40. Surah Al-Ghaafir

غافرThe Forgiver · 85 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 40:64

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۖۚ فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:64 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لئے زمین (کے اس عظیم الشان کرے) کو آرام گاہ بنادیا اور آسمان کو ایک عظیم الشان چھت اور اسی نے صورت گری فرمائی تم سب کی سو اس نے کیا ہی عمدہ صورتیں بخشیں تمہیں اور اسی نے طرح طرح کی پاکیزہ چیزوں سے تمہاری روزی کا سامان کیا یہ ہے اللہ رب تم سب کا سو بڑی ہی برکت والا ہے اللہ پروردگار سب جہانوں کا

120 اللہ کی معرفت اس کے کارخانہ قدرت کے ذریعے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہے اللہ رب تم سب کا "۔ یعنی ان اور ان عظیم الشان قدرتوں، عظمتوں، رحمتوں، عنایتوں اور نوازشوں والا ۔ جَلَّ جَلَالُہ وَعَمَّ نَوَالُہ ۔ سو اس وحدہ لاشریک کی معرفت اگر تم لوگ حاصل کرنا چاہتے ہو اور اس سلسلے میں اگر تم سچے اور مخلص ہو تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ تم اس کی تخلیق فرمودہ کائنات کی اس کھلی کتاب میں غور کرو جس میں اس کی عظمت وقدرت، رحمت و عنایت اور بخشش و حکمت کے مظاہر ہر چار سو پھیلے بکھرے ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہی ہے اللہ جو ان قدرتوں، حکمتوں اور رحمتوں و عنایتوں والا ہے۔ نہ کہ وہ جن کو لوگوں نے ازخود مختلف ناموں سے گھڑ رکھا ہے اور انکو وہ ازخود حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر پوجتے پکارتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنی تذلیل و تحقیر، ہلاکت و تباہی اور ذلت و رسوائی کا سامان خود سے کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف کائنات کے اس عظیم الشان کارخانہ میں غور و فکر اور صحیح غور و فکر معرفت پروردگار سے سرفرازی کا صحیح ذریعہ و وسیلہ ہے کہ پتہ پتہ اس کی معرفت کا ایک دفتر ہے۔ اس لیے اصول یہ بیان فرمایا گیا کہ ۔ " تفکروا فی المخلوق ولا تفکروا فی الخالق " ۔ یعنی مخلوق میں غور کرو نہ کر خالق میں کہ خالق کی شان تمہارے احاطہ فکر و تصور سے اعلیٰ وبالا اور تمہاری قدرت و طاقت سے خارج ہے۔ اس کو ویسے ہی مانو جیسا کہ وہ اپنے بارے میں خود بتائے یا اس کا رسول بتائے اور بس ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 40:65

هُوَ الْحَیُّ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ فَادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:65 in the Quran reader

وہی (اور صرف وہی) ہے زندہ کوئی معبود نہیں سوائے اس کے پس تم سب اسی کو پکارو اسی کے لئے خالص کرتے ہوئے اپنے دین (و اعتقاد) کو سب تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو پالنے والا ہے سب جہانوں کا

121 اللہ ہی زندہ ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے زندہ "۔ کہ اس کی زندگی حقیقی، ذاتی اور دائمی ہے۔ اس کو نہ عدم سابق سے واسطہ نہ لاحق سے۔ اس کو نہ فنا ہے نہ زوال۔ اور یہ شان اس کے سوا اور کسی کی بھی نہیں۔ پس معبود برحق بھی وہی اور صرف وہی ہے۔ اس کے سوا اور کسی کے لئے نہ کسی قسم کی عبادت کا حق ہے نہ جواز۔ پس تم سب لوگ اسی کو پکارو بندگی کو اسی کے لئے خالص کرتے ہوئے۔ اس کے سوا دوسروں کو جو لوگ پکارتے ہیں وہ مردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ وہ نہ کسی کی سن سکتے ہیں اور نہ مدد کرسکتے ہیں۔ انکو پوجنا، پکارنا اوہام اور خرافات کی پیروی کے سوا کچھ نہیں۔ اور ان کی پوجا پاٹ کرکے اپنی تذلیل و تحقیر کا سامان کرنا سراسر خسارے اور دھوکے کا سودا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس تم لوگ ان سب کو چھوڑ کر اور ان سب سے منہ موڑ کر ایک اللہ کی عبادت و بندگی کرو۔ وہی وحدہ لاشریک ہر قسم کی عبادت و بندگی کا اصل حقدار ہے اور اسی کی عبادت و بندگی میں تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر قائم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 40:66

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ لَمَّا جَآءَنِیَ الْبَیِّنٰتُ مِنْ رَّبِّیْ١٘ وَ اُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 40:66 in the Quran reader

(ان سے صاف) کہہ دو کہ مجھے تو بہرحال اس سے منع کیا گیا ہے کہ میں عبادت (و بندگی) کروں ان ہستیوں کی جن کو تم لوگ (پوجتے) پکارتے ہو اللہ کے سوا جب کہ پہنچ چکے میرے پاس روشن دلائل میرے رب کی جانب سے اور مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں سر تسلیم خم کردوں پروردگار عالم کے آگے

122 مشرکین و منکرین سے اظہار براءت کی تعلیم و تلقین : سو پیغمبر کو حکم فرمایا گیا کہ " آپ ان لوگوں سے کہو کہ مجھے بہرحال اس بات سے منع فرمایا گیا ہے کہ میں ان لوگوں کی بندگی کروں جن کو تم لوگ پوجتے پکارتے ہو اللہ کے سوا "۔ سو یہ معاندین و منکرین حق کے لئے ایک داعی حق کا آخری جواب ہے کہ اگر تم لوگ غیر اللہ کی پرستش سے باز نہیں آتے تو تمہاری مرضی کہ دلوں کو بدل دینا اور حق کو منوا کر چھوڑنا نہ تو میرے بس میں ہے اور نہ ہی میری ذمہ داری۔ سو اب تمہاری مرضی تم جو چاہو کرو۔ میں بہرحال تمہارے اس کفر و شرک سے بےزار ہوں ۔ { لَکُمْ دِیْنُکُمْ وَلِیَ دِیْنِ } ۔ جن معبودان باطلہ کی پوجا پاٹ میں تم لوگ لگے ہوئے ہو ان کیلئے تم خواہ کتنا ہی زور لگاؤ میں ان کی پوجا کسی بھی صورت نہیں کرسکتا۔ پس تمہارا راستہ الگ اور میرا راستہ الگ کہ حق اور باطل کے درمیان اتحاد واشتراک ممکن ہی نہیں ہوسکتا۔ 123 اہل حق کے لیے غیر اللہ کی بندگی ممکن نہیں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دلائل حق کا تقاضا، حق کے آگے دل و جان سے جھک جانا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " میں ان کی بندگی بہرحال نہیں کرسکتا جن کو تم لوگ پوجتے پکارتے ہو اللہ کے سوا ان روشن دلائل کے بعد جو کہ آچکے ہیں میرے پاس میرے رب کی جانب سے "۔ جو قرآن حکیم کے صفحات پر اور کائنات کی اس کھلی کتاب میں جا بجا بکھرے پڑے ہیں۔ اور پکار پکار کر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی وحدانیت ویکتائی کا درس دے رہے ہیں کہ قرآنی آیات بھی دراصل ان کونی آیات کی تشریح و توضیح ہی کرتی ہیں جو کائنات کی اس کھلی کتاب میں ہر طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ پس طلب صادق، عقل خالص اور فکر رسا چاہیئے۔ ورنہ محض حیوانی آنکھوں کے ساتھ دیکھنے سے کچھ نہیں بن سکتا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور انسان جب صحیح طریقے سے کائنات کے ان کھلے اور واضح دلائل میں غور و فکر سے کام نہیں لیتا تو وہ حیوان سے بھی نیچے گرجاتا ہے اور وہ ۔ { کالانعام بن ھم اضل } ۔ کا مصداق بن کر کائنات کے ان مختلف مظاہر کی پوجا کرنے لگ جاتا اور ایسے ایسے کام کرنے لگتا ہے کہ حیوان کو بھی نہیں سوجھ سکتے۔ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اہل حق کے لیے غیر اللہ کی بندگی کسی بھی طرح ممکن نہیں ہوسکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 124 پروردگار عالم کے حضور سر تسلیم خم کردینے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سرتسلیم خم کردوں پروردگار عالم کیلئے "۔ اس کے سوا کسی کے آگے بھی سر نہ جھکاؤں۔ یہی درس ہے ہر داعی ٔ حق کے لئے کہ وہ فرزندان کفر و شرک کے جواب میں اپنا آخری اور قطعی اعلان اسی طرح صاف اور دو ٹوک لفظوں میں سنا دے تاکہ وہ لوگ اس کے بارے میں کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ رہیں اور انکے سامنے واضح ہوجائے کہ وہ کسی طرح کی تحریص و ترغیب یا لالچ دباؤ وغیرہ کے آگے جھکنے والا نہیں۔ اور یہ لوگ اس طرح کے ہتھکنڈوں کے ذریعے اس میں کسی طرح کی کوئی لغزش نہیں پیدا کرسکتے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ مجھے تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں کلیتہً اپنے آپ کو خداوند عالم کے حوالے کردوں کہ ہر قسم کی عبادت و بندگی بھی صرف اسی کیلئے بجا لاؤں اور ہر قسم کی اطاعت و فرمانبرداری بھی اسی کیلئے کہ اس کا اصل حقدار وہی وحدہ لاشریک ہے جو کہ پروردگار ہے سارے عالم کا۔ سو معبود برحق اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayahs 40:67–68

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ مِنْ عَلَقَةٍ ثُمَّ یُخْرِجُكُمْ طِفْلًا ثُمَّ لِتَبْلُغُوْۤا اَشُدَّكُمْ ثُمَّ لِتَكُوْنُوْا شُیُوْخًا١ۚ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّتَوَفّٰى مِنْ قَبْلُ وَ لِتَبْلُغُوْۤا اَجَلًا مُّسَمًّى وَّ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 40:67 in the Quran reader

وہ (اللہ) وہی تو ہے جس نے پیدا فرمایا تم سب کو مٹی سے پھر نطفے سے پھر خون کے لوتھڑے سے پھر وہی تمہیں نکالتا ہے (تمہاری ماؤں کے پیٹوں سے) ایک کامل بچے کی شکل میں پھر (وہ تمہیں بڑھاتا پالتا جاتا ہے) تاکہ تم لوگ پہنچ جاؤ اپنی (جوانی کی) بھرپور قوتوں کو (پھر وہ تم کو اور موقع دیتا ہے کہ) تاکہ تم پہنچ جاؤ اپنے بڑھاپے کی عمر کو اور تم میں سے کوئی اس سے پہلے مرجاتا ہے (یہ سب کچھ اس لئے کہ) تاکہ تم پہنچ جاؤ مقررہ مدت کو اور تاکہ تم لوگ کام لو اپنی عقل (و فکر) سے

هُوَ الَّذِیْ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ۚ فَاِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ۠ Open ayah 40:68 in the Quran reader

وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے پھر جب وہ کسی کام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو اس کو صرف اتنا کہنا ہوتا ہے کہ ہوجا پس وہ ہوچکا ہوتا ہے1

128 زندگی اور موت اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے جو زندگی بخشتا اور موت دیتا ہے "۔ سو احیاء و اماتت یعنی زندگی بخشنا اور موت دنیا اسی وحدہ لاشریک کی صفت و شان اور اسی کا اختصاص ہے۔ اس کے سوا کسی بھی شخص اور کسی بھی ہستی کے لئے احیاء و اماتت کی یہ صفت ماننا شرک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کتنے بہکے اور بھٹکے ہوئے اور غلط کار ہیں وہ لوگ جو سادہ لوح عوام کو اس طرح کے ڈراوے دے کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں کہ اگر تم نے فلاں پیر صاحب کے نام کی نیاز نہ دی تو وہ تمہاری بھینس کو مار دیں گے اور تم کو یہ اور یہ نقصان پہنچا دیں گے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ قرآن و سنت کی ایسی بیشمار نصوص اس کی تصریح کرتی ہیں کہ زندگی بخشنے اور موت دینے کے تمام تر اختیارات اللہ وحدہ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں۔ جسکو وہ زندہ رکھنا چاہے اسے کوئی مار نہیں سکتا اور جس کو وہ موت سے ہمکنار کرنا چاہے اسے کوئی بچا نہیں سکتا۔ نیز اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ معبود برحق بھی وہی وحدہ لا شریک ہے کہ احیاء و اماتت کی صفت کا مالک جب وہی وحدہ لا شریک ہے تو ہر قسم کی عبادت و بندگی بھی اسی کا حق ہے۔ اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے اور نہ کسی کو اس کا کوئی حق پہنچ سکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس اس کے حق بندگی میں کسی کو شریک ماننا ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 129 اللہ کی شان کن فیکون کی شان ہے : سو اس سے واضح کردیا گیا کہ اس کی شان کن فیکون کی شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یعنی اس کو کسی کام کے کرنے کے لئے اسباب و وسائل سے کام لینے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ صرف حکم کرنا ہوتا ہے اور بس۔ تو پھر اس کے لئے کسی بھی چیز کے مشکل ہونے کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے۔ سو قیامت کے بپا کرنے کیلئے جب وہ کلمہ کن ۔ ہوجا ۔ سے حکم فرمائے گا تو وہ چشم زدن میں سب کے سامنے موجود ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاِنَّمَا ہَیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمْ بالسَّاہِرَۃِ } ۔ (النازعات :13-14) ۔
Ayah 40:69

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ اَنّٰى یُصْرَفُوْنَ٤ۖۛۚ Open ayah 40:69 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو جھگڑا کرتے ہیں اللہ کی آیتوں کے بارے میں کہاں (اور کیسے) پھیرے جاتے ہیں یہ لوگ (حق اور حقیقت سے) ؟

130 منکرین کی مت ماری پر اظہار تعجب و افسوس : سو منکرین کی مت ماری پر اظہار تعجب و افسوس کے طور پر فرمایا گیا کہ " آخر کہاں اور کیسے پھیرے جاتے ہیں یہ لوگ راہ حق و ہدایت سے ؟ "۔ یعنی ان کا معاملہ نہایت تعجب خیز ہے کہ اللہ پاک کی آیتوں کو ماننے اور ان پر ایمان لانے کی بجائے الٹا یہ لوگ ان میں جدال سے کام لیتے ہیں۔ اور اس طرح راہ حق سے دور تر ہوتے چلے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ انکے جسم کے اندر اور باہر کے یہ واضح حقائق انکے سامنے ہیں مگر یہ غفلت کے مارے ایسے اندھے اور اس قدر اوندھے ہیں کہ ان کی آنکھیں پھر بھی نہیں کھلتیں۔ تو آخر یہ کہاں پھیرے جاتے ہیں اور ان کی مت کیسے ماری جاتی ہے ؟ اور یہ اللہ کی آیتوں میں اس طرح کٹ حجتی سے کام کیوں لینے لگتے ہیں ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 40:70

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِالْكِتٰبِ وَ بِمَاۤ اَرْسَلْنَا بِهٖ رُسُلَنَا١ۛ۫ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 40:70 in the Quran reader

جن لوگوں نے جھٹلایا ہماری اس کتاب کو اور ان تعلیمات کو جن کے ساتھ ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو وہ عنقریب خود ہی جان لیں گے (اپنے کئے کرائے کے نتیجہ و انجام کو)

131 کتاب الہی کی تکذیب کا ہولناک جرم اور اسکا انجام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے جھٹلایا ہماری اس کتاب کو " یعنی الف لام یہاں پر عہدی ہے۔ مراد اس سے قرآن مجید ہے جو کہ سب آسمانی کتابوں کا محافظ اور جامع ہے۔ (صفوہ وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد میں انکا وہ جرم بیان فرمایا گیا ہے جو جرموں کا جرم اور دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی اس کتاب کی تکذیب و انکار جو کہ سب آسمانی کتابوں کی خاتم، ان کی جامع اور ان کی اصل اور اصولی تعلیمات کی مہیمن اور محافظ کتاب ہے کہ اس کی تکذیب و انکار کا مطلب دنیا کو نور حق و ہدایت سے محروم کرکے گھٹا ٹوپ اندھیروں کے حوالے کردینا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کتاب الہی کو جھٹلانے کا جرم بڑا ہولناک اور سنگین جرم ہے اور اس کا نتیجہ و انجام بھی بڑا ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 132 تعلیمات رسول کی تکذیب باعث محرومی و ہلاکت ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن لوگوں نے جھٹلایا اللہ کی کتاب کو اور ان تعلیمات کو جنکے ساتھ ہم نے اپنے رسولوں کو بھیجا "۔ اس میں باقی تمام آسمانی کتابیں بھی آگئیں اور وہ بنیادی اور مشترکہ تعلیمات بھی جن کی تلقین سب انبیائے کرام نے فرمائی۔ مثلاً اللہ کی وحدانیت، اس کے لئے اخلاص عبادت، رسالت اور بعث بعد الموت وغیرہ کہ ان سب کو مانا جائے اور ان کے مطابق عقیدئہ و عمل کی اصلاح کی جائے۔ (المراغی، جامع البیان، صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو حضرات انبیائے کرام کی ان بنیادی تعلیمات کی تکذیب و انکار ایک بڑا ہی ہولناک اور سنگین جرم ہے کہ اسکا نتیجہ و انجام ہدایت کے نشانات کو مٹانا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان کے انجام کی اس تہویل کو ظاہر اور واضح کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ } ۔ یعنی عنقریب ان کو خود معلوم ہوجائے گا۔ 133 منکرین و مکذبین کے انجام کی ہولناکی کا اظہار : سو منکرین و مکذبین کے انجام کی ہولناکی کے اظہار کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ عنقریب یہ لوگ خود ہی دیکھ اور جان لیں گے اپنے کیے کرائے کے انجام کو۔ سو یہ سخت وعید ہے ایسے لوگوں کے لیے کہ جو لوگ ان حقائق کو اس وقت نہیں مانتے کل قیامت میں جب اس کا نتیجہ عملی طور پر ان کے سامنے آئے گا تو ان کو سب کچھ خود معلوم ہوجائے گا۔ اور یہ لوگ اس وقت چیخ چیخ کر ان کے ماننے کا اعلان و اظہار کریں گے۔ مگر اس وقت کے ماننے اور افسوس کرنے کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ سو یہ لوگ اگر حق و ہدایت کی دعوت قبول کرنے کیلئے تیار نہیں تو انکو چھوڑ دو تاکہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں اور وہ انجام اتنا ہولناک ہوگا کہ احاطہ بیان سے باہر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لیے اس کے لیے ۔ { فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ } ۔ فرمایا گیا جس میں اس کی تہویل کی طرف اشارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 40:71–72

اِذِ الْاَغْلٰلُ فِیْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ١ؕ یُسْحَبُوْنَۙ Open ayah 40:71 in the Quran reader

جب کہ طوق پڑے ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں (ان کے پاؤں میں اور) انہیں گھسیٹا جا رہا ہوگا

فِی الْحَمِیْمِ١ۙ۬ ثُمَّ فِی النَّارِ یُسْجَرُوْنَۚ Open ayah 40:72 in the Quran reader

کھولتے پانی میں پھر ان کو جھونک دیا جائے گا (دوزخ کی دہکتی بڑھتی) اس آگ میں

134 دوزخیوں کے حال بد کی ایک تصویر : سو دوزخیوں کے حال بد کی ایک تصویر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب طوق پڑے ہوں گے ان کی گردنوں میں اور زنجیریں انکے پاؤں میں ۔ والعیاذ باللہ : مفسر ابن کثیر فرماتے ہیں کہ زنجیریں ان کے طوقوں سے بندھی ہوں گی۔ اور فرشتے ان سے پکڑ کر ان کو کبھی وہاں کے اس کھولتے پانی میں اور کبھی اس دہکتی آگ میں منہ کے بل گھسیٹ رہے ہوں گے جو انتہائی ہولناک ہوگی۔ جیسا کہ خود قرآن حکیم میں دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { یَطُوْفُوْنَ بَیْنَہَا وَ بَیْنَ حَمِیْمٍ اٰنٍ } ۔ ( الرحمن : 44) ۔ والعیاذ باللّٰہِ العزیزالرحمن ۔ سو ان منکرین نے چونکہ استکبار یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر حق کا انکار کیا تھا اس لیے انکے اس کفر و انکار اور تکذیبِ حق کے نتیجے میں انکو یہ ہولناک اور رسوا کن عذاب بھگتنا ہوگا کہ ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں گے اور انکے پاؤں میں زنجیریں۔ جنکے ذریعے انکو کھولتے پانی میں گھسیٹا جائے گا۔ پھر ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے گا۔ اور یہ اس کا ایندھن بن جائیں گے۔ " سجّر التنور " کے معنیٰ ہوتے ہیں کہ " تنور کو ایندھن سے بھر دیا "۔ سو ان بدبختوں کو اس طرح پکڑ اور جکڑ کر دوزخ میں جھونک دیا جائے گا جہاں ان کو اپنے کفر و انکار کا بھگتان بھگتنا ہوگا اور ہمیشہ ہمیش کے لیے آتش دوزخ کا ایندھن بننا ہوگا۔ سو کفر و انکار دارین کی ناکامی اور ہر خیر سے محرومی اور اس کا انجام نہایت ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 40:73–74

ثُمَّ قِیْلَ لَهُمْ اَیْنَ مَا كُنْتُمْ تُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 40:73 in the Quran reader

پھر ان سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم لوگ شریک ٹھہرایا کرتے تھے

مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالُوْا ضَلُّوْا عَنَّا بَلْ لَّمْ نَكُنْ نَّدْعُوْا مِنْ قَبْلُ شَیْئًا١ؕ كَذٰلِكَ یُضِلُّ اللّٰهُ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 40:74 in the Quran reader

اللہ کے سوا ؟2 وہ کہیں گے کہ وہ سب کھو گئے ہم سے بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی چیز کو (سرے سے) پکارتے ہی نہیں تھے اسی طرح اللہ گمراہی (کے گڑھے) میں ڈالتا ہے کافروں کو3

135 مستکبرین کی تذلیل و تحقیر کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ان سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں وہ جن کو تم لوگ شریک ٹھہرایا کرتے تھے اللہ وحدہ لا شریک کا ؟ "۔ سو یہ ان سے ان کی مزید تذلیل و توبیخ کے لئے کہا جائے گا۔ یعنی ان کو زیادہ رسوا کرنے کے لئے ان سے کہا جائے گا کہ کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم لوگوں نے خدائی اختیارات میں شریک وسہیم بنا رکھا تھا اور تم لوگ کہا کرتے تھے کہ یہ ہمیں چھڑا اور بچا لیں گے۔ آج وہ تمہاری مدد کیوں نہیں کر رہے ؟ ان کو بلاتے کیوں نہیں ؟ کہ وہ اس مشکل وقت میں تمہارے کام آئیں اور تمہیں اس عذاب سے رہائی دلائیں۔ { من دون اللہ } یہاں پر مدِّمقابل کے معنیٰ میں ہے۔ اور اس معنیٰ میں یہ لفظ کئی جگہ استعمال ہوتا ہے۔ 136 منکرین و مستکبرین کی یاس و حسرت کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سوال کے جواب میں وہ لوگ کہیں گے کہ وہ سب کھوگئے ہم سے۔ یعنی ان سے ہم نے جو توقعات وابستہ کر رکھی تھیں وہ پوری نہ ہوئیں۔ اور آج کے اس مشکل وقت میں وہ ہمارے کچھ کام نہ آسکے۔ (جامع وغیرہ) ۔ سو بڑے دھوکے میں تھے جو انکو شریک ٹھہرا رہے تھے اور قطعی طور پر بےبنیاد تھیں طرح طرح کی وہ توقعات جو ان لوگوں نے ان کے ساتھ وابستہ کر رکھی تھیں۔ دنیا کے اس دار الغرور سے گزرنے کے بعد کشف حقائق کا وہ جہان غیب جب سامنے آئے گا اور سب حقائق آشکارا ہوجائیں گے تو اس وقت ان کی یاس و حسرت کا کوئی کنارہ نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 137 منکرین و مستکبرین کی حواس باختگی کا ایک منظر : سو ان کی اس دن کی اس بدحواسی کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ اپنے شرک کا انکار کرتے ہوئے کہیں گے کہ " نہیں بلکہ ہم تو اس سے پہلے کسی چیز کو پکارتے ہی نہیں تھے "۔ یعنی اپنے شرک کا وہ لوگ سرے سے ہی انکار کردیں گے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ان کا یہ انکار اس طرح نقل فرمایا گیا ہے ۔ { وَاللّٰہِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ } ۔ (الانعام : 23) یعنی " قسم ہے اللہ کی جو کہ ہمارا رب ہے ہم مشرک تھے ہی نہیں " سو یہ لوگ وہاں پر اللہ کی قسم کھا کر کہیں گے کہ ہم مشرک تھے ہی نہیں اور اس طرح یہ لوگ اپنے شرک کا صاف وصریح طور پر انکار کریں گے۔ یا یہ کنایہ ہے ضیاع اور بطلان سے۔ یعنی ہماری وہ عبادت اور غیر اللہ کی پوجا و پکار ہمیں کچھ کام نہ دے سکی۔ جیسا کہ کسی کی محنت ضائع چلی جائے تو وہ کہتا ہے میں نے کچھ کیا ہی نہیں۔ یعنی یہ کرنا نہ کرنے کے برابر ہے۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ بہرکیف اول و ہلہ میں وہ اقرار کریں گے کہ ہم نے کچھ شریک ٹھہرائے تھے لیکن آج وہ ہم سے کھوگئے۔ لیکن جب وہ دیکھیں گے انکو شریک ٹھہرانے کی پاداش ہی میں وہ اس انجام کو پہنچے تو وہ اسکا انکار کردیں گے کہ تاکہ شاید اس طرح ان کی رہائی اور گلو خلاصی کی کوئی صورت نکل آئے مگر کہاں اور کیونکر ؟ ۔ { اَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ } ۔ سو قیامت کے روز مشرکین پر ایسی بدحواسی طاری ہوگی کہ وہ ایک ہی سانس میں اپنے معبودوں کا اقرار بھی کریں گے اور انکار بھی۔ جیسا کہ سورة انعام کی آیت 23 اور 24 میں بھی گزر چکا ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 138 عناد و ہٹ دھرمی کا نتیجہ محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اسی طرح اللہ گمراہی میں ڈالتا ہے کافروں کو "۔ یعنی اللہ پاک کا قانون اور ضابطہ یہی ہے کہ جو کوئی اپنے کفر و باطل پر اڑ جاتا ہے وہ اسی طرح گمراہی کا شکار ہوجاتا ہے کہ اس کی مت مار دی جاتی ہے اور اس کو سیدھی اور صاف بات بھی الٹی اور ٹیڑھی نظر آنے لگتی ہے۔ اور اس طرح وہ حق و ہدایت کے نور مبین اور صراط مستقیم سے محروم ہو کر کفر و باطل کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گھر جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسوں کو ہدایت کیسے ملے جبکہ نور ایمان و یقین سے سرفرازی اور بہرہ مندی کیلئے اولین شرط اخلاص نیت اور طلب صادق ہے۔ سو عناد و ہٹ دھرمی کا نتیجہ محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 40:75–76

ذٰلِكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُوْنَۚ Open ayah 40:75 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا کہ) یہ بدلہ ہے اس کا جو تم اترایا کرتے تھے زمین میں ناحق طور پر اور اس کا جو تم اکڑا کرتے تھے (وہاں)

اُدْخُلُوْۤا اَبْوَابَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ۚ فَبِئْسَ مَثْوَى الْمُتَكَبِّرِیْنَ Open ayah 40:76 in the Quran reader

اب داخل ہوجاؤ تم سب جہنم کے دروازوں میں جہاں تم کو ہمیشہ رہنا ہے سو بڑا ہی برا ٹھکانا ہے تکبر کرنے والوں کا1

140 انکار اور تکبر کا نتیجہ دائمی دوزخ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکروں اور متکبروں کو ہمیشہ کے لیے دوزخ میں داخلے کا حکم کردیا جائے گا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تب ان کو حکم ہوگا کہ اب تم لوگ داخل ہوجاؤ جہنم کے دروازوں میں جہاں تم کو ہمیشہ رہنا ہے "۔ جو کہ سات ہیں جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَہَا سَبْعَۃُ اَبْوَابٍ لِکُلِّ بَابٍ مِّنْہُمْ جُزْئٌ مَقْسُوْمٌ } ۔ (الحجر : 44) ۔ یعنی اب تمہارے لیے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہیں اب تم جہنم میں داخل ہوجاؤ جہاں تم نے ہمیشہ رہنا ہے۔ سو جہنم کے یہ دروازے تمہارے سامنے کھلے ہوئے ہیں۔ اب تم داخل ہوجاؤ ان کے ذریعے دوزخ میں جہاں تم کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ سو کبر و غرور اور انکار و تکذیب کا نتیجہ نہایت ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ 141 متکبروں کا ٹھکانا بڑا ہی برا ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے تکبر کرنے والوں کا "۔ کہ یہی تکبر ان کو راہ حق سے روکنے کا ایک بنیادی سبب اور بڑا عنصر تھا۔ پس اب اس کے نتیجے میں تم لوگ دوزخ کے اس عذاب الیم کا مزہ چکھتے رہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو تکبر اور اپنی بڑائی کا گھمنڈ بیماریوں کی بیماری اور محرومیوں کی محرومی ہے کہ اس کی بنا پر انسان حق سے منہ موڑتا ہے جسکے نتیجے میں وہ ایسے ہولناک عذاب میں مبتلا ہوتا ہے۔ اور وہ بھی اس طور پر کہ اس کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہوگا اور ظاہر ہے کہ یہی سب سے برا انجام اور انتہائی ہولناک ٹھکانا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 40:77

فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰهِ حَقٌّ١ۚ فَاِمَّا نُرِیَنَّكَ بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُهُمْ اَوْ نَتَوَفَّیَنَّكَ فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 40:77 in the Quran reader

پس آپ صبر ہی سے کام لیتے رہیں یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے پھر اگر ہم دکھا دیں آپ کو (اے پیغمبر ! ) کچھ حصہ اس عذاب کا جس سے ہم ان لوگوں کو ڈرا رہے ہیں یا آپ کو اس سے پہلے ہی دنیا سے اٹھا لیں تو (اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ) ان سب نے تو بہرحال ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

142 صبر وسیلہ ظفر۔ وباللہ التوفیق : سو پیغمبر کو خطاب کر کے صبر و ثبات کی تعلیم و تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا " پس آپ ﷺ صبر ہی سے کام لیتے رہیں "۔ ان تکلیفوں اور ایذا رسانیوں پر جو آپ ﷺ کو ان ناہنجاروں کی طرف سے پہنچ رہی ہیں کہ اس سے آپ ﷺ کے اجر وثواب اور مرتبہ و مقام میں اضافہ ہی ہوتا جائے گا اور یہ لوگ اپنے کیفر کردار کو خود پہنچ کر رہیں گے۔ اگر یہ باز نہ آئے اپنے کفر و انکار سے کہ کفر و انکار اور حق سے اعراض و روگردانی کا نتیجہ و انجام بہرحال دائمی عذاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس میں پیغمبر کے لیے تسلی ہے کہ آپ ان لوگوں کی حرکتوں پر صبر ہی سے کام لیں۔ یہ لوگ وقت آنے پر اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔ 143 اللہ کا وعدہ بہرحال ہو کر رہنے والا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا اللہ کا وعدہ قطعی طور پر سچا ہے "۔ جو اس نے آپ ﷺ کی حفاظت اور آپ ﷺ کے پیش فرمودہ دین حق کی سربلندی کے لئے آپ ﷺ سے فرما رکھا ہے۔ یہ بدبخت اپنی شر انگزیوں سے نہ آپ کا کچھ بگاڑ سکیں گے اور نہ اس دین حق کی راہ کو روک سکیں گے۔ پس آپ ﷺ اللہ کے وعدے کے اعتماد اور بھروسے پر ہمیشہ اور ہر حال میں راہ حق پر ثابت قدم رہیں کہ آپ ﷺ کیلئے آئندہ آنے والی ہر حالت بہتر ہے۔ (الاضحی : 4) اور آپ ﷺ بہرحال حق و ہدایت کی سیدھی راہ پر ہیں۔ (الذخرف :3) اور انجام کار کامیابی بہرحال حق اور تقویٰ ہی کی ہے۔ (طہٓ: 132) ۔ سو ایمان وتقویٰ کیلئے ناکامی ہے ہی نہیں بلکہ ہر حالت میں خیر ہی خیر ہے۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں فرمایا گیا کہ مومن کی ہر حالت خیر ہی خیر ہے۔ اور یہ شان مومن کے سوا اور کسی کو بھی نصیب نہیں۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی اور نہایت ہی ہولناک خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ 144 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سب نے لوٹ کر بہرحال ہمارے ہی پاس آنا ہے "۔ اور اس طرح انہوں نے اپنے کئے کرائے کا بدلہ بہرحال پا کر رہنا ہے خواہ سب کا سب آخرت میں ہو یا اس کا کچھ حصہ اس دنیا میں بھی ہم ان کو چکھا دیں۔ بچنا انہوں نے بہرحال نہیں۔ پس کچھ عرصہ کے لئے یہ جو آزادی اور اطمینان سے چلتے پھرتے ہیں تو یہ نہ تو ان کے لئے دھوکے کا باعث ہونا چاہیئے اور نہ آپ ﷺ کے لئے تعجب و افسوس کا سبب۔ (المومن : 4) ۔ انہوں نے اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہنا ہے اگر یہ باز نہ آئے اپنے کفر و انکار سے۔ واضح رہے کہ حضرات انبیاء و رسل نے اپنی قوموں کو دو قسم کے عذابوں سے ڈرایا اور خبردار کیا ہے۔ ایک وہ عذاب جو ان پر انکار اور تکذیبِ حق کی پاداش میں اسی دنیا میں آتا ہے۔ اور دوسرا وہ عذاب جس سے ان کو آخرت کے اس حقیقی جہاں میں سابقہ پیش آئے گا جو کہ جزا و سزا اور بدلے کا دن ہے۔ یہاں پر۔ { بَعْضَ الَّذِیْ نَعِدُہُمْ } ۔ سے اسی دنیاوی عذاب کی طرف اشارہ ہے۔ کیونکہ یہ عذاب اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے اسی عذاب آخرت کا ایک حصہ ہے جس سے کفار و منکرین کو آخرت کے اس جہاں میں بہرحال سابقہ پیش آئے گا۔ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی امت کی اکثریت چونکہ آپ پر ایمان لے آئی تھی اس لیے وہ اس طرح کے کسی دنیاوی عذاب سے محفوظ رہی تھی۔ البتہ اس امت کے اشرار کو آخرت کا وہ عذاب بہرحال بھگتنا ہے جو کفار و مشرکین کے لیے طے و مقدر ہے۔ سو ۔ { فَاِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ } ۔ سے اسی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی عذاب سے ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 40:78

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ مِنْهُمْ مَّنْ قَصَصْنَا عَلَیْكَ وَ مِنْهُمْ مَّنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْكَ١ؕ وَ مَا كَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاْتِیَ بِاٰیَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَمْرُ اللّٰهِ قُضِیَ بِالْحَقِّ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْمُبْطِلُوْنَ۠ Open ayah 40:78 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں ان میں سے کچھ کے حالات تو ہم نے آپ کو بتا دئیے ہیں اور کچھ کے نہیں بتائے اور کسی رسول کے بس میں نہیں تھا کہ وہ کوئی معجزہ پیش کرسکے مگر اللہ کے اذن کے ساتھ پھر جب آپہنچا اللہ کا حکم تو فیصلہ کردیا گیا حق (اور انصاف) کے ساتھ اور سخت خسارے میں پڑگئے اس موقع پر باطل پرست

145 رسولوں کا ذکر برائے تسلیہ و تسکین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے آپ سے پہلے کتنے ہی رسول بھیجے جن میں سے کچھ کے حالات ہم نے آپ کو سنائے اور کچھ کے حالات ہم نے آپ کو نہیں بتائے "۔ چناچہ قرآن پاک میں مجموعی طور پر صرف پچیس انبیائے کرام کے حالات بیان فرمائے گئے ہیں جبکہ مسند امام احمد کی روایت کے مطابق حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے فرمایا کہ اللہ پاک نے ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیائے کرام کو مبعوث فرمایا ہے جن میں سے رسول تین سو پندرہ ہوئے ہیں ۔ باقی سب نبی تھے ۔ مگر ان کے تفصیلی حالات تو کیا ان سب کے ناموں کا بھی پتہ نہیں۔ اور قرآن و سنت میں ان میں سے ایک محدود عدد کے سوا کسی کا کوئی تذکرہ نہیں ملتا۔ اس لئے ان پر ایمان بھی صرف اجمالی طور پر لانا کافی ہے کہ اللہ پاک نے جتنے بھی انبیائے کرام بھیجے اور جس زمانے میں بھی بھیجے وہ سب کے سب سچے تھے۔ اور ان کا پیغام بھی حق اور سچ تھا۔ خواہ وہ کہیں بھی تشریف لائے ہوں اور ان کے اسمائے گرامی کچھ بھی ہوئے ہوں کہ اس کے سوا قرآن و سنت میں ان کے بارے میں کچھ بتایا ہی نہیں گیا۔ سو یہ ارشاد اہل بدعت کے علم غیب کلی کے خود ساختہ اور من گھڑت شرکیہ عقیدے پر ایک زبردست اور ٹھوس ضرب کاری ہے کہ اس میں آنحضرت ﷺ کو صریح طور پر ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ کتنے ہی رسول ایسے بھی ہیں جن کے حالات ہم نے آپ کو نہیں بتائے۔ مگر اس کے باوجود اہل بدعت کے ایک بڑے تحریف پسند کا اس موقع پر کہنا ہے کہ حضور ہر پیغمبر کے حال کو جانتے ہیں جب کہ قرآن تصریح کرتا ہے کہ ۔ { مِنْہُمْ مَنْ لَّمْ نَقْصُصْ عَلَیْکَ } ۔ یعنی " بہت سے پیغمبروں کے حالات ہم نے آپ کو نہیں بتائے "۔ سو یہ کس قدر ہٹ دھرمی اور کتنی بڑی دیدہ دلیری اور سینہ زوری ہے۔ کیا یہ اس آیت کریمہ کا صریح معارضہ نہیں ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ پھر بھی ایمان و عشق رسول اور اس سے بھی بڑھ کر بڑے بڑے القاب کا دعوٰی ہے ۔ فَإلی اللّٰہ المُشْتَکٰی وہو المستعان وعلیہ التکلان ۔ بہرحال اس ارشاد ربانی کا اصل مدعا آنحضرت ﷺ کو تسلی دینا ہے کہ ان تمام انبیائے کرام کو بھی راہ حق میں مختلف تکلیفوں اور ایذا رسانیوں سے سابقہ پڑا۔ مگر انہوں نے صبر و استقامت اور تحمل و برداشت ہی سے کام لیا۔ لہٰذا آپ بھی ایسے ہی کریں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { اُولٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُداھُمْ اقْتَدِہْ } ۔ (الانعام : 91) ۔ نیز فرمایا گیا ۔ { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ } ۔ (الاحقاف : 35) ۔ سو اس میں ہر داعی حق کیلئے بھی یہ درس ہے کہ وہ راہ حق پر صبر و استقامت ہی سے کام لے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 146 معجزہ دکھانا رسول کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کسی رسول کے بس میں نہیں ہوتا کہ وہ کوئی نشانی اور معجزہ دکھائے مگر اللہ تعالیٰ ہی کے اذن سے "۔ سو معجزہ اور نشانی دکھانا اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہوتا ہے جو کہ بلا شرکت غیرے اس کائنات کا خالق اور مالک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور وہی بہتر جانتا ہے کہ کس پیغمبر کے ہاتھ پر کب اور کون سا معجزہ ظاہر کیا جائے اور کس طور پر ظاہر کیا جائے۔ اور گزشتہ انبیائے کرام کے ہاتھ پر بھی جو جو مختلف معجزات ظاہر کئے گئے ان میں سے کوئی معجزہ بھی ان میں سے کسی کے اپنے اختیار میں نہیں تھا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں تھا۔ سو اس سے بھی اہل بدعت کے مختار کل کے شرکیہ عقیدے کی ساری عمارت زمین بوس ہوجاتی ہے کہ اس سے صاف واضح ہوگیا کہ اختیار کلی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ وہی اپنے اذن و اختیار سے جو چاہے اور جب چاہے کسی کو کوئی معجزہ عطا فرما دے۔ ورنہ پیغمبر خود کوئی معجزہ پیش نہیں کرسکتا۔ اور جب معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں تو کرامت ولی کے اختیار میں کس طرح ہوسکتی ہے۔ پس معجزہ بھی اسی کے اختیار میں ہے اور کرامت بھی اسی کے اور صرف اسی کے اختیار میں ہے۔ اور مختار کل بھی وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اس کے سوا کسی بھی مخلوق میں یہ وصف ماننا جائز نہیں۔ کیونکہ اللہ پاک کی کسی صفت کو بھی اس کی مخلوق میں ماننا شرک ہے جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف معجزہ دکھانا پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں اور اسی کی حکمت اور مشیت کے تابع ہوتا ہے۔ (روح، محاسن وغیرہ) ۔ سبحانہ وتعالیٰ - 147 اللہ کا فیصلہ ہو کر رہتا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آگیا اللہ کا حکم تو فیصلہ کردیا گیا حق کے ساتھ "۔ یعنی عملی فیصلہ جو کہ عدل و انصاف کے عین مطابق تھا۔ جس کے مطابق حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ اور مومنین مخلصین شرف نجات اور فوز و فلاح سے مشرف ہوئے۔ اور ان کے دشمن ہمیشہ کے لئے فِی النَّار السَّقر ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ کے رسولوں کی تکذیب اور انکے پیش فرمودہ پیغام حق کے انکار کا نتیجہ و انجام بہرحال بہت برا اور نہایت ہولناک ہے۔ پس عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ایسے عذاب سے بچنے کی فکر و کوشش کرے نہ کہ ایسے عذاب لانے کے مطالبے کرے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں پر یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ اللہ کے عذاب کو امر اللہ ۔ " اللہ کے حکم " سے تعبیر فرمایا گیا ہے جس میں یہ درس ہے کہ اللہ کے عذاب کے لیے کسی تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ اسباب و وسائل کا محتاج نہیں۔ بلکہ وہاں پر محض اس کے حکم وارشاد کی دیر ہوتی ہے۔ جونہی حکم ہوا کام ہوگیا کہ اس کی شان کن فیکون کی شان ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 148 اہل باطل سراسر خسارے میں ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " سخت خسارے میں پڑگئے اس وقت کے باطل پرست " کہ حیات مستعار کی فرصت عمل کو انہوں نے کفر و باطل اور بغاوت و سرکشی میں ضائع کردیا۔ اور اب اس کی تلافی وتدارک کی کوئی صورت ان کے لئے ممکن نہ رہی۔ اور یہ ہمیشہ کے لئے عذاب سعیر کا لقمہ بن گئے۔ سو ایمان و یقین کی دولت سے محرومی خرابیوں کی خرابی اور دائمی عذاب و ناکامی کا پیش خیمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو کفر و باطل کا نتیجہ و انجام بہرحال دائمی خسارہ ہے۔ اسی سلسلے میں انکو حق تعالیٰ کی طرف سے جو مہلت اور ڈھیل ملتی ہے اس سے کبھی کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے۔ سو ایمان و یقین کی پونجی دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ آخر تم لوگ انہی کے اندر غور و فکر سے کام کیوں نہیں لیتے ؟
Ayah 40:79

اَللّٰهُ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَنْعَامَ لِتَرْكَبُوْا مِنْهَا وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ٘ Open ayah 40:79 in the Quran reader

اللہ وہی ہے جس نے بنائے تمہارے (بھلے اور فائدے کے) لئے چوپائے تاکہ تم لوگ ان میں سے کسی پر سواری کرو اور انہی میں سے تم کھاتے (اور روزی بھی حاصل کرتے) رہو

149 ربوبیت کی نشانیوں کی طرف اشارہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اللہ وہی ہے جس نے تمہارے بھلے اور فائدے کے لیے یہ عظیم الشان اور کثیر الفوائد چوپائے پیدا فرمائے تاکہ تم لوگ ان میں سے کچھ پر سواری کرو اور انہی سے تم لوگ کھاتے بھی ہو "۔ کہ ان کے دودھ پیتے، گوشت کھاتے اور ان کے ذریعے کاروبار کر کے اپنی روزی کماتے ہو وغیرہ وغیرہ۔ اوپر کی آیت کریمہ میں نشانی عذاب کے مطالبے کی طرف اشارہ گزرا۔ وہاں رسول کو یہ اطمینان دلایا گیا کہ اس چیز کا تعلق اللہ تعالیٰ کی حکمت اور اسی کی مشیت سے ہے۔ اس لیے اسکا معاملہ اسی کے سپرد کردینا چاہیئے۔ اب اس آیت کریمہ میں نشانی کا مطالبہ کرنے والوں کو ربوبیت کی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی کہ تم لوگ عذاب کی کوئی نشانی ہی کیوں مانگتے ہو۔ تم خداوند قدوس کی ان بیشمار نشانیوں میں کیوں غور نہیں کرتے جو تمہارے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہیں۔ تم ذرا اپنے ان چوپایوں میں ہی غور کرلو جو اس نے تمہارے طرح طرح کے فائدوں کیلئے پیدا فرمائے ہیں۔ جن سے تم لوگ طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو۔ ان میں سے کچھ تمہاری سواری کے کام آتے ہیں۔ کچھ کے ذریعے تم لوگ اپنی غذائی ضرورتیں پوری کرتے ہو۔ اور ان میں تمہارے لیے اور بھی طرح طرح کے فوائد و منافع ہیں۔ سو تم ذرا دیکھو کہ یہ اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کے کتنے عظیم الشان مظہر ہیں جو تمہارے سامنے اور تمہارے آگے پیچھے پھیلے بکھرے ہیں۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 40:80

وَ لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ لِتَبْلُغُوْا عَلَیْهَا حَاجَةً فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ عَلَیْهَا وَ عَلَى الْفُلْكِ تُحْمَلُوْنَؕ Open ayah 40:80 in the Quran reader

اور تمہارے لئے ان میں اور بھی طرح طرح کے (فوائد و) منافع ہیں اور (یہ اس لئے پیدا کئے کہ) تاکہ ان پر سوار ہو کر تم لوگ اپنی کسی بھی ایسی حاجت کو پہنچ سکو جو تمہارے دلوں میں ہو اور ان پر اور کشتیوں اور جہازوں پر بھی تم لوگ سوار کئے جاتے ہو اور (اس کے علاوہ بھی)

150 چوپایوں میں طرح طرح کے فوائد و منافع : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان میں تمہارے لیے اور بھی طرح طرح کے عظیم الشان فائدے ہیں "۔ کہ ان کی اونوں، بالوں، کھالوں اور ہڈیوں وغیرہ سے بھی تم لوگ طرح طرح کے فائدے اٹھاتے ہو کہ انکے ذریعے تم لوگ اپنے استعمال کی طرح طرح کی چیزیں بناتے اور استعمال کرتے ہو۔ ان کے ذریعے طرح طرح کے عظیم الشان کاروبار کرتے اور دولت کماتے ہو وغیرہ وغیرہ۔ اور ان میں سے کچھ سے تم لوگ سواری اور باربرداری کا کام لیتے ہو جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ ۔ { وَتَحْمِلُ اَثْقَالَکُمْ اِلٰی بَلَدٍ لَمْ تَکُوْنُوْا بَالِغِیْہِ الاَّ بِشِقِّ الاَنْفُسِ } ۔ سو تم لوگ اگر اس میں غور و فکر سے کام لو اس میں تمارے لیے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں اور ایسے عظیم الشان کہ انہی سے تمہاری راہیں روشن ہوسکتی ہیں ۔ وباللہ التوفیق - 151 سواری کی نعمت میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے تمہیں ان چوپایوں کی نعمت سے اس لیے بھی نوازا اور سرفراز فرمایا ہے کہ تاکہ تم لوگ ان پر سوار ہو کر اپنے دلوں کی طرح طرح کی حاجتوں کو پورا کرسکو "۔ سو دور حاضر کی مشینی سواریوں سے پہلے تو نقل و حمل اور سیر و سفر کا سارا مدارو انحصار بہرحال جانوروں ہی پر تھا۔ اور خاص کر عربوں کے لئے تو اونٹ ہی تھے جس کے لئے ان کا شاعر کہتا ہے ۔ مَا فَرَّقَ الاَبْدَانَ بَعْدَ اللّٰہِ إِلّا الابل ۔ ومَا غُرَاب البین الِّا ناقۃٌ و جملٌ۔ یعنی " جسموں کی باہمی جدائی اور دوری کا سبب اللہ تعالیٰ کے بعد اونٹ ہی ہیں۔ اور آپس کی جدائی اونٹنی اور اونٹ ہی کی بنا پر ہے "۔ اور اسی لئے اونٹ کو " خشکی کی کشتی " یعنی " سفیۃ البر " کہا جاتا ہے۔ اور خشکی کے اس سفینے کو اس قادر مطلق نے ایسا بنایا کہ صحرا کے سفر کیلئے سب ضرورتیں اس میں بتمام و کمال پائی جاتی ہیں۔ پاؤں ہیں تو ریگستان کے سفر کے عین مطابق۔ اسی طرح ٹانگیں اور گردن وغیرہ بھی۔ سو کتنی بڑی عنایتیں اور رحمتیں ہیں اس قادر مطلق کی جن سے اس نے اپنے بندوں کو نوازا ہے اور بندوں کی طرف سے کسی اپیل و درخواست کے بغیر از خود نوازا ہے۔ سو کتنے ظالم اور کس قدر بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس واہب مطلق ۔ خالق ومالک۔ جل وعلا ۔ سے منہ موڑ کر دوسروں کے آگے جھکتے ہیں۔ اور اس طرح وہ خود اپنی تذلیل و تحقیر اور ہلاکت و تباہی کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ زیغ و ضلال کی ہر شکل سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 152 کشتیوں اور جہازوں کی نعمت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کشتیوں اور جہازوں پر بھی تم لوگ سوار کیے جاتے ہو "۔ یعنی خشکی میں تو تم لوگ جانوروں پر اور تری میں تم کشتیوں اور جہازوں پر سوار ہوتے اور سفر کرتے ہو "۔ اور کہاں کہاں پہنچتے ہو۔ اور جو پانی ایک چھوٹے سے کنکر کو بھی اٹھانے کی بجائے اسے غرقاب کردیتا ہے وہ تمہارے لئے اتنی بھاری بھرکم کشیتوں اور دیو ہیکل جہازوں اور بحری بیڑوں کو اپنی پیٹھ پر اٹھا کر کہاں سے کہاں پہنچا دیتا ہے۔ ذرا اتنا تو سوچو کہ اس کو اس طرح تمہارے لئے مسخر کس نے کردیا ؟۔ اور اس کا تم پر کیا حق بنتا ہے ؟ اور اس کے اس حق کو کس طرح ادا کیا جاسکتا ہے۔ نیز یہ بھی سوچو کہ جس خام مال کے ذریعے تم لوگ یہ کشتیاں اور جہاز بناتے ہو اس کو کس نے پیدا کیا اور جس عقل و فکر سے تم لوگ اس ضمن میں کام لیتے ہو وہ تم کو کس نے بخشی۔ سو اس واہب مطلق ۔ جل وعلا ۔ نے بحر و بر کی اس پوری کائنات کو کس قدر پر حکمت طریقے سے تمہارے خدمت میں لگا دیا ہے۔ تو کیا وہ تم لوگوں کو یوں ہی چھوڑ دے گا ؟ اور تم سے کوئی پرسش نہیں کرے گا۔ سو وہ تم لوگوں سے ان نعمتوں کے بارے میں ضرور پوچھے گا اور وہ دن قیامت کا دن ہوگا جو کہ عدل و انصاف اور فصل وتمیز کا دن ہے۔
Ayah 40:81

وَ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ١ۖۗ فَاَیَّ اٰیٰتِ اللّٰهِ تُنْكِرُوْنَ Open ayah 40:81 in the Quran reader

وہ تم کو دکھاتا ہے اپنی طرح طرح کی نشانیاں پھر تم لوگ اللہ کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرو گے ؟2

153 تو تم لوگ اللہ کی کون کون سی نشانیوں کا انکار کرو گے ؟ : توبیخ و تنبیہ ہے کہ اللہ پاک کی قدرت و عنایت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرنے والی اتنی اتنی اور ایسی ایسی واضح اور عظیم الشان نشانیاں اس کائنات میں ہر طرف پھیلی بکھری ہیں۔ تم ان کا کہاں تک اور کب تک انکار کرو گے۔ اور اس کی قدرت و وحدانیت پر تم لوگ کب تک ایمان و یقین نہیں لاؤ گے ؟ تو کیا جس قادر مطلق نے تمہاری ضروریات کیلئے ایسے ایسے عظیم الشان اور پر حکمت انتظامات فرمائے اور اپنی قدرت و حکمت کی یہ طرح طرح کی نشانیاں اس نے تم لوگوں کو دکھلائیں کیا اس کا تم پر کوئی حق نہیں ؟ اور کیا تم لوگ یونہی شتر بےمہار بنے قعر غفلت میں پڑے رہو گے ؟ کیا تم سے اس کی ان نعمتوں کے بارے میں کبھی پوچھ نہیں ہوگی۔ سو سوچو اور غور کرو اور اپنی روش کی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ فرصت حیات کی یہ نعمت تمہارے ہاتھوں سے نکل جائے اور تم کو ہمیشہ کیلئے کف افسوس ملنا پڑجائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور کیا یہ ممکن ہوسکتا ہے کہ یہ سب کچھ تو ہو اس حضرت انسان کے لیے مگر یہ انسان خود بےکار اور بےمقصد ہو ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ بلکہ یہ سب کچھ تو انسان کے لیے ہے مگر انسان خداوند قدوس کے لیے۔ یہی اس کی زندگی کا اصل مقصد ہے۔
Ayah 40:82

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ١ؕ كَانُوْۤا اَكْثَرَ مِنْهُمْ وَ اَشَدَّ قُوَّةً وَّ اٰثَارًا فِی الْاَرْضِ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 40:82 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں (عبرتوں بھری) اس زمین میں تاکہ یہ خود دیکھ لیتے کہ کیسا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے تھے وہ (گنتی اور) تعداد کے لحاظ سے بھی ان سے کہیں زیادہ تھے اور قوت (و طاقت) کے اعتبار سے بھی وہ ان سے کہیں زیادہ سخت تھے اور زمین میں چھوڑے جانے والے آثار (اور نشانات) کے اعتبار سے بھی وہ ان سے کہیں بڑھ کر تھے پھر (وقت پڑنے پر) ان کے کچھ کام نہ آسکی ان کی وہ کمائی جو وہ کرتے رہے تھے

154 تاریخ سے درس عبرت لینے کی ہدایت : سو اس ارشاد سے گزشتہ قوموں کے انجام اور ان کی تواریخ سے سبق لینے کی ہدایت و تلقین فرمائی گئی ہے۔ پس تم لوگ اپنے کئے کرایے کے اس نتیجہ و انجام سے بچنے کی فکر کرو اور اپنے رویہ و سلوک کی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت محدود و مختصر جو آج تمہیں میسر ہے تمہارے ہاتھ سے نکل جائے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ آثار قدیمہ اور کھنڈرات کو پکنک اور تفریح کے طور پر نہیں بلکہ عبرت پذیری کے لئے دیکھنا چاہیئے۔ مگر افسوس کہ آج دنیا لاکھوں کروڑوں ڈالر خرچ کرکے آثار قدیمہ کی حفاظت کے لئے طرح طرح کے جتن کرنے کے باوجود سبق سیکھنے کے اور درس عبرت لینے کے اس اصل مقصد سے غافل ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ ادھر اہل بدعت کے ایک بڑے صاحب کو یہاں پر یہ قیاس سوجھا کہ جس طرح تاریخی کھنڈرات کو عبرت پذیری کے لئے دیکھنا اور اس کے لئے سفر کرنا محمود و مطلوب ہے اسی طرح بزرگوں کے مزاروں پر بھی حاضری کے لئے سفر کرنا چاہیئے ۔ سبحان اللہ ! ۔ کیا کہنے اس استخراج و استنباط کے۔ بھلا اللہ کے عذاب سے تباہ شدہ اقوام کے کھنڈارت پر بزرگان دین کے مزارات کو قیاس کرنے کی کیا تک ہے ؟ یہ تو ایسے ہی ہے جیسے کھجور پر چڑھے ہوئے شخص کو کنویں میں گرے ہوئے انسان پر قیاس کیا جائے۔ بھلا کیا جوڑ ہے ان دونوں میں ؟ حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ کس دیدہ دلیری سے اللہ کی کتاب میں اس طرح بےباکانہ قلم چلاتے ہیں۔ کیا بزرگان کے مزارات ہلاک شدہ قوموں کے کھنڈرات کی طرح ہیں ؟ کیا یہ مزارات ان حضرات نے خود بنائے تھے جو تم ان کو ان کے آثار قرار دیتے ہو ؟ ۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 40:83

فَلَمَّا جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ فَرِحُوْا بِمَا عِنْدَهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 40:83 in the Quran reader

چناچہ جب ان کے پاس ان کے رسول (حق و صداقت کے) کھلے دلائل لے کر آئے تو یہ (اس سے لاپرواہ ہو کر مست و) مگن رہے اپنے اس علم (و فن) کی بناء پر جو کہ ان کے پاس تھا اور (آخرکار) ان کو گھیر لیا اسی چیز نے جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے تھے1

155 حضرات انبیاء و رسل کی تکذیب باعث ہلاکت و تباہی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اپنے موروثی اور خودساختہ علم و فن کی بنا پر وحی الہی اور دین سماوی سے منہ موڑنا محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ان لوگوں کے پاس اس نام نہاد علم کی دو صورتیں تھیں اور ہیں۔ یعنی پہلے بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ ایک تو رسم و رواج اور آبائی تقلید کی خرافات کا وہ انبار جسے وہ علم کہتے اور دین اور نیکی سمجھتے تھے۔ اور اس کے خلاف حق و صداقت کی کوئی بات سننے کو تیار نہ ہوتے تھے۔ جیسا کہ دور حاضر میں جاہل پیروں اور گمراہ ملاؤں کی ماری ہوئی قوم کا حال ہے کہ ہمارے بڑے یوں کرتے آئے۔ لہذا ہم بھی ایسے ہی کرتے جائیں گے اور کرتے رہیں گے۔ قطع نظر اس سے کہ صحیح کیا ہے اور غلط کیا۔ حق کیا ہے اور باطل کیا۔ اور دوسرا دنیاوی امور سے متعلق ان لوگوں کا وہ علم جو کہ انسانی عقل و فکر، کدوکاش اور تجربات کی پیدوار ہوتا ہے اور جس کا تعلق دنیا اور دنیاوی اشیاء کے محض ظاہری پہلو اور اس کی مادی جانب سے ہے۔ سو اپنے پاس کے انہی دو ناقص اور خود ساختہ علموں کی بنا پر ان لوگوں نے وحی الہٰی کی مقدس روشنی سے منہ موڑ لیا۔ اور اس طرح وہ طرح طرح کی گمراہیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب کر رہ گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ آج کل کے بہت سے ان برخود غلط مفکروں، تجدد پسندوں اور نام نہاد دانشوروں کا حال ہے جن کی ساری فکر و نظر اور کدو کاوش مادہ پرستی کے بت کے گرد گھومتی ہے اور بس۔ وہ اپنے اسی ظاہری اور دنیاوی علم کو سب کچھ سمجھ رہے ہیں۔ پس نور حق و ہدایت سے محرومی کے ذیل میں یہی دو چیزیں کل بھی بنیادی حیثیت رکھتی تھیں اور یہی آج بھی بنیادی حیثیت رکھتی ہیں۔ ایک اپنے موروثی و آبائی عادات و روایات اور رسوم و رواج پر جمود و اصرار اور دوسرے اپنی عقل و فکر پر اعتماد اور اسی کو سب کچھ سمجھ لینا۔ جبکہ علم درحقیقت وہی ہے جو قال اللہ اور قال الرسول سے مستنیرو مستفاد ہو کہ وہی علم حق اور حقیقت کی راہنمائی کرتا ہے۔ اور انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح سے مشرف و ہمکنار کرتا ہے۔ سو اپنے رسوم و رواج اور خودساختہ علوم و تجربات کی بنا پر دین الہی اور وحی سماوی کی تعلیمات مقدسہ سے منہ موڑنا محرومیوں کی محرومی ہے کہ اس سے انسان طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوب کر رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ 156 استہزاء بالحق کا انجام نہایت برا ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق اور اہل حق کا مذاق اڑانے کا انجام بہت برا اور نہایت ہولناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یعنی ان کو گھیر لیا اسی عذاب اور انجام ِبد سے جس سے ان کو خبردار کیا جاتا تھا اور جس کو وہ مان کر نہیں دے رہے تھے۔ آخر کار وہ ان کو اپنی لپیٹ میں لے کر رہا۔ اور اس طرح یہ لوگ ۔ { خسر الدّنیا والاخرۃ } ۔ کا مصداق بن کر رہ گئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یعنی حضرات انبیائے کرام اور رسل عظام جب اپنی قوموں کے پاس پیغام حق و ہدایت لیکر پہنچے اور توحید، آخرت اور جزا و سزا کے بارے میں انکے سامنے کھلے کھلے اور واضح دلائل پیش کیے تو ان لوگوں نے ان کی دعوت کو قبول کرنے اور ان کی بات کو ماننے کی بجائے الٹا انکا مذاق اڑایا۔ اور وہ اپنے علم و فن پر نازاں وفرحاں رہے جس سے ان کی محرومی کا ٹھپہ اور گہرا اور پکا ہوگیا۔ اور ان سے کفر و باطل کی سیاہی مزید سخت اور گہری ہوگئی۔ جس سے وہ اپنے آخری انجام اور ہولناک عذاب کے مستحق بن گئے۔ جسکے نتیجے میں گھیر لیا انکو اسی عذاب نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حق اور اہل حق کے مذاق اڑانے کا نتیجہ و انجام بہت برا اور نہایت ہولناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayahs 40:84–85

فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ وَ كَفَرْنَا بِمَا كُنَّا بِهٖ مُشْرِكِیْنَ Open ayah 40:84 in the Quran reader

پھر جب انہوں نے دیکھا ہمارے عذاب کو تو وہ (چیخ چیخ کر) کہنے لگے کہ ہم ایمان لے آئے اکیلے اللہ پر اور انکار کردیا ہم نے ان سب چیزوں کا جن کو ہم (اس سے پہلے) اس کا شریک ٹھہراتے رہے تھے

فَلَمْ یَكُ یَنْفَعُهُمْ اِیْمَانُهُمْ لَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا١ؕ سُنَّتَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ فِیْ عِبَادِهٖ١ۚ وَ خَسِرَ هُنَالِكَ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 40:85 in the Quran reader

مگر (اس وقت کا) ان کا یہ ایمان ایسا نہیں تھا کہ ان کو کچھ نفع دے سکے (اور فائدہ پہنچا سکے) جب کہ انہوں نے دیکھ لیا تھا ہمارے عذاب کو اللہ کے اس دستور کے مطابق جو کہ پہلے سے چلا آیا ہے اس کے بندوں میں اور اس موقع پر (دائمی) خسارے میں پڑے گئے ایسے کافر (و منکر) لوگ2

157 ایمان بالمشاہدہ کا کوئی فائدہ نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے منکروں نے جب ہمارے عذاب کو دیکھ لیا تو اس وقت وہ چیخ چیخ کر کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے اکیلے اللہ پر اور ہم نے انکار کردیا ان سب چیزوں کا جن کو ہم اس کا شریک ٹھہرایا کرتے تھے۔ مگر بےوقت کے اس عذاب سے ان کوئی فائدہ نہ پہنچ سکا۔ " کچھ فائدہ نہ دیا انکو انکے اس وقت کے ایمان نے " کہ عذاب آچکنے کے بعد نہ کسی کی توبہ و معذرت قبول کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے بعد کسی کو کسی طرح کی کوئی مہلت اور چھوٹ مل سکتی ہے ۔ { وَلَنْ یُّؤَخِّرَ اللّٰہُ نَفْسًا اِذَا جَآئَ اَجَلُہَا } ۔ (المنافقون : 11) اور عذاب آجانے کے بعد کا ایمان اس لئے معتبر نہیں کہ وہ ایمان بالشہود ہوتا ہے جبکہ مطلوب ایمان بالغیب ہے۔ سو عذاب آجانے کے بعد انہوں نے ایمان تو بڑے زور و شور سے لایا اور اپنے گزشتہ تمام کفر و شرک کا انکار کیا لیکن بےوقت کے اس ایمان کا کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوسکا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی سنت اس کے بندوں میں ہمیشہ سے یہی رہی کہ جب عذاب آجاتا ہے تو اس وقت ایمان لانے سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ وہ ایمان بالمشاہدۃ ہوتا ہے جو کہ اصل مقصود ایمان بالغیب ہوتا ہے اور بس۔ 158 کفر و انکار کا نتیجہ وانجام دائمی خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " دائمی خسارے میں پڑگئے اس موقع پر کافر لوگ " کہ یہ اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر رہے اور حیات مستعار کی جو فرصت نیکی کمانے کے لئے ان کو ملی تھی اس کو انہوں نے غفلت اور سرکشی میں ضائع کردیا۔ جس کی واپسی اور تلافی وتدارک کی کوئی صورت اب ان کیلئے ممکن نہ رہی تھی۔ اور کفر و انکار کی جس راہ کو انہوں نے زندگی بھر اپنائے رکھا تھا اس نے ان کو ہمیشہ ہمیش کے لئے ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں ڈال دیا۔ اور جس دنیاوی مال و متاع اور ساز و سامان پر ان کو گھمنڈ اور ناز تھا وہ سب کا سب یہیں اسی دنیا میں رہ گیا۔ اس میں سے کچھ بھی نہ ان کے ساتھ جاسکا اور نہ کچھ ان کے کام آسکا۔ ان کو اس سب سے ہاتھ جھاڑ کر اور بالکل خالی ہاتھ جانا پڑا۔ سو کفر پر مرنا سب سے بڑا خسارہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس کفر سب خرابیوں کی خرابی اور محرومی و نامرادی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ایمان و یقین کی دولت تمام خوبیوں کی اصل اور اساس اور حقیقی کامیابی اور فوز و فلاح کی کفیل وضامن ہے ۔ فالحمد للّٰہ الَّذی شَرَّفَنَا بنعمۃِ الایمان و وقَانَا مِنْ خِزْیِ الْکُفِرُ والخسران برحمتہ جلَّ وَعَلا وہُوَ الَعَزِیْزُ الرحمٰنُ ۔ فَزِدْنَا اللّٰہُمَّ اِیْمَانًا وَیَقِیْنًا بمحضِ مَنِّکَ وَکَرمِکَ و الاحسان وثبتنا علیہ یا ارحم الراحمین .