34. Surah Saba

سبإSheba · 54 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 34:47

قُلْ مَا سَاَلْتُكُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ١ؕ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 34:47 in the Quran reader

(نیز ان سے) کہو کہ اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہو تو وہ تم ہی کو پہنچا میرا اجر تو بس اللہ کے ذمے ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے

103 پیغمبر کی دعوت سراسر دوسروں کے بھلے اور خیر کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ میں نے تم لوگوں سے جو اجر مانگا وہ تمہارے ہی لیے ہے "۔ یعنی اس پر مزید یہ کہ وہ کامل ہمدردی کے ساتھ اور بغیر کسی قسم کے عوض و معاوضہ کے سوال کے محض تمہاری خیر خواہی کیلئے ایسے کرتا ہے۔ اور { من اجر } کا عموم ہر طرح کے اجر اور بدلہ کو شامل ہے۔ یعنی وہ نہ تم سے کوئی نوٹ مانگتا ہے نہ ووٹ۔ نہ کوئی صلہ نہ ستائش۔ لے دے کہ وہ تم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ تم راہ حق پر آجاؤ تاکہ دائمی عذاب سے بچ کر سدا بہار نعمتوں سے ہم کنار و سرفراز ہو سکو۔ یعنی اپنے کسی فائدے کی بجائے اس کی ساری سعی و کوشش سراسر تمہارے ہی فائدے اور بھلے کے لئے ہے ۔ { قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا مَنْ شَآئَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سِبِیْلا } ۔ (الفرقان : 57) ۔ فَصَلَوَات اللّٰہُ وَ سَلامُہ عَلَیْہِ وَعَلٰی اٰٰلِہ وَصَحْبِہ وَمَنْ وَالاَہُ وَبِہُداہ اہْتَدٰی ما تلوح ھذہ الاحرف والکلمات علی ہٰذہ ال اوراق و الصفحات ۔ بہرکیف پیغمبر کی دعوت سراسر دوسروں کے بھلے کے لیے ہی ہوتی ہے۔ 104 اصل بات اللہ سے اپنا معاملہ درست رکھنا ہے : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔ پس وہ پوری طرح اور ٹھیک طور سے جانتا ہے کہ کون کیا کر رہا ہے اور کس نیت و ارادہ سے کر رہا ہے۔ اور اسی کے مطابق وہ اس کو پورا پورا بدلہ دے گا ۔ فِاَیَّاکَ اَسْئَلُ یَارَبِّیْ اَنْ تُصَحِّحَ نِیَّتِیْ وَ تُصْلِحَ عَمَلِیْ وَ وَفَّقْنِیْ لِمَا تُحِبُّ وَ تَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ اِنَّکَ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ مُّجِیْبٌ یَا ارحم الراحمین و یا اکرم الاکرمین ۔ سو میرا اجر جس اللہ کے ذمے ہے وہ ہر چیز پر گواہ اور ہر جگہ حاضر و ناظر ہے۔ اس لیے مجھے اس بات کا کوئی خدشہ و اندیشہ نہیں کہ میری کوئی حقیر سے حقیر خدمت بھی اس سے پوشیدہ رہے گی۔ وہ میری سرگرمیوں کو بھی دیکھ رہا ہے اور تمہاری ناقدریوں اور بےانصافیوں کو بھی۔ وہ اپنے اسی علم کامل کے مطابق ہر ایک سے معاملہ فرمائے گا اور مجھے اس پر پورا بھروسہ ہے کہ وہ مجھے میرا صلہ بھرپور طریقے سے عطا فرمائے گا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اصل بات یہ ہے کہ اپنا معاملہ اپنے اللہ سے ہمیشہ صحیح اور صاف رکھا جائے کہ یہ اس خالق ومالک کا اس کے بندوں پر حق بھی ہے اور اسی میں ان کا بھلا بھی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا حق دوسرے ہر حق سے مقدم اور اس پر فائق ہے۔ اور اس کے حق کی ادائیگی ہی پر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا مدارو انحصار ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 34:48

قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ١ۚ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 34:48 in the Quran reader

(نیز ان سے) کہو کہ میرا رب (بندوں کے دلوں میں) حق ڈالتا ہے وہی ہے جاننے والا سب غیبوں کو

105 غیب دان اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے جاننے والا سب غیبوں کا "۔ کیونکہ وہی علام الغیوب پوری اور ٹھیک طرح سے جانتا ہے کہ کون کس کے لائق ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { یُلْقِی الرُّوْحَ مِنْ اَمْرِہ عَلٰی مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہ } ۔ نیز دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ } ۔ اَیْ یُلْقِی الْوَحْیَ وَ یُنَزِّلُہ عَلٰی قَلْبٍ مَنْ یُحِبُّہ مِنْ عِبَادِہ ۔ (المدارک، المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ میرا رب حق کو باطل پر مارتا ہے جیسا کہ یہ حضرت ابن عباس سے بھی مروی ہے۔ اس طرح یہ حق کے غلبے اور باطل کے مٹنے کی بشارت و پیشنگوئی ہوگی جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { بَلْ نَقْذِفُ بالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہُ } ۔ (الانبیائ : 18) (المراغی، المحاسن، الجامع وغیرہ) ۔ سو ایسے غافلوں کو کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیئے، کہ یہ دنیا یوں ہی پیدا ہوئی اور یونہی ختم ہوجائے گی، نہیں بلکہ ایک دن لازماً ایسا آئے گا جس دن اس کائنات کا خالق ومالک حق و باطل کے درمیان فیصلہ فرما دے گا، اور حق کو باطل پر اس طرح مارے گا کہ وہ پاش پاش ہو کر رہ جائے گا، سو اس کا کامل اور آخری ظہور تو اگرچہ آخرت کی عدالت کبری ہی میں ہوگا، لیکن اسکا یہ نتیجہ اس عدالت صغری میں بھی برآمد ہوتا ہے جو ایک رسول کی بعثت کی صورت میں اس دنیا میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ سو جس قوم کی طرف اس کے رسول کی بعثت ہوتی ہے اس کے حق میں حق و باطل کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔
Ayah 34:49

قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَا یُعِیْدُ Open ayah 34:49 in the Quran reader

کہو کہ (لوگو ! ) حق آگیا اور باطل نہ کرنے کا رہا نہ دھرنے کا

106 باطل ایک بےبنیاد اور بےثبات چیز ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کہو کہ حق آگیا اور باطل نہ کرنے کا رہا نہ دھرنے کا۔ یعنی مٹ گیا اور ختم ہوگیا۔ کیونکہ زندگی اور بقاء کی نشانی و علامت یہ ہے کہ یا تو وہ ابتدئً کوئی فعل کرے یا اسے دوہرائے۔ اور جب ان دونوں میں سے کوئی بات بھی باقی نہیں تو ظاہر ہے کہ وہ ختم ہوگیا۔ محاورے کی زبان میں کسی چیز کے زوال کو اس طرح تعبیر کیا جاتا ہے " مَا یُبْدِی وَمَا یُعِیْدُ "، " نہ وہ کرنے کا رہا نہ دھرنے کا " اسی لئے بخاری و مسلم کی روایت کے مطابق فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ { قُلْ جَآئَ الْحَقُّ } والی آیت کریمہ اور یہ آیت کریمہ پڑھتے ہوئے اپنی تلوار کے اشارے سے خانہ کعبہ کے اندر کے بتوں کو گراتے جا رہے تھے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ سو اس ارشاد سے باطل کی بےثباتی کو آشکارا فرمایا گیا ہے کہ کائنات کے اس کارخانہ ہست و بود کا آغاز اس کے خالق نے حق کے ساتھ فرمایا ہے۔ اس لیے لازم ہے کہ اس کی انتہا بھی حق ہی پر ہو۔ جب باطل کا کوئی عمل دخل اس کے ابدا میں نہیں تو اس کے اعادہ میں کس طرح ہوسکتا ہے ؟ پس جن لوگوں نے اپنے فرضی دیوتاؤں، دیویوں اور خودساختہ و من گھڑت " سرکاروں " پر کر رکھا ہے ان پر یہ امر واضح رہنا چاہیئے کہ انکے ان دیوتاؤں وغیرہ کے اختیار میں نہ کسی چیز کا ابداء ہے نہ اعادہ۔ بلکہ یہ سب کچھ اللہ وحدہ لاشریک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے جو کہ ساری کائنات کا بلاشرکت غیرے خالق ومالک ہے۔ نہ اس کے ابداء میں کوئی اس کا شریک ہے اور نہ ہی اس کے اعادہ میں۔ وہ ہر لحاظ سے وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 34:50

قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَاۤ اَضِلُّ عَلٰى نَفْسِیْ١ۚ وَ اِنِ اهْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْۤ اِلَیَّ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ Open ayah 34:50 in the Quran reader

کہو کہ اگر (بالفرض) میں گمراہی پر ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ ہی پر ہوگا اور اگر میں سیدھی راہ پر ہوں تو یہ اس وحی کی بناء پر ہے جو میرا رب میری طرف بھیجتا ہے بلاشبہ وہ سنتا ہے (ہر کسی کی اور) نہایت ہی قریب ہے

107 منکرین و مشرکین کے قلوب و ضمائر کو جھنجھوڑنے والی تنبیہ : کہ وحی خداوندی کی تکذیب کا انجام نہایت ہی ہولناک ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یعنی حق کی پوری طرح وضاحت کے بعد بھی جو لوگ ضد اور ہٹ دھرمی سے ہی کام لیں ان کو یہ آخری اعلان سنا دیں کہ اگر بالفرض میں گمراہی پر ہوں تو اس کا وبال مجھ ہی پر ہوگا۔ تم سے اس کی کوئی پوچھ نہیں ہوگی۔ اور اگر میں ہدایت پر ہوں جیسا کہ حقیقت اور واقعہ کے اعتبار سے میں ہوں، تو یہ اس وحی کی بنا پر ہے جو میرے رب کی طرف سے میری طرف کی جاتی ہے۔ اور اس صورت میں حق کا انکار کرنے پر جو انجام تمہارا ہوسکتا ہے اور ہوگا اسے تم خود سوچ اور سمجھ لو اور اپنی فکر خود کرلو۔ اور اس حقیقت کو اپنے پیش نظر رکھو کہ وحی خداوندی کی تکذیب اور اس کے انکار کا نتیجہ و انجام بڑا ہی ہولناک ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس میں منکرین و مشرکین کے قلوب و ضمائر کو جھنجوڑنے والی تنبیہ ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ اگر بالفرض میں گمراہ ہوں ۔ جیسا کہ تم لوگوں کا کہنا ہے ۔ تو اس کا وبال مجھ ہی پر ہوگا " تم لوگوں سے اس بارے کوئی پوچھ نہ ہوگی کہ پوچھ تو بہرحال مجرموں ہی سے ہوتی ہے۔ لیکن اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ میں حق و ہدایت پر ہوں جیسا کہ حقیقت اور واقعے کے اعتبار سے ہے۔ اور یہ ہدایت مجھے اس وحی کی بنا پر نصیب ہوئی ہے جو میرے رب کی طرف سے مجھے فرمائی گئی ہے۔ تو اس صورت میں میری تکذیب کوئی معمولی نوعیت کا جرم نہیں۔ بلکہ یہ نہایت ہی سنگین اور انتہائی ہولناک جرم ہے۔ جس کا نتیجہ و انجام بڑا ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہوگا۔ پس تم لوگ اپنے جرم تکذیب و انکار کے ان ہولناک عواقب و نتائج کے بارے میں اچھی طرح سوچ لو۔ 108 تفویض الی اللہ کا درس : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ وہ ۔ اللہ ۔ بڑا ہی سننے والا نہایت ہی قریب ہے "۔ اور اتنا اور اس قدر قریب کہ تمہاری شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہے۔ اور سمیع و مجیب اتنا کہ اگر اس کا کوئی گناہ گار سے گناہ گار بندہ بھی سچے دل سے اس کو پکارے تو اس کی پکار کو وہ سنتا اور قبول کرتا ہے۔ پس اہل بدعت کا یہ مفروضہ سراسر غلط اور باطل قرار پاتا ہے کہ دیکھو نا جی جب تم کسی دنیاوی بادشاہ بلکہ کسی ڈی سی، ایس پی وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سے براہ راست خود نہیں مل سکتے اور اگر کبھی مل بھی جاؤ تو تمہاری کوئی شنوائی نہیں ہوتی جب تک کہ تم کوئی وسیلہ نہ پکڑ و تو پھر تم خدائے پاک کے حضور کسی وسیلہ و واسطہ کے بغیر براہ راست خود کس طرح پہنچ سکتے ہو ؟ وغیرہ وغیرہ ۔ استغفر اللہ العظیم ۔ کیا تم لوگوں نے اس سمیع و قریب اور رحیم و قدیر رب کو ڈی سی، ایس پی سے ملا دیا ؟ ۔ { مَا قَدَرُوُا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہ } ۔ حضرت خالق ۔ جل و علا شانہ ۔ کے لئے مخلوق کی ایسی مثالیں مت پیش کرو کہ یہ گمراہی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ { فَلا تَضْرِبُوْا لِلّٰہِ الاَمْثَالَ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ } ۔ (النحل :74) ۔ بہرکیف یہاں پر۔ { انہ سمیع قریب } ۔ کا یہ جملہ تفویض الی اللہ کے درس اور تعلیم کے طور پر ارشاد فرمایا گیا ہے۔ یعنی جب تم لوگ عناد اور ہٹ دھرمی پر آئے ہوئے ہو اور تم سننے اور ماننے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے تو اب تم سے بحث وجدال کا کوئی فائدہ نہیں۔ اب ہمارا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے ہے۔ وہ ہماری باتوں کو سننے والا بھی ہے اور ہمارے نہایت قریب بھی۔ اس لیے اب تمہارے پیچھے سر کھپانے کی بجائے اپنا معاملہ اسی سمیع و قریب کے حوالے کرتا ہوں وہی بہتر فیصلہ فرمائے گا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 34:51–52

وَ لَوْ تَرٰۤى اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ وَ اُخِذُوْا مِنْ مَّكَانٍ قَرِیْبٍۙ Open ayah 34:51 in the Quran reader

اور اگر تم (کسی طرح وہ منظر) دیکھ سکو جب کہ یہ لوگ نہایت ہی گھبراہٹ کے عالم میں ہوں گے پھر بھاگنے کی بھی کوئی صورت نہ ہوگی اور ان کو قریب کی جگہ سے (اور فورا ہی) پکڑ لیا جائے گا

وَّ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖ١ۚ وَ اَنّٰى لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍۚۖ Open ayah 34:52 in the Quran reader

اور (اس وقت) یہ رہ رہ کر کہیں گے کہ ہم ایمان لے آئے اس (حق) پر مگر کہاں ممکن ہوگا ان کے لئے اس کو پانا اتنی دور سے ؟1

109 عذاب کے وقت منکروں کی بےبسی اور لاچاری کا منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت یہ نہایت گھبراہٹ کے عالم میں ہوں گے۔ ان کے لیے بھاگ نکلنے کی بھی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی اور ان کو قریب کی جگہ ہی سے فورا پکڑ لیا جائے گا۔ یعنی منکروں کیلئے اس وقت نہ تو اس طرح کہیں بھاگ کر بچ نکلنے کی کوئی صورت ممکن ہوگی جس طرح کہ دنیا میں مجرم لوگ بسا اوقات ہاتھ سے نکل جاتے ہیں اور نہ ہی اس روز ان کے پکڑنے کے لئے کسی بڑی بھاگ دوڑ اور خاص اہتمام و انتظام کی ضرورت ہوگی، جس طرح کہ دنیا میں پولیس اور حکومتوں وغیرہ کو کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ یہ لوگ جہاں کہیں بھی ہوں گے وہیں سے دھر لئے جائیں گے اور بہت آسانی سے پکڑ لئے جائیں گے۔ سو یہ دراصل ان کے پکڑنے میں سہولت اور آسانی سے کنایہ ہے ۔ ھو کنایۃ عن سہولۃ الامر۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ سو اللہ پاک کا عذاب جب ایسے منکروں پر آئے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو ان کیلئے اس سے بچ نکلنے کی کوئی صورت ممکن نہ ہوگی۔ اس کا عذاب انکے پاؤں کے نیچے سے یا ان کے سر کے اوپر سے کہیں سے بھی آجائے گا۔ انکو پوری طرح اپنے قابو میں لے لیگا اور ان کیلئے اس سے بچ نکلنے کی کوئی راہ ممکن نہ ہوگی۔ اور اس موقع پر ان متکبر لوگوں کے کبر و غرور کی سب ہوا نکل جائے گی اور ان کی بےبسی اور لاچاری کا ایک ایسا منظر سامنے آئیگا جس کے اظہار و بیاں کا الفاظ و کلمات احاطہ نہیں کرسکتے۔ اسی تہویل اور ہولناکی کے اظہار کے لیے ۔ { ولو تری } ۔ کے کلمہ شرط کی جزا کو ذکر نہیں فرمایا گیا کہ وہ اتنی ہولناک اور اس قدر سخت ہے کہ احاطہ بیان سے باہر ہے۔ سو اس وقت ان لوگوں کو اپنے جرم انکار و تکذیب کی سنگینی کا پتہ لگ جائے گا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 34:53

وَّ قَدْ كَفَرُوْا بِهٖ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ یَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 34:53 in the Quran reader

جب کہ اس سے قبل یہ لوگ (زندگی بھر) اس کا انکار کرتے رہے تھے اور یہ بن دیکھے (اٹکل کے) تیر پھینکتے رہے دور کی جگہ سے

110 بےوقت کے ایمان کا کوئی فائدہ نہیں : " تَنَاوُشُ “ َ کے معنیٰ دراصل ہاتھ بڑھا کر کسی چیز کو لے لینے کے ہیں۔ یعنی ایمان لانے کی جگہ تو دنیا تھی جو گزر گئی۔ وہ فرصت انہوں نے انکار میں گنوا دی اور ایمان لانے کے اس موقع کو انہوں نے یونہی ضائع کردیا۔ تو اب اتنی دور سے ہو کر ایمان بالغیب کی اس نعمت کو یہ لوگ کس طرح پاسکتے ہیں ؟ اب تو ان کے لئے حرمان و افسوس کے سوا کچھ نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس وقت یہ لوگ ایمان کے دعوے تو بڑے زور و شور سے کریں گے مگر بےوقت کے اس ایمان کا انکو کوئی فائدہ بہرحال نہیں ہوگا کہ وہ ایمان ایمان بالشہود و المشاہدہ ہوگا۔ جبکہ مطلوب و مفید ایمان بالغیب ہے جس کا موقع دنیا میں تھا اور وہ موقع اس وقت بہرحال ہاتھ سے نکل چکا ہوگا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو آج ہمیں میسر ہے کس قدر عظیم الشان نعمت خداوندی ہے کہ اس میں انسان آخرت کی اپنی حقیقی اور ابدی زندگی کے لیے ہر طرح کی کمائی کرسکتا ہے جبکہ اس کے بعد اس کا کوئی امکان نہیں ہوگا ۔ اللہ تعالیٰ دنیاوی زندگی کی اس فرصت محدود و مختصر کے ایک ایک لمحے سے فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے اور بھرپور طریقے سے فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔ 111 ظن و گمان کی پیروی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اٹکل پچو باتوں کی پیروی کا نتیجہ وانجام ہمیشہ کی محرومی اور تباہی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور یہ لوگ بن دیکھے دور سے تیر پھینکتے رہے اور اپنی بےبنیاد اور اٹکل پچو باتوں کی بنا پر نور حق و ہدایت سے روگرداں ہی رہے اور دنیاوی زندگی جو آخرت کی کمائی کے لئے کھیتی تھی، اس میں راہ حق اختیار کرنے کی بجائے یہ لوگ بلا تحقیق و سند محض ظن وتخمین کی بناء پر حق کا انکار اور حق اور اہل حق کے خلاف طرح طرح کی باتیں بناتے اور اندھیرے میں تیر چلا تے رہے۔ سو اب اس کی تلافی کیونکر ہوسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو عذاب دیکھنے کے بعد تو یہ لوگ بڑے زور و شور سے ایمان کا اقرار کریں گے لیکن اس سے پہلے یہ بن دیکھے دور سے تیر چلاتے رہے تھے اور اٹکل کے تیر چلاتے ہوئے یہ لوگ پوری بےباکی اور لاپرواہی سے کہا کرتے تھے کہ یہ کتاب ایک من گھڑت کتاب ہے۔ اس کو پیش کرنے والا ایک برخود غلط اور جادوگر اور جادو کا مارا ہوا [ ساحر مسحور ] شخص ہے۔ عذاب کی دھمکی محض ایک دھونس ہے۔ قیامت کا ڈراوا محض دماغی خلل کا نتیجہ ہے اور اگر قیامت ہوئی بھی تو وہاں بھی ہم ہی گل چھرے اڑائیں گے اور ہمارے وہ شرکاء و شفعاء جن کے نام لیوا اور دامن گرفتہ ہیں وہ ہمارا سب کام بنادیں گے کہ یہ بڑی پہنچی ہوئی " سرکاریں " ہیں۔ غرضیکہ عقل و خرد کے تمام تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر حق اور اہل حق کی تکذیب کے جنون میں جو کچھ زبان پر آیا یہ لوگ کہتے اور بکتے رہے۔ یہاں تک کہ فرصت عمر تمام ہوگئی اور ان کو خالی ہاتھ کوچ کرنا پڑا۔ سو اٹکل پچو باتوں پر چلنے کا نتیجہ و انجام ہمیشہ کی محرومی اور ہولناک تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 34:54

وَ حِیْلَ بَیْنَهُمْ وَ بَیْنَ مَا یَشْتَهُوْنَ كَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِهِمْ مِّنْ قَبْلُ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُّرِیْبٍ۠ Open ayah 34:54 in the Quran reader

اور آڑ کردی گئی ہوگی ان کے درمیان اور اس چیز کے درمیان جس کی یہ خواہش کریں گے جیسا کہ ان کے ہم مشربوں کے ساتھ کیا گیا ان سے پہلے بیشک یہ سب پڑے تھے الجھن انگیز شک میں2

112 منکرین کے لیے ہمیشہ کی یاس و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کے لیے آخرت میں آس وامید کے تمام دروازے بند ہوجائیں گے اور وہ دائمی یاس و محرومی کے ہاویے میں جا گریں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور آڑ کردی گئی انکے اور ان کی خواہشات کے درمیان "۔ { مَا یَشْتَہُوْنَ } عام ہے ہر خواہش کو شامل ہے۔ یعنی ان کے درمیان اور ان کی ہر خواہش کے درمیان آڑ کردی جائے گی۔ پہلے تو یہ لوگ چاہتے تھے کہ دنیا سے جائیں ہی نہ تاکہ یہاں کی نعمتوں میں ہمیشہ کے لئے عیش کرتے رہیں مگر ان کو دنیا بہرحال چھوڑنا پڑی اور اس سے ان کو اپنے وقت پر کوچ کرنا پڑا۔ پھر وہاں پہنچنے کے بعد یہ ایمان کی خواہش کریں گے کہ کاش ہم ایمان لائے ہوتے ۔ { لَوْ کَانُوا مُسْلِمِیْنَ } ۔ اور یہ کہ کسی طرح دوبارہ دنیا میں جانا نصیب ہوجائے تاکہ اب جا کر نیک کام کریں مگر اس میں بھی آڑ کردی جائے گی کہ نہ تو اب ایمان کی دولت نصیب ہو سکے گی اور نہ ہی دنیا میں دوبارہ آنے کا کوئی سوال ہوگا۔ سو فیصلہ کن عذاب کے ظہور کے بعد انکے اور ان کی تمام خواہشات کے درمیان دیوار حائل کردی گئی ہوگی۔ ایمان لانا چاہیں گے لیکن ان کی یہ چاہت بےسود ہوگی۔ مہلت کی درخواست کریں گے تو اس کی کوئی شنوائی نہ ہوگی۔ اپنے مزعومہ شریکوں کو حاجت روائی و مشکل کشائی کیلئے پکاریں گے مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملے گا۔ عرض امید ورجاء کے تمام دروازے ان کیلئے بند اور ہمیشہ کیلئے بند ہوجائیں گے اور انکو ابدی مایوسی کے اندھیروں میں رہنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 113 ہم مشربوں کا نتیجہ و انجام مشترک و یکساں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جیسا کہ انکے ہم مشربوں کے ساتھ کیا گیا "۔ یعنی پہلی امتوں کے کفار و مشرکین کے ساتھ جنہوں نے انہی کی طرح حق کا انکار کیا تھا ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ جیسا قوم عاد، قوم ثمود، قوم فرعون اور اہل مدین وغیرہ کہ ان تمام قوموں نے حق کی تکذیب کی جس سے وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہیں۔ سو اگر دور حاضر کے یہ منکر ان سابقہ قوموں کے انجام سے سبق نہیں لیتے تو یقیناً یہ بھی اسی انجام کو پہنچ کر رہیں گے جس سے وہ گزشتہ قومیں دوچار ہوچکی ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کیلئے یکساں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و انکار کے ان مرتکبوں کا انجام بھی بہرحال وہی ہوگا جو گزشتہ قوموں کا ہوچکا ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ ماضی کی ان قوموں کو اسی افتاد سے سابقہ پیش آیا جنہوں نے ان کی طرح اپنے رسولوں کے انذار کی تکذیب کی۔ سو آج کے یہ منکر اگر ان گزشتہ قوموں کے حالات اور ان کے انجام سے کوئی سبق نہیں لیتے تو ان کو بھی آخرکار لازما اسی انجام سے دوچار ہونا پڑے گا جس سے ماضی کی وہ متکبر اور بدبخت قومیں دوچار ہوچکی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگ اپنے بارے میں خود سوچ لیں۔ 114 شک باعث ہلاکت و محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ شک بیماریوں کی بیماری اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک یہ لوگ ایک خلجان انگیز شک میں پڑے تھے۔ جس کی وجہ سے نہ خود ان کو قرار ملتا تھا اور نہ ان کی رائے کسی ایک بات پر ٹکتی اور جمتی تھی کہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم لوگ خود ہمیشہ ایک عذاب و اضطراب میں مبتلا رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ ایمان و یقین کی دولت انسان کو سکون و اطمینان کی دولت سے سرفراز و ہمکنار کرتی ہے۔ بہرکیف ان ہلاک شدہ بدبخت قوموں کی ہلاکت کے اصل سبب اور باعث ہلاکت کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک یہ سب لوگ بڑے خلجان انگیز شک میں پڑے تھے۔ اور یہ اس لیے کہ کفر و انکار، الحادو بےدینی و الحاد اور شک و شرک کی کوئی بنیاد ہوسکتی ہی نہیں کہ حق تو بہرحال ایک ہی ہے۔ جس کی اساس و بنیاد توحید خداوندی ہے اور بس۔ اس کے خلاف لوگوں نے جو بھی دین مختلف ناموں سے بنا رکھے ہیں وہ سب بےبنیاد اور ان کی اپنی ایجاد واختراع کا نتیجہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { وَمَنْ یَدْعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰہًا آخَرَ لاَ بُرْہَانَ لَہُ بِہ فَاِنَّمَا حِسَابُہ عِنْدَ رَبِّہ، اِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الْکَافِرُوْنَ } ۔ (المومنون : 117) ۔ یعنی جو کوئی اللہ کے ساتھ اور کسی بھی ایسے معبود کو پوجے پکارے گا جس کے لیے اس کے پاس کوئی سند و دلیل نہیں تو سوائے اس کے نہیں کہ اس کے اس ہولناک جرم کا حساب اس کے رب ہی کے پاس ہے۔ البتہ یہ ایک قطعی اور اٹل حقیقت ہے کہ کافر لوگ کبھی فلاح نہیں پاس کیں گے۔ سو منکرین حق نے جس بھی نام و عنوان سے خود ساختہ عقائد کا کوئی مجموعہ اختیار کیا اس کی اساس و بنیاد شک ہی پر ہے۔ شک اور خود ساختہ مفروضوں کے سوا اس کے پاس دوسری کوئی اساس و بنیاد نہ ہے نہ ہوسکتی ہے۔ اور یہ شک ہی ایسے بدبختوں کو محرومی و ہلاکت کے ہولناک گڑھے کی طرف لے گیا ہے۔ ان کو خداوند قدوس کے وجود باجود میں شک، اس کی توحید و وحدانیت خداوندی کے عقیدئہ صافیہ میں شک اور ان کو آخرت اور قیامت کے بارے میں شک۔ اور اس شک کو انہوں نے یقین کی طرح اپنے دلوں میں بٹھا دیا اور اس حد تک کہ اس کی بنا پر انہوں نے حضرات انبیاء و رسل کی دعوت حق کو بھی ماننے سے انکار کردیا اور اس کے نتیجے میں یہ " شر البریہ " [ بدترین مخلوق ] بن کر رہ گئے۔ سو شک و ارتیاب بیماریوں کی بیماری اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ اس کے بالکل برعکس ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی عظیم الشان اور بےمثال دولت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -