38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 38:84–86

قَالَ فَالْحَقُّ١٘ وَ الْحَقَّ اَقُوْلُۚ Open ayah 38:84 in the Quran reader

فرمایا پس حق بات یہ ہے اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں

لَاَمْلَئَنَّ جَهَنَّمَ مِنْكَ وَ مِمَّنْ تَبِعَكَ مِنْهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 38:85 in the Quran reader

کہ میں بھی ضرور بھر کے رہوں گا جہنم کو تجھ سے اور ان سب لوگوں سے جو تیری پیروی کریں گے سب سے2

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِیْنَ Open ayah 38:86 in the Quran reader

(ان سے) کہو کہ میں (تبلیغ حق کے) اس کام پر تم لوگوں سے کوئی اجر نہیں مانگتا اور نہ ہی میں کوئی تکلف (اور بناوٹ) کرنے والے لوگوں میں سے ہوں

92 نبوت کی عظمت شان کے دو خاص پہلو : سبحان اللہ ! کتنے صاف سادے اور مختصر وصریح لفظوں میں نبوت و رسالت سے متعلق دو عظیم الشان اور بنیادی حقیقتوں کو واضح فرما دیا گیا۔ ایک یہ کہ پیغمبر کا کام قطعی طور پر بےلوث ہوتا ہے۔ وہ دعوت اور تبلیغِ حق کے کام پر لوگوں سے کسی بھی طرح کے کسی اجر و صلہ کے طالب و خواہش مند نہیں ہوتے۔ اور دوسرے یہ کہ وہ کسی بھی تصنع اور بناوٹ سے کام نہیں لیتے بلکہ اللہ کے بندوں کی بہتری اور بھلائی کے لئے ان کو اٹل غیبی حقائق سے بلا کسی لاگ لپٹ اور بغیر کسی کم وکاست کے صاف طور پر آگاہ کردیتے ہیں ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَسَلاَمُہ علیہم وَعَلٰیٰ اَفْضلہم اَجْمعین ۔ بہرکیف اس طرح آخر میں پیغمبر کی زبان سے یہ اعلان کرایا گیا کہ حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ میں اس پیغام حق پر تم سے کسی اجر و صلہ کا طالب نہیں ہوں کہ اگر تم نے اس کی قدر نہ کی تو میں اس سے محروم رہ جاؤں گا۔ میں نے تو یہ بار گراں اپنی خواہش سے اٹھایا ہی نہیں۔ یہ تو خداوند قدوس کی ڈالی ہوئی ذمہ داری ہے جس کو میں پورا کر رہا ہوں۔ اس لیے میرا اجر وثواب بھی اسی پر ہے اور اس عظیم الشان ذمہ داری کی ادائیگی میں میری مدد و معاونت بھی وہی فرمائے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayahs 38:87–88

اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 38:87 in the Quran reader

وہ تو محض ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لئے

وَ لَتَعْلَمُنَّ نَبَاَهٗ بَعْدَ حِیْنٍ۠ Open ayah 38:88 in the Quran reader

اور تم لوگوں کو اس کی حقیقت خود ہی معلوم ہوجائے گی کچھ ہی عرصہ کے بعد3

93 انجام کی تذکیر و یاددہانی : سو منکروں کو ان کے انجام و تذکیر کی یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو اس کی حقیقت خود ہی معلوم ہوجائے گی کچھ ہی عرصہ کے بعد جبکہ دنیوی زندگی کی یہ فرصت محدود ختم ہوجائے گی۔ موت کا دیو اپنے خونین پنجے گاڑنے کو آپہنچے گا اور تمہاری آنکھوں سے غفلت کے یہ دبیز اور سیاہ پردے ہٹ جائیں گے جو آج ان پر پڑے ہوئے ہیں ۔ { فَکَشَفْنَا عَنْکَ غِطَائَکَ فَبَصُرکَ الْیَوْمَ حَدِیْدٌ } ۔ (ق : 22) مگر اس وقت کے اس جاننے کا کوئی فائدہ تم کو نہیں ہوگا سوائے حسرت و یاس میں اضافے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس میں منکرین کے لیے بڑی تنبیہ ہے کہ اگر تم لوگ اس کا انکار ہی کرتے گئے تو اس کا بھگتان تم لوگوں کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ یہ رب العالمین کی طرف سے ایک عظیم الشان تذکیر و یاددہانی ہے اور جن حقائق کی خبر یہ کلام حق ترجمان دے رہا ہے وہ جلد ہی تمہارے سامنے آجائیں گے۔ تمہارے لیے بہتری اسی میں ہے کہ آج حق کو اپنا لو اور صدق دل سے اپنا لو۔ ورنہ تمہارے لیے ہمیشہ ہمیش کا وہ خسارہ اور پچھتاوا ہے جس سے گلو خلاصی اور اس کی تلافی وتدارک کی کوئی صورت تمہارے لیے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -