38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 38:46

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِۚ Open ayah 38:46 in the Quran reader

بلاشبہ ہم نے ان سب کو برگزیدہ کیا تھا ایک خاص صفت یعنی اس گھر کی یاد کے ساتھ

63 دار آخرت کی تذکیر و یاددہانی کی عظمت شان : سو اس سے دار آخرت کی تذکیر و یاددہانی کی عظمت شان کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان حضرات انبیائے کرام کا اصل کام دار آخرت کی تذکیر و یاددہانی ہی رہا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے انکو چن لیا تھا آخرت کے گھر کی تذکیر و یاددہانی کے لیے "۔ یعنی آخرت کی یاد کہ اصل گھر وہی ہے ۔ { وَاِنَّ الاٰخِرَۃَ ہِیَ دَارُ الْقَرَارِ } ۔ (المومن : 39) ۔ یہ دنیا تو محض ایک گزرگاہ اور عارضی منزل ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام کا اصل امتیاز اور ان کی خصوصی شان بس اسی دار آخرت کی تذکیر و یاد دھانی تھی۔ مگر افسوس کہ آج اس مادی دور میں انسان آخرت کے اپنے اس حقیقی گھر اور اس کے تقاضوں کو بھول گیا۔ اور ان کو پس پشت ڈال کر وہ اسی فانی اور عارضی دنیا کی چمک دمک میں کھو کر اور الجھ کر رہ گیا۔ اور اس نے اسی دنیا کی عارضی لذتوں اور فانی عیش پرستیوں کے لئے جینا اور انہی کے لئے مرنا گویا اپنا نصب العین اور مقصد حیات بنا لیا ہے ۔ اِلّا مَاشَآِ اللّٰہُ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو آخرت کی یاد تمام صلاح و فلاح کی اساس و بنیاد اور شاہ کلید ہے۔ اگر انسان اس سے غافل اور لاپروا ہوجائے تو وہ ایک بےن تھا بیل بن کر رہ جاتا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ شیطان کے ہتھے چڑھ کر ہلاکت و تباہی کی راہ پر چل پڑتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ آخرت کی یاد سے انسان فکرمند رہتا ہے اور وہ لغزشوں کے باوجود صراط مستقیم پر گامزن رہتا ہے۔ اس لیے اللہ پاک نے حضرات انبیائے کرام کی قدسی صفات ہستیوں کو آخرت کی تذکیر و یاددہانی کیلئے چن لیا تھا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ تاکہ لوگ آخرت کی اپنی اس اصل حقیقی اور ابدی زندگی کو یاد کر کے اس کے لیے تیاری کریں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 38:47

وَ اِنَّهُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:47 in the Quran reader

اور بلاشبہ یہ سب کے سب ہمارے یہاں برگزیدہ نیک بندوں میں سے تھے

64 حضرات انبیائے کرام کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرات انبیائے کرام اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ اور چنے ہوئے بندے تھے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ یہ ہمارے چنے ہوئے نیک بندوں میں سے تھے "۔ یعنی یہ سب حضرات منصب نبوت کے لئے چنے ہوئے اور ہمارے خاص بندے تھے۔ ان کو بھی راہ حق میں ستایا گیا اور طرح طرح سے پریشان کیا گیا۔ مگر انہوں نے راہ حق میں صبر و استقامت ہی سے کام لیا۔ سو انجام کار کامیابی انہی کو اور ان کے سچے پیروکاروں ہی کو ملی۔ اور ان کے دشمن ہمیشہ کے لئے مٹ مٹا کر نیست و نابود ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان کو ہم نے دوسروں سے چن کر شرف نبوت و رسالت سے سرفراز فرما دیا تھا۔ اور یہ ایسے خیر کے وجود تھے کہ ان سے اندیشہ کی کوئی بات نہیں تھی۔ سو اپنی اصل فطرت اور اپنے باطن کے لحاظ سے بھی یہ نہایت عمدہ اور پاکیزہ خصال کے لوگ تھے۔ اور ہمارے اصطفاء اور اختیار کی بنا پر یہ اور بھی اونچی شان کے مالک ہوگئے تھے۔ " اخیار "، " خیر " کی جمع بھی ہوسکتی ہے جو کہ اسم تفضیل ہے اور شر کی ضد ہے۔ اور یہ خیر کی جمع بھی ہوسکتی ہے جو کہ خیر سے صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جیسے اموات جمع ہے میت کی۔ اور جن کو اللہ تعالیٰ نے چنا اور منتخب کیا ہو اور ان کو صاف اور صریح طور پر اخیار قرار دیا ہو ان کی عظمت شان کے کیا کہنے۔ سو حضرات انبیاء و رسل کی شان سب سے بڑی اور بلند ہوتی ہے اور وہ مخلوق کے لیے رشد و ہدایت کے مینارے ہوتے ہیں کہ ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی نازل ہوتی ہے۔ پس فوز و فلاح اور نجات و صلاح ان ہی کی اطاعت و اتباع سے نصیب ہوسکتی ہے اور ان کی ہدایات وتعلیمات سے اعراض و روگردانی باعث ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 38:48–49

وَ اذْكُرْ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ ذَا الْكِفْلِ١ؕ وَ كُلٌّ مِّنَ الْاَخْیَارِؕ Open ayah 38:48 in the Quran reader

اور اسماعیل الیسع اور ذوالکفل کو بھی یاد کرو یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے

هٰذَا ذِكْرٌ١ؕ وَ اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ لَحُسْنَ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:49 in the Quran reader

یہ ایک عظیم الشان ذکر (اور یاد دہانی) ہے اور بیشک پرہیزگاروں کیلئے ایک بڑا ہی عمدہ ٹھکانا ہے1

65 ایک عظیم الشان ذکر اور یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ایک عظیم الشان ذکر اور یاددہانی ہے "۔ جو ان پاکیزہ ہستیوں کے تذکرے سے دنیا کو نصیب ہوئی ہے۔ سو یہ محض کوئی ماضی کے قصے نہیں جو یونہی سنا دیے گئے ہوں بلکہ یہ ان قدسی صفت حضرات کے تذکرے اور ان کی زندگیوں کے چشم کشا حالات ہیں جن میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ اور جو اللہ پاک کی اس کتاب عظیم میں آجانے کے بعد ہمیشہ کے لئے باقی رہیں گے۔ اور دوسرا ذکر ان کی ان نعمتوں کا ہے جو ایسی پاکیزہ اور مقدس ہستیوں کے لئے آخرت میں ہوں گی۔ اور جو ابدی اور سدا بہار ہوں گی۔ (جامع، صفوۃ وغیرہ) ۔ سو یہ محض ماضی کے قصے نہیں بلکہ یہ ایک عظیم الشان تذکیر اور یاددہانی ہے۔ اور اس میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں ان کے لیے جن کے دل زندہ اور ان کی عقلیں سلیم ہوں۔ اور یہ حقیقت ہمیشہ یاد رہے کہ اچھا اور عمدہ ٹھکانہ بہرحال پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے۔ اور ان لوگوں کیلئے ذلت کے سوا کچھ نہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس عظیم الشان تذکیر و یاددہانی سے اعراض کیا اور منہ موڑا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ تقوی و پرہیزگاری سے سرفراز اور اپنی رضا کی راہوں پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 38:50

جَنّٰتِ عَدْنٍ مُّفَتَّحَةً لَّهُمُ الْاَبْوَابُۚ Open ayah 38:50 in the Quran reader

یعنی ہمیشہ رہنے کی ایسی عظیم الشان جنتیں جن کے دروازے ان (کے استقبال) کے لئے پہلے سے ہی کھول کر رکھے گئے ہوں گے

66 پرہیزگاروں کے عظیم الشان صلے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " جن کے لیے ہمیشہ رہنے کی ایسی عظیم الشان جنتیں ہونگی جن کے دروازے ان کے لیے پہلے سے ہی کھول کر رکھے گئے ہوں گے "۔ جس طرح کہ دنیا میں شاہی درباروں میں ہوتا ہے کہ شاہی مہمانوں کی آمد کے موقع پر ان کے لئے دروازوں کو کھول دیا جاتا ہے۔ سو اس طرح ایک طرف تو یہ مظہر ہوگا حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی اس عظیم الشان رحمت و عنایت کا جس کا معاملہ وہ اپنے ایسے پاکیزہ بندوں سے فرمائے گا۔ اور دوسری طرف اس میں خاص اعزازو اکرام ہوگا اہل جنت کا کہ فرشتے جنت کے دروازے کھولے ان حضرات کے انتظار میں کھڑے ہوں گے اور سلام و تحیہ سے انکا استقبال کریں گے۔ (کبیر، صفوۃ وغیرہ) ۔ اللہ نصیب فرمائے اور ہمیشہ اللہ کی رضا اور اہل جنت کی راہ پر چلنا نصیب ہو ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اہل جنت کے اس صلہ و بدلہ کو بیان فرما دیا گیا ہے جو ان متقی اور پرہیزگار بندوں کو وہاں نصیب ہوگا اور جس کا ذکر اور حسن مآب " بہترین ٹھکانہ " کے الفاظ سے فرمایا گیا ہے۔
Ayah 38:51

مُتَّكِئِیْنَ فِیْهَا یَدْعُوْنَ فِیْهَا بِفَاكِهَةٍ كَثِیْرَةٍ وَّ شَرَابٍ Open ayah 38:51 in the Quran reader

ان میں وہ تکئے لگائے (نہایت آرام و سکون کے ساتھ) بیٹھے ہوں گے (اور اپنی مرضی و خواہش کے مطابق) طلب کر رہے ہوں گے طرح طرح کے بکثرت پھل اور قسما قسم کے مشروبات

67 اہل جنت کی خوشحالی اور فارغ البالی کی ایک تصویر : سو اہل جنت کی خوشحالی اور ان کی فارغ البالی کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ تکیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے اور سکون و اطمینان کے ساتھ طلب کر رہے ہوں گے قسما قسم کے پھل اور طرح طرح کے مشروبات۔ عربی زبان میں " شراب " کا لفظ اس معنیٰ میں استعمال نہیں ہوتا ہے جس معنیٰ میں ہماری زبان اور محاورے میں ہوتا ہے۔ بلکہ عربی زبان میں " شراب " ہر مشروب کو کہا جاتا ہے ۔ " کل ما یشرب " ۔ اور پھر وہاں پر مشروب ایک نہیں ہوگا قسما قسم کے ہوں گے۔ اس لئے ہم نے اپنے ترجمے میں اس کے اسی مفہوم کے اظہار کی کوشش کی ہے کہ اہل جنت وہاں پر حسب منشا جو اور جیسا مشروب جب چاہیں گے منگوائیں گے۔ جیسا کہ دنیا میں بادشاہوں کا طریقہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی منشا اور مرضی کے مطابق جو چاہتے ہیں پاتے ہیں۔ سو اللہ کے ان نیک بندوں نے چونکہ اپنی دنیاوی زندگی میں اپنی خواہشات کو کچل کر من چاہی کی بجائے خدا چاہی زندگی گزاری ہوگی اس لئے اس کے بدلے میں ان کو وہاں پر من چاہی زندگی کی ابدی سعادت اور بےمثال نعمت نصیب ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھی نصیب فرما دے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ بہرکیف یہ اس کیف و سرور اور خوشحالی و فارغ البالی کا ایک نمونہ و مظہر اور اس کی ایک ہلکی سے تصویر ہے جو اس ابدی اور حقیقی بادشاہی میں ان متقی اور پرہیزگار حضرات کو ہمیشہ کے لیے نصیب ہوگی جس کے مقابلے میں دنیا ساری کی دولت بھی ہیچ اور صفر ہے ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے اور زیغ وضلال کے ہر شائبے سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 38:52

وَ عِنْدَهُمْ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ اَتْرَابٌ Open ayah 38:52 in the Quran reader

اور ان کے پاس نگاہوں کو نیچی رکھنے والی ہم عمر عورتیں بھی ہوں گی

68 اہل جنت کی پاکیزہ اور بےمثال بیویوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انکے پاس نگاہوں کو نیچی رکھنے والی عورتیں بھی ہونگی "۔ یعنی وہ شرم و حیا کی وجہ سے اپنی نگاہیں نیچی رکھے ہوں گی کہ وہ اپنے شوہروں کے سوا کسی اور کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھیں گی۔ نیز وہ حسن و جمال کے ایسے اعلیٰ درجے اور مرتبے پر ہوں گی کہ ان کے شوہروں کی نظریں بھی ان کے سوا اور کسی کی طرف نہیں اٹھیں گی۔ اس طرح وہ صرف اپنی ہی نہیں بلکہ اپنے شوہروں کی نگاہوں کو بھی محفوظ رکھنے کا باعث ہونگی۔ اور وہ ان کیلئے بھی اطمینان اور ان کی ٹھنڈک کا بھی ذریعہ اور سبب ہوں گی۔ اس طرح وہ اطاعت شعار اور فرمانبردار بھی اس قدر ہوں گی کہ اپنے شوہروں کے آگے آنکھ بھی نہیں اٹھائیں گی۔ سو ۔ { قٰصِرَات الطَّرْفِ } ۔ کے عموم میں یہ تینوں مفہوم داخل ہیں۔ اور شرم و حیا اور عفت و پاکدامنی عورت کا اصل زیور اور اس کی حقیقی قدر و قیمت ہے۔ اور عربوں اور دنیا کے تمام شرفاء کے نزدیک اس کی اعلیٰ صفت شرم و حیا ہی ہے۔ اس کے بغیر ان کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوسکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 69 اہل جنت کی بیویوں کی ایک خاص خوبی و صفت : کہ وہ ہم عمر ہونگی۔ اور یہ ہم عمری عام ہے کہ ان کے شوہروں کے ساتھ بھی ہو اور آپس میں بھی۔ یعنی وہ اپنے شوہروں کے ساتھ بھی برابر اور ہم عمر ہوں گی کہ اس میں محبت و الفت زیادہ ہوتی ہے اور آپس میں بھی وہ عمر اور حسن وجمال میں برابر ہوں گی کہ اس طرح باہم بھی ان کے درمیان انس و محبت کا تعلق ہوگا۔ سوکنوں کے معروف و مشہور بغض و حسد کا وہاں کوئی نام و نشان نہ ہوگا۔ بلکہ ہر طرف اور ہر طرح سے امن وامان اور سکون و اطمینان ہی کا دور دورہ ہوگا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ سو وہ ایسی بےمثال بیویاں ہونگی کہ اہل جنت کی تسکین کیلئے وہ حسن و جمال کا پیکر اور ان کی تکمیل مسرت کیلئے انکے پہلو بہ پہلو شرمیلی اور ہم سن نازنین ہونگی۔ " اتراب " جمع ہے " ترب " کی جو ماخوذ ہے " تراب " سے اور " ترب " ان کو کہا جاتا ہے جو ایک ساتھ پیدا ہوں۔ گویا کہ وہ دونوں ایک ہی ساتھ زمین پر گری ہیں۔ ( محاسن التاویل وغیرہ ) ۔ اسی لیے اس لفظ کا ترجمہ ہم سن اور اور ہم عمر کے الفاظ سے کیا جاتا ہے۔
Ayahs 38:53–54

هٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِیَوْمِ الْحِسَابِ Open ayah 38:53 in the Quran reader

یہ ہیں وہ نعمتیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے حساب کے دن دئیے جانے کا

اِنَّ هٰذَا لَرِزْقُنَا مَا لَهٗ مِنْ نَّفَادٍۚۖ Open ayah 38:54 in the Quran reader

بیشک یہ ہماری وہ بخشش (وعطاء) ہے جس نے کبھی ختم نہیں ہونا2

70 جنت کی نعمتیں دائمی اور ابدی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک یہ ہماری وہ بخشش و عطا ہوگی جو کبھی ختم نہیں ہوگی "۔ سو یہ جنت کی اور دنیا کی نعمتوں کا ایک بنیادی فرق ہے کہ وہاں کی نعمتیں کبھی ختم نہ ہوں گی جب کہ یہاں کی نعمتیں سراسر فانی اور زوال پذیر ہیں۔ بہرکیف اہل جنت کے سرور کو دوبالا کرنے کیلئے اس روز ان سے کہا جائے گا کہ " یہ ہیں وہ نعمتیں جن کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا " کہ وہ حساب کے دن تم لوگوں کو عطا کی جائیں گی۔ سو وہ اب تمہارے لیے حاضر و موجود ہیں۔ اللہ نے تم سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کردیا ہے اور یہ جو کچھ تم لوگوں کو دیا جا رہا ہے اس میں کسی طرح کی کمی یا زوال کا کوئی خدشہ و اندیشہ نہیں۔ بلکہ ان میں ہمیشہ اضافہ ہی ہوتا رہے گا۔ اب نہ تمہیں انکے انقطاع کا کوئی غم ہو اور نہ ہی اپنی موت کا کوئی خوف و خدشہ کہ یہ " دارالفنا " نہیں " دارالخلد " اور " دارالبقا " ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین۔ اور نعیم جنت کے دوام و خلود اور عدم انقطاع کا یہ مضمون قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات پر مختلف اسالیب میں بیان فرمایا گیا۔ مثلا سورة رعد میں ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے پھل بھی دائمی ہوں گے اور اس کا سایہ بھی ہمیشہ کے لیے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { اُکُلُہَا دَائِمٌ وَ ظِلُّہَا } ۔ ( الرعد : 35) اور دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہونے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ ہمیشہ باقی رہنے والا " ۔ { مَا عِنْدَکُمْ یَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللّٰہِ بَاقٍ } ۔ ( النحل :96) اور سورة التین میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کے لیے ایسا اجر ہوگا جو کبھی ختم نہیں ہوگا " ۔ { فَلَہُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍ } ۔ (التین : 6) ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ سو اسی کو اصل اور حقیقی نصب العین بنانا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 38:55–58

هٰذَا١ؕ وَ اِنَّ لِلطّٰغِیْنَ لَشَرَّ مَاٰبٍۙ Open ayah 38:55 in the Quran reader

یہ (تو ہوا انجام پرہیزگاروں کا) اور سرکشوں کے لئے یقینا بڑا ہی برا ٹھکانا ہے

جَهَنَّمَ١ۚ یَصْلَوْنَهَا١ۚ فَبِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 38:56 in the Quran reader

یعنی جہنم (اور اس کی ہولناکیاں) جہاں ان کو بہرحال داخل ہونا ہوگا سو بڑا ہی برا ٹھکانا ہے وہ

هٰذَا١ۙ فَلْیَذُوْقُوْهُ حَمِیْمٌ وَّ غَسَّاقٌۙ Open ayah 38:57 in the Quran reader

یہ ہے (انجام ایسے بدبختوں کا) سو وہ چکھتے رہیں مزہ (اپنے کئے کرائے کا) یعنی کھولتا ہوا پانی اور بہتی ہوئی پیپ

وَّ اٰخَرُ مِنْ شَكْلِهٖۤ اَزْوَاجٌؕ Open ayah 38:58 in the Quran reader

اور اسی طرح کی اور بھی کئی قسم کی (تکلیف دہ) چیزیں3

71 دوزخیوں کے حال بد کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ : سو اہل جنت کی ان سرفرازیوں کے مقابلے میں اہل دوزخ کا حال یہ ہوگا کہ ان کے لیے دوزخ کا وہ ہولناک ٹھکانا ہوگا جو بڑا ہی برا ٹھکانا ہوگا اور اس میں ان کے لیے طرح طرح کی ہولناک عذاب ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور وہاں پر گمراہ پیروکاروں کی طرف سے اپنے لیڈروں کیلئے دوہرے عذاب کا مطالبہ کیا جائے گا۔ یہ عام ہے ہر گمراہ کرنے والے کو خواہ وہ کوئی کفر و شرک کا کھلا داعی ہو یا کوئی نام نہاد برخود غلط پیر ہو۔ یا اس کا تعلق علمائے سوء کے اس گروہ سے ہو جو لوگوں کو راہ حق سے پھیرتا اور شرک و بدعت کی راہ پر لگا تا ہو کہ الفاظ کا عموم ان سب ہی اقسام کو عام اور شامل ہے۔ اور حضرات مفسرین کرام نے ان کو قادۃ اور اتباع یا ان سے ملتے جلتے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی قیادت اور سربراہی کرنے والے اور ان کے پیچھے چلنے والے۔ تاکہ یہ اس طرح کے تمام گروہوں اور فرقوں کو عام اور شامل رہے (ملاحظہ ہو قرطبی، مدارک، معالم، روح، مراغی اور جامع وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال ۔ بہرکیف اہل دوزخ کا حال اور ان کا انجام بہت ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 38:59–63

هٰذَا فَوْجٌ مُّقْتَحِمٌ مَّعَكُمْ١ۚ لَا مَرْحَبًۢا بِهِمْ١ؕ اِنَّهُمْ صَالُوا النَّارِ Open ayah 38:59 in the Quran reader

(وہ اپنے پیرؤوں کو جہنم کی طرف آتا دیکھ کر آپس میں کہیں گے کہ لو) یہ ایک اور لشکر ہے جو تمہارے ساتھ گھسنے چلا آ رہا ہے ان پر خدا کی مار انہوں نے بھی اب گھسنا ہے اس آگ میں4

قَالُوْا بَلْ اَنْتُمْ١۫ لَا مَرْحَبًۢا بِكُمْ١ؕ اَنْتُمْ قَدَّمْتُمُوْهُ لَنَا١ۚ فَبِئْسَ الْقَرَارُ Open ayah 38:60 in the Quran reader

وہ ان کو جواب دیں گے کہ نہیں بلکہ خدا کی مار تم پر ہو تم ہی نے تو سامان کیا ہے ہمارے لئے اس انجام کا سو بڑا ہی برا ٹھکانا ہوگا وہ

قَالُوْا رَبَّنَا مَنْ قَدَّمَ لَنَا هٰذَا فَزِدْهُ عَذَابًا ضِعْفًا فِی النَّارِ Open ayah 38:61 in the Quran reader

(پھر وہ چیلے کہیں گے کہ) اے ہمارے رب جس نے ہمیں اس انجام سے دوچار کیا اس کو تو آج دوگنا عذاب دے (دوزخ کی) اس ہولناک آگ کا

وَ قَالُوْا مَا لَنَا لَا نَرٰى رِجَالًا كُنَّا نَعُدُّهُمْ مِّنَ الْاَشْرَارِؕ Open ayah 38:62 in the Quran reader

اور دوزخی آپس میں کہیں گے کہ کیا بات ہے ہم (یہاں پر) کچھ ایسے لوگوں کو نہیں دیکھ رہے جن کو ہم (دنیا میں) برا سمجھا کرتے تھے

اَتَّخَذْنٰهُمْ سِخْرِیًّا اَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْاَبْصَارُ Open ayah 38:63 in the Quran reader

کیا ہم یونہی (ناحق طور پر) ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے یا (ان کی یہاں موجودگی کے باوجود) ہماری نگاہیں ان سے پھر گئی ہیں ؟

73 اہل دوزخ کی اہل حق کے انجام کے بارے میں جستجو : سو اہل دوزخ اہل حق کے انجام کو جاننے اور ان سے متعلق جستجو کے سلسلے میں آپس میں کہیں گے کہ ان لوگوں کا انجام کیا ہوا اور آج وہ کہاں اور کس حال میں ہیں جن کو ہم دنیا میں اشرار کہا کرتے تھے۔ کیا وہ کہیں اور ہیں یا وہ نہیں۔ یعنی دوزخی لوگ خود اپنے آپ کو لعنت و ملامت کرتے ہوئے کہیں گے کہ کیا وہ لوگ جنہیں ہم برا سمجھا کرتے تھے فی الواقع کوئی بڑے اچھے اور اونچے لوگ تھے جو ہمارے ساتھ اس انجام سے دوچار نہیں ہوئے اور یا ہماری نظریں ایسی پھری ہوئی ہیں کہ ہم انہیں یہاں موجود ہونے کے باوجود دیکھ نہیں پا رہے۔ اور حقیقت میں ان کی نگاہیں تو واقعی پھری ہوئی ہی تھیں جس کی بنا پر یہ لوگ دنیا میں اہل حق کو غلط اور گمراہ کہا کرتے تھے۔ اور آج ان کو دوزخ میں تلاش کر رہے ہیں جب کہ وہ جنت کی نعمتوں سے سرشار ہوچکے ہوں گے۔ بہرکیف اس طرح ان بدبختوں کو حسرتوں پر حسرتوں سے دوچار ہونا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 38:64

اِنَّ ذٰلِكَ لَحَقٌّ تَخَاصُمُ اَهْلِ النَّارِ۠ Open ayah 38:64 in the Quran reader

بلاشبہ یہ بات یعنی دوزخیوں کا آپس میں لڑنا جھگڑنا قطعی طور پر حق (اور سچ) ہے1

74 اہل دوزخ کے باہمی جھگڑے کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اہل دوزخ کا باہم جھگڑنا اور ان کی یہ تو تکار ایک قطعی حقیقت ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ دوزخیوں کا اس طرح باہم لڑنا جھگڑنا قطعی طور پر حق ہے۔ " ان " اور لام تاکید دونوں تاکیدوں کے ساتھ موکد کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ دوزخیوں کے لڑنے جھگڑنے کا یہ معاملہ قطعی طور پر حق و صدق ہے۔ ایسا بہرحال ہو کر رہے گا۔ پس ہر کسی کو چاہیئے کہ وہ بہرطور برے انجام سے بچنے کی فکر و کوشش کرے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو جو لوگ دوزخیوں کے اس باہمی جھگڑے اور توتکار کے حقیقت اور واقع ہونے کے بارے میں شک کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں کہ یہ ایک امر واقعی ہے۔ اسے کوئی خواب و خیال نہ سمجھے۔ آج جو لوگ حق کی مخالفت میں ایک دوسرے کے لیڈر بنے ہوئے ہیں وہ کل کو پیش آنے والے اس انجام کے بارے میں خود سوچ لیں اور اس حق اور حقیقت کی روشنی میں ایسے لوگ اپنے رویے اور روش کی اصلاح کرلیں قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کے لیے کف افسوس ملنا پڑجائے اور اس وقت ان کے لیے تلافی وتدارک کی کوئی صورت ممکن نہ ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 38:65–66

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا مُنْذِرٌ١ۖۗ وَّ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُۚ Open ayah 38:65 in the Quran reader

کہو (ان سے اے پیغمبر) کہ میں تو صرف ایک خبردار کرنے والا ہوں اور کوئی بھی معبود نہیں سوائے اللہ کے جو کہ یکتا (اور) سب پر غالب ہے

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا الْعَزِیْزُ الْغَفَّارُ Open ayah 38:66 in the Quran reader

جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان تمام چیزوں کا جو کہ ان دونوں کے درمیان ہیں نہایت زبردست انتہائی (درگزر اور) معاف کرنے والا

77 کائنات ساری حضرت خالق کی وحدانیت ویکتائی کی شاہد عدل : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کائنات ساری اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی کا کھلا ثبوت اور اس کی صریح دلیل ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو مالک ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان تمام چیزوں کا جو کہ ان دونوں کے درمیان ہیں۔ نہایت زبردست انتہائی درگزر کرنے والا "۔ سو وہ وحدہ لاشریک زبردست ایسا ہے کہ کوئی بھی اس کی گرفت و پکڑ سے بچ نکلنے کی ہمت اور سکت نہیں رکھتا۔ مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ درگزر کرنے والا اور غفار ایسا ہے کہ ایک ہی مرتبہ کی سچی توبہ کرنے پر عمر بھر کے سب گناہوں کو یکسر معاف فرما دیتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فَاْیَّاکَ نَسْأَلُ اللّٰہُمَّ اَنْ تَغْفِرَلَنَا ذُنُوْبَنَا کُلَّہَا دِقَّہَا وَجِلَّہَا اَوَّلِہَا وَآخِرَہَا سِرَّہَا وَعَلانِیَتَہا مَا اَعْلَمُ مِنْہَا وَمَا لَا اَعْلَم ۔ سو عقل و خرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ایسے فرضی سہاروں سے ہاتھ جھاڑ کر اس وحدہ لاشریک کے حضور جھک جائے اور ہمیشہ اس سے اپنا معاملہ صحیح رکھنے کی فکر و کوشش کرے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی کا کھلا ثبوت بھی پیش فرما دیا گیا اور واضح دلیل بھی۔ کیونکہ جب آسمانوں اور زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف وہی وحدہ لا شریک ہے تو معبود حق بھی وہی اور صرف وہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور پھر عزیز و غفار کی دو صفتوں کا یکجا طور پر پایا جانا بھی اسی وحدہ لا شریک کی صفت وشان ہے۔ تو پھر معبود برحق بھی وہی وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 38:67

قُلْ هُوَ نَبَؤٌا عَظِیْمٌۙ Open ayah 38:67 in the Quran reader

کہو (کہ لوگو ! تم مانو یا نہ مانو) یہ بہرحال ایک بہت بڑی خبر ہے

78 ایک بہت بڑی خبر سے آگہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کہو یہ ایک بہت بڑی خبر ہے جس سے میں تم لوگوں کو آگاہ کر رہا ہوں "۔ یعنی اللہ پاک کی توحید و وحدانیت۔ اور یہ قرآن کریم اور قیام قیامت اور میری نبوت و رسالت کے " ہو " کے مرجع میں یہ سب داخل ہیں۔ (المدارک، المحاسن، المراغی ) ۔ اور یہ سب ہی امور دراصل آپس میں لازم و ملزوم ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کا بھی انکار سب کے انکار کے مترادف ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جس انجام سے میں تم لوگوں کو خبردار کر رہا ہوں وہ کوئی معمولی چیز نہیں بلکہ ایک بہت بڑی حقیقت ہے۔ مگر تم لوگ ہو کہ اس سے منہ موڑ کر غفلت میں پڑے ہو اور تم نہیں سمجھتے کہ اس طرح اپنے لیے کتنے بڑے خسارے کا سامان کر رہے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 38:68

اَنْتُمْ عَنْهُ مُعْرِضُوْنَ Open ayah 38:68 in the Quran reader

جس سے تم لوگ (اس لاپرواہی کے ساتھ) منہ موڑے ہوئے ہو

79 غفلت و لاپرواہی محرومیوں کی محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ ایک عظیم الشان خبر ہے جس سے تم لوگ منہ موڑے ہوئے ہو "۔ اور اتنی اہم خبر۔ { نباء عظیم } ۔ سے منہ پھیرنا اور غفلت برتنا تمہاری اپنی ہی تباہی کا باعث ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر تم لوگ ہو کہ اس سب کے باوجود اتنی بڑی خبر۔ { نباء عظیم } ۔ سے اعراض برتتے اور اس بارے انذار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہو۔ اور تمہیں احساس نہیں کہ اس طرح تم لوگ کس قدر ہولناک انجام کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو غفلت و لاپرواہی اور اعراض و روگردانی محرومیوں کی محرومی اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 38:69

مَا كَانَ لِیَ مِنْ عِلْمٍۭ بِالْمَلَاِ الْاَعْلٰۤى اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 38:69 in the Quran reader

(نیز ان سے یہ بھی کہہ دو کہ) مجھے تو عالم بالا کے بارے میں کچھ بھی خبر نہ تھی جب کہ ان کا آپس میں جھگڑا ہو رہا تھا

80 پیغمبر کی صداقت و حقانیت ایک کھلا اور واضح ثبوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ مجھے تو کچھ خبر نہ تھی عالم بالا کے بارے میں جبکہ انکا آپس میں جھگڑا ہورہا تھا۔ یعنی تخلیق آدم کے بارے میں ۔ وَفِیْہِ اَقُّوْالٌ اُخْریٰ ۔ تو اس بارے میں کوئی پیشگی علم نہ ہونے کے باوجود میں تم لوگوں کو ان قطعی اور بنیادی حقائق سے اس صراحت و وضاحت کے ساتھ اور اس قدر تفصیل و تحقیق سے آگاہ کر رہا ہوں تو یہ ایک واضح ثبوت اور کھلی دلیل ہے میری نبوت و رسالت کی۔ اور میری صداقت و حقانیت کی۔ کہ وحی کے سوا ان حقائق کو جاننے کا میرے پاس کوئی اور ذریعہ نہ تھا نہ ہوسکتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے بذریعہ وحی مجھے عالم بالا کے ان تمام عظیم الشان حقائق سے آگاہ فرمایا اور وحی کی اسی روشنی کی بنا پر میں تم لوگوں کو تمہارے انجام سے خبردار کر رہا ہوں۔ تاکہ خود تم لوگوں کا بھلا ہو اور تم ہولناک خسارے سے بچ سکو۔
Ayahs 38:70–71

اِنْ یُّوْحٰۤى اِلَیَّ اِلَّاۤ اَنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 38:70 in the Quran reader

میری طرف تو (ان باتوں کی) و حی کی جاتی ہے میں تو بس ایک خبردار کرنے والا ہوں کھول کر2

اِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰٓئِكَةِ اِنِّیْ خَالِقٌۢ بَشَرًا مِّنْ طِیْنٍ Open ayah 38:71 in the Quran reader

(چنانچہ وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب تمہارے رب نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں ایک انسان بنانے والا ہوں مٹی (گارے) سے

82 تخلیق آدم کی تذکیر و یاددہانی : " بشراً " کی تنوین تعظیم کے لئے ہے۔ یعنی ایک عظیم الشان بشر و انسان۔ اور ظاہر ہے کہ جس کے بارے میں حق ۔ جل مجدہ ۔ خود فرمائے کہ میں نے اس کو اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے پھر اپنی خاص عنایت سے وہ اس میں اپنی طرف سے روح پھونک کر اسے زندگی بخشے اور اسے تاج خلافت سے سرفراز فرمائے اس سے بڑا اور کون ہوسکتا ہے ؟ اور اس کی عظمتوں کے کیا کہنے ؟ پھر سوچو کس قدر ظلم اور کتنی بڑی ناانصافی اور نمک حرامی ہے کہ یہ انسان اسی قادر مطلق رحمان و رحیم خداوند قدوس کو بھول جائے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس کے در اقدس کو چھوڑ کر یہ غیروں کے آگے جھک جائے۔ اور ان کے آگے سجدہ ریز ہو کر اپنی تذلیل و تباہی کا سا مان کرے ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ مِنْ کُلِّ شَائِبَۃِ من شوائب الزَّیْغِ وَ الضَّلال والظُّلْمِ وَ الاِنْحِرَافِ ۔ بہرکیف یہاں سے یہ حقیقت بھی ایک مرتبہ پھر واضح فرما دی گئی کہ حضرت آدم بشر اور خاکی انسان تھے۔ اور آپ کی نسل میں پیدا ہونے والے تمام انبیائے کرام بھی خاکی انسان اور بشر ہی تھے۔ اور ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد ﷺ تو اپنے بارے میں صرف ابن آدم ہی نہیں بلکہ " سید ولد آدم " ۔ " تمام اولاد آدم کے سردار " ہونے کی تصریح فرماتے ہیں۔ مگر اس سب کے باوجود آج کا کلمہ گو مشرک انبیائے کرام کی بشریت طاہرہ کا انکار کرتا ہے اور وہ اسے ان کی توہین قرار دیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں پر قصہ آدم و ابلیس کی تذکیر و یاددہانی سے یہ درس دیا جا رہا ہے کہ استکبار یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر حق سے منہ موڑنا اور اعراض برتنا ابلیس لعین کا شیوہ اور اسکا طریقہ ہے۔ اور آج کے کفار و مشرکین جو اسی زعم اور گھمنڈ کی بنا پر حق سے منہ موڑتے اور اعراض برتتے ہیں وہ اسی ابلیسی سنت پر چل رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 38:72

فَاِذَا سَوَّیْتُهٗ وَ نَفَخْتُ فِیْهِ مِنْ رُّوْحِیْ فَقَعُوْا لَهٗ سٰجِدِیْنَ Open ayah 38:72 in the Quran reader

پھر جب میں اس کو پورے طور پر بنا چکوں اور اس میں پھونک دوں اپنی روح میں سے تو تم سب گر جانا اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے

83 { من روحی } سے مقصود و مراد ؟ : { من روحی } یعنی " اپنی روح " سے مراد ہے اپنی طرف سے روح پھونکنا۔ اور یہ اضافت تعظیم و تشریف کے لئے ہے۔ جیسے " بیت اللہ " اور " ناقۃ اللہ " وغیرہ میں ہے۔ (روح، خازن، کبیر وغیرہ) ۔ سو آنحضرت ﷺ کے بارے میں جو بعض روایات میں ۔ " نُوْرٌ مِّنَ اللّٰہِ " ۔ یا ۔ " مِنْ نُوْرِ اللّٰہِ " ۔ کی قسم کے الفاظ وارد ہوئے ہیں، تو اولاً تو وہ سند و ثبوت کے اعتبار سے پایہ صحت و ثبوت کو نہیں پہنچتے۔ اور بصورت تسلیم اس کے معنیٰ بھی یہی ہوں گے کہ اللہ پاک نے آنحضرت ﷺ کو اپنی طرف سے اور اپنے نور علم و ہدایت سے خاص طور پر نوازا۔ اور آج دنیا میں ایمان و یقین کی جو بھی کوئی روشنی کہیں موجود ہے وہ سب آنحضرت ﷺ ہی کے فیض نبوت کا نتیجہ وثمرہ ہے ﷺ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ آپ ﷺ اپنی اصل اور ذات کے اعتبار سے انسان و بشر ہی تھے مگر صفت کے اعتبار سے نور یعنی نور ہدایت۔ کیونکہ پوری دنیا کے لیے نور حق و ہدایت کا منبع ومصدر آپ ہی کی پیش فرمودہ شریعت ہے۔ 84 آدم کے لیے سجدے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے فرمایا کہ میں مٹی گارے سے ایک انسان بنانے والا ہوں۔ سو جب میں اس کو پورے طور پر بنا چکوں اور اس میں اپنی روح میں سے پھونک دوں تو تم سب گرجانا اس کے آگے سجدہ کرتے ہوئے "۔ اس کی تعظیم و تکریم کے لئے اور اس کی خلافت کو تسلیم کرنے کے طور پر۔ مگر اب تعظیم و تکریم کے لئے کسی کو سجدہ کرنا جائز نہیں۔ قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ میں اس حقیقت کو طرح طرح سے منقح اور واضح فرما دیا گیا ہے۔ پس جیسا اس وقت حکم خداوندی کے بموجب حضرت آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنا ضروری تھا اسی طرح اب اسی مالک کے حکم و ارشاد کے مطابق اس وحدہ لاشریک کے سوا کسی اور کو سجدہ کرنا ممنوع و حرام ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اب ایسا کرنے سے ارتکاب شرک لازم آئے گا جو کہ سب سے بڑا گناہ اور ناقابل معافی سنگین جرم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ نے انکو حکم دیا کہ جب میں اس انسان کو بنانے کے بعد اس میں اپنی طرف سے روح پھونک دوں تو تم سب اس کے آگے سجدے میں گرجانا۔ مگر جب اللہ تعالیٰ نے اس میں روح پھونک دی تو حسب حکم سب اس کے آگے سجدے میں گرگئے بجز ابلیس کے کہ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آدم کے آگے سجدہ کرنے سے انکاری ہوگیا۔ جسکے نتیجے میں وہ ہمیشہ کیلئے راندئہ درگاہ ہوگیا۔ سو اب جو لوگ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دین حق کے آگے جھکنے اور اس کو قبول کرنے کیلئے تیار نہیں وہ اسی ابلیسی سنت کی پیروی کرتے ہیں۔ لہذا ایسے لوگ اس انجام کیلئے بھی تیار ہوجائیں جس سے ابلیس اور اس کی ذریت دوچار ہوئی ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حکم و ارشاد کے آگے اکڑنا اور کبر و غرور سے کام لینا محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کی راہ ہے۔ اور استکبار شیطان کا طریقہ وطیرہ اور دارین کی ذلت و رسوائی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و وضلال وسوء و انحراف بکل حال من الاحوال و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ -
Ayahs 38:73–74

فَسَجَدَ الْمَلٰٓئِكَةُ كُلُّهُمْ اَجْمَعُوْنَۙ Open ayah 38:73 in the Quran reader

سو (اس حکم کے مطابق) فرشتے سجدے میں گرگئے سب کے سب ایک ساتھ

اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اِسْتَكْبَرَ وَ كَانَ مِنَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 38:74 in the Quran reader

مگر ابلیس کہ اس نے گھمنڈ کیا اپنی (من گھڑت اور جھوٹی) بڑائی کا اور (وہ علم الہٰی میں) تھا ہی کافروں میں سے3

85 شیطان کے استکبار کا باعث اس کا کفر و انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ تھا ہی کافروں میں سے "۔ یعنی کان کے صیغے میں یہاں پر دو احتمال ہیں اور وہ دونوں ہی صحیح ہیں۔ اور دونوں ہی حضرات اہل علم سے مروی و منقول ہیں۔ ایک یہ کہ " کان " یہاں پر " صار " کے معنیٰ میں ہے۔ یعنی اپنے اس انکار و استکبار کی بناء پر وہ ملعون کافر ہوگیا۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ یہاں پر " کان " کو اپنے ظاہر پر ہی رکھا جائے۔ یعنی یہ کہ علم الہٰی میں اور حقیقت واقعہ کے اعتبار سے وہ کافر تو پہلے ہی سے تھا لیکن اس کے اس کفر کا ظہور اب جا کر اس واقعے کے ذریعے ہوا۔ ہم نے اپنے ترجمے میں اسی احتمال کو اختیار کیا ہے۔ ایک تو اس لئے کہ تاکہ لفظ کو اپنے ظاہری مفہوم ہی پر رکھا جائے جو کہ اصل ہے۔ اور دوسرے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کے علم محیط و کامل سے کوئی بھی چیز بہرحال پوشیدہ نہیں رہ سکتی ۔ والحمد للہ ۔ بہرکیف ابلیس لعین نے جب اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں حق سے منہ موڑا اور حکم الہٰی سے سرتابی کی تو وہ ہمیشہ کیلئے مردود و مطرود ہوگیا۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حکم وارشاد کے مقابلے میں استکبار اور اعراض و انکار سے کام لینا محرومیوں کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ بالعظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 38:75

قَالَ یٰۤاِبْلِیْسُ مَا مَنَعَكَ اَنْ تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ١ؕ اَسْتَكْبَرْتَ اَمْ كُنْتَ مِنَ الْعَالِیْنَ Open ayah 38:75 in the Quran reader

حق تعالیٰ نے فرمایا اے ابلیس تجھے کس چیز نے روکا اس بات سے کہ تو سجدہ کرے اس (عظیم الشان ہستی) کے آگے جس کو میں نے خود بنایا اپنے دونوں ہاتھوں سے ؟ (کیا تو یونہی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہوگیا یا تو (واقع میں کوئی) بڑے درجہ والوں میں سے ہے ؟

86 انسان کی تخلیق قدرت کا ایک عظیم الشان شاہکار : سو ابلیس کے انکار پر اس سے بطور عتاب فرمایا گیا کہ " تو نے اس چیز کو آخر سجدہ کیوں نہیں کیا جس کو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ؟ "۔ یعنی تخلیق کے ظاہری اسباب کے بغیر براہ راست و بلاواسطہ اپنی خاص عنایت و اہتمام سے۔ اور پھر مزید تعظیم اور اظہار شان کے لئے { یَدِیْ } مفرد نہیں فرمایا بلکہ { یَدَیَّ } تثنیہ کا صیغہ اختیار فرمایا گیا ہے۔ ورنہ اس سے مراد دونوں ہاتھوں سے اس طرح کے کام کرنا نہیں جس طرح ہم مخلوق میں سے کوئی کرتا ہے کہ وہ خالق ومالک اس طرح کے ہر تصور سے پاک اور وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اس خاص اہتمام کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کیلئے اختیار فرمایا۔ اور امر واقع یہی ہے کہ انسان کا وجود اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے قدرت کا ایک عظیم الشان شاہکار ہے۔ اب معاملہ انسان کی اپنی صلاحیتوں کے استعمال پر موقوف ہے۔ اگر اس نے ان کو اپنے خالق ومالک کی ہدایات کے مطابق صحیح استعمال کیا تو یہ فرشتوں سے بھی بازی لے جائے گا ورنہ یہ اسفل السافلین کے ہولناک گڑھے میں جاگرے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت حق جل مجدہ نے ابلیس سے فرمایا کہ تو نے میری اس مخلوق کو آخر سجدہ کیوں نہیں کیا جس کو میں نے اس قدر اہتمام و عنایت سے پیدا کیا اور وہ بھی اس صورت میں جبکہ اس سجدے کا حکم میں نے بذات خود دیا تھا ؟ کیا تو نے محض اپنے اندھے بہرے غرور اور استکبار کی بنا پر ایسے کیا یا تو اپنے زعم و گمان میں کوئی برتر ہستی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 38:76

قَالَ اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ١ؕ خَلَقْتَنِیْ مِنْ نَّارٍ وَّ خَلَقْتَهٗ مِنْ طِیْنٍ Open ayah 38:76 in the Quran reader

اس نے جواب میں کہ میں اس سے بہتر ہوں مجھے تو آپ نے آگ سے پیدا کیا ہے اور اس کو مٹی (گارے) سے

87 ابلیسی منطق کا ایک نمونہ : سو ابلیس لعین نے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے ارشاد کے جواب میں کہا کہ " میں اس سے بہتر ہوں کہ مجھ کو تو نے آگ سے پیدا کیا اور اس کو مٹی گارے سے "۔ تو پھر میں اس کو سجدہ کیوں کرتا کہ میں اس سے افضل ہوں اور وہ مفضول۔ تو افضل مفضول کو سجدہ کس طرح کرے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ ہے ابلیسی فکر و منطق اور شیطانی چکر و سوچ کا ایک نمونہ ومظہر کہ کوئی اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے صاف وصریح حکم کے مقابلے میں اپنے واہی تباہی حیلوں حوالوں اور من گھڑت ڈھکوسلوں اور مفروضوں کی بنا پر اس طرح اکڑ جائے۔ سو یہ راستہ دائمی تباہی اور ابدی ہلاکت کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ دوسرا نمونہ ملائکہ کرام کے طرز عمل کا نمونہ ہے۔ یعنی اپنے خالق ومالک کے حکم و ارشاد کے آگے فوری طور پر بلا کسی چوں و چرا کے صدق دل سے جھک جانا اور سر تسلیم خم کردینا۔ اور یہی راستہ ہے دارین کی سعادت و سرخروئی اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفرازی کا ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اسی پر مستقیم و کار بند رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ حالانکہ یہ شیطانی منطق اور ابلیسی فکر و سوچ سراسر باطل و مردود ہے اور اس کی اس ابلیسی حجت بازی کے سب مقدمات اور جملہ صغرے کبرے سب بےبنیاد ہیں۔ نہ تو زمین مفضول ہے بلکہ وہ بےحد و حساب مخلوق کے لیے آرام و راحت اور سکون و اطمینان کا گہوارہ ہے اور وہ بےحد و حساب مخلوق کی گوناگوں اور بےحد وحساب ضرورتوں کی کفیل وضامن اور حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی بےپایاں رحمتوں اور عنایتوں کا ایک عظیم الشان اور بےمثال مظہر ہے۔ اور نہ ہی یہ کوئی ضروری امر ہے کہ افضل سے پیدا ہونے والی چیز بھی افضل اور مفضول سے پیدا ہونے والی چیز بھی مفضول ہی رہے۔ اور پھر حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کے صاف وصریح حکم و ارشاد کے مقابلے میں کسی سوال و اعتراض اور چوں و چرا کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟۔ وہاں تو بےچون و چرا تعمیل ہی کرنی چاہیے کہ یہی تقاضائے بندگی اور وسیلہ فوز و فلاح ہے۔
Ayah 38:77

قَالَ فَاخْرُجْ مِنْهَا فَاِنَّكَ رَجِیْمٌۚۖ Open ayah 38:77 in the Quran reader

حکم ہوا کہ پس تو نکل جا یہاں سے کہ تو قطعی طور پر راندہ درگاہ ہوگیا

88 شیطان کو جنت سے نکل جانے کا حکم : سو اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے جواب میں شیطان کی اس ابلیسی منطق پر اس لعین کو حکم ہوا کہ " نکل جا یہاں سے کہ تو راندئہ درگار ہوگیا "۔ پس تو راندئہ درگاہ اور محروم ہوگیا ہر خیر اور کرامت سے۔ اس بنا پر کہ تو نے اپنے رب کے حکم و ارشاد کی صاف وصریح طور پر نافرمانی اور خلاف ورزی کی۔ سو رب کے حکم کی مخالفت و خلاف ورزی کا انجام بڑا ہی ہولناک اور تباہ کن ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس حکم عدولی کی بنا پر ابلیس کو جنت سے نکال دیا گیا اور وہ ہمیشہ کیلئے راندئہ درگاہ ہوگیا کہ جنت میں ایسے متکبروں اور بدبختوں کی کوئی جگہ نہیں۔ سو اس کی سرکشی اور نافرمانی و حکم عدولی کے نتیجے میں اس کو جنت سے نکال دیا گیا اور ہمیشہ کی لعنت اور محرومی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ سرکشی سے محفوظ اور اپنی بندگی سے سرشار رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 38:78

وَّ اِنَّ عَلَیْكَ لَعْنَتِیْۤ اِلٰى یَوْمِ الدِّیْنِ Open ayah 38:78 in the Quran reader

اور تجھ پر میری لعنت ہے قیامت کے دن تک4

89 شیطان کے گلے میں لعنت کا طوق : سو اس ملعون کو جنت سے نکل جانے کے حکم کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر فرمایا گیا کہ " تجھ پر میری لعنت ہے قیامت کے دن تک "۔ اور اس کے بعد تو اپنے اس آخری انجام کو پہنچے گا جو اس سے کہیں بڑھ کر ہولناک ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس کے بعد تو ہمیشہ کیلئے اس عذاب میں ڈال دیا جائے گا جس کا مستحق تو نے اپنے آپ کو اپنے اس کفر و انکار کی بنا پر بنادیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس طرح اس بدبخت کے کفر و انکار اور اس کے تکبر و سرکشی کی بنا پر لعنت کا طوق اس کے گلے میں ڈال دیا گیا اور اس کو صاف وصریح طور پر بتادیا گیا کہ اب قیامت تک یہ طوق لعنت ہمیشہ تجھ پر مسلط رہے گا اور قیامت کے آنے پر تو اپنے اس جرم کی سزا بھگتے گا اور ہمیشہ اسی میں مبتلا رہے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 38:79–81

قَالَ رَبِّ فَاَنْظِرْنِیْۤ اِلٰى یَوْمِ یُبْعَثُوْنَ Open ayah 38:79 in the Quran reader

اس نے کہا اے میرے رب پھر مجھے مہلت دے اس دن تک کہ ان سب کو دوبارہ اٹھایا جائے گا

قَالَ فَاِنَّكَ مِنَ الْمُنْظَرِیْنَۙ Open ayah 38:80 in the Quran reader

ارشاد ہوا جا تجھے مہلت ہے

اِلٰى یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُوْمِ Open ayah 38:81 in the Quran reader

اس دن تک جس کا وقت معلوم ہے (مجھے)1

90 شیطان کے لیے مہلت کا اعلان : سو ابلیس کی ابلیسانہ ذہنیت کا ایک اور منظر اس طرح سامنے آیا کہ اس نے اپنی اس تحقیر و تذلیل اور محرومی پر معذرت کرنے اور معافی مانگنے کی بجائے اپنے لیے قیامت تک کے لیے مہلت مانگی تو اس کے جواب میں ارشاد ہوا کہ " تجھے مہلت ہے وقت معلوم تک "۔ یعنی نفخہ اولیٰ تک جبکہ سب لوگ مرجائیں گے اور عمل کی مہلت ختم ہوجائے گی۔ سو تجھے یوم بعث تک تو مہلت نہیں مل سکتی جیسا کہ تو نے سوال اور مطالبہ کیا ہے۔ البتہ نفخہ موت تک تجھے مہلت دے دی گئی ہے۔ سو یہ اس حلیم مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے حلم بےپایاں کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ اتنے بڑے طاغی و سرکش کو بھی اس نے اتنی طویل مہلت دے دی۔ سو کسی بھی گناہ گار کو گناہ پر ملنے والی مہلت سے کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے خواہ وہ مہلت کتنی ہی دراز کیوں نہ ہو کہ اس کا حلم بہت بڑا اور اس کی چال بڑی ہی مضبوط اور پختہ ہے۔ جیسا کہ اس کا اپنا صاف وصریح ارشاد و اعلان ہے ۔ { وَاُمْلِیْ لَہُمْ اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ } ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَّ زَیْغٍ وَضَلالٍ وانحِرَاف وَہُوَ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَالُ وَاِیَّاہُ نَسْأَلُ اَنْ یَأخُذَنَا بِنَوَاصِیْنَا اِلٰی مَا فِیْہِ حُبُّہ وَالِرَّضَائُ جَلَّ وَعَلا ۔ بہرکیف اس طرح ابلیس لعین کو قیامت تک انسان کیخلاف زور آزمائی کرنے اور اپنی شیطنت کو پھیلانے کا موقع دے دیا گیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 38:82–83

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ Open ayah 38:82 in the Quran reader

اس نے کہا تیری عزت کی قسم میں گمراہ کر کے رہوں گا ان سب کو

اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ Open ayah 38:83 in the Quran reader

بجز تیرے ان خاص بندوں کے جن کو تو نے چن لیا ہوگا

91 شیطان کا زور اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں پر نہیں چل سکتا : سو مہلت ملنے پر ابلیس نے بڑے زور اور طنطنے کے ساتھ کہا کہ " تیری عزت کی قسم میں ان سب کو گمراہ کر کے چھوڑوں گا سوائے تیرے چنے ہوئے خاص بندوں کے "۔ کہ تیرے خاص اور چنے ہوئے بندوں پر میرا زور اور میرا جادو بہرحال نہیں چل سکے گا۔ سو اس ملعون کا زور اور جادو انہی لوگوں پر چلتا ہے جو ایمان و یقین کی قوت اور اپنے رب پر توکل و اعتماد کے شرف سے محروم ہوتے ہیں۔ اور وہ اس سے دوستی کی پینگیں بڑھاتے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرما دی گئی ہے ۔ { اِنَّہ لَیْسَ لَہ سُلْطَانٌ عَلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّہُمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ، اِنَّمَا سُلْطَانُہ عَلَی الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَہ وَالَّذِیْنَ ہُمْ بِہٖ مُشْرِکُوْنَ } (النحل : 99-100) ۔ سو اللہ پاک پر سچا پکا ایمان و یقین اور اسی پر بھروسہ و اعتماد وہ شاہ کلید ہے جو انسان کو ہر خیر سے مشرف و ہمکنار کرنے والی اور ہر شر اور خرابی سے بچانے اور محفوظ رکھنے والی ہے ۔ فَزِدْنَا اَللّٰہُمَّ اِیْمَانًا بِکَ وَیَقِیْنًا وَحُبًّا فِیْکَ وَتَوَکُّلاً عَلَیْکَ ۔ فلا حول ولا قوۃ الا بک تبارکت وتعالیت ۔ بہرکیف ابلیس نے اس موقع پر بڑے طنطنے سے کہا کہ " تیرے مخلص اور چیدہ بندوں کے سوا باقی سب کو میں گمراہ کر کے چھوڑوں گا " تاکہ اس طرح میں یہ ثابت کر دکھاؤں کہ جس انسان کو تو نے اس عزت اور شرف سے نوازا ہے وہ اس کا اہل نہیں۔ اور میں نے جو اس کو سجدہ نہیں کیا تو ٹھیک کیا اور میں اپنے اس فیصلے میں حق بجانب تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین