43. Surah Az-Zukhruf

الزخرفOrnaments of gold · 89 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 43:80

اَمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ١ؕ بَلٰى وَ رُسُلُنَا لَدَیْهِمْ یَكْتُبُوْنَ Open ayah 43:80 in the Quran reader

کیا انہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم نہیں سنتے (جانتے) ان کی راز کی باتوں اور ان کی سرگوشیوں کو ؟ کیوں نہیں ؟ اور (مزید یہ کہ) ہمارے فرشتے بھی ان کے پاس لکھتے جا رہے ہیں2

104 مجرموں کے بارے میں خفیہ ریکارڈ کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم سنتے جانتے نہیں ان کی راز کی باتوں اور ان کی سرگوشیوں کو ؟ کیوں نہیں اور مزید یہ کہ اور ہمارے فرشتے انکے پاس لکھتے جا رہے ہیں ۔ انکے تمام کئے کرائے کو "۔ سو اپنے ذاتی علم کے علاوہ ہم اس طرح اپنے فرشتوں کے ذریعے ان کا پورا ریکارڈ بھی تیار کروا رہے ہیں تاکہ انصاف کے تقاضے اس طرح پورے ہوں کہ کسی کے لئے کسی انکار کی کوئی گنجائش باقی نہ رہ جائے ۔ { مَا یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ اِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ } ۔ (ق : 18) ۔ سو منکر لوگ اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ ہم ان کی سازشوں اور سرگوشیوں سے بیخبر ہیں۔ نہیں اور ہرگز نہیں۔ ہم ان کی تمام خفیہ حرکتوں سے پوری طرح باخبر ہیں۔ اور ہمارے فرشتے انکا پورا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ سو وقت آنے پر ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتنا ہوگا اور عدل و انصاف کی تقاضوں کے عین مطابق پوری طرح بھگتنا ہوگا۔ اور ایسا کہ اس سے ان کے لیے خلاصی اور تدارک کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 43:81

قُلْ اِنْ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ وَلَدٌ١ۖۗ فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ Open ayah 43:81 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ اگر (بالفرض خدائے) رحمان کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں عبادت کرنے والا ہوتا

105 خدائے رحمن کی کوئی اولاد نہیں : جیسا کہ مشرک لوگوں کا کہنا ہے کہ کسی نے حضرت عزیر کو اس وحدہ لاشریک کا بیٹا قرار دیا اور کسی نے حضرت عیسیٰ کو ۔ عَلٰی نَبْینا وعلیہما الصَّلوۃُ والسَّلام ۔ اور کسی نے کہا کہ فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان تمام سے یہ بات کہہ دو اور یہ پوچھو تاکہ اس طرح حق اور واضح ہوجائے۔ سو ان سے کہو کہ اگر بالفرض خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہوتی جیسا کہ تم لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے تو سب سے پہلے میں اس حقیقت کو تسلیم کرتا اور اس کے آگے جھک جاتا۔ اور جب ایسی کوئی بات نہیں تو پھر اس کی کوئی اولاد کس طرح ہوسکتی ہے ؟۔ سو وہ اس طرح کے تمام علائق اور تصورات سے پاک اور اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 106 عبادت وجود معبود کا لازمی تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ اگر بالفرض ایسا ہوتا یعنی خدائے رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے میں اس کی عبادت کرنے والا ہوتا "۔ کہ عبادت وجود معبود کا لازمی تقاضا ہے۔ اور اس وحدہ لاشریک سے سب سے زیادہ قرب و اتصال تو مجھ ہی کو حاصل ہے۔ اور اس کی اطاعت و بندگی میں سب سے آگے میں ہی ہوں۔ اور جب میں ایسے نہیں کرتا بلکہ پوری قوت اور زور سے سب کو بتارہا ہوں کہ عقل و نقل کی ہر دلیل سے یہی ثابت ہے اور ثابت ہوتا ہے کہ اس کی کوئی اولاد ہے ہی نہیں۔ اور وہ ایسے ہر شائبے سے پاک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تو پھر تم لوگوں کو بھی یہی یقین کرنا اور اسی بنیاد پر عمل کرنا چاہیئے کہ اس کی نہ کسی طرح کی کوئی اولاد ہے اور نہ ایسے ممکن ہی ہے۔ وہ وحدہ لاشریک ہے اور اس کی شان ۔ { لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ } ۔ کی شان ہے۔ پس جن لوگوں نے اس کی اولاد مانی انہوں نے بڑے ہی ہولناک جرم کا ارتکاب کیا اور ایسے بڑے اور اس قدر ہولناک جرم کا ارتکاب کیا کہ اس کی بنا پر قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہوجائے اور دیوہیکل پہاڑ گر کر ریزہ ریزہ ہوجائیں جس طرح کہ سورة مریم کی آیت نمبر 88 تا آیت نمبر 29 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 43:82

سُبْحٰنَ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ رَبِّ الْعَرْشِ عَمَّا یَصِفُوْنَ Open ayah 43:82 in the Quran reader

پاک ہے فرماں روا آسمانوں اور زمین کا جو کہ مالک ہے عرش کا ان تمام باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں

107 اللہ شرک کے ہر شائبہ سے پاک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پاک ہے اللہ ایسی تمام باتوں سے جو یہ لوگ اس کے بارے میں بناتے ہیں "۔ کہ ایسی تمام باتیں اور اس طرح کی جملہ صفات جسم اور ممکن کی ہیں۔ جبکہ وہ وحدہ لاشریک جسم اور جسمانیات کے ہر شائبے سے پاک اور واجب الوجود ہے ۔ جل جلالہ وعز برھانہ ۔ وہی تنہا آسمانوں اور زمین کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک ہے۔ اور وہی اس میں بلاشرکت غیرے حاکم و متصرف ہے۔ اور وہی رب ہے عرش عظیم کا۔ اس کی نہ کوئی اولاد ہے نہ ہوسکتی ہے۔ وہ ایسے تمام تصورات سے پاک ہے۔ اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اس طرح کے تصورات قائم کیے ہیں وہ ہولناک گمراہی کے کھڈے میں گرے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 43:83

فَذَرْهُمْ یَخُوْضُوْا وَ یَلْعَبُوْا حَتّٰى یُلٰقُوْا یَوْمَهُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ Open ayah 43:83 in the Quran reader

پس چھوڑو دو ان کو کہ یہ پڑے رہیں اپنی بےہودہ باتوں میں اور لگے رہیں اپنے کھیل تماشے میں یہاں تک کہ یہ خود دیکھ لیں اپنے اس (ہولناک) دن کو جس سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے1

108 منکرین سے اعراض و روگردانی کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پس چھوڑ دو انکو انکے حال پر یہاں تک کہ یہ پہنچ جائیں اپنے اس ہولناک انجام کو جو ان کے لیے کفر وانکار کی پاداش میں طے ہوچکا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ حق کی توضیح میں اب کوئی کسر باقی نہیں رہ گئی۔ اگر یہ لوگ پھر بھی نہیں مانتے تو ان کی اب زیادہ فکر نہ کریں بلکہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں تاکہ یہ اپنے انجام کو پہنچ جائیں اور اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگتیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ منکرین و مکذبین کے بارے میں فیصلہ کن اعلان ہے کہ اگر یہ لوگ اب بھی اپنے کفر وعناد اور ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں تو انکو انکے حال پر چھوڑ دو ۔ تاکہ یہ کھوئے رہیں اپنی بیہودہ باتوں میں اور لگے رہیں اپنے کھیل تماشے میں۔ یہاں تک کہ یہ خود دیکھ لیں اپنے اس ہولناک دن کو جس سے ان کو ڈرایا اور خبردار کیا جاتا ہے۔ اور اس طرح یہ اپنے ہولناک اور دائمی انجام کو پہنچ کر رہیں کہ اس روز سب حقائق اپنی اصل شکل میں انکے سامنے آجائیں گے۔ تب انکو خود پتہ لگ جائے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ ایسوں سے الجھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دو ۔ { فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُوْنَ } ۔ تاکہ یہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 43:84

وَ هُوَ الَّذِیْ فِی السَّمَآءِ اِلٰهٌ وَّ فِی الْاَرْضِ اِلٰهٌ١ؕ وَ هُوَ الْحَكِیْمُ الْعَلِیْمُ Open ayah 43:84 in the Quran reader

اور وہ (اللہ) وہی ہے جو کہ معبود برحق ہے آسمان میں بھی اور زمین میں بھی اور وہی ہے بڑا حکمت والا سب کچھ جانتا2

109 معبود برحق اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی اللہ معبود ہے آسمان میں بھی زمین میں بھی "۔ یعنی معبود حقیقی آسمان و زمین کی اس ساری کائنات میں بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس کے سوا جو لوگ دوسرے خود ساختہ اور من گھڑت خداؤں کی پوجا پاٹ کرتے ہیں وہ سراسر ظلم اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور اس طرح وہ خود اپنی ہی ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں جس کا بھگتان ان کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ اور نہایت ہی ہولناک عذاب کی صورت میں بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ معبود برحق آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات میں بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور تنہا اسی کا حکم و ارشاد اور مشیت و ارادہ انکے اندر کارفرما ہے۔ اور آسمان و زمین دونوں اور انکے درمیان پائی جانے والی بیشمار اور بےحد و حساب مخلوق کے اندر پایا جانے والے توافق اس امر کی کھلی دلیل اور واضح ثبوت ہے کہ اس پوری کائنات میں اور اس کی ہر چیز پر حکم و ارادہ اسی وحدہ لاشریک کا چلتا ہے۔ اور یہ سب چیزیں ایک ہی خدائے قادر وقیوم کی مشیت کے تحت کام کرتی ہیں۔ اگر انکے اندر متعدد ارادے کارفرما ہوتے تو یہ حکمتوں بھرا نظام کبھی کا درہم برہم ہوگیا ہوتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { لَوْ کَانَ فِیْہِمَا آلِہَۃٌ الاَّ اللّٰہُ لَفَسَدَتَا } ۔ (الانبیائ : 22) ۔ سو کفر و شرک دمار و فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 43:85

وَ تَبٰرَكَ الَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا١ۚ وَ عِنْدَهٗ عِلْمُ السَّاعَةِ١ۚ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 43:85 in the Quran reader

اور بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس کی بادشاہی (و فرمانروائی) ہے آسمانوں اور زمین میں اور اس (ساری کائنات) میں جو کہ ان دونوں کے درمیان ہے اسی کے پاس ہے قیامت کا علم اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم سب کو (اے لوگوں ! )

110 معبود برحق کی عظمت شان کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس کیلئے بادشاہی ہے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کی "۔ اور جب آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی تمام کائنات کا خالق ومالک وہی وحدہ لاشریک ہے اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی وحدہ لا شریک ہے۔ تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز آسمان اور زمین اور انکے درمیان کی اس کائنات میں جتنی عظیم الشان نعمتیں پائی جاتی ہیں ان میں غور و فکر سے کام لینے سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ کتنی ہی عظیم الشان رحمتوں اور برکتوں والا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اسی سے یہ اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے حقِّ عبادت و بندگی میں کسی اور کو اس کا شریک ماننا کتنا بڑا ظلم اور کس قدر سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 111 قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر وقصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کے پاس ہے قیامت کا علم "۔ پس اس کے وقوع کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَا یُجَلِّیہَا لِوَقْتِہَا الاَّ ہُوَ } ۔ سو اس حقیقت کو تاکید و تکرار کے ساتھ اور ادوات حصر کے ساتھ واضح فرمایا گیا کہ قیامت کا علم اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کسی کو بھی نہیں۔ مگر اس کے باوجود اہل بدعت کا کہنا ہے کہ اس کا علم فلاں فلاں لوگوں کو حاصل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کا صحیح علم اللہ ہی کے پاس ہے۔ پس پیغمبر اگر اسکا وقت نہیں بتاسکتے تو اسکا مطلب یہ نہیں کہ وہ آئے گی ہی نہیں۔ اس کا آنا تو بہرحال یقینی اور قطعی ہے کہ وہ اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔ اور اس کے نہ آنے کی صورت میں یہ سارا کارخانہ ہست وبود ہی عبث اور بیکار قرار پاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 112 سب کا رجوع اسی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا اور انداز حصر و قصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم سب کو ۔ اے لوگو !- " اور وہاں پہنچ کر تم نے زندگی بھر کے اپنے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا بدلہ پانا ہے۔ سو اب خود دیکھ لو کہ وہاں کیا لے کر جا رہے ہو ۔ اَللّٰہُمَّ وَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ وَ الْعَمَلِ ۔ سو کوئی چاہے یا نہ چاہے، مانے یا نہ مانے، جانا سب نے بہرحال اسی کی طرف ہے کہ مرجع سب کا بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے سوا مرجع کوئی اور نہیں کہ اس سے تم کوئی آس اور امید لگا سکو۔ سو ۔ { اِلَیْہِ تُرْجَعُوْن } ۔ کے اس مختصر سے جملے سے منکرین و مشرکین کے تمام خود ساختہ عقیدے { ہباءا منثورا } ہوجاتے ہیں۔ سو جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم مر مٹ کر یونہی ختم اور نیست و نابود ہوجائیں گے یا جو کہتے ہیں کہ ہم آواگون اور تناسخ کے ذریعے دوسرے جون میں آجائیں گے یا جو اپنے خود ساختہ معبودوں کو اپنا مرجع بنائے بیٹھے ہیں وغیرہ وغیرہ تو ایسے تمام عقائد کی ارشاد ربانی کے اس مختصر سے جملے سے بیخکنی ہوجاتی ہے اور حق اور حقیقت کو پوری طرح صاف اور واضح فرما دیا گیا ۔ فالحمد للہ رب العالمین -
Ayah 43:86

وَ لَا یَمْلِكُ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهِ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنْ شَهِدَ بِالْحَقِّ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 43:86 in the Quran reader

اور اس کے سوا جن کو یہ لوگ پوجتے پکارتے ہیں وہ تو کسی کی شفاعت کا بھی اختیار نہیں رکھتے مگر جنہوں نے حق کی گواہی بھی دی ہو اور وہ علم بھی رکھتے ہوں

113 مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی تردید : سو اس ارشاد سے مشرکین کے مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی تردید فرما دی گئی۔ مشرکین کا کہنا یہ تھا اور یہ ہے کہ ہمارے یہ معبود اللہ کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں ۔ { ہٓؤُلآئِ شُفَعَائُ نَا عِنْدَ اللّٰہِ } ۔ اور جیسا کہ کلمہ گو مشرکوں نے سمجھ رکھا ہے کہ ہم نے تو بس فلاں سرکار کا لڑ پکڑ لیا ہے وہی ہمیں کافی ہے۔ یہ وہاں پر اڑ کے بیٹھ جائیں گے اور منوا کر چھوڑیں گے۔ اور ہمارا کام بن جائے گا۔ آخر جہاں سے اونٹ گزرے گا وہاں سے اس کی دم بھی گزر جائے گی وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ سو اس ارشاد ربانی سے مشرکوں کے ایسے مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی جڑ نکال دی گئی اور انکے اس زعم کی بیخ کنی کردی گئی کہ انکے مولیٰ و مرجع انکے مزعوعہ شرکاء و شفعاء ہیں جو اپنی سفارش سے ان کی جان بخشی کرا دیں گے اور انکو عذاب سے چھڑا دیں گے۔ سو فرمایا گیا کہ جن کو یہ لوگ اللہ کے سوا پوجتے پکارتے ہیں وہ شفاعت کا کوئی اختیار نہیں رکھتے ہوں گے بلکہ اس دن فیصلہ تمام تر اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہوگا۔ اور وہ بالکل حق کے مطابق فیصلہ فرمائے گا ۔ { وَالاَمْرُ یَوْمَئِذٍ لِلّٰہِ } ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر قسم اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 114 شفاعتِ حق کا اثبات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ کے سوا جن کو پوجتے پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا کوئی اختیار نہیں رکھیں گے مگر جن کو اللہ اجازت دے گا اور وہ حق کی گواہی دیں گے "۔ یعنی توحید کی۔ کہ یہی اصل الاصول اور اساس متین ہے دین حنیف کی تمام تعلیمات مقدسہ کی۔ یعنی شفاعت کی اجازت ان ہی کو ہوگی اور انہی کیلئے ہوگی جنہوں نے حق کی گواہی دی ہوگی علم اور بصیرت کی بنا پر۔ نہ کہ محض منافقانہ طور پر۔ اور قرآن حکیم میں دوسرے کئی مقامات پر اس کی تصریح فرمائی گئی ہے کہ خداوند قدوس کے یہاں سفارش کیلئے صرف وہی لوگ زبان کھول سکیں گے جن کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ملے گی۔ اور وہ اسی کیلئے زبان کھولیں گے جس کیلئے انکو اجازت ملے گی۔ چناچہ سورة طٰہٓ میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { یَوْمَئِذٍ لاَّ تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ الاَّ مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَرَضِیَ لَہُ قَوْلاً } ۔ (طٰہ : 109) ۔ یعنی " اس دن کسی کو کسی کی شفاعت سے کوئی نفع نہیں پہنچے گا مگر جس کے لیے خدائے رحمان اجازت دے اور اس کے لیے کسی بات کے کہنے کو پسند کرے "۔ اور سورة نبا میں اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَالْمَلٓئِکَۃُ صَفًّا لاَّ یَتَکَلَّمُوْنَ الاَّ مَنْ اَذِنَ لَہُ الرَّحْمٰنُ وَقَالَ صَوَابًا } ۔ (النبائ : 38) ۔ یعنی " جس دن جبریل امین اور دوسرے فرشتے صف بستہ کھڑے ہوں گے اور وہ کوئی بات نہیں کرسکیں گے مگر جس کو خدائے رحمن اجازت دے۔ اور وہ بات بھی ٹھیک کرے " اور وہی بات کرسکیں گے جو ان کے علم میں ہوگی اور صحیح ہوگی۔ پس مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی کوئی گنجائش نہیں۔ 115 گواہی کے لیے علم کی شرط : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " درآنحالیکہ وہ جانتے بھی ہوں "۔ سو خدا کے مقرب بندے بھی زبان سے وہی بات نکالیں گے جس کا ان کو علم ہوگا۔ اور جو بات ان کے علم سے باہر ہوگی اس کے بارے میں وہ بھی زبان کھولنے کی جرات نہیں کریں گے۔ جیسا کہ حضرت عیسیٰ کا قول سورة مائدہ میں گزر چکا ہے ۔ { وکنت علیہم شہیدا ما دمت فیہم } ۔ یعنی " میں ان پر اسی وقت تک گواہ اور نگران رہا جب تک کہ میں ان کے اندر موجود تھا "۔ لہذا اس مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی وہاں کوئی گنجائش نہیں ہوگی جس کو اہل شرک و بدعت نے اپنے مفروضوں اور ڈھکوسلوں کی بنا پر اپنا رکھا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حضرت عیسیٰ میدان حشر میں عرض کریں گے کہ میں ان لوگوں پر اسی وقت تک گواہ اور نگران تھا جب تک کہ میں ان کے اندر موجود تھا۔ لیکن جب تو نے اے میرے مالک مجھے اٹھا لیا تو اس کے بعد تو ہی ان پر نگران تھا۔ اور بلاشبہ تو ہی ہر چیز پر گواہ اور اس کا نگہبان ہے۔ (المائدہ : 117) یعنی اس کے بعد مجھے ان لوگوں کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ یہ کیا کرتے رہے۔ لہذا اب ان کا معاملہ تیرے ہی حوالے ہے۔ تو ان کے ساتھ جو چاہے کر۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ حضرات انبیائے کرام کی گواہی اسی دور سے متعلق ہوگی جو ان کے سامنے گزرا ہوگا اور بس۔
Ayah 43:87

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ مَّنْ خَلَقَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰهُ فَاَنّٰى یُؤْفَكُوْنَۙ Open ayah 43:87 in the Quran reader

اور اگر آپ ان سے پوچھیں کہ کس نے پیدا کیا ان کو ؟ تو یہ سب ضرور بالضرور یہی کہیں گے کہ اللہ ہی نے پھر یہ کہاں پھیرے جا رہے ہیں ؟

116 مشرکوں کے قابل تعجب حال کا ذکر : سو اس سے مشرکین کا قابل تعجب ذکر فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اپنا خالق تو اللہ ہی کو مانتے ہیں مگر پھر بھی شرک کرتے ہیں۔ اور اپنے اس اقرار و اعتراف کے باوجود ہیں یہ سب لوگ مشرک ہی۔ کیونکہ اللہ کی صفات اس کی مخلوق میں مانتے ہیں۔ سو اس سے آپ اپنے دور کے ان کلمہ گو مشرکوں کا اندازہ بھی کرلیجئے جو اللہ کی صفات دھڑلے سے اس کی مخلوق میں مانتے ہیں۔ مگر دعویٰ پھر توحید ہی کا کرتے ہیں۔ اور اپنے اس شوق کی تکمیل میں ایسے لوگ قرآن و سنت کی نصوص میں ایسی ایسی تحریفات کا ارتکاب کرتے ہیں جو یہود کو بھی شرما دیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ مشرکین کا یہ حال نہایت قابل تعجب اور باعث حیرت ہے کہ یہ لوگ اپنا اور اس ساری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہی کو مانتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اس کے حقوق و اختیارات اور اس کی عبادت و بندگی میں دوسروں کو شریک مانتے ہیں جو کہ عقل ونقل دونوں کے تقاضوں کے خلاف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ شرک کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 117 مشرکوں کی مت ماری کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کہاں مت ماری جاتی ہے ان لوگوں کی ؟ "۔ کہ مقدمات تو سب مانتے ہیں مگر اسکا نتیجہ نہیں مانتے { یُؤْفَکُوْنَ } مجہول کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے۔ " ان کو کہاں پھیرا جاتا ہے "۔ یعنی ان کو پھیرنے والے کوئی اور ہیں۔ اور وہی ان کے اصل گرو ہیں جس کے ہاتھ میں ان کی نکیل اور باگ ڈور ہے۔ اور وہی اپنی اہوا و اَغراض کے مطابق انکو جدھر چاہتے ہیں گھماتے ہیں۔ ان کی اپنی کھوپڑیاں کام کرتی نہیں۔ اور یہ اپنے نفع و نقصان کے احساس و ادراک سے عاری ہو کر اپنے ایسے ہی آقاؤں کے اشاروں پر ناچتے، تھرکتے اور انہی کی راہوں پر چلتے ہیں۔ اور راہ حق و ہدایت سے بھٹک کر ہلاکت و تباہی کے گڑھے کی طرف بڑھے چلے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و شرک کی نحوست سے انسان کی مت ماری جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 43:88–89

وَ قِیْلِهٖ یٰرَبِّ اِنَّ هٰۤؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَۘ Open ayah 43:88 in the Quran reader

اور (مجھے) قسم ہے رسول کے اس قول کی کہ اے میرے رب یہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان لانے والے نہیں

فَاصْفَحْ عَنْهُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ١ؕ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 43:89 in the Quran reader

پس آپ ان سے درگزر ہی کرتے جائیں اور کہیں کہ سلام ہے (تم سب کو اے لوگوں ! ) سو عنقریب ہی انہیں خود معلوم ہوجائے گا3

119 منکرین سے صرف نظر اور متارکت کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے منکرین و معاندین سے صرف نظر اور ان کیلئے سلام متارکت کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ اور ایسے سلام کو " سلام متارکت " کہا جاتا ہے۔ یعنی سب کچھ پوری طرح واضح کردینے کے باوجود تم لوگ اگر نہیں مانتے تو تمہارا راستہ الگ میرا الگ۔ { لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَ لِیَ دِیْنِ } ۔ سو اس میں پیغمبر ﷺ کو اور آپ ﷺ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کیلئے یہ تعلیم و تلقین ہے کہ جو لوگ عناد اور ہٹ دھرمی پر اڑ جائیں تو ان سے الجھنے کی بجائے انکو سلام متارکت کہہ کر ان سے الگ ہوجاؤ کہ ایسوں سے الجھنے کا کوئی فائدہ نہیں کہ پتھر پر جونک لگانے سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا۔ سو عناد اور ہٹ دھرمی بیماریوں کی بیماری اور محرومیوں کی محرومی ہے کہ اس سے انسان حق بات سننے اور ماننے کی توفیق سے محروم ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ 120 منکرین کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تہدید و وعید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " عنقریب انہیں خود ہی معلوم ہوجائے گا "۔ اپنے کئے کا انجام جبکہ حقیقت کھل کر ان کی آنکھوں کے سامنے آجائے گی مگر اس وقت کے اس جاننے اور ماننے کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہ اس وقت امتحان و اختیار کی مہلت ختم ہوچکی ہوگی اور یہ دائمی خسارے میں مبتلا ہوچکے ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس انجام کے یہ لوگ مستحق اور منتظر ہیں وہ کچھ زیادہ دور نہیں بلکہ وہ عنقریب ہی انکے سامنے آجائے گا۔ اور یہ خود اس کو دیکھ لیں گے۔ سو اس ارشاد میں منکرین کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے تہدید و وعید اور ان کے لیے آخری جواب ہے جس کے بعد ان کے لیے ہمیشہ کی محرومی اور دائمی خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -