Ayahs 43:30–3137 منکرین کی فریب کاری کا ایک اور نمونہ و مظہر : سو منکرین نے عوام کالانعام کو فریب دینے کے لیے کہا یہ قرآن ان دو بستیوں کے کسی بڑے آدمی پر کیوں نہیں اتارا گیا۔ اور " قریتین " سے مراد مکہ اور طائف ہیں۔ جیسا کہ روایات میں اس کی تصریح موجود ہے کہ " قریتین " سے یہاں پر مراد مکہ اور طائف ہی کی دو بستیاں ہیں۔ (ابن کثیر، جامع البیان اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو ان بدبختوں کا کہنا یہ تھا کہ اگر یہ کتاب واقعی اللہ ہی کی طرف سے نازل ہوئی ہے تو یہ مکہ یا طائف کے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں نازل کی گئی کہ مکہ اور طائف کی یہ دو بستیاں عربوں کے اشراف اور سادات کا مرکز تھیں۔ پشتہا پشت کی عربوں کی سیادت انہی لوگوں کو حاصل رہی ہے۔ اس لیے ان منکرین و مکذبین کا کہنا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو ایسی کوئی کتاب اتارنا ہوتی تو وہ یقینا اس کو انہی دو بستیوں کے کسی بڑے سردار پر اتارتا نہ کہ ایک ایسے شخص پر جو کہ غریب ابن غریب ہے۔ جسکی بات کو ماننے کیلئے امراء مشکل ہی سے تیار ہوں گے۔ سو ابنائے دنیا کے نزدیک معیار شرف و فضیلت دنیا کا متاع فانی اور حطام زائل ہی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف یہ منکرین کی فریب کاری کا ایک اور نمونہ اور مظہر تھا جو انہوں نے عوام الناس کو بیوقوف بنانے اور ان کو راہ حق و ہدایت سے پھیرنے اور محروم رکھنے کے لیے اختیار کیا تھا۔ سو منکرین حق اور سیاسی بازیگروں کا طریقہ ہمیشہ یہی رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
38 ابنائے دنیا کی تنگ نظری اور مادہ پرستی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے ابنائے دنیا کی تنگ نظری اور مادہ پرستی کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے۔ اور یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ مادہ پرست لوگوں کے نزدیک معیار فضیلت اصل میں متاع دنیا ہے اور بس۔ سو ان کا کہنا تھا کہ یہ قرآن کسی بڑے دنیادار پر کیوں نہیں اتارا گیا جو دنیاوی مال و دولت اور ظاہری کرو فر سے سرفراز ہوتا۔ یہ کیا کہ یہ کلام ایک ایسے یتیم پر نازل ہوا ہے جس کے پاس نہ مال و دولت کی کوئی ریل پیل ہے اور نہ دنیاوی حکومت و سلطنت کا کوئی رعب داب۔ یعنی وہی بات کہ مادہ پرست انسان ہمیشہ مادئہ و معدہ ہی کے پیمانے سے سوچتا اور دیکھتا ہے۔ یہی بات کل تھی اور یہی آج ہے۔ سو اسی بنا پر کل کے ان منکرین نبوت کا کہنا تھا کہ اگر یہ کتاب اللہ ہی کی طرف سے ہوتی تو یہ ضرور مکہ یا طائف کے کسی بڑے دنیادار سردار پر اتاری جاتی۔ جیسے مکہ کے سردار ولید بن مغیرہ پر یا طائف کے سردار عروہ بن مسعود پر وغیرہ۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر اور جامع البیان وغیرہ) ۔ یہ کیا کہ اس کو ایک ایسے یتیم پر اتارا گیا جس کے پاس نہ دنیاوی مال و دولت کے ٹھاٹھ باٹھ ہیں اور نہ جاہ و منصب کا کوئی امتیاز۔ تو ایسے میں ہم انکو خدا کا رسول کیسے مانیں اور ان کی پیروی کس طرح کریں ؟ وغیرہ وغیرہ۔ جبکہ دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق اس دنیائے دوں کے چند ٹکے تو کیا یہ پوری دنیا بھی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے نزدیک پرکاہ کے برابر بھی نہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ کسی کافر کو پانی کا گھونٹ بھی نہ پلاتا۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ سو اس سے مومن کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس دنیا کے کچھ ٹکوں کے لیے ابنائے دنیا جیتے اور مرتے ہیں وہ پوری دنیا مومن صادق کے نزدیک پرکاہ کے برابر بھی نہیں۔ سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے اور اصل اور حقیقی کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے جو کہ کامل و سدابہار اور ابدی و دائمی کامیابی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 43:3239 نعمتیں سب اللہ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تمام نعمتوں کی تقسیم اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے وہ جس کو جو چاہے اور جتنا چاہے عطا فرمائے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم ہی نے تقسیم کردیا انکے درمیان انکے سامان معیشت کو دنیاوی زندگی میں "۔ تو جب ہم نے خود ان کی دنیاوی زندگی کی گزر بسر کے سامان کو بھی ان لوگوں کی رائے ومرضی پر نہیں چھوڑا جو کہ ایک گھٹیا اور معمولی چیز ہے تو پھر نبوت و رسالت جیسی نعمت عظمیٰ میں ان کی رائے ومرضی کے کسی دخل کا کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ سو انکو دنیا میں جو وسائل معیشت حاصل ہوئے ہیں وہ سب خداوند تعالیٰ کی تقسیم اور عنایت ہی سے حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے خود نہیں حاصل کیے۔ اگر یہ خود حاصل کرنے والے ہوتے تو ان اغنیاء و امراء کے درمیان درجات و مراتب کا فرق و تفاوت کیوں ہوتا ؟ اپنے اختیار میں تو کوئی اپنے بارے میں اس بات پر کبھی راضی نہیں ہوتا کہ وہ کسی بھی اعتبار سے دوسرے سے کمتر ہو۔ سو اپنی خواہش کیخلاف یہ فرق مراتب اس بات کی نہایت واضح دلیل ہے کی کہ تقسیم کا معاملہ انکے ہاتھ میں نہیں بلکہ کسی اور ہی کے ہاتھ میں ہے۔ جو اپنی حکمت اور صوابدید کے مطابق جسکو جو چاہتا ہے اور جتنا چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ وہی اللہ ہے جو خالق ومالک ہے اس ساری کائنات کا ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
40 تفاوت درجات کی ایک بڑی حکمت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کے درمیان ان کی دنیاوی زندگی میں ان کے سامان معیشت کو اس طرح تقسیم کردیا اور ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دے دی درجات و مراتب کے اعتبار سے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لے سکیں "۔ تاکہ اس طرح دنیا کا نظام چل سکے اور ان لوگوں کے لئے سہولت ہو۔ اور اس طرح ان کی ضروریات زندگی کی فراہمی اور تکمیل کا سامان ہوتا رہے۔ پس دنیاوی مال و دولت وغیرہ کے اعتبار سے اونچ نیچ کوئی معیار فضل و کمال نہیں بلکہ اس میں دوسری مختلف حکمتیں کار فرما ہیں جن کا ادراک و احاطہ وہ حکیم مطلق ہی کرسکتا ہے جس کے حکم و ارشاد سے یہ سب کچھ ہو رہا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو فرق مراتب اور تفاوت درجات کی یہ ایک عظیم الشان حکمت ہے جسکو خالق حکیم نے اپنی اس حکمتوں بھری کائنات میں جاری فرمایا ہے۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے بندوں کے درمیان ذہنی، جسمانی اور مادی وغیرہ ہر اعتبار سے درجات و مراتب کا جو فرق رکھا ہے اسی کی بنا پر بنی نوع انسان کے اندر باہمی تعاون و تناصر کی وہ فضا قائم ہے جس سے کاروبار حیات نہایت ہی پر حکمت طریقے سے رواں دواں ہے۔ جس سے ہر کوئی دوسرے کا محتاج ہے اور ہر ایک دوسرے کے طرح طرح سے کام آتا ہے۔ سو دور حاضر میں جو لوگ تفاوت درجات اور فرق مراتب کو مٹانے کے دعوے کرتے ہیں اور لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں وہ دراصل فطرت سے لڑنا اور اس کے تقاضوں سے جنگ کرنا چاہتے ہیں۔ جس میں ایسے لوگ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوسکتے جب تک کہ لوگوں کو ذہنی، جسمانی، مزاجی، طبعی اور عملی صلاحیتوں کے اعتبار سے ایک برابر نہ کردیا جائے۔ اور یہ چیز ظاہر ہے کہ کسی کے بس میں نہیں۔ اور یہ محال اور ناممکن ہے۔ جن لوگوں نے اس خبط میں مبتلا ہو کر خون کے دریا بہا دیے انکا حال یہ ہے کہ ان میں بڑے سے بڑے فراعنہ بھی موجود ہیں۔ اور ان فرعونیوں کے بوٹوں کو پالش کرنے والے اور ان کی گلیوں میں جھاڑو دینے والے بھی وغیرہ وغیرہ۔ جس سے ان کے مصنوعی دعو وں کا جھوٹ آشکارا ہوجاتا ہے۔
41 اصل چیز رب کی رحمت ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارے رب کی رحمت بہرحال کہیں بہتر ہے " اور رب کی رحمت سے یہاں پر مراد نبوت ہے جس کے لوازم میں سے کتاب اور وحی بھی ہے۔ (المراغی، المحاسن اور الصفوۃ وغیرہ ) ۔ سو یہ رحمت یعنی دین و نبوت اللہ پاک کی سب سے بڑی رحمت و عنایت ہے جو وہ اپنے بندوں پر فرماتا ہے۔ جس سے انسان اس دنیا میں بھی پاکیزہ زندگی ۔ حیات طیبہ ۔ کی نعمت سے سرشار ہوتا ہے اور اس کے بعد آخرت میں وہ جنت کی دائمی اور بےمثال نعمتوں سے بھی مشرف ہوتا ہے۔ سو نبوت و رسالت کا شرف و مرتبہ بہت بڑا اور نہایت عظیم الشان مرتبہ و مقام ہے جس سے اللہ اپنے کسی بندے کو نوازتا ہے۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کا اہل کون ہے۔ اس لیے وہی اپنی اس رحمت و عنایت سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ } ۔ (الانعام : 125) ۔ سو جن کو ابنائے دنیا ان کے مال و دولت کی بنا پر بڑا سمجھتے ہیں وہ اس سے نیچے اور بہت نیچے ہیں کہ شرف نبوت و رسالت سے سرفراز ہو سکیں۔ پس دنیا کی مادی چکاچوند سے مرعوب ہونے والے بڑے دھوکے اور خسارے میں مبتلا ہیں جو شرف نبوت و رسالت کے بارے میں اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر قائم اور سلامتی فکر و نظر سے مالامال رکھے ۔ آمین۔
42 دولت دین کے مقابلے میں متاع دنیا ہیچ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارے رب کی رحمت کہیں بہتر ہے ان چیزوں سے جن کو جوڑنے اور جمع کرنے میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں "۔ یعنی دنیاوی مال و متاع اور جاہ و منصب وغیرہ جو کہ اسی دنیائے فانی کے عارضی منافع اور وقتی فائدے ہیں۔ اور یہ لوگ اپنی متاع زندگی انہی عارضی وفانی چیزوں میں صرف کر کے آخرت اور جنت کی ابدی و دائمی نعمتوں سے محروم ہو رہے ہیں جو کہ سب سے بڑا نقصان اور ایسا ہولناک خسارہ ہے کہ آخرت کے اس جہاں میں پہنچ چکنے اور وہاں کے اپنے اس انجام سے دو چار ہونے کے بعد اس کی تلافی وتدارک کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اصل چیز یہ دنیاوی مال و دولت نہیں جو کہ بہرحال فانی ہے بلکہ اصل چیز وہ نور ایمان و یقین ہے جو انسان کو دارین کی فلاح اور سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرتا ہے۔ اس کے بعد دنیا ملے تو بھی خیر اور نہ ملے تو بھی خیر۔ تو اصل کوشش اسی کے حصول کیلئے کرنی چاہئیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayahs 43:33–3543 متاع دنیا کی حقارت اور بےحقیقتی کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر یہ بات نہ ہوتی کہ لوگ ایک ہی ڈگر پر چل پڑیں گے تو ہم ان لوگوں کے لیے جو خدائے رحمان کے ساتھ کفر کرتے ہیں ان کے گھروں کی چھتوں کو چاندی کا بنا دیتے اور ان کی ان سیڑھیوں کو بھی جن پر یہ لوگ اترتے چڑھتے ہیں۔ اور ان کے گھروں کے دروازوں کو بھی اور ان کے ان تختوں کو بھی چاندی کا بنا دیتے جن پر یہ لوگ ٹیک لگاتے ہیں اور یہ سب چیزیں سونے کی بھی کردیتے "۔ دوسرے معنیٰ " زخرف " کے زینت سے بھی کئے گئے ہیں۔ جس میں سونا، چاندی، ہیرے، جواہر وغیرہ سب ہی کچھ آجاتا ہے۔ یعنی ہم انہیں طرح طرح کے نہایت عمدہ اور بیش قیمت سامان زیب وزینت سے آراستہ و پیراستہ کردیں اور ان کو ہیرے جواہرات وغیرہ وہ سب ہی کچھ دے دیں جن کو ابنائے دنیا بہت کچھ بلکہ سب ہی کچھ سمجھتے ہیں۔ سو اس ارشاد عالی سے متاع دنیا کی حقارت اور بےحقیقتی کو واضح فرمایا گیا ہے کہ جس ساز و سامان پر ابنائے دنیا مست و مغرور ہیں اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی کچھ بھی حیثیت نہیں۔
44 متاع دنیا محض چند روزہ سامان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ سب کچھ محض دنیاوی زندگی کا چند روزہ سامان ہے جس کی ہمارے یہاں اور خاص کر آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت اور قدر و قیمت ہے ہی نہیں۔ جیسا کہ سنن ترمذی کی روایت میں ہے کہ " اگر یہ دنیا ساری اللہ پاک کے نزدیک مچھر کے پر کے برابر بھی وزن رکھتی ہوتی تو وہ کسی کافر کو پانی کا گھونٹ بھی نہ پلاتا "۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجود آج کتنے ہی فرزندان اسلام ایسے موجود ہیں جنہوں نے اسی دنیا کو مقصود اصلی قرار دے رکھا ہے۔ اور ان کی سب کوششیں اسی محور کے گرد گھومتی ہیں۔ اور وہ بھی دوسروں کی طرح دنیا طلبی اور اس کے حطام فانی و زائل کی تحصیل میں ایسے محو و منہمک ہوگئے کہ حلال و حرام کی حدود وقیود اور یوم معاد کے حساب و کتاب تک کو بھول گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس ساز و سامان پر ان لوگوں کو اتنا بڑا ناز ہے اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی سرے سے کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں۔
45 اصل چیز آخرت اور وہاں کی کامیابی ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرت جو اس سے کہیں بہتر ہے وہ تمہارے رب کے نزدیک پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔ اور وہ اتنی بہتر ہے کہ دنیا و آخرت میں اس کا کوئی مقابلہ ہی نہیں۔ اور اتنی کہ اس کو اللہ پاک کے سوا جاننا بھی کسی کے بس کا روگ نہیں ۔ { فَلا تَعْلَمُ نَفْسٌ ما اخفی لہم مّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ } ۔ (سورۃ الجدۃ : 17) ۔ اور ایسی بہتر کہ اس میں شر کا کوئی پہلو و شائبہ تک نہیں۔ جبکہ دنیا کی بڑی سے بڑی نعمت بھی شرور و فتن اور کد و کاوش کے احاطہ و ہجوم سے خالی نہیں۔ اور جب ہے وہ خالص متقی لوگوں ہی کے لئے تو پھر تم لوگ اس دنیائے دوں کے عارضی منافع اور وقتی فوائد کے بجائے آخرت ہی کو اپنا مطمح نظر اور مقصود حیات کیوں نہیں بناتے ؟ اور وہاں کی ان عظیم الشان اور بےمثل نعمتوں سے بہرہ ور و سرفراز ہونے کے لئے تقویٰ کی صفت اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کیوں نہیں کرتے ؟ تاکہ اس ابدی و سرمدی کامیابی سے ہمکنار و سرفراز ہو سکو ۔ اَللّٰہُمَّ فوَفِّقْنَا لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی من القول والعمل وَشَرِفْنَا بِجَنَّتِکَ وَنَعِیْمِہَا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ وَیَا اَکْرَمَ الْاَکرمِین ۔ سو اصل چیز آخرت کی یہ حقیقی اور ابدی کامیابی ہے نہ کہ دنیا کے وہ وقتی فائدے اور عارضی لذتیں جن کو ابنائے دنیا اپنا مقصود حیات بنائے بیٹھے ہیں کہ وہ سب کچھ عارضی اور فانی ہے۔ جبکہ آخرت کی کامیابی حقیقی، دائمی اور ابدی ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین
Ayah 43:3646 خدائے رحمن کی یاد سے محرومی باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ خدائے رحمان کی یاد دلشاد سے اعراض و روگردانی اغواء و تسلط شیطانی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جو خدائے رحمن کی یاد دلشاد سے اندھا بن جائے کہ نہ وہ اس کے دلائل قدرت و وحدانیت میں غور کرے نہ اس کی رحمت و عنایت بیکراں کے چار سو پھیلے ہوئے مظاہر پر نظر کرے اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچنے کی فکر کرے اور نہ اس کے حضور جواب دہی کے بارے میں سوچے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ ان سب تقاضوں سے اندھا بن کر وہ صرف دنیا و پیٹ اور تن و توش کے لئے ہی جینے اور مرنے لگے۔ اور انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر خالص حیوانیت کی زندگی گزارنے لگے ۔ والعیاذ باللہ ۔ عَشَا یَعْشُوْا عَشْوًا، غَزَا یَغْزُوْا غَزْوًا کی طرح فعل واوی ہے جس کا معنیٰ ہے " اعشیٰ " یعنی چندھیائے ہوئے آدمی کی طرح کمزور اور سرسری نگاہ سے دیکھنا۔ (تفسیر ابن عاشور ) ۔ " ذکر " کا لفظ اگرچہ عام ہے۔ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی ہر طرح کی یاد دلشار کو شامل ہے مگر اس کا سب سے بڑا اور کامل مصداق قرآن حکیم ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَہٰذَا ذِکْرٌ مُّبَارَکٌ اَنْزَلْنَاہُ } ۔ (الانبیائ : 50) نیز دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ } ۔ (الحجر : 9) ۔ اس لئے بہت سے حضرات مفسرین نے یہاں ذکر سے مراد قرآن پاک ہی کو لیا ہے۔ مثلاً محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، بیان القرآن اور معارف القرآن وغیرہ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن حکیم سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ شیطان کے پنجہ مکر و فریب میں پھنسنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اعنا علی ذکرک وشکرک وحسن عبادتک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام -
47 انسان کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب و باطن سے : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ انسان کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اور اس کا مدارو انحصار اس کی اپنی نیت اور ارادہ پر ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے بدبخت شخص پر ہم ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں۔ یعنی ہمارا قانون اور دستور یہی ہے کہ ایسے شخص پر جو کہ اپنے خالق ومالک کی یاد دلشاد سے اندھا بن جاتا ہے اس پر شیطٰن مسلط ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ گندگی پر مکھیاں اور مردار پر چیل کوے وغیرہ مردار خور جانور جمع ہوجاتے ہیں۔ اور یہ شیطٰن عام ہے کہ جنوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔ جیسا کہ ۔ { مِنَ الْجِنَّۃِ وَالنَّاسِ } ۔ کے ارشاد میں فرمایا گیا ہے۔ سو ذکر الہٰی اور یاد خدا وندی، خاص کر قرآن حکیم سے منہ موڑنا پیش خیمہ ہے بہت بڑی ہلاکت اور ہولناک تباہی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ ایک حقیقت ہے کہ انسان کا دل جب تک خداوند قدوس کی یاد دلشاد سے آباد رہتا ہے اس وقت تک شیطان اس تک راہ نہیں پاسکتا۔ لیکن جب وہ خدا کی یاد سے غافل ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو شیطان آہستہ آہستہ اس کے قلب کی دنیا تک پہنچنا شروع ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ شدہ شدہ اور رفتہ رفتہ اس کے دل کی قلمرو پر پوری طرح مسلط اور قابض ہوجاتا ہے۔ اور جب وہ اس پر قبضہ جما لیتا ہے تو پھر اس کے چنگل سے نکلنا آسان نہیں رہتا۔ اس کے بعد ایسے شخص کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ کوئی پند و نصیحت اور تذکیر وتعلیم اس پر اثر نہیں کرتی۔ شیطان اپنے مکر و فریب اور شکوک و شبہات کے ذریعے انسان کو اس سے برگشتہ کرلیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو معاملہ اصولی اور بنیادی طور پر انسان کی اپنی نیت اور اس کے ارادئہ و اختیار پر مبنی و موقوف ہے۔ اگر وہ اپنے حسن اختیار کی بنا پر خدائے رحمن و رحیم کی یاد دلشاد سے سرشار رہے گا تو اس کی حفاظت و پناہ میں رہے گا ورنہ شیطان مردود کے شکنجے میں پھنس کر رہ جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
48 ذکر اللہ سے محرومی باعث ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ : کہ ذکر اللہ سے محرومی کا نتیجہ ہوتا ہے شیطان کی رفاقت۔ اور شیطان کی رفاقت کا مطلب ہے دائمی ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ برا ساتھی جو انسان کو برائی اور گمراہی کی طرف لے جائے اللہ کا عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کے بالمقابل اچھا ساتھی جو کہ انسان کو نیکی و خیر اور حق و ہدایت کی راہ دکھائے وہ اللہ پاک کا انعام اور اس کا فضل و کرم ہے۔ اور اس کا اصل دارومدار انسان کی اپنی نیت و ارادہ اور اس کے حسن اختیار اور باطن کے حال پر ہے۔ سو جو لوگ خداوند قدوس کی یاد دلشاد اور اس کے ذکر پاک سے اپنے دلوں کی دنیا کو شاد و آباد رکھتے ہیں شیطان کو انکے اندر گھسنے کی راہ نہیں ملتی۔ اور اگر کبھی اس کو دراندازی کا کوئی موقع مل بھی جائے تو وہاں ٹک نہیں سکتا۔ بلکہ بندے کے متنبہ ہوتے ہی اس کو وہاں سے بھاگنا پڑتا ہے۔ جبکہ ذکر اللہ سے محروم انسان کا وہ پکا اور دائمی یار بن جاتا ہے اور اس کو ہمیشہ ہلاکت اور تباہی ہی کی طرف کھینچتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ اس کو اس کے آخری انجام تک پہنچا کر رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 43:3749 شیطان کا کام راہ حق سے روکنا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " شیاطین طرح طرح سے روکتے ہیں اپنے دوستوں کو راہ حق سے "۔ پس جو راہ حق و صواب سے روکے وہ شیطان ہے خواہ وہ کسی بھی شکل و لباس میں ہو۔ اور ایسے " قرنا سوء " ۔ برے ساتھی ۔ انسان کو راہ حق و صواب سے طرح طرح سے روکنے اور اس کو محروم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اپنے طرح طرح کے من گھڑت اور خود ساختہ و بےبنیاد فلسفوں اور قسما قسم کی ملمع سازیوں کے ذریعے وہ اپنے زیغ و ضلال اور کفر و باطل کو ایسا بنا سنوار کر پیش کرتے ہیں کہ عام اور سادہ لوگوں کیلئے ان کے دام تزویر کے پھندے سے نکلنے کی گنجائش ہی باقی نہیں رہتی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور وہ اس کے نتیجے میں اپنے آپ کو حق اور ہدایت پر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہلاکت و تباہی کے دائمی گڑھے میں جا گرتے ہیں ۔ فَنَعُوْدُ باللّٰہِ مِنْ قُرَنَا ئِ السُّوْئِ وَمِنْ جُلَسَائِ الَشَرِّ وَمِنْ دُعَاۃِ الْفِتْنۃِ والْفَسَادِ وَالزَّیْغِ و الضَّلالِ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین۔
50 شیطان کی شیطنت کی قوت و تاثیر کا ذکر : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ " شیطان کی شیطنت کی قوت و تاثیر کے نتیجے کے طور پر ایسے لوگ راہ حق و صواب سے محروم ہونے کے باوجود سمجھتے ہیں کہ وہ راہ راست پر ہیں۔ یعنی ایسے لوگ گمراہی پر ہونے کے باوجود اپنے آپ کو راہ راست پر سمجھتے ہیں۔ اور یہ مرض کا سب سے سنگین اور خطرناک سٹیج ہوتا ہے کہ مریض اپنے آپ کو تندرست و صحت مند سمجھنے لگے کہ ایسے میں تو اس کا کوئی علاج ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس طرح کے جو لوگ شیطان کے ہتھے چڑھتے ہیں انکا حشر یہ ہوتا ہے کہ شیاطین کا ٹولہ ان کی راہ مار دیتا ہے اور انکو راہ حق سے محروم کردیتا ہے۔ مگر ان بدبختوں کی شومئی قسمت کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کے پھندوں میں پھنسے ہوئے ہونے کے باوجود یہ سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ وہ سیدھی راہ پر چل رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس طرح وہ خسارے پر خسارے میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 43:3851 بری صحبت کا برا انجام ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو قیامت کے دن جب اصل حقیقت سامنے آئے گی تو اس وقت وہ شخص اپنے اس برے ساتھی پر لعنت بھیجے گا اور اس سے کہے گا کہ کاش کہ میرے اور تیرے درمیان مشرق اور مغرب کی دوری ہوتی۔ یعنی زندگی کی متاع عزیز کو اس کے کہنے پر یونہی ضائع کر کے اور کسب آخرت کے شرف سے محروم ہو کر جب یونہی خالی ہاتھ ہمارے پاس پہنچا اور اس وقت اپنے اس ساتھی کی حقیقت اس پر کھلی تو تب وہ اس سے اتنی دوری کی تمنا کرنے لگا۔ مگر کہاں اور کیسے ؟ ۔ وَاَنٰی لَہٗ ذَالِکَ ؟ ۔ سو دنیا میں تو ایسے ساتھیوں کی رفاقت اور سنگت خوب چلتی ہے مگر آخرت میں جب اپنے رب کے حضور حاضری ہوگی اور کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس یوم عظیم میں ان کی اس دوستی کا انجام سامنے آجائے گا تو اس وقت ایسا دوست اپنے شیطان دوست پر لعنت بھیجے گا۔ اور اس سے کہے گا کہ تو بڑا برا دوست ہے جس نے مجھے اس ہولناک انجام اور دائمی خسارے سے دوچار کیا۔ کاش کہ تیرے اور میرے درمیان مشرق و مغرب کا فاصلہ ہوتا ۔ { فَبِئْسَ الْقَرِیْن } ۔ اس برے ساتھی پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے لعنت اور پھٹکار ہے کہ کیسا برا ساتھی ثابت ہوا یہ شخص جس نے اپنے ساتھی کو آخرکار اس کھڈ میں لا گرایا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور زندگی کے ہر موڑ پر اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 43:3952 برے ساتھیوں کی ایک اور تذلیل و تقبیح کا ذکر : سو جب برے ساتھیوں کے درمیان یہ توتکار اور جوتا پیزار ہی ہوگی تو اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو کہا جائے گا کہ دنیا میں جب تم ایک دوسرے کے تابع اور متبوع بن کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھا چکے اور تمہیں اپنے اس انجام کے بارے میں غور و فکر کی توفیق نہ ہوئی تو اب تمہیں ایک دوسرے پر لعنت کے ڈونگرے برسانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ سو اب تمہیں اس بات سے کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا کہ تم سب اس عذاب میں باہم شریک ہو۔ کیونکہ اپنے گمراہ کرنے والے ان لیڈروں اور بڑوں کو جن کو تم قدموں تلے روندنا چاہو گے وہ بھی اگرچہ تمہارے سامنے اور تمہارے ساتھ دوزخ کی اس آگ میں جل رہے ہوں گے مگر اس سے تم کو کیا فائدہ ؟ اس سے تمہارے عذاب کی حدت اور شدت میں تو کوئی کمی واقع نہیں ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور دنیا میں جب تم ایک دوسرے کے تابع اور متبوع اور دوست بن کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھا چکے اور تم نے وہاں پر حق اور اہل حق کی بات کو سن کر اور جان کر نہیں دیا تو اب تمہاری لعن طعن کا کیا فائدہ ؟ اب تم دونوں ہی نے اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہے۔ پس اس کو بھگتو ۔ { فَذُوْقُوْا بِمَا نَسِیْتُمْ لِقَائَ یَوْمِکُمْ ہٰذَا } (سورۃ السجدۃ : 14) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 43:4053 پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو پیغمبر کی تسکین وتسلیہ کے لیے فرمایا گیا کہ یہ لوگ اگر نہیں سنتے تو اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں بلکہ اصل رکاوٹ انکا عناد اور ہٹ دھرمی ہے جس کی بنا پر یہ اندھے بہرے بن کر رہ گئے ہیں۔ سو آپ کی تذکیر و موعظت ان ہی لوگوں کے اندر کارگر ہوسکتی ہے جو زندہ ہوں اور ان کے اندر دیکھنے سننے اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت باقی ہو۔ جبکہ ان لوگوں نے اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر علم وادراک کی صلاحیتوں کو تباہ کردیا ہے۔ اور یہ اندھے اور بہرے بن کر رہ گئے ہیں۔ اور اندھوں بہروں کو راستہ دکھانا کسی کے بس میں نہیں۔ یعنی یہ لوگ صرف گمراہ ہی نہیں بلکہ گمراہی میں غرق اور اس میں غوطہ زن ہیں۔ تو پھر ان کو ہدایت کس طرح ہوسکتی ہے ؟ کشتی پانی میں ہو تو پار لگ سکتی ہے مگر جب پانی کشتی میں بھر آئے تو اس کے پار لگنے کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟ پس آپ ایسے اندھوں بہروں کی وجہ سے اپنے آپ کو مشقت میں نہ ڈالیں۔ اور ان پر اتنا افسوس نہ کریں کہ اس میں اپنی جان عزیز کو بھی داؤ پر لگا دیں ۔ { فَلا تَذْہَبْ نَفْسُکَ عَلَیْہِمْ حَسَرَاتٍ } ۔ (فاطر : 8) ۔ سو یہ دراصل آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ جو ان کی ہدایت کی حرص رکھتے ہیں اسکا کوئی فائدہ نہیں کہ یہ لوگ آپ ﷺ کی حرص کے باوجود ایمان لانے والے نہیں۔ اس لئے آپ ان کی اتنی فکر نہ کریں ۔ { وَمَا اَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْن } ۔ کہ انہوں نے اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر اپنی آنکھوں کو اندھا اور اپنے کانوں کو بہرہ کردیا ہے۔ اور اپنے دلوں پر انہوں نے تالے چڑھا دیئے ہیں۔ سو ایسوں کو راہ راست پر لانا کسی کے بس میں نہیں کہ ان پر اللہ کی مار پڑچکی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 43:41–4254 منکرین کے لیے تنبیہ و تہدید : سو اس ارشاد میں پیغمبر کیلئے تسکین و تسلی اور کفار و منکرین کیلئے تہدید و دھمکی ہے۔ سو ان کفار کو سنایا جا رہا ہے جو آپ ﷺ سے عذاب لانے کا مطالبہ کر رہے تھے کہ لاؤ وہ عذاب جس کی دھمکیاں آپ ہمیں دے رہے ہو۔ سو ان کو بتایا جا رہا ہے کہ عذاب لانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں بلکہ وہ ہمارے ہی اختیار میں ہے۔ اور ہم اسے جب چاہیں لاسکتے ہیں خواہ پیغمبر کی زندگی میں یا اس کے بعد۔ سو اس سے بہرحال کچھ فرق نہیں پڑتا کہ وہ عذاب کب آئے گا کہ اس نے بہرحال آ کر رہنا ہے کہ تم لوگ تو بہرحال ہمارے قابو اور کنٹرول میں ہو۔ کہیں بچ کر نکل نہیں سکتے۔ سو تمہیں تو اس سے بچنے کی فکر کرنی چاہیئے نہ کہ اس کے جلدی آنے کا مطالبہ کہ اس کے آجانے کے بعد تمہیں تو بہرطور کچھ نہیں ملے گا۔ پھر تم لوگ آخر اس کیلئے جلدی کیوں مچاتے ہو۔ تمہیں اس سے کیا ملے گا ؟ ۔ { مَاذا یَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُوْنَ } ۔ (یونس : 50) ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے -
Ayah 43:4355 پیغمبر کو صبر وثبات کی تلقین : سو اس آیت کریمہ میں پیغمبر کو صبر و ثبات کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ مضبوطی سے تھامے رکھیں اس وحی کو جو آپ کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ بلاشبہ آپ ﷺ ۔ اے پیغمبر !۔ سیدھی راہ پر ہیں۔ پس یہ لوگ مانیں یا نہ مانیں، آپ قطعی طور پر سیدھی راہ پر ہیں۔ اور یہ دین حق حقیقی طور پر حق اور سچ ہے۔ ان لوگوں کے ماننے یا نہ ماننے سے اس کی عظمت و حقانیت میں کوئی فرق نہیں آسکتا۔ کوئی شک اور تردد اس ضمن میں آپ کو پیش نہیں آنا چاہیے۔ سو یہ آنحضرت ﷺ کو اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کو خطاب فرمایا جا رہا ہے۔ اور خطاب اگرچہ بظاہر پیغمبر سے ہے لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے۔ اور یہ درس و تنبیہ سب کے لئے ہے کہ حق والے تو اس راہ حق و صواب پر پکے اور ثابت قدم رہیں اور باطل والے اس کی طرف رجوع کریں کہ راہ حق بہرحال یہی ہے۔ اور پیغمبر بہرحال راہ حق پر ہیں جو اس دعوت کو قبول کریں گے۔ اور جو اس راہ حق و صدق کو اپنائیں گے وہ اپنا ہی بھلا کریں گے۔ اور جو اس سے منہ موڑیں گے اور اعراض و روگردانی برتیں گے وہ اپنا ہی نقصان کریں گے کہ راہ حق اور صراط مستقیم بہرحال یہی اور صرف یہی ہے۔
Ayah 43:4456 قرآن حکیم ایک عظیم الشان ذکر وشرف : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ بلاشبہ یہ قرآن ایک عظیم الشان شرف ہے۔ ایسا عظیم الشان شرف کہ اس جیسا دوسرا کوئی شرف نہ کبھی انسانیت کو اس سے پہلے کبھی نصیب ہوا اور نہ کبھی آئندہ نصیب ہوگا۔ ایسا شرف جو کہ دارین کی فوز و فلاح اور سعادت و کامرانی کا کفیل وضامن ہے۔ ایسا شرف جو کہ پوری نوع انسانیت کے لئے کامل دستور اور مکمل ضابطہ حیات ہے۔ سو فرمایا گیا کہ یہ ایک عظیم الشان شرف ہے آپ ﷺ کیلئے اے پیغمبر ! کہ آپ ﷺ پر یہ عظیم الشان اور بےمثال کلام بذریعہ وحی نازل فرمایا گیا۔ اور اس کے ذریعے آپکو نبوت و رسالت بلکہ نبیوں کی امامت و پیشوائی کے عظیم الشان اور بیمثال شرف سے نوازا گیا اور آپ ﷺ کی قوم یعنی قریش اور پوری عرب قوم کیلئے بھی یہ ایک عظیم الشان شرف ہے جس سے انکو اور ان کی زبان کو دائمی عزت و شرف سے نوازا گیا۔ یہ لفظ ذکر کا ایک معنیٰ و مفہوم ہے۔ جبکہ اسکا دوسرا معنیٰ و مفہوم یہ ہے کہ یہ لفظ تذکیر کے معنیٰ میں ہے۔ حضرات مفسرین کرام نے ان دونوں کو ذکر وبیان فرمایا ہے۔ اور کسی نے ان دونوں میں سے ایک مفہوم کو اختیار کیا ہے اور کسی نے دوسرے کو۔ (ابن کثیر، روح، قرطبی، مراغی اور صفوۃ وغیرہ) ۔ لیکن افضل اور بہتر یہ ہے کہ اس لفظ کو ان دونوں ہی مفہوموں کیلئے عام رکھا جائے کہ قرآن پاک کے اندر یہ دونوں ہی وصف اور دونوں ہی شانیں موجود ہیں۔
57 پیغمبر اور قوم دونوں کی ذمہ داری کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ یہ عظیم الشان شرف ہے آپ ﷺ کیلئے بھی اور آپ ﷺ کی قوم کیلئے بھی " کہ حق کا یہ آخری اور ابدی پیغام اس خاتم الکتب کی شکل میں آپ پر اور آپ کی قوم کی لغت و زبان میں نازل ہوا۔ جس کی بنا پر دنیا کی دوسری تمام قومیں ان کی زبان و لغت سیکھنے اور اس کی طرف رجوع کرنے پر مجبور ہوگئیں۔ اور اس کتاب حکیم کی برکت سے ان کی زبان و لغت نہ صرف یہ کہ زندئہ جاوید ہوگئی بلکہ مرجع خلائق بھی بن گئی۔ اسی آیت کریمہ کی نظیر سورة انبیاء کی یہ آیت کریمہ ہے ۔ { وَلَقَدْ اَنْزَلْنَا اِلَیْکُمْ کِتَابًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْ افلا تعقلون } ۔ (الانبیائ : 10) ۔ اور جیسا کہ اوپر والے حاشیے میں گزرا یہ کتاب حکیم ایک عظیم الشان شرف بھی ہے اور حق اور حقیقت کے عرض وبیان کیلئے ایک عظیم الشان تذکیر و یاددہانی بھی۔ سو اس ارشاد سے قرآن حکیم سے متعلق پیغمبر اور قوم دونوں کی ذمہ داری کا حوالہ بھی دے دیا گیا کہ پیغمبر کے ذمے اس پیغام حق کی تبلیغ ہے۔ یعنی اس کو بلا کم وکاست جوں کا توں آگے پہنچا دینا اور قوم کی ذمہ داری اس کو صدق دل سے اپنانا اور قبول کرنا اور زندگی کو اس کے سانچے میں ڈھالنا ہے۔ اور یہی راستہ ہے سعادت دارین سے سرفرازی کا۔
58 پرسش آخرت کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم سب سے اس ذکر عظیم کے بارے میں عنقریب پوچھ ہوگی "۔ کہ تم لوگوں نے اس کی کیا قدر پہچانی اور کیا حق ادا کیا۔ اور ظاہر ہے کہ جب نعمت اتنی بڑی ہے تو اس کی پوچھ بھی اتنی ہی بڑی اور اسی قدر سخت ہوگی ۔ اللہ ہمیں اس کا حق پہنچاننے اور ادا کرنے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔ حقوق قرآن کے بارے میں راقم آثم نے اپنی کتاب " معجزات خاتم الانبیائ " کے شروع میں کافی کچھ ذکر کیا ہے جو آج سے کوئی بیس سال قبل چھپ گئی تھی ۔ والحمد للہ ۔ نیز اپنی دوسری کتاب جو کہ " نعمت قرآن اور اس کے تقاضے " کے نام و عنوان سے تحریر کی گئی ہے اور ابھی حال ہی میں زیور طبع سے آراستہ ہو کر منصہ شہود پر آئی ہے اس میں بھی حقوق قرآن کو کافی تفصیل سے بیان کردیا ہے ۔ والحمد للہ رب العالمین ۔ بہرکیف اس ذکر عظیم کے بارے میں پیغمبر سے بھی پوچھ ہوگی اس کی تبلیغ کے بارے میں۔ اور امت سے پوچھ ہوگی کہ انہوں نے اسکا کیا حق ادا کیا۔ جیسا کہ سورة اعراف میں اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَلَنَسْاَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْاَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ فَلَنَقُصَّنَّ عَلَیْہِمْ بِعِلْمٍ وَّمَا کُنَّا غَائِبِیْنَ } ۔ (الاعراف : 6-7) ۔ یعنی " ہم نے ضرور پوچھنا ہے ان لوگوں سے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور ہم نے ضرور پوچھنا ہے رسولوں سے بھی۔ پھر انکو ہم خود ہی بتادیں گے ان کی پوری سرگزشت علم کی بنا پر۔ اور ہم کہیں غائب اور۔ بیخبر نہیں تھے ۔ " سو رسولوں سے پوچھ ان کی تبلیغ کے بارے میں ہوگی اور ان کی قوموں سے اس کی قبولیت و استجابت کے بارے میں۔ سو اس ارشاد ربانی میں ایک طرف تو رسول کریم اور آپ کے صحابہ کرام کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے اور دوسری طرف اس میں مخالفین و منکرین کے لیے تہدید و وعید بھی ہے کہ معاملہ یہیں ختم ہوجانے والا نہیں بلکہ آگے ایک ایسا ہولناک دن آنے والا ہے جس میں یہ سارا مقدمہ خداوند قدوس کی عدالت میں پیش ہوگا جہاں اس بارے آخری اور عملی فیصلہ ہوگا۔ سو اس موقع پر معلوم ہوجائے گا کہ کون جیتا اور کون ہارا۔ اور کس نے کیا پایا اور کیا کھویا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 43:4559 مشرکین کے دعوے کی تردید : مشرکین کا کہنا تھا کہ جن معبودان باطلہ کی پوجا وہ کرتے ہیں ان کی پوجا کا حکم ان کو اللہ نے دیا ہے۔ سو انکے اس دعوے کی تردید کے لیے فرمایا گیا کہ پوچھ لو ان رسولوں سے جن کو ہم نے آپ ﷺ سے پہلے بھیجا ہے۔ کیا ہم نے خدائے رحمان کے سوا ایسے معبود بنائے ہیں جنکی پوجا کی جائے۔ یعنی ان کی قوموں اور کتابوں سے پوچھ لیجئے کہ یہ بھی درحقیقت ان انبیائے کرام ہی سے پوچھنا ہے۔ جیسا کہ اسلاف کرام کی تمام تفسیروں میں لکھا ہے۔ اور مقصود اس ارشاد سے یہ بتانا ہے کہ توحیدسب کا اجماعی عقیدہ ہے۔ تمام انبیائے کرام نے اسی کی دعوت دی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاِنْ کُنْتَ فِیْ شَکٍّ مِمِّآ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکَ فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَئُ وْنَ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکَ } ۔ (یونس : 94) ۔ مگر نہ آپ ﷺ کو شک ہوا اور نہ آپ نے اس بارے کسی سے پوچھا۔ اسی لئے امام زہری، سعید بن جبیر اور ابن زید وغیرہ کا کہنا ہے کہ شب اسراء و معراج کے موقع پر سب انبیائے کرام کے مجتمع ہوجانے کے باوجود آپ نے اس بارے کسی سے کچھ نہیں پوچھا۔ کہ آپ کو اس طرح کا کوئی شک وتردد تھا ہی نہیں۔ (جامع البیان : ج 2 ص 265) ۔ سو جمہور مفسرین کرام کے نزدیک گزشتہ انبیاء ورسل سے پوچھنے سے مراد جیسا کہ ابھی اوپر باحوالہ گزرا ان رسولوں کی امتوں اور ان کی کتابوں سے پوچھنا ہے۔ اور مقصود اس سے کفار قریش اور دوسرے مشرکین کو یہ بتانا ہے کہ توحید کی جس دعوت سے تمہیں چڑ ہے اور تمہیں جس سے اچنبھا ہو رہا ہے وہ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں ہے۔ بلکہ اس سے پہلے کے انبیاء و رسل بھی اسی کی دعوت دیتے آئے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں کا کہنا ہے کہ " یہاں انبیائے کرام سے خود پوچھنے کا حکم ہے۔ لہذا سب انبیاء وفات کے بعد بھی سنتے، پوچھتے، عالم کی سیر کرتے اور ایک دوسرے سے ملاقاتیں کرتے ہیں وغیرہ " اور اس سے بڑھ کر یہ کہ کچھ آگے چل کر یہ صاحب مزید لکھتے ہیں کہ یہاں اہل کتاب سے پوچھنا مراد ہو ہی نہیں سکتا۔ کہ انہوں نے اپنی کتابوں میں تحریف کردی تھی (محصلا) ۔ حالانکہ یہاں پر جمہور مفسرین کرام کی تصریحات کے علاوہ خود حضرت عبد اللہ بن مسعود کی قراءت اس طرح ہے ۔ " وَاسْئَلِ الَّذِیْنَ اَرْسَلْنَا اِلَیْہِمْ رُسُلَنَا " ۔ (جامع البیان، ابن کثیر، وغیرہ) ۔ اور سورة یونس کی مذکورہ بالا آیت کریمہ میں تو صاف وصریح طور پر حکم و ارشاد فرمایا جا رہا ہے ۔ { فَسْئَلِ الَّذِیْنَ یَقْرَئُ وْنَ الْکِتَابَ مِنْ قَبْلِکَ } ۔ مگر موصوف اس سب کے باوجود کہتے ہیں کہ اہل کتاب سے پوچھنا مراد ہو ہی نہیں سکتا۔ تو کیا یہ آیت کریمہ سے کھلا معارضہ اور کتاب الٰہی سے صریح مقابلہ اور مکابرہ نہیں ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پھر بھی دعویٰ ہے عاشق رسول اور اہل سنت ہونے کا ۔ فالی اللہ المشتکی وہو المستعان ۔ بہرکیف جمہور علماء و مفسرین کرام کا کہنا یہی ہے کہ زیر بحث آیت کریمہ میں براہ راست حضرات انبیائے کرام سے پوچھنا مراد نہیں بلکہ یہاں پر بطور مجاز ان کی امتوں کے اہل علم اور اہل ایمان سے پوچھنا اور ان کی کتب و صحف اور ان تعلیمات مقدسہ میں غور و فکر کرنا مراد ہے۔ اس لئے یہ حضرات اس کی تفسیر بالعموم اس طرح کے الفاظ کرتے ہیں ۔ " وَاسْألْ اُمُمَ مَنْ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنْ رُّسُلِنَا " ۔ (المراغی، القرطبی، البیضاوی، المحاسن، الصفوۃ، الروح، المعارف، الجامع، ابن کثیر، ابن جریر، البحر، ابوالسعود وغیرہ وغیرہ) ۔ والحمد للہ رب العالمین ۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کی ہر قسم اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
60 خدائے رحمان کے سوا کوئی بھی اور معبود نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا اور استفہام انکاری کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ہم نے خدائے رحمن کے سوا کوئی اور معبود بنائے ہیں جن کی پوجا کی جائے ؟ " یعنی نہیں اور ہرگز نہیں۔ کیونکہ ہر ایک نبی نے تو توحید ہی کا درس دیا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِیْ کُلِّ اُمَّۃٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّٰہَ وَاجَْتَنِبُوالطَّاغُوْتَ } ۔ (النحل : 36) ۔ نیز ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَا اَرْسًلْنَا مِنْ قَبْلِکَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوحِیْٓ اِلَیْہِ اَنَّہٗ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاَ عْبُدُوْنِ } ۔ (الانبیاء :25) ۔ پس جس توحید کی دعوت آج آپ دے رہے ہیں ۔ اے پیغمبر !۔ وہ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں۔ بلکہ وہ تمام انبیائے کرام کی اجماعی اور متفق علیہ دعوت ہے۔ سو اس ارشاد سے مشرکین کے اس دعوے کی تردید فرمائی گئی ہے کہ جن کو وہ پوجتے ہیں ان کی عبادت کا حکم انکو خدا نے دیا ہے۔ سو مشرکین کے اس دعوے کی تردید میں ارشاد فرمایا گیا کہ خدا کے امر و نہی کے معلوم کرنے کا ذریعہ تو اس کے انبیاء و رسل ہی ہوسکتے ہیں، لہذا ان تمام رسولوں سے پوچھ لو جو آپ ﷺ سے پہلے آچکے ہیں کہ کیا خدا تعالیٰ نے اپنے سوا کوئی دوسرے ایسے معبود مقرر فرمائے ہیں جنکی پرستش کی جائے ؟ اور گزشتہ رسولوں سے پوچھنے کا مطلب ہے ان کی کتابوں اور صحیفوں سے پوچھنا۔ جیسا کہ ابھی اوپر گزرا ہے۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا ہے کہ عقیدئہ توحید جو کہ عقل و فطرت کا تقاضا ہے تمام انبیاء و رسل اور جملہ شرائع و ادیان کا متفقہ اور اجماعی عقیدہ ہے۔ اور جملہ انبیاء و رسل کرام نے ہمیشہ اسی کی دعوت دی۔
Ayah 43:4661 حضرت موسیٰ کی سرگزشت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم ہی نے بھیجا موسیٰ کو اپنی آیتوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف "۔ جبکہ فرعون اور اس کے اہل کاروں کے پاس دنیاوی مال و منال اور جاہ و جلال کے اعتبار سے بہت کچھ تھا۔ اور اس کے مقابلے میں حضرت موسیٰ کے پاس ایسی کوئی بھی چیز نہیں تھی۔ پس آنحضرت ﷺ پر تمہارا یہ اعتراض کرنا اے دور حاضر کے منکرو ! کہ نبوت و رسالت سے ان کو کیوں نوازا گیا ؟ آپ ﷺ کی بجائے یہ شرف مکہ اور طائف کے کسی بڑے آدمی کو کیوں نہیں بخشا گیا بالکل ہی لغو اور بےہودہ اعتراض ہے۔ کیونکہ ہمارے یہاں سے نبوت و رسالت کا یہ اعلیٰ ترین شرف اور مقدس ترین مرتبہ و اعزاز دنیاوی مال و منال اور جاہ و جلال کی بنیاد پر نہیں ملتا۔ بلکہ یہ ہماری مشیت ومرضی اور ہماری حکمت پر منحصر ہے۔ کہ ہم اس سے کس کو نوازیں اور کس طرح نوازیں ۔ { اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ } ۔ (الانعام : 125) کیونکہ اللہ ہی جانتا ہے کہ نبوت و رسالت کی اہلیت اور صلاحیت کس کے اندر ہے۔ نیز حضرت موسیٰ کی بعثت و تشریف آوری کے اس تاریخی حوالے سے اس امر کی ایک اور شہادت پیش فرما دی گئی ہے کہ عقیدئہ توحید تمام انبیاء و رسل کا اجماعی اور متفق علیہ عقیدہ رہا ہے۔ دوسرے انبیائے کرام کی طرح حضرت موسیٰ نے بھی اسی کی دعوت دی کہ یہی اساس ہے ہر دین سماوی کی۔
62 حضرت موسیٰ کا فرعونیوں کے سامنے اعلانِ حق : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " حضرت موسیٰ نے ان سے کہا کہ بیشک میں رسول ہوں پروردگار عالم کی طرف سے "۔ سو حضرت موسیٰ نے ان کے سامنے سب سے پہلے اپنے منصب و مقام کا تعارف کرایا کہ اسے ماننے اور تسلیم کرلینے کے بعد باقی باتوں کا ماننا مشکل نہیں رہتا۔ سو آپ (علیہ السلام) نے اعلان فرمایا کہ بیشک میں رسول اور فرستادہ ہوں پروردگار عالم اللہ وحدہ لاشریک کا۔ پس جو کچھ میں کہتا سناتا ہوں وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہوتا ہے۔ میں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہتا۔ بلکہ اپنے بھیجنے والے کا پیغام بلا کم وکاست پہنچا دینا میرا فرض منصبی ہے۔ اور فرستادہ بھی پروردگار عالم کا ہوں جس کی ربوبیت کا تقاضا ہے کہ وہ نبوت و رسالت کے ذریعے اپنے بندوں کی روحانی غذا و دوا اور ہدایت و اصلاح کا بندوبست بھی فرمائے۔ پس یاد رکھ لو کہ میرے پیغام کو ٹھکرانا پروردگار عالم سے بغاوت ہوگی۔ جس کا بھگتان تمہیں بعد میں بہر حال بھگتنا ہوگا۔ سو یہ دعوت تھی جو حضرت موسیٰ نے فرعون اور اس کے درباریوں اور سرداروں اور نمائندوں کو دی۔ اور ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے انکو اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیجا۔ اور یہ نشانیاں ایسی تھیں جن سے یہ امر واضح ہوجائے کہ آپ واقعی پروردگار عالم کے رسول اور اس کے فرستادہ ہیں اور جو کچھ آپ کہتے سناتے ہیں وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 43:4763 فرعونیوں کی طرف سے حضرت موسیٰ کی تضحیک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب موسیٰ ہماری ان نشانیوں کے ساتھ فرعونیوں کے پاس پہنچ گئے تو وہ لوگ چھوٹتے ہی ہماری آیتوں کی ہنسی اڑانے لگے "۔ اپنی دنیاداری اور مصنوعی بڑائی کے گھمنڈ میں۔ سو اہل حق کے مقابلے میں اہل باطل کا طریقہ و وطیرہ اور عمل و سلوک ہمیشہ یہی رہا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ چناچہ آج بھی آپ دیکھیں گے کہ کتنے ہی اہل باطل ایسے ہوں گے جو اہل حق کا ان کی ڈاڑھیوں کی بنا پر ان کی وضع قطع کو دیکھ کر اور ان کی چال ڈھال وغیرہ کا نت نئے طریقوں سے مذاق اڑائیں گے۔ پس اس ارشاد ربانی میں آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے توسط سے آپ ﷺ کی امت کے ہر داعی حق کے لئے صبر و استقامت اور تسلی و اطمینان کا سامان ہے کہ آپ کے ساتھ اہل باطل جو سلوک آج کر رہے ہیں وہ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں۔ بلکہ اس سے پہلے بھی یہی کچھ ہوتا چلا آیا ہے۔ مگر اللہ پاک کی نصرت و امداد ہمیشہ اہل حق ہی کے ساتھ رہی۔ اور آخری جیت بھی ہمیشہ انہی کی ہوئی۔ اور اہل ظلم و طغیان وباطل آخرکار اپنے اس انجام کو پہنچ کر رہے جس کے وہ مستحق تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعَبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ ، اِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ ، وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغَالِبُوْنَ } ۔ (الصافات :171- 173) ۔ بہرکیف فرعون اور اس کے درباریوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ان نشانیوں کو دیکھ کر انکا مذاق اڑایا کہ یہ کیا نشانیاں ہیں۔ یہ تو ساحری اور جادوگری کے کرشمے ہیں۔ اور ہمارے پاس ایسے ماہر جادوگر ہیں جو ان سے بڑھ کر کرتب دکھا سکتے ہیں۔ اور اس طرح وہ لوگ اپنے کبر و غرور میں اور سخت اور اپنی بدبختی میں مزید پکے ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 43:4864 فرعونیوں کے لیے بڑی بڑی نشانیوں کا انتظام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم انکو ایک سے بڑھ کر ایک نشانی دکھاتے رہے تاکہ وہ باز آجائیں "۔ اپنے کفر وعناد اور مخالفت و عداوتِ حق سے۔ اور وہ راہ حق و صواب کو اپنا کر دائمی اور ابدی ہلاکت و تباہی سے بچ سکیں اور عذاب الیم کی بجائے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کا سامان کرسکیں۔ سو یہ ان نشانیوں کی طرف اشارہ ہے جو پہلی نشانیوں کی تکذیب کے بعد فرعونیوں کو دکھائی گئی تھیں۔ اور یہ نشانیاں تنبیہی نوعیت کی تھیں جو مختلف عذابوں کی شکل میں انکو دکھائی گئی تھیں تاکہ انکو اللہ پاک کی پکڑ اور انکے عذاب و انتقام کا کسی قدر اندازہ ہوسکے اور وہ اپنی سرکشی سے باز آجائیں اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام سے بچ جائیں اور توبہ کے ذریعے اپنی اصلاح کرلیں۔ اور یہ نشانیاں مختلف عذابوں کی شکل میں یکے بعد دیگرے ظاہر ہوئیں اور قدرتی طور پر ہر نشانی اپنی ماقبل سے بڑھ کر اور زیادہ عبرتناک شکل میں ظاہر ہوئی۔ لیکن ان لوگوں کے دلوں پر قساوت اور بدبختی کا ٹھپہ ایسا گہرا اور سخت ہوچکا تھا کہ کوئی بھی نشانی انکے حق میں کارگر ثابت نہ ہوسکی یہاں تک کہ وہ اپنے آخری انجام کو پہنچ کر اور انتہائی سخت عذاب میں مبتلا ہو کر رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انکار و تکذیبِ حق کی فرعونی روش کا نتیجہ وانجام بہرحال بڑا ہولناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 43:4965 فرعونیوں کے کبر و غرور اور ان کی بدبختی کا ایک نمونہ ومظہر : کہ جب وہ کسی عذاب کی گرفت میں آتے تو حضرت موسیٰ سے کہتے اے جادوگر ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر۔ اگر وہ ہم سے یہ عذاب دور کر دے تو ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے۔ سو حضرت موسیٰ کے بارے میں یہ بات وہ لوگ اپنے خیال کے مطابق تعظیم کے لئے کہتے تھے۔ کیونکہ سحر اور جادوگری ان کے یہاں نقص و عیب کی نہیں عظمت و بڑائی کی چیز سمجھی جاتی تھی۔ اور ممکن ہے ان کی پرانی عادت اور باطنی خبث کی بنا پر سبق لسانی کے طور پر یہ کلمہ ان کی زبانوں سے نکل جاتا ہو۔ آیت کریمہ میں یہ دونوں احتمال موجود ہیں۔ اور حضرات مفسرین کرام نے ان دونوں ہی کا ذکر فرمایا ہے۔ (جامع البیان، المراغی، ابن کثیر وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان بدبختوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ کسی عذاب کی گرفت میں آتے تو بھاگتے ہوئے حضرت موسیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہوتے اور نہایت لجاہت کے ساتھ آپ کی بارگہ میں درخواست کرتے کہ آپ ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہم سے اس عذاب کو دور کر دے۔ اگر ایسے ہوگیا تو ہم ضرور آپ پر ایمان لے آئیں گے اور آپ کے ساتھ بنی اسرائیل کو بھی جانے دیں گے۔ لیکن جب اللہ تعالیٰ ان سے وہ عذاب دور کرلیتا تو یہ اپنے اس عہد و پیمان سے پھرجاتے۔ جیسا کہ سورة اعراف کی آیت نمبر 133 سے آیت نمبر 135 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے اور اس کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔ سو یہ ان کے کبر و غرور اور ان کی خر مستی اور بدبختی کا ایک نمونہ اور مظہر تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
66 عہد موسیٰ سے مقصود و مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب فرعونیوں کو کوئی آفت پیش آتی تو وہ لوگ حضرت موسیٰ سے کہتے کہ آپ ہمارے لیے دعا کریں۔ اپنے اس عہد کی بنا پر جو آپکے رب نے آپ سے فرما رکھا ہے۔ یعنی آپ کی دعا کی قبولیت کے بارے میں کہ آپ ﷺ اس کے حضور جو دعا کریں گے وہ اس کو قبول فرمائے گا۔ اور یہ کہ جو آپ پر ایمان لائے گا اس کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ (صفوۃ التفاسیر، محاسن التاویل، القرطبی وغیرہ) ۔ یعنی آپ کے رب نے آپ سے دعا کی قبولیت کا جو عہد فرما رکھا ہے اس کی بنا پر آپ ہمارے لیے اس عذاب کے اٹھائے جانے کی دعا کریں کہ اس صورت میں آپکی دعا ضرور قبول ہوگی۔ سو اگر آپ کی دعا قبول ہوگئی اور ہم سے یہ عذاب اٹھا لیا گیا تو ہم ضرور راہ راست پر آجائیں گے اور آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ لیکن جب وہ عذاب ان سے اٹھا لیا جاتا تو وہ چھوٹتے ہی اپنے عہد و پیمان کو توڑ دیتے۔
Ayahs 43:50–5167 فرعون کا فرعونیت بھرا اعلان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " فرعون نے اپنی قوم میں اعلان کرایا کہ اے میری قوم کے لوگو کیا مجھے مصر کی بادشاہی حاصل نہیں اور کیا یہ نہریں میرے نیچے سے بہتی نہیں رہیں۔ کیا تم لوگ اتنا بھی نہیں دیکھتے "۔ سو اس نے اپنے تکبر کے گھمنڈ میں کہا کہ کیا تم لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم میں سے صحیح کون ہے اور غلط کون۔ یعنی وہی بات جو ہر مادہ پرست انسان کا خاصہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی دنیاوی ترقی اور مادی شان و شوکت کو اپنی حقانیت کی دلیل قرار دینے لگتا ہے۔ سو ابنائے دنیا کا حال اور انکا وطیرہ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور اس طرح ایسے بدنصیب لوگ حق سے مزید دور اور محروم ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ملعون نے اپنی دنیاوی اور مادی ترقی کو دیکھتے ہوئے کہا کہ یہ ملک مصر کی بادشاہی اور یہ دریا اور نہریں جب میرے قبضے میں ہیں اور اس کے مقابلے میں موسیٰ کے پاس کچھ بھی نہیں اور اسکا تعلق بھی ایک غلام قوم سے ہے۔ تو کیا یہ بہتر ہے یا میں ؟۔ یعنی اس کے باوجود تم لوگ اس کی بات کس طرح مانتے ہو ؟
Ayah 43:5268 فرعون کا حضرت موسیٰ کے مقابلے میں اپنی برتری کا دعویٰ : سو اس بدبخت نے کہا " کیا میں اس شخص سے بہتر نہیں جو کہ ذلیل ۔ اور بےقدرا ۔ ہے ؟ "۔ کہ نہ اس کے پاس دنیا کا کوئی مال و دولت ہے نہ حکومت و اقتدار۔ استفہام تقریری ہے یعنی یقینا میں ہی اس سے بہتر ہوں کہ میرے پاس یہ سب کچھ موجود ہے۔ اور اس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ سو مادی ترقی کا یہ پہلو بڑا ہی خطرناک ہے کہ اس کی بنا پر دنیا پرست انسان اپنے آپ کو صحیح اور حق پر سمجھنے لگتا ہے۔ اور اس طرح اس کی حق سے دوری اور محرومی مزید بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ دائمی خسارے کے اس ہاوئے میں جا گرتا ہے جس سے نکلنے کی پھر کوئی صورت اس کے لئے باقی نہیں رہتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس لعین کا حضرت موسیٰ کو " مہین " کہنا اس اعتبار سے تھا کہ آپ ایک غلام قوم کے فرد تھے جو فرعون کی غلامی میں جکڑی ہوئی تھی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
69 فرعون کی طرف سے حضرت موسیٰ کی قوت بیانیہ پر طعنہ زنی : سو اس بدبخت نے حضرت موسیٰ کے بارے میں مزید کہا کہ یہ شخص کھول کر بیان بھی نہیں کرسکتا کہ عبرانی اور قبطی زبانیں آپس میں مختلف تھیں اور موسیٰ کی زبان عبرانی تھی۔ جبکہ اہل مصر کی زبان قبطی۔ (محاسن التاویل) ۔ اور ظاہر ہے کہ کوئی بھی شخص دوسری زبان میں زیادہ طلاقت سے نہیں بول سکتا۔ نیز بچپن میں حضرت موسیٰ کی زبان میں کچھ لکنت بھی تھی مگر اس منحوس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ اللہ پاک نے حضرت موسیٰ کی دعا قبول فرما کر ان کی لکنت کو دور فرما دیا تھا۔ چناچہ موسیٰ نے اپنی دعا میں یہ بھی عرض کیا تھا ۔ { وَاحْلُلْ عُقْدَۃً مِّنْ لِّسَانِیْ یَفْقَہُوا قَوْلِیْ } ۔ جس کے جواب میں ارشاد ہوا تھا ۔ { قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَکَ یَا مُوْسٰی } ۔ (تفسیر المراغی، ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، تفسیر التحریر والتنویر لابن عاشور وغیرہ) ۔ سو حضرت موسیٰ کے بارے میں فرعون کی یہ طعن وتشنیع خود اس کی اپنی ہی حماقت و سفاہت کی دلیل اور اس کا ثبوت تھا۔ بہرکیف اس ملعون نے حضرت موسیٰ کی تحقیر و تذلیل کیلئے تین باتوں کا سہارا لیا۔ ایک یہ کہ ان کے پاس دنیاوی مال و دولت کچھ نہیں۔ دوسرے یہ کہ ان کا تعلق ایک غلام قوم سے ہے۔ اور تیسرے یہ کہ ان میں فصاحت و بلاغت بھی نہیں۔ یہ بات کھول کر بیان نہیں کرسکتے۔ جبکہ میرے اندر یہ تینوں باتیں موجود ہیں کہ میں مصر جیسے اس متمدن ملک کا بادشاہ ہوں اور حکمران قبیلہ یعنی رائل فیملی کا سربراہ اور ایک اہم شخصیت کا مالک ہوں۔ اور فصاحت و بلاغت میں بھی اس سے آگے ہوں۔ تو اب تم لوگ بتاؤ کہ میں بہتر ہوں یا یہ شخص ؟۔