8. Surah Al-Anfaal

الأنفالThe Spoils of War · 75 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 8:26

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِیْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِی الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ یَّتَخَطَّفَكُمُ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَیَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 8:26 in the Quran reader

اور یاد کرو تم جب کہ تم لوگ تھوڑے سے تھے، تم کو کمزور سمجھا جاتا تھا اس سرزمین میں، اور تمہیں ڈر لگا رہتا تھا اس بات سے کہ کہیں اچک نہ لیں تم کو دوسرے لوگ، تو ایسے میں اس نے جگہ دی تم کو رہنے کے لئے، تم کو قوت بخشی اپنی نصرت سے اور تمہاری روزی کا انتظام فرمایا طرح طرح کی پاکیزہ چیزوں سے، تاکہ تم لوگ شکر ادا کرو،

41 اللہ کے انعام کی تذکیر و یاددہانی : سو اس سے یہ ہدایت فرمائی گئی کہ تم لوگ اللہ پاک کے اس عظیم الشان انعام و احسان کو یاد کرو اور ہمیشہ یاد رکھو تاکہ اس طرح تم لوگوں کو قدرت کے ان عظیم الشان انعامات اور احسانات کا احساس ہو سکے جن سے اس نے تم لوگوں کو نوازا اور سرفراز فرمایا ہے۔ تاکہ تم لوگ دل و جان سے ان کی قدر کرسکو اور ان پر اس کا شکر ادا کرسکو۔ سو اللہ تعالیٰ کے انعامات کو یاد کرنا اور ان پر اس کا شکر ادا کرنا دینی تعلیمات کا ایک اہم تقاضا ہے کہ اس میں انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے کہ شکر نعمت سے نعمت میں خیر و برکت نصیب ہوتی ہے اور اس کی حفاظت ہوتی ہے۔ اور شکر سے نعمت خیر بن جاتی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ } یعنی " اگر تم لوگ میری نعمتوں کا شکر ادا کرو گے تو میں تم کو بڑھا کر دوں گا " ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق لما یحب ویرید سبحانہ وتعالی - 42 اپنے دور ضعیفی کو یاد کرنے اور یاد رکھنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاد کرو جبکہ تم لوگ تھوڑے تھے اور تم کو کمزور اور بےبس سمجھا جاتا تھا اس سرزمین میں۔ یعنی مکہ مکرمہ میں جہاں تمہیں تمہارے دشمنوں کی طرف سے طرح طرح سے ستایا جا رہا تھا اور ان کے ان مظالم کے مقابلے میں نہ تمہارے پاس کوئی قوت تھی نہ زور۔ تو تمہارے خالق ومالک نے اپنے فضل و کرم سے اپنی قدرت مطلقہ اور عنایت بالغہ کی بناء پر تمہیں ان مظالم سے رہائی بخشی۔ اور تم کو اس ملک میں قوت بخشی اور غلبہ عطاء فرمایا۔ سو تم لوگ ذرا سوچو اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ اللہ اور اس کے رسول نے تمہیں جس راہ کو اپنانے کی دعوت دی ہے اس راہ پر چلنے سے تمہیں کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا گیا ہے۔ تم تعداد میں تھوڑے تھے تو اس نے اپنی عظیم الشان برکتوں اور عنایتوں سے نواز کر تمہاری تعداد کو کہیں بڑھا دیا۔ تم کمزور وضعیف اور ناتواں تھے اور تم دبے اور پسے ہوئے تھے تو اس نے اپنی خاص نصرت و عنایت سے نواز کر تم کو قوت اور غلبہ سے سرفراز فرما دیا۔ تمہارے لئے اس نے معاش و معیشت کے لئے طرح طرح کی راہیں کھولیں۔ سو ان سب باتوں کا تقاضا ہے کہ تم اس کے شکر گزار اور اطاعت شعار بندے بنو ۔ وباللہ التوفیق - 43 حالت خوف کی تذکیر و یاددہانی اور اس کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنی ضعیفی و کمزوری کے اس دور کو یاد کرو کہ جب تمہیں یہ خوف اور ڈر لگا رہتا تھا اس بات کا کہ کہیں تم کو اچک نہ لیں دوسرے لوگ اپنی شرانگیزیوں، ایذا رسانیوں اور فتنہ سامانیوں سے۔ اور قتل و خونریزی اور سلب و نہب وغیرہ سے تمہارے وجود ہی کو مٹا نہ دیں۔ سو دیکھو کہاں وہ دور تھا اور کہاں آج کا یہ دور کہ غلبہ و تسلط تمہارا ہی ہے۔ سو یہ سب کرم و احسان ہے اس قادر مطلق، مالک کل ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کا جسکے قبضہ قدرت و اختیار میں ہر چیز کی باگ ڈور ہے۔ پس تم لوگ ہمیشہ اس کے ذکر وشکر سے رطب اللّسان اور شاد کام رہو کہ اسطرح اسکے ذکر و شکر سے شادکام رہنے سے خود تمہارا ہی بھلا ہے ۔ فایاہ نسأل التوفیق والسداد لما یُحِبُّ وَیَرضْی مِنَ القول والعمل ۔ بہرکیف شکر نعمت دین متین کا ایک اہم حکم اور بنیادی مطلب ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ ور اور شادکام کرتا ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو خدا و رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کی سعادت سے تمہارے لئے سعادت اور توفیق خیر کی مزید راہیں کھلیں گی۔ اور جس نے اب تک تم کو ایسی عنایات سے نوازا اور تمہارے ساتھ ایسے کرم و احسان کا معاملہ فرمایا وہ تم کو آئندہ کیوں محروم کر دیگا۔ سو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی چیز ہے۔ سو اپنے خالق ومالک کے اس انعام و احسان کے نتیجے میں تم لوگ دل وجان سے اس کے آگے جھک جھک جاؤ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 44 عطائے نعمت کا تقاضا شکر نعمت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ اپنے مالک کی بخشی ہوئی ان اور ان نعمتوں کو یاد کرو تاکہ تم لوگ شکر ادا کرو اس منعم حقیقی کا۔ جس نے محض اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے تم کو ان عظیم الشان اور گوناگوں احسانات اور انعامات سے نوازا اور سرفراز فرمایا ہے۔ اور اس کا یہ شکر قول وقرار سے بھی ہو اور عمل و کردار سے بھی کہ اس طرح تم اس واہب مطلق کا حقِّ شکر بھی کسی حد تک ادا کرسکو گے۔ اور اس سے تمہیں اس کی بخشی ہوئی ان نعمتوں میں برکت بھی ملیگی اور اضافہ بھی ہوگا۔ اور ان کا دوام وثبات بھی حاصل ہوگا کہ شکرنعمت کا نتیجہ اور ثمرہ یہی ہے۔ جبکہ ناشکری اور کفران نعمت کا انجام و نتیجہ محرومی اور خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ اس خالق ومالک کا صاف وصریح اعلان واجب الاذعان ہے { لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ اِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ} (ابراہیم :7) ۔ وَبِاللّٰہِ التوفیق ۔ سو کتنے ناشکرے اور بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس واہب مطلب کے اس حق واجب سے غافل و بیخبر ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر وہ جو ان نعمتوں کو دوسری بےحقیقت چیزوں کا عطیہ و احسان جان کر ان کا شکر ادا کرتے ہیں اور وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور اس طرح وہ کفر بالائے کفر اور ظلم بالائے ظلم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 8:27

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:27 in the Quran reader

اے وہ لوگوں جو ایمان لائے ہو (خبردار ! کبھی) تم خیانت نہیں کرنا اللہ اور اس کے رسول سے، اور نہ ہی تم خیانت کرنا آپس میں ایک دوسرے کی امانتوں میں، جب کہ تم جانتے ہو،

45 اللہ اور اس کے رسول کی خیانت سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا اور خبردار کبھی خیانت نہیں کرنا اللہ اور اس کے رسول سے۔ ان کے حقوق کی ادائیگی اور ان کے احکام و اطاعت میں تقصیر اور کوتاہی کرکے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ خیانت کے لغوی معنی کمی کرنے کے ہی آتے ہیں۔ اور اللہ کا دین اس کی امانت ہے جو کہ اس کے رسول کے ذریعے اس کے بندوں تک پہنچتا ہے۔ لہذا تم لوگ اے ایمان والو ! اس میں کسی طرح کی کوئی کمی نہیں کرنا بلکہ اس کے اوامرو ارشادات اور اس کے فرائض و واجبات کو پوری طرح بجا لانا اور اس کی مقرر فرمودہ حدود کو پوری طرح قائم رکھنا۔ (معارف للکاندھلوی وغیرہ) ۔ اور امانت کے لفظ کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ یہ ان تمام حقوق و فرائض کو عام اور شامل ہے جو انسان پر عائد ہوتے ہیں۔ خواہ وہ کسی باہمی عہد و اقرار کی بناء پر عائد ہوں اور خواہ معروف فطری قانون کے تحت سمجھے اور مانے جاتے ہوں۔ اور اسی میں وہ صلاحیتیں اور نعمتیں بھی داخل ہیں جو انسان کو حضرت حق ۔ جل مجدہ۔ٗ کی طرف سے عطاء ہوئی ہیں۔ سو ان میں سے کسی میں بھی خیانت و بددیانتی کا ارتکاب نہ کرنا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ان کو اللہ تعالیٰ کے حکم وارشاد کے خلاف استعمال نہیں کرتا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ 46 آپس کی امانتوں میں خیانت سے ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور نہ ہی تم آپس کی امانتوں میں خیانت کرنا جانتے بوجھتے۔ یعنی جبکہ تم جانتے ہو کہ یہ خیانت ہے۔ اور یہ بھی جانتے ہو کہ خیانت کا نتیجہ و انجام بہرحال برا ہوتا ہے۔ سو اس کے باوجود اگر تم لوگ خیانت کا ارتکاب کرو گے تو اس کا وبال بڑا سخت ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لہٰذا کبھی تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کی امانتوں میں خیانت نہیں کرنا بلکہ ہر ایک کی امانت پوری کی پوری ادا کرنا ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ- { وَاَنْتُمْ تَعَلْمُوْنَ } یہاں پر جس سیاق میں وارد ہوا ہے اس سے یہ بات نکلتی ہے کہ وہ لوگ جن کی طرف یہ اشارہ فرمایا جا رہا ہے وہ جانتے بوجھتے اس حرکت کا ارتکاب کر رہے تھے۔ اور اس ارشاد سے مقصود ان کی مذمت ہے کہ ایسوں کے جرم کی شناعت اور بھی زیادہ ہوجاتی ہے۔ اور یوں شریعت میں کوئی فعل جرم اسی وقت بنتا ہے جبکہ اس کا ارتکاب علم اور ارادے کے ساتھ کیا جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور ہر قسم کے انحراف سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 8:28

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَاۤ اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ عِنْدَهٗۤ اَجْرٌ عَظِیْمٌ۠ Open ayah 8:28 in the Quran reader

اور یقین جانو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد آزمائش کا سامان ہیں، اور یہ کہ اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے،

47 اَموال و اَولاد باعث فتنہ و آزمائش : سو ارشاد فرمایا گیا اور تم لوگ یقین جانو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں آزمائش کا باعث ہیں کہ کون ان کی محبت میں مبتلا ہو کر اللہ اور اس کے رسول کی امانت اور ان کی محبت کو پس پشت ڈال کر ناکامی و نامرادی کے گڑھے میں گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور کون مال و اولاد کی محبت کے مقابلے میں اللہ اور اس کے رسول کی محبت اور اس کے تقاضوں کو ترجیح دے کر دائمی کامیابی اور حقیقی فوز و فلاح کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوتا ہے ۔ اَللّٰہُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی ۔ سو تم لوگ ابتلاء و آزمائش اور فتنہ و فساد کے ان سامانوں کے بارے میں ہمیشہ ہوشیار ہونا اور محتاط رہنا۔ سو اس ارشاد سے اس اصل بیماری کا پتہ دے دیا گیا جس کی وجہ سے انسان خدا اور اس کے رسول کی محبت اور اطاعت میں کمزور پڑجاتا ہے۔ کیونکہ مال و اولاد کی محبت جب اس درجہ غالب آجائے کہ انسان ان کے تقاضوں کے پیچھے لگ کر اس واہب مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے حقوق اور اس کے عائد کردہ فرائض سے غافل و لاپرواہ ہوجائے جس نے اس کو ان چیزوں سے نوازا ہے تو پھر مال و اولاد واقعی فتنہ بن جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد انسان دوسروں کے حقوق میں بھی خیانت کا ارتکاب کرنے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 48 اللہ تعالیٰ کے یہاں کے اجر عظیم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ یہ بھی یاد رکھو کہ اللہ کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔ اور اتنا بڑا کہ اس کی عظمت و بڑائی کو اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی پوری طرح جان بھی نہیں سکتا۔ پس جس نے مال واولاد کی محبت میں مبتلا ہو کر اس کو فراموش کردیا وہ بڑا ہی خسارے والا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لہذا عقل و خرد کا تقاضا یہی ہے کہ انسان ہمیشہ اسی اجر عظیم کو اپنے پیش نظر رکھے اور اسی کو زندگی کا مقصد اور نصب العین بنائے۔ سو اس سے مال و اولاد کے فتنے سے محفوظ رہنے کا طریقہ ارشاد فرما دیا گیا کہ انسان اس اجر عظیم کو یاد کرے جو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے تیار کر رکھا ہے جو مال و اولاد کی محبت میں لگ کر اللہ اور اس کے رسول سے بےوفائی نہیں کرتے۔ بلکہ ان کے سامنے جب ایسی کوئی آزمائش آتی ہے کہ ایک طرف تو خدا و رسول کی خوشنودی ہو اور دوسری طرف مال و اولاد کی محبت، تو وہ ہمیشہ خدا و رسول کی محبت و خوشنودی کے تقاضوں کو ترجیح دیتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 8:29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تَتَّقُوا اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّكُمْ فُرْقَانًا وَّ یُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 8:29 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اگر تم ڈرتے رہے اللہ سے تو وہ سرفراز فرما دے گا تم کو ایک فیصلہ کن چیز سے، اور وہ مٹا دے گا تم سے تمہاری برائیوں کو اور نواز دے گا تم کو اپنی بخشش سے، اور اللہ بڑا ہی فضل والا ہے،

49 تقویٰ و پرہیزگاری وسیلہ سعادت و سرفرازی : سو ایمان والوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ ڈرتے رہے اللہ سے اور بچتے رہے اس کی ناراضی اور پکڑ سے تو وہ تمہیں ایک عظیم الشان قوت فرق وتمیز سے نوازے گا۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو تقویٰ تم کو اللہ تعالیٰ فرقان سے نوازے گا۔ یعنی ہدایت اور باطن کے اس نور سے جس کے ذریعے حق و باطل کو پہچاننا اور صحیح و غلط کے درمیان فرق وتمیز کرنا تم کو آسان ہوجائے گا۔ (معارف، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ پس تم لوگ ہمیشہ اسی کی فکر و کوشش میں رہا کرو اور اپنی حد تک اس کے لئے کوشش کیا کرو کہ تقویٰ کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے پائے۔ 50 اللہ تعالیٰ کے فضل عظیم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ بڑا ہی فضل والا ہے۔ سو اللہ ایسے متقی اور پرہیزگار لوگوں کو اس سعادت و عنایت سے نوازتا ہے کہ اس کی شان ہی نوازنا ہے۔ چناچہ وہ تھوڑے عمل پر بےحد و حساب اجر وثواب سے نوازتا ہے۔ اور یہ بھی اس کے بےپایاں کرم اور عظیم الشان فضل و احسان ہی کا ایک مظہر ہے کہ وہ اپنے مومن اور متقی بندے کو تقویٰ کی برکت سے اتنے اتنے اور ایسے ایسے انعامات سے نوازتا ہے۔ ورنہ اس کے عبد اور بندے ہونے کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اور ہر حال میں اس کی عبادت و بندگی میں لگا رہے۔ اس کے اوامر کو دل و جان سے بجا لائے اور اس کی نواہی اور ممنوعات سے بچتا رہے۔ مگر یہ اس کا کرم و احسان ہے کہ وہ اپنے بندے کو آداب بندگی بجا لانے پر طرح طرح کے انعامات و احسانات سے نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ہمیشہ اسکے فضل و کرم سے سرفرازی کو اپنا مقصد حیات اور نصب العین بنائے رکھنا چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو جب بندہ اپنے بس کی حد تک اس کے حقوق بندگی اداء کرنے میں لگا رہتا ہے تو بشری تقاضوں کی بناء پر اس سے جو کمزوریاں اور کو تاہیاں سرزد ہوجائیں گی وہ ان کو معاف فرما دے گا کہ وہ بڑا ہی فضل والا ہے۔ اور وہ بڑا ہی غفور و رحیم بھی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 8:30

وَ اِذْ یَمْكُرُ بِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِیُثْبِتُوْكَ اَوْ یَقْتُلُوْكَ اَوْ یُخْرِجُوْكَ١ؕ وَ یَمْكُرُوْنَ وَ یَمْكُرُ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ Open ayah 8:30 in the Quran reader

اور جب یہ کافر لوگ آپ کے خلاف سازش کر رہے تھے کہ آپ کو قید کردیں یا قتل کردیں یا ملک بدر کردیں، یہ لوگ اپنی چالیں چل رہے تھے، اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا، اور اللہ کی چال سب سے زیادہ کارگر ہوتی ہے،1

51 کافروں کی سازش حضرت امام الانبیا ﷺ کے خلاف : سو اس میں کافروں کی اس سازش کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے جو وہ لوگ حضرت امام الانبیائ ﷺ کیخلاف کررہے تھے اپنے پارلیمنٹ ہاؤس (دارالندوہ) میں۔ تاکہ اس طرح یہ لوگ حق و ہدایت کے اس نور مبین کو بجھا سکیں جو کہ خود انکے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی راہوں کو روشن کرنے کے لئے ان کے خالق ومالک کی عنایت بےنہایت سے ان کے لئے اتارا گیا تھا۔ سو اس سے مستنیر و مستفید ہونے کی بجائے انہوں نے الٹا اس کو گل کرنے کی ٹھانی۔ مگر کہاں ؟ البتہ اس طرح انہوں نے اپنی محرومی اور بدبختی کی مہر کو اور پکا کردیا اور وہ ۔ { خِسَرِ الدُّنیا والآخِرَۃ } ۔ کے مصداق بن گئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس میں اس سازش کی طرف اشارہ ہے جو صنادید قریش نے " دار الندوۃ " میں کی تھی تاکہ وہ حق و ہدایت کی اس دعوت مقدسہ کو یکسر ختم کردیں جو حضرت امام الانبیا ﷺ کے ذریعے دنیا کو دی جا رہی تھی۔ تاریخ و سیر کی کتابوں کے مطابق اس میں کفار قریش کے مختلف لیڈروں کی طرف سے اس موقع پر کئی تجاویز پیش کی گئیں۔ آخرکار بحث وتمحیص کے بعد قتل کی تجویز پر اتفاق ہوا اور اس کے لئے تدبیر یہ سوچی گئی کہ قریش کے تمام بڑے بڑے قبائل میں سے ایک ایک نوجوان کو اس میں شریک کیا جائے اور وہ سارے یکبارگی وار کر کے آنحضرت ﷺ کا کام تمام کردیں تاکہ آنحضرت ﷺ کے خاندان والے کسی سے قصاص کا مطالبہ کرنے کی ہمت نہ کرسکیں۔ اور پھر بات دیت اور خونبہا پر ٹھہرے گی جو ہم سب مل کر کے ادا کردیں گے اور اس طرح ہمارا مقصد پورا ہوجائے ہوجائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 52 اہل کفر و باطل کی چالیں حق کیخلاف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بدبخت حق اور اہل حق کے خلاف اس طرح کی چالیں چل رہے تھے۔ حق کو مٹانے اور اس کو نیچا دکھانے کے لئے۔ مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے { یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَ اللّٰہِ بِاَفْوَاہِہِمْ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُوْرِہٖ وَلَوْ کَرِہَ الْکٰفِرُوْنَ } (الصف : 8) ۔ سو جس طرح مونہوں کی پھونکوں سے سورج کی روشنی کو مٹانا کسی کے بس میں نہیں، اسی طرح یہ اہل کفر و باطل اپنی ان چالوں سے دین حق کے نور مبین کو کبھی بھی مٹا اور بجھا نہیں سکتے۔ البتہ اس طرح ایسے لوگ اپنے باطن کی سیاہی کو مزید گہرا اور پکا کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس واقعہ کی تذکیر و یاد دہانی سے مقصود دراصل اس وعدئہ فرقان کو مؤکد کرنا ہے جس کا ذکر اوپر والی آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اگر تم لوگ دیکھنا چاہو کہ اللہ تعالیٰ اپنی تدبیر و کارسازی سے کس طرح ناموافق حالات کو موافق بنا دیتا ہے اور مخالف منصوبوں کو کس طرح سازگار کردیتا ہے تو اس کے لئے تم پیغمبر کی زندگی کے اسی واقعہ کو دیکھ لو اور اس کے عواقب و نتائج کو اپنے سامنے رکھ لو ۔ وباللہ التوفیق - 53 دشمنوں کی چالوں کے مقابلے میں اللہ کی چال کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل رہا تھا۔ اور اللہ کی چال ہی سب سے زیادہ کارگر ہوتی ہے۔ ان کے مکرو فریب کے توڑ کے لئے مگر اس کی یہ چال چونکہ اس کے قانون فطرت وقدرت کے مطابق ایسی محکم اور متین ہوتی ہے کہ مخالف اس کو سمجھ بھی نہیں سکتا تو پھر وہ اس کے مقابلے کی کیا تاب لاسکتا ہے ؟ اسی لئے اس کے اس برتاؤ کو مکر " چال " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ ورنہ وہ اہل دنیا کی چالوں اور ان کی مثالوں سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی چال سے مراد اس کا وہ برتاؤ ہے جو وہ اپنی حکمت اور قدرت کے تقاضوں کے مطابق لوگوں سے کرتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کیونکہ وہ دنیا والوں کی نظروں اور ان کی نگاہوں سے بالکل مخفی اور اوجھل ہوتا ہے۔ اس لئے اس کو مکر سے تعبیر فرمایا گیا۔ اور اس کی چال بڑی ہی سخت ہوتی ہے ۔ { اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْن } ۔ اور اتنی سخت اور اس قدر مضبوط کہ اس کا مقابلہ تو درکنار مخالف یہ بھی نہیں جان سکتا کہ اس کا شکنجہ کسا جا رہا ہے اور وہ اللہ کی گرفت و پکڑ میں آ رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 8:31

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا قَالُوْا قَدْ سَمِعْنَا لَوْ نَشَآءُ لَقُلْنَا مِثْلَ هٰذَاۤ١ۙ اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:31 in the Quran reader

اور جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیتیں تو یہ پوری ڈھٹائی سے کہتے ہیں کہ ہاں صاحب، ہم نے سن لیا، اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام بنا کرلے آئیں، یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیوں کے سوا کچھ نہیں

54 کفار کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان لوگوں کو ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ لوگ پوری ڈھٹائی اور ہٹ دھرمی سے کہتے ہیں کہ ہاں صاحب ہم نے سن لیا اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام بنا کرلے آئیں۔ تو یہ محض قصے کہانیاں ہیں پہلے لوگوں کی۔ سو یہ لوگ محض عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر ایسا کہتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی بات کہتے ہیں اپنے جہل وعناد کی بناء پر۔ جیسا کہ نضربن الحارث جیسے رو ساء کفار کا کہنا تھا۔ جبکہ اندر سے یہ لوگ خوب جانتے تھے کہ ہم جھوٹے ہیں اور قرآن حکیم کا مقابلہ ہمارے بس میں نہیں۔ اور قرآن کے چیلنج کے مقابلے میں ان کی اور سب دنیا کے کفار و منکرین کی عاجزی اظہر من الشمس تھی، اور ہے۔ مگر ضد اور ہٹ دھرمی آدمی کو اس طرح اور اس قدر بےحیا بنا دیتی ہے کہ ایسے لوگ اس سب کے باجود اس طرح کی بڑھکیں مارنے سے بھی نہیں شرماتے کہ اگر ہم چاہیں تو قرآن حکیم جیسا کلام ہم بھی لاسکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ پھر بناتے کیوں نہیں ہو جبکہ قرآن حکیم تو لوگوں کو اس کا صاف وصریح طور پر چیلنج بھی کررہا ہے۔ مگر اس قدر عجز اور بےبسی کے باوجود وہ بدبخت یوں کہتے تھے کہ اگر ہم چاہیں تو ہم بھی ایسا کلام لاسکتے ہیں۔ یہ تو محض پہلے لوگوں کے قصے اور ان کی کہانیاں ہیں۔ اساطیر کے بارے میں حضرات اہل علم میں سے بعض کا کہنا ہے کہ یہ ایسی جمع ہے جس کا کوئی مفرد نہیں۔ اور بعض نے کہا کہ یہ جمع ہے " اسْطُر " یا " سطور " کی جو کہ جمع سے " سطر " کی۔ سو یہ لفظ جمع الجمع ہے۔ اور بعض نے کہا کہ یہ جمع ہے " اسطورہ " کی۔ جس کے معنیٰ قصہ کہانی اور افسانہ وغیرہ کے ہیں۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ بہرکیف ان بدبختوں کا کہنا تھا کہ یہ محض ایک من گھڑت کلام ہے یعنی قصہ جو یہ صاحب خود گھڑ لاتے ہیں اور اس کو وحی اور کلام خداوندی کے نام سے آگے چلاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 8:32

وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَیْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ Open ayah 8:32 in the Quran reader

اور جب انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اے اللہ ! اگر یہ دین واقعی حق ہے تیری طرف سے، تو تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا لے آ ہم پر اور کوئی دردناک عذاب،2

55 منکرین کی ہٹ دھرمی کا ایک اور مظہر و نمونہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ جب ان لوگوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اے اللہ اگر یہ واقعی حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا ہم پر کوئی اور دردناک عذاب لے آ۔ سو یہ ایسے بدبخت ہیں کتاب خداوندی پر ایمان لانے کی بجائے عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سو یہ ان کفار و معاندین کی بدبختی اور عناد و ہٹ دھرمی کا ایک اور نمونہ و مظہر تھا۔ ان کی بدبختی ملاحظہ ہو کہ بجائے اس کے کہ وہ یوں کہتے کہ اے اللہ اگر یہ دین حق ہے تیری طرف سے تو تو ہمیں اس کو قبول کرنے کی توفیق عطا فرما۔ نہیں تو نہیں۔ مگر وہ الٹا یوں کہتے ہیں کہ اگر یہ حق اور سچ ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش برسا یا اور کوئی دردناک عذاب لے آ۔ سو یہ ایک مظہر اور نمونہ ہے اس ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کا جس میں انسان اپنے کفر و باطل کی بناء پر مبتلا ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم کی بناء پر ان کو مہلت اور ڈھیل دیتا ہے تاکہ یہ ہوش کے ناخن لیں اور حق کو اپنا کر دائمی عذاب سے بچ جائیں۔ مگر یہ ہیں کہ اس کی اس ڈھیل اور مہلت سے اور مست اور لاپرواہ ہوتے جاتے ہیں اور اس کو اپنی صداقت و حقانیت کی نشانی اور علامت قرار دیتے اور عذاب سے بچنے کی فکر کرنے کی بجائے اس کو فوراً اتارنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ سو یہی حال ہوتا ہے ان لوگوں کا جن کی مت مار دی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 8:33

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ وَ اَنْتَ فِیْهِمْ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ یَسْتَغْفِرُوْنَ Open ayah 8:33 in the Quran reader

مگر اللہ ایسا نہیں کہ ان کو عذاب دے، درآنحالیکہ آپ ان کے درمیان موجود ہوں، اور نہ ہی اللہ ان کو اس حال میں عذاب دینے والا ہے جب کہ استغفار کر رہے ہوں،3

56 پیغمبر کا وجود باعث رحمت اور ذریعہ امن وامان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ایسا نہیں کہ ان لوگوں کو عذاب دے جبکہ آپ اے پیغمبر بذات خود ان کے اندر موجود ہوں۔ آپ ﷺ کا وجود باجود اہل زمین کے لئے امن وامان کا ذریعہ اور باعث خیر و برکت ہے۔ اور اللہ پاک کا قانون اور دستور یہی ہے کہ جب پیغمبر اپنی امت کے اندر موجود ہوں تو ان پر عذاب نازل نہیں ہوتا۔ (معارف، صفوۃ اور تفسیر کبیر وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد سے ان بدبختوں کے اس سوال کا جواب دے دیا گیا اور ان کی اس غلط فہمی کا ازالہ کردیا گیا کہ اگر ہم باطل پر ہیں تو ہم پر عذاب آتا کیوں نہیں ؟ سو ان کو یہ جواب دیا گیا کہ " اللہ ایسا نہیں کہ ان کو عذاب دے جبکہ آپ ﷺ (اے پیغمبر ! ) ان کے اندر موجود ہوں "۔ اور یہ جواب در اصل اس سنت الٰہی پر مبنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے کسی نبی کی قوم پر عذاب اتارنے کے سلسلہ میں مقرر فرما رکھی ہے۔ اور وہ سنت خداوندی یہ ہے کہ جب تک اللہ کا نبی کسی قوم کے اندر موجود ہوتا ہے اس پر عذاب نہیں آتا۔ کیونکہ وہ پیغمبر اس قوم کے اندر بمنزلہ دل کے ہوتا ہے۔ وہ اپنی قوم کے لئے استغفار کرتا اور ان کے لئے بخشش کی دعا مانگتا ہے۔ اور قوم کے اندر اس کا وجود اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ ابھی اس قوم کے اندر رمق حیات باقی ہے۔ اور اس کی دعوت سے ان لوگوں کو زندگی ملتی ہے جن کے اندر حیات ایمانی قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ اس لیے جب تک پیغمبر کا وجود رحمت ان کے درمیان موجود ہوتا ہے وہ لوگ عذاب سے محفوظ رہتے ہیں۔ 57 عذاب سے بچنے کا دوسرا بڑا ذریعہ، استغفار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ نہ ہی اللہ ان لوگوں کو اس صورت میں عذاب دینے والا ہے جبکہ یہ استغفار کرتے ہوں کہ استغفار عذاب کو ٹالنے کا ذریعہ ہے۔ اور سنن ترمذی میں آنحضرت ﷺ سے مروی ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے میری امت کے لئے عذاب سے بچنے کے دو امان بنائے ہیں۔ ایک میرا وجود اور دوسرا استغفار۔ میرے انتقال کے بعد پہلا امان تو ختم ہوجائے گا مگر دوسرا یعنی استغفار قیامت تک باقی رہے گا۔ (ترمذی، کتاب التفسیر، ابن کثیر، صفوہ، جامع، محاسن وغیرہ) ۔ سو پیغبر کی زندگی میں ان کا قوم کے لئے استغفار اللہ کے عذاب کے لئے سپر اور ڈھال بن جاتا ہے۔ پیغمبر کی زندگی میں قوم کے اشرار خواہ کتنی ہی شرارتیں کریں اور خدا و رسول کو کتنے ہی چیلنج کریں اللہ ان سے در گزر فرماتا ہے جبکہ پیغمبر کی زندگی کے بعد ان کے لئے ان کی دوسری ڈھال اور بچاؤ کا سامان توبہ و استغفار ہے جو کہ مذکورہ بالا ارشاد نبوی کے مطابق قیامت تک باقی رہی گی ۔ فللّٰہِ الحَمْدُ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ-
Ayah 8:34

وَ مَا لَهُمْ اَلَّا یُعَذِّبَهُمُ اللّٰهُ وَ هُمْ یَصُدُّوْنَ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَ مَا كَانُوْۤا اَوْلِیَآءَهٗ١ؕ اِنْ اَوْلِیَآؤُهٗۤ اِلَّا الْمُتَّقُوْنَ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 8:34 in the Quran reader

اور اب اللہ ان کو عذاب کیوں نہ دے، جب کہ ان کا حال یہ ہے کہ یہ روکتے ہیں مسجد حرام سے، حالانکہ وہ اس کے جائز متولی بھی نہیں، اس کے جائز متولی تو صرف وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو پرہیزگار ہوں، مگر ان میں سے اکثر جانتے نہیں،

58 مسجد حرام سے روکنا باعث عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مسجد حرام سے روکنا عذاب الہی کا ایک بڑا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان عذاب میں اب کیا مانع ہوسکتا ہے جبکہ یہ لوگوں کو مسجد حرام سے روکتے ہیں۔ یہاں تک کہ انہوں نے حضرت امام الانبیائ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلیہم اجمعین ۔ کو اور آپ ﷺ کے قدسی صفت ساتھیوں یعنی حضرات صحابہ کرام ؓ کو بھی مسجد حرام کی زیارت اور عمرہ کی ادائیگی سے روک دیا۔ جیسا کہ حدیبیہ میں ہوا۔ سو مسجد حرام سے روکنا ۔ والعیاذ باللہ ۔ عذاب الہی کا ایک بڑا باعث اور ذریعہ ہے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ جَلَّ وَعَلَا ۔ سو اب جبکہ ان کے کرتوت یہ اور یہ ہیں، تو پھر ان کو کونسے کوئی سرخاب کے پر لگے ہوئے ہیں کہ یہ عذاب سے محفوظ رہیں ؟ سو اب ان پر عذاب آیا ہی چاہتا ہے۔ سو اس کے کچھ ہی بعد ان کا صفایا کردیا گیا۔ اور مسجد حرام ان کی تولیت اور ان کے غلبے سے آزاد ہوگئی۔ 59 مسجد کے متولی صرف متقی اور پرہیزگار لوگ ہی ہوسکتے ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مسجد کے متولی تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو کہ متقی اور پرہیزگار ہوں مگر اکثر لوگ جانتے نہیں۔ اور مسجدِحرام کے متولی تو بطریق اولیٰ متقی اور پرہیزگار لوگ ہی ہوسکتے ہیں۔ جس میں سب سے پہلی اور بنیادی شرط کفر و شرک سے بچنا ہے۔ جس کی نجاست میں یہ لوگ سر تا پا لتھڑے ہوئے ہیں۔ تو پھر ان کو یہ حق کیسے پہنچ سکتا ہے کہ یہ مسجدِحرام کے متولی بن جائیں ؟۔ پس ان کا مسجد حرام کی تولیت کا دعویدار ہونا اور اس کا متولی بن جانا ناجائز اور بےبنیاد ہے کہ ایسے لوگ سرے سے اس کے اہل ہی نہیں ہیں۔ سو اس سے ان کے دعوائے تولیت کی نفی کردی گئی کہ اس سے اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ مسجد کے متولی اللہ تعالیٰ کے متقی اور پرہیزگار بندے ہی ہوسکتے ہیں جبکہ یہ لوگ خائن، غدار، مفسد، کافر و مشرک اور اللہ کے گھر کے مقصد تعمیر سے ہی غافل اور اس کی حرمت کو برباد اور اس کے تقدس کو پامال کرنے والے ہیں۔ سو یہ مسجد کے جائز متولی نہیں بلکہ غاصب ہیں جنہوں نے اللہ کے گھر پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 8:35

وَ مَا كَانَ صَلَاتُهُمْ عِنْدَ الْبَیْتِ اِلَّا مُكَآءً وَّ تَصْدِیَةً١ؕ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 8:35 in the Quran reader

اور خود ان کی نماز بیت اللہ کے پاس سیٹیاں بجانے، اور تالیاں پیٹنے کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتی، سو اب چکھو تم لوگ عذاب اپنے اس کفر کے بدلے میں جو تم کرتے رہے تھے،1

60 مشرکین مکہ کی نماز، خرافات کا پلندہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر وقصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی نماز بیت اللہ کے پاس سیٹیاں بجانے اور تالیاں پیٹنے کے سوا کچھ نہیں۔ سو بیت اللہ کی تولیت کا دعویٰ کرنے والے مشرکین کی نماز بیت اللہ کے پاس محض تالیاں پیٹنا اور سیٹیاں بجانا ہے اور بس۔ جو انتہا درجے کی گمراہی بھی ہے اور پرلے درجے کی حماقت بھی۔ بھلا سیٹیوں اور تالیوں کا عبادت جیسے مقدس عمل سے کیا لگاؤ ہوسکتا ہے ؟ افسوس کہ آج کا جاہل مسلمان بھی کچھ اسی طرح کی خرافات میں مبتلا ہے۔ وہ بھی اپنے عرسوں وغیرہ میں اسی طرح کے مختلف کھیل تماشوں کو اپنا مشغلہ اور دین و ایمان کا تقاضا بنائے ہوئے ہے۔ بلکہ وہ اس سے بھی آگے بڑھ کر ڈھول ڈھمکے سے کام لیتا، گھنگھرو چھنکاتا، گھڑے بجاتا اور دوسری کئی خرافات سے کام لیتا ہے۔ اور کہتا ہے کہ یہ قوالی شریف ہو رہی ہے اور " شریف " اور " مبارک " جیسے مقدس اور پاکیزہ لفظوں کے سابقے اور لاحقے جوڑ کر وہ ان خرافات پر پردہ ڈالنے کی سعی مذموم کرتا ہے۔ اور وہ یہ نہیں جانتا کہ ازخود کسی کو مبارک یا شریف کہنے سے کوئی کام جائز نہیں بن جاتا۔ بلکہ اسکے جواز کیلئے کتاب اللہ اور سنت رسول سے دلیل کا پایا جانا ضروری ہوتا ہے۔ سو اس ارشاد سے اس امر کی تاکید فرما دی گئی کہ یہ لوگ بیت اللہ کی تولیت کے اہل نہیں۔ اور ان کی یہ نماز نماز نہیں خرافات کا پلندہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ مسجد حرام کی متولی وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو کہ متقی و پرہیزگار ہوں۔ 61 کفر و شرک کا نتیجہ ہولناک عذاب ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ : سو یہاں پر ان کفار و مشرکین کی ان خرافات کو ذکر کرنے کے متصل بعد حرف فاء کی تعقیب کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ لو اب چکھو تم لوگ عذاب اپنے کفر کے بدلے میں۔ دنیا میں بھی جیسا کہ بدر وغیرہ کے مواقع پر ہوا، اور آخرت میں بھی۔ جو کہ پورا، دائمی اور بڑا ہی سخت عذاب ہوگا ۔ { وَلَعَذَابُ الْاٰخِرَۃِ اَکْبَرُ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیونکہ کافر کو اس دنیا میں جو بھی اور جتنا بھی عذاب ملے اس سے اسکے آخرت کے عذاب میں کوئی کمی نہیں آتی۔ اور اس کے لیے اصل عذاب آخرت ہی کا عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے مشرکین مکہ کی ان تمام غلط فہمیوں کی جڑ نکال دی جو وہ اپنے دماغوں میں رکھتے تھے کہ ہم حضرت ابراہیم کے وارث ان کے بنائے ہوئے گھر کے متولی و مجاور اور حضرت ابراہیم و اسماعیل کی اولاد اور ان کی نسل ہیں۔ ہمیں کوئی پرواہ نہیں وغیرہ۔ سو ان کو بتادیا گیا کہ ان میں سے کوئی بھی چیز تمہیں کام نہیں آسکے گی بلکہ تمہیں اپنے کفر و شرک کے باعث اللہ کا عذاب بہرحال بھگتنا ہوگا۔ بس اب تم چکھو اس عذاب کو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کفر و شرک کا لازمی نتیجہ ہولناک عذاب ہے جو ایسے لوگوں کو بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 8:36

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ لِیَصُدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَسَیُنْفِقُوْنَهَا ثُمَّ تَكُوْنُ عَلَیْهِمْ حَسْرَةً ثُمَّ یُغْلَبُوْنَ١ؕ۬ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى جَهَنَّمَ یُحْشَرُوْنَۙ Open ayah 8:36 in the Quran reader

بیشک کافر لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ وہ روکیں اللہ کی راہ سے، سو وہ ان کو خرچ تو کریں گے مگر آخرکار وہ ان کے لئے سراسر حسرت ہوں گے، پھر یہ مغلوب ہوں گے، پھر ان کافروں کو دوزخ کی طرف اکٹھا کر کے لایا جائے گا،2

62 کافروں کا انفاق، اللہ کی راہ سے روکنے کیلئے : تا سو ارشاد فرمایا گیا کہ کافر لوگ اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ اس طرح وہ خود محروم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ سے روکیں کہ جس نور حق سے وہ خود محروم ہیں اس سے دوسروں کو بھی محروم کردیں۔ اور اس طرح دوہرے جرم کے مرتکب اور دوہرے عذاب کے مستحق بنیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اوپر ان کی بدنی عبادت کا بیان تھا اور اب یہ ان کی مالی عبادت کا نمونہ پیش کیا جا رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو نور حق و ہدایت سے محرومی کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ ان کی عبادت ان کے عذاب میں اضافے ہی کا باعث بنتی جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور دشمنانِ حق کا طریقہ و وطیرہ ہمیشہ یہی رہا کہ وہ اپنے مال حق کے خلاف اور دوسروں کو بھی حق سے روکنے اور محروم کرنے کے لئے خرچ کرتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 63 کافروں کا انفاق ان کیلئے سراسر حسرت کا باعث : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اپنے مال اس طرح خرچ تو کریں گے لیکن آخرکار وہ خود ان کے لیے سراسر حسرت کا باعث ہوں گے۔ اور حق کو نیچا دکھانے کا ان کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ بلکہ غلبہ حق اور اہل حق ہی کا ہوگا کہ غلبہ اور بقاء تو حق ہی کے لئے ہے۔ اس لیے کفار کا انفاق ان کیلئے حسرت ہی میں اضافے کا باعث بنے گا۔ اور ایسے لوگ خسارے پر خسارے سے دوچار ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حق اور اہل حق کے خلاف ان کی تمام زرپاشیوں کا نتیجہ و انجام ان کی حسرت و افسوس کے سوا اور کچھ نہیں نکلے گا۔ اور ان کو منہ کی کھانی پڑے گی ۔ جَعَلَ اللّٰہُ کَیْدَھُم فِیْ نحورہم واعاذنا من شرورہم ۔ سو مومن کا مال تو اس کے لیے خیر پر خیر کے اضافے کا باعث اور نور علی نور کا ذریعہ و وسیلہ بنے گا مگر کافر کا مال اس کے لیے حسرت پر حسرت اور خسارے پر خسارے کا ذریعہ وباعث بنے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 64 کافروں کا ٹھکانہ جہنم ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دنیاوی حسرت و مغلوبیت کے بعد آخرت میں ان اکٹھا کر کے دوزخ کی طرف لایا جائے گا جہاں ان کو اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھرپور طور پر اور کامل شکل میں بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جہاں کے عذاب سے ان کیلئے بچ نکلنے کی کوئی بھی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان سب کو ہانک کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا اور دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ میں دھکیل دیا جائے گا جہاں ان کو ہمیشہ ہمیش رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیا میں چونکہ کافر اور باطل پرست لوگ اپنے کفر و باطل میں ایک دوسرے کے معاون و مددگار رہے تھے اس لیے یہ آخرت میں ایک دوسرے کے آگ میں اضافے اور بھڑکاؤ کا باعث بنیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 8:37

لِیَمِیْزَ اللّٰهُ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجْعَلَ الْخَبِیْثَ بَعْضَهٗ عَلٰى بَعْضٍ فَیَرْكُمَهٗ جَمِیْعًا فَیَجْعَلَهٗ فِیْ جَهَنَّمَ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 8:37 in the Quran reader

تاکہ اللہ جدا کر دے ناپاک کو پاک سے، اور ناپاک کو ایک دوسرے پر رکھ کر سب کو ایک ڈھیر بنا دے، پھر ان سب کو یکجا کر کے جھونک دے دوزخ میں، یہی لوگ ہیں خسارے والے،3

65 ناپاک کو پاک سے الگ کرنے کے مقصد کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسا اس لیے کیا جائے گا کہ تاکہ اللہ جدا کردے ناپاکوں کو پاکوں سے۔ عملی طور پر اس طرح کہ ناپاکوں کو ان کے اپنے کئے کرائے کے باعث دوزخ میں جھونک دے اور پاکوں کو وہ اپنے فضل و کرم سے نعمتوں سے بھری جنت میں داخل فرما دے تاکہ ہر کوئی اپنے کئے کا بھرپور صلہ و بدلہ پا سکے۔ ۔ فَوَفِّقْنَا اللّٰہُمَّ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی حَتَّی نَحْظٰی وَنَتَشَرَّفَ بِنَعِیْمِ جَنَّتِکَ وَمَرْضَاتِکَ ۔ اور طیب و خبیث یعنی پاکوں اور ناپاکوں کے درمیان یہ نسبت وتمیز آخرت کے اس جہاں میں کامل اور اس کی حقیقی شکل میں ہوگی تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی کامل اور آخری شکل میں پورے ہوسکیں۔ سو بندئہ مومن ایک پاکیزہ انسان ہوتا ہے جس کا قلب وباطن کفر و شرک کی ہر آمیزش سے پاک ہوتا ہے اور اس کا سینہ ایمان و یقین کے نور سے منور ہوتا ہے۔ اسی طرح اس کی زبان پاک ہوتی ہے کلمہ کفر و شرک سے اور اس کا جسم اور کپڑا پاک ہوتا ہے ہر قسم کی نجاست و ناپاکی سے۔ اور اس کا کھانا پینا پاک ہوتا ہے ہر قسم کی حرمت اور ناپاکی کے ہر شائبہ سے۔ سو ایسے ہی پاکیزہ اور خوش نصیب لوگ جنت کے اس پاکیزہ جہاں اور وہاں کی نعیم مقیم کے اہل ہوں گے ۔ جعلنا اللہ منہم ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 66 اہل باطل ایک دوسرے کے عذاب میں اضافے کا باعث ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کافر و مشرک ایک دوسرے کے لیے دوزخ کی آگ کے بھڑکاؤ میں اضافے کا باعث بنیں گے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ناپاکوں کو ایک دوسرے پر رکھ کر ڈھیر بنادیا جائے گا اور پھر ان سب کو یکجا طور پر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا تاکہ جس طرح وہ دنیا میں ایک دوسرے کے معاون اور مددگار بنے ہوئے تھے اسی طرح وہاں پر ایک دوسرے کے لیے اس ہولناک آگ کے بھڑکاؤ میں اضافے اور اس کی تیزی اور شدت کا ذریعہ بنیں اور یہی سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دولت ایمان سے محرومی سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس کا انجام جہنم ہے۔ اور جہنم کا عذاب ایسا عذاب الیم ہے جس جیسا دوسرا کوئی عذاب ہوسکتا ہی نہیں۔ سو اول تو ایسے ہولناک عذاب الیم میں داخل ہونا ہی ایک ایسا ہولناک اور روح فرسا امر ہے جس کا تصور بھی گراں ہے۔ اگرچہ وہ تھوڑی سی دیر ہی کے لئے کیوں نہ ہو۔ تو پھر اس میں ابنائے کفر و باطل کا گھسنا اور ہمیشہ کے لئے اس کا ایندھن بننا جس قدر بڑا خسارہ اور نقصان ہوسکتا ہے اس کو لفظوں میں بیان کرنا کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟۔ سو خسارہ اصل میں یہی خسارہ ہے جو کہ ابدی اور سب سے بڑا اور ہولناک خسارہ ہے۔ جس سے دولت ایمان و یقین سے محروم ان بدبخت لوگوں کو دوچار ہونا ہے۔ اور جس سے رہائی اور گلو خلاصی کی بھی پھر کوئی صورت انکے لئے ممکن نہ ہو سکے گی۔ سو دولت ایمان سے محرومی سب سے بڑا اور انتہائی ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس کے بالمقابل دولت ایمان و یقین سے سرفرازی سب سے بڑی سرفرازی ہے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayahs 8:38–40

قُلْ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّنْتَهُوْا یُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ١ۚ وَ اِنْ یَّعُوْدُوْا فَقَدْ مَضَتْ سُنَّتُ الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 8:38 in the Quran reader

کہہ دو کافروں سے، کہ اگر یہ باز آگئے تو معاف کردیا جائے گا، ان کے لئے وہ کچھ جو کہ ہوچکا اس سے پہلے اور اگر ان کے لچھن پھر بھی وہی رہے جو پہلے تھے تو ہمارا قانون بھی وہی ہے جو گزر چکا اگلوں کے حق میں،

وَ قَاتِلُوْهُمْ حَتّٰى لَا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ وَّ یَكُوْنَ الدِّیْنُ كُلُّهٗ لِلّٰهِ١ۚ فَاِنِ انْتَهَوْا فَاِنَّ اللّٰهَ بِمَا یَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 8:39 in the Quran reader

اور لڑو تم ان سے، یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب کا سب اللہ ہی کے لئے ہوجائے، پھر اگر یہ لوگ باز آجائیں تو بیشک اللہ دیکھ رہا ہے ان کاموں کو جو یہ لوگ کر رہے ہیں،4

وَ اِنْ تَوَلَّوْا فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَوْلٰىكُمْ١ؕ نِعْمَ الْمَوْلٰى وَ نِعْمَ النَّصِیْرُ Open ayah 8:40 in the Quran reader

اور یہ پھرے (اور ہٹے) ہی رہے تو یقین جان لو کہ اللہ تمہارا (سرپرست) و کارساز ہے، کیا ہی خوب کارساز ہے، اور کیا ہی خوب مددگار ہے وہ۔

67 منکرین کے لیے عذاب سے رہائی کی صورت : سو ان کی رہائی کی ایک ہی صورت ہے کہ یہ لوگ اپنے کفر و شرک سے باز آجائیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ باز آگئے اپنے کفر و شرک سے تو ان کے گزشتہ گناہ معاف کردیے جائیں گے۔ سو کفر و شرک سے باز آنے کا فائدہ خود اہل کفر و باطل ہی کو ہوگا۔ تو اس طرح کفر و باطل سے باز آنے میں خود انہی لوگوں کا بھلا اور فائدہ ہے کہ اس طرح یہ لوگ دائمی خسارے اور ابدی نقصان سے بچ جائیں گے اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی رحمت و عنایت کی پناہ میں آجائیں گے۔ اور دنیا و آخرت کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوں گے۔ ورنہ یہ خود اپنا ہی نقصان کریں گے اور ہولناک خسارے میں مبتلا ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد میں دراصل کفار و مشرکین کے لئے توبہ و استغفار کی دعوت ہے کہ اگر یہ لوگ اس عذاب سے بچنا چاہتے ہیں، جس کی انہیں خبر دی جا رہی ہے تو یہ اپنی اصلاح کرلیں اور کفر و باطل کی اپنی اس روش کو ترک کردیں جس کو یہ لوگ اپنائے ہوئے ہیں۔ اور صدق دل سے راہ حق و ہدایت کی طرف رجوع کرلیں ۔ وَبِاللّٰہِ التَّوْفِیْقِ ۔ کہ رب رحمان کی رحمت و عنایت کا دروازہ سب کے لیے اور ہمیشہ کے لیے کھلا ہے ۔ سبحانہ وتعالی - 68 اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکساں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ باز نہ آئے تو پھر ہمارا قانون بھی وہی ہے جو گزر چکا ہے اگلوں میں کہ جنہوں نے بھی حق کو جھٹلایا اور ہمارے نبیوں کی تکذیب کی اور وہ اپنے کفر و باطل پر اڑے ہی رہے تو ان کی مقررہ مہلت و مدت کے ختم ہونے کے بعد ان کو دھر لیا گیا۔ اور یہاں تک کہ ان کو صفحہ ہستی سے ہی مٹا دیا گیا۔ جیسے قوم عاد وثمود وغیرہ۔ سو ہمارا جو قانون مکافات ان پر لاگو ہوا، وہ ان پر بھی لاگو ہوسکتا ہے کہ ہمارا قانون انصاف یکساں اور سب کے لئے ایک برابر ہے۔ اس لیے اگر یہ لوگ باز نہیں آتے اپنے کفر و تکذیب سے تو ان کو بھی اپنے اس ہولناک انجام کیلئے تیار رہنا چاہیئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس میں ان لوگوں کے لئے ترغیب کے بعد ترہیب ہے کہ اگر یہ اپنی شرارتوں اور شر انگیزیوں سے باز نہ آئے اور انہوں نے اپنی روش کو نہ بدلا، تو یہ بھی اسی سنت الٰہی اور دستور خداوندی کی گرفت میں آ کر رہیں گے جس کی گرفت میں حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب کرنے والی گزشتہ قومیں آچکی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ اللہ تعالیٰ کا قانون و دستور سب کے لیے یکساں اور بےلاگ ہے ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 8:41

وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهٗ وَ لِلرَّسُوْلِ وَ لِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ۙ اِنْ كُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلٰى عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 8:41 in the Quran reader

اور یقین جان لو کہ جو بھی کچھ غنیمت تم حاصل کرو،1 اس کا پانچواں حصہ اللہ کا ہے اور اس کے رسول کا،2 اور آپ کے رشتہ داروں کا، اور یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کا، اگر تم لوگ ایمان (ویقین) رکھتے ہو اللہ پر، اور اس چیز پر جس کو ہم نے اتارا اپنے بندے پر، (حق وباطل کے درمیان) فیصلے کے اس دن میں، جس دن کہ مڈبھیڑ ہوئی (حق وباطل کے) ان دونوں لشکروں کے درمیان، اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے،

74 مال غنیمت میں اللہ کا حصہ اور اس کا مصرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مال غنیمت کے خمس میں سب سے پہلے اللہ کا حق اور اس کا حصہ ہے۔ جس کی نصرت و مدد اور تائید و عنایت سے تم لوگ فتح و کامرانی سے ہمکنار و سرفراز ہوئے، اور ہوتے رہو گے۔ لہٰذا سب سے پہلے " خُمس " یعنی پانچویں حصے میں سے اسی کا حصہ نکالو۔ اور پھر اس غنی مطلق کا یہ حصہ بھی اس کے بندوں ہی کے لئے آئندہ آنے والی تفصیل کے مطابق تقسیم کردو۔ یعنی اللہ پاک کے حصے کا ذکر محض تیمن و تبرک کیلئے ہے کہ سب کا خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے، ورنہ اس کے نام کا یہ حصہ بھی اس کے بندوں ہی میں تقسیم ہوگا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اموال غنیمت کے بارے میں زمانہ جاہلیت کا دستور اب ختم کردیا گیا کہ جو شخص مال و اسباب لوٹے وہ سب اسی کا ہے۔ سو اس جاہلی دستور کو ختم کر کے اب اسلامی قانون اس بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ سارا مال غنیمت اکٹھا کیا جائے گا اور اس میں سے پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کے حق کے طور پر نکال کر بقیہ مال مجاہدین میں تقسیم کیا جائے گا۔ یہاں پر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ زمانہ جاہلیت میں سرداران قبائل لوٹے ہوئے مال کا چوتھا حصہ خود اپنے لئے لیا کرتے تھے جو کہ ان کے ذاتی استعمال میں آتا تھا اور اس کو " مِرْبَاع " کہا جاتا تھا۔ اسلام نے پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسول کے حق کے طور پر مقرر کیا اور وہ بھی جیسا کہ آگے آ رہا ہے تمام تر اسلامی معاشرے کی بہتری اور اس کی فلاح و بہبود کے اجتماعی کاموں کے لئے لوٹادیا گیا۔ اور بقیہ چار حصے تمام مجاہدین میں تقسیم کردیئے جائیں گے۔ جنہوں نے جہاد میں حصہ لیا اور کفار سے یہ مال غنیمت چھینا جو اپنے کفر وانکار کی بنا پر اس کے حق ملکیت سے محروم ہوگئے تھے۔ 75 غنیمت میں اللہ کے رسول کا حصہ : سو اس میں اللہ کے بعد اللہ کے رسول کا حصہ ہے۔ جن کی اطاعت و اتباع کی برکت سے تمہارے لئے فتح و کامرانی کی راہیں کھلتی ہیں۔ لہذا اللہ تعالیٰ کے حق کے بعد انہی کا حق بنتا ہے ۔ صَلَوَاتُ اللہ وَسَلَامَہٗ عَلَیْہ وَعلٰی اٰلہٖ وَصَحْبِہٖ وَمَنْ تَبِعَہٗ اِلَی یَوْمِ الدّین ۔ اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد بعض کے نزدیک یہ ساقط ہوگیا اور بعض کے نزدیک یہ خلیفہ کا حق ہے۔ اور بعض کے نزدیک اس کو مسلمانوں کی عام ضرورتوں میں صرف کیا جائے۔ (معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف اللہ اور اس کے رسول کے حق کے طور پر کل مال کے " خُمس " میں سے حصہ نکالنے کے بعد باقی چار حصے تمام مجاہدین میں تقسیم کئے جائیں گے۔ سو سب سے پہلے اور سب سے اوپر اللہ کا حق ہے جو کہ خالق حقیقی اور مالک مطلق ہے۔ اس کے بعد اس کے رسول کا حق ہے جن کا مرتبہ مخلوق میں سب سے بڑا سب پر مقدم ہے کہ انہوں نے ہی آکر مخلوق کو خالق سے ملایا اور اللہ پاک کی ذات وصفات اور اس کے حقوق و اختیارات سے متعلق دنیا کو صحیح تصور سے آگہی بخشی۔ اور دنیا کو عقیدئہ توحید کی عظمتوں سے سرفراز کیا اور ان کو حیوانیت کے گڑھے سے نکال کر انسانیت کے منصہ شرف واعزاز سے سرفراز کیا ۔ علیہ افضل الصلوات واتم التسلیمات ما تعاقب اللیل والنہار۔ 76 پیغمبر کی شان عبدیت و بشریت کی عظمت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم ایمان رکھتے ہو اس چیز پر جن کو ہم نے اتارا اپنے بندے پر یعنی امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ پر جو کہ عبدیت صادقہ کا نمونہ کامل تھے۔ اسی لئے آپ ﷺ اپنے خالق ومالک کے یہاں محبوبیت کا ایک ایسا خاص درجہ اور شان رکھتے تھے جو کہ اور کسی کو نہ کبھی نصیب ہوئی ہے نہ قیامت تک کبھی کسی کو نصیب ہوسکتی ہے۔ اسی لئے قرآن حکیم میں آپ ﷺ کی اس شان عبدیت و بندگی کا ذکر جگہ جگہ اور طرح طرح سے فرمایا گیا ہے۔ کہیں { عَبْدِنَا } کہیں { بِعَبْدِہ } اور کہیں { عَبْدُ اللّٰہِ } کے الفاظ سے۔ مگر اس کے باوجود اہل بدعت آپ ﷺ کی اس عبدیت طاہرہ اور بشریت مقدسہ کو ماننے کیلئے تیار نہیں اور اپنے اس انکار کیلئے وہ ایسی نصوص میں طرح طرح کی تاویلات و تحریفات سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حالانکہ اگر دیکھا جائے تو آپ کے کمال اور آپ کی عظمت شان کا تعلق اور اس کا مدارو انحصار آپ ﷺ کی بشریت طاہرہ ہی پر ہے کہ بشر ہوتے ہوئے آپ ﷺ وہاں پہنچے جہاں نوری فرشتے بھی نہیں پہنچ سکتے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگوں کا اللہ پر اور اس نصرت الٰہی پر ایمان و یقین ہے جو ہم نے بدر کے اس یوم فرقان میں اپنے خاص بندے پر نازل کی تو تم لوگ غنیمت سے متعلق اس حکم کی بلا چون و چرا صدق دل سے تعمیل کرو کہ اسی میں تمہارا بھلا ہے۔ یعنی ظاہر و باطن اور دنیا و آخرت ہر لحاظ سے ۔ وباللہ التوفیق - 77 معرکہ بدر کا دن یوم فرقان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور اس چیز پر جس کو ہم نے اپنے بندے پر اتارا فیصلے کے اس دن میں۔ یعنی بدر کے دن جس دن کہ حق پوری طرح واضح ہوگیا تھا اور حق و باطل کا فرق کھل کہ سب کے سامنے آگیا تھا کہ اہل کفر و باطل نے اپنے تمام تر ذرائع و وسائل کے باوجود اہل حق کے ایک چھوٹے سے اور بےسرو سامان گروہ سے ایسی شکست کھائی کہ ان کی کمر ٹوٹ گئی۔ اور ان کا غرور ہمیشہ کیلئے خاک میں مل گیا ۔ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ ۔ اور خود کفار قریش نے اس دن کو حق اور باطل کے درمیان ایک کسوٹی کی حیثیت دے دی تھی کہ جو اس جنگ میں ہارا وہ باطل پر سمجھا جائے گا اور جو جیتا اس کو حق پر مانا جائے گا۔ اور اس کے لئے انہوں نے دعائیں بھی کی تھیں کہ جو حق پر ہو وہ باقی رہے اور جو باطل پر ہو وہ ہلاک ہوجائے۔ سو ان کی اپنی مقرر کردہ اس کسوٹی کے مطابق حق تعالیٰ کی طرف سے فیصلہ فرما دیا گیا کہ حق غالب آگیا اور باطل کی کمر ٹوٹ گئی اور یہ سب کچھ ان کی کھلی آنکھوں کے سامنے ہوا تھا۔ 78 معرکہ بدر کے دو گروہوں کی مڈ بھیڑکا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس دن کہ مڈ بھیڑ ہوئی حق وباطل کے ان دونوں گروہوں کے درمیان۔ ایک گروہ اولیاء الرحمن کا تھا اور دوسرا اولیاء الشیطٰن کا۔ اور اولیاء الرحمن کے اس مقدس گروہ نے قلت تعداد اور بےسروسامانی کے باجود اولیاء الشیطن پر فیصلہ کن غلبہ حاصل کرلیا، اور اس طور پر کہ کسی کو اس کا گمان بھی نہ تھا۔ اور جس سے یہ بات پوری طرح عیاں اور واضح ہوگئی کہ فتح و غلبہ اسی کیلئے ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت شامل ہو۔ اس سے واضح ہوگیا کہ غلبہ حق والوں ہی کا ہوتا ہے۔ اور اس روز جو کچھ ہوا وہ اللہ کی قدرت و عنایت ہی سے ہوا ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 79 اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ اور یہ اس کی قدرت مطلقہ ہی کا ایک ثبوت و مظہر تھا کہ معرکہ بدر میں مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت کفار کے اتنے بڑے اور اس قدر مسلح لشکر پر غالب آگئی " فَہُوَ الَّذِیْ نَصَرَ عَبْدَہ وَہَزَمَ الاَحْزاَبَ وَحْدَہ، فَلَہ الْحَمْدُ وَلَہُ الشُّکْرُ "۔ پس مسلمان کا اصل سرمایہ اور سرچشمہ قوت وقدرت وہی ہے کہ وہ اس قادر مطلق سے اپنا تعلق صحیح اور درست رکھے تاکہ ُ اس کی نصرت و امداد اس کو حاصل رہے کہ اس کے بعد اس کے لیے نہ کوئی خسارہ ہوسکتا ہے اور نہ ہی کسی سے مغلوبیت ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو یہ اسی کی کارسازی کا کرشمہ اور اس کے رسول کی عاجزانہ دعاؤں، کامل صدق و اخلاص اور بےمثال قیادت کی برکت کا نتیجہ تھا کہ اہل حق کو ایسی شاندار فتح نصیب ہوئی۔ اللہ پاک ہر چیز پر قادر ہے۔ نہ وہ کسی کا محتاج ہے اور نہ اس کا رسول کسی کا دست نگر۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہم فکن لنا واجعلنا لک یا ذا الجلال والاکرام -
Ayah 8:42

اِذْ اَنْتُمْ بِالْعُدْوَةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ بِالْعُدْوَةِ الْقُصْوٰى وَ الرَّكْبُ اَسْفَلَ مِنْكُمْ١ؕ وَ لَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لَاخْتَلَفْتُمْ فِی الْمِیْعٰدِ١ۙ وَ لٰكِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰهُ اَمْرًا كَانَ مَفْعُوْلًا١ۙ۬ لِّیَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنْۢ بَیِّنَةٍ وَّ یَحْیٰى مَنْ حَیَّ عَنْۢ بَیِّنَةٍ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 8:42 in the Quran reader

(یاد کرو کہ) جب تم لوگ (مدینہ منورہ کی نسبت سے) ادھر والے کنارے پر تھے، اور وہ لوگ (یعنی تمہارے دشمن) ادھر والے کنارے پر، اور قافلہ تم سے نیچے تھا، اور اگر تم اس بارے میں باہم عہد و پیمان کرتے، تو یقینا وقت مقرر کے سلسلے میں تم لوگ آپس میں اختلاف میں پڑجاتے، لیکن (اللہ تعالیٰ نے اس کی نوبت ہی نہ آنے دی) تاکہ اللہ پورا فرمادے ایسے کام کو جس نے (اس کے حکم واذن سے بہرکیف) پورا ہو کر رہنا تھا، تاکہ جس نے ہلاک ہونا ہے، وہ ہلاک ہو روشن دلیل کی بناء پر، اور جس نے زندہ رہنا ہے، وہ زندہ رہے روشن دلیل کی بناء پر، اور بیشک اللہ بڑا ہی سننے والا، سب کچھ جانتا ہے،

80 قدرت کی تدبیر و کارسازی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاد کرو کہ " جب کہ تم ادھر کے کنارے پر تھے اور وہ ادھر کے کنارے پر اور قافلہ تمہارے نییجے سمندر کی طرف " بدر سے کوئی تین میل کے فاصلے پر۔ (تفسیر القاسمی وغیرہ) ۔ سو اس طرح قدرت کے غیبی ہاتھوں کے ذریعے جنگ کی وہ خاص صورتحال بہم پہنچا دی گئی جسکے نتیجے میں تم لوگ اے مسلمانو ! فتح و نصرت کی اس عزت و عظمت سے سرفراز ہوئے جس کا کسی کو گمان بھی نہ تھا۔ سو یہ بھی اس قادر مطلق اور حکیم مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا ایک واضح مظہر اور نمونہ تھا ۔ جل و علا شانہ ۔ اور یہ اس کی تدبیر و کارسازی کا ایک خاص نمونہ اور مظہر تھا کہ اس نے ٹھیک وقت پر تم لوگوں کو دشمن کے مقابلے کے لئے میدان جنگ میں پہنچا دیا۔ اور فوج کا دشمن کے مقابلے کے لئے ٹھیک وقت پر اپنے موقع و محل پر پہنچ جانا کوئی معمولی بات نہیں ہوتی۔ جنگ میں فتح و شکست کا بہت کچھ مدارو انحصار اسی پر ہوتا ہے۔ بعض اوقات، بلکہ بسا اوقات معمولی سی تاخیر بھی شکست کے مترادف بن جاتی ہے۔ سو اس طرح اللہ نے تم کو اپنی خاص عنایت اور پناہ میں رکھا ۔ فلہ الحمد ولہ الشکر بکل حال من الاحوال - 81 عزوئہ بدر سے متعلق ایک خاص عنایت کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم لوگ باہم عہد و پیمان کرتے تو یقیناً اختلاف میں پڑجاتے۔ مسلمان اپنی قلت اور بےسروسامانی کی بناء پر لڑنے اور مقابلہ کرنے پر آمادہ نہ ہوتے اور کفار اس رعب اور ہیبت کی وجہ سے لڑنے کی جرات نہ کرتے جو نبی اکرم ﷺ کی معجزانہ شان اور صحابہ کرام کی قوت ایمانی کی وجہ سے ان پر حاوی تھی۔ (معارف للکاندھلوی و محاسن للقاسمی وغیرہ) ۔ سو اللہ تعالیٰ نے اس کا موقع ہی نہ آنے دیا اور تم لوگوں کو اس اختلاف سے بچا لیا۔ مسلمانوں کو دشمن کی چالوں سے بھی محفوظ رکھا اور ان کو اپنی خاص راہنمائی میں دشمن کے مقابلے کے لئے ٹھیک وقت پر اس مقام پر پہنچا دیا جہاں ان کا پہنچنا ضروری تھا۔ سو یہ حسن اتفاق خداوند قدوس کی تدبیر و کارسازی ہی کا ایک نمونہ و مظہر تھا، ورنہ تم لوگ اگر ایک دوسرے کو الٹی میٹم دے کر نکلتے تو یقینا تم اختلاف میں پڑجاتے اور یہ اجتماع حاصل نہ ہوسکتا ۔ والحمد للہ جل وعلا - 82 قدرت کی کارسازی کا ایک اور مظہر و نمونہ : کہ قدرت نے اس اختلاف کی نوبت ہی نہ آنے دی، تاکہ اللہ پورا فرما دے ایک ایسے کام کو جس نے بہرحال ہو کر رہنا تھا۔ یعنی اسلام اور مسلمانوں کا غلبہ و سربلندی اور کفر و کفار کی شکست و تذلیل ۔ { لِتَکُوْنَ کَلِمَۃُ اللّٰہِ ہِیَ الْعُلْیَا وَکَلِمَۃُ الَّذِیْنَ کَفَرُوا السُّفْلٰی } ۔ (صفوہ، محاسن، جامع وغیرہ) ۔ سو اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے غیبی ہاتھ کی کارستانیاں اسی طرح ہوتی ہیں۔ اس لیے مومن کو چاہیئے کہ وہ اعتماد اور بھروسہ ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر رکھے کہ یہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص تدبیر اور کارسازی سے تم کو اور تمہارے دشمنوں کو اس طرح ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا تاکہ وہ بات ہو کہ رہے جس کا ہونا اس کی سکیم میں طے پا چکا تھا۔ تاکہ غلبہ حق سب کے سامنے آجائے ۔ فالحمد للہ جل وعلا - 83 یوم فرقان کے بعض اہم مصالح کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ جس نے ہلاک ہونا ہو وہ روشن دلیل کی بنا پر ہلاک ہو اور جس نے زندہ رہنا ہو وہ روشن دلیل کی بنا پر زندہ رہے۔ تاکہ حق پوری طرح واضح ہوجائے اور کسی کے لئے کوئی خفا و غموض باقی نہ رہنے پائے۔ اور اس کے بعد نہ کفر و باطل والوں کے لئے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش باقی رہے اور نہ اہل ایمان و یقین کے لئے کسی شک و ارتیاب کی۔ اور اس کے بعد جو حق پر قائم و مستقیم ہو وہ پورے اعتماد و وثوق اور پورے شرح صدر کے ساتھ قائم رہے۔ اور جس نے ہلاک ہونا ہو اس کا کفر و باطل پر قائم رہنا اور ہلاک ہونا خود اپنی ذمہ داری پر ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے اس خدائی سکیم کے بعض اہم مصالح کو ذکر فرما دیا گیا کہ تاکہ بدر کے اس معرکہ حق و باطل سے وہ فرقان واضح ہوجائے جس سے حق کا حق ہونا اور باطل کا باطل ہونا پوری طرح نکھر کر سب کے سامنے آجائے۔ اور اس طور پر کہ اس کے بعد کسی کے لیے کوئی مجال انکار نہ رہے ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ سو بلاشبہ اللہ بڑا ہی سننے والا سب کچھ جانتا ہے۔ پس وہ جو بھی کچھ کرتا ہے بہتر ہی کرتا ہے ۔ سبحانہ وتعالی فلہ الحمد ولہ الشکر بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ -