38. Surah Saad

صThe letter Saad · 88 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 38:26

یٰدَاوٗدُ اِنَّا جَعَلْنٰكَ خَلِیْفَةً فِی الْاَرْضِ فَاحْكُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لَا تَتَّبِعِ الْهَوٰى فَیُضِلَّكَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَضِلُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌۢ بِمَا نَسُوْا یَوْمَ الْحِسَابِ۠ Open ayah 38:26 in the Quran reader

(ہم نے ان سے کہا) اے داؤد ! بلاشبہ ہم نے آپ کو خلیفہ بنادیا ہے اپنی زمین میں لہذا آپ فیصلہ کیا کریں لوگوں کے درمیان حق (و انصاف) کے ساتھ2 اور خواہش نفس کی پیروی نہ کرنا کہ وہ تمہیں بہکا دے گی اللہ کی راہ سے بیشک جو لوگ بھٹک جاتے ہیں اللہ کی راہ سے (والعیاذ باللہ تو) ان کیلئے ایک بڑا ہی سخت عذاب ہے اس بناء پر کہ انہوں نے بھلا دیا حساب کے اس ہولناک دن کو

35 حضرت داؤد کیلئے خلافت و نیابت کا انعام و اکرام : سو ارشاد فرمایا گیا " کہ اے داؤد ہم نے آپ کو خلیفہ بنایا ہے زمین میں "۔ یعنی اپنی طرف سے اپنا نائب اور آپ کے پیشرو انبیائے کرام کا وارثو جانشین۔ پس آپ (علیہ السلام) کا کام اور فرض منصبی یہ ہے کہ آپ (علیہ السلام) ہمارے خلیفہ اور نائب کی حیثیت سے ہماری زمین پر اور ہماری مخلوق کے بارے میں ہمارے احکام واوامر کی تنفیذ کا کام کریں۔ کیونکہ جسکو کسی کا خلیفہ اور نائب بنایا جاتا ہے وہ آزاد اور خود مختار نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے مستخلف کی ہدایات اور اس کے اوامرو ارشادات کا پابند اور اس کی ہدایات کے تابع ہوتا ہے۔ سو مذکورہ بالا تنبیہہ اور حضرت داؤد کی توبہ و استغفار کے بعد آنجناب کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ واضح ہدایت فرمائی گئی کہ داؤد ! ہم نے آپ کو اپنی اس زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ پس اسکا تقاضا یہ ہے کہ آپ اس میں ہماری ہدایت اور مرضی کے مطابق چلیں اور لوگوں کے درمیان عدل و انصاف اور حق و صداقت کے مطابق فیصلہ کریں۔ سو اس ارشاد سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ حکومت اور بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے اور اسی کی عطا و بخشش سے بنتی ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے { تُوْتِی الْمُلْکَ مَنْ تَشَائُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکَ مِمَّنْ تَشَائُ } " مالک تو جسے چاہے بادشاہی عطا فرمائے اور جس سے چاہے حکومت و بادشاہی چھین لے " ( آل عمران : 26) ۔ سو بڑے ہی اندھے، اوندھے اور بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو حکومت و اقتدار کی کرسی کی بھیک مانگنے کے لیے جگہ جگہ جھکتے اور طرح طرح کی ذلتیں اٹھاتے ہیں۔ کہیں خود ساختہ بتوں کے آگے، کہیں بنی ٹھنی قبروں کے سامنے اور کہیں نام نہاد آستانوں کے سامنے وغیرہ وغیرہ۔ 36 حکومت و بادشاہی کے تقاضوں کی تذکیر و یاددہانی : سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے حضرت داؤد کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا کہ " اے داؤد ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔ پس آپ ہمیشہ فیصلہ حق کے مطابق کرنا اور خواہشات نفس کی پیروی نہیں کرنا "۔ سو اس سے منصب خلافت کی دو اہم ذمہ داریوں اور بنیادی تقاضوں کا درس دیا گیا ہے۔ یعنی لوگوں کے درمیان عدل و انصاف قائم کرنا اور اتباع ہویٰ یعنی خواہشات نفس کی پیروی سے بچنا۔ کیونکہ خواہشات کی پیروی خرابیوں کی خرابی اور شر و فساد کی وہ جڑ بنیاد ہے جس کی وجہ سے انسان راہ راست سے ہٹ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ روایات میں ہے کہ ایک مرتبہ مشہور محدث حضرت ابو زرعہ مشہور اموی خلیفہ ولید بن عبد الملک کی مجلس میں تشریف لائے تو خلیفہ نے آپ سے کہا کہ چونکہ آپ کو قرآنی علوم کی معرفت و فقاہت حاصل ہے اس لئے آپ مجھے قرآن کی روشنی میں بتائیں کہ کیا خلیفہ وقت کا بھی محاسبہ ہوگا تو آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ امیر المومنین کیا آپ کا مقام حضرت داؤد سے بھی بڑھ کر ہے جن کو خدائے پاک نے خلافت و نبوت دونوں کے شرف سے نوازا تھا ؟ پھر آپ نے یہی آیت کریمہ پڑھتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کو تو خداوند قدوس اس طرح حکم فرماتا ہے تو پھر آپ کس طرح اس سے بچ سکتے ہیں ؟ حضرت شیخ ابوزرعہ (رح) کے اس فی البدیہہ اور معقول و مدلل اور مناسب جواب سے امیر المومنین بہت متاثر ہوئے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، معارف وغیرہ) ۔ اللہ پاک کی رحمتیں ہوں ایسے حق گو علماء و مشائخ پر۔ جنہوں نے ہر مشکل اور نازک مقام پر حق گوئی کی عمدہ اور قابل تقلید مثالیں قائم فرمائیں ۔ اللہ ہمیں انہی کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ قرآنی علوم و معارف سے ہمارے سینے بھی منور ہوں اور حق بات حق کے طریقے سے کہنے کی سعادت بھی نصیب ہو اور اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کی شرارتوں سے ہمیشہ اور ہر طرح سے محفوظ اور راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین - 37 اتباع ھویٰ کا نتیجہ راہ حق سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت داؤد سے فرمایا گیا کہ آپ کبھی خواہش نفس کی پیروی نہ کرنا کہ یہ چیز آپ کو اللہ کی راہ سے بہکا دے گی۔ کیونکہ ھویٰ اور ھدیٰ میں تضاد اور منافات ہے۔ اور یہ دونوں صفتیں ایک جگہ جمع نہیں ہوسکتیں۔ جہاں ہدایت کی اتباع و پیروی ہوگی وہاں ھویٰ و خواہش کی پیروی نہیں ہوگی۔ اور جہاں ھویٰ و خواہش ہی کی پیروی ہوگی وہاں ہدایت کی پیروی کہاں اور کیسے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ الَّذِیْ لَا اِلٰہ الَّاہُوَ وَبِیَدِہ اَزِمَّۃُ کُلِّ شَیْئٍ وَہُوَ الہَادِیْ اِلٰی سَوَآئِ الصِّرَاطِ ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے حضرت داؤد کو اور آپ کے توسط سے دنیا کے ہر حاکم و بادشاہ کو بلکہ تمام بنی نوع انسان کو یہ تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے کہ اس دنیا میں اور اللہ کی اس سرزمین میں جسکو بھی کوئی اختیار و اقتدار ملتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کے دیئے سے ملتا ہے۔ اور اس کے بارے میں ہر کسی سے قیامت کے روز پوچھ ہوگی کہ کس نے اس کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق استعمال کیا اور کس نے اس میں اپنی خواہشات کی پیروی کی۔ اور اسی کے مطابق ہر کسی کو اس کی جزا و سزا سے نوازا جائے گا۔ بہرکیف لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے کام لینا اور خواہشات نفس کی پیروی سے بچ کر حق و ہدایت کی حکومت و بادشاہی کے دو اہم تقاضے اور اصلاح احوال کی اساس و بنیاد ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ 38 یوم حساب اور اس کے تقاضوں کی فراموشی کا انجام بہت برا ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یوم حساب کو فراموش کرنا خرابی و فساد کی جڑ بنیاد اور اس کا انجام بڑا برا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ یوم حساب کو فراموش کردینا جڑ بنیاد ہے تمام خرابی اور فساد کی۔ اور آخرت کی جواب دہی اور باز پرس کا یقین اصل اساس و بنیاد ہے اصلاح احوال کی کہ دنیا والوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی تو کئی صورتیں ممکن ہوسکتی ہیں مگر آخرت میں ایسی کوئی بات کس طرح چل سکتی ہے ؟ سو جو لوگ آخرت کے منکر ہیں وہ راہ راست سے یقینا ہٹے ہوئے ہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بالاٰخِرَۃِ عَنِ الصِّرَاطِ لَنَاکِبُوْنَ } ۔ (المومنون : 74) اسی لیے یہاں پر ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹک گئے، ان کیلئے بڑا سخت عذاب ہوگا۔ اس بنا پر کہ انہوں نے یوم حساب کو فراموش کردیا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے انحراف اور زیغ و ضلال سے اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 38:27

وَ مَا خَلَقْنَا السَّمَآءَ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا بَاطِلًا١ؕ ذٰلِكَ ظَنُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنَ النَّارِؕ Open ayah 38:27 in the Quran reader

اور ہم نہیں پیدا کیا آسمان و زمین اور ان دونوں کے درمیان کی اس حکمتوں بھری کائنات کو بیکار (و بےمقصد) یہ گمان (باطل اور زعم فاسد) تو ان لوگوں کا ہے جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر (و باطل) پر سو بڑی ہی خرابی اور ہلاکت ہے ایسے کافروں کے لیے دوزخ (کے عذاب) سے1

39 درسگاہِ کائنات سے درس عبرت و بصیرت لینے کی ہدایت : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ آسمان اور زمین کی یہ کائنات بےمقصد نہیں ہوسکتی۔ اور یہ عقل ونقل کا تقاضا ہے کہ جب ایک عام اور معمولی قسم کی چیز بھی یہاں بےمقصد اور بیکار نہیں ہوسکتی تو پھر اس قدر حکمتوں بھری اور عجائب وغرائب سے لبریز و معمور یہ اتھاہ کائنات کیسے اور کیونکر بےمقصد اور بےکار ہوسکتی ہے ؟ اور اس کی بیشمار حکمتوں میں سب سے بڑی اور اہم حکمت یہ ہے کہ انسان اس میں غور و فکر سے کام لے کر اپنے خالق ومالک کی معرفت حاصل کرے اور اس کی پیدا کردہ اس کائنات سے بیشمار فائدے اٹھا کر دل و جان سے اس خالق ومالک کے حضور جھک جائے۔ اور زندگی اسی کے حکم کے مطابق گزارے۔ اور اس طرح وہ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ومالا مال ہوجائے۔ بالفاظ دیگر یہ سب کائنات انسان کے لئے ہے اور خود حضرت انسان اپنے رب کی معرفت اور اس کی عبادت و بندگی کے لئے ۔ { وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ الِّا لِیَعْبُدُوْنَ } ۔ (الذاریات : 56) اور اس کی اس پر حکمت تخلیق کا تقاضا ہے کہ ایک یوم حساب ہو۔ تاکہ ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں اور علی وجہ الکمال والتمام پورے ہو سکیں۔ سو وہی ہے قیامت کا دن جو کہ بدلے اور جزا کا دن ہے۔ سو اس طرح کائنات کی اس عظیم الشان درسگاہ میں ہر طرف پھیلے بکھرے نشانہائے قدرت میں بڑے عظیم الشان دلائل ہیں اللہ تعالیٰ کی توحید و وحدانیت کے۔ اس کی وحی و رسالت اور اس کے رسولوں کی حقانیت و صداقت کے اور قیامت کے یوم حساب کی ضرورت و امکان کے۔ ان لوگوں کے لیے جو صحیح طور پر غور و فکر سے کام لیتے ہیں ۔ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لآیٰاتٍ لِقَوْمٍ یَّتَفَکَّرُوْنَ } ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 40 کائنات کی تخلیق کو بےمقصد سمجھنا کافروں کا کام ۔ والعیاذ باللہ : یعنی حکمتوں سے بھری اس کائنات کی تخلیق اور اس کے وجود کو بےمقصد سمجھنا کافروں اور باطل پرستوں کا کام ہے ۔ والعیاذ باللہ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کائنات کی تخلیق اور اس کے وجود کو بےمقصد سمجھنا کافروں کا زعم باطل ہے اور اس کے نتائج بہت برے اور بڑے ہولناک ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ خواہ وہ معروف معنوں میں اور عام اور کھلے کافر ہوں اور خواہ وہ ایسے نام نہاد مدعی ایمان ہوں جو اپنے دعوائے ایمان کے باوجود اپنے قول و فعل سے حق کی تکذیب کرتے ہوں اور ان کے رنگ ڈھنگ سب کافروں کے سے ہوں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے کافر و منکر لوگ جو آسمان و زمین کی اس حکمتوں بھری کائنات کی تخلیق کو بےمقصد سمجھتے ہیں وہ اس زعم باطل میں مبتلا ہیں کہ یہ دنیاوی زندگی اور اس کے وقتی فوائد و منافع اور اس کی عارضی وفانی لذتیں ہی سب کچھ ہیں جس نے انکو پالیا وہ کامیاب ہوگیا۔ نہیں تو ناکام رہا۔ اس لیے انکے یہاں نیکی و بدی اور خیر و شر کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ اس لیے وہ آخرت کی بازپرس اور وہاں کی جوابدہی سے غافل و لاپروا ہو کر اپنی متاع حیات کو یونہی ضائع کر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ دوزخ کی ہولناک آگ کی طرف بڑھے چلے جا رہے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ یہ خساروں کا خسارہ ہے اور ایسا خسارہ جس کی تلافی اور تدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ۔ والعیاذ باللہ العزیز الغفار جل وعلا -
Ayah 38:28

اَمْ نَجْعَلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَالْمُفْسِدِیْنَ فِی الْاَرْضِ١٘ اَمْ نَجْعَلُ الْمُتَّقِیْنَ كَالْفُجَّارِ Open ayah 38:28 in the Quran reader

کیا ہم ان لوگوں کو جنہوں نے ایمان لا کر نیک کام کئے ہوں گے ان کی طرح کردیں گے جو فساد مچانے والے ہیں ہماری زمین میں یا ہم پرہیزگاروں کو کردیں گے بدکاروں کی طرح ؟

41 قیام قیامت لازمی اور ضروری ہے : سو ضرورت قیامت کے اثبات کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ہم پرہیزگاروں کو بدکاروں کی طرح کردیں گے "۔ اور جب ایسا نہیں اور ہرگز اور یقینا ایسے نہیں ہوسکتا تو پھر قیامت کا قائم ہونا ضروری اور لازمی ہے۔ اور یہ عقل اور نقل دونوں کا بدیہی تقاضا ہے۔ کیونکہ اس دنیا میں جو کہ دراصل ایک ابتلاء و آزمائش کی جگہ ہے اس میں ان دونوں گروہوں کا امتیاز ثمرات و نتائج کے اعتبار سے ظاہر نہیں ہو رہا تو یقینا اور لازماً ایک ایسا دن ہوگا اور ضرور ہونا چاہیئے جس میں ہر کوئی اپنے کئے کرائے کا بھرپور بدلہ پائے تاکہ عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہوں اور نیکی و بدی کا فرق و امتیاز اپنے انجام و نتائج کے اعتبار سے ظاہر ہو سکے۔ سو وہی دن ہے قیامت کا دن جس نے بہرحال آ کر رہنا ہے اپنے وقت مقرر پر۔ اسی کو " یوم الدین " اور " یوم الفصل " کہا جاتا ہے۔ اور وہ اس حکمتوں بھری کائنات کا طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ ہے۔ ورنہ اس کائنات پوری کا وجود عبث اور بیکار قرار پاتا ہے جو تقاضائے حکمت کے خلاف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 38:29

كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ اِلَیْكَ مُبٰرَكٌ لِّیَدَّبَّرُوْۤا اٰیٰتِهٖ وَ لِیَتَذَكَّرَ اُولُوا الْاَلْبَابِ Open ayah 38:29 in the Quran reader

یہ ایک عظیم الشان اور برکتوں بھری کتاب ہے جسے ہم نے اتارا ہے آپ ﷺ کی طرف (اے پیغمبر ! ) تاکہ یہ لوگ غور و فکر سے کام لیں اس کی آیتوں میں اور تاکہ یہ سبق لیں (اور نصیحت حاصل کریں) عقل سلیم رکھنے والے

42 قرآن حکیم ایک عظیم الشان اور برکتوں بھری کتاب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ایک عظیم الشان اور برکتوں بھری کتاب ہے "۔ جس کی خیر و برکت کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہا۔ اور جو انسان کیلئے دارین کی سعادت و سرخروئی کی کفیل وضامن کتاب ہے۔ پس تم سب اے لوگو ! اپنی زندگی سنوارنے اور اپنی دنیا و آخرت بنانے کے لئے اس کتاب حکیم کی ہدایات اور مقدس تعلیمات کو دل و جان سے اپناؤ کہ اسی میں تمہارے لئے دارین کی فوز و فلاح کا سامان ہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو اس کتاب حکیم کو ہم نے اتارا ہے۔ یہ دلوں کی زندگی اور بصیرت و بصارت کا نور ہے۔ اور اس کو اتارا اس لیے گیا ہے کہ عقل سلیم رکھنے والے اس کی آیتوں میں غور کریں اور اس سے سبق لیں۔ بہرکیف پیغمبر کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ اس برکتوں بھری عظیم الشان کتاب کو ہم نے آپ کی طرف اتارا تاکہ وہ لوگ جو عقل سلیم رکھتے ہیں وہ اس کی آیتوں میں غور و فکر سے کام لیں تاکہ اس کے نتیجے میں وہ گوہرہائے مقصود سے فیضیاب ہو سکیں۔ اور تاکہ وہ یاددہانی حاصل کریں اور تاکہ وہ اپنے انجام کے لیے فکر اور تیاری کرسکیں اور دائمی خسارے اور انتہائی ہولناک ہلاکت و تباہی سے بچ سکیں ۔ وباللہ التوفیق - 43 قرآن حکیم خالص اتاری ہوئی کتاب ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کو ہم ہی نے اتارا ہے آپ کی طرف ۔ اے پیغمبر !- "۔ یعنی یہ کوئی انسانی تصنیف نہیں اور نہ ہی اس میں کسی انسانی فکر و کاوش کا ذرہ برابر کوئی عمل دخل ہے۔ بلکہ یہ سراسر کائنات کے خالق ومالک کی طرف سے اتاری ہوئی آسمانی کتاب ہے۔ پس اس جیسی دوسری کوئی کتاب نہ ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے۔ سو اس کتاب حکیم کی یہ خصوصی اور امتیازی صفات اس کے سوا کسی اور کتاب میں نہ پائی گئی ہیں اور نہ قیامت تک کبھی پائی جانی ممکن ہیں۔ یعنی یہ کہ یہ خالص اتاری ہوئی کتاب ہے اس خالق ومالک کی طرف سے جو کہ اس پوری کائنات اور کائنات کے مخدوم اس انسان کا خالق ہے۔ اور ایسی کہ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ کی تنزیل کے سوا اس میں اور کسی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ اسی لیے دوسرے مختلف مقامات پر اس کو " منزل " کی بجائے " تنزیل " فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح یہ ایک ایسی مبارک کتاب ہے کہ اس کی خیرات و برکات کی نہ کوئی حد ہے نہ انتہائ۔ سو اس بےمثال نعمت خداوندی کا تقاضا یہ تھا کہ دنیا دل و جان سے اس کو اپنا کر اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرتی لیکن دنیا کی اکثریت نے اس سے منہ موڑ لیا ہے۔ جس کے نتیجے میں وہ نجات و فلاح کی راہ سے محروم ہو کر ہلاکت و تباہی اور دائمی خسارے کے ہولناک گڑھے کی طرف بڑھتی چلی جا رہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 44 قرآن حکیم کے اتارے جانے کا اصل مقصد تدبر و تذکر : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس کتاب حکیم کے اتارے جانے کا اصل مقصد تدبر و تذکر ہے۔ یعنی تاکہ عقل سلیم رکھنے والے اس کی آیتوں میں غور و فکر اور تذکر سے کام لیں۔ سو اس سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ اس کتاب ہدایت کے نازل کرنے سے اصل مقصد یہ ہے کہ انسان اس میں غور و فکر سے کام لے کر راہ حق و ہدایت سے بہرہ ور و سرشار ہو۔ تاکہ اس طرح وہ سعادت دارین سے سرفراز ہو سکے نہ کہ اس کو صرف تبرک حاصل کرنے، ریشمی غلافوں میں لپیٹنے اور مردوں پر پڑھنے کے لئے رکھ دے اور بس۔ جس طرح کہ آج کے بہت سے نام نہاد مسلمانوں نے سمجھ رکھا ہے۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اس کتاب حکیم سے نصیحت حاصل کرنا عقل سلیم رکھنے والوں ہی کا کام ہے۔ بالفاظ دیگر جو لوگ اس کتاب ہدایت سے نصیحت حاصل نہیں کرتے اور اس سے اعراض کرتے اور منہ موڑتے ہیں ان کی عقلیں سلیم نہیں بلکہ زنگ آلود اور ماؤف ہوچکی ہیں۔ اور اسی بنا پر وہ اس کتاب حکیم کی برکتوں اور اس کے نور مبین سے محروم ہو کر طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ نہ وہ اپنے خالق ومالک کی معرفت سے آگاہ ہیں اور نہ ہی ان کو اس کے حقوق اور ان کی ادائیگی کا کوئی اتہ پتہ ہے۔ اور نہ ہی ان کو اپنے انجام اور اپنی آخرت کے بارے میں کوئی علم و آگہی ہے۔ بس حیوانوں کی طرح پیٹ بھر کر سو جانا ان کی زندگیوں کا مقصد و نصب العین ہے اور عقل و فکر کی ساری توانائیوں کو انہوں نے بطن وفرج کی شہوتوں کی خدمت و تعمیل میں لگا دیا۔ اور ان کو اس کا احساس تک نہیں۔ اس طرح وہ ہلاکت و تباہی کے کس ہولناک گڑھے میں گر رہے ہیں۔ اور یہی ہے خساروں کا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
Ayahs 38:30–31

وَ وَهَبْنَا لِدَاوٗدَ سُلَیْمٰنَ١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌؕ Open ayah 38:30 in the Quran reader

اور ہم ہی نے عطا کیا داؤد کو سلیمان جیسا بیٹا وہ بڑا ہی اچھا بندہ تھا بیشک وہ ہمیشہ رجوع رہنے والا تھا (اپنے رب کے حضور)

اِذْ عُرِضَ عَلَیْهِ بِالْعَشِیِّ الصّٰفِنٰتُ الْجِیَادُۙ Open ayah 38:31 in the Quran reader

(چنانچہ ان کا وہ واقعہ یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب ان کے سامنے شام کے وقت پیش کیا گیا اصیل اور تیزرو عمدہ گھوڑوں کو تو

45 حضرت سلیمان کی اوابیت کا ایک نمونہ و مثال : جو اس وقت سامنے آیا جبکہ ان کے سامنے شام کے وقت اصیل اور عمدہ و تیز رو گھوڑوں کو پیش کیا گیا۔ " صَافِنَات " جمع ہے " صَافِنْ " کی۔ اور " صَافِنْ " اس گھوڑے کو کہا جاتا ہے جو تین پاؤں پر کھڑا ہو اور چوتھا پاؤں اس نے ٹیک رکھا ہو۔ اور یہ صفت گھوڑوں میں بڑی عمدہ اور محمود صفت سمجھی جاتی ہے۔ اور یہ ان کے عمدہ ہونے کی ایک اہم اور واضح علامت و نشانی ہوتی ہے۔ اور " جیاد " جمع ہے " جواد " کی۔ جس کے معنیٰ عمدہ اور تیز رفتار گھوڑے کے آتے ہیں۔ نیز یہ " جید " کی جمع بھی ہوسکتی ہے۔ (جامع البیان، المراغی، القاسمی، ابن کثیر، الکبیر وغیرہ) ۔ سو یہ گھوڑے اپنی اصل اور نسل کے اعتبار سے بھی عمدہ تھے اور صفات و خصال کے اعتبار سے بھی۔ بہرکیف آنجناب پر ایسے عمدہ اور اصیل گھوڑے پیش کئے گئے تاکہ آپ ﷺ جہاد کے لئے ان کا جائزہ لے سکیں۔ اور اسی مقصد کے لئے آپ نے اپنے سامنے ان کی دوڑ لگوائی۔ تو اس پر یہ واقعہ پیش آیا جو یہاں ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ یہ گھوڑے چونکہ جہاد کیلئے رکھے گئے تھے اس لیے حضرت سلیمان کو ان سے خاص انس اور پیار تھا۔ کیونکہ جہاد کے گھوڑوں کی دین حنیف میں بڑی فضیلت وارد ہوئی ہے۔ چناچہ صحیح بخاری و مسلم کی متفق علیہ حدیث میں حضرت عروہ البارقی ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ گھوڑوں کی پیشانیوں میں قیامت تک خیر بندھی ہوئی ہے۔ ( صحیح البخاری، کتاب المناقب، باب حدثنی محمد بن المثنی ) ۔ سو گھوڑوں کی پیشانی میں قیامت تک خیر بندھی ہوئی ہے۔ یعنی اجر وثواب بھی اور غنیمت مال بھی۔ اور صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے اللہ کی راہ میں گھوڑا پالا، اللہ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کے وعدے پر یقین کرتے ہوئے تو اس گھوڑے کا کھانا اور پینا اور اس کی لید اور اسکا پیشاپ وغیرہ سب کچھ قیامت کے روز اس کی نیکیوں کے پلڑے میں تولا جائے گا۔ بہرکیف یہاں پر اس قصے کے ذکر وبیان سے حضرت سلیمان کے جوش انابت اور شان اوابیت کا ایک نمونہ اور اس کی مثال پیش فرمائی گئی ہے جس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ کا ذکر اور اس کی یاد دلشاد بہرحال ہر چیز پر مقدم ہے۔
Ayah 38:32

فَقَالَ اِنِّیْۤ اَحْبَبْتُ حُبَّ الْخَیْرِ عَنْ ذِكْرِ رَبِّیْ١ۚ حَتّٰى تَوَارَتْ بِالْحِجَابِٙ Open ayah 38:32 in the Quran reader

آپ نے کہا کہ میں نے دوست رکھا مال کی محبت کو اپنے رب کی یاد سے یہاں تک کہ وہ چھپ گیا اوٹ کے پیچھے

46 { حَتّٰی تَوَارَتْ بالْحِجَابِ } کا مفہوم و مطلب ؟ : یعنی " سورج جو کہ ڈوب گیا "۔ یعنی " تو ارت " کی ضمیر فاعل کا مرجع سورج ہے۔ اور یہاں ماقبل میں اگرچہ اس مرجع کا ذکر موجود نہیں۔ لیکن سورج چونکہ ان مشہور چیزوں میں سے ہے جن کو ان کی شہرت کی بنا پر بغیر سبق ذکر کے یونہی مرجع قرار دے دیا جاتا ہے۔ اس لئے یہاں اس کو مرجع بنانا درست ہے۔ اور یوں " العِشَیِّ " کے ذکر کے ضمن میں بھی اس کا ذکر آگیا ہے۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ اس مقام کی مشہور تفسیر کے اعتبار سے ہے۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جیسا کہ روایات میں وارد ہے کہ ایک مرتبہ حسب معمول حضرت سلیمان (علیہ السلام) گھوڑوں کی دیکھ بھال کر رہے تھے اور ان کی پریڈ وغیرہ کے ضمن میں آپ (علیہ السلام) نے ان کی دوڑ لگوائی۔ تو اس کام میں آپ (علیہ السلام) اس قدر مشغول ہوگئے کہ آپ (علیہ السلام) کی عصر کی نماز رہ گئی۔ جیسا کہ عام مفسرین کرام کا کہنا ہے۔ جبکہ بعض حضرات کے نزدیک نماز نہیں بلکہ کوئی اور معمول جو کہ از قسم وظیفہ و ذکر تھا وہ رہ گیا کیونکہ گھوڑوں کی دوڑ میں مشغول ہو کر نماز سے غافل ہوجانا حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے شایان شان نہیں ہوسکتا۔ (بیان القرآن وغیرہ) ۔ اور اس کی تائید اس قول مشہور سے بھی ہوتی ہے جس کے مطابق یہود کے یہاں عصر کی نماز تھی ہی نہیں۔ مگر عام مفسرین کرام کا کہنا بہرحال یہی ہے کہ آنجناب (علیہ السلام) کی نماز عصر ہی رہ گئی تھی۔ تو آپ (علیہ السلام) نے ان تمام گھوڑوں کو واپس منگوایا اور اپنی تلوار سے ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ صاف کرنا شروع کردیا کہ یہی میری اس غفلت و کوتاہی کا باعث بنے۔ سو آنجناب نے ان کو ذبح کر کے ان کا گوشت فقراء میں تقسیم کرا دیا جو کہ اس زمانے میں جائز تھا۔ سو اس صورت میں لفظ مسح قتل و ذبح کے معنیٰ میں ہوگا۔ اور یہی اس مقام کی مشہور تفسیر ہے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، قرطبی، صفوۃ اور معارف وغیرہ) ۔ جبکہ دوسرا قول اس مقام کی تفسیر میں یہ ہے کہ جب حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے ان گھوڑوں کو دوڑانے کے بعد واپس لانے کا حکم دیا تو از راہ محبت و پیار آپ ﷺ ان کی گردنوں اور پنڈلیوں پر ہاتھ پھیرنے لگے کہ ان کی محبت بھی تو دراصل خدائے پاک ہی کی محبت کی وجہ سے ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا ۔ " جَعَلَ یَمْسَحُ اَعْرَافَ الْخَیْلِ وَ عَرَاقِیْبَہَا حُبًّا " ۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور گھوڑوں کو یہاں پر " الخیر " کے لفظ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ کیونکہ گھوڑے مال بلکہ ایک عمدہ مال ہے۔ اور مال کو قرآن پاک میں کئی مقامات پر " خیر " سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور پھر خاص کر گھوڑوں کے بارے میں تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ ان کی پیشانیوں میں خیر اور بھلائی کو قیامت تک کے لئے پیوست کردیا گیا ہے ۔ " الخیل معقود بنواصیہا الخیرالیٰ یوم القیامۃ " ۔ ( بخاری، کتاب المناقب) ۔ اس صورت میں ۔ { عَنْ ذِکْرِ رَبِّیْ } ۔ سے مراد " عَنْ اَجْلِہ " ہوگا۔ اور " تو ارت " کی ضمیر مونث کا مرجع سورج کی بجائے وہ گھوڑے ہی ہوں گے۔ اور " مسح " سے مراد قتل و ذبح نہیں بلکہ اس سے اس کے معروف معنیٰ ہی مراد ہوں گے۔ یعنی " ہاتھ پھیرنا " اور " تھپکی دینا "۔ ابن جریر نے اسی قول و احتمال کو ترجیح دی اور رازی نے پہلے قول کو بوجوہ رد کرنے کے بعد اسی کو اختیار کیا ہے اور اس سے پہلے علامہ ابن حزم نے پہلے قول کو بڑی سختی سے رد کیا۔ اور اس قصے کو موضوع و من گھڑت اور خرافات کا پلندہ قرار دیا اور کہا کہ یہ قول بوجوہ مردود ہے۔ ایک تو اس لیے کہ اس میں گھوڑوں کو بلاوجہ سزا دی گئی اور انکا مثلہ کیا گیا اور دوسرے اس لیے کہ اس میں ایک قیمتی مال کو بلاوجہ ضائع کیا گیا۔ اور تیسرے اس لیے کہ اس میں ایک نبی مرسل کی طرف فرض نماز کو ضائع کرنے کی نسبت کی گئی اور پھر اس قصور کی سزا اپنے آپ کو دینے کی بجائے بےقصور گھوڑوں کو دی گئی۔ ان وجوہ کی بنا پر ابن حزم نے پہلے قول کو رد کرتے ہوئے دوسرے قول کو ترجیح دی۔ (ابن جریر، محاسن التاویل، الکبیر اور الخازن وغیرہ) ۔
Ayahs 38:33–34

رُدُّوْهَا عَلَیَّ١ؕ فَطَفِقَ مَسْحًۢا بِالسُّوْقِ وَ الْاَعْنَاقِ Open ayah 38:33 in the Quran reader

(پھر آپ نے کہا) واپس لاؤ ان کو میرے پاس پھر آپ ہاتھ پھیرنے لگے ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر

وَ لَقَدْ فَتَنَّا سُلَیْمٰنَ وَ اَلْقَیْنَا عَلٰى كُرْسِیِّهٖ جَسَدًا ثُمَّ اَنَابَ Open ayah 38:34 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے آزمائش میں ڈالا سلیمان کو (ایک اور موقع پر) اور ہم نے ڈال دیا ان کی کرسی پر ایک دھڑ پھر انہوں نے رجوع کیا (اپنے رب کے حضور)

47 حضرت سلیمان کی ایک آزمائش کا ذکر : سو اس ارشاد سے حضرت سلیمان کی آزمائش اور ان کی شان اوابیت وانابت و رجوع الی اللہ کا ایک اور نمونہ و مظہر پیش فرمایا گیا ہے۔ اس آیت کریمہ میں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے جس فتنہ و آزمائش کا ذکر ہے اس سے اور آپ (علیہ السلام) کی کرسی پر دھڑ ڈال دینے سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے میں قرآن و سنت میں کہیں کوئی تصریح نہیں پائی جاتی۔ کتب تفسیر میں اس بارے میں جو کچھ روایات نقل کی گئی ہیں ان میں سے بعض تو بالکل ہی من گھڑت اسرائیلی روایات ہیں جو عصمت انبیاء کے مشہور و معروف اور مسلمہ عقیدے کے سراسرے خلاف ہیں۔ اور بقول علامہ ابن کثیر وغیرہ محققین بنی اسرائیل میں ایک گروہ ایسے لوگوں کا تھا جو حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو نبی نہیں مانتے تھے۔ اور وہ ان سے خدا واسطے کا بیر رکھتے تھے۔ ایسے ہی لوگوں نے بہت سی من گھڑت روایتیں تصنیف کر کے آپ (علیہ السلام) کی طرف منسوب کردیں اور مختلف وجوہ سے وہی روایات ہماری کتب تفسیر وغیرہ میں بھی آگئیں۔ اس لئے ایسی روایات کو تسلیم کرنے اور ان کو ان آیات کی تفسیر قرار دینے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اور صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) کے بارے میں آپ (علیہ السلام) کے ایک رات میں اپنی سب بیویوں سے مجامعت کرنے اور مجاہد پیدا ہونے سے متعلق جو روایت آئی ہے وہ سند کے اعتبار سے اگرچہ صحیح روایت ہے مگر اس کے بارے میں اس بات کی کوئی تصریح اور دلیل نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس کو اس مقام کی تفسیر کے طور پر ارشاد فرمایا ہو۔ اور خود امام بخاری نے اس روایت کو اپنی کتاب میں جہاں " کتاب الْاَیْمان والُنّذُور " اور " کتاب الجہاد " وغیرہ میں مختلف مقامات پر ذکر فرمایا ہے وہاں آپ نے اسے اس آیت کریمہ کی تفسیر کے طور پر کہیں بھی بیان نہیں فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک بھی یہ روایت اس آیت کی تفسیر نہیں ہے۔ امام رازی کا ایک قول اس مقام سے متعلق یہ ہے کہ حضرت سلیمٰن (علیہ السلام) ایک خاص بیماری کی وجہ سے اتنے کمزور اور لاغر ہوگئے تھے کہ گویا کہ ایک دھڑ رہ گیا تھا بغیر روح کے۔ پھر وہ دوبارہ ٹھیک ہوگئے۔ تفسیر مراغی وغیرہ میں اسی قول کو اختیار کیا گیا ہے۔ اور ایک اور قول اس ضمن میں بعض اہل علم کا یہ ہے کہ دشمنوں نے لگاتار حملے کر کے آنجناب کے ملک کا بڑا حصہ آپ (علیہ السلام) سے چھین کر اپنے قبضے میں کرلیا۔ جس سے آپ اپنے مرکز اور اپنے باقی ماندہ حصے میں بالکل ایسے بےبس ہو کر رہ گئے تھے جیسے کوئی دھڑ کرسی پر پڑا ہو۔ دونوں صورتوں میں آنجناب کو یہ فکر لاحق ہوگئی کہ پتہ نہیں یہ میری کس تقصیر و کوتاہی کا نتیجہ و انجام ہے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فوراً اپنی شان انابت و اوابیت کی بنا پر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف رجوع کیا۔ تو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اپنی شان کرم و عطا اور احسان و عنایت کے مطابق آنجناب کو مزید خاص عنایتوں سے نوازا اور سرفراز فرمایا۔ سو یہ دونوں قول بھی اگرچہ آیت کریمہ کے عموم میں داخل ہیں اور اس کی تفسیر بن سکتے ہیں لیکن سند کے اعتبار سے ان کا کوئی معتبر ثبوت موجود نہیں۔ اس لئے ان سے متعلق بھی یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ لہذا سلامتی کا طریقہ وہی ہے جسے حضرات سلف اور محققین نے اختیار فرمایا کہ ۔ " اَبْہِمُوْا مَا اَبْہَمَہُ الْقُرْآنُ " ۔ کے ضابطے کے مطابق اس کو مجمل اور مبہم ہی رہنے دیا جائے۔ اور صرف اتنا اعتقاد و یقین رکھا جائے کہ کوئی ایسی خاص ابتلا و آزمائش تھی جس سے آنجناب کو گزارا گیا اور آپ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور اپنی شان انابت و اوابیت کی بنا پر اس میں پورے اترے۔ جس کے نتیجے میں آپ ﷺ کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے مزید افضال و عنایات سے نوازا گیا۔ آگے اس ابتلاء و آزمائش کی تعیین و تشخیص نہ ہمارے ذمے ہے اور نہ ہی ہمارے بس میں۔ ہم تو بس یہی کہتے اور مانتے ہیں کہ ۔ { کُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا } ۔ اس طرح اصل مقصد بھی پورا ہوجائے گا کہ اصل چیز ہے رجوع وانابت الی اللہ کا درس۔ جس کو اپنانے اور ہمیشہ اپنا مقصد اور مطمح نظر بنانے کی ضرورت ہے۔ اور اس طرح ہم کتاب اللہ میں ظن وتخمین اور بےبنیاد رائے زنی اور قول علی اللہ کے خطر سے بھی بچ جائیں گے۔ ثقہ اور محتاط علمائے کرام نے اسی کو اپنایا ہے ۔ وکما قال بہ العلامہ ابن حزم الاندلسی ‘ والعلامہ جمال الدین القاسمی الدمشقی وغیرھم من اکا بر اھل العلم و الفضل ۔ باقی اس ضمن میں حضرت سلیمٰن کی انگوٹھی کے گم ہونے اور شیطان کے آپ (علیہ السلام) کے تخت پر قبضہ کرلینے وغیرہ کے جو قصے مشہور ہیں اور کئی کتابوں میں پائے جاتے ہیں وہ سب من گھڑت، بےبنیاد، سراپا خرافات، زنادقہ و ملاحدہ کی اختراعات اور دشمنان دین کے پھیلائے ہوئے جھوٹ کے پلندے ہیں۔ جیسا کہ محققین نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ (روح، ابن کثیر، قرطبی، مراغی، محاسن، مدارک اور معارف وغیرہ) ۔ بہرکیف تسلیم و تفویض الی اللہ کا قول جو کہ اوپر بیان ہوا امن و سلامتی کا قول ہے ۔ وَہُوَ الاَحْوَطُ وَالْاَسَلَمٌ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی ۔ وَہُوَ اَعْلَمُ بِمُرَادِ کَلامِہ جَلَّ وَعَلَا ۔ اور ہمارے دور کے بعض اہل علم نے اسی قول کو اختیار کیا کہ ابتلا و آزمائش کے اس دور میں حضرت سلیمان کی حکومت سمٹ سمٹا کر مرکز تک محدود رہ گئی تھی۔ اور حالات نے انکو اس قدر بےبس اور غمزدہ بنادیا تھا کہ گویا صرف جسم رہ گیا تھا روح غائب ہوگئی تھی۔ سو ۔ { اَلْقَیْنَا عَلٰی کُرْسِیِّہ جَسَداً } ۔ کے کلمات کریمہ سے یہی مراد ہے۔ اور یہ حضرت سلیمان کی اسی بےکسی اور بےبسی کی تصویر ہے ۔ واللہ اعلم ۔ بہرکیف اس کے باوجود حضرت سلیمان مایوس نہیں ہوئے بلکہ اس سے انکو اس کا احساس ہوا کہ یہ ان کی کسی تقصیر اور کوتاہی ہی کا نتیجہ ہے۔ اسی لیے وہ فوراً اللہ کی طرف رجوع ہوئے اور توبہ و استغفار کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اور یہی صحیح اور درست طریقہ ہے اصلاح احوال کا کہ تقصیر و کوتاہی کی صورت میں انسان صدق دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہوجائے اور اس طرح وہ اپنے رب کی عنایات اور اس کی رحمتوں سے سرفراز و سرشار ہوجائے اور اس سے تلافیء ما فات بھی ہو سکے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 38:35

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَهَبْ لِیْ مُلْكًا لَّا یَنْۢبَغِیْ لِاَحَدٍ مِّنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اِنَّكَ اَنْتَ الْوَهَّابُ Open ayah 38:35 in the Quran reader

عرض کیا اے میرے رب میری بخشش فرما دے اور عطا فرما دے مجھے (اپنے کرم سے) ایسی بادشاہی جو میرے بعد کسی کے بھی لائق نہ ہو بیشک تو ہی ہے (اے میرے مالک ! ) بخشنے والا سب کو اور سب کچھ

48 رب سے بخشش کی دعا و درخواست کا نمونہ : سو اس سے حضرات انبیائے کرام کی شان عبدیت وانابت کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے کہ حضرت سلیمان نے فورا عرض کیا کہ اے میرے رب یہ میری بخشش فرما دے۔ سو اس سے حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کی شان عبدیت و اوابیت اور انابت ورجوع الی اللہ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ معصوم ہونے کے باوصف اور ہر طرح کے معاصی وذنوب سے پاک ہونے کے باوجود وہ اس طرح دعا مانگتے ہیں کہ مالک جو بھی کوئی چھوٹی موٹی کوتاہی اور لغزش ہم سے ہوگئی ہو اس کی بخشش فرما دے۔ جس طرح کہ حضرت خاتم الانبیائ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ کا ارشاد ہے کہ میں ایک دن میں ستر مرتبہ اپنے رب سے استغفار کرتا ہوں۔ اور ستر کا عدد کوئی حصر و تعداد ہی کے لئے نہیں آتا بلکہ محاورے کی زبان میں یہ تکثیر اور بہتات کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی میں کثرت کے ساتھ استغفار کرتا ہوں۔ حالانکہ آپ ﷺ نہ صرف معصوم بلکہ تمام انبیائے معصومین ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے امام اور پیشوا ہیں ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَسَلَامہ علَیْہ ۔ بہرکیف اس سے حضرت سلیمان کی شان انابت و اوابیت و رجوع الی اللہ کا یہ نمونہ پیش فرمایا گیا ہے کہ جب آپ کو اپنی تقصیر کا علم ہوا تو آپ نے فورا اللہ پاک کے حضور بخشش کی دعا مانگی۔ سو اس سے بندے کے لیے اپنی تقصیر و کوتاہی پر صحیح رویے کی راہنمائی فرما دی گئی کہ اپنی غلطی اور قصور پر انسان کو اکڑنے کی بجائے عاجزی کے ساتھ اپنے رب کے حضور جھک جانا چاہیے۔ اور اس سے اپنی تقصیر و کوتاہی کی معافی مانگنی چاہیے اور سچی توبہ وانابت پر وہ بخشتا بھی ہے اور اپنی مزید عنایات سے نوازتا بھی ہے کہ اس کی تو شان ہی بخشنا اور نوازنا ہے ۔ سبحانہ وتعالی وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 49 رب کے حضور بادشاہی کی دعا و درخواست : سو اس سے حضرت سلیمان کی اپنے رب کے حضور بادشاہی کی دعا و درخواست کا نمونہ پیش فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت سلیمان نے اپنی دعا میں اپنے رب کے حضور مزید عرض کیا " اور عطا فرما دے مجھے ایسی بادشاہی جو میرے بعد کسی کے بھی لائق نہ ہو "۔ یعنی یہ حکومت کچھ ایسی امتیازی شان کی ہو کہ میرے بعد کسی اور کو نصیب بھی نہ ہو سکے۔ اور اس طرح یہ میرے لئے ایک معجزہ اور نشانی بھی بن جائے اور عظیم الشان انعام و احسان بھی۔ تاکہ اس پر میں آپ کا شکر ادا کروں۔ حضرت سلیٰمن (علیہ السلام) چونکہ نبی اور شہزادے بھی تھے۔ اس لئے معجزہ بھی مانگا تو ایسا جو کہ ان کی اسی صفت کا مظہر و عکاس ہے۔ چناچہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے آپ (علیہ السلام) کو ایسی عظیم الشان اور بےمثل حکومت و سلطنت سے نوازا کہ ایسی حکومت نہ آپ (علیہ السلام) سے پہلے کسی کو ملی اور نہ ہی آپ (علیہ السلام) کے بعد کہ جن و انس کے علاوہ چرند و پرند اور ہوا بھی آپ کے تابع فرمان تھے۔ اور اس موقع پر اس دعا کا اصل مقصد یہ تھا کہ اگرچہ میں اپنی تقصیر اور کوتاہی کی بنا پر ایسی کسی حکومت اور بادشاہی کا اہل نہیں رہ گیا تاہم تو اے میرے مالک ! محض اپنے فضل و کرم سے مجھے ایسی حکومت اور بادشاہی سے سرفراز فرما دے جو میرے بعد کسی کے بھی لائق نہ ہو۔ چناچہ بعض اہل علم نے آیت کریمہ کا مطلب اوپر والے اس مطلب کے برعکس یہ بیان کیا کہ اگرچہ میں اپنے گناہ کے سبب سے کسی حکومت کا اہل نہیں رہ گیا لیکن اس کے باوجود تو اپنے فضل و کرم سے مجھے ایسی بادشاہی عطا فرما دے جس کا سزاوار نہ میں ہوں اور نہ ہی میرے بعد کوئی اور ہوگا۔ یعنی اس دعا میں اصل زور بادشاہی کی عظمت و شوکت پر نہیں بلکہ بلا استحقاق بادشاہی دیے جانے پر ہے کہ مجھے میرے گناہوں کے باوجود بادشاہی سے نواز دے جبکہ میرے بعد کوئی اور اس کا اہل نہیں ٹھہرے گا۔ سو یہ حضرت سلیمان کی انتہائی خشیت وانابت کی دلیل ہے۔ اور یہی خاصہ اور امتیاز ہوتا ہے خدا ترس حکمرانوں کا کہ وہ اپنے ملک میں اور اپنے دور میں آنے والی ہر آفت کو اپنی ہی کوتاہیوں کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت عمر کے بارے میں روایات میں وارد ہے کہ آپ کے دور حکومت میں جب ایک مرتبہ قحط پڑگیا جو " عام الرمادہ " کے نام سے مشہور و معروف ہے تو قحط کے اس پورے زمانے میں حضرت عمر کا حال یہ رہا کہ آپ شب کی نمازوں میں روتے روتے اپنی داڑھی تر کرلیتے کہ اے میرے رب امت محمدیہ میرے ہاتھوں تباہ نہ ہو۔ 50 سب کچھ دینے بخشنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو حضرت سلیمان نے اپنی دعا میں عرض کیا اور حصر و تاکید کے کلمات کے ساتھ عرض کیا کہ بیشک تو ہی ہے ۔ اے میرے مالک ! ۔ بخشنے والا "۔ جس کو جو کچھ ملا یا ملتا ہے وہ صرف تیری ہی عطا و بخشش کے فیض سے ہے۔ انبیاء و رسل تک سب تیرے ہی محتاج اور تیرے ہی در کے سوالی ہیں۔ وہاب کا صیغہ چونکہ مبالغے کا صیغہ ہے اس لئے یہ ایسے سب ہی معانی کو عام اور شامل ہے۔ اور اسی سے نسبت والے کو وہابی کہا جاتا ہے جس کے معنیٰ ہیں " اللہ والا " جو کہ ایک بہت بڑا شرف اور اعزاز ہے۔ مگر کچھ اہل زیغ و ضلال اپنے خبث باطن کی بنا پر اس عظیم الشان نسبت والے اس کلمہ کریمہ یعنی " وہابی " کو اہل حق کے خلاف طعن وتشنیع کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس لیے اس طرح ایسے لوگ خود اپنی عاقبت خراب کرنے کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف حضرت سلیمان نے عرض کیا کہ مالک ! چونکہ سب کچھ دینا اور ہر کسی کو نوازنا اے میرے مالک تیری ہی شان ہے اس لیے تو مجھے میری تقصیر و کوتاہی کے باوجود ایسی بادشاہی سے نواز دے۔ سو اس ارشاد سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر واضح فرما دی گئی کہ سب کچھ دینا اور ہر کسی کو اور ہر حال میں دینا اللہ وحدہ لا شریک ہی کی صفت اور اسی کی شان ہے۔ سب کے سب یہاں تک کہ حضرات انبیائے کرام بھی اسی کے محتاج ہیں ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
Ayah 38:36

فَسَخَّرْنَا لَهُ الرِّیْحَ تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖ رُخَآءً حَیْثُ اَصَابَۙ Open ayah 38:36 in the Quran reader

سو ہم نے ہوا کو بھی ان کا ایسا تابع کردیا کہ وہ ان کے حکم کے مطابق چلتی تھی بڑی (سہولت اور) نرمی کے ساتھ جہاں بھی ان کو پہنچنا ہوتا

51 حضرت سلیمان کے لیے تسخیر ہوا کے معجزے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کیلئے ہوا کو بھی مسخر کردیا تھا وہ ان کے حکم کے مطابق بڑی آسانی اور سہولت کے ساتھ چلتی تھی جہاں ان کو پہنچنا ہوتا تھا "۔ سورة انبیاء میں اس ہوا کے لئے " عاصفۃ "، " باد تند " کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے۔ اور یہاں اسی ہوا کے لئے ۔ { تَجْرِیْ بِاَمْرِہ رُخَائً } ۔ " وہ اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی " فرمایا گیا ہے۔ سو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہوا فی نفسہ تو " عاصفۃ " یعنی باد تندہی ہوتی تھی جو کہ بادبانی جہازوں کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ مگر وہ حضرت سلیمٰن کے ارادے کے تابع تھی۔ جدھر آپ (علیہ السلام) کو جانا ہوتا وہ آپ (علیہ السلام) کو ادھر ہی لے جاتی اور آپ کے تخت کو لیکر وہ نہایت نرمی سے چلتی ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے قدرت کی شان بندہ نوازی اور عطا و بخشش کے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو مذکورہ بالا امتحان اور آزمائش کے بعد حضرت سلیمان پر قدرت کا یہ خاص فضل و کرم ہوا کہ ہوا کو بھی آپ کیلئے تابع فرمان کردیا گیا۔ اور اس پر آپ ﷺ کو ایسا تصرف بخشا گیا تھا جو آپ سے پہلے کسی کو بھی نہیں بخشا گیا تھا۔ اور ہوا پر آپکو ایسا کنٹرول حاصل ہوگیا تھا کہ آپ کے سفروں کے دوران نہ ہوا کی کمی سے کوئی خلل پڑتا اور نہ اس کی شدت اور تیزی سے۔ اور یہ سب کچھ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ہوا تھا۔ اور۔ { حیث اصاب } ۔ میں اصاب کا لفظ ہدف ٹھہرانے کے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی حضرت سلیمان جس مقام کو بھی اپنا ہدف اور منزل سفر قرار دیتے، بےروک ٹوک اور بغیر کسی موسم اور فصل کا انتظار کیے وہاں کے لیے چل پڑتے۔ اس لیے کہ ہوا آپ کے کنٹرول میں تھی۔ اپنے سفر کے لیے اس کو جب اور جیسا چاہتے سازگار بنا لیتے ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Ayah 38:37

وَ الشَّیٰطِیْنَ كُلَّ بَنَّآءٍ وَّ غَوَّاصٍۙ Open ayah 38:37 in the Quran reader

اور جنوں کو بھی (ان کے تابع کردیا تھا) یعنی ہر معمار اور غوطہ خور کو

52 حضرت سلیمان کے لیے جنوں کی تسخیر کی عنایت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جنوں کو بھی ہم نے انکے تابع کردیا تھا۔ سو تسخیر ہوا کے ساتھ ساتھ تسخیر جنات کی عنایت ایک اور بڑی عنایت تھی جس سے قدرت کی طرف سے حضرت سلیمان کو بطور خاص نوازا گیا تھا۔ اور وہ آپ (علیہ السلام) کے لئے اس طرح کی مختلف خدمات انجام دیا کرتے تھے۔ مثلاً بڑی بڑی عمارتیں بنانا، محلات تعمیر کرنا اور پل بنانا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب کچھ وہ اپنی غیر معمولی قوتوں کی بنا پر بہت تھوڑے عرصے اور قلیل مدت میں پورا کرلیا کرتے تھے۔ سو ہوا پر کنٹرول کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے جنوں کو حضرت سلیمان کے تابع کردیا تھا جن سے آپ طرح طرح کے کام لیتے تھے۔ شیاطین سے یہاں پر مراد شیاطینِ جن ہیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ حضرت سلیمان صرف شیاطین اور سرکش جنوں ہی سے یہ کام لیا کرتے تھے۔ صالحین سے تعرض نہیں کیا کرتے تھے۔
Ayah 38:38

وَّ اٰخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ Open ayah 38:38 in the Quran reader

اور دوسروں کو بھی جو جکڑے ہوتے تھے زنجیروں میں1

53 حضرت سلیمان کے لیے جنوں کی ریزرو فوج کا ذکر : سو اس سے حضرت سلیمان کے لیے زنجیروں میں جکڑے ہوئے جنوں کی ایک ریزرو فوج کا ذکر فرمایا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور کچھ دوسروں کو بھی ان کے تابع کردیا گیا تھا جو جکڑے ہوتے تھے زنجیروں میں "۔ اپنی سرکشی کی پاداش میں۔ تاکہ وہ اپنی سرکشی اور شر انگیزی کی بناء پر دوسروں کی تکلیف اور ایذا رسانی کا باعث نہ بن جائیں۔ اور جو ایسی کوئی حرکت کریں وہ اس طرح اپنے کئے کی سزا پائیں۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو یہ جنوں کی الگ پارٹی تھی جن کو ریزرو فورس کے طور پر زنجیروں میں جکڑ کر رکھا گیا تھا تاکہ حسب ضرورت اس سے کام لیا جاس کے۔ سو اس طرح حضرت سلیمان ایسے شریر جنوں کو مختلف کاموں میں لگاتے۔ ان سے طرح طرح کی تعمیرات بھی کراتے اور ان سے غوطہ خوری کا کام بھی لیتے۔ اور اس طرح سمندری دولت سے بھی فائدہ اٹھاتے۔ سو حضرت سلیمان کیلئے جنوں کی یہ تسخیر اور تابعداری اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھی جس سے آنجناب کو بطور انعام نوازا گیا تھا۔ اس میں آپ (علیہ السلام) کی طرف سے کسی طرح کی عملیات وغیرہ کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ جیسا کہ بہت سے بہکے بھٹکے لوگوں کا طریقہ و وطیرہ اور ان کا کہنا ماننا ہے۔ سو ۔ { کُلَّ بَنَّائٍ وَّغَوَّاصٍ } ۔ کے الفاظ سے واضح فرما دیا گیا کہ ہر قسم کے ماہر معمار اور غوطہ خور حضرت سلیمان کے لیے مسخر تھے جن سے آنجناب طرح طرح کے کام لیا کرتے تھے ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Ayahs 38:39–40

هٰذَا عَطَآؤُنَا فَامْنُنْ اَوْ اَمْسِكْ بِغَیْرِ حِسَابٍ Open ayah 38:39 in the Quran reader

(اور یہ سب کچھ دے کر ہم نے ان سے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ) یہ ہماری بخشش ہے اب (تمہاری مرضی کہ) تم احسان کرو یا روک رکھو بغیر کسی حساب کے

وَ اِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا لَزُلْفٰى وَ حُسْنَ مَاٰبٍ۠ Open ayah 38:40 in the Quran reader

اور (اس بےمثال دنیاوی ساز و سامان کے علاوہ) ان کے لئے ہمارے یہاں ایک خاص مرتبہ بھی ہے اور عمدہ ٹھکانا بھی

56 حضرت سلیمان کے لیے ایک خاص انعام کا ذکر : سو اس سے حضرت سلیمان کے لیے ان کے حسن تصرف کے نتیجے اور انعام کا اعلان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ان کیلئے ہمارے ہاں خاص مرتبہ بھی ہے اور عمدہ ٹھکانہ بھی "۔ یعنی دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی کہ دنیا میں آپ (علیہ السلام) کو نبوت و حکومت سے بھی سرفراز فرمایا گیا اور آخرت کی ابدی زندگی میں بھی بےمثال نعمتوں اور عظیم الشان مراتب و درجات سے نوازا گیا ۔ فَسُبْحَان اللّٰہِ الْحَنَّانِ الْمَنَّانِ الَّذِیْ لا حَدَّ لِکَرَمِہٖ وَ الاِحْسَانِ ۔ سو اس سے یہ واضح فرما دیا گیا کہ یہ سب کچھ ملنے اور ان تمام عظیم الشان نعمتوں سے سرفراز ہونے کے باوجود حضرت سلیمان نہ کسی زعم و گھمنڈ میں مبتلا ہوئے اور نہ کسی طرح کا کوئی استکبار آپ میں پیدا ہوا۔ بلکہ اس سب کے باوجود آپکی شان عبدیت اور انابت و رجوع الی اللہ بدستور باقی رہی۔ اس لیے آپ اللہ تعالیٰ کے یہاں قرب خاص اور عمدہ ٹھکانے کی نعمت سے سرفراز ہوئے۔ سو انابت و رجوع الی اللہ ایک عظیم الشان صفت ہے۔ سو حضرت سلیمان اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی ان نعمتوں میں اپنے حسن تصرف کے نتیجے میں جس کامیابی اور فائز المرامی سے سرشار ہوئے۔ اس ارشاد سے اس کے نتیجے اور اس کے انعام کا اعلان فرما دیا گیا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 38:41

وَ اذْكُرْ عَبْدَنَاۤ اَیُّوْبَ١ۘ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗۤ اَنِّیْ مَسَّنِیَ الشَّیْطٰنُ بِنُصْبٍ وَّ عَذَابٍؕ Open ayah 38:41 in the Quran reader

اور ہمارے بندے ایوب کا بھی ذکر کرو جب کہ انہوں نے پکارا اپنے رب کو (اور عرض کیا) کہ مجھے مبتلا کردیا شیطان نے ایک سخت قسم کی تکلیف اور عذاب میں

57 حضرت ایوب (علیہ السلام) کے ابتلاء کا ذکر : سو اس ارشاد سے حضرت ایوب کے ابتلاء اور آپکا اپنے رب کے حضور ابلیس کے بارے میں شکایت کا ذکر فرمایا گیا کہ اسی لعین نے جیسا کہ روایات میں وارد ہے آنجناب کو مال و دولت کی کثرت و فراوانی اور صحت و اولاد کی بنا پر عجب میں مبتلا کیا۔ اور اس کے نتیجے میں آپ (علیہ السلام) اس طرح مبتلائے عذاب ہوئے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ اور یوں ہر برا کام عموماً شیطان ہی کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کہ وہ ہے ہی ہر شیطنت اور برائی کا منبع ومصدر ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَآ اَنْسٰنِیْہُ الاَّ الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْکُرَہ } ۔ اس کے علاوہ یہ بھی مروی ہے کہ اس لعین نے آنجناب کی بیماری کے دوران وساوس و شکوک اور طعن وتشنیع وغیرہ کے نشتروں کے ذریعے بھی آپ (علیہ السلام) کی ایذا رسانی کی۔ (المراغی وغیرہ) ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی وَہُوَ اَعْلَمُ بِمُرَادِ کَلامِہ جَلَّ وَعَلا ۔ " نصب " کے معنیٰ دکھ تھکان اور مصیبت کے ہوتے ہیں۔ اور عذاب سے مراد وہ اذیتیں ہیں جو جسمانی امراض کی صورت میں آپ کو پہنچیں۔ سو " نصب " اور " عذاب " کے ان دو لفظوں سے ان تمام مصائب و آلام کو سمیٹ لیا گیا جن سے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو واسطہ پڑا۔ ِسفر ایوب سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ایوب کو قدرت کی طرف سے بڑی دولت اور حشمت سے نوازا گیا تھا لیکن اس کے باوجود آپ نہایت عبادت گزار اور خدا ترس بندے تھے۔ آپ کی اس حالت پر شیطان اور اس کے ایجنٹوں کو بڑا حسد ہوا اور انہوں نے آپ کے خلاف یہ پروپیگنڈا شروع کردیا کہ اگر ایوب دن رات اللہ کی عبادت میں لگے رہتے ہیں تو یہ کیا کمال ہوا۔ اگر اتنا کچھ ملنے کے باوجود عبادت نہ کریں گے تو اور کیا کریں گے۔ پتہ تو جب چلے جب خدا ان سے یہ سب کچھ چھین لے اور پھر بھی آپ اس کی عبادت کریں۔ چناچہ آخرکار ایسا بھی ہوا اور آنجناب سے مال و اولاد وغیرہ سب کچھ چھین لیا گیا تو بھی آپ مایوس یا شکوہ سنج ہونے کی بجائے اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہوگئے اور فرمایا کہ میں اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا پیدا ہوا تھا۔ اور اب ننگا ہی اپنے رب کے پاس جاؤں گا۔ سو اس طرح حضرت ایوب نے شکر اور صبر دونوں کی ایک عظیم الشان اور منفرد مثال قائم فرمائی ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Ayah 38:42

اُرْكُضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّ شَرَابٌ Open ayah 38:42 in the Quran reader

(اس پر ہم نے ان سے کہا کہ تم) اپنا پاؤں مارو زمین پر (اور لو) یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کو اور پینے کو

58 حضرت ایوب کے لیے نیے دور کا ذکر وبیان : سو اس سے ابتلا کے بعد حضرت ایوب کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور نیے دور کے آغاز کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ابتلاء کے دور کے خاتمے کے بعد سب سے پہلے حضرت ایوب کیلئے ٹھنڈے صحت بخش پانی کے چشمے کا انتظام کیا گیا۔ سو اس طرح آپ (علیہ السلام) کی انابت الی اللہ کے صلے میں آپ کو اس شرف سے بھی نواز دیا گیا اور ازالہ مرض کا طریقہ بھی تعلیم و ارشاد فرمایا گیا۔ پاؤں کا مارنا تھا کہ نیچے سے ایسے صاف ستھرے اور صحت بخش پانی کا چشمہ ابل پڑا جس کے پینے اور اس میں نہانے سے صحت و شفا کی دولت نصیب ہوگئی اور ابتلاء و آزمائش کا دور ختم ہوا۔ سو انابت اور رجوع الی اللہ شاہ کلید ہے سب کامیابیوں سے سرفرازی کی۔ سو حضرت ایوب کو کسی خاص جگہ کی طرف اشارہ کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں اپنے پاؤں سے ٹھوکر مارو۔ اس سے عمدہ پانی کا ایک ایسا چشمہ نکل آئے گا جو پینے کیلئے بھی نہایت ٹھنڈا اور نہانے کیلئے بھی بڑا عمدہ اور صحت بخش ہوگا۔ جس سے آپکی اس بیماری کا بھی علاج ہوجائے گا اور تکلیف کا خاتمہ ہوجائے گا۔ سو اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اپنے بندے کو ایک خاص حد سے زیادہ آزمائش میں نہیں ڈالتا۔ حضرت ایوب کا امتحان جب پورا ہوگیا تو آپ کی دعا بھی فورا اور بلاتاخیر قبول ہوگئی۔ اور آنجناب کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور انعام واحسان کے نیے دور کا آغاز ہوگیا ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 38:43

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً مِّنَّا وَ ذِكْرٰى لِاُولِی الْاَلْبَابِ Open ayah 38:43 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ان کا کنبہ بھی عطا کیا اور ان ہی کے برابر ان کے ساتھ اور بھی اپنی خاص رحمت سے اور ایک عظیم الشان نصیحت (اور یاد دہانی) کے طور پر عقل سلیم رکھنے والوں کیلئے

59 حضرت ایوب کے لیے اہل و عیال کی عنایت کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے انکو انکا کنبہ بھی عطا کردیا اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی "۔ سو عطا کرنے والے سب کو ہم ہی ہیں۔ حضرات انبیا و رسل تک بھی ہمارے ہی محتاج ہیں۔ پھر اور کوئی کسی کا حاجت روا و مشکل کشا کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ؟ سب اسی وحدہ لاشریک کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی اور اسی کے کرم و عطا کے منتظر ہیں۔ سو جسمانی امراض و عوارض کے خاتمے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت ایوب (علیہ السلام) کو انکے اہل و عیال بھی لوٹا دیئے اور انکے ساتھ انہی کے برابر انکے خدام و حشم بھی۔ ابتلاء و آزمائش کے دور میں آنجناب کے آل و اولاد اوراقرباء میں سے کچھ تو بچھڑ گئے تھے اور کچھ وفات پاگئے تھے۔ اور انکے خدام و غلام وغیرہ بھی سب تتر بتر ہوگئے تھے۔ سو ابتلاء و آزمائش کا دور ختم ہونے کے بعد بچھڑے ہوئے اعزہ و اقرباء پھر مجتمع ہوگئے۔ اور جو وفات پاگئے تھے انکے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے اور عطا فرما دیئے۔ اور اس طرح آپ کو مال و دولت کے ساتھ ساتھ خدم و حشم بھی پھر مل گئے۔ سو جب انسان اپنے خالق ومالک کے ساتھ صدق و اخلاص کا معاملہ کرتا ہے تو وہ اس کو ایسے ہی نوازتا ہے کہ اس کا تو کام اور اس کی شان ہی نوازنا ہے اور مسلسل و لگاتار اور بلاحساب و گمان نوازنا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 38:44

وَ خُذْ بِیَدِكَ ضِغْثًا فَاضْرِبْ بِّهٖ وَ لَا تَحْنَثْ١ؕ اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ Open ayah 38:44 in the Quran reader

اور (ہم نے ان سے یہ بھی کہا کہ) لے لو اپنے ہاتھ میں ایک مٹھا (سو) تنکوں کا پھر مارو اس سے (اپنی بیوی کو) اور مت توڑو تم اپنی قسم کو بیشک ہم نے ان کو صابر پایا وہ بڑے ہی اچھے بندے تھے بیشک وہ ہمیشہ رجوع رہنے والے تھے (اپنے رب کے حضور)2

60 حضرت ایوب (علیہ السلام) کی ایک قسم اور اس سے ان کی بریت کا ذکر وبیان : سو اس ارشاد سے حضرت ایوب کی ایک قسم اور اس سے ان کی بریت کی تعلیم و تلقین کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ روایات کے مطابق اپنی بیماری کے دوران حضرت ایوب (علیہ السلام) نے کسی بات پر خفا ہو کر اپنی بیوی کو سو کوڑے مارنے کی قسم کھالی تھی۔ بعد میں مشکل یہ پیش آگئی کہ اگر سو کوڑے مارتے ہیں تو بلاوجہ ایک بےقصور و بےگناہ خاتون کو سزا ملتی ہے۔ اور نہیں مارتے تو حانث ہونا پڑتا ہے۔ اور ظاہر کہ یہ دونوں باتیں مشکل تھیں۔ تو اس کا حل قدرت کی طرف سے آپ (علیہ السلام) کو یہ بتلایا گیا کہ سو تنکوں کا ایک مٹھا لے کر ان کو یکبارگی ان پر مار دو کہ اس طرح قسم بھی پوری ہوجائے گی اور ایک بےقصور و بےگناہ خاتون بھی سو کوڑوں کی سزا سے بچ جائے گی۔ اسی کو شرعی حیلہ کہا جاتا ہے جس کا مقصد کسی شرعی حکم کو ٹالنا نہیں ہوتا بلکہ اس پر عمل کرنا اور اس ارشاد دو حکم خداوندی کو بجا لانا منظور و مقصود ہوتا ہے۔ اور جو حیلہ کسی شرعی حکم کو ٹالنے اور اس سے بچنے کے لئے کیا جائے جیسا کہ بعض لوگ زکوٰۃ سے بچنے کے لئے مختلف حیلوں حوالوں سے کام لیتے ہیں تو وہ سراسر باطل و مردود ہے ۔ والتفصیل فی المفصل ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہ اس مقام کی تفسیر کے بارے میں ایک عام اور مشہور قول ہے جس کو عام طور پر مفسرین کرام نے اختیار کیا ہے۔ لیکن بعض وجوہ و قرائن کی بنا پر یہ قول بہت بعید لگتا ہے۔ ایک تو اس لیے کہ اس کے لیے نہ تو قرآن پاک کی کسی آیت کریمہ میں کوئی تصریح پائی جاتی ہے اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں۔ دوسرے اس لیے کہ روایات کے مطابق ابتلا و آزمائش کے اس دور میں حضرت ایوب کی بیوی ہی وہ اکیلی ہستی تھیں جو دن رات ان کی خدمت میں لگی رہتی تھیں۔ سو ایسی وفادار بیوی پر اس طرح کا عتاب عقل و نقل کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ پھر سو کوڑوں کی تعداد کا ذکر بھی نہ آیت کریمہ میں پایا جاتا ہے اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں۔ اس لیے اس بارے میں بعض اہل علم کی یہ بات زیادہ قرین قیاس اور اوفق بالظاہر لگتی ہے کہ یہ قسم دراصل حضرت ایوب نے خود اپنے نفس کو کوڑے لگانے کے لیے کھائی تھی۔ کیونکہ اس دوران آپ کے دل میں کوئی ایساخیال گزرا تھا جو صبر وانابت الی اللہ کے منافی تھا۔ تو آپ نے قسم کھائی کہ میں اپنے آپ کو اتنے کوڑے ماروں گا۔ اور کوڑوں کی کوئی تعداد مذکور نہیں۔ حضرت ایوب کا یہ عہد اگرچہ آنجناب کی خشیت خداوندی اور محبت الہٰی کا ایک منفرد قسم کا اور عظیم الشان نمونہ تھا۔ لیکن بندوں کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اپنے آپ کو کسی ناروا مصیبت میں ڈالیں اگرچہ وہ خداوند قدوس کی خوشنودی ہی کے لیے ہو۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آنجناب کو اس قسم کی ذمہ داری سے بری قرار دے دیا لیکن قسم کا معاملہ چونکہ دین حنیف میں بڑی نزاکت و اہمیت کا حامل ہے کہ اسی پر تمام عہد و پیمان کا مدارو انحصار ہے۔ اس لیے حضرت ایوب کو ان کی قسم کے بارے میں یہ ہدایت فرمائی گئی کہ آپ اتنے تنکوں کا مٹھا لے کر اپنے آپ کو مار لیں۔ تاکہ رسمی طور پر قسم پوری ہوجائے اور حانث نہ ہونا پڑے۔ اور یہ اسی طرح کی تشبیہی تعمیل ہے جس طرح کہ گنجا آدمی بھی احرام کھولنے کے لیے بال نہ ہونے کے باوجود سر پر استرا پھیرتا ہے یا جس طرح وضو کے متعذر ہونے کی صورت میں تیمم کیا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ تاکہ تشبیہ کے طور پر اصل حکم کی تعمیل ہو سکے ۔ والعلم عند اللہ - 61 حضرت ایوب کے لیے ایک عظیم الشان سند اور اعزاز کا ذکر : سو اس سے حضرت ایوب کے لیے کامیابی کی سند خداوندی کے عظیم الشان اور بےمثال انعام واعزاز کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت ایوب کے لیے ابتلاء و آزمائش کے اس امتحان میں کامیابی کی سند کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک ہم نے انکو صابر پایا "۔ اور ایسا صابر کہ اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہیں مل سکتی۔ یہاں تک کہ صبر ایوب ضرب المثل بن گیا۔ اور مومن کی دو ہی تو حالتیں ہوتی ہیں کہ آرام و نعمت ملے تو حضرت منعم حقیقی ۔ جل و علا ۔ کا شکر ادا کرے اور تکلیف پہنچے تو صبر و برداشت سے کام لے۔ واضح رہے کہ حضرت ایوب کی بیماری اور ابتلا سے متعلق جو بہت سی بےسروپا داستانیں تصنیف کرلی گئی ہیں ان میں سے اکثر میں اس قدر مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا گیا ہے کہ وہ ناقابل یقین حد تک من گھڑت ہیں۔ حالانکہ اللہ پاک اپنے پیغمبر کو کسی ایسی ابتلاء و آزمائش میں نہیں ڈالتا جو ان سے تنفیر و تحقیر کا باعث بن جائے اور لوگ اس سے دورو نفور ہوجائیں کہ یہ ان کی شان کے بھی خلاف ہے اور ان کے منصب و مقام کے بھی۔ سو ایسی اسرائیلی روایات سے اجتناب و احتراز لازمی ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کی جناب میں توہین اور سوئِ ادب کا پہلو نکلتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے حضرت ایوب کے لیے سند خداوندی کے ایک عظیم الشان اور بےمثال انعام کا اعلان فرمایا گیا ہے جو آنجناب کے سوا اور کسی کو نصیب نہیں ہوسکا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Ayah 38:45

وَ اذْكُرْ عِبٰدَنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ اُولِی الْاَیْدِیْ وَ الْاَبْصَارِ Open ayah 38:45 in the Quran reader

اور ہمارے بندوں ابراہیم اسحاق اور یعقوب کا بھی ذکر کرو جو کہ بڑی قوتوں والے اور دیدہ ور تھے

62 حضرت ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کے ذکر کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا " ہمارے بندوں ابراہیم، اسحاق اور یعقوب کا بھی ذکر کرو جو بڑی قوتوں والے اور دیدہ ور تھے "۔ کہ وہ حسی اور جسمانی قوتوں کے علاوہ ایمانی، اخلاقی اور ایقانی قوتوں کے بھی مالک تھے اور اپنی فکر و نظر کو اللہ پاک کی معرفت و اطاعت میں صرف کرنے والے۔ اور قدرت نے اپنی فیاضیوں سے انکو قوت اور بصیرت کی دونوں نعمتوں سے بطور خاص نوازا تھا۔ اور یہ بات اپنی جگہ ایک اہم اور بنیادی حقیقت ہے کہ ظاہری قوت کے ساتھ اگر بصیرت اور باطن کی پاکیزگی شامل نہ ہو تو انسان ایک ایسا خطرناک جانور بن جاتا ہے کہ وہ اپنے لیے بھی عذاب بن جاتا ہے اور دوسروں کیلئے بھی۔ اور وہ معاشرے کی بہتری اور اصلاح کی بجائے اس کی تباہی کا باعث بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " میرے ان خاص بندوں کا بھی ذکر کرو کہ یہ ہمارے خاص برگزیدہ اور پسندیدہ بندے تھے اور ان کے ذکر و تذکرہ میں بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں " جن سے حق کی راہیں روشن ہوتی ہیں ۔ وباللہ التوفیق -