Ayahs 40:42–4387 معبودان باطلہ کے لیے کوئی دعوت نہیں : سو مرد مومن نے اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے خلاصہ بحث ان لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور ان سے کہا کہ جن چیزوں کی طرف تم لوگ مجھے بلاتے رہے ہو ان کیلئے کوئی دعوت نہیں۔ نہ دنیا میں نہ آخرت میں۔ نکرہ تحت النّفی عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ سو اس وحدہ لاشریک کے سوا جن کی بھی پوجا و پرستش کی جاتی ہے ان میں سے کسی نے بھی نہ کبھی اپنی بندگی و پرستش کی دعوت دی اور نہ ہی ایسی دعوت کوئی دے سکتا ہے۔ اور نہ ہی وہ کسی دعا و پکار کو سن سکتے ہیں۔ غیر اللہ میں سے جن جن کی پوجا کی گئی ان میں سے لکڑی پتھر وغیرہ کے خود تراشیدہ بت تو ایسی کسی دعا و پکار کی کوئی اہلیت ہی نہیں رکھتے۔ رہ گئیں انسانوں میں سے وہ مقدس ہستیاں جن کو لوگوں نے ازخود حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر کہ ان کو پوجا اور پکارا ہے اور آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے پوجتے اور پکارتے ہیں تو ان میں بھی نہ حاجت روائی اور مشکل کشائی کا کوئی اختیار ہے اور نہ انہوں نے کبھی اس طرح کا کوئی دعویٰ ہی کیا۔ بلکہ اس کے برعکس انہوں نے ہمیشہ دنیا کو توحید خالص ہی کا درس دیا۔ اور وہ زندگی بھر ایک اللہ کی عبادت و بندگی ہی کی تعلیم و تلقین فرماتے رہے۔ سو بعد کے لوگوں کے شرک میں ان پاکیزہ ہستیوں کا نہ کوئی قصور ہے نہ اختیار کہ وہ حضرات تو ہمیشہ توحید خالص ہی کے داعی اور مبلغ رہے۔ یہ بعد میں ان کے نام پر دوسرے لوگوں نے طرح طرح کے قصے گھڑ کر ان کو پوجنا اور پکارنا شروع کردیا۔ اور ایسے لوگ دراصل اپنے ہی خیالات اور خواہشات کی پرستش کرتے رہے۔ اور اپنے ہی اوہام و ظنون کے پیچھے چلتے رہے اور چل رہے ہیں۔ ان بزرگوں اور مقدس ہستیوں کا نہ اس میں کوئی عمل دخل ہے اور نہ کسی طرح کا کوئی قصور۔ بلکہ بعد کے ایسے لوگ دراصل خود اپنے من گھڑت خیالات اور نفس کی خواہشات کی پوجا کرتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { اِِنْ یَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَمَا تَہْوَی الاَنْفُسُ } ۔ (النجم : 23) اور جن برخود غلط اور گمراہ لوگوں نے اپنی پوجا کی دعوت دی بھی تو وہ بھی سراسر مردود ہے کہ ایسے لوگ تو بہرحال انسان اور ایک حقیر مخلوق ہیں۔ اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ ہی کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ پس مخلوق میں سے کسی کو نہ تو بندگی کا کوئی حق پہنچتا ہے اور نہ وہ کسی کی دعا و پکار کو سن سکتے ہیں۔ اور اگر بالفرض سن بھی لیں تو اس کی کوئی حاجت روائی نہیں کرسکتے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے ۔ { اِنْ تَدْعُوْہُمْ لَا یَسْمَعُوْا دُعَآئَ کُمْ وَلَوْ سَمِعُوْا مَا اسْتَجَابُوْا لَکُمْ } ۔ (فاطر : 14) پس اللہ کو چھوڑ کر جو کوئی اس کی مخلوق میں سے کسی کو پکارے اس سے بڑھ کر ظالم اور گمراہ اور کون ہوسکتا ہے ۔ { وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنْ یَّدْعُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَنْ لَّا یَسْتَجِیْبُ لَہ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمِۃِ وَہُمْ عَنْ دُعَآئِہِمْ غَافِلُوْنَ } ۔ (الاحقاف : 5) ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ مگر افسوس کہ اس سب کے باوجود آج بہت سے کلمہ گو شرک اور مخلوق پرستی کا یہ کاروبار جگہ جگہ اور طرح طرح سے چلائے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔
88 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو اس مرد مومن نے رجوع الی اللہ کی اہم اور بنیادی حقیقت کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ان سے کہا اور ادوات تاکید سے کہا کہ " یقینا ہم سب کو بہرحال لوٹ کر اللہ ہی کی طرف جانا ہے "۔ اور وہاں پہنچ کر اپنے کئے کرائے کا حساب دینا اور بدلہ پانا ہے۔ لہذا ہر ایک کو اس امر کی فکر کرنی لازم ہے۔ اور بڑا ناکام و نامراد ہے وہ انسان جو اس دن کے محاسبے اور وہاں کی جواب دہی سے لاپرواہی برتے اور اپنی متاع عمر یونہی لٹا دے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس دنیا میں بھی ہم کو جو کچھ ملتا ہے وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ملتا ہے۔ اور آخرت میں بھی ہماری واپسی اسی وحدہ لاشریک کی طرف ہوگی۔ ان فرضی دیویوں اور دیوتاؤں اور خود ساختہ معبودوں اور من گھڑت خداؤں میں سے کوئی بھی مولیٰ و مرجع بننے کے لائق نہیں۔ جن لوگوں نے اس طرح کے مفروضے قائم کر رکھے ہیں وہ سب دھوکے میں ہیں اور دھوکے کی اس ٹٹی کا نتیجہ وانجام سراسر خسارہ و نقصان ہے۔ اور ایسا ہولناک خسارہ کہ اس کی تلافی وتدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ۔ وَذٰلِکَ ہُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِیْنُ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
89 اِسراف کا نتیجہ وانجام دوزخ ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا اور قطعیت کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " حد سے بڑھنے والے یقینا دوزخی ہیں "۔ کہ انہوں نے حدود سے تجاوز کرتے ہوئے مخلوق کو خالق تک اور عابد کو معبود تک پہنچا کر اور خواہشات نفس کی پیروی میں حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تمیز کو مٹا کر اپنے آپ کو دوزخ کی اس ہولناک آگ کا اہل اور مستحق بنادیا۔ اور ایسا اور اس حد تک کہ یہ اس کے " صاحب " یعنی ساتھی بن گئے۔ اور وہ ان کی ساتھی اور دوست بن گئی۔ نہ وہ ان کو چھوڑے گی اور نہ یہ اس سے کسی طرح چھوٹنے اور نکلنے پائیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو بندے کا اصل مقام بندہ بن کر رہنا اور حدود بندگی کی پابندی کرنا ہے۔ پس کوئی اگر خدائے برحق کے سوا اور کسی کو اپنا خدا بنالیتا ہے یا خود اپنی خدائی کا دعویدار بن جاتا ہے یا خداوند قدوس کا باغی اور سرکش بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو یہ سب کچھ اسراف اور حدود سے خروج کے زمرے میں آتا ہے۔ اور اس سب کا نتیجہ و انجام دوزخ کی ہولناک آگ ہے۔ اور اس اسراف اور تجاوز عن الحدود کی آخری شکل کفر و شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے۔ سو جنہوں نے کفر و شرک کا ارتکاب کر کے اپنی جانوں پر ظلم ڈھایا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ان سب کا آخری اور قطعی ٹھکانا دوزخ کی وہ دہکتی بھڑکتی ہولناک آگ ہے جس سے ان کو کوئی چھڑا اور بچا نہیں سکے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ اسراف و تجاوز عن الحدود کی ہر شکل سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 40:4490 ختام مسک کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس مرد مومن نے ختام مسک کے نمونے کے طور پر اپنی تقریر کا خاتمہ اپنے اس درد بھرے اور انتہائی ناصحانہ اور ہمدردانہ جملے سے کیا کہ " عنقریب تم لوگ وہ سب کچھ یاد کرو گے جو میں آج تم سے کہہ رہا ہوں "۔ جب تم اپنے کئے کا بھگتان بھگتو گے مگر اس وقت کا یہ یاد آنا اور اپنے کیے پر بچھتانا تمہیں کچھ فائدہ نہیں دے گا کہ وہ وقت عمل کا نہیں، جزا و سزا کا ہوگا۔ اس لئے بےوقت کا وہ پچھتاوا تمہیں کچھ کام نہ آسکے گا ۔ { یَوْمَئِذٍ یَّتَذَکَّرُ الاِنْسَانُ وَاَنّٰی لَہُ الذِّکْرٰی } ۔ (الفجر : 23) سو یہ اس مرد مومن کی اس ایمان افروز تقریر کا آخری اور نہایت ہمدردانہ فقرہ ہے جو اس نے غفلت میں ڈوبی ہوئی اس قوم کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے اپنے خطاب میں فرمایا۔ سو اس نے ان سے کہا کہ میری قوم کے لوگو، آج تم میری بات کو مانو یا نہ مانو تمہاری مرضی۔ لیکن آگے یقینا ایسے مراحل آئیں گے کہ تم رہ رہ کر میری ان باتوں کو یاد کرو گے اور افسوس کرو گے۔ مگر اس وقت کے یاد کرنے اور افسوس کرنے سے تم کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا کہ اس کا وقت بیت چکا ہوگا۔ اور اس کا موقع تمہارے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
91 تفویض الی اللہ کا درس عظیم : سو اس مرد مومن نے اپنے خطاب کے خاتمے پر تفویض الی اللہ سے کام لیتے ہوئے اور اپنی قوم کو اس کا درس دیتے ہوئے ان لوگوں سے کہا کہ " میں اپنا معاملہ اللہ ہی کے سپرد کرتا ہوں "۔ کہ اعتماد و بھروسے کے لائق اور سب کا حاجت روا و مشکل کشا بہرحال وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ جو اپنے بندوں کو اور ان کے حالات کو پوری طرح دیکھتا اور جانتا ہے۔ اور وہی سب کی حاجتیں پوری فرماتا، مشکلیں مصیبتیں دور کرتا اور ان کے کام بناتا ہے۔ پس بھروسہ و توکل ہمیشہ اور ہر حال میں اسی پر اور صرف اسی وحدہ لاشریک پر کرنا چاہیئے۔ مگر افسوس صد افسوس کہ جاہل مسلمان اور ضعیف الاعتقاد انسان کا حال آج اس سے مختلف ہے۔ کہیں اس کا بھروسہ و اعتماد کسی تعویذ گنڈے پر ہے۔ کہیں کسی خود ساختہ اور نام نہاد " سرکار " پر۔ کہیں کسی ملنگ پر اور کہیں کسی فرضی امام ضامن پر۔ کہیں وہ کسی کو حاجت روائی ومشکل کشائی کے لئے بلاتا پکارتا ہے اور کہیں کسی کو۔ کہیں وہ کسی قبر کے پھیرے لگاتا اور چکر کاٹتا ہے۔ اور کہیں کسی قبر پر چادریں چڑھاتا اور دیگیں پکاتا، ڈالیاں پیش کرتا اور نذریں مانتا اور نیازیں دیتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح وہ خود اپنے لئے گھاٹے اور خسارے کا سودا کرتا اور اپنی مشکلات اور پریشانیوں میں کمی کی بجائے اضافے کا سامان کرتا ہے۔ کیونکہ جو ذات اصل اور حقیقت میں حاجت روا و مشکل ہے اس کی طرف یہ رجوع کرتا نہیں۔ اور جدھر یہ دوڑتا ہے وہاں حقیقت میں کوئی حاجت روا سرے سے ہے ہی نہیں ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ مِنْ کُلِّ شَائِبَۃِ الِشرْک والشِّرکیات ۔ بہرکیف اس مرد مومن نے ان لوگوں سے کہا کہ میں نے جو کچھ کہنا تھا کہہ دیا۔ اب تم نے جو کچھ کرنا ہے کر دیکھو۔ تم لوگ اگر میرے اس کلمہ حق کو قبول کرنے اور اس کے آگے سر تسلیم خم کرنے کی بجائے الٹا میرے دشمن بنتے اور میرے درپے آزار ہوتے ہو تو ہوتے رہو۔ میں نے تو اپنا معاملہ بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے کردیا ہے۔ وہ یقینی طور پر اپنے بندوں کو پوری طرح دیکھتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ میرا بھروسہ بس اسی پر ہے۔
Ayah 40:4592 حفاظت اصل میں اللہ ہی کی حفاظت ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ نے بچا لیا اس مرد مومن کو ان تمام بری چالوں سے جو دشمنانِ حق نے اس کے خلاف چلی تھیں۔ قتادہ وغیرہ سے روایت ہے کہ اس کے بعد اس مرد مومن نے فرعون سے بھاگ کر ایک پہاڑی میں پناہ لے لی۔ جس پر فرعون نے ایک ہزار کا لشکر اس کے تعاقب میں بھیجا مگر ان میں سے کچھ تو پیاس کے مارے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ کچھ کو درندوں نے پھاڑ کھایا اور جو باقی ماندہ واپس پہنچے ان کو فرعون نے سازش کی تہمت میں قتل کردیا۔ اور اس طرح وہ ہزار کا ہزار پورا لشکر ختم اور واصل جہنم ہوگیا۔ (قرطبی، مدارک، و جیز وغیرہ) ۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے اللہ والوں اور اہل حق و اہل توحید سے عداوت و دشمنی رکھنے کا۔ جیسا کہ حدیث قدسی میں فرمایا گیا ۔ " مَنْ عَادٰی لِیْ وَلِیًّا فَقَدْ اٰذَنْتُہ بالْحَرْب " ۔ یعنی " جس نے میرے کسی پیارے سے دشمنی رکھی اس کے خلاف میری طرف سے اعلان جنگ ہے " ۔ اور جس کے خلاف حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اعلان جنگ ہو اس کی تباہی اور بدبختی کا ٹھکانا ہی کیا ہوسکتا ہے۔ ۔ والعیاذ باللّٰہِ الذِّی لٓا اِلٰہ غیرُہ جَلَّ وعَلا ۔ اَللّٰہُمَّ خُذْنَا بِنَوَاصِیْنَا اِلٰی ما فِیْہِ حُبُّکَ وَرِضَاکَ یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین ۔ سو اس سے یہ حقیقت واضح فرما دی گئی کہ مصائب و مشکلات میں کام آنے والی اور شرور و فتن سے بچانے والی ذات اللہ وحدہ لاشریک ہی کی ذات اقدس و اعلیٰ ہے۔ اور حفاظت اصل میں اسی کی حفاظت ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس بھروسہ و اعتماد ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک پر ہونا چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ جل وعلا شانہ -
93 آل فرعون برے عذاب کی گرفت میں ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " گھیر لیا فرعون والوں کو اس برے عذاب نے جو انکا مقدر بن چکا تھا "۔ دنیا میں اس طرح کہ یہ لوگ اپنے شاہی محلوں سے خود نکل کر جا کر بحیرئہ قلزم میں غرقاب ہوئے اور آخرت میں اس طرح کہ وہاں پر ہمیشہ کے لئے عذاب جہنم میں مبتلا ہوئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس مرد مومن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے بچا لیا اور فرعونی اپنے جبر و تشدد اور ظلم و ستم کی اپنی سب کوششوں کے باوجود اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکے۔ لیکن خود یہ لوگ اس برے عذاب میں جو انکا مقدر بن چکا تھا ایسے گھر کر رہ گئے کہ اس سے بچ نکلنے کی پھر کوئی صورت ان کیلئے ممکن نہ ہوسکی۔ اور یہ اپنے دائمی انجام اور ہولناک عذاب سے دوچار ہو کر رہے۔ اس سے پہلے حضرت موسیٰ کی دعوت حق کے دوران فرعونیوں پر جو مختلف قسم کے عذاب آتے رہے تھے وہ تنبیہ و تذکیر کے طور پر تھے۔ اور وہ مومن و کافر سب ہی کو پیش آئے کہ انکا اصل مقصد ابتلاء و آزمائش تھا۔ جس میں سب ہی شریک تھے۔ جبکہ یہ عذاب جو فرعونیوں کی سزا کے طور پر آیا اہل ایمان اس سے محفوظ رہے لیکن فرعونیوں کی اس نے جڑ کاٹ کر رکھ دی ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 40:4694 آل فرعون کی آتش دوزخ پر صبح وشام کی پیشی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انکو دوزخ کی اس آگ پر صبح و شام پیش کیا جاتا رہے گا " ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تاکہ اس طرح یہ لوگ قیامت سے پہلے برزخ کے اس عذاب کا مزہ چکھتے رہیں۔ آگے قیامت کا عذاب اس کے بعد بیان فرمایا گیا ہے۔ اس لئے یہ آیت کریمہ عذاب قبر کے اثبات لئے صریح دلیل ہے۔ جیسا کہ جمہور علمائے کرام نے تصریح فرمائی ہے۔ اور علامہ سیوطی نے عجائب کے حوالے سے علامہ کرمانی کا یہ قول نقل کیا ہے کہ اس آیت کریمہ میں عذاب قبر کے اثبات کے لئے سب سے زیادہ واضح اور صریح دلیل ہے ۔ " فی ہٰذہ الایۃ اَدَلُّ دَلِیل علی عذاب القبر " ۔ (محاسن التاویل للد مشقی) اور صحیح بخاری و مسلم وغیرہ کی حدیث میں حضرت عبد اللہ بن عمر۔ ؓ ۔ سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد مروی ہے کہ تم میں سے ہر ایک پر اس کا آخری ٹھکانا صبح و شام پیش کیا جاتا ہے۔ اگر وہ جنتی ہے ۔ جعلنا اللہ منہم ۔ تو اس پر اس کا جنت کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ دوزخی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو اس پر اس کا دوزخ کا ٹھکانا پیش کیا جاتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ تیرا ٹھکانا ہے جہاں تو نے جانا ہے۔ ۔ وَالتَّفْصِیْلُ فِی الْمُفَصِّلَ انشاء اللہ ۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں اس عذاب کو بیان فرمایا گیا ہے جو فرعونیوں کو ان کی برزخی زندگی میں بھگتنا ہوگا۔ یعنی انکو صبح و شام دوزخ کے عذاب کا مشاہدہ کرایا جاتا رہے گا تاکہ یہ دیکھتے رہیں کہ انکا اصل اور دائمی ٹھکانہ یہ ہوگا۔ اور قیامت کے روز حکم ہوگا کہ داخل کردو فرعون اور اس کے اتباع و اَذناب کو دوزخ کے اس شدید ترین عذاب میں۔ سو جس دنیاوی حکومت و بادشاہی کا آخری انجام یہ ہو اس پر اترانے اور مست ہونے کا آخر کسی کیلئے کیا موقع ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس اصل اور حقیقی کامیابی آخرت ہی کی ہے۔ اسی کو اصل مقصد اور حقیقی نصب العین بنانا چاہیے کہ یہی عقل و نقل کا تقاضا ہے اور اسی میں دنیا و آخرت کا بھلا ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayah 40:4795 اہل دوزخ کے باہمی جھگڑے اور تو تکار کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ دوزخ میں پیرو اپنے بڑوں اور لیڈروں سے جھگڑتے ہوئے ان سے کہیں گے کہ " دنیا میں ہم تمہارے پیرو بنے رہے تھے تو کیا اب تم ہم سے اس آگ کا کوئی حصہ دور کرو گے ؟ " تاکہ ہمارا عذاب کسی قدر ہلکا ہو سکے۔ کیونکہ تمہی نے تو ہمیں یہاں تک پہنچایا ہے ۔ { اَنتُمْ قَدَّمْتُوْہُ لَنَا } ۔ ورنہ اگر تم نہ ہوتے تو ہم ضرور ایمان لے آتے ۔ { لَوْلا اَنْتُمْ لَکُنَّا مُؤْمِنِیْنَ } ۔ اور یہ بات وہ محض ان کی تحقیر و تذلیل اور ایلام و ایذاء کے لئے کہیں گے۔ ورنہ وہ اچھی طرح جانتے ہوں گے کہ ان کے بس میں ایسی کوئی بات نہیں۔ (کبیر، مراغی، مدارک وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ آج تو یہ تابع اور متبوع سب حق اور اہل حق کیخلاف یکجا اور صف آراء ہیں۔ مگر ایک وقت آئے گا کہ یہ سب اپنے آخری انجام کو پہنچ کر دوزخ میں یکجا ہوں گے اور وہاں پر یہ ایک دوسرے پر لعنتیں برساتے اور نفرتیں کرتے ہوں گے اور اپنے اپنے الزامات ایک دوسرے پر اس روز ڈال رہے ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف جن لوگوں کو دنیا میں دبا کر رکھا گیا تھا اور اس پر وہ آنکھیں بند کر کے ان لوگوں کے پیچھے چلے جا رہے تھے جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا رہا کرتے تھے۔ سو کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہاں میں جب ان کی آنکھیں کھلیں گی اور اپنے کیے کرائے کا انجام ان کے سامنے آجائے گا تو یہ آنکھ اٹھا کر ان سے اس طرح کہیں گے۔ اور ان کو اپنے اس ہولناک انجام کا ذمہ دار ٹھہرائیں گے۔
Ayah 40:4896 بےوقت کے عذر و معذرت کا کوئی فائدہ نہیں : سو اپنی بڑائی کا گھمنڈ رکھنے والے وہ گمراہ لیڈر اور گرو اپنے ان دم چھلوں سے کہیں گے کہ " بیشک اللہ نے فیصلہ فرما دیا اپنے بندوں کے درمیان " یعنی اب بےوقت کے اس طرح کے عذر و معذرت کا کوئی فائدہ نہیں کہ اب اللہ کا فیصلہ صادر ہوچکا۔ جس کے بدلنے اور اس کے خلاف ہونے کی اب کوئی صورت ممکن نہیں۔ سو گرو اپنے چیلوں سے اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا رہنے والے اپنے پیرؤوں اور دم چھلوں سے اس روز صاف اور صریح طور پر کہیں گے کہ اب اس طرح کے شکو وں شکایتوں اور الزام تراشیوں وغیرہ کا کوئی فائدہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق اپنے بندوں کے درمیان آخری، عملی اور قطعی فیصلہ فرما دیا ہے جس سے اب کسی کے لیے کوئی راہ فرار ممکن نہیں۔ اب تم اور ہم سب کو یہ بھگتان بہرحال بھگتنا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر انکے اس قول کو اس طرح صراحتہً ذکر فرمایا گیا ہے ۔ { سَوَائٌ عَلَیْنَا اَ جَزِعْنَا اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ } ۔ (ابراہیم : 21) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو بےوقت کے اس پچھتاوے اور اقرار و اعتراف کا ان کو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 40:49–5098 دوزخ کے کارندوں کا اہل دوزخ کو رسوا کن جواب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پر دوزخ کے کارندے ان سے پوچھیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول کھلے دلائل کے ساتھ نہیں آئے تھے۔ وہ کہیں گے کہ ہاں کیوں نہیں۔ اس پر دوزخ کے داروغے ان سے کہیں گے کہ پھر تم خود ہی دعا و درخواست کرو۔ کہ جب تم نے جان بوجھ کر حق کو چھوڑا اور اس کے پہنچ چکنے کے بعد تم نے اس سے منہ موڑا اور تم پر حجت تمام ہوگئی تو اب اپنی درخواست تم خود ہی پیش کرو۔ پس تم جیسے لوگوں کی کوئی درخواست ہم نہیں پیش کرسکتے کہ اسکا کوئی فائدہ نہیں۔ سو رسولوں کی دعوت سے منہ موڑنا اور ان کی تکذیب کرنا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جرموں کا جرم اور محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور دوزخیوں کے اس اقرار و اعتراف کا ذکر قرآن حکیم میں کئی جگہ فرمایا گیا ہے۔ مثلاً سورة مومنون میں ارشاد فرمایا گیا کہ جب اللہ پاک دوزخیوں سے فرمائے گا کہ کیا یہ امر واقع نہیں ہے کہ میری آیتیں تم لوگوں کو پڑھ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں مگر تم انکو جھٹلاتے رہے تھے ؟ تو اس کے جواب میں وہ کہیں گے کہ ہاں اے ہمارے رب لیکن ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی تھی۔ جس سے ہم گمراہ کے گمراہ ہی رہے۔ اسی طرح سورة ملک میں آیت نمبر 6 سے آیت نمبر 9 تک ذکر فرمایا گیا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔
99 کافروں کی دعا اکارت و بےسود : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و تاکید کے اسلوب میں ارشاد کیا گیا کہ کافروں کی دعا و پکار محض اکارت ہے۔ سو کافروں کی دعا و پکار کا کوئی فائدہ نہیں۔ اور اس کا کوئی نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ مگر یہ آخرت کی بات ہے۔ باقی دنیا میں اگر کافر کی دعا سن لی جائے تو وہ اس کے خلاف نہیں۔ یہاں کے لئے تو اَکْفَرُ الْکَافِرین ابلیس لعین کی دعا بھی سن لی گئی۔ کیونکہ آخرت میں کفار کے بارے میں یہ طے فرما دیا گیا کہ وہاں نہ تو ان سے عذاب کو ہلکا کیا جائے گا اور نہ ان کی کسی طرح کی کوئی مدد کی جائے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس بارے صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اُوْلٓئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْحَیَاۃَ الدُّنْیَا بالآخِرَۃِ فَلاَ یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلاَ ہُمْ یُنْصُرُوْنَ } ۔ (البقرۃ : 86) نیز فرمایا گیا ۔ { خَالِدِیْنَ فِیْہَا لاَ یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلاَ ہُمْ یُنْصَرُوْنَ } ۔ (البقرۃ : 162) ۔ نیز دوسرے مقام پر اس بارے ارشاد فرمایا گیا ۔ { اُوْلٓئِکَ جَزَائُ ہُمْ اَنَّ عَلَیْہِمْ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلٓئِکَۃِ وَالنَّاسِ اَجْمَعِیْنَ ، خَالِدِیْنَ فَیْہَا لاَ یُخَفَّفُ عَنْہُمُ الْعَذَابُ وَلاَ ہُمْ یُنْصَرُوْنَ } ۔ (آل عمران :87- 88) وغیرہ وغیرہ۔ سو جس کافر کا یہ انجام ہونے والا ہے اس کو اگر دنیا ساری کی دولت بھی مل جائے تو بھی اس کو کیا ملا ؟ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ بہرکیف ان نصوص کریمہ سے واضح ہوجاتا ہے کہ آخرت میں کافر کی دعا و پکار کا کوئی نتیجہ اور فائدہ نہیں ہوگا۔
Ayahs 40:51–52102 ظالموں کا ٹھکانا اور انجام بڑا ہی برا ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ دے گی۔ ان کے لیے لعنت اور پھٹکار ہوگی۔ اور بڑا ہی برا گھر ہوگا ظالموں کا "۔ اور اتنا اور ایسا برا اور اس قدر برا کہ اس جہاں میں رہتے ہوئے کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ان کے لئے وہاں پر لعنت و پھٹکار اور خدائے پاک کی رحمت سے دوری اور محرومی ہی ہوگی کہ انہوں نے اپنے کفر وعناد کی بناء پر خدائے پاک کی رحمت کو کمانے اور حاصل کرنے کے موقع و فرصت یعنی فرصت عمر کو خود ضائع کردیا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جن ظالم اور بدقسمت لوگوں نے نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اور حق اور اہل حق کو جھٹلا کر اور ان سے عداوت وعناد برت کر ظلم عظیم کا ارتکاب کیا ہوگا انکا اس روز کوئی بھی عذر قابل قبول اور کارگر نہیں ہوسکے گا۔ یہاں تک کہ جو لوگ اپنی گمراہی کا ذمہ دار اپنے لیڈروں اور بڑوں کو بنانا چاہیں گے انکا عذر بھی مسموع نہیں ہوگا۔ انکے لیڈر اور انکے گرو اور بڑے خود ان کی بات کو انکے مونہوں پر پھینک ماریں گے اور ان سے کہیں گے کہ تم خود شامت زدہ تھے کہ تم نے یہ جانتے ہوئے بھی ہماری پیروی کی کہ ہم کھلی گمراہی پر ہیں۔ سو اب ہم اور تم برابر ہیں۔ اور ہم میں سے ہر ایک کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو نور حق و ہدایت سے محرومی ہر خیر سے محرومی اور سب سے بڑا خسارہ و نقصان ہے اور ایسا بڑا کہ اس جیسا دوسرا کوئی خسارہ ہو ہی نہیں سکتا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 40:53–55104 صبر و استقامت کی تعلیم و تلقین : سو پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آپ ہمارے بھیجے ہوئے رسول اور قطعی طور پر حق پر ہیں اور رسولوں اور اہل ایمان کی نصرت و امداد سے متعلق ہمارا وعدہ قطعی ہے جس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے تو آپ ﷺ صبر۔ و استقامت ۔ ہی سے کام لیتے رہیں۔ کہ آپ بہرحال حق پر ہیں ۔ { اِنَّکَ عَلَی الْحَقِّ الْمُبِیْنِ } ۔ اور انجام بہرحال حق ہی کا ہے ۔ { وَالْعَاقِبَۃُ للتَّقْوٰی } ۔ اللہ کی نصرت و امداد بہرحال آپ ہی کے ساتھ ہے اور ان منکرین کی زیادہ فکر و پروا نہ کریں ۔ { وَدَعْ اَذَاہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ } ۔ اور آپ کے ذمے تو صرف پیغام حق کو پہنچا دینا ہے اور بس۔ آگے ان کا حساب ہمارے ذمے ہے ۔ { اِنْ عَلَیْکَ اِلَّا الْبَلَاغُ وعَلَیْنَا الْحِسَابُ } ۔ سو اس آیت کریمہ میں بطور خلاصہ بحث نبی اکرم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ﷺ اپنی دعوت میں پکے اور ثابت قدم رہیں۔ اللہ تعالیٰ کا وعدہ قطعی طور پر حق اور سچ ہے۔ اس نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے۔ یعنی وہی وعدہ جس کا ذکر اوپر آیت نمبر 51 میں فرمایا گیا کہ ہم ضرور بالضرور مدد کریں گے اپنے رسولوں کی اور ان سب کی جو ان پر ایمان لائیں گے۔ اس دنیاوی زندگی میں بھی اور آخرت کے اس دن میں بھی جس دن کہ گواہ کھڑے ہوں گے۔
105 اپنے گناہوں کے لیے استغفار کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم معافی مانگو اپنے گناہ کی "۔ کہ تبلیغ و رسالت کا جو کام آپ ﷺ کے ذمے لگایا گیا ہے وہ بہت بڑا اور انتہائی اہم اور عظمت والا کام ہے۔ اس کی نزاکت و اہمیت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ ہمیشہ اپنے ان خلاف اولیٰ قسم کے امور کے لئے معافی مانگتے رہیں جو کہ اگرچہ فی نفسہا کوئی گناہ نہیں ہیں مگر آپ ﷺ کے مرتبہ و مقام کے اعتبار سے ان کو ذنب ۔ گناہ ۔ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاکہ آپ ﷺ کے درجات و مراتب اور بڑھتے چلے جائیں۔ ورنہ پیغمبر تو ہر صغیرہ و کبیرہ گناہ سے معصوم ہوتا ہے۔ اس لئے اس سے خلاف اولیٰ و افضل قسم کے امور ہی مراد لئے جاسکتے ہیں۔ نیز اس میں امت کے لئے یہ درس عظیم اور تحریک ہے کہ وہ بھی ہمیشہ استغفار کرتی رہے۔ کہ جب حضرت امام الانبیائ ﷺ کو معصوم ہونے کے باوصف اور اس قدر عالی شان اور ایسے بلند مراتب و درجات پر فائز ہونے کے باوجود اس کا حکم و ارشاد فرمایا جا رہا ہے تو پھر امت کے لئے اس کی کس قدر ضرورت ہوگی۔ اس لئے حضرات مفسرین کرام اس کو بالعموم اس طرح تعبیر فرماتے ہیں ۔ " ہُوَ مَحْمُوْلٌ علی تَرْکِ الْاوْلٰی والْأفَضل " ۔ (کبیر، خازن) ۔ " اَیْ مِمَّا یُعَدُّ ذَنبًا بالنسبۃ الیک و إنْ لم یکن ذَنْبًا " ۔ (روح) ۔ " اَیْ علی ما فرط منک عن ترک الاولٰی والأفَضل " ۔ (صفوۃ التفاسیر) ۔ " وہٰذا تہییج للامۃِ عَلی الاستغفار " ۔ (ابن کثیر) ۔ " والمقصودمن ہٰذا الامر تعلیم الامۃ " ۔ (صاوی) ۔ اور جیسا کہ علامہ ابن کثیر۔ (رح) ۔ وغیرہ محققین نے لکھا ہے کہ اس میں دراصل امت کو توبہ و استغفار کی تعلیم و تلقین ہے کہ جب پیغمبر کو معصوم ہونے کے باوجود اس طرح استغفار کا حکم فرمایا جا رہا ہے تو پھر تمہیں جس قدر استغفار کی ضرورت ہے اس کا اندازہ تم لوگ خود کرلو۔ سو یہی مطلب آیت کریمہ کا سلف و خلف جملہ مفسرین کرام نے بیان فرمایا ہے۔ چناچہ آپ مثال کے طور پر دیکھ لیجئے تفسیر کبیر، ابو السعود، ابن کثیر، روح المعانی، جامع البیان، المراغی اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ سب حضرات یہی کہتے ہیں مگر بعض لوگوں نے اس سب کے برعکس ۔ { لِذَنْبِکَ } ۔ کا ترجمہ " اپنے گناہوں " کی بجائے " اپنوں کے گناہوں " سے کیا ہے۔ اور پھر ان کے اتباع و اَذناب نے اس پر اور بھی طرح طرح سے حاشیہ ارائی کی اور اپنے زعم میں گویا انہوں نے اس طرح کوئی بڑا کارنامہ انجام دے دیا۔ مگر ان لوگوں نے یہ نہ سوچا کہ { لِذَنْبِکَ } کا یہ ترجمہ عربیت کے اعتبار سے آخر کس طرح بن سکتا ہے ؟۔ اور پھر چودہ صدیوں کے ان تمام مفسرین کرام میں سے کسی کو بھی یہ معنیٰ کیوں نہ سوجھے جو تمہیں سوجھے ہیں ؟ اور جب اس سے مراد ان سب کے نزدیک صرف خلاف اولیٰ قسم کے امور ہیں تو پھر اس خواہ مخواہ کے تکلف کی آخر ضرورت ہی کیا ہے ؟ اور خاص کر ایسی صورت میں جبکہ اس سے امت کی ترغیب و تلقین کا اصل مقصد بھی فوت ہوجاتا ہے۔ سو تفسیر قرآن مجید میں اصل، اسہل اور اسلم طریقہ وہی ہے جو اس امت کے اسلاف کرام سے ہوتا چلا آیا ہے۔ اس کے خلاف صدیوں بعد کی جانے والی اس طرح کی کوئی تاویل درست اور قابل قبول نہیں ہوسکتی کہ ایسا کرنا تحریف اور قول علی اللہ کے زمرے میں آتا ہے جو کہ ممنوع و محظور ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
106 تسبیح و استغفار وسیلہ صبر وظفر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تسبیح کرتے رہا کرو اپنے رب کی حمد کے ساتھ صبح اور شام "۔ یعنی ہر وقت اور ہر حال میں اس کی حمد و ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح و تقدیس کرتے رہیں کہ مشکلات پر قابو پانے اور مصائب و مشاکل کا مقابلہ کرنے کے لئے یہ بہت کارگر اور مفید نسخہ ہے۔ اور بس اسی پر مداومت و مواظبت رکھیں۔ سو اللہ پاک کی تسبیح وتحمید مصائب و مشاکل کے مقابلے کے لئے دعاۃِ حق کے لئے ایک عظیم الشان قوت اور ہتھیار ہے ۔ فَسُبْحَانَ ربِّی الْاَعَلٰی وبحمد ِہ و سبحان اللّٰہِ العظیم ۔ اور یہ چیز حصول صبر کیلئے اہم ذریعہ اور وسیلہ ظفر ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاَقِمِ الصَّلاَۃَ طَرَفَیِ النَّہَارِ وَ زُلَفًا مِّنَ اللَّیْلِ اِنَّ الْحَسَنَاتِ یُذْہِبْنِ السَّیِّئَاتِ ، ذٰلِکَ ذِکْرٰی للذَّاکِرِیْنَ } ۔ (ھود : 114) سو صبح اور شام کا ذکر دوام وا ستمرار سے بھی کنایہ ہوسکتا ہے۔ یعنی ہمیشہ اپنے رب کی حمد و ثنا میں لگے رہا کرو۔ تاکہ زمرئہ ملائکہ میں شامل ہوجاؤ جو کبھی بھی اللہ کی یاد دلشاد سے غافل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { وَلَہُ مَنْ فِی السَّمٰوٰاتِ وَالاَرْضِ وَمَنْ عِنْدَہُ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ عَنْ عَبَادَتِہ وَ لاَ یَسْتَحْسِرُوْنَ } ۔ (الانبیائ : 20) (تفسیر المراغی وغیرہ) ۔ نیز یہ نماز سے بھی کنایہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ نماز تسبیح وتحمید، حمد وثنا اور رجوع الی اللہ کا سب سے اہم اور سب سے جامع اور کامل ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو نماز اور استغفار وسیلہ صبر اور ذریعہ ظفر و نجات ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ جل جلالہ وعم نوالہ -
Ayah 40:56107 کبر و غرور باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے انکار کی اصل علت انکا کبر و غرور ہے جو ان کو قبول حق اور اتباع حق سے روک رہا ہے کہ اس طرح انہیں حق کے ماتحت رہنا پڑے گا۔ اور یہ انہیں گوارا نہیں۔ اس لئے یہ لوگ چاہتے ہیں کہ حق اور اہل حق کو سر بلندی نصیب نہ ہو اور ان ہی کی کھڑپینچی اور سرداری چلتی رہے۔ اسی لئے یہ لوگ جاننے کے باوجود آپ ﷺ کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے۔ مگر کیا اس طرح یہ لوگ حق کو نیچا دکھا سکیں گے اور اپنی غرض کو پہنچ جائیں گے ؟ نہیں اور ہرگز نہیں۔ حق بہرحال غالب ہو کر رہے گا اگرچہ ایسے منکروں کو ناگوار گزرے۔ اور یہ لوگ اپنی مراد کو کبھی نہیں پہنچ سکیں گے۔ سو معلوم ہوا کہ کبر یعنی اپنی بڑائی کا گھمنڈ قبول حق اور اتباع حق کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہی بات جب تھی اور یہی اب ہے۔ آج بھی کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو محض اپنی بڑائی کے زعم باطل میں علمائے حق کی بات قبول نہیں کرتے اور وہ حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر وہ اپنی اس غرض کو کبھی پا نہیں سکیں گے۔ سو عظمت وکبریائی اللہ وحدہ لا شریک ہی کا حق اور اسی کی شان ہے۔ اور بندے کا کمال اور اس کی شان اسی میں ہے کہ وہ اپنی عبدیت میں کمال پیدا کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر گامزن رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
108 پناہ دینا اللہ ہی کا کام اور اسی کی شان ہے : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب اصل حقیقت یہ ہے اور سب کو پناہ دینے والا اللہ ہی ہے تو تم پناہ مانگو اللہ کی۔ بیشک وہی ہے ہر کسی کی سنتا سب کچھ دیکھتا۔ پس اس کی پناہ میں آجانے والے کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا ۔ فَاَعِذْ نَا مِنْ شُرُوْراَنْفُسِنَا وَ مِنْ سَیِّئَآتِ اَعْمَالِنَا ومِنْ مَّکْرِ اَعْدَائِنَا بِمَنِّکَ وَ کَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو اس آیت کریمہ سے کئی اہم اور بنیادی حقائق کو واضح اور آشکارا فرما دیا گیا۔ ایک یہ کہ جو لوگ آپ کے ساتھ اللہ کی آیتوں کے بارے میں جھگڑتے ہیں تو وہ اس لیے نہیں کہ انکے سامنے حق واضح نہیں ہوا یا آپ ﷺ کی تبلیغ و تفہیم میں کوئی فرق و قصور ہے۔ یا ان لوگوں کے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل موجود ہے۔ نہیں ایسی کوئی بھی بات نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے اگر آپ کی بات تسلیم کرلی تو آپ ﷺ کی برتری تسلیم کرنا پڑے گی اور اس میں انکے کبر و غرور اور ان کی بڑائی کا پندار رکاوٹ ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ اپنے اس کبر و غرور کی بنا پر یہ آپ ﷺ کے درپے آزار بھی ہوسکتے ہیں۔ لہذا اس سے بچنے کیلئے آپ ﷺ اپنے رب کی پناہ مانگیں کہ وہی ہے جو ہر کسی کی سنتا اور سب کچھ دیکھتا ہے۔ پس پناہ وہی دے سکتا ہے۔ سب اسی کے محتاج ہیں۔ اور جب حضرت امام الانبیائ ﷺ بھی اسی کی عنایت و دستگیری کے محتاج ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو کسی کا حاجت روا و مشکل کشا ہوسکے ؟ پس حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ اس کے سوا لوگوں نے اپنے طور پر جو طرح طرح کے حاجت روا اور مشکل کشا بنا رکھے ہیں وہ سب باطل و مردود اور بےحقیقت و بےبنیاد اور خرافات کا پلندہ ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 40:57109 وجود کائنات بعث بعد الموت کی دلیل : سو اس سے آسمانوں اور زمین کی تخلیق سے انسان کے اعادئہ خلق پر استدلال فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا لوگوں کے پیدا کرنے سے کہیں بڑا کام ہے "۔ یعنی تمہارے خیال کے مطابق اے انسانو ! ورنہ اللہ پاک کی قدرت لا متناہیہ کے اعتبار سے تو سب برابر ہے کہ اس کی شان تو کُنْ فَیَکُوْنُ کی شان ہے۔ تو جب اس کو زمین و آسمان کی اس عظیم الشان اور بےمثال کائنات کا پیدا کردینا کچھ مشکل نہیں تو پھر تمہارا دوبارہ پیدا کردینا آخر اس کیلئے کیا اور کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟ اور جب خلق و ایجاد کی اس صفت میں اس کا کوئی شریک نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم کس طرح ہوسکتا ہے ؟ مگر لوگوں کی اکثریت ہے کہ ان واضح اور کھلے حقائق کو بھی نہیں جانتی اور ان میں غور و فکر سے کام نہیں لیتی۔ اور اس کے نتیجے میں وہ طرح طرح کی گمراہیوں کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹک رہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف غافل لوگوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کیلئے انکے سامنے اس کھلی اور واضح حقیقت کو رکھ دیا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی اس عظیم الشان اور حکمت بھری کائنات کو پیدا کرسکتا ہے اور اس نے بالفعل انکو پیدا فرما دیا ہے تو پھر اس کیلئے پانچ چھ فٹ کے اس انسان کو دوبارہ پیدا کرنا آخر کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو کائنات کی اس عظیم الشان اور واضح اور کھلی کتاب میں عقل سلیم رکھنے والوں اور غور و فکر سے کام لینے والوں کے لیے عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ سو اس میں عظیم الشان دلائل ہیں حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کے وجود باجود اس کی وحدانیت ویکتائی اس کی قدرت وحکمت کے۔ نیز اس میں دلائل ہیں بعث بعد الموت اور قیام قیامت کے امکان اور اس کی ضرورت سے متعلق۔ مگر یہ سب ان لوگوں کے لیے ہیں جو عقول سلیمہ رکھتے ہیں اور وہ صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ اور جو لوگ اس شرف و امتیاز سے محروم ہیں وہ حیوان نہیں بلکہ ان سے بھی بہکے بھٹکے ہوئے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 40:58110 ضرورت آخرت اختلاف اخلاق کے اعتبار سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " برابر نہیں ہوسکتے اندھا اور دیکھنے والا اور نہ ہی نیک اور بد "۔ تو پھر ان کا انجام کیسے برابر ہوسکتا ہے ؟ اور جب اس دنیا میں اس فرق و انجام کا نتیجہ ظاہر نہیں ہوتا تو لازماً کوئی وقت ایسا ہوگا اور ضرور ہونا چاہیئے جس میں پورا انصاف ہو اور ہر کسی کو اپنے کئے کرائے کا پورا بدلہ ملے اور نتائج کا فرق بھرپور طریقے سے ظاہر ہو۔ سو وہی قیامت کا دن ہے جس کو یَوْمُ الدِّیْنِ یعنی " بدلے اور جزا و سزا کا دن " کہا جاتا ہے۔ لہٰذا قیامت کے اس دن کا آنا عقل و نقل دونوں کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ تاکہ عدل و انصاف اور سزا و جزا کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں۔ اور جو لوگ قیام قیامت کی اس حقیقت کبریٰ کا انکار کرتے ہیں وہ حقیقت میں عقل و نقل، عدل و انصاف، حق و صداقت کے تقاضوں کا انکار کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو عقیدئہ آخرت کا ایمان و یقین سب خوبیوں کی اصل اور اساس ہے۔ اور اس کا انکار سب خرابیوں کی جڑ بنیاد ۔ والعیاذ باللّٰہِ العظیم ۔ فَزِدْنَا اللّٰہُمَّ اِیْمَانًا وَّیَقِیْنًا بِکَ وَبِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزلت و برسولک الّذِی ارسلت بِمَنِّکَ وکرمک یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین ۔ سو عقیدئہ آخرت کا انکار دراصل اندھا پن ہے۔ اور یہ چیز اندھے اور آنکھوں والے کو ایک برابر سمجھنے اور حکمتوں بھری اس کائنات کو اندھیر نگری قرار دینے کے متراف ہے۔ جو کہ فی البداہت غلط اور عقل و نقل دونوں کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ سو اخلاقی تقاضوں کے اعتبار سے عقیدئہ آخرت ناگزیر ہے ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست وبود عبث و بیکار قرار پاتا ہے۔ " اعمیٰ " سے یہاں پر مراد عقل اور دل کے اندھے ہیں۔ اور " بصیر " سے مراد وہ ہیں جو بصارت کے ساتھ بصیرت کی دولت بھی رکھتے ہیں بلکہ بصیرت کی دولت بصارت سے بھی کہیں بڑھ کر اور اصل دولت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 40:59–60112 دعا و پکار اللہ ہی سے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا " اور فرمایا تمہارے رب نے کہ تم سب مجھ ہی کو پکارو میں تمہاری پکار کو سنوں گا "۔ یعنی براہ راست مجھے پکارو۔ میں تمہاری پکار کو سنوں گا اور تمہاری دعا کو قبول کروں گا۔ دیکھئے اللہ پاک کس صراحت و وضاحت کے ساتھ اپنے بندوں کو براہ راست اور بلاواسطہ اپنے رب کو پکارنے کی تعلیم دیتا اور اس کی قبولیت کا وعدہ فرماتا ہے مگر اس کے باوجود دور حاضر کا جاہل مسلمان کہتا ہے کہ اللہ ہم گناہ گاروں کی براہ راست نہیں سنتا۔ بلکہ " ہماری فلاں کے آگے اور اس کی خدا کے آگے " وغیرہ۔ اور جاہل پیر اور گمراہ ملاں اس سادہ لوح مسلمان کی پیٹھ ٹھونکتا اور اس کی گمراہی کو پکا کرتا جاتا ہے ۔ فَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکیٰ وَہُوَ المستعان ۔ باقی رہ گئی یہ بات کہ دعا کی قبولیت کی شکلیں کیا کیا ہیں اور اس کیلئے آداب و شروط کیا کچھ ہیں اور قبولیت دعا کے موانع کیا ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ تو ان سب باتوں پر۔ الحمد للہ ۔ راقم آثم نے اپنی کتاب " قرآن و سنت کی مقدس دعائیں " میں مفصل اور مدلل روشنی ڈال دی ہے جو کہ کئی سال ہوئے طبع ہو کر منظر عام پر آچکی ہے اور کئی ہزار تک چھپ چکی ہے ۔ والحمد للہ رب العالمین ۔ اللہ تعالیٰ اس کو شرف قبولیت سے نواز کر راقم آثم کے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بنا دے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف آخرت کی تذکیر و یاددہانی کے بعد اب یہاں پر توحید کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے کہ تمہارے رب کا ارشاد و اعلان ہے کہ تم براہ راست مجھ ہی سے مانگو۔ کسی واسطے اور وسیلے کی ضرورت نہیں۔ جس کو مانگنا ہو وہ مجھ ہی سے مانگے۔ میں اس کی دعا کو سنوں گا اور اس کی درخواست کو قبول کرونگا۔ مطلب یہ کہ جب میں نے اپنے در پر کوئی پہرہ نہیں بٹھایا تو پھر دوسروں کو سفارشی بنانے اور ان کی خوشامد کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ سو اس سے ان مشرکوں کے اوہام کی جڑ نکال دی گئی جو کہتے ہیں کہ اللہ براہ راست ہماری نہیں سنتا۔ جب تک ہم فلاں ہستی اور فلاں سرکار کا واسطہ نہ پکڑیں وغیرہ وغیرہ ۔ اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
113 استکبار محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک جو لوگ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں میری عبادت سے منہ موڑتے ہیں ان کو عنقریب ہی ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہونا ہوگا "۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ تکبر اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں اللہ پاک کے حضور ہاتھ پھیلانے اور دعا مانگنے سے اباء و انکار کرنا بہت بڑا جرم اور سخت محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جب ہم ہیں ہی اس کے بندے اور سراپا احتیاج تو پھر اس کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ سے منہ موڑنے کے معنیٰ ہی کیا ہوسکتے ہیں ؟ ہمارے جسم و جان کا تو رواں رواں ہر لمحہ اس کی رحمتوں و عنایتوں کا محتاج ہے ۔ فَعامِلْنَا بِلُطْفِکَ وَکَرَمِکَ یَا مَنْ وَسِعَتْ کُلَّ شَئٍ رَحْمَۃً وَّعِلْمًا فَاغْفِرْلَنَا زَلَّاتِنَا واٰمِنْ رَوْعَاتِنَا وَقِنَا عَذَاب النَّارِ یَا عَزِیْزُ یَا غَفَّارُ ۔ یہاں چونکہ استکبار کے بعد " عن " کا صلہ آیا ہے۔ اس لیے یہ لفظ اعراض کے معنیٰ کو متضمن ہوگیا۔ سو اس اعتبار سے اس کا معنیٰ و مطلب یہ ہوگیا کہ میری طرف سے اس عام منادی کے باوجود جو لوگ محض اپنے کبر و غرور کی بنا پر میری بندگی سے اعراض کر رہے ہیں وہ بڑے ہی سنگین جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس لیے انکو یاد رکھنا چاہیئے کہ وہ اپنے اس کبر و غرور کی پاداش میں عنقریب ہی جہنم میں داخل ہوں گے۔ سو اسکتبار محرومیوں کی محرومی اور خرابی و فساد کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر گامزن رکھے ۔ آمین۔
Ayah 40:61114 رات کی نعمت میں دعوت غور و فکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو بنایا تاکہ تم لوگ اس میں سکون حاصل کرسکو "۔ یعنی سکون و راحت کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کو اس نے کمال حکمت وقدرت اور رحمت و عنایت سے رات کے سناٹے میں رکھ دیا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اپنے خالق ومالک کی معرفت سے سرفرازی و سرشاری کیلئے تم لوگوں کو کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ تم اگر دن رات کے اس سلسلے ہی میں غور کرلو جس سے تم طرح طرح سے اور لگاتار مستفید و فیضیاب ہوتے رہے ہو تو تم لوگوں کو اپنے رب کی قدرت، اس کی رحمت اور اس کی حکمت و عنایت کے عظیم الشان نمونے نظر آئیں گے۔ اور تم دل و جان سے اس کے حضور جھک جھک جاؤ گے۔ اور تم بےساختہ پکار اٹھو گے کہ وہی ہے اللہ جو معبود برحق ہے۔ جو ہمیں ان اور ان عظیم الشان رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور ہماری طرف سے کسی طرح کی اپیل و درخواست کے بغیر نوازتا ہے جو کہ اس کا کرم بالائے کرم ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
115 دن کی نعمت میں دعوت غور وفکر : سو روشن دن کی نعمت میں غور و فکر کی دعوت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی وحدہ لا شریک نے دن کو بنایا روشن "۔ تاکہ اس میں تم چل پھر کر اپنے کام کاج کرسکو اور اپنی روزی و روٹی کا سامان کرسکو اور تاکہ تم آنکھیں کھول کر اس کی حکمتوں بھری اس کائنات میں نگاہ عبرت ڈال کر راہ حق و ہدایت کو اپنا سکو۔ اور اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکو۔ سو اگر تم لوگ نگاہ عبرت و بصیرت سے اس کو دیکھو گے تو اس کی ایک ایک چیز اپنی زبان حال سے پکار پکار کر تمہیں اپنے اس خالق کے وجود باجود، اس کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا پتہ دے گی۔ اور انہی میں سے دن اور رات کا یہ حکمتوں بھرا سلسلہ ہے جو اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ، رحمت شاملہ اور وحدانیت مطلقہ کا ایک عظیم الشان مظہر ہے۔ اور ایسا عظیم الشان اور بےمثال مظہر جو دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں ہر جگہ، ہر وقت اور ہر اعتبار سے دعوت غور و فکر دیتا ہے اور ڈوب ڈوب کر طلوع ہو ہو کر اپنے خالق ومالک کی عظمت شان، اس کی قدرت مطلقہ، حکمت بالغہ، رحمت شاملہ، عنایت کاملہ اور مخلوق کے عروج وزوال، ترقی و کمال اور فنا وزوال کے عظیم الشان اور انقلاب آفریں درسہائے عبرت و بصیرت دیتا ہے۔ لیکن دنیا ہے کہ غفلت میں ڈوبی ہوئی ہے۔ اور وہ اس بارے غور وفکر سے کام لینے کی زحمت گوارا کرتی ہی نہیں ۔ الا ما شاء اللہ -
116 فضل خداوندی کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ بڑا ہی فضل فرمانے والا ہے لوگوں پر "۔ کہ اس نے اپنی مخلوق پر ایسے ایسے عظیم الشان کرم فرمائے جو دوسرے کسی کے بس میں ہی نہیں۔ اور انسان کو ان ان نعمتوں سے نوازا کہ جن کو کوئی شمار بھی نہیں کرسکتا۔ سو ذرا دن رات کے اسی سلسلے میں غور و فکر سے کام لیکر دیکھو کہ کس طرح اس نے اس حکمتوں بھرے سلسلے کو جاری اور قائم فرمایا جو لگاتار اور نہایت پابندی سے چلے جا رہا ہے۔ جس میں تمہاری طرح طرح کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں اور تم طرح طرح کے عظیم الشان فائدوں سے مستفید و فیضیاب ہوتے ہو اور لگاتار و مسلسل مستفید ہوتے ہو۔ مگر اب بھی ربِّ رحمن کی طرف متوجہ نہیں ہوتے جس نے تمہارے لیے یہ عظیم الشان سلسلہ قائم فرمایا اور خود اس کو نہایت پابندی سے چلا رہا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو شب و روز کے اس متضاد سلسلے کا اس قدر ہم آہنگی سے انسان کی خدمت میں لگے رہنا اس بات کا ایک واضح اور کھلا ثبوت ہے کہ اس پوری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ایک ہی ہے۔ اور اس سب میں ایک ہی ارادہ کار فرما ہے۔ ورنہ ان متضادچیزوں کے درمیان اس حد تک وثیق اور مضبوط و مستحکم توافق پایا جانا ممکن نہ تھا۔ سو یہ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کا اس کی مخلوق پر ایک عظیم الشان فضل و کرم اور انعام واحسان ہے اور ایسا عظیم الشان فضل و کرم کہ جو آگے کئی عظیم الشان انعامات و احسانات کا منبع ومصدر ہے۔ لیکن لوگوں کی اکثریت پھر بھی غافل اور ناشکری ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے شکر سے سرفراز و سرشار رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ہی چلنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
117 اکثریت نا شکروں کی : سو ارشاد فرمایا گیا اور پوری صراحت سے ارشاد فرمایا گیا کہ " اکثر لوگ شکر نہیں ادا کرتے ۔ اس ربِّ رحمن و رحیم کا ۔ "۔ کہ ایسے لوگ یا تو سرے سے غور و فکر سے کام لیتے ہی نہیں۔ محض جانوروں کی طرح غفلت اور بےفکری سے ان نعمتوں کو اڑاتے ہیں۔ اور اگر کبھی غور و فکر کرتے بھی ہیں تو اس منعم حقیقی وحدہ لاشریک کو بھول جاتے ہیں جس نے ان کو ان سب نعمتوں سے نوازا ہے اور ان کی نگاہیں طرح طرح کے مظاہر میں اٹک کر رہ جاتی ہیں۔ اور یہ اس کے ساتھ اوروں کو بھی شریک کرتے ہیں۔ سو یہ سب کفران نعمت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہاں سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح ہوگئی کہ اکثریت ہمیشہ غلط کار اور ناسپاس و ناشکرے لوگوں ہی کی رہی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ لہذا عوام کالانعام کی اکثریت کا کسی کی حمایت یا مخالفت میں اکٹھا ہوجانا اس کے حق پر یا باطل پر ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتا۔ جیسا کہ جمہوریت کے نوساختہ بت کے پجاریوں کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور جس طرح کہ ہمارے یہاں کے اہل بدعت کا کہنا ہے۔ پس حق وہ ہے جس کا حق ہونا کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کے دلائل کی بنا پر ثابت ہوجائے۔ اور باطل وہ ہے جو اس کے برعکس ہو ۔ اَللَّھُمَّ رَبَّنَا اَرِنَا الْحَقَّ حَقًّا وَّارْزُقْنَا اتَّباعَہَ واَرِنا الْباَطِلَ بَاطِلا وًّارْزُقْناَ اجْنِنَابَہ ۔ بہرکیف اس واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ کی ان طرح طرح کی عظیم الشان اور گوناگوں رحمتوں اور نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دل و جان سے اس کا شکر بجا لائے اور ہمیشہ اسی میں مشغول و منہمک رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 40:62118 حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی معرفت اس کی مخلوق کے ذریعے : سو مخلوق کی مختلف شؤن کے ذکر وبیان کے بعد ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہے اللہ رب تم سب کا "۔ جس کی رحمتوں، عنایتوں، قدرتوں، حکمتوں اور فیاضیوں کے یہ عظیم الشان مظاہر ہر چار سو پھیلے بکھرے ہیں۔ اور جب ان میں سے کسی میں بھی کوئی اس کا شریک وسہیم نہیں تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک وسہیم آخر کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پھر تمہاری مت کہاں اور کیسے ماری جاتی ہے کہ تم لوگ اے مشرکو اس وحدہ لاشریک کے لئے اس کی مخلوق میں سے طرح طرح کے خود ساختہ شریک ٹھہراتے ہو ؟ اور انہیں حاجت روا و مشکل کشا سمجھتے ہوئے ان کو پوجتے پکارتے، ان کے آگے جھکتے اور طرح طرح سے ان کے لئے آداب بندگی بجا لاتے ہو ؟ ان کے لئے نذریں مانتے، نیازیں دیتے اور چڑھاوے چڑھاتے اور ان کے لئے چکر لگاتے اور پھیرے مانتے ہو وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ حالانکہ قدرت کے ان عظیم الشان مظاہر میں سے ہر چیز اور آسمان و زمین، دن اور رات اور سرد و گرم وغیرہ وغیرہ اضداد میں پایا جانے والا یہ توافق اور ایسی پر حکمت ہم آہنگی اور سازگاری پکار پکار کر اس وحدہ لاشریک کی بےمثال عظمت، یکتائی اور وحدانیت کا درس دے رہی ہے۔ تو پھر تم لوگ آخر کہاں اور کیسے اندھے اور اوندھے ہوتے ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے یہ عظیم الشان درس دیا گیا ہے کہ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی معرفت سے سرشاری و سرفرازی کا اصل اور صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کی اس حکمتوں، رحمتوں اور عنایتوں بھری کائنات میں غور و فکر سے کام لیا جائے کہ جس قادر مطلق، حکیم مطلق اور وہاب مطلق نے اس عظیم الشان کائنات کو وجود بخشا وہی ہے ہمارا رب اور اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور معبود برحق۔ ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 40:63119 اللہ کی آیتوں کے انکار کا نتیجہ و انجام اوندھا پن ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اسی طرح اوندھے کیے جاتے رہے وہ لوگ جو اللہ کی آیتوں کا انکار کرتے رہے تھے۔ پس دور حاضر کے ان لوگوں کا یہ انکار کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی یہی کچھ ہوتا آیا ہے۔ پس آپ ﷺ ان لوگوں کے روئے پر نہ تعجب کریں نہ غم۔ سو اس ارشاد ربانی میں تسکین وتسلیہ کا سامان ہے۔ آنحضرت ﷺ کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے آپ ﷺ کی امت کے ہر مبلغ اور داعی حق و صداقت کے لئے کہ آپ منکرین کے انکار و تکذیب سے دل برداشتہ نہ ہوں ۔ صَلَوات اللّٰہِ وَسَلَامُہ عَلَیْہِ وَعَلیٰ الہٖ وَصَحْبِہٖ اجمعین ومن اہتدی بہدیہ ودعا بدعوتہ الی یوم الدین ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے انکار کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آدمی اوندھا بن کر رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن حکیم کی سیدھی سادی اور صاف وصریح بات کا انکار کرنے والی قومیں اندھی اور اوندھی ہو کر رہ گئیں۔ سو انکار حق کے جس نتیجہ و انجام کا بھگتان گزشتہ ادوار کے ان منکروں کو بھگتنا پڑا وہ دور حاضر کے ان منکروں کو بھی بھگتنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ کا قانون سب کیلئے ایک اور بےلاگ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -