و انکار کا آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے : چناچہ منکرین و معاندین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں نے جھٹلایا اپنے رب کی آیتوں کو۔ تو آخرکار ہم نے ہلاک کردیا ان سب کو ان کے گناہوں کی پاداش میں۔ سو ان کی ہلاکت و تباہی ان کے اپنے کفر وانکار وغیرہ سنگین جرائم کا ایک لازمی نتیجہ اور طبعی اثر تھا جو قانون قدرت کے مطابق ان پر چسپاں ہوا۔ ورنہ اللہ تعالیٰ نے ازخود یونہی ان سے اپنی نعمتوں کو چھین نہیں لیا کہ یہ اس کی شان نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ لوگ جب اپنے کفر و انکار میں بڑھتے ہی چلے گئے تو آخرکار یہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے۔ ان میں سے کسی قوم کی صورتوں کو مسخ کیا گیا۔ کسی کو زمین میں دھنسا دیا گیا اور کسی کو زلزلہ کے ذریعے اور کسی کو تباہ کن ہوا کے ذریعے تباہ کیا گیا۔ سو کفر و انکار اور تکذیبِ حق کا لازمی نتیجہ اور آخری انجام بہرحال تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایسے لوگوں کو قدرت کی طرف سے جو ڈھیل ملتی ہے وہ بہرحال ایک ڈھیل ہوتی ہے، جس نے بہر حال ختم ہو کر رہنا ہوتا ہے۔ اس لئے اس کی بناء پر کسی کو کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے ۔ والعیاذ باللہ - 116 آل فرعون کی ہلاکت و غرقابی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرعون والوں کو ہم نے غرقاب کردیا : کہ وہ خود کفر و انکار کے سمندر میں ڈوبے ہوئے تھے۔ یہاں تک کہ فرعون نے اپنے رب بلکہ ربِّ اعلیٰ ہونے کا دعوی کرلیا تھا اور { اَنَا رَبُّکُمُ الاَعْلٰی } کا نعرہ لگا دیا تھا۔ اور اس کی قوم نے اس کے کفر کو تسلیم کرلیا تھا { فَاسْتَخَفَّ قَوْمَہ فَاَطَاعُوْہُ } اور جزاء چونکہ جنس عمل سے ہوتی ہے، اس لئے فرعون اور فرعونیوں کو غرق قلزم کردیا گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ان کے کفر و انکار کی بناء پر ان کو دی ہوئی نعمتوں کو ان سے چھین لیا گیا۔ سو نہ ان کے وہ باغات رہے نہ نہریں اور نہ وہ کھیتیاں جن پر ان لوگوں کو بڑا ناز ہوا کرتا تھا۔ اور جب اللہ کے عذاب کا کوڑا ان پر برسا تو نہ ان کا وہ جاہ و اقتدار ان کے کچھ کام آسکا اور نہ وہ دنیاوی مال و دولت جس کو ان لوگوں نے بہت کچھ بلکہ سب کچھ سمجھ رکھا تھا، اور جس کی بناء پر وہ تکبر میں مبتلا اور اپنی فرعونیت میں مستغرق تھے۔ اور آخر کار وہ لوگ ہمیشہ کے لئے فِی النَّارِ وَالسَّقَر ہو کر رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ 117 ظلم کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو آل فرعون کے ان بدبختوں کی اس ہلاکت و تباہی اور غرقابی کے سبب کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب لوگ ظالم تھے۔ کفر و شرک کے ارتکاب اور اپنی کج روی کی بناء پر کہ ایسا کرنا ظلم ہے اللہ وحدہ لاشریک کے حق میں۔ جو کہ خالق ومالک حقیقی ہے۔ نیز یہ ظلم ہے اللہ کے انبیاء و رسل اور ان کی لائی ہوئی شریعتوں اور کتابوں کے حق میں کہ ان کا حق یہ تھا کہ صدق دل سے ان پر ایمان لایا جائے۔ نیز یہ ظلم ہے اللہ کی اس پوری کائنات کے حق میں، جس سے انسان طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتا ہے کہ یہ تمام نعمتیں بلا شرکت غیرے اللہ وحدہ لاشریک ہی کی عطاء کردہ ہیں۔ تو کتنا بڑا ظلم ہے کہ انسان اس وحدہ لاشریک کی بخشی ہوئی ان بےحد و حساب نعمتوں سے طرح طرح کے فائدہ اٹھائے اور لگاتار اور مسلسل اٹھائے۔ اور پھر اسی واہب مطلق کا باغی بن کر رہے۔ اسی طرح یہ ظلم ہے ایسے لوگوں کے خود اپنے حق میں کہ بجائے اس کے کہ یہ لوگ اپنے خالق ومالک کی طرف سے بخشی ہوئی حق و ہدایت کی اس عظیم الشان نعمت کو صدق دل سے اپنا کردارین کی سعادت اور فوز و فلاح سے بہرہ ور ہوتے انہوں نے اس کی تکذیب و انکار سے اپنے آپ کو دوزخ کا ایندھن بنادیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کفر و انکار اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی اطاعت و فرمانبرداری سے اعراض و سرکشی سراسر ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایسے ظالموں کو جتنی بھی ڈھیل اور مہلت ملے، آخر کار بہرحال ان کی پکڑ ہوتی ہے۔ اور ایسی پکڑ کہ جو بڑی ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ظلم کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 8:55

اِنَّ شَرَّ الدَّوَآبِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَۖۚ Open ayah 8:55 in the Quran reader

بیشک زمین پر چلنے والی ساری مخلوق میں سب سے برے اللہ کے نزدیک وہ لوگ ہیں، جو ایسے اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (وباطل) پر کہ وہ (کسی قیمت پر بھی) ایمان لانے کے لائق نہیں،2

118 اہل کفر و باطل اللہ کی بدترین مخلوق ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ کے نزدیک بدترین مخلوق وہ لوگ ہیں جو اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں کہ کفر کی میل ان کے دلوں پر چھا گئی اور جم کر رہ گئی اور معاصی وذنوب کے زنگ نے ان کے باطن کو ایسا کھوکھلا کردیا کہ یہ بدبخت قبول حق کی استعداد ہی سے محروم ہوگئے جو کہ لازمی نتیجہ ہے ضد اور ہٹ دھرمی کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو نور ایمان سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے اور کفر و انکار جڑ بنیاد ہے ہر خرابی اور برائی کی۔ اس لئے یہ لوگ ہر جانور سے برے اور بدتر ہوگئے اگرچہ وہ اپنے آپ کو کتنا ہی بڑا کیوں نہ جانتے اور مانتے ہوں۔ عام لوگ ان کو کیا کچھ نہ سمجھتے اور کہتے ہوں اور دنیاوی اسباب اور مادی ترقی کے اعتبار سے ایسے لوگ آسمانوں کی بلندیوں ہی کو کیوں نہ چھوتے ہوں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ یہ اپنے خالق ومالک کی معرفت اور اس کے حق اطاعت و بندگی سے غافل و بیخبر ہیں۔ اور یہ لوگ غافل و لاپراہ ہیں اپنے اس ہولناک انجام سے جو ان کو بہرحال بھگتنا ہے اور جوہر عقل کو انہوں نے بطن و فرج کی خواہشات کی فراہمی و تکمیل میں لگا دیا۔ اور اس کے نتیجے میں یہ حیوان سے بھی بدتر ہو کر رہ گئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ حیوان کو عقل کی روشنی نہیں بخشی گئی اور وہ اپنی زندگی کے لگے بندھے تقاضوں کی تکمیل اور انجام دہی میں لگے ہوتے ہیں اور ان سے آگے نہ کوئی حساب کتاب ہونا ہے اور نہ ہی ان کے لئے کسی جنت و دوزخ کا کوئی سوال ہے، جبکہ انسان کو عقل کے جوہر بےمثال سے نوازا گیا مگر اس سے صحیح کام لینے کی بجائے یہ لوگ الٹے اور اوندھے ہوگئے اور اپنے مرتبہ و مقام سے غافل ہو کر انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر حیوانیت کے قعر مذلت میں پہنچ گئے اور آخرت کی مسؤلیت سے لاپروا ہو کر یہ لوگ اپنے مقصد زندگی اور اس کے تقاضوں سے غافل و بےفکر ہوگئے اور صرف بطن وفرج کے تقاضوں کے غلام بن گئے جس کے نتیجے میں یہ جنت کی سدا بہار نعمتوں سے محروم ہوگئے اور دوزخ کا ایندھن بن گئے جہاں ان کو ہمیشہ ہمیش کے لئے جلتے رہنا ہوگا۔ تو کیا اس سے بڑھ کر کوئی بدبختی اور محرومی ممکن ہوسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 8:56

اَلَّذِیْنَ عٰهَدْتَّ مِنْهُمْ ثُمَّ یَنْقُضُوْنَ عَهْدَهُمْ فِیْ كُلِّ مَرَّةٍ وَّ هُمْ لَا یَتَّقُوْنَ Open ayah 8:56 in the Quran reader

(خاص کر وہ) جن سے آپ نے عہد لیا پھر وہ (ناہنجار) توڑ دیتے ہیں اپنے عہد کو ہر مرتبہ، اور وہ ڈرتے نہیں، عہد شکنی اور اس کے انجام سے)

119 خاص کر وہ جو ہر مرتبہ توڑ دیتے ہیں اپنے عہد کو : اس کا اولین اور بڑا مصداق ہیں یہود بنو قریظہ، جنہوں نے آنحضرت ﷺ سے پختہ عہد کیا کہ ہم نہ آپ کے خلاف لڑیں گے اور نہ ہی آپ کے خلاف کسی کی مدد کریں گے۔ مگر اس کے باوجود یہ لوگ اپناعہد توڑ دیتے اور بعد میں کہتے کہ ہم بھول گئے۔ ہم سے غلطی ہوگئی وغیرہ۔ یہاں تک کہ غزوئہ اَحزاب کے موقعہ پر اپنی اس مسلسل عہد شکنی کے باعث اور اس کے نتیجے میں یہ لوگ اپنے انجام کو پہنچ کر رہے (روح، صفوۃ، قرطبی، مراغی، جامع، محاسن، کبیر، زادالمسیر اور معارف وغیرہ) ۔ اور یہی وطیرہ و شیوہ رہا یہود بےبہود کا ہر زمانے اور ہر دور میں۔ یہاں تک کہ آج جب کہ راقم آثم یہ سطور تحریر کر رہا ہے، یہود بنی اسرائیل کی تازہ عہد شکنی کا دنیا ساری میں شور ہے۔ کیونکہ انہوں نے فلسطینیوں سے کئے گئے اپنے وہ وعدے توڑ دئے جو انہوں نے دنیا کی کئی حکومتوں کے توسط سے اور ان کے سامنے کئے تھے اور اپنے ان عہود و وعود کو توڑ کر انہوں نے مشرقی یروشلم میں نئی یہودی بستیوں کی تعمیر کا کام شروع کردیا اور یو این او ( U.N.O) کے ہنگامی اجلاس میں اس کے تمام کے تمام ایک سو تیس ممبر ملکوں نے اسرائیلی حکومت کے اس اقدام کے خلاف ووٹ دیا، ماسوائے امریکہ اور اسرائیل کے۔ مگر اس کے باوجود اسرائیلی حکومت اپنے تمام عہد و پیمان توڑ کر اس غیر قانونی عمل میں مصروف ہے۔ سو عہد شکنی اور دھوکہ دہی اس قوم کا ہمیشہ کا طریقہ و وطیرہ رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے عہد شکن اور بدعہد لوگ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین مخلوق ہیں اور ان پر اللہ کی لعنت اور پھٹکار ہے جو اپنے عہود و مواثیق کو اس طرح توڑتے اور فساد پھیلاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 8:57

فَاِمَّا تَثْقَفَنَّهُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِهِمْ مَّنْ خَلْفَهُمْ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 8:57 in the Quran reader

پس اگر تم نے قابو پالیا ان پر جنگ میں تو (ان کی ایسی خبر لو کہ) تتر بتر اور (حواس باختہ) کردو ان کے ذریعے ان کو جو ان کے پیچھے ہیں، تاکہ وہ سبق لے سکیں،3

120 عہد شکنوں کی سرکوبی کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا اگر تم ان پر جنگ میں قابو پالو تو ان کی اچھی طرح خبر لو تاکہ یہ سبق لیں اور بچیں عہد شکنی اور اس کے برے عواقب و نتائج سے اور اس طرح نجات مل سکے عامۃ الناس اور پورے معاشرے کو ایسے رذائل و قبائح سے۔ سو دینی تعلیمات و ارشادات رحمت ہی رحمت اور برکت ہی برکت ہیں سب کے لئے ۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ بہرکیف ایسے لوگوں کیلئے جو کہ اعلانیہ اور بار بار عہد شکنی کرتے ہیں، اس طرح سختی سے نمٹنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ یہ دوسروں کیلئے عبرت بن جائیں اور دوسرے ایسے جرائم کے ارتکاب سے باز رہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان کفار و مشرکین میں سے ایسے لوگ زیادہ بدبخت ہیں، جن سے آپ عہد کرتے ہیں، مگر وہ ہر وقت اپنے عہد کو توڑتے ہیں جو کہ دلیل ہے ان کے دلوں کی سختی، کردار کی پستی اور ان کے احساس غیرت و حمیت سے خالی ہونے کی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے عہد شکنوں پر اگر تم کسی جنگ میں قابو پالو تو ان کی ایسی خبرلو کہ اس سے حواس باختہ اور تتر بتر ہوجائیں وہ لوگ جو ان کے پیچھے ہیں اور تاکہ وہ سبق لیں۔ اور اس طرح عہد شکن لوگ باز آئیں اپنی روش سے اور پورے معاشرے کا بھلا ہو۔
Ayah 8:58

وَ اِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْۢبِذْ اِلَیْهِمْ عَلٰى سَوَآءٍ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْخَآئِنِیْنَ۠ Open ayah 8:58 in the Quran reader

اور اگر تمہیں اندیشہ ہو کسی قوم سے خیانت (اور عہد شکنی) کا، تو تم پھینک دو ان کی طرف ان کے عہد کو، اس طور پر کہ ایک برابر ہوجاؤ تم لوگ اور وہ، بیشک اللہ پسند نہیں فرماتا خیانت کرنے والوں کو،

121 معاہدے کی پابندی کا احترام طرفین سے مطلوب ہوتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تمہیں کسی قوم سے عہد شکنی کا اندیشہ ہو، اور اس کی علامات اور نشانیاں پائی جائیں کہ وہ لوگ عہد شکنی پر تلے ہوئے ہیں، تو ایسی صورت میں تم پر ایسے کسی عہد کی پابندی لازم اور ضروری نہیں، بلکہ ایسے میں تم بھی اس عہد کو ان کے حوالے کرکے اس سے سکبدوش ہوجاؤ۔ مگر نقض عہد سے ان کو آگاہ کئے بغیر ان کے خلاف کوئی ایکشن و اقدام نہیں کرنا ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی پاکیزہ تعلیم ہے کہ اے مسلمانو ! تم لوگ ان کی غداری کے باوجود ان کو آگاہ کیے بغیر نقض عہد کا ارتکاب نہیں کرنا۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ عہد کی پابندی تم پر یکطرفہ لازم نہیں ہے، بلکہ یہ اسی صورت میں ہے کہ جب دوسرا فریق بھی اس کا احترام کرے۔ لیکن وہ اگر اس کا احترام نہیں کرتا تو ایسے میں تم بھی اس معاہدے کو ان کے منہ پر پھینک مارو { عَلٰی سَوَائٍ } کا مفہوم یہ ہے کہ تم بھی ان کے برابر کا اقدام کرنے کے مجاز ہو۔ سو اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی اجازت نہیں، بلکہ جواب برابر کا اور ہم وزن ہو۔ سبحان اللہ کس قدر عدل وانصاف اور باریکیوں پر مشتمل ہیں دین حنیف کی یہ تعلیمات مقدسہ ۔ فالحمد للہ - 122 خیانت و غدر سے احتراز و اجتناب کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ پسند نہیں فرماتا خیانت کرنے والوں کو۔ سو اس سے معاہدہ کے خاتمے کے سلسلے میں خیانت سے بچنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ پس عہد کے خاتمے کے ضمن میں بدعہدی سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔ اس لیے تم لوگ عہد و پیمان کے خاتمے کے اعلان سے پہلے ان لوگوں کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرنا کہ یہ عہد شکنی اور خیانت کے زمرے میں آتا ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ سنن ابوداؤد وغیرہ میں مروی ہے کہ حضرت امیر معاویہ ۔ ؓ ۔ نے اپنے دور حکومت میں رومیوں سے کوئی میعادی عہد کر رکھا تھا اور اس میعاد کے پورا ہونے سے کچھ ہی پہلے آپ ؓ نے اپنی فوجوں کو رومی سرحدوں پر جمع کرنا شروع کردیا تاکہ میعاد پوری ہوتے ہی ان پر حملہ کردیا جائے۔ مگر جب اس کے بارے میں حضرت عمرو بن عبسہ ؓ کو پتہ چلا تو آپ ؓ نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے فرمایا " اللہ اکبر وفا ئِ لا غدر " یعنی " وفا چاہیئے غدر اور دھوکہ نہیں "۔ اس پر حضرت امیر معاویہ ۔ ؓ ۔ نے اپنی فوجوں کو واپس بلا لیا۔ (ابوداؤد کتاب الجہاد باب فی الامام یکون بینہ و بین العدو عہد فیسیر الیہ، ترمذی کتاب السیر، باب ما جاء فی الغدر) ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی سچی، پاکیزہ اور برحق تعلیمات ہیں اس دین حنیف کی اور کیسے پاکیزہ اور منزہ نفوس تھے ان صحابہ کرام کے نفوس۔ اور کلمہ حق کے سامنے سر تسلیم خم کردینے کی کیسی پاکیزہ خو تھی ان حضرات کی ۔ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین ۔ بہرکیف اس میں اہل ایمان کو یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اگر تمہیں کسی قوم سے خیانت اور عہد شکنی کا اندیشہ ہو تو تم ان سے ان کے عہد کو برابری کی بنیاد پر پھینک دو ، لیکن دھوکہ دہی اور خیانت کی ہر شکل سے بچنا۔ اللہ تعالیٰ خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔
Ayah 8:59

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَبَقُوْا١ؕ اِنَّهُمْ لَا یُعْجِزُوْنَ Open ayah 8:59 in the Quran reader

اور کبھی یہ خیال نہ کریں کافر لوگ کہ وہ نکل گئے (ہماری گرفت وپکڑ سے) یقینا وہ (کسی طور پر ہمیں) عاجز نہیں کرسکتے،

123 کافر لوگ اللہ کی گرفت و پکڑ سے باہر نہیں ہوسکتے : سو اس ارشاد سے کافروں کو تنبیہ فرمائی گئی کہ وہ ہماری گرفت سے کبھی باہر نہیں ہوسکتے۔ پس لوگ کبھی یہ خیال نہ کریں کہ وہ ہماری گرفت و پکڑ سے نکل گئے ہیں اور اب ان کو کوئی سزاملنے والی نہیں، خبردار ایسا خیال بھی کبھی نہیں کرنا، کہ ایسے لوگ ہماری گرفت اور پکڑ سے کسی بھی طور پر نکل نہیں سکتے۔ سو ایسا کبھی خیال بھی نہ کریں جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّئَاتِ اَنْ یَّسْبِقُوْناَ سَائَ مَا یَحْکُمُوْنَ } ۔ (العنکبوت : 4) یعنی " کیا ان لوگوں نے جو برائیاں کیے جا رہے ہیں یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ ہماری گرفت وپکڑ سے نکل گئے ؟ سو بڑا ہی برا فیصلہ ہے جو ایسے لوگ کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کافر و مجرم لوگ اللہ کی گرفت و پگڑ سے کبھی نہیں نکل سکتے۔ بلکہ وہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے اور ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ خواہ دنیا میں قتل اور تباہی کے شکل میں یا آخرت کے دائمی عذاب کی صورت میں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے تصریح فرمائی گئی کہ تم کافروں کے بارے میں کبھی یہ نہ سمجھنا کہ وہ عاجز کردینے والے ہیں۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے وہ (النور :57) ۔ 124 کافر کبھی اللہ تعالیٰ کو عاجز نہیں کرسکتے : سو اس بارے ارشاد فرمایا کیا کہ یقینا وہ ہمیں عاجز نہیں کرسکتے کہیں بھاگ کر یا کسی طرح، چھپ کر یا مقابلہ کر کے یا کسی بھی اور طرح بلکہ یہ سب ہماری مشیت کے ما تحت اور ہماری قدرت کے دائرے میں اور اس کے احاطے کے اندر ہیں۔ سو منکرین و کفار نے اپنے کئے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہے۔ سو یہ ہر وقت اور ہر حال میں ہمارے دائرہ گرفت و پکڑ میں ہیں۔ اور یہ انجام کار رسوائی اور ذلت و خواری سے ہمکنار ہو کر رہیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { وَاعْلَمُوْا اَنَّکُمْ غَیْرُ مُعِجِزِی اللّٰہِ وَاَنَّ اللّٰہَ مخُزِی الْکَافِرِیْنَ } (التوبۃ۔ 2) یعنی " تم لوگ یقین جان لو کہ تم ایسے نہیں ہو کہ اللہ کو عاجز کردو۔ اور یقینا اللہ نے رسوا کرنا ہے کافروں کو "۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اس غلط فہمی کو اپنے دماغوں سے نکال دیں کہ یہ ہم سے بچ نکلیں گے۔ یقینا یہ ہمارے قابو میں ہیں اور ہم سے بچ نکلنا ان کے بس میں نہیں۔ پس اس حقیقت کا تقاضا یہ ہے کہ یہ اپنے کفر وعناد سے باز آجائیں اور حق کی طرف رجوع کر کے اپنے ہولناک انجام سے بچ جائیں قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ ہمیش کے لئے پچھتانا پڑے۔ کیونکہ اس ہولناک انجام سے بچ نکلنا اور اس سے خلاصی پانا ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ -