Ayahs 40:16–1737 اللہ سب پر غالب ہے ۔ سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو سب پر غالب ہے "۔ ایسا غالب کہ نہ کوئی اس کے ارادئہ و پروگرام میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے نکل کر کہیں بھاگ سکتا ہے کہ وہ قادر مطلق سب بادشاہوں کا بادشاہ، اصل اور حقیقی بادشاہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کا قہر اور غلبہ سب پر حاوی ہوگا۔ کوئی اس سے باہر نہیں ہوسکتا۔ ہر کام اس کے حکم و ارشاد کے تابع ہوگا۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ زمین و آسمان کی یہ ساری کائنات اسی کی مخلوق اور اسی کی مملوک و محکوم ہے۔ سب پر اسی کا حکم وتصرف ہے اور سب اسی کے تھامے سے تھمے ہوئے ہیں۔ وہ اگر ایک لمحہ کے لیے بھی اپنی نظر عنایت و کرم ان سے ہٹالے تو یہ سب کے سب بطن عدم کی ظلمتوں میں گم ہو کر رہ جائیں۔ ارشاد ہوتا ہے اور صاف وصریح طور پر ارشاد ہوتا ہے ۔ { اِنَّ اللّٰہَ یُمْسِکُ السَّمٰوٰاتِ وَالاَرْضِ اَنْ تَزُوْلاَ وَلَئِنْ زَالَتَا اِنْ اَمْسِکَہُمَا مِنْ اَحَدٍ مِنْ بَعْدِہ، اِنَّہُ کَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا } ۔ (الفاطر :41) ۔ اللہم فخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک یا عزیز یا غفار۔
38 قیامت کا دن کمال عدل کا دن : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کا دن خداوند قدوس کے عدل کامل کے ظہور کا دن ہوگا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز ہر کسی کو پورا بدلہ دیا جائے گا اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا "۔ سو انسان کو اس کے اعمال کا کچھ نہ کچھ بدلہ اگرچہ کسی نہ کسی شکل میں اس دنیا میں بھی مل جاتا ہے مگر پورا اور کامل بدلہ آخرت کے اس یوم عظیم ہی میں مل سکے گا جو کہ حقیقی عملی اور آخری فیصلے کا دن ہوگا ۔ اللہ پاک اس دن کی کامیابی نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ دیا جائے گا تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں کہ پورا پورا بدلہ جزا و سزا کے اس یوم عظیم ہی میں دیا جاس کے گا کہ " دارالجزائ " بہرحال وہی ہے۔ جبکہ دنیا " دارالعمل " ہے۔ یہاں انسان کو اپنے عمل کا پورا بدلہ نہ ملتا ہے نہ مل سکتا ہے کہ دنیا نہ اس کا موقع و محل ہے اور نہ ہی اس میں اتنی وسعت و گنجائش ہے کہ اس میں انسان کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ مل سکے۔ نہ اس کے اعمال خیر کا اور نہ ہی اعمالِ شر کا۔ جیسا کہ اس کی وضاحت ہم دوسرے مختلف مقامات پر کرچکے ہیں۔ پس اصل مقصود اور نصب العین آخرت ہی کو بنانا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
39 قیامت کے روز کسی کی کوئی حق تلفی نہ ہوگی : سو اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ " آج کے دن کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا " کہ نہ تو کسی کی کوئی نیکی کم کی جائے گی اور نہ ہی کسی پر اس کی کسی ناکردہ برائی کا کوئی بوجھ ڈالا جائے گا "۔ نہ کسی کے ثواب میں کسی طرح کی کوئی کمی کی جائے گی اور نہ کسی کے عذاب میں بلا سبب کسی طرح کا کوئی اضافہ کیا جائے گا۔ بلکہ عدل ہی عدل اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ فضل کا معاملہ ہوگا۔ جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ابوذر ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ایک حدیث قدسی میں اپنے رب کی طرف روایت کرتے ہوئے اشارہ فرمایا کہ اللہ پاک ارشاد فرمائے گا کہ اے میرے بندو یہ تمہارے اپنے ہی اعمال ہیں جن کو میں نے تمہارے لیے محفوظ رکھا ہے۔ پھر میں انکا تم کو پورا پورا بدلہ دونگا۔ پس جس کو اپنے ۔ نامہ اعمال میں ۔ کوئی بھلائی ملے تو وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرے۔ اور جسکو ۔ اس کے برعکس ۔ کچھ اور ملے تو وہ اپنے سوا کسی اور کو برا نہ کہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے عدل کامل کا ظہور ہوگا۔ ہر شخص کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے گا۔ نہ کسی کی کوئی حق تلفی ہوگی اور نہ کسی سے کسی طرح کی کوئی زیادتی۔ اور مخلوق کے حساب کتاب کا یہ سارا کام چشم زدن میں پورا ہوجائے گا کہ اللہ " سریع الحساب " یعنی " بڑا ہی جلد حساب چکانے والا ہے "۔ پس کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس کے لیے کوئی بڑی مدت درکار ہوگی ۔ اللہم فخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وہو یجیر ولا یجار علیہ -
40 اللہ بڑا ہی جلد حساب لینا والا ہے ۔ سبحانہ وتعالی : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمہ تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اللہ بڑا ہی جلد حساب لینے والا ہے "۔ یعنی انسانوں کی طرح اس کو اپنی اس بیشمار مخلوق کے حساب کتاب میں نہ کوئی دقت و دشواری پیش آئے گی اور نہ ہی اس کے لئے کوئی خاص وقت درکار ہوگا کہ یہ سب کچھ تو مخلوق کے اعتبار سے ہوتا ہے کہ وہ بہرحال محتاج ہے۔ جبکہ حضرت خالق کی شان الگ ہے۔ وہ جس طرح اس کرئہ ارضی میں رہنے بسنے والی بیشمار مخلوق کے لئے خوراک اور دوسری تمام ضروریات بیک وقت مہیا فرماتا ہے اسی طرح اس روز وہاں سب کا حساب کتاب بھی فوری طور پر اور چشم زدن میں فرما دے گا کہ اس کا طریقہ مخلوق کے طریقہ کار سے یکسر مختلف اور بالکل الگ ہے۔ کہ وہاں اسباب و وسائل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بلکہ وہاں صرف حکم و ارشاد کی دیر ہوتی ہے اور بس۔ جیسا کہ اس کا صاف وصریح اور واضح ارشاد اس کی اس کتاب حکیم میں اس طرح موجود ہے ۔ { وَمَآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَۃٌ کَلَمْحٍ بالْبَصَرِ } ۔ (القمر : 50) یعنی " ہمارا معاملہ تو بس ایک فرمان کا ہوتا ہے، پل بھر کی طرح " ۔ فَسُبْحَان اللّٰہِ الذی لا اِلٰہ غیرہ ۔ چناچہ بعض روایات میں وارد ہے کہ حضرت علی ۔ ؓ ۔ سے جب پوچھا گیا کہ اس روز اللہ تعالیٰ اتنی بےحد و حساب مخلوق کا حساب کتاب کس طرح فرمائے گا تو آپ ؓ نے فوری طور پر اور برجستہ فرمایا ۔ " کَمَا یَرْزُقُکُمْ جَمِیْعًا " ۔ یعنی " جس طرح وہ آج تم سب کو ایک ہی وقت میں اور ایک ساتھ روزی دیتا ہے " ۔ سبحان اللہ !۔ کیسا عمدہ، جامع، مختصر واضح، معقول اور دل کو لگنے والا جواب دیا ۔ رِضْوَان اللّٰہِ عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ پس یوم حساب کے بارے میں کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے لیے کوئی بڑی مدت درکار ہوگی۔ نہیں بلکہ یہ کام تو اس قادر مطلق کے محض ایک حکم و اشارہ کا منتظر ہوگا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 40:1841 قیامت کے قریب ہونے اور قریب سمجھنے کی ہدایت : سو اس حقیقت کی تعلیم و تلقین کے لیے اشارہ فرمایا گیا " اور خبردار کردو انکو قریب آلگنے والی اس ہولناک آفت کے دن سے "۔ اس " آزفۃ " یعنی " قریب آ لگنے والی اس ہولناک آفت سے " ان کو خبردار کرو تاکہ یہ غفلت سے چونک کر اس کے لئے فکر و تیاری کریں اور اس کے لئے سامان کرسکیں قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے۔ یہ تو اس کو دور سمجھتے ہیں مگر ہم اس کو قریب دیکھ رہے ہیں ۔ { اِنَّہُمْ یَرَوْنَہ بَعِیْدًا وَّنَرَاہُ قَرِیْبًا } ۔ (المعارج : 7-6) ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کو بعید نہ سمجھو کہ وہ قریب ہی آلگی ہے کہ ہر آدمی کی قیامت تو اس کی اپنی موت ہی ہوتی ہے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ " من مات فقد قامت قیامتہ " ۔ یعنی " جو مرگیا اس کی قیامت قائم ہوگئی "۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ہر آدمی کی قیامت میں بس اتنے ہی دن باقی ہیں جتنے دن اس کی زندگی کے اس دنیا میں باقی ہیں۔ اور کسی کو بھی پتہ نہیں کہ اس کی موت کب، کہاں اور کیسے آجاتی ہے۔ پس جس طرح ہر شخص کی موت اس کے پہلو میں کھڑی ہے اسی طرح اس کی قیامت بھی اس کے بغل میں موجود ہے۔ پس اس کو ہمیشہ یاد رکھنے اور اس کیلئے تیاری کرنے کی ضرورت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ -
42 قیامت کی شدت اور اس کی ہولناکی کی تصویر : سو اس کی شدت اور ہولناکی کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " جب کلیجے منہ کو آ رہے ہوں گے "۔ یعنی واقعۃً اور حقیقت میں اس روز ان کے کلیجے شدت ہول کی وجہ سے انکے منہ کو آن لگے ہوں گے۔ وہاں سے نہ باہر نکل سکیں گے کہ موت آجائے اور نہ ہی واپس جاسکیں گے کہ ان کی سابقہ طبعی حالت لوٹ آئے۔ (ابن کثیر، خازن، جامع، روح، قرطبی وغیرہ) ۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ارشاد بطور مجاز ہو۔ ان کے شدت ہول کی تصویر کشی کے لئے۔ بہرکیف وہ دن بڑا ہی ہولناک دن ہوگا۔ لہٰذا اس کی آمد اور اس کی ہولناکی سے ان کو خبردار کرو تاکہ یہ اس کے لئے فکر و کوشش اور تیاری کرسکیں۔ (مراغی، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو ان کلمات کریمہ میں یہ دونوں ہی احتمال موجود ہیں۔ اور حضرات اہل علم سے یہ دونوں ہی مروی ہیں ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ بہرکیف اس سے قیامت کی شدت اور اس کی ہولناکی کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے کہ اس روز مجرموں کے دل گویا ان کے حلق میں آئے ہوں گے اور وہ غم و الم میں گھٹے ہوئے ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
43 مجرم لوگوں کی اس یوم عظیم میں حالت : سو اس یوم عظیم میں مجرموں کی حالت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز یہ لوگ غم میں گھٹے کھڑے ہوں گے "۔ جنہوں نے دعوت حق سے منہ موڑ کر اور طرح طرح کے کفر و باطل کو اپنا کر ظلم کیا ہوگا۔ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی شان اقدس و اعلیٰ میں۔ اور اس کے بھیجے ہوئے نبی برحق اور حق کے ساتھ اتارے ہوئے دین برحق کے بارے میں۔ اور اس طرح دراصل ایسے بدبخت لوگوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا ہوگا۔ سو حق سے منہ موڑنا اور اس کا انکار کرنا سراسر ظلم ہے اپنے خالق ومالک کے حق اطاعت و بندگی میں۔ اپنے نبی و رسول کے حقِّ اطاعت و فرماں برداری میں۔ اپنے دین و ایمان کے حق میں۔ اور خود اپنی جانوں کے حق میں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے ظالم اور بدنصیب لوگ اس روز غم و الم میں گھٹے ہوئے ہوں گے۔ نہ انکے اپنے حلق سے کوئی بات اپنی مدافعت میں نکل سکے گی اور نہ انکا کوئی ہمدرد اور سفارشی ایسا ہوگا جو ان کی کوئی حمایت کرسکے یا ان کی سفارش میں اپنی زبان کھول سکے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں پر۔ { یطاع } ۔ کی قید لگا کر مشرکین کے ایک واہمہ کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی۔ وہ یہ کہ مشرکین اپنے معبودوں کے بارے میں یہ تصور رکھتے ہیں کہ یہ خدا کے ایسے لاڈلے اور پیارے ہیں کہ اس سے جو چاہیں منوا سکتے ہیں۔ یہ وہاں پر اڑ کر بیٹھ جائیں گے اور منوا کر چھوڑیں گے۔ خداوند قدوس ان کی ناز برداری میں ان کی ہر بات مانے گا۔ سو ۔ { یطاع } ۔ کے اس کلمہ کریمہ سے یہ امر واضح فرما دیا گیا کہ انکا کوئی سفارشی ایسا نہیں ہوگا جسکی وہاں پر کوئی شنوائی ہو اور اس کی بات مانی جائے۔ یہ سب ان لوگوں کے اپنے اوہام ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ خداوند قدوس کے یہاں ایسا کوئی سفارشی نہیں ہوگا جس کی کوئی شنوائی ہو سکے۔ پس وہ مشرکوں کے لیے بڑے ہی خسارے کا دن ہوگا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 40:1945 مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی تردید کے لیے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ خوب جانتا ہے آنکھوں کی چوری اور سینوں کے چھپے رازوں کو "۔ یعنی ان رازوں کو جو انسان کے باطن اور اس کے دل میں پوشیدہ ہیں ۔ سبحان اللہ !۔ کیسی بےمثال شان ہے اس مالک الملک کی اور کس قدر غافل اور نادان ہیں وہ لوگ جو اس خالق کل اور مالک کل وحدہ لاشریک کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کر کے اس کے لئے اپنے زعم و گمان کے مطابق طرح طرح کے واسطے اور وسیلے گھڑتے اور فرض کرتے ہیں۔ اور اس طرح وہ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ پاک ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کو مخلوق پر قیاس کرنا طرح طرح کی خرابیوں اور گمراہوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اسی لئے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اس سے خود منع فرمایا ہے اور صاف وصریح طور پر منع فرمایا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الاَمْثَال ط اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ } ۔ (النحل : 74) سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کسی کے بارے میں کسی کی سفارش اس صورت میں کارگر ہوسکتی ہے جبکہ وہ اصل صورتحال سے واقف و آگاہ نہ ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ جب ہر کسی کی ہر چھوٹی بڑی اور ظاہر و پوشیدہ بات کو ایک برابر جانتا ہے۔ وہ نگاہ کی خیانتوں اور سینوں کے پوشیدہ رازوں تک سے ایک برابر واقف و آگاہ ہے تو پھر اس کے آگے کسی کی کوئی سفارش کس طرح کارگر ہوسکتی ہے ؟ الا یہ کہ وہ خود کسی کو اجازت دے اور جس کیلئے اجازت دے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ پاک کے کمال علم کے اس حوالے سے مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی جڑ نکال دی گئی ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 40:2047 اللہ ہر کسی کی سنتا سب کچھ جانتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ اور اسلوب حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اللہ ہی ہے جو ہر کسی کی سنتا سب کچھ دیکھتا ہے "۔ پس تم ہر حال میں اسی کو اور صرف اسی کو پکارو اور براہ راست پکارو کہ وہ ہر کسی کی سنتا ہے اور ہر حال میں اور بلاواسطہ سنتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز تم لوگ اپنے آپ کو برے اقوال و اعمال سے بچا کر رکھو تاکہ اس کی ناراضگی اور پکڑ سے بچ کر رہو کہ وہ تمہارے سب اقوال کو سنتا اور اعمال کو دیکھتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس سے تمہاری کوئی حرکت اور کیفیت مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔ { فَاِیَّاہُ نَسْالُ وَاِلَیْہِ نَتَضَرَّعُ اَنْ یَّأخُذَنَا بِنَوَاصِیْنَا وَیَقُوْدَنَا اِلٰی مَا فِیْہ حُبَّہُ والّرِضَا بِکُلِّ حالٍ مِّنَ الْاحَوال وفی کُلِّ مًوْطنٍ مِنّ اَلمواطن فی الحیاۃ۔ نیز اس ارشاد سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ جب وہ وحدہ لاشریک ہر کسی کی سنتا اور سب کچھ دیکھتا ہے تو پھر کس طرح ممکن ہوسکتا ہے کہ کوئی اپنی سفارش سے دھوکہ دے کر اس سے غلط فیصلہ کرا دے ؟ نیز جب اس کے سوا اور کسی کی بھی یہ شان نہیں ہوسکتی کہ وہ سمیع وبصیر ہو تو پھر اس کے سوا کوئی معبود بننے کا حقدار آخر کس طرح قرار پاسکتا ہے ؟ سو معاملہ سب کا سب اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے اور اسی کے سپرد ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ نہ کسی کی جان ہے کہ وہ اس کا ہاتھ پکڑ سکے اور اس سے اپنی من مانی کرا سکے اور نہ کوئی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس عقل و نقل دونوں کا تقاضا ہے کہ بندہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اسی کی طرف رجوع رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 40:2148 تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس ارشاد سے گزشتہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی۔ معلوم ہوا کہ آثار قدیمہ کو عبرت پذیری کے نقطہ نظر سے دیکھنا اور اس سے سبق لینا ایک امر مطلوب و محمود ہے۔ مگر افسوس کہ اقوام غیر کی تقلید و پیروی میں آج مسلمان بھی آثار قدیمہ کی حفاظت کے لئے لاکھوں کروڑوں کے خرچے کرنے کے باوجود عبرت پذیری اور نصیحت گیری کے اصل گوہر مقصود سے غافل و بیخبر ہیں۔ وہ ایسے مقامات پر جاتے ہیں تو بھی عیاشی، فوٹو گرافی اور پکنک وغیرہ کے لئے۔ یعنی ہدایت اور عبرت پذیری کی بجائے وہ الٹا اپنی غفلت میں ہی اضافہ کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے منکرین کو تنبیہ اور تہدید فرمائی گئی ہے کہ وہ اللہ کی عبرتوں بھری اس زمین میں چل پھر کر دیکھ لیں کہ اس سے پہلے کے لوگ اپنے جرم تکذیب و انکار کی بنا پر کس انجام سے دوچار ہوئے۔ اور اس سے یہ لوگ سبق لیں اور اپنے اس جرم کفر و تکذیب سے باز آجائیں۔ ورنہ جو انجام پہلوں کا ہوچکا ہے وہ انکا بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کیلئے یکساں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔
49 اللہ کی پکڑ سے کوئی کسی کو نہیں بچا سکتا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کیلئے کوئی بچانے والا نہیں تھا یعنی اللہ کی گرفت وپکڑ اور اس کے عذاب سے "۔ سو جسمانی قدو قامت اور مادی طاقت و قوت میں بھی کل کے وہ منکرین حق آج کے ان منکرین سے کہیں بڑھ کر تھے۔ لیکن جب وہ اپنے کئے کرائے کے نتیجے میں اپنے انجام کو پہنچے اور اللہ کی گرفت و پکڑ میں آئے تو اپنی جس قوت اور ترقی پر ان لوگوں کو بڑا فخر و ناز تھا وہ سب کچھ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکا۔ اور نہ ہی انکے وہ خودساختہ معبود انکے کچھ کام آسکے جنکا انکو بڑا گھمنڈ تھا۔ سو کل کے ان منکروں کے اس عبرتناک انجام سے آج کے ان کفار و منکرین کو سبق لینا چاہیئے۔ بہرکیف تاریخ کے اس حوالے سے واضح فرما دیا گیا کہ انکار و تکذیبِ حق کے نتیجے میں جب ماضی کی ان بدبخت قوموں پر اللہ کا عذاب آیا تو نہ تو ان کو اپنی وہ جسمانی اور مادی قوت کچھ کام آسکی جس کے بارے میں وہ بڑے زور اور گھمنڈ سے کہا کرتے تھے ۔ { من اشد منا قوۃ } ۔ کہ " ہم سے بڑھ کر طاقت اور قوت اور کس کی ہوسکتی ہے " (حم السجدۃ :15) ۔ اور نہ ان کی وہ جمعیت اور کثرت جس کا ان کو بڑا ناز تھا۔ اور نہ ہی انکے وہ خود ساختہ معبود جن کو انہوں نے اپنے طور پر اپنا حاجت روا و مشکل کشا بنا رکھا تھا اور جن کا ان کو بڑا زعم اور گھمنڈ تھا۔ سو مشکل وقت آنے پر وہ بھی ان کے کچھ کام نہ آسکے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَمَا اَغْنَتْ عَنْہُمْ آلِہَتُہُمُ الَّتِیْ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ شَیْئٍ لَمَّا جَائَ اَمْرُ رَبِّکَ } ۔ (ہود : 101) ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 40:2250 انکار و تکذیبِ حق کا نتیجہ بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے ان لوگوں کی ہلاکت و تباہی کے سبب کو واضح فرما دیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ حق کا انکار کرنا اور اسے تسلیم نہ کرنا خرابی کی اصل جڑ اور بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور انکار حق کے اس جرم کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے۔ ایسے لوگوں کو ڈھیل اور مہلت جتنی ملے ان کا آخری انجام بہرحال دائمی ہلاکت اور تباہی ہے۔ یہی اللہ پاک کے قانون عدل و انصاف کا تقاضا ہے اور یہی تاریخ کی گواہی اور شہادت ہے ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان لوگوں کے پاس ان کے رسول کھلے دلائل کے ساتھ آئے مگر انہوں نے ان کا انکار ہی کیا۔
51 اللہ تعالیٰ بڑی ہی قوت والا سخت پاداش والا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک وہ بڑا ہی قوت والا سخت عذاب دینے والا ہے "۔ پس جب وہ پکڑنے پہ آجائے تو کوئی اس سے چھڑا اور بچا نہیں سکتا ۔ فَرَحْمَتَکَ نَرْجُوْ یَا رَبَّنَا ۔ " عذاب " کیلئے یہاں پر " عقاب " کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے جو کہ " عقب " سے ماخوذ ہے جسکے معنیٰ انجام اور پاداش کے آتے ہیں۔ سو اس سے یہ درس دیا گیا کہ برے عمل کا برا نتیجہ اس کی پاداش اور اسکا طبعی تقاضا و انجام ہوتا ہے۔ سو انکار و تکذیبِ حق کا ارتکاب کرنے والے اپنے ہولناک انجام کا سامان خود اپنے ہاتھوں سے کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرکار جب اللہ تعالیٰ نے ان کو انکے کفر و انکار کے نتیجے میں پکڑا تو کچھ بھی ان کے کام نہ آسکا۔ اور اس کے عذاب اور اس کی گرفت و پکڑ سے چھوٹنے کی کوئی بھی صورت ان کے لیے ممکن نہ ہوسکی۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی قوت والا، سخت پاداش والا ہے۔ جب وہ پکڑتا ہے تو کوئی قوت و طاقت، کوئی جماعت و جمعیت اور کوئی سائنس اور ترقی اس سے نہیں چھڑا سکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنا ہی بنائے رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 40:23–2452 فرعون، ہامان اور قارون کے جرم انکار و تکذیب کا ذکر : سو اس سے فرعون اور اس کے دو بڑے لیڈروں ہامان اور قارون کے جرم انکار اور تکذیبِ حق کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو فرعون اور اس کے دو بڑے لیڈروں اور سرغنوں کا جواب موسیٰ کو ان کی دعوت حق پر یہ تھا کہ یہ شخص ساحر اور کذاب ہے۔ پس آپ ﷺ کے ساتھ اے پیغمبر ! تکذیب و انکار کا جو معاملہ یہ دشمنانِ حق آج کر رہے ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں۔ بلکہ اس سے پہلے بھی ایسے ہی ہوتا چلا آیا ہے ۔ { مَا یُقَالُ لَکَ اِلَّا مَا قَدْ قِیْلَ للرُّسُلِ مِنْ قَبْلِکَ } ۔ (حمٓ السجدۃ : 43) مگر فتح ہمیشہ حق ہی کی ہوئی۔ سو اس میں آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے لئے اور آپ ﷺ کے توسط سے ہر داعی حق کے لئے تسلی و تسکین کا بہت بڑا سامان ہے۔ پس آپ جادئہ حق پر مستقیم رہیئے اور ان منکروں کی پروا نہ کیجئے۔ نیز دوسری طرف اس ارشاد میں منکرین قریش کے لیے تہدید اور تنبیہ بھی ہے کہ اگر یہ لوگ باز نہ آئے تو ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو فرعون اور اس کے لیڈروں کا ہوچکا ہے۔
Ayahs 40:25–2655 فرعون کی بوکھلاہٹ اور اس کی چالبازی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے فرعون کی بوکھلاہٹ اور اس کی سیاسی چالبازی کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے۔ سو ستم ظریفی ملاحظہ ہو کہ فرعون اپنے آپ کو مصلح اور حضر تِ موسیٰ کو فسادی قرار دے رہا ہے۔ حالانکہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ مگر اہل باطل کی یہ بھی ایک مشترکہ اور پرانی ٹیکنیک چلی آئی ہے کہ وہ حق اور اس کے خدام اور حاملین کے خلاف اسی طرح کے پروپیگنڈے کرتے ہیں۔ اور وہ عوام الناس کو ان کے خلاف اکسانے بھڑکانے کے لئے اسی طرح کے شیطانی حربوں اور فرعونی ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ جَعَلَ اللّٰہُ کَیْدَہُمْ فِیْ نُحُوْرِہِمْ وَ اَعَاذنا وسائرَ اَہْلَ الْحَقِّ مِنْ شُرُوْرِہِمْ ۔ بہرکیف فرعونیوں نے اپنے درباریوں سے کہا کہ اگر موسیٰ کو یونہی چھوڑ دیا گیا تو مجھے خدشہ ہے کہ یہ شخص تمہارے دین کو بدل ڈالے گا یا اس ملک میں بغاوت اور فساد پھیلا دے گا۔ لہذا آپ لوگ مجھے اجازت دو کہ میں اس کو قتل کر دوں۔ اور یہ اپنے اس خدا کو پکار دیکھے جس کا یہ اپنے آپ کو رسول اور اسکا نمائندہ بتاتا ہے۔ سو اس سے ایک طرف تو اس بوکھلاہٹ کا پتہ چلتا ہے جس میں وہ ملعون مبتلا تھا اور دوسری طرف اس سے اس سیاسی ہتھکنڈے کا نمونہ بھی سامنے آتا ہے جو اس نے اپنی قوم کو حضرت موسیٰ کیخلاف بھڑکانے کیلئے اختیار کیا۔ اور یہی طریقہ ہوتا ہے سیاسی چالبازوں کا ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 40:2756 حضرت موسیٰ کی اپنے رب سے پناہ کی درخواست : سو فرعون کی اس چالبازی اور دھمکی کے جواب میں موسیٰ نے کہا کہ میں پناہ مانگتا ہوں اپنے رب کی ہر اس منکر سے جو ایمان نہیں رکھتا یوم حساب پر۔ سو فرعون کی ان دھمکیوں اور بےہودہ باتوں کے مقابلے میں حضرت موسیٰ نے نہ تو کسی خوف و ڈر کا مظاہرہ کیا اور نہ ہی کسی تعلّی اور بڑائی کے دعوے سے کام لیا۔ بلکہ اپنے آپ کو اپنے رب کی پناہ میں دینے کا اعلان فرما دیا۔ جو سب پر غالب اور انتہائی مہربان ہے۔ اور حقیقت میں حفاظت کا یہی سب سے بڑا ذریعہ اور حقیقی وسیلہ ہے کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا حتی کہ انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کا بھی وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور اس کے ساتھ ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اس حق اور حقیقت کا بھی اعلان فرما دیا کہ تم لوگ مانو یا نہ مانو۔ حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ رب میرا بھی وہی ہے تمہارا بھی وہی اللہ وحدہ لاشریک ہے۔ نیز حضرت موسیٰ نے اپنے قول و فعل سے یہ بھی بتادیا کہ مشکلات و حاجات میں پکارے جانے کے لائق اور کام آنے والی وہی ایک ذات پاک ہے۔ پس پکارنا اسی کو اور صرف اسی کو چاہیئے کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی وحدہ لا شریک ہے۔ مگر افسوس کہ آج کا کلمہ گو مشرک اس کے برعکس اس کی مخلوق ہی کو پکارتا ہے۔ کوئی " یا علی مدد " کہتا ہے۔ کوئی " یا غوث " اور کوئی " یا رسول اللہ " اور کوئی " یا پیر دستگیر " وغیرہ وغیرہ۔ حالانکہ یہ مقدس ہستیاں خود ساری زندگی ایک اللہ ہی کو پکارتی اور اسی کو پکارنے کا درس دیتی رہیں۔ لیکن آج کا کلمہ گو مشرک انہی حضرات کے نام سے شرک کا کاروبار چلا رہا ہے۔ اور وہ طرح طرح کے شرکیہ نعرے لگاتا ہے۔ اور اس کے لئے سب کو پکارنا آسان مگر ایک اللہ کو پکارنا اور " یا اللہ مدد " کہنا مشکل ہے۔ اور کتنے ہی جاہل پیر اور گمراہ مولوی ایسے ہیں جو دن رات انہی شرکیہ الفاظ کی ترویج و اشاعت پر گویا ادھار کھائے بیٹھے ہیں۔ وہ طرح طرح سے ان کی تشہیر کرتے، کتبے لگاتے، سٹیکرچسپاں کرتے اور ایسی شرکیات کی تبلیغ کرتے ہیں۔ اور اس کے لئے وہ نصوص کتاب و سنت میں طرح طرح کی تحریفات اور تلبیسات سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
57 ہر متکبر بےایمان سے اللہ کی پناہ مانگنے کا درس : سو حضرت موسیٰ نے فرعون کی دھمکی کے جواب میں مزید فرمایا کہ " میں اپنے رب کی پناہ مانگتا ہوں ہر متکبر بےایمان سے "۔ تکبر اور بےایمانی کی ان صفتوں کو اس موقع پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بطور خاص اس لئے ذکر فرمایا کہ جس شخص کے اندر یہ دونوں باتیں جمع ہوں وہ زیادہ اور سخت ظلم کرتا ہے۔ کیونکہ اس کو کسی بازپرس کا کوئی خوف اور ڈر نہیں ہوتا۔ نیز اس طرح اشاروں اشاروں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے منہ پر اسے متکبر اور بےایمان بھی قرار دے دیا اور حق گوئی کا حق بھی ادا فرما دیا ۔ عَلٰی نِبِیّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ والتَّسْلِیْمُ ۔ تکبر دراصل حق سے اعراض اور اس سے روگردانی کا نام ہے۔ اور یہ نتیجہ ہوتا ہے انانیت اور خود پرستی کا۔ اور یہ چیز دراصل آخرت پر ایمان نہ رکھنے سے پیدا ہوتی ہے۔ اور جو شخص آخرت پر ایمان نہیں رکھتا اور وہاں کی مسؤلیت اور جواب دہی سے عاری ہوتا ہے وہ ایک ایسا مطلق العنان ڈکٹیٹر اور لاپروا انسان بن جاتا ہے کہ وہ جو کچھ کرے اس سے بعید نہیں ہوتا۔ اس لیے حضرت موسیٰ نے ایسے شخص کے شر سے اپنے رب کی پناہ کی درخواست کی کہ وہی وحدہ لاشریک ہے جو اپنے بندے کو ہر قسم کے شرور و فتن سے بچا سکتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 40:2858 حضرت موسیٰ کے لیے ایک تایید غیبی کا ذکر وبیان : حضرت موسیٰ کے لیے ایک مرد مومن کی تائید کی صورت میں غیبی امداد کا ذکر وبیان فرمایا گیا۔ سو ان مشکل حالات میں حضرت موسیٰ کے لیے تائید غیبی کے طور پر آل فرعون کے ایک مرد مومن کا ایمان افروز کردار سامنے آیا۔ اس مرد مومن کے بارے میں تفسیری روایات میں وارد ہے کہ یہ فرعون کا چچا زاد بھائی، اس کا ولی عہد اور اس کی پولیس کا انچارج تھا۔ اس نے اعداء کے خوف سے اپنا ایمان چھپا رکھا تھا۔ مگر آج فرعون کی طرف سے یہ دھمکیاں اور بےہودہ کلام سننے کے بعد اس سے رہا نہ گیا اور وہ پکار اٹھا۔ اور نہایت معقول و موثر انداز میں بھرے دربار میں وقت کے سب سے بڑے متکبر، طاغیہ اور سرکش کے سامنے کلمہ حق پیش کردیا۔ بہرکیف یہاں سے آل فرعون کے اس مرد مومن کی ایمان افروز سرگزشت کا آغاز ہوتا ہے جو آگے تک چلی جائے گی اور اس میں بڑے بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں جو آگے سلسلہ کلام کے درمیان واضح ہوتے جائیں گے ۔ انشاء اللہ العزیز۔ سو یہ مرد مومن فرعون کے شاہی خاندان سے تعلق رکھتا تھا لیکن نہایت حق پسند اور خدا ترس انسان تھا۔ اس لیے اس کی تمام تر ہمدردیاں حضرت موسیٰ کے ساتھ تھیں اور شروع ہی سے تھیں۔ اور اسی مرد مومن نے قبطی کے قتل کے موقع پر دوڑ کر جا کر حضرت موسیٰ کو اس بات سے آگاہ کیا تھا کہ فرعون کے دربار میں آپ کے قتل کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ لہذا آپ یہاں سے نکل جائیں۔ جیسا کہ اس کا ذکر سورة قصص میں آچکا ہے۔ سو اسی مرد مومن نے جو اپنے ایمان کو چھپائے ہوئے تھا فرعون کے بھرے دربار میں یہ ایمان افروز خطاب کیا۔
59 فرعونی متکبروں کے قلب و ضمیر پر ایک دستک : سو اس سے مرد مومن کی طرف سے فرعرنیوں کے قلب و ضمیر پر دستک کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو اس مرد مومن نے فرعونیوں کے دلوں کو جھنجھوڑنے اور ان کے ضمیروں پر دستک دینے کے لیے ان سے کہا کہ کیا تم لوگ ایک شریف آدمی کو محض اس بنا پر قتل کردینا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ جبکہ وہ تمہارے رب کی جانب سے تمہارے پاس کھلے دلائل اور براہین لے کر آگیا ہے۔ یعنی اپنے خالق ومالک پر ایمان و یقین اور اس کی توحید کے اعلان و اظہار پر تو اس کی قدر کی جانی چاہیئے تھی اور اس کی بات کو سچے دل سے قبول کرلینا چاہیئے تھا۔ چہ جائیکہ الٹا تم اسی کی بنا پر اس کے قتل کے درپے ہوگئے ہو۔ خاص کر جب کہ وہ اپنے دعوے کے ثبوت پر روشن دلائل بھی پیش کرتا ہے۔ سو یہ تو انتہائی نا معقول طریقہ اور دوہرا ظلم ہے جو تم لوگ اپنا رہے ہو اور جس کا بھگتان تمہیں بہرحال بھگتنا ہوگا۔ سو اس طرح اس مرد مومن نے اپنی جرا تِ ایمانی سے فرعونیوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا کہ تم لوگ ایسے پاکیزہ شخص کے قتل کی بات کرکے کس قدر حماقت اور جہالت کا ثبوت دیتے ہو۔ اور اپنے لیے کس قدر ہولناک انجام کا سامان کرتے ہو کہ قتل کرنا اور ایک شریف اور بےگناہ انسان کو قتل کرنا اور وہ بھی محض اس بنا پر کہ وہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔ اور وہ بھی اس صورت میں جبکہ وہ اپنے دعوے کی صداقت و حقانیت پر کھلے اور واضح دلائل لے کر آیا ہے۔ سو ظلم پر ظلم اور جرم پر جرم کا ارتکاب ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
60 اِقدام قتل کے ہولناک انجام کی تذکیر و یاددہانی : سو اس مرد مومن نے ان سے مزید کہا اور کمال صحت و صفائی کے ساتھ اور درد بھرے انداز میں کہا کہ اس کا انجام بہت برا ہے۔ اس طرح تمہاری بہتری اور عافیت اس کے قتل میں نہیں بلکہ اس پر ایمان لانے میں اور اس کی بات ماننے میں ہے۔ ورنہ کم از کم درجہ یہ ہے کہ تم اسے اپنے حال پر چھوڑ دو اور انجام کی انتظار کرو۔ اس کے قتل کے درپے ہو کر تم اپنے عذاب کے لئے کیوں جلدی کرتے ہو ؟ سو ہر بات سے اندھے ہو کر تم لوگ معاملے کے ایک ہی پہلو کو نہ دیکھو بلکہ اس کے دوسرے پہلو کو بھی مدِّنظر رکھو جو کہ بڑا ہی سنگین پہلو ہے۔ تم انکے قتل کو معمولی چیز سمجھتے ہو حالانکہ وہ بڑی ہی سنگین اور ہولناک چیز ہے کہ اس کے نتیجے میں جو خمیازہ تم لوگوں کو بھگتنا پڑے گا اسکا تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں۔ مگر کسی کے عناد اور اس کی ہٹ دھرمی کی بنا پر اس کی مت مار دی جاتی ہے تو اس کو حق و ہدایت کی بات کہاں سمجھ آتی ہے اور اس کو حق بات سننے سمجھنے کی توفیق کہاں اور کیسے مل سکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔
61 مسرف اور کذاب لوگوں کو ہدایت نصیب نہیں ہوسکتی : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ کسی بھی مسرف اور کذاب کو ہدایت سے نہیں نوازتا "۔ اس میں دو مفہوم شامل ہیں اور دونوں ہی اہم ہیں۔ ایک یہ کہ اگر حضرت موسیٰ مسرف و کذاب ہوتے جیسا کہ تمہارا کہنا ہے اے منکرو تو اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت اور اس سے بڑھ کر نبوت کے اس عظیم الشان اور سب سے بڑے اعزاز اور بےمثل شرف سے کیسے نوازتا ؟ اور دوسرا یہ کہ فرعون مُسْرِف و کذاب ہونے کی وجہ سے ہی نور حق و ہدایت سے محروم ہے۔ اس طرح اس مرد حق آگاہ نے حق کو بھی واضح کردیا اور دبے لفظوں میں فرعون کو اس کے منہ پر مُسْرِف و کذاب بھی قرار دے دیا۔ اور ہدایت سے اس کی محرومی کا سبب بھی بیان فرما دیا کہ یہ مسرف اور کذاب ہے۔ بہرکیف یہاں سے یہ معلوم ہوگیا کہ حد سے بڑھنا اور دورغ گوئی کا عادی ہوجانا دو چیزیں ایسی ہیں جو انسان کو راہ حق اور نور ہدایت سے محروم کردیتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ مگر افسوس کہ یہ دونوں چیزیں لوگوں میں کل بھی موجود تھیں اور آج بھی موجود ہیں۔ اور مسلم معاشرے میں اور خود مسلمانوں کے اندر موجود ہیں ۔ اِلَّا مَنْ عَصَمَہُ اللّٰہُ والِعْیَاذ باللّٰہِ العظیم ۔ سو یہ ایک حکیمانہ کلیہ ہے کہ جو کوئی حدود سے تجاوز کرنے والا اور جھوٹا ہوگا وہ نور حق و ہدایت سے سرفراز نہیں ہوسکے گا۔ اور فرعون کے سامنے اس کلیے کو دوہرا کر اس مرد مومن نے اس پر یہ واضح کردیا کہ اسی بنا پر تو نور حق و ہدایت سے محروم ہے۔ پس تو اگر اس سے سرفرازی چاہتا ہے تو اپنے کذب و اسراف کے اس رویے کو چھوڑ کر کلمہ حق کو سننے اور ماننے کے لیے تیار ہوجا۔ ورنہ تیرے لیے محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 40:2962 مرد مومن کی فرعونیوں کے دلوں پر ایک اور دستک : سو اس مرد مومن نے اپنی قوم کے متکبروں کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے اور ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے ان سے اپنے درد بھرے انداز میں مزید کہا کہ " اے میری قوم کے لوگو بتاؤ کہ اگر اللہ کا عذاب آگیا تو پھر کون ہے جو اس کے مقابلے میں ہماری مدد کرسکے ؟ "۔ اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی نہیں جو ہمیں اللہ کے مقابلے میں اس کے عذاب سے بچا سکے۔ پس تم لوگ ہوش کے ناخن لو اور راہ راست پر آجاؤ قبل اس سے کہ اس کا وہ عذاب تم کو آپکڑے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو مرد مومن نے فرعونیوں کے قلوب و ضمائر پر دستک دیتے ہوئے ان سے کہا کہ آج تو آپ لوگوں کو اس ملک میں اقتدار حاصل ہے جسکی بنا پر تم جو چاہو کرسکتے ہو۔ لیکن ذرا اس سوال پر بھی سنجیدگی سے غور کرلو کہ اگر تمہارے ایسے ظلم کے نتیجے میں تم پر اللہ کا عذاب آگیا تو اس کی گرفت و پکڑ سے آخر ہمیں کون بچا سکے گا ؟ یہ زور و اقتدار تو ہمیشہ رہنے والی چیز نہیں۔ اور اگر ہے بھی تو یہ تمہیں اللہ کے عذاب سے بچانے کی سکت تو نہیں رکھتا۔ تو پھر تم کیوں اس طرح عذاب کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہو۔ تم اپنے انجام کے بارے میں آگے کیوں نہیں سوچتے ؟ اور اس سے بچنے کی فکر و کوشش آخر کیوں نہیں کرتے ؟۔
63 فرعون کا اپنی رائے پر اصرار : سو فرعون اس مرد مومن کی بات کو کاٹتے ہوئے بیچ میں بولا کہ " تاکہ اس طرح وہ اپنی قوم اور اپنے درباریوں کو اس مرد مومن کی اس تقریرِ دل پذیر سے متاثر ہونے سے بچا سکے "۔ سو فرعون نے اس مرد مومن کی بات کاٹتے ہوئے اور اپنی ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہوئے کہا کہ میں تو وہی رائے دیتا ہوں جسکو میں مناسب سمجھتا ہوں کہ موسیٰ کو قتل کردیا جائے تاکہ فتنے کا خاتمہ ہوسکے۔ رہ گئی اس پر عذاب آنے کی بات تو وہ محض ایک وہم ہے۔ سو یہی حال ہوتا ہے معاند اور ہٹ دھرم لوگوں کا کہ صاف اور سیدھی بات ان کے دل و دماغ میں اترتی ہی نہیں۔ اور وہ اندھے کے اندھے اور اوندھے کے اوندھے ہی رہ جاتے ہیں۔ اور اس طرح وہ دائمی ہلاکت اور تباہی کے ہولناک گڑھے کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔
64 فرعون کا حقیقت واقعہ کے خلاف دعویٰ : سو فرعون نے اس مرد مومن کی دعوت حق پر لبیک کہنے کی بجائے حقیقت واقعہ کے خلاف دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ میں تم لوگوں کو بھلائی کا راستہ ہی بتاتا ہوں۔ پس تم میری بات مان کر میری ہی بتائی ہوئی راہ پر چلتے رہو۔ اور اس بارے میں کسی اور کی بات مت مانو۔ کیونکہ میری یہ رائے ایک سوچی سمجھی رائے ہے جو تمہارے لیے بہتر ہے۔ اس کو اگر فوری طور پر اور پوری طرح اپنایا نہ گیا تو اس کے نتائج اس ملک کے حق میں بہت تباہ کن ہوں گے۔ اور سیاسی بازیگروں اور ڈکٹیٹر لوگوں کی نفسیات ہمیشہ یہی رہی ہے کہ جو کچھ میں کہتا ہوں وہی صحیح اور درست ہے اور بس۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ اللہ ایسے فرعونی چکروں سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 40:3065 گزشتہ قوموں کے عذاب کی تذکیر و یاددہانی : سو اس مرد مومن نے ان لوگوں کو درس عبرت لینے کے لیے گزشتہ قوموں کے عذاب کی تذکیر و یاددہانی کرائی تاکہ نشہ اقتدار سے بدمست یہ لوگ ہوش میں آئیں اور راہ حق و ہدایت کو اپنائیں۔ سو اس مرد مومن نے مزید کہا کہ " اے میری قوم مجھے تمہارے بارے میں پہلی قوموں کے انجام جیسے انجام کا خدشہ ہے "۔ کہ تمہارا جرم اور مرض بھی وہی ہے جو ان کا تھا۔ اس لئے مجھے سخت خدشہ ہے کہ تم بھی اسی انجام سے دوچار ہو کر رہو جس سے ان کو ہونا پڑا تھا۔ پس تم ہوش کے ناخن لو اور کفر و تکذیب کی اس روش سے توبہ کرلو قبل اس سے کہ تم اپنے اس آخری اور ہولناک انجام سے دوچار ہوجاؤ جس سے ماضی کی یہ کافر اور منکر قومیں ہوچکی ہیں۔ اور پھر تمہارے لیے تلافی وتدارک کی کوئی صورت ممکن نہ رہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکساں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 40:3166 ہلاک شدہ قوموں کے کچھ نمونوں کا ذکر : سو اس مرد مومن نے گزشتہ ادوار کی ہلاک شدہ اقوام میں سے کچھ کے انجام کا حوالہ دیتے ہوئے ان کے نمونے ان لوگوں کے سامنے پیش کیے۔ یعنی قوم نوح، قوم ھود، قوم ثمود اور قوم لوط وغیرہ۔ (صفوۃ، معارف اور مراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس مرد مومن نے فرعون کی مداخلت کی پروا کیے بغیر اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ " اے میری قوم اگر تم لوگ موسیٰ کی تکذیب سے باز نہ آئے تو مجھے تمہارے بارے میں اس ہولناک انجام کا سخت اندیشہ ہے جس سے اس سے پہلے قوم عاد وثمود اور قوم لوط وغیرہ دوچار ہوچکی ہیں۔ کہ وہ سب قومیں انکار اور تکذیبِ حق کے نتیجے میں ہمیشہ ہمیش کے لیے ایسی مٹ گئیں کہ اب قصہ پارینہ بن کر رہ گئیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس تم لوگ ان قوموں کے انجام بد سے بچنے کے لیے اپنی روش کی اصلاح کرلو تاکہ تم بچ سکو۔
67 اللہ تعالیٰ ظلم کے ہر شائبے سے پاک ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کبھی ظلم نہیں کرتا۔ وہ ربِّ غفور و رحیم ظلم کے ہر شائبے سے پاک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس بندئہ مومن نے مزید کہا کہ " اللہ اپنے بندوں پر کسی طرح کا کوئی ظلم نہیں کرنا چاہتا "۔ کہ کسی کو بغیر کسی جرم کے یا بغیر تنبیہ کے ہلاک کر دے۔ پس اس نے ان قوموں کو بھی اپنے پیغمبروں کے ذریعے خبردار کیا اور انہیں ان کے انجام سے ڈرایا اور تمہارے پاس بھی اس پیغمبر کو اسی لئے بھیجا تاکہ تم اپنی اصلاح کرلو۔ لیکن اگر تم لوگ باز نہ آئے تو تمہارا انجام بھی یقینا وہی ہوگا جو ان کا ہوچکا کہ اس کا دستور و قانون عام و بےلاگ ہے۔ سو جو لوگ اللہ تعالیٰ کے احکام و ارشادات سے منہ موڑتے اور انکا انکار اور تکذیب کرتے ہیں وہ اپنی جانوں پر خود ظلم کرتے ہیں جس کا بھگتان انکو بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس بندئہ مومن نے اپنے تقریر میں مزید کہا کہ اللہ تعالیٰ چونکہ اپنے بندوں پر کبھی کوئی ظلم نہیں کرتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اس لیے اس نے اپنا رسول بھیج کر تم لوگوں کو حقیقت حال اور تمہارے انجام سے پوری طرح خبردار کردیا۔ اس لیے تم نے اگر اس کی تکذیب کی اور اس کی بات ماننے کی بجائے اس کے قتل کی کوشش کی تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تم نے اپنے اوپر اس کی حجت پوری کردی اور اس کے عذاب کو دعوت دے دی۔ اور تم نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 40:3268 { یَوْمُ التَّنَاد } کا مفہوم اور اس سے مراد ؟ : " تناد " کے معنیٰ چیخ و پکار کے ہیں۔ سو اس مرد مومن نے اپنے خطاب میں اپنی قوم سے مزید کہا کہ " مجھے تو تمہارے بارے میں سخت اندیشہ ہے چیخ و پکار کے دن کا "۔ جس میں لوگ ہول و خوف کی شدت کی وجہ سے ایک دوسرے کو پکاریں گے۔ نیز فریاد رسی کے لئے پکاریں گے۔ نیز اس روز سعادت مندوں کے لئے ان کی کامیابی کا اور بدبختوں کے لئے ان کی ناکامی نامرادی کا پکار پکار کر اعلان کیا جائے گا کہ فلاں ابن فلاں کو دائمی سعادت نصیب ہوگئی۔ اور فلاں بن فلاں دائمی شقاوت و بدبختی کے حوالے ہوگیا وغیرہ۔ (جامع البیان، کمالین، ابن جریر، ابن کثیر اور خازن وغیرہ) ۔ سو اس طرح اس بندئہ مومن نے پہلے ان لوگوں کو دنیاوی عذاب سے ڈرایا اور اس کے بعد آخرت کے ہولناک عذاب سے خبردار کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس طرح اس مرد مومن نے اس دن کی ہولناکی کی تصویر انکے سامنے رکھ دی تاکہ وہ بچ جائیں۔ سو اس میں ہر دور کے منکرین کیلئے دعوت غور و فکر ہے کہ وہ ایسے عذاب کے آنے سے پہلے ہی اپنی اصلاح کرلیں۔
Ayahs 40:33–3574 اللہ کی آیتوں کے بارے میں بغیر سند کے جھگڑنا باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ایسے لوگوں کی صفت کاشفہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جو جھگڑتے ہیں اللہ کی آیتوں کے بارے میں بغیر کسی سند کے "۔ اس سے مراد وہ جدال اور جھگڑا ہے جو حق کو نیچا دکھانے اور اس میں کجی پیدا کرنے کے لئے ہو۔ ورنہ وہ بحث مباحثہ جو اللہ پاک کی آیتوں کو سیکھنے سکھانے اور سمجھنے سمجھانے کے لئے اور حجت و دلیل کی بنا پر ہو تو وہ محمود و مطلوب ہے کہ وہ ہوتا ہے سند اور دلیل کی بنا پر۔ جبکہ ایسے لوگوں کا تمام بحث و مباحثہ اور جدال و جھگڑا بغیر کسی سند اور دلیل کے محض نفس پرستی کی بنیاد پر اور اوہام و خرافات کے سہاروں پر ہوتا ہے۔ سو ایسے لوگ جو اللہ کی بات اور اس کے احکام کے بارے میں بغیر کسی سند اور دلیل کے جھگڑتے ہیں وہ بڑے محروم اور بدبخت لوگ ہیں۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کے یہاں بھی مبغوض ہیں اور اہل ایمان کے یہاں بھی ۔ والعیاذ باللہ ۔
75 متکبروں کے دلوں پر مہر جباریت ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی طرح اللہ ٹھپہ لگا دیتا ہے ہر متکبر اور جبار کے دل پر " ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جس طرح کسی برتن کے منہ کو پوری طرح بند کر کے سربمہر کردیا جائے کہ نہ اس کے اندر باہر سے کوئی چیز داخل ہو سکے اور نہ اندر سے کوئی چیز باہر نکل سکے تو ایسا ہی حال ان بدبختوں کا ہوتا ہے کہ قدرت کی طرف سے مہر جباریت لگ جانے کی وجہ سے نہ باہر سے ایمان اور حق و صداقت کی کوئی بات ان کے اندر اثر کرسکتی ہے اور نہ ہی ان کے اندر کے کفر و باطل کی میل باہر نکل سکتی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ سب کچھ ان لوگوں کے اپنے کئے کرائے کا نتیجہ اور ان کے اپنے خبث باطن اور سوئِ اختیار کا طبعی انجام اور منطقی تقاضا ہے کہ اللہ پاک کا قانون اور نظام یہی ہے کہ ایسا کرنے والوں کے دلوں پر ان کے اپنے ہی اعمال کی وجہ سے ٹھپہ لگ جاتا ہے جس سے وہ حق سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اور دل پر مہر لگنے کا ذکر اس لئے فرمایا گیا کہ وہی وجود انسانی کا پوری قلمرو کا حاکم ہے۔ اس کی اصلاح پورے جسم اور سارے وجود کی اصلاح ہے۔ اور اسکا بگاڑ پورے جسم اور سارے وجود کا بگاڑ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے واضح فرما دیا گیا کہ اس طرح کی کٹ حجتی کرنے والے لوگوں کے دلوں پر اللہ تعالیٰ مہر کردیتا ہے جس سے ان کی عقلیں الٹی ہوجاتی ہیں اور ان کی مت مار دی جاتی ہے۔ اور وہ خواہشات نفس کے ایسے بندے اور غلام بن کر رہ جاتے ہیں کہ ان کیخلاف وہ کسی کی بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہیں ہوتے۔ خواہ وہ کوئی نبی و رسول ہی کیوں نہ ہو۔ اور ایسے لوگ حق کی واضح تعلیمات کے مقابلے میں اپنے عقلی ڈھکوسلوں اور وہم و گمان کے تیر تکوں سے کام لینے لگتے ہیں۔ اور اس قماش کے لوگ آج بھی جگہ جگہ ملتے ہیں۔ وہ دین حنیف کی واضح تعلیمات کا مذاق اڑانے کی جسارت تک کرنے لگتے ہیں جبکہ وہ دین کی ابجد سے بھی واقف نہیں ہوتے۔ اور کوئی انکو اس پر روکے ٹوے تو وہ جھٹ بولنے اور دوسروں سے کہنے لگتے ہیں کہ دین پر کسی کی اجارہ داری نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 40:36–3981 ہمیشہ کا گھر آخرت ہی کا ہے : سو اس مرد مومن نے مزید کہا اور کلمات تاکید کے ساتھ کہا کہ " بلاشبہ آخرت ہی ہمیشہ رہنے کا گھر ہے "۔ لہذا اصل اور حقیقی کامیابی وہی ہے جو آخرت کی اس حقیقی اور ابدی زندگی میں حاصل ہو۔ پس عاقل کا کام یہ ہے کہ وہ اسی ابدی زندگی کی کامیابی کو اپنا اصل مقصد اور حقیقی نصیب العین بنائے کہ دنیا کی یہ زندگی تو بہرحال فانی و عارضی اور نہایت مختصر ہے۔ اور آخرت کی اس ابدی زندگی میں فوز و فلاح اور کامیابی کا دار و مدار انسان کے سچے پکے ایمان و یقین اور عمل صالح پر ہے جس کی دعوت میں آپ لوگوں کو دے رہا ہوں۔ سو اس مرد مومن نے فرعون کو اس طرح چیلنج کرنے کے بعد دنیاوی لیڈروں کی طرح اپنی کسی بڑائی اور تعلّی کا کوئی اظہار کرنے کی بجائے حضرات انبیاء و رسل کے طریقے پر لوگوں کو آخرت کی یاددہانی کرائی اور انکو بتایا کہ اس دنیاوی زندگی کا تمام تر عیش و عشرت چند روزہ ہے۔ اصل قیام کا گھر تو آخرت ہے۔ سو ایسے میں دنیاوی زندگی کے اس چند روزہ عیش و عشرت کی خاطر آخرت کی اس حقیقی زندگی کو بھول جانا اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دینا بڑے ہی ہولناک خسارے کا سودا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 40:4082 اہل ایمان کے لیے دخول جنت کا مژدئہ جانفزا : سو اس ارشاد سے ایمان اور عمل صالح والوں کیلئے جنت کا مژدئہ جانفزا سنا دیا گیا اور آخرت کے اس جہان غیب میں جزا و سزا کا جو ضابطہ نافذ ہوگا اس کی وضاحت بھی فرما دی گئی۔ اور یہ اس ارحم الراحمین اور اکرم الاکرمین کی رحمت بیکراں اور کرم بےنہایت کا ایک خاص اور عظیم الشان مظہر ہے کہ برائی کا بدلہ تو ناپ تول کر اتنا ہی دیا جائے گا جتنی کہ وہ برائی ہوگی۔ تاکہ اس میں کسی طرح کی کوئی زیادتی نہ ہوجائے۔ لیکن نیکی کا بدلہ کئی گناہ بڑھا کردیا جائے گا اور اتنا کہ اس کو اس کا گمان بھی نہ ہوگا۔ اور ایسے خوش نصیبوں کو ایسی عظیم الشان جنت اور اس کی سدا بہارنعمتوں سے سرفراز فرمایا جائے گا جس کا یہاں اس دنیا میں رہتے ہوئے تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ۔ فَسُبْحَانَہ مِنْ رِّبٍّ رَّحِیْمٍ وَاِلٰہٍ وَہَّابٍ کَرِیْمٍ ۔ فلہ الحَمْدُ ولہ الشکر۔ سو ایمان اور عمل صالح والوں کیلئے جنت کا یہ مژدئہ جانفزا ایک عظیم الشان نعمت ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ بہرکیف اس سے آخرت میں جزا و سزا کے ضابطے سے متعلق پوری طرح وضاحت فرما دی گئی کہ وہاں کا معاملہ کسی حسب و نسب یا ذاتی اور نسلی تفوق وغیرہ جیسے عوارض و فوارق پر نہیں ہوگا بلکہ انسان کے اپنے عقیدئہ و عمل کی بنیاد پر ہوگا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویریدو علی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
83 اہل جنت کے لیے رزق بیگماں کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایمان اور عمل صالح کی دولت سے سرشار و مالامال یہ خوش نصیب جنت میں داخل ہوں گے جہاں انکو رزق دیا جائے گا بغیر حساب کے۔ حساب کے معنیٰ حساب و شمار کے بھی آتے ہیں اور ظن و گمان کے بھی۔ تو اس بنا پر آیت کریمہ کے دو مطلب ہوجائیں گے۔ ایک یہ کہ اہل جنت کو جو روزی وہاں ملے گی وہ نپی تلی نہیں ہوگی بلکہ بغیر حدو حساب کے ہوگی۔ اور دوسرے یہ کہ ان کو وہاں پر وہ وہ کچھ ملے گا جو ان کے خواب و خیال اور وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا۔ اور یہ دونوں ہی مفہوم صحیح و درست بھی ہیں اور امر واقع کے مطابق اور عین مقصود بھی۔ جیسا کہ دوسری مختلف نصوص میں ان کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ سو وہاں کا اجر وثواب انسان کے عمل کی طرح محدود و مقدر نہ ہوگا بلکہ لامحدود اور بےانتہاء ہوگا۔ نہ اس کیلئے فنا ہوگی نہ زوال۔ بلکہ وہ دوام اور تسلسل کے ساتھ ملے گا۔ کیونکہ وہ انعام و احسان اور فضل و کرم ہوگا اس وہاب مطلق ربِّ ذوالجلال کی طرف سے جسکی عطا و بخشش کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہائ۔ اور جسکی شان بخشنا اور نوازنا ہی ہے۔ اور لگاتار اور مسلسل نوازنا۔ البتہ اس جہاں اور جنت میں اس واہب مطلق کی بخشش و عطا ایمان اور عمل صالح کی بنا پر ہوگی کہ یہی وہ چیز ہے جو فیصلہ اور جزا کے اس جہاں میں انسان کو اپنے خالق ومالک کی رحمت و عنایت کا اہل اور مستحق بنادے گی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 40:4184 منکرین و مشرکین کے دلوں پر ایک زوردار دستک : سو یہ اس مرد مومن کی طرف سے اپنی قوم کے قلب و ضمیر پر ایک زوردار دستک تھی۔ سو اس مرد مومن نے اپنی قوم کو جھنجھوڑتے ہوئے اور ان کے دلوں پر دستک دیتے ہوئے ان سے کہا کہ " اے میری قوم ! یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تم لوگوں کو بلاتا ہوں نجات کی طرف اور تم مجھے بلاتے ہو دوزخ کی طرف "۔ یعنی میں تو تم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتا ہوں جو کہ کامیابی اور فلاح و نجات کی راہ ہے اور تم مجھے کفر و شرک کی دعوت دیتے ہو جو کہ نرا دوزخ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو تم لوگ کیسے لوگ ہو اور تمہاری عقلوں کو کیا ہوگیا ہے کہ تم اس قدر واضح فرق کو بھی نہیں سمجھتے اور ہدایت و نجات کی راہ سے منہ موڑ کر دوزخ اور دائمی تباہی کی طرف بڑھے چلے جارہے ہو۔ اور داعی مخلص کی دعوت سے روگردانی کرکے اپنے لیے ہولناک انجام اور دائمی خسارے کا سامان کرتے ہو۔ سو اس طرح اس مرد مومن نے نہایت دلسوزی سے ان لوگوں کو جھنجھوڑنے اور انکے ضمیروں پر دستک دینے کی کوشش کی لیکن جہاں کفر و باطل کی دبیز تہیں جم چکی ہوں وہاں پر ایسی باتوں کا کیا اثر ہوسکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -