Ayah 43:5370 سونے کے کنگن اتارے جانے کا مطالبہ : سو اس بدبخت نے حضرت موسیٰ کے بارے میں مزید کہا کہ " کیوں نہیں اتارے گئے اس شخص پر کنگن سونے کے ؟ "۔ جیسا کہ اس زمانے کے بادشاہ اور خاص کر مصر و ایران کے بادشاہ پہنا کرتے تھے۔ (القرطبی، الصفوہ، ابن کثیر وغیرہ) ۔ یعنی اگرچہ یہ شخص واقعی اللہ کا رسول ہے تو اللہ کی طرف سے اس پر سونے کے کنگن اتارے جاتے۔ جس سے اس کے ٹاٹھ باٹھ قائم ہوتے اور اس کی زینت کا سامان ہوتا اور پتہ چلتا کہ واقعی یہ اللہ کا رسول ہے جبکہ یہاں پر ایسی کوئی بات بھی موجود نہیں۔
71 فرشتوں کے اتارے جانے کا مطالبہ : سو اس نے مزید کہا کہ " یا اس کے ساتھ فرشتے ہوتے پرے باندھے ہوئے "۔ جو اس کے ساتھ ساتھ چلتے تاکہ پتہ چلتا کہ یہ شخص واقعی اللہ کا رسول اور اس کا نمائندہ ہے۔ مگر یہ شخص ہے کہ دعویٰ تو کرتا ہے اللہ کا رسول ہونے کا مگر اس کے پاس انکے میں سے کوئی بھی چیز نہیں۔ تو پھر یہ اللہ کا رسول کس طرح ہوسکتا ہے ؟ یعنی وہی مادہ پرستانہ ذہنیت جس کا مظاہرہ ابنائے دنیا نے ہمیشہ کیا۔ اسی کا اظہار وقت کے اس بڑے طاغیہ اور سرکش نے کیا اور بالآخر وہ اپنے کفر و عصیان اور سرکشی کے انجام کو پہنچ کر رہا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس بدبخت نے حضرت موسیٰ ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام ۔ کی توہین و تحقیر کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہ شخص واقعی اللہ کا رسول ہے تو اس کی زیب وزینت اور شان و شوکت کے لیے آسمان سے سونے کے کنگن اتارے جاتے اور فرشتے پرے باندھے اس کے جلو میں چل رہے ہوتے۔ مگر اس کے پاس تو اس میں سے کچھ بھی نہیں۔ تو پھر یہ اللہ کا رسول کس طرح ہوسکتا ہے ؟ اور اس کا یہ دعویٰ کس طرح درست ہوسکتا ہے۔
Ayah 43:5472 فرعون کے اپنی قوم کی سادہ لوحی سے فائدہ اٹھانے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے ہلکا پایا اپنی قوم کو "۔ اس طرح کی اپنی پر فریب باتوں اور مختلف قسم کی چالوں سے۔ اور اپنی ڈکٹیٹر شپ کی قوت و زور کے بل بوتے پر اور طرح طرح کے حیلے حوالوں سے۔ یہاں تک کہ اس نے ان احمقوں کو اپنے پیچھے چلنے والوں اور اس کے اشارئہ ابرو پر ناچنے والوں کی ایک بھیڑ بنادیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ " استخف " ضد ہے " استثقل " کی۔ استثقال کے معنیٰ کسی چیز کو بھاری، بوجھل اور گراں سمجھنے کے ہیں۔ اور اس کے مقابلے میں استخفاف کے معنیٰ کسی کو ہلکا، بےوزن اور بےحیثیت سمجھنے کے ہوں گے۔ سو اس لعین نے اپنی قوم کو سادہ اور بدھو پایا۔ اس کو اپنی پرفریب باتوں کے جال میں پھنسایا۔ اور وہ بیوقوفوں کی طرح اس کے چکموں میں آکر اس کے پیچھے لگ گیے۔ اور ہر ڈکٹیٹر اپنے دور میں ایسے ہی جبر و طغیان کے طرح طرح کے حربوں سے کام لے کر اپنی قوم کو دباتا اور رام کرتا ہے۔ اور اپنی ڈکٹیٹرشپ کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے اور اپنا حلقہ مزید کسنے کی کوشش کرتا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
73 قوم فرعون کے اپنے طاغیے کے پیچھے لگ جانے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے اس ۔ سرکش و طاغیہ ۔ کی اطاعت کو اپنا لیا "۔ اسی لئے وہ اللہ کے نبی کے مقابلے میں ایسے کافر و طاغی اور سرکش و باغی کے پیچھے لگ گئے۔ اور انہوں نے عقل و فکر سے کام لینے کی زحمت بھی گوارا نہ کی ۔ والعیاذ باللہ من کُلِّ زیغٍ وَّضَلال وَفَسَادٍ وانحراف۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ وہ لوگ تھے ہی بڑے فاسق اور بدکار۔ اس لیے آسانی سے اس طاغیہ کا شکار ہو کر ہلاکت و تباہی کی راہ پر چل پڑے۔ کیونکہ وہ ایمان و یقین کی قوت سے محروم تھے۔ اس لیے بالکل بےوزن اور بےحقیقت تھے۔ اس لیے کہ اصل وزن ایمان و یقین کی قوت ہی سے نصیب ہوتا ہے۔ اور ایمان و یقین کی قوت سے محروم ایسے بےوزن اور بےحقیقت لوگ بڑی آسانی سے شیاطین کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں۔ اور شیاطین ان کی ناکوں میں نکیل ڈال کر جدھر چاہتے ہیں لے چلتے ہیں۔ سو انسان کے اندر اصل قوت اور حقیقی وزن ایمان و یقین کی قوت اور تعلق مع اللہ کی دولت ہی سے پیدا ہوتا ہے۔ اور اگر متاع ایمان کا یہ وزن اس کے پلڑے میں نہ ہو تو اس کی حیثیت محض خس و خاشاک کی ہے۔ جسکو ہوا کا معمولی جھونکا بھی کہیں سے اٹھا کر کہیں پھینک دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
74 قوم فرعون کے فساد و بگاڑ کے اصل سبب کی نشاندہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور وہ تھے ہی فاسق ۔ اور بدکار۔ لوگ جن کو حق و ناحق، صحیح و غلط اور جائز و ناجائز سے کوئی غرض نہ تھی۔ اسی لیے وہ اللہ تعالیٰ کے نبی برحق کے مقابلے میں ایسے سرکش و باغی انسان کی باتوں کو مانتے اور اسی کے پیچھے چلتے گئے اور اپنی بڑائی کے جھوٹے گھمنڈ میں وہ حق کا انکار ہی کرتے رہے۔ اور انہوں نے اہل حق سے بغض وعناد ہی رکھا۔ موسیٰ اور ان کی پیش کردہ نشانیوں کو جھٹلایا اور اپنے عہد و پیمان کو بار بار توڑا۔ اور اپنے کفر و حجود پر اڑے ہی رہے وغیرہ وغیرہ۔ جس کے نتیجے میں آخرکار وہ اپنے اس ہولناک انجام سے دوچار ہو کر رہے جس کا حقدار انہوں نے اپنے آپ کو اپنی اس طرح کی کرتوتوں سے بنادیا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو فسق و فجور ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ اور ایسے ہی لوگ، جیسا کہ اوپر والے حاشیے میں گزرا، شیاطین کے دوست بن جاتے ہیں۔ اور فاسقوں، فاجروں اور سرکشوں کے پیچھے لگتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس سے اس بدبخت قوم یعنی قوم فرعون کے فساد و بگاڑ کے اصل سبب کی نشاندہی فرما دی گئی جو کہ ان کا فسق و فجور تھا۔ جس کی بنا پر ان کو حق و ناحق کی کوئی پروا نہ تھی اور ان کو صحیح و غلط اور جائز و ناجائز سے کوئی سروکار نہ تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 43:5575 فرعون اور اس کی قوم کے ہولناک انجام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار ہم نے ان سے انتقام لیا اور غرق کردیا ان سب کو "۔ اسی پانی کی موجوں میں جس کی نہروں پر وہ لوگ فخر جتلایا کرتے تھے۔ اور اسی بنا پر وہ اپنے آپ کو بہت کچھ سمجھتے تھے۔ اور یہ اس لئے بھی کہ انہوں نے خود اپنے آپ کو کفر و معصیت اور عناد و سرکشی کے سمندر میں غرق کردیا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ فرعون چونکہ اپنے اعیان و اَنصار اور پورے لاؤ لشکر سمیت بنی اسرائیل کے تعاقب میں نکلا تھا اور وہ ان سب کو لیکر خود جاکر اس مقام پر پہنچا تھا جہاں اس کو اپنے انجام کو پہنچنا تھا۔ سو وہ سب وہاں غرق ہوئے۔ سو اس سے ایک بات تو یہ واضح ہوجاتی ہے کہ انکار و تکذیبِ حق کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ ایسوں کو ڈھیل جتنی بھی ملے وہ بہرحال ڈھیل ہی ہوتی ہے جس نے آخرکار ختم ہو کر رہنا ہوتا ہے۔ اور ایسے منکر اور باغی لوگ اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہتے ہیں۔ اور دوسری بات اس سے یہ معلوم ہوئی کہ ایسے بدبختوں کو ان کے آخری انجام سے دوچار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی بےآواز لاٹھی جب حرکت میں آتی ہے تو ایسے لوگ اپنی قتل گاہوں میں خود چل کر پہنچتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 43:5676 انجام کار فرعون ایک قصہ پارینہ ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ انجام کار فرعون اپنی قوم سمیت ایک قصہ پارینہ بن کر رہ گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکو ایک قصہ پارینہ بنادیا "۔ سو اب ان بدبختوں کا ذکر و وجود یا تو کہیں کتابوں کے اوراق و صفحات میں مل سکے گا یا ان آثار و نشانات اور کھنڈرات کی صورت میں جو اپنی زبان حال سے ان کی داستان عبرت سناتے ہیں۔ کہ یہ ہوتا ہے آخری انجام حق کی تکذیب و انکار کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سلف کے معنیٰ گزرنے کے ہیں۔ اور یہیں سے یہ لفظ گزرے ہوئے لوگوں کے مفہوم میں استعمال ہوتا ہے۔ اور سلف اچھے بھی ہوسکتے ہیں اور برے بھی۔ اور یہاں یہ برے معنوں ہی کیلئے استعمال فرمایا گیا ہے۔ یعنی ہم نے انکو اس طرح صفحہ ہستی سے ہمیشہ کیلئے مٹا دیا۔ اور اس طرح یہ لوگ ایک افسانہ ماضی اور قصہ پارینہ بن کر رہ گئے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { وَجَعَلْنَاہُمْ اَحَادِیْثَ وَمَزَّقْنَاہُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ } ۔ ( سبا : 19) ۔ سو اس میں دور حاضر کے اور اس کے بعد کے آنے والے تمام منکرین کیلئے یہ درس عبرت و بصیرت ہے کہ ان لوگوں نے اگر انہی کی روش اختیار کی تو انکا انجام بھی وہی ہوگا جو کل کے ان منکروں اور باغیوں اور سرکشوں کا ہوچکا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ کا قانون عدل و انصاف سب کیلئے ایک اور یکساں و بےلاگ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
77 فرعونیوں کا انجام نمونہ عبرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو ہم نے ایک نمونہ عبرت بنادیا پچھلوں کے لیے " تاکہ انکو پتہ چلے کہ حق کے انکار اور اہل حق سے بغض وعناد اور ظلم و طغیان کا نتیجہ و انجام کس قدر بھیانک اور کتنا ہولناک ہوتا ہے۔ اور پھر اسی پر بس نہیں بلکہ اصل عذاب تو آخرت کا ہے جو اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ " مثل " کے معنیٰ مثال اور نمونے کے آتے ہیں۔ اور مثال بھی سلف کی طرح اچھی اور بری دونوں صورتوں میں ہوسکتی ہے۔ یہاں پر یہ برے مفہوم میں ہے۔ اس لیے اس کے معنیٰ نمونہ عبرت کے ہیں۔ یعنی ہم نے انکو دوسروں کیلئے مثال اور نمونہ عبرت بنادیا کہ حق سے منہ موڑنے اور اس کے مقابلے میں اعراض و استکبار سے کام لینے کا آخری نتیجہ و انجام یہی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگوں کو جتنی بھی ڈھیل ملے انکا آخری انجام بہرحال نہایت ہی ہولناک، عبرت انگیز اور انتہائی المناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو بندے کا اصل کام اور اس کا مرتبہ و مقام اس میں ہے کہ وہ اپنے خالق ومالک کے سامنے اور اس کے حضور اپنی شان عبدیت میں کمال پیدا کرے۔ اور اسی کا بندہ بن کر رہے۔ اور اسی کی رضا و خوشنودی کے حصول اور اس سے سرفرازی کو اپنا نصب العین اور مقصد حیات بنائے۔ نہ کہ استکبار اور اکڑنے کی راہ کو اپنائے کہ یہ اس کے لیے ہلاکت و تباہی کی راہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور رب کی رضا و خوشنودی سے سرفرازی اور کمال عبدیت کے حصول کا ذریعہ و وسیلہ یہ ہے کہ ان تعلیمات مقدسہ کو صدق دل سے اپنایا جائے اور ان کی اتباع اور پیروی کی جائے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے انبیاء و رسل کے ذریعے ملتی ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 43:5778 منکرین کی شرانگیزی کا ایک نمونہ و مظہر : روایات میں وارد ہے کہ جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ { اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ حَصَبُ جَہَنَّمَ اَنْتُمْ لَہَا وَارِدُوْنَ } ۔ (الانبیائ : 98) یعنی " تم بھی اور تمہارے وہ سب معبود بھی جن کی پوجا پاٹ تم لوگ کرتے ہو سب دوزخ کا ایندھن ہو۔ تم سب کو اس میں گرنا ہوگا تو اس پر کفار قریش میں سے عبد اللہ بن الزبعری نام کے ایک شخص نے کہا کہ اچھا تو پھر عیسیٰ بن مریم کے بارے میں آپ لوگوں کا کیا خیال ہے ؟ کہ ان کی بھی تو پوجا کی گئی ہے۔ اگر ہمارے معبودوں کے ساتھ وہ بھی دوزخ میں چلے گئے تو یہ ہمارے لئے کوئی پریشانی کی بات نہیں کہ آخر ہمارے معبود ان سے بڑھ کر تو نہیں۔ اس پر کفار قریش نے زور دار قہقہہ لگایا اور ایک شور مچا واہ واہ کیا کہ کیا کہنے ! ! کیسا تیر مارا ! ! کیا لاجواب بات کہی ! ! وغیرہ وغیرہ۔ تو اس سلسلے میں سورة انبیاء کی یہ آیت کریمہ بھی نازل ہوئی ۔ { اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِنَّا الْحُسْنٰی اُوْلٓئِکَ عَنْہَا مُبْعَدُوْنَ } ۔ (الانبیائ : 101) ۔ اور سورة زخرف کی زیربحث یہ آیات کریمہ بھی اس سلسلے میں اسی موضوع سے متعلق نازل ہوئیں۔ کیونکہ یہاں اوپر آیت نمبر 45 میں یہ ارشاد فرمایا جا چکا ہے کہ پوچھ دیکھو ہمارے ان رسولوں سے جن کو ہم نے آپ سے پہلے بھیجا ہے۔ کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا کچھ ایسے معبود مقرر کئے تھے جن کی پوجا کی جائے ؟ تو اس پر عبد اللہ بن الزبعری کے نام کے اس شخص نے یہی اعتراض جڑ دیا جس کا ذکر اوپر کیا گیا۔ لیکن اس کا یہ اعتراض چونکہ ایک لچر اور بےہودہ اعتراض تھا اس لئے اس پر سلسلہ کلام کو توڑا نہیں گیا۔ بلکہ جو مضمون چلا آ رہا تھا اس کو مکمل کرنے سے پہلے اس کی اس بات کی طرف توجہ نہیں فرمائی گئی۔ اور اب اوپر والے مضمون کو پورا فرمانے کے بعد اس کے اس اعتراض کا ذکر فرمایا گیا۔ بہرکیف جن پاکیزہ ہستیوں کی ان کی موت کے بعد پوجا کی گئی ان کا چونکہ اس میں کوئی قصور نہیں اس لئے ان پر کوئی الزام نہیں۔ قصور تو اس میں ان لوگوں کا ہے جنہوں نے ان بزرگ ہستیوں کے مرنے کے بعد اپنی عقیدت کے غلو میں ان کی پرستش کی۔ سو یہاں پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے متعلق اسی قصے کی طرف اشارہ فرمایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہی عبد اللہ بن الزبعری بعد میں اسلام لا کر اسلام کے سچے جاں نثاروں میں شامل ہوگئے تھے۔ (حاشیہ جامع البیان وغیرہ) ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں مشرکین کے اسی مذکورہ بالا واقعے کی طرف اشارہ ہے۔ (جامع البیان، ابن کثیر، روح، محاسن، مدارک، خازن اور معارف وغیرہ) ۔ { یَصدُّوْنَ } کے معنیٰ چیخنے چلانے کے آتے ہیں۔ یعنی ابن زبعری کی یہ بات سنتے ہی وہ لوگ چلا اٹھے اور انہوں نے اس پر واہ واہ کے ڈونگرے برسانے شروع کر دئیے۔ سو اہل ھویٰ اور اصحاب زیغ و ضلال کا طریقہ و وطیرہ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ چناچہ آج بھی ایسے لوگ طرح طرح کے شرکیہ نعرے بلند کرتے اور چیخ و پکار اور شورا شوری سے کام لے کر اپنے باطل کو غالب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ { تَشَابَہَتْ قُلُوْبُہُمْ } ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 43:5879 سٹنٹ بازی منکرین و مشرکین کا قدیم وطیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ : سو اس سے کفار و مشرکین کی سٹنٹ بازی اور انکے جھگڑالوپن کا ایک مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو ایسے لوگ صحیح بات کو جاننے اور ماننے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے اور ان کی عادت اور وطیرہ ہی یہ سٹنٹ بازی اور جھگڑالو پن ہے۔ ورنہ یہ تو ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ { اِنَّکُمْ وَمَا تَعْبُدُوْنَ } کے عموم میں تمہارے اوثان و اَصنام کے علاوہ ذوی العقول میں سے صرف وہی لوگ داخل ہوسکتے ہیں جو اپنی پوجا اپنے قصد و اختیار سے کراتے اور اس پر خوش ہوتے ہوں۔ جبکہ حضرت عیسیٰ اور اس طرح کی دوسری تمام مقدس ہستیوں نے تو عمر بھر ایک خدائے واحد کی عبادت و بندگی ہی کی دعوت دی۔ اور ہمیشہ اسی کی تعلیم و تلقین فرمائی۔ اور خود ان کی پوجا و پرستش اگر ان کے ناہنجار اور بدعقیدہ پیروکاروں نے بعد میں کی تو اس میں ان کا کیا قصور ؟ وہ تو ہمیشہ یہی کہتے رہے ۔ { اِنَّ اللّٰہَ ہُوَ رَبِّیْ وَرَبُّکُمْ فَاعْبُدُوْہُ ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ } ۔ کل قیامت میں بھی وہ صاف اور صریح طور پر اور برملا یہی اعلان فرمائیں گے ۔ { مَا قُلْتُ لَہُمْ اِلَّا مَآ اَمَرْتَنِیْ بِہٖٓ اَنِ عْبُدُوا اللّٰہَ رَبِّیْ وَ رَبَّکُمْ } ۔ (المائدۃ : 117) ۔ چناچہ یہاں شان نزول میں ذکر کردہ روایت میں بھی آنحضرت ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا اس سے ہر وہ شخص مراد ہے جو اپنی پوجا پر خوش ہوتا ہو ۔ " کُلُّ مَنْ اَحَبَّ اَنْ یُّعْبَدَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ " ۔ (المراغی) ۔ پس اس سے اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں کی وہ منطق بھی ختم ہوجاتی ہے جو انہوں نے " ماَ " اور " مَن " کے لغوی فرق سے فائدہ اٹھانے کے لئے یہاں پر بگھاری ہے۔ کیونکہ کلمہ " ما " کا استعمال اگرچہ عام طور پر غیر ذوی العقول ہی کے لئے آتا ہے مگر ذوی العقول کے لئے بھی اس کا استعمال عام اور شائع و ذائع ہے۔ لغت عرب کے علاوہ خود قرآن حکیم میں بھی اس کی بیشمار مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً سورة شمس میں ہے ۔ { وَالسَّمَآئِ وَمَا بَنٰہَا، وَالاَرْضِ وَ مَا طَحٰہَا، وَنَفْسٍ وَّمَا سَوَّاہَا } ۔ (الشمس : 5-7) کہ یہاں پر کلمہ " مَا "، " مِن " ہی کے معنیٰ میں ہے۔ اور خود ان کے بڑوں نے بھی اس کا ترجمہ اسی کے مطابق کیا ہے۔ اسی طرح سورة کافرون میں جو آیت نمبر 3 اور 5 میں ۔ { مَا اَعْبُدُ } ۔ آیا ہے اس میں بھی " مَا " سے مراد قطعی اور یقینی طور پر " من " ہی ہے۔ کیونکہ اس سے مراد حضرت معبود حق ہی ہے ۔ جَلَّ جَلَالُہٗ ۔ بہرکیف کفار کا یہ اعتراض محض جدل اور مغالطہ کے لئے تھا ورنہ اصل حقیقت ان سے مخفی نہ تھی۔ (القرطبی وغیرہ) ۔ اور اس آیت کریمہ کا ایک اور مطلب جو بعض حضرات اہل علم نے لیا ہے اور جو آیت کریمہ کے ظاہری الفاظ و کلمات پر زیادہ چسپاں ہوتا ہے یہ ہے کہ جب تمہاری قوم کے سامنے حضرات انبیائے کرام کی دعوت کے سلسلے میں حضرت عیسیٰ کا ذکر کیا جاتا ہے اور لوگوں کو اس حقیقت سے آگاہ کیا جاتا ہے تو وہ بھی اسی دین توحید کے داعی تھے جسکی دعوت دوسرے انبیائے کرام نے دی۔ تو تمہاری قوم کے جھگڑالو چیخ اور چلا اٹھتے ہیں کہ لو یہ شخص ہمارے معبدوں کی تو برائی کرتا ہے مگر مسیح کی تعریف کرتا ہے۔ حالانکہ ہمارے معبود تو فرشتے ہیں جبکہ مسیح بہرحال مریم کے بیٹے ہیں۔ اور اس طرح یہ لوگ عام لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ قرآن حضرت عیسیٰ کا ایک معبود کی حیثیت سے اعتراف کرتا ہے۔ سو یہ ایک سازش ہے کہ ہمارے ذہنوں سے ہمارے آبائی دیوتاؤں کی عقیدت ختم کرکے ان کی جگہ مسیح کی الوہیت کا عقیدہ راسخ کیا جائے۔
Ayah 43:5980 ابن مریم کی اصل حیثیت کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ ابن مریم تو محض اللہ تعالیٰ کے ایک انعام یافتہ بندے تھے اور بس۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ تو محض ایک بندہ تھا جس پر ہم نے طرح طرح کے انعام فرمائے تھے۔ یعنی ان میں کسی خدائی صفت کا کوئی شائبہ تک نہ تھا۔ ان کی عظمت شان کا اصل اور خاص پہلو یہ تھا کہ ہم نے ان کو طرح طرح کے انعامات سے نوازا تھا۔ مثلا یہ کہ ان کو نبوت و رسالت جیسے عظیم الشان شرف و اعزاز سے نوازا۔ پس نہ تو وہ مشکوک النسل تھے جس طرح کہ یہود بےبہبود نے ان پر بہتان باندھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور نہ ہی وہ خدا یا خدا کے بیٹے تھے۔ جس طرح کہ نصاریٰ کا کہنا اور ماننا ہے۔ بلکہ وہ تو محض اللہ تعالیٰ کے ایک برگزیدہ بندے اور اس کے سچے رسول تھے اور بس۔ الوہیت کی کوئی صفت نہ ان کے اندر تھی نہ ہوسکتی تھی۔ اور نہ ہی انہوں نے اس کا کبھی کوئی دعویٰ ہی کیا ۔ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامُ ۔ سو قرآن پاک جو ان کی مثالیں پیش کرتا ہے تو وہ انکے معبود ہونے کی حیثیت سے نہیں بلکہ خداوند قدوس کا ایک ایسا بندہ ہونے کے اعتبار سے جسکو اللہ پاک نے اپنے خاص انعامات سے نوازا تھا اور بس۔ سو اس طرح قرآن حکیم نے اصل حیثیت کو نکھار کر پیش فرما دیا۔ اور انسے متعلق اپنوں اور غیروں کی سب گمراہیوں اور غلط فہمیوں کا قلع قمع فرما دیا۔ اور ایسا کہ اس بارے کسی کے لیے کسی شک و شبہ اور غلط فہمی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔ فالحمد للہ جل وعلا -
81 حضرت عیسیٰ کا نمونہ صرف بنی اسرائیل کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انکو ہم نے خاص انعامات سے بھی نوازا تھا اور انکو ایک مثال بنایا تھا بنی اسرائیل کیلئے "۔ کہ پیدا ہوئے تو بغیر باپ کے۔ پھر اس کے بعد مختلف اور عظیم الشان معجزات سے ان کی تصدیق و تائید فرمائی گئی۔ اور ساری عمر وہ حق و صداقت کا نشان بن کر رہے۔ پھر ان کو آسمان پر زندہ اٹھا لیا گیا۔ سو اس طرح کے مختلف اور عظیم الشان انعامات سے ان کو نوازا۔ مگر ان کی بعثت تھی صرف بنی اسرائیل ہی کے لئے۔ اس لئے آخر میں جب وہ دوبارہ زمین پر تشریف لائیں گے تو شریعت محمدیہ ہی کے تابع ہو کر تشریف لائیں گے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ انکو ایک پاکیزہ نمونہ اور مثال بنایا تھا تاکہ اس پاکیزہ نمونے کو سامنے رکھ کر وہ لوگ اپنے کج پیچ درست کرلیں۔ یوں تو ہر پیغمبر اپنی قوم کیلئے نمونہ و معیار اور خدائی کسوٹی ہوتا ہے اور اس کے اسوئہ حسنہ کی پیروی ہی میں قوم کی نجات کا راز مضمر ہوتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ کو اللہ تعالیٰ نے ایک خاص نوعیت کی ولادت اور نہایت کھلے ہوئے معجزات کے ساتھ اس لیے بھیجا تھا کہ بنی اسرائیل جو اپنے انبیاء کی تمام تعلیمات کو بھلا کر بالکل اندھے اور بہرے بن گئے تھے ان کی آنکھیں کھل سکیں۔ لیکن وہ ایسے قاسی القلب اور بدبخت نکلے کہ انہوں نے ان کی مثال سے بھی کوئی سبق نہ لیا۔ جس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان پر ہمیشہ کیلئے لعنت کردی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ کا اسوہ اور نمونہ صرف بنی اسرائیل ہی کے لیے تھا اور بس۔ نہ ان کی نبوت عالمی تھی اور نہ ان کی دعوت۔
Ayah 43:6082 اعجوبہ پرستی اور اساس شرک کی بیخکنی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر ہم چاہیں تو تم لوگوں سے بھی ایسے فرشتے پیدا کردیں جو تمہاری جگہ رہیں اس میں "۔ پس نہ یہ دین تمہارا محتاج ہے اور نہ خداوند قدوس کی عبادت و بندگی تم پر موقوف ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْا اَمْثَالَکُمْ } ۔ (محمد : 38) ۔ اور دوسرے معنیٰ آیت کریمہ کے یہ کئے گئے ہیں کہ ہم نے اگر عیسیٰ کو بغیر باپ کے پیدا کیا ہے تو ہم اس سے بڑھ کر عجیب کام یہ کرسکتے ہیں کہ خود تم لوگوں میں سے اور تمہاری نسل میں سے فرشتے پیدا کردیں جو تمہاری جگہ یہاں رہنے بسنے لگیں کہ ہماری قدرت سے کچھ بھی بعید نہیں۔ تو پھر عیسیٰ کی تخلیق تمہارے لئے اس قدر اچنبھے کا باعث کیونکر بن گئی کہ تم نے ان کی پوجا شروع کردی۔ (جامع البیان، المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ اسی طرح جن لوگوں نے فرشتوں کو محض اس بنا پر معبود اور خدا کا شریک قرار دیا کہ وہ نور سے پیدا ہوتے ہیں تو ان کی بھی تردید ہوگئی کہ یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا حال یہ ہے کہ وہ خود تمہارے اندر سے فرشتوں کی صفات کے ایسے لوگ پیدا کرسکتا ہے جو تمہاری جگہ رہیں بسیں اور زمین میں خلافت کا وہ فرض انجام دیں جو انسانوں کو سپرد ہوا ہے۔ لیکن یہ بات چونکہ اس کی حکمت کیخلاف ہے اس لیے اس نے ایسے نہیں کیا۔ مطلب یہ کہ محض " نور " یا " نار " سے پیدا ہونا یا کسی کا بغیر باپ کے وجود میں آجانا اس بات کی دلیل نہیں بن سکتا کہ وہ خدا کی خدائی میں شریک ہوسکے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے مشرکین کے شرک اور شر کی اساس و بنیاد یعنی اعجوبہ پرستی کی بیخکنی فرما دی گئی ۔ فالحمد للہ جل وعلا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 43:6183 حضرت عیسیٰ قیامت کے لیے ایک حجت قاطع : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ وہ ایک عظیم الشان علم اور حجت قاطع ہے قیامت کی "۔ یعنی عیسیٰ کہ آپ (علیہ السلام) کی معجزانہ ولادت اور احیائِ موتی جیسے عظیم الشان معجزات، زندہ آسمان پر اٹھایا جانا، اور ایک زمانے کے بعد اسی طرح واپس اتارا جانا وغیرہ سب قیامت کے امکان اور اس کے وقوع کی کھلی نشانیاں ہیں۔ اور آخری زمانہ میں آپ (علیہ السلام) کا دوبارہ نزول تو قرب قیامت کی ایک اہم علامت ہوگا۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ ضمیر کا مرجع قرآن کریم ہو۔ کیونکہ قیامت اور اس کے ہولناک مناظر اور جنت و دوزخ کے حالات جس طرح اس کتاب مقدس میں بیان فرمائے گئے ہیں اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال موجود نہیں۔ اور ان سب امور غیبیہ کی منظر کشی یہ کتاب عزیز اس طرح کرتی ہے کہ سب کچھ گویا آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ اور اس کا یہ علم قطعی اور یقینی ہے۔ (جامع البیان، المراغی، اضواء البیان، تفسیر ابن عاشور نقلاً عن الحسن و قتادہ و غیرھما) ۔ سو حضرت عیسیٰ اس قیامت کی قطعی حجت ہیں جسکی خبریہ قرآن دے رہا ہے۔ بس تم لوگ اس کے بارے میں کوئی شک مت کرو اور راہ حق و ہدایت کے سلسلے میں میری پیروی کرو۔
84 راہ حق کی تعیین و تشخیص اور اس کو اپنانے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " پس تم لوگ اس کے بارے میں کسی طرح کا کوئی شک نہیں کرنا اور ہمیشہ میری ہی پیروی کرنا "۔ یعنی تم لوگ میرے اس دین کی پیروی کرو جس کو میں نے تمہاری ہدایت کے لئے اتارا ہے یا میرے اس پیغمبر کی اتباع کرو جس کو میں نے تمہاری خاطر مبعوث فرمایا ہے۔ یا یوں کہا جائے کہ یہ پیغمبر کو حکم ہے کہ وہ یوں کہیں کہ میری پیروی کرو۔ (القرطبی، البیضاوی، الجلالین وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ کو جس حیثیت سے پیش کیا جا رہا ہے وہ یہ نہیں کہ وہ معبود یا ابن اللہ ہیں۔ بلکہ اس اعتبار سے پیش کیا جا رہا ہے کہ وہ توحید کے داعی اور قیامت کا علم یعنی اس کی ایک قاطع حجت ہیں۔ پس تم لوگ قیامت کے بارے میں شک میں نہ پڑو اور مناظرہ بازی اور الجھنے الجھانے کی روش کو ترک کر کے حق کی اتباع و پیروی کا طریقہ اپناؤ کہ یہی حق و ہدایت کی سیدھی راہ ہے جو عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مند و سرفراز کرنے والی واحد راہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayahs 43:62–6485 اللہ کا خوف اور پیغمبر کی اطاعت ذریعہ نجات : عیسیٰ نے ان لوگوں سے کہا کہ تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری فرمانبرداری کرو۔ ان تمام چیزوں میں جن کا تعلق دین و شریعت سے ہے کہ وہ تو تمہاری عقلوں کے احاطہ و ادارک سے باہر ہیں۔ بخلاف ان دنیاوی امور کے جو تمہاری عقل میں آسکتے ہیں کہ ان میں تم لوگ شریعت کی مقرر فرمود حدود کے اندر رہتے ہوئے اپنی عقل و فکر اور فہم و فراست سے کام لے سکتے ہو جیسا کہ تابیر نخل کے قصے میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا ۔ " اَنْتُمْ اَعْلَمُ بَاُمُوْرِ دُنْیَاکُمْ وَ اَنَا اَعْلَمُ بِاُمُوْرِ دِیْنِکُمْ " ۔ سو دنیاوی امور میں تو انسان محض اپنی عقل و فکر کی بنا پر کام کرسکتا ہے۔ جبکہ حدود شریعت کی خلاف ورزی نہ ہو۔ لیکن دینی امور میں حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوات والسلام ۔ کی اطاعت و فرمانبرداری اور ان کی اتباع و پیروی کیے بغیر بہرحال اور بہرصورت کوئی چارہ نہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت عیسیٰ کھلے دلائل کے ساتھ بنی اسرائیل کے پاس پہنچ گئے تو ان سے فرمایا کہ میں تمہارے پاس کوئی نیا دین لے کر نہیں آیا۔ بلکہ تم لوگوں کو اسی دین کی دعوت دے رہا ہوں جسکی دعوت حضرت موسیٰ نے دی تھی۔ اور حکمت دین کی جس دولت سے تم لوگوں نے اپنے آپ کو محروم کردیا تھا وہ لیکر آیا ہوں۔ پس تم لوگوں کیلئے صحت و سلامتی اور نجات و فلاح کی راہ یہی ہے کہ تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت و پیروی کرو۔ سو خوف خداوندی اور اطاعت و اتباع رسول والی راہ ہی ذریعہ نجات اور وسیلہ فوز و فلاح ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
86 حضرت عیسیٰ کی اصل دعوت توحید ہی کی دعوت تھی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آنجناب نے لوگوں سے کہا کہ بیشک اللہ ہی رب ہے میرا اور وہی رب ہے تمہارا۔ یہی ہے سیدھا راستہ۔ اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ حضرت عیسیٰ کی اصل دعوت بھی توحید ہی کی دعوت تھی۔ یعنی اللہ پاک کی توحید۔ اور صرف اسی کی عبادت و بندگی ہی وہ سیدھا راستہ ہے جس پر چلنے سے تمہیں دنیاوی زندگی میں بھی سکون وسعادت کی دولت نصیب ہوسکتی ہے اور آخرت کی ابدی و دائمی زندگی میں بھی تم فوز و فلاح سے ہمکنار و سرفراز ہوسکتے ہو۔ اور اس سے منہ موڑنے کی صورت میں دارین کی تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس میں حضرت عیسیٰ کی اصل دعوت کا بیان ہوا ہے اور اس میں صاف اور صریح طور پر بتادیا گیا ہے کہ ان کی دعوت بھی دیگر تمام انبیاء و رسل کی طرح توحید ہی کی دعوت تھی۔ سو ان پر ایمان رکھنے اور ان کی اتباع و پیروی کا دعویٰ کرنے اور ان کے عشق و محبت کا دم بھرنے والوں نے جس کاروبار شرک کو چلایا اور اپنایا اور حضرت عیسیٰ کے نام ہی سے انہوں نے اس کو چلایا انہوں نے سراسر ظلم کا ارتکاب کیا۔ حضرت عیسیٰ کی ذات اس سے بہرحال بری اور قطعی طور پر بےقصور ہے۔ اور عشق پیغمبر کے ان جھوٹے دعویداروں نے دوہرے ظلم اور ڈبل جرم کا ارتکاب کیا کہ ایک طرف تو انہوں نے شرک جیسے سنگین جرم کا ارتکاب کیا اور دوسری طرف حضرت عیسیٰ کے پیش فرمودہ دین توحید کو انہوں نے شرک کا ملغوبہ بنادیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 43:65–6688 منکرین کے اتمام حجت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا اب یہ لوگ قیامت ہی کے انتظار میں ہیں " کہ وہ ان پر بالکل اچانک ٹوٹ پڑے اور اس وقت یہ کف افسوس ملنے لگیں۔ مگر انہیں اس کا کوئی فائدہ نہ پہنچ سکے۔ مطلب یہ کہ حق کی توضیح و تشریح اور ان لوگوں کی تفہیم و تذکیر میں اب کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ اور کوئی فرق اب باقی نہیں رہ گیا سوائے اس کے کہ وہ دن آجائے اور اچانک وہ عذاب ان پر ٹوٹ پڑے۔ اور یہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ان لوگوں کے رویے اور انکے طرز عمل سے یہی ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ لوگ متنبہ ہونے اور قیامت کیلئے تیاری کرنے کی بجائے اس کی آمد ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر ٹوٹ پڑے اور ایسی کہ انکو اس کی خبر بھی نہ ہو۔ اور اس طرح یہ اپنے آخری اور دائمی انجام کو پہنچ کر رہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 43:6789 قیامت کے روز گہرے دوست بھی دشمن ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کے روز گہرے دوست بھی دشمن بن جائیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اس دن گہرے دوست بھی ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے "۔ یعنی دنیا کی ہر دوستی اس روز دشمنی میں بدل جائے گی بجز اس دوستی کے جو ایمان وتقویٰ کی بنیاد پر اور خالص اللہ پاک کی رضا و خوشنودی کے لئے ہو کہ ایسی پاکیزہ دوستی اس روز بھی باقی رہے گی اور کام آئے گی۔ سو اصل تعلق دین و ایمان کا تعلق ہے۔ پس اب ہر شخص خود دیکھ لے اور اپنا محاسبہ خود کرلے کہ اس کی دوستیاں کس کس کے ساتھ اور کس کس اساس و بنیاد پر ہیں ؟۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس اہم حقیقت کو آشکارا فرمایا گیا ہے کہ دنیا میں تو ایسے محروم اور بدبخت لوگ جو ایمان و یقین کی دولت سے محروم ہیں اپنے دوستوں، ساتھیوں، مددگاروں اور اپنے قوم قبیلہ اور مصنوعی و خود ساختہ شفعاء و شرکاء کے اعتماد اور سہارے پر مست و مگن ہیں اور اسی بنا پر ایسے لوگ آخرت کی فکر و تیاری سے غافل ونچنت اور بےفکر ہیں اور آواز حق و ہدایت پر کان دھرنے کو تیار نہیں ہوتے لیکن کل جب قیامت کا وہ یوم عظیم ان کے سامنے آئے گا تو ان کے یہ تمام مصنوعی سہارے ہوا ہوجائیں گے۔ اور نہ صرف یہ کہ یہ ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے بلکہ الٹا یہ ان کے دشمن بن جائیں گے کہ انہی کی رفاقت و سنگت کی بنا پر ان کو یہ روز بد دیکھنا پڑا کہ انہی کی شہ پر وہ کلمہ حق پر کان دھرنے کے لیے تیار نہ ہوئے۔ یہاں تک کہ وہ ہاویہ دوزخ میں گر کر رہے ورنہ ہم کلمہ حق کی خیر و برکت سے محروم ہو کر اس ہولناک انجام کو نہ پہنچتے ۔ { لَوْ لاَ اَنْتُمْ لَکُنَّا مُوْمِنِیْنَ } ۔ مگر بےوقت کے اس پچھتاوے سے ان کو اس وقت کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
90 تقویٰ و پرہیزگاری کا رشتہ آخرت میں بھی کام آئے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " گہرے دوست اس روز آپس میں ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے سوائے پرہیزگار لوگوں کے "۔ کہ تقویٰ کی اساس و بنیاد پر قائم ہونے والی دوستیاں اس دن بھی قائم اور برقرار رہیں گی ۔ سبحان اللہ !۔ کتنی بڑی دولت ہے یہ ایمان وتقویٰ کی دولت اور کس قدر عظیم رشتہ ہے یہ تقویٰ و ایمان کا رشتہ جو اس مشکل وقت میں بھی قائم رہے گا جبکہ باقی تمام رشتے اور تعلق کٹ جائیں گے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ کہ دنیائے فانی کی اس عارضی زندگی کے بعد آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں کام آئے گا ۔ اللھم زدنا منہ وثبتنا علیہ ۔ آمین ثم آمین یا ارحم الرحمن و یا اکرم الاکرمین ۔ سو متقی لوگ چونکہ دنیا میں ایک دوسرے کو حق وعدل کی نصیحت کرتے اور اس کو سنتے رہتے ہیں اس لیے یہ دوستی انکو وہاں کام آئے گی اور یہ اس پر خوش ہوں گے۔
Ayah 43:6891 متقی لوگوں کے لیے ایک مژدئہ جانفزا : سو اس سے متقی لوگوں کے لیے اس روز ہر قسم کے خوف و غم سے آزادی کا مژدئہ جانفزا سنایا گیا ہے۔ سو متقی لوگوں کیلئے اس روز اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ مژدئہ جانفزا سنایا جائے گا کہ " اب نہ تم پر کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی تم غمگین ہوؤ گے "۔ یعنی نہ آئندہ کا کوئی خوف ہوگا کہ اب تمہیں جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوچکی ہے جو کبھی چھننے والی نہیں۔ کیونکہ یہ عطا و بخشش ہوگی اس اکرم الاکرمین کی طرف سے جو نعمت دے کر چھینتا نہیں۔ خاص کر آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہان میں جہاں اس کی شان عطا و بخشش اپنے عروج و کمال پر ہوگی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی طرح ان خوش نصیب حضرات کو اپنی دنیا اور اپنے ماضی پر بھی کوئی غم اور افسوس نہیں ہوگا۔ کیونکہ انہوں نے اپنے صدق و اخلاص اور توفیق و عنایت خداوندی کی بنا پر دنیا میں راہ حق و ہدایت کو اپنایا ہوگا اور اپنی متاع زندگی کو اس کے صحیح مصرف میں صرف کیا ہوگا۔ اس لیے وہ اپنے ماضی اور اپنے اعمال کے بارے میں شاداں وفرحاں ہوں گے ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی پاکیزہ اور کامیاب زندگی ہوگی جنت کی وہ زندگی جہاں نہ ماضی کا کوئی غم و افسوس ہوگا اور نہ مستقبل کا کوئی خوف و اندیشہ ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت کتنی بڑی اور کس قدر عظیم الشان دولت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرتی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ اور اس قدر کہ وہ راضی ہوجائے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 43:69–7092 متقیوں کے لیے دخول جنت کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہا جائے گا کہ اب داخل ہوجاؤ جنت میں تم بھی اور تمہاری بیویاں بھی "۔ جنہوں نے اپنی دنیاوی زندگی ایمان و اطاعت کے ساتھ گزاری ہوگی۔ اور ان میں سے جو یکے بعد دیگرے مختلف شوہروں کے عقد میں رہی ہوں گی وہ اپنے آخری شوہر کو ملیں گی اگر وہ جنتی ہوا۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ بہرحال یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی طرف سے مبارکباد ہوگی جو اس روز ان خوش نصیبوں کو سنائی جائے گی کہ اے میرے بندو اب تم خوف اور حزن کے دارالابتلاء سے نکل کر جنت کی اس ابدی بادشاہی میں داخل ہوگئے ہو جس میں تم پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ ہی تم کبھی غمگین ہوؤ گے۔ واضح رہے کہ خوف مستقبل کے خطرات سے ہوتا ہے اور غم ماضی اور حال کی ناکامیوں اور صدمات سے۔ سو جنت ایسی جگہ ہوگی جہاں اہل ایمان ان دونوں ہی سے محفوظ رہیں گے۔ جبکہ دنیا میں یہ چیز کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتی۔ سو جنت ابدی اور حقیقی بادشاہی کی جگہ ہوگی ۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
93 جنتیوں کے لیے خوش رکھے جانے کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہا جائے گا کہ یہاں تمہیں ہر طرح سے خوش رکھا جائے گا "۔ " حبور " اور " حبار " دراصل اس خوشی کو کہا جاتا ہے جس کے اثرات انسان کے چہرے مہرے پر ظاہر ہوں۔ (صفوۃ البیان، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو اہل جنت کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ایسی ایسی عظیم الشان نعمتوں سے نوازا جائے گا کہ ان کے اثرات ان کے چہروں پر طرح طرح سے عیاں اور ہویدا ہوں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { تَعْرِفُ فِیْ وَجُوْہِہِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ } ۔ کہ " تم ان کے چہروں میں نعمتوں کی تر و تازگی دیکھو گے " ۔ اللہ اپنے کرم و احسان سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ " ازواج " کے معنی بیویوں کے بھی آتے ہیں اور ہم مشرب ساتھیوں اور دوستوں کے بھی۔ اوپر کفار کے ہم مشربوں کا بیان ہوا کہ آپس میں یہ ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے۔ اور یہ اس کے مقابلے میں اہل ایمان کا حال بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ مسرور اور شادکام ہوں گے اور اپنے ساتھیوں، دوستوں اور ہم مشربوں سے مل کر خوش ہو رہے ہوں گے ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 43:7194 جنتیوں کی ہر خواہش کی تکمیل : سو اس سے جنتیوں کی ہر خواہش کی تکمیل کی بشارت سنائی گئی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْ اَنْفُسُکُمْ وَلَکُمْ فِیْہَا مَا تَدَّعُوْنَ } ۔ (حم السجدۃ : 31) ۔ یعنی " تم لوگوں کو وہاں پر ہر وہ چیزملے گی جو تمہارے دل چاہیں گے " اور تمہارے لیے وہاں پر وہ سب کچھ ہوگا جو تم طلب کرو گے۔ سو اس سے جنت کی حقیقت اور اس کی عظمت شان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جو من چاہی زندگی اس دنیا میں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کے لئے بھی ممکن نہیں وہ وہاں پر یہ ایک عام جنتی کو بھی نصیب ہوگی ۔ فَسُبْحَان اللّٰہِ الَّذِیْ لَا حَدَّ لَعِظَمِتِہ وَقُدْرَتِہٖ جَلَّ جَلَالُہٗ وعَزَّ سُلطَانُہَ ۔ مالک المک ارحم الراحمین ہمیں بھی محض اپنے فضل و کرم سے اس سے سرفراز فرما دے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ غلمان جنت اہل جنت کی تواضع و ضیافت کیلئے انکے سامنے سونے کی طشتریاں اور جام لیکر ہر وقت گردش میں رہیں گے۔ اور ان طشتریوں اور پیالوں میں کھانے پینے کے وہ وہ سامان ہوں گے جو دل پسند ہوں گے اور جن سے آنکھوں کو لذت ملے گی۔ سو وہ چیزیں دل پسند بھی ہونگی اور باصرہ نواز بھی۔ دنیا میں تو یہ ہوتا ہے کہ بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو ذائقے کے لحاظ سے تو اچھی ہوتی ہیں لیکن دیکھنے میں اچھی نہیں لگتیں۔ لیکن اہل جنت کی تواضع جن نعمتوں سے کی جائی گے وہ لذت میں بھی عمدہ ہونگی اور شکل میں بھی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 43:7295 اہل جنت کے لیے جنت کی میراث کی خوش خبری : سو اس سے اہل جنت کے لیے اس خوش کن اعلان کا ذکر فرمایا گیا کہ تمہیں جنت کا واث بنادیا گیا۔ سو جنتیوں کے سرور کو دوبالا کرنے کے لیے اعلان و ارشاد ہوگا کہ " یہ ہے وہ جنت جس کا وارث بنادیا گیا تم لوگوں کو "۔ پس جس طرح وراثت سے حاصل ہونے والی ملکیت سب سے پختہ اور یقینی ہوتی ہے اسی طرح جنت سے تمہاری یہ سرفرازی بھی دائمی اور مستقل ہوگی۔ نیز جس طرح وراثت انسان کو اپنے کسی عمل کے بدلے میں نہیں ملتی اسی طرح جنت بھی انسان کو محض اللہ پاک کے فضل و کرم سے ملے گی۔ اسی لئے اسے فضل خداوندی اور اس کی مہربانی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نیز مومن کافر کے حصے کی جنت کا بھی وارث بنتا ہے جو کہ ایمان کی صورت میں اس کو ملتی ہے۔ جیسا کہ حدیث مرفوع میں وارد ہے کہ " ہر شخص کے لئے ایک ٹھکانا ہے جنت میں بھی اور دوزخ میں بھی "۔ پس کافر دوزخ میں مومن کے حصے کی آگ کا بھی وارث بنتا ہے اور مومن جنت میں کافر کے حصے کی جنت کا بھی وارث بنتا ہے۔ سو کیا کہنے نعمت ایمان کے نتائج وثمرات کے کہ اس کے بعد نوازشیں ہی نوازشیں اور عنایتیں ہی عنایتیں ہیں ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
96 اہل جنت کے لیے ایک اور خوش خبری کا ذکر وبیان : سو اس سے اہل جنت کے لیے ایک اور خوش کن اعلان اور اس عظیم الشان خوش خبری کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ جنت تمہارے اپنے اعمال کا بدلہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے مزید کہا جائے گا کہ " تم کو اس کا وارث بنادیا گیا تمہارے اپنے ان اعمال کے بدلے میں جو تم لوگ کرتے رہے تھے " یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں۔ پس جنت تو اصل میں اللہ پاک کے فضل و کرم ہی سے ملے گی مگر اس کے اس فضل و کرم کا سبب اور ذریعہ انسان کے اپنے وہ نیک عمل ہی ہوں گے جو وہ اپنی دنیاوی زندگی میں کرتا رہا ہوگا۔ اور پھر کرم بالائے کرم یہ کہ جنتیوں کو وہاں پر اعلانیہ طور پر یہ بتایا بھی جائے گا کہ یہ جنت تمہارے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ وثمرہ ہے تاکہ اس طرح اہل جنت کا سرور دوبالا ہوجائے۔ سو یہ بھی اس اکرم الاکرمین کی شان کرم کا ایک عظیم الشان مظہر ہوگا۔ ورنہ جنت کی ان سدا بہار اور ابدی نعمتوں کے مقابلے میں انسانی اعمال کی حیثیت ہی کیا ہے۔ یہ اعمال تو اللہ پاک کی ان بیشمار نعمتوں میں سے بھی کسی کا بدل نہیں بن سکتے جن سے ہم اس دنیا میں مستفید اور بہرہ ور ہوتے ہیں۔ بہرکیف انسان کو چونکہ اپنے کیے کا پھل ملنے پر طبعی طور سے زیادہ خوشی ہوتی ہے اس لیے وہاں اہل جنت کیلئے یہ اعلان فرمایا جائے گا کہ یہ تمہارے اپنے اعمال کا بدلہ ہے جس سے ان کا لطف و سرور مزید از مزید دوبالا ہوگا ۔ اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 43:7397 اہل جنت کے لیے بکثرت فواکہ کا ذکر : اوپر آیت نمبر 71 میں جنتیوں کے ماکولات و مشروبات کا ذکر تھا۔ اب یہ ان کے فواکہ اور تفکہات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارے لیے وہاں پر طرح طرح کے پھل بکثرت ہوں گے "۔ یعنی یہ کثرت نوع کے اعتبار سے ہے کہ وہاں اتنے قسما قسم کے پھل ہوں گے کہ یہاں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ (المراغی وغیرہ) اور کوئی بھی یہ نہیں جان سکتا کہ اس کے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک کا کیا کچھ سامان وہاں پوشیدہ رکھا گیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح موجود ہے۔ اور یہاں بھی ارشاد فرمایا گیا کہ اہل جنت کے لیے وہاں پر ہر وہ چیز موجود ہوگی جس کی خواہش انکے دل کریں گے۔ اور جس سے ان کی آنکھوں کو لذت نصیب ہوگی۔ بہرکیف اوپر اہل جنت کے ماکولات اور مشروبات کا ذکر تھا اور اب یہ انکے فواکہ اور تفکہات کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے ۔ اللہ مالک الملک ہمیں بھی محض اپنے فضل و کرم سے جنت کی ان نعمتوں سے سرفراز فرما دے ۔ آمین۔
Ayah 43:7498 دوزخیوں کے حال بد کا ذکر وبیان ۔ والعیاذ باللہ : سو جنتیوں کے حال کے بعد اب دوزخیوں کے حال کا ذکر فرمایا جا رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے اہل جنت کے بالمقابل اہل دوزخ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ مجرم لوگ دوزخ میں ہوں گے جہاں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ ان سے وہاں کا عذاب ہلکا نہیں کیا جائے گا اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے۔ سو ایسے نہیں ہوگا کہ ان کے اس عذاب کی شدت میں کچھ کمی کردی جائے یا کبھی کچھ وقت کے لئے اس کو ان سے اٹھا لیا جائے۔ یا ان کو اس سے کچھ وقت کے لئے رہائی مل سکے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جس کافر و منکر اور باطل پرست کا آخری انجام یہ ہونے والا ہے اس کو اگر دنیا بھر کی دولت بھی مل جائے اور اس کی زندگی ساری بھی اگر کرسی اقتدار پر گزر جائے تو بھی اس کو کیا ملا ؟ کہ اس کا دائمی اور آخری انجام تو یہ ہونے والا ہے۔ جبکہ دنیا کی دولت اور اس کی حکومت و اقتدار سب کچھ عارضی اور فانی ہے۔ اور اس کے مقابلے میں جس مومن صادق کو دوزخ کے ان ہولناک عذابوں سے بچا کر جنت کی ابدی نعمتوں سے سرفراز کردیا جائے گا وہ کتنا خوش نصیب ہے اگرچہ دنیا میں اس کو نان جویں بھی میسر نہ ہو۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ شَرَّفَنَا بِنَعْمَۃِ الاِیْمَان والْیَقِیْنِ ۔ اَللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَثَبِّتْنَا عَلَیْہِ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ نہ ان سے وہاں کا وہ عذاب کبھی ہلکا ہوگا اور نہ ہی ان کیلئے بہتری اور نجات و رہائی کی کوئی صورت ممکن ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 43:75–7699 دوزخ ظالموں کے اپنے ظلم کا نتیجہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا تھا بلکہ وہ خود ہی ظالم تھے "۔ کہ ایمان و اسلام کی راہ ِحق و صواب کو چھوڑ کر انہوں نے کفر و باطل کو اپنایا۔ اور اس طرح انہوں نے اپنے آپ کو ابدی سعادت اور حقیقی کامیابی سے محروم کر کے دارین کے نقصان و خسران سے دو چار کیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ { مَنْ کَفَرَ فَعَلَیْہِ کُفْرُہُ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فِلَانْفُسِہِمْ یَمْہَدُوْنَ } ۔ (الروم : 44) ۔ یعنی " جس نے کفر کیا تو اس کے کفر کا وبال خود اسی پر پڑے گا اور جنہوں نے نیک عمل کیے تو ایسے لوگ خود اپنے ہی لیے راہ ہموار کر رہے ہیں "۔ سو اس صورتحال سے ان لوگوں کو جو سابقہ اور واسطہ اس جہاں میں پیش آئے گا وہ سب کچھ دراصل انکے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا منطقی نتیجہ اور طبعی امر ہوگا۔ اور اس کے اسباب انہوں نے خود ہی فراہم کیے تھے۔ اور راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر انہوں نے اپنی جانوں پر خود ہی ظلم کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت و عنایت سے ان لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کا جو کامل و بےمثل اہتمام فرمایا تھا اس کی انہوں نے قدر نہ کی یہاں تک کہ وہ اپنے اس ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 43:77100 دوزخیوں کی فریاد دوزخ کے داروغے سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " دوزخی داروغہ جہنم سے کہیں گے کہ اے مالک ! ۔ اپنے رب کے حضور ہمارے بارے میں دعاء و درخواست کرو کہ ۔ تمہارا رب ہمارا کام تمام کر دے "۔ یعنی ہمیں موت دے دے تاکہ ہم اس عذاب سے رہائی پاسکیں۔ مگر کہاں ؟۔ ساون کے اندھے کی ہریالی کی طرح اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں کو یہاں پر دوزخیوں کے اس قول سے توسل کے ثبوت کی دلیل نظر آگئی کہ یہ لوگ وہاں توسل کے قائل ہوجائیں گے ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے اس فکر و دانش اور اس اخذ و استنباط کے ؟ دوزخ میں پڑے کفار و مشرکین کی اس چیخ و پکار اور موت مانگنے کی دعا و درخواست سے تو سل کے جواز کے لئے دلیل کشید کرنے کی سعی تم ہی کو مبارک ہو ۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔ بہرکیف دوزخیوں کی اس چیخ و پکار کا کوئی نتیجہ وہاں نہیں نکلے گا۔ بلکہ ان کو برابر وہیں پڑے ۔ { لایَمُوْتُ فِیْہَا وَ لایَحْیٰ } ۔ والی زندگی گزارنا ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ نہ ان کو موت آئے گی کہ کہیں مرنے سے جان چھوٹ جائے اور نہ ہی ان کے عذاب میں کوئی کمی واقع ہوگی کہ کچھ سانس لے سکیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لایُقْضٰی عَلَیْہِمْ فَیَمُوْتُوْا وَلا یُخَفَّفُ عَنْہُمْ مِّنْ عَذَابِہَا } ۔ (فاطر : 36) ۔ بہرکیف دوزخ کے ان ہولناک عذابوں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سے تنگ آکر دوزخی دوزخ کے داروغے ۔ جیلر۔ سے اس طرح لجاجت کے ساتھ یہ درخواست کریں گے۔ مگر اس کے جواب سے ان کو اور ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
101 داروغہ جہنم کی طرف سے دوزخیوں کی تذلیل مزید : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ داروغہ دوزخ کی طرف سے دوزخیوں کو اپنی اس درخواست کا یہ رسوا کن جواب ملے گا کہ تم لوگوں کو ہمیشہ اسی حال میں رہنا ہے "۔ روایات میں ہے کہ یہ جواب بھی ان کو ایک ہزار سال کی چیخ و پکار کے بعد ملے گا۔ یہاں پر علامہ قاشانی نے ایک نکتہ بیان فرمایا ہے کہ دوزخ کے فرشتے کا نام مالک اس لئے رکھا گیا کہ اس کا تعلق ان دوزخیوں سے ہوگا جو دنیاوی مال و دولت کے مالک رہے ہوں گے۔ اور انہوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیائے فانی ہی کو ترجیح دی ہوگی۔ جبکہ جنت کے فرشتے کا نام " رضوان " ہوگا۔ کیونکہ اس کا تعلق ان لوگوں سے ہوگا جو اپنے ایمان و عمل کے اعتبار سے اللہ سے راضی ہوں گے۔ اور اللہ ان سے راضی ہوگا۔ (محاسن التاویل) ۔ بہرکیف داروغہ دوزخ کی طرف سے دوزخیوں کو اپنی اپیل و درخواست کا یہ رسوا کن جواب ملے گا۔ اوپر آیت نمبر 75 میں دوزخیوں کی جس ابدی مایوسی کا ذکر کیا گیا تھا اس کی بنا پر یہ بدبخت داروغہ دوزخ سے یہ اپیل و درخواست کریں گے کہ اگر ہمارے لیے کسی رحم کی گنجائش نہیں رہی تو کم از کم اپنے رب سے ہمارے لیے یہ دعا کرو کہ وہ ہمارا خاتمہ ہی کر دے۔ تاکہ اس عذاب سے جان چھوٹ سکے۔ تو وہ انکو جواب دے گا کہ نہیں بلکہ تم لوگوں کو ہمیشہ اسی حال میں اور اسی عذاب دوزخ میں رہنا ہوگا۔ سو یہ ان کیلئے سب سے بڑی محرومی اور انتہائی صدمے کی بات ہوگی کہ مایوس کیلئے آخری سہارا موت کا ہی سہارا ہوتا ہے۔ لیکن یہ اس سے بھی محروم ہوجائیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 43:78102 منکرین و مکذبین کو تنبیہ : سو مجرموں کو ان کے ہولناک انجام سے آگاہ کرنے کے بعد منکرین و مکذبین اور خاص کر مشرکین مکہ اور صنادید قریش کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا ہم نے حق تمہارے پاس پہنچا دیا مگر تمہاری اکثریت کو حق ہی سے نفرت تھی "۔ یعنی ہم نے تو اپنے رسولوں کے ذریعے اور اپنی کتابیں اتار کر تمہارے لئے راہ حق و ہدایت کو واضح کرنے کا انتظام پوری طرح کردیا مگر تم نے ان سے منہ موڑ کر کفر و باطل کی راہ ہی کو اپنایا۔ تو اب تم چکھو مزہ اپنے کئے کا اور بھگتو بھگتان اپنی کرتوتوں کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس میں کفار قریش کو خاص طور پر تنبیہ ہے کہ اب قرآن حکیم کی صورت میں حق تمہارے سامنے اپنی کامل اور آخری شکل میں پہنچ گیا ہے۔ سو اب اگر تم لوگوں نے اس سے منہ موڑا اور اعراض و انکار ہی سے کام لیا تو تم لوگوں کو بھی وہی بھگتان بھگتنا پڑے گا جو اس سے پہلے کے منکرین بھگت چکے ہیں۔ اور ایسے میں یہ اللہ تعالیٰ کا تم پر کوئی ظلم نہیں ہوگا بلکہ یہ خود تمہارے اپنے اختیار کردہ ظلم کا نتیجہ اور طبعی ثمرہ ہوگا۔ سو انکار حق دنیا و آخرت کی ہلاکت و تباہی اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 43:79103 منکرین کیلئے فیصلہ کن عذاب کی دھمکی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا انہوں نے کوئی بات طے کرلی۔ سو ہم بھی ایک بات طے کرنے والے ہیں "۔ یہ ان کے اس باطنی خبث کا ذکر ہے جو ان کے دخول دوزخ کا اصل سبب ہے کہ یہ لوگ حق کو قبول کرنے کی بجائے الٹا اس کے خلاف سازشیں کرنے اور اس کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے لگتے ہیں جس کے نتیجہ میں یہ حق سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو کر دائمی عذاب کا لقمہ بن جاتے ہیں۔ اور یہی ہماری طرف سے ان کی چالوں کا جواب ہوتا ہے جسے یہ سمجھتے نہیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { اَمْ یُرِیْدُوْنَ کَیْدًا فَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہُمُ الْمَکِیْدُوْنَ } ۔ (الطور : 42) ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { وَمَکَرُوْا مَکْرًا وَّمَکَرْنَا مَکْرًا وَّہُمْ لا یَشْعُرُوْنَ } ۔ (النمل : 50) اِبرام کے معنیٰ کسی امر کو مضبوط اور مستحکم کرنے کے ہوتے ہیں۔ سو اس ارشاد عالی میں منکرین کیلئے فیصلہ کن عذاب کی دھمکی ہے کہ اگر ان لوگوں نے حق کے انکار اور اس کی تکذیب کا پکا فیصلہ کرلیا ہے تو ہم نے بھی اپنی سنت اور دستور قدیم کے مطابق ان کی ہلاکت کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ والعیاذ باللہ -